NaeyUfaq Feb-18

ایک سوسولہ چاند کی راتیں

عشنا کوثر سردار

شہاب نے عین کو شیشے میں اتارنا چاہا تھا۔ مگر عین نے نظریں نیچی کیے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’اوہ بہن مجھے اندازہ ہے آپ مشکل میں ہیں آپ کا بھائی آپ کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے ایک موقع دیجیے۔‘‘ شہاب مسکراتے ہوئے بولا تھا۔ عین فورا اٹھی تھیں اور چلتی ہوئی کیمپ کی طرف بڑھ گئی تھیں ان کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا خوف کے مارے براحال تھا ایک تو تیمور کی خبر نہیں تھی عین نے کسی طرح شہاب کے سامنے اس حیرت اور خوف پر قابو پا لیا تھا مگر اب کیمپ میں آکر ان کا مارے خوف کے برا حال تھا۔
’’یا اللہ ہم کس مشکل سے دوچار ہونے والے ہیں، یہ کیسی نئی آزمائش ہے؟‘‘ انہوں نے خوف کے مارے سر پر ہاتھ رکھا تھا دل کی دھڑکنوں میں اتنا خوف تھا کہ جیسے دل ابھی باہر آجائے گا وہ حیران تھیں شہاب کے اچانک سامنے آجانے پر وہ زندہ کیسے بچا تھا وہ نہیں جانتی تھیں۔ مگر وہ اسے سامنے دیکھ کر بہت زیادہ حیران ہوئی تھیں۔
’’تیمور، آپ کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے تھا آپ نے اتنی سی بات پر ہم سے منہ کیوں پھیر لیا، کہیں واقعی آپ واپس تو نہیں لوٹ گئے، اگر آپ واپس لوٹ گئے تو ہم یہاں کیا کریں گے، آپ نے ہمیں اس قدر تنہا کیسے کردیا تیمور، اس وقت میں کیوں چھوڑا جب ہمیں آپ کی انتہائی ضرورت تھی۔‘‘ وہ بے حد الجھ کر رہ گئی تھیں دل جہاں خوف سے بھرا تھا ذہن یکدم مفلوج ہوگیا تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’آپ کی دوستی ایک ماں کے دل کے آڑے آگئی ماں کے دل کو مشکل میں ڈال دیا ہے آپ نے حکمت صاحب، نواب صاحب سے دوستی کا حق آپ نے تو ادا کردیا، مگر ہم کیا کریں ہمارا اکلوتا، جوان بچہ، دور ہوگیا کیا کریں کچھ کیجیے، کسی رابطے کی گنجائش نکالیے کوئی خیر خبر پتا تو چلے کہ ہمارے سپوت کہاں ہیں۔‘‘ بیگم حکمت نے شوہر سے کہا تھا۔ حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’بیگم صاحبہ آپ نے منصوبہ سازی کا رخ بدلا اگر ہم ہندوستان میں ہیں تو آپ کی وجہ سے آپ پاکستان جانے کو تیار نہیں تھیں۔‘‘ حکمت صاحب نے بیوی کو الزام دیا تھا۔
’’آپ ہمارے لیے نہیں، اپنے جگری دوست کے باعث یہاں ہیں اگر آپ پاکستان روانہ نہیں ہوئے تو اس کی وجہ نواب صاحب ہیں آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ آپ جلال کے ہمراہ رہنا چاہتے تھے۔‘‘ بیگم حکمت نے الزام دیا تھا حکمت خاموش ہوگئے تھے اور پھر آہستگی سے بولے تھے۔
’’ہمارا ارادہ تھا کہ ہم پاکستان جائیں گے اور وہاں تیمور کے ساتھ رہائش اختیار کریں گے مگر آپ نے اس قدر دبائو ڈالا کہ ہم نے ارادہ بدل دیا یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے جلال کی فکر اور نواب صاحب سے دوستی میں یہ قدم اٹھایا مگر اس میں آپ کی رائے بھی شامل رہی، دوسری بات یہاں کرنے کا مقصد اللہ تبارک و تعالیٰ پر یقین ہونا تھا کیونکہ ہمارے منصوبے اور ارادے اللہ کی مرضی کے سامنے کچھ نہیں ہمیں نے آپ کی رائے کے ہمراہ جلال کے بارے میں سوچ بچار کر کے یہ فیصلہ لیا اور اس کو اللہ کی رضا جان لیا، ہم اللہ کی مرضی کے سامنے سر جھکانے والی قوم ہیں بیگم اللہ کی اطاعت ہی زندگی کا مقصد ہے ہم نے یہاں رک کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور باقی معاملات کو اللہ پر ڈال دیا بے شک اللہ کی ذات ہی اسباب بنانے والی ہے تیمور ایک سمجھدار نوجوان ہے زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم تیمور پر بھروسہ کرتے ہیں اللہ نہ کرے وہ کسی خطرے میں پڑے ہوں یا کسی آنچ نے بھی انہیں چھوا ہو اللہ ان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گا ہم نے تیمور کی حفاظت کا ذمہ اپنے رب کو سونپا ہے ہمارا دل مطمئن ہے تیمور لوٹ کر صحیح سلامت آئے گا ہمیں اس کا یقین ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا۔
’’اللہ پر یقین ہمیں بھی ہے حکمت صاحب مگر ہمارا دل ماں کا دل ہے ماں کا دل بچے سے دوری پر کیسے تڑپتا ہے یہ آپ نہیں جان سکتے اللہ ہمارے بچے کی حفاظت فرمائیں ہم اپنے بچے کی سلامتی کے لیے دعا گو ہیں مگر ہمارا دل ان سے دور پر کٹتا ہے یہ فطری احساس ہے دل پر پتھر رکھے بیٹھے ہیں ہم آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتے مگر ہم دل کا کیا کریں دل پر جبر کیے بیٹھے ہیں۔‘‘ بیگم حکمت کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئی تھیں۔
’’آپ فکر مت کیجیے بیگم ہم ہائی کمیشن میں بات کریں گے ضرور کوئی نہ کوئی سرا ہاتھ لگے گا۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا اور ان کے یہ الفاظ پتا نہیں ماں کے دل کو دلاسہ دے سکے تھے کہ نہیں مگر بیگم حکمت خاموش اپنے خاوند کو دیکھنے لگی تھیں حکمت صاحب نے یقین دلانے کے لیے سر ہلایا تھا مگر بیگم حکمت کچھ بولی نہیں تھیں۔
ؤ… /…ؤ
شہاب کا خوف اس کے اوسان خطا کر رہا تھا وہ اپنے رگ و پے میں ایک سنسنی سی محسوس کر رہی تھی اگر تیمور ساتھ ہوتا تو شاید صورت حال مختلف ہوتی مگر اب جبکہ تیمور کی کچھ خبر نہیں تھی اور مرزا حیدر سراج الدولہ کا بھی کچھ اتا پتا نہیں تھا تو وہ مزید دہشت میں گر گئی تھی، فرط خوف سے اس کا برا حال تھا۔
’’تیمور آپ اتنی چھوٹی سی بات پر ہمیں اکیلا کر کے کیونکر اور کیسے جا سکتے ہیں آپ نے وعدہ کیا تھا ذمے داری لی تھی پھر وعدہ ایفا کیے بنا آپ راہ سے بدل سکتے ہیں۔ ذمے داری پوری کیے بنا راہ کیسے بدل سکتے ہیں؟‘‘ وہ بھیگتی آنکھوں سے سوچ رہی تھی جب پشت سے آواز ابھری تھی۔
’’آپ کچھ غمگین ہیں؟‘‘ وہ لہجہ وہ آواز شہاب کا تھا عین جو رخ پھیرے کھڑے تھی اس نے سیاہ چادر کے کونے سے چہرہ چھپا لیا تھا اور پلٹے بنا سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
’’کوئی مدد درکار ہو تو حکم کیجیے خاتون ہم خود ماں بہنوں والے ہیں عورت کی عزت اور توقیر کے معنی سمجھتے ہیں۔‘‘ شہاب اسے اجنبی جان کر شیشے میں اتارنے کی کوشش کر رہا تھا وہ شاید نہیں پہچان پایا تھا کہ اس چادر کے اندر لپٹی عین ہے عین کو یہ جان کر تسلی ہوئی تھی اور اندر کا خوف کچھ تھما تھا مگر شہاب کا اس کے گرد موجود رہنا کسی خطرے سے خالی نہ تھا اس کے ارد گرد رہنے کا مطلب تھا اس کا گھیرا تنگ کرتے جانا اور اپنے مقاصد کے اصول کے لیے جال بچھاتے رہنا عین نے گہری سانس لے کر جیسے ہمتوں کو مجمع کیا تھا اور دانستہ بھاری لہجے میں بولی تھی۔
’’ہمارے خاوند کسی کام سے گئے ہیں بھیا آپ یہاں سے جائیے وہ آگئے توقیامت اٹھا دیں گے قدرے شکی مزاج ہیں ہمارے گرد کسی کا سایا برداشت نہیں کرتے ہوسکے تو کرم کیجیے ہمارے تعاقب میں دوبارہ مت آئیے ورنہ ہمارے خاوند ہمارے کردار پر الزامات کی بوچھاڑ کردیں گے معافی چاہتے ہیں مگر موصوف ایسا ہی مزاج رکھتے ہیں۔‘‘ اس نے دانستہ کہانی گھڑی تھی وہ شہاب کو اپنے ارد گرد نہیں چاہتی تھی سو بولی تھی شہاب نے اس کے پیچھے کھڑے اس کی پشت کو بغور دیکھا تھا وہ اسے پہچان سکا تھا یا نہیں عین یہ جان نہیں پائی تھی مگر وہ اس کی موجودگی اپنے گرد نہیں چاہتی تھیں تبھی محتاط رویے میں کہا تھا شہاب خاموشی سے جانے کیوں عین کو دیکھتا رہا تھا۔ پھر آہستگی سے بولا تھا۔
’’بہن جی بے فکر رہیے میں تو بس آپ کی مدد کرنا چاہ رہا تھا ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ہم بھی ماں بہنوں والے ہیں عزت کا خیال کرنا جانتے ہیں۔‘‘ شہاب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جانچتی نظروں سے اسے دیکھا تھا اور پھر جانے کیا سوچتا ہوا پلٹ گیا تھا عین نے اس کے جانے کا یقین کیا تھا دھڑکنوں میں واضح خوف تھا ڈرتے ڈرتے پلٹ کر دیکھا تھا شہاب جا چکا تھا اس نے سکون کی ایک گہری سانس خارج کی تھی وقتی طور پر ہی سہی خطرہ ٹل گیا تھا مگر دل کے اندر جو دھڑکا تھا وہ جوں کا توں موجود رہا تھا وہ اس کا سب نہ جان پائی تھی مگر ایک خوف دل میں مسلسل گھر کیے رہا تھا۔
’’تیمور کہاں ہیں آپ ہم آپ کے بارے میں نہیں جانتے اگر آپ کو جانا تھا تو ہمیں آگاہ کر کے تو جاتے ہم ایک اجنبی جگہ پر بے یار و مددگار کیا کریں گے، آپ کو برا لگا تھا یا دل دکھا تھا تو ہم سے کہہ دیا ہوتا۔
ہمیں اس طرح بے سہارا تو نہ چھوڑا ہوتا اب اس غیر جگہ پر غیر لوگوں کے درمیان ہم کیا کریں گے؟ ایک تو مرزا حیدر کا کچھ اتا پتا نہیں اس پر شہاب کی آفت بھی نازل ہوگئی، ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہم بہت اکیلے پڑ گئے ہیں ہم کیا کریں یا اللہ ہماری مدد فرما ہم اس شہاب کا سامنا دوبارہ کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ وہ بے دلی سے خود سے مخاطب ہوئی تھیں ان کی آنکھوں میں بہت سی سوچیں تیرتی دکھائی دی تھیں۔
ؤ… /…ؤ
’’بھیا ہم کہہ رہے ہیں ہم بارڈر کے اس طرف سے ہجرت کر کے آئے ہیں ہم امراء میں سے ہیں آپ سے بھیک نہیں مانگ رہے اپنی جائیدادیں گھر بار آبائو اجداد کی قبریں اور کئی اثاثے وہاں چھوڑ کر آئی ہیں اپنا حصہ چھوڑ آئے ہیں اور یہ بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی؟‘‘ مرزا حیدر نے کلیم کی کوشش میں زچ ہو کر کرسی پر بیٹھے نئی گردن والے شخص سے کہا تھا اس نے سر ہلا دیا تھا۔
’’بھیا آپ کی بات میں دم ہے مگر میاں یہاں کلیم کرنے والے تھوڑے نہیں ہیں، قطار در قطار کھڑے ہیں ہم اتنے وسائل نہیں رکھتے کہ جان سکیں کون سچا ہے اور کون جھوٹا مگر ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ کلیم کرنے والے کی درخواست پر ہر صورت میں غور کیا جائے اور ہم اپنی سی کوشش بھی کر رہے ہیں، ہمیں کون سا اپنی جیب سے دینا ہے دیتے ہوئے تکلیف نہیں ہے ہمیں اللہ کا شکر ہے پاکستان کا دل بہت بڑا ہے ہم اپنے مہاجر بہن بھائیوں کی قربانیوں سے آگاہ ہیں اسی لیے تو ہم یہاں بیٹھے ہیں آپ درخواست دیں ہم اس پر عمل ضرور کریں گے حساب کتاب سے دیکھ کر آپ کو ان اثاثوں سے مطابقت رکھتے اثاثے آپ کے نام الاٹ کردیے جائیں گے بھیا حکومت کے کام ہیں زبانی کلامی تو ہونے سے رہے لکھت پڑھت ہوتی ہے آپ ان اثاثوں کی مالیت کے مطابق تفصیلات فراہم کردیں ہم آپ کو ان تفصیلات سے ملتی ملتی جگہیں الاٹ کردیں گے اتنا بڑا پاکستان ہے ہم نے اراضی اور املاک جیب میں ڈال کر تھوڑا نا رکھنا ہے نہ ہم جیب سے کچھ دے رہے ہیں۔‘‘ کرسی پر بیٹھے کلرک نے مسکراتے ہوئے معقول جواز دیا تھا حیدر میاں نے گردی ہلا دی تھی۔
’’مگر محترم جو کرنا ہے جلدی کیجیے اتنی سست روی سے کام کرو گے تو ہماری اگلی نسلیں ہی اس کلیم کو وصول کریں گی۔‘‘ مرزا حیدر سراج الدولہ کے کہنے پر کلرک کی باچھیں کانوں سے جا لگی تھیں۔
’’میاں ایسے سانحہ نہیں ہونے دیں گے ہم مگر جو ہوگا قاعدے سے ہوگا آپ اپنی جائیداد اور اثاثوں کی تفصیلات بتا دیجیے ہم زبانی کلامی کام نہیں کرسکتے ہماری بھی مجبوری ہے آپ کی مدد کو ہی یہاں بیٹھے ہیں ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘ کلرک نے یقین دلایا تھا حیدر میاں نے سر ہلا دیا تھا اور رجسٹرڈ پر جھک کر اپنے اثاثوں کی تفصیلات درج کرنے لگے تھے۔
ؤ… /…ؤ
’’شکر ہوا بھیا تم نے ٹرین سے گرتے گرتے دروازے کو زور سے تھام لیا، ورنہ جانے کیا سے کیا ہو جاتا ٹک کے کہیں بیٹھیں گے تو ہاتھ سے صدقہ خیرات کریں گے اللہ نے نئی زندگی بخشی ہے آپ کو ٹرین کے دروازے میں جا ہی پڑے تھے کہیں نیچے لڑھک جاتے تو ہم اماں ابا کی روح کو کیا منہ دکھاتے اماں ابا نے تو چھوٹے بھائی کی ذمہ داری ہمیں ہی سونپی تھی نا اگر تمہیں کچھ ہوجاتا ہم تو خود کو معاف بھی نہ کر پاتے۔‘‘ بہن نے مکمل خیال کرتے ہوئے بھائی کا ماتھا چوما تھا شہاب مسکرا دیا تھا۔
’’آپا آپ نے زندگی بخشی ہے بس اب جو بھی حماقتیں کی ہیں ان کو نہیں دہرانا۔‘‘ شہاب نے پیلے دانتوں کی نمائش کی تھی۔
’’میرا پیارا بھائی۔‘‘ بہن نے بھائی کی بلائیں لی تھیں اور اچانک چونکتی ہوئی بولی تھیں۔
’’یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ تم نے دروازے کو تھام لیا مگر تم تو باقی ماندہ سفر میں دکھائی بھی نہیں دیے ہم کیسے فکر مندی میں گھر گئے تھے کچھ پتا ہے کیا تم اتنی دیر تک اسی دروازے سے لٹکے رہے تھے ہم تو کئی بار بیت الخلاء کی سمت گئے دروازے میں تو نہ دیکھا آپ کو۔‘‘ بہن کے پوچھنے پر شہاب مسکرا دیا تھا۔
’’ہم کسی طرح ٹرین کی چھت پر سوار ہوگئے تھے سو آپ سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا مگر ہم محفوظ رہے آپ کو اسی پر خوش ہونا چاہیے۔‘‘ شہاب شرارت سے آنکھ دبا کر بولا تھا تو ہمشیرہ مسکرا دی تھی۔
’’شیطان کہیں کے یوں بھی شیطان کی رسی اللہ میاں لمبی چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ ہمشیرہ نے مسکراتے ہوئے بھائی کو چپت لگائی تھی شہاب کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’آپ نے ہائی کمیشن سے رابطہ کیا کچھ پتا چلا؟‘‘ بیگم حکمت نے پوچھا تھا، حکمت صاحب نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’نہیں ایسا ممکن نہیں ہوسکا ہم نے پوچھ گچھ کی تھی مگر کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا نئی مملکت بنی ہے روابط اگر چہ موجود ہیں اور وہ ریاستوں کے درمیان معاملات اور روابط کی راہ بھی ہے مگر اس طور فعال نہیں اس سب میں زمانہ لگے گا، تب تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا بیگم حکمت نے پیشانی پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’اب ہم تب تک کہاں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھیں رہیں گے چاہتے کیا ہیں آپ۔ ہم اپنے فرزند کو فراموش کر کے بیٹھ جائیں اور دو ریاستوں کے درمیان تعلقات اور روابط فعال ہونے کا انتظار کریں؟‘‘ بیگم حکمت نے شوہر نامدار کو خشمگین نظروں سے دیکھا تھا تبھی حکمت صاحب مصلحت پسندی سے گویا ہوئے تھے۔
’’ہم اپنی سی کوشش کر تو رہے ہیں بیگم، مگر اتنی جلد تفصیلات نہیں ملتیں مہاجرین کی تفصیلات درج کرنے کا ایسا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے مگر ہم پھر بھی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا بیگم حکمت نے حکمت صاحب کو بھیگتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
’’کہے دیتے ہیں ہم حکمت صاحب آپ نے کچھ نہ کیا تو ہم خود ٹرین میں سوار ہو کر پاکستان کے لیے روانہ ہوجائیں گے کچھ بھی ہو ہم اپنے لاڈلے سپوت کو آپ کی دوستی کی نذر نہیں کرسکتے، ہماری جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے ہم اپنے بچے کی صورت دیکھنے کے لیے کتنے بے تاب ہیں آپ سوچ نہیں سکتے ہماری روح غمگین ہے سوچ کر نیند نہیں آئی جانے کس حال سے گزر رہا ہوگا ہمارا بچہ جانے کیا گزر رہی ہو گی اس پر۔‘‘ بیگم حکمت نے آنسوئوں کے ساتھ کہا تھا حکمت صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے پھر مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’آپ فکر مند نہ ہوں بیگم ہم بھی آرام سے نہیں بیٹھے جوان بیٹے کی ہمیں بھی اتنی ہی فکر ہے ہم بھی پریشان ہیں ہم کوشش کر رہے ہیں رابطے کی کوئی صورت ضرور بنے گی۔‘‘ انہوں نے بیگم کو تسلی دی تھی۔
