NaeyUfaq Feb-18

خدا دور نہیں

مہتاب خان

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسی لحاظ سے یہاں کے ساحل بھی بڑے ہیں۔ کچی بستیاں ہزارو; کی تعداد میں آباد ہیں۔ یہ بستیاں روز بروز بڑھتی اور پھیلتی چلی جارہی ہیں۔ یہ پھیلائو دیکھتے ہوئے ڈر ہے کہ کہیں یہ سب سے زیادہ کچی بستیوں والا شہر نہ بن جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ کچی بستیاں شہر کی انتظامیہ کے لیے ایک بوجھ اور درد سر ہی ہوتی ہیں۔ بہرحال وہ بھی ایک ایسی ہی کچی بستی تھی جس میں کثیر تعداد عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے والوں یعنی مسیحی افراد کی تھی۔ بستی کے افراد نے یہاں اپنی عبادت گاہ یعنی ایک چرچ بھی بنایاہواتھا ‘جہاں وہ بڑی باقاعدگی سے عبادت کے لیے جایا کرتے تھے۔
اس بستی میں چالیس پینتالیس سالہ سانولی رنگت اور تنومند جسم کامالک بشیر مسیح بھی رہتاتھا۔ وہ ایک نہایت ایماندار ‘محنتی سیدھا سادا اور سچا مسیحی تھا۔
بشیر شہر کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں بطور میل نرس خدمات انجام دیاکرتاتھا جہاں اس کے اوقات کار شام چھ بجے سے رات ایک بجے تک ہوتے تھے۔ جبکہ صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو ڈھائی بجے تک وہ حاجی عبدالقدوس کے پاس ڈیوٹی انجام دیتاتھا۔
حاجی عبدالقدوس اس شہر کے ایک متمول اور نامور صنعت کار تھے جو آج کل ریٹائرڈ اور صاحب فراش زندگی گزار رہے تھے۔ کچھ عرصے پہلے برین ہیمرج کے نتیجے میں ان کے آدھے جسم پر فالج ہوگیاتھا اور وہ ویل چیئر تک محدود ہوگئے تھے‘ ان کے تین بیٹے تھے۔ تینوں شادی شدہ اور صاحب اولاد تھے لیکن تینوں بیرون ملک مقیم تھے۔ ان کی بیوی ایک سال پہلے انہیں داغ مفارقت دے چکی تھیں یوں حاجی عبدالقدوس ڈیفنس میں واقع اپنے وسیع وعریض بنگلے میں ملازموں کے سہارے تنہا زندگی گزاررہے تھے۔ بیٹے بضد تھے کہ حاجی صاحب ان کے پاس امریکا چلے آئیں مگر ان کاکہناتھا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہی مرنا پسند کریں گے‘ آخر بیٹوں نے ان کی اس ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
وہ تینوں اپنی اپنی زندگیوں میںبہت مصروف تھے اور اپنے والد کے پاس جن کواس وقت ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی آنے سے قاصر تھے لیکن وہ ہر وقت فون‘ اسکائپ وغیرہ کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے۔ بہویں اور پوتے پوتیاں بھی اکثر ان سے بات کرتے تھے مگر مشین بھی کبھی انسانی محبتوں اور پیار بھرے لمس کا نعم البدل ہوتی ہیں۔
/ …/ …/
اس محلے میں زیادہ تر مکان بشیر کی اپنے برادری والوں کے تھے ۔ گلی کے نکڑ پر سب سے پہلے مکان میں اس کی سگی بھتیجی اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ رہتی تھی جبکہ بشیر کے گھر کے سامنے والے مکان میں اس کی چاچی رہتی تھیں‘ گلی میں ایک دوگھراوراس کے رشتے داروں کے تھے۔بشیر کے والدین فوت ہوچکے تھے اور وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ وہ اپنے کام میں اتنا مصروف رہتاتھا کہ اسے کبھی شادی کا خیال نہیں آیا تھا‘ اس کے

رشتے داراور خاص طو رپر اس کی چاچی اس کی طر ف سے بڑی فکرمند رہتی تھیں اور اسے شادی کے لیے اکساتی رہتی تھیں۔
آخر کارچاچی نے ہی اس کے لیے اپنے رشتے داروں میں پروین کو پسند کیاتھا‘ پروین کھلتی ہوئی رنگت والی بہت خوبصورت اور کم عمر لڑکی تھی۔ وہ جب سے بشیر کی زندگی میں آئی تھی اس کی روکھی پھیکی زندگی رنگین ہوگئی تھی۔ محلہ بھر میں بشیر کی خوبصورت بیوی کا چرچاتھا ہرایک اسے رشک سے دیکھتاتھا۔
پٹیر کے گھر اس سے بالکل الٹ معاملہ تھا‘ پٹیر خود پڑھا لکھا اسمارٹ نوجوان تھا جبکہ اس کی بیوی یعنی بشیر کی بھتیجی گہری سانولی رنگت والی موٹی بھدی اور تیز مزاج عورت تھی۔ پٹیر اسمارٹ اور تعلیم یافتہ توتھا مگر کوئی کام نہیں کرتاتھا۔ وہ سارا سارادن گھرپرپڑا رہتایاجوئے کے اڈے پر پایا جاتاتھا۔ اسے جوا کھیلنے کی بری لت پڑگئی تھی جبکہ اس کی بیوی نسرین میونسپل کارپوریشن میں ملازم تھی۔ بشیر پیٹر کو سمجھا سمجھا کر تھک گیاتھااور کئی مرتبہ اس نے اپنے جاننے والوں سے کہہ سن کراس کے لیے ملازمت کابھی بندوبست کیاتھا مگر وہ ٹک کر کوئی کام نہیں کرتاتھا۔
ایسی کچی بستیوں میں عموماً جوئے اور منشیات کے اڈے کھلے عام قائم ہوتے ہیں وہ بھی جوئے کاایک ایسا ہی اڈاتھا جواس علاقے کابدنام زمانہ شخص گوگی چیمپئن کاتھابلکہ یہاں قائم منشیات اور جوئے کے تمام اڈے اسی کی ملکیت تھے‘ بستی کی زیادہ تر زمین اس نے خریدی ہوئی تھی‘ چیمپئن ان دنوں جیل میں تھا‘ سال چھ مہینے کے لیے اس کاجیل میں آناجانا لگارہتاتھا اس کی غیرموجودگی میں اس کے ساتھی اس کے ان غیر قانونی کاروبار کو سنبھالتے تھے۔
پیٹر اس دن جوئے کے ایک اڈے پربیٹھاجوا کھیل رہاتھا جب خوفناک موچھوں اور بھاری جثہ والا رشید گولی اندر داخل ہواتھا۔ اسے اچانک دیکھ کر پیٹر گھبراگیا‘ وہ وہاں سے کھسکنے کی تیاری کرہی رہاتھا کہ رشید نے اسے بھاگتا دیکھ کر دبوچ لیا۔
’’بھاگتا کہاں ہے نکال میرے پیسے جوتونے قرض لیے تھے۔‘‘
’’وہ تو میں جوئے میں ہار گیا۔‘‘
’’تومیں کیا کروں‘ مجھے میراپیسہ واپس چاہیے ورنہ …‘‘رشید ھمکی آمیز لہجے میں بولا۔
’’دے دوں گا ‘پہلی تاریخ کو خود آکر دوں گا۔‘‘پیٹر گھگھیاتا ہوا بولا۔
’’دیکھ پہلی کامطلب پہلی ہونی چاہیے اگر پیسے نہیں آئے ناتو پھر …!‘‘ اس نے پیٹر کو جھٹکے سے دھکیلتے ہوئے کہا۔
پیٹر نے وہاں سے نکل جانا غنیمت جانا تھا وہ تیزی سے باہر نکلا اس کارخ چاچا بشیر کے گھر کی جانب تھا۔
