NaeyUfaq Feb-18

ماں جایا

نفیسہ سعید

شدید گرمی کے احساس سے آمنہ کی آنکھ کھل گئی‘ شاید لائٹ چلی گئی تھی اے سی بند ہونے کے باعث کمرہ حبس زدہ ہوگیاتھا‘ وہ بمشکل اپنے جسم کو گھسیٹ کر سیدھی ہوئی ‘ پیاس کی شدت سے اس کے حلق میں کانٹے پڑگئے تھے‘ کوشش کرکے وہ آہستہ آواز میں چلائی۔
’’عبیر…عبیر… ‘‘جواب ندارد‘ قریب رکھا موبائل اٹھا کر اس نے روشنی کی‘ کمرے میں موجود دوسرا بیڈ خالی تھا۔
’’یہ کہاں گئی ؟‘‘ تشویش زدہ آواز میں وہ ہلکا سا بڑبڑائی جب اسی دم کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا‘ آمنہ نے دیکھاوہ عبیر تھی‘ موبائل کی دھیمی سی روشنی میں بھی عبیر کے چہرے پرچھائی مسکراہٹ اسے دور سے بھی نظر آرہی تھی۔
’’تم کہاں سے آرہی ہو؟‘‘ عبیر کو اس طرح مسکراتا دیکھ کر وہ اپنی پیاس یکسر فراموش کربیٹھی۔
’’انکل آئے تھے‘ انہیں کھانا دینے گئی تھی۔‘‘
اطمینان سے جواب دے کر عبیر نے جگ سے پانی بھر کرگلاس آمنہ کے ہاتھوںمیں لاتھمایا مگر اس لمحہ وہ پیاس کے احساس سے یکسر غافل ہوگئی تھی کیونکہ اس کاسارا دھیان عبیر کی جانب ہوگیاتھا۔
’’میںنے تمہیں منع کیا تھا ناکہ جب تمہارے انکل آئیں مجھے جگادینا میں خود کھانا دے دوں گی پھرتم کیوں گئیں؟‘‘ اور وہ ارشد کہاں مرگیاتھا؟‘‘ آمنہ کے لہجے میں غصہ نمایاں تھا۔
’’کیاہوگیاہے آنٹی آپ کو؟‘‘ عبیر نے حیرت کے مارے براسامنہ بنایا۔
’’وہ کب سے بیل بجارہے تھے اور ارشد شاید سوگیا تھااس لیے مجبوراً مجھے جاناپڑا اورایسے میں جب انہوں نے کھانا مانگاتو کیامنع کرکے واپس آجاتی؟‘‘
بستر کی چادر ٹھیک کرتے ہوئے اس نے پلٹ کر آمنہ سے سوال کیا۔
’’بہرحال آئندہ جب وہ آئیں تومجھے جگادینا تمہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘عبیر کی بات کا جواب دیئے بنا وہ رکھائی سے بولی کیونکہ جانتی تھی رات کے اس پل عام طور پر سعادت نشہ کی حالت میں گھر واپس آتاتھاایسے میں عبیر کااس کے سامنے جانااور کھانا گرم کرکے دینا آمنہ کو قطعی پسند نہ تھا‘ اوریہی بات وہ اکثر عبیر کو بھی سمجھایا کرتی جو شاید اس کی سمجھ میں نہ آرہی تھی ‘عبیر بستر صاف کرکے لیٹ گئی تو آمنہ نے بھی آنکھیں موند لیں۔
آمنہ اور سعادت کی شادی کو پندرہ سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیاتھا اور وہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے جس کاسعادت کوتو کوئی احساس نہ تھا مگر اولاد کی کمی کی کسک آمنہ کے دل میں ضرور پائی جاتی جس کاوہ وقتاً فوقتاً اظہار بھی کیا کرتی ‘ آخر کار اس معاملے میں سعادت کی بے پروائی دیکھتے ہوئے آمنہ نے بچہ گود لینے کافیصلہ کیا تاکہ گھر کی تنہائی دور کرنے کے لیے کوئی ساتھی میسر ہو جبکہ اس معاملے میں بھی سعادت کو کوئی اعتراص نہ تھا یہی وجہ تھی جب وہ چھٹیوں میں گائوں گئی تواپنے بڑے بھائی عبداللہ کی بیٹی گود لینے کاسوچ کر گئی‘ ویسے بھی عبداللہ کی پانچ بیٹیاں تھیں‘ بھابی کوبیٹے کی خواہش نے اپنی بیٹیوں سے لاتعلق کررکھاتھا جس کے باعث عبداللہ آسانی سے بہن کوبیٹی دینے پرآمادہ ہوگیا ویسے بھی شہر اور گائوں کی زندگی میں بہت فرق تھا اسی بہانے اس کی بیٹی شہرجاکر اچھی تعلیم حاصل کرلیتی تو بھلاعبداللہ کاکیا نقصان تھا‘ اب ہونا تویہ چاہیے تھا کہ آمنہ‘ چھوٹی والی شیزا کو گود لیتی جس کی عمر دوسال تھی مگر جانے کیاسوچ کر اس نے آٹھ سالہ عبیر کو گود لیا جس کی ایک وجہ تو شاید یہ بھی تھی کہ عبیر بچپن سے ہی اپنی پھوپھو سے کافی اٹیچڈ تھی دوسرے ویسے بھی چھوٹی بچی کے مقابلے میں نسبتاً بڑابچہ پالنااور سنبھالنا زیادہ آسان تھا مگر مشکل یہ ہوئی کہ آٹھ سالہ عبیر نے باوجود کوشش کے آمنہ کو امی اور سعادت کو بابا کہہ کرنہ دیا وہ شروع سے جو انکل‘ آنٹی تھے عبیر کو گود لینے کے بعد بھی انکل آنٹی ہی رہے‘ اب اس پربھی سعادت کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگریہاں بھی آمنہ لفظ ماں کے لیے ترستی رہی‘ کچھ سال تواس نے عبیر کے ساتھ بہت اچھے اور خوش وخرم گزارے بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح عبیر اسے بے حد عزیز تھی جس کی ہر ضرورت کاخیال وہ بناکیے رکھا کرتی تھی کیونکہ روپے پیسے کے معاملے میں اسے کبھی سعادت نے تنگ نہ کیاتھااسی طرح عبیر میٹرک کرکے کالج جاپہنچی اور آمنہ کوشوگر کے ساتھ‘ ہائی بلڈ پریشر‘ اور کئی بیماریوں نے گھیرلیااور وہ بستر پرجاپڑی جوان ہوتی عبیر پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی جبکہ بڑھاپے کی طرف بڑھتی آمنہ کوبیماریوں نے وقت سے پہلے بوڑھا کردیا‘ اس کے مقابلے میں سعادت خاصا جوان اور اپنی عمر سے قدرے کم نظر آتا وجہ اس کااپنی ذات پر بے حد دھیان دیناتھا‘ جبکہ اس معاملے میںآمنہ خاصی بے پروا ثابت ہوئی تھی‘ یہی وجہ تھی کہ آمنہ کی بیماری نے سعادت پر کوئی خاص اثرنہ ڈالااور وہ اپنی زندگی کی بیرونی مصروفیات میں اس طرح گم ہوا کہ گھرپڑی آمنہ کو بالکل ہی نظر انداز کردیاجبکہ عبیر بھی اپنے دوستوں اور پڑھائی میں اتنی مصروف رہتی کہ آمنہ کو کم ہی وقت دے پاتی پھر بھی عبیر کی ذات آمنہ کوغنیمت محسوس ہوتی جو کم از کم رات کے وقت اس کی تنہائی دور کرنے کا سبب تو تھی سعادت نے اپنے گھریلو کاموں کے لیے ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکا رکھ لیاتھا جو باہر کے کام بھی سرانجام دیتاتھااورگھرمیں بھی آمنہ کے کئی کام کردیا کرتا‘ غرض بیماری کے سوا آمنہ کی زندگی میں کوئی اور مسئلہ نہ تھا مگر وہ جو کہتے ہیں کہ اولاد کے جوان ہوتے ہی ماں باپ کے مسائل بھی جوان ہوجاتے ہیں تو شاید ایسا ہوچلاتھا سعادت تو شروع سے ہی بے پروا شخص تھا مگر آمنہ‘ عبیر کو اپنی سگی اولاد ہی سمجھتی تھی اس لیے اب عبیر کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے مسائل بھی اس کے سامنے آکھڑے ہوئے تھے جن میں سب سے پہلا مسئلہ تو سعادت خود تھاجس کی وجہ سے عبیر کی جوانی آمنہ کوخوف زدہ کررہی تھی ویسے تووہ شروع سے ہی شراب پیتاتھامگر آج کل رات گھرواپسی پر وہ اکثر نشہ میں ہوتاجس پرآمنہ کے دل میں یہ خیال جگہ بنانے لگا کہ نشہ میں دھت شخص کبھی اپنا بھی نہیں ہوتا تووہ دوسرے کاکیاہوگا جس کی بنا پراسے عبیر کاسعادت سے بات کرنا اور خاص طور پر رات کے وقت جب وہ نشہ کی حالت میں گھر آتابہت ہی کھٹکنے لگاجس کے سبب وہ وقتاً فوقتاً عبیر کوسمجھایاکرتی تھی کہ وہ سعادت سے جس قدر ممکن ہوکم سے کم بات کرے لیکن وہ اسے کھل کریہ نہ کہہ سکی کہ اس کاحساس دل‘ ‘ سعادت کی نگاہوں کوبدلا ہوا محسوس کررہاہے کیونکہ کبھی کبھی یہ اسے اپنا وہم بھی لگتا جس کاتذکرہ کسی سے بھی کرنا فی الحال اسے ٹھیک نہ دکھائی دے رہاتھا اور بہتر یہ تھا کہ اس مسئلے میں عبیر کو اپنے اعتماد میں لیاجائے اور یہی بات اسے سب سے زیادہ مشکل دکھائی دے رہی تھی کیونکہ وہ جتنا عبیر کو سمجھارہی تھی اتناہی عبیر اس کی کسی بات کوشاید اہمیت نہ دیتے ہوئے نظر انداز کررہی تھی یا شاید آمنہ کوایسا لگ رہاتھا مگرجو بھی تھا پچھلے کچھ دنوں سے عبیر کاسعاد ت سے بات کرنا آمنہ کو خاصا ڈسٹرب کررہاتھا جیسے کہ اب بھی رات کے اس سمے عبیر کاکمرے سے باہر جانا اور سعادت کو کھانا دینا آمنہ کوبالکل پسند نہ آیا تھااوراس نے فیصلہ کرلیاتھا کہ وہ عبیر کو اس مسئلہ پر اچھی طرح کھل کر سب کچھ سمجھادے گی۔
