NaeyUfaq Feb-18

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد۔

سال نو کا دوسرا یعنی فروری کا نئے افق حاضر مطالعہ ہے۔
وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ ہم جنوری کے شمارے سے فارغ ہوئے اور اب فروری کا اداریہ تحریر کررہے ہیں۔ بہت سے لکھنے والوں کو شکایت ہے کہ ان کی کہانیاں نہیں لگ رہیں‘ شاید ہم انہیں جان بوجھ کر دبا رہے ہیں تو ایسا نہیں ہے جب سے ہم نے نئے لکھنے والوں کو موقع دینا شروع کیا ہے کہانیوں کا ڈھیر جمع ہوگیا ہے جسے پڑھنے کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ کچھ کہانیاں ڈھیر میں دب کرتاخیر کا شکار ہوجاتی ہیں۔ لکھنے والے اپنی تحریر بھیجنے سے پہلے اس کی فوٹو اسٹیٹ ضرور کروالیا کریں اور ہمیں اوریجنل صفحات بھیجا کریں‘ دوسرے کہانی لکھنے کا ایک طریقہ اپنائیں‘ ہمیشہ صفحہ کے ایک طرف ایک لائن چھوڑ کر لکھیں‘ صفحات کے دونوں طرف لکھی ہوئی کوئی کہانی قبول نہیں کی جائے گی۔
اس ماہ سچی کہانیوں کے مدیر بھائی ناصر رضا نئے افق ملتا ن کے ایجنٹ شیخ عمر دین دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔ ہمارے محترم لکھاری شہباز اکبر الفت کی والدہ ماجدہ بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ ماں کی جدائی ایک بہت بڑا سانحہ ہوتا ہے‘ اللہ رب العزت شہباز اکبر الفت کو صبر جمیل عطا کرے اور ان کی والدہ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عنایت کرے۔
اس ماہ عشنا کوثر سردار کی ایک سو سولہ چاند کی راتیں اختتام پذیر ہورہی ہے‘ انہوں نے بڑے خوب صورت انداز میں اسے لکھا اور اپنے پڑھنے والوں کو متاثر کیا اب آئندہ ماہ سے معروف لکھاری عمارہ خان کی پراسرار سلسلے وارکہانی ’’وہ تیس دن‘‘ شائع کی جارہی ہے۔ عمارہ خان لکھنے والوں میں ایک بڑا نام ہے‘ وہ تیس دن ایک آ سیب زدہ مکان کی کہانی ہے جہاں ہر ماہ گھر کے ایک مکین کی موت واقع ہوجاتی ہے ‘ کیوں یہ آپ کو کہانی پڑھ کر معلوم ہوگا۔
اب آیئے اپنے خطوط کی طرف۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ محترم و مکرم جناب اقبال بھٹی صاحب سلام شوق امید واثق ہے کہ آپ اور آپ کے رفقا کار بالکل خیریت سے ہوں گے نئے سال کا پہلا شمارہ میرے سامنے ہے اس بار ٹائٹل بناتے ہوئے مصور نے کمال کردیا ایک ماہ جبین نے خوب صورت پالتو کتوں کو ساتھ لیا ہوا ہے اس لوکیشن نے ٹائٹل کی خوب صورتی میں بہت اضافہ کیا ہے انتباہ پڑھ کر احساس ہوا کہ اس وطن عزیز میں ناہنجاروں کا ایک ٹولہ موجود ہے جس میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز سرے سے ہے ہی نہیں چوری تو چوری ہے خواہ وہ کسی معمولی چیز کی ہو یا بڑی چیز کی مگر کسی شاعر نے ان ہی اخلاق باختہ لوگوں کے لیے لکھا تھا۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی، دستک میں مکرم جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے پاکستان کے واحد مخلص دوست چین کے بارے میں بہت سی چیزیں بتائیں چین اور پاکستان بے