NaeyUfaq Feb-18

دھن کی پکی

خلیل جبار

ۘ

نائلہ نے خودکشی کرلی تھی۔ اخبارات نے اس کی خودکشی کوبڑھاچڑھا کر بیان کیاتھا۔ میری نظر میں نائلہ نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے اس کاقاتل کوئی اور نہیں میں ہوں۔ میں اس کی زندگی میں نہیںآتا تووہ کبھی بھی خودکشی جیسے جرم کاارتکاب نہیں کرتی۔ نائلہ کے لواحقین مجھے اس کاقاتل قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں مگر دنیا کی کوئی عدالت مجھے نائلہ کاقاتل قرار نہیں دے سکتی… نائلہ کے خودکشی کرنے کے اقدام سے میں اپنی ہی نظروں میں گر گیاہوں۔ میں خود کولعنت وملامت کررہاہوں مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا‘ گزراوقت پھرلوٹ کر نہیں آتا‘ خود کو لعنت ملامت کرنے سے نائلہ پھر سے زندہ نہیں ہوسکتی‘ یہ تلخ حقیقت ہے کہ نائلہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔
میری نائلہ سے فیس بک پر دوستی ہوئی تھی۔ اس سے دوستی سے قبل بھی میری مختلف لڑکیوں سے دوستی رہی تھی۔ وہ اس قدر جذباتی لڑکیاں نہیں تھیں جتنا نائلہ تھی وہ مجھے اپنا سب کچھ سمجھنے لگی تھی‘ اور مجھ سے شادی کی خواہشمند تھی۔ میری طبیعت ایک بھنورے کی سی ہے۔ ہر کلی کارس چوسنا …میری جب نائلہ سے دوستی ہوئی مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ میری ہی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ جب مجھے علم ہوا کہ وہ میری ہی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اور یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتی ہے‘ میں خوش ہوگیا کہ اس سے ملاقات آسانی سے ہوجائے گی‘ جب میں نے اس مقصد کے لیے موبائل پر پہلی بار کال کی وہ ذرا گھبرائی۔
’’میں کیسے آپ سے ملاقات کروں گی‘ میرے ساتھ ہر وقت ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیاں رہتی ہیں۔‘‘
’’کیاہروقت رہتی ہیں؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’میں سمجھی نہیں…‘‘ وہ بولی۔
’’میرے کہنے کامقصد یہ ہے کہ جب تم پڑھنے جاتی ہوگی اس وقت وہی لڑکی تمہارے ساتھ رہتی ہوگی جو تمہارے ساتھ کلاس میں پڑھتی ہے۔‘‘
’’جی… جی ہاں۔‘‘
’’کبھی طبیعت خراب ہونے پر تم ان سے پہلے بھی ہاسٹل آجاتی ہوگی۔‘‘
’’ہاں مگر طبیعت خراب ہونے پر ایسا کرتی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’نائلہ میری خاطر کبھی اپنی طبیعت کوخراب کرلو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’طبیعت خراب کرلوں؟‘‘
’’ہاں طبیعت کابہانہ کرکے کلاس سے باہر آجائو‘ ہم تھوڑی دیر کوکہیں بیٹھ کرباتیں کرلیں گے اور تمہاری سہیلیوں سے پہلے میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ دوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم مجھے دیکھنا چاہ رہے ہو۔‘‘نائلہ بولی۔
’’میں نے تمہیں فیس بک پر دیکھا ہے اور اب میں چاہتا ہوں کہ تمہیں روبرو دیکھوں۔‘‘
