NaeyUfaq Feb-18

نومبر

تنویر خلیل

’’آسمان پر کسی نوآموز خطاط نے لفظ ’’قصیدہ‘‘ لکھا اور ’’نگر نسواں‘‘ میں اس تمثیل کی عبادت ہوتی رہی۔‘‘
سلفورڈ قیس ‘ دی لیوری کی بے مثال آرٹ گیلری کی سیڑھیوں پر بیٹھی ہوں‘ اوورکوٹ پر شام کی سسکیاںدم توڑ رہی ہیں‘ بے آواز آسمان آنسو بہارہا ہے۔
’’تمہاری آنکھیں بہت خوب صورت ہیں شارلٹ! بالکل ہمارے وطن کی جھیل سی۔‘‘ آسمان کے قطرے‘ میرے آنسوئوں سے شرط باندھنے لگے تھے‘ برف میں دبی‘ بے بس چڑیا سرد ہوچکی ہے۔
’’یہ میرا نہیں ہوسکتا۔‘‘ بازگشت میں فرعون سی گرج تھی‘ آسمان نے سر جھکا کر اپنا سر تسلیم خم کردیا‘ بے نوری نور کا مینار دیکھ لیا تھا۔
‘‘میں تم سے… جبران احمد‘ تم سے شارلٹ‘ تم سے محبت کرتا ہے۔‘‘
’’میں تمہیں کیسے ملائوں گا تم عیسائی ہو۔‘‘
’’ہاں میں تمہارے لیے دنیا میں آگ لگادوں گا‘ اے بغاوت پر اکسانے والی کیا میرے ساتھ رہو گی؟‘‘
’’عیسائی عبث ہے اور ہم ’’عبث‘‘ سے رشتہ جوڑ کے نجس نہیں بننا چاہتے۔‘‘ شو ختم ہورہا ہے‘ پاپ کارن ہاتھ میں تھامے اوورکوٹ پہنے‘ مفلر لپیٹے اور اونی ٹوپی پہنے میں بالکل اسٹیچو بن گئی ہوں۔ میرا ہاتھ ہوا میں معلق ہے جو اس بات کا ضامن ہے محبت کے راستے میں‘ میں راستہ کھوبیٹھی ہوں۔
میں اٹھی اور فٹ پاتھ پر سہمے سہمے چلنے لگی‘ محبت کی مغینہ دور کہیں مغموم نغمہ سرائی میں مگن تھی اور وقت ٹھہر رہا ہے۔
’’جبران احمد! محبت کے اس کھیل میں کون جیتا ہے‘ کون ہارا ہے اس کا فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟ محبت تو آفاقی جذبہ ہے اور آفاقی جنم پر قدرت کو خاکسار کا قابض ہونا مذاق سے بھی نیچ لگتا ہے۔ سناد والے مانچسٹر کی ہوائوں‘ اہل برہا میں ایک اور مراقی (دیوانہ) کا اضافہ ہوچلا ہے‘ سنادینا‘ ہاں رلادینا۔‘‘ آہستہ آہستہ میں فٹ پاتھ پر بیٹھتی چلی گئی‘ برہا سے چُور‘ محبت کا ماتم کنائی پر ابابیلوں کی رفتار میں اس طرح کمی واقع ہوئی ہے کہ جیسے پروں سے پرواز کی طاقت کھینچ لی گئی اور مژدہ سنادیا گیا ہو ’’نومبر ہے آداب ملاحظہ‘‘۔
نومبر کی اس کھوکھلی صبح میں کہیں سے رات کی ظلمت آن ٹھہری ہے‘ فٹ پاتھ پر بیٹھی شارلٹ عظیم مرثیہ نگار کی شاہکار ’’مرثیہ‘‘ معلوم ہوتی ہے۔ دور کہیں گٹار پکڑے‘ ضد کا پکا ایک منچلا لڑکا گٹار کی نئی نئی دھنیں نکالی رہا تھا اور No‘‘ کی مشقوں سے نومبر کے حالات زار سنارہا تھا۔
No Son— No Moon
No Morn—- No Noon
No Down—– No dllsk— No Proper time Of day
NO Sky—- No earthly view
Nodistance Looking blue
No Road— No Street—- No”t’ Other Side the
مانچسٹر میٹرو پولیٹن یونیورٹی پر سنہری السائی دھوپ سے مخمور صبح بھیگ چکی تھی‘ طلباء گرم گرم ملبوس آتے جارہے تھے۔ فائن آرٹس کے ڈیپارٹمنٹ سے نکل رہی تھی شارلٹ‘ سنہرے گندم کے خوشبوں جیسے بال‘ جھیل سی آنکھیں ‘ قندھاری انار سے ہونٹ‘ وہ حسن کی دیوی تھی۔ حسن اس کی پوجا پاٹ کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔
’’ایما! اگر تمہیں پچھلی کافی کی یاد ستائے جارہی ہے تو ابھی سے بتائے دیتی ہوں‘ میں آج کل بہت غریب ہوں۔‘‘ اس نے ساتھ چلتی ننھی چوہیا کو دیکھ کے دانت نکوسے۔
’’اوہ ڈئیر جیسے میں جانتی نہیں‘ دی لیوری کے تھیٹر میں آج پرفارمنس دینی ہے تمہیں۔‘‘ ایما نے حساب برابرکیے‘ ایسے طنزیہ بھوئیں اچکائیں کہ جیسے کسی ماہر شکاری نے شکار کو گھائل کرنے کے لیے تاک کے نشانہ بنایا ہو۔
’’مجھے تو نہیں پتا ہے۔‘‘ اس نے انجان بننے کی اداکاری کی حالانکہ وہ ایک اداکارہ تھی۔
’’شام کو ہے اور ہم تو جیسے تمہیں جانتے نہیں۔‘‘
’’ہاں بس بکواس بند کرو اور چلو چوہیا‘ پلادیں تمہیں پیٹرول۔‘‘ کیفے ٹیریا پہنچ کے اس نے ایسی گھوریوں سے ایما کو نوازا تھا کہ جیسے اس نے شارلٹ سے اس کی پیاری بلی مانگ لی ہو لیکن نہیں‘ اگرڈھیٹ پن کی آخری حد نہیں ہے تو ایما وہ حد پھلانگ چکی ہے۔۔
’’تمہیں ایک معذور لڑکی کا رول کرنا چاہیے۔‘‘ ایما نے مشورہ دیا۔
’’لیکن نہیں‘ اس سے پہلے مجھے تمہیں معذور کردینا چاہیے۔‘‘
’’اوہ! کیا تمہارا اگلا رول فائٹر کا ہے؟‘‘
’’نہیں میرا اگلا رول ایک ننھی چوہیا کا ہے جو بریڈ چوری کرنا بھول چکی ہے اور آج کل دوسروں سے بھیک مانگ کے کافی پیتی ہے۔‘‘
’’اوہ تو ننھی چوہیا! تمہارے لیے نیک تمنائیں‘ ویسے تم رول اچھی طرح کرلو گی کیونکہ تمہیں بننے کی ضرورت بھی نہیں۔‘‘
’’ایمان تمہیں کافی ختم کیے پانچ منٹ ہونے کو ہے‘ چلو میں نے ریہرسل بھی کرنی ہے۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی‘ بنفشے کے پھولوں نے اس کی قدم بوسی کی اور اعلانیہ ’’محبت زادی‘‘ کہتے ہوئے قطبین میں بکھرتے چلے گئے۔
’’ہاں چلو‘ مگر یاد ہے نا؟‘‘ ایما نے رک کے پوچھا۔
’’جی یاد ہے‘ پرفارمنس کے بعد آداب جالاتے سمے کہنا ’’بنام ایما‘‘ اب چلو بھی۔‘‘ وہ دونوں روش پر چلتے مدھم مدھم سروں میں گنگنا رہی تھیں‘ السائی ہوئی دھوپ میں سر سنگیت کی لہریں موجزن ہونے لگیں اور سرسر گم نے سارے ماحول پر سارے‘ گاما سی بکھیر دی تھی۔
’’ایک سوال پوچھوں؟‘‘ ایما نے ہاتھ ملتے کہا‘ سنہرے بالوں والی لڑکی نے جھیل سی آنکھیں اس پر مرتکز کی۔
’’ہاں مگر میرے رول کے بارے میں نہیں۔‘‘ نتھنے پھلائے۔
’’تمہارا رول کوئی فیری ٹیل کا پری والا نہیں ہے کہ میں بار بار اس کا سوال پوچھوں۔‘‘
’’ڈئیر ننھی چوہیا! اب پوچھ بھی چکو۔‘‘
’’محبت تمہاری نظروں میں کیا ہے؟‘‘ سوال نے برگد کی بزرگی کو خود سے باندھے‘ فرشتوں کو عبادت میں مات دیتے‘ الہام الٰہی کی فصاحت لیے ’’شارلٹ‘‘ پر نزولیت کی اور خاموشی وقت میں‘ محبت نے اپنا صحیفہ کھولا اور ست رنگی موقلم سے ’’محبت زادی‘‘ کی تمثیل بنانے لگی۔
’’کچھ نہیں‘ رومیو اور جیولٹ سے منسلک یہ افسانوی بات مجھے کوئی زیادہ نہیں پسند‘ سو معذرت۔‘‘ محبت کے صحیفے پر آفاقی افشاں گرنے لگی اور تمثیل مکمل کرکے ’’اہل محبت‘‘ کی نگر کی اور پرواز کرگئی‘ لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بے سود۔‘‘
’’اور بے سود چیزیں کیا ترک نہیں کی جاتیں؟‘‘ شخص اس کے گرد گھوم رہا ہے‘ دائرہ در دائرہ…
’’مجھے بھولنے کا بے سود طریقہ ترک کردینا چاہیے۔‘‘ اس نے اعتراف کیا ہے‘ گٹار کی دھن نے لے بدلی اور پیانو بھی ساتھ دھنیں بکھیرنے لگا۔
’’تو پھر چلو ماریہ! میری یاد تمہاری منتظر ہے۔‘‘ وجیہہ شخص اوپر کو اٹھتا ہے‘ اٹھ رہا ہے اور لڑکی ڈھے ہورہی ہے۔ یکدم دھڑاک سے ڈھے ہوجاتی ہے‘ شخص نیچے اترتا ہے اور اس کے گرد چکرانے لگتا ہے۔ ہلکی ہلکی سی دھند لڑکی اور لڑکے کے گرد اٹھنے لگی ہے‘ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ شخص ہوا میں چل رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے‘ وہ مسکرا رہا ہے۔
’’تو ثابت ہوا ماریہ کہ میری یاد نے تمہاری محبت کا مقابلہ نہیں کیا‘ تمہاری محبت کی شدت نے ہوائوں کو حکم سنایا کہ زمین زادوں میں منادی کردی جائے کہ محبت نے ایک اور انسان کا دل گم کردیا‘ کیا دل کے گم ہوجانے میں سرور نہیں؟‘‘ وجیہہ شخص اڑ رہا ہے… اڑ رہا ہے … اور نیچے چت لیٹی ماریہ کے لب ہل رہے ہیں۔
’’ہاں‘ دل کے گم ہوجانے میں سرور ہے۔‘‘ پردے گرادیئے گئے‘ روشنی سمٹی‘ تاریکی چھائی اور یکدم پھر روشنی چھائی‘ تالیاں گونج ری تھیں۔
تماش بینوں میں ایک لڑکا مبہوت سا اسٹیج کی اور بس دیکھتا جارہا تھا‘ وقت نے بیوپاری نظریں بھانپ لی تھیں۔ بیوپار نظریںمحبت کے عطردان سے دوچار ہوئی اور عطردان سے خوشبو اڑی اور مرگھٹ کی منحوس باس پھیل گئی۔
فرض کرو ہم تارے ہوتے
اک دوجے کو دور دور سے دیکھ دیکھ کر جلتے بجھتے
پھر ایک دن
