NaeyUfaq Mar-18

مامتا

تفسیر عباس بابر

تیمور لنگ کے متعلق عمومی تاثر یہی ہے کہ اس نے نصف صدی تک دھرتی کو تاخت و تاراج کیا لیکن اس کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا جس کا علم بہت کم لوگوں کو ہوگا دہشت و جبر کی علامت وہ شخص کس طرح ایک ماں کے سامنے پتھر سے موم بن گیا۔
تاریخ کے جھرونکوں سے ایک دلچسپ دلوں کو چھو لینے والی تحریر

تاریخ اسے تیمورلنگ کے نام سے جانتی ہے۔اس سے متعلق عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ تمام تردنیا کی تخریب و ریخت پر کمر بستہ تھا۔نصف صدی تک وہ دھرتی کو تاخت وتاراج کرتا رہا۔تلواریں چمکتی رہیں،اورخون کی ندیاں بہتی رہیں۔اس کی آہنی ایڑھی شہروں اورریاستوں کو چیونٹیوں کی طرح مسلتی رہی۔وہ جہاں سے گزرتا،اس کے پیچھے خون کی ندیاں بہنے لگتیں۔اس نے مفتوحوں کی ہڈیوں سے ایک عبرتناک تاریخ رقم کی،اس نے زندگی کے معنی اور نقوش تک بدل کے رکھ دیے۔اپنی طاقت اور منتقم مزاجی کو موت کے مدمقابل کھڑا کردیا،اس روح فرسا عمل کے پیچھے اس کے بیٹے جہاں گیر کی موت کے انتقام کا جذبہ کارفرما تھا-اس دن سے لے کر جب جہاں گیر مرا اور سمرقند کے لوگ فاتح کے حضور میں سیاہ اور ہلکے نیلے لباس زیب تن کیے،سروں میں خاک اور راکھ ڈالے ہوئے جوق در جوق آئے تھے۔اس لمحے تک جب تیس سال کے بعد اوترار میں بالآخر اسے اجل نے پکارا،وہ ایک لمحہ بھی نہیں مسکرایا۔وہ تیس سال تک پتھر کا ناقابل شکست پہاڑ بنا رہا۔سرد مہری کے ساتھ ہونٹ بھینچے،عفو اور درگزر کے جذبات واحساسات سے نابلد، سر کو کبھی بھی،کہیں بھی جھکائے بغیر وہ تیس سال تک زندہ رہا،لیکن تیمور لنگ کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ممکن ہے اس سے متعلق بہت کم لوگوں نے پڑھ رکھا ہو۔ایک ایسی عقیدت بھری قوت بھی ہے جس کے سامنے تیمور لنگ تو کیا،موت بھی سر جھکا دیتی ہے۔موت کا ہرکارہ،دہشت و جبر کی علامت،انتہائی شقی القلب تیمور لنگ کس طرح ایک ماںکے سامنے،پتھر کے پہاڑ سے موم بن گیا۔تاریخ میں یہ واقعہ کچھ یوں مرقوم ہے۔
وہ گلاب اور چنبیلی کی خوشبو سے مہکتی ہوئی دلفریب کانی گولا وادی میں جشن منا رہا تھا،سمرقندی شعرا ء نے اسے وادی گل کا نام دے رکھاتھا۔جہاں سے اس عظیم الشان شہر کے نیلے مینار اور مساجد کے نیلے گنبد نظرآتے تھے۔ وادی میں پندرہ ہزار خیمے،پندرہ ہزار گل ہائے لالہ کی طرح پنکھے کی شکل میں پھیلے ہوئے تھے۔ ہر خیمے پر سیکڑوں کی تعداد میں ریشمی مخروطی جھنڈے ہواؤں سے اٹکھیلیاں کر رہے تھے اور ان کے عین وسط میں گورگان تیمور کا خیمہ نصب تھا ۔ یوں جیسے ایک ملکہ اپنی ریاست، اپنی مملکت میں، شاہانہ کروفر اور تاب و تمکنت کے ساتھ،اپنے حشم و خدم کے درمیان کھڑی ہو۔ یہ خیمہ چو گوشیہ تھا۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی ایک ایک سوقدم پر مشتمل تھی اور وہ تین نیزے بلند تھا۔ اس کے وسط میں سونے کے بارہ ستون اسے سہارا دے رہے تھے جن میں سے ہر ستون ایک صحت مند انسان کی جسامت کے برابر موٹاتھا۔اوپر کی جانب ایک نیم نیلے رنگ کا قبہ تھا۔ خیمے کی دیواریں، زرد،سیاہ اور نیلی دھاریوں والے ریشم کی رہن منت تھیں۔پانچ صد ارغوانی رنگ کی خوبصورت ڈوریاں اسے زمین سے باندھے ہوئے تھیں۔ چار عدد نقرئی عقاب اس کے چاروں کونوں پر ایستادہ اور خیمے کے عین وسط میں ایک تخت کے اوپر پانچواں عقاب آرائش کی خوبصورتی کو فزوں تر کر رہا تھا۔ناقابل تسخیر اور شاہوں کا شاہ،تیمور گورگان،ایک آسمانی رنگ کا قدرے کشادہ ریشمی جبہ زیب تن کیے جلوہ افروز تھا۔پانچ ہزار بڑے بڑے سچے موتی اس جبے کی شان و شوکت کو چارچاند لگا رہے تھے۔ اس کے ہیبت ناک سفیدسر پر ایک سفید رنگ کی چھجے دار ٹوپی اور اس کے سرے پر جڑا ہوا ایک بیش قیمت لعل دنیا کا معائنہ کرنے والی خون کی سی سرخ آنکھ کی طرح متحرک تھا۔ تیمور کا چہرہ ایک چوڑے پھل والے چاقو کی طرح تھا، جسے خون نے زنگ آلود کر دیا ہو،اس کی سفاک آنکھوں میں بلا کی تیزی تھی جو ہر متحرک و ساکت چیز کو فی الفور دیکھنے،اور پرکھنے کی صلاحیت سے مالا مال تھیں۔ ان پراسرار اور بے رحم آنکھوں کی چمک عرب کے محبوب ترین پتھر زمرد کی سرد چمک کی مانند تھی۔ مذکورہ پتھر مرگی (ایپی لیپسی)کے مہلک مرض کو دور کرنے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے ایمیرالڈ بھی کہا جاتا ہے۔ تیمورکے کانوں میں لنکا کے لعلوں کے دل آویز،آویزے لٹک رہے تھے،جن کا رنگ ایک خوبرو اور طرح دار دوشیزہ کے لب و رخسار کی عکاسی کررہاتھا۔ خیمے کے فرش پر خوبصورت و بیش قیمتی غالیچوں کے اوپر بنت انگور اور طلائی جام و مینا رکھے ہوئے تھے۔ اس کے عقب میں سازندے اور موسیقار اس کی جنبش ابرو کے منتظر تھے۔اس کے قدموں کے آس پاس اس کے اعزا،رشتہ دار،شہزادے اور مختلف ریاستوں و قبیلوں کے سردار براجمان تھے۔اس کے عین بغل میں عظیم شاعر کرمانی بیٹھا ہواتھا۔ یہ وہی شاعر ہے جسے ایک دفعہ تیمور نے کہاتھا۔
’’کرمانی، اگر مجھے نیلام کیا جائے تو تم میری کیا قیمت لگاؤگے؟‘‘
وہ بولا’’پچیس آسکر۔‘‘
وہ تحیرسے دوچار ہوتے ہوئے بولا۔’’ میری ایک پیٹی ہی اتنی مالیت کی ہے۔‘‘
’’میں نے تمہاری پیٹی کی ہی قیمت لگائی ہے‘‘ شاعر بولا۔’’پیٹی کے بغیر تمہاری قیمت کیا ہے؟ایک پیسہ بھی نہیں۔‘‘