آج دوسر ادن تھا سعادت کو گھر واپسی پر آمنہ اپنے انتظار میں جاگتی ملتی چونکہ ارشد جلدی سوجاتاتھااسی لیے گرتی پڑتی آمنہ ہی اسے کھانا گرم کرکے دیا کرتی عبیر کووہ صبح اس وقت دیکھتا جب وہ کالج جانے کے لیے تیار ہو کر باہر وین کاانتظار کررہی ہوتی اس کے علاوہ تو ایسا تھا وہ خود بھی سارا دن گھر نہ ہوتا اورجب رات گئے واپس آتاتو شاید وہ سو چکی ہوتی لیکن جو بھی تھا آج وہ آمنہ سے عبیر کی بابت دریافت کیے بنا نہ رہ سکا۔
’’تم تو رات جلدی سونے کی عادی ہو پھر کیوں میرے لیے اتنی دیر تک جاگتی رہتی ہو‘ عبیر کہاں ہے؟ اس سے کہا کرو مجھے کھانا گرم کرکے دے دیا کرے۔‘‘بظاہر سعادت کالہجہ بالکل عام ساتھامگر جانے کیوں آمنہ چونک اٹھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا عبیر کواس گھر میں آئے لگ بھگ دس برس سے زیادہ عرصہ گزر چکاتھا اتنے عرصے میں سعادت نے کبھی اس کی غیرموجودگی کاایسے نوٹس نہ لیاتھا جیسے کہ آج‘ یاشاید بیماری نے آمنہ کے دل کوشکی کردیاتھا۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ عبیر کی خوبصورتی اور جوانی نے دیگر مائوں کی طرح اسے بھی محتاط کردیاتھا لیکن جو بھی تھااسے آج پتہ چلا کسی کی اولاد کو پال کر اپنے گھر میں جوان کرناکتنامشکل کام ہے بے شک آپ اسے اپنی سگی اولاد ہی کیوں نہ سمجھے پھر بھی لے پالک رشتوں میں محرم اور نامحرم کاچکر ضرور آجاتاہے وہ بھی اس صورت میں جب گود لیا جانے والا بچہ ساری حقیقت جانتاہو یہی وجہ تھی جو ہمارے دین میں لے پالک کی کوئی گنجائش نہ تھی جسے جانتے ہوئے بھی ہم عمل کرنے کوتیار نہ تھے‘ وہ سوچوں میں گم تھی جب سعادت بول اٹھا۔
’’میں نے کوئی اتنی مشکل بات تو نہیں کردی جو تم اس طرح سوچوں میں گم ہوگئیں‘ سعادت آمنہ کے پرسوچ چہرے کوتاڑتا ہوابولا‘ اس کی بات سن کرآمنہ جیسے چونک اٹھی۔ ’’ایسی بات نہیں ہے‘دراصل اس کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں اس لیے رات دیر تک جاگ کر پڑھائی کرتی ہے تو میں نہیں چاہتی کہ وہ ڈسٹرب ہو۔‘‘ اپنے تئیں اس نے سعادت کومطمئن کردیاجبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا وہ جو کہتے ہیں ناکہ جب کسی بات پرپابندی لگادی جائے تو اس کی جستجو بڑھ جاتی ہے تو بالکل ایسا ہی عبیر پر لگائی جانے والی پابندی اس کے ساتھ ساتھ سعادت کوبھی کھل رہی تھی۔ دونوں سمجھ نہ پارہے تھے کہ آمنہ کو کس طرح نیچا دکھایاجائے جس کاموقع انہیں ایک دن قدرت نے خود ہی فراہم کردیا۔
آج صبح سے ہی آمنہ کابلڈ پریشر بہت ہائی تھا جس کی میڈیسن لے کر وہ جو سوئی تو سعادت کے بیل بجانے پربھی اس کی آنکھ نہ کھلی‘ جبکہ عبیر نے ایک دوبار اسے جگانے کے لیے ہلکی آواز میں پکارا بھی مگر جواب نہ پاکر وہ خود ہی کمرے سے باہر نکل گئی اور اتنے دنوں بعد سعادت اسے اپنے سامنے دیکھ کر جہاں حیران ہوا وہا ں ایک انجانی اور کمینی سی خواہش بھی اس کے چہرے پربہار بن کرچھاگئی۔
’’زہے نصیب آج پری کی جان اس بوڑھی جادوگرنی سے کیسے چھٹ گئی۔‘‘وہ عبیر کے خوبصورت سے چہرے کودیکھتے ہوئے کھل کھلایا۔
’’آپ کامطلب ہے کہ پھپھو جادوگرنی ہیں؟‘‘ جواباً عبیر نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے سوال کیا۔
’’نہیں میں تمہیں پری کہہ رہاہوں۔‘‘عبیر سے بات کرنے میں سعادت کومزا آرہاتھا۔
’’اچھا پھرٹھیک ہے۔‘‘ ہنستی ہوئی عبیر نے اس کے سامنے کھانے کی ٹرے لارکھی۔