جتنی پروین خوبصورت تھی اتنی ہی سگھڑ بھی تھی۔ اسے خود بھی اپنی خوبصورتی کااحساس تھا۔ اچھا لباس اور میک اپ اس کی کمزوری تھی… وہ ہر وقت بنی سنوری رہتی تھی اور گھر بھی بڑا صاف ستھرارکھتی تھی۔ اس وقت بھی وہ گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر اور سالن پکا کر بیٹھی تھی اس نے سوچاتھا کہ بشیر کے آنے کے بعد گرماگرم روٹیاں بنالے گی اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی اس نے جاکر دروازہ کھولا تو سامنے پیٹر کھڑاتھا۔
’’آئو پیٹر آج کیسے ادھر آنکلے۔‘‘
وہ اسے اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے بولی۔
’’تمہارے ہاتھ کی چائے پینے کو دل چاہ رہاتھا‘ اسی لیے آگیا۔‘‘
’’اچھاتم بیٹھو میں چائے بنا کرلاتی ہوں۔‘‘ پروین نے برآمدے میں پڑی چارپائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’چاچابشیر نہیں آئے ابھی تک؟‘‘ پیٹر نے کہا۔
’’نہیں …آنے والے ہوں گے۔‘‘ کہتی ہوئی وہ برآمدے کے ایک کونے میں بنے ہوئے کچن میں چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ چائے اسے تھما کرقریب ہی رکھی کرسی پربیٹھ گئی۔
’’جب بھی تمہیں دیکھتاہوں پروین مجھے چاچا کی قسمت پررشک آتاہے۔‘‘ وہ پروین کوبغور دیکھتا ہوا بولاتھا۔
’’تومیرا نام کیوں لیتا ہے پیٹر مجھے چاچی کیوں نہیں کہتا۔‘‘ پروین نے اعتراض کیا۔
’’اس لیے کہ تم میر ی ہم عمر ہو… تمہیں چاچی کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے بولا۔ ’’تم بہت خوبصورت ہو ٹی وی اور فلموں میں ایکٹنگ کروتوبڑے بڑوں کے چھکے چھڑادوگی‘بنی بنائی ماڈل ہو۔‘‘
’’مجھے کون چانس دے گاایکٹنگ کا؟‘‘
اس نے ادھر ادھر دیکھ کرراز داری سے کہا۔ ’’تم اگر تھوڑی سی ہمت کرو تو میرے ایک دو جاننے والے ہیں‘ بس تھوڑا سا خرچا کرنا ہوگا تمہاری تصویریں وغیرہ بنوانے کے لیے۔‘‘
’’خرچا؟‘‘ وہ اچنبھے سے بولی۔
’’ہاں فی الحال تو تین چار ہزار سے کام چل جائے گا‘ میں تمہارے لیے جدید فیشن کے کپڑے لے آئوں گا پھر…‘‘
’’چار ہزار۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے بولی۔ ’’بشیر سے پوچھ لوں پھر کچھ سوچیں گے۔‘‘
’’ارے یہ غضب نہ کرنابشیر چاچا کو تو اس کی بھنک بھی نہیں پڑناچاہیے۔‘‘
’’خبردار میں ویسی نہیں جیسی تومجھے سمجھ بیٹھاہے۔ چل ہٹ بڑا آیا مجھے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھانے‘ جایہاں سے ‘رقم تیرے ہاتھ پررکھ دوں ماڈل بنائے گا۔‘‘ وہ تیز آواز میں بولی۔
’’ٹھیک ہے بابا جارہاہوں ناراض کیوں ہوتی ہو۔ ‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھتا ہوا بولا‘ وہ غصے میں بل کھا کر رہ گئی اور اس کے باہر نکلتے ہی دروازہ زور دار آواز کے ساتھ بند کرکے کنڈی لگادی۔ اسی وقت دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی پروین نے جھٹکے سے دروازہ کھولا سامنے بشیر کھڑاتھااس نے اسے اندر آنے کاراستہ دیا‘ بشیر بولا۔
’’کیاپیٹر آیا تھا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’بڑی جلدی میں تھامیں نے اسے آواز بھی دی تورکابھی نہیں ‘کیاکہہ رہاتھا؟‘‘
’’بس اوٹ پٹانگ باتیں کررہاتھا۔‘‘
’’خداوند اسے عقل دے سمجھ دے۔‘‘ نسرین بے چاری اس کی وجہ سے کس قدر پریشان رہتی ہے‘ کوئی کام دھندہ تو کرتا نہیں‘ ویسے ہی اپنا وقت ادھر ادھر ضائع کرتا ہے۔‘‘
’’چل چھوڑ بشیر تو ہاتھ منہ دھولے میں اتنی دیر میں روٹیاں پکالیتی ہوں گرماگرم۔‘‘ وہ دونوں بیٹھے کھانا کھارہے تھے جب پروین بولی۔
’’سن بشیر اگلے مہینے تیری کمیٹی نکلے گی نا۔‘‘
’’ہونہہ۔‘‘ وہ نوالہ چباتے ہوئے بولا۔
اور کرسمس بھی آرہی ہے‘ میں نے بھی محلہ میں ایک بیسی ڈالی ہوئی ہے وہ بھی اگلے مہینے مل جائے گی۔ پھر وہ کچھ دیر ٹھہر کر بولی۔تومجھے کیا لے کردے گا؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف د یکھ کر بولی۔
’’وہ ہنسا۔ ’’اوپنو میر اجو کچھ بھی ہے تیرے لیے ہی تو ہے جو دل کرے لے لینا۔‘‘
’’توپھر سن مجھے سونے کاسیٹ لینا ہے۔‘‘
’’جھلی نہ ہوتوسارے پیسے تو سونے کے سیٹ پرخرچ کردے گی توہم آنے والے مہمان کے لیے کیا کریں گے ؟‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتی اس کرسمس پر میں سونے کا سیٹ پہن کر ہی چرچ جائوں گی بس۔‘‘ وہ ناراضگی سے بولی۔
’’اچھابابا جوتیری مرضی کربس مجھے ایک اچھا سا جوتا دلادینا۔ میرا جوتاٹوٹ گیاہے۔‘‘
’’ہاں ہاں لے دوں گی۔‘‘ وہ خوشی سے کھل گئی۔
ابھی وہ باتیں کرہی رہے تھے کہ کسی نے بیرونی دروازہ زورسے دھڑ دھڑایا۔
’’کون ہے بھئی آرہاہوں۔‘‘ بشیر کہتا ہوا دروازے کی سمت گیا۔
’’ماموں جلدی چل۔‘‘ اس کابھانجا جو دروازے پر کھڑاتھاعجلت سے بولا۔’’پیٹر نسرین کوبہت ماررہاہے۔‘‘
’’پینو میں ابھی آیا…آجابھئی آجاچل…‘‘ بشیر عجلت میں گھر سے نکل گیا۔ وہ اور اس کا بھانجا تیز تیز قدموں سے نسرین کی گھر کی طرف جارہے تھے۔
نسرین کے رونے اور چیخنے کی آواز باہر تک آرہی تھی اور بہت سارے محلے دار اس کے دروازے پر جمع تھے۔ بشیر راستہ بناتا ہوا اندر گیاتو دیکھا پیٹر نے نسرین کے بال پکڑے ہوئے تھے اور دوسرے ہاتھ سے اسے مار رہاتھا۔
’’اوبندہ بن رک جاپیٹر۔‘‘ بشیرکہتا ہوا پیٹر کو اس سے چھڑانے لگا۔
’’زبان چلاتی ہے‘ مجھ سے زبان چلاتی ہے۔‘‘ غصہ سے پیٹر کاچہرہ لال ہورہاتھا۔
’’اوئے پیٹر چھوڑ اس کو اوشرم کرعورت پر ہاتھ اٹھاتاہے۔‘‘
’’اتار لینے دے چاچا اسے اپنا غصہ اتارلینے دے یہ اور کربھی کیا سکتا ہے۔‘‘ نسرین تیز آواز میں بولی۔
’’دیکھ چاچا کیسی زبان چلا رہی ہے‘ آج میں اس کو بتاتا ہوں اپنے مرد سے کیسے بات کی جاتی ہے۔‘‘پیٹر پھرنسرین کی طرف لپکا۔ بشیر نے اسے دونوں ہاتھوں سے تھام لیااور آگے بڑھنے سے روک دیا۔
’’تو بھی ذرا خیال کرنسرین۔‘‘ بشیر نسرین کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہوئے بولا۔