کرمانی اس مجسمہ ہیبت سے اسی لہجے میں بات کرتا تھا۔ بلامبالغہ اس کی صداقت اور حق گوئی و بیباکی بھی تاریخی اوراق میں ہمیشہ سرفراز رہے گی۔ان گنت فتوحات اور مشکل ترین و خون ریز مرحلوں اور معرکوں میں شاندار فتوحات کے بعد رنگ رلیاں اور رنگین محفلیں،بصد شوق و اہتمام سج رہی تھیں۔بلند و بانگ اور جذبات و لہو کو گرماتی موسیقی کے درمیان، اور ان مختلف عوامی کھیلوں کے دوران،جو بادشاہ کے خیمے کے عین سامنے کھیلے جارہے تھے،جہاں ان گنت مسخرے اچھل کود میں مصروف تھے۔ پہلوانوں کی کشتیاں،کرتب کرنے والے اپنے اجسام کو یوں توڑ مروڑ رہے تھے جیسے ان میں ہڈی کا نام تک نہ ہو۔ سپاہی قتل وخون کے فن میں اپنی مہارت و مشاقی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ لال اور سبز رنگ سے رنگے ہاتھیوں کے کرتب بھی ورطہ حیرت میں ڈال رہے تھے،جن میں سے بعض انتہائی خطرناک تھے اور بعض مضحکہ خیز۔جب سپاہی، مصاحب، تیمور کی دہشت،اس کی شان و عظمت کے فخر،فتوحات کی تھکن اور خوشی میں بنت انگور اور کومیس سے معمور و مخمور رنگ رلیوں میں مدہوش و بدمست تھے۔ اس عالم غفلت و غرور میں ایک عورت کی آواز بلند ہوئی۔ بادلوں کی اوٹ سے یکبارگی چمکنے والی بجلی کی طرح شوروغل کا سینہ چاک کرتی ہوئی وہ آواز مغرور و فاتح سلطان کی سماعتوں میں اترتی چلی گئی۔ اس مانوس آواز سے اس کی سماعتیں بخوبی آشنا تھیں۔یہ آواز اس کی روح کے زخموں کی ہم آہنگ تھی۔ آواز کے سوز و گداز نے اسے چندلمحوں کے لیے دہلا کے رکھ دیا۔ س نے اپنے ایک سپاہی سے کہا۔
’’جاؤ اور پتا کرو کہ یہ کس کی آواز ہے،کون ہے جو بزم طرب میں اشکوں کی نمی گھول رہا ہے۔‘‘
سپاہی گیا اور فوراً ہی واپس آگیا۔وہ سرجھکاتے ہوئے دھیمی آواز میں منمنایا۔
’’حضور،ایک مفلوک الحال و مخبوط الحواس عورت دریدہ دامن لیے اذن باریابی کی ملتمس ہے۔‘‘
وہ شاہانہ کروفر سے بولا’’اسے پیش کیاجائے۔‘‘
چند لمحوں بعد حسرت و یاس کی بے رنگ سی تصویر اس کے روبرو تھی۔پابرہنہ،تار تار لباس کا رنگ دھوپ کی حدت کی شدت نے اڑا دیا تھا۔اس کی میلی کچیلی سیاہ زلفیں اس کے عریاں سینے کو ڈھانپنے کی اپنی سی کوشش میں محوعمل تھیں۔چہرے کارنگ تانبے کی طرح تھا۔تیمور کی زیرک آنکھوں نے اس کی ویران آنکھوں میں تحکمانہ جھلک محسوس کی۔اس کی جانب بڑھا ہوا اس کا سیاہ ہاتھ کانپ نہیں رہا تھا۔
’’کیا تم ہی سلطان بایزید کے فاتح ہو؟‘‘ اس نے بلاجھجک استفسار کیا۔
’’ہاں‘‘ وہ پرغرور لہجے میں بولا۔’’میں نے سلطان بایزید کے علاوہ ان گنت بادشاہوں کو شکست دی ہے،تم اپنا مدعا بیان کرو۔‘‘
وہ بولی۔ ’’تم نے جو کچھ بھی کیا ہو مگر تم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ تم بہرحال گوشت پوست کے ایک انسان ہو‘‘ لمحاتی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی۔اس کی آواز میں جذبات کی لرزش تھی،لیکن خوف کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ’’میں ماں ہوں،تم موت بانٹتے ہو،میں زندگی کی محافظ ہوں۔تم میری ممتا کے گناہ گار ہو۔میں تمہارے پاس اس گناہ کا کفارہ مانگنے آئی ہوں۔‘‘
