NaeyUfaq Feb-18

گمشدہ

زرین قمر

ۭۘ

ماہ مئی کااختتام تھااور بیلے ڈیم ہائی اسکول میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوگئی تھیں‘دوسرے اسٹوڈنٹس کی طرح بریجیٹ کوبھی ان چھٹیوں کاانتظار تھا اسکول کاآخری ورکنگ ڈے تھااور اسکول کے مرکزی ہال میں اسٹوڈنٹس کامجمع تھا‘ سب ہی چھٹیوں کی پلاننگ میں مصروف تھے شدید گرمی کے باوجود اے سی کی ٹھنڈک محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ بریجیٹ نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے اپنااسکول بیگ کاندھے پرڈالااور ہال کے گیٹ کی طرف بڑھی۔
’’ہائے بی بریجیٹ‘ تمہارا دھیان کہاں ہے؟‘‘ اسے پشت کی جانب سے آواز آئی تو اس نے پلٹ کردیکھا سامنے اس کی کلاس فیلو آٹوم پار کرکھڑی تھی۔
’’میں تمہیں آوازیں دے رہی ہوں او رتم سن ہی نہیں رہی ہو؟‘‘ اس نے شکایتی لہجے میں کہا۔
’’میرادھیان کہیں او رتھا۔‘‘ بریجیٹ نے اپنے کاندھوں پربکھرے ہوئے بالوں کوسمیٹ کر جوڑے کی شکل دیتے ہوئے کہااور اسی وقت اس کادوسرا کلاس فیلو ایمیٹ وہاں آگیااور آتے ہی آٹوم کے کاندھے پر ہاتھ مارا۔
’’کیاباتیں ہو رہی ہیں؟‘‘
’’یہاں بوائز کا آنامنع ہے۔‘‘ بریجیٹ نے منہ بنا کر کہا اس کی نظریں ایمیٹ کی بلوکلر کی فٹ بال ٹیم کی شرٹ پرتھیں جوپسینے سے تر تھی۔
’’میراخیال ہے تم نے اپنی ہوم ورک ڈائری پرٹیچر کے دستخط کروالیے ہیں؟‘‘ ایمیٹ نے پوچھا۔
’’ہاں… اب میں جانے ہی والی تھی۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’تم نے یہ دیکھی؟‘‘ ایمیٹ نے اپنی فائل سے ایک فوٹو نکال کراس کی طرف بڑھایا جس میں وہ اپنی اسکول کی فٹ بال ٹیم کے ساتھ موجود تھا اس میں بریجیٹ اور آٹوم بھی تھیں وہ بھی اس ٹیم میں شامل تھیں۔
’’یہ ایک یادگار تصویر ہے۔‘‘ آٹوم نے کہا۔
’’یہ تصویر میری طرف سے تمہاری سالگرہ کاتحفہ ہے۔‘‘ ایمبٹ نے تصویر بریجیٹ کو دیتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘
’کیاتم ہمیں سالگرہ میں انوائٹ نہیں کروگی؟‘‘ ایمیٹ نے پوچھا۔
’’تم نے مجھے بھی نہیں بلایا؟‘‘ آٹوم نے شکوہ کیا۔
’’ویسے پارٹی کاکیاوقت مقرر کیا ہے؟‘‘ ایمیٹ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’میںنے تمہیں بتایاتو تھااس سال کوئی پارٹی نہیں ہو رہی ہے۔‘‘ بریجیٹ نے آٹوم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’لیکن یہ تمہاری سولہویں سالگرہ ہے تمہیں پارٹی تودینا چاہیے اور شاید تمہارے والدین تمہیں اس بار تحفے میں اچھی سی کار لے کردیں؟‘‘ ایمیٹ نے کہا۔
’’تم میرے والدین سے ملے ہو؟ دراصل ہم ایک نئی کار لینے یا پارٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’توپھر میں تمہیں پارٹی دوں گا… آج رات… بتائو میں کس وقت تمہیں لینے آئوں؟‘‘ ایمیٹ نے پوچھا۔
’’وہ فارغ نہیں ہے … ہمارے کچھ پلان ہیں۔‘‘ آٹوم نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاں مجھے پتہ ہے‘ بیسٹ گرل کے بیسٹ فرینڈ اس کی پارٹی میں ہوں گے۔‘‘ ایمیٹ نے ہنستے ہوئے کہا ۔ ’’بھلاہم غریبوں کو کون پوچھتاہے؟‘‘
’’چلو‘ اب دیر ہو رہی ہے۔‘‘آٹوم نے کہااور بریجیٹ کے ساتھ آگے بڑھی۔
’’تمہیں کتنی بار سمجھایاہے کہ ایمیٹ کے ساتھ ایسا روکھابرتائو مت کیا کر و وہ تمہارے بچپن کا ساتھی ہے تم دونوں کے والدین ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور تم دونوں ایک دوسرے کے لیے مستقبل میں بہترین ساتھی ثابت ہوسکتے ہو۔‘‘آٹوم نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’مجھے اس کایوں بے تکلف ہونا پسند نہیں ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔ ’’او رتمہاری تو عادت ہے مجھے نصیحت کرنے کی۔‘‘
’’اچھا چھوڑو یہ بتائو کیا واقعی تم آج کوئی پارٹی نہیں کررہی ہو؟ تمہارے والدین نے بھی کچھ نہیں بتایا؟‘‘
’’نہیں‘ وہ مجھے اسکول سے لینے آئیں گے اورہم لوگ آج رات کاکھانا جلدی کھالیں گے لیکن پارٹی تو کوئی نہیں ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے دراصل تم اپنی فیملی سے بہت پیار کرتی ہو اگر تمہاری جگہ میں ہوتی توسب سے ناراض ہوجاتی۔‘‘ آٹوم نے کہااوراس سے رخصت ہوگئی اسکول کے گیٹ کے باہر اس کے والدین اپنی کار میں اس کے منتظر تھے وہ کار کادروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی جہاں اس کی چھوٹی بہن ہولی بھی موجود تھی وہ صرف سات سال کی تھی۔
’’آپ نے ہولی کاتو نیا ڈریس بنادیاہے؟‘‘ بریجیٹ نے کار میں بیٹھتے ہوئے اپنی والدہ سے شکوہ کیا جو اگلی سیٹ پر اس کے والد کے ساتھ بیٹھی تھی اس کی نظریں ہولی کے گلابی کپڑوں پر تھیں جن میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
’’ہیپی برتھ ڈے بی۔‘‘ ہولی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تھینک یو ڈیئر…‘‘ بریجیٹ نے اس کے گال پر پیار کرلیا۔
’’ہاں تو میری سالگرہ کے لیے آپ لوگوں نے کون سے پروگرام بنائے ہیں؟‘‘ بریجیٹ نے والدہ سے پوچھا۔
’’ہم نے یہ معاملہ ہولی پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘ اس کے والد نے کار کے اگلے شیشے میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’گویا آج ہولی کی پسند کا کھاناکھائیں گے؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’ہاں… اس میں کیا حرج ہے؟‘‘
’’تم کتنے سال کی ہوگئی ہو؟‘‘ ہولی نے پیار سے پوچھا۔
’’سولہ سال کی۔‘ بریجیٹ نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
’’تو تم مجھ سے صرف نو سال بڑی ہو؟‘‘ ہولی نے اپنی انگلیوں پر گنتے ہوئے کہا اوراسی وقت بریجیٹ کی والدہ کے فون کی بیل بجی اور انہوں نے موبائل کان سے لگایا۔
’’ہیلو اینسی‘ تم کیسی ہو؟‘‘ اس کی والدہ نے کہااور پھر لڑکیوں کی طرف مڑیں۔
’’تمہاری آنٹی تمہارا پوچھ رہی ہیں۔‘‘
’ہم ٹھیک ہیں آنٹی۔‘‘ ہولی اور بریجیٹ نے ایک آواز ہو کرکہا۔’’آنٹی اینسی یہ لوگ ہمیں کہاں لے جارہے ہیں؟‘‘ بریجیٹ نے بآواز بلند پوچھا۔
’’دی بائونسی ہائوس۔‘‘ آنٹی کی ہلکی سی آواز سنائی دی اور بریجیٹ سیٹ پر پیچھے ہو کر بیٹھ گئی۔ اس کی والدہ ہلکی آواز میں بات کررہی تھیں لیکن ایک دو جملے اڑتے اڑتے اس کے کان تک بھی آگئے۔
’’اچھا تیس منٹ ہیں… سب لوگ آرہے ہیں نا؟ اور کیک؟ اس کاکیاہوا؟‘‘ بات کرکے اس کی والدہ نے فون رکھ دیا۔
’’تو میری سرپرائز پارٹی کاکیک کس مزے کاہوگا؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’کون ساکیک؟‘‘ اس کے والد نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
’’اوہ پلیز بتائیں نا؟ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں کیک خریدوں‘ میں پارٹی بھی نہیں کرسکتی۔‘‘
’’ہم تو ڈیکوریشن کی بات کررہے تھے۔‘‘ اس کی والدہ نے کہا۔
’’کیا پارٹی میں میرے سارے دوست آرہے ہیں ؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔ ’’کیاایمیٹ بھی آرہا ہے؟‘‘
’’ہاں‘ وہ اوراس کی فٹ بال ٹیم بہت مدد کررہی ہے ہر کام میں۔‘‘ اس کے ڈیڈی نے کہا۔
’’اوہ… اس نے تو آج مجھے خوب بے وقوف بنایا… وہ تو انجان بن رہاتھا…‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’میرااندازہ ہے کہ وہ تمہیں بہت پسند کرتا ہے۔‘‘ اس کے ڈیڈی نے کہااور سامنے سڑک پر آنے والے موڑ سے کار دائیں جانب موڑی۔
’’مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’تم واقعی میری پیاری بیٹی ہو۔‘‘ اس کے والد نے پیچھے کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔
’’ڈیڈی آگے دیکھیں۔‘‘ بریجیٹ زور سے چیخی ان کے سامنے اچانک ایک تیز رفتار چھوٹا ٹرک آگیا تھا۔ سب چیزیں جیسے بہت سست رفتار میں حرکت کرنے لگی تھیں یوں لگ رہاتھاجیسے سیکڑوں گھنٹے اس ایک لمحے میں سماگئے ہوں جیسے وقت ختم ہوگیا ہو‘ اسے اپنے والدین کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں کار سڑک پر لڑھک رہی تھی اس کی سیٹ بیلٹ اس کے گلے میں پھنسی ہوئی تھی بریجیٹ نے اپنی بائیں جانب دیکھا ہولی ٹھیک تھی لیکن خوفزدہ تھی۔ بریجیٹ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے سہارا دیااور پھر سب کچھ اس کی نظروں سے غائب ہوگیا۔
ز…) …ز
بریجیٹ شمالی تھائی لینڈ کے جس علاقے میں سفر کررہی تھی وہ نہایت گھنے جنگل پر مشتمل تھا تھااس کے ہاتھوں کی گرفت بائیک کے ہینڈل پرمضبوط تھی اور اس کی موٹر بائیک کے ٹائروں کے نیچے لمبی گھاس اور کیچڑ جیسی زمین موجود تھی جس کی وجہ سے خاصی پھسلن موجود تھی لیکن وہ اس سے بے پروا نہایت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی اس کے چند ساتھی بھی اس کے ساتھ اس علاقے میں سفر کررہے تھے۔ بریجیٹ کے ساتھ بائیک پر اس کی دوست ایلس بھی بیٹھی تھی اس نے مضبوطی سے اسے پکڑاہواتھا پھر بریجیٹ نے بائیک اوپر اٹھاتے ایک بڑی جست لگائی اور بائیک کئی فٹ اونچی جھاڑیاں پھلانگتی ہوئی ایک کھلے حصے میں آگئی‘ بائیک کی رفتار کم ہوتے ہی ایلس نے بریجیٹ کی کمر چھوڑ دی تھی اور بائیک سے اتر گئی تھی۔
’’ارے کیاہوا ایلس؟ تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ بریجیٹ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’اوہ… میری توبہ … اب میں کبھی تمہارے ساتھ بائیک پر سفر نہیں کروں گی۔‘‘ ایلس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سینہ پکڑے ہوئے کہا۔ ’’تم تو دیوانوں کی طرح بائیک چلاتی ہو۔‘‘
’’میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتایاتھا۔‘‘ بریجیٹ نے اپنا ہیلمٹ کااسٹیپ کھولتے ہوئے کہااور اسی وقت دو اور بائیک رائیڈر اسی کے انداز میں جھاڑیوں پر سے چھلانگ لگاتے ہوئے میدان میں نمودار ہوئے یہ زیک اور ایکسور تھے جواس کے بہترین دوست تھے اس وقت بے پروائی سے سیٹیاں بجارہے تھے۔
’’کمال کردیا بریجیٹ‘میں نے اپنی زندگی میں کسی لڑکی کو ایسی بہادری سے بائیک چلاتے نہیں دیکھا۔‘‘ زیک نے اپناہیلمٹ اتارتے ہوئے کہا۔
’میں تو ڈررہی تھی کہ کہیں ہمیں کوئی حادثہ ہی پیش نہ آجائے۔‘‘ ایکس نے کہا۔
’’حادثے کاتو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں بہترین بائیک رائیڈر ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے فخر سے سربلند کرتے ہوئے کہااور پھر زیک کی طرف مڑ کر اپناہاتھ پھیلادیا۔
’’لائومیراانعام…‘‘
’’تمہاراانعام ایکسور کے پاس ہے۔‘‘ زیک نے جواب دیا۔
بریجیٹ دو ہفتے پہلے ہی اکیلی چیانگ مائی آئی تھی اس کے ساتھ نہ کوئی دوست تھا اور نہ ہی اس کاوہاں آنے کا کوئی مقصد تھا بس وہ تو وہاں کسی اچھے سے ہوٹل میں کمرہ بک کروا کر نئی دنیائوں اور نئے لوگوں میں کھوجانا چاہتی تھی۔ زیک اور ایلس کا تعلق کیلیفورنیا سے تھا جبکہ ایکسور اسپین کے کسی علاقے سے وہاں آیاتھا۔ بریجیٹ ان سب کے ساتھ خوش تھی لیکن ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی۔
’’بریجیٹ ڈبویس‘ آج کے مقابلے کی تم چیمپئن ہو اور بہترین بائیک رائیڈر ہو۔‘‘ ایکسور نے کہا۔
’’ناقابل تسخیر۔‘‘ ایلس نے بھی رائے دی۔
’’ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی۔‘‘ ایکسور نے ایلس کورکنے کااشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’بریجیٹ تم تو ایک دیوی ہو‘ خوبصورت دیوی جوہمارے دلوں پرراج کرتی ہے تم جیت گئی ہو اور تمہیں انعام کے طورپر یہ خوش قسمتی کا ہاتھی دیاجاتاہے جو لکڑی سے بناہوا ہے اورہم نے ایک مارکیٹ سے نہایت سستا خریدا ہے۔‘‘ ایکسور مکمل مذاق کے موڈ میں تھا۔ بریجیٹ نے اس کے ہاتھ سے وہ زنجیر لے لی جس میں ہاتھی پڑاتھااوراسے اپنے سر سے اونچااٹھا کر دوستوں کو دکھانے لگی۔
’’دیکھو دوستو… میں تم سب کی بہادری کی داد دیتی ہوں لیکن آخر میں تو کسی ایک کوہی فتح ملناتھی۔‘‘ اس نے کہا۔’
’’مبارک ہو فاتح جہاں۔‘‘ ایلس نے طنز کیااور سب ہنس پڑے۔
’’چلو اب اونچائی سے چھلانگ لگانے کا مقابلہ کرتے ہیں جس مقصد سے ہم یہاں آئے ہیں۔‘‘ بریجٹ نے کہا اور وہ لوگ ایک ہموار راستے کی طرف بڑھ گئے جہاں ان سے پہلے آنے والے سیاح موجود تھے جو اونچائی سے چھلانگ لگانے کامنظر دیکھنے اوراس میں حصہ لینے آئے تھے ان کی سربراہ ایک خاتون بھی تھی جس کاتعلق مقامی ہوٹل سے تھا اوروہ وہاں نگران کی خدمات انجام دے رہی تھی۔
پہاڑی کا وہ مقام خاصی بلندی پر واقع تھا اوراس مقام سے نیچے پانی میں چھلانگ لگانا تھاجس کے آس پاس آبشاریں بھی موجود تھیں بریجیٹ کوہمیشہ سے ایسے خطرناک کام کرنے کاشوق تھااور وہ اسی شوق کی تسکین کے لیے یہاں آئی تھی اسے بے چینی سے اس لمحے کاانتظار تھاجب اس کی پانی میں چھلانگ لگانے کی باری آناتھی جبکہ ایلس کے ہاتھ خوف سے کانپ رہے تھے۔
’’کیاواقعی تم اس جگہ سے چھلانگ لگائوگی؟‘‘ ایلس نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں‘ کیوں نہیں ؟‘‘ بریجیٹ نے کہا وہ زمین پر بیٹھ کر اپنے جوتوں کے تسمے کھول رہی تھی پھراس نے جوتے اتار کرایک طرف پھینک دیئے تھے۔
’’ہم اپنا سامان لینے یہاں پھر بائیک پرآجائیں گے۔‘‘ اس نے پیچھے مڑ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھااور اونچائی سے نیچے چھلانگ لگادی سب حیرت سے اسے دیکھتے رہ گئے تھے۔
کئی گھنٹوں کے بعد وہ لوگ واپس ہوٹل پہنچ گئے تھے۔ ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے وہ تیز تیز آوازوں میں باتیں کرتے ہوئے ہوٹل کی لابی میں داخل ہوئے۔
’’بریجیٹ ‘تم نے تو آج کمال ہی کردیا… اتنی اونچائی سے چھلانگ لگانے پرمیں تمہیں مبارکباد دیتی ہوں… تمہارے چہرے پرکوئی خوف نہیں تھا۔‘‘ نگراں خاتون نے کہا جو ان کے ساتھ ہی واپس آئی تھی۔
’’ہاں‘ اس کے پاس خوش قسمتی کاسمبل وہ ہاتھ بھی تو موجود تھا۔‘‘ ایلس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اور تم نے بھی تو چھلانگ لگانے میں حصہ لیامیں تمہاری بہادری پرتمہیں فائیوگولڈ اسٹارز دیتی ہوں۔‘‘بریجیٹ نے جواب دیا وہ سب استقبالیہ کے قریب پہنچ گئے تھے ایکسور نے آگے بڑھ کراستقبالیہ کلرک ڈائو سے کسی آنے والے پیغام کے بارے میں پوچھا۔
’’نہیں تمہارے لیے تو نہیں لیکن اس کے لیے پیغام ہے۔‘‘ ڈائو نے بریجیٹ کی طرف اشارہ کیا اورسب مڑ کر بریجیٹ کی طرف دیکھنے لگے۔
’’میرے لیے ؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچا۔
’’یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ ایلس نے کہا۔
’’بریجیٹ کے لیے کبھی کوئی پیغام نہیں آیا۔‘‘