ویسے یہ تو بتائو تم اتنے دنوں سے غائب کہاں تھی؟ تمہاری پھپھو کابیمار چہرہ دیکھ کر تومیرا جی ہی اوب گیاتھا۔ ‘‘ٹرے اپنے سامنے کرتا وہ ایک ادا سے بولا۔
’’پھپھو نے منع کیا تھا کہ جب آپ آئیں تو میں دروازہ نہ کھولوں۔‘‘آمنہ کی سمجھائی ہوئی تمام ہدایات کوقطعی نظر انداز کرتی وہ جلدی سے بول اٹھی۔
’’ہوں۔‘‘
عبیر کے جواب نے سعادت کو حیران کردیا۔
’’کیوںکہ آپ اچھے آدمی نہیں ہیں‘ شراب پیتے ہیں اسی لیے پھپھو کاکہنا ہے کہ مجھے آپ کے پاس نہیں جانا چاہیے۔‘‘آمنہ کی ایک ایک بات اس نے سعادت کے سامنے کھول دی کیونکہ بڑی مشکل سے اسے آج یہ موقع ملاتھا کہ وہ سعادت سے بات کرسکے جسے وہ گنوانا نہ چاہتی تھی۔
’’بڑی کوئی جاہل عورت ہے۔‘‘غصہ سے سعادت نے آمنہ کو ایک بڑی سی گالی بھی دے دی۔’’میں شراب نہیں بیئر پیتاہوں‘ ویسے بھی قیمتی شراب پی کر کوئی اپنے حواس نہیں کھوتا میں کوئی ٹھیلے سے لے کر کچی نہیںچڑھاتا۔‘‘
غصہ کی زیادتی سے سعادت کی سانس پھول گئی۔
’’آپ کچھ بھی پیتے ہوں مجھے کوئی اعتراض نہیں ویسے بھی بھلا آپ نے مجھے کیاکہنا ہے میں آپ سے نہیں ڈرتی۔‘‘ بھولے پن میں جو چالاکی چھپی تھی وہ سعادت نہ سمجھ سکا۔
’’اچھا میں کل گولیوں کاایک پتہ لاکرفریج میں رکھ دوں گا نکال لینااورجب وہ جادوگرنی سونے لگے تو ایک گولی اس کے دودھ میں حل کرکے پلادینا کیونکہ میں سونے سے قبل اس کاچہرہ نہیں دیکھنا چاہتامیری بات سمجھ رہی ہونا۔‘‘
’’اچھی طرح سمجھ گئی جیسے آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا بس کبھی پھپھو کو کچھ بتائیے گا مت ورنہ یقین جانیں میری خیر نہ ہوگی۔‘‘ مصنوعی خوف زدہ آواز کے ساتھ اس کے چہرے کے تاثرات بھی بدل گئے تھے جو اس بات کاثبوت تھا کہ وہ ایک بہترین اداکارہ ہے۔
’’وہی ہوگا جو یہ چھوٹی سی پری چاہے گی۔‘‘
سعادت اس کے بالوں کی لٹ چھوتے ہوئے مسکرایا اور پھر اس دن کے بعد سے وہ روزانہ رات آمنہ کودودھ میں گولی گھول کر پلانا نہ بھولتی جس کے نتیجے میں آمنہ ایسی گہری نیند سوتی کہ لاکھ سعادت بیل بجاتا اس کی آنکھ ہی نہ کھلتی اوروہ کافی عرصہ تک یہی سمجھتی رہی کہ رات سعادت کی واپسی پر دروازہ ارشد کھولتا ہے نیز اسے کھانابھی وہی گرم کرکے دیتاہے اوراس جھوٹ کے لیے سعادت نے ارشد کو بھی ساتھ شامل کرلیاتھا۔
آمنہ کی آنکھ کھلی تو صبح کے نوبج چکے تھے‘ عبیر کالج جاچکی تھی بڑی مشکل سے خودکو سنبھالتی وہ اٹھ بیٹھی‘ پاس رکھی گھنٹی بجائی تاکہ ارشد اس کاناشتہ لے آئے‘ ویسے بھی آج کئی دنوں سے وہ صبح جب بیدار ہوتی تو سرجانے کیوں اتنا بھاری ہوجاتا کہ جاگنے کے بعد بھی کافی دیر تک اسے کوئی سدھ بدھ ہی نہ رہتی‘ اس کے لیے سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ اس کی نماز فجر قضا ہوجاتی جس کاملال وہ سار ادن اپنے دل پر محسوس کرتی یہی سوچتی پائوں میں چپل پھنسائے وہ باتھ روم کی جانب بڑھی ہی تھی کہ پائوں کے نیچے کوئی چیز آکر چرچرائی آمنہ نے دیکھاوہ گولیوں کاخالی پتہ تھا ‘ لیکن یہ وہ گولیاں نہ تھیں جنہیں وہ استعمال کرتی تھی یہ پتہ کہاں سے آیا؟ جھک کر پتہ اٹھاتے ہوئے اس نے سوچا‘ پھر الٹ پلٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا وہ کوئی سکون دلانے والی میڈیسن کاپتہ تھا‘ آمنہ کو حیرت نے آن گھیرا ایسے کسی پتے کااس کے کمرے میں کیا کام‘ اس کے دماغ میں کچھ کلک ہوااور وہ ایک بار پھر سے شک کی کیفیت کاشکار ہوگئی جس کامرکزی کردار سعادت اور عبیر تھے‘ اسے محسوس ہواگھر میں کچھ غلط ہو رہا ہے جسے جاننے کے لیے ضروری تھا کہ وہ آج رات سوتے وقت دودھ کاوہ گلاس ہرگز نہ پیے جو روزانہ بستر پر جانے سے قبل عبیر اسے دیا کرتی تھی اور پھر رات اس نے ویساہی کیا‘ عبیر کادیاہوا دودھ نظر بچا کر اپنے قریب موجود خالی گلدان میں انڈیل دیا یہاں تک کہ اس نے اپنی روز مرہ کی میڈیسن کی رات والی خوراک بھی استعمال نہ کی مبادا گہری نیند اسے اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔
