NaeyUfaq Feb-18

خواب

یاسین صدیق

خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تووہ جو دوران نیند دیکھے جاتے ہیں۔ دو سرے کھلی آنکھو ں سے آنکھوں میں سجائے جاتے ہیں۔ نیند کے دوران دیکھے جانے والے خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کے ٹوٹ جانے کا انسان کو دکھ نہیں ہو تا ۔مگر جو خواب انسان بیداری کی حالت میں دیکھتا ہے یا اپنی آنکھوں میں سجاتا ہے۔ وہ ٹوٹ جائیں تو بہت دکھ ہوتا ہے ۔ اتنا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری زندگی تلف ہو گی ہو۔ میںنے بھی بہت سے خواب آ نکھوں میں سجائے تھے۔ ان میں سے ایک خواب تھا ! کلثوم کو اپنا شریک حیات بنانے کا ۔
دبلی پتلی ،لمبے قد ،کتابی چہرہ، گلابی رنگ ،غزالی آنکھیں،چاندی کے دانت ،سونے کابدن رکھنے والی کلثوم کو اپنا بنانے کا خواب ۔ میں نے زندگی میں اس سے پہلے کوئی خواب اتنی شدت سے نہ دیکھا تھا۔ اس سے پہلے اس طرح کوئی آنکھوں کو جچا ہی نہ تھا ۔دل میں سمایا ہی نہیں تھا۔کچھ عمر بھی ایسی ہی تھی ۔ اٹھتی جوانی یہ ہی کوئی سترہ برس تو ہوگی۔ دسویں جماعت کا طالب علم تھا ، شوخ چنچل ، آزاد ، کو ئی غم ہی نہیںتھا ، اب سوچتا ہوں کتنی اچھی تھی وہ زندگی۔ خواب سی لگتی ہے۔ایسے دن بھی تھے کبھی زندگی میں صبح اٹھے، نماز پڑھنے چلے گئے ، ان دنوں مجھے یوگا کی مشقیں کر نے کا جنون تھا۔آلتی پالتی مار کر شمال رخ منہ کر کے تنفس کی مشقیں کرنا، میں نے یوگا کے موضوع پر ڈھیروں کتابیں خریدی تھیں اور ان پر عمل بھی کیا کرتا تھا، شایدمیرے ہر وقت خوش رہنے کا،نکھرے نکھرے چہرے کا سبب یہی ہو ، میں اسکول جاتا ، لائبریری سے کتابیں پڑھتا اور بس یہی میرے مشغلے تھے، کوئی خواب نہ تھا۔کوئی پریشانی نہ تھی ۔کوئی دکھ نہیں تھا ۔کوئی چاہت نا تھی ۔کوئی منزل نہ تھی۔
پھر وہ دن آیا۔ کاش وہ دن نہ آیا ہوتا،ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ایسے دن آ ہی جاتے ہیں ۔کاش ایسا نہ ہوا ہوتا تو آج زندگی یکسر مختلف ہوتی ۔ وہ ایک عام سا دن تھا۔ دوسرے دنوں کی طرح سورج طلوع ہواتھا۔ میں اسکول سے واپس گھر آیا تو پتہ چلا کہ ہمارے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں۔ میرے خالوصفدر علی ان کی زوجہ عائشہ بی بی ایک بیٹاابو بکر جو میرا ہم عمر تھا کلاس فیلو بھی تھا۔کہتے تھے کہ ابوبکر جب پیدا ہوا تو بہت بیمار تھا بڑے تعویز دھاگوں سے جا کر بچا تھا اورایک تھی کلثوم۔ یہی کوئی سولہ برس کی ہوگی۔ اس نے فراک پہنی ہوئی تھی ۔اس فراک پر سفید اورسرخ رنگ کے پھول تھے، وہ خود بھی پھول ہی تھی ۔ وہ میرے بھائی کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو چُپ ہوگی ، میںتو بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔
اسے سلام کرنا بھی یاد نہ رہا تھا۔جب اسے خیال آیا تو وہ بو کھلائی ہوئی اٹھی اور مجھے سلام کیا، میری تو زبان ہی نے میرا ساتھ نہ دیا ۔
بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔اس نے دوبارہ سلام کیا تو مجھے ہوش آیا تھا ۔ میں نے جلدی جلدی اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر مجھ سے وہاں کھڑا نہ ہوا گیا۔ میرا دل گھبرا رہا تھا ۔ مجھے پیاس لگی ہوئی تھی۔ نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا۔ خالونے مجھے اپنے سینے سے لگایا تو کچھ سکون محسوس ہواخالو کہتے رہے۔
’’ واہ بھی واہ ۔ خرم تو گھبرو ہو گیا ہے تین سالوں میں بڑا قد نکالا ہے ۔‘‘
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔
’’ کس کلاس میں ہو‘‘ انہوں نے مجھے خود سے الگ کرتے ہوئے پوچھا۔میں نے دسویں کلاس بتائی ۔
انہوں نے میری پیٹھ تھپکی اور کہا ’’شاباش تم خاندان کا نام روشن کرو گئے۔‘‘
خالو صفدر ایسے ہی تھے زندہ دل ،ہنس مکھ ۔انہوں نے چھوڑا تو خالہ عائشہ نے میری بلائیں لیں،ماتھا چوما۔ ابو بکر تو میرا ہاتھ پکڑے بیٹھ گیا ، اور اپنے گا ؤں سلطان آباد اور شہر فیصل آباد کے قصے سناتا رہا۔ میں ہوں ، ہاں کرتا رہا اور کلثوم کو دیکھتا رہا۔ وہ گھر میں اڑتی پھرتی تھی ، کسی گڑیا کی طرح دل چایا اسے ایک جگہ کھڑی کردوں اور بس دیکھتا رہوں۔
میرے تایا کی بیٹی رقیہ کی شادی تھی اور ابھی چار دن باقی تھا ۔ابو بکر کی منگنی میری تایا زاد بشری سے ہو ئی تھی ۔یعنی ابو بکر اپنے ہونے والے سسرال جا رہا تھا ۔ہم اس وجہ سے اسے مذاق کا نشانہ بناتے رہے ۔ ہمارا گھر پہلے آتا تھا اس لیے وہ پہلے ہمارے ہا ں آ گئے تھے ۔ ابا جان کی تایا جان سے کچھ ناراضی تھی۔ اس لیے ہم نے شادی میں شرکت تو کرنا تھی ۔مگر شادی کے دن صبح جانا تھا اور شام کو آ جانا تھا۔میں نے سوچا کاش تایا جان سے ابا جان کی لڑائی نہ ہوئی ہوتی تو ہم بھی چار دن پہلے چلے جاتے ۔مگر یہ تو صرف سوچا جا سکتا تھا۔ ایسا ممکن نہ تھا۔
رات ہو ئی تو ، ابا جان خالو اور خالہ جان تو بیٹھ کر خاندان بھر کی باتیں کرنے لگے کہ خاندان نے فلاں شادی پر فلاں بات کی تھی ، اسے نہیں کرنا چاہیے تھی ، ابا جان تایا جان کی اب تک تمام خامیاں نکال رہے تھے اور خالو جان چاہتے تھے کہ ابا جان اور تایا جان کی صلح ہو جائے ۔یہ موقع بہت اچھا ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔
جنوری کی سر در اتیں تھیں ۔ کمرے میں الاو دہک رہا تھا۔ سب چار پائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ میرے دونوں بھائی حمید اور سعید کب کے بیٹھک میں سو گئے تھے میری بہن رابعہ اور کلثوم بیٹھی ہو ئی بزرگوں کی باتیں سن رہی تھیں ۔ عورتوں کو دوسروں کے متعلق جاننے کا بہت شوق ہو تا ہے۔ وہ دونوں پڑ ے انہماک سے گفتگو سن رہی تھیں۔ جسے ان سے امتحان لیا جانا ہو۔ ابو بکر ایک رسالہ پڑھتے پڑھتے سو گیا تھا ۔
سب سے برا حال میرا تھا۔ میں سب کے منہ تک رہا تھا ، جو بھی بات شروع کرتا تو میں اس کو دیکھنے لگ جاتا ۔اس کی بات ٹوک کر دوسرا بات شروع کرتا تو میں اس کو دیکھنے لگ جاتا ۔اس دوران چپکے سے کبھی کبھی کلثوم کو دیکھ لیتا۔ اسے دیکھ کر دل میں ہلچل سی مچ جاتی ۔ رات آدھی سے زیادہ گزرگی۔آخر اباجان نے ڈانٹ پلائی ۔
’’خرم جاو سو جاو کیا منہ تک رہو سب کے ۔‘‘
میں اٹھ کر بیٹھک میں آگیا ۔ بستر پر لیٹا تو دل چاہا پھر ان کے پاس چلا جاؤں اور کلثوم کو دیکھتا رہوں۔عجیب بے چینی تھی ۔پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہو اتھا۔ میں تو سر شام ہی سو جایا کر تا تھا۔ آج نیند نہیں آ رہی تھی دل گھبرا رہا تھا، میں نے دو تین کروٹیں بدلیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ سونے سے پہلے ورزش معمول تھی آج تو وہ بھی نہیں کی تھی نہ ہی نماز پڑھی تھی۔میں نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگا۔اس کے بعدپھر لیٹ گیا۔ دل کی عجیب حالت تھی۔ایسے جیسے کوئی چیز گم ہو گئی ہو۔کچھ چھن گیا ہو ۔ میں نے خود پر بڑا ضبط کیا مگر سو نہ سکا تو اٹھ کر صحن میں ٹہلنے لگا ۔ کمرے میںابھی تک باتیں کر رہے تھے۔میں ٹہلتا رہا۔خالہ جان کسی کام سے کمرے سے باہر آئیں ،مجھے دیکھاتو پوچھا ۔
’’خرم تم جاگ رہے ہو۔‘‘
مجھے ایسے لگا جیسے کو ئی چوری کر تے ہوئے پکڑا گیا ہوں۔
’’ نہیں ۔نہیں ۔‘‘ پھر اپنے بے تکے جواب کا خیال آیا تو جلدی سے کہا ۔
’’ ہاں نیند نہیں آرہی۔‘‘
خالہ جان ہنس پڑھیں ، جیسے ان کو پتا ہو کہ میں کیو ں جاگ رہا ہوں ۔ مجھے بڑی ندامت ہوئی میں بیٹھک میں آیا اور رضائی اوپر تان لی۔ دل بھرا بھرا تھا ، ایسے سوچتے ہوئے ، سو نے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے رات گزر تی رہی ، اس رات میں نے سونے سے پہلے جاگتی آنکھوں سے زندگی کا پہلا خواب آنکھوں میں سجایا تھا۔ کلثوم کو اپنا بنانے کا خواب۔اورپھر علم نہیں کب نیند آ گی تھی ۔
…ژ…ژ…
دوسرے دن صبح صبح ناشتے کے بعد ابوبکر وغیرہ تایا جان کے گھر تانگے پر بیٹھ کر چلے گئے اور میں اسکول ۔دو دن بعد جمعتہ المبارک تھا۔ان دنوں جمعۃ المبارک کو چھٹی ہوا کرتی تھی ۔ تایا جان ہم سے تین چار کلو میڑ دورایک ڈیرہ میں رہتے تھے۔ یہ ساہیوال کے نزد یک ہی ایک گاؤں تھا۔ مگر اس سے پہلے ہمارا گاؤں آتا تھا۔ ہمارا گاؤں نام کا ہی گاؤں تھا۔ وہ تو اب شہر کا حصہ بن چکا تھا ۔ان دودونوں میں نے بہت سے خواب دیکھے تھے کہ کلثوم ملی تو اسے یہ کہوں گا کہ تم بہت خوبصو رت ہو، دل کش ہو ،مجھے تم سے پیار ہے، میں نے سوچا تھا کہ اسے ایک شعر بھی سناؤں گا۔
اجازت ہو تو لکھ لوں تیرا نام
ورق میرے دل کا سادہ ہے اب تک
میں نے تصور ہی تصور میں اس سے ڈھیروں باتیں کیں ، وہ میر ے سامنے کھڑی شرما رہی ہے۔ میری باتوں پر ہنس رہی ہے ۔ایسے ہی دو دن گزر گے ۔جمعتہ المبارک کے دن میں نے سوچا مجھے ڈیرہ پر جانا چاہیے ۔میں نے امی جان سے اجازت مانگی۔
تو انہوں نے کہا ۔’’چلے جاو لیکن اپنے ابو سے پوچھ لو۔‘‘ میں نے عرض کی ۔’’آپ ہی پوچھ دیں ۔‘‘
ابا جان ابھی کمرے میں ہی تھے ۔جب میں نے سائیکل صحن میں نکال کر اس کی صفائی شروع کر دی ۔امی جان ابو کے کمرے میں داخل ہوئیں تو میرا جسم کان بن گئے ۔امی نے ابا جان کوبتایا کہ ’’خرم ڈیرہ پرجا رہا ہے ۔‘‘
میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔اگر ابا جان نے انکار کر دیا تو۔۔۔ آگے مجھ سے سوچا نہ گیا ۔میں بے توجہی سے ہاتھ چلاتے ہوئے امی ابو کی باتیں توجہ سے سننے لگا ۔ ابا جان کی آواز آئی ۔’’جانے دو ۔‘‘میرا دل خوشی سے بلیوں اچھل پڑا۔وہ ایک لمحہ رکے پھر کہنے لگے ۔’’بچوں کو روکنے کا کیا فائدہ ۔‘‘
میں نے جلدی جلدی کپڑے بدلے ، سائیکل تھوڑی دیر بعد ہواؤں سے باتیں کر رہا تھا ۔تایا جان کی گلی میں آ کر جب ان کا گھر چند قدم کے فاصلے پر تھا میرے پاؤں من من بھر کے ہو گئے ۔میں نے خود کو حوصلہ دیا اور ان کے گھر قدم رکھ دیا ۔شادی میں ابھی دودن باقی تھے۔ مگر ایسے لگتا تھا جیسے آج ہی شادی ہو ۔ گھر بھرا ہوا تھا تایا جان گھر میں نہیں تھے ۔باقی سب ملے اور انہوں نے خوب آؤ بھگت کی۔تایا زاد بھائی کفیل ،علیم عرف عالی اور ابو بکر تو خوشی سے نہال ہو گے ۔تھوڑی دیر بعد میں نے ان سے کہا’’ابھی تائی سے مل کر آیا ۔‘‘
تائی نے تو مجھے اپنے پاس ہی بیٹھالیا ۔خاندان کی کافی عورتیں وہاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔مجھے دیکھ کر سب ابا جان اور تایا جا ن کے متعلق باتیں کر نے لگیں۔میں بور ہوتا رہا ۔ عورتوں کے پاس شایدباتیں کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ مجھے الجھن ہو رہی تھی۔ ابھی تک کلثوم نظر نہیں آئی تھی۔ میرا دل چاہا خالہ عائشہ سے پوچھ لوں مگر پھر خود ہی ارادہ ملتوی کر دیا۔خدا خدا کر کے وہاں سے جان چھوٹی۔ میں کافی دیر میں ادھر اُدھر گھومتا رہااور سب سے ہنس ہنس کر باتیں کرتارہا۔تایا جان کے گھر میں چار کمرے تھے ۔تین میں اب تک دیکھ چکا تھا ۔چوتھے میں محلے اور خاندان کی لڑکیاں جمع تھیں اور ان کی ہنسی کی آواز آرہی تھیں ۔ میں نے سوچاوہاں کلثوم ہوگی۔ میری تایا زاد بہن رقیہ کی شادی تھی اور سب لڑکیاں آپی رقیہ کے گرد جمع تھیں ۔میں نے دھڑکتے دل سے کمرے میں قدم رکھ دیا ’’اﷲجی۔کون ہو تم۔‘‘ ایک لڑکی مجھ سے ٹکراتی ٹکراتی بچی اس نے غصے سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
میں نے دل پر ہاتھ اور کلثوم پر نظر رکھتے جواب دیا اسے ۔’’خرم شہزاد‘‘
لڑکیوں کے چہروں پر پھول کھل گے ۔ آپی رقیہ نے اٹھ کر مجھے گلے لگایاابوبکر کی منگیتر بشری اور کلثوم رقیہ کی پشت پر کھڑی تھی ، اس کی آنکھوں میں جگنو چمک رہے تھے ۔دو نقاب پوش لڑکیا ں ’’اونہہ‘‘کہہ کرکمرے سے نکل گئیں۔
میں نے کلثوم سے پوچھا ۔’’کیسی ہو ۔‘‘اس نے کہا ۔’’ٹھیک ہوں۔‘‘
ایک دو لمحے خاموشی کے آئے لڑکیوں نے سمجھا میں نے اب مل لیا ہے اس لیے اس کمرے سے جانا چاہئے لیکن میں ایسے کیسے چلا جاتا ۔میں نے کلثوم کو دیکھا ،وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔
اس نے نظریں جھکا کر پوچھا۔’’اور آ پ کیسے ہیں ۔‘‘۔
میں نے کہا ۔’’خراب ہوں۔‘‘ سب لڑکیاںایک بار پھر کھل کھلا کر ہنس دیں۔ کلثوم شر م سار سی ہو گئی ۔ایک بار پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی ۔اس کا صاف مطلب تھا کہ مجھے اب جانا ہوگا ۔میں ٹھنڈی آہ بھر کر کمرے سے باہرنکل آیا۔برآمدے میں آ کر مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اب کیا کروں ۔صحن میں تائی اور دوسری عورتیں تھیں ،بیٹھک میں تایا زادبھائی اور ان کے دوست ،دوسرے کمروں میں رشتے دار جو دوسرے شہروں سے آئے تھے ۔میرا تو کہیں جانے کو دل نہیں کر رہا تھا ۔اس لیے میں نے ایک ستون سے ٹیک لگا دی ۔اس گھر میں سب خوش تھے ۔شادی والا گھر جو تھا ۔لفظ شادی کا مطلب ہی خوشی ہوتا ہے ۔یہ سب جو قہقہے بکھیر رہے تھے اندر سے سب غمگین تھے ۔عارضی طور پر سب اپنے اپنے غم بھول کر خوشی منا رہے تھے ۔لیکن میں اداس تھا ۔مجھے وہاں کھڑے ہوئے دو تین منٹ ہی گزرے تھے کہ اس کی آواز نے خیالات سے باہر نکالا ۔’’ آ پ کب آئے ۔‘‘