’’آپ کے پاکستان جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اس سے قبل کوئی نہ کوئی خبر مل جائے گی۔‘‘ حکمت صاحب نے سمجھایا تھا انہوں نے بیگم کو تسلی دینا چاہی تھی مگر وہ بھڑک اٹھی تھیں۔
’’سن سن کے کان پک گئے ہیں ہمارے اپنی دوستی کی سزا اپنی اولاد کو تو مت دیجیے حکمت صاحب آپ کو کیا خبر ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے کلیجہ منہ کو آتا ہے جانے کس حال میں ہوں گے تیمور، آپ تو یوں غافل بنے بیٹھے ہیں کہ کان پر جوں تک نہیں رینگتی، ہم خود جا رہے ہیں پاکستان بھاڑ میں جائیں آپ کے اثر و رسوخ اور ہائی کمیشن۔‘‘ بیگم حکمت دھمکاتے ہوئے اٹھ کر اندر چلی گئی تھیں حکمت صاحب خاموشی سے دیکھ کر رہ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
عین کچھ فاصلے پر بیٹھی تھی جب اس کی نذر مرزا حیدر سراج الدولہ پر پڑی تھی وہ زیادہ فاصلے پر نہیں تھے مگر جیسے ہی عین نے ان کو پکارا تھا وہ پلٹ کر آگے بڑھنے لگے تھے اب حیدر نے سنا نہیں تھا یا جان بوجھ کر ان کی آواز سن کر نظر انداز کی تھی وہ جان نہیں پائی تھیں مگر وہ تیز تیز چلتی ہوئی آگے بڑھی تھیں دل جانے کیوں مزید بے چین ہوگیا تھا وہ ایک جست میں حیدر میاں کے قریب پہنچ جانا چاہتی تھیں مگر اچانک پائوں پتھر سے ٹکرایا تھا اور وہ چکرا کر زمین پر آرہی تھیں، نگاہ اٹھا کر دیکھا تو تو حیدر میاں ہجوم میں غائب ہوچکے تھے پائوں پر ٹھوکر لگنے سے جو چوٹ لگی تھی اس سے خون رسنے لگا تھا عین ایک سسکی لے کر زخم کی نوعیت دیکھنے لگی تھی، انہیں اندازہ نہیں تھا شہاب ان کے کتنا قریب کھڑا تھا وہ جھکی زخم دیکھ رہی تھیں جب شہاب کی آواز کان میں پڑی تھی۔
’’محترمہ کیا ہوا، کسی مدد کی ضرورت ہے؟‘‘ شہاب کی آواز سنتے ہی اس کے تمام اوسان ایک لمحے میں چونکے تھے اس نے اسی طرح جھکے جھکے سیاہ چادر کے کونے سے منہ کو چھپایا تھا۔
’’شکریہ، ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ بادل ناخوانخواستہ کہہ کر اس طرح سے اٹھی تھی کہ ان کا رخ شہاب کی سمت نہ رہے اٹھ کر وہ چلنے لگی تھی میں مگر پائوں مڑنے سے شاید موچ آگئی تھی سو وہ تکلیف سے کراہ کر رہ گئی تھیں، شہاب ان کے سامنے آن رکا تھا اور خاموشی سے بغور ان کو دیکھنے لگا تھا۔ عین نے دانستہ ان سے نگاہ نہیں ملائی تھی۔
’’جانے کیوں لگتا ہے آپ کو پہلے کہیں دیکھا ہے محترمہ۔‘‘ شہاب اسے پہچان چکا تھا یا یہ محض قیاس تھا؟‘‘ وہ نہیں جانتی تھی مگر اس نے تکلیف کو بھول کر بہت مضبوط لہجے میں کہا تھا۔
’’بھائی صاحب ہم نے کہا کہ ہمیں مدد کی ضرورت نہیں آپ جائیے یہاں سے دریافت کرنے کے لیے شکریہ۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹی تھی اور تکلیف بھول کر چلتی ہوئی کیمپ کی طرف آگئی تھی شہاب اسے جاتا دیکھتا رہا تھا پھر جانے کیوں اس کے لبوں پر مسکراہٹ اتر آئی تھی۔
ؤ… /…ؤ
فتح النساء کو اس رشتے کی کوئی منزل دکھائی نہیں دیتی تھی وہ جلال سے محبت کرتی تھی مگر جلال اس محبت کو سمجھنے کو تیار نہ تھا سو بہت سوچنے کے بعد اس نے جلال سے بات کرنے کی ٹھانی تھی، وہ کوئی اہم دستاویز دیکھ رہا تھا جب وہ چلتی ہوئی ان کے قریب آئی تھی وہ بولی تھی۔
’’ہم اس رشتے کا کوئی مستقبل نہیں دیکھتے سو اس رشتے کا کوئی بوجھ آپ پر لادنا نہیں چاہتے کہا سنا معاف کیجیے گا ہم وضاحت دے کر رشتے کو مزید کمزور کرنا نہیں چاہتے معذرت چاہتے ہیں مگر ہم اس رشتے کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔‘‘ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی تھیں۔
جلال نے ان کو روکا نہیں تھا نہ اٹھ کر ان کا ہاتھ تھاما تھا رشتہ بگڑ رہا تھا تعلق بکھر رہا تھا مگر شاید ان کی انا بہت بڑی تھی گھر میں ویرانی پھیل رہی تھی مگر وہ خاموش بیٹھے رہے تھے کافی دیر بعد وہ اٹھ کر باہرنکلے تھے توبوا سامان سمیٹ کر جاتی دکھائی دی تھیں۔
’’بوا۔‘‘ جلال نے پکارا تھا بوا رک گئی تھیں اور پلٹ کر جلال کو دیکھا تھا پھر نرمی سے بولی تھیں۔
’’بیٹا آپ نے بہت عزت دی اپنے محل میں جگہ دی بہت شکریہ، مگر اب اس جگہ سے دانا پانی اٹھ گیا ہے مزید قیام ممکن نہیں، آپ کے لیے دل سے ہمیشہ دعائیں نکلتی رہیں گی خدا آپ کو سلامت رکھے ہمیشہ خوش و خرم رہو۔‘‘ کہہ کر انہوں نے دور کھڑے کھڑے جلال کی بلائیں لی تھیں اور چلتے ہوئے داخلی دروازے سے باہر نکل گئی تھیں، جلال کے پائوں جانے کیوں بندھ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
مرزا سراج الدولہ نے عدالت کی طرف سے آنے والے نوٹس کو پڑھا تھا اور غصے سے ان کی رگیں تن گئی تھیں جلال نے مقدمہ واپس نہیں لیا تھا عدالت نے ان کو پیش ہونے کا وقت دیا تھا انہوں نے غصے سے نوٹس کو پھاڑتے ہوئے وکیل کو فون ملایا تھا۔
’’آپ نے کہا تھا یہ مقدمہ واپس لے لیا جائے گا مگر ایسا ہوا نہیں سو آپ کا کیا فائدہ؟ آپ اتنے بڑے وکیل ہیں آپ کو منتخب کرنے کا کیا مقصد تھا کہ آپ اس مقدمے کو بند کرا دیں گے جب آپ ایسا نہیں کرسکے تو پھر کیا وجہ رہ جاتی ہے آپ کو ساتھ لگائے رکھنے کی وہ کل کا لونڈا آپ سے زیادہ دماغ رکھتا ہے کیا، آگ لگا کر جلا دیجیے اپنی ڈگریوں کو آپ کی وکالت تیل بیچنے لائق ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘ وہ غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے بولے تھے وکیل صاحب ان کو مطمئن کرنے کو دوسری طرف مسکرائے تھے۔
’’مرزا صاحب پر سکون ہوجائیے اتنی چھوٹی سی بات پر واویلا کرنا مناسب نہیں بچہ ہے دل خوش کر لینے دیجیے ہم تیل بیچنے والے نہیں تیل نکالنے والے ہیں ان محترم چھوٹے نواب کا ایسا حال کریں گے کہ ان کو بھاگتے ہی بنے گی دیکھتے جائیے آپ وہ آج کا لونڈا ہمارے دماغ کا مقاملہ کرنے لائق نہیں برسوں کا تجربہ ہے میاں ایسے کئی مقدمے چٹکیوں میں نبٹائے ہیں یہ موصوف کس کھیت کی مولی ہیں۔‘‘ وکیل صاحب ہنسے تھے مرزا سراج الدولہ نے گہری سانس لی تھی۔
’’ہم کہہ دیتے ہیں میاں ایسا کچھ نہ ہوا تو آپ کی خیر نہیں سیدھا گولی سے وار کریں گے آپ پر ہم تو ڈوبنے والے ہیں ہی کسی اور کو بھی تیرنے نہیں دیں گے ہمیں اس مقدمے کا فیصلہ حسب منشا چاہیے قانون کو خریدیے یا قانون کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیجیے مگر فیصلہ ہماری مرضی کا ہونا چاہیے گواہ خریدنا ہوں یا جج صاحب کو اپنی طرف کرنا ہے کچھ بھی کیجیے مگر جان رکھیے ہمیں سزا ہوئی تو ہم آپ کو بخشنے والے نہیں۔‘‘ مرزا صاحب نے وکیل کو دھمکایا تھا وہ کھسیانے سے ہو کر ہنس دیے تھے۔
’’اس کی نوبت نہیں آئے گی مرزا صاحب غصہ کم کیا کریں، فشار خون بڑھ جاتا ہے دل پر دبائو آنا حرکت قلب کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے مزاج کو ٹھنڈا رکھا کریں مرزا صاحب۔‘‘ وکیل صاحب مرزا کی حقیقت جانتے تھے جو اپنی جان بچانے کو ان کو پر سکون کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ پر سکون نہیں ہوئے تھے۔
’’ہم مذاق نہیں کر رہے وکیل صاحب ہم آپ کا حشر کردیں گے اگر اس مقدمے کا اختتام ہماری ہار پر ہوا جو کرنا ہے سوچ سمجھ کر کیجیے ہم اپنی شکست کو جھیل نہیں پائیں گے سلاخوں کے پیچھے بھی چلے گئے تو بھی آپ کی خیریت تو خطرہ لاحق رہے گا۔‘‘ انہوں نے واضح اندازہ میں دھمکایا تھا۔ وکیل صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’پرانے دوست ہیں آپ، آپ سے مخالفت مول لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، اتنا یقین رکھیے ہمیں اپنی جان کو مشکل میں نہیں ڈالنا، سو فیصلہ آپ کے حق میں ہو گا اس کا یقین رکھیے اس لونڈے کو منہ کی کھانی پڑے گی وہ مثل تو سنی ہوگی آپ نے کہ سمندر میں رہ کر مگر مچھ سے بہر لینا ممکن نہیں ہوتا سمندر میں رہنا ہو تو انسان کا کتا بن جانا ضروری ہے جو کسی اور کی مرضی سے بھونکے اور کاٹے اور ہم اتنے سمجھدار تو ہیں بے فکر رہیے، آپ پر حرف بھی آنے نہیں دیں گے اپنی وکالت اور تجربے کی بنا پر جو کریں گے وہ وقت کا بہترین فیصلہ ہوگا آپ بس بے فکر ہو کر بیٹھ جائیں۔‘‘ وکیل صاحب نے بلآخر مرزا صاحب کو مطمئن کردیا تھا۔
ؤ… /…ؤ
بوا نے فتح النساء کو دیکھا تھا اور مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’فتح النساء کیا آپ کا یہ فیصلہ حتمی ہے زوجہ اور خاوند میں ایسی غلط فہمیاں ہوجاتی ہیں رشتے کو وقت دینا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ بوا نے سمجھایا تھا فتح النساء ان کو خاموشی سے دیکھنے لگی تھیں، ان کی نظروں میں سکوت تھا کوئی حزن و ملال نہ تھا جیسے وہ ہر جذبے سے خالی تھیں بوا کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔
’’ایک بار چھوٹے نواب سے بات کرلیجیے ان کو اس طرح تنہا چھوڑ کر جانا مناسب نہیں، وہ بھی اسی کیفیت میں جب وہ بہت اکیلے کھڑے ہیں آپ کا فرض ہے ان کے ساتھ کھڑی ہوں، اس وقت میں مکمل اپنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے چاہے آپ دونوں میں کچھ بھی ٹھیک نہیں مگر آپ کو چھوٹے نواب کا ساتھ دینا چاہیے۔‘‘ بوا نے سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کی تھی مگر فتح النساء نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’چھوٹے نواب کو اس رشتے کی یا ہماری ضرورت نہیں ہے بوا انہوں نے ہمیں روکا نہیں۔ کچھ کہا نہیں سو ہمارے رکنے کی کوئی صورت نہیں رہتی، ہم نے جتنی اور جس قدر لچک دکھانا تھی ہم نے دکھا دی اس رشتے کو آباد کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کی ان کو سمجھانے کا راستہ بھی ڈھونڈنا چاہا جھک کر انا کو ایک طرف رکھ کر وضاحتیں بھی دیں اور غلط فہمیاں بھی دور کرنا چاہیں، مگر اس سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے بوا ایک ساتھ طمانچہ مار سکتا ہے تالی نہیں۔‘‘ وہ بولی تھیں ان کی آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہے تھے اور رخساروں کو بھگوتے ہوئے بے قدر ہو کر سیاہ چادر میں جذب ہوگئے تھے۔
’’ہم شاید رشتوں کے لیے بنے ہی نہیں ہوں، اللہ نے جانے کیا سوچ کر ہمیں تمام رشتوں سے محروم رکھا جن رشتوں سے انسیت رہی اللہ کی رضا سے وہ بھی دور ہوگئے، سیف چاچا اور چاچی پھر بھائی جیسی شفقت دینے والے تیمور اور اب جلال رشتے جیسے ہمیں راس ہی نہیں آتے۔‘‘ وہ انتہائی غمزدہ لہجے میں بولی تھیں، بوا کچھ نہیں بولی تھیں، وہ جانتی تھیں فتح النساء کا دل دکھ سے بھرا تھا۔
’’کاش میں اپنی بچی کا درد بانٹ سکتی، میں جنم دینے والی ماں مگر پالنے والی ماں ضرور ہوں مگر آپ کے اس دکھ پر میرا دل اس قدر کٹ رہا ہے جتنا سگی ماں کا کٹتا ہے۔‘‘ بوا کی آنکھوں سے آنسو بہے تھے، فتح النساء نے ہاتھ بڑھا کر ان کی آنکھوں کو پونچھا تھا۔
’’جنم دینے والی ماں بھی کرم نہیں دیتی بوا، ماں کی عظمت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ ماں ہے اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر اسے افضل ترین کردیا ہے سو ماں کا فقط ماں ہونا کافی ہے۔ آپ میرے دکھ سے اپنا دل برا نہ کریں یہ دکھ میری زندگی کا حصہ ہیں ہم ایسے خوش نصیب نہیں کہ کوئی خوشی ملتی ہمیں اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں ضرور اس میں کوئی مصلحت ہوگی ہمیں جلال سے محبت ہے اور ہمیشہ محبت رہے گی چاہے وہ اس محبت کو قبول کریں نہ کریں، یقین کریں نہ کریں مگر یہ محبت ہمیشہ قائم رہے گی ہم ان سے محبت کرنا متروک نہیں کرسکتے۔‘‘ کیونکہ محبت یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے تو کبھی متروک نہیں ہوئی محبت کا واقع ہونا شرط ہے محبت آتی ہے تو ہمیشہ کے لیے آتی ہے دل میں گھر کرتی ہے تو قیام مسلسل اور مستقل ہوتا ہے۔‘‘ وہ بھیگتی آنکھوں کے ساتھ بولی تھیں بوا کا دل فتح النساء کے دکھ پر کٹ کر رہ گیا تھا۔
’’کاش ہم آپ کے لیے کچھ کرسکتے میری بچی۔‘‘ بوا نے تڑپ کر ان کو ساتھ لگایا تھا۔
’’بوا ہم پاکستان روانہ ہونا چاہتے ہیں کیا آپ ہمارے ہمراہ چلیں گی۔‘‘ فتح النساء نے یکدم ہی فیصلہ سنا دیا تھا بوا حیران رہ گئی تھیں۔
’’فتح یہ کیا بات ہوئی، آپ اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں۔‘‘ وہ بھی جلال کی مرضی کے بنا وہ آپ کے خاوند ہیں آپ ان کی رضا اور مرضی کی پابند ہیں ایسے ختم کردینے سے کوئی رشتہ ختم نہیں ہوجاتا، آپ ان کے نکاح میں ہیں اور یہ رشتہ شرائط کا پابند ہے۔‘‘ بوا نے سمجھایا تھا فتح النساء کرب سے مسکرا دی تھیں۔
’’رشتہ شرائط کا پابند نہیں ہوتا بوا، محبت شرائط کی پابندی نہیں کرتی، محبت شرائط سے مبرا ہوتی ہے رشتوں میں قوانین کا نفاذ تک لاگو نہیں ہوتا جب تک فریقین محبت کو قبول نہ کرلیں ہمارے معاملے میں محبت کو قبول فقط ایک فرد نے کیا ہے یہ دو طرفہ محبت نہیں ہے محبت کا سود و زیاں ہمارے حصے میں آیا ہے ہم اسے قبول کیونکر نہ کریں؟ اگر ہم بھی دامن کھینچ لیں گے تو یہ محبت کی توہین ہوگی۔‘‘ وہ آنسوئوں کے درمیان گویا ہوئی تھیں بوا بھی بھیگتی آنکھوں سے سر نفی میں ہلانے لگی تھیں۔
’’میری سمجھ میں تیری باتیں نہیں آتیں میری بچی بس دکھائی دیتا ہے کہ میری بچی کا دل دکھ سے بھرا ہے اور وہ خوش نہیں ہے۔‘‘ وہ درد بھرے لہجے میں بولی تھیں فتح النساء نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’آپ دل برا نہ کریں یہ ہمارے حصے کا ملال ہے محبت کی ایسی کیفیات بھی قسمت والوں کے ہاتھ لگتی ہیں ہمیں جلال سے گلا نہیں اگر وہ خوش ہیں تو ہم انہیں ہمیشہ خوش دیکھنے کے خواہاں ہیں اس سے بڑھ کر اور کیا بات اطمینان بخش ہوگی کہ محبوب کا دل خوش ہے مطمئن ہے ہمارے ہاتھ جب بھی دعا کو اٹھیں گے ان کی سلامتی کی دعا مانگتے رہیں گے اللہ ان کو ہر خوشی سے نوازے میرا دل ان کی سلامتی کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے گا۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا بوا نے خاموشی سے انہیں دیکھا تھا پھر نرمی سے بولی تھیں۔
’’کیا تم میرے کہنے پر ایک بار چھوٹے نواب سے مل سکتی ہو، میں چاہتی ہوں کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل تم ایک بار چھوٹے نواب سے بات کرلو۔‘‘ بوا نے انہیں سمجھایا تھا اور وہ انہیں دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
ؤ… /…ؤ
عین بہت افسردہ سی بیٹھی تھیں جب انہیں مدہم روشنی میں اپنے پیچھے کھڑا سایہ دکھائی دیا تھا اس نے پلٹ کر دیکھا تھا وہاں شہاب کھڑا تھا وہ سہم کر فورا گردن موڑ گئی تھی اور چہرہ چھپا دیا تھا شہاب پشت پر کھڑا مسکرا دیا تھا۔