شاخ فلک سے گرتے اور تاریک خلائوں میں کھوجاتے
دریا کے دو دھارے ہوتے
اپنی اپنی موج میں بہتے
اور سمندر تک اس اندھی‘ وحشی اور منہ زور مسافت
کے جادو میںتنہا رہتے
فرض کرو ہم بھور سمے کے پنچھی ہوتے
اڑتے اڑتے ایک دوسرے کو چھوتے… اور پھر
کھلے گگن کی گہری اور بے صرفہ آنکھوں میں کھوجاتے
ابر بہار کے جھونکے ہوتے
موسم کے ایک بے نقشہ سے خواب میں ملتے
ملتے اور جدا ہوتے
خشک زمینوں کے ہاتھوں پر سبز لکیریں کندہ کرتے
اور ان دیکھے سپنے بوتے
اپنے اپنے آنسو روکے چین سے سوتے
فرض کرو جو کچھ اب ہیں وہ نہ ہوتے؟
ء…/…ء
جیکسن باف‘ جس نے جیک کا رول کیا تھا کو الوداع کہتے ہوئے وہ اپنا کراس بیگ لیے بس اسٹاپ کی جانب جارہی تھی۔ ہوائوں میں بھید بھری خاموشی کی مہک تھی۔
’’رکیے مادام!‘‘ کوئی زور سے چلایا تھا۔
اس نے گردن موڑ کے دیکھا‘ سیاہ جینز پر گہرے سبز رنگ کی شرٹ پہنے ایک خوب صورت سالڑکا اس کی جانب دوڑ رہا تھا۔ شرٹ پر خوب صورتی سے ’’نومبر‘‘ لکھا تھا۔
’’رکیے مادام!‘‘ اس کے قریب پہنچ کے اس کا سانس پھول چکا تھا‘ گہرے گہرے سانس لیے گہری نظریں اس پر جمادیں۔
’’کیا خوب صورتی آپ کی کنیز ہے؟‘‘ جب سنبھل چکا تو آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چلنے لگا تھا‘ ایسی معصومیت سے پوچھا کہ شارلٹ کے اوسان خطا ہوئے۔
’’یقینا نہیں۔‘‘ اس نے اوور کوٹ میں ہاتھ دھنسائے تو اس کی دیکھا دیکھی اس لڑکے نے بھی جینز میں ہاتھ اڑس لیے۔شام نے اپنی گلابی اوڑھنیاں سنبھالیں‘ سرد نومبر سے آشیرباد لیا اور محویت سے ان دونوں کے گرد محو رقصاں ہوئیں۔
’’آپ اداکارہ نہ ہوتیں‘ کسی نگر کی راج کماری ہوتیں۔‘‘
’’اوہ یقینا میں نہ ہوتی۔‘‘ اسٹریٹ لائٹس روشن کیے جانے لگے۔
’’آپ مانچسٹر کی ہی ہیں؟‘‘
’’جی میں مانچسٹر کی ہی ہوں۔‘‘
’’تو ثابت ہوا کہ مانچسٹر نے اپنا حسن دان کردیا ہے۔‘‘
’’ویسے آپ ایشیائی ہیں؟‘‘ اس نے رک کر مشکوک نظروں سے دیکھا۔
’’تو کیا ایشیائی ایسے مشکوک نظروں سے دیکھنے کے لائق ہیں؟‘‘ اس نے تسلیم کیا کہ وہ واقعی ایشیائی ہے۔
’’یقینا اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانی عورتوں نے آپ کو اپنی زبان دان کردی ہے۔‘‘ رک کر اس نے طنزیہ اس کے حساب برابر کیے اور پاکستانی عورتوں کے زبان کا ’’سفیر‘‘ ہنس دیا‘ کھلکھلا کر شام بھی ہنس دی تھی۔
’’ہاں میں پاکستانی ہوں۔‘‘ چلتے چلتے وہ ایک کیفے کے قریب پہنچ گئے تھے‘ اسٹریٹ لائٹس کی روشنی بھیگ رہی تھی‘ ٹھنڈک پھیل رہی تھی اس نے مفلر کس کے لپیٹا۔
’’کیا آپ کے ہاں کافی کی پیشکش نہیں کی جاتی؟‘‘ کیفے کے پاس رک کے اس نے کہا تھا‘ شارلٹ نے ایسی شکل بنائی کہ جیسے کہہ رہی ہو۔
’’اچھا آپ کا موڈ ہے‘ چلو آپ کی مرضی۔‘‘
’’نہیں کی جاتی۔‘‘ اس نے ہنسی دباتے کہا۔
’’قبول بھی نہیں کی جاتی۔‘‘
’’ہاں‘ قبول کی جاتی ہے۔‘‘ دونوں کیفے داخل ہوئے‘ قدیم طرز کے بنے اس کیفے میں خاموشی سر نیہواڑتے بیٹھی تھی‘ سرد خاموشی‘ پس منظر میں چلتی دھنیں‘ روشنیاں نومبر کی اس شام میں بھیگی سی تھی۔ ویٹرس نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا‘ کافی کے مگ دیئے اور مسکراتی چلی گئی تھی‘ وہ سمجھی کہ پریمی جوڑا ہے۔
’’آپ پاکستان میں کہاں رہتے ہیں؟‘‘ کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے لڑکے پر مرکوز کیے‘ ہاں وہ ایک اچھی اداکارہ ہے۔
’’پھولوں کے شہر میں۔‘‘ مسکرا کر جواب ملا۔
’’پھولوں کا شہر کون سا ہے؟‘‘
’’پشاور۔‘‘
’’اوہ گوش‘ تو آپ کا نام‘‘
’’جبران احمد۔‘‘
’’اچھا‘ مل کے خوشی ہوئی۔‘‘
’’اور مجھے خوشی کے ساتھ ’’وہ‘‘ بھی مل گئی جس کا میں بار اٹھائوں گا‘ مستقبل میں ویسے ابھی تک تو آپ کھٹے طنزیہ جوابات دے رہی تھیں۔ یہ افتاد کہاں سے آپڑی کہ آپ نے پورا انٹرویو لے ڈالا۔‘‘ اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی‘ وہ رخصتی کے لیے نشست چھوڑ چکی تھی۔
’’پھولوں کے شہر کے اے پھول سے لڑکے‘ اب الوداع۔‘‘ وہ فٹ پاتھ پر جارہی تھی‘ لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے‘ دروازے میں کھڑے ہوکے اس نے چلا کرکہا۔
’’مگر مادام! آپ کا تعارف قرض رہا۔‘‘ وہ رکی اور چلائی۔
’’اور مجھے مقروض رہنا پسند نہیں‘ اگلی ملاقات کا انتظار کرو۔‘‘
ء…/…ء
شارلٹ کو ایک اسٹور میں بل بنانے کی جاب مل گئی تھی‘ دی لیوری کے تھیٹر کے اسٹیج پلز کا معاوضہ اگرچہ پرکشش ہوتا ہے مگر اسے اتنی دیر سے ملتا ہے جس میں ایک عدد دن محض سینڈوچز‘ چاکلیٹ اور کافی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ صبح یونیورسٹی جانے سے پہلے وہ مسز رچل کے لیے ناشتا تیار کرکے جاتی تھی جس کے اچھے خاصے پیسے مل جاتے تھے۔ اب مستقلاً جاب ملنے پر بہت خوش تھی‘ سو ایما بھی حاضر تھی اس کے اپارٹمنٹ میں‘ ٹریٹ کی اتنی بھوکی چوہیا آج پہلی دفعہ دیکھی تھی۔
’’مجھے شک ہورہا ہے ایما کہ تم نے مجھ میں کچھ ٹریس لگایا ہے۔‘‘ اس نے مشکوک نظروں سے دیکھا‘ ایما کو تشویش ہونے لگی۔
’’اوہ پلیز‘ وہ کیوں۔‘‘
’’کیونکہ تم تو کوئی گاڈ نہیں یا کوئی فرشتہ نہیں کہ تم پر وقت سے پہلے وحی آئے کہ شارلٹ جین کو اسٹور میں جاب مل گئی۔‘‘ ایمانے پہلے اس کی صورت دیکھی پھر گھونسلے کے سے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر کہا۔
’’تم بھول چکی ہو‘ تمہارے حافظے کو سلام‘ صبح تمہارا ہی ٹیکس ملا تھا۔‘‘
’’اوہ گوش! میں بھول گئی تھی۔‘‘ ایما ہنسی‘ ایسے کہ چلو ماں جی معاف کیا۔
’’اچھا اب ٹریٹ دو۔‘‘
’’ٹریٹ؟‘‘ سوچتے ہوئے اس نے نظریں اٹھائیں۔
’’آل سینٹس پارک میں پلادوں گی ایک مگ کافی۔‘‘
’’ایک مگ کافی؟‘‘ اتنی زور سے ایما اچھلی کہ جیسے چھپکلی نے اس سے دوستی کرنے کے لیے دم آگے کی ہو۔
’’تو اور کیا؟‘‘
’’منہ دھو رکھو مسز جین۔‘‘
’’یہ جو تم دھوتی ہو ہر وقت احسان ہے مجھ پر۔‘‘
’’دیکھو شارلٹ‘ شرافت سے مجھے ایک ریسٹ واچ گفٹ کردو ورنہ…‘‘ انگلی اٹھا کے ایسی دھمکی دی تھی کہ شارلٹ نے ’’ہینڈز اپ‘‘ والے انداز میں ہاتھ اٹھالیے تھے۔
’’اچھا بابا! یہ شکل دیکھو پلیز صحیح کرلو ورنہ میں صدمے سے فوت ہوجائوں گی اور تمہیں پتا ہے نا‘ مجھے نہیں مرنا۔‘‘ ایما ہنس دی تھی۔ شرافت سے‘ شارلٹ سے‘ ایک ریسٹ واچ لے کر سینڈوچ کھاکے‘ کیفے میں بیٹھے کافی پی کر‘ دی لیوری میں شیڈو ڈانس انجوائے کرکے‘ جب وہ گھر جانے لگی تھی تو ایما نے کہا۔
’’ویسے شارلٹ! جو نیا بوائے فرینڈ بنا ہے‘ قسم سے ایک دم ٹام کروز ہے مگر نہیں‘ ٹام کروز نہیں۔ یونانی دیوتا‘ اوہ گوش! ایسے منہ کے زاویے نہ بگاڑو‘ سویٹ ڈریمز!‘‘
ء…/…ء
و ہ صبح اتنی ہی اجلی تھی‘ جتنی کہ شارلٹ کے دل میں خوشی‘ اس صبح آسمان بالکل صاف تھا۔ سورج کی سنہری شعاعیں من کو تمازت دینے کا اہتمام کررہی تھی‘ روشنی ہی روشنی تھی۔ اوہ مجھے اس روشنی کو سمیٹ لینا چاہیے۔
سب وے سے جاتے‘ کراس بیگ لٹکائے وہ مٹک مٹک کر مستانی چال چل رہی تھی۔
بس اسٹاپ پر بس کا انتظار کرتی رہی جب بس آچکی تو بیٹھ گئی۔ کراس بیگ گود میں رکھے وہ جیسے ہی فائل درست کرنے لگی تھی‘ اس کی نظر اخبار پر پڑگئی۔ اخبار سے ہوتے ہوئے اخبار بین پر پڑی اور حیرت نے اسے دیکھ کے بڑی دلنشین مسکراہٹ اچھالی تھی۔ اخبار والے نے اخبار مروڑا اور اس کی نظریں بھی شارلٹ کی نظروں سے دوچار ہوئیں۔
’’اوہ مادام! انتظار کا سمے ختم ہوگیا۔‘‘ وہ بدقت مسکرائی۔
’’جی آپ کا قرض لٹانے کا وقت آگیا ہے۔‘‘
’’حسن آتش کی مالک کا نام۔‘‘
’’شارلٹ جین! دی شارلٹ۔‘‘
’’مصروفیات… فیملی؟‘‘
’’یونی جاتی ہوں اس کے بعد دی لیوری میں اداکاری کرتی ہوں اینڈ ممی‘ ڈیڈی کی ڈیتھ کو ہوئے پانچ سال ہوئے ہیں۔‘‘
’’اوہ… سن کے افسوس ہوا۔‘‘