یک دم میں گھوما میرے سامنے وہ کھڑی تھی ۔میری شوخی ایک پل میں پلٹ آئی ۔’’سولہ سال پہلے۔‘‘
اُسے میری بات کی دیر سے سمجھ آئی ۔
میں اس سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ میںکیسے کہہ دیتا کہ تم کو دیکھ کے میں خود سے بیگانہ ہو گیا ہوں۔ دو تین راتوں سے میں تیرے سپنے دیکھ رہا ہوں ، میں تم کو اپنا بنانا چاہتا ہوں۔ میں یہ سب کچھ سوچ کے ہی رہ گیا۔ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی۔خوف اور جھجک نے میرا دامن تھام لیا۔
مگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ اب اگر یہ وقت گزر گیا تو پھر شائد کبھی وقت نہ ملے ۔ایسا وقت جس میںصرف ہم دونوں ہوں۔ وہ بھی چپ تھی ، کافی وقت گزر گیا آخر مجھ سے ضبط نہ ہوا ،میںنے دھڑکتے دل سے اُسے پکارا ۔’’کلثوم۔‘‘
اس نے مختصر جواب دیا ’’جی‘‘مجھ سے مزید کچھ نا کہا گیا ۔
مجھے وحشت ہو رہی تھی ۔خاموشی جان پر آ گئی تھی۔وہ بھی خاموش تھی ۔کبھی کبھی نظر اٹھا کر دیکھ لیتی ۔ میں نے ہمت کر کے اسے پھر پکارا ۔’’کلثوم‘‘
میری آواز رندھی ہوئی تھی۔ مجھے اپنا لہجہ خود اجنبی سا لگا اس نے پھر ’’جی‘‘ کہا ۔اب کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی ۔
میں نے ڈوبتے دل سے کہا ۔’’میں ۔۔میں۔۔ تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘
وہ چپ رہی ،لیکن مسلسل مجھے دیکھتی رہی میں نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اس کا دیکھنا دیکھا نا گیا ،میںدوبارہ گویا ہوا۔ ’’سابقہ دو دن سے میں تم سے یہ بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘
یہ کہہ کر میں نے اسے دیکھا اور مزید کچھ کہنے کی ہمت کھو دی ۔اس کی آنکھوں میں رنگ تھے ،چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔مجھ سے کافی دیر کچھ نہیں کہا گیا ۔اس وقت وہ دو نقاب پوش لڑکیاں جو میرے کمرے میں جانے پر کمرے سے نکل گئیں تھیں دوبارہ آ گئیں ۔ہمارے پاس سے گزریں ۔اپنے اندر اس دوران میں نے ہمت پیدا کی ،خود کو دلاسا دیا ۔کلثوم نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ٹٹولتی نظریں میرے چہرے پر گاڑ دیں ۔
جیسے ہی وہ لڑکیاں کمرے میں داخل ہوئیںاس نے کہا ۔’’ میںبھی کچھ کہنا چاہتی تھی ۔‘‘
میں نے جھٹ پوچھا ’’کیا‘‘ ۔
’’پہلے آپ بتائیں۔‘‘ اس نے کھکھلاتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’ کیا تم جانتی ہو کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں ۔‘‘
’’مجھے علم ہے ۔‘‘ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ میرا دل اوپر نیچے ہو رہا تھا جو بات کہنا چاہتا تھا۔ وہ بات اسے معلوم تھی ۔اب اور اسے کیا کہنا تھا۔ میرے پاس کہنے کے لیے بچا کیا تھا ۔ میں نے پوچھا۔
’’ کیا پتہ ہے ‘‘ وہ ہنس پڑی۔میرے اردگرِد جلترنگ سے بج اٹھے۔ اسی وقت تائی نے مجھے آواز دی ۔ وہاں خالہ عائشہ تھیں ہم دونوں اس کے پاس جا کر بیٹھ گئے پھر ہم نے آپس میں کوئی بات نہ کی ۔وہ چوری چوری مجھے دیکھتی رہی۔ یہی حال میرا تھا۔ جب اس سے نظر ملتی تو وہ نظر جھکا لیتی۔ وقت گزرتا رہا ۔میں تایا زاد بھائیوں کے پاس دو تین گھنٹے بیٹھا رہا انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’’میں شادی سے ایک دن پہلے آجاؤں ‘‘ میں نے ہامی بھر لی شام سے ذرہ پہلے میں نے واپسی کی تیاری کر لی۔ سب سے اجازت لے کر بوجھل قدموں سے گھر کی راہ لی ۔واپسی کا سفر طویل ترین ہو گیا تھا ۔ہمارا گاوں ہی نہیں آ رہا تھا ۔سارے راستے میں خود کو ملامت کرتا رہا کہ اسے سب کہہ دینا چاہیے تھا جو سوچتا رہا ہوں ۔
شادی کا دن آیا ۔گزر گیا ۔خوب ہلا گلا رہا۔اس میں یادگار وہ گانا تھا جس پر کلثوم اور بشری نے ڈانس کیا تھا ۔اور دونوں نے مجھے دیکھ دیکھ کر میرے سامنے ،مجھے سنا سنا بلکہ دکھا دکھا کر کیا تھا ۔یہ شادی سے پہلے کی رات تھی ۔سردی اپنے جوبن پر تھی ۔ہم سب کزن دائرہ بنا کر کھڑے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے ۔جب کلثوم اور بشری اپنی کمر پر اپنا اپنا ڈوپٹہ باندھ کر آئیں ابوبکر کی منگیتر بشری نے میرا بازو پکڑا مجھے دائرہ میں کھڑا کر دیا ابوبکر زور زور سے تالیاں بجانے لگا ۔
لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا
آبہہ سامنے کولوں دی رس کے نا لنگ ماہیا
وے بنیرے توں سٹیاں رسیاں
تساں پوچھیاں تے نا اساں دسیاں
لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا
میں شرم سار کھڑا رہا ۔پہلے مجھے جو سردی کا احساس تھا رفتہ رفتہ وہ ختم ہو گیا ۔انہوں نے بل کھا کر کمر لہرا کر جیسے ڈانس کیا ۔دل اوپر نیچے ہوتا رہا ۔
دوسرے دن شادی کے بعد شام کو خالو صفدر وغیرہ ہمارے ساتھ ہی ہمارے گھر آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صبح پانچ چھ بجے چلے جائیں گے صرف ایک رات باقی تھی ، سب کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے میں اٹھ آیا۔میرے پیچھے ابوبکر بھی اٹھ آیا ۔ہم دو تین گھنٹے بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ہمارے خیالات ملتے تھے ۔اس لیے دل بھی مل گئے ۔مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ہم صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔
حمید و سعید نے ابو بکر کو آواز دی تو وہ اٹھ کر چلا گیا ۔اس کے جانے کے بعد میں نے سوچا ’’یہ ایک رات بھی کیا یوں ہی گزر جائے گی۔‘‘
میری بے چینی بڑھ گئی۔بیٹھک میں کرسی پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔ اب اس سے کیسے بات کروں ؟۔کیا بات کروں ؟۔اور پھر اس کے بقول جو بات مجھے اس سے کرنا ہے ۔اسے معلوم ہے ۔کیا اسے واقعی معلوم ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے پھر بھی میں اس سے کہہ سکتا ہوں کہ تم مجھے بھول تو نہ جاؤ گئی۔میں تم سے شادی کا خواہاں ہوں۔ مجھے اس سے یہ بھی کہنا چاہیے کہ میں تمھارے گھر آؤں گا ، میرا انتظار کرنا ۔ وہ مجھے خط بھی لکھ سکتی ہے ۔ وہ نہم کی طالبہ ہے۔ ایسے ہی خیالات مجھے آتے رہے آخر میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے کو ئی نہ کوئی بات کرنا چاہیے ۔کیا خبر اسے کیا معلوم تھا اور میں کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا ۔پھر اسے بھی تو مجھ سے کچھ کہنا تھا ۔کم ازکم اس سے یہ تو پوچھا جا سکتا تھا ۔میںاٹھ کر دوسرے کمرے میںآگیا ۔ وہ سب بیٹھے تھے خالو جان شادی میں ہونے والی باتیں ابو جان کو بتا رہے تھے۔ درمیان میں خالہ عائشہ بھی معلومات کا اضافہ کر دیتیں۔ مگر وہاںکلثوم اور رابعہ نہیں تھیں۔ رابعہ کلثوم کودوسرے کمرے میں صندوق سے نکال نکال کر کپڑے دکھا رہی تھی اور کلثوم تبصرے کر رہی تھی۔پاس ہی سعید بیٹھا تھا اور ان کے کپڑوں کی خامیاں نکال رہا تھا ۔ میں ان کے پاس ہی بیٹھ گیا اور بڑی کوشش کی کہ کوئی بات کروںمگر ، میری زبان پر کوئی بات نہیں آئی، ہر بات مجھے بے معنی سی لگتی ۔
آخر کلثوم نے پوچھا ۔’’خرم ۔‘‘
اس نے میرا نام لیا تو دل دھک سے رہ گیا میں نے لکنت زدہ زبان سے کہا ’’جی ۔۔۔جی‘‘
’’آپ ہمارے گھر آو گے ناں؟‘‘
اس نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا۔ میں کل سے سوچ رہا تھا۔’’ہاںہاںکیوں نہیں ،ضرور آؤں گا۔‘‘
میرے چہرے پر پتہ نہیں کیا تھا کہ ان دونوں نے غور سے مجھے دیکھا۔رابعہ نے پوچھا ۔’’بھائی آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔‘‘
میںنے جلدی سے کہا ۔’’ ہاں ۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’نہیں۔۔نہیں تو آپ کا چہرہ اتنا سرخ ہے۔؟‘‘
میری ساری شوخیاں کہیں کھو گئی تھیں ۔میں خاموش رہا ۔ان دونوںنے مجھے دیکھا پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور کھل کھلا کر ہنس دیں ۔سعیدبھی معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔
میں وہاں سے اٹھ آیا۔ وہاں مزید بیٹھا بھی نہیں گیا۔ باہر آکر ایسے لگا جیسے کسی جیل سے چھوٹ کر آیا ہوں مجھے سکون محسوس ہوا ۔ رات کا کھانا نوبجے کھایا گیا ۔کھانے کے دوران بھی رابعہ اور کلثوم مجھے دیکھ کر مسکراتی رہیں۔مجھے رابعہ پر غصہ آ رہا تھا ۔وہ مجھے دیکھ دیکھ کر کیوں مسکراتی تھی۔یہ ہی حال سعید کا تھا ۔الو دیدے گھما کر مجھے دیکھتا تھا ۔میں باقی سب گھر والوں کی وجہ سے خاموش رہا ۔
میں نے محسوس کیا تھاکہ سعید ، رابعہ اور کلثوم ان دنوں میں ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ہیں ۔سچی بات ہے مجھے حسد سا محسوس ہوا۔
میں نے سوچا کہ کلثوم اور رابعہ ضرور میرے بارے میں باتیں کرتی رہتی ہیں ۔رابعہ کو کلثوم نے بتا دیا ہوگا ،مگر اس نے کیا بتایا ہو گا۔ میں نے اس سے اب تک کوئی ایسی بات نہیں کی تھی ، پھر وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتی کیوں ہیں۔سعید بھی تو ان میں شامل ہے خبیث کہیں کا ،کیسے دانت نکال رہا تھا ۔میں نے فیصلہ کر لیا جیسے ہی موقع ملا اس کے دانت ضرور توڑ دوں گا ۔پھر میں نے سوچا مجھے چپ ہی رہنا چاہیے ۔میں نے سوچا کہ اب بازار جاؤں اور کوئی تحفہ لے کر کلثوم کو دوں۔ مگر کون سا تحفہ ۔پھر اب اجازت کیسے لوں گا ،باہر جانے کی ، ایسے ہی خیالات میں کھانا کھا لیا گیا ، سب اٹھ کے چلے گئے ، خالو نے میرے کندھے پر تھپکی دی اور سگریٹ منگوائے ۔ میں نے ان کو گلی سے سگریٹ لا کر دیئے۔ ابو بکر ،سعید اور کلثوم اور رابعہ بیٹھ کر لڈو کھیلنے لگے ۔خالوا ابا جان اپنے کمرے میں لیٹے ہوئے تھے ۔کافی سردی تھی ۔گیارہ بجے سب سونے چلے گے ۔ کلثوم اور رابعہ ایک ہی بستر میں لیٹی ہوئی تھیں۔ میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔میں نے پانی پیا اور کرسی پر بیٹھ گیا یہ کمرہ میرا تھا۔ اس میں سامان کم اور کتابیں زیادہ تھیں ۔
بیٹھک بھی یہی تھی اور مطالعہ کا کمرہ بھی یہی تھا۔کاش یہ میرا کمرا نہ ہوتا تو میں ان کے کمرے میں اس کے نزدیک توسو سکتا تھا۔ اب صبح وہ جارہے تھے۔ تب میرے دل میں خیال آیا کہ میں اسے خط لکھ دوں۔یہ غالبا 1995 کی بات ہے ان دنوں دور دور تک موبائل کا نام و نشان نہیں تھا ۔خط کاطریقہ مناسب تھا۔ جو باتیں میںاس کے سامنے نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ خط میں لکھ سکتا تھا۔ میں نے کاغذ قلم اٹھایا اور اسے خط لکھنا شروع کر دیا۔ اس وقت جو بھی میرے دل میں آتا گیا میں لکھتا گیا میں نے لکھا۔
’’کلثوم۔جب سے تم کو دیکھاہے ۔میرا حال بڑا خراب ہے ۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ تم ہو ہی اتنی خوبصورت۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ آ پ کل یہاں سے جا رہی ہو۔ میں سوچتا ہوں میری زندگی کیسے بسر ہوگی ۔ تمھیں دیکھاتو تیرے طلب گار بن گئے۔‘‘
اتنا لکھ کر میںنے دوبارہ پڑھا ۔ تو یہ الجھا الجھا سا لگا ، میں نے سوچا اسے خط ذرا تفصیل سے، ہر بات سمجھا کر لکھنی چاہیے تاکہ میرے خط کا اس پر دیر تک اثر رہے ۔میں نے وہ ورق پھاڑ دیا اور نئے ورق پر دوبارہ لکھنا شروع کر دیا۔
’’پیاری کلثوم !گزشتہ پانچ ایام سے میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا تھا۔ مگر کر نہ کر سکا۔
’’پیاری کلثوم! کل تم یہاں سے جارہی ہو۔ میں نے سوچا کہ آپ کو کچھ لکھ دوں۔ اور۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو روک لوں جانے نہ دوں۔ آپ چلی جائیں گی تو میرا دل بھی آپ کے ساتھ چلا جائے گا۔میں تم کو بہت پیارکرتا ہوں ۔ تم بھی مجھے بھول نہ جانا۔
’’کلثوم میں کوشش کروں گا کہ جلد آ پ کے گھر آؤں ۔تم میرا انتظار کرنا مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔‘‘
اتنا لکھ کر میں نے خودکو روک لیا میراہاتھ کانپ رہا تھا ، میں نے دوبارہ پڑھا تو یہ خط پہلے سے بھی گھٹیا گھٹیا سا لگا ۔دماغ قلم کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ جو بات میں نے کہنی تھی وہ تو لکھ نہ سکا تھا ، یہ سب باتیں مجھے سطحی سے معلوم ہوئیں۔ عام سی باتیں۔ مجھے تو اس کو جو خط لکھنا تھا۔ وہ خاص ہونا چاہیے تھا ۔میں نے اس ورق کو بھی پھاڑ دیا۔ سوچا سب سے پہلے مجھے شعر لکھنا چاہیے اور مختصر سا خط کافی ہے ۔ دیر تک میں شعر سوچتا رہا آخر ایک شعر مجھے یاد آگیا میں نے لکھا۔
طیش میں آ کر تم میرا خط پھاڑ ڈالو
تمہارے قدم چوم لیں گے میری تحریر کے ٹکڑے
میں تم سے محبت کرتا ہوں ، میں تمھارے گھر آؤں گا ۔میں تم سے شادی کروں گا۔ تم مجھے بہت یاد آؤ گی۔ خد احافظ‘‘
میں نے اس خط کو دو تین دفعہ پڑھا ۔یہ تو ایسے تھا جسے کسی کے پتھر مار دیا جائے ۔نہ سلام نہ دعانہ کوئی اس کا لقب اور پھر اتنا مختصر خط بھی نہیں لکھنا چاہیے ۔مجھے خود پر غصہ آنے لگا ۔میں نے نئے سرے سے حوصلہ جمع کیا اور لکھنا شروع کیا، اب کے میں نے ٹھہر ٹھہر کر لکھا سردی سے میری انگلیاںٹھٹھری جا رہی تھیں ۔میرا قلم اٹک اٹک رہا تھا ۔میں نے اسے لکھا۔
’’ جان سے پیاری کلثوم ۔ سدا پھولوںکی طرح مسکراتی رہو ۔