دروازے پربجنے والی گھنٹی دوسری بار سنائی دی عبیر نے اپنی گردن اٹھا کرآمنہ کے پلنگ پرایک نظر ڈالی‘ جہاں وہ گہری نیند میں ڈوبی دکھائی دی پھر بھی احتیاط ضروری تھایہی سوچتے ہوئے اسے روز مرہ کی طرح آمنہ کو آواز دینا ضروری سمجھا۔
’’پھپھو… پھپھو…‘‘ جواب ندارد‘ اب وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور آہستہ آہستہ چلتی کمرے کا دروازہ کھول کرباہر نکل گئی اس کے باہر نکلتے ہی آمنہ نے اپنی موندھی ہوئی آنکھیں کھول کر پورے کمرے کاجائزہ لیا جوعبیر کے وجود سے خالی تھا اس کا دل صدمہ سے نڈھال ہوگیا کچھ دیر بستر پر لیٹ کر اس نے انتظار کیا شاید عبیر بیرونی دروازہ کھول کرواپس آجائے لیکن لاحاصل …جانے والی ابھی تک لوٹ کر نہ آئی تھی۔ مطلب باہر کوئی ایسا کھیل کھیلا جارہاتھا جس سے آمنہ لاعلم تھی جو بھی تھااسے اپنی یہ غلط فہمی ہرحال میں دور کرنا تھی یہی سوچتے ہوئے وہ نہایت خاموشی سے اپنے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی مبادا کوئی ایسی آواز نہ پیدا ہوجائے جو باہر والوں کو ہوشیار کردے یہی سوچتے آمنہ نے دھیرے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کرباہر جھانکا سامنے ہی صوفے پر سعادت کے پہلومیں عبیر بیٹھی دور سے ہی دکھائی دے رہی تھی جس کے چہرے پر چھائی شوخی اورہی کہانی سنارہی تھی۔ دونوں کی اس قدر نزدیکی ہرگز ویسی نہ تھی جو کسی محرم رشتہ کے درمیان پائی جاتی ہے‘ آمنہ کا دل ڈوب گیا‘ مارے صدمے اس کا پورا وجود لرز اٹھا‘ بڑی مشکل سے اس نے اپنے حلق سے ابھرے والی چیخ کوقابو میں کیا ‘عبیر کے قریب ہی صوفہ پر ایک شاپنگ بیگ دھراتھاجس میں شاید کوئی ایسا تحفہ تھا جو سعادت اس کے لیے خرید کر لایاتھا جسے دیکھ کر عبیر کاچہرہ خوشی سے کھلاپڑاتھا‘ اب مزید کچھ دیکھنے کی ہمت آمنہ میں ختم ہوگئی اس نے آہستگی سے دروازہ واپس بند کردیا اوراپنے قدم گھسیٹتی بمشکل بستر تک آئی اور پھر بستر پر گرتے ہی سسکیوں کے ساتھ اس نے جورونا شروع کیا تو آنسوئوں کے راستہ دل کی جیسے ساری بھڑاس بہہ نکلی اتنابڑا دھوکہ‘ کوئی کسی کوکیسے دے سکتا ہے وہ بھی اپنے سگے رشتے جن میں ایک طرف شوہر اور دوسری جانب سگی بھتیجی تھی جسے اس نے ہمیشہ اپنی سگی اولاد ہی سمجھا اسے ایسے دھوکہ دے گی یقین ہی نہ آیا‘ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود آمنہ کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ عبیر ہی تھی اور پھر روتے ہوئے اس نے اپنے دل میں ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ تھا عبیر کو واپس اس کے والدین کے حوالے کرنے کا اوروہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد یہ کام سرانجام دے اس سے قبل کہ کوئی بدنامی اس کے دروازے پر عبیر کی شکل میں دستک دے بہتر تھا اسے‘ اس کے اصل وارثوں کے حوالے کردیاجائے‘ اوراسی میں ہی سب کی بھلائی تھی مگر اکثر ایسا ہوتانہیں ہے کہ انسان جوسوچے وہ کام ویسے ہی ہوجائیں اور ایسا ہی کچھ آمنہ کے نصیب میں بھی لکھا جاچکاتھا جس سے وہ بے خبر تھی اس کی ایک وجہ شاید خدا کے بنائے ہوئے قانون کی روگردانی بھی تھی جوآمنہ سے ہوئی تھی۔
…٭٭…
