تراشتا ہے سفر

تراشتا ہے سفر حصہ ۲

بادلو! دھند کے مانند بکھرنا سیکھو
اِک ردا بن کے بکھر جائو میری دنیا پر
اپنے دامن میں چھپا لو میرے سب بچوں کو
یہ بلکتے ہوئے، ہنستے ہوئے معصوم سے لوگ
جن کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں ، سیم و زر کا بار
یوں بکھر جائو کہ اِک کو بھی محسوس نہ ہو
ہمسفر کتنے کھلونوں کا بنا ہے مالک
کہ زر و سیم کی تقسیم کا یہ جرم، فریب
میرے بچوں کی ہلاکت کا بنا ہے موجب
بادلو! آئو اُتر آئو میری دنیا پر
لیلیٰ سفید لباس میں کوئی ماورائی مخلوق لگ رہی تھی۔ چہرے پہ حزن و ملال کا تاثر تھا اور لہجے میں نمی نے نظم کے حُسن کو دوبالا کر دیا تھا۔ ہال میں سکوت سا چھا گیا تھا اور میں دونوں ہاتھ دعا کے سے انداز میں سینے پر رکھے گویا سانس روکے کھڑی تھی۔ بصارت سے محروم یہ پیاری سی لیلیٰ بے حد حساس اور زود رنج بچی تھی اور اس نے کتنا کہا تھا۔
’’آئی کانٹ ڈو اِٹ شان!‘‘ وہ بہت گھبرا رہی تھی۔
’’آئی ایم شیور لیلیٰ جانو! یو کین ڈو اِٹ۔‘‘ میں نے اسے پوری طرح تسلی دی تھی۔ اور اب اس نے اتنے خوب صورت انداز میں یہ نظم پڑھی تھی کہ جب وہ اس کے اختتام پر اسٹیج سے اُتری تھی تو ہال میں بہت دیر تک تالیوں کا شور رہا تھا۔ خود میرے ہاتھ تالیاں پیٹ پیٹ کر سرخ ہو گئے تھے۔
’’ویلڈن لیلیٰ!‘‘ اس کے قریب آنے پر میں نے بے اختیار اس کا منہ چوم لیا تھا۔ لوگوں کے ستائشی کلمات پر جیسے میری ساری محنت وصول ہو گئی تھی۔ حقیقت تو یہ تھی کہ میں خود بھی کافی پریشان تھی۔ وہ پہلی مرتبہ اسٹیج پر گئی تھی۔ ایسی صورت میں اگر وہ کوئی گڑبڑ کر دیتی تو سارا امپریشن خراب ہو جانا تھا۔
آج ’’دارالاطفال‘‘ کا سالانہ فنکشن تھا اور اس کی تیاری کے لئے ہم لوگوں نے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ دیگر سماجی اداروں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ کچھ پریس کے نمائندے بھی موجود تھے۔ سارا ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ بچے رنگ برنگے کپڑے پہنے تتلیوں کی مانند اِدھر سے اُدھر جھومتے پھر رہے تھے۔
لیلیٰ کی نظم سے اس تقریب کا اختتام ہو گیا تھا اور اب کچھ معززین اسٹیج پر آ کر ادارے کی اس کاوش کو سراہ رہے تھے۔ میری نظریں بے اختیار ہی اس شخص کو کھوجنے لگی تھیں جس کی بدولت یہ سب ممکن ہوا تھا اور پھر پہلی رو کی تیسری کرسی پر جا کر میری نظریں ٹھہر سی گئی تھیں۔ سیاہ پینٹ کوٹ میں اس کا وجیہہ و دلکش سراپا کس قدر نمایاں لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پہ مکمل سنجیدگی طاری تھی اور آنکھیں کسی غیر مرئی نقطے پر جمی ہوئی تھیں۔ میں نے بہت دھیان سے اس کے چہرے پہ خوشی کی وہ رمق تلاش کرنی چاہی جو آج کے اس کامیاب فنکشن کے اختتام پر ہونی چاہئے تھی۔ مگر وہاں اس خوشی کا شائبہ تک نہیں تھا۔
’آخر کیوں؟‘ میں نے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ بند مٹھی ہونٹوں پر جمائے وہ کچھ تھکاتھکا سا لگ رہا تھا۔ میں اُلجھ کر رہ گئی تھی۔ اور جب عاصم نے الوداعی کلمات کے لئے اسے اسٹیج پر پکارا تھا تو وہ ایک دم چونک گیا تھا۔
’تو گویا ذہنی طور پر یہاں موجود ہی نہ تھا۔‘ میں نے اسے مضبوط قدموں سے ڈائس کی طرف جاتے دیکھا۔
اس کا سر کچھ لمحوں کے لئے جھکا رہا تھا، پھر اس نے ڈائس پہ دونوں کہنیاں ٹکاتے ہوئے پورے ہال پہ ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی۔ اس کی مقناطیسی شخصیت کا سحر پورے ماحول کو پوری گرفت میں لے رہا تھا۔ ہر طرف ایک گمبھیر سی خاموشی چھا گئی تھی۔ اس نے بہت شستہ لہجے میں اپنی بات کا آغاز کیا تو اسے سننے کے لئے میری دھڑکنیں تک تھم گئی تھیں۔
بچے بڑی محبت سے اپنے آفندی پاپا کو دیکھ رہے تھے اور باقی سب لوگ اس عظیم انسان کو اپنی توصیفی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھے جس نے ان پھولوں کی آبیاری کے لئے دن رات کا فرق مٹا دیا تھا۔
میں اپنی کرسی پر بیٹھی ایک ٹک اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ نہ جانے کیوں وہ پہلے سے بہت مختلف نظر آ رہا تھا۔ اس کا چہرہ اطمینان و سکون سے عاری تھا۔ اس کی بھاری آواز میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھی مگر میں اس کے الفاظ سن نہیں پا رہی تھی۔ میں تو اسے صرف دیکھ رہی تھی۔ آج وہ بہت مضطرب تھا، بہت بے چین۔ مگر کیوں؟ میں نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
وہ مضطربانہ انداز میں اپنے ہاتھوں کو بار بار کھول رہا تھا، بند کر رہا تھا۔ اس کے جاندار لہجے میں تھکن پنہاں تھی۔ اس کے چہرے کے تنے تنے مغرور نقوش میں کوئی دکھ اُتر رہا تھا۔ اس کی سبز جھیلوں جیسی آنکھوں میں سمندروں کی سی نمی تھی۔
اس کے عنابی ہونٹوں کو جیسے کبھی مسکراہٹ نے چھوا تک نہ تھا۔ اور ہونٹوں کے بالکل برابر وہ سہما ہوا سیاہ تل۔
مجھے لگا میں اس شخص کے بہت قریب جا چکی ہوں اور شاید اس کے وجود کی گہرائیوں میں اتر جانے والی ہوں۔ اس کی چٹان جیسی شخصیت کی دراڑیں مجھ پر کھلنے والی ہیں۔ مگر عین اسی لمحے کسی نے مجھے بری طرح چونکا دیا تھا۔
’’کہاں کھو گئی ہو؟ میں کب سے تمہیں بلا رہی ہوں۔‘‘ یہ شہزینہ تھی۔ میں گہری سانس لے کر اس کی طرف پلٹی اور تب ہال سے باہر نکلتے لوگوں کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اب سے پہلے جو چند لمحے گزرے ہیں ان میں میرے اور اس شخص کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔
سب مہمان ریفریشمنٹ کے لئے باہر جا چکے تھے اور ریفریشمنٹ کے دوران رضا کی بے تکی حرکات اور زوار شاہ کے نپے تلے جملے بھی مجھے متاثر نہ کر سکے تھے۔ ذہنی رو بھٹک بھٹک کر اس شخص تک جا رہی تھی جس کے سامنے کافی کا مگ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور دیگر لوازمات سے بھری پلیٹ بھی جوں کی توں پڑی تھی۔ تمام مہمان رخصت ہو چکے تھے۔ ملازمین تمام چیزیں سمیٹ رہے تھے۔ کافی کا آخری گھونٹ لے کر خالی مگ میز پر رکھ کر میں بے اختیار ہی اس طرف بڑھ گئی تھی۔
’’آفندی صاحب!‘‘ میں نے انگلیوں سے ٹیبل بجاتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ جیسے کسی گہرے خیال سے چونکا تھا۔
’’شانزے۔۔۔۔۔۔!‘‘ اس نے سر اٹھا کر مدد طلب نظروں سے مجھے دیکھا۔ ’’میرے ساتھ چلو گی؟‘‘ اس کے لہجے میں التجا تھی۔
’’کہاں؟‘‘ اور ’’کیوں؟‘‘ جیسے سوالات میرے لبوں پر آ کے دم توڑ گئے تھے۔ اثبات میں سر ہلا کر میں اس کے ساتھ چل دی تھی۔ وہ اس وقت کسی بچے کی طرح مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔ اور جب اس نے گاڑی قطعی ایک غیر معروف، انجان، ویران سڑک کی طرف موڑی تو آج کا سورج سڑک کے کنارے پر اپنی الوداعی کرنیں بکھیر رہا تھا۔ میں نے اپنے ساتھ بیٹھے اس خاموش اور ساکت وجود کو دیکھا۔
اس زرد شام کی تمام تر اُداسی ان آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ یہاں ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہے۔
’کم از کم مجھے تو معلوم کر لینا چاہئے تھا کہ ہم اس وقت کہاں جا رہے ہیں۔‘ اس سنسان سڑک پر آ کے میں نے لمحہ بھر کے لئے سوچا تھا۔ گاڑی جو پہلے فل سپیڈ پر بھاگی جا رہی تھی، اب قدرے آہستہ ہو گئی تھی۔ اور پھر سڑک کے دائیں طرف جا کر رک گئی تھی۔ میں نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔ اردگرد کوئی جگہ بھی تو ایسی نہ تھی جسے مطلوبہ مقام سمجھ کر گاڑی روک دی گئی تھی۔
’’شانزے! تم نے کبھی مستان شاہ کو دیکھا ہے؟‘‘ آدھے گھنٹے کی اس مسافت میں وہ پہلی بار گویا ہوا تھا۔
’’مستان شاہ۔‘‘ میں نے زیر لب نام دہرایا۔
میں نے یہ نام ہی پہلی مرتبہ سنا تھا اس لئے دیکھنے یا ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لہٰذا میں نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
’’ہاں، کسی نے بھی اسے نہیں دیکھا۔ اسے صرف میں نے دیکھا ہے۔ صرف میں ملا ہوں اس سے۔ اور شانزے! میں تو اب بھی ہر روز اس سے ملتا ہوں۔ اس صدیوں پرانے درخت کے نیچے۔‘‘
وہ کھوئے کھوئے سے لہجے میں بول رہا تھا۔ میں نے اس کی نظروں کے تعاقب میں اس درخت کو دیکھا۔ انتہائی قدیم ترین درخت تھا اور اس قدر گھنا کہ اس کے آس پاس کی زمین پر سورج کی کوئی کرن بھی نظر نہ آ رہی تھی۔
’’میں اس سے ملنے ہر روز یہاں تک آتا ہوں اور معلوم ہے اگر میں نہ آ سکوں تو پھر وہ مجھ سے ملنے چلا آتا ہے خواہ اس وقت میں کہیں بھی ہوں۔ اس ملک سے باہر ہوں یا اس خطے سے، دن ہو یا رات، میں سو رہا ہوں یا کام میں مشغول۔ وہ خودبخود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔ حالانکہ لوگ کہتے ہیں آج سے اٹھائیس سال قبل وہ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے مر گیا تھا۔ اسی صدیوں پرانے درخت کے نیچے۔‘‘
میں نے حیرت سے اچھل کر اسے دیکھا۔ کیسی عجیب بات کہہ رہا تھا وہ۔
’’اور مجھے تو اس کے گھنگھروئوں تک کی آواز سنائی دیتی ہے اس کے آنے سے پہلے اور اس کے جانے کے بعد بھی، پھر لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مستان شاہ اٹھائیس سال پہلے مر چکا ہے۔‘‘ اس نے نڈھال ہو کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔ اس کے چہرے پر عجیب سی شکستگی تھی۔ ’’اور میں تو اسے اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں۔‘‘ وہ مجھ سے زیادہ خود سے مخاطب تھا۔ ’’اس کے گھنگھروئوں کی آواز مجھے بخوبی سنائی دے رہی ہے۔ تم دیکھ رہی ہو نا شانزے! وہ ریل کی پٹری کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔‘‘
میں نے ایک بار پھر اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف میں درختوں اور جھاڑیوں کی بہتات تھی اور ان کی جڑوں میں گھاس اتنی لمبی اُگی ہوئی تھی کہ ایک انسان اپنے پورے قد کے ساتھ اس میں سما سکتا تھا۔ عین سامنے یہ پتلی سی سڑک بہت دور تک جا کر درختوں کے جھنڈ میں گم ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر ریل کی پٹری۔۔۔۔۔۔ میں نے الجھ کر اس کی سمت دیکھا مگر وہ تو شاید بند آنکھوں سمیت سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
’’وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے لمبے بال لٹوں کی صورت اس کے گلے میں جھول رہے ہیں۔ اس کے لبادے ر رنگ برنگے پیوند ہیں اور پائوں میں بھاری گھنگھرو۔ اس کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہے جسے وہ متواتر زمین پر مارتا چلا آ رہا ہے۔ اور تم دیکھ رہی ہو اس کے پیچھے ایک بچہ چلا آ رہا ہے، بمشکل سات آٹھ سال کا بچہ۔ پٹری کے آس پاس بکھرے پتھر اس کے ننگے پائوں میں مسلسل چبھ رہے ہیں۔ وہ بھاگ بھاگ کر مستان شاہ کے بڑے بڑے اُٹھتے قدموں کا ساتھ دینے میں ہلکان ہوا جا رہا ہے۔ اور اب وہ لوگ درختوں کے درمیان بنی پگڈنڈی پر مڑ رہے ہیں۔‘‘
میں حیرت کے مارے بے ہوش ہونے کو تھی۔ وہ خود میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ اسے پکارنے تک کی ہمت نہ کر سکی تھی۔
’’اب وہ لوگ پگڈنڈی کے خاتمے پر اس سڑک کے کنارے نمودار ہو رہے ہیں۔ مستان شاہ کے قدموں میں تیزی آ گئی ہے۔ اب وہ اس صدیوں پرانے درخت کے نیچے بنے چبوترے پر کھڑا ہے۔ اس کے پائوں ایک مخصوص تال سے زمین پر پڑ رہے ہیں۔ وہ گول گول گھوم رہا ہے اور ایک لے میں گا رہا ہے۔
نا الکھ جگا سنسار میں جب ماں کی کوکھ ہٹی
نا پستک کھولی باپ نے جب میری ناف کٹی
نا عمل کیا رمال نے نا دھن خیرات بٹی
نا بڑوں نے منتر تان کے کوئی پاک زبان رٹی
میں آپ ہوں اپنا زائچہ، میں آپ ستارا ہوں
میں آپ سمندر ذات کا، میں آپ کنارا ہوں‘‘
میں ششدر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں اس شخص کو جھنجوڑ ڈالوں یا خود یہاں سے بھاگ نکلوں۔ پُراسرار ماحول اور اس کا ناقابل فہم روّیہ مجھے بری طرح خوف زدہ کر رہا تھا۔ مگر وہ تو جیسے آپ میں ہی نہیں تھا۔ رواں لہجے میں وہ آنکھیں بند کئے کہے جا رہا تھا۔
’’او دھرتی کھول ہتھیلیاں، میں پائوں سے کھینچوں ریکھ
میرے کٹے پھٹے پاپوش ہیں پر نقش نگاری دیکھ
میں کنڈلی ہوں تاریخ کی، میں جنم جنم کا لیکھ
میں بانجھ زمیں کا سنبلہ ، میں زرد رُتوں کا میکھ
اِک خیرہ خیرہ روشنی میری چھائوں میں ہوتی ہے
یہ دنیا جس کا نام ہے ، میرے پائوں میں ہوتی ہے
اور دیکھو، وہ کوئی تھکا ہارا مسافر چلا آ رہا ہے۔ وہ مستان شاہ کے ہونٹوں سے ادا ہوتے لفظوں پر جھوم رہا ہے۔ اور اب اس نے اپنی جیب سے چاس روپے کا نوٹ نکالا تھا۔ اس کی جیب کا واحد، آخری نوٹ۔ مستان شاہ کے پاس کھڑے بچے کے ہاتھ میں ایک کشکول ہے اور وہ نوٹ اس کشکول میں منتقل ہو چکا ہے۔ بچے کی آنکھ جھک گئی ہے اور ماتھے پہ پسینے کے چند قطرے ہیں۔
مستان شاہ کی دھیمی پڑتی تان، پچاس کا نوٹ دیکھ کر پھر سے بلند ہونے لگی ہے۔ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش سے گھوم رہا ہے۔ اس کے قدموں کی دھمک سے زمین بھی لرزنے لگی ہے۔ گھنگھروئوں کی آواز پر اس ویرانے کی ہر چیز جھومنے لگی ہے۔
او مانگ بھری میری کامنی! میرے ساتھ جوانی چکھ
یہ جگ تیری جاگیر ہے ، تُو کھل کے پائوں رکھ
اس ورق ورق سنسار کو تو کھول پھرول پرکھ
رہیں سدا یہ دشت نوریاں ہے جیون نقش الکھ
آ پائوں پہ مٹی باندھ لیں آہوا ہتھیلی پر
آ اسم سم سم پھونک دیں اس جنم پہیلی پر
آ پائوں پہ مٹی باندھ لیں ، آ ہوا ہتھیلی پر
آ پائوں پہ مٹی باندھ لیں ، آ ہوا ہتھیلی پر
آ پائوں پہ مٹی باندھ لیں ، آ ہوا ہتھیلی پر‘‘
اس جملے کی تکرار ہونے لگی تھی اور مجھے یہ آواز اپنے چہار جانب سے آتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔ میں سانس روکے اپنی جگہ پر ساکت بیٹھی تھی۔ میری آنکھ گویا پتھرا گئی تھی۔ عجب عالمِ بے یقینی تھا۔ میں پوری پوری اس شخص کی طرف گھوم گئی تھی جو عالمِ بے خودی میں ایک ہی جملے کی تکرار کئے جا رہا تھا۔
’’آ پائوں پہ مٹی باندھ لیں ، آ ہوا ہتھیلی پر‘‘
اس کے دونوں ہاتھ اسٹیئرنگ پر اس سختی سے جمے ہوئے تھے کہ سبز رگیں ہاتھوں سے باہر نکلتی محسوس ہو رہی تھیں۔ چہرے پہ عجیب وحشت طاری تھی اور تنفس تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔ اس سردی میں چہرے پہ پسینہ بہہ رہا تھا اور کنپٹی کی رگیں تن کر اُبھر آئی تھی۔ اس کی ازحد خراب حالت پر میں نے متوحش ہو کر اسے جھنجوڑ ڈالا تھا۔
’’آفندی صاحب! کیا ہو رہا ہے آپ کو؟ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
میرے ایک دم جھنجوڑنے پر اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دی تھیں۔ اس کی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں اور وہ یوں متحیر و متعجب مجھ پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا کہ میں گڑبڑا کر رہ گئی تھی۔
’’آر یو آل رائٹ آفندی صاحب؟‘‘ میں نے جھجکتے ہوئے کہا تھا اور اس کے بازو پہ رکھا ہاتھ آہستگی سے ہٹا لیا۔ درحقیقت اس کی کیفیت میری سمجھ سے بالاتر تھی۔ وہ ابھی تک بے یقینی سے مجھے دیکھے جا رہا تھا۔ گویا وہ میرے وجود سے بالکل بے خبر تھا اور اتنی دیر سے وہ مجھ سے نہیں، خود سے مخاطب تھا۔ اگلے ہی پل ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا اور گاڑی کی چھت پہ بازو رکھ کر اس نے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔
میں نے اپنا چکراتا ہوا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔
’کیا ہوا ہے؟
ابھی جو آفندی صاحب نے کہا تھا، وہ کیا ہے؟
اور مستان شاہ کون ہے؟‘
بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں پر ختم، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ذہن جیسے خلا میں قلابازیاں لگا رہا تھا۔ نہ جانے کتنے لمحے یونہی بیت گئے تھے۔
تب گاڑی کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر میں نے سر اٹھایا۔ اس نے موڑ کاٹ کر گاڑی واپسی کے راستے پر ڈال دی تھی۔ میں نے کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا۔ چہرے کی غایت درجہ سرد مہری نے مجھے کچھ نہ کہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے ہونٹ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست تھے گویا کبھی جدا ہی نہ ہوئے ہوں۔ لاشعوری طور پر اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے اندر ہی اندر اُلجھتی رہی تھی، اور اسی اُلجھن، پریشانی و تفکر میں مجھے معلوم ہی نہ ہوا تھا کہ کب گاڑی ان ویران راستوں سے نکل کر شہر کی ہنگامہ خیز سڑکوں پر دوڑنے لگی تھی۔ اور جب ’’شانزے ولا‘‘ کے سامنے گاڑی کے پہئے چرچرائے تب میں بری طرح چونک گئی تھی۔