وہ خاموش ہوگئی۔تیمور کی جسم کے آرپار ہوتی ہوئی آنکھیں اس کے عبرت زدہ ملول چہرے پر مرتکز تھیں۔مصاحب انگشت بدنداں ورطہ حیرت میں غوطہ زن تھے،جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔وہ دوبارہ بولی۔
’’مجھے بتایا گیا ہے کہ تم ایک عادل بادشاہ ہو،تمہارا ماننا ہے کہ قوت کاراز انصاف میں مضمر ہے۔مجھے یقین نہیں ہے کہ میری فریاد کو داد ملے گی،لیکن…‘‘
وہ خاموش ہو کر چند لمحے پتھر کے اس ہیبت ناک پہاڑ کو گھورتی رہی۔ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس نے اپنی فریاد مکمل کی۔
’’لیکن تمہیں میرے ساتھ انصاف کرنا چاہیے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کیوں؟‘‘ تیمور نے تحیروتجسس آمیز لہجے میں استفسار کیا۔
اس مرتبہ وہ مضبوط لہجے میں بولی۔
’’کیونکہ میں ماں ہوں۔‘‘
تیمور میں اتنی فہم و فراست تھی کہ ان بیباک لفظوں میں مضمر طاقت کو محسوس کرسکے۔ وہ قدرے نرم لہجے میں بولا۔
’’ٹھیک ہے،بیٹھ جاؤ،میں تمہاری فریاد تفصیل سے سننا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ غالیچے پر بیٹھ گئی،اور اپنی داستان بیان کرنے لگی۔
’’میں اطالیہ کے شہر سالیرنو میں رہتی تھی۔میرا باپ ایک مچھیرا تھا،یہی وجہ ہے کہ میری شادی بھی ایک مچھیرے سے ہوئی۔‘‘ اس نے کرب انگیز لہجے میں کہا اور چند لمحوں کیلئے خاموش ہوگئی۔شاید وہ ذہن کے قرطاس پر بکھرے لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی۔ اس کی مجروح آنکھیں تیمور پر مرتکز تھیں،جو کہ اسی کی طرف متوجہ تھا۔اس نے ایک گہری سانس لی،خشک لبوں پر زبان پھیری اور بولی۔’’میرا شوہر بہت وجیہہ تھا۔اتنا خوبرو کہ جتنی ایک خوش و خرم زندگی ہوتی ہے۔ میری سہیلیاں مجھ پر رشک کرتی تھیں۔پھر اللہ نے مجھے ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔‘‘
’’میرے شہزادے جہاں گیر کی طرح۔‘‘ تیمور بیساختہ بولا۔
وہ خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگی۔اس کی بوڑھی آنکھوں میں درد جوان تھا۔وہ کچھ دیر چپ رہی تو تیمور نے تجسس سے کہا۔
’’بولتی رہو،میں سن رہا ہوں۔‘‘
’’میرے بیٹے جیساذہین اور خوبصورت میں نے کبھی نہیں دیکھا‘‘ اس کے لہجے میں تفاخر تشکر اور کرب کی آمیزش تھی۔’’وہ چھے سال کا تھا،جب ساسان کے سمندری لٹیروں نے ساحل پر حملہ کردیا۔اس حملے میں میرے باپ اور شوہر کے علاوہ اور بھی کئی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔‘‘