’’اور کیسے خیال کروں چاچا کسی بات پر تو میں اس کوروکتی ٹوکتی نہیں‘ اب یہی دوبالیاں رہ گئی ہیں کان میں یہ بھی اس کو دے دوں جوئے میں ہارنے کے لیے۔‘‘
’’اچھا… تویہ سارا جھگڑا بالیوں کاہے۔‘ بشیر بولا۔
’’اچھاتو چل اندر جاشاباش میں بات کرتاہوں اس سے۔‘‘
’’آج تو تو بے غیرتی کی آخری حد بھی ٹپ گیا پیٹر۔ اوئے تجھے عیاشی کرنی ہے تو اپنی کمائی سے عیاشی کر‘ اس سے اس کی محنت کی کمائی کیوں چھینتا ہے‘ وہ محنت مزدوری کرکے تیرا اور تیرے بچوں کا پیٹ پالتی ہے اور تو… لعنت ہے تجھ پر‘ آئندہ اگر تونے اس پر ہاتھ اٹھایا تو تجھے نہیں چھوڑوں گا یاد رکھنا۔ او میری تو خداوند سے دعاہے کہ تجھے سیدھا راستہ دکھادے۔‘‘
/ …/ …/
حاجی عبدالقدوس نماز بڑی پابندی سے پڑھتے تھے جب سے وہ وہیل چیئر پر تھے نماز گھر میں ہی ادا کرتے تھے لیکن جمعہ کی نماز وہ باقاعدگی سے اپنے گھر کے قریب واقع موتی مسجد میں ادا کرتے تھے۔ وہ موتی مسجد کی انتظامیہ کے سرگرم رکن بھی تھے۔
موتی مسجد سفید سنگ مرمر سے بنی ہوئی بڑی پرشکوہ وسیع وعریض اور شاندار عمارت تھی۔ یہ حاجی صاحب کے گھر کی اسٹریٹ اور اس سے ملحقہ ایک کمرشل اسٹریٹ کے سنگم پر واقع تھی۔ اس کمرشل اسٹریٹ پر بے شمار دکانیں ‘میڈیکل اسٹورز اور ریسٹورنٹ واقع تھے۔ اسی وجہ سے اس اسٹریٹ پر لوگوں کابڑا رش رہاکرتاتھا۔ یوں نماز کے اوقات میں موتی مسجد میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی اور خاص کر نماز جمعہ میں تویہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی۔
حاجی صاحب کاخانسامہ رشید ان کاکل وقتی ملازم بھی تھا۔ وہی حاجی صاحب کونماز جمعہ کے لیے لاتالے جاتاتھا۔ لیکن کبھی وہ مصروف ہوتایااور کوئی وجہ ہوتی تو بشیر یہ خدمات انجام د یتاتھا‘ جب تک حاجی صاحب نماز ادا کرتے وہ مسجد کے باہر سیڑھیوں کے قریب بیٹھا ان کاانتظار کیاکرتاتھا۔
بشیر مسیح کومسلمانوں کی یہ عبادت گاہ بہت پسند تھی وہ دیر تک بیٹھا اس پروقار عبادت گاہ کودیکھا کرتاتھا۔ اسے نمازیوں کابلاامتیاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک جیسے ارکان ادا کرنا بھی بڑااچھا لگتاتھا لیکن وہ اکثر سوچتاتھا کہ یہ یک جہتی‘ اتحاد اور برابری صرف مسجد تک محدود کیوں ہے‘ ذاتی زندگی میں مسلمان فرقوں میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟ ان میں اتنے شدید اختلافات کیوں ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔
/ …/ …/
جب سے بشیر نے پیٹر کوسمجھایاتھا وہ کافی حد تک سدھرگیاتھااور اب سنجیدگی سے ملازمت تلاش کررہاتھااور اپنے بیوی بچوں کاخیال بھی رکھ رہاتھا یہ دیکھ کربشیر نے بھی سکھ کا سانس لیا تھا۔
اس دن بشیر کوتنخواہ ملی تھی وہ خوشی خوشی نسرین کے بچوں کے لیے مٹھائی وغیرہ لے کرگلی میں پہنچا تو نسرین اپنے گھر کے دروازے پرکھڑی مل گئی۔
’’خیرتوہے یہاں کیوں کھڑی ہے‘ یہ لے بچوں کو بانٹ دینا۔‘‘ بشیر نے شاپر نسرین کودیتے ہوئے کہا۔
’’پیٹر صبح سے گیاہوا ہے ابھی تک نہیں آیا مجھے تو بڑی فکر ہو رہی ہے۔‘‘
’تو گھر میں جامیں دیکھتاہوں۔‘‘ کہتے ہوئے بشیر نے بائیک اسٹارٹ کی اور آگے بڑھ گیا۔ ابھی وہ کچھ دور ہی گیاتھا کہ اسے اپنے گھر کے باہر چبوترے پربیٹھا پڑوسی ولسن نظر آیا اس نے بائیک ولسن کے قریب روکی اور اس سے پوچھا۔
’’ولسن پیٹر کو کہیں دیکھا ہے ؟‘‘
’’کچھ دیر پہلے تمہارے گھر کی طرف جاتے دیکھاتھا۔‘‘ وہ بڑے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔
اس کااس انداز میں کہنا بشیر کوبڑا عجیب لگا تھا۔ بہرحال وہ سرجھٹک کرآگے بڑھ گیا ‘ گھر پہنچاتو بیرونی دروازہ کھلاہواتھا‘ وہ خاموشی سے اندر داخل ہوگیا‘ صحن عبور کرکے وہ برآمدے میں آیا‘ پروین اور پیٹر اسے کہیں نظر نہیں آئے۔ پھراچانک برآمدے میں بنے باورچی خانے سے اسے پیٹر کی آواز آئی۔
’’تم ابھی تک ناراض ہو مجھ سے… اس دن میں مذاق کررہاتھا… اگرمجھے پتا ہوتا ناکہ تم ناراض ہوجائوگی تو کبھی مذاق نہ کرتا۔‘‘ کچھ دیر بعد نسرین کی آواز آئی۔
’’چل اب پتہ چل گیاناآئندہ دھیان رکھنا۔‘‘ وہ نرم لہجے میں کہہ ر ہی تھی ۔
اسی وقت بشیر کچن میں داخل ہوا۔ پیٹر پروین کے قریب پیڑھی پربیٹھاتھا اور پروین کھاناپکارہی تھی۔
’’لعنت ہے بھئی تیرے اوپر بیوی تیری وہاں پریشان ہو رہی ہے اور تو یہاں مزے سے بیٹھا باتیں کررہاہے۔ ‘‘اس نے اندر آتے ہی پیٹر سے کہا۔
’’ارے میں ایسے ہی نہیں آیا تم سے ایک مشورہ کرنے آیا تھا۔‘‘
’’پھر کبھی کرلینا مشورہ ابھی جا یہاں سے۔‘‘ وہ غصیلے انداز سے بولا۔
’’تم سن کیوں نہیں لیتے شاید کوئی کام کی بات کررہاہو۔‘‘ پروین نے کہا۔
’’تو چپ کراور میرے لیے چائے بنا… اور تو چل تیری بیوی انتظار کررہی ہے ۔‘‘
وہ دونوں بشیر کے اس رویے پر حیرانی سے اس کی شکل دیکھنے لگے ۔آخرپیٹر خاموشی سے اٹھااور وہاں سے چلاگیا۔
’’آج تو یہ آگیا مگر آئندہ میری غیر موجودگی میں یہاں آئے تو آنے نہیں دینا۔‘‘
’’یہ آج تم کس قسم کی باتیں کررہے ہو۔ تمہارا رشتے دار ہے‘ خود منع کرو۔‘‘ وہ تڑخ کر بولتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی۔
اس سے پہلے کبھی بشیر نے اس سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ پھر وہ کئی دن اس سے روٹھی رہی تھی۔ بشیر نے بھی اس بار اسے منانے کی کوشش نہیں کی تھی ورنہ تو پروین کی ایک منٹ کی خاموشی بھی بشیر پرگراں گزرتی تھی اور وہ اسے منانے کے لیے سیکڑوں جتن کرتاتھا۔ نہ جانے اس کے دل میں کیسی گرہ پڑی تھی کہ اس کارویہ ہی بدل گیاتھا‘ پروین سوچتی اور کڑھتی رہتی۔
اس شام بشیر شام سات بجے گھرآگیا۔ اس وقت وہ اسپتال کی ڈیوٹی انجام دیتاتھا۔ پروین اسے اچانک دیکھ کر حیران رہ گئی اور بولی۔