دروازہ کھولتے ہوئے میں نے مڑ کر ایک لمحے کے لئے اسے دیکھا۔ وہ سرخ موڑے کھڑکی کے دوسری جانب دیکھ رہا تھا۔ میں اسی خاموشی سے گاڑی سے اتر آئی تھی اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی۔
///
صبح میری آنکھ کھلی تو ملگجا سا اُجالا ہر طرف پھیل گیا تھا۔ میں کچھ دیر یونہی کسلمندی سے بازوئوں میں سر دیئے لیٹی رہی۔ رات بھر عجیب و غریب چہرے خواب میں آ آ کر مجھے ڈراتے رہے تھے۔ کبھی غنودگی میں گھنگھروئوں کی آواز سنائی دیتی اور ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتی۔ پھر ذرا نیند کا غلبہ ہوتا تو چہار جانب سے ایک ہی لے میں مختلف آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
او مانگ بھری میری کامنی
آ پائوں پہ مٹی باندھ لیں
آ ہوا ہتھیلی پر
اور نہ جانے کون کون سے فقرے مستقل مجھے ڈسٹرب کرتے رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت سر میں شدید درد ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں ادھوری نیند کی کڑواہٹ بھی بھری ہوئی تھی۔ بھاری پپوٹوں کو بمشکل حرکت دیتے ہوئے میں نے وقت دیکھا اور پھر انٹرکام پر ملازمہ کو چائے لانے کی ہدیت کرتے ہوئے میں بستر سے اٹھ گئی تھی۔
بالوں کو انگلیوں سے سلجھاتے ہوئے میں گلاس ونڈو تک آئی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ رات بھر کھڑکیوں پہ ہونے والی دستک جو مجھے خوف زدہ کرتی رہی، وہ دراصل یہ اس بارش کی شرارت تھی جو اس وقت بھی بہت باریک اور نرم پھوار کی صورت زمین پہ گر رہی تھی۔ آسمان پہ گہرے سیاہ بادلوں نے جانے کب قبضہ جمایا تھا اور اب بڑی مستقل مزاجی سے روشنی کے دیوتا کو پابند کئے ہوئے تھے کہ آٹھ بجنے کے باوجود بھرپور اُجالا نظروں سے اوجھل تھا۔
میں دروازہ کھول کر ٹیرس پہ چلی آئی۔ خنک ہوا نے بڑی دیدہ دلیری سے مجھے اپنی بانہوں میں قید کر لیا تھا۔ ماحول کی ہر چیز اس وقت ایک عجیب سے سکوت میں ڈھکی ہوئی تھی۔ بارش کی کن من کے سوا کوئی اور آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ چشمِ برگ سے بارش کے قطرے آنسوئوں کی صورت ٹوٹ کر گرتے تو سبز گھاس بڑے شوق سے اس قطرئہ آب کو اپنی زلفوں میں سجا لیتی۔ میں نے ذرا سا آگے کو جھک کر دیکھا، اردگرد کے گھروں میں بھی ہر روز کی چہل پہل نہ تھی۔ گویا جاتے جاتے موسم نے پلٹ کر ایک مرتبہ پھر لوگوں کو ان کے گھروں میں مصلوب کر دیا تھا۔
تبھی ایک سفید گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی تھی۔ میں نے یونہی ٹیرس کی گرِل پہ جھکے جھکے گاڑی کے اندر بیٹھے شخص کو دیکھنا چاہا۔ گاڑی سیدھی پورچ میں گئی تھی اور اندر سے برآمد ہونے والا شخص یقینا ولید احتشام ہی تھا۔ پورچ سے برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لئے رکا تھا اور اس قدر اچانک اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا تھا کہ میں بے خیالی میں اس پر جمی نظریں ہٹا بھی نہ سکی تھی۔
اس نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ بڑے اسٹائل سے ہاتھ ہلا کر غالباً ہیلو کہا تھا اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔ میں سر جھٹک کر کمرے میں چلی آئی تھی۔ چائے پی کر ذہن کچھ سوچنے کے قابل ہوا تو کل شام کا واقعہ ایک بار پھر اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ میری آنکھوں میں گھوم گیا تھا اور رات بھر میں سینکڑوں مرتبہ سوچے گئے سوال ایک مرتبہ پھر شعور کی سطح پر نوکیلے کانٹوں کی طرح اُگنے لگے تھے۔
’آخر ایسی کون سی بات تھی جو پتھریلے اعصاب کے مالک جمشید آفندی کو اس حد تک متاثر کر گئی تھی۔‘ اس کی غیر حالت میرے لئے باعثِ تعجب تھی۔
’اور وہ مستان شاہ کون تھا؟ اور یہ بات بذاتِ خود کتنی عجیب ہے کہ مستان شاہ اٹھائیس سال قبل مر چکا ہے اور آفندی کہتا ہے کہ وہ آج بھی اس سے ملنے کے لئے آتا ہے۔۔۔۔۔ یا خدا۔۔۔۔۔۔‘‘
میں بے چینی سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگی تھی۔
سالانہ تقریب کے بعد ’’دارالاطفال‘‘ دو روز کے لئے بند رہنا تھا۔ اس لئے دو دن انتظار کی کوفت مجھے مجبوراً اُٹھانی پڑی تھی۔ اور جب تیسرے روز وہاں پہنچنے پر عاصم کی زبانی مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ اپنا بزنس ٹور ادھورا چھوڑ کر صرف تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے اور پرسوں شام دوبارہ امریکہ روانہ ہو گئے تھے تو میں نے ایک طویل سانس لے کر اس پر سے نظریں ہٹا کر درختوں کو دیکھنا شروع کر دیا تھا جو اس وقت بالکل گم صم کھڑے تھے۔ ایسی ہی کوئی اُداس سی چپ مجھے اپنے وجود پہ گرتی محسوس ہو رہی تھی۔ تب میں چپ چاپ واپس گھر لوٹ آئی تھی جہاں ونیزہ کڑے تیوروں کے ساتھ میرا انتظار کر رہی تھی۔
’’حد ہوتی ہے یار بے وقوفی کی بھی۔ یہ کوئی موسم ہے گھر سے باہر نکلنے کا؟ اور پھر سیر و تفریح کے لئے تو وقت ہے ہی نہیں۔ کچھ معلوم ہے، ڈیٹ شیٹ آ چکی ہے۔‘‘ اس نے اپنی دانست میں مجھے ڈرانا چاہا تھا مگر میں اپنی سوچوں میں گم اسے تمام نوٹس اور کتابیں بیگ میں ٹھونستے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
’’بہت ڈھیل دے چکی ہوں میں تمہیں۔ مگر اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔‘‘ اس نے کسی سخت گیر استاد کی طرح مجھے گھورتے ہوئے اُٹھنے کا اشارہ کیا تو میں بغیر کسی مزاحمت کے اس کے ساتھ چل دی تھی۔ اور پھر نہ صرف ایگزام شروع ہونے سے پہلے بلکہ بعد میں بھی میری اس طرح سے مدد کی تھی کہ بسا اوقات میں خود سے شرمندہ ہو جایا کرتی تھی۔ اپنا پیپر وہ ہمیشہ وقت سے پہلے مکمل کر لیا کرتی تھی۔ اور پھر سب سے نظر بچا کر وہ بغیر میری مزاحمت کا نوٹس لئے میری شیٹ اپنے قبضے میں لے کر بڑی روانی سے وہ سوال حل کیا کرتی تھی جو میں نہ کر سکتی تھی۔
بچپن سے ایک ساتھ قلم پکڑنا اور ایک ساتھ لکھنا سیکھا تھا۔ سو رائٹنگ میں اُنیس بیس کا ہی فرق تھا۔
آخری پیپر والے دن جب میں لمبی تان کر سونے اور ونیزہ، حماد کے ساتھ آئوٹنگ پر جانے کا پروگرام بنائے بیٹھی تھی کہ اتنے روز سے اس نے حماد کو صاف منع کر دیا تھا کہ وہ فون کرنے گھر اور خواب میں آنے کی زحمت نہ کرے۔ تبھی داور انکل نے آفس سے فون کر کے یہ اطلاع دی تھی کہ جرمنی جانے کے لئے ونیزہ کی کل کی سیٹ کنفرم ہو چکی ہے اور یہ خبر پا کر ونیزہ بے چارگی سے مجھے دیکھتی رہ گئی تھی۔ اس کے تایا مستقل طور پر جرمنی میں مقیم تھے اور ایک عرصے سے ونیزہ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہے تھے جو ونیزہ نے اب آ کر قبول تو کر لی تھی مگر اتنی جلدی جانے پر رضامند بھی نہ تھی۔
بہرحال اب اپنے اپنے پروگرام ملتوی کرتے ہوئے وہ دن شاپنگ میں گزارا اور رات پیکنگ کرتے ہوئے اور پھر اس کی ڈھیروں نصیحتیں سمیٹتے ہوئے میں اس وقت ایئرپورٹ سے باہر نکلی تھی جب پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ آسمان کی وسعتوں میں ایک نقطے کی شکل میں معدوم ہو گیا تھا۔ انکل داور اور پھپھو کو خدا حافظ کہہ کر میں گھر کی طرف روانہ ہوئی تو تب مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے بیڈ روم کے لئے بے طرح اُداس ہوں۔ پیپرز کے دوران سونے کا وقت کہاں ملتا تھا۔ سو اب بھی میں یہ ہی سوچ رہی تھی کہ گرم پانی سے شاور لے کر اس وقت تک سوتی رہوں گی جب تک جاگنے کی شدید خواہش نہ ہو گی۔ اور اس کے بعد۔
میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا تھا اور وہ اپنے پورے قد سمیت میرے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ تب مجھے یاد آیا۔ ند روز قبل عاصم نے فون پر گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ وہ ایک دو روز میں وطن لوٹنے والا ہے۔ اور فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد ہی ونیزہ نے سرسری انداز میں مجھ سے جمشید آفندی کے متعلق پوچھا تھا۔ کچھ لمحے سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد میں نے کہا تھا۔
’’مجھے نہیں لگتا کہ میں اس شخص کو لفظوں میں ڈھال سکتی ہوں۔ اس سے متعارف ہونے کے لئے تمہیں خود اس سے ملنا ہو گا۔‘‘
’’رئیلی، کیا ایسی ہی سپر چیز ہے وہ؟‘‘ ونیزہ نے حد درجہ حیرت سے پوچھا تھا اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
’’یس، ہی از اونلی ون۔‘‘
’’اوہ۔۔۔۔۔۔ تمہارے مزاج کی یہ تبدیلی اسی کی مرہون منت تو نہیں؟‘‘ اس نے کھوجتی نظروں سے مجھے دیکھا تھا اور میں نے ایمانداری سے اعتراف کیا تھا۔
’’ہاں یہ درست ہے کہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ میں نے اسی سے سیکھا ہے۔ اور اگر سر راہ وہ مجھے نہ مل جاتا تو شاید میں ان گرد آلود راستوں میں اپنا آپ کھو چکی ہوتی۔‘‘ اور میں نے دیکھا تھا کہ ونیزہ نے بہت عجیب سے انداز میں مجھے دیکھ کر اپنا سر جھکا لیا تھا۔ اور تب میں نے اسے پکار کر کہا تھا۔
’’سنو! اسے کوئی محبت وحبت کا چکر مت سمجھ لینا۔ وہ ایک مسیحا ہے اور مسیحا سے محبت نہیں، عقیدت کی جاتی ہے۔‘‘
گیٹ کھولتے ہوئے چوکیدار نے اس زوردار طریقے سے سلام جھاڑا تھا کہ میں یکلخت ہی اپنے خیالات سے نکل آئی تھی۔
’تو گویا دوسرا اہم ترین کام ’’دارالاطفال‘‘ میں حاضری کا ہے۔‘ میں دل ہی دل می سوچتے ہوئے بھرپور نیند کی خواہش لئے اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھی تھی۔ مگر پاپا کے لاکڈ بیڈ روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں ٹھٹک گئی تھی۔ پاپا کی ڈیتھ کے بعد سے اس کمرے کی چابی میرے پاس تھی۔ اور اس تمام عرصے میں میرے سوا کبھی کوئی اس بیڈ روم میں نہیں جاتا تھا۔ بلکہ میں نے کسی کو اتنی اجازت دی ہی نہیں تھی۔ مگر اب اندر سے آتی آوازوں اور اٹھا پٹخ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ کمرے کو نہ صرف کھول دیا گیا ہے بلکہ اندر ایک سے زیادہ افراد موجود بھی ہیں۔
حیران ہوتے ہوئے میں چند قدم پیچھے پلٹ کر آئی تھی اور دروازہ کھولنے کے بعد میں نے کمرے کی جو حالت دیکھی تھی، اس نے چند لمحوں کے لئے ساکت کر دیا تھا۔ عجیب بے ترتیبی سی پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی پاپا کی بڑی سی فریم شدہ تصویر ’’خوش آمدید‘‘ کہتے ہوئے محسوس ہوا کرتی تھی، اس وقت اپنے مخصوص مقام سے غائب تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل تمام چیزوں سے عاری تھا۔ حتیٰ کی خالی درازیں یونہی کھلی پڑی تھیں۔ ٹیبل لیمپ آڑا ترچھا زمین پہ گرا ہوا تھا۔ پاپا کے تمام ملبوسات بیڈ پر ڈھیر کر دیئے گئے تھے اور ملازم وارڈروب کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں ششدر سی اپنی جگہ کھڑی کمرے کی ابتر حالت کو دیکھ رہی تھی۔ تبھی ایک ملازم کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ بے اختیار ہی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔
’’شانزے بی بی! آپ۔‘‘ اس کے لہجے اور چہرے پر اتنی حیرت تھی کہ جیسے میرا یہاں آنا ان کے لئے انتہائی غیر متوقع ہو۔ یقینا انہیں میری غیر موجودگی میں یہ سب کرنے کا حکم دیا گیا ہو گا۔
’’یہ سب کیا ہو رہا ہے خادم حسین؟‘‘ میں شدید دکھ کے عالم میں بولی تھی۔
’’بڑی بیگم صاحبہ کا حکم ہے جی کہ یہ کمرہ خالی کر دیں اور چیزیں سٹور روم میں رکھوا دیں۔‘‘ اس نے سر جھکا کر آہستگی سے بتایا تھا۔
’’کیا؟۔۔۔۔۔۔ دماغ خراب ہو گیا ہے تمہاری بیگم صاحبہ کا؟ اور۔۔۔۔۔۔ اور تم لوگ یہ سب چیزیں سٹور روم میں رکھنے جا رہے تھے؟‘‘ شدید غم و غصے سے میری حالت ابتر ہو گئی تھی۔
’’ہم تو ایسا نہیں چاہتے تھے بی بی! مگر بڑی بیگم کا حکم تھا، اس لئے۔‘‘
’’شٹ اپ خادم حسین! جہنم میں گئیں تمہاری بیگم صاحبہ اور بھاڑ میں جائو تم دونوں۔ آخر تم لوگوں کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ اس کمرے کی کسی چیز کو ہاتھ بھی لگائو۔ اتنا ارزاں سمجھا ہے تم لوگوں نے ان چیزوں کو کہ انہیں سٹور روم میں رکھنے کے لئے تیار ہو گئے۔‘‘ میرے جسم میں دوڑتے خون کی گردش بے حد تیز ہو گئی تھی۔
’’نن۔۔۔۔۔۔ نہیں جی۔‘‘ ملازم نے بے حد گھبرا کر وضاحت کرنی چاہی تھی۔
’’شٹ اپ خادم حسین! اینڈ گیٹ لاسٹ فرام ہیئر۔‘‘ میں دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر پوری قوت سے چیخی تھی اور وہ دونوں ملازم میری حالت کے پیش نظر فوراً سے پیشتر وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔
’’آئندہ اگر کسی نے اس کمرے میں قدم بھی رکھا تو یاد رکھو میں اسے شوٹ کر دوں گی۔ خبردار اگر آج کے بعد تمہارے ناپاک ہاتھوں نے اس کمرے کی کسی چیز کو چھونے کی کوشش کی تو میں اسے جان سے مار دوں گی۔ کیا سمجھا ہے تم لوگوں نے، یوں ایمان حسن کو دربدر کر دو گے؟ اس کی ہر نشانی کو مٹا دو گے؟ مگر ابھی میں زندہ ہوں۔ شانزے ایمان کے جیتے جی تم لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘
میں ان کے پیچھے دھاڑی تھی۔ کوئی سرخ رنگ کی آگ تھی، جس نے سر سے پائوں تک مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ جسم کا سارا خون جیسے کنپٹیوں میں جمع ہو کر دھڑک رہا تھا اور میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں کیا کر ڈالوں۔ کچھ لمحوں بعد مجھے احساس ہوا تھا کہ میں کمرے میں تنہا کھڑی چلّا رہی ہوں۔ ملازم نہ جانے کب کے وہاں سے رفوچکر ہو گئے تھے۔ تب میں نے کمرے کو ایک نظر دوبارہ دیکھا۔ شدید غصے میں میری سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں اور آنکھوں کے سامنے ایسی دھند تھی کہ کمرے کا منظر بھی مجھ پہ واضح نہیں ہو پا رہا تھا۔ میں یونہی کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکلی اور قریبی صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔ میرا دل اس وقت جیسے سلگ رہا تھا۔
’یہ عورت پاپا کا ایک ایک نقش مٹا دینا چاہتی ہے۔ مگر میں اسے ایسا کرنے نہیں دوں گی۔‘ میرے خون میں ایک بار پھر اُبال آنے لگا تھا۔
’’ہیلو شانزے ڈارلنگ!‘‘ وہی کانوں میں گھستی ہوئی شاطر آواز میرے عقب میں اُبھری تھی اورمیں نے لاشعوری طور پر دونوں جبڑے سختی سے ایک دوسرے پہ جما دیئے تھے۔
دونوں ہاتھوں میں تھاما ہوا سر اوپر اٹھا کر میں ابھی انہیں پلٹ کر دیکھ بھی نہ پائی تھی جب وہ پیچھے سے ہی دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر جما کر جھکی تھیں اور اپنے چہرے پہ ان کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرنے سے پہلے ہی میں تڑپ کر ان کی گرفت سے آزاد ہو گئی تھی۔ ان کا چہرہ ایک دم ہی خفت سے سرخ ہو گیا تھا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے شانزے؟‘‘ انہوں نے غصے و ناراضگی سے مجھے گھورتے ہوئے کہا تھا۔ میں اپنے تیز ہوتے تنفس کے ساتھ بغیر کچھ کہے آگے بڑھی تھی اور ایک جھٹکے سے بیڈ روم کا دروازہ چوپٹ کھول دیا تھا۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ میرے لہجے و انداز پر وہ ایک لمحے کے لئے گڑبڑائی تھیں مگر جلد ہی انہوں نے خود پر قابو پا لیا تھا۔
’’ہاں، وہ میری ایک فرینڈ آ رہی ہے۔ یہ کمرہ اس کے لئے سیٹ کرنا ہے۔‘‘ نظریں چراتے ہوئے انہوں نے سپاٹ سے لہجے میں کہا۔
’’بیسیوں کمرے خالی پڑے ہیں اس محل نما کوٹھی میں۔ پھر یہی کمرہ کیوں؟‘‘ میں اپنی سرخ آنکھوں سمیت ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ ’’اور کیا آپ نہیں جانتی تھیں کہ یہ کمرہ اور اس کمرے کی ہر چیز مجھے کس قدر عزیز ہے۔‘‘ میرا لہجہ حد درجہ تلخ تھا اور آنکھوں میں اس عورت کے لئے تنفر ہی تنفر تھا۔ میرا یہ بپھرا ہوا انداز ان کے لئے نیا ہی نہیں، ناقابل قبول بھی تھا۔