السلام علیکم !کے بعد عرض ہے کہ رات آدھی گزر گئی ہے ۔مجھے نیند نہیں آ رہی ۔ میںنے بڑی دیر سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں ۔مگر سمجھ میں نہیں آرہا کہ بات کیسے شروع کروں۔ آپ نارض نہ ہو جائیں ۔ آپ نے پوچھا تھا کہ ’’میں آپ کے گھر کب آؤں گا‘‘ تو میں بہت جلد آپ کے گھر آؤں گا۔آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ میںآپ سے شادی کروں گا اور اپنے گھر لے آؤں گا ( میں نے لیلیٰ مجنوں فلم دیکھی تھی اس کا ایک شعر یاد آگیا)
سنگ مرمر سے تراشا ہوا شوخ بدن
اتنا دل کش ہے کہ اپنا نے کو جی چاہتا ہے ۔
تم دل لگا کر پڑھا کرو۔ نماز پڑھا کرو ۔دعا کرنا اور خط میں اگر کوئی غلطی ہو تو معاف کردینا۔
فقط تمہارا دیوانہ
خرم شہزاد
میں نے اس خط کو دوبارہ پڑھاتو خود کو چغدمحسوس کیا۔ بھلا یہ بات پہلے ہی خط میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ میں تم سے شادی کروں گا ۔پھر خاص بات لکھی ہی نہیں کہ تم جارہی ہو میںتم کو بہت یاد کروںگا، میں نے اس خط کو بھی پھاڑ دیا، میرا دل چاہا کہ میں اپنا گریبان بھی پھاڑدوں۔ کمرے میں موجود ہر چیز کو توڑدوں ، میرا غصہ عروج پرتھا۔ میں نے قلم کو توڑ دیا۔ جتنے ورق تھے سب کو پھاڑ دیا ۔کمرے میں میں اکیلا تھا اپنی چار پائی کو الٹا دیا۔ میرا دل چاہا دیوار وں سے سردے ماروں۔ کتنا نالائق ہوں کہ ایک خط نہیں لکھ سکتا۔ لعنت ہے ایسی تعلیم پر میں نے کتابیں اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کردیں اور دیواروں پر مُکے مارنے لگا۔میرا رونے کو جی چاہتا تھا۔ دل بھرا ہو ا تھا۔ میرا خون رک رک کر گردش کر رہا تھا۔ اعصاب منجمد سے ہو گئے تھے۔ میںتھک کر چارپائی سیدھی کی بستر بچھایا اور اس پر بیٹھ گیا۔سارے کمرے میں کتابیں بکھری ہوئی تھیں ۔ ان کو اٹھایا ۔ ترتیب سے رکھیں اور خود لیٹ گیا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔نہ جانے کب تک میں بے چین رہا اور کب مجھے نیندآگئی مجھے نہیں معلوم۔اچھا خاصا دن چڑھ آیا تھا جب میں نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی جھنجوڑ رہا ہے ۔میں نے آنکھیں کھول دیں ۔کمرے میں اچھی خاصی روشنی تھی اور رابعہ مجھے جھنجوڑ رہی تھی۔ میں ایک دم اٹھ بیٹھا ۔ پہلا خیال آیا کہ کلثوم وغیرہ چلے گئے ہوں گے ۔رابعہ سے پوچھا تو اس نے تصدیق کر دی۔
’’بھائی آپ سوتے رہے اور وہ چلی گئی۔ وہ کیا کہتے ہیں ،لگی والیاں نوں نیند نہیں آوندی تیری کیویں اکھ لگ گی۔‘‘
میں نے رابعہ کی گت پکڑی ۔’’تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا!‘‘
اس نے ہنس کر کہا ’’میں نے سوچا رات آپ جاگتے رہے ہو گے ابھی نیند آئی ہو گی چلو سو لینے دو ۔‘‘ میں نے اس کی گت چھوڑدی ۔
میرے رگ وپے میں اداسی کی لہر اتر گی۔’’میرے پاس آپ کی ایک امانت ہے۔‘‘
اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میںشوخی تھی ۔میرا دل دھڑکنے لگا۔میں نے سوچا مجھے بے پرواہی اختیار کرنا چاہیے۔میں نے بے پرواہی سے کہا ۔’’ کیا ہے ؟۔ اس نے میرا چہرہ غور سے دیکھا ۔میں نے چہرے کو بے تاثر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ وہ اٹھ کر گئی اور دونوں ہاتھ پیچھے کیے ہوئے واپس آئی۔
’’بھائی کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ ‘‘
’’ نہیں ۔ میں نہ تو ٹیلی پیتھی جانتا ہوں اور نہ ہی ایسا کوئی اور علم ۔‘‘ان دنوں ایک معروف رسالہ میں محی الدین نواب کی ’’دیوتا‘‘ شائع ہو رہی تھی اس کی بڑی دھوم تھی ۔اس نے زیادہ تکرار نہیں کی اور وہ چیز میرے سامنے کر دی وہ ایک خط ہی تھا ۔وہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گی ۔
میں نے اسے کھولا لکھاتھا۔
اسلام علیکم
پیارے خرم اﷲتعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے ۔ مجھے آپ بہت یاد آئیں گے۔ آ پ ہمارے گھر لازمی آنا۔میں آپ کا انتظار کروںگی ۔
چاندنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں
دوستی ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں
آپ ضرور ہمارے گھر آنا۔آئیں گے ناں۔ لازمی آنا۔ میرادل چاہتا تھا کہ آپ سے بہت سی باتیں کروں مگر مجھے شرم آتی ہے اس لیے خط لکھ رہی ہوںاور میں آپ کو بتاؤں مجھے آپ سے محبت ہے۔اس کا کسی کو نا بتانا ۔ اس خط کو پڑھ کر پھاڑ دینا ۔اچھا میری طرف سے بہت سی دعائیں۔آپ کی دوست کلثوم ۔
میرا دل چاہا کہ میں ناچنا شروع کر دوں ۔ کتنا سادہ سا، سیدھا سادہ خط تھا۔اور میں ساری رات اسے خط نا لکھ سکا ۔اس سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ ان کے جانے کے وقت سوتا رہا اور جو سوتے ہیں وہ کھوتے ہیں ۔میں نے بھی الوداعی ملاقات کھو دی تھی ۔
…ژ…ژ…
کچھ خواب لاشعوری خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ مثلاََ ایک لڑکی کو دیکھا بڑی سندر ہے ، اس کا گداز بدن ، مرمریں ہاتھ آدمی اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اسے اپنانے اور ملاقات کر نے کے منصوبے بناتا رہتا ہے ۔ وہ لڑکی خوابوں کی رانی بن جاتی ہے۔ایسا ہی میرے ساتھ ہوا۔میں دن کو کھلی آنکھوں سے اور رات کو نیند کی حالت میں کلثوم کے خواب دیکھتا ۔ میں اس سے جی بھر کر باتیں کرتا۔باغوںمیںہم گھومتے ۔انسانی دماغ بھی عجیب ہے جس چیز سے جتنا متاثر ہو تا ہے وہی چیز خیالات پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ پھر وہی خواب بن جاتے ہیں اس بات کو یوں بھی لکھا جاسکتا ہے کہ خواب خواہشات ،ارادوں اور خیالات کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ بات غلط بھی ہو سکتی ہے ۔مگر اتنی بھی غلط نہیں ہے ۔ اکثر خواب خواہشات کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔معروف نفسیات داں فرائیڈے کا سارا فلسفہ یہ ہی ہے ۔ مگر کچھ خواب اس سے ہٹ کر بھی ہوتے ہیںمثلا مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایسے خواب نیک لوگوں کو ہی آتے ہیں ۔خوابوں کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں۔کچھ خواب سچے ہوتے ہیں اور کچھ جھوٹے ہوتے ہیں اس میں انسان کے کردار کو بھی دخل ہوتا ہے ۔اعمال کو بھی اور نیت کو بھی ۔نیت بھی اصل میں سوچ ہوتی ہے لیکن اسے حاوی سوچ کہنا چاہیے ۔جو ہر وقت ،ہر لمحے اندر ہی اندر ،دل ہی دل میں جاری رہتی ہے ۔اب میری سوچوں میں کلثوم جاری ہو گئی تھی ۔
زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ گزرتی رہتی ہے۔ صبح آتی ہے گزر جاتی ہے ۔ شام آتی ہے گزر جاتی ہے۔ دنوں سے ہفتے بن جاتے ہیں۔مہینوں سے سال بن جاتے ہیں ۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا ۔جب والد بیمار ہوئے ۔پہلے تو گاوں کے ڈاکٹر سے دوا لیتے رہے ۔ان کو آرام آجاتا ۔ایک دو دن بعد پھر مرض لوٹ آتا ۔ہر وقت بخار رہتا ۔پہلے پہل تو ہم نے معمولی مرض سمجھا ۔جب ایک ماہ گزرا تو سنجیدگی سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو شہر لے جا کر دکھایا ۔انہوں نے مکمل توجہ سے معائنہ کیا اور چند ٹیسٹ لکھ کر دیے ۔میں رپورٹ کروا لایا ۔ایک بھیانک انکشاف منتظر تھا ۔والد صاحب کو ٹی بی ،شوگراور معدے میں پتھری تھی ۔ہمارے ہاتھ پاوں پھول گئے ۔ہمیں بتایا گیا کہ لاہور میں علاج ہوگا ۔ہم نے تمام جمع پونجی اکھٹی کی ،کچھ قرض لیا اور بیس ہزار(اس زمانے میںبیس ہزار کی ویلیوتھی )جمع کر کے میں اور میرا بھائی سعیدوالد کو لے کر لاہور جا پہنچے ۔والدہ کو جب سے والد کی بیماری کا علم ہوا تھا وہ خود بیمار ہو گئی تھیں ۔بلکہ یہ کہنا مناسب تھا کہ والد سے زیادہ ان کی حالت خراب ہو گئی تھی ۔اس لیے حمید اور رابعہ کو ان کے پاس چھوڑ کر ہم لاہور جا پہنچے ۔یہاں ایک رشتہ دار عتیق صاحب کے ہاں دو دن رہے اور ٹیسٹ کروائے ۔پھر اسپتال میں ڈیرے لگا دیے ۔تینوں امراض ایسے تھے کہ ڈاکٹر کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی پہلے کس مرض کا علاج کریں ۔سب سے زیادہ تکلیف دہ معدے کی پتھری تھی ۔اس کا آپریشن کروانا تھا ۔گھر سے رابطہ بھی ٹوٹ گیا تھا ۔محلے میں ایک پی سی او تھا لیکن اس کے نمبر کا علم نہیں تھا ۔میں ایک شام سعید کو ابو کے پاس چھوڑ کر گھر جا پہنچا ۔والدہ کی طبعیت پہلے سے بہتر تھی ۔میں پی سی او کا نمبر لے آیا ۔اب سکون سے آپریشن کروایا جا سکتا تھا ۔چند دن بعد آپریشن ہوا جو کہ کامیاب رہا ۔ایک ہفتہ مزید وہاں رہ کر ہم گھر لوٹ آئے ۔ابو کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔کھانا پینا چھوٹ گیا تھا ۔میں ایک ماہ کے بعد کالج گیا ۔امتحانات قریب تھے ۔دن رات ایک کر دیا ۔دو ماہ ایسے ہی گزر گے ۔ہم ہر پندرہ دن بعد لاہور جاتے اور ٹی بی و شوگر کی دوا لے آتے ۔چھ ماہ بعد ابو اچھے خاصے تندرست ہو گے ۔اور دوبارہ کام پر جانے لگے ۔وہ ایک فیکٹری میں منشی تھے ۔ پانچ چھ ماہ بعد کی بات ہے ۔میں امتحانات دے کر فارغ ہو چکا تھا ۔ابھی رزلٹ آنا تھا ۔میں سارا دن دوستوں کے ساتھ گزار کر جب واپس شام کو گھر پہنچا ۔ایک لرزہ خیز واقعہ میرا منتظر تھا۔ابا جان صبح دس گیارہ بجے فوت ہو گئے تھے۔اور میں شام پانچ بجے پہنچا تھا ۔
میری ہچکیاں بندھ گئیں۔میرا حق بنتا تھا کہ میں چھوٹے بھائیوں اور بہن و امی کو دلاسا دیتامگر وہ مجھے دلاسا دے رہے تھے ۔محلے اورخاندان کے بہت سے افراد اور خواتین جمع تھیں ۔امی کا حال سب سے برا تھا مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ امی میرے گلے سے لگ گی اور دیر تک روتی رہیں ۔
میں نے بہن کو دیکھااس نے اپنے ہونٹ زور سے بھینچے ہوئے تھے۔ اس کے بال بکھرے بکھرے تھے، اس کی رنگت زرد ہو گئی تھی۔
وہ میرے پاس آئی تو میںنے اس کے دونوں ہاتھ پکڑلیے۔ہاتھ برف کی طرح سرد تھے۔دوسرے لمحے میںنے چھوڑ دیے ۔وہ میرے سینے سے لگ گئی اور بلک بلک کر رونے لگی ۔میرا سینہ پھٹاجارہاتھا ۔میںبت بنا ہوا تھا۔۔ جیسے خود میں جان نہ ہو۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے آنسو ضبط کر سکوں مگر اب بھی نہ روئے گا تو ظالم مرجائے گا ۔میں خود اپنے اختیار میں نہ رہا۔آنکھوں سے سیل رواں ہوگیا وہ دونوں بازوں سے مجھے بھینجے ہوئے تھی۔ میںنے یک دم محسوس کیا جیسے اس کی گرفت کمزور پڑگئی ہو۔۔اگر میںاسے تھام نہ لیتا تو وہ گر جاتی ۔۔وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ دو تین عورتوںنے آگے بڑھ کر مجھ سے اسے تھام لیا میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ تب میرا سر چکراسا گیا نزدیک پڑی ہوئی چار پائی پر میں نے خود کو گرا دیا۔ میرا دل زورزور سے دھڑک رہا تھا کسی نے مجھے پانی پلایا ۔ میںنے اسے دیکھا نہیں شاید نظر بھی نہ آتا تھوڑی دیر کے بعد میری طبعیت سنبھلی ۔جنازہ کا اعلان ہوا ۔جان سے پیارے ابا جان کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر ہم قبرستان لے کر گئے ۔یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ۔جیسے ہم کوئی مشین ہوں ۔آج بھی سوچوں تو حیرت ہوتی ہے ۔اتنا حوصلہ کہاں سے آیا تھا مجھ میں ۔میں نے لحد کو خود قبر میں اتارا، مٹی ڈالی، کیسے کس ہمت سے گھر آگیا تھا علم نہیں۔
ہم غریب گھر سے تعلق رکھتے تھے۔ بلکہ یہ کہنا کہ مڈل کلاس تھے کہ سفید پوشی کا بھرم بڑی مشکل سے قائم تھا۔میں نے چند دن بعد ہی نوکری کی تلاش شروع کر دی ۔میں بھائیوں کو پڑھانا چاہتا تھا ۔بہن نے تو میٹرک کر کے چولہا سنبھال لیا تھا ۔میں مختلف جگہ پر نوکریاں کرتا رہا ، میرے ماں باپ نے مجھے بڑا آدمی بنانے کے خواب دیکھے تھے ڈاکٹر وغیرہ۔ مگر میں کچھ نہ بن سکا ۔ کچھ بھی نہیں ۔روز گار حاصل کرنا کتنا مشکل ہے یہ تو وہی جانتے ہیں جن کا بے روزگا ری سے واسطہ پڑا ہو۔ ان دنوں لوگ مجھ کو مختلف مشوروں سے نوازتے تھے۔ ایسے جیسے رزق حاصل کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہو۔ اپنی بے روزگار ی کے دنوں میں میرے اپنوں نے مجھ سے جو کچھ کہا۔ وہ سب میرے دل پر نقش ہوتا رہا ۔اس سے میرے اندر ایک آگ سی سلگتی رہتی ۔اس نے مجھے اداس بنا دیا ۔ مجھے بے وقوف ، نادان ، سمجھاگیا۔ذلیل کیا گیا۔ میرے سامنے بھی دو راستے تھے ایک سچ کا ایک جھوٹ کا لیکن میں نے سچ کا راستہ چنا ۔ایمانداری کا راستہ چنا ۔اس راستے میں امتحان زیادہ تھے ۔مجھے اس بات کا علم تھا ۔آج ابو نہ رہے تھے کل میں نے نہیں رہنا تھا ۔تو بے ایمانی کیوں کرتا ۔ مجھے مختلف جگہوں پر نوکریاں کرتے ہوئے تین برس گزر گئے ۔ان تین سال میں ارادے باندھتا رہا۔ٹوٹتے رہے۔ وقت گزرتا رہا ۔ مگر میںکلثوم سے ملنے نا جا سکا ۔ کوئی نہ کوئی مجبوری آڑے آتی رہی۔ والد کی وفات پر وہ آئی تھی ۔ابوبکر اور کلثوم دو ہی بہن بھائی تھے ۔اس لیے وہ سب کی لاڈلی بھی تھی ۔سنا تھا اس نے ایف ایس سی کر لی تھی ۔اب بی ایس سی میں داخلہ لے لیا تھا ۔وہ ڈاکٹر بننے جا رہی تھی ابوبکر فوج میں بھرتی ہو گیا تھا ۔اس نے وہاں سے مجھے دو تین خط لکھے جواب نا پا کر اس نے خط لکھنے بند کر دیے ۔ ایک دن محلے کے پی سی او پر فون آیا ۔اطلاع ملی کہ ابو بکر شہید ہو گیا ہے ۔