’’لیکن یہ بریجیٹ ڈوبیز کے لیے ہے۔‘‘ ڈائو نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ایک چٹ دیکھتے ہوئے کہا۔ اوروہ چٹ بریجیٹ کی طرف بڑھادی اس نے تیزی سے وہ چٹ پکڑی لیکن اس پر کسی پیغام کے بجائے امریکا کاایک فون نمبر لکھاتھا۔
’’ٹھیک ہے‘ لیکن یہ نمبر کس نے دیا؟‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے پوچھا۔
’’اس نے اپنا نام آٹوم بتایاتھا۔‘‘ ڈائو نے کہا۔
’’آٹوم…؟اوہ اچھا… اچھااس نے کیاکہاتھا؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’میں اس کی بات سمجھ نہیں سکی میری انگریزی بہت اچھی نہیں ہے۔‘‘ ڈائو نے معذرت آمیز انداز میں کہا۔
’’حیرت ہے بریجیٹ ہم تو سمجھتے تھے کہ صرف ہم ہی تمہیں جانتے ہیں لیکن اب پتہ چلا کہ باہر کی دنیا میں بھی تمہارا کوئی جاننے والا موجود ہے پچھلے دو ہفتے میں تمہیں آنے والا یہ پہلا پیغام ہے۔‘‘ زیک نے اس کے ہاتھ میں پکڑی چٹ کودیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیامیں تمہارا فون استعمال کرسکتی ہوں؟‘‘ بریجیٹ نے زیک سے کہاکیونکہ اس کے پاس اپنا فون نہیں تھا۔
’’ہاں… ہاں کیوں نہیں ۔‘‘ زیک نے اپنا فون اسے دیتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘ بریجیٹ نے فون اس کے ہاتھ سے لے لیا جو ایک زپ والے کور میں بند تھاایسا زیک نے حفاظت کے خیال سے کیاتھا کہ کسی بے احتیاطی سے وہ خراب نہ ہوجائے‘ بریجیٹ فون لے کر اپنے ساتھیوں سے کچھ فاصلے پر چلی گئی تھی لیکن سب اسی کی طرف تجسس سے دیکھ رہے تھے۔ بریجیٹ نے اپنی کلائی پربندھی گھڑی کی طرف دیکھااس وقت تھائی لینڈ میں شام کے سات بجے تھے اور تھائی لینڈ میں وقت نارتھ کیلیفورنیا کے مقابلے میں گیارہ گھنٹے پیچھے تھا جس کامطلب تھا کہ وہاں اس وقت صبح کے پانچ بج رہے ہوں گے جونمبر اسے دیاگیاتھا وہ بیلے ڈیم کانمبر تھا جو اس کاآبائی شہر تھا لیکن وہ جھجک رہی تھی کہ اتنی صبح کسی کوفون کرے یانہ کرے اس نے آخر کار نمبر ملایا کئی بیلوں کے بعد دوسری طرف سے کسی نے فون ریسیو کیا۔
’’ہیلو…‘‘ ایک بہت ہلکی آواز سنائی دی جونیند میں ڈوبی ہوئی تھی وہ کسی مرد کی آواز تھی۔
’’کیا میں آٹوم سے بات کرسکتی ہوں؟‘‘
’’کون…؟ تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے پوچھاگیا۔
’’میں بریجیٹ ڈبیریز بات کررہی ہوں۔‘‘
’’اوہ… اچھا… رکو۔‘‘ دوسری طرف سے کہا گیا۔ ’’آٹوم… اٹھو… تمہارا فون ہے ۔ تمہاری دوست ہولی کی بہن بات کرناچاہتی ہے۔‘‘ اس شخص نے کہاتو بریجیٹ کواحساس ہوا کہ اس نے کافی عرصہ سے ہولی سے بات نہیں کی وہ اپنی مصروفیات میںمگن تھی ۔
’’بی؟‘‘ دوسری طرف سے اسے آٹوم کی جانی پہچانی آواز سنائی دی اور بریجیٹ کادل زور سے دھڑکااسے برسوں سے کسی نے اتنی چاہت واپنائیت سے نہیںپکاراتھا۔
’’ہائے…آٹوم…‘‘
’’اوہ…خداکاشکر ہے کہ تم ٹھیک ہو۔‘‘ دوسری طرف سے آٹوم کی جوشیلی آواز سنائی دی۔
’’ہاں… میں ٹھیک ہوں… بتائو کیا بات ہے ؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا لیکن دوسری طرف خاموشی رہی بریجیٹ کا دل انجانے خوف سے دھڑکااور وہ سوچنے لگی کہ کوئی اچھی خبر نہیں ہوگی تب ہی آٹوم نے اس کے لیے پیغام چھوڑ اہوگا۔
’’بی میری بات غور سے سنو۔‘‘
’’بتاء… کیا بات ہے؟‘‘ بریجیٹ نے بے چینی سے پوچھا۔
’’تمہاری بہن ہولی …‘‘
’’کیا ہوا لی کو؟ آٹوم پوری بات بتائو… اسے کیا ہوا؟‘‘
’’وہ غائب ہے۔‘‘ آٹوم نے جھجکتے ہوئے بتایااور بریجیٹ کو یوں لگا جیسے تھائی لینڈ کے گرم موسم میں بھی اس کا خون اس کی رگوں میں میں منجمد ہوگیاہو۔
’’کیا؟‘‘
’’میرامطلب ہے کہ وہ کہیں چلی گئی ہے اور تمہارے والدین …‘‘
’’میرے والدین …؟ وہ بل اور ایملی میرے والدین نہیں ہیں۔‘‘ بریجیٹ نے آٹوم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے پولیس کی ایک رپورٹ مکمل کروادی ہے۔‘‘
’’کب ؟‘‘
’’دو دن پہلے۔‘‘
’’دو دن پہلے ؟‘‘ بریجیٹ نے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے کہا اس کی نظریں ایکسور پرتھیں جو اس کی کال ختم ہونے کاانتظار کررہاتھااور فکرمندی سے اس کی طرف دیکھ رہاتھا۔
’’او ر تم مجھے اب بتارہی ہو؟‘‘ بریجیٹ نے ناراضگی سے کہا۔
’’تمہیں پتہ ہے بی کہ تمہیں ڈھونڈنا میرے لیے کتنا مشکل تھا میں تھائی لینڈ کے کئی ہوسٹلوں اور ہوٹلوں میں فون کرتی رہی پھر تم تک پہنچنے میں مجھے ایک پوسٹ کارڈ سے مدد ملی جو تم نے کچھ دن پہلے ہولی کو بھیجا تھا۔‘‘
’’اچھا دیکھو میں لمبی بات نہیں کرسکتی یہ میرا فون نہیں ہے اور یہ کال مہنگی ہوسکتی ہے مجھے مختصراً بتائو کیابات ہے؟ ہولی کہاں چلی گئی ہے؟‘‘
’’یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا۔‘‘آٹوم نے کہا۔ ’’پولیس کو بھی کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے یوں لگتا ہے کہ وہ اچانک غائب ہوگئی ہے… بی… میری سمجھ میں خود کچھ نہیں آتا۔‘‘
’’یہ بہت برا ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ بریجیٹ نے اداسی سے کہا۔
’’اب تم کیا کروگی ؟‘‘ آٹوم نے فکرمندی سے پوچھااور بریجیٹ کی نظریں آسمان پر ڈوبتے سورج پرجم گئیں جس کی ہلکی سنہری شعاعوں نے آسمان پر موجود بادلوں کو سرخ کردیاتھا اورایک ہوائی جہاز دور اڑتاہوا اپنی منزل کی طرف جارہاتھا۔
’’میں واپس آرہی ہو ں۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیااور فون بند کردیا۔
ز…) …ز
چیانگ مائی سے نارتھ کیلیفورنیا بیلے ڈیم کی فلائٹ پورے ایک دن کی تھی اور اس ہوائی سفر کا ایک ایک منٹ گزارنا بریجیٹ کے لیے مشکل ہو رہاتھا یہ سب اس کی توقعات کے خلاف تھا درحقیقت تو گھر سے فرار وہ ہوئی تھی اپنی پریشانیوں سے وہ بھاگی تھی جبکہ ہولی اس سے بہت مختلف تھی وہ اپنے حالات میں خود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
بریجیٹ اپنی اکانومی سیٹ پربیٹھے بیٹھے تھوڑا سا جھکی اوراس نے سیٹ کے نیچے رکھا ہوا اپنا سفری بیگ آہستہ سے باہر کھینچا وہ اپنے برابر والی سیٹ پربیٹھی خاتون کو ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتی تھی جو سو رہی تھی اس کے بیگ میں اس کے کچھ کپڑے‘ ہائیکنگ کے جوتے‘ اور کچھ ذاتی سامان تھااس سامان کے بھی نیچے رکھی نوٹ بک اس نے ڈھونڈھ کرنکالی یہ واحد چیز تھی جو وہ ہمیشہ سنبھال کررکھتی تھی لیکن اس میں بھی اس کے سفر کی پوری تفصیلات موجود نہیں تھیں بلکہ اس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں معلومات زیادہ تھیں ہولی کے بارے میں جو اس کی چہیتی بہن تھی جو اس سے بہت پیار کرتی تھی اسے پرواہ نہیں تھی کہ بریجیٹ کہاں ہے کس براعظم میں ہے کس ملک میں ہے وہ اسے ہر حال میں خط لکھتی تھی تصویریں بھیجتی تھی اوران سب کوبریجیٹ اس نوٹ بک میں رکھتی تھی یہی ہولی کی موجودگی کا اس کے پاس کل ریکارڈ تھا۔
اگراس کاتعلیمی دورایسے ختم ہوتاجیسے کہ اس نے پلان کیاتھاتواس کی زندگی بھی ہولی کی زندگی سے مختلف نہ ہوتی وہ سترہ سال کی تھی اور بیلے ڈیم ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھی بہترین ایتھلیٹ تھی اسمارٹ ‘لمبی اورخوبصورت تھی اس کی پراعتماد اور دل کولبھانے والی شخصیت ہرتصویر میں نمایاں تھی اس کے بال لمبے اور پرکشش تھے اس نے ثابت کردیاتھا کہ لڑکیاں خوبصورت اور نازک مزاج ہونے کے باوجود بھی اسپورٹس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں‘ ہولی اسکول کی کئی اسپورٹس ٹیموں میں کھیلتی تھی اس کاشمار بہترین کھلاڑیوں میں ہوتاتھا اس نے کئی ریکارڈ نئے بنائے تھے اور کالج کے لڑکے اس کے گرد چکر کاٹتے تھے اوراس کی ایک نظر کے خواہشمند تھے۔
بریجیٹ نے اپنی نوٹ بک میں رکھی ہولی کی سب سے پسندیدہ تصویر نکالی اس میں وہ اپنی فٹ بال ٹیم کی دوسری ساتھیوں کے ساتھ موجود تھی جو پچھلے سال ہونے والے چیمپئن شپ کے مقابلوں میں لی گئی تھی اس کی یہ بہترین تصویر تھی۔
’’اوہ… کیا یہ تمہاری رشتہ دار ہے اس کی شکل بالکل تم سے ملتی ہے۔‘‘ بریجیٹ کے قریب بیٹھی خاتون نے اس سے پوچھا جواب جاگ گئی تھی۔
’’ہم بہنیں ہیں۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا۔
’’مجھے جہاز میں سفر کرنا بالکل پسند نہیں ہے۔‘‘ اس خاتون نے کہا۔ ’’لیکن تمہیں پسند ہے ؟‘‘
’’نہیں…‘‘ بریجیٹ نے کہااور جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی نیچے بادلوں نے آسمان کوچھپایاہواتھا۔ بریجیٹ نے نوٹ بک سے گرجانے والے ہولی کے خطوط اپنی گود میںسے اٹھائے اور سب چیزیں واپس نوٹ بک میں رکھ دیں اوراسے واپس بیگ میں رکھ دیا۔
نارتھ کیلیفورنیا ایئرپورٹ پر آٹوم اسے لینے آئی تھی۔ بریجیٹ پہلی نظر میں اسے پہچان نہیں سکی تھی وہ سفید کلر کی اسپورٹس کار میں ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھی تھی اس نے بلو کلر کا ہائی نیک پہناہواتھا بال ماڈرن انداز میں کٹے تھے اور آنکھوں پرگلابی فریم کاچشمہ لگاتھا۔
’’تم تو خانہ بدوش لگ رہی ہو۔‘‘آٹوم نے بریجیٹ کودیکھتے ہی کہا۔
’’ایسا نہیں ہے میں بہت جلدی میں روانہ ہوئی چنانچہ خود پر زیادہ توجہ نہیں دی۔‘‘ بریجیٹ نے اپنے بکھرے بال انگلیوں سے درست کرتے ہوئے کہااور کار کاپچھلا دروازہ کھول کراپنا سفری بیگ پچھلی سیٹ پررکھ کر خود آٹوم کے برابر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی اوراس نے کار آگے بڑھادی۔
’’اچھااب بتائو میری بہن ہولی کے بارے میں تمہیں کیا پتہ ہے میں سب جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور آٹوم اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’بی! مجھے لگتا ہے کہ تمہیں ہولی کی اتنی پروا نہیں جتنی تم ظاہر کررہی ہو۔‘‘
’’کیوں؟ تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟‘‘
’’اس لیے کہ دوسال پہلے جب ہولی کی کلائی فریکچر ہوئی تھی تب توتم نے اس کی خیریت تک نہیں پوچھی تھی۔‘‘
’’اور کچھ؟‘‘ بریجیٹ نے اداسی سے پوچھا۔
’’اور جب اسے فوڈ پوائزنگ ہوئی تھی اوروہ اسپتال میں داخل تھی تب بھی تم نے اس کے بارے میں جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔‘‘
’’ایسا نہیں ہے آٹوم… میں نے اس کے بارے میں پتہ کیاتھااور جب مجھے اس کی خیریت کی اطلاع ملی تھی تو میں مطمئن ہوگئی تھی لیکن اب معاملہ مختلف ہے تم نے مجھے بتایاہے کہ وہ لاپتہ ہے اور میں فوراً واپس آگئی ہوں مجھے بتائو کہ تم اس کے بارے میں اور کیا جانتی ہو؟‘‘
’’وہ جمعرات کی سہ پہر میرے بوتیک میں آئی تھی تب میں نے اسے آخری بار دیکھاتھااور دوسرے دن مجھے ملرز کافون آیاتھا کہ وہ گھر نہیں پہنچی وہ پچھلی رات سے لاپتہ تھی۔‘‘
’’میں سمجھتی تھی کہ بل او رایملی اس کی اچھی دیکھ بھال کریں گے۔‘‘ بریجیٹ نے افسوس سے کہا۔
’’دیکھو‘ میں جانتی ہوں کہ تمہارے والدین سے تمہارے تعلقات اچھے نہیں تھے لیکن وہ ہولی سے محبت کرتے ہیں اوراس حادثے سے بہت دکھی ہیں۔‘‘
’’ایک تو یہ سمجھ لو کہ وہ میرے سگے ماں باپ نہیں ہیں اوردوسری بات یہ کہ اگر انہیں ہولی کی اتنی پروا ہوتی توکیاانہیں اس کی غیر موجودگی کااحساس پوری رات گزرنے کے بعد ہوتا؟‘‘
’’میرا مشورہ تو یہ ہے بی کہ تم ان لوگوں سے اچھا برتائو کرنا۔‘‘ آٹوم نے کہا او رکار ایک موڑ سے مڑی بریجیٹ کی نظریں سڑک کے کنارے لگے سائن بورڈ پر پڑیں جہاں سفید رنگ کے بڑے بڑے الفاظ میں لکھا تھا۔ ’’بیلی ڈیم ‘ پندر میل ‘‘
’’تمہارا غم کم نہیں ہوا؟‘‘ آٹوم نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’اچھا میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کوئی حادثہ پیش آئے‘ اپنی سیٹ بیلٹس باندھ لو۔‘‘ آٹوم نے کہا بریجیٹ نے اس کی تائید میں بیلٹس باندھ لیں اور آٹوم نے کار کی رفتار بڑھادی۔
’’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ تم نے سیٹ بیلٹ باندھی ہوئی ہے یانہیں جب میرے والدین کو حادثہ پیش آیا تو انہوں نے بھی بیلٹس باندھی ہوئی تھیں لیکن وہ نہیں بچ سکے۔‘‘ بریجیٹ نے دکھ سے کہا۔
’’جو مقدر میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کررہتاہے۔‘‘ آٹوم نے جواب دیا۔
’’اچھایہ بتائو ہولی کے معاملے میں پولیس کیا کہتی ہے ؟‘‘
’’وہ کچھ نہیں کرسکتے انہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے انہوں نے ایک رپورٹ مکمل کرلی ہے جس میں اس کی شناخت اور ذاتی معلومات درج کی گئی ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں‘ ہولی تقریباً اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی چنانچہ کسی حد تک خودمختار تصور کی جارہی ہے وہ اپنی مرضی سے بھی کہیں جاسکتی تھی۔‘‘
’’کیااس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بغیر اطلاع کے غائب ہے ؟‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے پوچھا۔
’’انہوں نے اپنے طور پر تحقیقات کرلی ہیں‘مسنگ پرسن سینٹر کو بھی معلومات دے دی گئی ہیں بل او رایملی بھی اس کے لیے پریشان ہیں لیکن اب تک کچھ نہیں ہوا ہے پولیس کا خیال ہے کہ وہ کسی حادثے کاشکار ہو کر زخمی ہوگئی ہے یامرگئی ہے لیکن اب تک کچھ بھی یقین سے نہیں کہاجاسکتا۔‘‘
’’وہ زخمی ہوگئی ہے یامرگئی ہے۔‘‘ بریجیٹ نے سرگوشی میں کہا وہ سوچ رہی تھی کہ ایسی نوجوان لڑکیاں جو کھوجاتی ہیں اور جنہیں زخمی یامردہ سمجھ کر ان کی کیس فائلیں بند کردی جاتی ہیں ان کی خبروں سے اخبارورسائل بھرے ہوتے ہیں لیکن ان کی دستیابی کے لیے کچھ خاص کام نہیں ہوتا کیونکہ ان کے لاپتہ ہونے کا کوئی سراغ نہیں ملتا اوران میں سے بہت کم اپنے گھروں کوزندہ پہنچتی ہیں اس نے آنکھیں بند کرلیں اب اس کادھیان صرف گاڑی کے انجن کی آواز اور روڈ پر رگڑتے ٹائروں کی دھمک پر تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے آٹوم کی طرف غور سے دیکھااورایک نمایاں تبدیلی نوٹ کرکے حیران رہ گئی آٹوم پہلے سے زیادہ موٹی لگ رہی تھی۔
’’تم نے بتایا نہیں کہ تم…‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’ہاں… میں امید سے ہوں۔‘‘ آٹوم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کب…؟ کس سے ؟ میرامطلب ہے تمہاری شادی کب ہوئی ؟ کس سے ہوئی ؟‘‘
’’تم اسے نہیں جانتیں‘ جس نے تم سے فون پر بات کی تھی وہی میرا شوہر ہے اس کانام کرسٹن ہے وہ مجھے بہت چاہتاہے‘ ہماری شادی کوتین سال ہوگئے ہیں۔‘‘