ضبط کا یارا نہ رہا تو وہ ہچکیاں باندھ کر رونے لگی۔دوسری دفعہ پتھر کے پہاڑ کی پیشانی پر نمی آئی تھی۔پہلی دفعہ جب جہاں گیر مرا،اوراب جب وہ ایک ماں کی دکھ بھری کہانی سن رہا تھا۔درباری ہمہ تن گوش تھے۔سب کی نگاہوں کا مرکز وہی بوڑھی عورت تھی۔وہ اپنی قیمص کے بوسیدہ و دریدہ دامن سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے دوبارہ بولی۔
’’وہ میرے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے،اور میں پچھلے چارسال سے قریہ قریہ بھٹک رہی ہوں،اسے ڈھونڈ رہی ہوں۔‘‘
وہ خاموش ہو کر تیمور کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
’’تمہارے ساتھ بہت برا ہوا،مجھے دکھ ہے،لیکن اس کہانی کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟‘‘
تیمور کے استفسار پر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی اور چیخ نما آواز میں بولی۔
’’سلطان بایزید کے سپاہیوں نے ساسان کے لٹیروں کو پکڑا تھا،تم نے سلطان بایزید کو مغلوب کیا،اس کے تمام مال ومتاع پر قبضہ کیا،لہذا اس حساب سے میرا لخت جگر تمہارے پاس ہوا۔‘‘
یکبارگی دربار کا ماحول بدل گیا۔درباری ہنسنے لگے۔وہ بادشاہ،شہزادے اور دیگر مصاحب جو قالین پر براجمان تھے،ان کی آنکھوں میں استہزا در آیا اور وہ کہنے لگے۔’’بادشاہ یہ عورت پاگل ہے۔‘‘
شاعر صوف کرمانی اور تیمور لنگ ورطہ حیرت میں تھے۔انہوں نے کسی درباری یا مصاحب کے مضحکہ خیز تبصرے پر غور نہیں کیا۔
’’ہاں یہ واقعی میں پاگل ہے‘‘ تیمور بڑبڑایا۔’’جس طرح ایک ماں اپنی اولاد کے لیے پاگل ہوتی ہے۔‘‘
مجسمہ ہیبت تخت سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔بوڑھی عورت اس کی سرخ آنکھوں کے حصار میں تھی۔وہ بولا۔
’’اے عورت،یہ کیسے ممکن ہے،کہ تو دریاؤں پہاڑوں اور جنگلوں کو عبور کرکے مجھ تک آپہنچی،تجھے راستے میں درندوں اور انسانوں نے کچھ نہیں کہا؟‘‘ چندلمحوں پرمحیط خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولا۔ ’’وہ انسان جو تنہائی میں درندوں سے بھی زیادہ وحشی اور خطرناک ہوتے ہیں۔ تو کسی ہتھیار سواری اور سہار ے کے بغیر یہاں کیسے پہنچ گئی،مجھے بتا تا کہ مجھے تمہاری صداقت پر یقین آسکے،میرا تعجب تحیر اور بے یقینی تیری بات کو سمجھنے میں حارج نہ ہو۔‘‘
اس ماں کی عظمت کو سلام جس کی محبت کسی رکاوٹ کھوٹ اور کوتاہی سے آشنا نہیں۔جس کے چشمہ شیر نے پوری دنیا کو پالاپوسا،پروان چڑھایا۔انسانوں میں جو بھی خوبصورت خصوصیات ہیں وہ سورج کی شعاعوں اور ماں کے دودھ کی مرہون منت ہیں۔وہی ماں ہیبت و دہشت کے سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربولی۔