’’آپ کو پہچاننا ایسا دشوار کام نہیں تھا ہم نے جان لیا تھا کہ یہ آپ ہی ہو ایسا حسن دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی تو پاگل تو نہیں بنا دیا تھا آپ نے ہمیں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا تھا اس کی نظروں میں ہوس تھی وہ متواتر عین کی پشت کو دیکھ رہا تھا عین اپنی جگہ ساکت سی بیٹھی تھیں، جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’’آپ نے تو مار ہی ڈالا تھا مرتے تو ہیں آپ پر آپ کا حسن قاتل ہے جو پہلے سے مرے ہوں ان کو دوبارہ مارنا کہاں کی دیانت داری ہے؟‘‘ وہ خباثت سے مسکرا دیا تھا اور عین میں ہمت نہ تھی کہ پلٹ کر اسے دیکھتیں خون ان کی رگوں میں جیسے منجمد ہونے کو تھا وہ کوئی حرکت نہ کرسکی تھیں اور شہاب چلتے ہوئے سامنے آن رکا تھا اور بغور عین کو دیکھنے لگا تھا۔
’’مر تو ہم گئے تھے آپ کے ایک اقدام سے جی گئے ہوتے مگر ہم نے کرم کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا وہ گریز پائی نہ ہوئی تو ہم جی اٹھے ہوتے۔‘‘ وہ خباثت سے مسکرایا تھا عین نے بیٹھے بیٹھے پتھر اٹھا کر اسے مارنا چاہا تھا مگر شہاب نے ہاتھ تھام لیا تھا اور مسکراتے ہوئے عین کو بغور دیکھا تھا۔
’’آپ کے ہاتھ میں پتھر نہیں اچھے لگتے پھول جیسے ہاتھ فقط چومنے کو بنے ہیں۔‘‘ اس نے کہہ کر ہاتھ کو لبوں سے لگانا چاہا تھا جب عین نے اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا وہ ہنس دیا تھا۔
’’آپ کی یہی ادائیں جان لیوا وار کرتی ہیں، ہم تو مرے جاتے ہیں اور آپ نگاہ کر کے زندگی بخشنے کو تیار نہیں، ایک بار مائل بہ کرم ہوجائیں تو دیکھیں ہم کس درجہ فریفتہ ہیں آپ پر۔‘‘ وہ جیسے بے اختیار ہو رہا تھا عین نے خشمگین نظروں سے دیکھا تھا۔
’’یہاں سے چلے جائیں اور دوبارہ اس کیمپ کی طرف مت آئیے گا ہم آپ کو دوبارہ یہاں دیکھنا نہیں چاہتے۔‘‘ وہ ڈرے سہمے بنا بولی تھیں مگر شہاب مسکرا دیا تھا۔
’’آپ پر عمریں واری جا سکتی ہیں ہم تو مر جانا چاہتے ہیں آپ موقع دینے کو تیار نہیں۔‘‘ وہ وہاں سے ہلے بنا بغور دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
’’ہم نے کہا چلے جائیں یہاں سے، ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا، ہم آپ سے ڈرنے والے نہیں ہیں آپ کا وہ حشر کریں گے کہ آپ یاد رکھیں گے۔‘‘ وہ دھمکاتے ہوئے سخت لہجے میں بولی تھی، وہ مسکرایا تھا اور سر ہلاتے ہوئے پلٹ کر وہاں سے چلتا ہوا چلا گیا تھا عین انتہائی خوف میں گر گئی تھی۔
ؤ… /…ؤ
’’جلال بیٹا مرزا صاحب کے مزاج سے واقف نہیں آپ وہ چالیں چلنے میں ماہر ہیں ہم چاہتے ہیں آپ محتاط رہیں آپ پر ایک حملہ ہو چکا ہے کھسیانی بلی کھمبا نوچتی ہے مثل تو سنی ہوگی آپ نے، ایسے انسان کی نا دوستی اچھی نہ دشمنی، نواب صاحب مرزا صاحب کو دوست سمجھتے رہے مگر اس دوستی کا کیا اجر ملا انہیں، ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ اس مقدمے کو واپس لے لیں۔‘‘ حکمت صاحب نے نرم لہجے میں سمجھایا تھا، جلال خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے رہے تھے وہ کسی قدر کھوئے دکھائی دیے تھے۔
’’کیا ہوا، آپ کچھ متفکر ہیں کیا مرزا صاحب نے کچھ کہا ہے؟‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا تب جلال نے چونکتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا اور بولے تھے۔
’’نہیں، حکمت چچا ایسا نہیں، ہم مرزا چاچا کی اصلیت سے بہت اچھے سے واقف ہیں ہم محتاط ہیں ہم ان کے باعث پریشان نہیں ہیں، اس پیشی پر ان کی تمام سازشیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔‘‘ وہ یقین سے بولے تھے۔
’’مرزا صاحب گھاگ ہیں وہ خود پر کوئی آفت آنے نہیں دیں گے سو جو بھی ہے اسے صیغہ راز میں رکھیے، وہ اپنی جیت کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔‘‘ حکمت صاحب نے سمجھایا تھا جلال نے سر ہلایا تھا تبھی بہو بیگم کی غیر موجودگی محسوس کر کے حکمت صاحب نے پوچھا تھا۔
’’ہماری بہو بیگم کیسی ہیں دکھائی نہیں دے رہیں؟‘‘ جلال سر جھکا گئے تھے حکمت صاحب نے ان کو بغور دیکھا تھا جب جلال نے سر جھکائے نرمی سے جواب دیا تھا۔
’’وہ یہاں سے چلی گئی ہیں۔‘‘ وہ اس سے زیادہ نہیں کہہ سکے تھے حکمت صاحب نے چونکے تھے۔
’’چلی گئی ہیں، کہاں، کیا اس مقدمے کی پیش نظر آپ نے انہیں کہیں بجھوا دیا ہے، اگر ایسا تھا تو ہمارا گھر حاضر تھا۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا جلال نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’ہم نے ان کو حفظ ما تقدم کے طور پر نہیں بجھوایا مگر یہ بھی مناسب ہے کہ وہ ہم سے دور رہیں ہم نہیں چاہتے گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس جائے ہمارے حصے کی آفتیں ہمارے لیے ہونا چاہیں، ہم ان پر کوئی آفت آنا نہیں دیکھ سکتے، سو اس سفر میں یہ ضروری تھا انہوں نے ہم سے دور جانے کی ٹھانی تو ہم نے ان کو روکا نہیں۔‘‘ وہ مدہم شکستہ لہجے میں بولے تھے حکمت صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے پھر نرمی سے بولے تھے۔
’’یہ مناسب اقدام نہیں تھا چھوٹے نواب، بہو بیگم ہمارے گھر قیام کر سکتی تھیں، مرزا کے ڈر سے اپنے آپ کو اکیلا اور کمزور کرنا کوئی مناسب عمل نہیں ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے سمجھایا تھا۔
’’ہم کمزور نہیں ہیں حکمت چچا ہم عورتوں کو اس لڑائی میں زک پہنچتا نہیں دیکھ سکتے فتح النساء کا ہمارے ساتھ رہنا ہمیں کمزور بنا رہا تھا مرزا گھاگ انسان ہیں ہر صورت میں اپنی جیت یقینی بنانا چاہتے ہیں اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ فتح النساء یا بوا ان کی غلیظ چالوں کو جھیلیں سو ہم نے یہی مناسب سمجھا۔‘‘ انہوں نے مدہم لہجے میں کہا تھا اور حکمت چاچا ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
’’آپ چھوٹے نواب سے ملنا نہیں چاہتیں اتنا بڑا قدم لینے سے قبل آپ ان سے اجازت طلب نہیں کرنا چاہتیں، آپ ان کے نکاح میں ہیں ان سے اجازت لینا ضروری ہے فتح النساء۔‘‘ بوا نے ان کو ارادہ باندھتے دیکھ کر کہا تھا جب وہ خاموشی سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’ہمارا مشورہ ہے آپ کو ان سے ملنا چاہیے اس اقدام سے آگاہ کرنا چاہیے یہ کوئی معمول بات نہیں ہے آپ ان کی زندگی سے خود کو خارج کر رہی ہیں یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔‘‘ بوا نے کہا تھا مگر وہ تبھی گویا ہوئی تھیں۔
’’ہم اتنے مضبوط نہیں ہیں بوا، آپ ہمیں منتشر مت کریں، ہم نے بہت مشکلوں سے خود کو سنبھالا ہے ہم پھر سے بکھرنا نہیں چاہتے ہمارا ان سے نہ ملنا اور دور جانا ہی مناسب ہے جس رشتے میں کچھ باقی نہ رہے اسے بوجھ کی طرح اٹھائے رکھنا مناسب نہیں ہم اپنے آپ کو چھوٹے نواب پر مسلط کرنا نہیں چاہتے اگر ان کو اس رشتے کی کوئی قدر ہوتی تو وہ ہمیں روک سکتے تھے ہماری وقعت ان کی زندگی میں نہیں تھی اگر ان کو ہمارے ساتھ رہنے سے فرق پڑتا تو وہ محل سے ہمیں نکلنے نہ دیتے، وہ رشتہ تبھی ختم ہوگیا تھا جب چھوٹے نواب کے دل میں زہر کا بیج آیا تھا آئینے میں بال آجائے تو اعتبار باقی نہیں رہتا، ہمیں جلال سے گلہ نہیں ان کو اعتبار نہیں اور ہم ان کے اعتبار کو دوبارہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، ہم نے اپنی سی کوشش کی تھی ان کو سمجھایا تھا مگر اس اعتبار کو قائم کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔‘‘ وہ غمگین سی بولی تھیں بوا خاموش ہوگئی تھیں اور وہ فیصلہ کن انداز میں بولی تھیں۔
’’ہم پاکستان کے لیے روانہ ہو رہے ہیں بوا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس سے پلٹنے کی راہ نہیں ہے۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا اور بوا ان کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
ؤ… /…ؤ
مرزا صاحب چلتے ہوئے مقابل آن کھڑے ہوئے تھے جلال ان کو خاموشی سے دیکھنے لگا تھا جانے کیا سوچ کر مرزا مسکرائے تھے۔
’’صاحبزادے دودھ کے دانت ابھی ٹوٹے نہیں اور آپ پھدکتے ہوئے پالنے سے باہر کودنے کو مچلنے لگے ہمارے تجربے اور عمر کا ہی لحاظ کیا ہوتا ہم رتبے میں معتبر ہیں اور آپ کے والد صاحب کے پرانے دوست ہیں اس رفاقت کا لحاظ کرنا بنتا تھا۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے شکوہ کر گئے تھے جلال خاموشی اور انتہائی پر سکون انداز میں ان کو دیکھنے لگے تھے۔
’’چچا جان انسان فقط اپنے رتبے اور عمر سے بڑا نہیں ہوتا انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ انسان بھی رہے ورنہ چچا غالب تو کہہ گئے ہیں کہ۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا
وہ پرسکون انداز میں جوابا بولے تھے اور مرزا صاحب طیش میں آکر ان کو گھورنے لگے تھے۔
’’میاں کل کے لونڈے ہو لحاظ کر رہے ہیں ورنہ جانتے ہو نبٹنا کس قدر آسان ہے ہماری چالوں کو جھیلنے لائق نہیں ہیں آپ۔‘‘ وہ عجیب غرور سے تنی گردن کے ساتھ بولے تھے اور جلال مسکرا دیا تھا۔
’’بھیڑیے کو کھال سے باہر ہی تو لانا ہے یہی ثابت کرنا ہے کہ کتنی اور کس قدر چالوں کے موجب آپ رہے ہیں، یہ سب قصد آپ کو بے نقاب کرنے کے لیے ہی ہے پیارے چچا جان۔‘‘ جلال کا پر سکون لہجہ مرزا کو جیسے سیخ پا کر گیا تھا تبھی گویا ہوئے تھے۔
’’اب بات کھل ہی چکی ہے تو ہم بھی کہے دیتے ہیں نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ہم تو آپ کو ان چالوں سے بچانا چاہتے تھے اور خدا گواہ ہے آپ کو کسی طرح کا کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتے تھے مگر جان لیجیے ہماری عزت سے کھیلنے کا حق ہم کسی کو نہیں دیں گے ہم نے یہ نام برسوں میں بنایا ہے اسے اس طرح ڈوبے تو نہیں دیں گے اس نام اور مرتبے کو بچانے کے لیے ہم سے جو بن پڑا کریں گے اس کا یقین آپ کو دلائے دیتے ہیں، دوسری بات آپ سے کہنے آئے تھے کہ… چلیے جانے دیجیے آپ کو کچھ سننا ہی نہیں تو یہ معنی نہیں رکھتا۔‘‘ وہ عجیب مسرور انداز میں بولے تھے۔
’’مرزا صاحب ہر شر کا انجام ہے برائی جتنی بھی پھیل جائے بلآخر جیت سچ کی ہی ہوئی ہے۔‘‘ جلال نے جتایا تھا مرزا صاحب ہنس دیے تھے اور پھر ہاتھ بڑھا کر ان کے شانے پر رکھ کر پیار سے تھپکی دی تھی۔
’’میاں ثابت ہوجائے گا دیکھ لیتے ہیں کس میں کتنا دم ہے اب مقابلے پر آہی گئے ہو تو پھر وقت کو اس جیت ہار کا فیصلہ خود آپ کرنے دیتے ہیں۔‘‘ وہ مسرور سے مسکرائے تھے جلال لمحہ بھر کو خاموش رہے تھے پھر بولے تھے۔
’’قانون خرید لیجیے چاہے گواہ، مگر فیصلہ پھر بھی آپ کے خلاف رہے گا، اس کا یقین ہم آپ کو دلائے دیتے ہیں اس بار جھوٹ نہیں جیت سکے گا ہمارے ابا جان مرحوم کی دوستی اور مراعات کا بہت فائدہ اٹھایا ہے آپ نے اس دشمنی کے بے نقاب ہونے کا وقت آن پہنچا ہے ہمارے ابا جان کا خون پکار رہا ہے اور حق اور انصاف ہو کر رہے گا آپ کا سامنا ایک دوست سے رہا اور آپ دوستی کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتے رہے اس بار سامنا ہم سے ہے اور ہم آپ کو ثابت کردیں گے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا آپ کو سزا مل کر رہے گی، ہماری زندگی کا مقصد ہی آپ کو ہرانا ہے جیتنے کے جتنے جتن کرسکتے ہیں کر ڈالیے جتنے دائو پیچ یاد میں آزما ڈالیے جتنی چالیں آتی ہیں چل لیجیے مگر اس بار آپ کی شاطر بازی کام نہیں آنے کی اس بار آپ کو منہ کی کھانی پڑے گی۔‘‘ جلال کا لہجہ پر یقین تھا مرزا صاحب ساکت رہ گئے تھے ڈر ان کی آنکھوں میں واضح دکھائی دیا تھا۔
’’ایسا کیا ہے تمہارے پاس؟‘‘ وہ ششدر رہ گئے تھے جلال مسکرا دیا تھا ان کا ہاتھ شانے سے بہت اطمینان سے ہٹایا تھا اور پلٹ کر چلتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا مرزا صاحب سلگ کر رہ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
عین کیمپ میں سو رہی تھیں جب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ وہ آنکھ کھولنے پر مجبور ہو گئی تھیں تاریکی میں دیکھا تھا کچھ فاصلے پر شہاب کھڑا تھا اسے جاگتے دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا عین فورا اٹھ بیٹھی تھیں، شہاب ان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا اس کی نظروں میں چمک تھی۔
’’چلیے ادھورے کاموں کو پورا کیے دیتے ہیں، جو ٹرین میں نہیں ہوسکا وہ یہاں کیے لیتے ہیں نیک کام کرنے میں دیر کیسی تنہائی ہے، موقع ہے سب خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی، سنا ہے کئی فائدہ اٹھا رہے ہیں سوچا ہم بھی اس نئی زمین پر ایک نیک کام کیے دیتے ہیں نیکیاں کمانے میں ہم کیوں پیچھے رہیں۔‘‘ وہ ہوس بھری نظروں سے عین کی طرف دیکھتے ہوئے بولے تھے عین نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے پورے زور سے دھکیل کر شہاب کو کیمپ سے باہر اچھالا تھا اور پھر اٹھ کر بھاگتی ہوئی کیمپ سے نکل تھی۔
ؤ… /…ؤ
بوا بہت خاموش تھیں جب وہ لوگ دلی پہنچے فتح النساء نے ٹرین کی طرف بڑھتے ہوئے رک کر بوا کو دیکھا تھا۔
’’بوا ہم پاکستان روانہ ہو رہے ہیں آپ اس فیصلے سے خوش نہیں یہ بات بھی جانتے ہیں اگر آپ کو واپس پلٹنا ہے تو آپ تشریف لے جا سکتی ہیں ہم تنہا آگے کا سفر طے کرلیں گے ہم زبردستی اس طرح رشتوں کو بوجھ کی طرح ڈھونا نہیں چاہتے نا اس رشتے کا بوجھ کسی اور پر لادناچاہتے ہیں اگر آپ واپس جانا چاہتی ہیں تو ہم آپ کو روکیں گے نہیں۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا بوا نے ان کی طرف خاموشی سے دیکھا تھا اور پھر آہستگی سے سر ہلا دیا تھا۔
’’نہیں فتح النساء ہم آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے آپ کو گود میں لیتے ہوئے جو ذمہ داری ہم نے لی تھی وہ ابھی پوری نہیں ہوئی، ایک ماں اپنے بچے کو کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑتی ہم آپ کو خوش دیکھنے کے خواہاں تھے سو ہم چاہتے تھے کہ آپ جلال کی طرف واپس لوٹیں ہم آپ کے اس رشتے کو بچانا چاہتے تھے ہم آپ کوتنہا نہیں چھوڑ سکتے چاہے آپ درست ہیں یا غلط، ماں کی نظر بچوں کی کوتاہیوں پر نہیں ہوتی، ماں کا دل بچوں کی محبت سے اس قدر بھرا ہوتا ہے کہ ہر غلطی کو نظر انداز کر کے ان کو خوش دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں جب تک زندہ ہیں آپ کس کا ساتھ دیتے رہیں گے، آپ اکیلی پاکستان نہیں جائیں گے، ہم بھی آپ کے ہمراہ پاکستان روانہ ہوں گے۔‘‘ بوا بولی تھیں اور فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’اگر آپ کو جانا ہے تو جلال کے پاس واپس چلی جائیے وہ تنہا ہیں اس وقت ان کو آپ کی ضرورت ہوگی ہم آپ کو محل میں اسی لیے چھوڑ آئے تھے کہ آپ جلال کے ہمراہ رہیں۔‘‘ فتح النساء بولی تھیں۔
