NaeyUfaq Jan-18

برزخ

زرین قمر

1992 نومبر کی سردیوں کی وہ رات موت کی طرح سرد تھی۔ چاردروازوں والی بیوک اسٹیشن ویگن روڈ کی ڈھلان پر تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کبھی کبھی تیزی کی وجہ سے روڈ پرموجود برف کی سیاہ تہہ پررگڑنے سے ٹائروں سے چرچراہٹ کی آواز آتی تھی ۔ روڈ کے دائیں جانب اونچی پہاڑیاں موجود تھیں جبکہ بائیں جانب ڈھلان تھی اور لوہے کی زنگ آلود حفاظتی ریلنگ لگی ہوئی تھی اور ڈھلان میں درختوں پر موجود برف کی تہہ عجب سماں پیش کررہی تھی راجرٹیفٹ نے پرل کلر کا سوئٹر پہنا ہواتھا اوراس کے ہاتھ مضبوطی سے اسٹیئرنگ پرجمے ہوئے تھے وہ اپنی فیملی کی زندگی بچانے کی پوری کوشش کررہاتھااوراس کی بیوی اپنے گداز جسم کے ساتھ اس کے برابر بیٹھی چیخیں مار رہی تھی جبکہ پچھلی سیٹ پرموجود یوگی اورونا کی خوفزدہ چیخیں بھی راجر کوپریشان کررہی تھیں۔ اسٹیشن ویگن گھومتی ہچکولے کھاتی‘ لڑھکتی آگے بڑھ رہی تھی اور راجر کا دل جیسے اس کے حلق میں دھڑک رہاتھا۔ اس نے خوف کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیاتھااور مضبوطی سے اسٹیئرنگ کوتھامے تھامے وہ اپنی بیوی حنا کی طرف مڑاتھا جو خاصی خوبصورت تھی اس نے سردی سے بچنے کے لیے موٹا سوئٹر اور جینز پہنی ہوئی تھی جبکہ سر کے سرخی مائل بالوں کو ایک مفلر سے لپیٹاہواتھا۔
’’میں کوشش کررہاہوں کہ ہم لوگ وقت پر پارٹی میں پہنچ جائیں۔‘‘ راجر نے گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے کہا اورحنا نے غصے سے منہ دوسری طرف پھیرلیا اسے افسوس تھا کہ راجر کے والدین ایک گھنٹے سے ان کے منتظر تھے لیکن برفانی طوفان کی وجہ سے وہ لیٹ ہو ر ہے تھے‘ راجر جوایک ٹوائے کمپنی میں کام کرتاتھااسے چھٹی بھی دیر میں ملی تھی۔
’’تمہیں اب کس بات کی جلدی ہے ؟ جو دیر ہوناتھی وہ توہوہی گئی اور تمہارے والدین کے طعنے توبہرحال سنناہی ہوں گے۔‘‘حنا نے منہ بنا کر کہا وہ جانتی تھی کہ راجر کے والد ایک کامیاب وکیل تھے اور انہوں نے ہمیشہ راجر کو ٹوائے کمپنی میں ایک منیجر کی جاب کرنے پرمذاق کانشانہ بنایا تھا وہ اسے اس کے بھائی ڈاکٹر ڈیکرٹیفٹ کی مثالیں دیاکرتے تھے۔
’’یہ ہماری فیملی کی روایت ہے ہمیں ہر کرسمس پروہاں جاناہوتاہے۔‘‘ راجر نے گاڑی کے اسٹیئرنگ پرگرفت مضبوط رکھتے ہوئے کہا۔
’’اورمیری فیملی ؟ کیاوہ اس قابل نہیں کہ ہم کبھی ان سے بھی ملنے جائیں؟‘‘ حنا نے کہا۔
’’ہم گرمیوں میں ان سے ملنے بھی جائیں گے۔‘‘ راجرنے اطمینان دلانے والے انداز میں کہا۔
’’مجھے تمہارا یقین نہیں ہے۔‘‘
’’میں پروگرام بنارہاہوں۔‘‘
’’ہاں… ہاں… تم یہی کہتے ہو۔‘‘ حنا نے بے یقینی سے کہا۔
’’اس بات کاکیامطلب ہے ؟‘‘
’’تم جانتے ہو؟‘‘
’’مجھے نیچے اترناہے۔‘‘ پچھلی سیٹ سے چھ سالہ ونا چیخی وہ بہت خوبصورت تھی اوراس کے سونے جیسے سنہری بال اسے مزیدحسین بنارہے تھے اس نے موسم کے لحاظ ؔسے فروالا کوٹ اور موٹی جینز پہنی ہوئی تھی اور سرپراونی ٹوپی تھی جس میں بڑا سا پھندنا لٹک رہاتھا۔
’’بس ہم پہنچنے ہی والے ہیں۔‘‘ راجر نے اپنی مونچھوں کو کھجاتے ہوئے کہااس کی پینٹ اور شرٹ پر چاکلیٹ کے دھبے پڑے ہوئے تھے جوگاڑی چلانے کے دوران ہاٹ چاکلیٹ کافی پیتے ہوئے گرجانے سے پڑے تھے۔
’’ٹھی شوں… ٹھی شوں‘‘ونا کے برابربیٹھے یوگی نے باپ کی طرف ہاتھوں سے پستول کااشارہ کرتے ہوئے آواز نکالی۔