’’میری تصویریں دیکھ کر جی نہیں بھرا۔‘‘ نائلہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اخبارات میں بے شمار تصاویر آتی ہیں لیکن جن کی تصاویر آتی ہیں وہ ان کی جوانی کی تصاویر ہوتی ہیں‘ حقیقت میں وہ ایسے نہیں ہوتے۔‘‘
’’سریہ کن لوگوں کی باتیں کررہے ہیں؟‘‘
’’میں شاعر ادیبوں کی بات کررہاہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ایسا شاعرہ اور ادیبہ بھی کرتی ہیں۔‘‘ اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا۔
’’ہاں میں نے ایک جنرل بات کی ہے ایسا اکثر ہوتاہے۔‘‘
’’لیکن میں نے ایسا نہیں کیا میں جیسی ہوں میری ایسی ہی تصاویر فیس بک پر ہیں۔‘‘
’’اسی لیے میں اس حسن کے شاہکار کوقریب سے دیکھنا چاہتاہوں۔‘‘
’’کیامیری بات پرتمہیں یقین نہیں ہے۔‘‘
’’یقین ہے جبھی تم سے دوستی چل رہی ہے ورنہ کبھی کی ختم ہوجاتی۔‘‘
’’وہ کیوں ؟‘‘
’’وہ اس لیے نائلہ کہ مجھے جھوٹے لوگ پسند نہیں ہیں۔ میں سچ کوپسند کرتاہوں اور ان لوگوں کو دوست بنانا پسند کرتاہوں۔‘‘
’’ہاں انسان کوایسا ہی ہونا چاہیے۔ جھوٹ آخر جھوٹ ہوتا ہے۔‘‘
’’پھر کب بیمار بن رہی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تم نے ابھی کیاکہا کہ تمہیں جھوٹ پسند نہیں ہے پھر میں کیسے جھوٹ موٹ بیمار بن سکتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مجھے اس کی بات پرہنسی آگئی‘ بات اس نے واقعی درست اور موقع محل سے کرکے مجھے لاجواب کردیاتھا۔
’’اس طرح پھر کبھی ہماری ملاقات نہ ہوسکے گی۔ ملاقات کرنے کوجھوٹ موٹ کا بیمار ہونا ضروری ہے۔‘‘
’’مجھے جھوٹ بولنے میں کوئی قباحت نہیں بس میں اس بات سے ڈررہی ہوں کہ تمہیں جھوٹے لوگ پسند نہیں ہیں۔‘‘ نائلہ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں اپنی بات میں تھوڑی ترمیم کرلیتاہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’وہ کیا؟‘‘ وہ چونکی۔
’’جن کے ملنے سے خوشی حاصل ہو ان کے جھوٹ بولنے پرمجھے خوشی ہوتی ہے۔‘‘
’’دیکھ لیں انسانوں کواپنے اصول بہت عزیز ہوتے ہیں اور تم میری خاطر اپنے اصول توڑ رہے ہو۔‘‘
’’کچھ لوگ انسان کواتنے عزیز ہوتے ہیں کہ ان کی خاطر اصول توڑنے پڑجاتے ہیں۔‘‘
’’اس کامطلب ہے میرے علاوہ بھی اور ایسے لوگ ہیں جن کی خاطر تم اصول توڑ لیتے ہو۔‘‘
’’میںنے یہ کب کہا ہے ؟‘‘
’’ابھی ابھی تم نے کہا ہے کہ کچھ لوگ اس کامطلب یہ ہوا کہ میرے علاوہ بھی …‘‘
’’ارے بھئی تم غلط سمجھے ‘ورنہ میں تمہاری بات سن کرگھبراگئی تھی۔‘‘ وہ بولی۔
’’گھبرائو نہیں اور ملاقات کے لیے آئو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے تمہارے اصرار پر میں ضرور ملاقات کے لیے آئوں گی۔‘‘ وہ بولی۔
’’لیکن کب؟‘‘ میں بے تابی سے بولا۔
’’اگلا ہفتہ ٹھیک رہے گا۔‘‘
’’ایک ہفتہ کیسے گزرے گا میں چاہ رہاہوں کہ ابھی آجائو۔‘‘
’’ابھی میں کیسے آسکتی ہوں‘ میں ہاسٹل میں ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’کل ملاقات کرلو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کل…‘‘ وہ سوچ میں پڑگئی۔