لوث دوستی کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں رب کریم پاک چین دوستی کو نظر بد سے بچائے اور اسے قائم و دائم رکھے آمین، گفتگو سے پہلے آپ نے حدیث پاک لکھ کر ہم پر بہت احسان کیا ہے خاص کر نوجوان نسل کے لیے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے محترمہ عشنا کوثر سردار کو اچانک دو صدمات سے دوچار ہونا پڑا اللہ تعالیٰ انہیں دونوں صدمات برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔ کرسی صدارت پر براجمان ایم حسن نظامی کا خط بڑا دلکش ہے اللہ تعالیٰ ان کی ساری نیک تمنائوں کو پورا فرمائے، آمین۔ حسن بھائی تبصرہ پسند فرمانے کا بے حد شکریہ، محمد رفاقت کا خط بھی لاجواب ہے رفاقت بھائی غریب غربا کو صاحب نصاب نہ ہونے کی وجہ سے زکواۃ نہیں دیتے مگر زکوۃ جو لوگ بھی دیتے ہیں اس کا بے جا استعمال ہو رہا ہے جو اللہ کی نظر میں بہت ناپسندیدہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ روش بدل کر زکوٰۃ مستحقین پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین، آپ کو میرا تبصرہ پسند آیا اس کے لیے شکر گزار ہوں رفاقت پیارے خط اور تبصرہ پسند فرمانے پر شکریہ قبول فرمائیے پرنس افضل شاہین صاحب نے اپنے خط میں نئے عیسوی سال کی مبارک دی ہے خیر مبارک ویسے ہم مسلمانوں کا تو ہجری سال ہے جو یکم محرم سے شروع ہوتا ہے مگر کیا کریں پوری دنیا کا نظام عیسوی سال کے ساتھ چل رہا ہے آپ نے اپنا خط ایک خوب صورت شعر اور لا جواب قطعہ سے کیا ہے جو قابل ستائش ہے کرسی صدارت پر بیٹھنے اور چٹھی کو پسند فرمانے پر بے حد ممنون ہوں، محترم جناب عبدالجبار رومی انصاری نے بھی اپنے خط کا آغاز ایک قطعہ سے کیا ہے بڑی اچھی روایت ہے جسے جاری رہنا چاہیے انہوں نے اپنے خط میں آقائے نامدار ﷺ کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا ہے، عبدالجبار صاحب خط کی پسندیدگی کا شکریہ، پیارے بھائی ریاض بٹ کا خط ان کی کہانی اصل مجرم کی طرح خوب صورت ہے بھیا آپ نے مجھے اپنے حسین دل میں بٹھا رکھا ہے یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے آپ کو میرا ہر خط پسند آتا ہے یہ میرے لیے قابل فخر بات ہے اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی صحت مند زندگی عطا فرمائے، آمین۔ گفتگو کے آخر میں محترم جناب جاوید احمد کا طویل با معنی خط ہے صدیقی بھائی آپ کو میرا تبصرہ جاندار لگا یہ میری خوش قسمتی ہے اللہ آپ کو خوش رکھے آمین، اس بار جناب عمر ارشد صاحب کی محفل میں کمی بہت محسوس ہوئی خداوند کریم انہیں صحت مند رکھے، آمین۔ اقرا میں اسم حق تعالیٰ ’’الباری‘‘ کی جس طرح تشریح ہوئی وہ قابل تعریف ہے اللہ تعالیٰ جناب طاہر قریشی کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے آمین، باقی ہر انتخاب اور ہر تحریر میں جریدہ نے اپنا معیار برقرار رکھا ہے، رب کریم اسے ترقی کی راہوں پر اسی طرح گامزن رکھے، آمین۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم، سورج آسمان پر چھائی دھند کو چیرتے ہوئے کچھ مضحمل تھکا ہارا سا دھیرے دھیرے مغرب کی جانب عازم سفر تھا جب نئے افق کا دیدار ہوا ایک تو یہ سرد موسم ہمیشہ سے میرے اعصاب کشیدہ کردیتا ہے نامعلوم سی بے چینی چھا جاتی ہے، ذرا سی آہٹ پر دل دھڑک دھڑک جاتا ہے اس پر مصداق یہ نئے افق کا ٹائٹل، ہائے رے ظالم جس نے بھی بنایا کمال بنایا برف کے نرم و نازک سفید گالوں کو مات دیتی دوشیزہ اور دائیں بائیں حسن کے دو محافظ رب جانتا ہے دل پر کیا کیا بیت رہی ہے بہرحال ٹائٹل کو چھوڑتے ہوئے اندر کی طرف بڑھتے ہیں جہاں حیرت کے کئی جہاں منتظر ہیں یقینا اس شمارے کی خاص بات محترم قریشی صاحب کا کالم ہے چلتے ہو تو چین کو چلیے یہ تحریر ابن صفی کے حوالے سے ہمارے لیے یادگار بن گئی قریشی صاحب نے جس اسلوب سے مسٹر سنگی کے ساتھ ملاقات کا احوال بیان کیا اور اس کے ساتھ ابن صفی صاحب کے یادگار کردار سنگ ہی کی یاد دلائی اس نے لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی بھر دی قریشی صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہمیں بھی چین کی سیر کروائی، گفتگو میں اس دفعہ کافی ساتھی غائب ہیں چلیں جو تشریف لائے ہیں ان کی بات کرتے ہیں ریاض بٹ صاحب لگتا ہے آپ نے میری بات دل پر لے لی ہے کم از کم آپ کے شعر سے تو مجھے ایسا ہی لگا اگر میری کوئی گزشتہ بات سخت تھی تو دلی معذرت اللہ آپ کو خوش رکھے، ریاض قمر بھائی آپ نے بڑی مختصر حاضری دی ہے اللہ آپ کے تمام معاملات درست فرمائے ایم حسن نظامی صاحب کرسی صدارت کی بہت مبارکباد، عبدالجبار رومی صاحب مجھے یاد رکھنے کا شکریہ، آپ کا تبصرہ عمدہ رہا پیارے بزنس مین بھائی جاوید احمد صدیقی کافی عرصے بعد تشریف لائے ہیں جی آیا نوں، آپ کے خیالات جان کر اچھا لگا آپ نے کافی تفصیل سے تبصرہ فرمایا اللہ کرے زور قلم اور زیادہ، اب کہانیوں کی طرف بڑھتے ہیں ابتدائی صفحات پر امجد جاوید صاحب موجود ہیں کہانی نے دل خوش کردیا، میں سمجھتا ہوں یہ مکمل طور پر ایک معاشرتی کہانی تھی فارحہ جیسے کردار ہمارے ارد گرد بکھرے ہوئے ہیں البتہ جیسا انجام ہوا اس کی مجھے توقع نہیں تھی ویلڈن جناب کورٹ رپورٹر خلیل جبار بھی ہمیشہ کی طرح اچھی کہانی لے کر آئے محبت کے نام پر کیا کچھ ہو رہا ہے یہ سبھی جانتے ہیں زرین قمر ما شاء اللہ دو کہانیاں لے کر حاضر ہوئیں۔ ابھی زیر مطالعہ ہیں اللہ انہیں مزید ہمت سے نوازے نئے افق میں ایک خوشگوار احساس عمارہ خان کا نام دیکھ کر ہوا یقینا عمارہ ایک اچھی رائٹر ہیں اور مسلسل محنت سے اپنا مقام بنا رہی ہیں، ان کی تحریر کردہ کہانی بدلہ روایتی خوفناک کہانیوں سے ہٹ کر تھی، کیونکہ اکثر خوفناک اور پر اسرار کہانیوں کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا، ہر صفحہ پر ایک چڑیل اور دو چار خونخوار بھوت برآمد ہوجاتے ہیں، اس کے برعکس عمارہ خان نے باقاعدہ ایک تھہیم، پلاٹ اور مرکزی خیال کے تحت کہانی ترتیب دی، مگر مجھے اختتام پر کچھ تشنگی کا احساس ہوا لیکن کہانی کی