’’سفر کے دوران میں نے صرف ایک سمندر دیکھا،جس میں متعدد جزیرے،اور مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں تھیں۔‘‘ اس کے لہجے میں استقامت اور ممتا کی صداقت تھی۔ وہ کہہ رہی تھی۔ ’’جب کسی جان سے پیارے کی تلاش کا مرحلہ درپیش ہو تو ہر مشکل آسان لگتی ہے،ہر ناکامی امید کا سندیسہ دیتی ہے۔ ہر درد ہرزخم آگے بڑھتے رہنے کی ترغیب و تحریک دیتا ہے‘‘ وہ سانس لینے کے لیے رکی پھر بولی۔ ’’اور میں تو پلی بڑھی ہی سمندر اور جنگلوں کی آغوش میں ہوں۔مجھے پہاڑ بھی سنگریزے لگتے تھے۔‘‘
بلا ارادہ شاعر کرمانی بولا۔ ’’محبت کرنے والوں کو پہاڑ سنگریزے،اور آگ گلزار لگتی ہے۔‘‘
بوڑھی ماں نے اسے تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا،اور بولی۔ ’’البتہ راستے میں جنگل بہت بھیانک تھے،جن میں خونخوار جانوروں کا بسیرا ہوتا ہے،دو دفعہ جنگل کے خونخوار چیتوں نے مجھے تیرے ہی جیسی آنکھوں سے گھورا،لیکن دل تو جانور کے سینے میں بھی ہوتا ہے۔‘‘
تیمور کی آنکھوں میں حیرت و بے یقینی ہلکورے لے رہی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا بوڑھی بولی۔
’’میں نے ان درندوں سے اسی طرح بات کی جس طرح تم سے کررہی ہوں۔وائے حیرت کہ انہوں نے میری بات پر یقین کیا اور روتے ہوئے جنگل کی وسعتوں میں کھو گئے۔‘‘
’’ناقابل یقین‘‘ تیمور بڑبڑایا۔
’’انہیں مجھ پر،میری ممتا پر ترس آگیا تھا۔‘‘ بوڑھی نے دلیل دی۔ ’’کیونکہ درندے بھی اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
اسے ایک بوڑھی ماں کے جذبات و احساسات اور مدلل گفتگو نے ازحدمتاثر کیا۔ وہ اسے سوچتی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’اے بزرگ عورت،تو نے ٹھیک کہا،میں نے دیکھا ہے جب چڑیا گھونسلا بناتی ہے تو میں اس کی ترتیب و مہارت پر انگشت بدنداں رہ جاتا ہوں،اور پھر وہ کس طرح اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔ماں کی ممتا سے انکار قطعی ناممکن ہے۔‘‘
’’بوڑھی کی آنکھوں میں حیرت درآئی۔اس نے اپنے نحیف و مضحمل وجود کو دیکھا،اور کہنے لگی۔
’’بچہ جتنا بھی بڑا ہو جائے، ماں کے لیے بچہ ہی رہتا ہے،ہر عام وخاص،غیرمعتبر و ذیشان پہلے بچہ ہوتا ہے اور ہر بچے کی ایک ماں ہوتی ہے‘‘ وہ چند لمحوں کیلیے خاموش ہوئی اور تیمور کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
’’اے بوڑھے شخص،تم نے بھی تو ایک عورت کی کوکھ سے جنم لیاہے۔تم اللہ کی ذات سے تو انکار کرسکتے ہو،لیکن ماں کی حقیقت سے ہرگز نہیں،کیونکہ اللہ کوتم نے نہیں دیکھا،لیکن ماں کی کوکھ سے جنم لے کر اس کی آغوش میں پرورش پائی ہے۔اس کے چشمہ شیر سے سیراب ہو کر تمہیںطاقت ملی ہے۔‘‘