’’کیوں کیاہوا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میں وعدہ نہیں کرتی میں کوشش ضرور کروں گی کہ ہماری ملاقات کل ہوجائے۔‘‘
’’میں تمہیں کال کرلوں گا۔‘‘میں نے یہ کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔
دوسرے دن میں یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس گاڑی میں اس کاانتظار کرنے لگا‘ میں نے صبح ہونے پر سب سے پہلے بتادیاتھا کہ میں اس کاکہاں انتظار کروں گا۔ وہ بیماری کا بہانہ بنا کر میرے پاس آگئی ۔ میں اسے کار میں بٹھا کر شہر کے ایک مشہور ہوٹل میں لے گیا۔ میرا طریقہ واردات یہی تھا کہ میں پہلی ملاقات میں کسی قسم کی کنجوسی نہیں کرتاتھا‘بلکہ اپنی شاندار گاڑی اور اچھے ہوٹل میں لے جاکر لڑکی کی خوب خاطرمدارت کرتاتھا جس سے لڑکی مرعوب ہوجاتی تھی‘ نائلہ بھی پہلی ملاقات میں میری خاطر مدارت پر خاصی مرعوب ہوگئی تھی۔
’’تم نے بہت تکلف کرڈالا۔‘‘ وہ بولی۔
’’کیساتکلف دوستی میں سب چلتاہے۔ دوستوں کابھی کچھ حق ہوتا ہے کہ ان پر تھوڑا بہت خرچ کیاجائے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تھوڑا بہت سمجھ میں آتا ہے لیکن اتنا ڈھیر سارا سامان منگوانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب بچ جائے گا۔‘‘
’جتنا کھاسکتی ہو کھالو‘ جو بچ جائے گا وہ کچرے میں چلاجائے گا۔‘‘
’’آئندہ ایسا نہیں کرنا۔‘‘
’’کیانہیں کرنا؟‘‘ میںنے انجان بنتے ہوئے کہا۔
’’اتنا کھانا ہی منگوانا جتنا ہم کھاسکیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں آئندہ اتنا ہی کھانا منگوائوں گا جتنا کھاسکیں۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہماری پہلی ملاقات بہت اچھی رہی۔ میری زندگی میں آنے والی حسین لڑکیوں کی طرح وہ بھی حسن میں کسی سے کم نہ تھی۔ میں اس کے حسن سے بہت متاثر ہوا تھا‘ میں نے وقت سے پہلے اسے یونیورسٹی کے گیٹ پر اتار دیاتھااور وہ وہاں سے ہاسٹل پہنچ گئی تھی۔
میں نے فیس بک پر اسے جیسادیکھاتھا‘ وہ اس سے بھی بڑھ کرحسین نکلی تھی‘ میں اسے دیکھ کر بے چین ہوگیاتھا۔ میں جلد بازی کامظاہرہ کرکے اسے ہوشیار نہیں کرناچاہتاتھا‘ جلد بازی میں شکار ہاتھ سے نکل جاتا ہے‘ صبر ‘برداشت سے شکار جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح آگرتا ہے‘ نائلہ پہلی ملاقات میں مجھ سے اورمیری باتوں سے بہت متاثر ہوئی تھی۔ دوسری ملاقات ہونے پر میں نے نائلہ کومتاثرکرنے کوکھانے پینے کازیادہ سامان منگوالیا۔ اس نے مجھے کئی بار روکابھی مگرمیں نے اس کی سنی ان سنی کردی۔ کھانے پینے کاسامان زیادہ آیاتھا اس لیے بچ گیا۔
’’میں نے کہاتھاناکہ زیادہ منگوارہے ہو‘ دیکھ لو کتنا بچ گیا۔‘‘ اس نے ناراضگی کااظہار کیا۔
’’ایسا کرتے ہیں جو بچ گیا ہے تمہاری سہیلیوں کے لیے پیک کرالیتے ہیں۔‘‘ میں نے پیشکش کی۔
’’اچھانہیں لگے گا۔‘‘ وہ بولی۔