’’خیریت تو ہے آج اس وقت کیسے آگئے ؟‘‘
’’طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘جلدی چھٹی لے کرآگیا۔‘‘وہ ادھر ادھر دیکھ کر بولا۔’’یہ بتا پیٹر تو نہیں آیا۔‘‘
’’لے وہ کیوں آنے لگا ادھر روز روز۔‘‘
’’او ناراض کیوں ہوتی ہے‘ میں تو ایسے ہی پوچھ رہاتھا۔‘‘
یہ اتوار کا دن تھابشیر چرچ جانے کی تیاری کررہاتھا اس نے پروین کو آواز دی۔
’’پینو جلدی سے تیار ہوجا چرچ جانا ہے۔‘‘
وہ جوبرآمدے میں چارپائی پرلیٹی ہوئی تھی بولی۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں تو چلاجا۔‘‘
’’ہر وقت کمیٹیوں کی ادھیڑبن میں لگی رہتی ہے کوئی کمیٹی خداوند کے پاس بھی ڈال دے یقین کر جب وہ کمیٹی کھلتی ہے نا تو وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ اس نے کروٹ بدلی اور آنکھیں بند کرلیں وہ باہر نکل گیا۔
وہ عبادت کے بعد چرچ کے باہر فادر کے ساتھ کھڑاباتیں کررہاتھا ‘ کرسمس پروہ چرچ پرنیا رنگ وروغن کروانا چاہتے تھے‘ کہ اسی وقت انہوں نے گوگی چیمپئن کواس کے چھ سات ساتھیوں کے ساتھ اپنی طرف آتے دیکھا۔
’’بشیر یہ گوگی کب رہاہوا؟یہ ہماری طرف آرہا ہے خداوند رحم کرے۔‘‘ فادرتشویش زدہ لہجے میں بولے۔
’’پتانہیں فادر یہ بدمعاش کب رہاہوا‘ واقعی یہ توادھر ہی آرہا ہے۔‘‘
’’فادر جی آپ کو کس نے یہاں چرچ بنانے کی اجازت دی ہے۔ یہ پلاٹ میرا ہے میں کچھ دن کے لیے ادھر ادھر کیاہوا‘ آپ میرے پلاٹ پرقبضہ کرکے بیٹھ گئے۔‘‘ گوگی فادر کے قریب آتے ہی بولا۔
’’ہم نے کوئی قبضہ نہیں کیا‘ اس کی قیمت ادا کی ہے تمہارے بھائی قادر کو۔ اس غریب بستی والوں نے چند اکرکے خریدا ہے یہ پلاٹ۔‘‘
’’فادر ٹھیک کہہ رہے ہیں گوگی بھائی ہم نے اس کی پوری قیمت ادا کی ہے۔‘‘ اس مرتبہ بشیر بولا۔
’’یہ جگہ میرے بھائی کی نہیں‘میری ہے میری۔‘‘ وہ سینہ ٹھونک کربولا۔
’’ایک بات بتائو تمہارا بھائی قادر کہاں ہے ؟ اسے لے کرآئو پھرخود اس سے بات کرلیں گے۔‘‘ فادر نے کہا۔
’’وہ نہ جانے کہاں ہے تم جیسے بہت سے لوگوں کواس نے ٹوپیاں کروائی ہیں‘ خود میرے ساتھ فراڈ کرکے گیاہے۔ پانچ چھ پلاٹوں کے جعلی کاغذات دے کر پیسے اینٹھ کرلے گیا ہے ‘جبکہ میں اس کا سگا بھائی تھا۔ وہ مجھے نہیں مل رہاتو تم لوگوں کوکیسے ملے گا؟‘‘
’’پھرتم ہی بتائو ہم کیا کریں؟‘‘ فادر بے بسی سے بولے۔
’’میں نہیں جانتا اپنا بوریا بستر سمیٹو اور نکلو یہاں سے میری جگہ مجھے چاہیے یہاں مجھے اپنا کروبار جمانا ہے۔ میںچلتا ہوں پھرآئوں گا۔‘‘ کہتا ہوا وہ چلاگیا۔
’’فادر جی یہ توبڑی گڑبڑ ہوگئی۔ اب کیا ہوگا؟کرسمس بھی آنے والی ہے ؟‘‘
’’فکر کی کوئی بات نہیں جییس رحم فرمائیں گے‘ اب سب سے پہلے ہمیں یہ کرنا ہے کہ بستی والوں کو ساری صورت حال بتانی ہے اور سب سے مشورہ کرنا ہے۔‘‘ فادر سوچتے ہوئے بولے۔
’’ہاں فادر جی یہ ضروری ہے۔‘‘
واپسی میں بشیر کچھ دیر کے لیے نسرین کے گھر چلاگیا‘ نسرین اسے دیکھ کرخوش ہوگئی۔
’’آئوچاچا بڑے دن بعد آئے بیٹھو۔‘‘
وہ صحن میں بچھی چارپائی پربیٹھتا ہوابولا۔ ’’پیٹر کہاں ہے ؟‘‘
نسرین کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں اور کہاں ہوگا پروین کے پاس بیٹھا گپیں لگارہاہوگا۔‘‘
’’کیامطلب ؟ یہ تو کس لہجے میں بات کررہی ہے ؟‘‘
’’میں کیاسارا محلہ اب یہی باتیں کررہاہے ‘ چاچا تمہیں ایسی بے جوڑ شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اتنی خوبصورت اور کم عمر لڑکی کوبیوی نہیں بنانا چاہیے تھا۔‘‘
’’یہ تو کیسی باتیں کررہی ہے نسرین۔‘‘ وہ اچنبھے میں رہ گیا۔
’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں مرد بدنام ہوجائے تو اس کاکچھ نہیں جاتا لیکن عورت بدنام ہوجائے تو اس کاگھر ٹوٹ جاتا ہے۔ مجھے توتم پر ترس آتاہے چاچا۔‘‘
’’بس کر چپ ہوجا نسرین۔‘‘ وہ تیزی سے کہتا ہوا اٹھااور وہاں سے چلاگیا۔
وہ جیسے ہی گھر پہنچاتو پروین نے کہا۔
’’اتنی دیر کردی میں کب سے تمہارا انتظار کررہی ہوں۔ بہت بھوک لگی ہے میں نے تمہاری پسند کا کھانابنایاہے۔‘‘
’’پیٹر آیا تھا؟‘‘ بشیر نے ان سنی کرتے ہوئے عجیب سے لہجے میں کہا۔
’’ہاں آیا تھا‘ پرمیں نے دروازہ نہیں کھولا اس سے کہہ دیا جب بشیر آئے تو آنا۔‘‘
تیری طبیعت خراب تھی اسی لیے چرچ بھی نہیں آئی تھی۔ اس وقت تو تو ٹھیک لگ رہی ہے۔‘‘
’’ہاں اب ٹھیک ہے وہ کھانے کی پلیٹیں دستر خوان پررکھتے ہوئے بولی۔
’’تومیرے ساتھ خوش تو ہے نا پینو۔‘‘ بشیر نے اس کی طرف بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ آج تو کیسی باتیں کررہا ہے؟‘‘
’’لوگ کہتے ہیں ہماری شادی بے جوڑ ہوئی ہے۔‘‘
’’لوگوں کاکیاہے‘ ان کاکام ہی باتیں بناناہے‘ تو کھانا کھا۔‘‘
کچھ وقت اور گزرا یہ بشیر کے لیے بڑے کٹھن دن تھے‘ ایک طرف چرچ کامسئلہ تھا تودوسری طرف پروین تھی اس کی محبوب بیوی جس کے خلاف شک کاسانپ اس کے سینے میں کنڈلی جمائے بیٹھاتھا جواسے کسی لمحے چین نہیں لینے دیتاتھا۔ وہ وقت بے وقت گھر کے پھیرے لگاتارہتاتھا‘ ڈیوٹی بھی صحیح طور پر انجام نہیں دے پاتاتھا۔ حاجی عبدالقدوس نے بھی اس میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کونوٹ کیاتھا۔
’’بشیر گھرمیں سب خیر تو ہے ناکچھ دنوں سے میں دیکھ رہاہوں تم بڑے چپ چپ سے ہو۔ کوئی پریشانی ہے کیا؟‘‘
بشیر ان کی دوا انہیں تھمارہاتھاجب وہ بولے تھے۔
’’چھوٹی موٹی پریشانیاں تو چلتی رہتی ہیں سر کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
/ …/ …/
اس شام تین چار شکل سے بدمعاش نظر آنے والے نوجوان فادر کے پاس آئے اور کہا۔
’’آپ نے اپنے لوگوں سے مشورہ کرلیافادر؟ گوگی استاد نے ابھی آپ کو بلایا ہے ہمارے ساتھ چلیں۔ فادر نے بشیر اور ولسن کوبھی بلوالیا یہ تینوں جب گوگی کے اڈے پرپہنچے تو گوگی نے انہیں دیکھتے ہی کہا۔