وہ میرا خالہ زاد تھا۔ وہ کلثوم کا بھائی تھا۔وہ میری تایا زاد بشری کا منگیتر تھا۔میرا بہترین دوست تھا ۔بے شک ہمارا ساتھ کم رہا تھا لیکن اس سے میری بڑی حسین یادیں جڑی تھیں۔ امی جان اور میں رات کے دس بجے ان کے گھر فیصل آبادکے ٹاون سلطان آباد جاپہنچے۔
میرے خالو صفدر علی نے مجھے گلے لگایا۔ تو میری ہچکیاں بندہو گئیں۔میں نے کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔ ایسے موقع پر عام طور پر گنے چنے ہے جملے جاتے ہیں۔ مرنے والے کی تعریف کی جاتی ہے۔ اس کے لواحقین کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ مگر کیا اس سے غم کم ہو جاتا ہے ۔خالہ عائشہ کا حال سب سے برا تھا مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ امی جان نے آنٹی عائشہ کاکندھا تھپکا اور کہا ۔
’’سب کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ اپنے وقت پر جاتا ہے آگے نہ پیچھے ایک دن سب کو جانا ہے مجھے بھی تجھے بھی خرم کو بھی ، سب کو۔‘‘
کلثوم کی آنکھیں لبریز تھیں ۔ وہ مجھ سے تھوڑی ہی دور کھڑی تھی ۔ مجھ میں تو ہمت نہ تھی کہ اسے دلاسا دیتا ۔اس نے میری طرف قدم بڑھادیے۔ اس نے اپنے ہونٹ زور سے بھینچے ہوئے تھے۔ وہ پہلے سے لمبی بھی کافی ہو گی تھی اور موٹی بھی۔لباس پر بہت سی شکنیں تھیں ۔
وہ میرے پاس آئی تو میںنے اس کے دونوں ہاتھ پکڑلیے۔اس کا بھائی ،اس کا مان ،اس کا دنیا میں واحد سچا دوست ،اس دنیا سے اٹھ گیا تھا ۔اس کا ٹوٹ جانا ،بکھر جانا حق بنتا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے آنسو ضبط کر سکوں مگر میں خود اپنے اختیار میں نہ رہا۔ غم دینا ،غم جاناں دونوں مل گئے۔اس کی خبر نہیں ہوئی کب وہ میرے گلے سے لگی وہ سسک رہی تھی ۔میری آنکھوں سے سیل رواں ہوگیا۔ وہ دونوں بازوں سے مجھے بھینچے ہوئے تھی ۔میں نے محسوس کیا جیسے اس کی گرفت کمزور پڑگی ہو۔اگر میںاسے تھام نہ لیتا تو وہ گر جاتی ۔وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ دو تین عورتوںنے آگے بڑھ کر مجھ سے اسے تھام لیا ۔
خالو صفدر کا گھراچھا خاصا بڑا تھا۔ مردانہ ایک طرف تھا اور زنان خانہ ایک طرف ۔ درمیان میں صحن تھا۔چار کمرے تھے ۔ ایک باورچی خانہ تھا ۔ میںاس وقت زنان خانہ میں موجود تھا۔ میرے علاوہ وہاں کوئی بھی مرد نہ تھا۔ میں وہاں سے اٹھ آیا۔جاتی گرمیاں تھیں۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈ ہو رہی تھی یا مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔ میںلان میں پڑی ہوئی ایک چارپائی پر لیٹ گیا۔ بہت سے مہمان پہلے ہی لیٹے ہوئے تھے۔لیکن میںسب سے الگ پڑی ہوئی چار پائی پر لیٹ گیا تھا ۔میرا دل نہیں کرتا تھا کہ کسی سے بات کرو ں۔ مگر جہاں میں لیٹا ہوا تھا وہاں مردوں کی باتوں کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی اور عورتوںکی بھی۔ نہ جانے لوگ اتنی باتیں کیسے کر لیتے ہیں ۔میں موت کے بارے میںسوچ رہا تھا۔ یہ کتنی اٹل حقیقت ہے کہ آدمی نے مر جانا ہے۔ یہ محبتیں ،یہ نفرتیں سب بے کار ہیں ۔یہ دولت کے لیے بھاگ دوڑ، دوسروں کو نیچا دکھانے کی تگ ودو کتنی بے معنی لگتی ہے۔ انسان کتنے خسارے میں ہے۔
انسان ان باتوں کے بارے میں کبھی سوچتا ہی نہیں ہے ۔ایسا کوئی حادثہ ہو جائے تو چند لمحوں کے لیے اسے یہ خیال آتا ہے ۔پھر دنیا کے ہنگاموں میں بھول جاتا ہے ۔مزہ تو تب ہے جب یہ حادثہ زندگی بدل دے۔رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔خاندان بھر سے رشتے دار آئے ہوئے تھے۔میری ساتھ والی چارپائی پر دو آدمی باتیں کر رہے تھے ۔ انکل مجیدجو کہ ایک کالج میں پروفیسر تھے کسی سے باتیں کر رہے تھے۔
’’اﷲکی مرضی ہے۔ وہ انسان کو اپنی مرضی سے پیدا کرتا ہے ۔ اس کا دل چاہے تو کسی امیر کے گھر پیدا کر دے۔ اس کا دل چاہے تو کسی غریب کے گھر پیدا کر دے۔اب دیکھو اللہ نے صفدر کو سب کچھ دیا۔ لیکن اب کیا رہ گیا ۔ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی شہید ہو گیا ۔اب صرف ایک بیٹی رہ گی ہے ۔سنا ہے بیٹے کی منگنی سلطان کی بیٹی سے ہوئی تھی ۔‘‘
میں کھلے آسمان کے نیچے لیٹا ہو ا تھا۔آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ یہ ستارے صدیوں سے چمک رہے ہیں۔انہوں نے زمین پر بہت کچھ دیکھا ہے ۔لوگوں کی خوشیاںدیکھی ہیں۔لوگو ں کے غم دیکھے ہیں۔ دور بہت دور ڈیرہ میںیا شاید اسی گھر میں بشری بھی کہیں ہے ۔اس پر کیا بیت رہی ہو گی ۔ بشری جو کہ میری تایا زاد ،ابوبکر سے اس کی منگنی ہو ئی تھی۔ ابوبکر اس سے بہت محبت کرتا تھا ۔وہ بھی اس کو دیکھتی تو اس کی آنکھوں میں جگنو سے چمک جایا کرتے تھے ۔آج کتنی اداس ہو گی۔ اس کی آنکھوںمیں کتنے آنسو ہوں گے۔ یہ سوچتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔جس دن میں کلثوم کو ملنے آپی رقیہ کی شادی سے دو دن پہلے گیا تھا ۔
اس دن میںنے ابوبکر سے کہا تھا۔’’ تم بھی میرے ساتھ چلو ۔‘‘
اس نے میرا ہاتھ پکڑکر دبا دیا تھااور کہا تھا۔
’’سمجھا کرو یار ۔ مجھے یہاں ہی رہنے دو ۔‘‘اس کی آواز میں خوشی رچی ہوئی تھی ۔میں نے کہا تھا۔
’’میں خالہ جان سے پوچھ لیتا ہوں ۔‘‘اس نے گھور کر دیکھا تھا ۔اور منت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔
’’ دیکھو امی کے سامنے نہ کہنا۔ ورنہ وہ کہے گی ۔چلے جاؤ۔ میں یہاں رہنا چاہتا ہوں۔‘‘
میں مسکرادیا تھا مجھے علم تھا کہ وہ وہاں کیوں رہنا چاہتا تھا۔ وہاں اس منگتیر جو تھی۔ میں نے پھر ا س سے کچھ نہ کہا تھا۔ اس دن وہ بشری سے دور نہ جانا چاہتا تھا۔ آج وہ کتنی دور چلا گیا تھا۔جس جگہ سے کوئی واپس نہیں آیا ۔ وہ دن جب کلثوم اور بشری نے مٹک مٹک کر ’ ’ لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا ‘‘ پر خوب ڈانس کیا تھا ۔کتنے زندگی سے بھر پور تھے وہ لمحے اور یہ لمحے اس زندگی کے منہ پر طماچے مار رہے تھے۔ ابوبکر سے میرا ساتھ بڑاکم رہا تھا ۔اس نے دس پندرہ خط لکھے تھے ۔میں نے دو یا تین ۔اس نے چند دن میرے ساتھ گزارے تھے ۔میں ان چند دنوں کو یاد کرتا رہا ۔کبھی میرے خیالوں میں کلثوم آ جاتی ۔کبھی سوچ بشری کی طرف چلی جاتی ۔انہی سوچوں میں رات کالی کرتا رہا ۔انکل مجید کی کسی سے بحث جاری تھی ۔اصل میں انکل مجید کچھ خود ہی بہرے تھے اس لیے ہمیشہ بلند آواز میں بات کرتے تھے۔ ایسی ہی کچھ باتیں تھیں جو سونے سے پہلے میرے کانوں میں پڑیں تھیں ۔اس وقت صبح ہونے والی تھی جب میں نیند میں ڈوبتا چلا گیا۔
…ژ…ژ…
علیم عالی میرے تایا زاد نے صبح مجھے اٹھایا ۔میں اٹھنے لگا تو اٹھا نہ گیا ۔اس نے محسوس کیا کہ میری طبیعت خراب ہے ۔میرا ہاتھ پکڑا اور بولا
’’تم کو تو بخار ہے ۔‘‘ دن چڑھ آیا تھا ۔گھر میں قرآن خوانی ہو رہی تھی ۔آج سوئم تھا ابو بکر کا ۔میں اٹھ بیٹھا۔ وہ میرے پاس ہی بیٹھ گیا ۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ ان کے سب گھر والے آئے ہوئے ہیں ۔ہم نے منہ ہاتھ دھویا ۔ناشتہ کیا ۔اورقرآن پڑھنے بیٹھ گئے ۔
تین بجے تک تقریبا جتنے مہمان آئے تھے وہ سب ہی چلے گئے تھے۔ امی جان ،خالہ عائشہ ،خالوصفدر علی ،کلثوم ،علیم عالی ،بشری ،تائی ،تایاسلطان وغیرہ سب نے ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔میں نے دیکھا ۔بشری کا پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہونٹ بھینچ کر بیٹھنا ۔کلثوم اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔خالو صفدر نے کھوکھلے لہجے میں کہا۔
’’اللہ نے دیا تھا ۔اللہ کی راہ میں وہ شہید ہوا ہے ۔دشمن ملک سے لڑتے ہوئے ،مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے ۔یہ تو ایک بیٹا تھا اللہ نے دس بھی دیے ہوتے تو سب ملک و اسلام پر قربان کر دیتا ۔ مرنے والے کے ساتھ کوئی مر نہیںجاتا ۔حقیقت یہ ہے کہ سب نے مرجانا ہے۔پھر کیا غم کیا خوشی ۔بس جب تک زندگی ہے جینا ہے ۔‘‘
کھانا کھانے کے بعد میں اور علیم عالی ابو بکر کے کمرے میں جا بیٹھے ،اس کی باتیں کرتے رہے ،تھوڑی دیر بعدبشری چائے لے آئی ۔میں اسے دیکھتا رہا ۔اس کا منگیتر نہیں رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی۔ یہ رونے اور راتوں کو جاگنے کی وجہ سے تھی ۔ اس کے کپڑے بھی بدلے ہوئے تھے ، وہ ہمارے پاس ہی بیٹھ گئی ۔ اس نے چائے میز پر رکھ دی تھی ، اور اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔اسی وقت کلثوم بھی چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر وہاں آ گئی ۔
’’آپ یہاں بیٹھے ہیں میں نے سارے گھر میں دیکھا۔‘‘
میں نے پوچھا ۔’’خیر تھی ۔‘‘ اس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا
’’ہاں وہ کل آپ سب چلے جائیں گے تو ۔تو گھر کتنا ویران ہو جائے گا۔میں اور امی سارا سارا دن ابوبکر کو یاد کیا کریں گے ۔اب جتنی دیر آپ سب ہیں ۔آپ کے ساتھ وقت گزار لوں ۔پھر کون سا آپ میں سے کسی نے ملنے آنا ہے ۔ ‘‘اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’میں نہیں جاؤں گا۔ میں تمھارے پاس رہوں گا۔مجھے دنیا میں کوئی کام نہیںہے ۔ میں فضول آدمی ہوں ۔میں تمھارے کسی کام تو نہیں آؤں گا ۔بلکہ شاید میں دکھ ہی دوں ۔ میں اکثر دوسروں کو دکھ دیتا رہتا ہوں ۔ میرے پاس وقت بہت ہے ۔ بلکہ ہے ہی وقت صرف ۔‘‘
میر ی آواز میں دکھ تھا ، بے بسی تھی ۔ حالات کا کرب تھا۔ وہ تڑپ گئی۔
’’نہیں نہیں ۔میرا مطلب تھا ہمارے ہاں رسم بن گی ہے کہ کسی کی شادی پر جانا ہے یا اس کی فوتگی پر ،اس سے ویسے ملنے نہیں جانا ۔اب بھائی عالی پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے ہیں ۔میرا بھائی فوت نا ہوتا تو کبھی نہیں آتے ۔اسی طرح آپ نے کتنے وعدے کیے تھے کہ آو گے لیکن نہیں آئے ۔میں نے کتنا انتظار کیا ۔‘‘میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ میرے حالات کیسے رہے ہیں لیکن اس نے جلدی سے چائے کے برتن اٹھائے اور چلی گی ۔ہم تینوں اسے دیکھتے رہ گئے ۔دوسرے دن صبح چھ بجے ہم سب اپنے گھر کو روانہ ہوگئے ۔اور بقول کلثوم اس کا گھر ویران ہوگیا ٭٭٭
اس سے اگلے دن کی بات ہے ۔ جس جگہ میں پہلے کام کرتا تھا وہاں گیا تو جواب مل گیا۔ انہوں نے ایک نیا لڑکا کام پر رکھ لیا تھا۔میں چھ دن کے غیب کے بعد آیا تھا۔ انہوں نے کام لینا تھا۔ انہیں کام کی ضرورت تھی۔ بے روزگار وں کی کمی نہیں تھی۔ وہی کام جو میں 12000پر کر رہا تھا۔ اس کام کے لیے انہوںنے 10000 روپے پر لڑکا رکھ لیا تھا ۔میں منہ لٹکا کر آگیا۔جو آدمی ان حالات سے گزرتا ہے وہی اس کرب سے واقف ہوتا ہے ۔جو تن لاگے سو تن جانے۔پھر اس ناقدری اور سبکی کے احساس کو الفاظ میں بیان کرنا تو بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔دن گزرتے رہے اورمیں کٹی پتنگ کی طرح ادھر ادھر اڑتا رہا ۔میرے پاس سفارش نہیں تھی ۔ اور رشوت دینے کے پیسے نہیں تھے ۔ اس بات سے تو سب ہی واقف ہیں کہ ناجائز کام ہو یا جائز کام ہو وہ رشوت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔میرٹ، ایمان داری ، خلوص یہ صرف کتابی باتیں ہیں ۔حقیقی زندگی میں یہ ناکامی کی علامتیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سچ بولنا تو ویسے ہی گناہ ہے ۔
میں نے ٹیکسٹائل مل میں کام کیا ۔کاٹن فیکٹری میں ۔ویلڈنگ کی دکان پر،کریانہ اسٹور پر،وکیل کا منشی ،اسٹامپر فروشی کا پھر ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچنگ کا اور ایسے ہی بہتا بہتا اس فیکٹری میں جا پہنچا جہاں ابو جان بطور کلرک یا منشی کے کام کرتے رہے تھے ۔مالک اشرف صاحب اخلاق سے ملے ۔تعارف کے بعد انہوں نے نوکری دے دی ۔زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا ۔کیا اس ٹھہراو کا نام سکون ہے تو کچھ سکون میسر آیا ۔وہاں سب ابا جان کے دوست ،ان کے ساتھ کام کرنے والے تھے ۔اس وجہ سے میری کسی نے ٹانگیں نہیں کھینچیں ۔تنخواہ بھی اچھی مل گئی پورے18000 روپے ۔میں سائیکل پر جاتا ،معاشی طور پر یا نوکری کی طرف سے سکون میسر آیا تو کئی ایک ادھورے کام یاد آئے ۔بھائی زیر تعلیم تھے ۔ایک نے میٹرک دوسرے نے ایف اے کر لیا تھا ۔بہن گھر میں بیٹھی تھی ۔والدہ اکثر بیمار رہتی تھیں ۔میں نے ان کی ضروریات کی لسٹ بنائی اور رفتہ رفتہ ان کی ضروریات پوری کرنے لگا ۔ایسے حالات میں بھلا کیسے کلثوم کے خواب دیکھتا ۔لیکن رات کو سونے سے پہلے وہ خیالوں میں چلی آتی ۔میں اس سے باتیں کرتا ۔
تایا زاد بھائی کفیل سے ایک دن ملاقات ہوئی اس نے میڑک مجھ سے ایک برس پہلے کیا تھا۔ اور عرصہ چار برس تک ایک میڈیکل اسٹور پر کام کرتا رہا تھا اور اب چھ ماہ سے اس نے اپنا میڈیکل اسٹور کھول لیا تھا ۔ وہ ایک کامیاب آدمی تھا۔ مجھے کام سے واپسی پر سرِراہ ملا تو میرے ساتھ ہی ہمارے گھر آگیا۔ مجھ سے پوچھا’’آج کل کیا کر رہے ہو۔‘‘
میں نے اپنا کام بتایا ۔’’ یار تم بھی کوئی کام مستقل مزاجی سے نہ کرنا۔ تیرے والد بھی پوری عمر کوئی کام نہ کر سکے ۔ تم بھی ویسے ہی زندگی گزار دو گئے۔‘‘کفیل بھائی سچ کہ رہے تھے۔ مگر مجھے ایسے لگا جیسے کوئی گالی دے رہے ہوں۔ میں نے ضبط کیا اور صرف اتنا کہا۔