’’میری سمجھ میں نہیںآرہا پھپھو‘ آخرہم گائوں کیاکرنے جارہے ہیں؟ اوروہ بھی اتنے دنوں کے لیے ؟ پریشان حال عبیر نے بھرے بھرے دوصندوق دیکھ کر آمنہ سے سوال کیا۔ کتنے سال ہوگئے ہم گائوں نہیں گئے تو اچھاہے نا اب تمہاری سیکنڈ ایئر کی چھٹیاں ہوئی ہیں تو کافی وقت ہے ہمارے پاس تسلی سے جاکررہ لیں گے۔‘‘
’’مگریہاں انکل کوکون دیکھے گا’؟ ہمارے بنا تووہ گھر میں اکیلے رہ جائیں گے ؟‘‘
عبیر کی بات سن کر آمنہ نے بڑی مشکل سے خود پرقابو پایا اور نہایت غور سے اس کاچہرہ دیکھتے ہوئے بولی۔
’’تم انکل کی فکرنہ کرو ان کے لیے ارشد ہے اور میرے ساتھ آکر سامان پیک کروائو ‘ کل رات کی فلائیٹ ہے اور ابھی ہماری تیاری ادھوری پڑی ہے۔‘‘ آمنہ کی بات سن کر عبیر سست روی سے اٹھ کھڑی ہوئی آمنہ نے دیکھا وہ چہرے سے ہی پریشان حال دکھائی دے رہی تھی اسے حیرت ہوئی ماں باپ سے ملنے کی ہلکی سی خوشی بھی اس کے چہرے پر دکھائی نہ دے رہی تھی شاید شہرکی آسائشوں کی عادی اپنا اصل فراموش کربیٹھی تھی‘ ویسے بھی اکلوتی حیثیت سے پرورش پانے والی عبیر کے لیے ایک بھرے پرے گھرمیں جاکر رہنا نہایت مشکل امرتھااس سے زیادہ یہ فیصلہ آمنہ کے لیے بہت مشکل تھا کہ اتنے سالہ ساتھ کو دنوں میں ختم کردینا مگر کیا کرتی وہ اس وقت بے حد مجبور ہوچکی تھی اگرایسانہ کرتی تو نتائج بھیانک صورت میں اس کے سامنے آتے جن سے خوف زدہ آمنہ کواپنا دل مار کرعبیر واپس پہنچانی تھی وہ عبیر جسے آج تک اس نے اپنی بیٹی سمجھ کرپالا‘ لمحوں میں دوسروں کے حوالے کرنا آسان کام نہ تھامگر یہ کام تو عبیر کی شادی کی صورت میں بھی ہوناہی تھاتوکیوں نہ ابھی یہ سمجھ لیاجائے کہ وہ عبیر کوبیاہ کر سسرال رخصت کررہی ہے یہی سوچ کر اس نے اچھی خاصی رقم بھی اپنے ساتھ رکھ لی تاکہ اسے عبیر کی شادی کے اخراجات کے لیے عبداللہ کے حوالے کردے کہ وہ کوئی اچھالڑکا دیکھ کر عبیر کوبیاہ سکے۔
…٭٭…
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ آمنہ کے الفاظ تھے یا کوئی دھماکا جو عبداللہ اوراس کی بیوی کو اپنے آس پاس سنائی دے رہاتھا انہیں یقین ہی نہ آرہاتھا کہ یہ سب کچھ کہنے والی آمنہ ہے جو عبیر کو اپنی بیٹی بنا کر یہاں سے لے کر گئی تھی۔
’’میری بات سمجھنے کی کوشش کرو عبداللہ میں بیمار رہتی ہوں‘ ایسے میں جوان بچی کی ذمہ داری نبھانابہت مشکل ہوگیاہے میرے لیے‘ تومیں چاہتی ہوں کہ …‘‘
’’ایک بات بتائو اگر عبیر تمہاری سگی بیٹی ہوتی تو تم کیا کرتیں‘ کہاں پھینکتی اسے اپنی بیماری کی حالت میں۔‘‘
یہ رابعہ تھی‘ عبداللہ کی بیوی‘ غصہ اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ لہجے میں بھی چھلک رہاتھا۔
’’میری سگی بیٹی کاباپ سعادت ہوتا جس سے مجھے وہ خطرہ نہ ہوتاجو اب ہے اور ظاہر ہے ماں کی بیماری میں باپ اپنی ذمہ داری نبھاتا جوکہ وہ اب نہیں نبھارہا ۔‘‘آمنہ نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ہربات سمجھانا چاہی اور ساتھ ہی اپنے بیگ میں موجود رقم کالفافہ عبداللہ کے سامنے رکھ دیا۔
’’یہ کچھ رقم ہے جوعبیر کے لیے ہے میں چاہتی ہوں تم کوئی اچھا سارشتہ دیکھ کر اس کی شادی کردو۔‘‘
’’یہ ہمارا ذاتی مسئلہ ہے‘ جسے ہم خود حل کرلیں گے تم پریشان مت ہو۔‘‘
عبداللہ نے اپنے سامنے موجود لفافہ کوہاتھ لگائے بغیر براسامنہ بناتے ہوئے کہا۔ جواباً آمنہ خاموش رہی جانتی تھی کہ یہ سب کچھ اتنی جلدی قبول کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہ تھا جس میں آمنہ‘ عبداللہ ‘ رابعہ اورعبیر سب شامل تھے ایساسوچتے ہوئے وہ سعادت کوبالکل فراموش کرگئی جواصل مسئلہ کی بنیاد تھا۔