’’افسوس کرنے کی ضرورت نہیں پھولوں کے شہر کے باسی! ہر انسان کو مرنا ہے۔‘‘ وہ تائیداً سر ہلاتا رہا‘ دونوں چند پل خاموش رہے تھے‘ شیشے کے پار سنہری صبح بھیگ رہی تھی‘ ہجرتی پنچھیوں کی میٹھی بولیاں سی گونج رہی تھیں‘ یہ اس شخص کی قربت تھی یا اسیر موسم کی دلفریبی کہ جس نے مانوس کردیا تھا۔
’’یونی میں کیا کرتی؟‘‘ اخبار لپیٹ کے وہ پورا پورا اس کی جانب متوجہ تھا‘ اسے یہ توجہ بھائی۔
’’جیب کاٹتی ہوں۔‘‘
’’اوہ خدایا!‘‘ بے اختیار جیب پر ہاتھ ڈالا پھر مسکرادیا۔ ’’چلو جی میری جیب محفوظ ہے مگر وہ محفوظ نہ رہ سکا جس کی حفاظت پر میں مامور تھا۔ مانچسٹر کا حسن سموئے‘ گل گلال سی لڑکی نے ایک دفعہ پھر سے حیرت کا کورس کیا۔
’’اچھا لگا جبران! آپ کا قرض اتار کر گڈ بائے۔‘‘ وہ اتر رہی تھی جبران جلدی سے مڑا اور بس کے دروازے میں کھڑا ہوگیا۔
’’پھر ملاقات ہوگی۔‘‘ وہ رکی اور سرد لہجے میں کہا۔
’’امید ہے آئندہ ملاقات نہیں ہوگی۔‘‘ یونی میں بزنس ڈیپارٹمنٹ آکر اس نے ایما سے کہا تھا۔
’’ایما! محبت کا فلسفہ سمجھ آنے لگا ہے‘ کیا میں اس کے بارے میں سوچوں؟‘‘
’’سوچو نہیں‘ اوہ ڈئیر!تم سوچ چکی ہوں۔‘‘
ء…/…ء
بس اسٹاپ سے شروع ہونے والی اس محب کو اس نے دی لیوری میں سلایا اور اپارٹمنٹ آکر جگایا۔
’’میں نے اسے سرد لہجے میں کہہ کر اپنے لیے امتحان گھڑلیا ہے اور اس امتحان کا وہ خوشی خوشی سے تیاری کرنے لگی‘ محبت ایسی چیز ہے۔ ہاں! امتحان میں ڈال کے امتحان لیتی ہے۔ آسمان چپ کا لباس اوڑھے ہوئے ہے‘ چاند کے گرد دھند کے مرغولے دائرہ بنا بنا کے فضا پر طلسم کا چادر ملفوف کرنا چاہتا ہے اور اس چاہ کے لیے وہ کتنا جنونی ہے‘ ہاں اسے یہ کرنا چاہیے۔
اس نے گلاب ڈائری میں رکھ لیا تھا‘ سرخ گلاب کے سوکھ جانے میں بھی سمے ہے‘ اس سمے کا لحاظ کیا جائے۔ پکھی نے فجر کو اڑان بھرتے آسمان سے ایک حکم باندھ دیا‘ آسمان وفادار نکلا‘ سر تسلیم خم کرگیا۔
اس کا پہلا سمسٹر شروع ہونے والا تھا‘ رات کو اسائنمنٹس پھیلا کر اس نے جیسے ہی یاد کرنے کی ابتداء کی‘ جبران کی یاد نے اس کی انتہا کردی تھی۔
’’ایما کیا میں تمہیں محبت کا فلسفہ سنادو؟‘‘ صبح یونی آکر اس نے بے بسی سے انگلیاں مروڑتے ہوئے ایسے بے بس لہجے میں کہا تھا‘ ایما نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس کی آنکھوں تلے حلقے بہت گہرے ہیں‘ گھونسلے سے بال ٹھس سے نظر آتے‘ وہ ’’سمسٹر ماری‘‘ ہنس دی تھی‘ شارلٹ بے بسی سے مسکرادی تھی۔
’’تمہیں پتا ہونا چاہیے شارلٹ کو سمسٹر کے اس سنگین موقع پر کسی چڑیا دل معصوم حسین لڑکی کو ایسی خطرناک باتیں بتانا کون سی عقلمندی ہے؟‘‘ وہ پائوں پٹختی چلی گئی‘ یونی کے بعد وہ مسز ریچل کے پاس گئی۔
’’محبت کرنے والوں کی پہچان کی کیا علامت ہے؟‘‘ مسز ریچل نے مسکرا کر اس کی بلی کو تھپکادیا۔
’’کیا تم علامت کے بارے میںپوچھ رہی ہو حالانکہ میں تمہیں علامات بتاسکتی ہوں۔‘‘
’’بس ایک علامت بتادیں۔‘‘
’’میرے سامنے کھڑی شارلٹ جین!‘‘ اور اس نے تن فن کرتے ہوئے مسز ریچل سے بلی لی اور واک آئوٹ کرگئی۔
گیندے کے پھول اب سانس لے لے کر فضا کو معطر کرنے کی کوشش میں مستغرق تھے‘ بے خوفی‘ لاچاری پر مجبور کرتی محبت نے اس وقت کے سامنے کھڑے ہوکر سوال کیا جو نافرمان ہی اور اس کی فرماں برداری کی کوئی گارنٹی نہیں۔
’’شارلٹ جین کو پھولوں کے شہر کے باسی جبران سے محبت ہوگئی۔‘‘
ء…/…ء
رات کو وہ اسٹور سے نکلی ہی تھی کہ اسٹریٹ لائٹس کی روشنیوں میں بھیگا وہ ساحر دو عدد کافی کے مگ لیے اس کا منتظر تھا‘ اسے یاد آیا کہ بس میں اس نے تو قطعاً ’’اسٹور‘‘ کے بارے میں نہیں بتایا تھا اگر بتایا تھا بھی کہ اسٹور میں جاب کرتی ہے مگر یہ تو نہیں بتایا تھا کہ کس میں؟
کافی کا مگ لے کر اس نے شکریہ کہا اور فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چلنے لگی تھی‘ سردی میں خاموشی کا دم گھٹ رہا تھا۔
’’کیا میں نے تمہیں بتایا تھا‘ اسٹور کے بارے میں؟‘‘ کافی کا سپ لے کر اس نے پوچھا وہ دونوں اب فٹ پاتھ پر سنگی بنچ پر بیٹھ چکے تھے۔
’’نہیں میں نے خود ڈھونڈ لیا تھا۔‘‘ اس نے مفلر کس کے لپیٹا‘ برف باری ہوچکی تھی اب شدید ٹھنڈ میں وہ دونوں کسی جوگیوں کی مانند لگ رہے تھے‘ بے خوف‘ جامد‘ شل‘ ضدی۔
’’تم نے کیسے ڈھونڈا؟‘‘ سوال کا جواب ملنے پر سوال ہونے پر وہ گڑبڑا سا گیا اور شارلٹ کو یہ گڑبڑاہٹ اچھی لگی۔
’’میں نے تمہارا تعاقب کیا تھا۔‘‘
’’اور تم نے میرا تعاقب کیوں کیا تھا؟‘‘
’’کیونکہ تم نے میرا دل چرالیا ہے‘ کیا واپس نہیں کرو گی؟‘‘ سردی میں دبتی‘ دم توڑتی خاموشی نے سسکاری بھری۔ برگدکا ہم نشین منحوس برزن بوم بے ہنگم چیخنے لگا تھا۔
’’اور کیا دل دینا اتنا آسان ہے؟‘‘
’’یقینا نہیں۔‘‘ اب دونوں اپنے خالی دل کے کانوں میں تبدیل احساسات لیے فٹ پاتھ پر چل رہے تھے‘ ہوائوں میں کچے چکوترے کی بالیں پھیلی ہیں۔
’’عرصہ ہوا‘ میں نے کبھی جھیل سیف الملوک کو آنکھوں میں سموئے آنکھیں نہیں دیکھیں مگر دی لیوری کی آرٹ گیلری کی ساحر تھیٹر میں میں نے دیکھ لی تھی‘ ایک لڑکی کو جو ماریہ بنی تھی۔‘‘
’’کیا تم نے عبادت کی ہے؟‘‘
’’ہاں میں عابد ہوں۔‘‘ شارلٹ نے مسکرا کر سر ہلایا اور پوچھا۔
’’تو مجھے کب دعائوں میں مانگو گی؟‘‘ اور جبران احمد کے پائوں زمین نے کھینچ لیے‘ زمین نے اپنا رخ پلٹایا اور دھسان بن گیا‘ وہ مسکرادیا۔
’’تم میری دعا ہو۔‘‘
’’اور میں مقدس مریم سے دعا مانگوں گی‘ پتا ہے کیا دعا مانگوں گی؟‘‘بھید بھر وقفہ بڑا پُراسرارتھا۔
’’کیا؟ مجھے نہیں پتا۔‘‘
’’میں اپنے لیے دعامانگوں گی کہ اے مقدس مریم! محبت کروانے سے پہلے مجھے محبت کرنا سکھادیں لیکن اس سے پہلے ایک بددعا بھی کروں گی؟‘‘
’’کیا؟ مجھے نہیں پتا۔‘‘
’’یہ کہ محبت احترام ہے اور بیوپار کرنے والا‘ خدا کو راضی نہ کرسکے اور بلاشبہ خدا کی ناراضگی سے بڑی کوئی سزا نہیں۔‘‘
If it all falls apart
I Will Know deep it My Heart…
ء…/…ء
پہلا سمسٹر ختم ہونے والا تھا‘ اب ایگزام میں اتنی غرق ہونے لگی تھی کہ ایک عدد سینڈوچ کافی کھاپی لیتی تھی۔ ایگزام ختم ہونے کے بعد اس نے فرانس جانا چاہا مگر جبران کی خاطر رک گئی تھی کیونکہ اس بے چارے کو بقول اس کے بہت نظر انداز کردیا تھا‘ اب ازالے کے طور پر وہ آل سینٹس پارک میں بیٹھے تھے۔
’’کیا تم نے مجھے پر چوں میں یاد کیا تھا؟‘‘
’’ہاں‘ میں خو دبھول چکی تھی۔‘‘
صبح کی روشنی ہجرتی پرندوں کی بھاشا سے لبریز ہونے لگی تھی‘ ماریہ بنی اس لڑکی نے اپنے جیک کو نہ دیکھا تھا‘ جیک تھا ہی نہیں۔
’’بہت کم ظرف ہو؟‘‘ سوالیہ تعریف کی تھی۔
’’اطلاع کے لیے شکریہ۔‘‘
’’تم کل رات فارغ ہو؟‘‘ آل سینٹس پارک میں موجود ان دونوں نے ’’دنیا و مافیہا بھول جانا‘‘ سچ کردیا تھا۔
’’ہاں تو… لیکن ڈر ہے کہیں ایما نہ آدھمکے۔‘‘ ایما کا نام آتے ہی لبوں پر ایک مہربان مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
’’صحیح‘ تو یہ طے ہوا کہ تم مجھے اس کو اٹھا پھینکنے پر مجبور کررہی ہو؟‘‘
’’کہیں تم اپنے بھنوئوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھو کیونکہ بھنویں اڑانا اس کا حسین مشغلہ ہے۔ بائے دا وے‘ وہ اس میں ماہر بھی ہے۔‘‘ شارلٹ نے ہنستے ہوئے کہا تھا‘ اس کی ہنسی کسی یاقوت کی سی تھی۔
’’اوہ گوش!‘‘ جبران نے اس کا تکیہ کلام اپنایا۔ ’’تم مجھے ڈرا رہی ہو؟‘‘
’’جی نہیں‘ بتارہی ہوں۔‘‘
’’بتانے سے کیا ہوجائے گا؟‘‘
’’بتانے سے تمہاری بھنویں محفوظ رہ جائیں گی کیا تمہیں اپنی بھنویں محفوظ ہونا پسند نہیں؟‘‘ ایما سروس شروع تھی‘ اب جبران دوسری لے بدلنے والا ہے‘ کان کھڑے کیجیے اہل محبت کی بیوپار سے چند پل ملاحظہ کیجیے۔