’’لیکن میری جب تم سے بات ہوئی تھی تو تم کسی جیکسن کوچاہتی تھیں؟‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’ہاں لیکن اس بات کوپانچ سال گزرگئے اس نے مجھ سے بے وفائی کی اور پھر مجھے کرسٹن مل گیا وہ بہت اچھا ہے۔‘‘ آٹوم نے وضاحت کی اور بریجیٹ نے اثبات میں سرہلایا وہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی تو یکسانیت سے گھبرا کرگھر سے چلی گئی تھی اور پھراس نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اس نے اتنی زندگی اپنے گھر سے دور گزاری تھی اور اب اس کی سمجھ میں آیاتھا کہ غیرممالک میں ایک اجنبی کی طرح زندگی گزارنا اتنامشکل نہیں ہے جتنا بیل ڈیم میں اپنے جاننے والوں کے درمیان ان کے سوالوں کامقابلہ کرنا۔ زندگی اس وقت آسان ہوتی ہے جب کوئی تمہارے بارے میں نہیں جانتا لیکن جیسے جیسے وہ تمہارے بارے میں جانتے جاتے ہیں ا ن کے سوالات او رتم سے ان کی امیدیں بڑھتی جاتی ہیں بریجیٹ جانتی تھی کہ اس کی واپسی پر اس کے جاننے والوں کو اس سے بڑی امیدیں ہوں گی۔
بریجیٹ نے ہاتھ بڑھا کر کار میں لگے ٹیپ کاوالیوم بڑھادیا تھااب دونوں خاموش تھیں اور کار تیز رفتاری سے بیلی ڈیم کی طرف بڑھ رہی تھی پھرجب ان کی کاربیلی ڈیم کے علاقے میں داخل ہوئی تو ماحول ہی بدل گیا دور دور تک مکئی کے کھیت لگے تھے‘ سڑک کے کنارے گائوں کے ریوڑ جارہے تھے کھیتوں کے کنارے مرغیاں چگ رہی تھیں درختوں پر پرندے چہچہارہے تھے بریجیٹ کھڑکی سے قریب ہو کر بیٹھ گئی دور دور فارم ہائوسز نظر آرہے تھے اور آسمان پربادل چھائے ہوئے تھے اور ہوا میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو بسی ہوئی تھی یہاں کی فضا میں سکون تھا جس کااحساس بریجیٹ کو اب ہو رہاتھا۔آٹوم نے اس کی طرف دیکھااس کے چہرے پربال بکھرے ہوئے تھے وہ اداس تھی اسے اپنے بال سنوارنے کا بھی ہوش نہیں تھا آٹوم نے اپنی کلائی میں پہنا ہوا ہیئربینڈ اتار کراس کی طرف بڑھادیاار اس نے خاموشی سے وہ بینڈ لے کر اپنے بالوں میں لگالیا۔
’’تمہیں پتہ ہے یہ بینڈ لگانے کے بعد تم اپنی عمر سے پندرہ سال چھوٹی لگ رہی ہو اور مجھے اسکول کاوہ زمانہ یاد آرہا ہے جب ہم ہر فکر سے آزاد تھے مجھے تو ایسا محسوس ہو رہاہے جیسے ہم دونوں اسی زمانے میں ہوں اور کسی اسپورٹس میں شرکت کرنے جارہے ہوں۔‘‘ آٹوم بول رہی تھی اور بریجیٹ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’اگر یہی بات ہے تو ہماری کہانی ادھوری رہ جائے گی اگر ہم اپنے دوست ہیری سے نہ ملے۔‘‘ بریجیٹ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں پتہ ہے ہیری نے ایک فوڈ ٹرک پر رقم لگائی ہے اور اب مختلف علاقوںمیں باربی کیو کے ذریعے کما رہاہے زبردست کاروبار کررہاہے۔‘‘ آٹوم نے بتایا۔
’’اچھا‘ واقعی ؟‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے کہاوہ جانتی تھی کہ آٹوم دوستوں کی دوست ہے‘ وہ اگر چاہتی تو آج اسے لینے نہ آتی اور بریجیٹ مقامی بس کے ذریعے بیلی ڈیم جاتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا وہ دوستی کاناتا نبھانے خود چلی آئی تھی اور اسے اپنی کار میں بیلی ڈیم لے جارہی تھی اور اب ہیری سے ملوانے پربھی رضامند ہوگئی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد وہ ہیری کے فوڈ ٹرک کے سامنے موجود تھیں اور ہیری بریجیٹ کو دیکھ کرحیران رہ گیاتھا۔
’’اوہ تم نے اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا۔
’’یہ ہولی کی تلاش میں آئی ہے ؟‘‘آٹوم نے جواب دیا۔
’’ہولی اس کی چھوٹی بہن ؟ کیوں اسے کیاہوا؟‘‘ ہیری نے پھر حیرت کااظہار کیا۔
’’تمہیں نہیں معلوم…؟ تم بہت بے خبر ہو سارے بیلی ڈیم کوپتہ ہے کہ وہ اچانک غائب ہوگئی ہے۔‘‘ آٹوم نے بتایا۔
’’اوہ … افسوس کی خبر ہے۔‘‘ ہیری نے کہا پھراس نے کافی اور بسکٹ سے ان کی تواضع کی تھی اور جب آٹوم نے قیمت ادا کرنا چاہی تھی تو اس نے منع کردیاتھا۔
’’اسکول کے پرانے ساتھیوں کومیری طرف سے یہ چھوٹا سا نذرانہ ہے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ اور آٹوم‘ بریجیٹ کے ساتھ واپس کار میں آبیٹھی۔
’’تمہیں کہاں ڈراپ کروں؟‘‘ آٹوم نے اس سے پوچھا۔
’’بل اور ایملی کی رہائش پر ڈراپ کردو۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’تم واقعی وہاں جانا چاہتی ہو یاوہاں جانے سے پہلے کچھ آرام کرنا چاہتی ہو… تم آخری بار کتنی دیر پہلے سوئی تھیں؟‘‘
’’میں جہاز میں کچھ دیر کے لیے سوئی تھی۔‘‘
’’میرے پوچھنے کامطلب ہے کہ آرام سے بستر پر لیٹ کر کب سوئی تھیں؟‘‘
’’آٹوم! میری پرواہمت کرو بس مجھے بل اور ایملی کے گھر پرڈراپ کردو۔‘‘
’’اچھاٹھیک ہے۔‘‘ آٹوم نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔
جلد ہی وہ جس علاقے میں سفر کررہی تھیں وہ بریجیٹ کی بچپن کی یادوں سے بھراہواتھا یہ وہی مکانات اور گلیاں تھیں جہاں اس نے کھیلتے کودتے اپنا لڑکپن بتایاتھا کچھ گھروں میں لوگوں نے مرغیاں اور بکریاں پالی ہوئی تھیں یہی دیہاتی زندگی کاحسن تھا گھروں کے درمیان تھوڑاتھوڑا فاصلہ تھا جس سڑک پر وہ سفر کررہی تھیں وہ سیدھی بل اور ایملی کے گھر تک جاتی تھی لیکن آٹوم نے وہاں تک پہنچنے کے لیے لمبا راستہ چناتھا کیونکہ درمیان میں بریجیٹ کاگھر بھی پڑتاتھا اورآٹوم نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسے ویران حالت میں دیکھ کر دکھی ہوجائے۔
کار سے اترتے ہوئے بریجیٹ نے پچھلی سیٹ سے اپنابیگ اٹھایااور آٹوم کوالوداع کہتی ہوئی کار سے اتر گئی۔
’’بی‘ ٹھہرو تم چاہو تو میرے ساتھ بھی رک سکتی ہو اس طرح تم کافی پریشانی سے بچ جائو گی۔‘‘
’’شکریہ‘ لیکن میں ٹھیک ہوں … میں تمہیں بعد میں کال کروں گی۔‘‘ بریجیٹ نے مسکراتے ہوئے کہااور کار کادروازہ بند کردیااور الوداعی ہاتھ ہلاتی وہاں سے چل دی آٹوم نے بھی کار آگے بڑھادی تھی۔
بل اور ایملی کاگھر بھی دوسرے گھروں کی طرح بریجیٹ کے لیے جاناپہچانا تھا بس اس پر نیا کلر کیا گیاتھااور باہر کے احاطے کے کچھ تختے نئے لگائے گئے تھے لان میں کچھ سبزیاں لگی ہوئی تھیں۔ بریجیٹ لان سے گزرتی بیرونی دروازے تک آئی تھی او ردروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے ہینڈ ل گھما کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ لاک تھا اس نے اندازہ لگایا کہ کوئی گھر پر موجود نہیں ہے اس نے ساری رات آٹوم کے ساتھ اس کی کار میں سفر کیاتھا اس وقت صبح کے نو بج رہے تھے اور بل اور ایملی اپنی اپنی ملازمت پر جاچکے تھے اور ان کے بچے اسکول‘ بریجیٹ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ علاقے میں ادھر ادھر ماری ماری پھرے اس نے ایک کھڑکی کی جھری سے اندر جھانکا اسے گھر کاکچھ اندرونی حصہ نظر آیا سامنے کچن تھاجہاںسنک میں کچھ برتن پڑے تھے ایک بلی کمرے میں گھوم رہی تھی اور دائیں ہاتھ سے ایک زینہ اوپر جارہاتھا جہاں کسی کمرے میں اس کی بہن ہولی کی یادیں بکھری پڑی تھیں اوراس کی منتظر تھیں لیکن وہ اندر نہیں جاسکتی تھی‘ وہ مجبور تھی اس نے ایک گہری سانس لی اور گھر کے باہر برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اس نے اپنا بیگ بھی اپنے پاس رکھ لیا تھاوہ جہاں بیٹھی تھی وہاں سے اسے دو راستے نظر آرہے تھے ایک راستہ وہ تھا جس پر سے وہ آٹوم کے ساتھ یہاں آئی تھی اور دوسرا راستہ وہ تھا جو شہر کی سمت جاتاتھا‘ اوراس راستے کونظر انداز کرتے ہوئے آٹوم اسے یہاں لائی تھی اسی راستے پرنظریں جماکربریجیٹ وہاں بیٹھ گئی تھی اوراس کے بچپن کی یادوں نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیاعلاقے کے گھر اپنی پچھلی حالت میں تھے ان میں بہت کم تبدیلیاں آئی تھیں یہ وہ گلیاں تھیں جہاں وہ ہولی کے ساتھ کھیلتی رہی تھی اور اسی راستے پرآگے جاکر اس کاپرانا گھر تھا جہاں وہ اپنے ماں باپ سے بچھڑنے تک رہتی تھی اس کے والدین کی وفات کے بعد وہ اور ہولی تنہا رہ گئی تھیں اور مقامی قانون کے مطابق ہولی چھوٹی ہونے کی وجہ سے کسی ذمہ دار فیملی کے ساتھ رہنے پرمجبور تھی ہولی کاسارا سامان صرف دو بوکس میں آگیاتھا ایک میں اس کی ضرورت کی چیزیں تھیں اور دوسرے میں اس کی یادگار چیزیں تھیں جو بہت زیادہ تھیں اوران کی جگہ اس کے نئے والدین کے گھر میں نہیں تھی وہ باکس بریجیٹ نے اسی گھر میں اپنے کمرے میں چھپادیاتھا تاکہ وہ خیراتی ادارے کوجانے سے بچ جائے اور کبھی اس کی بہن کے کام آسکے۔
اس کے گھر سے کچھ فاصلے پرانٹی اینی کا گھرتھا جہاں اکثر صبح کووہ چلی جاتی تھی اور ان کے ساتھ ناشتہ کرتی تھی اپنے خیالوں میں بہتی وہ اٹھی اور آہستہ آہستہ اس گھر کی چل دی جہاں اس کی بہت سی یادیں تھیں اس کی دستک پر ایک بوڑھی عورت نے دروازہ کھولا تھا۔
’’میں تمہاری کیامدد کرسکتی ہوں؟‘‘ بوڑھی عورت نے پوچھا۔
’’مم … میر ایہاں گھر ہے … میں یہاں رہتی تھی۔‘‘ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہااور واپس مڑ گئی بوڑھی عورت نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی اور دروازہ بند کرلیاتھا۔
بریجیٹ اپنے بیگ کو کاندھے پرلٹکائے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ایک ہوٹل کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی جہاں کچن میں کام کرنے والی ملازمہ کی ضرورت کااشتہار لگاتھا وہ اندر داخل ہوگئی کائونٹر پرایک نوجوان موجود تھا جس کے بیج پر اس کانام گرانٹ لکھاتھا۔
’’تم کون ہو؟‘‘ گرانٹ نے پوچھ۔
’’ایک مہمان۔‘‘ بریجیٹ نے کا۔ ’’کیا تم اپنے تمام کسٹمرز سے ایسے ہی بات کرتے ہو؟‘‘
’’ہاں… لیکن تم مجھے جانی پہچانی لگتی ہو۔‘‘
’’میں ہولی ڈیرس کی بہن ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو گرانٹ نے اثبات میں سرہلایا۔
’’وہ میری بہن ہے … مجھے ایک کمرا کرائے پر چاہئے کیاتم میری مدد کرسکتے ہو؟‘‘
’’ضرور‘ میرے پاس ایک کمرہ ہے۔‘‘ اس نے کہااور ضروری فارم بھرنے کے بعد بریجیٹ کو کمرے کی چابی پکڑادی رقم ادا کرنے کے لیے بریجیٹ نے اسے اپنا کریڈٹ کارڈ دے دیاتھا۔
’’تم ہولی کوجانتے ہو؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھاوہ اس کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی۔
’’ہاں‘ ہم ساتھ ہی اسکول جاتے تھے میں نے پچھلے سال گریجویٹ کیا ہے‘ ہولی کوہر کوئی جانتا ہے وہ کوئی معمولی لڑکی نہیں تھی۔‘‘ گرانٹ نے کہا۔
’’اوہ… یہ بات ہے ۔‘‘
’’ہاں‘ وہ سافٹ بال کیپٹن‘ اسٹوڈینٹس کونسل کی صدر اور بہترین کھلاڑی تھی وہ سب سے بہت اچھی طرح پیش آتی تھی اور بہت ٹھنڈے ذہن کی مالک تھی۔‘‘
’’واقعی ؟‘‘
’’وہ بہت ہی اچھی تھی… وہ اچانک غائب ہوگئی ہے۔‘‘ گرانٹ نے کہااورایک کمرے کے سامنے رک گیا۔
’’نمبر113‘ یہ تمہارا کمرہ ہے۔‘‘ اس نے دروازے کے لاک میں چابی گھماتے ہوئے کہااور دروازہ کھول کراندر داخل ہوگیا پھراس نے کمرے کی لائٹ آن کردی تھی‘ کمرہ خاصا کشادہ اور ہوادار تھا ایک کھڑکی ہوٹل کے عقب میں کھیتوں کی جانب کھلتی تھی بیڈ خاصا بڑا تھابریجیٹ بیڈ پر پائوں پھیلا کر بیٹھ گئی گرانٹ دروازے کے قریب کھڑاتھا۔
’’کیاتم نے کبھی اس علاقے سے کہیں اور جانے کے بارے میں سوچا؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’کہاں؟ ہوٹل سے باہر؟‘‘ گرانٹ نے پوچھا۔
’’نہیں… بیلی ڈیم سے باہر‘ تم نے اسکول مکمل کرلیا‘ آگے تعلیم کے بارے میں نہیں سوچا؟‘‘
’’نہیں…میرے لیے اتنا کافی ہے۔‘‘
’’اچھا‘توپھر بس یونہی … گھوم پھر کردنیا دیکھنے کا خیال تمہیں نہیں آیا؟ تم یہاں بور نہیں ہوتے؟‘‘
’’نہیں‘ اگرہم لوگ بور ہوتے ہیں تو کوئی محفل جمالیتے ہیں ‘ اچھااگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتو بتانا۔‘‘ اس نے کہا تو بریجیٹ نے اثبات میں سرہلایا۔
’’مجھے امید ہے تمہاری بہن ہولی جلد واپس آجائے گی۔‘‘ گرانٹ نے جاتے جاتے کہا۔
’’مجھے بھی یہی امید ہے۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا۔
گرانٹ کے جانے کے بعد وہ لیٹ کر سوگئی جب اس کی آنکھ کھلی تو سہ پہر ہوچکی تھی اس نے شاور لیا لباس تبدیل کیا اور اپنے کمرے کی چابی کارڈ اور چند ڈالرز جیب میں رکھ کر باہر آگئی۔ اس نے راستے میں ایک کیفے سے سینڈوچ اور کافی لی تھی اور بل اور ایملی کے گھر کی طرف بڑھ گئی تھی گھر کے احاطے میں ایک کتے نے اس کااستقبال کیاتھا ڈرائیو وے میں بل کاٹرک اور ایملی کی کار کھڑی تھی اور گھر کی دیوار سے لگی تین بائیسکلز بھی کھڑی تھیں گھر کے اندر سے زور زور سے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی تھیں جن میں وہ ایملی کی آواز بہ خوبی پہچان گئی تھی اس نے دروازے پر دستک دی دروازہ ایملی نے ہی کھولاتھا وہ کافی عمررسیدہ ہوگئی تھی اس کے ہلکے برائون بال اب سفید ہوگئے تھے اس نے نیلے اور سفید چیک کی شرٹ کے ساتھ بلو کلر کی جینز پہنی ہوئی تھی۔
’’بریجیٹ۔‘‘ ایملی نے حیرت سے کہا۔
’’ہائے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
کمرے میں تین بچے ایک کائوچ پراچھل رہے تھے اور شور مچارہے تھے جن میں دولڑکیاں اور ایک لڑکاتھا۔
’’چپ ہوجائو۔‘‘ ایملی نے مڑ کر انہیں ڈانٹااور وہ تینوں چپ ہوگئے۔
’کون ہے؟‘‘ لڑکے نے پوچھا۔
’’تم لوگ اوپر جائو۔‘‘ ایملی نے نصیحت کرتے ہوئے کہا ۔’’اور ڈنر کی تیاری کرو صرف پندرہ منٹ باقی ہیں اور ریان کونیچے بھیجنا اس سے کہو کہ ٹیبل ٹھیک کرے آج کھانا سرو کرنے کی اس کی باری ہے۔‘‘
’’تم یہاں کیا کررہی ہو بریجیٹ۔‘‘ بچوں کے جانے کے بعد ایملی نے پوچھا۔
’’مجھ سے یہ مت کہنا کہ تم اس بارے میں کچھ نہیں جانتی ہو… کیامجھے اندر آنے کانہیں کہوگی؟‘‘بریجیٹ نے حیرت سے کہا اسے ایملی کے رویے پر حیرت تھی ایملی برا سامنہ بنا کر پیچھے ہٹ گئی اوراسے اندر آنے کاراستہ دے دیا گھر ہمیشہ کی طرح کھلونوں اور چیزوں سے بھر اپڑاتھا کوئی چیز اپنی جگہ پر نہیں تھی کچن میں بھی سامان بکھراہواتھا۔
’’تمہیں کیسے پتہ چلا…؟تم تو یونان… یاپتہ نہیں کس علاقے میں تھیں؟‘‘ ایملی نے پوچھا۔
’’تھائی لینڈ… مجھے آٹوم نے بتایا ہے۔‘‘ بریجیٹ نے جوا ب دیا۔
’’ہاں‘ وہی یہ کام کرسکتی تھی۔‘‘ ایملی نے ناگواری سے کہا۔
’’کسی نہ کسی کو تو اتنا بااخلاق ہونا تھا کہ وہ مجھے میری بہن کی گمشدگی کے بارے میں بتائے۔‘‘ بریجیٹ نے بھی اسی انداز میں جواب دیااور کچن میں ایک اسٹول پر جگہ بنا کربیٹھ گئی۔
’’معاملات کنٹرول میں ہیں بریجیٹ۔‘‘ ایملی نے کچن میں آکر اپنا کام کرنا شروع کردیا۔
’’اوہ… توکیا ہولی گھر واپس آگئی ہے ؟‘‘
’’نہیں ۔‘‘
’’توپھر معاملات کنٹرول میں تو نہیں ہیں۔‘‘
’’تم کیا چاہتی ہو بریجیٹ۔‘‘ ایملی نے ساس بناتے ہوئے پوچھا۔
’’تم یہاں کس پلان کے تحت آئی ہو‘ کیا تم سمجھتی ہو کہ تم پولیس سے بہتر کام کرسکتی ہو؟‘‘
’’ایسانہیں ہے ۔‘‘
’’توپھر کیا صرف تمہاری یہاں موجودگی ہی اسے جادوئی طو رپرحاضر کردے گی؟‘‘