’’ہم کہہ دیں گے کتے بلیوں کے لیے پیک کرارہے ہیں۔‘‘میں نے کہا۔
’’ایساہرگز نہ کہنا۔‘‘ وہ گھبراتے ہوئے بولی۔
’’وہ کیوں ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تم نے وہ لطیفہ نہیں سنا کہ ایک صاحب کو ہڈیاں چوسنے کابہت شوق تھا‘ اس نے ہوٹل میں کھانامنگوایا‘ کھانے میں ہڈیا ں بھی اچھی تھیں انہیں دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ ہڈیاں بھی چوس لے مگر ہوٹل میں سب لوگوں کے سامنے مذاق بننے کا خیال آگیا‘ اس لیے اس شخص نے گھرجاکر ہڈیاں چوسنے کاپروگرام بنالیااور بیرے کواپنے کتے کے نام سے ہڈیاں پیک کرنے کاآرڈر دے دیا۔ بیرے نے ہوشیاری دکھائی اوراس نے دوسرے لوگوں کی بچی ہوئی ہڈیاں بھی ان ہڈیوں میں پیک کرکے یہ بات ان صاحب کو بتابھی دی۔‘‘
’’تمہارا لطیفہ اچھا ہے مگر ضروری نہیں کہ حقیقی زندگی میں بھی ایسا ہو‘ یہ بیرے بہت سمجھدار ہوتے ہیں‘ ٹپ کے چکر میں سارے کام ٹھیک کرتے ہیں۔‘‘ میں نے زوردار قہقہہ لگایا۔ میرے قہقہہ لگانے پر وہ بھی مسکرا کررہ گئی۔
میری دو دعوتوں نے ہی اس پراچھا رنگ جمع دیاتھا۔ اب میں جب بھی اسے کال کرتاوہ فوراً کال کواوکے کردیتی تھی۔ اس کے بعد بھی ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں میں نے ایسی کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کی جس سے میرے بارے میں اس کے ذہن میںغلط تاثر پیدا ہو وہ مجھ پر اندھا اعتماد کرنے لگی تھی۔ وہ بہت جذباتی لڑکی تھی وہ مجھ سے جلد سے جلد شادی کرنے کی خواہش مند تھی۔ میں ابھی شادی کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتاتھا‘ انسان کوزندگی ایک بارملتی ہے اس لیے اسے زندگی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرکے گزارنی چاہیے۔ میرا زندگی کے بارے میں یہی نظریہ تھا۔ شادی کرکے انسان ایک بیوی کاہوکر رہ جاتاہے۔ شادی کرکے انسان اپنے آپ کو خودمختلف ذمے داریاں نبھانے کے لیے پابند کرلیتا ہے۔ نائلہ سے چندملاقاتوں میں میں اس نتیجے پر پہنچ چکاتھا کہ وہ خیالوں میں گم رہنے والی لڑکی تھی۔ بہت جلد دوسروں پراعتبار کرلیتی تھی۔ اس کی سادگی کامیں نے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیاتھا۔ میں نے شہر میں ایک فلیٹ اس مقصد کے لیے کرائے پر لیا ہواتھا‘ میں اسے پڑھائی کے اوقات میں ہی اس فلیٹ پر لے جاسکتاتھا جب پہلی بار میں اسے فلیٹ پر لے گیا‘ میرا خیال تھا کہ وہ ڈرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
’’کیا ہم شادی کے بعد اس فلیٹ میں رہیں گے۔‘‘ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔
’’ظاہر ہے کہ میرے پاس جو فلیٹ ہے وہاں ہی تمہیں رہنا پڑے گا۔ اب جیسا بھی یہ فلیٹ ہے تمہیں منظور کرناہوگا۔‘‘
’’یہ فلیٹ میری توقع سے بڑھ کراچھاہے۔‘‘