’’ہاں بھئی کب خالی کر رہے ہیں ہماری جگہ۔‘‘
’’ہم چرچ کیسے ہٹاسکتے ہیں گوگی وہ ہماری عبادت گاہ ہے‘ کوئی تو حل ہوگا تمہارے پاس ہمارے اس مسئلے کا؟‘‘
’’اب تک اسی وجہ سے آپ سے رعایت کی ہوئی ہے کہ وہ آپ لوگوں کی عبادت گاہ ہے ورنہ اسے ہٹانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔‘‘
’’کوئی تو حل ہوگا آپ کے پاس۔‘‘ بشیر بولا۔
’’ہاں‘ ہاں بالکل ہے۔‘‘ گوگی بولا۔ ایک مہینے میں پلاٹ کی قیمت دس لاکھ روپے دواور اپنی عبادت گاہ کوبچالو۔‘‘
’’یہ تو بہت زیادہ ہے۔‘‘ ولسن نے کہا۔
’’یہ قیمت تو میں نے چرچ کی وجہ سے کم کی ہے ورنہ اس پلاٹ کی قیمت توپندرہ لاکھ ہے۔‘‘
’’تھوڑی سی مہلت اور دے دو گوگی‘ ہماری کرسمس آنے والی ہے‘ بستی کے لوگ عبادت کریں گے۔‘‘
’’او نئیں جی نئیں‘ گوگی جلدی سے بولا۔ ’’اب بالکل آپ کو مہلت نہیں مل سکتی۔ ایک ماہ کامطلب ایک ماہ ہے یاتو پیسہ دیں یاجگہ خالی کریں بس۔‘‘ اس نے کڑے تیوروں سے کہا۔
فادر نے اسی شام بستی کے لوگوں کو جمع کرکے یہ تمام حالات بتائے تو بشیر نے کہا۔
’’فادرجی اس مشکل وقت کاسامنا تو کرنا ہی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت ہربندہ اپنی اپنی پریشانی میں ہے۔ دیکھیں نایوسف نے ایک مہینے پہلے ہی اپنی بیٹی کی شادی کی ہے‘ ولسن جھاڑو دے دے کر دمے کامریض بن گیاہے اور ویسے بھی فادر دس لاکھ کوئی چھوٹی رقم تونہیں ہے کہ چٹکی بجاتے میں جمع ہوجائے آ پ کوتھوڑا ٹائم گوگی سے اور لینا چاہیے تھا۔‘‘
’’تم او رولسن تو ساتھ تھے تم نے دیکھا نہیں میںنے کتنی کوشش کی تھی مگر وہ ماناہی نہیں‘ اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا کریں؟‘‘
’’کچھ بھی ہو فادر کرسمس کی عبادت تو اس چرچ میں ضرور ہوگی۔‘‘ یوسف جوش سے بولا۔
’’جیسس ہماری مدد فرمائیں۔ اب آپ لوگ جائیں اور دیکھیں کہ کون کتنا اور کیا کرسکتا ہے؟‘‘
’’یہاں آنے سے پہلے میں سب سے بات کرچکاہوں فادر۔‘‘ بشیر نے کہا۔
ان لوگوں کے حالات ایسے نہیں جو اتنی بڑی رقم اکٹھی کرسکیں۔ لوگ زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ ہزار جمع کرسکتے ہیں‘ اس سے زیادہ یہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘
’’ہوں پھرتو کچھ سوچناپڑے گا۔‘‘ فادر نے کہا۔
بشیرگھر پہنچا تو اس پریشانی کی تحریر اس کے چہرے پرلکھی تھی۔’’پینو چائے بناسرمیں بڑ ادرد ہے۔‘‘ بشیر نے کہا۔
’’اچھابناتی ہوں… سن یہ محلے کی عورتیں باتیں کررہی تھیں چرچ کاکیامسئلہ ہے ؟‘‘
’’مسئلہ توبڑ اگمبھیر ہے۔‘‘ بشیر نے تمام روداد اسے سنائی۔ اب ہم سب کومل کر ہی اپنے چرچ کوبچاناہوگا۔ سن پینو ہماری کمیٹی بھی تو کھلنے والی ہے … اگر…‘‘
’’خبردار جو تونے میری کمیٹیوں کی طرف آنکھ اٹھا کربھی دیکھا‘دوسال میں پیٹ کاٹ کاٹ کر یہ پیسے جمع ہوئے ہیں۔ میں اس میں سے ایک پیسہ نہیں دوں گی‘ خداوند کاگھر ہے وہ خود اسے بچائے گا۔ دیکھ لینا تو کیوں پریشان ہوتا ہے۔‘‘
’’بڑی آئی کمیٹیوں والی چرچ نہیں ہوگاتو کرسمس کیسے منائے گی؟‘‘
دوسرے دن وہ اپنے اسپتال کے اکائونٹ آفس میں افسر کے سامنے قرضے کی درخواست لے کرگیاتھا‘ افسر نے درخواست دیکھتے ہی کہا۔
’بھئی تمہارا تو مکان پرلیاجانے والا پہلا قرضہ بھی پورا نہیں ہوا‘ یہ قرض نہیں مل سکتا۔‘‘
’’کچھ کریں سر میں نے آپ کو اپنی مجبوری بتادی ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں ہوسکتا بشیر۔‘‘
’’اچھااگرمیں ریٹائرمنٹ لے لوں تو‘ میری گریجویٹی اور فنڈ مل جائے گا؟‘‘
’’اس سے بھی تمہارا مسئلہ فوری طور پر حل نہیں ہوگا۔ گریجویٹی وغیرہ ملنے میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔د فتری کارروائیوں میں وقت لگتا ہے بشیر۔‘‘
’’کچھ تو کریں سرمیں بڑی امید لے کرآیاتھا۔‘‘
سوری بشیر اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ جائو یہاں سے میرااور اپنا وقت ضائع نہ کرو۔‘‘ وہ وہاں سے بڑا دل گرفتہ مایوس چلاگیا تھا۔
پروین برآمدے میں چارپائی پربیٹھی سبزی کاٹ رہی تھی جب نسرین اس کے گھر میں داخل ہوئی۔
’’آجا نسرین بیٹھ بڑے دنوں بعد نظرآئی۔ ‘‘ پروین اسے دیکھتے ہی بولی‘ وہ اسے نظرانداز کرکے ادھر ادھر کمروں میں جھانکنے لگی۔
’’یہ تو کسے تلاش کررہی ہے…‘‘ پروین نے اسے جو یوں کمروں میں جھانکتے ہوئے دیکھاتو پوچھا۔
’’تجھے پتہ ہے کسے تلاش کررہی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’پہیلیاں کیوں بجھوارہی ہے ‘کھل کربات کر۔‘‘
’’بات تو پورے محلے میں کھل چکی ہے اور کیا کھل کربات کروں۔ تجھے اورپیٹر کوتو شرم ہے نہیں۔‘‘
’’زبان سنبھال کربات کر جوجی میں آرہاہے بکے جارہی ہے۔‘‘
’’بک نہیں رہی وہی کہہ رہی ہوں جو پورامحلہ کہہ رہا ہے۔‘‘
’’بھاڑمیں جا تو اور تیرے ہوتے سوتے‘ نکل یہاں سے۔‘‘ پروین آپے سے باہر ہوگئی۔ وہ غصہ سے کانپ رہی تھی۔
’’تجھ جیسی آوارہ بدچلن کومیراہی شوہر ملا تھا۔ خداوند ایسی عورتوں سے بچائے جو دوسروں کے گھروں کوبرباد کرتی ہیں۔‘‘
’’خبردار جو ایک لفظ بھی اور منہ سے نکالا تو خون پی جائوں گی میں تیرا۔‘‘ پروین نے بپھری ہوئی شیرنی کی طرح جھپٹ کرنسرین کی گردن پکڑ لی۔ نسرین نے بھی اس کے با ل پکڑ لیے وہ دونوں گتھم گتھا ہوگئیں۔ دونوں ہاتھا پائی کرتی ہوئی دروازے تک آگئی تھیں۔ جہاں محلے والے جمع ہو کر تماشا دیکھ رہے تھے۔ پروین نے اسے دھکا دے کرگھر سے نکال دیا۔ نسرین بکتی جھکتی اپنے گھر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد بشیر گھرآیا تو گلی میں ولسن نے اسے روک لیااور اس کے گھر میں پیش آنے والے جھگڑے کی تمام روداد اسے کہہ سنائی۔
’’یسوع تم پررحم کرے بشیر۔‘‘ ولسن نے کہا۔ بشیر انتہائی پریشانی کے عالم میں گھر کی طرف بڑھا۔