’’یوگی… بدتمیزی مت کرو۔‘‘حنا نے اپنے بیٹے کوڈانٹا جس کے دو دانت بڑے تھے اور منہ سے باہر کی جانب جھانک رہے تھے۔
’’ٹھی شوں … ٹھی شوں…ٹھی شوں…‘‘ یوگی نے منع کرنے پر اب اپنی ہاتھوں سے بنی پستول کا رخ حنا کی طرف کرلیاتھااس کاچہرہ چوکور اوربال راجر کی طرح اخروٹی رنگت کے تھے اس میں باپ جیسی مشابہت تھی۔
’’راجر‘ میں نے تم سے کہاتھا کہ اسے ٹرمینیٹر 2مت دیکھنے دیاکرو۔‘‘حنا نے کہا۔
’’وہ فلم ایک سال پرانی ہے او رتم نے تو اسے ٹرمینیٹر کاکھلونا بھی لے کر دیاہوا ہے۔‘‘ راجر نے کہا۔
’’یہ کوئی بہانہ نہیں ہے تم نے یوگی کوبگاڑ دیاہے۔‘‘ حنا نے کہااور راجر نے اس کاجواب دینے کے بجائے گاڑی کا ٹیپ آن کرکے آواز تیز کردی اب گاڑی میں گانے کی آواز گونج رہی تھی برفباری میں شدت آتی جارہی تھی اور گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی بس تیس فٹ آگے تک نظر آرہی تھی۔ راجر نے ہاتھ میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھااس کے پاس تیس منٹ اور تھے اسی وقت حنا زور سے چیخی۔
’’راجر!‘‘ اور راجر نے سامنے کی طرف دیکھا کچھ ہی فاصلے پر ایک بھاری باکس ٹرک روڈ کے بیچوں بیچ کھڑاتھا بالکل ایسے جیسے جان بوجھ کر راستہ بند کیا گیا ہو راجر نے ایک گہری سانس لی ٹرک کے اندر لائٹس آن تھیں جن کی روشنی میں ٹرک کی سیٹیں خالی نظر آرہی تھیں۔ ٹرک میں کوئی موجود نہیں تھا۔
’’میں چیک کرتاہوں۔‘‘ راجر نے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں‘ بس واپس چلو‘ مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ حنا نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
’’واپس ؟ پاگل ہوگئی ہو؟ دیکھتے ہیں شاید کسی کومدد کی ضرورت ہو اسی لیے ایسے ٹرک کھڑاکیاہو‘ میں اب یہاں تک آکے واپس نہیں جانا چاہتا۔‘‘ راجر نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا باہر بہت سردی تھی گاڑی سے اترکراس نے فوراً دروازہ بند کردیاتھا تاکہ بچے سردی سے محفوظ رہیں پھر اپنے سوئٹر کی جیب سے گرم دستانے نکال کر ہاتھوں میں پہنے تھے اور ٹرک کی طرف بڑھاتھا‘ وہ روڈ کے ساتھ لگی حفاظتی ریلنگ سے قریب ہوتاجارہاتھا‘ اوراپنی گاڑی سے دور… باکس ٹرک سفید رنگ کاتھااس کاسامنے کاحصہ کسی پک اپ ٹرک جیساتھا۔
’’کسی کومدد درکار ہے؟‘‘ راجر نے زور سے پوچھا ساتھ ہی سائڈ ونڈ وسے ٹرک میں جھانکا تھاجہاں فاسٹ فوڈ کے پیکٹ اور کپ پڑے تھے‘ ٹرک کی چابی اب بھی اگنیشن میں موجود تھی اس نے اطراف کاجائزہ لیاوہاں کوئی موجود نہیں تھا وہ واپسی کے لیے مڑا تودورایک درخت کے قریب اسے ایک سایہ کھڑا نظر آیا جس کے ہاتھوں میں گن سے مشابہہ کوئی چیز تھی۔
حنا خوف سے راجر کوجنگل کی طرف دیکھتے ہوئے ڈر محسوس کررہی تھی اسے اپنا خواب یاد آرہاتھا جو وہ کافی عرصے سے بار بار دیکھ رہی تھی وہ راجر اوراس کے نئے اسسٹنٹ کے بارے میں تھا وہ اسے سینٹا کے لباس میں اپنے بیڈ کی طرف جاتے دیکھتی تھی اس نے کئی بار راجر کو اس کے بارے میں بتایاتھا۔
’’یہ محض خواب ہے۔‘‘ راجر ہربار جواب دیتاحنااس کے جواب سے تنگ آگئی تھی جبکہ اس کاخیال تھا کہ یہ خواب اسے کسی خطرے سے آگاہ کررہاہے وہ چاہتی تھی کہ اس خواب کے سلسلے میں اپنی والدہ سے مشورہ کرے اتنی لمبی گفتگو وہ فون پر نہیں کرسکتی تھی چنانچہ انتظار میں تھی کہ کسی طرح ان سے ملنے جائے تو بات کرے۔