’’شاید۔‘‘ بریجیٹ نے ایملی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہولی تمہاری طرح نہیں ہے… وہ بھاگ کر نہیں گئی… ہم اس کے لیے پریشان ہیں اور اگر تمہارے اندر ذرا سی بھی شرافت ہوتی تو تم یہاںنہ آتیں۔‘‘
’’میری بہن لاپتہ ہوئی ہے… میں یہاں تمہیں تنگ کرنے نہیں آئی ہوں ایملی… میں اس لیے آئی ہوں کہ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟‘‘
’’گویاتم صرف اپنے ذہن کو تسکین دینے کے لیے یہاں آئی ہو؟‘‘
’’میں ہولی کے لیے آئی ہوں‘ آٹوم نے بتایا کہ وہ اسکول سے گھرواپس نہیں آئی تھی اس کے ساتھ کیاہوا ہے‘ کیاتم اس بارے میں کچھ جانتی ہو؟‘‘
’’وہ بہت اچھی تھی‘ ہرچیز میں نمایاں‘ تعلیم میں بہترین‘ وہ بہت اچھی جارہی تھی۔‘‘ ایملی نے کھانابناتے ہوئے کہا۔
’’توپھراس کے ساتھ کیاہوا؟‘‘
’’پولیس کا خیال ہے کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘ ایملی نے منہ بنا کر کہا۔
’’میںنے پولیس کاخیال نہیں پوچھا۔‘‘
’’میں نہیں جانتی بریجیٹ… میں تنگ آگئی ہوں… تم بھی جانتی ہو اور میں بھی جانتی ہوں کہ شہرمیں ایک بڑا فٹ بال کامقابلہ ہونے والا ہے او روہ اس کی بہت شوقین ہے‘ وہ ضرور یہ میچ دیکھنے آئے گی۔‘‘
’’کیاتم نے یہ بات پولیس کو بتائی؟‘‘
’’ہاں بتائی ہے‘ لیکن میرا خیال ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘ ایملی نے ایک گلاس میں اورنج جوس نکال کر بریجیٹ کی طرف بڑھادیا۔‘‘ یہ لو۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور جو س کاگلاس تھام لیا۔
’’پولیس کوہولی کے کمرے‘ اس کی کار یاشہر میں کہیں اور ایسا کوئی سراغ نہیں ملا جس سے یہ اندازہ ہو کہ اسے اغوا کیا گیا ہے۔‘‘ ایملی نے کہا۔
’’آٹوم نے بتایا ایسا لگتا ہے کہ وہ غائب ہوگئی ہے؟‘‘ بریجیٹ نے کہااور اسی وقت ایک نوعمر لڑکا سیڑھیاں اترتانیچے کمرے میںآگیا۔
’’اوہ… شٹ… تم ہولی کی بہن ہونا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ریان‘ دھیان سے بات کرو۔‘‘ ایملی نے اسے تنبیہہ کی۔’’چلو تم ٹیبل لگائو۔‘‘
’’اچھااچھا مجھے پتا ہے ورنہ بل ناراض ہوگا۔‘‘ ریان نے کہا۔ ’’کل تم دنوں اسی بارے میں بات کررہے تھے نا؟‘‘ ریان نے ایملی سے کہا۔
’’شٹ اپ ۔‘‘ ایملی نے اسے چپ رہنے کو کہا۔
’’اوکے۔‘‘ ریا ن نے کہااور بریجیٹ کی طرف جھکا۔
’’بل بھی کچھ نہیں بول سکتا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ریان!‘‘ ایملی نے پھر اسے ڈانٹا۔
’’میں ٹیبل سیٹ کررہاہوں۔‘‘ اس نے بریجیٹ کی طرف بامعنی نگاہوں سے دیکھا۔’’میں تو بس ٹیبل ہی سیٹ کررہاہوں۔‘‘ اس نے دہرایااور بریجیٹ ایملی کی طرف مڑی۔
’’کیایہ درست کہہ رہا ہے کہ تم اوربل میرے بارے میں لڑرہے تھے؟‘‘
’’ہم کسی بات پر متفق نہیں تھے۔‘‘
’’تمہاری لڑائی ہوئی؟ کس بات پر؟‘‘
’’ہم یہ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے کہ ہمیں ہولی کے بارے میں تمہیں بتاناچاہیے یانہیں؟‘‘ ایملی نے کہا۔
’’اورمیرا خیال ہے کہ بل ایسانہیں چاہتاہوگا؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’تم نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا ہے بریجیٹ… تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ ایملی نے پوچھا۔
’’میں…‘‘ بریجیٹ نے کچھ کہناچاہااسی وقت زینے پر پھرکسی کے بھاری قدموں کی آواز سنائی دی اور سیڑھیوں سے بل نیچے اترا‘ وہ تقریباً چھ فٹ سے زیادہ لمبا تھا اس کے شانے چوڑے اور جسم توانا تھا‘ چہرے پر داڑھی تھی ‘ چہرے سے خاصا سنجیدہ دکھائی دے رہاتھا۔ اچانک اس کی نظر بریجیٹ پرپڑی۔
’’اوہ… تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ اس نے اجنبیت سے پوچھا۔
’’بل۔‘‘ ایملی نے کچھ کہنا چاہا لیکن بل نے اسے کچھ کہنے کاموقع نہیں دیا۔
’’میرے گھر سے نکل جائو۔‘‘ اس نے بریجیٹ کودھکادیتے ہوئے کہا۔
’’بل…ہم صرف کچھ باتیں کررہے تھے … تمہیں غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ایملی نے اسے سمجھانا چاہا۔
’’ایملی‘میں اسے یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘ بل نے غصے سے کہا۔
’’میں تمہاری مدد سے اپنامسئلہ حل کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے وضاحت کی۔
’’تم بالکل بھی نہیں بدلی ہو… تم بہت تیز اور چالاک ہو۔‘‘ بل اس کی طرف جھپٹا لیکن وہ اچھل کر دوسری طرف جاکھڑی ہوئی۔
’’وہ سب دس سال پہلے کی بات ہے جو کچھ ہوااسے بھول جائو۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’میں نے تم سے کیاکہاتھا؟‘‘ بل ایملی کی طرف مڑا۔ ’’میں نے کہاتھا کہ یہ ہوگا… کیا تم نے اسے کال کی ہے ؟‘‘ بل نے ایملی سے پوچھا۔
’’نہیں… میں…‘‘ ایملی بولتے بولتے رک گئی۔
’’ایملی کوالزام مت دو… اس نے کچھ نہیں کیا ہے… تمہیں کیا ہوگیاہے؟ ایملی غائب ہوگئی ہے۔ اور تمہیں اس کی پروا نہیں جبکہ وہ تمہاری نگہداشت میں دی گئی تھی۔
’’اورمیرا خیال ہے کہ اسے تم نے غائب کیا ہے۔‘‘ بل نے اس پرالزام لگایا۔
’’کیابکواس ہے بھلامیں اپنی بہن کوکیوں اغوا کروں گی؟‘‘
’’یہ کام تم ہی کرسکتی ہو تم اسے بے حد چاہتی تھیں اسے اپنے ساتھ رکھناچاہتی تھیں لیکن یہاں کے قانون سے مجبور تھیں اب جب وہ اٹھارہ سال کی ہونے والی ہے تو تم نے اسے اغوا کرلیاتاکہ اٹھارہ کی ہونے کے بعد وہ آزادی سے تمہارے ساتھ گھوم پھرسکے اور اغوا ہونے کاڈھونگ رچایا۔‘‘ بل نے کہا وہ بہت غصے میں تھا۔
’’یہ غلط ہے …‘‘
’’ارے کوئی مجھے بتائے گا کہ میں ٹیبل کتنی دیر تک سیٹ کرتارہوں مجھے کتنے لوگوں کے لیے ٹیبل سیٹ کرنا ہے ؟کیا ہولی کی روح بھی یہاں موجود ہے اور کیااس کی بہن ڈنر پر ہمارے ساتھ ہوگی؟‘‘ ریان نے چیخ کر پوچھا۔
’’ہم چھ لوگ ہیں ریان۔‘ ‘ایملی نے کہا۔
’’میری بات سنو بل… میں تمہارے گھر کی اوپری منزل میں ہولی کے کمرے کاجائزہ لینا چاہتی ہوں۔‘‘
بریجیٹ نے ریان کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
’’ہرگز بھی نہیں۔‘‘ بل نے سختی سے جواب دیا۔ ’میں تمہیں اس کی چیزوں میں گھسنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘
’’میں ہولی کوتم سے بہتر جانتی ہوں… ہوسکتا ہے وہ کوئی نشان چھوڑ گئی ہو جس سے پتہ چل سکے کہ وہ کہاں ہے ؟ میں تم دونوں سے جلدی ایسی نشانی ڈھونڈ لوں گی۔‘‘
’’پولیس پہلے ہی اس کے کمرے کوچھان چکی ہے … انہیں کچھ نہیں ملا۔‘‘
’’میںپولیس آفیسر نہیں ہوں … اس کی بہن ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے سمجھایا۔
’’بس نام کی بہن ہو… ‘‘ بل نے غصے سے کہا۔
’’میری بات سنو بل۔‘‘ ایملی نے بل کومخاطب کیا۔ ’’بریجیٹ ہولی کی بہن ہے اب بحث ختم کرو‘ یہ بھی ہولی کے لیے پریشان ہے یقینا وہ کچھ عرصہ شہر میں رہے گی اس کے ساتھ سمجھوتہ کرلو… ‘‘ پھر ایملی بریجیٹ کی طرف مڑی۔
’’اور بریجیٹ تم … تمہیں ہمارے ساتھ تعاون کرناہوگا… وعدہ کرو تم کوئی مسئلہ پیدا نہیں کروگی۔‘‘
’میں وعدہ کرتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے جلدی سے کہا وہ بھی یہ لاحاصل بحث ختم کرنا چاہتی تھی۔
’’نہیں۔‘’بل نے مخالفت کی۔
’’میںکچھ نہیں سنوں گی ہم سمجھدار ہیں بچے نہیں‘ہمیں سمجھدار لوگوں ہی کی طرح عمل کرنا چاہیے۔‘‘ ایملی نے کہا۔
’’اس کامطلب ہے کہ میں اب ہولی کا کمرہ دیکھ سکتی ہوں؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھااور ایملی نے بل کی طرف دیکھا جس نے نفی میں سرہلایا۔
’’بریجیٹ! میں چاہتی ہوں ابھی تم معاملے کو کچھ ٹھنڈا ہونے دو دراصل پچھلے کئی دن سے ہم بہت پریشانیوں سے گزرے ہیں۔‘‘ ایملی نے کہا۔
’’اچھاتوکیا میں کل آجائوں؟‘‘ بریجیٹ نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہیں سوچ کربتائوں گی کیاتمہار اکوئی نمبرہے جس پرتم سے رابطہ کیاجاسکے؟‘‘ ایملی نے کہااس کاانداز جان چھرانے والاتھا۔
’’میرے پاس کوئی فون نہیں ہے۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا۔ ’’لیکن میںیہاں کے واحد ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہوں تم مجھ سے وہاںمل سکتی ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں تم سے رابطے میں رہوں گی۔‘‘ ایملی نے کہااور اسے دراوزے کی طرف بڑھنے کااشارہ کیا‘ بریجیٹ خاموشی سے گھر سے نکل گئی تھی پھروہ زیادہ دور نہیں گئی تھی کہ اسے اپنے پیچھے سڑک پر بائیک کے ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سنائی دی تھی اوراس نے پلٹ کردیکھاتھا۔
’’کیابات ہے ریان؟‘‘ بریجیٹ نے کہااسے اپنے پیچھے ریان کو دیکھ کر حیرت ہوئی تھی ۔
’’تمہیں میرانام یاد ہے؟‘‘ ریان نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’تمہارا نا م اتنا مشکل بھی نہیں کہ اسے یاد نہ رکھا جاسکے‘ مجھے یقین ہے تم میرے پیچھے بے مقصد نہیں آئے ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ریان نے جواب دیا لیکن وہ سرگھما کر ایملی کے گھر کی طرف بھی دیکھتا جارہاتھا شاید اسے ڈرتھا کہ اس کے گھر سے باہرجانے کا علم ایملی اور بل کونہ ہوجائے۔
’’دیکھو بعض اوقات ہولی میرے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھتی تھی لیکن وہ بذات خود اچھی تھی اور مجھے پسند بھی تھی اورمیں نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ کچھ برا ہو اورمیراخیال ہے کہ تم اس کی بہن ہونے کے ناتے زیادہ بہتر جانتی ہوگی کہ اسے کیسے ڈھونڈا جاسکتاہے اس لیے…‘‘
’’ارے… رکو‘ رکوذرا سانس لے لو… آرام سے بتائو کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’میں تمہیں یہ کہنے آیا ہوں کہ میںمنگل کوساڑھے تین بجے تک گھر آجاتاہوں اوربل اور ایملی شام چھ بجے تک آتے ہیں تو اگرتم واقعی ہولی کاکمرہ دیکھنا چاہتی ہو… کیونکہ تم جانتی ہوبل تو تمہیں اوپر اس کے کمرے میں جانے نہیں دے گا… توتم کل تین بجے تک آجانا میں تمہیں اس کاکمرہ دکھادوں گا۔‘‘
’’تم مجھے کمرہ دکھادوگے؟‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘
’’تم مجھے جانتے تک نہیں… ممکن ہے میں کوئی دھوکے باز ہوں؟ کوئی غلط لڑکی ہوں؟‘‘
’’نہیں میراخیال ہے تم اتنی بری نہیں ہواور پھر میں تمہیں تمہاری بہن کاکمرہ ہی دکھائوں گا تمہیں بل اورایملی کی قیمتی چیزوں کاٹھکانہ نہیں بتائوں گا۔‘‘ ریان نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے ریان… میںکل آجائوں گی۔‘‘
’’گڈ…‘‘ ریا ن نے کہااور واپس مڑ گیا۔
دوسرے روز بریجیٹ کی ملاقات ہوٹل کے لائونج میں ایمیٹ سے ہوگئی وہ لنچ کررہی تھی تب ہی ایمیٹ اس کے قریب آکھڑاہواوہ پہلے سے زیادہ توانا نظر آرہاتھا۔
’’ارے بھئی یہ پرانی کالج گرل یہاں کیا کررہی ہے ؟تم کیسے واپس بیلی ڈیم آگئی ہو؟‘‘ اس نے بریجیٹ کے برابر والی کرسی پربیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہیں نہیں معلوم؟ بیلی ڈیم میں سب کوپتہ ہے میری بہن ہولی اچانک غائب ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا ؟ہولی غائب ہے؟‘‘ ایمیٹ نے غیریقینی اندز میں کہا۔
’’تمہیں تو جم جانے اور ایکسر سائز کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی ہوگی۔‘‘ بریجیٹ نے اس کے توانا جسم کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔’’وہ پچھلے ہفتے سے لاپتہ ہے۔‘‘
’’اوہ مجھے یہ جان کرافسوس ہوا۔‘‘ ایمیٹ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
’’میں اس کے لیے ہی واپس آئی ہوں لیکن میں فیصلہ نہیں کرسکی ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے‘ میں نے اسے کافی عرصے سے نہیں دیکھا۔‘‘
’’پریشان مت ہوبی‘ میرا خیال ہے پولیس اسے ڈھونڈ نکالے گی۔‘‘
’’بل اور ایملی مجھے اس کاکمرہ دکھانے کے لیے بھی تیار نہیں۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’تم اکیلے ان سے ملنے چلی گئیں؟‘‘ ایمیٹ نے کہا۔
’’ہاں‘بل تومجھے مارنے کے لیے لپکاتھا لیکن ایملی درمیان میں آگئی۔‘‘
’’لیکن پہلے تووہ ایسا غصے والا نہیں تھا؟‘‘ ایمیٹ نے حیرت سے کہا۔
’’مگراب وہ ایسا ہی ہوگیاہے اس نے ایک لمحے کے لیے بھی مجھ سے پرسکون ہو کربات نہیں کی۔‘‘
’’بہت افسوس کی بات ہے۔‘‘
’’ایمیٹ میں ہولی کے بغیر نہیں رہ سکتی پتہ نہیں میری بہن کس حال میں ہوگی میں ہر قیمت پر اسے ڈھونڈنا چاہتی ہوں مجھے ایملی کے گھر دوبارہ جاناہے وہاں ریان میری مدد کرے گااورمجھے ہولی کاکمرہ دکھائے گاشاید وہاں سے کوئی سراغ مل سکے۔‘‘
’’اگرتم کہو تو میں تمہارے ساتھ چلتاہوں۔‘‘ایمیٹ نے پیش کش کی۔
’’نہیں میںاکیلے ہی جائوں گی لیکن اگر بعد میں تمہاری مدد کی ضرورت پڑی تو بتائو ں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
ایمیٹ سے ملنے کے بعد بریجیٹ اپنے کمرے میں گئی وہاں اس نے لباس تبدیل کیا اس کے سفری بیگ میں دوتین سوٹ ہی تھے اس نے ایک جینز تبدیل کی اوراس کے ساتھ بلوکلر کی ٹی شرٹ پہن لی پھراس نے اپنے پرس کاجائزہ لیا جس میں کرنسی بھری تھی لیکن وہ تھائی نوٹ تھے۔ جویہاں اس کے استعمال کے نہیں تھے اس کے علاوہ کچھ رقم اس کے کریڈٹ کارڈ میں بھی باقی تھی جسے وہ خرچ کرسکتی تھی لیکن اگر اسے بیلی ڈیم میں کچھ عرصہ رہنا پڑاتواسے مزید کپڑوں کی ضرورت ہوگی اس نے فیصلہ کیا کہ ایملی کے گھر جاتے ہوئے وہ آٹوم کے بوتیک جائے گی اور اپنے لیے چند اچھے لباس خریدے گی لیکن جب و ہ راستے میں تھی تو اس کی نظر علاقے کے چھوٹے پولیس اسٹیشن پر پڑی او روہ ایک ارادے کے ساتھ اس میں داخل ہوگئی۔
اسٹیشن میں ایک ڈیسک پر ایک پولیس آفیسر بیٹھا کسی فائل کاجائزہ لے رہاتھا۔بریجیٹ اسے پہچان گئی وہ اپنے والدین کی وفات کے بعد کئی بار وہاں آچکی تھی۔ اس وقت اس پولیس آفیسر کے سر کے بال گھنے اور سیاہ تھے لیکن اب اس نے اپنا گنجا سر چھپانے کے لیے وگ لگائی ہوئی تھی۔ جیسے ہی بریجیٹ کمرے میں داخل ہوئی اس نے سراٹھا کر دیکھا۔
’’اوہ…تم؟… پہلی بار جب میں نے تمہیں دیکھا تھاتو تمہارے چہرے پر جلنے کے نشان تھے اور بال کٹے ہوئے تھے۔‘‘ پولیس آفیسر نے کہا۔
’’ہاں‘ یہ بہت سال پہلے کی بات ہے۔‘‘
’’تم سے مل کرخوشی ہوئی۔‘‘آفیسر نے کہااوراسے بیٹھنے کااشارہ کیا۔
’’تم کیسی ہو؟‘‘
’’ٹھیک ہوں‘ تم ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوئے ہو؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’میں تم سے یہ تو نہیں پوچھوں گا کہ تم کیوں آئی ہو میرا خیال ہے مجھے کسی حد تک اندازہ توہے۔‘‘
’’ہولی۔‘‘
’’میری سمجھ میں نہیں آتابریجیٹ کہ میں تم سے کیا کہوں ؟‘‘