سعادت کویقین نہ آیا کہ دوسری طرف عبیر جو کچھ کہہ رہی ہے وہ سچ ہے‘ آمنہ اپنی سوچ میں اس قدر گر بھی سکتی ہے اسے حیرت ہوئی اسے آمنہ پر اتنا شدید غصہ آیا کہ اگر وہ سامنے ہوتی تو جانے وہ اس کا کیا حشر کرتا‘ ایک ہی پل میں اس عورت نے اس کی عزت اتار کرپھینک دی تھی‘ اس سوچ نے سعادت کا دماغ اس بری طرح جکڑا کہ وہ غم وغصہ کی کیفیت میں گھراانتقام کی آگ میں اتائولا ہوگیاسچ تویہ ہے کہ معاملہ اتنا خراب نہ تھا جتنا اسے آمنہ کے بلاوجہ کے شک نے کردیا تھا اوراب سعادت کے ساتھ ساتھ عبیر کے دماغ میں ؔ بھی صرف ایک ہی خیال تھا کسی طرح آمنہ کو ذلیل کیا جاسکے یہی سوچ کرسعادت نے عبیر کوتسلی دی۔
تم فکرنہ کرو‘ میں جلد ہی تمہارے ابو سے بات کروں گا اور مجھے امید ہے کوئی بہتری کاراستہ نکل آئے گا۔‘‘
فون بند کرکے اس نے بہت سوچااور پھراس نتیجے پر پہنچا کہ اسے اس مسئلہ پر عبداللہ کو اپنے اعتماد میں لینا ہوگا جس کی کم عمر بچی کوبلاوجہ آمنہ نے بدنا م کرنا شروع کردیاہے اور اس کے لیے ضروری تھا کہ آمنہ کی کراچی واپسی سے قبل ہی عبداللہ کوفون کرلیاجائے اور پھر اسی رات اس نے عبداللہ کوفون کردیا جوسعادت کی بات سن کر ہکابکا ہوگیا۔
…٭٭…
’’میراخیال ہے کہ اس میں سوچنے والی کوئی بات نہیں ہے آخرہم نے ایک دن اس کی شادی تو کرنی ہے تو پھر کیوں نہ ابھی کردی جائے ویسے بھی اتنا اچھا رشتہ نصیب سے ہی ملتا ہے۔‘‘
آہستہ آواز میں بولتی رابعہ اپنے شوہر کے مزید نزدیک ہوگئی۔
’’نیک بخت یہ بھی تو سوچ آمنہ کیا کہے گی ؟‘‘
’’اس نے کیا کہنا ہے ہماری بیٹی ہے جو فیصلہ ہم کریں اس کے لیے وہی بہتر ہوگا پہلے آمنہ کے کہنے پر آکر بچی اس کے حوالے کردی کیانتیجہ ملا ‘اپنے ماحول کاعادی کرکے اسے یہاں لاکر پھینک دیا سمجھو ہمارے منہ پردے مارا‘ یہ ہے تمہاری بہن۔‘‘
’’اچھااب تم چپ ہوجائو مجھے کچھ سوچنے دو۔‘‘ عبداللہ کی خاموشی بتارہی تھی کہ وہ نیم رضامند ہے جس کی مثال اس لمحہ ایک ایسے لوہے جیسی تھی جوہلکی سی ضرب لگانے پرٹوٹ جاتاہے اور ضرب اب عبیر کولگانی تھی جس کے لیے وہ اسے ذہنی طور پر تیار کرچکی تھی۔
…٭٭…
عبیر دودن سے گھر نہ تھی آمنہ کو حیرت ہوئی یہی وجہ تھی کہ وہ رابعہ سے پوچھے بنانہ رہ سکی ویسے بھی وہ عبیر کی بہت زیادہ عادی تھی اس لیے اس کی غیرموجودگی جلدی محسوس کرلی۔
’’عبیر کہاں ہے ؟‘‘
’’اپنی خالہ کے گھر رہنے گئی ہے۔‘‘ رکھائی سے جواب دیتی رابعہ اندر کمرے میں چلی گئی اور پھرجب تک آمنہ گائوں میں رہی عبیر واپس نہ آئی جس کی واپسی کا وہ روزانہ رابعہ سے پوچھتی ضرور جبکہ رابعہ اسے کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے پاتی اور اسی طرح عبیر کی واپسی کاانتظار کرتی وہ شہر واپس آگئی لیکن عبیر سے ملاقات نہ ہوسکی‘ البتہ اپنی واپسی کی اطلاع اس نے سعادت کوفون کرکے دے دی تھی جس کارویہ ہمیشہ کی طرح بہت روکھا تھاپھربھی آمنہ کوامید تھی کہ وہ اسے لینے ایئرپورٹ ضرور آئے گا مگر ایسانہ ہوا‘ اور ٹیکسی کرواکر اکسی طرح گرتی پڑتی وہ اپنے گھر پہنچ گئی اسے امید تھی کہ عبیر کے بنا گھر کی تنہائی اسے جینے نہ دے گی مگر کیا کرتی مجبوری تھی اس کایہ فیصلہ عبیر کے حق میں بہتر تھا اوراپنی اولاد کی بہتری کے لیے ہرماں ایساہی قدم اٹھاتی ہے جس پرآمنہ کو کوئی افسوس نہ تھا یہی سب سوچتے ہوئے اس نے دروازے کے لاک میں چابی پھنساکرگھمائی توپتہ چلا دروازہ اندر سے بند ہے شاید گھر میں ارشد تھایہی سوچتے ہوئے اس نے گھر کی گھنٹی بجائی مگر دروازہ کھول کرباہر نکلنے والی شخصیت کو دیکھ کر آمنہ کوایسا محسوس ہواجیسے وہ کھڑے قد سے زمین پرآن گرے گی۔