’’ یہ آدمی کے اختیار میں کب ہوتا ہے ۔‘‘اس نے اپنی مثال دی۔’’اب اﷲکے فضل سے اپنا میڈیکل اسٹور ہے روزانہ 800 روپے کم از کم بچت ہے یہ صرف اور صرف محنت اور مستقل مزاجی اور درست منصوبہ بندی کے وجہ سے ہے ۔‘‘
وہ چپ ہوئے تو میں کہا ’’ بھائی مجھ کو تو سمجھ نہیں آتی کیا کروں‘‘
انہوں نے کہا ۔’’بس عقل کی بات ہے ۔ اس دنیا میں صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ جن میں عقل ہوتی ہے میری بات کا برا نہ ما ننا ۔تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔یہ بات میں لکھ کر دے دیتا ہوں۔‘‘
میرا دل تو چاہا کہ اس کا منہ نوچ لوں مگر اس سے حاصل کچھ نہیں تھا۔ اس لیے اس کی زہر بھری باتیں سنتا رہا۔ جب برداشت نہ ہوئیں تومیں نے دلیل سے اپنے حالات بتائے۔
’’آپ کو بھائی اچھا اسٹارٹ مل گیا تھا۔ ایک واضح راسۃ ،آپ نے اس راستے پر محنت کی اور آپ کے پاس اتنے پیسے تھے کہ آپ نے میڈیکل اسٹور کھول لیا ۔‘‘
میں ایک لمحے کو رکا اسے غور سے دیکھا اور دوبارہ کہا ۔’’ جب میں نے کام شروع کیا تو گھر کے حالات دگرگوں تھے۔ مجھے والد کی ادویات خرید ناتھیں گھر کا چولہا جلانا تھا۔ آپ کے ساتھ خدا کے فضل سے کوئی ایسی پرابلم نہیں تھی۔ابو کی وفات کے بعد ہم مقروض تھے وہ قرض اتارنا تھا ۔آپ نے چار سال تک بنا تنخواہ کے کام کیا ۔تب یہاں تک پہنچے ۔ اور میرے گھر میں چار ماہ تک گزارہ مشکل تھا۔‘‘
مگر میری یہ دلیل ان کے سر پر سے گزر گئی ۔کہنے لگے ۔’’تم اب بھی کوئی کام مستقل طور پر کرلو ۔‘‘ میں نے ان سے وعدہ کیا ۔
امی جان نے چائے اور بسکٹ سے ان کی ضیافت کی۔ وہ تکلف کرتے رہے۔ پھر باتوں کا موضوع بدل گیا۔امی جان بھی وہاں موجود تھی جب اس نے بتایا ۔’’میں جلد امی ابو کو خالہ عائشہ کے گھر بھیج رہا ہوں تاکہ کلثوم کا رشتہ پوچھ آئیں ۔‘‘
میری تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔دل چاہا ۔ کفیل کو مارنا شروع کر دوں ۔
کفیل میرے حالات سے بے خبر اپنی سنائے جا رہا تھا اور امی جان بھی سن رہی تھیں ۔امی جان کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس کا بیٹا کلثوم سے کتنی محبت کرتا ہے۔میری محبت کے بارے میں چند افراد کو ہی علم تھا۔جن میں ایک بشری تھی۔ کیا اس نے بھی کفیل کو نہیں بتایا تھا ۔میں نے غور سے اسے دیکھا کہ مذاق تو نہیں کر رہے ۔لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ویسے بھی کفیل بھائی سے میری بے تکلفی نہیں تھی ۔میں تو ان کے اسٹور پر بھی بہت کم جایا کرتا تھا ۔جب تک والد زندہ رہے ہماری تایا جان سے کشیدگی رہی ۔ان کی وفات کے بعد علیم عالی و بشری اور تائی سے کسی حد تک تعلق قائم ہوا تھا ۔تایا جان تو ابا جان کی وفات کے بعد اب تک ہمارے گھر نہیں آئے تھے ۔ کفیل بھائی امی جان سے کہہ رہے تھے۔
’’چچی میری بات پلے باندھ لیں ۔خرم کی شادی تب کرنا جب یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے کوئی کام کرنے لگ جائے ۔بعد میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔‘‘ مگر مجھے کچھ سنائی نہ دے رہا تھامیں وہاں سے اٹھ آیا۔میں گھر سے تو باہر نکل آیا تھا۔ مگر جاتا کہاں۔ کسی جگہ قرار نہ تھا ۔میرے لیے ہر جگہ ایک جیسی تھی ۔ میں واپس آ گیا۔اس وقت کفیل اپنے گھر جانے کے لیے تیار تھے ۔
رات ہو رہی تھی آج میں بہت اداس تھا۔ بہت اضطراب تھا۔ بہت بے چینی تھی ۔آج میں بہت اداس تھا ۔ مجھے متلی سی ہو رہی تھی۔ دل گھبرا سا رہا تھا مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ میرے ساتھ جو ہو رہا وہ درست ہو رہا ہے یا کہ غلط ہو رہا ہے ۔میرا دماغ خالی خالی سا تھا مجھ سے شام کا کھانا بھی نہ کھایا گیا۔ میرا تو سینہ بند ہو رہا تھا۔ رات بھر میں لیٹا چھت کو تکتا رہا۔
میں نے سوچ لیا تھا کہ کلثوم سے بات کرو ں گا کہ وہ کفیل کا رشتہ آئے تو انکار کر دے۔ وہ خود بھی مجھے پسند کرتی تھی ۔ میری خامی یہ تھی کہ میں غریب تھا اور میرا کوئی خاص مستقبل نہ تھا۔ مگر کفیل سے میں خوبصورت زیادہ تھا ۔میری عمر بھی اس سے دوچار سال کم ہو گی۔ یوں مجھے ڈھارس بندھ گئی تھی۔اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کلثوم مجھے پیار کرتی تھی ۔میں نے برسوں خیالوں میں اسے سوچا تھا ۔
میں رابعہ کی شادی کر دیتا اس کے بعد مجھے کوئی فکر نہیں تھا۔ امی جان نے رابعہ کی پیدائش سے ہی اس کا جہیز بنانا شروع کردیا تھا ۔رابعہ کے رشتے بھی آ رہے تھے۔ بس انتخاب کرنا تھا۔ امی جان میری اور رابعہ کی شادی ایک ساتھ ہی کرنا چا ہتی تھی۔ مگر ابو کا خیال تھا کہ پہلے رابعہ کی کردی جائے خرم کی بعد میں دیکھی جائے گئی۔اب ابو نہیں رہے تھے فیصلہ مجھے کرنا تھا ۔میںنے رابعہ کی شادی کا فیصلہ کر لیا ۔
سردیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا ۔دھند گزشتہ کئی ایک سال سے زیادہ پڑ رہی تھی ۔سعید دو دن سے بیمار تھا ۔اسے ٹھنڈ لگ گئی تھی ۔اس رات اس کی بیماری میں اچانک شدت آگئی ۔اس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور محسوس ہونے لگا کہ بس اب آخری وقت قریب آ گیا ہے ۔میں گلی میں آن کھڑا ہوا ۔کار اسٹینڈ دور تھا ۔ایک رکشہ پکڑا ۔میں نے اور حمید نے اسے رکشہ میں بٹھایا ۔ساری رات اسپتال میں کٹ گئی ۔صبح طلوع ہونے کے ساتھ دو پریشانیاں تھیں ۔گھر جانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے ۔اور گھر میں بھی پیسے نہیں تھے ۔ابھی سعید کو مکمل آرام نہیں آیا تھا لیکن اب وہ یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ آرام محسوس کر رہا ہے ۔ اْس کے سینے کا درد اور بخار اچانک غائب ہو گئے ہوں ۔ اور اس کا چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہشاش بشاش دکھائی دے رہاتھا۔لیکن ڈاکٹر نے کہا تھااس کے سینے میں شدید انفکشن ہوا ہے ۔اسے اسپتال میں ہی داخل رہنے دو ۔میں نے حمید کو وہاں چھوڑا اور خود پیدل ہی گھر کی راہ لی ۔گھر تک سوچوں میں گم پہنچ گیا ۔دروازے پر دستک دینے سے پہلے خیال آیا ’’مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور گھر میں تو کوئی پیسے نہیں ہیں ۔‘‘اسی وقت دروازہ کھل گیا سامنے امی کھڑی تھی ۔اسے کیسے علم ہوا کہ میں آنے والا ہوں ۔میں نے سوچا اور سلام کے بعد گھر داخل ہو گیا ۔
’’کیسا ہے اب سعید ۔‘‘اس نے پہلا سوال پوچھا ۔’
’’اب بہت بہتر ہے ۔‘‘میں نے کہا ۔رابعہ مصلے پر بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی ۔مجھے دیکھا تو قرآن پاک بند کر کے اندر رکھنے چلی گئی ۔واپس آ کر مجھ سے لپٹ گئی جیسے صدیوں کی بچھڑی ہو ۔میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا ۔آدھے گھنٹے بعد میں تایا جان کے گھر تھا ۔میں نے صرف عالی کو حالات بتائے اس نے نہ صرف دو ہزار لا کر دیے بلکہ میرے ساتھ ہی چل پڑا ۔وہ سیدھا اسپتال چلا گیا ۔میں امی اور رابعہ کو تانگے پر ہسپتال لے آیا ۔حمید باہر ہی مل گیا ۔رات کو جاگ کر اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ہم سعید کے پاس پہنچے اب محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ پچھلے دو تین دن سے وہ بستر پڑا ہوا تھا اور اْس کی حالت سخت خراب تھی ۔ وہ تکیے سے ٹیک لگا کر بستر پر بیٹھا تھا ۔شام تک عالی اسپتال رہا ۔اس کے جانے کے بعد میں نے حمید اور امی وغیرہ سے کہا کہ وہ بھی گھر چلی جائیں ۔کافی دیر سے سعید سو رہا تھا ۔کمرے میں اب کچھ اندھیرا ہونے لگا تھا ۔ہم نے کافی دیر سے سعید کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تھی ۔ اب جب امی جب گھر جانے سے پہلے اسے دیکھنے اس کے بستر کے پاس پہنچی اسے جگانے کی کوشش کی ،اسے ٹٹولا اس کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی ۔امی چونکی ۔مجھے آواز دی ۔رابعہ مجھ سے پہلے پہنچی ۔میں ڈاکٹر کو بلانے چل پڑا ۔جب میں ڈاکٹر کو لے کر آیا۔ امی جان ، سعید کے بسترپر اس سے لپٹ کر رو رہی تھی ۔نرس نے امی کو پکڑ کر الگ کیا ۔ڈاکٹر نے سعید کی نبض چیک کی ،سینے پر زور زور سے ہتھڑ مارے ۔میری طرف مایوسی سے دیکھا ۔اب کہنے کو کچھ نہیں رہا تھا ۔وہ جسے ہم سمجھ رہے تھے کہ سعید سو رہا ہے ۔وہ اس وقت سے موت کی نیند سو رہا تھا ۔
…ژ…ژ…
تین ماہ گزر گئے ایک دن کام سے چھٹی کے بعد میں سیدھا تایا جان کے گھر جا پہنچا۔علیم عالی مل کر بہت خوش ہوا ۔ عالی اور کفیل میں فرق یہ تھا کہ کفیل خود کو بہت بڑی توپ سمجھتا تھا ۔اس میں غرور بھی پایا جاتا تھا ۔علیم ایسا نہیں تھا ۔حلانکہ دونوں بھائی تھے ۔عالی نے بی اے کرنے کے بعد زمین داری سنبھال لی تھی ۔مال مویشی رکھے تھے ۔دو ایکڑ ان کی اپنی زمین تھی ۔باقی اس نے ٹھیکے پر لے رکھی تھی ۔تایا جان نے اب کام چھوڑ دیا تھا ۔حقہ ہوتا اور تایا جان ہوتے ،ان کے دوست ہوتے ،جوانی کے قصے ہوتے ۔تائی اس گھر میں سب سے ہمدرد خاتون تھی ۔بشری تھی گھر میں رقیہ کی شادی ہو چکی تھی ۔تایا جان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سورج غروب ہو گیا ۔ان کے ہر سوال میں کفیل کی طرح پیسہ لازمی ہوتا تھا۔ اپنی تعریف لازمی ہوتی تھی ۔ہم اعلی ہیں تیرا باپ گھٹیا تھاکیونکہ وہ غریب تھا ۔
شاید یہ ہی وجہ تھی کہ اباجان کی تایا جان سے بنی نہیں تھی ۔اب یہ خامی یا خوبی کفیل میں پائی جاتی تھی ۔میں بڑی مشکل سے ہربات کے جواب میں بین السطوربتاتا رہا کہ
’’آپ اعلی ہیں ،عقل مند ہیں ،پیسے والے ہیں،میرا والد بے وقوف تھا ،میں بے وقوف ہوں ۔کیونکہ ہم غریب ہیں ۔‘‘
علیم بھی میرے ساتھ بور ہوتا رہا ۔خدا خدا کر کے ہماری جان چھوٹی ۔ہم گھر میں داخل ہوئے ۔دروازے پر علیم کہنے گا ۔
’’آپ ابو کی بات کا برا نہ منایا کریں ۔‘‘
’’مجھے علم ہے کہ ان کی عادت ہے ۔‘‘میں نے جواب دیا ۔
تائی بڑے تپاک سے ملی ۔بشری چپ چپ تھی۔وہ شوخیاں ،وہ تبسم ،وہ قہقہے نہ رہے تھے ۔جیسے ہی تنہائی کا وقت ملا کہنے لگی ۔’’خرم بھائی آپ کو ایک بات بتانا تھی ۔‘‘
میں نے کہا ۔’’میں نے کب روکا ہے بتادو۔‘‘
’’ کفیل کہتے ہیں ،میں نے شادی کرنی ہے تو صرف کلثوم سے ۔میں نے اسے بتایا کہ کلثوم خرم سے محبت کرتی ہے ۔لیکن وہ سمجھ نہیں رہے ‘‘
اسی وقت عالی بھی واپس آگیا ۔بشری نے مایوسی سے مجھے دیکھا ۔میں نے کہا ۔’’آپ بات جاری رکھیں ۔‘‘
وہ ہمارے پاس ہی بیٹھ گی ۔’’کفیل بھائی اور کلثوم میںاب موبائل پر روزبات بھی ہوتی ہے ۔‘‘ان دنوں نئے نئے موبائل مارکیٹ میں آئے تھے ۔اور چند ایک ماڈل ہی دستیاب تھے ۔جن میں 3310 بھی شامل تھا جو بعد ازاں بابائے موبائل کہلایا ۔
’’اچھا اگر یہ بات ہے تو میں کلثوم سے ایک بار بات کر لیتا ہوں ۔‘میں نے عالی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’ہم نے بھائی کو بتایا ہے کہ خرم اور کلثوم بچپن سے ایک دوسرے کو چاہتے ہیں ۔اور ان میں دوستی ہے لیکن وہ نہیں مان رہے ،وہ کہتے ہیں…‘‘
’’کیا کہتے ہیں ۔؟‘‘
’’کہتے ہیں ،دوستی ہے تو کیا ہے کزن ہیں۔بچپن کی محبت کچھ نہیں ہوتی ۔عورت کی زندگی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ اور ۔۔۔۔۔۔‘‘
اس نے ہونٹ بھینج لیے ۔میں نے اس نے چہرے پر نظریں گاڑ دیں اور پوچھا ۔’’اور۔۔۔۔کیا کہتا ہے ۔‘‘
’’نہیں کچھ نہیں بس ۔‘‘
’’پھر بھی ۔۔۔۔‘‘میں نے زور دے کر کہا ۔تو اس نے نظریں جھکا کر بتایا ۔
’’کہتا ہے ،خرم کے پاس ہے کیا ۔نہ نوکری،نہ پیسے ۔صرف شکل صورت اور اچھی اچھی باتیں کرنے سے زندگی بسر نہیں ہوتی نہ پیٹ بھرتے ہیں اور نہ ہی اس معاشرے میں عزت ملتی ہے ۔‘‘
میں نے کہا ۔
’’بے شک کڑوا ہے لیکن سچ یہی ہے ۔پھر بھی دیکھتے ہیں ۔میں جلد فیصل آباد جائوں گا ۔مجھے اپنی بہن کی زیادہ فکر ہے ۔اس کی شادی کی فکر ہے ۔‘‘میں دل کی بات زبان پر لے آیا ۔
’’آپ فیصل آباد جائیں ،پہلے کلثوم سے بات کریں ۔رابعہ کی فکر چھوڑ دیں ۔‘‘عالی جو اب تک خاموش تھا اچانک بول پڑا ۔
میں نے اس پر صرف عالی کی جانب دیکھا ۔
’’آپ نے اب تک کلثوم سے کوئی خاص رابطہ بھی تونہیں رکھا۔‘‘بشری کہنے لگی
’’بھائی کفیل سابقہ چار ماہ میں چار مرتبہ فیصل آباد سے ہو آئے ہیں ۔‘‘ہماری خاموشی پر بشری نے ہی دوبارہ بتایا ۔
ہم ایسی ہی باتیں کر رہے تھے جب تائی جان وہاں آ بیٹھی ۔پھر باتوں کا موضوع بدل گیا ۔ایک گھنٹا وہاں گزار کر میں گھر لوٹ آیا ۔علیم عالی باہر تک چھوڑنے آیا تھا۔رات ڈھل گئی تھی جب میں گھر آیا ۔رابعہ نے کھانا دیا ۔ حمید کو میں نے اپنے کمرے میں بلایا ۔ان سے تعلیم کا پوچھا ۔حمید اختر نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ اس نے کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا ۔جو پیسے میں نے اسے دے تھے وہ اس کے پاس تھے ۔وہ ایک الیکٹریشن کی دکان پر کام کر رہا تھا ۔اسے کام کرتے ہوئے دوماہ ہو چکے تھے ۔اب اسے پیسے بھی مل جاتے تھے روز کے بیس روپے ۔اس نے اس راز میں کسی کو شریک نہیں کیا تھا۔وہ صبح کالج جانے کی تیاری کرتا ۔شہر دکان پر جاتا ۔وہاں کپڑے تبدیل کر کے کام کرتا ۔شام دوبارہ کپڑے تبدیل کر کے گھر واپس آجاتا ۔میں نے کچھ اور کہنے کے لیے بلایا تھا ۔لیکن بھائی کی یہ بات سن کر میری آنکھیں بھر آئیں ۔میں نے اٹھ کر اسے سینے سے لگا لیا ۔مجھ سے تو کچھ کہا بھی نہیں گیا ۔مجھے خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی ہوا ۔