پر اسراریت نے اس احساس کو زائل کردیا اب کچھ بات کرتے ہیں سلسلے وار ناولز کی جناب فارس مغل کا ناول ہمجان اختتام کو پہنچا ان سے جو توقعات تھیں وہ اس پر بخوبی پورا اترے ہیں امید ہے کہ جلد نئے شاہکار کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ ایک سو سولہ چاند کی راتیں دل کی دھڑکنوں کو زیر و زبر کرتا چلا جا رہا ہے اس دفعہ صفحات کچھ کم تھے، عشنا کوثر کے کزن اور خالہ کی وفات کا جان کر دکھ ہوا، اللہ مرحومین کے درجات بلند فرمائے، آخری صفحات پر ناول مرشد تو اب سر پٹ دوڑنے لگا ہے، مرشد صاحب اس قسط میں پورے ایکشن میں دکھائی دیے نئے ہنگامے، نئے معرکے یہ قسط خوب رہی، ساحر صاحب بہت عمدہ لکھ رہے ہیں، مجموعی طور پر سال کا پہلا شمارہ بہترین رہا تمام منتظمین کو مبارکباد، والسلام۔
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام علیکم نئے سال 2018ء کا پہلا شمارہ 22 دسمبر کو ملا اس بار سرورق بہت منفرد اور خوب صورت ہے بنانے والے کو بے اختیار داد دینے کو جی چاہا سب سے پہلے دستک پڑھی محترم مشتاق احمد قریشی صاحب اس بار چین کی سیر کرا رہے تھے اس بات میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے کہ پاک چین دوستی دیوار چین سے بھی مضبوط ہے میرے لیے سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ محترم استاد ابن صفی مرحوم کے زندہ جاوید کردار سنگ کی یاد تازہ ہوگئی یہ ایک لا زوال کردار ہے اور ان کے ناول نیلی لکیر، خونی بگولے، جونک کی واپسی، زرد فتنہ اور بہت سے یادگار ناول یاد آگئے خیر یہ قصہ پھر کبھی سہی کیونکہ اس پر گھنٹوں لکھا جا سکتا ہے گفتگو میں پہنچے تو قابل احترام اقبال بھٹی صاحب بڑی اچھی لکھاری عشنا کوثر کی خالہ اور ان کے کزن کی فوتگی کی خبر دے رہے تھے ہم سب قاری اور لکھاری اور تمام نئے افق کی ٹیم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، خدا مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔ گفتگو میں پہلا خط ہے جناب ایم حسن نظامی صاحب کا آپ کی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ آپ کا خط محفل کی جان ہے محمد رفاقت صاحب اس بار آپ کا خط ذرا طویل اور مدلل ہے بہت اچھے لفظوں کا استعمال کیا گیا ہے میرا تبصرہ اور کہانی بازگشت کو اتنی پذیرائی دینے کا شکریہ ریاض حسین قمر بھائی آپ کا خط بھی قابل تعریف ہے اور آپ کے خیالات بہت ارفع و اعلیٰ ہیں آپ کی حوصلہ افزائی سے میرا سیروں خون بڑھ جاتا ہے خدا ہماری بیٹی کے نصیب اچھے کرے کیونکہ آپ کی بیٹی بھی ہماری بیٹیوں کی طرح ہے پرنس افضل شاہین شعر پسند آیا آپ ذرا جلدی خط ارسال کردیا کریں آپ نے جن سلسلوں کو شروع کرنے کے لیے کہا ہے میرا ووٹ بھی اس کے حق میں ہے عبدالجبار رومی آپ کا خط بھی ہمیشہ کی طرح خوب صورت اور پر اثر الفاظ کا مرقع ہے آپ نے میری کہانی پر تبصرہ نہیں کیا اس بار جاوید احمد صدیقی صاحب بھی تشریف لائے ہیں اور کیا خوب آئے ہیں بڑا جاندار اور بھرپور تبصرہ ہے آپ بہت لمبی