’’ڈونٹ بی سلی شانزے! تمہیں خوامخواہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ان کا لہجہ ترش تھا۔ ’’ایک شخص اگر اس دنیا میں موجود ہی نہیں تو اس کی چیزیں سینت سینت کر رکھنے سے آخر کیا حاصل؟ اور تم یہ حقیقت کیوں تسلیم نہیں کر لیتی ہو کہ تمہارا باپ مر چکا ہے اور اس کی کتابیں، کپڑے، سامان محض کاٹھ کباڑ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اسٹاپ اِٹ۔۔۔۔۔۔‘‘ میرے صبر کا پیمانہ جیسے ایک دم چھلک گیا تھا۔ ’’جھوٹ ہے یہ۔ سفید جھوٹ ہے کہ میرا باپ مر گیا ہے۔ صرف میں ہی نہیں، آپ بھی جانتی ہیں کہ میرا باپ مرا نہیں بلکہ اسے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’شٹ اپ شانزے!۔۔۔۔۔۔۔ آئی سے جسٹ شٹ اپ۔‘‘ وہ اس قدر زور سے دھاڑی تھیں کہ میرے الفاظ اس شور میں کہیں گم ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں جیسے ایک دم خون اُتر آیا تھا۔ چہرہ ایک لمحے کے لئے زرد ہوا تھا اور پھر جیسے ان کے جسم کا سارا خون ان کے چہرے پہ جمع ہو گیا تھا۔
’’اس کے بعد اگر تم ایک لفظ بھی بولیں شانزے! تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ وہ انگلی اٹھا کر تنبیہی انداز میں میری طرف بڑھی تھیں۔
’’سچ سننے کا حوصلہ نہیں اور مار دینے کی دھمکی دے رہی ہیں۔ کتنا آسان ہے آپ کے لئے ایک جیتے جاگتے انسان۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے زہرخند لہجے میں کہنا چاہا تھا مگر انہوں نے وحشی انداز میں میری بات کاٹ دی تھی۔
’’شانزے! ڈونٹ میک می لوز مائی ٹیمپر۔ میں اس سے زیادہ برداشت نہیں کروں گی۔‘‘
’’برداشت کی حد تو میری ختم ہوئی ہے محترمہ! جو بات آپ میری زبان سے نہیں سن پا رہیں، کل وہ آپ کو ساری دنیا سے سننی پڑے گی۔‘‘ نہ جانے کب کا رُکا ہوا لاوا نکلا تھا جو سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت کو سلب کر کے ایک عجیب وحشت دل و دماغ پہ پھیلا گیا تھا۔
’’تت۔۔۔۔۔ تم کسی سے کچھ نہیں کہو گی شانزے!‘‘ وہ عجیب ہسٹریائی انداز میں میری طرف بڑھ رہی تھیں۔
’’میں سب کو بتائوں گی۔۔۔۔۔۔ ایک ایک کو بتائوں گی کہ۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے چیخ چیخ کر کہنا چاہا تھا کہ ان کا پوری قوت سے مارا گیا تھپڑ میرے حواس مختل کر گیا تھا۔ میں لڑکھڑا کر عقب میں دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔ وہ کسی وحشی شیرنی کی طرح مجھ پر پل پڑی تھیں۔ میں اپنی جگہ سن سی ہو کر اس ویل ایجوکیٹڈ، ویل مینرڈ، ایک کامیاب سوشل وومن کو ایک دیہاتی، لڑاکا عورت کے روپ میں بدلتے دیکھ رہی تھی۔ وہ میرے دونوں بازو دبوچے کف اُڑاتے، سیاہ پڑتے چہرے کے ساتھ چیخ چیخ کر مجھے باز رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کے اس روپ کو دیکھ رہی تھی جو بچپن سے آج تک میری نظروں سے اوجھل رہا تھا۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ کوئی حیرت بھری آواز نزدیک سے اُبھری تھی۔ ’’فصیحہ! کیا کر رہی ہوڈ چھوڑو اسے۔ آر یو کریزی؟‘‘ احتشام احمد نے ایک جھٹکے سے انہیں مجھ سے دور کیا تھا۔ مگر وہ اس وقت آپے سے باہر ہو رہی تھیں۔
’’چھوڑ دو مجھے احتشام! آئی وِل کِل ہر۔‘‘ ان کی ہسٹریائی کیفیت نے احتشام احمد کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا۔
’’احتشامصاحب! کرنے دیجئے انہیں جو یہ کرنا چاہتی ہیں۔ ہر مجرم سزا سے بچنے کے لئے جرم کا ہر ثبوت ختم کر دینا چاہتا ہے۔ انہیں بھی یہ کام کرنے دیں۔‘‘ میں نے بے خوف و نڈر لہجے میں نفرت سے کہا تھا۔
’’میں کہتی ہوں تم اپنی بکواس بند کرو۔‘‘ وہ پوری قوت سے دھاڑی تھی اور احتشام احمد کی گرفت سے آزاد ہو کر مجھ پہ جھپٹی تھی۔ میں نے اپنے چہرے پہ بازو رکھ کر اپنا بچائو نہ کیا ہوتا تو شاید ان کے لمبے ناخن میرے چہرے کا گوشت ادھیڑ کر رکھ دیتے۔
’’فصیحہ! پاگل ہوئی ہو تم۔‘‘ احتشام احمد نے اس دفعہ انہیں بازو سے پکڑ کر گھسیٹا تھا اور صوفے پہ گرا دیا تھا۔
’’تم نہیں جانتے احتشام! یہ میری بیٹی ہونے کے باوجود مجھے دنیا کی نظروں میں ذلیل کرانا چاہتی ہے۔ یہ میرے لئے دردف سر بنتی جا رہی ہے۔ پہلے اس ایمان حسن نے میری زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ اب اُس کی زبان اس کے منہ میں آ گئی ہے۔ وہ کمینہ، ذلیل شخص خود تو مر گیا مگر اس عذاب کو مستقل میرے سر ڈال گیا ہے۔‘‘
’’فصیحہ! ہوش میں آئو۔ کیسی باتیں کر رہی ہو تم؟ایک مرے ہوئے انسان کے بارے میں اس طرح کہنا قطعاً مناسب نہیں ہے۔‘‘ احتشام احمد ایک غیر انسان ہوتے ہوئے اس بات کو برداشت نہ کر سکا تو میں ایک بیٹی ہونے کے ناتے یہ سب کس طرح برداشت کر سکتی تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا میں اس عورت کی زبان ہمیشہ کے لئے بند کر دوں جس کی کوکھ سے جنم لینا میرے لئے شرمندگی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ مگر وہ تو جیسے خودپر اختیار کھو کر مغلظات پہ اُتر آئی تھیں۔ جو میرے لئے برداشت کرنا ممکن نہ تھا۔ اور احتشام احمد انہیں قابو نہ کر پا رہے تھے۔ میں ایک جھٹکے سے اُٹھی تھی اور بھاگتی ہوئی باہر نکل آئی تھی۔
’’شانزے بیٹا! رکو۔‘‘ احتشام احمد میرے پیچھے لپکے تھے اور میں راستے میں لگنے والی ٹھوکر اور چھلے ہوئے انگوٹھے کی پروا کئے بغیر بھاگتی چلی گئی تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر طوفانی انداز میں گھر سے نکلنے کے بعد میں نے کتنا چاہا تھا کہ گاڑی کسی ہیوی ٹرک سے ٹکرا جائے یا کسی پول سے۔ مگر ایسی کوئی دانستہ کوشش بھی مجھے کامیابی سے ہمکنار نہ کر سکی تھی۔ سمتوں کے تعین کا اندازہ و ارادہ کئے بغیر گاڑی فل اسپیڈ پہ دوڑاتے ہوئے میں نے اندر کی ساری وحشت ان سڑکوں کو روندتے ہوئے نکالنی چاہی تھی۔ مگر کتنا وقت بیت گیا تھا۔ تبھی گاڑی ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتے ہوئے رک گئی تھی۔
’کیا ہوتا اگر آج اس وجود کے پرخچے اُڑ گئے ہوتے اور سانس کی ڈور ایک جھٹکے سے ٹوٹ گئی ہوتی۔‘ میں نے تھک کر اسٹیئرنگ پہ سر گرا دیا تھا۔ تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے تھے۔ بند آنکھوں سمیت کتنے ہی لمحے یوں چپکے سے گزر گئے تو میں نے دھیرے دھیرے سر اٹھایا۔
آسمان کے کناروں پرسرمئی شام اپنا ڈیرہ جما رہی تھی۔ گاڑی میں سے پٹرول ختم ہو چکا تھا۔ میں اپنے منجمد وجود کو بمشکل حرکت دیتے ہوئے باہر نکلی تھی۔ جس طرح انتہائی زوردار زلزلے کے بعد کوئی زمین یکلخت ساکت ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح کا سکوت میرے پورے وجود پر چھایا ہوا تھا۔ میں نے ایک نظر اپنے اطراف میں ڈالی۔ سارا ماحول مکمل اجنبی تھا۔ میں نے یونہی سر جھکا کر واپسی کے لئے قدم بڑھا دیئے تھے۔ کچھ دیر کے بعد ایک گاڑی میرے برابر آ رکی تھی۔
’’ایکسکیوزمی مس! وہ پیچھے جو گاڑی کھڑی ہے، آپ کی ہے؟‘‘ سوزوکی کار میں بیٹھے آدمی نے پوچھا تھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’آپ کو کہاں جانا ہے؟ میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔ یہاں دور دور تک آپ کو سواری نہیں ملے گی۔‘‘
میں نے مرے مرے قدم روک کر اسے دیکھا۔ وہ کوئی بھی ہو سکتا تھا۔ چور اچکا، لٹیرا، کوئی بھی اوباش انسان۔ مگر میں محسوس کر رہی تھی کہ چند قدم پیدل چلنا بھی میرے لئے دشوار تھا۔
’’کہاں جانا ہے آپ نے؟‘‘ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد آدمی نے مجھ سے پوچھا تھا۔ میں نے اپنے سوئے سوئے ذہن پہ پورا زور دیتے ہوئے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
’’دارالاطفال۔‘‘ ایک اسی جگہ کا خیال آیا تھا سو میں نے اسے ایڈریس بتا دیا تھا۔ وہ نہ جانے کن کن راستوں سے ہوتا ہوا دارالاطفال تک آیا تھا، میں نے دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا پھر شاید میں اس پوزیشن میں نہیں تھی۔
’’اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو کسی ڈاکٹر کے پاس لے چلوں؟‘‘ وہ یقینا کوئی بھلا آدمی تھا جو مطلوبہ مقام پر گاڑی روکتے ہوئے مجھ سے پوچھ رہا تھا۔ شاید اس نے میری غیر معمولی کیفیت کو نوٹ کر لیا تھا۔ میں نفی میں سر ہلا کر گاڑی سے اُتر آئی تھی اور باوجود کوشش کے اس شخص کو شکریہ کا لفظ نہ کہہ پائی تھی۔ اسے غالباً اس کی توقع بھی نہیں تھی، اسی لئے گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا۔ کسی حد تک سنسان سڑک کراس کر کے میں ’’دارالاطفال‘‘ کے سیاہ بلند و بانگ گیٹ کے سامنے پہنچی تھی۔
’’کیا بات ہے جی۔ کدھر جا رہی ہیں آپ؟‘‘ کسی غیر مانوس آواز پر میں نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا۔ یہ کوئی باوردی پولیس ملازم تھا۔ مجھے اپنی طرف دیکھتا پا کر اس نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اپنا سوال دہرایا تھا۔ میں نے ایک نظر اسے اور اس کے پیچھے کھڑے دوسرے پولیس مین کو دیکھا تھا اور ابھی کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب میری نظر سیاہ آہنی گیٹ پر لگے بڑے سے تالے پر پڑی تھی۔ میں نے حیرت سے پہلے بند گیٹ کو اور پھر پولیس والوں کی طرف دیکھا تھا، جو ابھی تک سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
’’یہ۔۔۔۔۔۔‘‘ میں بری طرح اُلجھ گئی تھی اور تبھی مجھے احساس ہوا تھا کہ گیٹ پر گلزار خاں کی جگہ یہ پولیس مین کھڑے تھے۔
’’یہ بند کیوں ہے؟‘‘ ان کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر میں نے دوبارہ پوچھا تھا۔ ان دونوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
’’لگتا ہے بی بی! آپ اخبار نہیں پڑھتیں۔‘‘ ایک نے غالباً میری لاعلمی کا مزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ انجانے خدشے میری آنکھوں کے سامنے اودھم مچانے لگے تھے۔
’’اوہو، اس کا مطلب ہے آپ کو واقعی خبر نہیں۔ بتائو بھئی نیاز احمد! انہیں۔‘‘ اس نے خوامخواہ ہی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے دوسرے سے کہا تھا۔ ان کے پراسرار لہجے پر میرا دل خوامخواہ ہی تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔
’’وہ اس ادارے کے مالک ہیں نا محترم جمشید آفندی صاحب۔‘‘ اس کا لہجہ بے حد طنزیہ تھا۔ ’’وہ ہیروئن اسمگل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میرے حلق سے نکلنے والی آواز چیخ سے مشابہ تھی۔ کوئی بم تھا جو میری سماعتوں کے آس پاس پھٹا تھا۔ وجود پہ جما سناٹا ایک چھناکے سے ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔
’’ہاں جی۔ شک تو بڑے عرصے سے ان پر کیا جا رہا تھا۔ مگر بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا سکتی تھی؟ دیکھ لیں، چھری تلے آ ہی گئی۔ اور آپ تو جانتی ہیں، قانون کے ہاتھ کتنے لمبے ہوتے ہیں۔ کل بمعہ ثبوت کے حراست میں لیا ہے۔ اب تو اس کا پورا گینگ مل کر بھی چاہے تو اسے چھڑا نہیں سکتا۔‘‘ وہ چٹخارے لے لے کر بتا رہا تھا اور مجھے اس وقت اپنی سماعتیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ بے اعتبار لگی تھیں۔
’’بس جی نیکی کی آڑ میں لوگ کیا کچھ نہیں کرتے۔ کالا روپیہ سفید کرنے کے بہانے ہیں سب۔‘‘ وہ دونوں آپس میں اس دکھاوے کی نیکی پر اظہارِ افسوس کر رہے تھے۔ اور میری سانسیں جیسے میرے ہی وجود میں گھسنے لگی تھیں۔ میں نے اپنے لڑکھڑاتے قدموں کو بہ دقت حرکت دی۔ پائوں تلے زمین، ریت کی طرح سرکتی جا رہی تھی۔ میں جلد از جلد اس جگہ سے دور جانا چاہ رہی تھی۔
کیا ہوا؟
کس نے کیا کہا؟
سچ کہا یا جھوٹ؟
کچھ معلوم نہ تھا۔ ذہن تمام دروازے کھڑکیاں مقفل کر کے سوچ کا ہر راستہ مسدود کر چکا تھا۔
ایک چہرے کے پیچھے کتنے چہرے؟
کون سا اصل اور کون سا نقل؟
تہ در تہ، پرت در پرت۔۔۔۔۔۔ اے زندگی! ابھی تیرے چہرے سے کتنے نقاب اُتریں گیڈ
کیا ہے تیری اصلیت؟ کتنی گہرائی میں جا کر تجھے پا سکوں گی؟
میرے قدم اونچے نیچے راستوں پر بے ترتیبی سے پڑ رہے تھے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں پہ چھائی دبیز دھند کو ہٹانا چاہا۔
’میں کس راستے پر چل رہی ہوں؟‘ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سامنے دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ سجھائی نہ دیا۔ ایک سیاہ، گھور، تاریک رات چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لے رہی تھی۔ میں نے بے اختیار ہاتھ مارتے ہوئے اس کالی بلا کو اپنے سے دور ہٹانا چاہا جو مجھے نگل لینے کو بے تاب ہو رہی تھی۔ اور اس سیاہ رات کی آغوش میں سے کتنے بھیانک چہرے مجھے ڈرا رہے تھے۔
’’او مانگ بھری میری کامنی۔‘‘ کوئی مجھے اپنی گرفت میں لینے کو آگے بڑھ رہا تھا۔
’’آئی وِل کِل یو۔۔۔۔۔۔‘‘ بال بکھرائے، وحشت زدہ چہرہ میرے قریب آتا جا رہا تھا۔ میں نے ان سے بچنے کے لئے فوراً پیچھے ہٹنا چاہا تھا،خ تبھی زمین میرے قدموں کے نیچے سے کھسک گئی تھی یا شاید اس کی حد یہاں تک آ کر ختم ہو جاتی تھی۔
میرے لبوں سے ایک تیز چیخ نکلی تھی۔ میں خلا کی بسیط گہرائی میں گرتی چلی جا رہی تھی۔ تب اچانک مجھے لگا جیسے کسی نے مجھے پکارا ہو۔ میں نے فوراً مدد کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا جسے فوراً ہی کسی نے مضبوطی سے تھام لیا تھا۔
’’شانزے!۔۔۔۔۔ شانزے!‘‘ کوئی بہت دور سے مجھے پکار رہا تھا۔ کوئی مانوس، جانی پہچانی آواز۔
’’پلیز ہیلپ می۔‘‘ میں نے ٹوٹتی سانسوں کے درمیان کہنا چاہا تھا اور معلوم نہیں الفاظ میرے ہونٹوں سے نکلے تھے یا نہیں۔
’’شانزے! تم ٹھیک تو ہو نا؟‘‘ وہ سایہ میرے اوپر جھک آیا تھا اور میں نے کسی کھائی میں گرنے سے بچنے کے لئے پوری قوت سے اس کا بازو تھاما تھا۔ یہاں تک کہ مجھے اپنے ناخنوں میں خون کی چپچپاہٹ کا احساس ہوا تھا۔ مگر میری یہ کوشش بے سود ہی ثابت ہوئی تھی اور اندھیری بلا مجھے نگلتی چلی گئی تھی۔
///
اماوس کی رات میں کوئی جگنو چمکا تھا جسے ہاتھ میں لینے کی خواہش کرتے ہوئے میں نے بے اختیار اُٹھنے کی کوشش کی تھی۔ مگر مجھے اپنے کندھوں پر بے تحاشا بوجھ محسوس ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بازو میں سُوئی کی تیز چبھن کا احساس ہوا تو میں کراہ کر رہ گئی تھی اور اسی چبھن نے لاشعور سے شعور تک کا رابطہ بحال کر دیا تھا۔
’’کیا میں زندہ ہوں؟‘‘ آنکھیں کھولنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پہلا سوال میرے ذہن میں اُبھرا تھا۔
’’شانزے جانو! کیسی ہو تم؟۔۔۔۔۔۔ میری آواز سن رہی ہو نا؟‘‘
نرم، شیریں آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی تھی اور اس کے ساتھ ہی دو پتلی پتلی اُنگلیوں کا لمس مجھے اپنے بالوں میں محسوس ہوا تھا۔ میں نے اس دُھندلے چہرے کو پہچاننے کی کوشش کی اور ذرا ذرا نقوش گہرے ہوئے تو وہ ملائم مسکراہٹ والا چہرہ ایک دم بہت بھیانک ہو گیا تھا۔
’’آئی وِل کِل یو۔‘‘ کوئی ہسٹریائی انداز میں میرے قریب چیخا تھا۔ بالوں کو سہلاتی اُنگلیاں پتلے پتلے سانپ بن کر میری گردن سے لپٹنے لگی تھیں۔ خوف کی شدت سے بے حال ہوتے ہوئے میں نے ایک جھٹکے سے اپنے اوپر جھکے وجود کو ہٹانا چاہا تھا۔
’’ڈیئر! میں تمہاری مما ہوں چندا! آنکھیں تو کھولو نا۔‘‘
’’پلیز ہٹائو اسے۔ کون ہے یہ؟ مجھے نفرت ہے اس سے۔‘‘ میں چک پھیریاں کھاتے دماغ کے ساتھ چلّائی تھی۔
’’ایسا مت کہو شان! آر یو مائی چائلڈ۔‘‘ وہ کند چھری سے مجھے ذبح کر رہی تھیں۔
’’مگر مجھے نفرت ہے تم سے، تمہاری آواز سے، تمہاری شکل سے۔ آئی ہیٹ یو۔ آئی ہیٹ یو۔‘‘ میں پوری قوت سے چیخنا چاہ رہی تھی۔ مگر میرے بدن کی زائل ہوتی قوت میرا ساتھ نہ دے سکتی تھی۔ میرے بازو تھک کر میرے پہلو میں جا گرے تھے اور ادھ کھلی آنکھیں بے دم ہو کر سو گئی تھیں۔ زبان سے نکلتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادھ موئے ہو کر ہونٹوں پہ دم توڑ گئے تھے اور ذہن ہزاروں فٹ نیچے کسی اندھی کھائی میں گرتا چلا گیا تھا۔
///
سر نخل جاں
کوئی رات اُتری ہے آگ سی
چاند، تاروں سے بے نیاز
روشنی سے ناآشنا
سلگتی، تپتی وہ رات سی
مجھے لے رہی ہے حصار میں
میں گھسٹ رہی ہوں پا برہنہ
اس ریتلے سے عذاب میں
کوئی آسمان!
کوئی آسماں بھی نہیں ہے
قرب و جوار میں
میری روح بھٹک رہی ہے
کوئی راستہ!