’’ہمیں جلال کا خیال ہے مگر جلال مرد ہیں وہ اپنی حفاظت آپ کرسکتے ہیں سو ہم آپ کے ہمراہ چلے آئے اللہ جلال کو اپنی پناہ میں رکھے ہم ان کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔‘‘ بوا نے کہا تھا اور پھر فتح النساء کا ہاتھ تھام کر ٹرین کی طرف بڑھ گئی تھیں فتح النساء بوا کی سمت دیکھتی ہوئی ٹرین کی سمت بڑھنے لگی تھیں اور جانے کیوں آنکھیں بھیگتی چلی گئی تھیں ایک نئے سفر کے لیے وہ متفکر تھیں یا بات کچھ اور تھی ان کی نگاہ میں درج کہانی کو صاف پڑھا جاسکتا تھا۔
ؤ… /…ؤ
تاریکی میں بیٹھے ہوئے جلال جانے کیوں فتح النساء کے متعلق سوچتے گئے تھے فتح النساء کا چہرہ ان کی نظروں کے سامنے آن رکا تھا وہ بھیگتی آنکھیں وہ کپکپاتے ہوئے لب انہوں نے سر جھٹکا تھا اور اٹھ کھڑے ہوئے تھے جب قریب رکھا فون بجا تھا جلال نے چونکتے ہوئے گھڑی دیکھی تھی اور پھر بجتا ہوا فون آگے بڑھ کر اٹھا لیا تھا دوسری طرف چچا حکمت تھے۔
’’خبر اچھی نہیں ہے جلال، سنا ہے مرزا صاحب نے انتہائی قدم لیتے ہوئے اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے قانون اور گواہوں کو خریدنے کی ٹھان لی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ کی بڑی سبکی ہوگی اب آپ صرف نواب زادے نہیں ایک بڑی سیاسی شخصیت بھی ہیں سو اس مقدمے کے نتیجے سے قبل آپ کو اس بات کا تعین کرلینا ضروری ہے کہ آپ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔‘‘ حکمت چاچا ان کے لیے متفکر دکھائی دیے تھے۔
’’فکر کی بات نہیں ہے حکمت چاچا ہم چاہتے ہیں مرزا صاحب ایسی کوئی بوکھلاہٹ کریں تاکہ ہمارے ہاتھ مزید کوئی ثبوت لگ سکیں اس بار مرزا صاحب جیت نہیں سکیں گے قانون اور عدالتوں کو خریدنا اتنا آسان بھی نہیں ابھی فرنگی سرکار کے کئی افسران یہاں ہیں جو قانون کے دائو پیچ سکھانے اور انتظامات کی منتقلی کو یہیں رک گئے تھے نئے نظام میں ابھی ایسے لوگ ہیں جو انصاف کے اس نظام کو کھڑا کرنے میں دن رات محنت کر رہے ہیں مرزا صاحب چالاک ہیں مگر اب وقت گزر چکا ہے، انتظام منصفانہ ہے اور اثر و رسوخ کام آنے والا نہیں کانگریس والے بھی ان سے عاجز آئے بیٹھے ہیں وہ خود جانتے ہیں کہ وہ کس قدر کمزور پڑ رہے ہیں سو اس ضمن میں وہ کوئی حماقت کرنا نہیں چاہیں گے اگر پھر بھی ایسا کوئی اقدام ان سے سر زد ہوتا ہے تو پھر یہ ہمارے حق میں سود مند ہوگا۔‘‘ جلال نے پر سکون انداز میں کہا تھا۔
’’معاملات اس قدر آسان دکھائی نہیں دیتے جلال آپ مثبت سوچ رکھتے ہیں آپ ایک منفی دماغ کی انتہا کو سمجھ نہیں پا رہے ہم چاہتے ہیں آپ تمام معاملات سے با خبر رہیں اور غفلت نہ برتیں، آپ کا قائل ہونا آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا یہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا مقدمہ ہے ہر ایک کی نظر اس مقدمے پر ہے ہر جگہ اسے لے کر بات چیت کی جارہی ہے مرزا اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر حد تک جانے کی کوشش کریں گے، ان کی ہار ان کی بہت بری سبکی کا باعث بنے گی اور اس باعث وہ یقینی جیت جانا چاہیں گے جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘ حکمت چچا نے کہا تھا۔
’’آپ بے فکر رہیے چچا جان ہم غافل نہیں ہیں آپ ہمارے ساتھ ہیں ہماری معاونت کر رہے ہیں آپ کے ہونے سے بہت ڈھارس ہے اس بار ہم مرزا چچا کو جیتنے نہیں دیں گے ہمارے ابا جان اور خاندان کا فون ایسا ارزاں نہیں کہ ہم بھول جائیں اور قدم واپس لے لیں ہمارا پلٹنا اصولوں کی ہار ہوگی، یہ سبکی مرزا صاحب کی اس سبکی سے کہیں زیادہ ہوگی، ہم ابا جان کی روح کو شرمندہ نہیں دیکھ سکتے ہماری زندگی کا مقصد اپنے والدین کی اموات کا بدلہ لینا ہے اور یہ بدلہ قانون کی مدد لے کر ہے ہمارے بزرگوں کے سامنے ہم سر اٹھانے لائق نہیں رہیں گے اگر اس موقع پر ہم نے قدم واپس لیا اب اس مقام پر واپسی کی نہیں سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے آپ ابا جان کے رفیق ہیں اور ہمارے ہمدرد آپ ہمیں کمزور مت کیجیے ہماری ہمت بڑھائیے آپ ہمارے لیے ابا جان کی طرح معتبر ہیں معذرت چاہتے ہیں آپ کے کہنے کے باوجود ہم قدم واپس نہیں لے رہے مگر اس بار ہم وہ کر رہے ہیں جو ہمیں ہمارے والدین کی ارواح کے سانے سرخرو کردے زندگی موت کی خبر نہیں چچا جان ہم نہیں چاہتے کل ہم اس دنیا سے جائیں تو موقع یا مصلحت پرست کہلائیں ہمیں بزدلی کا ٹیکا ماتھے پر نہیں لگانا یہ ہمارے لیے بہت بڑی شرمندگی کا باعث بنے گا سو جو بھی ہو ہمیں یہ مقدمہ جیتنا ہے ہم نے بھی بازی جیتنے کی ٹھان لی ہے، اب واپسی ممکن نہیں۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولے تھے ان کا ارادہ بھانپتے ہوئے حکمت چاچا نے گہری سانس لی تھی۔
’’اللہ تمہیں سلامت رکھے بیٹا، ہم آپ کو کسی خطرے میں پڑتا نہیں دیکھ سکتے ہر گھڑی آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ حکمت چاچا نے کہا تھا۔
ؤ… /…ؤ
عین سرپٹ دوڑتی جا رہی تھی اندھیرے میں اجنبی جگہ اجنبی مقام اور وہ تنہا یکدم وہ کسی سے ٹکرائی تھیں سر اٹھا کر دیکھا تھا اور ششدر رہ گئی تھیں، وہاں کوئی اور نہیں تیمور تھا ان کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں غصے اور اذیت میں انہوں نے تیمور کے سینے پر مکے برسانے شروع کر دیے تھے تیمور نے ان کو روکا نہیں تھا نا ان کے ہاتھوں کو تھاما تھا جب تک چاہا تھا انہوں نے اس سلسلے کو جاری رکھا تھا اور پھر ان کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں، تیمور نے ان کے گرد حصار نہیں باندھا تھا نہ ان کو چپ کرایا تھا مگر وہ خاموشی سے ان کی ڈھال بنے ان کے سامنے کھڑے رہے تھے عین جب تھک کر خاموش ہوئی تھیں تو سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تھا ہوش میں آتے ہی ان کو اس قربت کا اندازہ ہوا تھا سو قدم واپس لے لیے تھے؟
’’کیا ہوا عین آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ تیمور نے دریافت کیا تھا وہ جس قدر ہراساں تھیں اس سے وہ جان تو گئے تھے کہ وہ کسی مشکل سے دوچار تھیں مگر عین نے کچھ نہیں کہا تھا اور پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا تیمور کو اندازہ ہوا تھا کہ وہ کس قسم کی صورت حال سے دوچار تھیں۔
’’کیا وہاں شہاب تھا؟‘‘ تیمور نے اخذ کیا تھا۔
’’وہاں کوئی بھی ہوتا مگر آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ عین نے غصے سے کہا تھا تیمور کو اپنی غلطی کا اندازہ تھا تبھی خاموش ہوگئے تھے۔
’’آپ تو چلے گئے تھے نا، پھر لوٹ کر کیوں آئے؟‘‘
’’ہم آپ کو چھوڑ کر جاسکتے ہیں آپ کو ایسا لگتا ہے آپ سے اگر کوئی مخالفت بھی ہوئی تو ہم اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہیں ہوسکتے اس سب کا جواب ہم آپ کو بعد میں دیں گے آپ یہ بتائیے کیا شہاب وہیں کیمپ میں قیام پذیر ہے۔‘‘ عین نے ان کی طرف دیکھا تھا اور پھر پلٹ کر چلنے لگی تھیں، تیمور تیزی سے چلتے ہوئے ان کے ہمراہ چلنے لگا تھا عین خفگی ظاہر کر رہی تھیں اور انہیں ایسا کرنے کا حق بھی تھا تیمور ان کو چھوڑ کر اکیلا کر گئے تھے چاہے کچھ پہروں یا قلیل مدت کے لیے ہی سہی مگر وہ بے یار مددگار ہو گئی تھیں ایک اجنبی مقام پر جہاں وہ کسی سے واقف نہیں تھیں وہاں تنہا گزارہ کرنا کیسا تجربہ رہا ہوگا اس کا اندازہ تیمور کو تھا تبھی وہ ان کے غصے کے باوجود ان کے ہمراہ چلتا رہا تھا۔
’’آپ اب ہمارے ساتھ کیوں آرہے ہیں جائیے وہیں جہاں گئے تھے۔‘‘ عین نے ان کو خفگی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا تیمور جانتے تھے وہ بہت غصے میں ہیں اس لیے خاموش رہے تھے تب عین غصہ دیکھ کر بولی تھیں۔
’’ہم نے حیدر میاں کو دیکھا وہ ہم سے قدرے تغاوت پر تھے وہ جائیداد کا کلیم کر رہے تھے جانے انہوں نے ہمیں دیکھا کہ نہیں مگر جب ہم نے ان کی طرف بڑھنا چاہا وہ چلتے ہوئے ہجوم میں غائب ہوگئے ہمیں اس وقت پائوں میں چوٹ لگ گئی تھی سو ہم ان کے پیچھے جا کر ان سے بات نہیں کرسکے مگر اگر وہ ہمیں دیکھ چکے تھے تو پھر ہمیں نظر انداز کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ عین نے حیرت میں ڈوبے لہجے میں کہا تھا تیمور نے انہیں چونکتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’آپ کو حیرت ہوگی ہم حیدر میاں کو ڈھونڈنے گئے تھے ہم نے بھی ان کو دیکھا تھا اور وہ ہمیں دیکھ کر غائب ہوگئے تھے ہم نے ان کا پیچھا کیا تھا مگر وہ دوبارہ نہیں ملے پھر ہمیں ان کے متعلق تجسس ہوا ہم نے ان کو کھوجنے کی ٹھانی تب علم ہوا وہ کیمپ میں قیام پذیر نہیں ایک دوست کے ساتھ ایک قریبی مقام پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔‘‘ تیمور نے بتایا تو وہ ششدر سی ہو کر تیمور کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔
’’اس کا مطلب ہے وہ یہاں ہماری موجودگی سے واقف ہیں اور جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں؟‘‘ وہ حیرت سے گویا ہوئی تھیں تیمور نے شانے اچکا دیے تھے۔
’’ہم نہیں جانتے مگر ان کے اطوار باعث حیرت ہیں لگتا ہے وہ محض جائیدادیں کلیم کرنے کی غرض سے آئے ہیں ان کا مقصد یہاں رہنا یا زندگی گزارنا نہیں ہے ان کا مقصد جائیدادیں اپنے نام کرنا اور پھر کہیں اور نکل جانا ہے وہ کاغذی کارروائی کی غرض سے یہاں رکے ہیں کیونکہ جس کے ہمراہ وہ دکھائی دیے ہیں وہ ایک بڑے قانون ساز ہیں کسی ایسے شخص سے واقفیت بتائی ہے کہ وہ پاکستان منصوبہ سازی کر کے آئے ہیں ان کے روابط یہاں تھے اور کوئی ان کو یہاں امداد دینے کے لیے پہلے سے موجود ہے بہرحال یہ ایک الگ معاملہ ہے مگر وہ آپ کے معاملے میں اس درجہ غفلت کیوں برت رہے ہیں، آپ ان کی منگیتر ہیں ان کے لیے آپ نے یہ ہجرت اختیار کی ہے اپنوں کو چھوڑ کر یہاں ایک اجنبی مقام پر فقط ان کے لیے آئی ہیں تو وہ اس طرح آپ کو نظر انداز نہیں کرسکتے، آپ سے ٹرین میں سوار ہونے سے قبل ہاتھ چھڑا لینا ٹرین پر سوار ہو جانا پھر یہاں پہنچ کر آپ سے نہ ملنا آپ کو تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا اور آپ کو دیکھ کر نظر انداز کرنا یہ سب کیا معنی رکھتا ہے کیا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں یا اس رشتے کو لے کر کوئی انسیت رکھتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ آپ کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے دانستہ مقام بدل نہ لیا ہو تو آپ کو کل لے جا کر ان سے ملا سکتے ہیں۔‘‘ تیمور نے کہا تھا عین نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا تھا۔
’’ہم ان سے ملنا چاہیں گے تیمور ہم اسی غرض سے پاکستان آئے ہیں ایک وعدے کو ایفا کرنے ابا جان کے حکم کی تعمیل کرنے ہم یہاں آئے ہیں ہم حیدر میاں سے ملنا چاہتے ہیں ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں یا کیوں کر رہے ہیں وہ جو بھی کر رہے ہیں ان کا ذاتی معاملہ ہے ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم نے ابا جان سے وعدہ کیا ہے ہم اس وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد جو بھی ہو ہم اپنے سامنے سرخرو ہوں گے اور ابا جان کی روح کے سامنے بھی۔‘‘ عین نے کہا تھا۔ تیمور نے سر ہلایا تھا۔
’’اسی غرض سے ہم بھی اس مشن پر نکل کھڑے ہوئے تھے ہمیں شک گزارا تھا سو محترم حیدر میاں کی حقیقت معلوم کرنا ضروری لگا بہرحال ہمیں اندازہ ہے جس مقصد سے ہم یہاں آئے ہیں اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور عین کا ہاتھ تھام کر چلنے لگا تھا۔
’’جانے کیوں ہمیں وسوسے گھیر رہے ہیں تیمور، پتا نہیں، مگر دل جانے کیوں ڈر رہا ہے۔‘‘ وہ چلتے ہوئے بنا تیمور کی طرف دیکھے بولی تھی۔
’’آپ کے دل میں جو بھی ڈر ہیں ان کو نکال کر ایک طرف رکھ دیجیے عین ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم کچھ غلط ہونے نہیں دیں گے اگر آپ کسی وعدے کی قید میں ہجرت کر کے پاکستان آئی ہیں تو ہم بھی ایک وعدہ کر کے آپ کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں ہم نے ہجرت یونہی اختیار نہیں کی آپ کی ذمہ داری لے کر یہ ہجرت اختیار کی ہے سو اس ذمہ داری کو پورا کیے بنا ہم کہیں نہیں جائیں گے یہ تو طے ہے۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں گویا ہوئے تھے عین ان کو دیکھ کر رہ گئی دونوں خاموش ہو کر کیمپ کی سمت قدم بڑھانے لگے تھے تاریکی چپ چاپ ان کو دیکھتے ہوئے ان کے قدموں کی چاپ کو سن رہی تھی۔
ؤ… /…ؤ
ٹرین میں بیٹھے مسافر پر امید تھے کئی چہرے جانے کیا سوچ کر متفکر تھے ہر ایک کی اپنی فکریں تھیں اپنے دکھ تھے کئی آنکھیں بنجر اور ویران تھیں کسی کو خبر نہیں تھی کہ سفر کا آغاز ہونے کے بعد انجام کیا ہوگا یا اس ٹرین کے مسافروں کو کیسی صورت حال سے سابقہ پڑے گا مگر پھر بھی ٹرین مسافروں سے کچھا کھچ بھری تھی ایک ڈبے میں فتح النساء کھوئی کھوئی سی بوا کے ہمراہ بیٹھی تھی۔
چلو بانٹ لیں
ایک سو سولہ چاند کی راتیں
تم لے جائو
پلکوں کی منڈیروں پر سجی
نوخیز محبتوں کی مسکراہٹیں
میرے دامن میں ڈال دو
راتوں کی رگوں میں
گونجتی دوڑتی درد کی سر سراہٹیں تمہارے حصے آئیں
محبت کے چمن کی
ادھ کھلی کلیوں کی چہچہاٹیں
میرے دامن میں ڈال دو
کہرے کی گرفت میں آئی
سورج مکھی کی کڑواہٹیں
تم رکھ لینا
الہڑ محبت کی بانکی
بے تھکان سنسناہٹیں
میرے دامن میں ڈال دو
بٹوارے کے کنگن کی
جدائی کا طواف کرتی گنگناہٹیں
میرے دامن میں ڈال دو
چلو بانٹ لیں
ایک سو سولہ چاند کی راتیں
دھیان بھٹکتا ہوا پرندہ تھا جو بے ارادہ جلال کے خیال کی سمت اڑنے لگا تھا۔
’’جلال کاش آپ کو محبت کا ادراک ہوسکتا آپ اس محبت کو جان سکتے جو محبت ہمارے دل میں اول دن سے آپ کے لیے موجود تھی کاش آپ اس محبت کو قبول کرسکتے اور جان سکتے کہ ہم نے صرف ایک شخص کو چاہا ہے اور وہ کوئی اور نہیں فقط آپ ہیں نواب زادہ جلال سیف الدین پٹوڈی، آپ کے علاوہ ہم کسی کو محبت کے لائق نہیں سمجھتے کاش آپ سمجھ سکتے کہ ہم نے بے وفائی نہیں کی آپ سے بے وفائی کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ کاش آپ ہاتھ نہ تھامتے کچھ کہتے نہ مگر کوئی ادھورا حوالہ دے کر ہمیں روک لیتے راہ میں آکر نہ کھڑے ہوتے راستہ نہ روکتے مگر روکنے کا کوئی بہانہ تو کرتے مگر آپ نے ثابت کردیا کہ محبت کی قدر آپ نہیں کرتے آپ کی خاموشی نہیں کچوکے لگاتی رہی الزام پر الزام اور ہم نے سزائوں کو اپنے نام کرنے کی ٹھان لی۔
چلو بانٹ لیں
ایک سو سولہ چاند کی راتیں
بٹوارے کے کنگن کی
جدائی کا طواف کرتی گنگناہٹیں
ادھ کھلی کلیوں کی چہچہاہٹیں
کہر کی گرفت میں آئی
سورج مکھی کی کڑواہٹیں
الہڑ محبت کی بانکی
بے تھکان سنسناہٹیں
میرے دامن میں ڈال دو
ایک سو سولہ چاند کی راتیں
تم لے جائو
پلکوں کی منڈیروں پر سجی
نو خیز محبتوں کی مسکراہٹیں
تم لے جائو…!