…ژ…ژ…
میں نے اپنے دھڑکتے دل سے دروازہ پر دستک دی۔ تھوڑی دیر کے بعد کلثوم کی آواز آئی ۔’’کون ہے ؟‘‘
’’ایک پردیسی۔‘‘
’’کون پردیسی۔‘‘آواز میں روکھا پن تھا ۔
میں نے اپنا نام بتایا تو اس نے جھٹ دروازہ کھول دیا۔ لیکن دروازے کو پکڑے ہی رہی ۔ یا پھر طاق چھوڑ نے کا اسے خیال نہیں آیا وہ مجھے دیکھتی ہی رہ گئی ۔میں نے بھی اسے کافی عرصے کے بعد دیکھا تھا۔اس کا جسم بھر گیا تھا وہ موٹی نہیں تھی لگتی تھی ۔اس کا بدن کسا کسا ساتھا ۔یا اس نے کسا کسا سوٹ پہنا تھا۔آنکھوں میں چمک پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے کبھی مجھے اس طرح ایک ٹک دیکھا بھی نہیں تھا ۔
میں نے قدم اس کی طرف بڑھا دیے۔ وہ سامنے سے ہٹی نہیں۔ میں نے ایک ہاتھ سے اسے سائیڈ پر کرنا چاہا ۔ اس نے مجھے باہوں میں بھرلیا۔دروازہ کھلا تھا ۔میں نے ٹانگ مار کر اسے بند کیا ۔وہ پہلی مرتبہ میرے گلے نہیں لگی تھی۔ مگر اب کے بات اور تھی۔ مجھے یقین ہو گیا وہ مجھ سے اب بھی محبت کرتی ہے۔ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے ۔یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہے ۔اس وقت میں نے سوچا اندر آنٹی ہو گی۔ وہ کیا سوچے گی ۔میں نے سر گوشی کی ۔’’خالہ کدھر ہے؟‘‘
’’وہ چچا اکبر کے گھر گئی ہے ۔‘‘اس کی آواز میں لرزش تھی ۔
میں نے اسے چھوڑا تو اس نے دروازہ کو کنڈی لگا کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’ میں تمھارا روز انتظار کرتی تھی ۔ مگر تم تو مجھے بھول گئے ۔تم کو علم ہے کہ تم میری پہلی محبت ہو ۔‘‘
’’ دوسری محبت کو ن سی ہے ؟‘‘میں نے اس کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے سب سے اہم سوال پوچھا۔
اس نے گھور کر مجھے دیکھا اور بات بدل دی ۔’’آج سے پانچ برس پہلے جو میں نے رابعہ کو خط دیا تھا۔کیا تم کو مل گیا تھا ۔‘‘
میں نے اقرار میں گردن ہلا دی۔
’’ تو تم نے جواب کیوں نہیں دیا۔‘‘
’’ جواب کی بجائے میں خود جو آگیا ہو ں ۔‘‘
’’بڑی جلدی آ ئے ہیں آپ ۔‘‘
کمرے میں آ کر اس نے بستر کی چادردرست کی۔ میں بیٹھ گیا ۔ کہنے لگی ۔
’’بولو کیا کھاؤ گے ۔ کیا پیو گے ۔‘‘
میں نے کہا۔’’ بس تم میر ے پاس بیٹھ جاؤ۔ تمھاری آنکھوں سے ہی پیوں گا۔‘‘
’’ مجھ سے شادی کرلو ۔ میں تمھاری ہو جاؤں گی۔‘‘
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا ۔اس نے مزاحمت نہیں کی۔ میرے ہاتھ جب حد سے آگے بڑھے تو اس نے مجھے روک دیا۔
’’ ابھی اتنا حق آپ کو حاصل نہیں ہے ۔یہ حق نکاح کے بعد ملتا ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’اچھا نکاح بھی ہو جائے گا ۔‘‘
’’میںاس رات کا انتظار کرتی رہوں گی۔‘‘
اس نے اپنے لباس کو درست کیا ۔بال سنوارے اور بھاگ کر منہ ہاتھ دھوآئی۔تو لیے سے منہ صاف کیا۔گیلا تولیہ میرے منہ پر پھیرا اور کہنے لگی ۔
’’ اب کوئی شرارت نہ کرنا ۔ امی جا ن کسی لمحے بھی آسکتی ہے ۔‘‘
’’ میرے ساتھ آجاؤ۔ باورچی خانے میں ۔ہم باتیں کرتے ہیں ۔ورنہ امی ناراض ہو گی کہ میرے بھانجے کو کچھ کھلایا نہیں ۔‘‘
میں اس کے ساتھ باورچی خانے میں آگیا۔
’’ تم سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘ اس نے مجھے دیکھا ۔
’’تمہاری باتیں تو سننے کے لیے آیا ہوں ۔‘‘
’’ میرے رشتے آرہے ہیں۔ ابو جان کہہ رہے تھے کہ ہم نے کلثوم کی شادی وہاں کرنی ہے جو گھر داماد بن کر رہے۔‘‘ہمارے درمیان خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا اس دوران چائے بن گی ۔اس نے دو کپ بھرے ۔ایک میرے ہاتھ میں تھما دیا ۔پھر خود ہی خاموشی کو توڑا
’’میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ تم میری خاطر یہ بات قبول کرلو۔‘‘
’’شاید یہ ممکن نہ ہو۔‘‘میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
’’ مگر میری خواہش ہے کاش تجھ سے شادی ہو جائے ۔تم جا کر اپنی امی کو بھیجو تو سہی ۔‘‘
’’وہ تو میں بھیج دوں گا ۔لیکن سوچ لو ۔اب انکار کا دکھ ان سے برداشت نہ ہوگا ۔‘‘
’’ ایک بات اور کرنا ہے ۔تمھارے تایا جان ایک ماہ پہلے آئے تھے ۔انہوں نے کفیل کے بارے میں بات کی تھی ۔اس رات ہی ابو نے امی سے گھر جوائی رکھنے کا کہا تھا۔اب ان کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں ۔ایک لحاظ سے وہ ٹھیک ہی سوچتے ہیں ۔‘‘
’’خالہ عائشہ ابھی تک نہیں آئیں ۔‘‘میں نے پوچھا
اس نے بتایا ۔’’ چچی سعدیہ کی طبیعت خراب ہے کوئی زچگی کا مسلہ ہے۔‘‘
ہم چائے کے کپ پکڑے باورچی خانے سے باہر نکل آئے ۔برآمدے میں پڑی چارپائی پر میں بیٹھ گیا ۔سامنے ایک سٹول رکھ کر وہ بھی بیٹھ گی ۔ہم ابو بکر کی ،سعید کی باتیں کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی ۔
میں نے جا کر دروازہ کھول دیا ۔ خالہ عائشہ تھی اس کا رنگ اڑا ہو ا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گی ۔پھر مجھے گلے لگایا۔ اور کلثوم کا پوچھا ۔میں نے کہا اندر ہے ۔
خالہ عائشہ اندر آئی اور میرے بارے میں پوچھا۔’’ کب آئے ۔‘‘
’’ ابھی تھوڑی دیر پہلے ۔‘‘
’’اچھا ہوا تم گھر میں ہو ۔مجھے دوبارہ جا نا ہے ۔سعیدہ کو اسپتال لے کرجاناہے ۔میں کلثوم کو لینے آئی تھی ۔کچھ کھایا پیا ہے یا نہیں ۔‘‘
اتنی دیر میں کلثوم بھی کمرے سے نکل آئی ۔یہ ہی باتیں خالہ نے کلثوم سے کیں اور کہا ۔’’خرم کو بازار بھیج کر گوشت منگوا لو ۔شام کا کھانا تیار کر لو ۔میں اسپتال جا رہی ہوں ۔شام کو تمہارے ابو آ جائیں گے ۔ تو اس کے ساتھ ہی تم دونوںبھائی اکبر کے گھر آ جانا ۔‘‘
کلثوم نے کہا ۔’’ٹھیک ہے امی ۔ویسے سعدیہ کیسی ہیں اب ۔‘‘
’’دعا کریں ۔‘‘ یہ کہہ کر خالہ دوبارہ واپس جانے کو مڑ ی تو کلثوم نے کہا ایک منٹ رک جائیں ۔وہ باورچی خانے میں گئی اور خالہ کو چائے لا کر دی ۔چائے پینے کے دوران خالہ تاکید کرتی رہی ۔’’گوشت منگوا لینا ،کھانا جی بھر کر کھانا ۔تمہاری امی کیسی ہے ؟ رابعہ کیسی ہے ؟ حمید کیا کرتا ہے ؟ ‘‘۔میں انہیں ان باتوں کے جواب دیتا رہا ۔جب وہ جانے لگی تومیں نے کلثوم سے کہا ۔’’میں ابھی آیا ۔‘‘اور خالہ کے ساتھ ہی گھر سے نکل آیا ۔خالہ اپنے دیور اکبر کے گھر کی طرف مڑ گی اور میں بازار کی طرف۔ آدھے گھنٹے بعد میں گوشت لے کر واپس آگیا تھا ۔دن کے بارہ بج رہے تھے ۔وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔اس کا لباس بھی بدلا ہوا تھا ۔اس نے اس آدھے گھنٹے وقت ضائع نہیں کیا تھا ۔اس نے آٹا گھوندھا ،روٹیاں پکائیں ،دو انڈے پکائے میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔اس کے چہرے پر سکھ کے آثار تھے میں اسے تکتا رہا۔ میں اس کے ساتھ ہی باورچی خانے میں بیٹھا اسے جی بھر کر دیکھتا رہا ۔کہنے لگی میرے چہرے پر کیا دیکھتے ہو میں نے بتایا’’میں تجھے دیکھنے کو ترس گیا تھا سوچا آج جی بھرکے دیکھ لوں پھر زندگی میں موقع ملے نہ ملے۔ ‘‘
تجھے دیکھا ہے آج برسوں کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
اس نے با ت بدل دی کہنے لگی ’’اپنے بالوں کا خیال رکھا کرو‘‘ اور مانگ بائیں طرف نکالا کرو ۔‘‘
میں نے کہا’’ میں اپنی طرف سے کافی بے پروا ہوں ۔تم میری ہو جاوگی تو مجھے اٹھنا بیٹھنا اور بن سنور کر رہنا آجائے گا۔‘‘
کھانا کھانے کے بعد وہ میرا لایا ہواگوشت دھونے لگی ۔میں نے کہا ۔’’ابھی تو کھانا کھایا ہے ۔‘‘
اس نے شوخ نظروں سے دیکھا ۔’’یہ تو شام کے لیے ہے ۔‘‘
’’شام تو ابھی بہت دور ہے ۔‘‘۔’’دور ہے تو پھر کیا کریں ۔‘‘
میں نے اٹھ کر اس کا بازو پکڑلیا ۔اس نے گوشت کو وہیں چھوڑا ۔اٹھ کھڑی ہوئی ۔مجھے کہنا نہیں پڑا ۔خود ہی میرے گلے لگ گی ۔
مجھ پر نشہ چھانے لگا ۔میں نشے میں بہتا بہتا روشنی کے ساتھ ساتھ دور بہت دور نکل گیا ۔مجھ پر روشنی کی برسات برس رہی تھی ۔ہم بار بار اس روشنی میں خوب نہائے ۔نہا دھو کر اس نے لباس بدلا۔ وہ کلی سے پھول بن کر نکھر گی تھی ۔اس کی چال بھی بدل گی تھی ۔میں نے نہا کر اپنے ساتھ لایا دوسرا سوٹ پہنا بائیں طرف مانگ نکالی ۔ شیشے میں خود کو دیکھا تو دیکھتارہ گیا۔بالوں کا انداز بدل دینے سے بھی آدمی کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے۔ اس بات کا مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا۔وہ گوشت پکا رہی تھی ۔میں پاس جا بیٹھا ۔مجھے دیکھ کر اس نے شرما کر گردن جھکا لی ۔وہ تھوڑی دیر پہلے والی کلثوم لگ ہی نہیں رہی تھی ۔
’’ میں تم سے محبت کرتی ہوں اﷲکرے تم سے شادی ہو جائے اور اگر بدقسمتی سے نہ ہوئی۔تو بھی میں تم سے محبت کرتی رہوں گی۔ محبت کا مطلب شادی ہونا نہیں ہوتا۔ محبت تو دوررہ کر بھی جاسکتی ہے۔ تم مجھ سے وعدہ کرو مجھ سے ملتے رہو گے ۔تمام عمر ۔ ‘‘
ایسا کہتے ہوئے مجھے اس کی آنکھوں میں آنسو محسوس ہوئے ۔ تھوڑی دیر تک میں چپ رہا پھر میں نے اس سے کہا ۔
’’کلثوم میں ایسی محبت کا قائل نہیں ہوں ۔جس میں تم مجسم میری نہ ہو۔ اس محبت کا کیا فائدہ کہ تم کسی اور کی ہو جاؤ اور میں تمھاری یاد میں آہیں بھرتا رہو ں۔ باشعور انسان حقیقت کو دیکھتے ہیں کسی بھی لڑکی سے محبت اس کو اپنانے کے لیے کی جاتی ہے ۔دور رہ کر یا لڑکی کسی اور کی ہو جائے اور محبت قائم رہے۔ میں ان باتوں کا قائل نہیں کہ تم کسی اور کے تصرف میں رہو اور میری محبت کا دعویٰ کرتی رہو۔اس سے دھوکا کرتی رہو ۔میں کسی اور سے شادی کروں ،یاد تمہیں کرتا رہوں ،محبت تم سے کرتا رہوں ۔اس سے منافقت کرتا رہوں ۔‘‘
میں ایک لمحے کو رکا اسے دیکھا ۔’’اور تم سے شادی کیوں نہیں ہو گی ۔تم نے ایسا سوچا ہی کیوں ۔‘‘ کلثوم کو شاید میرے اس جواب کی توقع نہیں تھی اس لیے اس کی آنکھوں میں سمندر بھر آیا ۔جتنی وہ خود نازک تھی اس کے احساسات بھی اتنے ہی نازک ہوں گے۔ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اس میں اس کی محبت کی بھی توہین تھی ۔
وہ میری محبت تو ہوس بھی خیال کرسکتی تھی۔ مگر میری اس بات اور ہوس میں فرق تھا ۔ اسے اداس دیکھ کر میرا دل بھر آیا ۔ میں نے اسے پکارا۔
اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا ۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔میں وہ لفظ ڈھونڈ تا رہاجو کلثوم سے کہوں بہت سے خیالات میرے دماغ میں آئے میں نے رد کر دیے ۔مجھے یہ قبول ہی نہیں تھا وہ کسی اور کی ہو جائے۔اور جھوٹی تسلی اسے دینا نہیں چاہتا تھا۔میں چاہتا تھا وہ گھر والوں کو مجبور کر دے ۔وہ اکلوتی تھی ایسا کر سکتی تھی ۔وہ خاموش بیٹھی رہی ۔ اب کہتی بھی کیا ۔میں نے اس کے نہ ملنے کی صورت میں اس کی محبت سے منہ موڑ لیا تھا ۔اس کے سامنے دو ہی راستے تھے ۔اگر مجھ سے شادی نہیں ہوتی تو میں نے بتا دیا کہ میں اس کی زندگی سے نکل جاوں گا ۔اور شادی کیوں نہیں ہو گی ؟ہمارے درمیان طویل خاموشی حائل ہو گی ۔میں نے ہی دوبارہ پوچھا ۔’’جب اب ہم اتنے قریب آ گئے ہیں ۔یہ بچپن کی محبت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔اب کیسے تم کہہ رہی ہو کہ اگر ہماری شادی نہ ہوئی تو ۔۔۔۔یہ تم نے سوچا کیسے ہے ؟۔‘‘
’’تم ایک مرد ہو اس لیے ایسا کہہ سکتے ہو ۔میں والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں ۔تم ان مسائل کو جان بھی نہیں سکتے جو میرے ساتھ ہیں ۔لیکن یاد رکھنا مجھے تم سے محبت ہے ۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ اٹھ گئی ۔کھانا تیار ہو چکا تھا ۔شام پانچ بجے آنٹی اور خالو صفدر ایک ساتھ آئے۔ آنٹی سعدیہ اسپتال میں تھیں ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تھی ۔
…ژ…ژ…
وقت کی پابند ہیں۔آتی جاتی رونقیں
وقت ہے پھولوں کی سیج ۔وقت ہے کانٹوں کا تاج
وقت سے دن اور رات ۔وقت سے کل اور آج
وقت کی ہر شے غلام ۔وقت کا ہر شے پر راج
آدمی کو چاہیے ۔وقت سے ڈر کر رہے
کون جانے کس گھڑی ۔وقت کا بدلے مزاج
زندگی کا کیا ہے یہ گزرتی ہے۔ دکھ آتے ہیں گزر جاتے ہیں۔ سکھ آتے ہیں گزر جاتے ہیں ۔رات دن گزر جاتے ہیں۔میں دل لگا کر کام کرنے لگا ۔چند ماہ بعد علیم عالی کے ماں باپ کے ہمراہ بشری وکفیل ہمارے گھر آئے ۔انہوں نے رابعہ کا رشتہ مانگا۔ہم نے ہامی بھر لی ۔چند دن بعد ہی ان کی منگنی کر دی گی ۔تایا جان نے بتایا کہ ۔’’وہ جلد فیصل آباد جائے گا ۔اور کفیل کے رشتے کے لیے صفدر سے بات کرے گا ۔‘‘
تائی نے بتایا کہ ۔’’وہ گھر جوائی رکھنا چاہتے ہیں ۔اور کفیل بھی اس کے لیے تیار ہے ۔‘‘
کفیل کہنے لگا ۔’’فیصل آباد کون سا دور ہے ۔میں وہاں شہر میں ہی میڈیکل اسٹور بنا لوں گا ۔‘‘
بشری نے لقمہ دیا ۔’’خالو کا جو کچھ بھی ہے وہ ان کی بیٹی کا ہی ہے ۔اور بھائی گھر جوائی بن کر سب حاصل کر لیں گے ۔‘‘