’’بوووم۔‘‘اچانک ایک زوردار شوٹ کی آواز آئی اور راجر کے چہرے سے خون بہنے لگا وہ ٹرک کے دروازے سے ٹکرایاتھااور پھرپلک جھپکائے بغیر زمین پر ڈھیر ہوگیاتھا اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور گردن ایک طرف کوڈھلک گئی تھی ۔ حنا کے ساتھ اس کے دونوں بچے بھی چیخ رہے تھے پھرحنا نے تیزی سے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایاتھالیکن فوراً رک گئی تھی ایک سایہ جنگل سے نکل کر روڈ پرآیا تھا اس کے ہاتھ میںگن تھی او روہ ویگن کی طرف بڑھ رہاتھااپنے لباس اورا نداز سے وہ کوئی پہاڑی باشندہ لگ رہاتھا فوراً ہی دوسرا دھماکا ہواتھااورگولی اسٹیشن ویگن کے سامنے کاشیشہ توڑتی ہوئی حنا کے پیٹ میں لگی تھی‘ بچے زور سے چیخے تھے اور حنا سیٹ پر ڈھیر ہوگئی تھی۔
’’مام‘‘ ونا چیخی۔
’’بھاگو…‘‘ حنا نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔
’’لیکن …‘‘
’’جلدی …‘‘ حنانے ونا کی بات کاٹ کر کہااور دونوں بچوں نے اپنی اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولااور باہر چھلانگ لگادی گن مین گاڑی کی طرف بڑھ رہاتھا اور حنا اپنے بچوں کوروڈ کے ساتھ لگی زنگ آلود حفاظتی ریلنگ پار کرکے نیچے ڈھلان میں اترتا دیکھ رہی تھی‘ پھرگن مین بھی ان کے پیچھے حفاظتی ریلنگ پھلانگ کر ڈھلان میں اترتاچلاگیا تھااور وہیں روڈ پر ایک سائن بورڈ لگاتھا۔ ’’ویلکم ٹو ہائی لینڈ…ایلی ویشن 4118فٹ۔‘‘
r…r…r
2017ء میں پچیس سال بعد کیلیفورنیا‘ ہائی لینڈ میں واقع گائوں میں کرسمس کی شام منائی جارہی تھی ہیڈلے ہائوس دومنزلوں پرمشتمل تھا اس کے باہر لان برف سے ڈھکاہواتھا اور برف کے گالے رات میں یوں زمین پر برس رہے تھے جیسے آسمان سے تاروں کی بارش ہو رہی ہو‘ چاند کی ہلکی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور منظربڑا طلسماتی لگ رہاتھا۔
بڑے ہال میں لگی گھڑی کے سامنے ایک بڑا کرسمس ٹری رکھاتھااوراس کی شاخوں میں تحائف لٹک رہے تھے ریکل ہرلے اپنے جاسوس پارٹنر جیسن پیک کے ساتھ بیٹھی اپنے دادا سے باتیں کررہی تھی پیک نے نیلے رنگ کا سوٹ پہناہواتھا وہ اس پر بہت جچ رہاتھا اور ریکل بار بار اسے پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی‘ پیک کے قریب اس کی پانچ سالہ بیٹی کلووبیٹھی تھی‘ بچی کے بال پیک کی طرح سنہرے تھے‘ باتیں کرتے کرتے ریکل کی توجہ کسی چیز کی طرف مبذول ہوئی ‘اسے محسوس ہوا جیسے اوپر کی منزل میں کوئی چیز حرکت کررہی ہو اس کے داداولیم ہاروے نے دعا مانگنا شروع کی تو ریکل نے آنکھیں بند کرکے سر جھکالیااوربند آنکھوں سے اس نے دیکھا جیسے بہت سے خون آلود چہرے اس کے تصور میں حرکت کررہے ہیں ان میں قاتل بھی تھے اور مقتول بھی ‘ اس نے آنکھیں کھول دیں اور وہ منظر غائب ہوگیا۔
’’سراغرساں پیک ہماری فیملی کی ایک روایت ہے کہ ہر کرسمس کی شام ہم سب ایک ایک تحفہ ضرور کھولتے ہیں۔ چنانچہ تم بھی اپنا تحفہ ہوشیاری سے منتخب کرلواور درخت سے تحفہ اتارلو۔‘‘ ولیم ہاروے نے کہااور ساتھ ہی ریکل کوایک چوکور باکس دیا۔
’’شکریہ دادا جان۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’تحفہ کھولنے سے پہلے شکریہ مت کہو پہلے کھول کردیکھ تو لو کہ کیاہے؟‘‘ سراغرساں پیک نے کہااور ریکل نے مسکراتے ہوئے گفٹ کھولا۔