ڈبکی لگا جاتے ہیں اور ہماری نظریں آپ کا خط محفل میں ڈھونڈتی رہ جاتی ہیں اتنا طویل انتظار نہ کرایا کریں کہ آنکھیں پتھرا جائیں آپ کی حوصلہ افزائی میرے لیے ہیرے جواہرات سے بھی قیمتی ہے اس بار کی تفتیشی کہانی پڑھ کر رائے ضرور دیجیے گا خطوط کی محفل تو تمام ہوئی اب بڑھتے ہیں کہانیوں کی طرف امجد جاوید بہت بڑے لکھاری ہیں ان کی اس بار کی کہانی ’’سایہ دیوار‘‘ آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے پڑھی میری بار بار کی کہی ہوئی بات انہوں نے اپنی کہانی میں بالکل سچ ثابت کر دکھائی کہ اچھے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں ارباز اور ماورا ایسے ہی کردار ہیں جیتے جاگتے، رانا زاہد حسین صاحب آپ کی تحریر اندر باہر کے کیا کہے بڑی پر مزاح اور بوجھل لمحوں کے لیے اکسیر تحریر ہے برجستہ جملوں اور حوالوں نے کہانی کو بہت جاندار بنا دیا آپ کی ایسی ہی تحریروں کا انتظار رہے گا ویل ڈن برزخ بھی ایک اچھی کہانی ہے مہتاب خان بھی نئے افق میں جانا پہچانا نام ہے ان کی تحریر لغزش ایک نشتر کی طرح کی تحریر ہے جب آگ اور پانی اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسی ہی کہانیوں کو جنم دیتے ہیں اور ایک لمحے کی لغزش جب اچانک انسان کے سامنے آتی ہے تو انسان کانپ اٹھتا ہے صفیہ ساری بات سمجھ گئی تھی یہ کہانی حقیقت کے قریب لگی فارس مغل کی ہمجان کا آخری حصہ بھی تعریف کے قابل ہے، مصنف کی گرفت کہانی پر آخر تک رہی جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اب کچھ بات ہوجائے باقی سلسلوں کی ذوق آگہی میں شہروز خان، محمد فرقان رومان، عبدالجبار رومی اور پرنس افضل شاہین کے انتخابات بیسٹ ہیں باقی بھی اچھے ہیں خوش بوئے سخن میں سارا کلام اپنی مثال آپ ہے کسی ایک کی زیادہ تعریف کرنا زیادتی ہوگی، سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اب اجازت ان شاء اللہ اگلے ماہ ملاقات ہوگی۔
بشیر احمد بھٹی… بہاولپور۔ جناب محترم مشتاق احمد قریشی صاحب جناب عمران احمد صاحب آداب السلام علیکم، بعد سلام کے گزارش ہے کہ گفتگو میں چند مشوروں کے ساتھ حاضر خدمت ہوں، پہلا مشورہ عرصہ تک جناب ابن صفی مرحوم صاحب کے ناول ماہنامہ نیا رخ اور نئے افق میں پڑھتے رہے ہیں اب بے شک ان کو نئے افق میں شائع نہ کریں قارئین کے لیے نئے افق میں طویل اور مختصر کہانیاں شائع ہو رہی ہیں آپ سے گزارش ہے کہ جس طرح کرن ڈائجسٹ کے ساتھ ہر ماہ ایک کتابچہ پکوان، بیوٹی کلینک وغیرہ جیسا شائع ہوتا ہے اسی طرح محترم ابن صفی کا پہلا ناول کتابچے کی صورت میں شائع کر کے نئے افق کے قارئین کو گفٹ کریں ٹائٹل پر لکھا ہوا ہو کہ اس ماہ کے نئے افق کے ساتھ ابن صفی کا ناول لینا نہ بھولیں، اسی طرح ہر ماہ نئے افق ڈائجسٹ کے ہمراہ ایک ناول کتابچے کی صورت میں قارئین خوشی خوشی حاصل کریں گے نئے افق کی قیمت بے شک ساٹھ 60 روپے کردیں، دوسرا مشورہ آپ لکھتے ہیں کہ قارئین اپنی تحریریں جلد ارسال کیا کریں لیکن مقررہ تاریخ نہیں