’’تمہیں پسند آگیا یہ میری خوش نصیبی ہے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں اب اسے کیسے بتاتا کہ یہ فلیٹ میں نے خوبصورت اس لیے بنایاہوا ہے کہ جس لڑکی کو بھی وہاں لائوں وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ‘ اوریہی میرا مقصد تھا جو لڑکی مجھ سے متاثر ہوتی تھی وہ میری بانہوں میں آسانی سے آجاتی تھی۔ میرے فلیٹ سے امیری جھلکتی تھی اور کون لڑکی ایسی ہوگی جو ایسے امیر سے شادی نہ کرناچاہتی ہو ‘ہرلڑکی کاخواب یہی ہوتا ہے‘ خوبصورت شکل وصورت کے ساتھ اس کوگھر بھی اچھا ملے۔
میری لچھے دار باتوں میں آکر نائلہ میری جھولی میں اس طرح آکر گری جیسے پکاہوا پھل آکرگرتاہے۔ میں اس موقع کوخالی نہیں دینا چاہتاتھا‘میں نے اس کابھرپور فائدہ لے لیاتھا۔ ہرلڑکی وقتی طور پر مزاحمت کرتی ہے لیکن پھر وہ اس کام کی عادی ہوجاتی ہے‘ نائلہ بھی میرا شکار بن گئی تھی اور کیسے نہ بنتی میں شکار کرکرکے شکار کرنے کاماہر ہوگیاتھا۔ نائلہ دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں مختلف ثابت ہوئی تھی۔ وہ زبردست طریقے سے میری محبت میں مبتلا ہوچکی تھی او روہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی جب اس کاشادی کامطالبہ شدت اختیار کرنے لگا میں نے اسے سمجھایا۔
’’نائلہ شادی ایک نہ ایک دن سب کوہی کرناہوتی ہے میں ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ شادی کرلوں۔‘‘
’’ایسی کیامجبوری ہے تمہارے ساتھ جو تم شادی نہیں کرسکتے۔‘‘
’’نائلہ تم جو یہ چمک دمک دیکھ رہی ہو یہ سب بینک سے لون لے کر حاصل کیا ہے اور ان کی قسطیں ماہانہ بینک سے کٹوتی ہوتی ہے یونیورسٹی سے جو تنخواہ ملتی ہے اس میں بڑی مشکل سے گزارا ہوتاہے۔ گھر پر بھی پیسے بھیجنا پڑتے ہیں۔‘‘ میں نے فرضی کہانی سنائی۔
’’میں نے سناہے کہ یونیورسٹی کے پروفیسرز صاحبان کی بڑی بھاری تنخواہ ہوتی ہے۔‘‘
’’نائلہ میں ابھی لیکچرار ہوں‘ پروفیسر بننے میں ابھی وقت لگے گا۔‘‘
’’کمال ہے تم نے مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتایاہی نہیں ‘میں سمجھتی رہی ہوں کہ تم اکیلے ہو۔‘‘
’ہماری ملاقاتوںمیں کبھی گھروالوں کے بارے میں بات نہیں ہوئی اس لیے ذکر نہیں آیا۔ میری دوبڑی بہنیں ہیں ان کی بھی شادی کرنی ہے۔‘‘
’’تم مجھے اپنے گھر والوں سے ملوائونا‘میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ میں چونکا۔
’’جس گھر کی مجھے بہو بن کر جاناہے ان سے شادی سے پہلے ملاقات ہونی چاہیے۔ تاکہ ذہنی ہم آہنگی ہوجائے۔‘‘
’’اچھایہ بات ہے واقعی اب تم کوگھر والوں سے ملاناہی پڑے گا۔‘‘ میںنے اسے ٹالنے کو کہا۔
’’کب کرائوگے۔‘‘
’’پہلے مجھے تمہارے بارے میں انہیں بتانا پڑے گا‘ پھرذہنی طور پر شادی کے لیے تیار کرناہوگا کہ میں نائلہ کوپسند کرتاہوں اوراس سے شادی کرنا چاہتاہوں ‘ تم میری اس سے شادی کرادو‘ ورنہ …‘‘
’’ورنہ کیا… کیاوہ ہماری شادی سے انکا ربھی کرسکتے ہیں۔حالانکہ ہم ایک دوسرے کوپسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں‘ لہٰذا انہیں اس رشتے سے انکار نہیں کرناچاہیے۔ میں نے اپنے والدین کو یہ بات بتابھی دی ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کوپسند کرتے ہیں اور شادی کرناچاہتے ہیں۔ انہیں اس رشتے پر کوئی انکار نہیں ہے۔‘‘