’’اوہ… دادا میں یہ نہیں لے سکتی… یہ تو بہت قیمتی ہے …‘‘ ریکل نے تحفہ دیکھ کر کہا۔
’’کیوں‘ تم سے زیادہ قیمتی تو نہیں… تمہیں کسی خاص تحفے کا منتظر ہوناچاہیے تھا تم میرے لیے بہت قیمتی ہو۔‘‘ دادا ولیم نے کہا۔ ’’لائو میں تمہیں پہنادوں۔‘‘ انہوں نے سونے کی قیمتی چین اس کے گلے میں ڈال دی وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے ریکل پر پیسہ پانی کی طرح بہارہے تھے۔
’’تم پر یہ چین بہت سج رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ‘ دادا جان۔‘‘ ریکل نے مسکراتی آنکھوں سے انہیں دیکھتے ہوئے کہااس کی ہری ہری آنکھوں میں خوشی کی چمک موجود تھی۔ پیک اس کے لمبے قد اور متناسب جسم کوپسندیدگی سے دیکھ رہاتھا ریکل کرسمس ٹری کی طرف بڑھی اور قریب رکھاہواایک بڑاگفٹ کاڈبہ اٹھا کر پیک کی طرف بڑھایااور پیک نے وہ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایاتواس نے وہ ڈبہ کلوو کودے دیا جسے کلوو نے فوراً ہی کھول لیاتھا اوراس میں سے ایک خوبصورت گڑیا نکلی تھی جس نے سفید لباس پہناہواتھا اس کی آنکھیں سیاہ بال سنہرے تھے۔
’’کیااس کے بال اصلی ہیں؟‘‘ کلوو نے پوچھا۔
’’ہاں… بالکل اصلی۔‘ ریکل نے کہااور کلوو اس کے گلے لگ گئی۔
’’مجھے گڑیا پسند نہیں ہیں۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’میں بہت جلد تمہارے لیے ایک گڑیا ڈھونڈوں گی۔‘‘ ریکل نے ذومعنی انداز میں کہااورایک بکس پیک کوتھمادیا‘ پیک نے بکس کھولا تو ا س میں کئی سنہرے رنگ پڑے تھے۔
’’یہ کیا؟‘‘ پیک نے حیرت سے کہا۔ ’میں بھلا کس کودوں گایہ؟‘‘
’’یہ سب رنگ کسی ایک لڑکی کومت د یدینا۔‘‘ ریکل نے اسے چھیڑا توپیک نے بھی اس کی طرف ایک گفٹ بڑھادیا۔
’’میں جانتاہوں دو تحفے کھولنا تمہاری خاندانی روایت کو توڑناہے لیکن میری طرف سے۔‘‘ پیک نے گفٹ دیاتو ریکل نے کھولا اس میں خوبصورت رنگین پینسلوں کا سیٹ تھااور ساتھ ہی ایک نوٹ بھی لکھارکھا تھا۔ ’’تمہاری آوارہ روحوں کے لیے ‘‘ ریکل نے نوٹ پڑھا اورپیک کی طرف دیکھنے لگی ولیم کچھ نہیں سمجھاتھا۔
’’مجھے نئے سیٹ کی ضرورت تھی۔‘‘ریکل نے کہا۔
’’میں نے بہترین اور مہنگا ترین سیٹ خریدا ہے۔‘‘ پیک نے کہا پھرریکل نے ولیم کو ایک خوبصورت مگ گفٹ میں دیاتھااسی وقت ریکل کواوپری منزل سے پھر کچھ گرنے کی آواز سنائی دی جواس کے بیڈروم کی سمت سے آرہی تھی۔
’’ایکس کیوز می۔‘‘ ریکل نے کہااور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی پیک اسے جاتے دیکھتارہاتھااور ولیم نے اسے بیٹھنے کوکہاتھا۔
’’مجھے اپنے بارے میں بتائو پیک۔‘‘
ریکل جب اپنے کمرے میں پہنچی تو وہاں اندھیراتھا اس نے لائٹ آن کی جو روشن ہونے سے پہلے کئی بار ٹمٹمائی ریکل نے اپنے ہاتھ میں اپنا پولیس والا پستول پکڑاہواتھااس کے بیڈ پر رکھی چادر یوں اوپر کواٹھی ہوئی تھی جیسے اس کے نیچے کوئی بچہ چھپا ہوا ہوریکل نے آگے بڑھ کر چادرکھینچ لی لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا اسی لمحے ریکل کو محسوس ہواجیسے کسی نے اسے پیچھے سے چھواہو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی لہر دوڑ گئی اس کی گرفت اس کے پستول پر سخت ہوگئی او روہ پیچھے مڑی اس کے سامنے ایک گیارہ سالہ کورین لڑکی کھڑی تھی۔