کوئی راستہ بھی نہیں ہے
نظر حدود میں
مجھے پانی دو
مجھے چند بوندیں نواز دو
میری سانسیں لاغر ہو رہی ہیں
آنسوئوں کے ہجوم میں
میں لمحہ لمحہ پگھل رہی ہوں
بے یقینی کی آگ میں
///
’’شانزے!۔۔۔۔۔ شانزے!‘‘ کسی نے ایک دم مجھے جھنجوڑ کر اس خوفناک اور بھیانک خواب کی قید سے آزاد کرایا تھا، جو نہ جانے کتنی دیر سے مجھے اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھا۔
میں نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دی تھیں۔ میری سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی اور زبان خشک ہو کر تالو سے چپک گئی تھی۔ حلق جیسے خار بن کر آتی جاتی سانسوں کو چیر رہا تھا۔ تبھی کسی نے میرا سر ذرا سا اونچا کر کے پانی کا گلاس میرے خشک ہونٹوں سیلگا دیا جسے میں ایک ہی سانس میں خالی کر گئی تھی۔
’’اب ٹھیک ہو نا؟‘‘ انتہائی نرم، مہربان لہجے میں پوچھا گیا تھا۔
’’شاید تم خواب میں ڈر گئی تھیں۔‘‘ وہ دوبارہ گویا ہوا تھا۔ مگر میں نے بغیر کوئی جواب دیئے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ کچھ لمحوں بعد سانس بحال ہوا تو میں نے گرد و پیش کے ماحول کا جائزہ لیا۔ ہاسپٹل کی سفید دیواروں کی بجائے لائٹ پنک دیواروں پر نظر پڑی تو اپنے بیڈ روم میں ہونے کا احساس مجھے یک گونہ تسکین دے گیا تھا۔
میں پچھلے پندرہ دن ہاسپٹل میں ایڈمٹ رہی تھی اور ان پندرہ دنوں میں میری حالت اس قدر دگرگوں ہو چکی تھی کہ میری عیادت کو آنے والے لوگ حیرت و تاسف کا اظہار کرتے اور ترحم آمیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے واپس لوٹ جاتے۔ میری حالت کے پیش نظر مجھے زیادہ وقت مسکن ادویات کے زیر اثر رکھا گیا تھا مگر مجھے کسی طور چین نہ تھا۔ مدہوشی میں عجیب و غریب چہرے مجھے ڈراتے رہتے۔ ہوش میں آتی تو ان دو سبز آنکھوں کا کانچ میری پلکوں میں چبھنے لگتا۔
’’بتائو بھلا ایسے حسین، خوب صورت چہرے ایسے بھیانک اور بدنما بھی ہو سکتے ہیں۔
وہ جو کانچ جیسا تھا، صاف اور شفاف۔
وہ جو فرشتوں جیسا تھا پاکیزہ مصفا۔
وہ جس کی آنکھیں دوسروں کے دکھ پر بھیگ جایا کرتی تھیں۔
وہ جس کی آنکھوں میں دوسروں کو خوش دیکھ کر ہزاروں دیپ ایک ساتھ جل اُٹھتے تھے، بھلا وہ اس زہر کی سوغات بانٹ کر اندھیرے کس طرح تقسیم کر سکتا ہے؟ وہ تو مسیحا تھا۔ پھر گھائو کیسے لگا سکتا تھا وہ۔ بتائو بھلا ایسا ہو سکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ ایسا ہوا ہے کبھی؟‘‘
میں دیوانہ وار چیخ چیخ کر اپنے سامنے آنے والے ہر فرد سے پوچھتی۔ ڈاکٹرز سے سوال کرتی جو میرے ہر سوال سے نظریں چرا لیتے۔ نرسوں سے سوال کرتی جن کی آنکھوں میں میرے لئے صرف اورصرف رحم تھا، ترس تھا۔ مگر میرے کسی سوال کا کسی کے پاس جواب نہ تھا سوائے ’’ریلیکس۔۔۔۔۔۔ ٹیک اِٹ اِیزی‘‘ اور ٹرنکولائزر کے۔ اور بالآخر میں نڈھال ہو کر تکیے پہ سر پٹخ پٹخ کر رو دیتی۔ روتے روتے بے حال ہو جاتی اور پھر مدہوش ہو کر چہروں کے اس جنگل میں جا نکلتی جہاں ہر چہرے پہ ایک نقاب تھا۔ تب پھر اس آنکھ مچولی سے تھک کر میں نے چپ ادھ لی۔ خود کو مکمل طور پر مُردہ تصور کر کے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور بالاخر ہاسپٹل کی سفید دیواروں والے پرائیویٹ روم سے اپنے بیڈ روم میں منتقل ہو گئی۔
’’کیا وقت ہوا ہے؟‘‘ میں نے آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر ولیداحتشام کو دیکھا جو پُرسوچ نظریں مجھ پر جمائے بیٹھا تھا۔
’’تین بجے ہیں۔‘‘ اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا۔
’’رات کے؟‘‘ میری نظریں بے اختیار کھڑکی کی طرف گئیں جو ہمیشہ مجھے بیڈ روم کے باہر کے موسموں کا پتہ دیا کرتی تھی۔ مگر اس وقت پردے برابر ہونے کے باعث مجھے کچھ اندازہ نہ ہوا تھا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔۔ پردہ ہٹا دوں؟‘‘ اس نے میری نظروں کو جانچ لیا تھا اور میرے اثبات میں سر ہلانے پر وہ کھڑکی کی طرف بڑھ گیا تھا۔
ملگجا لباس، تھکن زدہ وجود، بے خوابی کی شکایت کرتی سرخ آنکھیں اور پیشانی پہ بکھرے بے ترتیب بال۔
اور نہ جانے کیوں اس شخص کو یہاں دیکھ کر مجھے بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی تھی۔ یہ گزشتہ کئی دنوں سے سائے کی طرح میرے ساتھ ہے۔ ہاسپٹل کا کمرہ تھا یا یہ بیڈ روم جس لمحہ بھی میری آنکھ کھلی تھی، میں نے اسے پریشان و متفکر اپنے آس پاس منڈلاتے دیکھا تھا۔ اور کیا وجہ ہے کہ رات کے اس پہر بھی یہ اتنی ہی مستعدی اور اتنی ہی مستقل مزاجی سے مجھے لک آفٹر کرنے کو یہاں موجود ہے۔
میں نے ایک نظر اسے دیکھ کر سوچا تھا۔
’’اب کیسا محسوس کر رہی ہو شانزے؟‘‘ اس نے نزدیکی کرسی سنبھالتے ہوئے پوچھا تھا۔ چہرے کے برعکس ہونٹوں پر در آنے والی مسکراہٹ بہت فریش تھی۔
’’بہتر ہوں۔‘‘ میں نے مختصر کہہ کر نظریں کھڑکی سے باہر مکمل اندھیرے پہ جما دی تھیں۔
’’سنو! تم نے اپنے چہرے پہ کتنے نقاب چڑھا رکھے ہیں؟‘‘ میں نے اچانک ہی پوچھا تھا۔
’’آپ کو یہ شک کیونکر ہوا؟‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی سے جوابی سوال داغ دیا تھا۔
’’شک نہیں۔۔۔۔۔۔ اب تو یقین ہو چلا ہے۔۔۔۔۔۔ ایسے ایسے چہروں کو بے نقاب ہوتے دیکھا ہے کہ خودپر سے بھی اعتبار اُٹھنے لگا ہے۔‘‘
’’نہیں شانزے جی! چہرے دھوکا نہیں دیتے۔ ہم خود اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ دوسروں کے دیکھنے کے لئے ہماری نظر کا زاویہ ہی غلط ہو تو اس میں ہمارا قصور ہوا نہ کہ چہرے کا۔‘‘ اس نے بڑی نرمی سے گویا میری غلطی کی نشاندہی کی تھی۔
تو گویا سارا قصور، ساری غلطی میری ہی ٹھہری تھی۔ میں نے گہرا سانس لے کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شاید میں اس کی شدید مخالفت کرتی مگر اب میں نے ہارے ہوئے انسان کی طرح بڑی آسانی سے دوسروں کی غلطیاں بھی اپنے کھاتے میں ڈال دی تھیں اور شاید میرے لہجے کی تھکن اس نے بھی محسوس کی تھی اسی لئے اس نے بات بدل دی تھی اور مجھ سے جوس کے متعلق پوچھنے لگا تھا۔ میں نے آنکھیں کھول کر گردن موڑتے ہوئے دوسری طرف ایزی چیئر پہ اونگھتی نرس کو دیکھا۔
’’ان فیکٹ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی، اس لئے میں کتاب سمیت یہاں چلا آیا۔ اور غالباً میری موجودگی نے ہی سسٹر کو غافل کر دیا ہے۔‘‘ اس نے جوس کا گلاس میری طرف بڑھایا جسے میں نے بغیر کچھ کہے تھام لیا تھا۔ پھر کچھ لمحے یونہی خاموشی کی نذر ہو گئے تھے۔ میں یونہی خالی الذہنی سے کھڑکی سے باہر پھیلے اندھیرے کو دیکھتی رہی۔
’’ولید! کیا واقعی آفندی صاحب۔۔۔۔۔۔؟‘‘میں کوشش کے باوجود جملہ مکمل نہ کر سکی تھی۔
’’میرا خیال ہے، اس ٹاپک پر پھر کبھی بات کریں گے۔‘‘ اس نے ٹالنا چاہا تھا۔
’’پلیز۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے ملتجی ہو کر اصرار کیا۔
’’ہاں، حالات اور شہادتیں تو کچھ ایسا ہی بتاتے ہیں۔‘‘ اس نے بنظر غائر مجھے دیکھتے ہوئے بتایا تھا اور میرے ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس لرز گیا تھا۔
’’الزام ثابت ہو چکا ہے؟‘‘ میں اپنی آواز خود بھی بمشکل سن پائی تھی۔
’’مال سمیت اریسٹ کیا گیا ہے اس کو مگر بہرحال کیس تو چلے گا۔‘‘ بہت ضبط کرنے کے باوجود اندر کہیں زلزلہ سا آیا تھا۔ چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا اور کرچیاں بہت دور تک پھیلتی چلی گئی تھیں۔ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے میں نے گلاس اس کی طرف بڑھایا تھا اور خودگھٹنوں پہ سر رکھ کر اپنے جھٹکے کھاتے وجود کو نارمل کرنا چاہا تھا۔ ایک دم عجیب وحشت سی محسوس ہوئی تو میں کمبل ہٹا کر بیڈ سے نیچے اترنے لگی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے گلاس فوراً میز پہ رکھا اور میری طرف متوجہ ہوا۔ کھٹکے سے نرس کی آنکھ بھی کھل گئی تھی۔ وہ فوراً ہی اپنی پیشہ ورانہ مستعدی لئے میری طرف بڑھی تھی۔
’’میڈم! کہاں جانا ہے؟‘‘
’’باہر۔‘‘ میں نے بیڈ کے پاس پڑی چپل میں پائوں گھسائے۔
’’مگر باہر بہت سردی ہے میڈم!‘‘ اس نے فوراً مجھے کاندھوں سے تھام کر روکنا چاہا۔
’’اندر بہت گھٹن ہے۔ مجھے باہر جانا ہے۔‘‘ میں سختی سے کہہ کر اسے سامنے سے ہٹاتے ہوئے تیزی سے کھڑی ہوئی تو ایک لمحے کو چکرا کر رہ گئی۔
’’پلیز آپ بیٹھ جائیں۔‘‘ اس نے میرا ہاتھ تھام کر ایک بار پھر زور دیا تو میں اس کی ضد پر اُکتا کر ولید کی طرف دیکھنے لگی۔ اس نے گویا میری نظروں کا مفہوم جان لیا تھا جبھی وہ دو قدم آگے بڑھ آیا تھا۔
’’اوکے۔۔۔۔۔۔ آئو میں تمہیں ایک چیز دکھاتا ہوں۔‘‘ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف چل دیا تھا۔ تب مجھے محسوس ہوا کہ میں اس وقت مکمل طور پر دوسروں کے رحم و کرم پر تھی۔ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی حتیٰ کہ میں یہ فیصلہ بھی نہ کر پا رہی تھی کہ آیا مجھے اس شخص کا سہارا لینا بھی چاہئے کہ نہیں۔ یونہی میکانکی انداز میں اس کے پیچھے قدم اٹھاتے ہوئے میں پاپا کے بیڈ روم کے سامنے پہنچ گئی تھی۔ تب اس نے ایک دم سارا دروازہ کھول دیا تھا۔
’’یہ کمرہ تمہیں اسی طرح پسند ہے نا؟ دیکھ لو، ہر چیز اپنی جگہ پر موجود ہے۔‘‘
دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ جبکہ میری نظریں پاپاکی فریم شدہ تصویر پہ جم گئی تھیں جو اپنے مخصوص مقام پر آویزاں تھی۔
’’پاپا! کہاں چلے گئے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ میں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی تصویر کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
’’آ جایئے نا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ کی بے حد ضرورت ہے۔‘‘ میں نے کپکپاتی انگلیوں سے تصویر کے نقوش کو چھوا۔ ’’دیکھئے۔۔۔۔۔۔ میری آنکھوں میں آنسوئوں کا ایک طوفان ہلکورے لے رہا ہے۔ میں یہ سارے آنسو آپ کے ساتھ مل کر بہا دینا چاہتی ہوں۔ میرے دل میں دکھ کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔۔۔۔۔۔ پاپا! میں آپ کے بغیر اسے شکست نہیں دے پائوں گی۔ مجھے آپ کا سہارا چاہئے۔ پلیز لوٹ آیئے نا۔‘‘
میرے دل سے ہوک اُٹھ رہی تھی اور اس لمحے میرے دل نے کتنی شدت سے خواہش کی تھی کہ یہ بے جان تصویر سانس لینے لگے۔ پاپا میری درد بھری پکار پر کانچ کے اس حصار سے آزاد ہو جائیں۔ ان کے ملبوس سے اُٹھتی مہک میرے اردگردپھیل جائے اور میں ان کے سینے پہ سر رکھ کر وہ سب کچھ کہہ ڈالوں جو میرے وجودکو اندر ہی اندر گھن بن کر کھوکھلا کر گیا تھا۔ مگر ہوا کیا تھا؟
میری خواہش حسرت بن کر رات کے سینے میں گڑ گئی تھی اور میں بھری مٹی کی مانند زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔
’’شانزے!‘‘ عقب میں کھڑے ولید احتشام نے سراسیمہ ہو کر مجھے پکارا تھا۔
’’پاپا!۔۔۔۔۔ مجھے آج احساس ہوا ہے کہ آپ مر چکے ہیں۔ میں دیکھ رہی ہوں، آپ کی آنکھیں میرے دکھ میں بالکل بھی نم نہیں ہوئیں۔ آپ کے ہونٹوں پر میرے لئے کوئی دلاسا نہیں۔ آپ کے بازو مجھے اپنی پُرشفقت آغوش میں پناہ دینے کے لئے وا نہیں ہوتے۔ پاپا! آپ نے بھی مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔۔ بالکل تنہا۔‘‘ میں دل ہی دل میں شکوہ کناں تھی۔
’’شانزے! تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ چلوتمہیں بیڈ روم تک لے چلوں۔‘‘ وہ میرے درد سے بے حال ہوتے وجود کو سہارا دے رہا تھا۔
’’ولید!‘‘ میں نے جیسے سمندر میں ڈوبتے ہوئے تنکے کا آسرا لینا چاہا تھا۔ ’’ولید! میں رونا چاہتی ہوں۔‘‘ میری آواز آنسوئوں میں گھل گئی تھی اور لہجے میں حد درجہ بے بسی تھی۔
اس نے سر اٹھا کر ایک لمحے کے لئے مجھے دیکھا تھا اور پھر مضبوط لہجے میں کہا تھا۔
’’تم جتنا رونا چاہتی ہو رو لو شانزے! مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میںتمہارے آنسوئوں کو اپنے دل میں سمیٹ سکوں۔‘‘
اس کے دوست نواز ہمدرد لہجے نے میرے ضبط کی آخری فصیلیں بھی گرا دی تھیں اور پھر اپنے ہی بازوئوں میں سر چھپا کر روتے ہوئے میں نے وہ سب کچھ کہہ ڈالا تھا جسے جھٹلانے اور چھپانے کی کوشش میں اس زندگی نے چین، سکون، آرام اور اعتبار کے سب دروازے مجھ پر بند کر دیئے تھے۔
///

’’کہا جاتا ہے کہ فطری طور پر بچہ باپ کی نسبت ماں سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ مگر میرے ساتھ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ میری پیدائش میں اگر کسی فرد کی خواہش اور خوشی شامل تھی تو وہ صرف میرے پاپا تھے۔ مما کا خیال تھا کہ بچے کی آمد کی وجہ سے ان کی سوشل لائف بالکل ڈل ہو کر رہ جائے گی لہٰذا ادھر اس دنیا میں میری آمد ہوئی ادھر انہوں نے مستقل طور پر ایک آیا کا بندوبست کر دیا۔ پاپا کا خیال تھا کہ میری اچھی صحت کے لئے یہ ضروری ہے کہ مما مجھے اپنا دودھ پلائیں مگر مما بے وقوف نہ تھیں کہ اپنا فگر خراب کرتیں۔ یہاں انہوں نے میرا سب سے پہلا حق غصب کیا تھا اور اس کے بعد یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری ہو گیا تھا۔
میں نے شعور کی آنکھ کھولی تو پیار، محبت، شفقت، چاہت، خلوص و ہمدردی اور ہر رشتے کو اپنے پاپا کی شکل میں پایا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ماں کے فرائض کیا ہوتے ہیں، ممتا کا لمس کیا ہوتا ہے۔ جس جس چیز کی مجھے ضرورت تھی، وہ میں نے اپنے باپ سے وصول کی تھی۔ میں صبح اُٹھتی تو ان کی صورت دیکھنا چاہتی۔ رات کو جب تک وہ مجھے اپنے بازوئوں میں لے کر لوری نہ سناتے، مجھے نیند نہ آتی۔ ذرا بڑی ہوئی تو آیاکے ہاتھ سے ناشتہ کرنا مجھے زہر لگنے لگا تھا۔ میں فوراً پاپا کی گود میں سوار ہو جاتی اور کبھی کبھی نہ جانے کیوں میں چاہتی کہ اپا آج میرے ساتھ رہیں۔ ایک پل کے لئے میری نظروں کے سامنے سے اوجھل نہ ہوں۔ تب میں زور زور سے رونے لگتی، بے تحاشا روتی تو پاپا ضروری سے ضروری میٹنگ بھی کینسل کر دیتے۔ خواہ اُنہیں کروڑوں کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
چند سال مزید گزرے تو اپنی اس عادت پر میں نے خود ہی قابو پا لیا۔ میں محسوس کرتی تھی کہ اس طرح پاپا بری طرح اپ سیٹ ہو جایا کرتے تھے۔ وہ میری آنکھ میں ہلکی سی نمی بھی برداشت نہ کر پاتے تھے۔ انہی دنوں ایک روز ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے بری طرح ہراساں کر دیا تھا۔ رات کا کوئی وقت تھا جب میں اپنے کمرے میں کھلونوں سے کھیل رہی تھی۔ آیا اُکتائے اُکتائے لہجے میں کئی بار مجھے سونے کے لئے کہہ چکی تھی مگر مجھے پاپا کا انتظار تھا۔ اسی دوران ایک دم لائٹ آف ہو گئی۔ کھلونوں میں مصروف میرے ہاتھ ایک دم ساکت ہو گئے تھے۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنے کی کوشش کی۔ آیا کو پکارنا چاہا تو جواب میں اس کے زور دار خراٹوں نے مجھے ڈرا کر رکھ دیا۔ مجھے لگا جیسے جنگل میں کوئی بھیڑیا میری گھات میں بیٹھا غرّا رہا ہے۔ کمرے میں موجود تمام اشیاء مجھے بھوت بن کر ڈرانے لگی تھیں۔ میں اس لمحے بے حد خوف زدہ ہو چکی تھی۔ میرا جسم کانپنے لگا تھا اور سانس رُکنے لگی تھی۔ مگر میں نے ایک مرتبہ پھر آیا کو پکارنے کی کوشش کی مگر میرے حلق سے آواز نہ نکل سکی۔
نہ جانے کب تک میں یونہی ہراساں و سراسیمہ، گھٹنوں میں سر چھپائے بیٹھی رہی تھی کہ مجھے باہر سے پاپا کی آواز سنائی دی۔ وہ کسی ملازم سے میرے متعلق پوچھ رہے تھے۔ ان کی آواز نے جیسے مجھے طاقت بخشی اور میں پوری قوت سے اُٹھ کر اس اندھیر نگری سے نکل بھاگی تھی۔ خوف و دہشت کی وجہ سے میں یہ بھی بھول گئی تھی کہ میرا کمرہ دوسری منزل پر ہے۔ سو بھاگتے ہوئے یڑھیوں کا خیال میرے ذہن سے نکل گیا اور میں سب سے اوپر والی سیڑھی سے لڑھکتی ہوئی نیچے جا گری تھی۔ میری زور دار چیخ پر پاپا میری طرف دیوانہ وار لپکے تھے۔ میری پیشانی سے بہتے خون نے جیسے اُنہیں پاگل کر دیا تھا۔ آیا اور ملازمین کی جو درگت بنی سو بنی، رات گئے جب مما کسی پارٹی سے واپس آئیں تو پاپا غیض و غضب سے بے حال ہو کر ان پر ان پر اُلٹ پڑے تھے میں نے اس سے پہلے پاپا کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ مما کو یہ احساس دلا رہے تھے کہ میں ان کی اوّلین ذمے داری ہوں اور وہ اپنے فرائض سے غفلت برت رہی ہیں۔ مگر مما کسی طرح اپنی غلطی تسلیم کرنے پر راضی نہیں تھیں۔
ان کے درمیان چھڑی دھواں دھار جنگ نے مجھے مزید پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔ میں بھاگ کر پاپا کی ٹانگوں سے لپٹ گئی تھی اور رو رو کر انہیں خاموش ہو جانے کا کہہ رہی تھی۔ تب پاپا نے مجھے اٹھا کر اپنے بازوئوں میں بھینچ لیا تھا۔ وہ مجھے لئے دوسرے کمرے میں آ گئے تھے اور مجھے بے تحاشا پیار کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے تھے۔ وہ باربار کہہ رہے تھے۔
’’میں چاہتا تھا کہ جو محرومیاں میری زندگی میں مجھے ملی تھیں، وہ تمہارا مقدر نہ بنیں۔ مگرمجھے لگتا ہے شان! تمہاری اور میری قسمت بالکل ایک سی ہے۔‘‘
میں نے اپنے ینگ سے پاپا کو یوں بری طرح روتے دیکھا تو اسی لمحے دل میں عہد کر لیا تھا کہ آج کے بعد میں نہ اندھیرے سے ڈروں گی اور نہ روئوں گی تاکہ میری وجہ سے پاپا کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں۔ اس کے بعد پاپا اکثر مجھے پھپھو کی طرف لے جاتے جہاںمیری ہم عمر ونیزہ کے ساتھ میری گاڑھی چھنتی تھی۔ پاپا چاہتے تھے کہ میں ماں کی محبت کو محرومی نہ بنا لوں سو وہ پھپھو کو خاص طور پر میرا خیال رکھنے کو کہتے۔
اگرچہ پھپھو بھی مکمل گھریلو خاتون نہ تھیں مگر ان کا لائف اسٹائل مما سے قدرے مختلف تھا۔ وہ دن میں میرے اور ونیزہ کے لئے کچھ وقت ضرور نکالتی تھیں۔ پھر کئی سال تک یوں رہا کہ میں مہینوں ونیزہ کے گھر رہتی۔ پاپا سے ہر روز ملاقات ہوتی اور مما کا چہرہ دیکھے بھی کئی دن ہو جاتے۔ میں اور ونیزہ اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گئے تھے۔ تبھی ایک دن میں گھر چلی آئی کیونکہ اس روز پاپا، پھپھو کی طرف نہیں آئے تھے۔ ملازم نے بتایا کہ پاپا آج سر شام ہی لوٹ آئے تھے اور اس وقت گھر میں ہی موجود ہیں۔