میں نے بشری کو دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔اس کے لہجے میں تلخی تھی جیسے وہ طنز کر رہی ہو ۔لیکن شاید اس بات کو صرف میں نے ہی محسوس کیا ۔باقی سب تو اپنی باتوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ حمید کو اپنی بہن کی منگنی کی بہت خوشی ہوئی ۔اس کی آنکھیں بھری ہوئی تھیں ۔رابعہ شرمائی شرمائی بیٹھی تھی ۔تائی خوشی سے پھولے نا سما رہی تھی ۔میرے دل پر چھریاں چل رہی تھیں ۔میں اٹھ آیا ۔برآمدے میں آ کر کھڑا ہو گیا ۔اب کفیل سے کوئی بھی بات کرنا مناسب نہیں تھا ۔کیونکہ اب وہ بہن کے سسرالی بن چکے تھے ۔ وقت کا مزاج بدل گیاتھا ۔شام کو سب مہمان چلے گے ۔ میرے لیے یہ بات بڑی حیرت ناک تھی کلثوم کا روّیہ میرے ساتھ ایسا تھا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہہ وہ کسی اور سے محبت کرسکتی ہے ۔ بھائی کفیل میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ سب سے پڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مالی لحاظ سے زیادہ مضبوط تھا اس کا اپنا میڈیکل اسٹور تھا۔پھر وہ فیصل آباد گھر جوائی بننے کے لیے بھی تیار تھا۔وہ خوبصورت تھا ۔پڑھا لکھا تھا ۔وقت اس کے ساتھ تھا۔
میں نے سوچا کہ مجھے بھائی کفیل سے خود ملنا چاہیے اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔
کفیل سے زیادہ مجھے غصہ کلثوم پر تھا ۔چندماہ قبل ہی وہ میرے ساتھ بڑے رنگین لمحات گزار چکی تھی ۔مجھے امید تھی اب وہ کہیں اور شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔اکلوتی ہے ۔جو کہے گی گھر والے وہی مان لیں گے ۔اس کی شادی زبر دستی تو نہیں کر سکتے تھے ۔اسے کفیل سے محبت تھی تو میرے سامنے اسے سچ بول دینا چاہیے تھا؟مجھے اس نے کیوں دورا ہے پر رکھا تھا۔میری آنکھوں کو کیوں خواب سونپے تھے ۔میرا دم گھنٹے لگا تھا ۔دل میں کوئی جیسے آرے چلا رہا تھا ۔غصہ بھی مجھے خود پر بھی بہت آرہا تھا۔ غلطی ہماری تھی۔ ہمیں بہت پہلے اس کا رشتہ پوچھ لینا چاہئے تھا۔اب تو بہت دیر ہو گئی تھی۔ ہم مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے ۔مجھے یاد آیا کلثوم نے مجھ سے کہا تھا کہ ’’میرے والدین اس سے میری شادی کریںگے جو گھر داماد رہ سکے ۔‘‘
اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر میں اقرار کر لیتا تو ۔یک دم مجھ پر سب کچھ روشن ہو گیا ۔ ہاں بالکل یہی بات تھی۔
اس نے کہا تھا ’’اگر ہماری شادی نہ ہوئی تو بھی مجھ سے محبت کرتی رہے گی۔ ‘‘
آخر اس بات کا مطلب کیا تھا ۔یہی مطلب تھا کہ اس نے پہلے سے سب کچھ سوچ رکھا تھا ۔مجھے اس بات کا بھی یقین تھا کہ اس کے والدین اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں کریں گے ۔وہ ان کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اور اس سے اس کے والدین محبت بھی بہت کرتے تھے ۔میں جتنا سوچتا رہا میرے سامنے کلثوم کھل کر آتی گئی ۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ
’’تم ایک مرد ہو اس لیے ایسا کہہ سکتے ہو ۔۔تم ان مسائل کو جان بھی نہیں سکتے جو میرے ساتھ ہیں ۔لیکن یاد رکھنا مجھے تم سے محبت ہے ۔‘ ‘
بات کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا۔اس نے خود کو سونپ کر اپنی طرف سے محبت کا قرض اتار دیا تھا ۔
لیکن میرے لیے اب سب سے اہم سوال یہ تھا کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے ؟ جتنا میں اس موضوع پر سوچتا ۔اتنا سر میںدرد بڑھتا چلا گیا۔
پھر اس نے اپنا آپ مجھے کیوں سونپ دیا تھا ۔کیا اس لیے کہ اس نے میرے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے تھے ۔اس کا اس نے اقرار بھی کیا تھا۔اس نے اپنا خواب پورا کر لیا تھا۔میں نے تو ایسا کچھ نہیں سوچا تھا ۔جیسا اس نے سوچا تھا اور اپنی سوچ کے عین مطابق اس نے مجھے استعمال کیا تھا ۔میں اٹھ کھڑا ہوا ۔کمرے میں ٹہلنے لگا ۔میں اس کی پہلی محبت تھا ۔یہ ہی اس نے کہا تھا ۔اس کا مطلب ہے دوسری محبت بھائی کفیل تھا ۔اس دن اس نے اس سوال کے جواب میں مجھے گھور کر دیکھا تھا ۔
…ژ…ژ…
دوسرے دن کام سے واپسی پر میں بھائی کفیل سے ملنے اس کے پاس اسٹور پرچلا گیا ۔وہ بڑے تپاک سے ملا ۔باتیں عام سے موضوع سے شروع ہوئیں ۔وہی گھسے پٹے سوالات۔ کیسے ہو ؟ کیا کر رہے ہو؟۔ کتنی تنخواہ ہے ؟ مجھے بعض اوقات وحشت ہوتی ہے ان سوالات سے کوئی بھی یہ نہیں پوچھتا تم کتنی نماز یں پڑھتے ہو ؟ کتنے لوگوں کے کام آتے ہو؟ کیا خدمت خلق کرتے ہو ؟اپنی زندگی سے خوش کتنے ہو؟
میں کفیل بھائی کے سوالات کے جوابات دیتا رہا۔ میرے دماغ میں تو ریت بھری ہوئی تھی۔ میں اس سے کلثوم کے متعلق پوچھنے آیا تھا۔ مگر کیسے بات شروع کروں سب کچھ دماغ میں گڈ مڈ ہو گیا ۔اب ان سے رشتہ بھی بڑا نازک سا ہو گیا تھا ۔وہ میری بہن کے سسرالی تھے ۔مجھے سوچ سمجھ کر بات کرنا تھی ۔مجھے تو وہ الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے ۔آخر میں نے اسے اسے مبارک باد دی کہ اس کی کلثوم سے منگنی ہوگئی ہے۔ وہ ہنس دیا
’’ارے واہ خرم تم نے بھی خوب کہی ۔‘‘
میں صرف اسے دیکھ کر رہ گیا ۔
’’منگنی ہوئی کہاں ہے۔ مگر ہو جائے گی ۔دو مرتبہ والدین رشتہ پوچھنے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تھوڑے دن اور بعد میں بتاتے ہیں ۔نا جانے وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔حالانکہ میں ان کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں ۔‘‘
میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔وہ شاید مجھے یہ سب کچھ سنانے پر تیار بیٹھا تھا اس لیے بولتا چلاگیا ۔
میں شاید اس کی منت کرنے آیا تھا کہ وہ کلثوم اور میرے درمیان سے ہٹ جائے۔ میں اس کے بناں ادھورا رہوں گا۔ اس کا کیا ہے اس کو تو ہزاروں مل جائیں گئیں ۔مگر میں ایسا کہ نہ سکا۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔اس نے بتایا ۔’’ ابھی تھوڑے دن پہلے اس کے دولیٹر ز بھی میرے نام آئے ہیں اس نے خط میں لکھا ہے کہ ’’ ان خطوط کا کسی کو پتہ نہ چلے ۔‘‘اس نے ایک لمحے کو رکا سانس درست کی دوبارہ گویا ہوا۔
’’تم کو بتا رہا ہوں تم غیر تھوڑی ہو ۔‘‘
اس نے اٹھ کر مجھے اس کے خطوط دراز سے نکال کر دیے ۔ اس دوران چائے آگی ۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی محبوبہ کے کسی اور کے نام لکھے جانے والے خط کھولے اور ان کو پڑھا مجھ پر حول سا طاری ہو رہا تھا ۔میرے دماغ میں اندھراچھایاہوا تھا۔آنکھوں کی روشنی اتنی ضروری نہیں ہوتی جتنی دماغ کی ہوتی ہے۔ دماغ میں اندھیرا چھایا ہو تو آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتا۔ خط کے الفاظ نظر نہیں آرہے تھے۔ دل بہت گھبرا رہا تھا ۔ میںنے خط ہاتھ میں پکڑ کر چائے پینی شروع کر دی ۔دکان پر ایک گاہک آیا ۔کفیل اس سے مصروف ہو گیا ۔میں نے خود میں حوصلہ پیدا کیا اور خط پڑھ ڈالے ۔ بڑی چابکدستی سے لکھے گئے تھے یہ خط۔ان میں کوئی ایسا لفظ نہیں تھا جس سے یہ گمان ہوتا یہ محبت نامے ہیں۔ گھر کے حالات اپنے گھر والوں کے بارے میں کفیل بھائی کی بہنوں اور والدین کے متعلق پوچھا تھا۔ایک لائن کو میں نے بار بار پڑھا لکھا تھا ۔کلثوم نے نہ جانے یہ کیوں لکھا تھا’’آدمی آدمیوں سے بے راز ہے اور آدمی کو آدمی کے بغیر چین بھی نہیں ‘‘ یہ لائن میری بے چینی کو بڑھا گی۔ آخر اس کا مطلب کیا تھا۔ اس نے ایسا کیوں لکھا تھا۔ وہ کفیل کو کیا اشارہ دینا چاہتی تھی ۔ دونوں خطوط میں صرف یہ ایک لائن ہی ایسی تھی ۔ میں نے اسے بار بار پڑھا اور خط بھائی کفیل کو واپس کر دیے ۔ جب میں خطوط کا مطالعہ کر رہا تھا تو وہ مسلسل بولتے رہے تھے مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔
تھوڑی دیر مزیدوہاں بیٹھ کر میں اٹھ آیا ۔ گھر جانے کی بجائے سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا رہا۔ میرا کہیں بھاگ جانے کو ویرانے میں جا کر رہنے کو دل کرتا تھا ۔میں نے کئی مرتبہ سوچا کسی گاڑی کے نیچے آجاؤں ۔ اب مجھے سب کچھ معلوم ہو گیا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ کلثوم مجھ سے محبت کرتی تھی ۔لیکن میری دوری اس سے بالکل رابطہ نہ رکھنے سے اس سے دور ہوتا چلا گیا ۔بے شک ایسا میرے حالات کی وجہ سے ہوا ۔اس دوران کفیل بھائی نے اس پر توجہ دی ۔اور اب دوسری وجہ خالو صفدر کی داماد کو اپنے گھر رکھنے کی شرط تھی ۔جس پر کلثوم ماں باپ کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی ۔میں گھر جوائی بننے کی شرط کسی بھی طرح نہیں مان سکتا تھا ۔اس بات کو وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔
رات گئے میں گھر واپس آیا۔ رابعہ نے کھانا دیا میں نے یوں ہی لوٹا دیا۔ میں چار پائی پر پڑا رہا اور میرے مساموں سے پیسنہ پھوٹتا رہا ۔ میں کفیل سے کیا کہنا چاہتا تھا ۔ مگر وہ اس سے کہہ ہی نہیں سکا تھا۔ اگر میں کہہ بھی دیتا تو کیا اس کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ؟ پھر یہ بھی تھا کہ کیا وہ بات مان بھی لیتا ؟۔مجھے خود سے ہی نفرت سی محسوس ہو رہی تھی ۔ اور اپنا آپ بھی گھناؤنا سا لگ رہا تھا۔ ایسے ہی میں خود کو نوچتا رہا۔ رات گزرتی رہی ۔ پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گی ۔
بڑے عرصے کے بعد میں نے صبح کی نماز ادا کی اور سیر کے لیے نکل گیا۔اس دن میں نے پابندی سے نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس کے بعد اس پر قائم بھی رہا ۔ایک دن جمعہ پڑھنے مسجد گیا مولوی نے داڑھی بارے احادیث سنائیں اور ساتھ ہی اس کے سائنسی فوائد گنوائے میں نے داڑھی بھی رکھ لی ۔ہمارے معاشرے میں نمازی کو طنزاََ مولوی یا ملّا کا خطاب دیا جاتا ہے اور لوگ خود کو اس سے اچھا خیال کرتے ہیں اﷲکے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کو فخر سے بیان کرتے ہیں ۔میں کوئی اتنا پارسا نہیں تھا۔ میں شاید ان سے زیادہ گناہ گار تھا ۔ میں نے کبھی کسی کو تبلیغ نہیں کی کہ وہ میرے ساتھ چل کرنماز پڑھیں۔بس جب نماز کا وقت ہوتا میں خاموشی سے چلا جاتا تھا۔ مجھے کلثوم کی جدائی اور اس کی بے وفائی کا اتنا دکھ ہوا تھا کہ اگر میں نماز کا سہارا نہ لیتا تو شاید مر جاتا۔ ابو بکر کی وفات کے بعد میں نے سوچا تھا کہ آدمی کتنا ناپائیدار ہے اور کلثوم کی بے وفائی کے بعد سوچا تھا کہ دراصل محبت صرف اورصرف اﷲسے کرنی چاہیے ۔لیکن یار لوگ مجھے مولوی کہنے لگے ۔مولوی خرم میرا خودبخود نام پڑ گیا ۔پہلے پہل تو مجھے عجیب سا لگا لیکن رفتہ رفتہ اس کا عادی ہوگیا ۔اور ایک دن تو بہت برا ہوا۔ وہ ایسے کہ ایک لڑکا ندیم میرے ساتھ ہی کام کرتا تھاوہ ہر وقت مسکراتا اور ہنستا رہتا۔ ساتھ کام کرنے والے لڑکوں سے مذاق کرتا رہتا اس دن اس نے ایسا ہی کوئی مذاق کیا تھا۔مجھے نہ جانے کیا ہو اتھا۔ میںنے اسے مارنا شروع کردیا۔ سب نے مل کر اسے مجھ سے چھڑایا ۔بعد میں اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ میں نے اس سے معافی بھی مانگ لی ۔دوسروں کی بات مجھے خود پرطنز لگنے لگی تھی ۔ جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہاہو۔ سچی بات ہے کہ میںکوئی نفسیاتی مریض بن گیا تھا۔ ساتھ کام کرنے والے مجھ سے دور رور رہنے لگے تھے ۔جیسے میں پاگل ہوں ان کو کاٹ لوں گا۔ تب مجھے اس بات پر غصہ آنے لگا ۔وہ مجھ سے دور کیوں رہتے ہیں۔ کیا میںآدمی نہیں ہو ں؟۔ بعض آدمی ادھورے بھی تو ہوتے ہیں۔ یہ دنیا کی ایک اٹل حقیقت ہے کہ لوگ ہنسنے والوں کے ساتھ ہنستے ہیں رونے والوں کے ساتھ کوئی روتا نہیں ہے ۔ندیم نے میرے کھوئے کھوئے رہنے کی وجہ ’’روگ‘‘ کہا تھا ۔اس نے سچ کہا تھا ۔میں اسے گالیاں دینے لگا تھا ۔اس نے جواب میں گالی دی تو میں اس سے لڑ پڑا تھا ۔
دوسرے دن کی بات ہے کہ مجھے دو لڑکوں نے سڑک پر گھیر لیا۔میں بازار سے کوئی چیز لینے نکلا تھا۔ انہوں نے میرا نام پوچھا اور مجھ سے گتھم گتھا ہو گے ۔ ایک تو میں بے خبر تھا دوئم ان سے ویسے بھی کمزور تھا۔ قصہ کوتاہ میرا سر پھٹ گیا۔ وہ دونوں یہ جا وہ جا۔سب مجھ سے پوچھ رہے تھے ۔وہ کون تھے؟ ۔میں ان کو کیا بتاتا۔ مجھے خود علم نہیں تھا۔تھوڑی دور ہی کفیل کا میڈیکل سٹور تھا ۔ایک جاننے والا مجھے وہاں لے گیا ۔وہاں سے اسپتال ۔پٹی کرو انے کے بعد میں گھر لوٹا ۔بھائی کو علم ہوا تو وہ لڑنے مرنے پر اتر آیا ۔لیکن حقیقت میں ان کو میری طرح علم ہی نہیں تھا کہ وہ تھے کون ؟۔ بہت بعد میں ندیم نے مجھے خود بتایاتھا۔جب وہ کام چھوڑ کر جانے والا تھااس وقت اس سے دوستی بھی ہو گئی تھی اس نے غلطی کی معافی بھی مانگی تھی۔ میں نے اسے دریا دلی سے معاف کر دیا تھا۔
ایسے ہی میں نے چار ماہ گزارے تھے اور کلثوم کو بھول نہیں سکا تھا۔ وقت اور حالات کے تحت انسان کے نظریات وخیالات بدلتے رہتے ہیں ۔میں نے کلثوم سے اس دن کہا تھا ’’محبت کے لیے اس کا ملنا ضروری ہے جس سے محبت ہو۔‘‘
اب سوچاکرتا تھا کہ ’’کوئی ساری زندگی لے کر مگر کلثوم سے ایک مرتبہ جی بھر کے باتیں کر لینے دے ، اس کو دیکھ لینے دے ‘‘۔