’’تمہاری برتھ ڈے کب ہے؟‘‘ خوشنما پریوں نے مشاطگی کی اس وار کی۔
’’پندرہ نومبر۔‘‘وہ مسکرائی۔
’’آج کون سی تاریخ ہے؟‘‘
’’آج بارہ ہے۔‘‘
’’تو سنو اے گل گلال‘ اس وقت کا انتظار کرنا۔‘‘ وہ ہنس دی تھی‘ آل سینٹس پارک نے رک کے اس ہنسی کا احترام کیا تھا اور جس کا احترام ہوتا ہے تو وہ معتبر ہوتا ہے۔
’’شارلٹ… محبت کرو گی؟‘‘ بنفشے کے پھولوں نے اس سوال کواڑایا اور سوال ’’محبت‘‘ بن کے شارلٹ سے لپٹ گیا۔
’’بے وفائی نہیں کرو گی؟‘‘
’’ہاں نہیں کروں گا۔‘‘
’’بیچ راہ میں تو نہیں چھوڑو گے؟‘‘
’’نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ اعتراف کا سمے آن ٹھہرا ہے‘ سفید کبوتروں نے محبت کے پیام کو ہوا میں اچھالا اور گلابی پھولوں کی پتیوں نے یہاں وہاں بکھرنا شروع کردیا۔
’’ہاں میں محبت کروں گی۔‘‘
صبح یونیورسٹی جاکر‘ سیدھا بزنس ڈیپارٹمنٹ میں گھونسلے بالوں والی ایما کو گھسیٹ کے کیفے ٹیریا لائی اور تن کے اس کے سامنے کھڑی ہوئی۔
’’محبت مقدس راتوں میں بارش ہاتھوں میں تھمادی جانے والی وہ دعا ہے‘ جسے خدا نے ہر انسان کے لیے مقرر کیا اور اس کے قبول ہونے کی بشارت اس کے کرنے سے پہلی دی۔
’’ڈئیر ایما! بشارت مبشر پر نازل ہوچکی‘ دعا شارلٹ کے لیے قبول ہوچکی۔
ء…/…ء
لیمپ پوسٹ کی روشنی میں رات کی سیاہی بے بس معلوم ہوتی ہے‘ آج اس نے چھٹی کرلی ہے اسٹور سے۔ اپارٹمنٹ میں سوئے اسے لگ رہا تھا کہ جبران اس کے پاس ہے‘ بہت پاس… اتنا کہ حمزہ بابا کی شاعری کو لفظوں میں سموکے وہ اس کی تعریف کررہا ہے۔
ماریہ پر جیک کی یاد اتنی حاوی ہوگئی کہ اسے اٹھنا پڑا‘ اوہ یہ تو صبح ہے‘ روشنی پھیل چکی ہے‘ جلدی سے ٹائم دیکھا تو نو بج رہے تھے۔
’’اوہ سوری مسز ریچل! آپ کے ناشتے کے لیے معذرت۔‘‘ بغیر عذر کے وہ اس کا ناشتا جلدی سے تیار کرنے لگی تھی‘ وہیل چیئر دھکیل کے وہ اس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔
’’تم رات کو سوتی ہو؟‘‘توس گرم کرتے‘ رک کے‘ ٹھٹک کے اس نے دیکھا۔
’’ہاں تو؟‘‘
’’تمہاری آنکھیں رت جگوں کی غماز ہے‘ کیا تمہیں بیماری ہے؟‘‘
’’نہیں مجھے بیماری تو نہیں۔‘‘ وہ جلدی سے کام کرنے لگی۔
’’اچھا… تو تمہیںلاعلاج مرض لگ گیا؟‘‘
’’لاعلاج؟‘‘ بلی اتر کر ادھر اُدھر گھومنے لگی۔ ’’نہیں تو۔‘‘
’’ہاں‘ شارلٹ دی فیری… تمہیں پیار ہوگیا ہے۔‘‘ کلاس میں وہ جتنی حاضر تھی اس سے اتنی ہی غیر حاضر ہے‘ پروفیسر مارک کی آنکھیں بار بار اس پر ٹک رہی تھیں‘جبران نے اس پر ایسا سحر کیا کہ اسے اپنے سحر زدہ ہونے پر ناز ہونے لگا تھا۔
’’کیا آپ کل سوئی نہیں شارلٹ؟‘‘ پروفیسر مارک نے بالآخر لیکچر میں ذرا سی فرصت نکال ہی لی تھی‘ منحنی‘ چندھائیںذہانت سے معمور نظریں اس پر ٹکی‘ ادھ سوئے جاگے اسٹوڈنٹس نے گردن موڑ کے دیکھا۔
’’جی‘ میں کل رات سے بیمار ہوں۔‘‘
’’لیکن آپ کے چہرے پر تو نقاہت کا عنصر مفقود ہے۔‘‘
’’شاید ہو مگر میرا موڈ بوجھل ہے۔‘‘ پھر پروفیسر مارک لیکچر دینے لگے‘ وہ پوائنٹس نوٹ کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ لیکچر کے بعد پروفیسر مارک نے ایک فلسفہ چھیڑا۔
’’آپ میں سے کون کون جیولیٹ اور رومیو بننا پسند کریں گے ؟‘‘ تقریباً سارے طلباء نے ہاتھ کھڑے کیے تھے سوائے اس کے‘ نظریں واپس اس پر ٹکی اور شارلٹ کو دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
’’آپ کیوں نہیں بننا پسند کرتی ہیں؟‘‘ اس نے شانے اچکائے‘ محبت کی منکرین بننے کی ادنیٰ سی سعی کی اور وقت نے اس اداکاری پر داد دی تھی۔
’’بس‘ میں ان کے منکرین میں سے ہوں۔‘‘
’’کیا آپ پیار نہیں کرتیں؟‘‘
’’میں کرنا نہیں چاہتی۔‘‘
’’تو انتظار کیجیے شارلٹ جین! محبت کی دیوی کا سایہ آپ پر ہے۔‘‘ مشک فام لمحوں میں کہیں سے کافور کی باس آن شامل ہوئی۔
ء…/…ء
’’تم پچھلے ایک ہفتے سے مجھ سے چھپ رہی ہو‘ کیا میں یہ جان لوں کہ تم مجھے نظر انداز کررہی ہو۔‘‘ وہ صبح بس اسٹاپ جارہی تھی راستے میں جبران اس کے عین سامنے کھڑا ہوا تھا۔ اس نے دائیں طرف نکل کر جانا چاہا‘ برطانیہ کی یونانی شہزادی کا ہاتھ پاکستان کے پھولوں کے شہر کے ’’خان‘‘ کے ہاتھ میں ہے اور حیرانی سے غرق وہ منہ کھولے تکے جارہی ہو۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی مزاحمت کی‘ جبران کو مزاحمت پسند آئی۔
’’میں ذرا مصروف ہوں‘ کیا تم مجھ سے فرصت سے مل سکتے ہو؟‘‘ ہاتھ چھڑا کر بس اسٹاپ پر کھڑے ہوکر اس نے ایسے بے بس لہجے میں کہا۔ محبت بے بس کردینے والا امرتیا عطردان ہے اور اس کا عطر آہ آہو کا شیدائی ہے۔
’’تم فرصت کی بات کرکے یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ وقت میرا فرماں بردار ہے؟‘‘ جینز کے پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ سوال کر رہا تھا‘ مسز ریچل ‘ ایما اور پروفیسر مارک نے صحیح کہا تھا کہ اسے پیار ہونے لگا ہے مگر ’’ہونے لگا ہے‘‘ میں نے لکھ کے غلطی کردی ہے کیونکہ شارلٹ رودی ہے اور جس کے لیے رویا جائے اس سے پیار ہونے نہیں جانا بلکہ ہوچکا ہوتا ہے اور شدت پھلانگ چکا ہوتا ہے۔
’’میری ایک دوست تھی سارہ! بہت خوب صورت لڑکی تھی‘ اتنی کہ کبھی کبھی عرب کی حسین عورتیں اپنے پاشائوں کے ان پر فدا ہونے سے ڈرتی تھیں۔ اسے پیار ہوگیا ایک پادری سے‘ صبح سویرے وہ چرچ چلی جاتی تھی‘ مریم مقدس سے خوب باتیں کرتی‘ صحن کے احاطے میں جھاڑو لگاتی۔ پادری اس سے نالاں تھا‘ درحقیقت وہ ایک تنہائی پسند شخص تھا‘ سارہ نے اتنے اظہار کیے کہ اظہار کو اپنی بے اظہاری آنے پر صدمہ ہوا۔ وہ بیمار ہوگئی اتنی کہ ڈاکٹر جوزف نے اسے لاعلاج قرار دیا مگر اس کا علاج تو چرچ کے پادری جان کے پاس تھا۔ اب جان صبح سویرے دی گریٹ قبرستان جاتا ہے اور ایک عدد سرخ گلابوں کا بکے لے کر‘سارہ کی قبر کے سرہانے رکھ کے کہتا ہے۔
’’کاش کہ محبوب عاشق کا چہرہ دیکھ کے پگھل جایا کریں‘ کاش کہ محبت ایک سے ہوتی ہو اگر یہ ہوتا تو یقین مانو اے مٹی کی شہزادی! میں تمہارا ہوتا مگر میں وٹن سے پیار کرتا تھا‘ آہ…‘‘
یہ کہہ کے وہ یونہی چلی گئی‘ چند کلاسز لیں اور لائبریری چلی آئی‘ چند لمحوں میں اسے پتا چلا کہ خاموشی اس کے اندر‘ باہر سے حرب پر اتری اور اس نے حیرت کے لیے کیفے ٹیریا جا کے دم لیا۔
کیفے بھانت بھانت کے نمونوں سے سجا ہے‘ ایک من چلا گروپ دائرہ بنائے گٹار سے ایسی ایسی دھنیں بکھیر رہے تھے کہ منحوس مشہور بوم (الو) کو اپنی کریہہ آواز بھلی لگ رہی تھی۔
پڑھاکو لڑکیاں میز پر کہنیاں جمائے‘ لیپ ٹاپ میں ایسی منہمک تھیں کہ جیسے سوات کی ندیوں پر حسین و چنچل لڑکیوں کا ٹولہ‘ مٹکا اپنے لچک دار کمر پر رکھے‘ بدری جمالہ کے قصے سنتے سناتے جاتی ہوں اور ایسے میں مولوی صاحب انٹری مارتا ہو‘ بے فکری‘ حسن‘ بے پروائی نے ان کا احاطہ کیا ہو کیونکہ علم کی سرزمین پر سوچ کے بیچ اگاکے فکر کا پودا نکل کے‘ عمل کی جڑوں سے انہیں مضبوط کرنے والے ہیں یہ طلباء۔
ایک عدد کافی پی کے وہ نکل آئی تھی‘ یونی سے نکلی ہی تھی کہ سامنے ہی دیوار سے ٹیک لگائے‘ ماہتاب گردن ترچھی کیے‘ اٹھی ناک کے ساتھ وہ بہت وقار سے دیکھ رہا تھا‘ سورج مسکرا مسکرا کے شرمارہا ہے ۔ محبوب کو دیکھ کے‘ وقت کے ٹھہر جانے کی دعا کی جاتی ہے اور شارلٹ نے وہ دعا کرلی ہے لیکن یہ دعا تو ہر وقت محبوب کو دیکھ کے ہوتی ہے۔
شارلٹ نے دعا کی اور قلم زندگی نے اس کے قبول ہوجانے کی دعا کی، دعاکو قبول ہونے دو‘ یہ سندیسہ ہے پریٹ ملن کا۔ دفعتاً ٹھہرا وقت رواں ہوا‘ عربی سلطان نے اسے دیکھ لیا تھا‘ جبران احمد اب اس کی اور آنے لگا تھا۔