مجھے معلوم تھا کہ پاپا گھر میں ہوں تو ہمیشہ اپنی مخصوص جگہ پر ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا میں دبے پائوں وہاں چلی آئی تھی۔ پاپا ایزی چیئر پر بیٹھے تھے۔ کتاب ان کی گود میں کھلی پڑی تھی مگر نظریں گلاس وال سے باہر ڈوبتے سورج کا طواف کر رہی تھیں۔ تھکے ماندے آفتاب کی بوجھل نارنجی کرنیں لان میں بکھرے پھولوں اور درختوں کو الوداعی بوسہ دے رہی تھیں۔ بے حد زرد اور اُداس شام تھی۔ میں نے ذرا سا سامنے کی طرف آتے ہوئے پاپا کو دیکھا۔ ایسی ہی زرد اور اُداس شام ان کی سیاہ آنکھوں میں ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی۔ چہرے پہ شکستگی اور تھکاوٹ کے اثرات نمایاں تھے۔ وہ جیسے یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں موجود نہیں تھے۔
نہ جانے کیوں مجھے خوف سا محسوس ہوا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں نے پاپا کو بہت عرصے کے بعد دیکھا ہو۔ میں دھیرے دھیرے چلتی ان کے سامنے کارپٹ پر دوزانو ہو کر یٹھ گئی تھی مگر وہ پھر بھی متوجہ نہیں ہوئے تھے۔ مجھے لگا جیسے وہ مجھ سے بہت دور ہوں۔ میں نے گھبرا کر ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں پکارا۔ انہوں نے بغیر چونکے نظروں کا زاویہ بدل کر مجھے دیکھا تھا اور پھر میرے چہرے پر نظر پڑتے ہی ان کی آنکھوں کے تاثرات یکلخت بدل گئے تھے۔ ایک خوشگوار حیرت ان کی آنکھوں سے چھلکنے لگی تھی۔
’’شانزے جانو! میں ابھی تمہارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔‘‘ انہوں نے دونوں ہاتھوں میں میرا چہرہ تھام کر کہا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا، میری موجودگی پاپا کو کس طرح آسودہ کر دیتی تھی۔ ان کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں اور عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی۔
’’پاپا! آپ اُداس تھے نا؟‘‘ مجھے یقین تھا، پاپا انکار کر دیں گے مگر وہ شاید اپنی اس طویل تنہائی سے بیزار ہو چکے تھے۔ میری صورت میں ایک غمگسار کو سامنے دیکھا تو اثبات میں سر ہلا گئے۔
’’ہاں بیٹا! بہت اُداس تھا۔‘‘ انہوں نے تھکے تھکے لہجے میں اعتراف کیا تھا اور اپنے اسٹرونگ سے پاپا کی یہ کمزوری مجھ سے برداشت نہ ہو سکی تھی۔ میں جان گئی تھی کہ میری عدم موجودگی پاپا کو اُداس کر دیتی ہے۔ سو اس دن کے بعد سے میں نے کالج کے سوا کہیں بھی جانا بند کر دیا تھا۔ ونیزہ ناراض ہوئی مگر میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اب پاپا کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس دن میں نے بچپن کی معصومیت سے، پختگی کی سنجیدگی میں قدم رکھا تھا اور اسی دن کے بعد سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ مما کی روٹین آج بھی نہیں بدلی۔ انہیں اپنے شوہر، بچی اور گھر سے زیادہ وہ پارٹیز، وہ فنکشن زیادہ عزیز تھے جہاں ان کے حسین ترین سراپے کو سراہنے کے لئے ہزاروں نظریں بیک وقت ان کے گرد گھیرا ڈالے رکھتی تھیں۔ انہیں پاپا کی پسند پر ہائوس وائف بننا پسند نہیں تھا۔ پاپا کے ہر اعتراض کے جواب میں وہ اپنے تنے ہوئے ابرو اچکا کر کہا کرتیں۔
’’ایمان حسن!۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے اشاروں پر ناچنے کے لئے یہاں نہیں آئی تھی۔ میرا اپنا لائف اسٹائل ہے۔ سو مجھے میری زندگی جینے دو۔ ہاں اگر تمہیں پتی ورتا ٹائپ بیوی کی ضرورت ہے تو جان لو کہ میرا انتخاب کر کے تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اور اگر تم کوئی نیا انتخاب کرنا چاہو اپنی پسند کے مطابق تو تمہیں میری طرف سے اجازت ہے، تم جب چاہو اپنا راستہ الگ کر سکتے ہو۔‘‘ وہ بڑی نزاکت سے کندھے جھٹک کر اپنے مرمریں بازو میں پہنے جگمگاتے بریسلٹ کو گھماتیں اور زہر میں بجھے تیر پاپا کی طرف اُچھال کر آگے بڑھ جاتیں۔ انہیں معلوم تھا، ایمان حسن آج انہیں آزاد کر دے تو ہزاروں ہاتھ انہیں تھامنے کے لئے آگے بڑھ آئیں گے۔ پاپا زخمی نگاہوں سے میری طرف دیکھتے تو میں نظریں جھکا کر رہ جاتی۔
’’صرف تمہاری خاطر میں ہمیشہ اس عورت کو برداشت کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔‘‘ وہ میری خاطر بے بس ہو جاتے اور کبھی جو میں ان کی خاطر مما کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ وہ کچھ وقت گھر کو دیا کریں تو وہ اُلٹا مجھے سمجھانے لگتیں۔
’’ڈونٹ بی سلی شان! زندگی اس طرح نہیں گزاری جا سکتی جس طرح تم اور ایمان حسن گزار رہے ہو اور تم کیوں سارا دن گھر میں گھسی رہتی ہو؟ بھئی باہر نکلو، دنیا دیکھو، لائف انجوائے کرو۔ اور نہیں تو کوئی کلب ہی جوائن کر لو۔ تمہاری عمر میں تو لڑکیاں۔۔۔۔۔۔‘‘
وہ چہرے کا مساج کرتے ہوئے میرا مضحکہ اُڑانے لگتیں تو میں وہاں سے چڑ کر اُٹھ جاتی۔ پھر میں اور پاپا ایک دوسرے کی ذات میں اس حد تک گم ہوتے گئے کہ کسی تیسرے کی پروا کرنا ہی چھوڑ دیا۔ اپنا ہر دکھ سکھ ہم ایک دوسرے سے شیئر کر لیتے۔ رات گئے تک چائے اور کافی کے ساتھ اسٹڈی روم میں بیٹھے رہتے۔ دنیا کا کون سا ایسا موضوع تھا جو ہم دونوں کے درمیان ڈسکس نہ ہوتا تھا۔ شاعری، ڈرامہ، نثر، مصوری، سیاست، سیاحت، تصوف غرض بات سے بات نکلتی چلی جاتی اور پھر کبھی آتش دان کے سامنے بیٹھ کر ڈرائی فروٹ اُڑاتے ہوئے میں پاپا کو کالج کی ساری باتیں سناتی تو میں محسوس کرتی کہ لکڑیاں چٹخاتی آگ پر نظریں جمائے پاپا کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ تب میں ان سے اصرار کرتی۔
’’پاپا! بتائیں نا کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ وہ پُرسوچ نظریں میرے چہرے پہ جما دیتے۔
’’سوچ رہا ہوں، وہ کیسا لمحہ تھا جب میں نے تمہاری مما کو دادا کی عظیم الشان حویلی میں بارش میں بھیگتے دیکھا تھا۔ وہ اس وقت جھولا جھول رہی تھی جب میری لینڈ کروزر حویلی کی پتھریلی روش پر رک گئی تھی۔ آسمان سیاہ بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ یکایک بوندوں کی بوچھاڑ ہوئی تھی اور فصیحہ نے بارش سے بچنے کے لئے بھاگ کر برآمدے میں پناہ لی تھی۔ وہ مکمل گھریلو حلیے میں تھی۔ کسی بھی آرائش سے بے نیاز چہرہ۔۔۔۔۔۔ بے حد جاذب نظر تیکھے نقوش اور ان نقوش پر حاوی معصومیت (جو اس کوٹھی میں آ کر نجانے کہاں کھو گئی تھی) وہ گھر بھر کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھی۔ اور تب میں نے دل میں سوچا تھا کہ یہ ہی لڑکی میرے گھر میں اُجالا بن کر اُترے گی۔ والدین کی ناراضگی کی پروا کئے بغیر میں نے اسے اپنایا تھا اور سمجھا تھا کہ میں جیت گیا ہوں مگر مجھے کہاں معلوم تھا کہ میں تو اس لمحے اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہار گیا تھا۔‘‘ پاپا کا افسردہ لہجہ مجھے بری طرح دُکھی کر دیتا۔ مگر وہ دل کی ہر بات کہہ جاتے۔
’’میری ماں ایک مشہور فیشن ڈیزائنر تھی اور باپ بزنس سرکل میں ’’کنگ‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ مگر میں ساری عمر ان دونوں کو ترستا رہا۔ ماں کی گود میں سر رھنے کی خواہش اور باپ سے ضد کر کے بات منوانے کی آرزو میرے دل میں جنم لیتی اور توڑ دیتی۔ میرے دوسرے بہن بھائی مجھے ’’مڈل کلاسیا‘‘ کہا کرتے تھے۔ یہ تمام حسرتیں میرے ساتھ پل کر جوان ہوئی تھیں۔ اور میں جو لوئر مڈل کلاس سے فصیحہ کو اپر کلاس میں لے کرآیا تو صرف اس لئے کہ میرے بچے ’’ماں‘‘ کے ہوتے ہوئے بھی ’’ماں‘‘ کو ترستے نہ رہا کریں۔ مگر قسمت مجھے یہاں بھی دھوکا دے گئی۔ مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ فصیحہ اُڑنے کی کوشش میں آسمان کو چھونے کی تمنا کرنے لگی۔
میں گھر کے سکون کی خاطر اسے ڈھیل دیتا رہا اور وہ میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگی اور بیٹا! تمہاری وجہ سے میں اس سے تعلق توڑ نہیں سکا۔ ماں جیسی بھی ہو، ماں ہوتی ہے۔ میرا خیال تھا تم اسے اپنی طرف متوجہ کر سکو گی۔ مگر نہ جانے کیسی ناتمام خواہشات اس کے دل میں پلتی رہی تھیں کہ جنہیں تمام کرنے کی میں وہ تمہیں بھی بھول بیٹھی ہے۔‘‘
تب میں پاپا کو تسلی دیتی۔ انہیں یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی کہ میں جس حال میں بھی ہوں، مطمئن ہوں۔ اور پھر ایک روز۔‘‘
میں کچھ دیر سانس لینے کو رُکی تھی۔ ولید احتشام منتظر نظریں مجھ پر جمائے خاموشی سے بیٹھا تھا۔ اس نے مجھے فوراً بولنے پر مجبور نہیں کیا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں میری زبان گنگ ہو جاتی ہے اور الفاظ چپ کی زنجیر میں بندھ جاتے ہیں۔ میں نے اندر ہی اندر اپنی قوت بحال کی تھی۔ میں اس بوجھ کو ہر حال میں سینے سے ہٹا دینا چاہتی تھی۔
’’اور پھر ایک روز گھر میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔‘‘ میں نے ہمت مجتمع کر کے پھر سے کہنا شروع کیا۔
’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس ہنگامے کا محرک کیا ہے۔ میں بس اتنا دیکھ پا رہی تھی کہ پاپا ازحد غصے میں تھے۔ انہیں غصہ بہت کم آتا تھا اور جب آتا تھا تو وہ ایک طوفان کی مانند بپھر جایا کرتے تھے۔ اس وقت بھی ان کی یہی کیفیت تھی۔ جبکہ مما سلیوز لیس نائٹی پر مہین سا گائون پہنے بڑے مطمئن انداز میں نیل پالش صاف کر رہی تھیں۔ گویا بھس میں چنگاری ڈال کر بھڑ بھڑ جلتی آگ سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ میں اسے روٹین کی کوئی چپقلش سمجھ کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد دو دن تک پاپا اس حد تک ٹینس رہے کہ مجھے ان کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ ہارٹ پیشنٹ تھے اور ڈپریشن ان کے لئے سخت نقصان دہ تھا۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں ان سے اصل بات اُگلوانے کی کوشش کی مگر وہ پُرخیال نظروں سے مجھے بس دیکھتے رہے، کہا کچھ نہیں۔ مگر یہ عقدہ بھی اس شام کھل ہی گیا۔ میں حسب عادت یونیورسٹی سے واپسی پر سو گئی تھی۔ رات کو جب میری آنکھ کھلی تو پاپا کے بیڈ روم میں ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا۔ دونوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
’نہ جانے اب کیا مسئلہ ہو گیا ہے؟ اور یہ مما بھی کیسی ضدی ہیں۔ مجال ہے جو پاپا کی کوئی بات مان جائیں۔‘
میں نے اُکتا کر سوچا تھا اور پھر دبے پائوں چلتی ہوئی بیڈ روم کے دروازے تک آئی تھی۔ فطری طور پر میں نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آخر جھگڑا کس بات پر ہے۔
’’آر یو میڈ فصیحہ؟ تم جانتی ہو تمہارے اس فیصلے کا شانزے پر کتنا برا اثر پڑے گا؟‘‘
’’شانزے دودھ پیتی بچی نہیں ہے، بڑی ہو چکی ہے۔ برا بھلا سمجھ سکتی ہے وہ۔‘‘
’’یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ یہی تو میں تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ وہ اب بڑی ہو چکی ہے۔ ہم دونوں کو مل کر اس کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ تمہیں نہیں معلوم مگر میں جانتا ہوں کہ وہ تم سے کتنی محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ تمہارے اس فیصلے سے اسے کتنا دکھ ہو گا۔۔۔۔۔۔ یہ سوچا ہے تم نے؟‘‘ پاپا کہہ رہے تھے۔
’’ایمان حسن!۔۔۔۔۔۔ میرے پاس تمہاری فضول باتیں سننے کا بالکل وقت نہیں۔ میں کہہ چکی ہوں کہ مجھے ڈائیوورس چاہئے۔ میں اب تمہارے ساتھ مزید گزارہ نہیں کر سکتی۔‘‘ مما نے کس مطمئن لہجے میں کہا تھا مگر میرے سامنے ہفت آسمان گھوم گئے تھے۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں مما؟‘‘ میں ششدر سی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی۔
’’مگر میرے جیتے جی یہ نہیں ہو گا۔‘‘ کچھ دیر خاموشی کے بعد پاپا کی سرد و سپاٹ آواز فیصلہ کن لہجے میں سنائی دی تھی۔ اس کے بعد مما نے نہ جانے کیا کہا تھا، میں منہ پہ ہاتھ رکھے لڑکھڑاتی ہوئی اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔ مما کے چیخنے چلّانے کی آوازوں نے کمرے تک میرا پیچھا کیا تھا۔ میں نے اپنے سائیں سائیں کرتے کانوں پر ہتھیلیاں رکھ لی تھیں۔ میرے اندر چھپی ہوئی بچی بری طرح خوف زدہ ہو گئی تھی۔
’کیوں کر رہی ہیں مما ایسا؟‘ میں نے بری طرح دھڑکتے دل کے ساتھ سوچا تھا۔ پھر بیڈ روم سے اُٹھنے والی آوازیں یکلخت معدوم ہو گئی تھیں۔ میں کچھ لمحے یونہی بیٹھی رہی۔ مجھے یقین تھا کہ یا تو پاپا اپنے اسٹڈی روم میں بند ہو گئے ہوں گے یا مما گاڑی لے کر باہر نکل جائیں گی۔ گاڑی چلنے کی آواز نہ آئی تھی۔ میں نے اپنے کمرے سے نکل کر اسٹڈی روم کی طرف دیکھا، اس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ گویا پاپا بھی بیڈ روم میں ہی ہیں۔ اور یہ بات باعث تشویش ہی تو تھی کہ اگر دونوں کمرے میں موجود تھے تو پھر یہ خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔ میں فوراً بیڈ روم کے دروازے تک گئی تھی اور ذرا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تھا۔ میری پہلی نظر مما پر پڑی تھی۔ وہ لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے قریب تھیں۔ اور مسکرا رہی تھیں اور ان کی مسکراہٹ اس قدر زہریلی اور پُراسرار تھی کہ میں نے بے ساختہ ہی مزید دروازہ کھول کر پاپا کو ڈھونڈنا چاہا تھا اور اگلا لمحہ میرے لئے قیامت سے کم نہ تھا۔ پاپا درد سے بری طرح بے حال ہوتے ہوئے بیڈ پر جھکے جا رہے تھے۔ دایاں ہاتھ سینے پہ تھا جبکہ بائیں ہاتھ سے انہوں نے بیڈ شیٹ کو بری طرح جکڑا ہوا تھا۔ گویا وہ بے حد اذیت میں تھے۔ میں چیخ کر ان کی طرف بڑھی تھی۔
’’پاپا! کیا ہو رہا ہے آپ کو؟‘‘ میں نے بمشکل انہیں کاندھوں سے پکڑ کر سیدھا کیا تھا۔ تبھی مما بھی چلتی ہوئی میرے قریب آ گئی تھیں۔
’’مما۔۔۔۔۔۔!‘‘ میں نے جیسے مدد کے لئے انہیں پکارا تھا، وہ بھی گھبرا کر پاپا پر جھکی تھیں مگر ان کی گھبراہٹ اس قدر مصنوعی تھی کہ میں پریشانی کے اس لمحے میں بھی محسوس کئے بنا نہیں رہ سکی تھی۔ پاپا کی خراب ہوتی حالت دیکھ کر میں نے فوراً سائیڈ ٹیبل کی دراز کھول کر گولیوں کی وہ شیشی تلاش کرنی چاہی جو ایسے کسی بھی وقت کے لئے وہاں ہمیشہ موجود ہوتی تھی اور پاپا تکلیف محسوس کرنے پر وہ ٹیبلٹ زبان کے نیچے رکھ لیا کرتے تھے۔ دوسری، تیسری، چوتھی دراز بھی کھنگال لینے کے باوجود وہ شیشی مجھے نہ ملی تو میں ڈاکٹر کو کال کرنے کے لئے فون کی طرف لپکی تھی مگر جونہی میں مڑی تھی، پاپا نے میری قمیض کا بازو کھینچ کر مجھے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا تھا۔
نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے وہ جیسے ضبط کے آخری مراحل سے گزر رہے تھے۔ میں نے ان کے زرد ہوتے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا تھا۔
’’پاپا!۔۔۔۔۔۔ میں ڈاکٹر کو کال کرتی ہوں۔‘‘ میرا دل ان کو تکلیف میں دیکھ کر کٹ کر رہ گیا تھا۔ میں کانپتی آواز میں ان کو تسلی دے کر اُٹھی تھی مگر میرے بازو پر ان کی گرفت ایک لمحے کے لئے بے حد مضبوط ہونے کے بعد اچانک ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ میں نے انجانے خدشے سے دھڑدھڑاتے دل کے ساتھ ان کی طرف دیکھا۔ مجھ پر جمی ان کی حسرت زدہ آنکھیں ساکت تھیں۔ ان میں ہر جذبہ، ہر احساس دم توڑ چکا تھا۔ بس ان کی آنکھ کے بیرونی گوشے پہ ٹھہرا آنسو اس لمحے ٹوٹ کر ان کے بالوں میں جذب ہوا تھا۔ اور تب مجھے احساس ہوا کہ ایسے ان سے زندگی کا ناتا بھی ٹوٹ گیا ہے۔
میں اپنی جگہ پتھر کی ہو گئی تھی۔ ایسی انہونی ہوئی تھی کہ یقین کو سرا ہاتھ نہ آ رہا تھا۔ کیا یہ ممکن تھا کہ وہ میری موجودگی میں، اپنی شانزے کی موجودگی میں یوں زندگی سے رُوٹھ جاتے۔ مگر ایسا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔ میرے پاپا میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ چکے تھے اور میں خشک آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔ میں کچھ بھی نہ کر پائی ولید احتشام!۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہ کر سکی۔‘‘ وہ لمحات، وہ گھڑیاں یوں میری نظروں کے سامنے آئے تھے کہ ضبط کا یارا نہ رہا۔
میں یوں رو رہی تھی جیسے پاپا آج مرے ہوں۔ ان کی میت میرے سامنے پڑی ہو اور میری بے بسی کا احساس مجھے آج کچوکے لگا رہا ہو۔ ولید احتشام بت بنا میرے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے غالباً اس وقت مجھے ٹوکنا مناسب نہ سمجھا تھا۔
’’پاپا کی وفات کو کئی روز ہو گئے۔ نہ جانے دل کیسے پتھر ہوا تھا کہ میں رو بھی نہ سکی۔ وہ لمحے بار بار میری نظروں کے سامنے فلم کی مانند چلتے رہے۔ میں نے اتنے دن مما سے ڈھنگ سے بات بھی نہیں کی تھی۔ مجھے احساس تھا کہ ان کی بے جا ضد کی وجہ سے ہی پاپا کی طبیعت اس حد تک خراب ہو گئی تھی۔ اور پھر انہی دنوں جب میں بار بار اس واقعے کے بارے میں سوچتی رہتی تھی، کچھ سوال کانٹوں کی طرح ذہن کی سطح پر اُبھرے اور مسلسل مجھے تنگ کرتے رہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا، اس وقت جب پاپا کی حالت اس قدر تشویش ناک ہو رہی تھی، مما کھڑکی کے پاس کیو کھڑی تھیں؟ اور پھر وہ موقع مسکرانے کا تو نہیں تھا۔ جبکہ میں نے مما کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کو بخوبی دیکھا تھا۔
اور پھر میرے کمرے میں داخل ہونے کے بعد بھی جیسے انہوں نے واجبی سے طریقے سے پاپا کو ٹریٹ کیا تھا۔ نہ پانی کا گلاس لئے پاپا کی طرف بڑھیں، نہ ڈاکٹر کو فون کرنے کی کوشش کی، نہ کسی ملازمکو پکارا۔ یہ سب باتیں مجھے عجیب سے وہم میں مبتلا کر رہی تھیں۔ اور یہ وہم ہی تھا جو ایک روز مجھے عقبی لان کی طرف کھینچ لے گیا تھا۔
پاپا کے بیڈ روم میں لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے عین نیچے کھڑے ہو کر میں نے یہاں پر موجود باڑھ کا جائزہ لیا تھا۔ اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد میں پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ اور یونہی باڑھ کی جڑوں میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوئے کوئی چیز میرے ہاتھ سے ٹکرائی تھی۔ اور معلوم ہے ولید احتشام! وہاں سے کیا چیز برآمد ہوئی تھی؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’یہ وہی شیشی تھی، جس میں موجود ٹیبلٹس کی اس وقت پاپا کو ضرورت تھی۔ اور جو ہمیشہ سائیڈ ٹیبل کی دراز میں موجود رہتی تھی۔ اس وقت میری سمجھ میں آیا تھا کہ مما کھڑکی کے پاس کیوں کھڑی تھیں۔ وہم یقین میں بدلا تھا اور میرے پائوں تلے سے زمین بھی سرک گئی تھی۔ شک و شبے کی گنجائش موجود نہ تھی۔ اس عورت نے اپنی خواہشات کی خاطر میرے پاپا کو مھجھ سے چھین لیا۔ سن رہے ہو نا ولید! وہ بظاہر جو بے حد خوب صورت، اُجلے چہرے والی عورت ہے، اس کا دل اتنا مکروہ ہے کہ اس نے مجھ سے میرے پاپا کو چھین لیا۔‘‘ میں نے پتھر بنے ولید احتشام کی بے یقین آنکھوں میں جھانک کر اس کو جھنجوڑ ڈالا۔