’’نائلہ ہمارے یہاں برادری سسٹم ہے ہم برادری سے باہر شادی نہیں کرتے اس لیے پہلے مجھے اس رشتے کے لیے ان کاذہن بنانا پڑے گا‘ پھر میں تمہیں اپنے گھر لے جائوں گا۔‘‘
’’تم زیادہ دیر مت کردینا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہاری شادی کہیں اور نہ کردیں۔‘‘ نائلہ نے کہا۔
’’زندگی مجھے گزارنی ہے ایساکیسے ہوسکتاہے کہ وہ میری مرضی کے خلاف کہیں اور شادی کردیں۔ اگرانہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو میں اس رشتے سے انکار کردوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم پر بینک کازیادہ لون ہے تو پھر سوچ سمجھ کر خرچہ کیا کرو‘ آخر کو ہمیں شادی بھی کرنی ہے۔‘‘ نائلہ نے کہا۔
’’میں سوچ سمجھ کرخرچ کرتاہوں اس لیے اتنا کچھ کرلیاہے کہ شادی کے بعد پریشانی نہ ہو‘ میں تنخواہ پر گزارہ نہیں کرتا‘ میں بورڈ اور یونیورسٹی کے مختلف کام ‘ کاپی چیک کرنا‘ امتحانات میں ڈیوٹی لگوانا‘جیسے کام کرتاہوں‘ اس لیے بہت کم عرصے میں اتنا کچھ کرلیاہے۔‘‘
’’یہ تمہاری محنت ہی ہے کہ جو اتنا کچھ کرلیاہے۔‘‘ نائلہ نے کہا۔
’’ہاں اس لیے کہتے ہیں محنت میں عظمت ہے۔‘‘
’’تم نے شادی کے لیے ذہن بنایاہوگا کہ کتنے سال میں شادی کرنی ہے۔‘‘
’’نائلہ میں نے پیسے کے لیے اپنا ذہن ایسا الجھایاہواہے کہ شادی کی طرف ذہن جاتاہی نہیں ہے۔‘‘
’’پھرمجھ سے دل کیوں لگایا۔‘‘
’’تم مجھے پسند آگئی ہو اورمیں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔‘‘
’’اسی لیے شادی پرزور دے رہی ہوں کہ شادی کے لیے ذہن بنالو تاکہ میں گھر والوں کو بتادوں کہیں ایسا نہ ہو کہ گھروالوں کو کوئی رشتہ پسند آجائے اور وہ میری بات کہیں اور پکی کردیں۔‘‘
’’والدین کبھی اپنے بچوں کا برا نہیں چاہتے اور اگر تمہارا رشتہ کہیں اور کردیں توتم انکار مت کرنا ورنہ انہیں تکلیف ہوگی۔‘‘
’’کمال ہے ایک طرف تم مجھ سے محبت کے دعوے کررہے ہو اور دوسری طرف والدین کی پسند پرشادی کرنے کامشورہ دے رہے ہو۔‘‘ نائلہ کوغصہ آگیا۔
’’تمہارے والدین کاتم پرحق زیادہ ہے اس لیے میں نے یہ بات کی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’یہ کیوں نہیں کہہ رہے ہو کہ مجھ سے دل بھرگیاہے۔ مجھے کھلونا سمجھ کرکھیلااور کھلونے سے دل بہل جانے پر پھینک دیناچاہتے ہو‘ اس طرح تم اپنی شادی کے لیے بھی کہہ سکتے ہو کہ میں والدین کا دل توڑنا نہیں چاہتاتھا اس لیے یہ شادی کرلی۔‘‘
’’تم میری بات کوسمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں سننامجھے بتائو کہ شادی کروگے یانہیں‘ اور کروگے تو کب کروگے۔‘‘ نائلہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیاتھا۔