’’تو تم واقعی چھپ رہی ہو؟‘‘
’’نہیں‘ سچ کہتی ہوں جبران میں چھپ نہیں رہی‘ پتا ہے نا انسان اپنی تبدیلی میں اتنا بدل جاتا ہے کہ اسے اپنے آپ کی بھی خبر نہیں ہوتی۔‘‘ جبران مسکرایا‘ اس کی مسکراہٹ میں شعروں کی حسین شاعری سمٹ آئی۔
’’تو محبت نے تمہیں فلسفی بنادیا۔‘‘
’’تمہیں کس نے کہا کہ میں محبت کرنے لگی ہوں۔‘‘
’’ہاں‘ یہ صحیح ہے کہ مجھے کسی نے نہیں کہا ہے مگر انسان ہوں‘ عقل رکھتا ہوں۔‘‘
’’اُف مجھے برا لگا۔‘‘ اب اس نے چھپنے کا ارادہ ترک کردیا۔
سڑک کی روش پر چلتے چلتے اب دونوں مسکرا مسکرا کر بات کررہے تھے کیفے جاکر کافی پی رہے تھے اور جبران اسے رحمان بابا کی شاعری کے بارے میں بتارہا تھا۔ دفعتاً کافی کا مگ ذرا سا پھسلا‘ کافی چھلک پڑی۔
’’گدھے!‘‘ میز پر کہنی جمائے‘ شارلٹ نے آنکھیں مرچ سے بھر کے اسے کہا۔
’’تم ایک انسان کو گدھا کہہ سکتی ہوشارلٹ۔‘‘
’’تم انسانوں والے کام کرو تب ناں۔‘‘ وہ ہنس پڑا‘ بنا رکے ہنستا چلا گیا۔
’’دی لیوری نے تمہیں بھلادیا۔‘‘
’’دی لیوری نے مجھے نہیں بھلایا۔‘‘
’’تم کسر نفسی سے کام لے رہی ہو۔‘‘
’’نہیں میرا اگلا رول ایک خوب صورت پرنسزکا ہے مگر غضب یہ ہے کہ پرنس نہیں مل رہا ہے سو کام اٹکا ہے۔‘‘ نچلے ہونٹ کو دانتوں میں داب کے‘ آنکھیں چندھائیں‘ سنہری بالوں میں انگلیاں گھماتے ہوئے کہا۔
’’میں پرنس بنوں گا۔‘‘ آنکھیں ابلی‘ بھنوئوں نے آسمان سے مصافحہ کیا۔ ’’کیا پشتون پرنس ہوتا ہے؟‘‘
’’نہیں وہ تو خان ہوتا ہے۔‘‘
’’تو چلو‘ رحمان بابا کے علمبردار تمہارا ڈیشن لیتی ہوں۔‘‘ الرٹ ہوجانے کے اندر میں وہ سیدھی ہوئی تھی‘ بکواس کا لفظ ان دنوں ان میں بہت خاص ہے‘ بکواس بکنا‘ بکواس چلنا۔
’’نہیں‘ یہ شاہکار میں ’’دی لیوری‘‘ کو دکھائوں گا‘ ایسا نہ ہو کہ پرنس کے آجانے سے پہلے پرنسز اپنے حواس کھو بیٹھے۔‘‘ نتھنے پھلا کے دائیں کندھے پر مکا رسید کر کے اس نے کہا تھا۔ ’’جبران دی ڈینگی‘‘
ء…/…ء
ہفتے کی رات ہے صبح سے یونی میں دھکے مار کے‘ منہ پھلا کے‘ پروفیسر کی عجیب و غریب حرکات پر مبنی لیکچر سن کے‘ بور اسٹوڈنٹس دی لیوری کے حسن پرست آرٹ گیلری کی اور آرہے ہیں‘ گرم کوٹ‘ گرم مفلر‘ گرم ٹوپیاں ہے اور ان میں پوشیدہ نمونے بھی ہے۔ اس نے صبح سے اپنے رول کی بہت تیاری کی تھی‘ جبران نے آڈیشن دینا گوارا نہیں کیا تھا اور شارلٹ ’’دی ڈینگی‘‘ کہہ کے چپکے سے اس کی کافی میں شیمپو انڈیل دی تھی۔ اپنے ملک کے چپلی کباب پر وہ ایسے باتیں کررہا تھا کہ جیسے اس نے اگلے ماہ میں اس پر ڈاکو منٹری بنانی ہو۔ گھونٹ بھرکے‘ چہرہ سفید‘ آنکھیں ابل یکدم گھونٹ باہر‘ پیٹ پر ہاتھ رکھ کے‘ وہ بہت دیر تک ہنستی رہی۔ وہ بھی منہ بسورتا رہا‘ اس نے مفلر لپیٹ کے ماسی مصیبتے کہہ کر باہر کی راہ لی تھی۔
پھر یہ شام کا قصہ تھا‘ ہلکی پھلکی سی پھوار برس رہی تھی‘ جبران پچھلے پندرہ منٹ سے گھنٹی بجارہا تھا‘ دروازہ کھلا۔
’’اوہ ڈینگی! سوری میں ذرا ریہرسل کررہی تھی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے وہ اندر چلا گیا‘ شرلٹ کو لگا کہ جیسے رابرٹ ہوک نے سیل ایجاد نہیں کیا تھا بلکہ حیرت کا انجکشن ایجادکیا ہو‘ اب جبران وہ انجکشن اسے لگا جاچکا تھا جیسے…
’’کافی پیو گے یا کچھ اور؟‘‘
’’کافی چھوڑو‘ مجھے ذرا اسکرپٹ دیکھا دو۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’ذرا سا پڑھنا ہے تاکہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلوں کہ پرنس کا کردار کے میں نے ایسی کون سی غلطی کردی ہے کہ کافی کے بجائے مجھے شیمپو پینا پڑا۔‘‘ نہایت سادگی سے کہا گیا‘ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کے ہنسی دبائی۔
’’اب منہ تو نہ دیکھو جلدی سے کافی بنا لائو اور ایک عدد برگر کے ساتھ۔‘‘ درشت لہجے میں جبران نے کہا‘ وہ منہ بسورتی چلی گئی۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد نکل آئی‘ پتا نہیں اس آدھے گھنٹے میں اس نے کیا کیا‘ بہر کیف جو بھی کیا‘ صحیح کیا کیونکہ اس آدھے گھنٹے نے اسے بہت سہولت مہیا کی۔
جی تو اب چلئے دی لیوری کے تھیٹر…
دبیر سرخ پردے اٹھنے کو ہیں‘ شائقین کی تعداد آج زیادہ ہے کیونکہ یونی سے آکے جاب سے آف کرکے‘ بہت سے طلباء آئے ہیں۔ پہلی رو میں جبران احمد بہت اطمینان سے بیٹھا ہے مگر اس اطمینان میں جو بے چینی ہے‘ اس کا صرف اسی کو پتا ہے‘ پردے اٹھ چکے ہیں۔
ایک عالی شان محل کا منظر ہے‘ ایک خوب صورت سے خواب گاہ میں بہت نقاہت سے لیٹی ایک شہزادی ہے‘ کنیزیں ادھر اُدھر کھڑی ہے‘ شہزادی نے سفید فراک پہن رکھا ہے۔
’’شہزادی!‘‘ دفعتاً ایک سنہری پوشاک زیب تن کیے عورت اندر داخل ہوتی ہے یہ ملکہ ہے‘ بہت نازک‘ ذرا موٹی سی‘ سفید دودھیا تبتی چہرے والی۔
’’ہماری شہزادی کو کیا ہوا ہے۔‘‘
’’ڈینگی نے ڈنک مار لیا ہے‘ وہ میں کیٹی کے کمرے سے اس کی باقی ماندہ کافی چرا لائی تھی مگر پتا ہے ماں…‘‘ شہزادی اٹھی۔ ’’اس میں ڈینگی نے بہت سے انڈے دیئے تھے۔‘‘ ملکہ عالیہ کا حیرت سے برا حال تھا‘ شائقین تالیاں پیٹ رہے تھے‘ وہ سمجھے تھے کوئی رومانس بھری کہانی ہوگی مگر…
(ماں مجھے شہزادے کے غم نے ادھ موا کردیا ہے‘ اس نے ہم پر جو ظلم ڈھایا اس نے ہمارا بہت نقصان کیا ہے… اصلی جملہ)
ملکہ عالیہ نے نرمی سے شہزادی کا ہاتھ پکڑا‘ آنکھیں نکال کے جیسے سمجھانے کی غلطی کی ہو۔
’’یہ غم نہیں میری شہزادی۔‘‘
’’اوہو ماں!‘‘ بیڈ پر پھسکڑا مار کے کہا۔’’اب شیکسپیئر بننے کی ضرورت نہیں‘ پچھلے تین منٹ سے مغز کھارہی ہو کہ ڈینگی نے مارا ہے۔‘‘
(میری بھولی ماں… محبت نے میرا مغز نہیں کھایا‘ یہ تو فطری امر ہے‘ شہزادے کو بلالیجیے اس کے سوا میری سانسیں میراحکم نہیں مانتی‘ چلتی ہی نہیں‘ بلا لیجیے ماں)
ملکہ عالیہ کا چہرہ سفید ہوچکا ہے‘ بہت سفید… جی ہاں مانچسٹر کے برف جیسا۔
’’رکو میں حکیم کو بلاتی ہوں‘ شہزادے کی ضرورت نہیں۔‘‘ شہزادی غصے سے منہ پھیرلیتی ہے۔
’’حکیم کو نہیں ماں‘ ڈاکٹر جوزف کو بلا لیجیے۔ اوہ گاڈ اتنا ہینڈسم ہے وہ۔‘‘
(’’حکیم کو نہیں ماں‘ شہزادے کو‘ آپ کو اپنی شہزادی کا غم کم لگتا ہے؟‘‘) ملکہ عالیہ گہرے سانس لیتی چلی جاتی ہے‘ وہ اوندھے منہ لیٹ گئی ہے‘ چند منٹ خاموشی کے بعد…
دریچے کے ساتھ کھڑی کنیز کہتی ہے ’’شہزادہ آگیا ہے۔‘‘ وہ خوشی خوشی اٹھ جاتی ہے‘ دریچے کے پار دیکھتی ہے پھر پلٹ کے منہ بسور لیتی ہے۔
’’اوہ اسے بھی ڈینگی نے ڈنک مارا ہے‘ ڈینگی مارا!‘‘
(’’اوہ اسے بھی محبت نے مارلیا ہے‘ میرے محبت مارے پرنس!‘‘ اصلی جملہ)
شہزادہ آگیا ہے‘ یہ شہزادہ بہت خوب صورت سا ہے۔ برطانوی طرز کے اس نے شہزادوں والے کپڑے پہن رکھے ہیں‘ اسے دیکھتے ہی وہ منہ پھلالیتی ہے۔ کنیزیں اپنی پوشاکیں دونوں ہاتھ میں تھام کے‘ جھک کے کورس میں کہتی ہے۔
’’عالی جاہ! خوش آمدید۔‘‘ سر ہلا کے اشارہ ہے کہ چلی جائیں‘ کنیزیں کھسر پھسر کرتی چلی جاتی ہیں۔
’’دیکھو تمہاری محبت نے مجھے یہاں کھینچ لیا۔‘‘ شہزادہ نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پربیٹھتا ہے۔
’’سفید جھوٹ… تم اپنے تحائف لینے آئے ہو مگر یاد رکھنا‘ تحائف نہیں دے سکتی۔‘‘ کندھے پر اس کے سر رکھ دیتی ہے۔
(’’نہیں جھوٹ… تم اپنا دل لینے آئے ہو‘ مگر یاد رکھنا دل نہیں دے سکتی۔‘‘)ملکہ کی طرح پرنس کا بھی سفید چہرہ ہوگیا ہے‘ جی چونے جیسا…
’’مجھے دل نہیں چاہیے‘ مجھے پرنس کی پرنسز چاہیے۔‘‘ غصے سے کھڑی ہوجاتی ہے۔
’’بے غیرت‘ لالچی‘ حاسد… تم ڈینگی کا علاج تلاشنے آئے ہو‘ جب تمہیں پتا چلا کہ ہمارے حکیموں نے ڈینگی کی دوا تیار کرلی ہے‘ تو تم چلے آئے‘ آہ تم کتنے بے وفا ہو۔‘‘ حیرت‘ تالیاں… حیرت… اُف سیٹیاں۔