’’اوہ تمہیں یہاں نہیں ہوناچاہیے ۔‘‘ ریکل نے لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تمہارے انکل کا کیس ختم ہوگیاہے اوروہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاچکے ہیں۔‘‘ ریکل نے اسے بتایا اس کامزید بات کرنے کاکوئی ارادہ نہیں تھا۔لڑکی کے چہرے پرمایوسی پھیل گئی۔ نی ما نے اپنی زبان میں کوئی سرگوشی کی جوریکل نہ سمجھ سکی لیکن اسے اندازہ ہوا کہ وہ خفگی کااظہار کررہی ہے وہ کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں۔
’’بس آج رات کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔‘‘ ریکل نے کہااور نی ما نے پھر کورین میں کچھ کہاریکل نے اندازہ لگایا کہ وہ اسے کچھ دکھانا چاہتی ہے اس نے عجلت میں اپنی چمڑے کی جیکٹ پہنی اپنا پستول جیب میں رکھا اور وہیں سے اونچی آواز میں اپنے والد کومخاطب کیا۔
’’آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں میں کام سے باہر جارہی ہوں۔‘‘
’’کوئی دکان نہیں کھلی ہوگی ریکل آج کرسمس ہے۔‘‘ اس کے دادا نے جواب دیا۔
’’میں گیس اسٹیشن تک جارہی ہوں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
پھر جب وہ باہر جارہی تھی تواس کے دادا نے لونگ روم سے آواز ماری۔
’’آج وقت ہمارے ساتھ ہی گزارتیں‘ تمہیںفرصت کہاں ہوتی ہے۔‘‘
’’میں آدھے گھنٹے میں واپس آجائوں گی پیک آپ کے ساتھ ہے۔‘‘ ریکل نے کہااور اپنے دادا کا جواب سنے بغیر گھر سے نکل گئی۔ نی ما اس کے ساتھ تھی۔ ریکل نے اپنے سردی سے اکڑے دستانوں والے ہاتھ ایکدوسرے سے رگڑے او راپنی امپالااسٹارٹ کردی پھراس نے کار کی کھڑکی سے برف کی تہہ صاف کی تھی اور کار آگے بڑھادی تھی۔
رات کی تاریکی گہری ہوگئی تھی۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے اورپتوں سے آزاد درخت برف سے ڈھکے ہوئے تھے راستے میں جگہ جگہ درخت‘گھر اور دکانیں کرسمس کے لیے سجے ہوئے تھے‘ جہاں مقامی کلچر کی چیزیں فروخت کے لیے سجی تھیں ریکل ایک منزلہ گھر کے سامنے کارروک کراتر گئی تھی۔ وہاں موجود گھر بھی روشنی سے منور تھے اور کچھ کی چمنیوں سے دھواں نکل رہاتھا ریکل گھر میں داخل ہوئی تھی ۔ مسٹر جنگ اوران کی بیوی اب بھی کالے لباس میں تھے‘ حالانکہ ان کے ہاں ہونے والے ناخوش گوار واقعے کو کئی ہفتے گزر چکے تھے نی مااب بھی ریکل کے ساتھ تھی اب اس کے چہرے پرمسکراہٹ تھی اس کی آنکھیں اپنے رشتے داروں ‘انکلز اور آنٹیوں پرلگی تھیں اس نے اپنی کورین زبان میں ریکل سے جیسے درخواست کی۔
’’وہ تمہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں‘ صرف میں دیکھ سکتی ہوں‘ اب تم اپنے گھر جائو۔‘‘ ریکل نے کہا لیکن لڑکی نے برہمی کااظہار کیا جیسے اسے یہ بات پسند نہ آئی ہو۔
’تم میری بات سمجھو‘ اب یہ تمہارے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔‘‘ ریکل نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ اور نی ما کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے وہ کرسمس کی خوشیاں مناتے اپنے خاندان کو دیکھ رہی تھی پھرچند لمحوں بعد ریکل کاہاتھ چھوڑ کر برفانی رات میں گم ہوگئی تھی ریکل نے اطمینان کاسانس لیا تھاوہ سمجھ گئی تھی کہ نی ما اس کی بات سمجھ گئی تھی۔
جب وہ گھر واپس پہنچی تو پیک اپنی بیٹی کلوو کے ساتھ واپس جانے کے لیے تیار تھا‘ اس کے دادا نیند سے بوجھل آنکھیں لیے اس کے منتظر تھے‘ریکل پیک کوچھوڑنے باہر تک آئی تھی۔