ایسالگ رہاتھا کہ آج وہ یہ سوچ کر آئی ہے کہ آج شادی کادن طے کرکے ہی جائے گی۔ اسے غصے میں دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ اب چالاکی سے کام لینا پڑے گاورنہ معاملہ گڑبڑ ہوسکتا ہے‘ ایسی لڑکیوں کومجھے اچھی طرح سے سبق سکھانا آتاتھا‘اس لیے میں نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
’’ارے بھئی میں مذاق کررہاتھا‘ تم بہت سنجیدہ ہوگئی ہو۔‘‘
’’تم مذاق کررہے ہواورمیرا خون کھول اٹھاہے۔‘‘
’’مذاق کرنے پرتمہارا خون کھول اٹھا۔‘‘
’’مجھے کیاپتاتھا کہ تم مذاق کررہے ہو اگرمذاق کررہے تھے تو کم از کم تمہیں بتانا چاہیے تھا۔
’’میں اگر مذاق کے بارے میں بتادیتاتو تم سمجھ جاتی اور اتنا غصہ نہ ہوتی۔ دیکھوغصے سے تمہارا چہرہ کتنا سرخ ہوگیاہے‘ جیسے چہرہ نہیں ٹماٹر ہو۔‘‘ میں نے اسے ہنسانے کو کہا۔
’’اچھاباتیں ہوتی رہیں گی تم میرے سوال کے بارے میں بتائو کہ …‘‘
’’ہم کیا کلاس روم میں بیٹھے ہوئے ہیں جو سوال وجواب کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘‘
’’مذاق نہ کرو سنجیدگی سے میری باتوں کاجواب دو۔‘‘
’’اچھا بھئی تم کہتی ہو توسنجیدہ ہوجاتاہوں اور تمہارے سوالات کے جوابات دیتاہوں۔‘‘
’’ہاںتومیں …‘‘
’’میں چند روز بعد گائوں جارہاہوں اورمیں گائوں جاتے ہی امی ابو سے شادی کی بات کرلوں گا‘ اوریہ بھی پوچھ لوں گا وہ کب تک ہماری شادی کریں گے۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
شادی کی بات پروہ شرماگئی۔
’’لوبھئی ہم شادی کی بات نہیں کریں گے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ وہ گھبراگئی۔
’’میرے شادی کی بات کرنے پر تم شرمارہی ہو اور شادی ہوجانے پر تمہار اکیا حال ہوگا۔‘‘
’’اچھابابا میں نہیں شرمائوں گی تم شادی کی بات ضرور کرلینا۔‘‘ نائلہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
آج کی ملاقات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پرمجبور کردیا تھا۔ میرے لیے یہ ضروری ہوگیاتھا کہ نائلہ کی زبان بند کردوں اور ایسی لڑکیوں کے منہ بند کرنا مجھے آتاتھا۔میں نے کمرے میں خفیہ کیمرہ لگایاہواتھا‘ جولڑکیاں مجھے تنگ کرنے لگتی ہیں ان کی مووی بنالیتاہوں‘ نیٹ پرفلم چھوڑنے کی دھمکی پر ایسی لڑکیوں کا غصہ صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتاتھا۔ مجھے نائلہ نے ایسا کرنے پرمجبور کردیاتھا مجھے اس سے بڑی ہمدردی تھی‘ خاص کر اس کے چہرے پر جو بھولاپن تھا وہ مجھے بہت اچھا لگتاتھا۔ مجھے جس سے شادی کرنی تھی وہ نائلہ ہرگز نہیں تھی‘ نائلہ ایک غریب گھرانے سے تعکق رکھتی تھی اور میں کسی امیر گھرانے میں شادی کا خواہش مند تھا۔
نائلہ کاشادی کے لیے دن بدن اصرار بڑھتا جارہاتھا‘ دراصل اس کے والدین میری عدم دلچسپی سے اندازہ لگاچکے تھے کہ میں نائلہ سے شادی نہیں کروں گا۔ نائلہ کے لیے ایک اچھا رشتہ آیاتھا اور وہ چاہ رہے تھے کہ جیسے ہی وہ امتحانات دے کر تعلیم سے فارغ ہو اس کی شادی کردی جائے ۔