(’’تم سمجھتے کیوں نہیں‘ یہ نہیں مانیں گے انہیں جب پتا چلا تو ہمیں اٹھاکے زندان میں بند کردیں گے یا تمہیں قید کرکے تمہارا نگر قبضے میں لے لیں گے۔ آہ! تم کتنے سادہ ہو۔‘‘ اصلی جملہ)
دروازہ کھلا‘ بہت سے سپاہی اندر آتے ہیں‘ ان سپاہیوں نے تاریخی طرز کے سپاہیوں ولا لباس زیب تن کیا ہے‘ ایک سپاہی جو اُن کا سپہ سالار ہے کہتا ہے…
’’اس باغی کو پکڑ لیا جائے۔‘‘ بہت سے سپاہی اس کی اور دوڑتے ہیں اور اسے پکڑ کے لے جانے لگتے ہیں‘ پرنس چیخ رہا ہے۔
’’ہمیں جدا نہ کرو‘ یہ الہامی جذبہ ہے توہین نہ کرو۔‘‘ چند سپاہی شہزادی کو پکڑے ہوئے ہیں۔
’’لے جائو بے غیرت کو‘ ڈینگی مار دوا چرانا چاہتا ہے۔‘‘ مزاحمت… تالیاں‘ سیٹیاں‘ اُف… حیرت۔ ایسے ہی چیخ و پکار میں وہ اسے لے جاتے ہیں۔
(’’مت لے جائو‘ اسے میں نے بلایا تھا‘ آہ اسے چھوڑ دو۔‘‘) اب وہ رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے۔ ’’کتنا لالچی تھا آہ! میں نہ سمجھی۔‘‘ (کتنا با وفا تھا آہ! میں نہ سمجھی)۔
دبیز پردے گرگئے تھے‘ شائقین اٹھ کے تالیاں پیٹ رہے ہیں‘ جبران پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس رہا ہے۔
ء…/…ء
کیا آپ نے مرچیں کھاکے غصہ کیا ہے؟ نہیں‘ اوہ تو کسی کو دیکھا ہے۔ نہیں تو چلئے آیئے‘ ڈرامے کے ڈائریکٹر جو ڈتھکے کمرے میں جو مرچیں کھاکے شارلٹ پر برس رہا تھا‘ شارلٹ سر جھکائے ہوئے تھی۔
’’محترمہ! کیا میں نے جو اسکرپٹ آپ کو دیا تھا کیا آپ نے وہی لائنیں بولی تھیں؟‘‘
’’جی وہی بولی تھیں۔‘‘ نحیف زدہ لہجہ‘ گاڈ یہ ظلم کس نے کیا۔
’’آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ ٹریجڈی پلے تھے‘ فنی نہیں۔‘‘
’’مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی‘ پتا نہیں‘ لائنیں کس نے تبدیل کی تھیں۔‘‘
’’اوہ تو آپ اسکرپٹ دوسروں کو بھی دکھاتی ہیں؟‘‘
’’نہیں… نہیں‘ میرا مطلب ہر گزیہ نہیں۔‘‘ بس اتنا کہہ کہ وہ رو دینے کو تھی‘ دروازہ ٹھاہ سے کھلا‘ دو تین لڑکے اندر داخل ہوئیں۔
’’میم پلیز ایک سیلفی‘ آپ کی پرفارمنس نے ہمیں فدا کرلیا۔‘‘ شارلٹ کی اڑی رنگت بحال ہوئی‘ کھاجانے والی نظروں کے ساتھ اس نے لڑکے کو دیکھا‘ سیلفی لے کر وہ چلے گئے۔
’’آپ کا ڈرامہ محظوظ رہا لیکن…‘‘ جوڈتھ کے سامنے آکر اس نے آنکھوں میں نظریں پیوست کیں۔ ’’لیکن اب مجھے معاوضہ ڈبل چاہیے۔‘‘ سنہری بالوں میں انگلیاں چلاتی چلی گئی۔ دی لیوری کی سیڑھیوں میں بیٹھا تھا‘ معصومیت نے جیسے آکر اسے آشیرباد دی تھی۔
’’اوہ اتنا معصوم بچہ!‘‘ شارلٹ نے اس کی گردن دبوچی۔
’’اوہ گوش! میں نے تم پر اعتبار کرکے تمہیں اسکرپٹ پکڑایا۔‘‘ کافی بنانے میں تاخیر کی جو سزاملی‘ اس نے سہ لی تھی۔ سیڑھیوں میں لڑھک کے‘ وہ ادھ موا ہوا جارہا ہے۔
’دی ڈینگی پرانک!‘‘ سڑک پر چلتے ہوئے وہ مسلسل اس پر خفا ہورہی تھی‘ اپارٹمنٹ میں گھپ اندھیرا تھا۔ شارلٹ نے جیسے ہی دروازہ کھولا یکدم بتیاں جل اٹھیں‘ لائونج بہت خوب صورتی سے سجایا گیا تھا۔دیواروں کو بہت سے پھولوں سے سجایا گیا تھا‘ وسط میں ٹیبل پر کیک دھرا ہے کیک پر ہیپی برتھ ڈے لکھا گیا ہے۔ یکدم بتیاں بند ہوئیں‘ شارلٹ کسی شاک کے عالم میں تھی‘ دھیرے دھیرے پھولوں میں روشنی نمایاں ہونے لگی‘ روشنی … روشنی اور…
Will You Marry me the Princess
کیک کٹ گیا تھا یہ ایما اور جبران کی مشترکہ کاوش تھی‘ جب جبران آگیا‘ اسکرپٹ میں ردو بدل کیا تو اسی وقت ایما‘ مارٹا‘ مارتھا اندر آچکی تھیں‘ وہ دونوں دی لیوری چلے گئے اور انہوں نے لائونج سجادیا تھا۔ محبت ایک لفظ ہے لیکن… ہزاروں داستان‘ اس میں قید ہے‘ قصے‘ کتھا‘ کہانیاں ایک لفظ میں سموئے ہوئے ہیں۔ محبت امر ہے‘ ہاں محبت کامرن سے کوئی تعلق نہیں۔
’’قصر عشق میں گل صد برگ سے سجی رتھ میں بیٹھی راج کماری کو سندیسہ سنادیا گیا۔
’’محبت ملن کا سمے ہے اور… آکاش کی لوح پریم سے اس تمثیل کی نزولیت ہوئی۔
’’محبت گل سبو ہے‘ اسے خوشبو بکھیرنے دو۔‘‘
ء…/…ء
چرچ تک جاتے دروازے میں وہ سفید پوشاک پہنے آنسو سموئے پادری کے ساتھ کھڑے جبران کو دیکھ رہی تھی‘ نکھرا نکھرا سا‘ سوٹڈ بوٹڈ… ایما مہمانوں کو ریسو کررہی تھی‘ قطار میں اس کی تین شہہ بالیاں کیٹی‘ ایما‘ مارٹا‘ ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے لیے ہوئے تھی۔
رکنی وائلن گروپ میں ہلچل پیدا ہوئی کیونکہ انہوں نے دلہن دیکھ لی تھی۔ ہوائوں میں وائلن کی ہلکی ہلکی دھنیں بکھرنے لگی۔ محبت کے صحیفے میں‘ محبت نے موقلم تھام لیا‘ محبت تمثیل پر بہت سے رنگ گرے‘ بھید بھرے‘ پراسراریت کا طلسم تھامے۔
’’چلو جی تمہارا سمسٹر تو ختم‘ بھئی تم جبران سے ہنی مون کا نہیں کہو گی؟ اوہ نہیں ایسے نہ گھورو۔ لیڈی ڈیانا کی بہو نے تاخیر نہیں کی تھی‘ کارپٹ پر سفید پوشاک پھیلائو اور چلو۔‘‘ ایما کان میں گھسی‘ کھسر پھسر کررہی تھی‘ اس نے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا۔ دفعتاً سارے مہمانوں کی گردنیں پیچھے کو مڑی‘ ستائش وقت نے کی‘ دعا دل سے نکلی۔
اس نے بظاہر اسے اپنی خوشی کا اظہار نہیںکیا‘ بس کہہ دیا تھا‘ ایما کو یونی سے آف کروا کے وہ شاپنگ کے لیے جاتی تھیں۔ اپنی تین ماہ کے سارے پیسے اس نے خرچ کرلیے‘ اسٹور سے تین ماہ کا ایڈوانس بھی لے لیا۔ اسٹور کی منیجر مورگن ایک نفیس طبیعت کی مالک تھی۔ بہت خوب صورت سی‘ موٹی سی‘ شادی کا کارڈجب شارلٹ نے دیا تو بہت وقت تک اس کا ہاتھ پکڑے وہ نہایت ملائمت سے دعائیں دیتی رہی۔ اس کی تو آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’کیا تمہاری پسند کی شادی ہے؟‘‘
’’نہیں میری پسند کی شادی نہیں ہے۔‘‘
’’تو کیا مام ڈیڈ؟‘‘
’’نہیں‘ میری محبت کی شادی ہے مورگن۔‘‘ مورگن نے ایک دفعہ پھر سے دعائیں دی تھیں‘ وہ بہت خوشی سے نکل آئی۔
چرچ کی مانوس رمق نے لوگوں کے آنکھوں کو خیرہ کیے رکھا ہے‘ آسمان بلائیں لیتا‘ زمین دعائوں میں مگن شارلٹ کی شادی میں شریک ہے۔ جبران کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے‘ شہہ بالیاں اور شہہ بالے اب پیچھے ہٹ کے قطار میں کھڑے ہیں۔
آداب ملاحظہ… وائلن کا ساز گونج رہا تھا عہد نامہ دہرایا جارہا ہے۔ پھولوں سے گھرے چرچ سے نکل کے وہ کار میں بیٹھے تو ایما نے گلدستہ اس گود میں پھینک دیا۔
’’دیکھتے ہیں کہ مشرقی دلہا اور مغربی دلہن میں کب جھگڑے کی ابتدا ہوگی؟‘‘
’’اب جاسکتی ہے اور جھگڑے تو ہوتے رہیں گے۔‘‘ ایما کے کان میں سرگوشی کرنے والا ہے جم تھا جی ہاں! جم ایما کے گھونسلے پر فدا ہے‘ کار چل پڑی ہے۔
’’میں تم سے… جبران احمد! تم سے محبت کرتی ہوں۔‘‘
’’کیا مجھے پتا نہیں تھا جی‘ محبوبہ‘ بیوی بن گئی ہے۔‘‘
’’میں تمہارے لیے کیا کروں؟‘‘
’’ہاں میں تمہارے لے دنیا میں آگ لگادوں گا‘ اے بغاوت پر اکسانے والی‘ کیا میرے ساتھ رہو گی؟‘‘
’’تمہارے ساتھ ہی ہوں۔‘‘ محبت کے صحیفے ’’محبت تمثیل‘‘ مکمل ہونے لگی ہے‘ ہورہی ہے۔
ء…/…ء
صبح ہوچکی تھی‘ وہ کچن میں گھسی‘ ایپرن باندھے‘ نظم گنگناتے ہوئے کام میں لگی تھی۔ خاصا روایتی پن آگیا تھا‘ ہنی مون پیرس میں منا کے آچکے تھے۔
’’پتا ہے شارلٹ! ہمارے ملک کا ایک عظیم رائٹر ہے مستنصر حسین تارڑ۔‘‘ کچن کے دروازے میں نائٹ سوٹ پہنے وہ کھڑامسکرارہا تھا۔ کارواں سرائے میں لکھتا ہے کہ ایک ایسی بیوی بہتر ہے جو کھانا پکاسکتی ہو لیکن پکاتی نہ ہو بہ نسبت ایسی بیوی کے جو کھانا نہ پکاسکتی ہو اور پھر بھی پکاتی ہو۔ سنہری بالوں والی لڑکی نے بے اختیار انڈہ اٹھا کے اس پر دے مارا۔کڑچھ…
’’ایسا شوہر کیوں نہ بہتر ہو‘ جو ہر وقت انڈے سے نہاتا ہو۔‘‘ شانے اچکاکے حساب برابر والے انداز میں کہہ کے اس نے کہا۔