’’تم آج رات ایک آوارہ روح کیساتھ تھیں نا؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’ہاں کبھی کبھی۔‘‘ ریکل نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’آج تمہارے ساتھ کونسی روح تھی ؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’نی ما‘ تھی جس کے انکل کوپچھلے دنوں قید ہوگئی اور وہ قتل کردی گئی۔‘‘ ریکل نے کہاپیک چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا اور پھر اپنی کار میں بیٹھ گیااس کی بیٹی بھی اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔
’’میری کرسمس ریکل… پھر کل ملتے ہیں۔‘‘ پیک نے کہااور رخصت ہوگیا۔
اس رات ریکل بہت دیر تک بستر پر کروٹیں بدلتی رہی صبح کے قریب ایک کال آئی جس میں علاقے کی جھیل میں ایک لاش ملنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ریکل فوراً ہی موقع پر پہنچی تھی وہاں دوسرے پولیس آفیسرز کے ساتھ پیک بھی موجود تھا اورعلاقے کے کچھ لڑکے بھی جن کی عمریں پانچ سے آٹھ سال کے درمیان تھیں پولیس والے انہیں جائے حادثے سے ہٹارہے تھے اوران کی کوشش تھی کہ وہاں ملنے والی لاش سے وہ دور رہیں ریکل پیک کے ساتھ ان لڑکوں کے قریب چلی گئی۔
’’اتنی صبح ایسے موسم میں تمہارا یہاں کیاکام؟‘‘ اس نے لڑکوں سے پوچھا۔
’’ہم برف پر سلائڈنگ کررہے تھے۔‘‘ ایک لڑکے نے جواب دیا۔
’’سلائیڈنگ؟ توپھر تمہاری سلائیڈ کدھر ہے؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’آپ ہم پر شک کررہی ہیں؟‘‘ ایک شرارتی لڑکابولا۔
’’کیاتم پر شک کیا جاسکتا ہے؟‘‘ ریکل نے کہا تو لڑکاآنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
’’چلو اپنی جیبوں کی تلاشی دو۔‘‘ اس نے کہااور لڑکے جیبیں خالی کرنے لگے ان کی جیبوں سے لائٹراور آتش بازی کاسامان برآمد ہو رہاتھا۔
’’ہم صرف یہ دیکھناچاہتے تھے کہ آتش بازی برف میں کیسی لگتی ہے۔‘‘ ایک لڑکے نے کہا۔ ’’پلیز ہمارے والدین کو مت بتائیے گا۔‘‘
’’پلیز… پلیز …پلیز…‘‘ دوسرے لڑکے بھی چیخے۔
’’ٹھیک ہے نہیں بتائوں گی لیکن پہلے تم لوگ مجھے یہ بتائو کہ کرسمس کے گفٹ کھولنے کے بجائے تم لوگ فائرورکس کے لیے باہر کیوں آگئے ؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’ہم گفٹس کھول چکے تھے۔‘‘ ایک نے کہا۔
’’انہیں کچھ مت بتانا ہم پہلے ہی بہت مشکل میں پھنس گئے ہیں۔‘‘ ایک لڑکے نے دوسرے سے کہا۔
’’پچھلی رات ہم نے کچھ فائر ورکس کی آوازیں سنی تھیں توہم نے سوچا کہ ہم بھی یہ کام کرتے ہیں۔‘‘ ایک لڑکے نے کہا۔
’’اس کی آواز کیسی تھی؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’ٹھی شوں …‘‘ لڑکے نے بتایا۔
’’یہ کسی گن شاٹ کی آواز لگتی ہے۔‘‘ پیک نے کہااو رریکل نے سوچا کہ اگر پیک درست کہہ رہا ہے تو اس سے مرنے والے کی موت کے وقت کااندازہ ہوسکتا ہے۔ لڑکوں کاکہناتھا کہ انہوں نے یہ آوازیں نوبجے سے گیارہ بجے رات کے درمیان سنی تھیں۔ بچوں سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا گیاتھا اورانہیں ان کے والدین کے سپرد کردیاگیاتھا۔ پولیس انسپکٹر کورونور اور وڈگیٹس لاش کے پاس موجود تھے لاش کے سر کے بال گرے کلر کے تھے اس کی آنکھیں سرمئی تھیں اس نے پلاسٹک کے دستانے پہنے ہوئے تھے‘ گیٹس نے ریکل اور پیک کی بات سننے اور لاش کامعائنہ کرنے کے بعد اپنے خیال کااظہار کیا تھا کہ اسے شکاری گن کانشانہ بنایاگیاتھا۔