’’مجھے بتائو کہ کیا ہواتھا؟ یوں لگتا ہے جیسے کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں نہ آٹوم کونہ بل اور ایملی کواورمیں اس بات پریقین نہیں کرسکتی کہ وہ بھاگ گئی ہے وہ ایسی نہیں تھی اسکاٹ۔‘‘ بریجیٹ نے پولیس آفیسر کانام لیا۔
’’نہیں‘میرا یہ مطلب نہیں کہ میں کچھ نہیں جانتا بلکہ میرامطلب یہ ہے کہ میں تمہیں سب کچھ نہیں بتاسکتا۔‘‘
’’کیوں نہیں بتاسکتے؟‘‘
’’کیونکہ تم ہولی کی قانونی سرپرست نہیں ہو۔‘‘
’’مذاق مت کرو اسکاٹ۔‘‘
’’میں مجبور ہوں۔‘‘
’’میں اس کی بہن ہوں‘ اس سے میرا خون کارشتہ ہے اور مجھے یہ معلوم کرنے کی اجازت نہیں کہ وہ کہاں ہے؟ تمہیں اندازہ ہے کہ یہ کتنی غلط بات ہے؟‘‘ بریجیٹ نے برہمی سے کہا۔
’’مجھے اندازہ ہے… اور میری یہ خواہش ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کرسکوں لیکن موجودہ صورت حال میںمیرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تمہارے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘ بریجیٹ نے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جواس نے میز پررکھے ہوئے تھے۔’’تمہارے ہاتھ تمہارے کمپیوٹر کے قریب ہیںاورجہاںتک میرا اندازہ ہے تمہارے اس کمپیوٹر میں کہیں ہولی کے بارے میں بھی معلومات محفوظ ہوں گی۔‘‘
’’میرامقصد ہے کہ میں قانون کی پاسداری کرنے پرمجبور ہوں۔‘‘
’’نہیں تم مجبور نہیں ہو‘ میرا خیال ہے تم خود مجھے بتانا نہیں چاہتے۔‘‘ بریجیٹ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’مجھے بھی اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں جتنا کہ کچھ دن پہلے تک خبروں میں چل رہاتھا… سنو میں واقعی تمہاری مدد کرتااگر میرے لیے ممکن ہوتاتم مجھے جانتی ہومیں نے ہمیشہ تمہاری مدد کی۔میراخیال ہے تمہیں اس سلسلے میں بل او رایملی سے بات کرنا چاہیے۔‘‘ اسکاٹ نے اسے مشورہ دیا۔’’ویسے اس سلسلے میں انسپکٹر برٹ شاید تمہاری مدد کرسکے وہ اس کیس کی تحقیقات کررہی تھی۔‘‘
’’میں بل اور ایملی سے مل چکی ہوں… وہ مجھے یہاں دیکھ کر خوش نہیں ہوئے۔‘‘
’’اس کے لیے میں کچھ نہیں کرسکتا… تمہیں یاد ہے نا کہ تم نے ایک بار ان کے کھیت میں آگ لگادی تھی۔‘‘
’’یہ بہت پرانی بات ہے۔‘‘
’’اگرتم ان پرزور دوتو شاید تمہیں کچھ معلومات مل جائیں۔‘‘
’’میں اپنی سی کوشش کررہی ہوں اگر کچھ پتہ چلا توتمہیں بھی بتائوں گی۔‘‘ بریجیٹ نے قدرے پرسکون لہجے میں کہا۔ ’ویسے تم نے اب تک اس کے لیے جو بھی کچھ کیااس کے لیے تمہاری شکر گزار ہوں۔‘‘ اس نے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا‘ اسکاٹ اسے رخصت کرنے دروازے تک آیا تھا۔
’’بریجیٹ رکو… مجھے تم سے معافی مانگناہے۔‘‘ اسکاٹ نے کہا۔
’’کس بات کی معافی ؟‘‘
’’تم نے جانے سے پہلے مجھ سے کہاتھا کہ میں ہولی کا خیال رکھوں اور میں نے وعدہ کیاتھا کہ میں اس کاخیال رکھوں گا لیکن … میں ناکام رہا۔‘‘ اسکاٹ نے افسردہ لہجے میںکہا۔
’’میں تمہیں قصوروار نہیں سمجھتی اسکاٹ دراصل یہ بات تمہاری پہنچ سے باہر تھی۔‘‘
’’میں صرف تمہیں یہ بتانا چاہتاتھا کہ میرے بس میں جتناتھا میں نے کیا لیکن میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا۔‘‘
’’میں اب بھی تم سے کہوں گی کہ اگراسے ڈھونڈنے میں میری مدد کرسکتے ہو تو کرو۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔اوراسٹیشن سے باہر نکل گئی۔
پولیس اسٹیشن سے نکلنے کے بعد وہ آٹوم کے بوتیک پرپہنچی اور آٹُوم سے اپنے لیے نئے کپڑوں کی خریداری کی خواہش کااظہار کیا جس پرآٹوم نے اسے کئی نئے ڈیزائن کے ملبوسات دکھائے وہ آپس میں ہولی کے بارے میں بھی باتیں کرتی جارہی تھیں آٹوم کو ہولی کے یوں پراسرار طور پرغائب ہوجانے کاافسوس تھا ۔
’’تم نے بھی تو یہاں سے جاتے وقت بل او رایملی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیاتھا بریجیٹ۔‘‘ آٹوم نے شکایتی لہجے میںکہا۔ ’’اور اب تم ایک اور غلطی کررہی ہو کہ تم ایمیٹ سے مل رہی ہو وہ اتنا اچھا شخص نہیں ہے۔‘‘
’’لیکن وہ اسکول کے زمانے سے مجھے پسند کرتا ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’کچھ بھی سہی اس کی شہرت اچھی نہیں ہے۔ میراخیال ہے تمہیں اس کے مقابلے میںاپنی آنٹی سے ملناچاہیے۔‘‘
’’آنٹی سے ؟ وہ بھی شاید ہولی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہوں گی بھلاوہ کیا میری مدد کریں گی؟‘‘
’’دیکھوبی‘ تمہارے والدین کا انتقال ہوچکاہے ہولی کھوگی ہے اب تمہارے خاندان میں صرف تم اور تمہاری اینی آنٹی ہی باقی بچے ہیں وہ بھی اپنی بہن کی موت سے دلبرداشتہ ہیں تمہیں ان سے ضرور ملنا چاہیے۔‘‘ آٹوم نے اسے سمجھایا۔
’’ٹھیک ہے مل لوں گی۔‘‘
’’توپھر یہ تین سوٹ میری طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہیں۔‘‘ آٹوم نے اس کے سوٹ پیک کرتے ہوئے کہا پھر اس نے اپنے بوتیک کے پارلر میں بریجیٹ کو کچھ وقت دیاتھا اوراس کے بال نئے انداز سے تراش کر اسے ایک نیا روپ دے دیاتھا ہلکاسامیک اپ کرنے اور لباس تبدیل کرنے کے بعد وہ پہچانی نہیں جارہی تھی۔
ز…) …ز
ریان سے اس کی ملاقات ایملی کے گھر کے باہر ہی ہوگئی تھی وہ اپنی بائیک کی صفائی کررہاتھا اور بریجیٹ کودیکھ کر چونک گیاتھا۔
’’اوہ… تم تو پہچانی نہیں جارہی ہو… کیابات ہے ؟‘‘ ریان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’یہ میری دوست آٹوم کاکمال ہے۔‘‘ بریجیٹ نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے باہر ہی اتار دینا میں نہیں چاہتا کہ ان کے نشان گھر میں بنیں او رایملی مجھ پر کوئی شک کرے۔‘‘ ریان نے اسے سمجھایا تو بریجیٹ نے اپنے جوتے باہر ہی اتار دیئے اور پھرگھر میں داخل ہوگئی ۔ سیڑھیوں سے اوپر ہولی کاکمرہ موجود تھا جہاں وہ بھی کچھ عرصے رہی تھی۔ یہ گھر کاسب سے چھوٹا بیڈروم تھا جب وہ وہاں رہتی تھی توہولی کے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سوتی تھی اور ایک ہی الماری تھی جس میں وہ دونوں اپنی چیزیں رکھتی تھیں ان دونوں کے ایملی کے گھر آجانے سے گھر میں چھ بچے ہوگئے تھے ہولی کے کمرے میں اس کے اسکول کی کتابیں اور پسندیدہ ناولز کمرے میں بکھرے پڑے تھے کمرے میں ایک سلیپ پر اس کے انعامات‘ سرٹیفیکٹس اور ٹرافیاں سجی تھیں اوراس کے ساتھ ساتھ ہولی کی تصویریں بھی رکھی تھیں جن میں وہ مختلف دوستوں اور اپنی کھیل کی ٹیم کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی اسے ہر کوئی پسند کرتاتھا‘ بریجیٹ تصویریں دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ نہ جانے ایملی نے پولیس کو حوالے کے طور پر اس کی کونسی تصویر دی ہوگی چلتے چلتے اس کی نظر ایک تصویر پرجم گئی… یہ وہ تصویر تھی جو اس کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر کھینچی گئی تھی اور یہ آخری تصویر تھی جس کے بعد اس کابچپن اس سے بچھڑ گیاتھااوراس پربڑوں والی ذمہ داریاں آپڑی تھیں اس کے والدین فوت ہوگئے تھے اس تصویر میں اس کی پوری فیملی موجود تھی اس کے والدین وہ اور ہولی جواس کے پیروں پربیٹھی ہوئی تھی بریجیٹ نے وہ تصویر نکال کر اپنی جیب میں رکھ لی۔ یہ ایک یادگار تصویر تھی اور وہ اسے ایملی کے گھر میں یوں غیر محفوظ نہیں چھوڑ سکتی تھی اس کے بعد اس نے اچھی طرح کمرے کی تلاشی لی تھی ریان نے اسے بالکل نہیں روکاتھااس نے الماری کی درازیں اور مختلف بوکسوں میں رکھی ہوئی چیزیں باری باری نکال کر دیکھی تھیں ہولی کی ہرچیزنہایت ہی قرینے سے رکھی ہوئی تھی ان چیزوں میں وہ پوسٹ کارڈز بھی موجود تھے جو بریجیٹ اسے بھیجتی رہی تھی او روہ تصویریں بھی جومختلف ممالک سے بریجیٹ اسے بھیجتی رہی تھی اس کے والدین کی جمع پونجی بڑی اولاد ہونے کے ناتے بریجیٹ کے بینک اکائونٹ میں جمع کردی گئی تھی جس سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتی تھی اور ہولی کے لیے بھی خرچ بھیجتی تھی۔
اسی تلاش کے دوران بریجیٹ کے ہاتھ ہولی کا پسندیدہ ناول لگاجس کے آخری صفحے پر ایک لڑکی کی تصویر بنی تھی اور لڑکی کے ہاتھ پر ڈریگن کاٹیٹو بناتھایہ ہاتھ سے بنایاگیاتھا‘ بریجیٹ کویہ عجیب سا لگا اور وہ کتاب کا بغور جائزہ لینے لگی اور اسی وقت اسے چھوٹے ٹرک کے انجن کی آواز سنائی دی۔
’’اوہ میرے خدا… اب میری خیر نہیں۔‘‘ ریان جلدی سے بولا۔ ’’میں نے تم سے کہاتھا ناکہ بل ٹھیک چھ بجے آجاتا ہے۔‘‘وہ دروازے کی طرف بڑھااور بریجیٹ نے جلدی سے وہ ناول اپنی شرٹ کا گلا کھول کر اندر ڈال لی۔
’’کیا کررہی ہو وہ آگیا ہے۔‘‘ ریان نے اسے تنبیہ کی اوراس نے کھڑکی سے باہر جھانکا‘ بل اپنے ٹرک سے اتررہاتھا۔
’’تم میرے کمرے میں چھپ جائو وہاں بل کوکوئی شبہ نہیں ہوگا۔‘‘ ریان نے کہا۔ ’’تم میرے بیڈ کے نیچے لیٹ جانا۔‘‘
’’نہیں… ‘‘ بریجیٹ نے کہااور کمرے سے نکل گئی۔
’’اوہ… تم کیا کررہی ہو؟ وہ تمہیں دیکھ لے گا؟‘‘ ریان خوفزدہ تھالیکن بریجیٹ اس کاجواب دیئے بغیر اوپر ہی کمروں کے بعد بنے ہوئے باتھ روم میں گھس گئی اوراس نے ریان کو بھی اندر کھینچ کر باتھ روم کادروازہ لاک کرلیاتھا۔
’آخر تم چاہتی کیاہو؟‘‘ ریان نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں یہاں سے باہر نکلنا چاہتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور باتھ روم کے اوپر بنے روشندان کاشیشہ اوپر ہٹا کر اس جگہ سے آدھی باہر لٹک گئی پھراس نے ایک ٹانگ باہر نکالی تھی اور قریب لگے ہوئے ہمسائے کے لمبے درخت کی شاخ پکڑ کر اس پرجھول کرروشندان سے نکل گئی تھی پھراس نے اپنی دونوں ٹانگیں تنے میں پھنسائی تھیں اور نیچے اترنے لگی تھی۔
’’اوہ… یہ ٹرک مجھے بھی سکھانا۔‘‘ ریان نے تعریفی انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ خطرناک ہے اگرکبھی تم تم نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو میں تمہیں مار ڈالوں گی۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا۔اوراسی وقت گھر کے اندر سے بل کی آواز آئی۔
’’ریان کیا تم گھر میں ہو؟‘‘
’’جائو… وہ تمہیں آواز دے رہاہے۔‘‘ بریجیٹ نے ریان سے کہااور وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹ گیاپھراس نے اسے بند کردیاتھا۔
ز…) …ز
بیلی ڈیم کے واحد بوڑھوں کے مرکز میںعلاقے کی مناسبت سے ہر ممکن سہولت دینے کی کوشش کی گئی تھی ‘آٹوم ہی نے بریجیٹ کواولڈ ایج ہائوس کا پتہ دیاتھا جہاں اس کی اینی آنٹی نفسیاتی شعبے میں زیر علاج تھی وہاں استقبالیہ پراس کی ملاقات جینٹ سے ہوئی جوہولی کوبہت اچھی طرح جانتی تھی۔
’’میں تمہاری کیامدد کرسکتی ہوں۔‘‘ کائونٹر پر موجود جینٹ نے بریجیٹ سے پوچھا۔
’’میں اینی آنٹی سے ملنا چاہتی ہوں میر انام بریجیٹ ڈوبس ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اوہ تم ہولی کی بہن ہو؟‘‘ جینٹ نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ بریجیٹ نے کہاتو جینٹ اپنی جگہ سے اٹھی اوراس نے بریجیٹ کو گلے لگالیا۔’’مجھے تم سے مل کر بہت اچھا لگا ہولی اکثر تمہارا ذکر کرتی تھی۔‘‘
’’اچھا‘ وہ یہاں کتنا آتی تھی؟‘‘
’’وہ ہفتے میں ایک دوبار آجاتی تھی اور اگراس کے پاس وقت ہوتاتھا توزیادہ بھی آجاتی تھی وہ اینی آنٹی سے بہت محبت کرتی تھی… اس نے مجھے بتایاتھا کہ تم دنیا کی سیاحت پرنکلی ہوئی ہو؟‘‘
’’ہاں‘ کسی حد تک تم یہ کہہ سکتی ہو۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا۔
’’اوہ… سیاحت بڑے مزے کی چیز ہے۔‘‘ جینٹ نے کہاوہ اسے ساتھ لے کر آنٹی کے کمرے کی طرف جارہی تھی۔
’’تمہارے پاس تو سیاحت کے حوالے سے بڑی دلچسپ کہانیاں ہوں گی؟ تم اپنے گھر کتنی بار آئیں؟‘‘
’’میں یہاں سے جانے کے بعد پہلی بار آئی ہوں… تم ہولی کے بارے میں کیا جانتی ہو؟‘‘
’’وہی جو خبروں میں چل رہا ہے مجھے امید ہے کہ وہ جلد واپس آجائے گی۔‘‘ جینٹ نے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘
’’مجھے امید ہے اینی آنٹی تمہیں دیکھ کر خوش ہوں گی۔‘‘
’’وہ کیسی ہیں ؟ میں نے برسوں سے انہیں نہیں دیکھا لیکن جو کچھ سناہے اس کے مطابق وہ تنہائی کی زندگی گزار رہی ہیں۔‘‘
’’میراخیال تھا کہ تمہیں اینی آنٹی کے بارے میں معلوم ہوگا کہ تمہاری والدہ کی موت کے ساتھ ان کے ساتھ کیا حالات رہے؟‘‘ جینٹ نے آنٹی کے کمرے کے باہر رکتے ہوئے کہا۔
’’مجھے یہ توپتہ تھا کہ میر ی والدہ کی موت کے بعد وہ صدمے میں چلی گئی تھیں لیکن اس کے بعد کی تفصیلات مجھے معلوم نہیں ہیں۔‘‘
’’ہم انہیں ہرممکن طریقے سے پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے آرام کا خیال رکھتے ہیں‘ تمہاری فیملی کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا اس نے انہیں بہت متاثر کیاہے ’ میں تمہیں صرف اس لیے بتارہی ہوں کہ جب تم ان سے ملوگی تو انہیں پہلے سے بہت مختلف پائوگی لیکن بہرحال وہ تمہاری آنٹی ہیں اور تمہارے لیے قابل احترام ہیں۔‘‘
’’میں جانتی ہوں ۔‘‘ بریجیٹ نے کہا اور جینٹ نے دروازے کا لاک کھول کراندرجھانکا پھر وہ اندر گئی تھی اور بریجیٹ بھی اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی تھی کمرہ کشادہ تھاکمرے میں دو بیڈ لگے ہوئے تھے کمرے کی کھڑکی سے لان کا سرسبز منظر نظر آرہاتھا اوراینی آنٹی وہیل چیئر پر بیٹھی کھڑکی سے باہر کامنظر دیکھ رہی تھیں ۔ دروازے کی طرف ان کی پشت تھی قریب ہی میز پر گلابی رنگ کے پھولوں کاگلدستہ رکھاتھا۔
’’اینی! دیکھو تم سے ملنے کون آیا ہے ؟‘‘ جینٹ نے کہا۔ ’’تمہاری بھانجی بریجیٹ آئی ہے۔‘‘ لیکن آنٹی اس کی آواز پرمڑی نہیں تھی جینٹ نے آگے بڑھ کر ان کی وہیل چیئر گھمائی لیکن آنٹی بریجیٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے خلائوں میں گھور رہی تھیں۔
’’بریجیٹ ‘یہاں بیٹھ جائو۔‘‘ جینٹ نے ایک کرسی قریب کرتے ہوئے کہا۔
’’ان سے بات کرو‘ کچھ بھی بات کرو‘ یہ تمہیں سن سکتی ہیں۔‘‘ جینٹ نے کہااور کمرے سے نکل گئی۔
’’یہ اچھی جگہ ہے … میں دور بین لانا بھول گئی یاد ہے ہم اس سے پڑوس کے گھروں میں جھانکتے تھے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا لیکن آنٹی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’آنٹی مجھے بہت پہلے آپ سے ملنے آنا چاہیے تھا لیکن میں آپ سے ناراض تھی‘ آپ نے ہمیں غیر لوگوں کے حوالے کردیا جبکہ آپ کوچاہیے تھا کہ آپ ہمیں اپنے ساتھ رکھتیں۔‘‘ بریجیٹ نے کہا لیکن آنٹی اسی طرح خالی خالی نظروں سے خلا میں دیکھ رہی تھیں‘ بریجیٹ کو لگا جیسے وہ کسی بے جان شے سے بات کررہی ہے۔