’’خوب،درست کہا بزرگ عورت‘‘ شاعر کرمانی چلایا۔ ’’سورج کے بغیر پھولوں کی نشوونما ممکن نہیں۔محبت ایک الوہی جذبہ ہے،اس کے بغیر زندگی کے ایک بھی پل سے خوشی کشید نہیں کی جاسکتی۔عورت کے بغیر مرد تو کیا کائنات کی تکمیل ناممکن ہے،اور ماؤں کے بغیر کوئی شاعرپیدا ہو سکتا ہے نہ ہی کوئی سورما۔‘‘ اس کی طائرانہ نگاہیں مجسمہ ہیبت پر جاٹھہریں جوکہ اب سرتاپا مجسمہ حیرت لگ رہاتھا۔کرمانی کی حوصلہ افزا باتوں نے سرتاپا فریادی عورت کی ہمت کو جلا بخشی۔اس نے روئے سخن تیمور کی طرف کیا،اور ملتمس ہوئی۔
’’تو اے بادشاہ سلامت،میرا بیٹا مجھے دے دو،میں اس کی ماں ہوں اور اس سے محبت کرتی ہوں۔‘‘
لائق صداحترام ہے ماں،جس نے محمد جیسی ذی مرتبت شخصیت کوجنم دیا۔اسی ماں نے ارسطو،سعدی،اور فردوسی جیسی شخصیات پیدا کیں۔اور پھر زہریلی شراب جیسا سکندر،اور بینائی سے محروم ہو مر،سب اسی زرخیز ممتا کی پیداوارہیں۔سب نے اسی ماں کا دودھ پیا۔اس کے سینے پر دم بہ دم پروان چڑھتے رہے۔دنیا کا سارا مایہ ناز سرمایہ ماؤں ہی کی بدولت ہے‘‘ اور سفید بالوں والا دہشت ناک غارت گرعالم،لنگڑا چیتا تیمور گورگان فکروحیرت کی عمیق گہرائیوں میں گر گیا-ایک طویل جاں گسل خاموشی کے بعد وہ اپنے درباریوں سے مخاطب ہوا تو اس کی آواز میں لرزش تھی۔
’’میں تیمور، خدا کا ادنی سا بندہ وہی کہہ رہا ہوں،جو برحق ہے۔مدتوں سے زمین میرے پاؤں تلے چیخ رہی ہے،اور میں اسے روندتا چلا جا رہاہوں۔‘‘
اک غیریقینی کا عالم تھا۔آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔تمام درباری،مصاحب،اور جنگجو سپاہی پتھر کو پگھلتا دیکھ رہے تھے۔وہ یوں مہربہ لب تھے جیسے سانسوں کا تسلسل رک گیا ہو۔جیسے ہر نبض ساکت،اور ہر جسم کا روح سے رابطہ منقطع ہو گیا ہو۔ایسی خاموشی تھی کہ جیسے قیامت کے بعد سب کچھ ختم،اورخاموش ہو گیا ہو۔حتی کہ چرب زبان شاعر کرمانی بھی پتھر کا بت بنا کھڑا تھا۔
تیمور دوبارہ گویا ہوا تو گویا،زندگی کے وجود نے اپنے ہونے کی دلیل دی۔وہ بولا توگویا سلسلہ تنفس بحال ہوا۔
’’زمین میرے قدموں تلے کراہ رہی ہے،اور میں تیس سال سے اپنے بیٹے جہاں گیر کی موت کا بدلہ لینے کیلیے اسے مسلسل روند رہا ہوں،اسے تباہ وبرباد و تہہ و بالا کر رہا ہوں۔‘‘
اب بوڑھی عورت کی مغموم و تاریک آنکھوں میں امید کی کرن پھوٹنے لگی۔وہ ایک تاریخ ساز شخصیت کا مطمح نظر تبدیل ہوتے دیکھ رہی تھی،اور بلاشبہ یہ اس کی ممتا کی طاقت کی بدولت ممکن ہوا تھا۔تیمور کہہ رہا تھا۔
’’میری نظروں میں حضرت انسان کی کوئی توقیر،کوئی قیمت نہیں-شہروں،ریاستوں اور مملکتوں کی وجہ سے لوگ مجھ سے برسر پیکار ہوئے،لیکن آج تک کسی نے کسی انسان یا انسانی حقوق کے لیے مجھ سے جنگ نہیں کی،میں نے بستیاں شہر،ریاستیں مملکتیں گھر اور کئی دل برباد کر دیے۔مجھے کبھی ادراک اور احساس ہی نہیں ہوا کہ میری راہ میں کون اور کیوں حائل ہے۔‘‘