لاش کو دیکھ کر اندازہ ہوتاتھا کہ اس کی عمر سترہ سے پچیس سال کے درمیان رہی ہوگی وہ بہت دبلاپتلاتھا‘ اس کی پسلیاں اس کی زرد کھال کے اوپر سے گنی جاسکتی تھیں اور ہاتھ اورٹانگیں کھال اور ہڈیوں کاڈھانچہ تھے اس کے جسم پر جگہ جگہ کھرونچے اور زخموں کے نشان تھے اس کے دودانت جبڑے سے باہر نکلے ہوئے تھے‘ اچانک ریکل کو لگا جیسے کوئی اسے تالاب کے پانی کی طرف کھینچ رہا ہے۔ وہ آگے بڑھی تو اسے ایک جگہ پر پانی میں بلبلے سے نظرآئے اس نے جھک کرغور سے دیکھاتو نیچے ایک لڑکے کی لاش نظر آئی جس کی شکل اس لاش سے مل رہی تھی جو پہلے دریافت ہوئی تھی اس کے بھی اوپری جبڑے کے دودانت بڑے تھے اور باہر جھانک رہے تھے‘ریکل بغور اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’ریکل…! ریکل!‘‘ اسے اپنے پیچھے پیک کی آواز سنائی دی تووہ چونک کر اس کی طرف مڑی تو پیک نے لاش کی طرف اشارہ کیا ریکل نے پلٹ کر تالاب کی طرف دیکھا لیکن وہاں بچے کی ابھرنے والی لاش غائب ہوچکی تھی وہ بوجھل قدموں سے پیک کی طرف بڑھ گئی اسے یوں لگ رہاتھا جیسے بہت سی آنکھیں اس کی طرف دیکھ رہی ہیں تالاب کے سامنے دور تک جنگل پھیلاہواتھا‘ پیک کے قریب کھڑے وڈگیٹس نے لاش تالاب سے نکلوالی تھی اس نے لاش کاجبڑا کھول کر دیکھا اس کی زبان کٹی ہوئی تھی۔
’’زبان کٹنے کایہ نشان بہت پرانا ہے لگتا ہے سالوں پہلے یہ کاٹی گئی ہوگی۔‘‘ وڈگیٹس نے کہا۔
’’پریشان کن ہے۔‘‘ ریکل نے زیر لب کہااور لاش سے نظریں ہٹا کر دوسری طرف دیکھنے لگی اس سفاکی نے اسے ہلاکررکھ دیاتھاوہ دور برف سے ڈھکے درختوں کودیکھ رہی تھی اور فوٹوگرافر لاش کی تصویریں کھینچ رہے تھے اچانک ریکل کوایک خیال آیااوروہ لاش کی طرف بڑھی۔
’’اسے الٹا کرو۔‘‘ اس نے قریب جاکر کہا وہ چاہتی تھی کہ باڈی کے پوسٹ مارٹم سے پہلے وہ اس کا اچھی طرح جائزہ لے اس کی بات پرعمل کرتے ہوئے کورنر نے لاش کو پلٹ دیاتھا اور وڈگیٹس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں لاش کی پشت پر زخم کانشان تھا۔
’’اوہ مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔‘‘ پیک نے بھی حیرت کااظہار کیا اور ریکل نے جھک کر نشان کو بغو ردیکھا وہ(1) ون کی طرح بناہواتھا اوراسے باقاعدہ کھودکربنایاگیاتھا۔ یہ نمبر ون ایک لمبااور آدھا انچ چوڑابنایاگیاتھا ریکل جھک کر لاش کامعائنہ کررہی تھی تو اسے احساس ہوا جیسے اس کے سامنے کوئی آکھڑاہوا ہو کیونکہ اس پر کسی کاسایہ پڑرہاتھا اس نے سراٹھا کردیکھا تو اس کے سامنے تقریباً بیس سالہ لڑکا بغیر شرٹ پہنے کھڑا تھا اس کے اخروٹی کلر کے بڑے بال اس کے شانوں پرجھول رہے تھے اس کی آنکھ کے اوپر زخم کانشان تھااوراس کے دانت سردی کی شدت سے بج رہے تھے۔ ریکل نے اندازہ لگایا کہ وہ اس کے علاوہ وہاں موجود کسی اور شخص کونظر نہیں آرہاہے وہ سمجھ گئی کہ وہ کوئی ذی روح نہیں ہے کوئی بھٹکی ہوئی روح ہے جو اس سے رابطہ کرنے آئی ہے۔ ریکل اس سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن سب کے سامنے ایسا نہیں کرسکتی تھی ورنہ لوگ اسے پاگل سمجھتے اس کے اس راز سے صرف اس کا پارٹنر پیک آگاہ تھااوراس پریقین بھی کرتاتھا کہ وہ روحوں کی نشاندہی پر اپنے بہت سے کیس حل کرتی ہے جو ہمیشہ درست ثابت ہوتے ہیں۔