’’ہولی چلی گئی ہے‘ کیا تمہیںپتہ ہے؟ مجھے یقین ہے تم بھی اس کی کمی محسوس کرتی ہوگی میںبھی اسے یاد کرتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور ہاتھ میں پکڑی کتاب ٹیبل پررکھ دی جو اس کے اور آنٹی کے درمیان رکھی تھی۔
’’اگرہم اسے نہیں ڈھونڈ سکے تو کیا ہوگا…؟ اگر وہ گھر واپس نہیں آئی تو… ؟‘‘ بریجیٹ مسلسل بول رہی تھی لیکن آنٹی خاموش تھیں۔
’’کیاتمہیں وہ یاد آتی ہے ؟‘‘ اس نے پھر آنٹی سے پوچھا۔ ’’مجھے ممی اور ڈیڈی بہت یاد آتے ہیں میں ان کے بغیر اداس ہوں… کیاتم بھی اداس ہو؟‘‘ اس نے پھر کہااور اچانک ہی آنٹی نے میز پررکھی ہوئی ہولی کی کتاب کی طرف دیکھا۔
’’یہ ہولی کی ہے ۔‘‘ بریجیٹ نے کتاب آنٹی کی گود میں رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم اسے پہچانتی ہو؟‘‘ اس نے پوچھااوراسی وقت کمرے کادروازہ کھلااور ایک لڑکا ایک اور بوڑھی عورت کووہیل چیئر پر لیے کمرے میں داخل ہوا۔
’’یہ لومیسی‘ یہ تمہارا نیا کمرہ ہے یہاں سے تمہیں گارڈن کاخوبصورت منظر بھی نظرآئے گا۔‘‘ لڑکے نے کہااور اچانک اس کی نظر بریجیٹ پرپڑی۔
’’مداخلت کی معافی چاہتاہوں‘ مجھے پتہ نہیں تھا کہ کوئی ان سے ملنے آیا ہوا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کوئی بات نہیں میں جاہی رہی تھی۔‘‘ بریجیٹ نے آنٹی کی گود سے کتاب اٹھاتے ہوئے کہااور کھڑی ہوگئی اسی وقت اندر آنے والی عورت نے اس کاہاتھ پکڑ لیا۔
’’بریجیٹ؟‘‘ عورت نے اس کانام لے کرپکارا۔
’’جی؟‘‘
’’اوہ یہ تم ہو‘ شاید میں تمہیں یاد نہیں لیکن میں میسی مارک ہوں بہت عرصہ ہواتم میرے پوتے کی اچھی دوست تھیں وہ تمہیں چاہتا بھی تھا۔‘‘
’’ایمیٹ کی دادی؟‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں‘ تمہیں دیکھ کر خوشی ہوئی۔‘‘
’’آپ مجھے یاد ہیں‘ آپ بہت مزے کی برائونیز بناتی تھیں۔‘‘
’’شکریہ بیٹی‘ تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘
’’اینی آنٹی سے ملنے آئی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور میسی نے اینی کی طرف دیکھا۔
’’اوہ… اچھا ڈیئر تم پریشان مت ہونا میں ان کاخیال رکھوں گی۔‘‘ میسی نے اپنائیت سے کہا۔
’’بہت شکریہ‘ میں جارہی ہوں لیکن میں جلد آئوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے… اگر تمہیں ایمیٹ ملے تو اس سے کہنا مجھے ملنے آئے وہ مجھے بہت یاد آتا ہے۔‘‘ میسی نے کہا۔
’’ہاں… میں ضرور کہوں گی۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا اور کمرے سے نکل گئی۔
اس کاابھی ہوٹل جانے کاکوئی ارادہ نہیں تھا وہ کمرے کی تنہائی میں شام گزارنا نہیں چاہتی تھی چنانچہ اس نے شہر کے اکلوتے اسٹیڈیم جانے کا فیصلہ کیا جہاں اس کاپسندیدہ کھیل ’فٹ بال میچ‘ ہورہاتھااسے امید تھی کہ شاید وہاں اسے اپنے بچھڑے ہوئے کچھ ساتھی مل سکیں چنانچہ وہ میچ دیکھنے چلی گئی میچ دیکھتے ہوئے اسے کچھ جانے پہچانے چہرے بھی نظر آئے میچ کے اختتام پر جب وہ اسٹیڈیم سے نکل رہی تھی تو کسی نے اسے آواز دی۔
’’ارے ٹھہرو… سنو۔‘‘ فٹ بال کی ایک کھلاڑی اس کی طرف بڑھی اس کے کاندھے پر اس کابیگ لٹک رہاتھااور سفید ٹرائوزر پرمٹی کے دھبے لگے ہوئے تھے۔
’’تم بریجیٹ ہونا؟ ہولی کی بہن اور فٹ بال کی کھلاڑی ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘ تم کون ہو؟‘‘
’’میں انسپکٹر برٹ ہوں آج ہماری ٹیم کا بیلی ڈیم کی فٹ بال ٹیم سے مقابلہ تھا‘ کیاتم اب بھی کھیلتی ہو؟‘‘
’’نہیں‘ اب میری بہن میری جگہ لے چکی ہے وہ بہت اچھی کھلاڑی ہے ‘ تم نے مجھے کیسے پہچان لیا؟‘‘
’’تم میں اور اس میں غضب کی مشابہت ہے۔‘‘
’’تم بیلی ڈیم میں نئی ہو؟‘‘
’’ہاں… میں ایک سال سے یہاں ہوں۔‘‘ انسپکٹر ہرٹ نے کہا۔
’’تم میری بہن کے بارے میں توجانتی ہوگی؟‘‘
’’ہاں‘ ہولی اچھی لڑکی ہے تم اس کے لیے ہی یہاں آئی ہو؟ اسے ڈھونڈنے؟ ہے نا؟‘‘
’’ہاں‘ایسا ہی ہے‘ کیاتم اس کی گمشدگی کے بارے میں کچھ جانتی ہو؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’اس کاکیس مجھے نہیں دیاگیاتھابلکہ کافی لوگ اس پرکام کررہے تھے اور کیونکہ بل ملر ہمارے چیف کابہت اچھا دوست تھااس لیے ہم ساری معلومات اسے ہی دے دیتے تھے یوں سمجھ لو روزانہ کی معلومات اس کے پاس جمع ہوتی تھیں۔‘‘ ہرٹ نے کہا
’’روزانہ کی بنیاد پر تو پھرکافی معلومات جمع ہوئی ہوں گی؟‘‘
’’کیامطلب؟ کیابل اورایمی نے تمہیں کچھ نہیں بتایا؟‘‘
’’نہیں‘ایک لفظ بھی نہیں۔‘‘
’’اوہ بہت افسو س ہوا‘ میرا خیال ہے معاملہ مشکل ہوگیاہے۔‘‘
’’اتنامشکل بھی نہیں‘ یہ بتائو ایساکوئی طریقہ ہے کہ میں ہولی کے کیس کی معلومات تک رسائی حاصل کرسکوں‘ میں جانتی ہوں کہ میں اس کی قانونی سرپرست نہیں ہوں لیکن میں اس کی بہن ہوں۔‘‘
’’میں دیکھوں گی کہ میں کیا کرسکتی ہوں۔‘‘
’’میراخیال تھا کہ شاید تم سے مجھے کچھ مدد مل جائے گی؟‘‘ بریجیٹ نے مایوسی سے کہا۔
’’سارا شہر تمہارے بارے میں طرح طرح کی باتیں کررہاہے‘ بریجیٹ‘ میں نہیں جانتی کہ کس پریقین کروں‘ میں صرف یہ جانتی ہوں کہ اگرمیری چھوٹی بہن کھوجاتی تو میں اس کے لیے کتنی دکھی ہوتی میں تمہارے جذبات سمجھتی ہوں۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘
’’میں اب چلتی ہوں… تمہار اکوئی نمبر؟‘‘
’’میرے پاس فون نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھرایک خرید لو…یہ بہت ضرری ہے۔‘‘ ہرٹ نے کہااور واپس مڑ گئی۔
’’یس سر‘ آفیسر ہرٹ۔‘‘ بریجیٹ نے باآواز بلند کہا۔
’’تم مجھے میک کہہ سکتی ہو اگرہم دوست ہیں۔‘‘ ہرٹ نے جاتے جاتے پلٹ کر کہااور آگے بڑھ گئی۔
اس رات سوتے سوتے اچانک بریجیٹ کی آنکھ کھل گئی تھی اس نے گھڑی دیکھی صبح کے تین بجے تھے اس کی ٹی شرٹ پسینے کی وجہ سے اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی اس کاکمبل پھسل کر بیڈ سے نیچے گرگیاتھا وہ اپنے پائوں سکیڑے دائیں کروٹ سے بیڈ پرپڑی تھی اور ہوٹل کا یہ کمرہ جیسے اسے کھانے کو آرہاتھا چند منٹ کے بعد وہ اٹھی اس نے آٹوم سے لیے ہوئے کپڑوں میں سے ایک نئی جینز اور ٹی شرٹ نکال کرپہنی نئے جوتے پہنے اور ہوٹل سے نکل گئی۔
شہر میں خاموشی تھی بس فٹ پاتھ پرپڑتے ہوئے اس کے جوتوں کی آواز سنائی دے رہی تھی ‘ اس کے قریب سے گزرتی ہوئی ایک دوکاریں فضامیں چند لمحوں کے لیے ذرا سا شور کرتی گزر گئیں وہ چلتی ہوئی بیلی ڈیم کے آخری حصے تک چلی گئی جہاں قبرستان میں بنی قبروں کے کتبے وقفے وقفے سے گزرنے والی کاروں کی روشنی سے چمک اٹھتے تھے اچانک اسے ٹھنڈک کااحساس ہوااوراس نے اپنی شرٹ کی آستین نیچے کرلیں ہر طرف سرد موسم کی وجہ سے دھند چھائی ہوئی تھی اور بریجیٹ کو لگ رہاتھا جیسے قبروں سے روحیں نکل آئی ہوں اور ادھر ادھر گھومتی پھررہی ہوں وہ دھند میں سے گزرتی ہوئی اپنے والدین کی قبروں کے پاس جاکررک گئی تھی دونوں کی قبروں پر ایک ہی کتبہ لگا تھاجس پرلکھے الفاظ چاند کی روشنی میں چمک رہے تھے۔
’’اورجب تم پہاڑ کی چوٹی پرپہنچ جائو تو تمہیں چڑھائی کاآغاز کردینا چاہیے۔‘‘ اس نے قبروں پر لگے کتبے کوباآواز بلند پڑھا۔
’’اورجب تمہارے قدم زمین سے لگیں تو تمہیں ڈانس کرنا چاہیے۔‘‘ باقی آدھا کتبہ کسی اور نے اپنی بھاری اور گھمبیر آواز میں پڑھا‘بریجیٹ چونک کر تیزی سے مڑی اس سے چند قدموں کے فاصلے پرایمیٹ کھڑ اتھا جس نے سرمئی کلر کا جوگرسوٹ پہناہواتھا۔
’’کیسااتفاق ہے ہم دونوں کی ملاقات یہاں ہوگئی ۔‘‘ ایمیٹ نے کہا۔
’’صبح کے تین بجے ہیں تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے کہا۔
’’مجھے نیند نہیں آرہی تھی چنانچہ میں صبح کی چہل قدمی کے لیے کچھ جلدی ہی نکل آیا۔‘‘
’’قبرستان میں چہل قدمی ؟‘‘
’’وہ قریب ہی میرے دادا کی قبر ہے میں ان سے ملنے آگیا۔‘‘ اس نے ایک سمت اشارہ کیا۔
’’اوہ …‘‘
’’کیامیں تمہارے والدین کی قبر پربھی دعا پڑھ سکتاہوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں… ضرور۔‘‘ بریجیٹ نے کہا تووہ اس کے برابر آکھڑاہوا۔
’’ان کی موت کے بعد شاید تم پہلی بار یہاں آئی ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ بریجیٹ نے کہااسے وہ دن یاد آگیا جب اینی آنٹی کے ساتھ وہا ں اپنے والدین کی آخری رسومات ادا کرنے یہاں آئی تھی تب بھی ایمیٹ اس کے ساتھ اسی طرح کھڑاہواتھا‘ پھراس کے والدین کو قبر میں اتارنے کے بعد کہاگیاتھا کہ وہاں موجود لوگ قبرمیں تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالیں لیکن بریجیٹ ایسا نہیں کرسکی تھی اس کی آنٹی اینی نے اسے کہابھی تھا کہ وہ بھی مٹی ڈالے لیکن وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے دور چلی گئی تھی ہر کوئی اسے بلارہاتھا لیکن وہ واپس نہیں گئی تھی۔
’’ہاں‘میں پہلی بار آئی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے خیالات سے چونکتے ہوئے جواب دیا۔
’’میں کبھی کبھی ہولی سے یہاں ملتا تھا۔‘‘
’’میں قبرستان میں ہولی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ایمیٹ‘ خاص طور سے اس وقت۔‘‘
’’میں معافی چاہتاہوں۔‘‘ایمیٹ نے اداسی سے کہا اور بریجیٹ نے اپنا سر اس کے کاندھے پر رکھ دیا‘ ایمیٹ اپنے ہاتھ اپنی پشت پرباندھے کھڑا رہاتھا۔
’’میں نہیں چاہتی کہ تم میر ادفاع کرو۔‘‘
’’کیامطلب ؟‘‘
’’میرامطلب ہے میں اپنی وجہ سے تمہیں کسی مصیبت میںڈالنا نہیں چاہتی مجھے نہیں معلوم کہ ہولی کے سلسلے میں معلومات کرتے اوراسے ڈھونڈتے ہوئے میں کن خطروں اورمشکلات سے گزروں گی میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے تمہیں کسی پریشانی کا سامنا کرناپڑے۔‘‘
’’ان باتوں کو چھوڑو تمہیںپتہ ہے خاص دن آرہا ہے۔‘‘ ایمیٹ نے موضوع بدلا۔
’’خاص دن ؟ کیامطلب؟‘‘
’’تمہاری سالگرہ کا دن… جمعہ کو تمہاری سالگرہ ہے نا؟‘‘
’’اوہ…ہاں شاید۔‘‘
’’کیاتم سالگرہ منائو گی؟‘‘ ایمیٹ نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ بریجیٹ نے اداسی سے کہا اوراسی وقت ہوا کے ایک جھونکے سے اس کے بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پرآگئی تھیں جنہیں ایمیٹ نے بڑے پیار سے سنوار دیا۔
’’میں جانتا ہوں یہ تمہارے لیے کتنامشکل ہے‘ تمہاری سالگرہ اور تمہارے والدین کی برسی کادن ایک ہی ہے۔ مجھے اس کا احساس ہے لیکن مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تمہارے والدین ایسا نہیں چاہتے ہوں گے کہ تم اپنی سالگرہ نہ منائو۔‘‘
’’کیاتم گیم میں جارہی ہو؟‘‘ کچھ دیر بعد ایمیٹ نے اس سے پوچھا۔
’’کیسا گیم؟‘‘
’’بیلی ڈیم بہ مقابلہ الیٹ ہائی ‘ اس میں ہولی کی ٹیم کھیل رہی ہے۔‘‘ ایمیٹ نے بتایا۔
’’میرے لیے اس کی کوئی ا ہمیت نہیں کیونکہ اس میں ہولی نہیں کھیل رہی ہے۔‘‘
’’میں اس کے بارے میں نہیں جانتا… یہ بڑامیچ ہے سارا شہر جارہاہے وہاں تم ہولی کے دوستوں سے مل سکوگی اوراس کے کوچز سے بھی‘ کیا خبر ان کے پاس کوئی انفارمیشن ہو جوہولی کو ڈھونڈنے میں تمہاری مدد کرسکے۔‘‘
’’تمہاری بات میں وزن ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’میراخیال ہے بل اور ایملی بھی جائیں گے‘ تمہیں بھی جاناچاہیے۔‘‘
’’میراخیال ہے میرے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘
’’توپھر تم جائوگی ؟‘‘
’’ہاں… یقینا… میں جائوں گی۔‘‘
’’گڈ‘ تمہیں یقینا مایوسی نہیں ہوگی… کیا میں تمہیں واپس ہوٹل تک چھو ڑدوں؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور ایمیٹ اسے راستہ دکھانے کے لیے اس سے آگے چلنے لگااچانک بریجیٹ کی نظر اپنے والدین کی قبروں کے پاس پڑے ہرے کاغذ پر پڑی اوراس نے جھک کر وہ اٹھالیا اور بے مقصد اس کی تہیں کھولتی بند کرتی رہی تھی اسے ہولی یاد آرہی تھی جواکثر اورے گامی کے ذریعے چیزیں بناتی تھی اوراسے بھی بنانا سکھاتی تھی اسے پورا یقین تھا کہ وہ سارس ہولی ہی کاتھااور وہ اسے اپنے والدین کی قبروں کے پاس چھوڑ گئی تھی ممکن ہے ایسا اس نے غائب ہونے سے کچھ دن پہلے ہی کیاہوکیونکہ سارس دیکھنے میں پرانا نہیں لگ رہاتھاپھراچانک فون کی گھنٹی بجی تھی اوراس نے ہوٹل کالینڈ لائن نمبر والافون اٹھایاتھا۔
’’ہیلو!‘‘
’’اوہ شکر ہے تم اٹھ گئی ہو میںصبح سے کئی بار فون کرچکی ہوں۔‘‘ دوسری طرف سے آٹوم بول رہی تھی ۔’’آج دوپہر کاکھانا میرے اور کرسٹن کے ساتھ کھانا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ٹھیک ہے لیکن میں کچھ لیٹ ہوجائوں گی پہلے میں سیل فون خریدوں گی پھر آئوں گی۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’اوکے میں تمہاراانتظار کروں گی۔ ویسے آج فٹ بال میچ ہے وہاں بھی چلیں گے۔‘‘
’’دیکھوں گی اگر موڈ ہواتو۔‘‘
’’ارے وہ ہولی کی ٹیم کامیچ ہے تم دیکھنا نہیں چاہوگی؟‘‘
’’ٹھیک ہے … میں آکر بات کرتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور فون بند کردیا۔
کچھ دیر بعد تیار ہو کر وہ ہوٹل سے نکل گئی تھی راستے سے اس نے ایک شاپ سے موبائل خریدااور آٹوم سے ملنے اس کے بوتیک پہنچ گئی جہاں آٹوم نے اسے اپنے شوہر کرسٹن سے ملوایا وہ کافی دیر بریجیٹ سے باتیں کرتے رہے پھر لنچ سے فارغ ہو کربریجیٹ اسٹیڈیم کی طرف روانہ ہوگئی جہاں وہ ہولی کی کو چ سے ملی اوراس کی ٹیم سے بھی باتیں کیں ‘کوچ نے اسے بتایا کہ پچھلی جمعرات کو ہولی پریکٹس کے لیے آئی تھی اور آخری بار اس نے ہولی کوپریکٹس کے میدان میں دیکھاتھا جواسکول کے ساتھ واقع ہے پھر ہولی اپنی کار میں بیٹھ کروہاں سے روانہ ہوگئی تھی‘ اسٹیڈیم میں اس کی ملاقات بل اور ایملی سے بھی ہوئی تھی جنہوں نے اس سے ہاں بھی کچھ اچھابرتائو نہیں کیاتھا۔
اسکول کے پلے گرائونڈ میں ہر طرف خاموشی کاراج تھاشام آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا رہی تھی‘ گرائونڈ کے احاطے میں لگے بڑے بڑے درخَتوں کے پتے تیز ہوائوں سے عجیب سرسراہٹ پیدا کررہے تھے جو بڑی پراسرار لگ رہی تھی بریجیٹ ایک ایک چپہ کا جائزہ لیتی آگے بڑھ رہی تھی جب وہ ریلنگ کے قریب پہنچی تو اس نے لوہے کی گرل کوپکڑ لیااسے بہت زور سے چکر آیاتھا وہ لڑکھڑا کر رہ گئی تھی پھر اچانک اسے سرگوشی سنائی دی جسے وہ سمجھ نہ سکی اس نے سوچا کہ یہ تیز ہوا کے شور میں پتوں کی سرسراہٹ کی آواز ہوگی لیکن چند لمحے بعد ہی اسے پھر وہی آوا زسنائی دی۔
’’بب … بی …‘‘ بریجیٹ نے چاروں طرف غور سے دیکھا‘ آس پاس کوئی نہیں تھا لیکن اسے یقین تھا کہ وہ ہولی کی سرگوشی کی آواز تھی۔
’’بی … بی …‘‘ اسے پھر آواز سنائی دی۔
’’ہولی… تم کہاں ہو؟‘‘ اس نے باآواز بلند کہا۔
’’بی …میری مدد کرو…‘‘ اسے پوراجملہ سنائی دیا۔