بتاتے یہ تحریر کریں کہ قارئین کی تحریریں فلاں تاریخ تک پہنچ جانی چاہیے بے شک تحریروں کے لیے کوپن بھی شائع کردیا کریں اس طرح ہر تحریر بھیجنے کو ڈائجسٹ خریدنا پڑتا ہے جس سے سرکولیشن میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے بغیر کوپن کے ہزاروں لوگ بغیر ڈائجسٹ خریدے اپنی تحریریں شائع کرا کے انعام کے حق دار مفت میں بن جاتے ہیں کوپن سے اصل قارئین جو ہر ماہ باقاعدگی سے ڈائجسٹ خریدتے ہیں اور وہ جو مفت بر ہیں ان کا پتا چل جاتا ہے بغیر کوپن کے تو مدیران اندھیرے میں رہتے ہیں کہ کون مفت خورہ ہے اور کون خریدار ہے چوتھا مشورہ شمارہ فروری 2016ء میں آپ نے لکھا ہے کہ کئی لکھاری اپنی کہانیاں کئی ڈائجسٹوں کو بھیج دیتے ہیں یعنی ایک کہانی چار یا پانچ ڈائجسٹوں کو بھیج کر شائع کر لیتے ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ہاں البتہ آپ یہ تحریر شائع کریں کہ جو لکھاری اپنی کوئی سی بہترین کہانی کسی ڈائجسٹ میں شائع کرا چکے ہیں اور قند مکرر کے ساتھ دوبارہ شائع کرانا چاہتے ہیں تو تقریباً پانچ سال بعد حوالہ دے کر کہانی بھیجیں کہانی سدا بہار ہوئی تو ہم شائع کریں گے ورنہ ضائع کردیں گے جنہوں نے حوالہ نہ دیا اور کہانی دوبارہ شائع کرا دی تو ہم اسے بلیک لسٹ کردیں گے۔
٭ محترم بشیر بھٹی صاحب تجاویز دینے کا شکریہ‘ ان شاء اللہ ہم آپ کی تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف۔ سلام عرض امید ہے آپ اور سبھی احباب نئے افق بخیریت ہوں گے، نئے سال کا پہلا پرچہ ذرا تاخیر سے جلوہ گر ہوا مگر نامور لکھاریوں کی تحریروں اور آپ کی بیکراں محنت نے سبھی گلے شکوے دور کردیے دستک میں جناب مشتاق احمد نے خوب صورت انداز میں چین کی سیر کرائی اور یوں لگا جیسے ہم سنکیانگ میں پھر رہے ہیں۔ گفتگو میں سبھی احباب اپنے خوب صورت اور پر معنی تجزیے لیے حاضر پائے آپ نے میرے خط کو اولیت کی سند سے نوازا اور سبھی ساتھیوں نے میری نگارشات کو پسند فرمایا جس کے لیے بے حد شکریہ، محمد رفاقت، ریاض حسین قمر، پرنس بھائی، عبدالجبار رومی، ریاض بٹ اور جاوید احمد صدیقی، سبھی احباب کے خطوط اور گفتگو معیاری اور پر معنی پائی، طاہر قریشی صاحب ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ’’الباری‘‘ پر خوب صورت انداز سے طبع آزمائی فرما رہے تھے آخر میںانہوں نے اس کے فضائل پر بھی روشنی ڈالی جو لائق تحسین پائے۔ سایہ دیوار پرچے کی پہلی تحریر انسان کی مجبوریوں اور آزمائش پر مبنی پائی امجد جاوید کا خوب صورت اور رواں انداز بے حد پسند آیا فارحہ اور جمال احمد کے ملاپ پر خوشی ہوئی۔ زرین قمر صاحب کی دونوں تحریریں ہی معیاری اور منفرد پائیں خلیل جبار، پر اسرار اور ماورائی تحریر لائے نیم والے بزرگ کی کوششیں اور محنتیں رنگ لائیں اور شاہ رخ کی خلاصی ہوئی جس سے وہ اپنوں میں سر خرو ہوا، بدلہ عمارہ خان نے اپنے خوب صورت لفظوں کا جادو جگا کر حیران کردیا حسن کے کردار پر حیرت ہوئی۔ سید محمود حسن بھی اپنی قابلیت کا لوہا منواتے نظر نواز ہوئے انہوں نے پر اسرار آوازوں کی کھوج عمدہ انداز سے کی۔ عشنا کوثر سردار کی خالہ اور کزن کی افسوسناک خبر پر دل خون کے آنسو رویا خداوند کریم مرحومین کو اپنی جوار رحمت میں خاص جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے، آمین۔ رانا زاہد حسین بھی لکھاریوں کی صف میں بہت بڑا نام رکھتے ہیں میں نے ان کی پیشتر تحریریں پڑھی ہیں، وہ کرداروں میں ڈوب کر جذبات و احساسات لکھنے کے ماہر ہیں، فارس مغل کے ہمجان کا آخری حصہ بے حد پسند آیا اور آخر میں جذباتی انداز تحریر سے آنکھوں کے گوشے نم ہوگئے۔ ریاض بٹ صاحب موجودہ صورت حال میں چاقو مار لوگوں کا پرچار کر کے نظر نواز ہوئے بلا شبہ ایسے لوگ ہمارے معاشرہ کے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں اس دھرتی پر جینے کا کوئی حق ہرگز نہیں عمدہ سوچ پر ویلکم جی اس کے علاوہ ذوق آگہی میں منفرد اور خوب صورت تجزیے، شاعری میں بے مثال ردیف قافیے اور کترنیں، لطائف اور انمول باتیں بے حد سراہنے کے قابل پائیں، مرشد صاحب ساحر جمیل سید خوب صورت سیڑھی کی ساتویں نشست پر جلوہ گر پائے گئے آٹھویں کڑی میں وہ کیا گل کھلاتے ہیں اور حجاب کو بازیاب کیسے کراتے ہیں۔ بہرحال 2018ء کا پہلا اور افتتاحی پرچہ بے حد اچھا لگا جس کے لیے ادارہ مبارکباد کا مستحق ٹھہرا۔ لو جی خوش رہیے اور خوشیاں بانٹیے اگلے ماہ تک خدا حافظ۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم جناب اقبال بھٹی صاحب اور تمام ادارے کے افراد کو میرا سلام قبول ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور نئے افق کے ادارے کے تمام لوگوں کو صحت و تندرستی دے آمین۔ اس دفعہ رسالہ بہت دیر سے ملا جلدی میں خط لکھ رہا ہوں شاید وقت پر نہ پہنچ سکے پھر بھی اپنے دوستوں سے دور نہیں رہ سکتا، جس کی وجہ سے خط لکھ ہی دیا رسالہ بڑی آب و تاب کے ساتھ آیا جس نے دل کو خوش کردیا، نئے افق کا بڑی بے چینی سے انتظار رہتا ہے اور جب یہ رسالہ آتا ہے تو دل کرتا ہے کہ ایک ہی رات میں ایسے پڑھ لیا جائے، میری طرح اور پڑھنے والے بھی اس کو باریک بینی سے پڑھتے ہیں جس کا اندازہ قارئین اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان کے تبصرے جاندار اور حقیقت کے قریب ہوتے ہیں سب سے پہلے ان ہی خطوط کی طرف آتے ہیں، جس سے رسالے کے معیار کا پتا چلتا ہے جس میں ایم حسن نظامی صاحب، ریاض حسین قمر صاحب، پرنس افضل شاہین صاحب، عبدالجبار رومی انصاری صاحب، جاوید احمد صدیقی صاحب نے بہت ہی اچھے انداز میں خط لکھے اور اپنی رائے کا اظہار کیا، جاوید احمد صدیقی صاحب آپ ٹھیک ہی کہتے ہیں ان ہی کیمروں کی وجہ سے تو اجو بی بی پکڑی گئی تھیں، کہانی پسند کرنے کا شکریہ، سب لوگوں کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے خط کو اور کہانی کو پسند کیا آتے ہیں کہانیوں کی طرف تو جناب اس دفعہ بھی سب ہی کہانیاں اچھی ہیں، جن میں برزخ، لغزش چھوٹی کہانی تھی مگر اثر انگیز تھی چندر گانٹھ، زرین قمر کی اس دفعہ دونوں کہانیوں نے اچھا تاثر دیا سایہ دیوار، سچی محبت، بدلہ، زیگی، اندر باہر، ہمجان بھی پڑھنے کے لائق تھیں، مرشد پڑھی بہت ہی اچھی جا رہی ہے ہمجان کا آخری حصہ خوب رہا، ذوق آگہی میں بھی بہت کچھ پڑھنے کو ملا جس سے میرے علم میں اضافہ ہوا میری طرف سے سب لکھنے والوں کو بہت بہت مبارک باد قبول ہو اور سب لوگ دعائوں میں مجھے یاد رکھیں آپ کا مخلص، اب اجازت۔