آنکھوں سے کئی آنسو بہے تھے اور رخساروں پر پھیلتے گئے تھے۔
’’آہ محبت، کیا ملا کیا دیا کیا لیا کبھی فرصتوں سے بیٹھیں گے تو سود و زیاں کا حساب کتاب کردیں گے اس افراتفری میں کیا کہیں کیا سنیں کہ محبت سانس لیتی سنائی نہیں دیتی اور خسارے دروازوں میں لگی کائی کی طرح چھپ کر چپ چاپ تکتے جاتے ہیں۔‘‘ وہ دکھ سے نڈھال تھیں۔ بوا نے ان کو دیکھا تھا کلیجہ منہ کو آگیا تھا وہ چہرے کا رخ پھیرے بیٹھی تھیں کہ بوا کو ان کے آنسوئوں کی خبر نہ ہو مگر بوا ایسی بھی بے خبر نہیں تھیں ٹرین اپنی منزل کی سمت رواں دواں تھی فاصلے اجسام کو دور لیتے جا رہے تھے اور دل قریب تھے کہ نہیں فتح النساء بس اتنا جانتی تھیں کہ ان کو اس رشتے کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا کڑا ملال تھا مگر وہ اس کا مداوا نہیں کرسکتی تھیں۔
ؤ… /…ؤ
’’آپ ہائی کمیشن گئی تھیں؟‘‘ حکمت صاحب نے پوچھا تھا بیگم حکمت نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تب وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولے تھے۔
’’بیگم ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے ہم نے بات کی ہے ان شاء اللہ کوئی اچھی خبر ضرور ملے گی والد ہونے کے ناتے ہمارا دل مطمئن ہے ہمیں اپنے بیٹے کی فکر نہیں ہے ایسا نہیں ہے مگر وہ خیریت سے ہے ایسا ہمارا دل کہتا ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا بیگم حکمت ان کو خفگی سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’دل مطمئن ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی اولاد سے غافل ہوجائیں گے وہ ہماری اکلوتی اولاد ہے آپ کو کیا لگتا ہے اپنے لعل کے بنا ہم سکون سے بیٹھ سکتے ہیں کلیجہ منہ کو آتا ہے یہ گھر ویران سا لگتا ہے وہ ہوتا تو ہم ان کے سر پر سہرا سجاتے بہو گھر لاتے کیا کیا ارمان ہیں ہمارے دل میں آپ کو کچھ خبر ہے آپ نے کسی کی خاطر اپنے بچے کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘ اماں حسب عادت شکوہ کر رہی تھیں۔ حکمت صاحب نے گہری سانس خارج کی تھی۔
’’بیگم ہم نے تیمور کو پاکستان روانہ نہیں کیا یہ ذمہ داری نواب صاحب نے تیمور پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے سونپی تھی نواب صاحب جانتے تھے تیمور اس قابل ہے کہ اس پر ذمہ داری ڈالی جاسکتی ہے عین کو پاکستان لے جانا اور حیدر میاں کے سپرد کرنا نواب صاحب کو لگا تھا تیمور سے بہتر اس کام کے لیے کوئی نہیں ہے۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ صاحب نے بیگم کو سمجھانا چاہا تھا۔
’’میں کچھ نہیں جانتی مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے یا پھر مجھے پاکستان بھیجنے کا بندوبست کردیجیے۔‘‘ وہ فیصلہ کن انداز میں بولی تھیں اور پھر اٹھ کر چلتی ہوئیں وہاں سے نکل گئی تھیں، حکمت صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
دل مبتلائے لذت آزار ہی رہا
مرنا فراق یار میں دشوار ہی رہا
احسان عضو جرم سے وہ شرمسار ہوں
بخشا گیا میں تو بھی گناہگار ہی رہا
کہتے ہیں جل کے غیر محبت سے داغ کی
معشوق اس کے پاس وفادار ہی رہا
چھوٹے نواب چپ چاپ بیٹھے تھے انہیں ایک ملازم نے آکر بتا دیا تھا کہ فتح النساء بوا کے ہمراہ پاکستان روانہ ہوگئی ہیں ان کے چہرے پر بہت سکوت دکھائی دیا تھا انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ نہیں یہ کیفیت ان کے چہرے سے عیاں نہیں تھی مگر وہ کسی قدر بے کل سے دکھائی دیے تھے ایک پرانے ملازم ان کے پاس آن رکے تھے۔
’’آپ اجازت دیں تو کھانا لگوا دیں آپ کے لیے۔‘‘ مگر چھوٹے نواب نے سر نفی میں ہلا دیا تھا ملازم عمر میں ان سے بڑے تھے سو فوری طور پر جانے کی بجائے رک کر ان کو دیکھنے لگے۔
’’آپ تشریف لے جائیں ہمیں جب بھوک ہوگی آپ سے کہہ دیں گے۔‘‘ جلال نے کہا تھا ملازم نے سر ہلایا تھا اور نرمی سے بولے تھے۔
’’چھوٹا منہ اور بڑی بات آپ کے معاملات میں مداخلت کرنے کی گستاخی ہم نہیں کرسکتے چھوٹے نواب مگر آپ کو اس طرح ادھورا تنہا دیکھ کر بھی اچھا نہیں لگ رہا آپ کو بیٹی فتح النساء کو جانے نہیں دینا چاہیے تھا ان کے دم سے محل میں زندگی کی لہر دوڑتی دکھائی دی تھی نواب صاحب اور بیگم صاحبہ کے جانے کے بعد گھر میں ایک زندگی کی رمق دکھائی دی تھی آپ کا نمک کھایا ہے نسل در نسل سے آپ کی خدمت گزاری کرتی رہیں ہم آپ کو کمزور دیکھنا نہیں چاہتے ہم سفر کے ہونے سے بڑی ڈھارس ہوتی ہے۔‘‘ ملازم نے آہستگی سے کہا تھا چھوٹے نواب نے ان کی طرف دیکھا تھا اور آہستگی سے بولے تھے۔
’’ہم اکیلے نہیں پڑے ہم دم چاچا تاہم کمزور ہوئے ہیں ہم اسی طور تنے کھڑے ہیں دراصل لڑائی ہماری ہے اور ہم اس لڑائی کے باعث کسی اور کی زندگی کو منتشر کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ جلال آہستگی سے بولے تھے۔
’’مگر ہم اس طرح آپ کو منتشر ہوتا بھی نہیں دیکھ سکتے چھوٹے نواب تنکے کا سہارا بھی بہت معنی رکھتا ہے آپ پڑھے لکھے ہیں رشتوں کی اہمیت سے واقف ہیں کسی کی ہمراہی انسان کو کمزور نہیں کرتی اور مضبوط کردیتی ہے۔‘‘ ملازم نے سمجھایا تھا۔
’’ہمدم چاچا، بات اصولوں کی تھی سو ہم نے اصول نبھائے رشتے نبھانا ضروری ہوتا تو ہم رشتے نبھاتے مگر یہ سب بہر طور ہونا ضروری تھا اگر نہیں ہوتا تو بھی شاید سب کو ہم سے گلہ ہوتا اور کسی سانحے کے ہونے کے باعث ہمیں الزامات کا سامنا ہوتا بہرحال اس وقت میں جو سمجھا لگا ہم نے وہ فعل اختیار کیا اللہ فتح النساء اور بوا کا حامی و ناصر ہو وہ اس جگہ روانہ ہوئی ہیں جہاں انہیں ہونا چاہیے تھا وہ مقام اس وقت محفوظ ترین جگہ ہے اگر ابا جان زندہ ہوتے تو ہم بھی آج اس سر زمین پر ہوتے مگر یہ ممکن نہیں ہوسکا۔‘‘ وہ غمگین لہجے میں بولے تھے ملازم ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے اور خاموشی سے پلٹ گئے تھے چھوٹے نواب صاحب خاموشی سے چھت کو دیکھنے لگے تھے۔
بیان درد فرق کہنا کہ وہاں اپنی یہ حقیقت
جو بات کرنی تو نالہ کرنا نہیں تو وہ بھی کبھی نہ کرنا
بری ہے اے داغ راہ الفت خدا نہ لے جاتے ایسے رستے
جو اپنی تم خیر چاہتے ہو تو بھول کر دل لگی نہ کرنا
ان کی آنکھوں سے آنسو خاموشی سے نکلے تھے اور بالوں میں جذب ہوگئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
مرزا حیدر سراج الدولہ کلیم کے قواعد و ضوابط مکمل کر کے مسرور سے پلٹے تھے جب تیمور ان کے سامنے آن رکے تھے وہ چونکے تھے اگر نگاہ نہ ملتی تو شاید وہ خاموشی سے وہاں سے نکل جاتے مگر اب نگاہ مل چکی تھی سامنا ہوچکا تھا سو کنی کترا کر گزرنا ممکن نہیں تھا اور نظر انداز کیا نہیں جاسکتا تھا تبھی حیدر میاں بولے تھے۔
’’آپ یہاں کیا آپ کے خاندان نے بھی ہجرت اختیار کی تھی اگر ایسا معاملہ تھا تو پہلے آگاہ کرتے ہم ایک وقت میں ہجرت اختیار کرتے۔‘‘ حیدر میاں مسکراتے ہوئے بولے تھے تو تیمور نے ان کو دیکھا تھا اور بولے۔
’’آپ یہاں اہل و عیال کے ہمراہ آئے ہیں کہاں قیام ہے؟‘‘ وہ دانستہ ظاہر نہیں کرنا چاہ رہے تھے کہ وہ ان کی یہاں آمد اور دیگر معاملات سے واقف ہیں۔‘‘ حیدر میاں مسکرا دیے تھے۔
’’بس کیا کہیں ہجرت کرنا ضروری لگا وہاں ہندوئوں کی حکمرانی میں کیا کرتے ابا جان اور ہماری سوچ الگ ہے، حکمرانی کا جو نشہ ہے وہ غلامی میں رہنے والا ہی جان سکتا ہے ہم نے فرنگیوں کی غلامی سہہ لی تھی مگر ہندوئوں کی حکمرانی نہیں برداشت کرسکتے تھے ابا نے منع کیا کہ وہ کانگریس کا اثر و رسوخ رکھتے ہیں مگر ہم نہیں مانے سو پاکستان چلے آئے یہاں وہ اثر و رسوخ چاہے نہ ہو، وہ مراعات چاہے نہ ہوں مگر یہاں حکمرانی ہماری ہے یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور ہم یہاں آزادی سے سانس لے سکتے ہیں ہمارے آبائو اجداد نے برسوں غلامی کو سہا ہے ہم اس غلامی کو مزید جھیلنا نہیں چاہتے تھے سو ابا جان کو بھی خیر باد کہہ کر چلے آئے ہم نے نواب چاچا سے اس متعلق بات کی تھی وہ نواب زادی عین النور کو ہمارے ہمراہ بھیجنے کے لیے تیار تھے سو ہم نے عین النور کے ہمراہ ہجرت اختیار کرنے کی ٹھانی مگر ٹرین میں سوار ہوتے ہوئے ہجوم اس قدر تھا کہ ہمارا ہاتھ عین کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اس کے بعد ہمیں خبر نہیں کہ عین ہندوستان میں ہی رہ گئیں یا پھر ہجرت کر کے یہاں آچکی ہیں۔‘‘ انہوں نے دانستہ جھوٹ کہا تھا تیمور نے افسوس کا اظہار کیا تھا مگر اس موقع پر ان کا سچ سے آگاہ کرنا بھی بہت ضروری تھا سو آہستگی سے بولے تھے۔
’’ہم عین کے ہمراہ یہاں آئے ہیں نواب زادی کو آپ سے ملانے کی ذمہ داری ہمیں نواب چاچا نے سونپی تھی انہوں نے عین کو ہمارے ہمراہ روانہ کرتے ہوئے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ ہم عین کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دینے سے قبل لوٹیں گے نہیں عین کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری انہوں نے ہمارے کاندھوں پر رکھی تھی۔‘‘ حیدر میاں حیران ہو کر ان کو دیکھنے لگے تھے۔
’’کیا نواب زادی عین النور یہاں پاکستان میں ہیں۔‘‘ انہوں نے مصنوعی حیرت سے تیمور کو دیکھا تھا تیمور ان کی کیفیات اور تاثرات پر نگاہ رکھے ہوئے تھا سو انہوں نے سر ہلا دیا تھا۔
’’عین یہاں کیمپ میں ہیں۔‘‘ تیمور نے مطلع کیا تھا۔
’’اوہ، واقعی ہمیں اس کی خبر نہیں تھی۔‘‘ وہ مصنوعی حیرت سے بولے تھے تیمور نے ان کی طرف بغور دیکھتے ہوئے سر ہلایا تبھی وہ اس مصنوعی حیرت کو جاری رکھتے ہوئے گویا ہوئے تھے۔
’’کہاں ہیں عین، بخدا ہم تو حیرت سے پاگل ہو رہے ہیں، عین ہم سے اتنی قریب ہیں اور ہمیں خبر تک نہیں تھی، ہم جان ہی نہیں پائے ہماری منگیتر نے فقط ہمارے لیے ہجرت اختیار کی اور یہاں اتنی دور سب چھوڑ چھاڑ کر سرحد پار چلی آئیں، اس بے پناہ محبت کو دیکھ کر ہم پر تو رقت طاری ہوگئی دیکھیے ہمارا جسم کیسے کانپ رہا ہے یا اللہ ہماری عین ہمارے اتنے قریب ہمیں تو لگا تھا ہم نے ان کو کھو دیا ہمیں لگا تھا ہم نے ان کو دہلی اسٹیشن پر گنوا دیا جہاں بھیڑ کے باعث ان کا ہاتھ ہمارے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔‘‘ وہ کسی نہ کسی طرح آنکھوں میں آنسو لانے کے قابل ہوگئے تھے تیمور نے سر ہلایا تھا اور مدہم لہجے میں انہیں جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’محبت سچی ہو تو رنگ ضرور دکھاتی ہے مرزا حیدر سراج الدولہ، عین پاکستان آچکی ہیں اور خالصتا یہ ہجرت آپ کے لیے کی ہے نواب صاحب کی خواہش تھی پاکستان میں آکر رہنے کی وہ تو ہو نہ سکا مگر عین نے اپنے والد محترم کے کہنے پر یہ ہجرت کی ہے اور وہ اس وقت آپ کے بہت قریب ہیں آپ ان سے مل سکتے ہیں تیمور نے جذبات سے عاری لہجے میں کہا تھا حیدر مسکرائے تھے اور آنکھیں پونچھتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم عین سے ملنے کو بے تاب ہیں وہ ہماری زندگی کا مقصد ہیں ان سے فرصت سے وقت نکال کر ملیں گے۔‘‘ انہوں نے تعرض برتا تھا تیمور نے خاموشی سے انہیں دیکھا تھا۔
’’ہم چلتے ہیں آپ عین کو ہمراہ لے کر یہیں رہیے ہم ملاقات کے لیے آئیں گے۔‘‘ کہنے کے ساتھ ہی وہ پلٹ کر چلتے ہوئے دور نکلے تھے تیمور ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
’’بیگم مہاجروں کے کیمپ بنے ہیں مگر ایسا کوئی انتظام نہیں کہ ان کا اعداد و شمار ممکن ہوسکے یا کسی طرح کی تفصیلات کا اندراج کیا گیا ہو اس باعث ہائی کمیشن بھی کسی طرح کا رابطہ رکھنے میں ناکام ہے ہم نے ہائی کمیشن میں بات کی ہے مگر وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح کا کوئی ریکارڈ نہ ہونے کے باعث وہ مہاجرین کی تفصیلات ورثا کو دینے میںناکام ہیں، جب تک کہ خود کوئی وہاں سے رابطہ نہ کرے ایسا ممکن نہیں ہے عین ممکن ہے کہ تیمور وہاں ہائی کمیشن میں جا کر رابطہ کریں اور پھر وہ تفصیلات یہاں منتقل ہوں وہ پڑھے لکھے اور سمجھدار ہیں ایسا ہونا عین ممکن ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا بیگم نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا حکمت صاحب کو افسوس ہوا تھا۔
’’ہم معافی چاہتے ہیں شاید ہم کسی لحاظ سے آپ کے مجرم ہیں جو ہوا ہمارے باعث ہوا مگر تیمور جتنے عزیز آپ کو ہیں اسی قدر عزیز ہمیں ہیں ہم بھی چاہتے ہیں تیمور ہماری آنکھوں کے پاس رہیں۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا بیگم نے کوئی بات نہیں کی تھی، تب حکمت صاحب نے بھی مزید بات کرنا ضروری خیال نہیں کیا تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’آپ حیدر سے ملے آپ نے ان سے بات کی، ہمیں کیوں نہیں ملوایا ہم زیادہ دور تو نہیں تھے۔‘‘ عین نے حیدر میاں کے بارے میں جان کر کہا تھا تیمور نے سر ہلایا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئے تھے۔
’’وہ آپ سے فرصت میں ملنا چاہتے ہیں غالبا ان کو ضروری کام تھا اور وہ فوری طور پر بات چیت کر کے وہاں سے نکل گئے بہرحال ہم ان کا ٹھکانہ جانتے ہیں اور آپ کی ملاقات ان سے کرا سکتے ہیں اب یہ نا ممکن نہیں رہا۔‘‘ تیمور نے کہا تھا عین نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا پھر نرمی سے سوچتے ہوئے بولی تھیں۔
’’ہمیں کیوں لگ رہا ہے کہ وہ دانستہ گریز کر رہے ہیں اور ہم سے ملنا نہیں چاہیے۔‘‘ عین نے کہا تھا مگر تیمور خاموش رہے تھے عین جیسے خود کلامی کے انداز میں بولی تھیں۔
’’ایسے اتفاقات اس درجہ کثرت سے اور مسلسل واقع نہیں ہوسکتے۔‘‘ وہ جیسے خود کو باور کرا رہی تھیں ان کا لہجہ مدہم تھا۔
’’آپ اپنے دماغ پر زیادہ زور مت دیجیے یہ محض اتفاقات بھی ہوسکتے ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے دلوں کا حال ہم نہیں جان سکتے آپ نے جو کہا وہ عمل ضروری تھا آپ نے اپنے والد محترم کی بات مان کر ہجرت اختیار کی ہے آپ ایک نیک اولاد ہیں جو آپ کے والد محترم چاہتے تھے آپ نے وہ عمل اختیار کیا ہے اس سے بڑھ کر مناسب کوئی عمل نہیں تھا۔‘‘ تیمور نے ان کو تسلی دی تھی۔
’’مگر ہم حیدر میاں کے طرز عمل پر حیران ہیں۔‘‘ عین نے پوچھا تھا تیمور نے ان کی طرف دیکھا۔
’’آپ اس متعلق آج بات کیوں کر رہی عین اس کی اب ضرورت باقی نہیں رہی۔‘‘ تیمور نے تعرض برتا تھا عین نے خاموشی سے دیکھا تھا۔
’’ہم جانتے ہیں ہم نے حقائق کو نظر انداز کیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم کوئی منفی سوچ فکر رکھتے تھے۔‘‘ عین نے کچھ جتانا چاہا تھا تیمور نے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا تھا۔
’’عین ہمارے نظریات اور سوچ و افکار فقط ہمارے لیے نہیں ہوتے کہ ہم انہیں اپنے دفاع یا اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں اگر یہ عمل اس طور پورا ہوتا ہے تو اسے خود غرضی کے زمرے میں رکھتے ہیں۔‘‘ تیمور نے دانستہ باور کرایا تھا عین سرجھکا گئی تھی۔
’’فتح النساء ہماری سہیلی تھیں ہمیں ان کے لیے حق کا ساتھ دینا چاہیے تھا مگر بخدا ہم نہیں جانتے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہم ان لمحوں کے سچ کے متعلق نہیں جانتے سو ہم کسی ایک کے حق میں رائے زنی نہیں کرسکتے۔ اگر چہ ہمیں اس کا پچھتاوا ہے کہ ہم نے فتح النساء کا ساتھ نہیں دیا ایک صنف نازک ہونے کے ناتے ہمیں ان کا ساتھ نہیں دیا ایک صنف نازک ہونے کے ناطے ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے تھا مگر سچ جانیے تو ہم ہمت ہی نہیں کر پائے ایک رشتے کے ہمراہ کھڑا ہونے کا مطلب تھا دوسرے کے مخالف کھڑے ہونا ہم حیدر میاں کی سچائی نہیں جانتے مگر ہم ان کے خلاف بھی نہیں کھڑے ہوسکے۔‘‘ عین نے شرمندگی سے کہا تھا تیمور نے ان کے جھکے سر کو دیکھا تھا۔
’’عین آپ نے ایک رشتے کو بچانے کے لیے اپنے بہت قیمتی رشتے کی قربانی دی ہے آپ فتح النساء کو بچپن سے جانتی تھیں آپ ان کے خلاف اگر چہ کھڑی نہ ہوں مگر آپ نے اپنی اس سہیلی کی طرفداری یا حمایت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا آپ غیر جانبداری کی قائل رہیں مگر یہ عمل مناسب نہیں تھا۔‘‘ تیمور نے اسے الزام دیا تھا عین نے نگاہ اٹھا کر انہیں ملال سے دیکھا تھا۔