’’ہولی… تم کہاں ہو؟‘‘ وہ تیزی سے مڑی لیکن دور دور کوئی نہیں تھا۔
’’پلیز… مدد…مدد…‘‘ آواز آہستہ آہستہ مدھم ہوتی چلی گئی۔
کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد وہ واپسی کے لیے مڑی تو اس کی نظر اس ریلنگ پرپڑی جسے اس نے سہارا لینے کے لیے پکڑا ہواتھا وہاں تازہ خون لگاتھا بریجیٹ نے اپنا ہاتھ چیک کیا خون اس کی ہتھیلی سے نکل رہاتھا شاید گرل کاسہارا لیتے ہوئے گرل کی نوک اس کی ہتھیلی میں چبھ گئی تھی اسی وقت اس کی نظر یں نیچے زمین پرپڑیں جہاں اس کی ہتھیلی سے نکلنے والے خون کے تازہ قطروں کے ساتھ ساتھ چند سوکھے اور سیاہی مائل خون کے قطرے بھی پڑے تھے اچانک اسے خیال آیا کہ کہیں وہ ہولی کے تو نہیں تھے وہیں اس کوہولی کی مدد کے لیے پکار بھی سنائی دی تھی لیکن یہ محض اس کاخیال تھااس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا وہ واپس پھراسٹیڈیم گئی تھی جہاں اسے انسپکٹر ہرٹ ملی تھی اوراس نے ہرٹ سے اس بات کاذکر کیاتھا۔
’’تم یقینا کہوگی کہ یہ میرا شک ہے…‘‘ بریجیٹ نے مایوسی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’نہیں‘ہم شک پر ہی کام کرتے ہیں اور ثبوت ڈھونڈتے ہیں میں کوشش کروں گی اگر تحقیقات ایک بار رک گئی ہیں تو دوبارہ بھی شروع ہوسکتی ہیں۔‘‘ ہرٹ نے کہااوراس کی بات پربریجیٹ کے دل میں امید کی کرن چمکی۔
’’میک‘ تم میرا ساتھ کیوں دے رہی ہو؟ بھلا تم میرے بارے میں کیا جانتی ہو؟‘‘
’’میں صرف یہ جانتی ہوں کہ کچھ عرصہ پہلے ایساہی ایک کیس میرے زیر تفتیش تھا۔‘‘
’’ہاں اوراس کاانجام اچھا نہیں ہواہوگا۔‘‘ بریجیٹ نے بغیر سوچے سمجھے کہا۔
’’کیاتم سننا نہیں چاہوگی کہ کیا ہواتھا؟‘‘ ہرٹ نے کہا۔
’’نہیں… میں واپس جانا چاہتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’چلومیں تمہیں تمہارے ہوٹل چھوڑ دوں۔‘‘ ہرٹ نے پیش کش کی۔
’’نہیں‘میں ہوٹل نہیں ‘ایمی کے گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’لیکن کیوں ؟‘‘
’’مجھے ان سے کچھ پوچھناہے۔‘‘
’’اس وقت؟ رات کافی ہوگئی ہے شاید انہیں اعتراض ہو۔‘‘ ہرٹ نے کہا۔
’’ہم کبھی اچھے دوست رہے ہیں میرا خیال ہے وہ مجھے مایوس نہیں کریں گے۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور ہرٹ اسے ایملی کے گھر لے جانے کے لیے تیار ہوگئی۔
ایملی کے گھر پہنچ کرانہیں پھر ناگوار صورت حال کاسامنا کرناپڑاتھا بل اس وقت بریجیٹ کووہاں ایک پولیس آفیسرکے ساتھ دیکھ کربہت برہم ہواتھا۔
’’آخر تم چاہتی کیاہو؟ اب یہاں کیوں آئی ہو اوراسے اپنے ساتھ کیوں لائی ہو؟‘‘ بل نے ہرٹ کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ میری دوست ہے۔‘‘
’’تم یہاں کیوں آئی ہو؟‘‘ ایملی نے پوچھا۔
’’بتائو میری بہن کہاں ہے …’؟ اس کی نگہداشت تمہاری قانونی ذمہ داری ہے وہ کہاں غائب ہوگئی یا تم نے اسے غائب کروادیا… اس کاجواب تمہیں دینا ہوگا۔ ‘‘ بریجیٹ نے غصے سے کہا۔
’’میں کسی کو جواب دینے کاپابند نہیں ہوں تم یہاں سے جاسکتی ہو۔‘‘ بل نے اسے دھکادیتے ہوئے کہا۔
’’بل تم ایسا نہیں کرسکتے… اگر یہ تم سے کچھ پوچھنا چاہتی ہے تو آرام سے اس کے سوالوں کے جواب دے دو یوں دھکے تو مت دو۔‘‘ میک نے کہا۔
’’تم بھی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو… میں تمہاری شکایت تمہارے چیف سے کروں گا۔‘‘بل نے اسے دھمکی دی۔
’’بل تمہارا اور میرا مسئلہ ایک ہی ہے تم ہولی کے نگران تھے وہ تمہارے گھر سے غائب ہوئی ہے چنانچہ تمہیں اس کوڈھونڈنے کی فکر ہوناچاہیے‘ اسی طرح جس طرح وہ میری بہن تھی اورمیں اسے ڈھونڈ نا چاہتی ہوں۔ پھرتم مجھ سے تعاون کیوں نہیں کررہے ہو؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’پہلی بات تو یہ سمجھ لو کہ وہ میرے گھر سے غائب نہیں ہوئی ہے بلکہ اسکول کے کھیل کے گرائونڈ سے غائب ہوئی ہے جب وہ غائب ہوئی تو وہ گھر پر نہیں تھی…‘‘ بل نے کہااور بریجیٹ اسے حیرت سے دیکھنے لگی کیونکہ یہ بات تو صرف بریجیٹ کو پتاتھی اور کچھ ہی دیر پہلے ہولی کی فٹ بال ٹیم کی کوچ نے اسے بتائی تھی پھربل کوکیسے پتا تھی بریجیٹ نے اس کے جواب میں بل سے کچھ نہیںکہااور میک کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھاپھراس نے میک کوواپس چلنے کااشارہ کیاتھا۔
’’ٹھیک ہے بل یہ بات تم مجھے پہلے ہی بتادیتے تومیں تمہیں تنگ نہ کرتی۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور واپسی کے لیے مڑ گئی‘ انسپکٹر ہرٹ بھی اس کے ساتھ باہر آگئی تھی۔
’’تم نے دیکھا… مجھے پہلے ہی شک تھا اس میں ضرور بل کاہاتھ ہے کسی کویہ بات نہیں پتہ کہ ہولی آخری بار کہاں دیکھی گئی لیکن یہ جانتا ہے۔‘‘
’’میںنے تمہیں بتایاتھا کہ تفتیش کے دوران ہم لوگ بل کوہی تما م معلومات دیا کرتے تھے ہوسکتاہے کسی نے اسے بتایا ہو۔‘‘ انسپکٹر ہرٹ نے کہا۔
’’لیکن میک ‘ ہولی کو ڈھونڈنے کے بارے میں اس کارویہ ودستانہ نہیں یہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ میری بہن فٹ بال کی بہترین کھلاڑی تھی‘آج اس کی ٹیم کا سیمی فائنل ہوا ہے‘ چند روز میں فائنل میچ ہونے والا ہے اس کی ٹیم کی ہارجیت کاانحصار اس پرہی تھا مجھے تواس کی گمشدگی میں کسی سازش کی بوآرہی ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’تم فکرنہ کرو… میں تفتیش دوبارہ شروع کروں گی اگر مجھے کوئی سراغ ملاتواس دائرے کو بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔‘‘ ہرٹ نے کار میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
بریجیٹ کوہوٹل چھوڑنے کے بعد ہرٹ چلی گئی تھی اور بریجیٹ کافی دیر تک لیٹی ہولی کے بارے میں سوچتی رہی تھی پھراچانک اسے اس کتاب کا خیال آیا تھا جو ہولی کی تھی اور اسے بل کے گھر سے ملی تھی جس پرکئی جگہ ہولی نے پین سے نشان لگائے ہوئے تھے جن کامقصد اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھااس نے کتاب کی ورق گردانی شروع کردی کتاب کے ٹائٹل ہی میں تین لفظوں کو سرخ پین سے ہائی لائٹ کیا گیاتھا۔
The cirt with the Dragon Tattooبریجیٹ نے اپناپین اور ڈائری اٹھالی اور کتاب میں جن لفظوں پرنشان تھے انہیں اپنی ڈائری میں لکھنا شروع کردیاجب وہ تمام لفظ لکھ چکی تو اس نے انہیں پڑھ کرسمجھنے کی کوشش کی لیکن کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی تواس نے کتاب فرش پر پھینک دی وہ کتاب اس کے سامنے الٹی گری تھی اور ٹائٹل کے نشان زدہ الفاظ صاف نظر آرہے تھے اب وہ انہیں الٹا پڑھ رہی تھی۔’’Ani‘‘
’’اوہ آنٹی اینی ؟‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا اس نے بے ساختہ کتاب کودوبارہ اٹھالیااوراسے پیچھے سے نشان زدہ الفاظ ملا کرپڑھنا شروع کیا اب بات کچھ بن رہی تھی لیکن ساری کتاب پڑھنے کے بعد بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی لیکن ان الفاظ میں جو پیغام بھی د ینے کی کوشش کی گئی تھی وہ ادھوراتھا‘ اسی وقت اس کے ذہن میں خیال آیا‘ کہ اس کی آنٹی اینی اس بارے میں ضرور کچھ جانتی ہوں گی چنانچہ اس نے ان سے ملنے کاارادہ کیااور کپڑے تبدیل کرکے ہولی کی بک اور اپنی نوٹ بک لے کر کمرے سے نکل گئی۔
اسپتال میں استقبالیہ پر اسے جینٹ نہیں ملی تھی اور وہ خود ہی آنٹی اینی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں میسی بھی موجود تھی۔
’’تم میرے پوتے سے ملیں ؟ تم نے اسے میرا پیغام دیا؟‘‘ میسی نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
’’نہیں‘ اتفاق سے میں وہ پیغام نہیں دے سکی جب اس سے ملوں گی توپیغام دے دوں گی میں اپنی آنٹی سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتی ہوں کیا آپ کچھ دیر کے لیے لان میں چلی جائیں گی؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا تو میسی خوش ہوگئی۔
’’ہاں‘ ہاں کیوں نہیں میں خود بھی ذر اکھلی ہوا میں جانا چاہتی ہوں۔‘‘ میسی نے جواب دیااور بریجیٹ نے اس کی وہیل چیئر کمرے سے باہر نکال کرکاریڈور میں کھڑی نرس کو تھمادی۔
’’کیاتم ذراانہیں لان تک لے جائوگی؟‘‘ اس نے نرس سے کہا۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں ۔‘‘ نرس نے خوش دلی کامظاہرہ کرتے ہوئے کہااور میسی کی وہیل چیئر لے کر لان کی طرف چلی گئی۔ بریجیٹ نے کمرے میں واپس آکر دروازہ بند کرلیاتھااور اینی کے سامنے آبیٹھی تھی اور ہولی کی کتاب ان کے سامنے رکھ دی۔
’’اینی آنٹی ! مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا‘ اس کی آنٹی خالی خالی نظروں سے لان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’پلیز… یہ آپ کی ہے ‘ ہے نا؟‘‘ اس نے آنٹی کاہاتھ اس کتاب پررکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہاں میرے اور آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے کیا‘ آپ مجھے اس کتاب کے بارے میں کچھ بتاسکتی ہیں؟‘‘ بریجیٹ نے کہا اور اینی آنٹی نے کمرے میں رکھی میز کی دراز کی طرف اشارہ کیا اس نے اٹھ کردراز کھولی تووہاں بھی اس کتاب کی ایک کاپی اور دولال پین موجود تھے اس نے وہ چیزیں وہاں سے نکال لیں اور پھر آنٹی کے سامنے آبیٹھی پھراس نے دونوں کتابوں کے ایک جیسے صفحے کھولے تھے۔ آنٹی کی کتاب میں بھی الفاظ کونشان زدہ کیا گیا تھا لیکن ا ن کے الفاظ مختلف تھے آنٹی اینی نے اپنی انگلی سے اپنی کتاب کی طرف اشارہ کیا پھر ہولی کی کتاب کی طرف اور پھر اپنی کتاب کی طرف…
’’آپ دونوں ایک دوسرے سے اس طرح بات کرتی تھیں؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا تو آنٹی نے اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھ کراسے خاموش رہنے کااشارہ کیا۔
’’میں کسی کو کچھ نہیں بتائوں گی… میں وعدہ کرتی ہوں…‘میں بس ہولی کو ڈھونڈنا چاہتی ہوں۔‘‘
بریجیٹ کی اس بات پر آنٹی نے ایک لال پین خود اٹھالیااور ایک اس کی طرف بڑھادیاپھرانہوں نے دونوں کتابیں اپنے قریب کرلیں اور باری باری دونوں کتابوں کے الفاظ کے گرد دائرے بنانے لگیں جب وہ اس سے فارغ ہوگئیں تو کتابیں اس کی طرف کھسکادیں اور بریجیٹ ان نشانوں کاجائزہ لینے لگی۔
’’اچھااسی لیے ہولی کی کتاب کے الفاظ مجھے سمجھ نہیں آرہے تھے کیونکہ اس کاآدھاپیغام تو آپ کے پاس محفوظ تھا۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور اینی آنٹی نے اثبات میں سرہلایا۔
’’لیکن اس رازداری کی کیا ضرورت تھی آپ ہولی سے باآواز بلند بات نہیں کرسکتی تھیں؟‘‘ اس نے پوچھا تو آنٹی نے نفی میں سرہلایا۔
’’اچھاٹھیک ہے میں سمجھ گئی لیکن میں انہیں بغور پڑھنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے کہااور آنٹی نے پھراثبات میں سرہلایا‘ اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے وہ کاغذ کاسارس نکالااور اسے کھول کردونوں کتابوں کے درمیان رکھااس کاغذ پر کچھ صفحات کے نمبر لکھے ہوئے تھے اور جس ترتیب سے لکھے تھے اسی تریتب سے پیغام پڑھناتھا وہ پڑھتی گئی اس کے کان دروازے کی طر ف لگے ہوئے تھے کہ آنے والوں کی آہٹ سن کرہوشیار ہوجائے پھراس نے ایک کاغذ پرلکھا۔
’’میراخیال ہے میں آوازیں سنتی ہوں‘ کیا تم بھی میرے والدین کی موت کے بعد ایسی آوازیں سنتی تھیں؟‘‘ اس نے کاغذ اینی کی طرف بڑھایااوراس نے جواب میں لکھا۔
’’کیسی آوازیں؟‘‘
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے بیان کروں ؟ایسا لگتا ہے کہ میرے اور ہولی کے درمیان کوئی رابطہ ہوتا ہے وہ جو کچھ کرتی ہے بولتی ہے وہ میں جان سکتی ہوں وہ جو محسوس کرسکتی ہے مجھے بھی محسوس ہوتاہے۔‘‘
’’تمہیں کیسے پتہ کہ یہ سب سچ ہے ’؟‘‘ اینی نے لکھ کر پوچھا۔
’’میں نہیں جانتی… ایسا خودبخود ہوتا ہے۔‘‘
’’یہ کب سے شروع ہوا؟‘‘
’’کچھ عرصہ پہلے ہی ۔‘‘
’’ہولی کے نشان زدہ الفاظ پڑھو۔‘‘ اینی نے ہولی کی کتاب کاایک صفحہ کھول کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’مجھے لگتا ہے کچھ برا ہونے والا ہے کچھ لوگ میرے تعاقب میں ہیں وہ شاید مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘‘ بریجیٹ نے حیرت سے اینی کی طرف دیکھا پھراینی کی بک دیکھی۔
’’وہ کون ہیں ؟‘‘
’’ان میں سے ایک بل ہے ۔‘‘ ہولی کی بک میںپیغام تھا۔
’’اوردوسرا؟‘‘
’’اس کانام فوکس ہے ‘وہ خراب آدمی ہے۔‘‘ بریجیٹ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اسی وقت دروازے کے باہر آہٹ سنائی دی اور بریجیٹ نے جلدی سے دونوں لال پین واپس دراز میں رکھ دیئے اور کتابیں اپنے بیگ میں چھپالیں۔
’’میں پھر آئوں گی… فی الحال کتابوں کی مجھے ضرورت ہے میں اچھی طرح انہیں دیکھوں گی اورمیرا وعدہ ہے کہ میں ہولی کو ڈھونڈ نکالوں گی۔‘‘اس نے کہااور کمرے سے نکل گئی واپسی پر وہ لفٹ میں تھی کہ اس کے سیل فون کی بیل بجی دوسری طرف سے آٹوم بول رہی تھی۔
’’تم کہاں ہو؟‘‘
’’میں اینی آنٹی سے ملنے آئی تھی واپسی جارہی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’فوراً میرے پاس آجائو۔‘‘
’’خیریت؟‘‘
’’ہاں خیریت ہی ہے… میرے پاس ایک فون آیا تھا جو تمہیں بتاناضروری ہے وہ تمہارے متعلق ہی تھا۔‘‘ آٹوم نے کہا۔
’’کیسافون…؟ کیابات ہے ؟‘‘
’’تم آجائو تو تفصیل سے بتائوں گی۔‘‘ آٹوم نے کہا۔
’’اچھا میں ابھی آرہی ہوں۔‘‘
بریجیٹ جب آٹوم کے پاس پہنچی تووہ اس کی ہی منتظر تھی۔
’’کیسافون آیا تھا؟ کون تھا؟مجھے بتائو۔‘‘ بریجیٹ نے بے چینی سے پوچھا۔
’’وہ کوئی لڑکی تھی اورا س کی آواز مشکل سے سمجھ آرہی تھی میرا خیال ہے اس نے اپنا نام ’’نومی‘‘ بتایاتھا۔‘‘
’’نومی… نومی نورمنٹ؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’شاید۔‘‘
’’اوہ آٹوم یہ بہت ضروری ہے مجھے یاد کرکے بتائو اس نے کیا کہاتھا۔‘‘
’’میںنے بتایا نااس کے الفاظ ٹھیک سمجھ نہیں آرہے تھے اس نے کہاتھا کہ اس کے پاس تمہارے لیے کوئی پیغام ہے اس نے بس اپنا نام بتایاتھا اورایک بچوں کی نظم پڑھی تھی۔‘‘
’’کون سی نظم …؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا اسے اپنے اندر خوف کی لہر محسوس ہوئی تھی۔
’’مجھے یاد نہیں ہے۔‘‘
’آٹوم!‘‘ اس نے تنبیہی انداز میں کہا۔
’’میںنے اسے Save کرلیاہے تم خود پڑھ لو۔‘‘ آٹوم نے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہااور بریجیٹ نے موبائل لے کراس میں پیغام کھولا جو آڈیو میں تھا۔
’’بریجیٹ‘ میں نومی ہوں…نومی نورمنٹ میرے پاس تمہارے لیے ایک پیغام ہے یہ سنو۔‘‘ اور پھراس نے نظم پڑھنا شروع کردی تھی۔
I am abum ble bee‘‘
I like to dance and fly .
