NaeyUfaq Feb-18

اقرا

طاہر قریشی

المصور
(صورت گری کرنے والا)

مصور:اسم فاعل واحد مذکر تصویر مصدر‘ صورت بنانے والا‘پیدا کرنے والا‘ اپنی مخلوقات کے نقش ونگار اوراعضاء تشکیل د ینے والا’’المصور‘‘ وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے جس نے تمام کائنات اوراس میں موجود ہرقسم کی مخلوقات کی تصویربنائی اور انہیں ایک خاص ترتیب دی۔ یعنی مصورِالٰہی وہ ہستی ہے جوہرہرچیز کو الگ الگ اور خاص صورت اور شناخت عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ جس کی مخلوقات بے حدوحساب ہیں اپنی ان لاتعداد تخلیقات میں اُس نے جو اختلافِ صورت وشناخت رکھا ہے باوجود اس عظیم کثرت کے ان میں شناخت کی تمیز بھی رکھی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ مہتم بالشان خالق اور قادرِ مطلق مصور ہے اس عظیم اور لازوال مصور کاکمال ہے کہ کروڑوں مختلف مخلوقات کونہ صرف جداگانہ صورت وشناخت بخشی بلکہ انہیں مختلف جنس ونوع بھی بخشی اوران سب کا مختلف نظام افزائش بھی اس مصور عالی نے بنایا۔اگرانسان کچھ نہ دیکھے صرف اپنی نوعِ انسانی کو ہی دیکھ اور سمجھ لے کہ اربوں انسان اس دنیا میں موجو د ہیں جن کی نہ صرف صورتیں‘ شکلیں مختلف ہیں بلکہ عادات وخصائل بھی مختلف ہیں۔ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف بھی ہوتاہے اور اپنی صورت میں کامل بھی ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسا مصور ایسا ہے جو اپنی تمام تصویروں کوزندگی کے خوبصورت رنگوں سے سجا کران کو جان دار بنا کر انہیں زندگی بخش دیتاہے۔ اس کی ہر تصویرچلتا‘پھرتا‘بولتا ہوا ایک شاہکار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ایسا عظیم مصور ہے جو اپنی مشیت ومرضی سے جس طرح چاہتا ہے صورت سازی فرماتاہے۔
ترجمہ:۔وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح کی چاہتا ہے بناتاہے۔ اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں وہ غالب ہے‘ حکمت والا ہے۔ (آل عمران۔۶)
آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ مصوری کاذکر آیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جارہاہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم ہستی ایسی ہے جو رحمِ مادر میں ہی انسان کو اُس کی شکل وصورت عطا کردیتا ہے۔جس طرح اس کی مشیت ومنصوبہ بندی ہوتی ہے‘وہ بناتاہے‘ جب کسی نئے انسان یا کسی بھی مخلوق کوخلق یعنی پیدا کرنا چاہتا ہے تو پہلے اُس کے اسباب پیدا فرماتاہے اوراُس کی شکل وصورت جو نہایت متناسب خصوصیات کی حامل ہوتی ہے عطا کردیتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اوراس تصویر سازی میں شریک نہیں ہوتا یہ کام صرف وہ اپنے ارادے اور مشیت سے جس طرح چاہتا ہے کرتاہے۔ وہ اس تصویر سازی کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ ایسا حاکم ودانا اور عظیم مصورہے کہ اس کے اس تمام تخلیقی عمل میں نہ کبھی کوئی رکاوٹ آتی ہے اور نہ ہی آسکتی ہے۔ وہ یہ تمام کام اکیلا کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی بڑی قدرت والی‘ بڑی قوت وقبضے والی‘ حکمت والی برحق ہے‘ وہی اکیلی ہستی تمام تر عبادات اور دعاء مانگنے اور انہیں پورا کرنے کی مستحق ہے۔
ترجمہ:۔اورہم نے تم کو پیدا کیا‘ پھرہم ہی نے تمہاری صورت بنائی۔ (الاعراف۔۱۱)
لفظ خلق کبھی تو قرآنِ حکیم میں صرف وجود میں لانے کے لئے آتا ہے‘ اسی طرح صورت یعنی تصویر کامفہوم بھی کبھی تویہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو شکل وصورت اورخصائص دینا۔ اس اعتبار سے خلق اور تصویر کی تخلیق کے دومرحلے نہیں ہوتے بلکہ کسی تخلیق میں بیک کئی راحل وقت ہوتے ہیں۔ تصویرکایہ مطلب ہے کہ انسان کو صرف وجود ہی نہیں بخشا گیا بلکہ ایک ترقی یافتہ تصویر اور صاحب خصائص وکمالات وجو د بھی دیا ہے۔ قرآنِ حکیم میں تخلیقِ آدم کے بارے میں جتنی بھی آیات آئی ہیں وہ اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے انسانی خواص اور فرائض منصبی دے د یئے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی ایسے عظیم مصور کی ہے جو نہ صرف تصویر نک سک سے درست بناتاہے بلکہ اسے زندگی بھی دیتا ہے اوراس کے زندگی گزارنے کانقشہ بھی وہی مصوربناتاہے۔