کہتے ہیں مجازی محبت وہ راستہ ہے۔ جو عشق حقیقی کے کوچے کو جاتا ہے ۔ٹوٹے ہوے دل میں گداز پیدا ہو جاتاہے۔ پتھروں کو تو جو نک بھی نہیں لگتی۔ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ کلثوم اور کفیل کی منگنی ہو گئی ہے ۔میں نے اس بات کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا تھا ۔مگر اندر ہی اندر کوئی چیز ٹوٹتی رہتی تھی ۔میرا دل دنیا سے اچاٹ سا ہوگیا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ میں سب سے کھنچا کھنچا سا رہتا تھا ۔ایک بات میں نے محسوس کی کہ بشری مجھ میں دلچسپی لینے لگی تھی ۔وہ خوبصورت تھی ، اس قابل تھی کہ بندہ خود کو گنواکر اسے حاصل کر لے ۔ اس کا رنگ گورا نہیں تھا لیکن خوبصورتی رنگ گورے سے کب مشروط ہے ۔اس کا جسم ایک سانچے میں ڈھلا ہواتھا ۔ایک بار دیکھ کر دوسری بار نظر کو روکنا مشکل ترین تھا ۔جب کبھی وہ ملتی ۔میرا بڑا خیال رکھتی ۔میں اس سے دور ہی رہتا ۔لیکن اس سے اس کی خدمت میں کوئی فرق نہ پڑتا ۔وہ جب بھی شہر آتی اپنی بھابھی سے یعنی رابعہ سے مل کر جاتی ۔اکثر میرا اس سے سامنا ہو جاتا ۔وہ کوئی نہ کوئی تحفہ میرے نام کا مجھے دے جاتی ۔کبھی پرفیوم ،کبھی رومال ،ایک بار پرس بھی دیا ۔جمعہ کا دن تھا مجھے چھٹی تھی ۔جمعہ پڑھنے کے بعد میں گھر میں لیٹا ایک کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا جب تائی اور بشری آئیں ۔وہ بازار شاپنگ کرنے آئی تھیں ۔امی کو ساتھ لے کر جانا تھا ۔امی واش روم میں تھی۔رابعہ چائے بنانے لگی ۔تائی نماز پڑھنے لگی ۔وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گی ۔
’’ آپ سے ایک بات کرنا تھی۔‘‘
’’ میں نے کب روکا ہے ۔‘‘
’’آپ کیا بننا چاہتے تھے ؟‘‘
’’ سچ بتاؤں۔‘‘
’’ ہاں ۔‘‘
’’ مجھے خود اس بات کاعلم نہیں ہے ۔میں نے کبھی دولت کو اتنی اہمیت نہیں دی۔اور مزے کی بات بتاوں ۔۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’دولت نے بھی مجھے کبھی اہمیت نہیں دی ۔‘‘میری اس بات پر وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔
’’ مجھے پتہ ہے آپ میں یہی تو انفرادیت پائی جاتی ہے ۔‘‘
’’ورنہ میں نے تو جتنے لوگ دیکھے ہیں ۔سب ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ایک جیسی باتیں کرتے ہیں ۔ایک جیسی خواہشات ہوتی ہیں۔ دولت کے بچاری ۔‘‘اس کے لہجے میں کاٹ تھی ۔
میں نے کہا ’’دولت اتنی بری چیز بھی نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں آپ سچ کہتے ہیں۔‘‘
’’ سب کچھ دولت نہیں ہے اور زندگی صرف دولت کے سہارے نہیں گزاری جاتی۔ خاص کر ایک لڑکی ایسانہیں سوچ سکتی دولت مند آدمی ہر وقت دولت کی باتیں کرتا ہے۔ اسے اپنی دولت پر بڑا ناز ہوتا ہے۔ وہ مزید دولت جمع کرنے کے لیے بھاگتا رہتا ہے۔ وہ بے حس ہو جاتاہے۔ اسے رفتہ رفتہ اپنے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔انسانیت کا دکھ وکرب اس میں نہیں ہوتا ۔‘‘
میں نے کہا ۔’’لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ عورتیں ہی زیادہ دولت کی پجاری ہوتی ہیں ۔مرد سے شادی کی بجائے ۔وہ مکانات ،بینک بیلنس ،کار دیکھتی ہیں ۔زمانے میں یہ ہی ہے ۔یہ ہی دیکھا جاتا ہے ۔باقی سب کہنے کی باتیں ہیں ۔ لڑکیاں دولت کو دیکھتی ہیں ۔ان کو اپنے کپڑوں اور نمائش کا شوق ہوتا ہے اور یہ دولت کے بنا ممکن نہیں ہے ۔ ‘‘
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔’’سب ایسی نہیں ہوتیں ۔‘‘
میں نے ہاتھ چھڑا لیا ۔’’تم ایسا کہہ سکتی ہو کیونکہ تم نے غربت دیکھی کہاں ہے ۔‘‘
اس نے میری بات سے اختلاف نہیں کیا ۔
’’میں تو اتنا جانتی ہوں ۔ اصل چیز شوہر کی محبت ہوتی ہے ۔‘‘
’’اچھا بابا تم کو ئی غریب آدمی دیکھ کر اس سے شادی کرنا۔‘‘
نہ جانے میرے منہ سے کیسے نکل گیا۔وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔
’’ میں نے ایسا مرد تلاش کر لیا ہے ۔وہ بہت اچھا ہے۔ سندرہے۔ بہت محبت کرنے والا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی اور بسا ہوا ہے۔جو بسا ہے وہ اب اس کا نہیں ہے ۔لیکن وہ اب بھی اسی کا ہے ۔بے وقوف کہیں کا ۔ایک دن اسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہو گا ۔‘‘
میں اٹھ بیٹھا ۔لیکن وہ دروازے سے نکل گئی ۔میں نے کتاب کو ایک طرف رکھا اورادھ کھلے دروازے کو دیکھتا رہ گیا ۔وقت نے مجھے بھی وقت دے دیا تھا ۔
…ژ…ژ…
اس شام میں نے بشری سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ہمارا گاوں شہر سے متصل تھا ۔بشری کے گھر جانے کے لیے تین چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا ۔علیم عالی وغیرہ جب کبھی شہر آتے تو ہمارے گھر ہو کر جاتے ۔ہمیں ان کے گھر جانے کے لیے اسپیشل جانا پڑتا تھا۔ ۔اب اس سے ملنے کے پروگرام بنا تا۔ایسے ہی سوچتے ہوئے کہ اس جمعہ کو جاوں گا ۔جمعہ جمعہ کر کے کئی ماہ گزر گے ۔پھر ماہ رمضان آگیا ۔روزہ رکھ کر کام پر جاتا ۔وہاں سے دو بجے چھٹی کر کے گھر آ جاتا ۔اس وقت تک روزہ بھی لگ جایا کرتا ۔یہ بھی جمعہ کا ہی دن تھا ۔عید میں چند دن باقی تھے ۔
میں نے نہا کر کپڑے پہنے اور کلثوم کے بتائے ہوئے طریقے سے مانگ نکالی ۔اور دھوپ میں کرسی نکال کر بیٹھ گیا۔ گھر میں ایک پرانی کتاب پڑی ہوئی تھی ۔میں اسے پڑھنے لگا ۔اس کا نام اور ٹائٹل پھٹا ہوا تھا۔ اس میں بڑی حیرت انگیز باتیں لکھی ہوئی تھیں۔ یہ ابو کی کتاب تھی۔ اسے پڑھنے کے دوران میں نے سوچا میرا علم کتنا ناقص ہے۔ ہم مادی وجود کو انسان خیال کرتے ہیں اس میںلکھا تھا۔ اصل انسان مادی وجود نہیں ہے بلکہ روح ہے ۔ روح کا لباس مادی وجود ہے۔ مادی وجود ختم ہو جاتا ہے ۔جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا لباس مادی وجود ہے مادی وجود ختم ہوجاتا ہے۔ جسم سے کیا چیز نکل جاتی ہے ، اس میں سے روح نکل جاتی ہے۔ مصنف نے بڑی دلیلیوں سے یہ بات ثابت کی تھی کہ انسان اصل میں روح ہے۔ دوسرے باب میں بتایا گیا تھا کہ روح کیاہوتی ہے۔ نظر نہیں آتی ۔قرآن و حدیث نبویﷺمیں روح کے متعلق بتایا گیا تھا کہ روح اﷲکا امر۔ ’’اے محمدﷺ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہدو روح اﷲکا امر ہے ۔پھر لکھا گیا تھا کہ ’’اﷲکا امر یہ ہے کہ وہ جب ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا بس و ہ ہو جاتی ہے‘‘(القراآن) ۔میں نے پوری یکسوئی سے کتاب کا مطالعہ کیا اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ دنیا تمام کی تمام اﷲکا ارادہ ہے۔ اﷲکا ارادہ ہی اسے زندہ رکھے ہوئے ہے یہ انسان حقیقت میں روح ہے اور روح لباس بدلتی ہے۔ دنیا میں اس کا لباس مادی جسم ہے۔ قیامت کے بعد اسے لباس دیا جائے گا۔ چو نکہ یہ باتیں قرآن وحدیث کی رو سے تھیںاور سائنس کی روشنی و دلائل سے ثابت تھیں اس لیے بالکل سچ تھیں ۔کتاب پڑھنے میں میں اتنا منہک تھا کہ مجھے علم ہی نا ہو سکا کب بشری وغیرہ ہمارے گھر آئے تھے ۔کب وہ میرے پاس آ کھڑے ہوئے تھے ۔
’’اب بس کریں آپ حفظ ہی کرنے لگے۔‘‘علیم عالی کی آواز سن کر میں چونکا ۔ اچھی خاصی دھوپ چڑھ آئی تھی۔
ساتھ ہی رابعہ اور بشری کھڑے تھے ۔اب علیم عالی بھی بہانے بہانے سے ہمارے گھر کے چکر لگایا کرتا تھا ۔ایک بار مجھے حمیدنے کہا تھا کہ اسے روک دینا چاہئے ۔لیکن میں نے حمیدکو ایسا کرنے سے روک دیا تھا ۔
’’ہم نے اپنی بہن کی اس سے منگنی کر دی ہے ۔اب اگر وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں تو اس میں برائی کیاہے ۔ہمیں چاہئے کہ ان کی شادی جلد کر دیں ۔روک دینا اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مستقبل کے لیے ایک مسئلہ بن جائے گا ۔‘‘میری بات بھائی کی سمجھ میں آ گئی تھی ۔
’’مجھے پتہ ہی نہیں چلا آپ کب آئے ۔‘‘میں نے اٹھتے ہوئے عالی سے کہا ۔
’’مجھے اس با ت کا بھی پتہ ہے ۔آپ تو یہاں رہتے ہی نہیں۔ خیالوں میں رہتے ہیں۔ آپ کو اپنے ارد گرد کا کچھ ہوش نہیں ہوتا۔ بیٹھے بیٹھے خیالوں میں گم ہوجاتے ہیں ۔ہمارے آنے کی خبر کیسے ہوتی ۔‘‘
بشری نے گہری چوٹ کی ۔رابعہ ہنسنے لگی ۔حمید نے اسے گھور کر دیکھا ۔ میں نے حمید کو ۔عالی کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔
’’اصل میں کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ کیا بتاوں ۔‘‘ میں نے انہیں ملتے ہوئے کہا ۔’’اس میں انسان ،روح،مادی جسم یعنی انسان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے ۔‘‘
’’اس کا کسے علم نہیں ہے ۔‘‘عالی نے کہا ۔
’’مجھے علم نہیں تھا ۔اس کا ۔‘‘ میں سچ بولا
’’چلو بازار چلتے ہیں ۔‘‘
تھوڑی دیر بعد ہم سب کزن بازار میں تھے ۔
میرے خیالوں میں اب کلثوم آتی تو ساتھ ہی بشری کا خیال آ جاتا ۔ ماہ رمضان گزر گیا ۔وہ عید کا دن تھا جب ہم بھائی عید کی نماز ادا کر کے گھر آئے تو تائی جان ،بشری اور کفیل ہمارے گھر آئے ہوئے تھے ۔رابعہ خوشی سے بھاگی پھر رہی تھی ۔میں کفیل اور حمید امی کے اور تائی کے پاس جا بیٹھے ۔بشری اور رابعہ کھانا تیار کرنے لگیں ۔اس دن میں بھی خوب ان سے باتیں کرتا رہا۔ہم نے جی بھر کر قہقہے لگائے۔ ایسے ہی کسی کام کے سلسلے میں ہمارے پاس سے بشری گزر رہی تھی ۔مجھ سے نظر ملی تو میں نے بائیں آنکھ بند کر کے کھول لی ۔اس کو آنکھ مارنا کہتے ہیں ۔یہ سوچ کر میں مسکرا دیا ۔بشری کے چہرے پر حیرت بکھر گی ۔اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔برسوں بعد ایسی شوخی مجھ میں لوٹ کر آئی تھی ۔بشری سے میری اچھی دوستی تھی ۔وہ میری ہمراز بھی تھی اس کا منگیتر شہید ہو چکا تھا ۔جو میرا واحد دوست تھا ۔اس کے بعد عالی سے دوستی ہوئی تھی ۔میری محبوبہ کی کسی اور سے منگنی ہو چکی تھی ۔ہم دونوں محبت کر چکے تھے ۔اور ایک کو حالات نے دوسرے کو قسمت نے شکست دی تھی ۔دونوں کا غم کسی حد تک مشترک تھا۔ میں نے اب اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اب اس سے اظہار ضروری تھا ۔جس کا موقع نہیں مل رہا تھا۔وہ اس کے بعد جب بھی کسی کام سے ہمارے پاس سے گزری مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ۔میں شریر سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ادھر ادھر دیکھتا رہتا ۔کھانا کھانے کے دوران بھی میں نے ایک بار ایسا ہی کیا تو وہ اچھی خاصی کنفیوز ہو گی ۔دوسری تبدیلی یہ آئی کہ آج اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔نا ہی میں نے کوئی بات اس سے کی ۔اس کے چہرے پر حیرانی ،الجھن کے رنگ تھے ۔وہ اچھی خاصی بے چین ہو گی تھی ۔
جانے سے تھوڑی دیر قبل جب میں ان کو چھوڑکر آنے کے لیے بائیک نکال رہا تھا۔بشری سب سے پہلے باہر آ گی ۔
’’ خرم۔ ‘‘
’’ہاں ‘‘
’’آج بہت اچھے لگ رہے ہیں آپ ایسے ہی خوش رہا کریں۔‘‘میں نے کہیں پڑھا ہوا فقرہ اسے سنا دیا ۔
’’ آدمی ہی آدمی کے لیے بہار وخزاں ہوتے ہیں۔‘‘اس کے چہرے پر حیرانی گہری ہو گی ۔میں نے مزید کہا’’ اس دنیا میں آدمی بہت کم ملتے ہیں اور جب مل جائے توپھر ایسے ہی بہار چہروں پر آجاتی ہے جیسی آج میرے چہرے پر آئی ہے ۔‘‘
اس نے سٹ پٹا کر مجھے دیکھا ۔’’میں نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔‘‘
’’کس سے ۔‘‘وہ جلدی سے بولی
’’تم سے ۔امی کو بھیج دوں گا جلد۔‘‘اس نے منہ پھیر لیا ۔کیونکہ دروازے پر کفیل نمودار ہو رہا تھا لیکن وہ آہستہ سے مجھے ’’اچھا‘‘ کہنا نہیں بھولی ۔
انہی دنوں بشری نے مجھے خط لکھا تھا۔ کافی لمبا تھا ۔میں یہاں خاص بات لکھ رہا ہوں۔ ’’مجھے بڑی خوشی ہوئی ۔آپ نے خود کو بدلنا شروع کر دیا ہے اور کافی بدل لیا ہے۔ میں آپ کے چہرے پر وہ مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہوں جو صرف میرے لیے ہو۔‘‘
اس خط کے بعد میں نے خود پر نقاب ڈال لیا۔ اس نقاب پر یا اپنے چہرے پر جو چہرا سجایا اس پر مسکراہٹ تھی۔ یہ مسکراہٹ دوسروں کے لیے تھی۔ مجھے دوسروں کے لیے جینا تھا ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔’’جب انسان بہت زیادہ دکھی ہو جائے کہ دکھ ہڈیوں میں جسم سے گزر کر روح میں اتر جائے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اس سے بڑھ کر کیا نقاب ہو سکتا ہے۔‘‘
پھر سب کچھ بہت جلد ہو گیا ۔بشری کے رشتے کا انتظار تھا ۔جیسے ہی وہ طے ہوا ۔ہمارے خاندان میں ایک ساتھ تین شا دیاں ہوئیں ۔بس فرق یہ پڑا تھا کہ بشری بیاہ کر ہمارے گھر آ گی تھی ۔اور رابعہ تایا جان کے گھر چلی گی ۔لیکن کفیل بھائی سسرال چلے گئے ۔
اس رات جس کو سہاگ رات کہتے ہیں میں نے بشری نے خوب باتیں کیں، وعدے کیے ۔ ساتھ رہنے کے خواب دیکھے۔ وہی باتیں جو دو پیار کرنے والے کرتے ہیں۔ جن باتوں میں کچھ نہیں ہوتا اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی خدمت ہمدردی ، الفت، احساس، وغیرہ جیسے پاکیزہ اور انمول خیالات احساسات ۔اس کا خواب پورا ہو گیا تھا ۔وہ بہت خوش تھی ۔خواب تو کفیل کا بھی پورا ہو گیا تھا اور کلثوم کا بھی ۔عالی اور رابعہ کا بھی ۔لیکن میرا خواب پورا نہیں ہوا تھا ۔وہ خواب جو میں نے بہت شدت سے برسوں دیکھا تھا ۔اب اس بات کو پچیس سال گزر گے ہیں ۔لیکن کبھی کبھی اس خواب کے پورا نہ ہونے کا دکھ جاگ جاتا ہے ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close