ماسی مصیبتے کہہ کے وہ چلا گیا‘ وہ صبح دو کام کرکے یونی جاتی تھی‘ بس آخری سمسٹر تھا‘ ناشتا بناکے کروا کے پھر مسز ریچل کو دے کر وہ جاتی تھی‘ مسز ریچل کے جبڑے اسے دیکھ کے بند نہیں ہوتے۔
جبران اسٹور میں اس کے ساتھ کام کرتا تھا‘ جمعرات‘ ہفتہ کو وہ دی لیوری جاتی تھی۔ہاں اب وہ معاملہ نہ رہا کہ جبران کو اسکرپٹ میں قینچی چلانی پڑے‘ ہاں بس ایسا ضرور کرتا ہے کہ جب وہ لائنیں یاد کرنے کے لیے اسکرپٹ اٹھاتی ہے تو اسکرپٹ غائب‘ اوہ! جبران دی گھوسٹ… لیکن بدلے میں شارلٹ بہت تاک ہے۔ کل صبح سویرے وہ اس کے پسندیدہ اور نئے شرٹس‘ جوتے چھپالیتی۔ مسز ریچل کو پکڑا کے کہتی ہے ’’مذاق ٹائم‘‘ اوہ مسز ریچل کے جبڑے بند نہیں ہورہے۔
’’میرے جوتے شارلٹ۔‘‘
’’اب میں نے نہیں کھائے۔‘‘ سر میں ہاتھ گھسا کر آہ‘ کھینچا۔
’’میرا نیلا شرٹ۔‘‘
’’میں نے تو نہیں دیکھا۔‘‘
شام ہورہی ہے‘ دونوں شام کو کیفے چلاتے ہیں ‘ انہوں نے کیفے کا نام ’’لو کیفے‘‘ رکھا تھا۔ ایک خوب صورت سا بورڈ دروازے کے ساتھ آویزاں تھا جس پر دو پریمی جوڑے مرتسم تھے۔ ایک خوب صورت سی پری سی برطانوی لڑکی نے نیلا گہرا فراک پہن رکھا ہے اور ایشیائی خوبرو سلطان کے کندھے پر سرر کھا ہے۔ اس کیفے نے بہت سی سہولت مہیا کی‘ بہت سے گاہک شام کو آتے ہیںاور وہ پریمی جوڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اگر وہ دیکھ لیتے تھے کہ ایک لڑکی اکیلی بیٹھی اداس ہے یا لڑکا انجانے خیالوں میں کھویا تنہا بیٹھا ہے تو وہ اس کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا۔
’’ہائے پریٹی!‘‘ اداس آنکھوں‘ بچھڑے محبوب کی وصل کی سرگوشیاں سرشک بن کے چھلک جاتے تھے‘اداس نظریں نومبر کو پگھلا دیتی تھی۔
’’وہ نہیں رہا‘ آہ میں جدائی میں تڑپ رہی ہوں۔‘‘ اسے بولنے پر اکساتا‘ جب بولنے لگتی تو شارلٹ آجاتی تھی۔ کافی پیش کرتی اور بیٹھ جاتی تھی۔
’’میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی اور وہ صرف وقت گزاری کرنا۔‘‘ کافی اٹھائی‘ گھونٹ بھرا‘ چاہتا… آخ… آخ۔ گھونٹ باہر‘ کافی پرانک۔
’’کیا ہوا ہے؟ اچھا‘ شیمپو اوہ میں سمجھی کہ چاکلیٹ انڈیل دیا‘ ہنستی گئی‘ لڑکی مسکرادی تھی۔
’’زندگی کی حقیت خوش رہنے میں ہے کیا نہیں ہے؟ جب مسکراتی ہو نا پریٹی تو تمہارے ہونٹ ذرا سے کھلتے ہیں‘ صاف دانت بہت بھلے لگتے ہیں‘ بھنوئوں کی اٹھان بڑی خوب صورت لگتی ہے‘ ہنستی رہو‘ زندگی رونے کے لیے نہیں بنی۔‘‘ ہم نصیحت تب کرتے ہیں جب ہم خوش ہوتے ہیں ورنہ غم میں تو ہمیں بھی نصیحت بری لگتی ہے۔
اگلے دن ایک نمونے کو حاضر کیے کہتی ہے ’’ہے دس از جوزف! اوہ مائی لو۔‘‘
ء…/…ء
آسمان پر قافلہ رجوم کی روانگی ہورہی تھی۔ جبران نے اس سے کہا تھا‘ اس کی والدہ کی طبیعت خراب ہے اور وہ پاکستان جارہا ہے‘ اگلے ماہ تک انتظار نے اسے ستانا ہے۔ اس نے جبران کو جانے دیا اور انتظار کو آنے دیا۔
انسان اپنا روپ بدل دے مگر فطرت نہیں بدل سکتا ہے‘ فطرت ہوا سی ہے‘ اسے ایک جگہ میں قید نہیں کیا جاسکتا‘ اسے اڑنا ہے۔ کیفے اب بھی وہ چلاتی تھی‘ جوڑے خوش باش سے آتے تھے اور دوسروں کو نصیحت کرنے والی نصیحت نہیں سنتی تھی۔ اس چھ ماہ میں وہ بہت بدل گئی‘ اب وہ حاملہ تھی‘ کیفے چلاتی رہی‘ وہ بدل گئی۔
شام کا وقت تھا‘ وہ کیفے جارہی تھی‘ اس نے گہرا پیلا رنگ پہن رکھا تھا ’’اوپن‘‘ کا بورڈ پلٹا کہ وہ اندر چلی گئی۔ اس نے تین لڑکیاں بھی رکھ لی تھی‘ جبران کی یاد نے اسے اتنا تھکادیا کہ اسے کام کرنے میں ہوش نہ رہا۔ اس نے جاتے سمے کہا۔
’’میرا انتظار مت کرناشارلٹ!‘‘
’’انتظار محبت کی روح ہے جبران! اس کے ساتھ ساتھ‘ رواں دواں۔‘‘ ہاں یہ صحیح ثابت ہوا‘ انتظار اس کے ساتھ ساتھ تھا۔
اسے یکدم کلائمکس آن وارد ہوا کہ قلم زندگی بھی اباک ہوگیا‘دی لیوری میں اب وہ اداس‘ غمگین رول کرنے لگی تھی۔ ایما‘ فیریا‘ ماریا نا اس کی سہیلیاں ہفتے کی شب آتی تھیں۔ اسے لے کر آکسفورڈ کی سڑکوں پر گھماکے چند اچھی پکچرز دکھاکے کسی آئس پارلر میں‘ آئس کریم کھلا کے وہ انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتی تھیں مگر مشرق اور کسی نے اس کی روح چرالی تھی۔
’’تم ہنسو‘ ایما کہتی ہے تم بہت بور ہوگئی ہو‘ اسے دکھا دو کہ شارلٹ اب بھی سیما بی مزاج رکھتی ہے۔‘‘ وہ کھوکھلی ہنسی ہنس دیتی تھی‘ ہوائوں سے ہوتی ہواسی…
’’تم اب کافی بدمزہ بناتی ہوں۔‘‘ چاکلیٹ انڈیل کے وہ مسکرادیتی یعنی سارا کمال تو چاکلیٹ کا تھا‘ اب ہے ‘ چلو جی مزہ لو۔
یہ شادی کے پہلے سال کا نومبر ہے‘ جمعرات کی شام تھی‘ سرد‘ جامد‘ ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سڑکوں کے دائیں بائیں‘ دکانوں کی بتیاں جل اٹھی تھیں‘ برف کی ردا سڑک پر بچھی تھی ’’لو کیفے‘‘ ایک لڑکی آئی تھی۔
’’ہائے میں سوسن ہوں۔‘‘ کائونٹر کے پاس آکر سے ’’آہؔ میں رو رہی ہوں‘‘ والے لہجے میں کہا‘ حساب کتاب میں مگن شارلٹ نے سر اٹھایا۔
’’محبت ہوگئی مجھے۔‘‘ اب دونوں ہلکی ہلکی آواز میں ونڈو گلاس کے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھی تھیں۔ ’’اس کا نام باب تھا مگر وہ ایک حریص شخص تھا‘ میرا ایک پراجیکٹ تھا اس کی ساری پرافٹ وہ لے اڑا‘ ان چھہ ماہ میں وہ مجھے فریب دیتا رہا‘ کیا محبوب فریبی ہوتے ہیں؟‘‘
’’چھ ماہ اور فریب‘‘ نے اس کی امید پر بارش کردی‘ فریب چھ ماہ…
’’انسان کے خمیر میں حرص ایسا گھل چکا ہے کہ جیسے آٹے میں نمک اور سوڈا گھل کے اسے روٹی بنادیتا ہے۔
انسان کا ضمیر ایک روٹی کی مانند ہے‘ حرص‘ نفرت‘ محبت‘ پیار‘ انا‘ غصہ‘ حسد‘ رشک‘ ضد‘ شفقت‘ بے رحمی سب کے سب اس میں گھل گئے ہیں اگر اس میں کوئی ایک عنصر میں کمی یا اس کی تعداد میں زیادتی پیدا ہوجائے تو روٹی باسی ہوجاتی ہے۔ پھیکی‘ کڑوی‘ کسیلی‘ نمکین اگر محبت کسی کے لیے زیادہ ہوجائے نا تو دوسروں کے لیے مقررہ محبت میں کمی واقع ہوجاتی ہے پھر ایسی محبت کا مطلب؟ جو انسان کے Akenebtrt Cannal میں جاکر اٹک کر سانس روکے‘ اداس پہروں میں‘ اداسی نے تنہائی کو خوش آمدید کہا۔ سمے سمٹی ہوئی پکھی کے پروں میں لک چھپ کھیل رہی تھی۔ انتظار کا دیا جو اس نے روشن کیا ہے‘ بارش کے عین نیچے ہے۔
’’محبت میں ایسا ہوتا ہے سوسن! جس کو جتنا زیادہ گوندھو‘ اتنی ہی اچھی روٹی بنتی ہے۔ اس میں جانثاری‘ وفا کا نمک ڈال کے‘ خلوص کے پانی میں گوندھو تو جو روٹی بنتی ہے۔ اس سے عمر بھر کی بھوک ختم ہوجاتی ہے اس میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ ساری زندگی گزار سکتے ہیں محبت کی ایک روٹی پر۔‘‘ رات کا وقت ہے‘ اظلامی نے رات کی تاریکی میں اور بھی راجدھانی قائم کرلی ہے۔ فلک خاموش ہے اور شہر محبت میں محبت کی مغینہ کے ہاتھ میں مرثیہ تھمادیا گیاہے‘ اسے ایک لفافہ ملا اور…
’’سپر پیہم سر شک بہانے لگا‘ ہاں اسے بہانے دو۔ اس نے ایک دل میں بے وفائی اور دسرے دل میں برہا کا خزاں دیکھ لی ہیں۔‘‘
ء…/…ء
No Son— No Moon
No Morn—- No Noon
No Down—– No dsk— No Proper time Of day
NO Sky—- No earthly view
Nodistance Looking blue
No Road— No Street—- No”t’ Other Side the way-
آج پھر سے نومبر ہے‘ دی لیوری کی آرٹ گیلری میں سیڑھیوں پر بیٹھی ہے۔ آنکھوں میں خزاں آن ٹھہرا ہے‘ اتنی اجاڑ‘ بے ویران‘صحرا سی آنکھیں‘ برف میں دبی بے بس چڑیا سرد ہوچکی ہے۔
’’میں تمہیں قصے خوانی میں گھمائوں گا شارلٹ! شفیع مارکیٹ سے نیا سوٹ خرید کر‘ صدر میں دماغ کھپا کر میں تمہیں پٹوار لے جائوں گا‘ پٹوار بالا بہارم قریہ…