’’وہ خود محبت کرنا نہیں جانتی تھی۔ مگر اُس نے اس شخص کو بھی مار ڈالا جو اس کائنات میں مجھے سب سے زیادہ چاہتا تھا۔ وہ مجھے دنیا کے ہر شخص سے زیادہ محبت دیتا تھا، اتنی محبت کہ آج تک کسی باپ نے اپنی بیٹی سے نہیں کی ہو گی۔ وہ مجھ سے کہا کرتے تھے۔
’’شانزے جان! تم نہیں جانتیں، تم میرے لئے کیا ہو۔ تم سورج کی اوّلین کرن بن کر میرے دن کا آغاز کرتی ہو۔ چاند کی روپہلی کرنیں جو رات کی قبا پر ستارے ٹانک دیتی ہیں، وہ بھی تم ہو۔ اور شانزے! بہار کی آمد پر گلشن میں کھلنے والا پہلا پھول بھی تم ہی ہو۔۔۔۔۔۔ تم میرے لئے روشنی ہو، خوشی ہو، مسکراہٹ ہو، زندگی بھی ہو۔‘‘
’’بتائو ولید احتشام! کبھی کسی نے اپنی اولاد سے اس حد تک بھی پیار کیا ہو گا؟ اور یہ پیار مجھ سے چھین لیا گیا۔ اور مجھ پر ظلم کرنے والا کوئی اور نہیں، میری اپنی ماں تھی۔ جس نے مجھے اپنی کوکھ سے جنم دیا تھا۔ اور ماں تو بچے کے لئے دنیا میں بڑی سے بڑی قربانی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک چڑیا بھی اپنے بچوں کو موسموں کی آفت سے بچانے کے لئے اپنی جان پر کھیل جاتی ہے۔ پھر یہ کیسی ماں تھی کہ اس نے اپنے ہاتھوں میرے سر سے آسمان کھینچ لیا۔ مجھے بڑی آسانی سے خزاں کی آغوش میں ڈالا اور خود بہار کی رنگینیوں میں کھو گئی۔‘‘
روتے روتے میری آواز پھٹ گئی تھی۔ اور میں گھٹنوں میں منہ چھپا کر سسک پڑی تھی۔ ولید احتشام اس انکشاف پر انس روکے بیٹھا تھا۔ اور پھر نہ جانے کتنی دیر بعد اس کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی تھی۔
’’شانزے!۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے اب تمہیں آرام کرنا چاہئے۔‘‘ اس کی آواز کسی گہرے کنوئیں سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔
’’پھر اس کے بعد جب کائنات کی ہر شے پر سے میرا اعتبار اُٹھ گیا تھا، تب وہ سر راہ مجھے ملا تھا۔ سبز آنکھوں میں اُمید کے دیپ جلائے، کسی روشن صبح کی مانند تابناک۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھ کر بے یقینی کی دُھند رفتہ رفتہ چھٹنے لگی۔ بے اعتباری کا موسم میرے وجود پر سے گزرتا چلا گیا۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے اردگرد بکھرے خود غرض لوگوں کے علاوہ کچھ ایسے جانثار بھی موجود ہیں جو ہنستے ہیں تو دوسروں کی خاطر، جو روتے ہیں تو دوسروں کے دکھ پر۔
وہ مجھے جینے کا ہنر سکھانے لگا۔ نم آنکھوں سمیت مسکرانے کا سلیقہ دیا۔ وہ مجھے کسی دیوتا کی طرح عظیم لگنے لگا تھا۔ جس کو دیکھنے کے لئے مجھے اپنا سر اونچا کرنا پڑتا تھا۔ اور پھر یہ دیوتا اپنے اصل روپ کے ساتھ سامنے آیا تو میرے لئے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔‘‘ میں نے طویل سانس لے کر ولید احتشام کو دیکھا۔
’’ولید!۔۔۔۔۔۔ کیوں کرتے ہیں لوگ ایسا؟۔۔۔۔۔۔ اپنی ظاہری شخصیت میں جس قدر بلند نظر آتے ہیں، درحقیقت اتنے ہی پست کیوں ہوتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔ میری ماں اپنے حلقہ احباب میں ایک پُرخلوص عورت کے طور پر پہچانی جاتی ہے، اس نے تو ایک شخص کو قتل کیا ہے اور وہ۔۔۔۔۔۔ جو سینکڑوں بچوں کا ’’آفندی پاپا‘‘ تھا، وہ پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ آخر ہم لوگ کیسے قتل کر دیتے ہیں انسانوں کو؟
کسی کی مسکراہٹ کو
دوسروں کی خوشیوں کو
اعتبار کو
مان بھرے رشتوں کو
دوسروں کی محبتوں کو
توقعات کو۔۔۔۔۔۔
ولید احتشام! کیا مار ڈالنا، ختم کر دینا اتنا ہی آسان ہے؟‘‘
میں نے ایک ناقابل فہم، نہ سمجھ میں آنے والا سوال اس کے سامنے رکھا تھا جس کا جواب شاید اس کے پاس بھی نہیں تھا۔ اسی لئے نظریں چرا کر طویل سانس لیتے ہوئے میرا ہاتھ تھپتھپا کر کہا تھا۔
’’تم بہت تھک گئی ہو شانزے! اب تمہیں نیند کی ضرورت ہو گی۔‘‘
شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا۔ میں نے اپنا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس کیا تو دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اپنے بیڈ روم میں آ گئی تھی۔ اور بہت دنوں بعد اس روز نیند کے دوران خوفناک چہرے مجھے ڈرانے نہیں آئے تھے۔
///
’’تھینک گاڈ تم بستر سے تو اُٹھیں۔‘‘ پھپھو کی خوشی سے معمور آواز سنائی دی تو میں نے آنکھیں کھول دیں۔ میں اس وقت لان میں بیٹھی ہوئی تھی جہاں نرم دھوپ اپنے سنہری پر پھیلائے ہوئے تھی۔ لیماس گراس کی خوشبو ہوا میں رچی بسی ہوئی تھی۔
اورنج ساڑھی میں پھپھو جاندار مسکراہٹ لئے میرے سامنے بیٹھ گئی تھیں۔
’’میں تو بستر چھوڑ رہی تھی مگر بستر مجھے نہیں چھوڑ رہا تھا۔‘‘ میں نے سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’ونیزہ کیسی ہے؟ اس کا فون نہیں آیا؟‘‘
’’وہ بالکل ٹھیک ہے۔ فون بھی کئی مرتبہ کر چکی ہے۔ انجوائے کر رہی ہے وہاں پر۔ تمہارے بارے میں پوچھ رہی تھی مگر میں نے اسے یہ ہی کہا تھا کہ تم آج کل شہر سے باہر ہو۔ تمہیں تو معلوم ہے نا وہ تم سے کتنی اٹیچ ہے۔ اگر ذرا سی خبر بھی ہو جاتی کہ تم بیمار ہو تو وہاں اس نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ اور اب تم ٹھیک ہو تو خود اس سے بات کر لینا۔‘‘ انہوں نے وضاحت سے بتایا تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’اب تو تم ٹھیک ہو نا شانزے؟‘‘ انہوں نے بغور مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’جی پھپھو! نائو آئی ایم پرفیکٹ۔‘‘ میں نے انہیں تسلی دی۔
’’چندا! تم کیوں اتنا ڈپریسڈ رہتی ہو؟ آخر وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ انہوں نے ہاتھ تھام کر ملائمت سے کہا۔
’’مجھے لگتا ہے تم ابھی تک ایمان حسن کی موت کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکیں۔ بلاشبہ وہ ایسا ہی انسان تھا مگر جانو! کہہ سن لینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ فصیحہ سے نہیں کہنا چاہتیں تو مجھ سے کہہ لیا کرو۔ آخر میں بھی تمہاری ماں کی جگہ ہوں۔‘‘
ہاسپٹل میں وہ مما کے ساتھ میرا نفرت بھرا گریز جان گئی تھیں، اسی لئے انہوں نے خود میرے دل میں جھانکنے کی کوشش کی تھی۔
ان کی بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، اس لئے میں نے بات بدل دی تھی۔
’’پھپھو! میں آپ کی طرف آنا چاہتی ہوں۔‘‘
انہوں نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر خوش دلی سے مسکرا دیں۔
’’ٹھیک ہے، تم جب چاہو آ جانا۔ ونیزہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے گھر کافی سُونا ہو گیا ہے۔ تمہارے ساتھ ہمارا دل بھی بہلا رہے گا۔‘‘
’’میں آج ہی چلتی ہوں آپ کے ساتھ۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ مگر میں ذرا فصیحہ سے مل آئوں، گھر پر ہی ہے وہ؟‘‘
’’معلوم نہیں۔‘‘ میں نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا تو وہ اندر کی طرف بڑھ گئیں۔ جب کہ میں سوچ میں پڑ گئی تھی۔
’بہت سے رشتے میرے اردگرد موجود تھے مگر میں دل کی بات کہنے سے گریز کرتی رہی۔ حتیٰ کہ ونیزہ سے بھی نہیں کہ جو بچپن سے میری سنگی ساتھی ہے۔ تو آخر میں نے کتھارسس کے لئے اس شخص کو ہی کیوں چنا، جس سے میرا کوئی خاص رشتہ نہیں، تعلق نہیں بلکہ کسی حد تک ناپسندیدگی کے زمرے میں ہی آتا تھا پھر۔۔۔۔۔۔۔؟‘ میں نے گویا خود سے سوال کیا۔
’شاید اس وقت میں بہت زیادہ تھک گئی تھی، اس راز کو چھپانے کی کوشش میں نڈھال ہو کر رہ گئی تھی۔ اور کسی کمزور لمحے کی زد میں آ کر بکھرتی چلی گئی اور اس کے سامنے خود کو کھول کر رکھ دیا۔‘
میں اپنے خیال سے اس وقت چونکی تھی، جب پھپھو نے قریب آ کر مجھے پکارا تھا۔ میں جھٹ کرسی سے اٹھ کر ان کے ساتھ ہو لی تھی۔
پچھلی سیٹ پر بیٹھتے ہی میری نظر اخبار پر پڑی تھی۔ غالباً داور انکل پڑھنے کے بعد گاڑی میں ہی چھوڑ گئے تھے۔ میں سرسری سی نظر فرنٹ پیج پہ ڈالنے کے بعد پلٹتی رہی تھی اور آخری صفحے پر خبر کے ساتھ لگی تصویر پہ میری نظریں ٹھہر گئی تھیں۔ دل ایک دم سکڑ کر پھیلا تھا۔ پولیس کے نرغے میں عدالت کے احاطے میں داخل ہوتے ہوئے جمشید آفندی کی تصویر تھی۔ ہلکی سی شیو بڑھی ہوئی تھی اور سر جھکا ہوا تھا۔
اور مجھے یاد آیا کہ اس کا سر تو ہمیشہ ہی جھکا رہتا تھا۔ میں نے کبھی اسے سر اٹھا کر چلتے نہیں دیکھا تھا۔ اس کی نظر ہمیشہ اس کے قدموں پر رہتی تھی۔ یوں جیسے وہ گن گن کر قدم اٹھا رہا ہو۔
’اور نہ جانے کیوں یہ سب کچھ دیکھ لینے کے باوجود بھی مجھ لگتا ہے کہ تم بالکل بے گناہ ہو۔‘
میں نے اس کی تصویر پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا تھا اور وہ آن کی آن میں اپنے ساحر راپے سمیت میری آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
’’مس شانزے! چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا کرنا چھوڑ دیں۔ خوش رہا کریں۔‘‘ اس نے آخری مرتبہ تلقین کی تھی۔
’کیسے انسان تھے تم۔۔۔۔۔ خوشیاں بھی جی بھر کر بانٹیں اور دکھ دینے میں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔‘ میں نے دل ہی دل میں اس سے شکوہ کیا تھا۔
’’کاش! میں صرف ایک بار تم سے مل سکتی۔ بہت کچھ پوچھنا تھا تم سے۔ ابھی بہت سے جواب تمہارے ذمے تھے۔ کاش!‘ میں نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا دیا تھا اور گاڑی سے باہر بھاگتی دوڑتی عمارتوں پر نظر ٹکا دی تھی۔
///
میں جوگرز پہن کر پھپھو کو بتا کر پیدل ہی گیٹ سے باہر آ گئی تھی۔ آج یونہی چہل قدمی کو دل چاہ رہا تھا سو دھیرے دھیرے چلتے ہوئے میں کالونی کی سڑکوں پر ہی ٹہلنے لگی تھی۔ رہائشی علاقہ تھا سو رش وغیرہ بالکل نہیں تھا۔ ایک دو مرتبہ پاس سے بھاگتے ہوئے بچے ہیلو کے انداز میں ہاتھ ہلاتے آگے بڑھ گئے تھے۔ میں یونہی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹہل رہی تھی، جب اچانک کوئی میرے بالکل برابر آ گیا تھا۔ میں نے بے اختیار ہی گردن موڑ کر دیکھا۔
’’ہیلو۔۔۔۔۔۔ میں گھر گیا تو آنٹی نے بتایا، تم واک کرنے نکلی ہو۔ سو میں بھی پیچھے چلا چلا آیا تھا۔‘‘ یہ ولید احتشام تھا اپنے مخصوص انداز میں بولتا ہوا۔ میں نے ایک نظر اسے دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل دیا تھا۔
’’ہاں، بس ایسے ہی باہر نکلنے کو دل چاہ رہا تھا اس لئے چلی آئی۔‘‘ میں نے محسوس کیا تھا کہ اب پہلے کی طرح اس شخص کو نظرانداز کر دینا میرے لئے ممکن نہ رہا تھا کہ نادانستگی میں ہی سہی، بہرحال وہ میرا رازدار بن چکا تھا۔
’’گھر کب چل رہی ہو؟‘‘
’’فی الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔‘‘ میں رک کر ایک کوٹھی کی دیوار سے باہر لٹکتے سفید پھولوں کا گچھا توڑنے لگی تھی۔
’’اچھا۔۔۔۔۔۔ ویسے ڈیڈی بھی تمہیں مس کر رہے تھے۔ انہوں نے دانستہ خود کو اور مما کو تمہارے سامنے آنے سے روک رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ تم انہیں ڈس لائیک کرتی ہو۔ مگر شانزے جی! میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آپ اتنے نائس مین کو ڈس لائیک کیسے کر سکتی ہیں؟‘‘
’’اگر میں اپنی ماں سے نفرت کر سکتی ہوں تو کسی دوسرے فرد کو ناپسند کرنا ناممکن بات تو نہیں۔‘‘ پھول توڑنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے میں نے چڑ کر کہا۔
’’ماں سے نفرت کا تو ایک ٹھوس جواز ہے۔ اگرچہ اس پر یقین کرنا کوئی آسان کام نہیں۔‘‘ اس نے میرے اوپر سے ہاتھ بڑھا کر ذرا سی کوشش کے بعد پھول توڑ کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔
’’مگر میرے اطمینان کے لئے اتنا ہی کافیہے کہ یہ بات تم نے کہی ہے۔ کیونکہ ماں کا رشتہ ایسا نہیں ہوتا کہ محض شک و شبہے کی بنا پر اتنا بڑا الزام اس کے سر لگا دیا جائے۔ مگر ڈیڈی کے ساتھ تمہارا روّیہ میری سمجھ سے باہر ہے۔‘‘
’’مسٹر ولید احتشام! یا تو آپ بہت معصوم ہیں یا پھر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے قدرے حیران ہو کر مجھے دیکھا۔
’’غالباً میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ اس روز جھگڑے کی بنیاد مما کا طلاق کا مطالبہ تھا۔ اور پاپا کی وفات کے محض دو ماہ بعد انہوں نے احتشام احمد سے شادی کر لی۔ گویا وہ ان کی وجہ سے پاپا سے طلاق چاہتی تھیں۔ اور پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پاپا کو مارنے کا پروگرام ان دونوں نے مل کر بنایا ہو۔‘‘
میں اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے غالباً یہ بھول گئی تھی کہ میں اس شخص کے بیٹے سے مخاطب ہوں، جس پر قتل کا الزام لگا رہی ہوں۔
’’واٹ۔۔۔۔۔ اے جسٹ۔۔۔۔۔۔ آ فٹ۔‘‘ وہ ایک دم میرے سامنے آ گیا تھا۔
’’تم بہت غلط سوچ رہی ہو۔ اگر یہ ان دونوں کی ملی بھگت ہوتی تو واقعے کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔ جو کچھ تمہاری مما نے کیا وہ شدید غصے میں ایک اضطراری حرکت اور فوری دِعمل کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور میرا تو خیال ہے، شدید غصے میں ان کا دماغ آئوٹ آف کنٹرول ہو گیا تھا ورنہ ڈائیوورس عدالت کے ذریعے با آسانی حاصل کی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم بات ہے جو میرا خیال ہے وہاں بیٹھ کر کرتے ہیں۔‘‘ وہ ایک گھر کے سامنے بنے گھاس کے سبز قطعے کی طرف بڑھا تو میں نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
’’بات یہ ہے شانزے!‘‘ وہ بہت اطمینان سے گھاس پر براجمان ہوا تھا۔ ’’کہ میں اس وقت بارہ تیرہ برس کا تھا، جب میری والدہ کا انتقال ہوا۔ خاندان بھر نے ڈیڈی پر دوسری شادی کے لئے زور دیا مگر ڈیڈی نہ مانے اور مجھ سمیت اس ملک سے ہی نکل بھاگے۔ ایک طویل عرصے بعد جب ڈیڈی کو وطن اور اپنے لوگوں کی یاد آئی، تب ہم اپنا سارا بزنس وائنڈ اپ کر کے یہاں آ گئے اور جب ہم لوگ یہاں آئے، اس وقت یہ خبر ہر طرف گردش کر رہی تھی کہ ’’شان انڈسٹریز‘‘ کے اونر ایمان حسن وفات پا چکے ہیں۔ اور پھر پورے ایک ماہ بعد ایک رات انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ مشہور بزنس مین ایمان حسن دو ماہ قبل وفات پا گئے تھے اور ان کا قابل اعتماد منیجر جو گزشتہ آٹھ دس سال سے ان کے ساتھ کام کر رہا تھا، اس موقع پر کروڑوں روپے ہتھیا کر اپنے بیوی بچوں سمیت اس ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ ایمان حسن کی بیوہ اور اس کی بیٹی اس وقت کرائسس میں ہیں۔ ڈیڈی نے کہا تھا، وہ فصیحہ بیگم اور ان کی بیٹی کو نہ صرف مالی بلکہ جذباتی سہارا بھی دینا چاہتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ تنہا رہنے کے بعد اگر ڈیڈی نے ایسی کوئی خواہش کی تھی تو ظاہر ہے مجھے اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ سو میں نے ان کے فیصلے کو سراہا تھا۔ اور اس طرح یہ بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ تمہاری ما نے جو کچھ کیا، اس میں ڈیڈی کسی طرح سے بھی انوالو نہیں تھے۔ انہوں نے تو بہت خلوص اور ایمان داری سے تم دونوں کا ساتھ دینے کی کوشش کی تھی۔ کیا ہوا، کیا میری بات پر یقین نہیں آ رہا؟‘‘ بات کے اختتام پر اس نے میری حیرت سے کھلی آنکھوں میں جھانکا۔
’’اگر تمہیں میری کوئی بات ناقابل یقین لگے تو تم کسی سے بھی اس کی تصدیق کر سکتی ہو۔ ونیزہ سے، آنٹی سے، داور انکل سے یا آفس کے کسی بھی ورکر سے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔‘‘
اور میں کسی سے تصدیق کیا کرواتی؟ میرا تو یہ سن کر ہی سر جھک گیا تھا کہ جس دولت کو میں باپ کی کمائی سمجھ کر اُڑا رہی تھی، وہ درحقیقت اس شخص کی ہے، جس کی ہر محبت کے جواب میں، میں نے نفرت جتائی تھی۔
’’اور پلیز۔۔۔۔۔۔ تم یہ مت سمجھنا کہ میں تم پر کوئی احسان جتانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی اور ڈیڈی کی پوزیشن کلیئر کرنے کے لئے مجھے یہ فیکٹ تمہیں بتانا پڑا۔‘‘ وہ ایک اچھے دوست کی طرح میری دلجوئی کر رہا تھا۔
’’اب چلیں واپس؟‘‘ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے مجھے چونکایا تو میں بھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کیا بات ہے؟۔۔۔۔۔ اتنی خاموش کیوں ہو گئی ہو؟‘‘ اس نے قدرے جھک کر میرا چہرہ کھوجا۔
’’میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تمہارا کاروبار بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا تھا یا پھر مکمل طور پر ڈوب گیا تھا اور میرے ڈیڈی نے اسے کنارہ دیا تھا۔ بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ منیجر کروڑوں روپے لے کر بھاگ گیا تھا اور باقی جو کروڑوں روپیہ کاروبار میں لگا ہوا تھا، ڈیڈی نے اسی میں کچھ انویسٹمنٹ کی تھی۔ آج سارا کاروبار ففٹی ففٹی کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ اور اتنا ہی تمہارا ہے جتنا ہمارا۔‘‘ اس نے دل میں گڑا آخری کانٹا بھی بڑے سبھائو سے نکالا تھا۔
’’کوئی اور بات کھٹک رہی ہو تو بلاجھجک کہہ ڈالو۔ بیلیو می، میرے پاس تمہارے ہر سوال کا جواب موجود ہو گا۔‘‘ اس نے بڑے اعتماد سے کہا تھا اور میں نے گہری سانس لے کر نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی میری نظر مما پر پڑی تھی جو پھپھو کے ساتھ لان میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے انہیں نظرانداز کر کے آگے بڑھنا چاہا مگر وہ فوراً اُٹھ کر میری طرف بڑھی تھیں۔
’’شانزے ڈیئر!۔۔۔۔۔۔ لسن می پلیز۔‘‘
’’ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ میں نے ناگواری سے کہا تھا۔ ولید راستے میں ہی رک کر انہیں دیکھنے لگا تھا۔ مگر وہ نظرانداز کر گئی تھیں۔ انہیں بے تابانہ انداز میں اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر میرے قدموں میں تیزی آ گئی تھی۔ اور پھر تقریباً بھاگ کر میں برآمدے سے ہوتی ہوئی کمرے میں آ کر بند ہو گئی تھی۔
///
پرندے لوٹ آئیں تو۔۔۔۔۔۔
کسی دن پوچھنا ان سے
کہ اپنے گھونسلے سے برہنہ پا
اور ننگے سر نکلنے سے
اماں اور عافیت کا
کوئی اِک دروازہ کھلنے تک
کہو کتنے زمانے
اور کتنے فاصلے درپیش ہوتے ہیں
کبھی زخمی پروں والے پرندے
لوٹ آئیں تو
یہ ان سے پوچھنا
بولو!