’’اگر کوئی ہم سے آپ کے متعلق کچھ کہے تو ہم یقینا اس کا اعتبار نہیں کریں گے کیونکہ ہم آپ کو بہتر انداز میں جانتے اور سمجھتے ہیں دوستی بند آنکھوں سے اعتبار کرلینے کا نام ہے نواب زادی عین النور ہم اس کے لیے آپ کو الزام نہیں دے سکتے۔‘‘ تیمور دانستہ خاموش ہوا تھا عین کو شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔
’’اگر وہ آپ کی طرح نواب زادی ہوتیں تو آپ ان کی حمایت ضرور کرتیں نا، فتح النساء کے مقابلے میں ایک امرا کی بگڑی ہوئی اولاد تھی سو آپ نے اس بگڑے ہوئے انسان کا ساتھ دینا ضروری خیال کیا اور دوستی کو قربان کردیا۔‘‘ تیمور سچ کہنے سے رہ نہیں پایا تھا نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ سخت ہوگیا تھا عین خاموش رہی تھیں، تیمور بھی خاموش ہوگئے تھے تبھی چند لمحوں بعد عین النور گویا ہوئی تھیں۔
’’ایسی بات نہیں تھی تیمور مگر یہ معاملہ ہم سے زیادہ جلال بھائی سے مشروط تھا آپ کی بات جلال بھائی پر بھی لاگو ہوتی تھی مگر انہوں نے فتح النساء کا اعتبار نہیں کیا۔‘‘ عین مدہم لہجے میں گویا تھیں۔
’’جلال نے فتح النساء جیسی لڑکی کو اپنی زندگی سے خارج کر کے اپنی زندگی پر خوشیوں کے دروازوں کو خود آپ بند کیا ہے عین النور، فتح النساء پر کوئی اور اعتبار کرے نہ کرے ہم ان کا یقین کرتے ہیں ہم واحد ان لمحوں کے چشم دید گواہ ہیں اس موقع پر جو بھی ہوا تھا وہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا تھا ہم حق کا ساتھ نہ دیتے تو غلط ہوتا سو ہم نے گواہی دینے میں قباحت نہیں جانی کہ فتح النساء پاک دامن ہیں حیدر میاں کی اہلیت کون نہیں جانتا۔ شہر بھر میں ان کی شہرت سے ہر کوئی واقف ہے غالبا اگر کسی کو علم نہیں تو وہ نواب خاندان ہے؟‘‘ تیمور نے طنز کیا تھا عین تڑپ کر رہ گئی تھیں۔
’’ہم جانتے ہیں غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں مگر ہم وہ ایک تھے جو دانستہ اس معاملے میںکوئی رائے زنی کرنا نہیں چاہتے تھے ہم کون ہوتے ہیں کسی کے کردار پر بات کرنے والے، دانستہ چپ سادھ لینا جرم ہے تو ہم سے یہ جرم بہرحال سر زد ہوا ضرور ہے مگر ہم چاہتے تھے جلال بھائی اس ضمن میں قدم اٹھائیں مگر ابا جان کے مصلحت پسندی کے تحت کیے گئے فیصلوں نے عین کے متعلق ایک عجیب رائے قائم کرنے کی راہ دی بہرحال وہ اس نواب خاندان کی بہو تھیں اور عزت ہر انسان کی ہوتی ہے ہوسکتا ہے کوتاہیاں ہم سب سے ہوئی ہوں مگر ہم نے دانستہ ایسی کوتاہی نہیں برتنا چاہی دوسری بات ابا جان یا ہم ہی چاہتے تھے جو شک کا بیج بھائی کے دل میں اگ آیا ہے وہ خود اس کا ادراک کریں اور اسے تناور درخت بننے سے قبل کاٹ ڈالیں مگر مرد کے اعتبار کا پیمانہ شاید مختلف ہے وہ اپنے سو گناہوں کی معافی طلب کرکے بری الذمہ ہوجانا اپنا فرض سمجھتا ہے مگر خود کسی کی ایک دغا کو بھی در گزر کرنے سے اجتناب برتتا ہے گویا دوسرے معنوں میں مرد اپنی آنکھ کے شہیتر کو بھی دیکھا نہیں چاہتا مگر عورت کی آنکھ کے تنکے پر بھی نگاہ رکھتا ہے اسے وہ ایک تنکا بھی کھٹکھتا ہے یہ معاشرہ مردوں کا ہے تیمور بہادر یار جنگ آپ اس کا انکار نہیں کرسکتے اس کا ادراک ہمیں ہے اور آپ کو بھی ضرور ہوگا۔
بہرحال فتح النساء کے ساتھ جو بھی ہوا غلط ہوا جلال بھائی کو ان پر اعتبار کرنا چاہیے تھا اور رہی بات حیدر میاں کی تو ہم اس متعلق کوئی بات کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ وہ دانستہ بات کرنے سے گریز کرتی ہوئی چپ سادھ گئی تھیں۔
تیمور ان کی سمت بغور دیکھنے لگا تھا۔
’’عین النور، محبت اعتبار کرنا جانتی ہیں اور ہر بات کی امید بھی رکھتی ہے جو اعتبار نہ کرے وہ محبت نہیں ہوسکتی۔‘‘ تیمور نے جانے کیا جتانا چاہا تھا عین نگاہ پھیر کر دوسری سمت دیکھنے لگی تھیں۔
’’ہمارے اعتبار کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں تیمور ہم جو پیمانہ دوسروں کے لیے رکھتے ہیں اس سے اپنے لیے نہیں ناپتے اور جس پیمانہ سے دوسروں کو جانچتے ہیں اس کا اطلاق خود پر لاگو نہیں سمجھتے ہم معاشرتی حیوان ہیں اور حیوانیت کی حدود بندی ہم اپنے مفادات اور اپنے پیمانے کے مطابق کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔‘‘ وہ تلخ لہجے میں گویا ہوئی تھیں تیمور ان کو دیکھ کر رہ گیا تھا، تبھی وہ مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’ہم حیدر میاں کی اصلیت آپ سے جاننا چاہتے ہیں سب باتوں کو ایک طرف رکھ کر آپ اپنی رائے حیدر میاں کے متعلق دیجیے۔‘‘ عین نے کہا تھا تیمور چند لمحوں تک خاموش رہا پھر بولا۔
’’عین آپ کے لیے میری رائے اس مقام پر کیونکر ضروری ہے لوگ فیصلوں سے قبل رائے طلب کرتے ہیں یہاں وقت سرک کر آگے بڑھ چکا ہے ہم ہجرت کر کے ایک نئے مقام پر کیوں ہیں اس کا جواب آپ کو خود سے مانگنا چاہیے نہ کہ ہم سے۔‘‘ تیمور نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا تھا عین تبھی بولی۔
’’ہم جانتے ہیں ہم نے ہجرت کیوں کی اور آپ بھی جانتے ہیں ہم اس ہجرت کے متعلق بات نہیں کر رہے، ہم حیدر میاں کے متعلق بات کر رہے ہیں۔‘‘ عین نے کہا تھا تیمور نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا پھر آہستگی سے بولا تھا۔
’’ہم آپ کو کسی راہ سے ہٹانا نہیں چاہتے عین نا آپ کے فیصلوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں آپ کے فیصلے کسی اور معتبر ہستی کے فیصلوں کے پابند ہیں۔‘‘ وہ بہت الجھے ہوئے لہجے میں بولے تھے عین نے خاموشی سے دیکھا۔
’’اگر آپ کی دوست کسی خطرے میں گرنے جا رہی ہو تو بھی آپ یہ زبان بندی جاری رکھیں گے؟‘‘ عین نے پوچھا تھا تیمور خاموش رہا پھر قدرے توقف سے بولا تھا۔
’’عین آپ خود بہت سمجھدار ہیں ہم جانتے ہیں کہ نواب چاچا کی رائے اور فیصلے آپ کے لیے کس قدر اہم ہے سو ہم ان فیصلوں کو متاثر کیونکر کرسکتے ہیں؟‘‘ تیمور دانستہ کچھ کہنے سے گریز کر رہا تھا تب عین نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’آپ کو لگتا ہے کہ حیدر میاں ہمارے قابل ہیں۔‘‘ عین نے دریافت کیا۔
’’آپ اپنے دل سے پوچھیے آپ کو حیدر میاں سے محبت ہے۔‘‘ تیمور نے کہا عین خاموش ہوگئیں اور نگاہ پھیر لی۔
’’محبت اس طور اندیشے نہیں رکھتی۔‘‘ ان کا جواب مختصر تھا۔
’’ہم محبت کے متعلق کوئی زیادہ گہرا زاویہ نظر نہیں رکھتے۔‘‘ تیمور نے دانستہ جیسے پس و پیش سے کام لیا تھا عین خاموش ہوگئی تھیں، اور تبھی تیمور بولے تھے۔
’’محبتوں کو اعداد و شمار ہماری سمجھ میں نہیں آتا عین لیکن سنا ہے محبت کے فیصلے بھی عقل کے محتاج ہوتے ہیں کیونکہ عقل دل کی پاسبان ہے عقل کا دل کے ہمراہ ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘ تیمور نے دانستہ گڑ بڑ کرتی نگاہ سے دیکھا تھا اور عین مسکرا دی تھیں۔
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
ڈاکٹر اقبال نے بھی عجیب نقشہ کھینچا ہے کہ دل کراہ کر رہ جائے اگر دل کو تنہا ہی فیصلہ کرنا ہے تو پھر عقل کی پاسبانی کی کیا ضرورت؟‘‘ وہ الجھی دکھائی دی تھیں تیمور نے ان کو بغور دیکھا تھا۔
’’شاید دل کی پاسبانی کے لیے عقل کی ضرورت باقی نہیں ہوتی؟‘‘ تیمور نے پوچھا تھا۔
عین خاموش ہوگئی تھیں تیمور نے بھی جیسے دانستہ خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور تبھی عین جانے کیا سوچتے ہوئے دھیان پھیر کر بولی تھیں۔
’’محبت شاید کوئی لازمی جزو نہیں ہے محبت کے ہونے سے جو اضطرابی کیفیت رہتی ہے اس ایک انکار سے وہ اضطراب لمحہ بھر کو ہی سہی مگر ٹھنڈا پڑنے لگتا ہے کبھی کبھی محبت کے وجود کے لیے یہ مسلسل انکار کرنا ضروری ہوجایا کرتا ہے۔‘‘ وہ عجیب سکوت بھرے لہجے میں بولی تھیں تیمور ان کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
دو دن بعد کورٹ کی تاریخ تھی اور مرزا صاحب کی جان پر بنی تھی۔
’’وہ لونڈا بہت اترایا پھرتا ہے اس کے پاس ضرور کوئی ثبوت ہیں۔‘‘ مرزا سراج الدولہ نے کہا تھا وکیل مسکرا دیے تھے۔
’’جانے دیجیے میاں آپ کب سے بچوں سے ڈرنے لگے بڑے اور پرانے کھلاڑی ہیں آپ اور تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ بچے جتنا بھی دماغ رکھتے ہوں وہ بزرگوں کے تجربات کے آگے صفر ہوتے ہیں وہ نوجوان صفر ہے مرزا صاحب ہم نے ان کے وکیل سے ملاقات کی تھی وہ بتا رہے تھے بہت کمزور مقدمہ ہے اور ایک پیشی سے آگے جانے والا نہیں اس وکیل نے یہ مقدمہ محض اس لیے کیا کہ چھوٹے نواب نے ان کو بھاری رقم دی اب آتی لکشمی کیسے بری لگتی ہے؟‘‘ وکیل صاحب مسکرائے تھے انہوں نے مرزا صاحب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور بولے تھے۔
’’مان لیجیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں بلوائیوں کا کیا ثبوت ہوتا ہے کوئی بلوائی آکر گواہی دینے سے تو رہا اور ہمارے پاس ثبوت ہے جب بلوائیوں کا حملہ ہوا تھا اس وقت چھوٹے نواب نشے میں دھت بے ہوش کوٹھے پر پڑے تھے وہ ایک غیر ذمہ دار بیٹے ثابت ہوں گے جس بیٹے کو خود اس لمحے اپنے والدین کی فکر نہیں تھی وہ مقدمہ آگے بڑھانے کو اہل نہیں دیکھیے گا آپ چھوٹے نواب کا مذاق بن کر رہ جائے گا۔‘‘ وکیل صاحب نے یقین دلایا تھا مگر مرزا سراج الدولہ مطمئن نہ ہوئے تھے۔
’’آپ نہیں جانتے اس مقدمہ کے شروع ہونے سے ہماری کتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہے جہاں جاتے ہیں جس سے بھی ملتے ہیں ہر کوئی یہی پوچھتا ہے تھک گئے ہیں ہم اس مقدمے کے بارے میں جواب دے کر بنی بنائی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے اس لونڈے نے، ہر کوئی شک سے ہمیں دیکھتا ہے کئی لوگوں نے تو پوچھ لیا کہ مرزا صاحب آگ ہو تو دھواں اٹھتا ہے تباہی دیجیے معاملہ کیا ہے؟ جی چاہتا ہے اس لونڈے کو توپ سے اڑا دیں۔‘‘ مرزا صاحب انتہائی اکتائے دکھائی دیے تھے۔
’’بہرحال اگر آپ کو ہم پر اعتبار ہے تو آپ سکون سے بیٹھ جائیے ان لونڈے کے ہوش ٹھکانے لگا دیں گے۔‘‘ وکیل صاحب پر جوش دکھائی دیے تھے مرزا صاحب خاموش ہوگئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
’’وکیل صاحب ہمیں آپ پر یقین ہے ہم پریشان نہیں آپ والد محترم کے پرانے رفقا میں سے ہیں ایسا نہیں کہ ہم آپ پر اعتبار نہیں کرتے یا آپ کو اچھا وکیل نہیں سمجھتے ہم اس مقدمے کو جیتنے کے لیے پر امید ہیں۔‘‘ جلال نے کہا تھا وکیل صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’چھوٹے نواب پر امید رہنا اچھی بات ہے یہی امید یقین کی سمت چلتی ہے۔ ہم نے لمبے عرصے تک نواب صاحب کا ساتھ دیا ہے آپ کے اس مقدمے کو لے کر کام کرنا ہمارے ایک لیے اعزاز ہے خوشی ہے کہ نواب سیف الدین پٹوڈی کے بعد ان کی اولاد بھی ہم پھر اس طور بھروسہ کرتی ہے جس طرح پہلے آپ کا ساتھ دیا ہے اسی طور آگے بھی دیں گے۔‘‘ وکیل صاحب نے نرمی سے کہا تھا جلال نے ان کو دیکھ کر سر ہلایا تھا۔
’’یہ خبر درست ہے کہ مرزا کے وکیل نے ہم سے بات چیت کی تھی مگر ہم نے زیادہ تفصیل فراہم نہیں کی، مرزا صاحب کافی خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں شاید ان کو ڈر ہے کہ وہ بے نقاب ہوجائیں گے مگر سچ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا۔‘‘ وکیل صاحب نے کہا تھا اور جلال متفق ہوتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم اس مقدمے کے کامیابی سے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم پاکستان روانہ ہوں گے۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولے تھے وکیل صاحب چونکے تھے۔
’’آپ پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں؟‘‘
’’ابھی اس متعلق طے نہیں ہوا مگر ابا جان کا خواب تھا کہ وہ پاکستان میں مستقل ہوں ہم نہیںجانتے ہم ایسی سعادت مند اولاد بن پائیں گے یا نہیں مگر ہمارے لیے ترجیحات جو ہیں وہ آپ بھی جانتے ہیں ہم مرحوم ابا جان کی روح کو سرخرو کرنا چاہتے ہیں تاکہ کل ہم ان سے ملیں تو ہماری نگاہ شرم سے جھکی ہوئی نہ ہو۔‘‘ جلال کے کہنے پر وکیل صاحب بولے۔
’’اللہ آپ کو طویل عمر عطا فرمائے چھوٹے نواب اس متعلق آپ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرسکتے ہیں بہرحال پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے جو بھی طے کرنا ہے آپ طے کرسکتے ہیں اس مقدمے کی فکر مت کیجیے زیادہ لمبا نہیں چلے گا اس پیشی پر نتائج سامنے آجائیں گے۔‘‘ وکیل صاحب نے کہا تو جلال نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلا دیا تھا۔
ؤ… /…ؤ
شہاب اس سمت آیا تھا مگر اسے تیمور کے ساتھ کھڑا دیکھ کر الٹے قدموں واپس پلٹ گیا تھا عین نے اطمینان سے گہری سانس خارج کی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ تیمور نے ان کی نظروں کے تعاقب میں پلٹ کر دیکھا تھا۔
شہاب کو پلٹتے دیکھ کر انہوں نے عین کی طرف دیکھا تھا مگر ان کی نظروں میں کوئی خوف دکھائی نہیں دیا تھا۔
’’آپ ٹھیک ہیں نا؟‘‘ تیمور نے دریافت کیا تھا مگر عین نے کوئی جواب دیے بنا پوچھا تھا۔
’’کیا ہم آج حیدر میاں سے مل سکتے ہیں؟‘‘ تیمور ان کے سوال پر چونکا تھا۔ ’’آپ جانتے ہیں نا وہ کہاں قیام پذیر ہیں؟‘‘ عین نے پوچھا تھا۔ تیمور نے سر ہلا دیا تھا۔
’’کیا آپ جائیداد کلیم کرنا نہیں چاہیں گی۔‘‘ تیمور کے سوال پر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی تھیں پھر مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’تب تک نہیں جب تک ہم حیدر میاں سے ملاقات نہیں کرلیتے۔‘‘ وہ جانے کیوں کسی گہری سوچ میں ڈوبی دکھائی دی تھیں، تیمور نے ان کو بغور دیکھا تھا شاید وہ کسی قدر متفکر تھیں اور تیمور ان کو مزید الجھانا نہیں چاہتا تھا تبھی مزید کچھ نہیں کہا تھا۔
’’آپ جائیدادیں کلیم نہیں کریں گے۔‘‘ عین نے تیمور سے دریافت کیا تھا تیمور آہستگی سے مسکرا دیے تھے۔
’’ہم آپ کے محافظ بن کر آگئے ہیں عین۔ یہاں مستقل قیا م کی غرض سے نہیں آئے آپ کا نکاح حیدر میاں سے کرا کر ہم واپس لوٹ جائیںگے ہمارا وجود ایک پرندے جیسا ہے جو طویل مسافتوں کی ہجرت بنا کوئی منصوبہ سازی اختیار کرتا ہے اس ہجرت کا کوئی مصرف نہیں ہوتا نہ کوئی منصوبہ سازی۔‘‘ تیمور بہت تاسف سے بولے تھے عین نے ان کی طرف بغور دیکھا تھا مگر دانستہ کچھ کہا نہیں تھا۔
ؤ… /…ؤ
مقدمے کی پیشی پر مرزا صاحب کے ہوش اڑ گئے تھے کیونکہ ان کے وکیل نہ تو قانون کو خرید سکے تھے یا کوئی تیر مار سکے تھے جلال کے وکیل نے نا صرف ثبوت پیش کر دیے تھے بلکہ دو گواہ بھی موجود تھے یہ نوجوان انہی بلوائیوں میں سے تھے جن کو مرزا صاحب نے نواب صاحب کا قتل کا مقدمہ بنا کر استعمال کیا تھا انہوں نے اپنے جرم کا اقرار اس صورت میں کیا تھا کہ ان کو عام معافی مل جائے گی مقدمے کا فیصلہ اگلی سماعت پر ملتوی کردیا گیا تھا مگر یہ سماعت کوئی معمولی نہیں تھی سو اخباروں نے اسے خوب اچھا لا تھا اور اگلے دن کی شہ سرخیوں کو دیکھ کر مرزا صاحب آگ بگولہ ہوگئے تھے۔
’’ہم اپنی جیت یقینی چاہتے ہیں جو بھی ہو جیسے بھی ہو چاہے پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑے ہمیں اس مقدمے کو اختتام پذیر کرنا ہے اس مقدمے کا رخ ہر صورت میں بدلنا ہے جائز و ناجائز کسی بھی طریقے سے۔‘‘ انہوں نے اخبار کو مسل کر ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’لیجیے اڑ گئے مرزا صاحب کے ہاتھوں کے طوطے کہا تھا نا آپ سے کہ یہ مقدمہ ایک نئی کروٹ لے گا مرزا صاحب کے چہرے کی رنگت دیکھنے لائق تھی گواہوں اور ثبوتوں کو دیکھ کر وہ تو ششدر ہی رہ گئے تھے اس سماعت کا لطف رہا۔‘‘ وکیل صاحب مسکرائے تھے۔
’’وہ تو ٹھیک ہے وکیل صاحب مگر آپ ان گواہوں کو ڈھونڈنے میں کامیاب کیسے ہوئے دوسری بات ثبوتوں سے متعلق ہے ہم بہت حیران ہوئے تھے آپ واقعی ایک قابل وکیل ہیں۔ آپ کی قابلیت میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘ حکمت صاحب مسکرائے تھے جلال نے سر ہلایا تھا۔
’’وکیل صاحب کی قابلیت پر ہمیں یقین تھا ہم بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھے سو ہم بس منتظر تھے مرزا صاحب کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کے۔‘‘ جلال بہت مطمئن دکھائی دیے تھے۔