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر۔ اس بار سال نو نمبر میں ایک حسینہ اپنے دو شکاری کتوں کے ساتھ نمودار ہوئی ہمیں ایسے لگا جیسے وہ کتوں کو کہہ رہی ہو۔
وہ میرا ہو جو نگاہوں میں حیا رکھتا ہو
ہر قدم ساتھ چلے عزم وفا رکھتا ہو
ناز اس کے نہ اٹھائوں تو شکایت نہ کرے
وہ میرے درد کو سہنے کی ادا رکھتا ہو
آگے بڑھے تو دستک میں انکل مشتاق صاحب عوامی جمہوریہ چین کے بارے میں بتا رہے تھے ہم انہیں ان کے کامیاب دورے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں جی ہم بھی بچپن سے ہی یہ سنتے آئے تھے کہ حدیث میں ہے کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوئی چین ہمارا قابل بھروسہ دوست ملک ہے ابن صفی صاحب کے کردار کے بارے میں آپ نے خوب لکھا ہم بھی چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل سنتے ہیں اور ہر بدھ یا دوسرے بدھ میری آواز میں چین کے بارے میں رپورٹ نشر ہوتی ہے جو کہ آپ لوگ بھی ایف ایم 98 دوستی چینل یا پھر چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے بروز بدھ رات ساڑھے سات تا پونے آٹھ اور پھر ساڑھے آٹھ تا پونے نو بچے نشر مکرر کے طور پر سن سکتے ہیں۔ آگے بڑھ کر ہم اپنے پسند کے سلسلے گفتگو میں پہنچے تو آپ عشنا کوثر سردار کی خالہ پھر ان کے جواں سال کزن اللہ کو پیارے ہو گئے ہم بھی ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر دے، آمین۔ کرسی صدارت پر محترم حسن نظامی براجمان تھے مبارکباد‘ جناب محمد رفاقت صاحب رسالے کا معیار برقرار رکھنا پڑتا ہے ۔ریاض حسین قمر صاحب اللہ تعالیٰ آپ کی بیٹی کے نصیب اچھے کرے ‘آمین۔ جاوید احمد صدیقی اور ریاض بٹ کے تبصرے بھی جاندار تھے ۔عبدالجبار رومی انصاری صاحب آپ کا قطعہ ہی شاندار ہوتا ہے میری تحریر پسند فرمانے کا بہت شکریہ۔ طاہر قریشی بھائی نے اقرأ میں اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام ’’الباری‘‘ پر خوب صورت تحریر پیش کی‘ بہت ہی اچھا لگا۔ ذوق آگہی میں شہروز خان، ایس حبیب خان، محمد فرقان، عبدالرحمان، خوشبوئے سخن میں فرخ حجاز، عمر فاروق ارشد، پروفیسر علی خاکی، عامر خان چاند چھائے رہے۔ زریں قمر کی چندر گانٹھ واقعی پر اسرار اور خوب صورت کہانی تھی‘ اتنی پیاری کہانی تحریر کرنے پر ہم زریں قمر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں‘ امید ہے آئندہ بھی وہ ہمارے لیے ایسی ہی کہانیاں لکھتی رہیں گی۔ دعا ہے نئے افق ترقی کرتا رہے آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close