’’تم یہاں کیسے ؟ کس کے ساتھ آئی ہو؟‘‘ باہر نکلنے والی یقینا عبیر تھی جس کی اپنے گھر میں موجودگی نے جیسے آمنہ کوبدحواس کردیا جواباً عبیر صرف مسکراتی رہی‘ آمنہ نے دیکھا وہ خوب تیار تھی ‘نیا جوڑا اور نک سک سے کیاگیامیک اپ اسے اپنی عمر سے دوگنا بڑا ظاہر کررہاتھا‘ ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں اور کان میں لٹکتے آویزے۔
’’کیوں آئی ہو تم یہاں؟‘‘اندر داخل ہوتی آمنہ نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑڈالا۔
’’اوراگر یہی سوال میں آپ سے کروں کہ آپ یہاں کیوں آئی ہیں تو کیسا لگے گا آپ کو۔‘‘ عبیر کے بدلے بدلے انداز گفتگو نے آمنہ کوچونکا دیا۔
’’کیابکواس کررہی ہوتم؟‘‘ وہ ہانپتے ہوئے چلائی۔
’’بکواس نہیں سچ کہہ رہی ہے یہ‘ تم یہاں کیوں آئی ہو جبکہ میں تمہارا طلاق نامہ دو دن قبل ہی بھیج چکاہوں۔‘‘ یہ آواز سعادت کی تھی‘ سفید کلف والی شلوار قمیص میں تازہ رنگے بالوں کے ساتھ وہ خاصا ہشاش بشاش دکھائی دے رہاتھا‘ ویسے بھی آمنہ اس سے تین سال بڑی تھی اوراب بیماری کی حالت میں تیرہ سال بڑی دکھائی دے رہی تھی‘ اسے یقین نہ آیا کہ یہ الفاظ سعادت کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔
’’میں تمہاری بات سمجھی نہیں تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
طنزیہ ہنستی عبیر کے چہرے سے بمشکل نظریں چرا کر آمنہ نے قریبی دیوار کا سہارا لیتے ہوئے پوچھا‘ اسے خدشہ تھا کہیں وہ زمین پرہی نہ گرجائے۔
’’میں تمہیں طلاق دے چکاہوں میرا خیال ہے اب توتمہیں میری بات سمجھ آگئی ہوگی یاپھر سے کہوں؟‘‘
’’پلیز سعادت خاموش ہوجائو‘ مت کرو میرے ساتھ ایسامذاق‘ جس سے میں مرجائوں۔‘‘
وہ آواز کے ساتھ رو رہی تھی۔
’’یہ مذاق نہیں سچ ہے آمنہ اور اس کے لیے مجھے تم نے مجبور کیا ‘ وہ سب جو ہمارے دل ودماغ میں بھی نہ تھا اسے تم نے ہمارے ذہنوں میں جگہ دی‘ تمہارے شک نے ہم سے وہ سب کروادیاجو عام حالت میں شاید کبھی نہ ہوپاتا اور سوری تمہیں طلاق دینا میری مجبری تھی کیونکہ ایک وقت میں پھوپھی اور بھتیجی نکاح میں نہیں رکھی جاسکتیں۔دوسری صورت میں عبیر تمہاری بھتیجی نہ ہوتی تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا بے شک تم اس گھر کے ایک کونے میں پڑی اپنی زندگی کے دن گزار دیتیں لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تمہیں ابھی اوراسی وقت یہاں سے واپس جاناہوگا‘ عبداللہ سے میری ساری بات ہوچکی ہے وہ تمہیں اپنے گھر میں رکھ لے گا جس کے لیے اسے ہر ماہ میں ایک معقول رقم بھیج دیاکروں گا۔‘‘
وہ کچھ او ر بھی کہہ رہاتھا جسے آمنہ نے نہ سنااور بیرونی درازہ کھول کر باہر نکل آئی‘ اسے ایسا محسوس ہواجیسے سارے محلے کے گھروں کی کھڑکیوں سے لوگ جھانک رہے ہیں‘ اس پرہنس رہے ہیں‘ اسے اپنے چاروں طرف ہنسی کی آوازیں سنائی دیں‘ آمنہ نے گھبرا کر اپنا منہ چادر میںچھپالیااور تیز تیز چلتی مین روڈ پرآگئی…نہیں جانتی تھی کہ اب اس کی منزل کہاں ہے لیکن یہ طے تھا کہ اسے کسی بھی حال میں عبداللہ کے گھر نہیں جانا‘ بہت سال قبل اپنے رب کے حکم سے روگردانی کرتے ہوئے اس نے ایک بچی گود لیتے سمے یہ نہ سوچا تھا کہ اس عمل کی سزا اتنی کڑی ہوگی یا یہ اس کے شک کا نتیجہ تھا جو بھی تھااسے ملنے والانقصان ناقابل تلافی تھا جس کی تلافی شاید اس کی موت کی صورت میں ہی ہوتی جس کے لیے جانے اسے کتنا انتظار کرنا تھایہی سوچتے ہوئے اس کے قدم ایدھی سینٹر کی جانب اٹھ گئے اور یہی شایدہر بے گھر کی عورت کی منزل تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close