وہ کرسی پر سرپکڑے بیٹھاتھا پروین پانی کاگلاس لیے اس کے پاس آئی۔
’’لے پانی پی لے پھر جو پوچھنا ہے پوچھ لینا۔‘‘
بشیر نے پانی کاگلاس ہاتھ مار کے دور اچھال دیا۔
’کیوں کیا تونے ایسا بول کیوں لڑی تو نسرین سے۔‘‘ بشیر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
’’یہ سوال تو نسرین سے پوچھ میں نہیں گئی تھی اس کے پاس لڑنے وہ ہمارے گھر آئی تھی۔‘‘
’’وہ کیوں آئی تھی لڑنے یہی وجہ پوچھ رہاہوں؟‘‘
’’تو وہی سوچ رہا ہے ناجو نسرین …‘‘ وہ بے بسی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’میرے سوچنے سے کیا ہوتا ہے تو آج یہ بتادے تیرے دل میں کیاہے ؟ تو کیا چاہتی ہے؟‘‘
’’یہ تو اب پوچھ رہا ہے شادی کے دوسال بعد۔‘‘ اس نے آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ تو… تو بھی اوروں کی طرح سوچ رہا ہے نا کہاں گئی تیری محبت جس کاتو اٹھتے بیٹھتے دم بھرتاتھا۔‘‘
’’پوری برادری کی نظریں مجھ پر لگی ہیں کہ میں کیا فیصلہ کرتاہوں۔‘‘
’’تو کرنا فیصلہ کیوں نہیں کرتا… مرد ہو کرفیصلہ کرنے سے ڈرتا ہے تو ٹھیک ہے پھراس کمزور عورت کافیصلہ سن میں ابھی اور اسی وقت تیری زندگی سے نکل رہی ہوں۔اس لیے نہیں کہ مجھے تجھ سے محبت نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ تیرا بھروسا مجھ پر سے اٹھ چکا ہے۔‘‘ وہ رونے لگی۔
’’اور جاتے جاتے ایک بات میں تجھے بتادوں‘ عورت کو بے وقوف سمجھنااور بے وقوف بنانا آسان نہیں ہے۔ عورت اپنے رشتے نبھانا خوب جانتی ہے۔‘‘ وہ جانے کے لیے پلٹی‘ تو بشیر اس کے پیچھے لپکا۔
’’نہیں جا پینو رک جا۔‘‘
’’نہیں بشیر میں نہیں رکوں گی تو مجھ پر شک کرکے اپنا حق کھوچکاہے۔‘‘ وہ تیزی سے گھر سے نکل گئی۔ وہ وہیں دہلیز پر بیٹھ کررونے لگا۔
/ …/ …/
پروین اپنے ماں باپ کے گھر عیسیٰ نگری چلی گئی تھی۔ وہ کیا گئی کہ جیسے زندگی اس سے روٹھ گئی۔ دنیا بشیر کی آنکھوں کے سامنے اندھیر ہوگئی۔ کئی دن تووہ ڈیوٹی پر بھی نہیں گیا‘ محلے والوں اور رشتے داروں سے ملنااس نے چھوڑ دیا تھا۔ سارا سارا دن یاتوگھر پر پڑارہتا یا چرچ چلاجاتا اور صلیب کے سامنے بیٹھا روتارہتا۔
’’پروین آئی؟‘‘ اس دن فادر نے پوچھا۔
’’نہیں فادر پہلے تووہ کبھی اتنے دن مجھ سے ناراض نہیں ہوئی۔ ایک دو دن میکے رہ کرآجاتی تھی۔ یہ توایک ہفتہ ہوگیااسے گئے ہوئے نہ فون اٹھاتی ہے نہ بات کرتی ہے۔ اس کی ماں بھی اسے سمجھاسمجھا کر تھک گئی ہے۔‘‘
’’یسوع نے چاہا تو وہ واپس آجائے گی۔‘‘
’’مجھ سے بڑا گناہ ہوگیا فادر… اس پر شک کرکے وہ ایسی ویسی عورت نہیں ہے۔‘‘
’’خداوند معاف کرے‘ کل چرچ میں اسپیشل دعا کروائی جائے گی۔ پروین ضرور واپس آجائے گی۔ خدا وند تم پراپنا کرم کرے گا بیٹا‘ہمت رکھو۔‘‘ فادر سینے پر کراس بناتے ہوئے بولے۔ ’’ادھر گوگی چیمپئن نے بھی تنگ کیاہواہے روزانہ اس کاکوئی نہ کوئی ساتھی آکر دھمکی دے جاتا ہے۔ اس کی دی ہوئی مہلت ختم ہونے والی ہے۔‘‘
’’کوئی بندوبست نہیں ہوانا۔‘‘
فادر نے نفی میں سرہلایا۔’’ہرکوشش کرکے دیکھ لی‘ پر بات بنتی نظر نہیں آرہی۔‘‘
’’پہلے صرف ایک فکر تھی فادر چرچ کی فکر اب توایک اور غم بھی لگ گیا ہے۔‘‘بشیر مایوسی سے بولا۔
’’خیر تم جائو خداوند کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔‘‘ فادر نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کرتسلی دی۔
وہ سرجھکائے تھکے تھکے قدمو ں سے باہر نکل گیا۔
/ …/ …/
حاجی عبدالقدوس کاخانسامہ رشید ان کاپرانا ملازم تھا۔ وہ بشیر کے کھانے پینے کابڑا خیال رکھتاتھا۔ ان دونوں میں بڑی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ بشیراکثر اسے اپنے گھریلو حالات بھی بتادیاکرتاتھا۔
اس دن بشیر چھٹی کے بعد جانے کی تیاری کررہاتھا کہ رشید نے اسے روک لیا ’’میں نے چائے بنائی ہے پی کر جانا۔‘‘ وہ دونوں لان میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر چائے پینے لگے۔ بشیر کو پریشان دیکھ کر جب اس نے استفسار کیا تو بشیرنے تمام حالات اسے کہہ سنائے۔ اس نے رشید سے مشورہ کیا کہ اگر وہ حاجی صاحب سے قرضے کی درخواست کرلے تو کیا وہ مان جائیں گے؟ یہ سن کر رشید سوچ میں پڑگیا‘ پھر وہ بولا۔
’’یار حاجی صاحب اپنے اصولوں کے بڑے پکے ہیں۔ وہ ہم ملازموں سے ایک ایک پیسے کاحساب لیتے ہیں اور پھر تمہیں یہاں ملازم ہوئے زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا۔ میرا خیال ہے وہ انکار کردیں گے۔‘‘
بشیر مایوسی سے سرہلا کررہ گیا۔ پھر کچھ دیر بعد رشید بولا۔
’’اگر تم ہمت کرو توایک آئیڈیا ہے میرے پاس چرچ کامسئلہ چٹکی میں حل ہوجائے گا اور میرا اور تمہارا بھی بھلا ہوجائے گا۔‘‘ وہ ادھر ادھر دیکھ کر رازداری سے بولا۔
’’جلدی بتا کیا آئیڈیا ہے؟‘‘ بشیر دلچسپی سے بولا۔
’’تمہیں تو پتا ہے حاجی صاحب بہت بیمار اور بوڑھے ہیں‘ یہاں ان کا کوئی نہیں‘ گھر والے سب ملک سے باہر ہیں‘ وہ یہاں ہم ملازمین کے سہارے ہی زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘
’ہاں تو پھر؟‘‘
’’پھریہ کہ حاجی صاحب بہت امیر ہیں‘ ان کے بیڈ کے سرہانے جو تجوری رکھی ہے اس میں انہوں نے بڑامال اکٹھا کیا ہواہے‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سیروں کے حساب سے تو سوناہی ہے نوٹوں کی گڈیاں الگ۔ تجوری کی چابی میں اڑالوں گا‘ توبولے تو آج ہی کارروائی ڈال دیتے ہیں۔‘‘ اس نے نہایت دھیمی آواز میں اپنا فیصلہ اسے سمجھایا۔بس تمہیں حاجی صاحب کو بے ہوشی کاانجکشن لگاناہوگا۔‘‘ یہ سنتے ہی بشیربھڑک گیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’او شرم کر لوٹ کے مال سے چرچ بچائوں گا۔ لعنت ہے تیری اس گھٹیا سوچ پر تو مجھے چوری کرنے کو کہہ رہا ہے۔ ‘‘