ہوا کے سنگ دل دریا کی
خوں آشام لہروں میں
تم اپنے پنکھ چپو
کس طرح حرکت میں رکھتے تھے
کبھی یہ پوچھنا ان سے
کہ جب تم آگ برساتے ہوئے سورج کی
تپتی زد پہ ہوتے تھے
تو پھر تم اپنے جسموں کو
لہو کی کون سی برفاب قوت کے سہارے
سرد رکھتے تھے
پرندے لوٹ آئیں تو
کسی دن پوچھنا ان سے
مگر ٹھہرو۔۔۔۔۔۔
کسے معلوم، جانے والے اپنی واپسی پر
کس قدر مختار ہوتے ہیں
کہیں ایسا نہ ہو کہ لوٹنے سے قبل
ان صابر پرندوں کا
کسی دم
خاک و خوں میں لوٹنا مقسوم ٹھہرا ہو
تو پھر سوچو
کہ تم یہ ساری باتیں
کس سے پوچھو گے؟
جمشید آفندی کا خط میرے سامنے کھلا پڑا ہے اور آنسو لکیر کی صورت میرے گالوں پر بہتے چلے جا رہے ہیں۔ آج مجھے اپنے ہر سوال کا جواب مل گیا ہے۔ مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ چلتے ہوئے ہمیشہ اس کا سر جھکا کیوں رہتا تھا۔
جب لوگ جھولیاں پھیلا پھیلا کر اسے دعائیں دیتے تھے تو سبز آنکھوں میں ایک اضطراب سا کیوں چھلکنے لگتا تھا۔
نیکی اور فلاح کے ڈھیروں کام کرنے کے باوجود وہ مطمئن کیوں نہیں ہوتا تھا۔
اور آج مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ مستان شاہ کون تھا؟ آفندی کا اس کے ساتھ کیا تعلق تھا؟
اور مستان شاہ کے ساتھ برہنہ پا، ہاتھ میں کشکول لئے بھیک مانگنے والا بچہ کون تھا؟
میں نے خط دوبارہ پڑھنے کے بعد تہ کر لیا تھا اور اپنے آنسو ہتھیلی سے پونچھ ڈالے تھے۔
’اور وہ بے گناہ ہی تو تھا۔۔۔۔۔ نہ جانے کتنے جمشید آفندی اس سسٹم کا شکار ہو کر سزاوار ٹھہریں گے۔‘ میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے سوچا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو عاصم آیا تھا۔ وہ بہت غمگین لگ رہا تھا۔
’’اخبارات، آفندی صاحب کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں۔ ہر کوئی اُنہیں تضحیک کا نشانہ بنا رہا ہے مگر میں جانتا ہوں، ان کا دل آج بھی اتنا ہی خوب صورت ہے، میری نظر میں وہ آج بھی اتنے بلند ہیں جتنے پہلے تھے۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ اپنی معصومیت میں وہ ایک ایسی دلدل میں دھنس گئے تھے کہ میں سے نکلنے کی کوشش میں وہ مزید اندر دھنستے چلے گئے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں مس شانزے ایمان! کہ انہوں نے دوسروں کے لئے جو بھی کام کیا، اس میں ذرّہ بھر کھوٹ نہیں تھی۔‘‘ دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کئے وہ سر جھکائے کہہ رہا تھا۔
’’کیا ہ ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے عاصم؟‘‘ میں نے نہ جانے کس اُمید کے تحت اس سے پوچھا تھا۔ وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا تھا۔
’’نہیں مس شانزے! وہ اپنی زبان سے اپنے جرم کا اقرار کر چکے ہیں۔ انہوں نے ہر اس فرد کو عیاں کیا ہے، جو اس کاروبار میں ان کے ساتھ شریک تھا اور جن پر ہاتھ ڈالنے سے قانون ڈرتا تھا۔‘‘
’’اور ’’دارالاطفال‘‘۔۔۔۔۔۔ وہاں کے سب بچے؟‘‘ میرا دل بھر آیا تھا اس بھرے پرے دارالاطفال کو یاد کر کے۔
’’آپ بے فکر رہیے۔ اِنشاء اللہ بہت جلد پرندے اپنے آشیاں میں لوٹ آئیں گے۔‘‘ اُس نے اُمید بھرے لہجے میں کہا تھا اور میں نے دل ہی دل میں پوری شدت سے ’’آمین‘‘ کہا تھا۔
///
ہال کمرے میں رنگ و نور کا ایک سیلاب سا اُمڈا ہوا تھا۔ فانوس کی تیز روشنی میں خواتین کے چہرے دمک رہے تھے۔ اپنی ذات و زیبائش کی نمائش میں ایک دوسرے کو مات دیتی ہوئی خواتین حُسن و نزاکت کے مجسّموں کی صورت اپنی اپنی جگہ ایستادہ تھیں۔ باتوں کی بھنبھناہٹوں کے درمیان کبھی کبھار کوئی ہلکا سا نسوانی قہقہہ ماحول کے ہلکے پھلکے ارتعاش میں بہت نفیس سی ہلچل مچا دیتا تھا۔ مرد حضرات ایک دوسرے کی کاروباری مصروفیات کو جاننے اور ٹوہ لینے میں منہمک تھے۔ کون نئی انڈسٹری لگا رہا ہے؟ کس نے ٹیکس جمع کروایا؟ اور کس کا دھندا آج کل مندا جا رہا ہے؟
میں ہال کے ایک کونے میں کھڑی یہاں موجود ایک ایک فرد کا بھرپور جائزہ لے چکی تھی اور بوریت کی آخری منزل تک پہنچی تھی۔
کتنا منع کیا تھا میں نے پھپھو کو مگر ان کی خواہش تھی کہ میرے صحت مند ہونے کی خوشی میں ایک زبردست قسم کی پارٹی دی جائے۔۔۔۔۔۔ نتیجتاً چہرے پہ صحت مندی کا تاثر دیتی بھرپور مسکراہٹ سجاتے سجاتے میں تھک گئی تھی۔
کتنا مصنوعی پن تھا اس سارے کے سارے ماحول میں۔ میں نے چڑ کر بڑے سے بلیک دوپٹے کو بمشکل کندھے پر سیٹ کیا اور اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
سرسراتے ہوئے ریشمی آنچل
کافی اور سگار کی ملی جلی خوشبو
طرح طرح کے پرفیومز
امپورٹڈ جیولری
اس سارے ماحول میں میرا دم گھٹنے لگا تھا۔ میں باہر جانے کے لئے صوفوں کی عقبی سائیڈ سے گزر رہی تھی، جب اچانک مما میرے سامنے آ گئی تھیں۔
’’شانزے پلیز! کچھ دیر رُکو۔‘‘ انہوں نے میرا بازو تھام کر مجھے روک لیا تھا۔
’’آخر مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ؟‘‘ میں نے سرسری سی نظر اطراف میں ڈالی اور کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ پا کر کسی قدر اطمینان محسوس کیا تھا۔
’’تم۔۔۔۔۔۔ تم گھر کب آ رہی ہو؟۔۔۔۔۔۔ دیکھو اتنے دن ہو گئے تمہیں یہاں آئے ہوئے۔ اور اصولاً تو یہ پارٹی بھی ہمیں اپنے گھر میں ارینج کرنی چاہئے تھی۔ آخر سب لوگ کیا سوچتے ہوں گے؟‘‘ انہوں نے عجلت بھرے انداز میں کہا۔ میں نے ایک لمحے کے لئے انہیں غور سے دیکھا۔ انہوں نے آئی لائنر اور مسکارے سے سجی آنکھیں چرا لی تھیں۔
’’میرا خیال ہے، ان لوگوں کے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں ہوتا کہ وہ ان چھوٹی موٹی باتوں کی پروا کرتے پھریں۔ اور یوں بھی میں یہاں بہت خوش ہوں۔‘‘ میں نے انہیں پیچھے ہٹا کر آگے بڑھنا چاہا مگر انہوں نے میرا بازو جیسے دبوچ لیا تھا۔
’’احتشام!۔۔۔۔۔ شامی!‘‘ انہوں نے فوراً پلٹ کر احتشام احمد کو پکارا تو میں دانت پیس کر رہ گئی۔
’’آپ خوامخواہ کیوں یہاں تماشا بنا رہی ہیں؟‘‘ میں نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔
’’احتشام! اسے کہو نا، اب گھر واپس چلے۔‘‘ انہوں نے ملتجی لہجے میں کہا تھا۔ انہوں نے حیرت سے ایک نظر مما پر ڈالی اور دوسری مجھ پر، پھر خوش دلی سے مسکرا دیئے۔
’’بھئی کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب ہماری بیٹی کا دل چاہے گا، تب آ جائے گی۔‘‘ انہوں نے جیسے میرا موڈ درست کرنے کی کوشش کی اور پھر مما کو دوسری طرف متوجہ کیا۔ ’’وہ دیکھئے نا فصیحہ! مسز شہریار آپ کو بلا رہی ہیں۔‘‘
مما مجبوراً ہونٹ کاٹتی ہوئی اس طرف چل دی تھیں اور میں نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔
’’ان فیکٹ ہم دونوں تمہیں بہت مس کرتے ہیں۔۔۔۔۔ گھر پہ تو تم پہلے بھی کم ہی نظر آتی تھیں مگر پھر بھی یہ احساس تو رہتا تھا کہ تم گئی ہو اور تمہیں لوٹ کر آنا بھی ہے۔ بہرحال میں مجبور نہیں کروں گا۔ جب دل چاہے، چلی آنا۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے ہولے سے میرا سر تھپتھپایا تھا اور میں نے شاید پہلی مرتبہ ان کے لہجے کی شفقت کو محسوس کیا تھا۔ جبھی میں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تھا اور پھر ان کے قریب سے ہو کر دروازے سے باہر نکل گئی تھی۔
’’اُف۔۔۔۔۔۔‘‘ باہر کے کھلے ماحول میں آ کر میں نے کھل کر سانس لیا تھا اور ہائی ہیل کے سینڈلز اُتار کر شبنمی گھاس پہ چلتی ہوئی لان کے بالکل آخری کونے میں آ گئی تھی۔
یہاں کا ماحول اندر ی نسبت بے حد خوب صورت لگ رہا تھا۔ چاند کی چودھویں رات تھی اور بے حد اُجلی نکھری چاندنی میں گھاس پر پڑے شبنم کے قطرے موتیوں کی صورت چمک رہے تھے۔ ہوا میں سبز گھاس کی مہک اور بہت سے پھولوں کی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی۔ موسم بہت خوشگوار اور ہوشربا تھا۔ ہال کمرے میں باتوں اور مدھم موسیقی کی آواز مجھے یہاں تک سنائی دے رہی تھی۔ ٹیوب لائٹس کی سفید دودھیا روشنی شفاف دریچوں سے باہر آنے کو بے تاب تھی۔ میں نے آنکھیں بند کر کے اس ماحول کو پوری طرح محسوس کرنا چاہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد قریب ہی کوئی آہٹ اُبھری تھی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں مگ لئے اسی طرف آ رہا تھا۔ سیاہ ڈنر سوٹ میں اس کا دراز قد خنک چاندنی میں بے حد نمایاں ہو رہا تھا۔
’’اتنی الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ اس نے قریب آ کر کافی کا مگ میری طرف بڑھایا۔
’’بس یونہی۔۔۔۔۔۔ وہاں سخت بور ہو رہی تھی میں۔‘‘ میں نے ایک نظر کافی سے اُڑتی بھاپ کو دیکھا۔
’’حالانکہ یہ پارٹی صرف تمہارے لئے دی گئی ہے۔‘‘
’’ہاں مگر مجھے اس قسم کی پارٹیز بالکل بھی اٹریکٹ نہیں کرتیں۔‘‘ میرے لہجے میں خودبخود اکتاہٹ غالب آ گئی تھی۔
’’اچھا۔۔۔۔۔ پھر کیا اٹریکٹ کرتا ہے تمہیں؟‘‘ اس کے انداز میں خاصی دلچسپی تھی۔
’’مجھے ہر وہ چیز پسند ہے ولیداحتشام! جو فطرت سے بے حد قریب ہو، بالکل خالص پاک، کسی بھی کھوٹ اور ملاوٹ سے مبرا۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’مثلاً بچے۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور ان کے چہروں پہ ثبت بے ریا مسکراہٹ مجھے بے حد اٹریکٹ کرتی ہے۔ اور اُبھرتی ہوئی صبح مجھے بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔ پھولوں سے مجھے عشق ہے۔۔۔۔۔۔ خوشبوئوں کی میں دیوانی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ چاندنی رات کا حُسن مجھے اپنے طلسم میں جکڑ لیتا ہے۔ اور سیاہ رات کے سینے پر جگر جگر کرتے چاند سے مجھے بے حد محبت ہے۔‘‘
میں نے ایک جذب کے عالم میں سر اٹھا کر آسمان پر روشن چاند کو دیکھنا چاہا۔ میری نظریں عین ولید احتشام کے چہرے پہ جا کر ٹھہر گئی تھیں۔ چاند اس کے لمبے چوڑے وجود کے پیچھے چھپ کر رہ گیا تھا اور چاندنی اس کے وجود سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
’’آہم۔۔۔۔۔۔ محترمہ! آپ شاید بھول رہی ہیں، میرا نام ولید احتشام ہے۔‘‘ اس نے ہلکا سا کھنکار کر شرارت سے کہا تو میں مسکرائے بِنا نہیں رہ سکی تھی۔
’’سب کچھ تو تم نے کہہ دیا مگر ایک بہت اہم چیز تم بھول رہی ہو۔‘‘ اس کے کہنے پر میں ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑ گئی تھی اور پھر استفسارانہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’انسان۔۔۔۔۔۔ اس کائنات کی اہم ترین مخلوق۔۔۔۔۔۔ جو بیک وقت چاہنے اور چاہے جانے کے لئے انتہائی موزوں ہستی ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ اُس کی یاد دہانی پر میں سر جھٹک کر رہ گئی تھی۔
’’خاصے خوش فہم لگتے ہیں آپ۔‘‘ میرے لہجے میں خود بخود طنز کی آمیزش ہو گئی تھی۔ ’’اس انتہائی موزوں ہستی کو خوب پرکھ چکی ہوں میں۔ دھوکا، فریب، ریاکاری، دوغلا پن، مفاد پرستی۔۔۔۔۔۔ ہر چیز اندازے سے بڑھ کر پائی ہے میں نے اس سانس لیتے پُتلے میں۔۔۔۔۔۔‘‘ میرے تجربات کا زہر میرے الفاظ میں گھلا ہوا تھا۔
’’نہیں شانزے!۔۔۔۔۔۔ اس نے میرے برابر بیٹھتے ہوئے فوراً میری بات کو رد کیا تھا۔ ’’محض دو انسانوں کے تناظر میں تم پوری انسانیت کو جاننے اور پرکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ ہاں یہ تمہاری بدقسمتی تھی کہ تمہیں پے درپے ان دو واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جن کے ذمہ دار افراد تمہاری زندگی میں بہت اہمیت رکھتے تھے۔ مگر ان دو افراد کی وجہ سے تم ان تمام اچھے انسانوں سے صرف نظر نہیں کر سکتیں جو آج بھی تمہارے اردگرد موجود ہیں۔ مثلاً ’’دارالاطفال‘‘ کے باقی تمام ورکرز، یونیورسٹی میں تمہارے دوست، ونیزہ اور آنٹی جیسے رشتے دار۔‘‘
’’یہ سب لوگ اسی لئے اچھے ہیں کہ ابھی ان کی شخصیت کا پردہ چاک نہیں ہوا۔۔۔۔۔ ان کے چہروں پر نقاب جوں کے توں موجود ہیں۔ کل یہ لوگ کس چہرے کے ساتھ ہمارے سامنے آئیں گے، یہ ہم آج نہیں جان سکتے۔‘‘
میں بے اختیار ہی اسے ٹوک بیٹھی تھی۔ میری بات پر اس کے چہرے پہ ناگواری کا ہلکا سا تاثر اُبھر آیا تھا۔
’’دیکھو شانزے! انسان کوئی کمپیوٹر نہیں کہ کھٹا کھٹ وہی جذبات ظاہر کرے، جو ہم لوگ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر بات پر وہی رسپانس دیں جو ہماری ڈیمانڈ ہے۔ انسان کے سینے میں دل بھی ہے اور سر میں دماغ بھی۔ اور اس دل و دماغ میں وہ منفی و مثبت سوچ بھی رکھتا ہے۔ اور اسی لحاظ سے وہ عمل بھی کرتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم دوسروں کی منفی سوچ کو خود پر حاوی کر لیتے ہیں یا اسی منفی سوچ سے کوئی پلس پوائنٹ اخذ کرتے ہیں۔ تم نے خود پر حد درجہ مایوسی اور قنوطیت طاری کر لی ہے جو کہ بالکل غلط بات ہے۔ اپنے آس پاس بکھرے لوگوں کو غور سے دیکھو، ان کو پہچاننے کی کوشش کرو۔ کون غلط ہے، کون درست۔۔۔۔۔۔ اس کا فیصلہ تمہارا دل کرے گا۔۔۔۔۔ آج یا کل کا انتظار کئے بغیر۔۔۔۔۔۔ اوکے۔‘‘ اس نے اپنی بات ختم کر کے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا۔
’’اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر تم میری بات پر غور ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔‘‘
وہ اُٹھ گیا تھا اور میں اس کی باتوں کو ’’فضول‘‘ قرار دیتے ہوئے بچی کھچی کافی حلق میں انڈیلنے لگی تھی۔
///
’’بمئی کل حماد کی والدہ نے تو مجھے اچھا خاصا پریشان کر کے رکھ دیا۔‘‘ ناشتے کی میز پر پھپھو نے کہا تو میرے ساتھ ساتھ داور انکل بھی چونک گئے۔
’’کیوں، کیا ہوا؟‘‘ انکل نے اخبار ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا۔
’’کہہ رہی تھیں کہ ان کی ساس یعنی حماد کی دادی کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی ہے اور وہ اس بات پر اصرار کر رہی ہیں کہ جلد از جلد ان کے اس چھوٹے اور لاڈلے پوتے کے سر پہ سہرا سجا دیا جائے۔ اور حماد کی والدہ اس بات پر مصر تھیں کہ ہم شادی کے بارے میں ذرا سنجیدگی سے غور کریں تاکہ وہ اپنی بہو کو اپنے گھر لے جا سکیں۔‘‘
’’ہاں تو اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟ ونیزہ ہمارے پاس ان کی امانت ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ جب چاہیں لے جائیں۔‘‘ پھپھو کی بات کے اختتام پر انکل نے نہایت مطمئن انداز میں کہا تو وہ گہری سانس لے کر میری طرف دیکھنے لگیں۔
’’کمال کرتے ہیں آپ بھی۔ بھئی اس کا ماسٹرز ادھورا رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔ اتنی جلدی ہم کیسے کر سکتے ہیں اس کی شادی؟‘‘ میری طرف سے کوئی رسپانس نہ پا کر وہ دوبارہ انکل کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’لیلیٰ بیگم! وہ کوئی بیک ورڈ فیملی تو ہے نہیں۔۔۔۔۔۔ شادی کے بعد ماسٹرز تو کیا، پی ایچ ڈی بھی کی جا سکتی ہے۔ کیوں شانزے؟‘‘ انہوں نے نیپکن سے منہ اور ہاتھ صاف کرتے ہوئے مجھے مخاطب کیا۔
’’اس سلسلے میں ونیزہ کی رائے زیادہ اہم ہے انکل! اور اس کے بعد جو آپ چاہیں۔ مگر ایک بات ہے کہ اگر حماد کی دادی محترمہ کی زندگی میں یہ خوشگوار واقعہ ہونا ہوا تو انہیں اس وقت تک کچھ نہیں ہو گا، جب تک یہ شادی ہو نہ جائے۔ اور اگر نہیں تو پھر بھلے آپ جتنی جلدی مرضی کر لیں۔ کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘ میرے کہنے پر انکل مسکرا دیئے تھے۔ جبکہ پھپھو نے فوراً سرزنش کی تھی۔
’’خدا انہیں پوتے کی خوشیاں دیکھنی نصیب فرمائے۔ خیر اس بات کو اب گول کرو اور یہ بتائو کہ اب تمہارا کیا ارادہ ہے؟‘‘ انہوں نے معنی خیز لہجے میں کہا تھا۔
’’کیوں داور! ان دونوں دوستوں کو ایک ساتھ رخصت نہ کر دیں؟‘‘
’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔ فصیحہ سے بات کرتے ہیں۔ اگر اس کے پاس کوئی ڈھنگ کا پروپوزل نہ ہوا تو ہم خود اپنی بیٹی کے لئے حماد جیسا ہی کوئی سپریئر بندہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ انکل مسکرا کر کہتے ہوئے اُٹھ گئے تھے۔
’’شانزے! اس بات کو محض مذاق مت سمجھنا۔۔۔۔۔۔ میں واقعی سنجیدہ ہوں۔ اور اگر اس سلسلے میں تمہارا اپنا کوئی انتخاب ہو تو تم بلا جھجک مجھ سے کہہ سکتی ہو۔‘‘ ان کی بات سن کر میں نے بہت اطمینان سے فریش اورنج جوس ختم کر کے کہا تھا۔
’’پھپھو!۔۔۔۔۔۔ شادی کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ یہ تو انسان کی زندگی کا سب سے بڑا جوا ہے۔ جس میں اسے اپنا وجود ہی نہیں، اپنے خواب، خواہشیں، آرزوئیں، تمنائیں بلکہ زندگی تک پیار بھرے مان اور اعتبار کے ساتھ دائو پر لگانی پڑتی ہے۔ اور اگر اس جوئے میں شکست انسان کا مقدر بن جائے نا تو پھر وہ زندہ نہیں رہتا، صرف سانس لیتا ہے۔۔۔۔۔۔ جیسے پاپا نے اپنی زندگی کے چوبیس سال صرف سانس لیتے ہوئے گزارے تھے۔ اور پھپھوچ مجھ میں تو اتنی ہمت بھی نہیں کہ یہ جوا کھیلنے کے لئے کسی فرد پر اعتبار کرسکوں۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ اس بات کو سنجیدگی کی بجائے محض مذاق ہی رہنے دیں۔‘‘
میں بہت نارمل انداز میں کہہ کر، کرسی دھکیل کر اُٹھ گئی تھی اور میرے کمرے میں داخل ہونے تک پھپھو کی پُرسوچ، متفکر نظریں میرا تعاقب کرتی رہی تھیں۔
///
’’شانزے ڈیئر!۔۔۔۔۔۔ یہ تم ہی ہو نا؟‘‘ ریسیور اٹھا کر ہیلو کہتے ہی جو بے تاب سی آشنا آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تھی، اسے سننے کے فوراً بعد مجھے ریسیور رکھ دینے کا خیال ہی آیا تھا۔ مگر دوسری طرف میرے ارادے کو غالباً بھانپ لیا گیا تھا۔
’’پلیز شان! فون بند نہ کرنا۔ پلیز ایک مرتبہ میری بات سن لو۔‘‘ مما کا لہجہ مخصوص تمکنت سے عاری تھا۔ میں ریسیور رکھتے رکھتے ایک لمحے کو ٹھہر سی گئی تھی۔
’’جانو!۔۔۔۔۔۔ تم گھر کیوں نہیں آتیں؟۔۔۔۔۔۔ مجھ سے ملتی کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ کتنے دن ہو گئے، میں نے تمہیں دیکھا تک نہیں، تم سے بات تک نہیں کی شان! مجھے اس طرح سے اذیت مت دو۔‘‘ وہ نڈھال لہجے میں کہہ رہی تھیں۔
’’ہاں۔ اذیت دینے کا حق تو صرف آپ کو ہی حاصل ہے۔‘‘ میں دل کی بات ہونٹوں تک نہیں لائی تھی۔
’’میں کتنی بار لیلیٰ کی طرف آئی ہوں مگر تم نظر ہی نہیں آئیں۔‘‘
’’نظر تو میں آپ کو اس وقت بھی نہیں آتی تھی، جب میں آپ کے چاروں طرف موجود ہوتی تھی۔