نائلہ ایک ضدی لڑکی تھی وہ میرے علاوہ کسی اور سے شادی کاتصور بھی نہیں کرسکتی تھی‘ اس لیے وہ بضد تھی کہ میں اپنے والدین سے اس رشتے کی بات کروں‘ نائلہ کے آئے دن شادی کرنے کے مطالبے سے پریشان ہو کرمیں نے اس سے جان چھڑانے کافیصلہ کرلیا۔ میں نے اس کی تیار کردہ مووی میموری کارڈ میں ڈال کر اس کے حوالے کردی‘ اس نے جب وہ فلم دیکھی اس کے حوا س اڑ گئے۔
’’انیس تم نے یہ کیاحرکت کی ہے‘ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنابھی گرسکتے ہو۔‘‘ وہ غصے سے موبائل فون پر چیخی۔
’’یہ ٹریلر ہے اگرمجھے مزید پریشان کیا تو یہ فلم نیٹ پرچھوڑ دوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میںنے تمہیں اپنا دیوتا جاناتھا مگر تم نے جو حرکت کی ہے وہ…‘‘ یہ کہتے وہ پھوٹ‘ پھوٹ کررودی۔
’’میں تمہارے ساتھ کچھ دن اچھے گزارنا چاہتا تھااور بس…‘‘
’’انیس میں تمہاری ہوں اورتمہارے بغیرزندہ نہ رہ سکوں گی۔ اگرمجھے کسی اور کابنانے کی کوشش کی گئی تو میں موت کوگلے لگالوں گی۔ مگر تمہارے سوا کسی اور کی نہ ہوں گی۔‘‘
’’یہ سب جذباتی باتیں ہیں یہ وقت بتادے گا‘ شادی کے بعد تم میرے بجائے اپنے شوہر کی بانہوں میں ہوگی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’انیس کان کھول کر سن لومیرے شوہربنوگے تو تم بنوگے‘ ورنہ کوئی دوسرا میرا شوہر نہ بن سکے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے نائلہ نے کال کاٹ دی۔
اس دن کے بعد نائلہ نے پھرمجھ سے رابطہ نہیں کیا‘ میں بھی اس کوبھول گیاتھا۔ نائلہ کے امتحان کارزلٹ آچکاتھا ‘ رزلٹ آنے پرنائلہ نے آخری بار مجھ سے رابطہ کیا‘ میرے انکار پر اس کادل ٹوٹ گیاتھا اوراس نے دھمکی دی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر میں نے شادی کے لیے ہاں نہ کی اور اپنے گھروالوں کومیرے گھر پر نہ لائے تو میں خودکشی کرلوں گی‘ میں نے اسے ایک دھمکی جان کر اہمیت نہ دی‘ ایک ہفتہ گزرجانے پر اخبار میں نائلہ کی خودکشی کی خبر چھپی ہوئی تھی‘ اس کے لواحقین سارا الزام مجھ پررکھ رہے تھے‘ دو ماہ تک اخبارات میں یہ سلسلہ چلااورپھر ختم ہوگیا۔
نائلہ نے میری خاطر جان دے دی تھی‘ لہٰذا میرا بھی فرض بنتاتھا کہ خود کو سزا دوں‘ میری خودغرضی کے سبب ایک جان دنیا سے چلی گئی تھی‘ میں نے اسے اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھادیاتھا۔ وہ مجھے اپنا دیوتا سمجھ رہی تھی‘ اور میں کس قدر گھٹیااور خودغرض انسان ثابت ہواتھا۔
دنیا کی کوئی عدالت مجھے سزا نہیں دے سکتی لیکن میں خود کو ضرور سزا دے سکتاہوں اور میں خود کو سزا دے کر رہوں گا۔ میں نے اب فیصلہ کرلیاہے کہ زندگی بھر شادی نہیں کروں گااب بقیہ میری زندگی نائلہ کے ساتھ بیتے دنوں کی یاد میں گزار دوں گا‘ شاید میرے اس اقدام سے نائلہ کی بے قرار روح کو کسی قدر اطمینان وسکون حاصل ہوجائے کہ میں اگر اس کانہ ہوسکا تو پھر کسی اور کابھی نہ بن سکا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close