ترجمہ:۔اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اورآسمان کو چھت بنایا‘اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں۔ (المومن۔۶۴)
اس آیتِ کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفتِ مصوری کا ذکر ہوا ہے لیکن اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا ہے کہ میں نے ہی تمہارے ٹھہرنے کے لئے یہ زمین کا فرش بنایا اور آسمان کی چھت تمہارے سروں پر تانی ہے۔ یعنی زمین وآسمان کی بے شمار نعمتوںاور سہولتوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ زمین پرانسان کو قرار حاصل ہے اور انسان کایہ قیام اور تمام سہولتیں اس کائنات کے نقشے کے اندر باقاعدہ حساب کتاب سے رکھی گئی ہیں۔ اس کی تعمیر میں زمین وآسمان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی پیاری صورتیں اوراس کی پرورش کے لئے رزق کے خزانے بھی رکھ دیئے گئے ہیں۔ اللہ اپنی اس صفت کے ذریعے انسانوں کو آگاہ فرمارہا ہے کہ میں نے اپنی قدرتِ کاملہ سے تمہارے لئے نہ صرف یہ کائنات اور اس کانظام پیدا کیا ہے بلکہ تمہیں خوبصورت شکل دے کر پیدا کیا ہے۔ اس لئے تم پر لازم ہے کہ تم ایک اکیلے اللہ جس کی بے پناہ قدرت اور صفات ہیں کی عبادت کرو۔
ترجمہ:۔اُسی نے آسمانوں اور زمین کو عدل وحکمت سے پیدا کیا‘ اُسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور اُسی کی طرف لوٹناہے۔ (التغابن۔(۳)
آیتِ کریمہ سے ایک مومن کویہ شعور ملتاہے کہ اس ساری عظیم تر کائنات کی تخلیق اور تدبیریں حق یعنی پوری درست منصوبہ بندی ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کوئی عارضی یا غیرضروری چیز نہیں ہے۔اس کائنات کی تشکیل حق پر ہے جوہستی یہ اعلان کررہی ہے وہ کوئی معمولی ہستی نہیں وہ خود اس ساری کائنات کی پیدا کرنے والی ہستی۔ یہ اُسے ہی معلوم ہے کہ اُس نے یہ سارا نظامِ عالم کن بنیادوں پر قائم کیاہے۔ جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ کائنات بنائی اور پیدا کی اسی طرح انسان کوپیدا کیا۔اگرانسان خود اپنی ساخت اوراپنے خدوخال اور نقشے پر غور کرلے اور یہ سمجھ لے کہ انسانی جسم کا نظام کیسے قائم ہے اور کیسے کام کررہا ہے تو اسے ادراک ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا ہے ’’اوراس نے تمہاری صورت بنائی اور عمدہ بنائی‘‘ اللہ جلِ شانہُ اپنے بندوں کویہ شعور عطا فرمارہا ہے کہ اللہ کے نزدیک تم کتنے محترم اور مکرم ہوکہ اللہ نے تمہیں اپنی تمام مخلوقات میں بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔ نہ صرف تمہاری پیدائشی تصویر بہت حسین وجمیل ہے بلکہ تمہاری اخلاقی تصویر اور تمہاری شعوری تصویر بھی بہت اچھی اور حسین ترین ہے۔ انسان اگر فکر کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کی جسمانی ساخت تمام زندہ جسمانی ساختوں سے زیادہ مکمل ہے اور رو حانی وشعوری قابلیتوں کے لحاظ سے بھی ہر طرح مکمل ہے۔ ایک ایسا نقشہ ہے جس میں کمال اور جمال دونوں ہی پائے جاتے ہیں اور عدل وحکمت یہی ہے کہ وہ محسن کو اس کے احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی پوری جزا دے۔ اللہ اپنے عدل کامکمل اہتمام روزحشر قیامت والے دن فرمائے گا۔
فضائل :۔اگر ’’یامصور‘‘ کاورد ہرروز بعد نماز کیاجائے تو ایسے شخص کواللہ تعالیٰ حسن وخوبی سے نوازتاہے اس کے فکروادراک میں حسن وخیر پیدا کردیتا ہے۔ اگر کوئی عورت اس اسم مبارک کاورد معمول بنالے تواللہ اس کے حسن وجمال میں اضافہ فرماتاہے اوراسے برقرار رکھتا ہے۔ جو کوئی شخص نماز مغرب کے بعد اکیس(۲۱) مرتبہ اس اسم مبارک کاورد کرے گااللہ تعالیٰ اس کے ایمان کومضبوط وپختہ فرمائے گا ان شاء اللہ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close