لمحاتی خاموشی کے بعد وہ بولا۔’’میں وہی تیمور ہوں جس نے سلطان بایزید کو شکست فاش سے دوچار کیااور اس سے کہا۔’’بایزید! مجھے لگتاہے اللہ کے نزدیک مملکت اور انسان کی کوئی قیمت اور وقعت و اہمیت نہیں ہے،اسی لیے تو وہ انہیں ہم جیسوں کی دسترس میں دے دیتا ہے۔تو جو کہ کانا ہے اور میں جو کہ لنگڑا ہوں۔ میں نے یہ باتیں سلطان بایزید سے اس وقت کی تھیں جب وہ پابہ زنجیر میرے سامنے پیش کیا گیا۔زنجیروں اور طوق کے بوجھ سے اس کی گردن جھکی ہوئی تھی‘‘
اس نے ایک طویل سرد آہ بھری،درباریوں اور بوڑھی عورت پر طائرانہ نگاہ ڈالی،پھر بولا۔ ’’تب مجھے زندگی ایک کڑوی اور بدذائقہ جڑی بوٹی کی طرح لگی۔میں تیمور اعتراف کرتا ہوں کہ یہ جو میرے سامنے عورت کھڑی ہے۔یہ ایک عظیم ترین ماں ہے۔کروڑوں میں ایک ہے۔جس نے میری خوابیدہ روح کو جھنجوڑ کر جگایا،اور مجھے ایسے جذبے سے روشناس کروایا جو انسانیت کی معراج ہے،جس سے میں ہمیشہ ناآشنا رہا۔‘‘
’’اس عورت نے منت سماجت نہیں کی کیونکہ ماں منت نہیں کرتی،حکم دیتی ہے،مجھے ادراک ہو گیا ہے کہ یہ کمزور نہیں ہے،یہ بہت زیادہ طاقت ور ہے‘‘ چندلمحوں کیلیے اس نے توقف کیا پھربولا۔’’اس کے پاس ممتا کی طاقت ہے جو پتھروں کو پگھلا سکتی ہے۔‘‘
پھراس نے عالم ارواح میں اپنے بیٹے جہانگیر کو مخاطب کیا۔ ’’میرے لخت جگر،میرے جہاں گیر،شاید تو بھی زمین کو شعلہ ساماں کرنے کیلیے اس دنیامیں آیا تھا،اس میں مسرتوں کے بیج بونے آیا تھا،لیکن میں نے،تیرے باپ تیمورنے،اسے خون سے سینچ ڈالا۔اب یہ زمین زرخیز ہے،ہموار ہے،ماں کی گود کی طرح نرم و ملائم اور پرسکون ہے۔‘‘
پھر وہ غارت گر بہت دیر تک کسی سوچ میں مستغرق رہا۔اب درباری اس کے لبوں کی جنبش کے منتظر تھے۔بالآخر اس نے لبوں کو جنبش دی،اوراپنے سپاہیوں سے مخاطب ہوا۔
’’میں تیمور گورگان، تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تین سو گھوڑسوار میری مملکت کے چاروں اطراف میں پھیل جاؤ،اور اس کے لخت جگر کو ڈھونڈ کے لاؤ‘‘ اس نے عورت کی طرف دیکھا،جو تشکر وحیرت سے اسی کی طرف متوجہ تھی،وہ بولا۔ ’’یہ عورت اور میں یہاں انتظار کریں گے،اور جو شخص اس کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے کرآئے گا،میں اسے مالامال کردوں گا۔‘‘
عورت نے اپنے سفیدو سیاہ میلے کچیلے بال ایک جھٹکے کیساتھ اپنے چہرے سے ہٹادیے،زیرلب مسکرائی،اور فرط مسرت سے کہا۔
’’بادشاہ،تم سداسلامت رہو،ایک ماں کی ممتا تم پر راضی ہے۔‘‘
اسی لمحے جبرو دہشت کا وہ بوڑھا پہاڑ اس کے سامنے جھک گیا۔
G

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close