’’بہرحال یہ بڑی جیت ہے جلال صاحب مبارک ہو اگلی سماعت میں مرزا صاحب سلاخوں کے پیچھے دکھائی دیں گے۔‘‘ وکیل صاحب نے کہا تھا اور حکمت صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’بے چارے مرزا صاحب انہوں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا نواب صاحب نہیں مگر ان کی اولاد ان کو بے نقاب کردے گی انہوں نے نواب صاحب کی نرمی دیکھی تھی وہ ان کو باتوں میں قتل کرنا جانتے تھے اور نواب صاحب مرحوم اتنے اچھے دل کے تھے کہ ہر بار مرزا کو معاف کردیتے تھے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا وکیل صاحب مسکرائے تھے۔
’’بہرحال اب مرزا صاحب کو سزا مل کر رہے گی۔‘‘ وہ یقین سے مسکرائے تھے۔
’’ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔‘‘ حکمت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جلال گہری سوچ میں ڈوبے دکھائی دیے تھے۔
ؤ… /…ؤ
تیمور عین کو ہمراہ لیے حیدر میاں کی عارضی قیام گاہ کی طرف آئے تھے مگر دروازے پر تالہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے تھے۔
’’یہ کیا، یہ گھر تو بند ہے۔‘‘ عین حیرت سے بولی تھیں۔
’’ہم کسی سے پوچھتے ہیں۔‘‘ کہہ کر وہ پلٹے تھے اور ساتھ والی چھوٹی سی دکان پر رک کر اس مکان میں رہنے والے لوگوں کے متعلق پوچھا تھا مگر کوئی خاص جواب نہیں ملا تھا دکاندار نے لا علمی کا اظہار کیا تھا ایک تو برابر میں رہنے والوں سے اس بابت پوچھا تھا تو انہوں نے بھی اسی طور لا علمی کا اظہار کیا تھا۔
’’مرزا حیدر سراج الدولہ اب یہاں قیام پذیر نہیں سو انہوں نے ٹھکانہ بدل لیا ہے۔‘‘ تیمور نے اخذ کرتے ہوئے کہا تھا عین نے پریشانی سے انہیں دیکھا تھا۔
’’کیا یہ محض اتفاق ہے؟‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی تھیں، تیمور خاموش رہے تھے عین لب بھینچ کر تیمور کی طرف سے نگاہ بدل گئی تھیں دونوں واپسی کے رستے پر قدم ڈال چکے تھے دونوں گہری خاموشی میں ڈوبے تھے تیمور نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’کیا آپ پریشان ہیں۔‘‘ اس نے پوچھنا ضروری خیال کیا تھا عین نے سر نفی میں ہلا دیا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’یہ سب کچھ اتفاقا نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولی تھیں تیمور نے ارادتاً لا علمی کا اظہار کیا تھا۔
’’شاید مگر ہم کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔‘‘ تیمور جیسے اس کی ہمت توڑنا نہیں چاہتے تھے اور عین کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ اتر آئی تھی۔
’’یہ محض اتفاق نہیں ہے تیمور ہم اس سے نتیجہ اخذ نہ بھی کریں تو بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ حیدر میاں جان بوجھ کر اس ملاقات کو ٹال رہے ہیں بھیڑ میں ہاتھ چھڑا لینا پھر دیکھ کر نظر انداز کردینا اور پھر آپ کے پوچھنے پر ٹال دینا اور آج اس عارضی قیام گاہ کو چپ چاپ چھوڑ جانا ان سب واقعات کا ہونا تسلسل رکھتا ہے اور واقعات نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہیں۔‘‘ عین دکھ کی کیفیت میں گھری تھیں۔
’’جب حیدر میاں کو خبر ہوگئی تھیں کہ ہم یہاں کیمپ میں ہیں تو وہ آکر مل سکتے تھے مگر وہ کنی کترا کر نکل گئے کیوں، کیونکہ وہ ملاقات نہیں چاہتے تھے اسٹیشن پر ہاتھ چھڑانے کا بھی یہی مطلب تھا اور اس کے بعد اب ٹھکانہ بدل لینا حیدر میاں کے دل میں کیا ہے؟‘‘ وہ الجھنوں میں گھری دکھائی دی تھیں جو بھی تھا انہوں نے یہاں تک آنے کا قصد حیدر میاں کے لیے ہی کیا تھا وہ حیدر میاں پر یقین کرتی تھیں کہ نہیں یا وہ اعتبار کے قابل بھی تھے کہ نہیں یہ سراسر دوسرا معاملہ تھا سچ یہ تھا کہ وہ یہاں کھلے آسمان تلے بے سرو سامان خالی ہاتھ کھڑی تھیں تو اس کا سبب فقط ایک شخص تھا جانے کیا سوچ کر عین النور کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں تیمور ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے وہ ایک لمحہ ہمیں بہت کم ہمت اور شکستہ دکھائی دیا تھا جیسے ان کی امید ایک لمحہ میں ٹوٹی تھی، وہ لڑکھڑائی تھیں تیمور نے آگے بڑھ کر ان کو سنبھالا تھا۔
’’عین آپ ٹھیک ہیں۔‘‘ تیمور نے ان کو دیکھ کر تڑپ کر ان کو پکارا تھا عین نے سر ہلا دیا تھا تیمور ان کو بغور دیکھنے لگے تھے۔
’’آپ اس قدر شکستہ کیوں ہیں عین، ہوسکتا ہے وہ یہیں کہیں قریبی مقام پر منتقل ہوگئے ہوں اور وہ تو جانتے ہیں کہ آپ یہاں کیمپ میں رہ رہی ہیں وہ آکر آپ سے ضرور ملنا چاہیں گے۔ آپ ایک مثبت سوچ کے ہمراہ اس زمین کی طرف آئی ہیں اب اس طرح حوصلہ مت ہاریے آپ کے اس سفر کا مقصد حیدر میاں سے ملنا ہے اور یہ بہت سی نا ممکنات کو بھی ممکنات میں بدل دیتی ہے اللہ کی ذات پر یقین رکھیے آپ نے پوری ایمانداری سے ایک مقصد کے لیے ہجرت کی ہے تو اللہ آپ کا یہ سفر رائیگاں نہیں کریں گے۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا۔
’’بات اس ہجرت یا اس سفر کی نہیں ہم ان کے لیے یہاں آئے سوال یہ بھی ہے کہ وہ اس قابل ہیں بھی کہ نہیں کہ ہم ان کی خاطر یہ سب کرتے۔‘‘ جانے کیا سوچ کر عین نے کہا تھا اور تیمور خاموش ہوگئے تھے عین سر جھکا کر بولی تھیں۔
’’ہم نہیں جانتے حیدر میاں کے دل میں کیا ہے مگر ہم ان کے ہمراہ زندگی گزارنے کے لیے یہاں تک آئے ہیں ہم نے ایک وعدے کو ایفا کیا ہے ابا جان سے کیے وعدے کو نبھایا ہے ان کے حکم کو مانا ہے حیدر میاں کا یہ طور طریقہ ہماری سمجھ سے باہر ہے زمانہ ان کے متعلق کیا سوچتا رہا یا وہ کسی اطوار کے انسان ہیں ہم نے اس متعلق سوچنا بھی ضروری خیال نہیں کیا، ہم نے دنیا کی باتوں کی پروا کبھی نہیں کی، زمانے کے کانوں سے کبھی نہیں سنا، کبھی جانچا نہیں کبھی انہیں کسی پیمانے پر رکھ کر پرکھا نہیں ناپا تولا نہیں ہم نے محض اس رشتے کی عزت کی ہے جو ان کا ہم سے رہا ہے ہم نے ہوش سنبھالتے ہی ان کو چاہا ان سے محبت کی ہم نہیں جانتے ان کے دل میں کون ہے یا کیا ہے مگر ہمارے دل میں ان کے لیے ایک خاص گوشہ رہا اور اس خاص گوشے کے باعث ہم آنکھیں بند کر کے ان پر اعتبار کرتے رہے ان کا یقین کرتے گئے زمانے کو رد کیا فقط ایک فرد کے لیے مگر اب سوچتے ہیں ہم ایسا کرنے میں حق بجانب بھی تھے کہ نہیں؟ وہ اس سب کے لائق بھی تھے کہ نہیں کیا وہ ہم سے منہ پھیر رہے ہیں دانستہ ہم سے بھاگ رہے ہیں یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔‘‘ وہ آنسوئوں کے درمیان بولی تھیں۔
’’نواب زادی عین النور آپ زیادہ سوچ رہی ہیں ایسے کم ہمت ہونا اور وہ بھی اس مقام پر جب آپ منزل کے قریب ہیں۔‘‘ تیمور نے انہیں کم ہمت دیکھ کر سمجھانا چاہا تھا مگر عین نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے ان کی بات کاٹ دی تھی۔
’’کون سی منزل، کس منزل کی بات کرتے ہیں آپ تیمور وہ منزل جو منہ چھپا کر بھاگ رہی ہے ہم سے کئی کترا رہی ہے۔‘‘ عین غمگین دکھائی دی تھیں۔‘‘ تیمور نے ان کی طرف بغور دیکھا تھا۔
’’یہ محض اتفاق ہے عین، اس کے سوال کچھ نہیں یقینا حیدر میاں اس بات سے واقف نہیں تھے کہ ہم ان سے ملنے جائیں گے وہ تو اس بات سے بھی واقف نہیں تھے کہ ہم ان کی اس عارضی رہائش گاہ کے متعلق جانتے ہیں۔‘‘ تیمور نے ان کو مطمئن کرنے کی حتی المکان کوشش کی تھی عین خاموشی سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’ہمیں لگتا ہے وہ واقف تھے اور وہ جانتے تھے کہ آپ ان کی اس قیام گاہ کے متعلق معلومات رکھتے ہیں ایسا انہوں نے دانستہ کیا بہرحال ہم ان سے ضرور ملیں گے اور ان کو ہم سے ملنا ہوگا اس ملاقات پر ہماری زندگی کا دار و مدار ہے ان کی اس ملاقات پر ہماری زندگی کا اہم موڑ رکا ہوا ہے اس ملاقات کے بعد ہم طے کریں گے کہ یہیں رہنا ہے یا اس سے آگے کی راہ کیا ہے۔‘‘ وہ آنکھیں رگڑتے ہوئے بولی تھیں تیمور خاموش کھڑے تھے۔
ؤ… /…ؤ
ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے جانے کیوں جلال کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں کئی البم ان کے سامنے کھلے پڑے تھے کتنی یادیں تھیں تصویروں میں مقید مسکراتے چہرے، مسکراتے لمحے زندگی ایک جیسی کیوں نہیں رہتی، ایک ڈگر پر کیوں نہیں چلتی، زندگی میں خوشگوار لمحے ہمیشہ قیام کیوں نہیں کرتے، ماضی کی تصویریں دیکھتے ہوئے وہ سوچے جا رہے تھے۔
’’اماں جان… ابا جان…دادا جان… عین… اور وہ خود… کتنی یادگاریں تھیں کتنی مسکراتی تصویریں تھیں زندگی کسی درجہ خوب صورت تھی۔
کیسی مکمل تھی کاش زندگی اسی طور مکمل رہتی مگر ایسا ہو نہیں سکا تھا، زمانے نے کروٹ بدلی تھی اور اس ایک کروٹ سے سب پلٹ گیا تھا انہوں نے ایک صفحہ پلٹتے ہوئے ماضی کے رنگوں کو ٹھہر کر دیکھا تھا بچپن کی ان تصویروں میں فتح النساء کسی شرارت کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہی تھیں کیا مسکراتا چہرہ تھا کیا زندگی تھی کیسی دلکشی تھی لڑکپن کی ان تصویروں میں جیسے زندگی کے سبھی رنگ تھے ان کو وہ واقعہ تو یاد نہیں تھا مگر بے اختیار وہ اس تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ماضی کے اس رنگ کو جیسے چھو کر محسوس کرنے لگے تھے۔
’’زندگی اس سے بھی دلکش ہوسکتی تھی مگر ہم نے رنگوں سے ناتہ توڑ لیا، اس سے قبل کہ زندگی اپنے رنگوں کے ہمراہ ہماری طرف رخ کرتی ہم نے رخ پھیر لیا اور زندگی جیسے تھک کر قدم واپس لینے لگی۔‘‘ ان کے لب بڑبڑائے تھے۔
’’فتح النساء ہم نے غلط کیا آپ کو نظر انداز کیا آپ سے سختی برتی ناروا سلوک روا رکھا جس کی حقدار آپ یقینا نہیں تھیں آپ اپنے دل میں جو محبت رکھتیں اس کا جواب ایسا کٹھور پن ہونا جائز نہیں تھا مگر ہم نے دانستہ یہ سختی برتی آپ سے فاصلہ رکھا ایسا اس باعث نہیں تھا کہ ہم آپ سے نفرت کرتے تھے جتنی محبت آپ کے دل میں ہمارے لیے تھی ہم اس کی عزت کرتے ہیں ہم نے آپ پر شک کیا آپ کا یقین نہیں کیا یہ ہماری خطا ضرور ہے مگر جب سے آپ اس محل میں ہمارے لیے واپس آئیں اور ہماری خطائوں اور کوتاہیوں کے باوجود ہم کو معاف کیا۔ ہمارا ساتھ دینے کو ہمارے قریب رہیں آپ کی جگہ ہمارے دل میں بنتی گئی ہم آپ سے محبت کرتے تھے فتح النساء بے پناہ محبت ایسی محبت کے جس کے متعلق آپ سوچ بھی نہیں سکتی، ہمیں آپ سے شکوے تھے… نفرت تھی… غصہ تھا… شک کرتے تھے… مگر وہ کل کی بات تھی، آپ نے اس نفرت کا گلہ گھونٹا اور سوئی ہوئی محبت کو واپس بیدار کیا مگر وہ لمحے ہمارے اپنے نہیں تھے ابا جان اور اہل خانہ کی وفات کے بعد ہماری زندگی پر جیسے ہمارا حق ختم ہوگیا ہے ہماری زندگی کا مقصد فقط سراج الدولہ کو ان کے انجام تک پہنچانا ہے ہم ان کو سزا دلوانا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لیے ہم نے ہر شے کو پس پشت ڈال دیا۔
محبت
زندگی
ہر خوشی
آپ ہماری اولین خوشی تھیں فتح النساء ہم جو سمجھتے تھے کہ ہمیں خوشنما سے محبت ہے تو آپ نے اس محبت کے معنی بدل کر اپنے حق میں کر لیے آپ نے اس محبت کا رخ بدل کر اپنی طرف موڑ لیا اور ہم آپ کے عشق میں مبتلا ہوتے گئے تبھی جب حیدر میاں کا قصہ اٹھا ہم نے آپ پر شک کیا ہم مرد ہیں ہم نے اس محبت کو شک کے دائرے میں رکھا مگر یہ فطری احساس تھا ایسا نہیں تھا کہ ہمیں آپ کا یقین نہ تھا مگر اس ایک احساس کے آگے ہر احساس ماند پڑ گیا بہرحال آپ سے عشق تھا سو اب بھی قائم ہے آپ کا ہاتھ تھام کر روک نہیں سکے کیونکہ ہم دانستہ آپ کو جانے دینا چاہتے تھے ہم ان لمحات میں کمزور پڑنا نہیں چاہتے تھے آپ کی محبت ہمیں قریب رہ کر کمزور کردیتی ہم نے جو راہ چنی تھی وہ مشکل تھی جس دن ہم پر جان لیوا حملہ ہوا اس دن کے بعد نے سوچا تھا کہ آپ اگر جانا چاہیں گی تو ہم آپ کو روکیں گے نہیں ایسا سمجھیے کہ ہم نے دانستہ نہیں روکا اور جانے دیا محبت کو جانے دینا کیا جان لیوا عمل ہے یہ ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے ہم نے اپنا نشیمن خود آتش کے حوالے کیا ہے زندگی رہی تو ہم کبھی آپ سے ملنا چاہیں گے فتح النساء آپ کے روبرو کھڑے ہو کر آپ سے دو لفظ کہنا چاہیں گے ایک معافی اور دوسرا حرف محبت ہمارے پاس بس یہ دو لفظ ہیں فتح النساء آپ سے بہت محبت ہے مگر ہم بہت شرمندہ بھی ہیں معافی مانگنا چاہتے ہیں کہ آپ پر شک کیا ہم مرد ہونے کے ناتے سب روا کرنے میں حق بجانب نہیں ایسا ہم جانتے ہیں مگر بندہ بشر ہیں خطائیںہم سے بھی ہوتی ہیں اور ہوئی ہیں کیا کریں۔‘‘ فقط معافی ہی طلب کرسکتے ہیں مگر معافی مانگنے کی گھڑی بھی آئے گی کہ نہیں اور محبت ہے یہ جتانے کا لمحہ بھی نصیب ہوگا کہ نہیں ہم نہیں جانتے کیا کریں آپ سے دوری پر بیٹھے آپ کو کس درجہ یاد کرتے ہیں آپ کے بنا زندگی کے کوئی معنی نہیں بے پناہ عشق رکھ کر ادھوارا رہنا کیا المیہ ہے یہ ہمارے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا، دانستہ ہجر مول لینا کیسی حماقت ہے مگر ہم سے سرزد ہوئی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے ہمارے گرد منڈلانے والے خطرات آپ کی سمت رخ کریں یا آپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیں سو ہم نے محبت کو خیر باد کہا اور وقت کو اس کی مخصوص چال چلنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا اب وقت ہے اور ہم ہیں وقت بھاری ہے دل پر پتھر کی سمت پڑا ہے اور سانس لینا دوبھر ہے مگر ہم وقت کے ہمراہ کھڑے رہ کر دل کو تسلی دینے کہ ہم نے جو فیصلہ لیا وہ آپ کی خیریت کے لیے ضروری تھا۔جن خطرات سے ہم گزر رہے تھے ان کے حوالے آپ کو کردینا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا آپ سمجھتی رہیں ہم آپ سے خفا ہیں متنفر ہیں یا آپ کو زندگی میں نہیں چاہتے اور ہم نے آپ کو ایسا سوچنے کے لیے جانے دیا آپ جہاں بھی رہیں گی آپ کی یاد ہمارے دل میں باقی رہے گی اور یہ محبت بھی بڑھتی جائے گی۔‘‘ جلال کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا کھٹکا ہوا تھا جلال نے پلٹ کر دیکھا تھا تاریکی میں کوئی کھڑا دکھائی دیا تھا۔
انہوں نے اٹھ کر دیکھنا چاہا تھا مگر اس سمت سے کسی نے پستول تان کر فائر کیا تھا جلال بے یقینی سے تاریکی میں کھڑے وجود کو دیکھ رہے تھے مگر اس شخص نے دوسرا وار کیا تھا دوسری گولی جلال کے وجود میںپیوست ہوئی تھی جلال آگے بڑھے تھے ان کے جسم سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے تھے مگر ان کا مضبوط وجود قدم قدم چلتا آگے بڑھ رہا تھا اور اس وجود کو جا لیا تھا سامنے پستول تھامے کوئی اور نہیں مرزا سراج الدولہ کھڑے تھے تیمور نے ان کو حیرت سے دیکھا تھا سراج الدولہ مسکرائے تھے۔
’’الوداع چھوٹے نواب جلال سیف الدین پٹوڈی آپ کا جانا بھی ضروری تھا آپ نہ جاتے تو ہماری عزت نیلام ہوجاتی الوداع۔‘‘ انہوں نے کہا تھا اور ایک فائر مزید جلال کے وجود پر کیا تھا گولی جلال کے وجود میں پیوست ہوگئی تھی وہ بے یقینی سے مرزا سراج الدولہ کو دیکھتے ہوئے زمین بوس ہوگئے تھے سراج الدولہ مسکرائے تھے۔
’’الوداع چھوٹے نواب آپ کا اپنے پیاروں کے پاس جانا ضروری تھا سو یہ مقدمہ بند ہوسکے اب دنیا کی نظر اس خبر سے ہٹا کر ایک بڑی خبر پر ہوگی اخبار میں شہ سرخی ہوگی کہ نواب زادہ نے تنہائی اور حالات سے گھبرا کر خود کشی کرلی مرحوم بہت قابل نوجوان تھے ان کی موت سیاست کی دنیا کا بڑا نقصان ہے۔‘‘ سراج الدولہ ہنسے تھے اور جھک کر پستول جلال کے ہاتھ میں تھما کر سیدھے کھڑے ہو کر دستانے اتارے تھے اور مسکراتے ہوئے جلال کے بے جان وجود کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے پلٹ کر وہاں سے نکل گئے تھے جلال کا بے سدھ وجود زمین پر پڑا رہا تھازمین ان کے خون سے تر ہوتی جا رہی تھی۔
گرم گرم سرخ رنگ خون، جلال بے سدھ پڑے تھے جیسے گہری نیند میں تھے جیسے ان کو کسی درد کا کوئی احساس نہیں تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’یا اللہ۔‘‘ فتح انساء چیخ کر گہری نیند سے جاگی تھیں کسی نے جیسے ان کا دل مٹھی میں لے کر دبوچا تھا اور مسل ڈالا تھا بوا نے ان کو چونک کر دیکھا تھا۔