’’میں نے تو تیری مدد کے خیال سے کہاتھا پھر بچالے چرچ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے بچائے گا؟‘‘
/ …/ …/
وہ دو دن سے بخار میں پھنک رہاتھا اور چارپائی پر بے سدھ پڑا تھااسے شدید پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے نیم بے ہوشی کے عالم میںپکارا۔
’’او پینو پانی پلادے۔‘‘ وہاں کوئی ہوتاتو سنتاخالی گھر بھائیں بھائیں کررہاتھا۔ اسے ایک دم یاد آیا کہ پروین تو اس سے روٹھ کر چلی گئی ہے وہ اٹھ بیٹھااوردونوں ہاتھوں سے سر تھام کررونے لگا۔
’’لے چاچا پانی پی لے۔‘‘ نسرین پانی کاگلاس لیے کھڑی تھی۔
’’نسرین تو کب آئی؟‘‘
’’جب توپانی مانگ رہا تھا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’تو رو رہا ہے؟‘‘
’’میںکہاں ر ورہا ہوں۔‘‘ بشیر اس سے نظریں چراتے ہوئے بولا۔
’’پروین کے لیے تیرے دل میں چھپا پیار تیری آنکھوں سے ٹپک رہا ہے چاچا۔‘‘پھر وہ ٹھہر کر بولی۔ ’’مجھے معاف کردے مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔’’یہ آگ میری لگائی ہوئی ہے جس کے شعلوں نے تیرے گھر کوجلادیا چاچا تو ایک باراسے لے آ میں پیر پکڑ کر اس سے معافی مانگ لوں گی‘ میرا شک بے بنیاد تھا۔‘‘
’’میرا بس چلے توابھی اسے لے آئوں پراس نے دھمکی دی ہے کہ بشیر مجھے لینے آیا تو میں خود کوختم کرلوں گی۔ نسرین وہ ماں بننے والی ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہیں وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچالے۔ بتاکیا کروں اسے کیسے لائوں؟‘‘
’’توفکر نہ کرچاچا میں خود اس کے گھر جائوں گی۔ اس سے ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگوں گی اور کسی بھی طرح اسے منا کر لے آئوں گی۔‘‘ ابھی وہ باتیں کرہی رہے تھے کہ پیٹر بھی آگیا۔
’’کیوں آیاتویہاں اپنی منحوس شکل لے کر’؟‘‘
’’کہہ لے چاچا کہہ لے جو تیرے جی میں آئے کہہ لے سچ تو یہ ہے کہ میرے دل میں اس کے لیے کوئی برائی نہیں تھی۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا چاچااور پروین چاچی بھی بہت نیک اور بے عیب عورت ہے۔‘‘ وہ اس کے پاس قدموں میں بیٹھا کہہ رہا تھا۔
’’اچھا تو اب اس کی نیکی کی گواہی مجھے تیرے منہ سے سننا پڑے گی۔ اوبے غیرت تیری وجہ سے میں نے اپنی بے قصور بیوی پرشک کیا جاچلاجا کہیں غرق ہوجا‘ دور ہوجا میری نظروں سے۔‘‘
’’مجھے معاف کردے چاچا میں شرمندہ ہوں۔ میری وجہ سے یہ سب ہوا ہے میں خود چاچی کومنانے جائوں گا۔‘‘
نسرین اور پیٹر دیر تک بیٹھے اسے دلاسادیتے رہے۔
وہ جمعہ کادن تھا‘ بشیر مسیح صبح سویرے حاجی صاحب کے گھر ڈیوٹی پرجانے کے لیے نکلا راستے میں وہ چرچ کے سامنے رک گیا اور بڑی حسرت زدہ نظروں سے اپنی عبادت گاہ کو دیکھنے لگا۔
موتی مسجد سے ظہر کی اذان کی آواز بلند ہو رہی تھی۔ حاجی عبدالقدوس نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد جانے کے لیے تیار تھے۔ رشید غالباً سودا سلف لینے باہر گیاہواتھا‘اب بشیر کی ڈیوٹی تھی کہ وہ حاجی صاحب کو ویل چیئر پر مسجد لے جائے۔
وہ حاجی صاحب کی وہیل چیئر کو دھکیلتا ہوا مسجد کی سمت بڑھا… نمازی جوق درجوق موتی مسجد کی طرف رواں دواں تھے۔ آج انہیں گھر سے نکلنے میں کچھ دیر ہوگئی تھی۔ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور وہاںتل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ بحرحال اس نے حاجی صاحب کو مسجد کے اندر پہنچایااورخود باہر سیڑھیوں کے پاس جہاں گارڈ بیٹھاتھا زمین پر بیٹھ گیا۔
اس نے ایک نظر مسجد کی پرشکوہ عمارت کوپھراس کے اندر صفیں باندھے ہوئے نمازیوں کودیکھا جونماز ادا کررہے تھے۔ اس کا دل بھرآیا‘ وہ دل ہی دل میں اللہ سے مخاطب تھا۔
’’اے مسلمانوں کے خداجی جیسے یہ آپ کاگھر ہے ویسے وہ بھی آپ کا گھر ہے جو گرایاجارہاہے‘ پرمیں بے بس ہوں کچھ نہیںکرسکتا‘ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور ساری زندگی ایمانداری سے بسر کی ہے‘ چرچ کوبچانے کے لیے مجھے ہمت عطا کردیں‘ میری بے بسی دور کردیں‘ اس گھر کے صدقے اس گھر کوبچالیں۔ خداجی ‘ایک مسیحی نے آپ کوپکارا ہے…میری پکار سن لیں۔ میری فریاد سن لیں۔ میں آج یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جائوں گا۔ وہ بڑے جذب کے عالم میں دعا مانگ رہاتھا۔
اسی وقت اس کی نظر اس موٹر سائیکل پر سوار لڑکے پرپڑی جو تیزی سے موٹر سائیکل روک کراتراتھااور عجلت میں مسجد کی طرف بڑھ رہاتھا۔ اس نے جیکٹ پہنی ہوئی تھی اوروہ بہت گھبرایاہوا لگ رہاتھا۔ اسی وقت اس نے سامنے سے کھلی ہوئی جیکٹ کے اندر ہاتھ ڈال کرکچھ چیک کیاتھا… اسی لمحہ بشیر مسیح کی نظر اس کی جیکٹ کے اندر چھپی تاروں پرپڑی‘ چشم زدن میں بشیر کے ذہن میں جھماکا ساہوا‘ وہ یقینا خود کش حملہ آور تھا۔ وہ تیزی سے اٹھااوراس نوجوان کی طرف لپکا۔
’’او بھائی ایک منٹ کہاں جارہے ہو رکو۔‘‘
وہ پہلی سیڑھی پرقدم رکھ چکاتھا بشیرنے اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔
’’چھوڑو مجھے ۔‘‘ وہ زور آزمائی کرنے لگا۔
’’نہیںچھوڑوں گا…اندر نہیں جانے دوں گا۔‘‘ اس نے جھٹکے سے خود کوچھڑایااور آگے بڑھاہی تھا کہ بشیر نے سنبھل کر اس کی جیکٹ کاکالر پیچھے سے پکڑتے ہوئے اسے کھینچا۔ نہ جانے اس وقت بشیر میں اتنی طاقت کیسے آگئی تھی کہ اس نے نوجوان کو اپنے دونوں بازوئوں میں اٹھا کر دو رپھینک دیا۔ گارڈ حیران پریشان دیکھتا رہ گیااس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی جیسے مفقود ہوگئی تھیں۔
نوجوان کے باہر گرتے ہی کان پھاڑ دینے والا ایک زوردار دھماکا ہوا بشیربھی جھٹکے سے دور جاگراپھراسے ہوش نہ رہا۔