وہ اٹھی‘ کیفے کے پاس کھڑی ہوئی اور ایسی بے بس نظریں ڈالی کہ غم خمار میں مخمور ہوگیا۔ لو کیفے کے بورڈ پر وہ ہاتھ پھیر ری تھی‘ ایسے کھوئے کھوئے انداز میں‘ محبت اگر آپ کو وصل دیتی ہے تو بلاشبہ وصل کا خمار سر چڑھ کے بولتا ہے لیکن محبت آپ کو ہجر دے تو دنیا میں رہ کے‘ دنیا سے تعلق نہیں ہوتا۔
’’یہ بورڈ میں نے اس لیے لگایا کہ لوگوں کو معلوم ہو‘ محبت امر ہے۔‘‘ محبت مرن بن اس پر غالب ہے۔
روڈ پر کوٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے‘ برستی بارش میں چلتے وہ روئے جارہی تھی۔
’’میرے وجود میںپلنے والے اے مشرقی بے وفا کے خطا! خدا تمہیں خوار نہ کرے۔‘‘ سنہری پریاں آج بہت رو رہی ہیں‘ اہل محبت میں محبت کے صحیفے میں محبت نے آنکھوں میں گہرا پیلا رنگ انڈیل دیا۔
رات میں ہی وہ یونی کے سامنے والی دیوار پر ہاتھ پھیررہی تھی‘ وہ کیا کریں؟ وہ رو رہی ہے۔
’’جبران میں لعنتی نہیں ہوں‘ میں توتمہاری ایک خطا ہوں‘ خطا… خدا کرے یہ خطا جزا بن کے تمہاری زندگی ویران کردے۔‘‘ خالی نظریں دامن سپہر چھید رہی ہے‘ آہ آہو نے لوح یار پر پھبتی کسی اور بے خوابی کو مقدر ٹھہرایا۔
’’تم مجھے ان سے ملوائو نا تاکہ میں بھی دیکھوں گل مینہ کی سیمابی فطرت‘ درخانے کی بے تکان باتیں‘مینا کی چاپلوسی‘ گل افنان کی بخیلی۔ اوہ جب شام پتوار کے بڑے قبرستان پر اترتی ہوگی تو کھیتوں میں بڑے بڑے درختوںکی اوٹ سے ڈھلتے سورج کی کرنیں کیسا منظر پیش کرتی ہوں گی۔‘‘ پیزا کھاتے ہوئے اس نے مسکرا کرکہا۔
’’میں تمہیں کیسے ملائوں گا‘ تم عیسائی ہو۔‘‘
’’ہاں تو… ہم میاں بیوی ہیں۔‘‘
’’لیکن اسلام میں تو یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ شادی کے لیے دونوں فریقین کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔‘‘ پٹوار بالا کا ارمان دل میں دب گیا‘ صفحہ پلٹ گیا۔
No end to andy Row
No indications where the Crescents go—
No top to andy Steeeple
No recognitions of Familiar People
No Covrtesies for showing’ em
No Knowing’ em
’’کتاب یار‘‘ سے محبت کے عنوان پر سیاہی دوات الٹ گئی اور ’’عنوان محبت‘‘ سمٹ کے ’’عنوان ہجر‘‘ بن گیا۔
’’جبران کیا ماں بننا عظیم رتبہ ہے؟‘‘
’’ماں…‘‘ وہ چیخا۔ ’’ماں جنت کی ضامن ہے‘ امانت دار۔‘‘
’’تو جناب! شارلٹ نے جنت کی امانت داری سنبھال لی ہے اور جبران باپ بننے کی تیاری کرنا شروع کردیں۔‘‘
’’وہاٹ…‘‘ وہ چیخا تھا۔
یعنی پکا بیوپاری تھا‘ جب اس نے یہ بات کی تو اس کے اگلے دو دن میں اس زیادہ باتیں نہیں کی تھیں‘ خاموشی سے پیکنگ کرتا رہا‘ جب وہ جانے لگا تب پتا چلا۔
’’آہ وہ جارہا ہے۔‘‘ اس چھ ماہ کی رفاقت میں کبھی اس نے عیسائی ہونے کا طعنہ نہیں دیا‘ سو یہ ثابت ہوا کہ اسے کوئی ضروری کام تھا وہ صحیح کہہ رہا تھا اس کے گھر میں کوئی بیمار ہے‘ہاں کچھ ہوا ہے۔ چھ ماہ کے بعد جب وہ دن گننے لگی تو دن گنتے ہوئے دوسرا مہینہ شروع ہوچکا تھا۔ اُف ایما نے صبح سے اسے کہہ دیا تھا کہ تیار رہنا‘ پیرس چلے جائے‘ ذرا سا گھوم لیں‘ ایما دراصل اسے گھمانا چاہتی تھی ذرا سی پیکنگ کرکے وہ تیار تھی۔
شام پیرس کی معاون ہے‘ اسے اظلام سے بچائے رکھنا چاہ رہی ہے‘ شام‘ رات کو اترنے سے روک رہی ہے۔ سڑک پر چل رہی تھی اوور کورٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ نمناک سڑک پر چل رہی تھی‘ ان آنکھوں میں ایک شبیہہ ہے۔ ایک محبوب کا‘ ایک با وفا کا‘ ایک سنگ مرمر کا ل رکھنے والے بہرو پیا کا۔ ایما سے بچھڑ کر وہ ایفل ٹاور کی اور نکل آئی تھی‘ ہجوم میں چلتے ہوئے اس کی سانس پھولنے لگی تھی۔ ایک شخص بہت شتابی سے اس کے دائیں جانب نکلنے لگا تھا کہ ’’شڑاپ‘‘ سے اس کے ہاتھ سے چیزیں گرگئیں‘ وہ ’’اوہ سوری‘‘ کہہ کے جھک گئی اور جیسے جھکی ہی رہ گئی۔
آسمان کرچی کرچی لہو کے‘ آنکھوں میں سمٹ آیا‘ زمین نے دھسان اگلنے شروع کردیئے۔
’’جبران!‘‘ وہ چیزیں اٹھاتا جبران یکدم سیدھا ہوا۔ ’’پنچھی‘‘ کے پر کترنے لگے اور آہ سینے میں دم توڑنے لگی۔ شارلٹ اٹھی اس کے سینے سے جالگی۔
’’تم نے مجھے جدائی سے لگایا‘ تمہیں ترس نہ آیا؟‘‘ جبران یکدم پیچھے ہٹا‘ ایسے انداز میں جیسے کوئی بے دھیانی میں سلگتے انگارے پر ہاتھ رکھ دے۔ حیرانی سے آنکھیں پھٹ پڑیں‘ یہ جبران تھا؟ پکھی نے اس مورکھ کو دیکھ کے ’’نہیں‘‘ کا جواب اس پر پھینک دیا۔
’’پلیز منہ بند رکھو؟‘‘
’’میں منہ بند کیسے رکھوں جبران! تمہاری بے وفائی‘ جدائی نے مجھے ادھ موا کردیا‘ دیکھو۔‘‘پیٹ پر خوشی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔
’’اس نے تمہیں بہت یاد رکھا‘ یہ اب بھی تمہیں پکار رہا ہے۔‘‘ دو قدم پیچھے ہٹ کے‘ اشتعال انگیز انداز میں آنکھوں میں نفرت سموئے اس نے کہا۔
’’یہ میرا گناہ نہیں ہے‘ یہ میرا نہیں ہے‘ آہ یہ میرا گناہ نہیں۔‘‘
’’یہ تمہارا ہی ہے۔‘‘
’’جائو میں تم سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔‘‘
’’تم میرے شوہر ہو۔‘‘
’’میں تمہارا شوہر نہیں ہوں‘ میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں۔‘‘
’’تم نے… ایسا ظلم کیونکر کیا؟‘‘ آنسو نکل کے خشک ہونے لگے۔
’’کیونکہ تم عیسائی ہو‘ عیسائی عبث ہے اور ہم عبث سے رشتہ جوڑ کے نجس نہیں بننا چاہتے۔‘‘ چیزیں سمیٹ کے وہ جانے لگا‘ اچانک کسی لڑکی نے اس کے بازوئوں میں بازو حمائل کیے اور آنکھیں بے نوری پر اتری‘ بینائی کھوبیٹھیں۔
بھری پھری سڑک کے عین وسط میں بیٹھی رو رہی تھی‘ بہت سے لوگ مڑ مڑ کے دیکھ رہے تھے‘ ہاں دنیا بہت بہترین تماش بین ہے۔ ایما اسے ڈھونڈتی ڈھونڈتی اس طرف نکل آئی۔
’’تم رو رہی ہو۔‘‘
’’آہ! مجھے درد ادھ موا کررہا ہے ایما۔‘‘
No travelling at all- no locomotion
No inkling of the way— no nation
No go— by land or Ocean-
No Mail— No Post—
گریٹ قبرستان پر صبح ایسے اتر رہی ہے کہ جیسے قدرت نے صفحہ پلٹ دیا ہے۔ صبح سے چھاجوں چھاج مینہ برس رہی ہے‘ چھتری تھامے وہ رو رہی ہے۔رونا اس کی قسمت میں ایسے شامل ہوگیا ہے کہ جیسے سانس ہر کسی کے لیے اہم ہوتی ہے۔
’’شکر کرتی ہوںکہ اس بے رحم دنیا میں تم نہ آئے مگر غم کرتی ہوں کہ قسمت نے مجھے ادھوری ماں کا اعزاز کیوں دیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نجس ہوں تو اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ وہ معتبر ہے۔ وہ کہتا ہے’’تم میرے نہیں ہو‘‘ شکر ہے کہ تم نہ آئے‘ میں تمہیں ادھورا دو حصوں میں بٹے کیسے دیکھتا؟‘‘
’’شارلٹ! کیا ہم چلیں؟‘‘ عقب سے ایما نکل آئی۔ ’’محبت کا ماتم کرنا‘ اچھا نہیں ہوتا۔‘‘
’’میں محبت کا ماتم نہیں کررہی شارلٹ کی جان! میں نجس ہوں بس اس جملے سے ملے درد کو سہہ رہی ہوں ورنہ اس کی محبت تو ہوا سی تھی‘ یہاں آئی‘ وہاں چلی۔‘‘ اب وہ دونوں فٹ پاتھ پر بیٹھی تھیں‘ دور سے کہیں ضد کا پکا ایک منچلا لڑکا گٹار کی نئی نئی دھنیں نکال رہا تھاNo تھامس ہوڈ کی شاہکار نظم کی مشقوں سے نومبر کی حالت زار سنا رہا تھا۔
نومبر ہے
اباک سمے میں خزاں کا سما ہے‘ زرد پتے ادھر اُدھر بکھرے ہیں‘ جدائی کا موسم ہے‘ بے وفائی کا بیوپاری ہے۔
’’سپہر پیہ سر شک بہائے جارہا ہے‘ ہاں اسے بہانے دو کیونکہ زندگی تنویر خلیل کا کہنا ہے…
’’اس نے نومبر کو دیکھ لیا ہے‘ نومبر‘ برہا کا موسم…‘‘
No News form foreign Coast
No Park No ring no after noon gentility
No Company No Nobility
No warmth, No Cheerfulness, No Heatlhful Case
No Comfortable feel in any member
No Shade, No Shine, No Butterflies no Bees
No frutys, No Flowers, No Leaves, No Birds
November

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close