’’کیا ہوا فتح النساء آپ خیریت سے ہیں۔‘‘ انہوں نے پوچھا تھا فتح النساء نے سر نفی میں ہلایا تھا ان کا انداز کھویا کھویا تھا جیسے دل و دماغ کہیں اور تھا اور وجود اس ٹرین میں تھا۔
’’بوا ہم پاکستان نہیں جانا چاہتے جلال کسی مشکل میں ہیں ہمارا دل بہت کانپ رہا ہے جیسے وہ کسی خطرے میں ہیںہمیں واپس جانا ہے بوا۔‘‘ وہ کہتی ہوئی اٹھی تھیں بوا نے فوراً اٹھ کر ان کو تھاما تھا۔
’’بیٹا آپ پاکستان جائیں گی اس کا فیصلہ آپ نے خود کیا تھا۔‘‘
’’وہ فیصلہ ہمارے دل کا نہیں تھا بوا ہمیں پاکستان نہیں جانا خدارا ہمیں چھوڑ دیں ہمیں جلال کے پاس جانا ہے وہ کسی خطرے میں ہیں ہم نے اچھا خواب نہیں دیکھا وہ مشکل میں ہیں ان کو ہماری ضرورت ہے ہمیں جانے دیجیے۔‘‘ وہ بد حواس سی بولی تھیں جیسے وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ تھیں بوا با مشکل ان کو سنبھالے کھڑی تھیں۔
’’جلال… جلال…!‘‘ وہ دیوانہ وار پکارنے لگی تھیں۔
’’یا اللہ جلال کی حفاظت فرما ان کو اپنے حفظ و امان مین رکھ میرے مولیٰ جلال کی مدد کر انہیں ہر خطرے سے بچائے رکھ۔‘‘ وہ بد حواسی میں چیخ رہی تھیں ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کسی طرح اپنا وجود بوا کی گرفت سے چھڑ کر بھاگتی ہوئی ٹرین سے کود جائیں بوا مضبوطی سے انہیں تھامے کھڑی تھیں۔
’’جلال ہم نے کیوں تنہا چھوڑا آپ کو، یا اللہ ہم نے کیوں نہیں سوچا آپ کس قدر تنہا ہوجائیں گے ہم نے آپ کو وہاں چھوڑا ہمیں آپ کے ہمراہ ہونا ہے جلال ہم نے فقط آپ سے محبت کی ہے ہم آپ سے دوری پر نہیں جاسکتے خدارا ہمیں جانے دیجیے بوا ہماری زندگی جلال کے بنا بے معنی ہے ہم جلال کے بنا نہیں جی سکتے جلال کے بنا نہیں رہ سکتے جلال کو ہماری ضرورت ہے ان کی آواز ہماری سماعتوں میں گونج رہی ہے وہ جیسے ہمیں پکار رہے ہیں ہمیں مت روکیے ہمیں ان کے پاس جانے دیجیے کوئی روکو اس ٹرین کو۔ خدا کا واسطہ کوئی اس ٹرین کو روکے ہمیں ہجرت نہیں کرنی ہم نے جلال کے پاس جانا ہے۔‘‘ وہ دیوانگی کے عالم میں عجب بد حواسی سے چیخے جا رہی تھیں بوا ان کی اس کیفیت پر حیران سی بامشکل ان کو سنبھال رہی تھیں۔
ؤ… /…ؤ
’’کیا ہوا، آپ اداس ہیں نواب زادی؟‘‘ تیمور نے چائے کا پیالہ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا تھا عین نے جیسے کھوئے کھوئے سے انداز میں سر نفی میں ہلا دیا تھا اور مدہم لہجے بولی تھیں۔
’’ہم نہیں جانتے یہ اداسی کیسی ہے مگر جیسے ہماری پوری روح سوگواری میں لپٹی ہوئی ہے دل چاہ رہا ہے پھوٹ پھوٹ کر روئیں زار و قطار روئیں اس دن کی یاد آرہی ہے جب ہم ابا اماں کو چھوڑ آئے تھے جیسے کسی اپنے کی لاش گری ہو، جیسے کسی اپنے کا خون بہا ہو ہمارا دل بہت بے چینی میں گھرا ہے تیمور، اللہ ہمارے بھائی کو محفوظ رکھے۔‘‘ وہ بے چینی سے بولی تھیں تیمور نے سر ہلایا تھا۔
’’آپ پریشان مت ہوں عین اللہ خیر کرے گا جلال اکیلے نہیں ہیں ان کے ہمراہ ہمارے والد محترم ہیں فتح النساء اور بوا بھی ان کے ہمراہ ہوں گے وہ اکیلے نہیں ہیں۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا۔
مگر عین بہت غمگین تھیں تیمور نے سر اٹھا کر دیکھا تھا وہاں حیدر میاں کھڑے تھے عین نے غالبا ان کی طرف نہیں دیکھا تھا تیمور نے ان کی توجہ اس جانب دلائی تھی عین نے حیدر میاں کی طرف دیکھا تھا وہ عین کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھے تھے اور آہستگی سے بولے تھے۔
’’عین ہمیں آپ سے بات کرنا ہے۔‘‘ ان کا لہجہ عجیب گمبھیرتا لیے ہوئے تھا جیسے اس میں بہت سے راز تھے عین بے چین سی اٹھی تھیں اور ان کے ہمراہ چلتی ہوئی کچھ قدم کے فاصلے پر جا رکی تھیں تیمور دانستہ ان کی سمت سے نگاہ چرا گیا تھا مگر وہ اپنی سماعتوں کو بند نہیں کرپایا تھا حیدر میاں کہہ رہے تھے۔
’’عین ہم آپ کی قدر کرتے ہیں دل سے احترام کرتے ہیں آپ نے ہمارے لیے یہاں تک کا سفر اختیار کیا اور بطور خاص ہم کو تلاشا ہم اس جذبے کو سراہتے ہیں آپ ایک بہت مخلص دوشیزہ ہیں ہم نے آپ سے ملنے کی ٹھانی ہے یہ بتانے کے لیے کہ ہم۔‘‘ وہ رکے تھے عین کی سمت دیکھا تھا جو سر اٹھائے ان کی طرف خاموشی سے ساکت کھڑی دیکھ رہی تھیں۔
’’ہم آپ سے نکاح نہیں کرسکتے عین ہم اس رشتے کو جاری نہیں رکھ پائیں گے ہم مرد ہیں اور ہم خود کو یہ سوچنے سے باز نہیں رکھ سکتے کہ چاہے آپ نے یہ سفر ہمارے لیے اختیار کیا ہے مگر آپ نے طویل سفر کو اور کئی راتوں کو کسی اجنبی کے ہمراہ گزارا ہے ہم چاہ کربھی آپ کا اعتبار نہیں کرسکتے۔ معذرت چاہتے ہیں آپ کو ہمارے لفظوں سے تکلیف ہو تو مگر ہمارا دل اتنا بڑا نہیں ہے ہم ایسی لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتے جو کسی اور کے ہمراہ اتنے دن تک تنہا رہی ہو۔‘‘ وہ بولے تھے اور عین اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی اور ساکت تو تیمور بھی رہ گئے تھے جی چاہا تھا وہ اٹھیں اور حیدر کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کریں اور ان سے کہیں کہ وہ ایک پاک دامن دوشیزہ کے دامن پر کیچڑ کیسے اچھال سکے؟ مگر ان کے پائوں بندھ گئے تھے۔
حیدر دل کی بات کہہ کر مڑا تھا اور پلٹنے لگا تھا عین اس طور ساکت کھڑی تھی تیمور کو لگا تھا اگر اب انہوں نے اٹھ کر عین کو نہیں سنبھالا تو وہ زمین بوس ہوجائیں گی وہ چائے کی پیالی رکھ کر ان کی طرف لپکے ان کو تھامنے کو ہاتھ آگے بڑھے مگر عین نے ساکت کھڑے ہوئے ان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اور اسی طرح ساکت سی مڑ کر چلتے ہوئے کیمپ کی طرف بڑھنے لگی تھی، تیمور نے ان کو جانے دیا تھا وہ چاہتا تھا وہ دل ہلکا کرلیں اور جب ان کے پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز آرہی تھی تو وہ دانستہ قدم روکے کھڑے رہے تھے ان کے چہرے پر عجیب کیفیت تھی شاید وہ بہت زیادہ جبر کر رہے تھے۔
ؤ… /…ؤ
’’عجیب ہوتی ہیں عورتیں بھی ان کے دل میں محبت کا بیج ایک بار بو دو تو پھر وہ تناور درخت بنتا جاتا ہے پھر چاہے کتنا بھی جھٹکو دامن چھڑائو وہ جان ہی نہیں چھوڑتیں ایسا ہی کچھ نواب زادی عین النور کی بابت ہوا ہم ان سے کنی کترا رہے تھے اور وہ سمجھ ہی نہیں رہی تھیں آخر کر کھل کربتا دیا اور سن کر ایسے بت بن گئیں جیسے جسم میں خون نہیں رہا ایسی بے غیرتی ہوتی ہے جناب کہاں انہوں نے کسی اور کے ہمراہ اتنی راتیں اتنے دن گزار لیے ہم کیا ایسے چغد ہیں کہ ان کو جان کر بھی قبول کرلیں گے آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلتا ہے میاں؟‘‘ وہ سامنے بیٹھے اپنے اس دوست سے بولے تھے جس کے گھر قیام تھا تیمور نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا حیدر ان کو سامنے دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے تیمور نے کچھ کہے بنا ان کے سامنے رک کر ایک زوردار طمانچہ رسید کیا تھا حیدر حیران رہ گئے تھے۔
’’آپ نے ثابت کردیا کہ آپ نواب زادی کے لائق نہیں تھے حیدر میاں انہوں نے ایک وعدے کا مان رکھا اور سفر کرکے آپ کے لیے یہاں آئیں مگر آپ ان کے ہمراہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں تھے دنیا آپ کے لیے انگلی اٹھاتی رہی اور آپ نے اپنی غلاظت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک پاک دامن لڑکی کے دامن پر کیچڑ اچھال دیا، آپ نے عین پر انگلی اٹھائی؟ آپ کی اصلیت کون نہیں جانتا؟ ساری دنیا آپ کی بدکرداری کے متعلق بات کرتی رہی اور نواب زادی آپ پر آنکھیں بند کیے اعتبار کرتی رہی، کچھ کہنے سے قبل آپ کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت تھی مرزا حیدر سراج الدولہ۔‘‘ تیمور کہہ کر پلٹا تھے اور حیدر کو ساکت چھوڑ کر وہاں سے نکل آئے تھے۔
ؤ… /…ؤ
عین نے شاید جتنے آنسو بہانے تھے بہا لیے تھے وہ خاموش اور ساکت تھیں۔
’’ہمیں ہائی کمیشن میں اطلاع دینی ہے جلال بھائی کے متعلق پوچھنا ہے کیا آپ ہمارے ساتھ چلیں گے؟‘‘ عین تیمور سے نگاہ ملائے بنا بولی تھیں تیمور نے سر ہلا دیا تھا اور ان کے ہمراہ چل پڑے تھے۔
’’ہم سوچ رہے ہیں واپس ہندوستان چلے جائیں۔‘‘ عین نے فیصلہ کن انداز میں کہا تھا تیمور چونکے نہیں تھے۔
’’یہاں کیا رکھا ہے ایک اجنبی دیس ہے بس وہاں ہمارے ابائو اجداد کی قبریں ہیں نشانیاں ہیں ہمارے بھائی ہیں ہم ان کی طرف واپس لوٹ جانا چاہتے ہیں تیمور۔‘‘ عین جیسے اپنے طور پر فیصلہ کر چکی تھیں تیمور خاموشی سے ان کو سن رہا تھا ان کے پاس جیسے الفاظ نہیں تھے یا وہ کچھ نہیں چاہتے تھے یا وہ عین کا مان باقی رکھنا چاہتے تھے تبھی بنا ان کی طرف دیکھے مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’حیدر میاں کے عمل پر کوئی حیرت نہیں وہ آپ کے لائق نہیں تھے۔‘‘
’’وہ ہمارے لائق تھے کہ نہیں اس کے متعلق ہم بات نہیں کرنا چاہتے تیمور۔‘‘ وہ ان کی بات کاٹ کر بولی تھیں تیمور خاموش ہوگئے تھے ہائی کمیشن پہنچ کر اپنی تفصیلات مہیا کی تھیں اور اس طرف کا حوالہ بھی دیا تھا۔
’’ہمارے بھیا جلال کو مطلع کر دیجیے کہ ہم خیریت سے پہنچ گئے ہیں مگر ہم واپس ہندوستان آنا چاہتے ہیں ان کا نام جلال الدین پٹوڈی ہے وہ لکھنئو کے نواب سیف الدین پٹوڈی کے بیٹے ہیں اور ہم ان کی ہمشیرہ۔‘‘ کہتے ہوئے عین کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے اور بہتے ہوئے رخساروں پر جا نکلے تھے تیمور نے اپنے متعلق تفصیلات درج کرائی تھیں اور عین کے ہمراہ باہر نکل آئے تھے۔
’’آپ نے ٹھان لی ہے آپ واپس ہندوستان جائیں گی؟‘‘ تیمور نے کوئی اور ذکر کیے بنا ان کے اگلے اقدام کے متعلق بات کی تھی، عین نے سر ہلا دیا تھا۔
’’عین۔‘‘ تیمور نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کچھ کہنے کی ہمت کی تھی اور پھر جانے کیا سوچ کر لب بھینچ لیے تھے عین ان کی طرف دیکھنے لگی تھیں تب تیمور کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔
’’عین حیدر میاں نے جو بھی کہا وہ آپ کے لیے معنی نہیں رکھنا چاہیے آپ خود ان کی حقیقت جانتی تھیں اور…!‘‘
’’تیمور کیا بہتر نہ ہوگا کہ ہم اب حیدر میاں کی کوئی بات نہ کریں۔‘‘ عین نے تیمور کی سمت دیکھے بنا کہا تھا وہ جیسے حیدر کے الفاظ پر انتہائی شرمندہ تھیں اور تیمور سے نگاہ بھی نہیں ملا رہی تھیں حیدر ان کی کیفیات سمجھ رہا تھا مگر وہ کچھ کہہ نہیں پارہا تھا شاید اس متعلق کھل کر بات کر کے وہ عین کو مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی وہ خاموش ہو کر چپ سادھ گیا تھا۔
’’کچھ سفر کا ہم خود آغاز نہیں کرتے قسمت ہم سے کراتی ہے یہ سفر ہماری قسمت میں تھا ہم نے جب یہ سفر جس مقصد سے کیا اس کو بھول جانا ضروری ہے۔‘‘ وہ فیصلہ کن انداز میں بولی تھیں تیمور نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’اور آپ کے والد محترم کی مرضی اس میں شامل رہی بہرحال اس متعلق بات کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا، اس واقعے کو خواب سمجھ کر بھول جانا مناسب ہے۔‘‘ تیمور نے مشورہ دیا تھا وہ سر ہلانے لگی تھیں۔
’’مگر المیہ یہ ہے کہ وہ خواب نہیں تھا خواب ہوتا تو بہتر تھا ملال باقی نہیں رہتا۔‘‘ وہ چپ ہوئی تھیں تیمور ان کی مرضی کے مطابق اسٹیشن کی سمت روانہ ہوئے تھے مگر ٹرین میں سوار ہونے سے قبل جانے کیا سوچ کر عین نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’ابا جان چاہتے تھے وہ پاکستان جا کر رہیں یہ ملک ان کا خواب تھا اور یہاں آکر زندگی گزارنا ان کا مقصد سو ہم ان کے خواب کو فراموش نہیں کرسکتے ہم پاکستان چھوڑ کر نہیں جائیں گے ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہم یہیں رکیں گے اگر آپ کو جانا ہے تو آپ چلے جائیں۔‘‘ عین عجیب میکانکی انداز میں دیوانہ وار قدم الٹے واپس لینے لگی تھیں۔
’’ابا جان، اماں جان دادی جان ان کا خون رائیگاں جائے گا اگر ہم واپس ہندوستان چلیں گے وہ ایسا نہیں چاہتے تھے ابا جان ایسا کب چاہتے تھے وہ تو پاکستان کو اوڑھنا بچھونا بنائے بیٹھے تھے وہ تو پاکستان کے خواب دیکھتے تھے مسلم لیگ سے جڑ کر انہوں نے پاکستان کی جدوجہد میں کتنا حصہ ڈالا کس قدر کام کیا ہم اپنے پیاروں کی قربانیوں کو رائیگاں کیسے کرسکتے ہیں ہم ہندوستان واپس نہیں جائیں گے ہم ہندوستان لوٹ گئے تو ان قربانیوں کا مقصد ختم ہوجائے گا ابا جان نے جس وعدے کے تحت یہاں روانہ کیا تھا وہ محض حیدر میاں کے ہمراہ زندگی گزارنا نہیں تھا ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کی اولاد پاکستان میں آباد ہو وہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس زمین پر آباد دیکھنا چاہتے تھے وہ وعدہ، مکمل نہیں ہوگا اگر ہم اس زمین پر آکر واپس لوٹ جائیں وہ خواہش پوری نہیں ہوگی ہمیں اس سر زمین کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا یہیں کی خاک میں جینا ہوگا اور یہیں مرجانا ہوگا تب وہ وعدہ ایفا ہوگا۔‘‘ وہ عجیب کھوئے کھوئے سے لہجے میں بولی تھیں اور ٹرین سے دوری پر نکل گئی تھیں تیمور نے ان کو ہاتھ تھام کر روکا تھا وہ الٹے قدم چلتیں رک گئی تھیں اور تیمور کی طرف دیکھا تھا۔
’’آپ نے ہمارا ساتھ دیا یہاں تک ہمارے ہمراہ آئے ہمارے ہمراہ رہے ہماری حفاظت کی ہمیں محفوظ رکھا اس کے لیے ہم شکر گزار ہیں مگر ہم مزید آپ کو اپنے ساتھ باندھ کر نہیں رکھنا چاہتے آپ واپس لوٹ سکتے ہیں تیمور۔‘‘ وہ عجیب کھوئے لہجے میں بولی تھیں مگر تیمور نے ان کا ہاتھ چھوڑا نہیں تھا عین حیران ہو کر ان کو دیکھنے لگی وہ بغور ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
’’آپ بھول رہی ہیں عین ہمارے والد محترم بھی آپ کے ابا جان کے ساتھ اس جدوجہد آزادی میں پیش پیش رہے ہیں اور ان کی خواہش بھی یہی تھی کہ وہ پاکستان آکر رہیں اور اپنی آئندہ نسلوں کو یہاں پھلتا پھولتا دیکھیں یہ فقط زمین نہیں ہے عین یہ محض ملک نہیں ہے یہ نظریاتی زمین ہے یہ ہجرت نظریات کی ہجرت ہے اور یہ قیام ان نظریات کے حقائق کی مدلل دلیل ثابت ہوگا آپ اکیلی نہیں رکیں گی ہم بھی آپ کے ہمراہ یہاں رکیں گے۔‘‘ تیمور نے مضبوط لہجے میں کہا تھا عین نے حیران ہو کر دیکھا تھا۔
’’مگر آپ کے خاندان والے، وہ سب شاید وہ تو پاکستان روانہ نہیں ہوئے آپ جذباتی فیصلے کیوں کر رہے ہیں آپ کو واپس لوٹ جانا چاہیے۔‘‘ وہ بضد ہوئی تھیں مگر تیمور نے نفی میں سر ہلا دیا تھا اور بغور ان کی طرف دیکھے ہوئے گویا ہوئے تھے۔
’’ہم چاہ کر بھی واپس نہیں لوٹ سکتے عین اس زمین پر رہنا ہمارا خواب بھی ہے اور سچ پوچھیے تو ہم یہاں اسی نیت سے آئے تھے جب نواب چچا نے ہم سے وعدہ لیا تھا تو ہم یہی ٹھان کر نکلے تھے کہ زندگی اس زمین پر بسر کریں گے اب ہم اس پاک سر زمین پر ہیں تو واپس کیسے لوٹ سکتے ہیں اور پھر آپ بھی تو یہیں قیام کرنا چاہتی ہیں ہمارے خواب اور خواہش ایک ساتھ مل رہے ہیں تو ہم منہ واپس کیسے موڑ سکتے ہیں یہاں زندگی گزارنا ہمارا مقصد تھا تو آپ کے ساتھ زندگی گزارنا بھی ہماری خواہش تھی۔‘‘ تیمور کے کہنے پر عین نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تھا اور تیمور سر ہلاتے ہوئے بولے تھے۔
’’عین آپ کتنی معتبر اور کس درجہ پاکیزہ ہیں، خدا کے بعد ہم جانتے ہیں آپ کی پاک دامنی پر ہمیں کبھی کوئی شک نہیں رہا ہم آپ سے محبت کرتے تھے اور اب اس سے کہیں زیادہ محبت کرتے ہیں اس متعلق آپ کو بتانا نہیں چاہتے تھے مگر اب بتانا جیسے ناگزیر ہوگیا تھا سو دل کی بات کہہ رہے ہیں ہم آپ کا ہاتھ تمام عمر کے لیے تھامنے کے خواہاں ہیں کیونکہ یہ محبت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم یہاں آپ کو تنہا چھوڑ کر واپس لوٹیں قدت کو بھی یہ سفر اور ساتھ ضروری لگتا ہے سو ہم اور آپ چاہ کر بھی اس سے انکار نہیں کرسکتے۔‘‘ تیمور نے مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے عین کا ہاتھ تھاما تھا اور چلتے ہوئے کیمپ کی طرف بڑھنے لگے تھے عین حیرت سے ان کا چہرہ دیکھ رہی تھیں ایک سو سولہ چاند کی راتیں اپنے اختتام کی سمت گامزن تھیں اور منزل ان کی منتظر تھی۔
(ختم شد)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close