شہر بھر کی سائرن بجاتی ایمبولینس‘ فائر بریگیڈ‘ اور پولیس کاعملہ جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوگیاتھا۔ ٹی وی پربریکنگ نیوز آرہی تھیں اور یہ خبر چند ہی لمحوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی کہ ڈیفنس میں واقع موتی مسجد پر خودکش دھماکا ہواہے۔ دہشت گرد جس گاڑی پرجاگرا تھا وہ مکمل طور پرتباہ ہوگئی تھی۔ دہشت گرد نے گرتے گرتے اپنی خودکش جیکٹ کابٹن دبادیاتھا جس کے نتیجے میں یہ زور دار دھماکا ہواتھا۔ اس دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی تھی۔ آس پاس عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ بشیر ‘گارڈ او رایک دو راہ گیر زخمی ہوئے تھے جس میں بشیر مسیح سب سے شدید زخمی ہواتھا۔ اسے فوری طور پر قریبی اسپتال لے جایا گیاتھا جہاں اسے طبی امداد دی جارہی تھی۔ آپریشن تھیٹر میں اس کا آپریشن جاری تھا‘ اس کاایک بازو کئی جگہ سے فریکچر تھااور چہرے اور گردن پربھی گہرے زخم آئے تھے‘ باقی زخمیوں کوبھی طبی امداد دی جارہی تھی۔
پروین کو بھی کسی نے فون کردیاتھا۔ وہ فوری طور پراسپتال پہنچ گئی تھی اور اس وقت آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھی زاروقطار رو رہی تھی۔ بشیر کی برادری کے بہت سارے لوگ بھی باہر موجود تھے۔
’’ نہ رو چاچی … ڈاکٹر نے بتاتودیاہے چاچا کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘‘
’’سچ سچ بتا نسرین وہ بچ تو جائے گا؟‘‘
’’وہ بالکل بھلا چنگا ہے‘ آپریشن کے بعد اس کا بازو ٹھیک ہوجائے گا۔ تمہاری دعائوں سے وہ بچ گیا ہے۔ ایک تو تم روئے جارہی ہو‘ دوسرے تم نے اسے چھوڑ بھی رکھاتھا۔ سچ کہہ رہی ہوں چاچی وہ تم سے بہت محبت کرتاہے‘ ہروقت وہ تمہیں یاد کرتاتھا‘ تم نے اسے بڑی سزا دے دی ہے۔‘‘
پروین پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔
آپریشن ہوئے چوتھادن تھا‘ بشیر کو وارڈ میں شفٹ کردیاگیاتھا۔ پروین آج اس کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنا کر لائی تھی اور اپنے ہاتھوں سے اسے کھلارہی تھی‘ جب چند افراد کمرے میں داخل ہوئے‘ ان میں سے نورانی چہرے اور لمبی سفید داڑھے والا ایک شخص آگے بڑھااور بشیر کی خیروعافیت دریافت کی پھر کہا۔
’’بشیر مسیح تم نے جس طرح اپنی جا ن کی پروا نہ کرتے ہوئے اللہ کاگھراور سیکڑوں قیمتی جانوں کوبچایاہے اس نے ہمارا دل جیت لیا ہے۔ اس لیے حاجی عبدالقدوس اور مسجد کی انتظامی کمیٹی کے باقی ارکان نے تمہیں یہ رقم دینے کافیصلہ کیاہے جواگرچہ تمہاری ہمت اور شجاعت کے سامنے کچھ بھی نہیں لیکن بہرحال اس پرتمہارا حق ہے۔‘‘ انہوں نے تین لاکھ خطیر رقم کاچیک بشیر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں سرجی یہ تومیرافرض تھا۔ میں نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔‘‘
’’یہ رکھو بشیر یہ ہم اپنی خوشی سے تمہیں دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے رقم کاچیک بشیر کو پکڑاتے ہوئے کہا۔’’حکومت کی طرف سے جوانعام ملے گا یہ اس کے علاوہ ہے۔ بزرگ شخص نے بشیر کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا پروین منہ کھولے حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
ان کے جاتے ہی اخباری رپورٹرز اور ٹی وی چینلز والوں نے یلغار کردی۔ بشیرتسلی سے انہیں واقعہ کی تفصیلات بتاتارہا۔چہار سو اس کی ہمت‘ بہادری اور شجاعت کی داد دی جارہی تھی۔
سہ پہر کو فادر بشیر کاحال احوال پوچھنے اسپتال آئے ہوئے تھے اوراس کے پاس بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اسی قت ایک ایم این اے بمعہ اپنے لائو لشکر کے بشیر کے پاس آئے اور بشیر کی خیریت دریافت کی پھر کہا۔
’’حکومت کی طر ف سے انعامی رقم کاچیک ایک دو دن میں تمہیں مل جائے گااور بتائومزید ہم تمہارے لیے کیا کرسکتے ہیں؟‘‘
بشیر نے کہا۔ ’’نہیں کچھ نہیں جی یہ کیا کم ہے کہ آپ لوگ اتنااچھا میرا علاج کروارہے ہیں۔‘‘
اسی وقت فادر نے کہا۔ ’’بیٹا اب میں چلتاہوں‘ شام کو گوگی چیمپئن اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے گا‘ آج اس کی دی ہوئی مہلت کاآخری دن ہے۔ چرچ ہمارے ہاتھ سے چلاجائے گا۔‘‘ ان کے لہجے میں گہری اداسی تھی۔
’’خداوند پریقین رکھیں فادر اس سے ایک دو دن کی مہلت اور لے لیں‘ رقم کاانتظام ہوجائے گا۔‘‘
’’کیابات ہے بشیر؟‘‘ ایم این اے بولے۔
’’کچھ نہیں صاحب۔‘‘ بشیر نے کہا۔
’’فادر آپ بتائیں یہ گوگی چیمپین کون ہے ؟ اور چرچ کا کیامسئلہ ہے ؟‘‘
فادرانہیں تفصیل سے آگاہ کرنے لگے۔ تمام تفصیلات سن کروہ بولے۔
’’پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کاحق حاصل ہے‘ یہاں کسی عبادت گاہ کومسمار نہیں کیاجاسکتا‘ فادر آپ بے خوف ہو کر اپنی عبادات کریں گوگی چیمپیئن وغیرہ کو دیکھ لیاجائے گا‘ اس بات کامیں آپ کویقین دلاتاہوں۔‘‘
اسی شام گوگی چیمپئن کو اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیاگیاتھااور علاقے میں موجود اس کے جوئے اور منشیات کے اڈے مسمار کردیئے گئے تھے۔ دو دن بعد کرسمس تھی علاقے کے تمام افراد خوشی سے نہال تھے۔ بشیر مسیح صحت مند ہو کر گھر آچکاتھا۔
’’دیکھو پینو کیسی کمیٹی کھلی میری۔‘‘ بشیر نے ہنستے ہوئے پروین سے کہا۔
’’کمیٹی سے یاد آیا‘ میر ی کمیٹی کے پیسے کہاں ہیں؟ جلدی نکال مجھے کرسمس کے لیے سونے کاسیٹ اور کپڑے لینے ہیں اور تیرے لیے نیاجوتابھی تولیناہے۔‘‘وہ زور سے ہنس پڑا۔
’’قسم خدا وند کی پینو میں نے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا‘ وہ اندر پیٹی میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
’’ہاتھ لگا کر دیکھتانا پھربتاتی تجھ کو۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی اندر چلی گئی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close