but if I were to sting someone’
Iwould not be alive
پیغام ختم ہوتے ہی بریجیٹ کرسی کاسہارا لیتی ہوئی بیٹھ گئی اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے اور رنگ سفید پڑگیاتھا۔
’’خدایا… کیابات ہے‘ تمہیں کیاہو رہا ہے؟‘‘ آٹوم نے گھبرا کر پوچھا۔
’’کچھ نہیں ۔‘‘
’’اب مجھے بھی فکر ہو رہی ہے بی… بتائو وہ کس لڑکی کی آواز ہے اوراس نظم کاکیا مطلب ہے؟‘‘ آٹوم نے کہااور فرج سے پانی نکال کر بریجیٹ کو پلایا۔
’’میں نومی کوجانتی ہوں… کئی سال پہلے اس کے ساتھ سفر کرچکی ہوں تب میں فرانس میں تھی۔‘‘ بریجیٹ نے بتایا۔
’’بی‘ کیابات ہے ؟ مجھے بتائو۔‘‘
’کچھ نہیں …‘‘
’’میں تمہاری دوست ہوں بی… اور ہولی کے سلسلے میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’یہ جونظم ہے‘ یہ میں نے ہی بنائی تھی ہولی شہد کی مکھیوں سے ڈرتی تھی جب وہ چھوٹی تھی تواسے ڈر سے آزاد کرنے کے لیے میں یہ سنایا کرتی تھی اور ہولی نے میرا نامBumble bee رکھ دیاتھا اوروہ جب بھی خوفزدہ ہوتی تھی تو یہ نظم پڑھتی تھی۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور آٹوم نے تسلی دینے والے انداز میں اس کے کاندھے تھپتھپائے۔
’’ممی ڈیڈی کے انتقال کے بعد وہ اکثر یہ نظم گنگناتی تھی میں ساری ساری رات اس کی آواز سنتی رہتی تھی‘ میں سو نہیں سکتی تھی‘ میری برداشت سے باہر ہوگیاتھا۔‘‘
’’اچھاتو… نومی نے اس لیے یہ نظم دہرائی ہے۔‘‘ آٹوم نے کہا۔ ’’اس کا کیامطلب ہوسکتا ہے؟‘‘
’’مجھے یہی تو حیرت ہے نومی کبھی بھی ہولی سے نہیں ملی ہے اور یہ نظم صرف میرے اور ہولی کے درمیان جانی پہچانی ہے کسی نے اسے نہیں سنا۔‘‘
’’تم سمجھتی ہو کہ نومی کو پتہ ہے کہ ہولی کہاں ہے ؟‘‘ آٹوم نے پوچھا۔
’’میں کچھ نہیں کہہ سکتی… تم اپنا فون مجھے دو‘ میں نمبر ٹریس کروں گی جس سے کال آئی تھی۔‘‘
’’نہیں‘جب تک مجھے تم یہ نہیں بتائوگی کہ معاملہ کیا ہے ؟‘‘
’’آٹوم یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔‘‘
’’بی… تم سمجھتی ہو کہ مجھے معاملے کی سنجیدگی کااحساس نہیں ہے؟ میں سنجیدہ ہوں مجھے بتائو معاملہ کیا ہے؟‘‘آٹوم نے کہااور فون اس کی طرف بڑھادیا جسے اس نے اپنی جیب میں رکھ لیا۔
’’میری بات سنو‘ میں ابھی تمہیں کچھ نہیں بتاسکتی یوں سمجھ لو کہ میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچے … وہ لوگ…‘‘ بریجیٹ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔
’’کون… کون لوگ…؟ کیاتم انہیں جانتی ہو؟‘‘ آٹوم نے پوچھا۔
’’ابھی مجھے یقین نہیں ہے پلیز تم اس معاملے سے الگ رہو۔‘‘ بریجیٹ نے کہااوراس کی شاپ سے نکل گئی وہاں سے وہ سیدھی پولیس اسٹیشن گئی تھی اسکاٹ آفس میں موجود نہیں تھااور میک اپنی میز پر موجود تھی بریجیٹ ایک کرسی لے کر اس کے پا س بیٹھ گئی میک نے اپنا کمپیوٹر بند کردیااوراس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’میں چاہتی ہوں کہ تم میرے لیے ایک نمبر ٹریس کروپلیز۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’کیااس کاتعلق ہولی سے ہے ؟‘‘ میک نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘
’’کیامیں یہ بات آفیسراسکاٹ کوبتائوں؟‘‘
’’نہیں‘ابھی نہیں ابھی تم اپنے تک ہی رکھو میں جو سمجھ رہی ہوں اگربات وہی ہے تومیں پولیس کوشامل نہیں کرنا چاہتی اس سے معاملات خراب ہوسکتے ہیں مناسب وقت آنے پر ہم انہیں بتادیں گے۔‘‘
’’گویاتم کچھ جانتی ہو؟‘‘ میک نے پوچھا۔
’’ہاں لیکن ابھی صرف شک ہے۔‘‘
’’لیکن شک اہم بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’پلیز تم یہ نمبر ٹریس کرو۔‘‘ بریجیٹ نے اسے آٹوم کاسیل فون دیتے ہوئے کہااوراس نے پاس ورڈ میک کو دے دیا جو آٹوم نے اسے بتایاتھا۔
’’یہ کام کتنی دیر میں ہوجائے گا؟‘‘
’’تقریباً دو گھنٹے میں‘ تم ہوٹل جائو میں وہیں تم سے رابطہ کروں گی۔‘‘ میک نے کہااور بریجیٹ اس کاشکریہ ادا کرکے پولیس اسٹیشن سے نکل گئی۔
ٹھیک دو گھنٹے بعد انسپکٹر ہرٹ بریجیٹ سے ملنے اس کے ہوٹل پہنچ گئی تھی جہاں بریجیٹ نے اسے ہولی کے سلسلے میں ملنے والی تمام معلومات سے آگاہ کیاتھااورانسپکٹر ہرٹ نے اس بتایاتھا کہ جوفون نمبراس نے دیاتھا وہ نمبر کافی عرصے سے بند ہے۔‘‘
’’کیانمبر بند ہے ؟ لیکن مجھے تو کال اسی نمبر سے آئی تھی۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔ ’’ویسے یہ کس شہر کا نمبر ہے ؟‘‘
’’یہ نمبر بیلی ڈیم ہی کاہے۔ یہ ایک موبائل سیل نمبر ہے لیکن کافی عرصے سے استعمال نہیں ہو رہاتھا۔‘‘ہرٹ نے کہااور بریجیٹ کو لگا جیسے اس کی رگوں میں خون جم گیا ہو۔
’’میک …‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مجھے لگتاہے جس کسی نے بھی ہولی کواغوا کیاہے وہ بیلی ڈیم ہی میں ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’ممکن ہے‘ میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتی ہوں جو تحقیق کے دوران میرے علم میں آئی تھی اسے سن کر تمہیں حیرت ہوگی۔‘‘ میک نے کہا۔
’’ایسی کون سی بات ہے ؟‘‘
’’جب ہم اس کیس کی تحقیقات کررہے تھے تومیرے علم میں تفتیش کے دوران یہ آیا کہ ہولی کی کار کے ٹائروں کے نشان ہمیں اس عقبی جنگل میںملے جو ہولی کے اسکول اسٹیڈیم اوربل کے گھر کے درمیان واقع ہے‘ جنگل کے بیچ میں وہ نشانات غائب ہوگئے تھے اور وہاں سے کافی فاصلے پر ہمیں ہولی کی کار بھی ملی تھی جس کے دروازے لاک تھے اس کار کے قریب سے انسانی قدموں کے نشانات مغرب کی جانب چلے گئے تھے یعنی بل کے گھر سے مخالف سمت لیکن کچھ دور جاکر وہ بھی غائب ہوگئے تھے۔ میں اپنے جاسوس کتے کے ساتھ اس علاقے میں تفتیش کررہی تھی اور وہ ہولی کے کپڑوں کی بوسونگھ کرہماری رہنمائی کررہاتھا میں نے اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھی تھی اور رپورٹ بل کو دے دی تھی کیونکہ ہمیں یہی ہدایت تھی۔‘‘
’’مجھے بھی بل پر شک ہے لیکن میرے پاس کوئی ثبوت نہیں وہی ہولی کے مجرموں کی نشاندہی کے لیے کی جانے والی تحقیقات میں تعاون نہیں کررہاہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’اب ایک بات اورمیں تمہیں بتاناچاہتی ہوں۔‘‘ بریجیٹ نے میک سے کہااور پھر وہ ہولی اور اینی کی کتابیں اٹھالائی اوران میں نشان زدہ گفتگو اسے دکھائی جو اینی اور ہولی کے درمیان ہوئی تھی اس چیز نے میک کو بہت حیران کیاتھا۔
’’اس کامطلب ہے ہولی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اسے پہلے سے اس خطرے کااندازہ تھا اور وہ اینی آنٹی سے اس پر بات بھی کرتی تھی۔‘‘ میک نے کہا۔
’’ہاں… میک میں چاہتی ہوں‘ یہ بات صرف تمہارے اور میرے درمیان رہے کیایہ ممکن ہے کہ ہم دونوںجنگل کے اس حصے میں ایک بار پھر جائیں اوروہاں کااچھی طرح جائزہ لیں ممکن ہے کوئی خاص نشانی ہمارے ہاتھ لگ جائے اورہم ہولی تک پہنچ سکیں؟‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے‘ آج رات تم تیار رہنا میں بارہ بجے کے بعد آئوں گی مجھے اس جگہ کاعلم ہے جہاں ہمیں ہولی کی کار ملی تھی جسے بعد میں پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیاتھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ‘میں تمہاراانتظار کروں گی۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
پھر رات ساڑھے گیارہ بجے بریجیٹ تیار ہو کر میک کاانتظار کرنے لگی وہ بہت بے چین تھی جو لمحہ گزررہاتھا اس کے لیے سوہان روح بناہواتھا اچانک اس کے سیل فون کی بیل بجی اس نے فون نکال کر نمبر چیک کیا ‘یہ کوئی نیانمبر تھا۔
’’ہیلو…‘‘ اسے نومی کی آواز سنائی دی۔
’’ہاں…نومی بولو… تم کہاں سے بول رہی ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تمہارے پاس وقت کم ہے… میں زیادہ بات نہیں کرسکتی اگرانہیں علم ہوگیا تووہ مجھے مار دیں گے…‘‘
’تم بولو… جلدی کیابات ہے ؟‘‘
’’شاید وہ تم سے کوئی رابطہ کریں… وہ تم سے سودے بازی کرناچاہتے ہیں… اگرتم چاہتی ہو کہ ہولی تمہیں زندہ مل جائے توان کی بات مان لینا۔‘‘
’’نومی تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا لیکن کال کٹ گئی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد میک آگئی تھی اور بریجیٹ نے اسے آنے والی کال کے بارے میں بتایاتھا۔
’’بریجیٹ… کوئی ہے جسے ہماری پل پل کی خبر ہے او روہ یہ معلومات ہولی کے اغوا کرنے والوں کو بتارہاہے۔
تم نے اپنا نمبر کس کس کو دیا ہے یہ تو نیانمبر ہے ابھی زیادہ لوگوں کو نہیں دیاہوگا؟‘‘
’’میں نے اپنا نمبر تمہیں‘ آٹوم کو‘ ایمیٹ‘ اوربل کودیا ہے۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور بل کے نام پر میک نے اسے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔
’’چلو جلدی چلو… ویسے میں اپنی ایمرجنسی ٹیم کوتیار رہنے کی ہدایات دے کرآئی ہوںمیں انہیں کسی وقت بھی کال کرسکتی ہوں ایسی صورت میں وہ موقع پرپہنچ جائیں گے دعا کرو ہمیں ہمارے مقصد میں کامیابی ملے‘ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو شاید کسی بڑی مصیبت سے بچ جائیں اور اگر کامیاب نہیں ہوئے تو ہم ایسی دلدل میں پھنس جائیں گے کہ اس سے نکلنا شاید ہمارے بس میں نہ ہو کیونکہ میں جس خطرے کی بو سونگھ رہی ہوں اس میں بڑے بڑے نام آئیں گے اور ہماری ناکامی کی صورت میں میری ملازمت کے جانے کے ساتھ ساتھ شاید زندگی بھر کاپچھتاوا ملے۔‘‘ میک نے کہا۔
’’ایسانہیں ہوگا… مجھے امید ہے چلو جلدی چلو۔‘‘ بریجیٹ نے کہااور دونوں بڑی عجلت میں ہوٹل سے نکل گئیں۔
جنگل میںپہنچ کر میک نے کار جس جگہ کھڑی کی تھی وہ جگہ چاروں اطراف سے گھنے درختوں اور جھاڑیوں سے گھری ہوئی تھی کار کاانجن بند کرکے میک نیچے اتر گئی بریجیٹ نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
’’میں اندازے سے اس سمت بڑھو ں گی جس سمت قدموں کے نشان ہمیں لے گئے تھے تم میرے پیچھے آئو۔‘‘ میک نے سرگوشی میں بریجیٹ سے کہااوراس نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ تقریباً آدھامیل تک آگے بڑھتی رہی تھیں آس پاس کوئی آواز نہیں تھی سوائے مینڈکوں اور جھینگروں کی آوازوں کے یاپھران کے قدموں کے نیچے کچلے جانے والے خشک پتوں کے چرمرانے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
’’یہاں آکر وہ قدموں کے نشان غائب ہوگئے تھے۔‘‘میک نے ایک جگہ رک کر کہا وہ ایک بڑا سا درخت تھا جس کے نیچے کچھ بڑے پتھررکھے ہوئے تھے۔
’’یہ میں نے تحقیق کے دوران کچھ دیر سستانے کے بہانے یہاں رکھے تھے تاکہ اگر پھر مجھے یہاں آناپڑے تو میں اس مقام کو پہچان جائوں۔‘‘ میک نے سرگوشی کی۔
’’لیکن اب ہم کدھر جائیں؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔ ’’یہ راستہ میرا جانا پہچانا ہے‘ میںجب کبھی رات کودیر سے آتی تھی تو اسی راستے پر چل کر اپنے گھر جاتی تھی تاکہ پچھلے دروازے سے اندر داخل ہوجائوں اور کسی کو پتہ نہ چلے کہ میں کب آئی ہوں شاید ہولی بھی ایسا کرتی ہو اورایسا کرتے ہوئے ہی اسے کسی نے اغوا کرلیاہو؟‘‘ بریجیٹ نے کہااسی وقت انہیں کچھ فاصلے سے ایک مردانہ آواز سنائی دی یوں لگا جیسے کوئی کسی کوہدایات دے رہاہو۔ میک نے بریجیٹ کوخاموش رہنے کااشارہ کیا اوروہ دونوں احتیاط سے آواز والی سمت میں بڑھنے لگیں چند قدم آگے جانے کے بعد ان کے سامنے گھنی جھاڑیاں آگئیں جن کے پیچھے کچھ فاصلے پر انہیں سلگتی ہوئی سگریٹ کاننھا سا شعلہ نظر آیا اور میک نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بریجیٹ کو آگے بڑھنے سے روک دیا وہ دونوں خاموشی سے کچھ سننے کی کوشش کرنے لگیں۔
’’وہ دو ہیں…‘‘ میک نے سرگوشی کی۔
’’ہاں‘ مجھے ان کے سائے نظر آرہے ہیں وہ ایک بڑے پتھر پربیٹھے ہیں۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’باس نے منع کیاتھا کہ یہاں پہرے کے دوران محتاط رہنا اورسگریٹ مت جلانا۔‘‘ ایک نے دوسرے سے کہا۔
’’ارے یار‘ کچھ نہیں ہوتا… بھلااس جنگل میںکون آئے گا۔‘‘ سگریٹ پینے والے نے کش لگاتے ہوئے کہا۔
’’اچھاتم جانو… میں ذرااس بل کی خبر لے کرآتاہوں وہ لڑکی کوبہت تنگ کررہاہے۔‘‘ پہلے والے نے کہااور اٹھ کر چند قدم آگے جاکر جھاڑیوں میں غائب ہوگیا میک نے بریجیٹ کو وہیں رکنے کااشارہ کیا تھااوردبے قدموں سے ذرا سا راستہ بدل کراس شخص کے پیچھے بڑھی تھی جو جھاڑیوں میں غائب ہواتھا کچھ قدم آگے جانے کے بعد وہ بھی جھاڑیو ں کے پیچھے غائب ہوگئی تھی بریجیٹ بے چینی سے اس کاانتظار کررہی تھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اسے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی وہ تیزی سے پیچھے مڑی اور کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھ دیا اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی کیونکہ کسی نے اسے جکڑ لیاتھا لیکن کامیاب نہ ہوسکی اور اندھیروںمیں ڈوبتی چلی گئی ۔
اس کی آنکھ ایک چھوٹے سے تہہ خانے میں کھلی تھی جس کی چھت تختوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور مٹی اور پتھروں کی ناہموار دیواریں تھیں جن میں جگہ جگہ سوراخ بھی بنے ہوئے تھے وہ ہڑبڑا کراٹھ بیٹھی تو اس کی نظر سامنے زنجیروں سے بندھی ہولی پرپڑی جو ایک کونے میں بیٹھی تھی۔
’’ہولی… میری بہن… تم… تم یہاں؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’یہ کون سی جگہ ہے؟ ہم کہاں ہیں؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’مجھے نہیں معلوم… وہ مجھے آنکھوں پرپٹی باندھ کر لائے تھے۔‘‘ ہولی نے جواب دیا۔
’’تم کب سے یہاں قید ہو؟‘‘
’’پچھلی جمعرات سے… وہ کہتے ہیں مجھے اپنے اسکول کا فٹ بال میچ نہیں کھیلنے دیں گے کیونکہ وہ چاہتے ہیں یہ مقابلہ کوئی اور جیتے۔‘‘ ہولی نے کہا۔
’’اوہ… مجھے یہی شک تھا… وہ میرے ساتھ بھی یہی کرنا چاہتے تھے…میں بھی اپنی ٹیم کی بہترین کھلاڑی تھی اور میری ٹیم کو ہرانے کے لیے مجھے مارنے کی کوشش کی گئی جس میں میں بچ گئی اور میرے والدین اس سازش کاشکار ہوگئے تم بھی زخمی ہوئی تھیں تمہیں یاد ہے ناہولی؟ تم بہت چھوٹی تھیں‘ اس دن میری سالگرہ تھی ہم لنچ پرجارہے تھے۔‘‘ بریجیٹ نے کہا۔
’’ہاں… مجھے یاد ہے بھلا میں کیسے بھول سکتی ہوں اس حادثے میں ہمارے والدین فوت ہوئے‘ پھر ہماری آنٹی نفسیاتی مریض بن گئیں ‘ہماراگھر ویران ہوگیا میں غیروں کی نگہداشت میں چلی گئی‘ اور تم حالات سے تنگ آکر ہمیں چھوڑ گئیں۔‘‘ ہولی نے روتے ہوئے کہا۔
’’اچھا‘یہ بتائو… یہ کون لوگ ہیں ؟‘‘ بریجیٹ نے پوچھا۔
’’یہ جوبھی ہیں یہ تمہیں جانتے ہیں اکثر تمہارا نام لیتے ہیں۔‘‘
’’ان میں کوئی خاص شخص جسے تم جانتی ہو؟‘‘
’’بل… میرا سرپرست جس کی ذمہ داری میں مجھے دیا گیا تھا وہ ان کے ساتھ شریک ہے۔‘‘ ہولی نے کہا۔ ’’میرے اغوا میں بھی اسی کاہاتھ ہے اس نے ان لوگوں کاساتھ دیااور ان کے لیے آسانیاںپیدا کیں۔‘‘
’’اوہ مجھے شک تھا… وہ میرے ساتھ بالکل تعاون نہیں کررہاتھا… ‘‘ بریجیٹ نے کہااور اسی وقت تہہ خانہ کادروازہ کھلااور دوآدمی اندر داخل ہوئے جن میں سے ایک بل تھا۔
’’اچھاتو تمہیں ہوش آگیا؟‘‘ اس نے حقارت سے بریجیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اب سمجھ آیا کہ تم میرے ساتھ تعاون کیوں نہیں کررہے تھے…‘‘ بریجیٹ نے غصے سے کہا۔ ’’تم نے جو بھی کیا ہے تمہیں اس کاخمیازہ بھگتناہوگا بل… تم اسکول کے زمانے میںمجھ سے بھی حسد کرتے تھے۔‘‘
’’میںپسند نہیں کرتا کہ کوئی مجھ پرسبقت لے جائے۔‘‘
’’ہونہہ… اوراس کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہو’؟‘‘
’’کیاحرج ہے؟ اگر اچھی رقم مل رہی ہو تو کون چھوڑتا ہے؟‘‘ بل نے ڈھٹائی سے کہااور بریجیٹ تیزی سے اس پرجھپٹی لیکن بل کے ساتھ اندر آنے والے نے اسے بازوئوں میں جکڑلیاتھا۔
’’چھوڑو… میری بہن کوچھوڑو… ‘‘ ہولی زور زور سے چیخنے لگی تبھی باہر سے بہت سے قدموں کی آواز آنے لگی بل اچانک چونکاتھااوراس نے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے باہر جاتا میک اپنے پولیس کے ساتھیوں کے ساتھ تہہ خانے میں داخل ہوگئی تھی اس کے ہاتھ میں ریوالور تھااوراس نے بل کونشانہ بنایاہواتھا۔
’’اسے چھوڑدو…‘‘ ایک پولیس آفیسر نے بل کے ساتھی سے دھمکی آمیز لہجے میں کہا جس نے بریجیٹ کو جکڑاہواتھا‘آزاد ہوتے ہی بریجیٹ ہولی کے قریب جاکھڑی ہوئی تھی۔
’’میک اس سے پوچھو اس نے میری ہولی کو کیوں اغو اکیاتھا۔‘‘ اس نے انسپکٹر ہرٹ سے کہا۔
’’تم فکرمت کرو بی… اب ہم انہیں دیکھ لیں گے ان سب کی زبانیں بولیں گی اوریہ ہرراز اگلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔‘‘ میک نے جواب دیا اور اپنے ایک ساتھی کواشارہ کیا۔
’’تم ان دونوں کو گاڑی میں بٹھائو۔‘‘ اس نے ہولی اور بریجیٹ کی طرف اشارہ کیااور بل کی طرف مڑی۔
’’ہولی کی زنجیروں کی چابی دو۔‘‘ اس نے غصے سے کہااور بل نے اپنی جیب سے چابی نکال کر اس کی طرف بڑھادی جو اس نے بریجیٹ کو پکڑادی تھی۔
’’تم دونوں کوگاڑی جہاں کہوگی چھوڑ دے گی ‘ایملی کے گھر مت جانا وہاں اب کوئی نہیں ہے۔‘‘ میک نے بریجیٹ سے کہااوراس نے اثبات میں سرہلایا۔
دوسرے دن شام کے وقت ہوٹل میںپارٹی کا سماں تھا‘ آج سب مل کربریجیٹ کی سالگرہ منارہے تھے اس موقع پرا س کے تمام دوست اور اینی آنٹی بھی موجود تھیں جنہیں بریجیٹ اسپتال سے لے آئی تھی۔
’’بی‘ اور ہولی تمہیں مبارک ہو کہ آج بریجیٹ کی سالگرہ کے موقع پر تم ایک دوسرے سے مل گئی ہو۔‘‘آٹوم نے کہاجو اپنے شوہر کرسٹن کے ساتھ وہاں موجود تھی۔
’’میںتمہاری بھی مشکور ہوں آٹوم کہ تم نے میرا ساتھ دیااور مجھے حوصلہ دیا۔‘‘ بریجیٹ نے جواب دیا۔
’’بل‘ ایمی اوران کے ساتھی پولیس کی تحویل میں ہیں بی… اور بل نے قبول کرلیاہے کہ اس نے کھیلوں کی دنیا کے مشہور گیمبلر فوکس کے کہنے پر ہولی کواغوا کیا تھااس کامقصد ہولی کی رہائی کیے بدلے بھاری رقم وصول کرنا اوراسے فٹ بال کے فائنل میچ میں شرکت سے روکنا تھا تاکہ اپنی پسندیدہ ٹیم کے جیتنے کے لیے راستہ ہموار کرسکیں۔‘‘میک نے کہا۔
’’میںجانتی تھی میک کہ ہولی کو کیوں اغوا کیا گیا ہوگا یہ بات میں اسی دن جان گئی تھی جب مجھے پتہ چلا کہ اسے اسکول کے پلے گرائونڈ سے اغوا کیا گیا ہے لیکن اب مجھے امید ہے کہ ہولی فائنل میں حصہ لے گی اور اسے کوئی روک نہیں سکے گا‘ میں نے ایک اچھی کھلاڑی ہونے کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے‘ اپنی فیملی کو کھو دیا‘تنہا ایک طویل عرصے ملکوں ملکوں کی خاک چھانتی رہی کہ میری بہن محفوظ رہے لیکن پھراسے بھی نہیں بخشا گیا ۔‘‘ بریجیٹ دکھی لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’اب تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بی… ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ ایمیٹ نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جو قریب ہی کھڑاتھا۔
’’اب آنٹی اینی ہمارے ساتھ رہیں گی۔‘‘ ہولی نے اینی کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہاور اینی مسکرانے لگی‘ بریجیٹ نے بڑھ کرسالگر کا کیک کاٹاتھااور ہوٹل کاہال ’’ہیپی برتھ ڈے‘‘ کی آوازوں اور تالیوں سے گونجنے لگاتھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close