’’کہاں ہوتی ہو آج کل؟۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی تو تم جاتی نہیں ہو اور۔۔۔۔۔ اور تم گھر بھی نہیں آتیں۔ شانزے پلیز گھر لوٹ آئو نا۔‘‘ انہوں نے جیسے التجا کی تھی۔
’’ہاسپٹل میں تم نے جس طرح مجھ سے بی ہیو کیا تھا، میں سب کی نظروں میں ذلیل ہو کر رہ گئی تھی۔ رہی سہی کسر تم اب پوری کر رہی ہو۔ ہر آنے جانے والا مجھ سے تمہارے متعلق پوچھتا ہے۔ آخر تم کب آئو گی؟۔۔۔۔۔ شانزے! اگر تم کہو تو میں خود تمہیں لینے آ جاتی ہوں۔ مگر پلیز ایسے مت کرو۔‘‘
’’اوہ۔۔۔۔۔۔ تو لوگوں کا خوف آپ کو میری طرف پلٹنے پر مجبور کر رہا ہے۔‘‘
’’ہیلو۔۔۔۔۔۔ شانزے! تم سن رہی ہو نا؟۔۔۔۔۔۔ دیکھو صرف ایک بار مجھ سے مل لو۔ میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھے ایک موقع تو دو۔۔۔۔۔۔ آخر میں تمہاری ماں ہوں شانزے!‘‘ نہ جانے کیوں مجھے ان کی آواز میں آنسوئوں کی نمی سی محسوس ہوئی تھی۔
’اور یہ آخری بات ہی تو مجھے مار ڈالتی ہے۔۔۔۔۔۔ کہ آپ میری ماں ہیں۔‘
’’ہیلو۔۔۔۔۔۔ شان! تم بول کیوں نہیں رہیں؟ میری بات تو سن رہی ہو نا؟۔۔۔۔۔ ہیلو! ہیلو!‘‘ وہ پکارتے ہوئے بار بار کریڈل دبانے لگی تھیں اور میں نے چپکے سے ریسیور رکھ دیا تھا اور بالکل غیر ارادی طور پر میری آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے تھے۔
///
آسمان کو اپنی آغوش میں لیتے طویل قامت درخت نہر کے پانیوں پر جیسے جھکے آ رہے تھے۔ نیم خوابیدہ سبز پانی اس وقت گہرے سکوت کی زد میں تھا۔ نم آلود، خنک سرسراتی ہوئی ہوا سبز پتوں کے سنگ اٹکھیلیاں کر رہی تھی۔
ماحول پر ایک عجیب خواب ناک سی دُھند چھائی ہوئی تھی۔ درختوں کی اوٹ سے جھانکتے سورج کی سنہری کرنیں عالم مدہوشی میں اس آبی فرش پر محوِ رقص تھیں۔ سفید پرندے ڈار کی صورت نہر کے کنارے پر اُترے تھے اور اس سنہری پانی میں ڈبکی لگا کر دوسری سمت پرواز کر گئے تھے۔ میں نہر کے کنارے پر ایک درخت کے مضبوط تنے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور بے خیالی میں ہی اپنے آس پاس لگی گھاس کو نوچ رہی تھی۔ تبھی عقب میں گاڑی رُکنے کی آواز نے مجھے چونکا دیا تھا اور گاڑی سے اُترتے شخص کو دیکھ کر میں اپنی بے تحاشا حیرت پر قابو نہ پا سکی تھی۔
’کمال ہے۔۔۔۔۔ یہ شخص ہر اس جگہ یا تو پہلے ہی موجود ہوتا ہے، یا بعد میں آن وارد ہوتا ہے جہاں میری موجودگی کے قوی امکان ہوں۔ اور اس کے باوجود یہ جاسوسی فلموں کا ہیرو بننے سے انکاری ہے۔‘
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس طرف آیا تھا اور میرے عین سامنے پنجوں کے بل بیٹھ گیا تھا، اپنی سیاہ چمک دار آنکھیں میرے چہرے پر ٹکا کے۔ میں منتظر ہی رہی کہ وہ کچھ کہے گا مگر وہ ہونٹ بھینچے گہری نگاہوں سے میرے چہرے کو کھوج رہا تھا اور حقیقتاً میں اپنی تمام تر بولڈ نیس کے باوجود اس کی پُرتپش نگاہوں سے گڑبڑا کر رہ گئی تھی۔
’’کیوں تنگ کرتی ہو شانزے!‘‘ بات کرنے کے باوجود انداز جوں کا توں تھا۔
’’واٹ؟۔۔۔۔۔۔ میں تنگ کر رہی ہوں یا۔۔۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’آخر تم کیوں اس طرح سے چھپتی پھر رہی ہو، جیسے مجرم کوئی اور نہیں، تم ہو۔‘‘
اس کے کہنے پر ہی میں اس کی بات کا مفہوم مجھ پائی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی میں نے پھپھو کے گھر مما کو داخل ہوتے دیکھا تو میں چپکے سے عقبی دروازے سے باہر نکل آئی تھی۔ میں جانتی تھی، مما اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے میرے سامنے ملتجی انداز اختیار کریں گی۔ اور میں ان کے سامنے کسی طور نرم نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ اسی لئے ان کا سامنا کرنے سے گریزاں تھی۔ میرے اور ان کے درمیان جو خلیج حائل ہو چکی تھی، اسے پاٹنا کم از کم میرے لئے ممکن نہیں رہا تھا۔ تو پھر ان کا سامنا کر کے دوسروں کو خود پر ہنسنے کا موقع کیوں دیتی؟
’’اب کچھ بول کیوں نہیں رہیں؟‘‘ وہ استفسار کر رہا تھا۔
’’کیوں بولوں؟‘‘ میں نیاپنے سامنے کی گھاس نوچنی شروع کر دی تھی۔
’’یہی کہ اس طرح کب تک چلے گا؟ وہ تمہاری ماں ہیں شانزے! تم ان سے اس طرح لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتی ہو۔‘‘ اس نے مجھے کسی حقیقت سے آشنا کرانا چاہا تھا۔
’’واٹ ڈو یو مین ولید احتشام؟ تمہارا خیال ہے کہ میں آنکھیں بند کر کے ان کے سینے سے جا لگوں اور کہوں کہ ڈیئر مام! آج سے میرے اور آپ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے بگڑ کر کہا تھا۔
’’میں نے یہ کب کہا؟‘‘ اس کا اطمینان قابل دید تھا۔
’’تو پھر ایف آئی آر درج کروائوں ان کے خلاف؟ عدالت میں گھسیٹ لوں انہیں؟۔۔۔۔۔۔ پھانسی کے تختے پر لے جائوں انہیں یا پھر چیخ چیخ کر ساری دنیا کو بتائوں کہ میری ماں قاتل ہے۔۔۔۔۔۔ یا پھر اپنی ہی جان پر کھیل جائوں۔‘‘ میں سخت غصے میں آ کر پھٹ پڑی تھی۔
’’پلیز کول ڈائون شانزے! میں نے تمہیں ایسا کچھ بھی کرنے کو نہیں کہا۔‘‘ اطمینان ہنوز اس کے انداز پر غالب تھا۔
’’تو پھر ان سارے حالات سے فرار حاصل نہیں کروں تو پھر کیا کروں؟‘‘ اس نے پلکیں جھپک جھپک کر آنسو روکنے کی کوشش کی۔
’’تم۔۔۔۔۔۔ تم اپنے سارے دکھ مجھے دے دو۔‘‘ اس نے اعتماد سے کہہ کر مجھے ہر بات بھلا دی تھی اور میں ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھے گئی تھی۔
’’میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوںشانزے! تم اپنے سارے دکھ مجھے دے دو۔ میں اس کے بدلے تمہیں ہر وہ خوشی دوں گا، جس پر میرا ذرا سا بھی اختیار ہوا۔ دیکھو شانزے ایمان حسن! یہ جو شاہراہِ حیات ہے نا، اس پر انسان اپنی مرضی سے سفر کا آغاز نہیں کرتا اور نہ سفر کا اختتام اس کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔ اسے تو بس ایک ان دیکھی ڈور ہے جو ان راستوں پر چلا رہی ہے۔ اور اسے اس شاہراہ کے ہر اجنبی موڑ، اجنبی راستے پر اعتبار کرنا ہے اور کٹھن راستے پر سفر کرنے کے لئے ہر مسافر کو ایک ہم سفر کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اور تم بھی یہ سفر تنہا نہیں کاٹ سکو گی۔ تمہیں کسی نہ کسی فرد پر اعتبار کرنا ہو گا تاکہ جبتم تھک جائو تو وہ تمہاری تھکن سمیٹ سکے۔ اندھیرے تم پر غالب آنے لگیں تو وہ جگنو بن کر تمہارے ساتھ سفر کر کے۔ اس سفر کی صعوبتیں تمہارے پیروں پر آبلوں کی صورت ظاہر ہوں تو اس کا محبت بھرا لمس تمہیں اذیت سے نجات دلا دے۔ اور ایسے کسی ہم سفر کی تلاش تمہیں باہر نہیں، اپنے دل کے اندر کرنی ہو گی جو اپنے فیصلوں پر آپ مختار ہے۔ جو اَن دیکھے، اَن جانے جذبوں کو محسوس کرنے پر قادر ہے۔
’’مجھے نہیں معلوم شانزے!میں تم سے محبت کرتا ہوں یا عشق مگر میرے دل میں تمہارے لئے جو جذبہ ہے، وہ مجھے تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھنے نہیں دیتا۔ میں اپنے اس جذبے کو ایک ہزار ایک تشبیہات دے سکتا ہوں مگر دوں گا نہیں۔ میں محبت بھرے ڈائیلاگز بھی بول سکتا ہوں مگر اس وقت کچھ کہوں گا نہیں۔ کیونکہ اس کا مطلب یہی ہو گا کہ میں تمہیں اپنے حق میں کنوینس کرنا چاہتا ہوں۔ اس لئے میں تمہیں صرف ایک آپشن دے کر جا رہا ہوں، اپنی صورت میں۔ تم میرے بجائے کسی اور کو یہ اعتبار بخشو گی تو بھی مجھے اس بات کی خوشی ضرور ہو گی کہ راہِ حیات میں تم تنہا نہیں ہو گی۔‘‘
دھیرے دھیرے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اس نے میری کھلی ساکت آنکھوں میں جھانکا تھا اور پھر کوئی رسپانس نہ پا کر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’میں منتظر رہوں گا شانزے! کیونکہ دسمبر کے آخری ہفتے میں پیرس جا رہا ہوں۔ اور اگر تم اس وقت تک کوئی فیصلہ نہ کر پائو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ راہِ حیات پر میں تمہارا انتظار بہت دُور تک کر سکتا ہوں۔‘‘
وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے پلٹ گیا تھا۔ اس کے قدموں کی دھمک سے کتنے ہی چھوٹے بڑے کنکر نہر کے ساکت پانیوں میں گر کر ارتعاش پیدا کر گئے تھے۔ سبز کاہی پانی میں کتنے ہی دائرے بنتے چلے گئے تھے اور میں اپنی جگہ ساکت بیٹھی ان دائروں کو دیکھ رہی تھی۔ ولید احتشام ایسا ہی ارتعاش میرے دل میں پھیلا گیا تھا اور اب ایسے ہی دائرے میرے وجود میں وسعت اختیار کرتے جا رہے تھے۔
///
’’کون غلط ہے، کون درست۔۔۔۔۔ اس کا فیصلہ تمہارا دل کرے گا۔ آج یا کل کا انتظار کئے بغیر۔ ہم سفر کی تلاش تمہیں باہر نہیں، اپنے دل کے اندر کرنی ہو گی۔۔۔۔۔۔ جو اپنے فیصلوں پر آپ مختار ہے۔ جو اَن دیکھے، اَن جانے جذبوں کو محسوس کرنے پر قادر ہے۔‘‘
کتنا درست کہا تھا اس نے۔ یہ دل وہی تھا، جو ارادہ کئے بیٹھا تھا کہ اب کسی پر اعتبار نہیں کرے گا اور اب جو فیصلہ کیا تھا تو ایک پل بھی نہیں لگا تھا۔
یا شاید فیصلے کی بھی کوئی گھڑی کاتب تقدیر نے لکھ چھوڑی ہے اور پنڈولم کی طرح ’’ہاں‘‘ ی ’’ناں‘‘ کے درمیان ڈولتا ہوا انسان اس گھڑی پر ایک لمحے کے لئے ساکت ہو جاتا ہے اور یہ دل اپنا فیصلہ سنا کر تقدیر کے لکھے پر تصدیق کی مہر ثبت کر دیتا ہے اور اپنے دل کی آواز سن کر میں نے بھی یہ ہی سوچا تھا۔
’شاید اسے بھی عادت ہو گئی ہے دھوکا کھانے کی اور دھوکا کھانے سے پہلے اعتبار کرنا لازم ہے۔ سو یہ دل اعتبار کر رہا ہے۔‘
رات کے دوسرے پہر دل نے یہ مژدہ سنایا تھا اور میں نے اسی لمحے ریسیور اٹھا کر ولید احتشام کے نمبر ڈائل کر دیئے تھے۔ دوسری جانب ایک ڈیڑھ منٹ کے بعد ریسیور اٹھا لیا گیا تھا۔
’’ہیلو۔‘‘ نیند میں ڈوبی خمار آلود آواز سنائی دی تھی اور اس آواز کے پیچھے رات کا محسوس کیا جانے والا سناٹا تھا۔
’’ہیلو۔۔۔۔۔ ہو اِز دِس؟‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد استفسار کیا گیا تھا۔
’’سنو ولید احتشام!۔۔۔۔۔ پیرس جانے کے لئے ایک کی بجائے دو ٹکٹ لے لینا۔ نیکسٹ وِیک میں بھی تمہارے ساتھ جا رہی ہوں۔‘‘ میں نے آہستگی سے کہا تھا۔ دوسری جانب ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی تھی جس سے استفادہ کرتے ہوئے میں نے ریسیور رکھ دیا تھا۔
اور پھر چند روز بعد میرون اور فان کلر کے لہنگے میں قد آدم آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے میں نے ونیزہ کو بتایا تھا کہ اب سے کچھ دیر پہلے میں شانزے ایمان سے شانزے ولید ہو گئی ہوں تو کچھ دیر سکتے میں رہنے کے بعد وہ اس زور سے چیخی تھی کہ مجھے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے تھے اور پھر بے حد ناراض ہوتے ہوئے اس نے روہانسے لہجے میں کہا تھا۔
’’تم میرا انتظار نہیں کر سکتیں تھیں؟ آخر میں یہاں مرنے تو نہیں آئی تھی۔ واپس آ ہی جاتی کچھ عرصے بعد۔‘‘
’’نہیں ونیزہ! اب حالات سے فرار ہونا میرے لئے ممکن نہیں رہا تھا۔ اور پھر ولید تقریباً دو سال کے کنٹریکٹ پر پیرس جا رہے ہیں اور مجھے لگا تھا کہ اگر یہ وقت میرے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر تمام عمر میں کسی پر اعتبار نہ کر پائوں گی۔‘‘
اور ونیزہ کو سمجھانے کے لئے لمبے چوڑے دلائل کی ضرورت تو نہ تھی۔ اسی لئے کچھ دیر بعد وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بولی۔
’’اچھا یہ بتائو، کوئی ڈھنگ کا سوٹ بھی بنوا لیا تھا یا جینز اور جیکٹ میں ہی نکاح پڑھ لیا تھا؟‘‘
تب میں آئینے میں دیکھ کر اسے اپنے متعلق تفصیل سے بتانے لگی۔ اور مزید کچھ باتیں کرنے کے بعد وہ ایک دم چونکی تھی۔
’’ارے ہاں شانزے! میں نے سنا تھا کہ وہ جمشید آفندی۔۔۔۔۔۔‘‘کلک کی آواز کے ساتھ ہی رابطہ کٹ گیا تھا اور میں نے حیرت سے اپنے کریڈل پہ رکھے ہاتھ کو دیکھا تھا۔
’کیسا بے نام رشتہ ہے میرا تمہارے ساتھ جمشید آفندی! کہ حقیقت ہونے کے باوجود میں تمہارے بارے میں کچھ غلط نہیں سن سکتی۔‘
کچھ سوچتے ہوئے میں نے عاصم کا پرسنل نمبر پریس کیا تھا۔ دوسری طر ف سے کوئی نسوانی آواز اُبھری تھی، جسے سن کر میں چونک گئی تھی۔ اور پھر اس آواز کو پہچان کر میں اُچھل ہی تو پڑی تھی۔
’’شہزینہ۔‘‘
’’ارے۔۔۔۔۔ شانزے!۔۔۔۔۔۔ ہاں بھئی، یہ میں ہی ہوں۔ لیکن اب مسز عاصم ہوں‘‘ اس کا لہجہ کچھ پا لینے کی خوشی سے سرشار تھا۔ شہزینہ کو ڈھیر ساری مبارکباد دینے کے بعد میں نے عاصم سے بات کی تو گفتگو کے اختتام پر میں نے کہا تھا۔
’’سنو! کبھی اس شخص کا سامنا ہو تو میری جانب سے اسے کہنا۔۔۔۔۔۔ سبز آنکھوں کی جوت مدھم نہ ہونے پائے۔ کچھ عرصے بعد ہم سب دوبارہ ایک جگہ اکٹھے ہوں گے۔ دارالاطفال میں ایک بار پھر بہار اُترے گی۔ اسے کہنا ہم سب اس کی واپسی کے منتظر ہیں۔‘‘ میری آواز میں نمی گھلنے لگی تھی اور میں نے فون بند کر دیا تھا۔
///
’’دیکھ لو شانزے گڑیا! میں نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ حماد حسن سے زیادہ جینئس، ڈیشنگ اور سپیریئر بندہ ڈھونڈا ہے تمہارے لئے۔‘‘
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر داور انکل نے مسکراتے ہوئے کہا تو میں بے اختیار گرے سوٹ میں ملبوس ولید کو دیکھنے لگی تھی جو حماد سے محوِ گفتگو تھا۔
’’ونیزہ واپس آئے گی تو جلد ہی اس کی بھی شادی ہو جائے گی۔ ہم لوگ تو بالکل اکیلے رہ جائیں گے شانزے!‘‘ پھپھو بار بار آنسو بہا رہی تھیں۔
’’پھپھو! ونیزہ تو اپنے ہی شہر میں رہے گی، آپ کو تنہائی کا زیادہ احساس نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے ان کا ہاتھ تھام کر انہیں تسلی دی۔
’’ہاں مگر تمہیں دیکھ کر ایمان حسن سے دُوری کا احساس کم ہو جاتا تھا۔ دل کو ڈھارس مل جاتی تھی کہ بھائی کی نشانی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔‘‘
’’کم آن لیلیٰ! کیوں بچوں کو اُداس کر رہی ہو؟ بھئی دو سال کی تو بات ہے، چٹکی بجاتے ہی گزر جائیں گے۔‘‘ داور انکل نے انہیں ٹوک دیا تھا۔
’’بھئی اب ذرا جلدی کریں۔ میرا خیال ہے، انائونسمنٹ ہو رہی ہے۔‘‘ حماد بھائی نے نزدیک آتے ہوئے کہا۔
’’اوکے شانزے بیٹا!۔۔۔۔۔ وِش یو آل دا بیسٹ۔‘‘ احتشام انکل نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پیشانی پر پیار کیا تو ان کے وجودسے ویسی ہی خوشبو مجھے محصور کرنے لگی تھی، جیسی پاپا کے وجودسے پھوٹتی تھی۔
’اور اگر آج پاپا یہاں ہوتے تو۔۔۔۔۔۔‘ میں نے تصور ہی تصور میں خود کو پاپا سے ملتے ہوئے دیکھا تھا اور چپکے سے اپنی پلکوں پہ اٹکے آنسوئوں کو پونچھ لیا تھا۔
’’ہری اپ شانزے!‘‘ ولید احتشام کی آواز اس لمحے مجھے سہارا محسوس ہوئی تھی۔ احتشام انکل سے جدا ہوتے ہوئے میری نظریں یونہی بھٹک کر کچھ دُور جا ٹھہری تھیں۔ وہ سر جھکائے کھڑی تھیں۔ نچلا ہونٹ دانتوں سے مسلسل کچلتی ہوئی وہ بہت بے بس لگ رہی تھیں۔ لرزتی کانپتی اُنگلیاں ایک دوسرے میں سختی سے پیوست تھیں۔ پلکیں جھپک جھپک کر وہ آنسوئوں کو روکنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ ہلکے ہلکے ایک اپ کے باوجود ان کے چہرے کی زردی اور پژمردگی میری نظروں سے اوجھل نہ رہ سکی تھی۔ میں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔ شاید ان میں ہمت نہ تھی کہ وہ آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا سکتیں۔ یا شاید انہیں ڈر تھا کہ ہمیشہ کی طرح ایک مربہ پھر انہیں دھتکار دوں گی۔
’’بھئی فصیحہ! کیوں دل چھوٹا کر رہی ہو؟ بیلیو می، یہ ولید احتشام اپنے باپ سے بھی زیادہ لوِنگ اور کیئرنگ ہے۔ یہ ہماری بیٹی کو ہتھیلی کا چھالہ بنا کر رکھے گا۔‘‘
احتشام انکل نے انہیں دونوں کاندھوں سے تھام کر شگفتگی سے کہا تھا۔ اور شاید ان کا سہارا پا کر ہی انہوں نے پلکیں اٹھا کر مجھے دیکھا تھا۔ آنسوئوں سے لبریز آنکھیں ایک دم چھلک گئی تھیں۔ اور ان کا چہرہ بھیگتا چلا گیا تھا۔ میں اپنی جگہ ساکت ہو کر رہ گئی تھی۔ ان کے بہتے آنسوئوں میں وہ سب کچھ موجود تھا، جسے میں ہمیشہ ان کے چہرے پر کھوجتی رہی تھی۔
دکھ کا احساس۔
پچھتاوے کے آنسو۔
احساسِ جرم۔
احساسِ زیاں۔
احساسِ ندامت۔
احساسِ محرومی۔
وہ تو جیسے تہی داماں کھڑی تھیں۔ اور اس لمحے مجھے احساس ہوا تھا کہ وہ میرے سامنے نہیں کھڑیں بلکہ وہ تو اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی ہیں۔
’اور میں آپ کو کسی عدالت میں کیسے پیش کرتی مما! کہ میرے پاس کوئی گواہ تھا، نہ کوئی ثبوت، نہ کوئی عینی شاہد۔ آپ کو تو خود ہی چل کر اپنے ضمیر کے کٹہرے میں پیش ہونا تھا۔ جہاں آپ ہی وکیل ہیں، آپ ہی مجرم۔ عینی شاہد بھی آپ خود ہیں اور جرم کا سب سے بڑا ثبوت بھی۔ اور یہ عدالت آپ کو جو سزا سنائے گی، وہ دنیا کی کسی بھی عدالت سے بڑھ کر سخت اور کڑی ہو گی۔ جس کا نہ کوئی وقت ہو گا، نہ معیار۔ آپ کو خود ہی اس آگ میں جل کر راکھ ہونا ہو گا۔ اور کوئی ہاتھ آپ کو بچانے کے لئے آپ کی طرف نہیںبڑھے گا۔
’’چلو شانزے! دیر ہو رہی ہے۔‘‘ ولید نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے چونکایا تھا۔
’’خدا حافظ مما!‘‘ میرے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا تھا۔ ان کے لب ایک لمحے کے لئے تھرتھرائے تھے اور نظریں جھک گئی تھیں۔ میں ولید کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گئی تھی اور ذرا دُور جا کر جب میں نے پلٹ کر دیکھنا چاہا تھا تو ولید نے مجھے ٹوک دیا تھا۔
’’شانزے! جاتے ہوئے ماہ و سال کی طرح خاردار راستے بھی اختتام پذیر ہو چکے ہیں۔ اب مڑ کر دیکھنے کی بجائے سامنے دیکھو۔ سالِ نو کے اوّلین سورج کی کرنوں کو دیکھو۔ وہاں دیکھو جہاں پھول ہیں، رنگ ہیں اور خوشیاں میرے اور تمہارے استقبال میں ڈیرے ڈالے بیٹھی ہیں۔ جہاں بہاریں رقص میں ہیں اور جہاں مسکراہٹیں میری اور تمہاری منتظر ہیں۔‘‘ اس نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے میری اُداسی کو دور کرنا چاہا تو میں بے اختیار مسکرا دی تھی۔
’’اور یہ شخص۔۔۔۔۔۔ جس کی محبت کے خالص پن کا سب سے بڑا گواہ میرا دل ہے اور جس کی محبت کی مہک ایسی ہی مسحور کن ہے جیسے کچی مٹی پر بارش کی پہلی پھوار پڑھے تو اس کی سوندھی سوندھی مہک انسان کو مدہوش کر ڈالے۔ اور اگر میں نے اس شخص پر اعتبار کیا ہے تو یہ فیصلہ کچھ غلط تو نہیں۔‘
میں نے ایمانداری سے اعتراف کیا اور اس شخص کے سنگ ہو لی تھی، جس کے بارے میں مجھے یقین تھا کہ وہ میری ساری تھکن سمیٹ لے گا۔ اور جب اندھیرے مجھ پر غالب آنے لگے گی تو وہ جگنو بن کر میرے ساتھ سفر کرے گا۔

///

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close