اچانک اس اجنبی لڑکے نے جنگل کی طرف چلنا شروع کردیا انداز ایسا ہی تھا جیسے وہ چاہتا ہو کہ ریکل اس کے پیچھے قدم بڑھائے پھرریکل نے بھی ایسا ہی کیا اب وہ اس کاتعاقب کررہی تھی اور پیک ریکل کے پیچھے تھاحالانکہ وہ اس روح کونہیں دیکھ سکتاتھا لیکن بہت عرصے ریکل کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے وہ جانتاتھا کہ ریکل کسی خاص وجہ سے جنگل کی طرف جارہی ہے ایسے موقع پر وہ اسے تنہا نہیں چھوڑنا چاہتاتھا جب ریکل دوسرے لوگوں سے کافی دور نکل گئی تو اس نے روح کومخاطب کیا۔
’’میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں … لیکن تمہیں مجھے سب کچھ بتانا ہوگا۔‘‘ ریکل نے کہااس لڑکے نے بات کرنے کے لیے منہ کھولا لیکن اس کے منہ سے خرخراہٹ کی آواز نکل کررہ گئی۔
’’وہ کیا کہہ رہا ہے؟‘‘ پیک نے ریکل کوبات کرتے دیکھ کر پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ ریکل نے کہا یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ریکل ایسے کیس سے نمٹ رہی تھی وہ اس کی عادی تھی بچپن ہی سے اسے روحیں نظر آتی تھیں اس میں ان روحوں سے بات کرنے کی صلاحیت تھی اس لڑکے کی روح دیکھ کر اسے اندازہ ہورہاتھا کہ وہ اسی کچھ بتانا چاہتاہے لیکن بتانہیں پارہا اس کے سرسے خون بہہ رہا تھااور وہ زبان نہ ہونے کی وجہ سے بول نہیں پارہاتھا کچھ مہینے پہلے بھی ریکل کو ایسے ایک واقعے سے واسطہ پڑاتھااس نے بغور لڑکے کی روح کی طرف دیکھا اور اپنی جیب سے نوٹ بک نکال کراس کے دانت ایک صفحے پربنالیے کیونکہ وہ غیر معمولی تھے وہ اوپری جبڑے سے باہر نکلے ہوئے تھے پھراس نے اس کے جسم کی دوسری تفصیلات بھی ڈرائنگ کی تھیں مقصد صرف یہ تھا کہ اسے اس کیس کی تحقیقات میں مدد مل سکے وہ اس اجنبی لڑکے پربرابرنظررکھے ہوئے تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جیسے ہی اس کی نظر ذراچوکی وہ غائب ہوجائے گااور پھر ہوا بھی یہی تھاابھی اس نے آدھا اسکیچ ہی بنایاتھا کہ وہ گھنے جنگل کی طرف دوڑپڑا ریکل بھی اس کے تعاقب میں آگے بڑھی سرد ہوا کے تھپیڑے اس کے منہ پرپڑرہے تھے اجنبی لڑکا اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہاتھا کہ اندازہ نہیں لگایاجاسکتاتھا کہ اگلی بار اس کاقدم کس سمت اٹھے گا وہ ہر قدم پرراستہ بدل رہاتھا پھر وہ ایک گرے ہوئے درخت کے قریب رک گیاتھا پیک بھی ریکل کی تقلید میں اس کے پیچھے آرہاتھا۔
جودرخت گراہواتھااس پرایک خون آلود ہاتھ کانشان تھا۔
’’اس کی تصویر لے لو۔‘‘ ریکل نے پیک سے کہااورآگے بڑھتی رہی وہ اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہاتھا کہ کبھی ایک درخت کے قریب نظرآتا اورودسرے ہی لمحے دس قدم دوسرے کسی درخت کے قریب نظر آتا او رپھرایک مقام پرآکر یوں لگا جیسے وہ نیچے گراہواور غائب ہوگیاہو ریکل اس مقام پر پہنچی لڑکے کاکہیں نام ونشان نہیں تھا جس جگہ وہ گراتھا وہاں سے دو راستے پہاڑوں کی چڑھائی کی طرف جاتے تھے۔
’’ہیلو!‘‘ ریکل زور سے چیخی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا دور دور تک جنگل یا پہاڑیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیںآرہاتھا۔
’’تم مجھے کیا دکھانا چاہتے ہو؟‘‘ ریکل نے سوچاوہ سوچوں میں اس سے رابطہ کرنا چاہتی تھی لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا وہ جاچکاتھا ریکل واپس اسی مقام پر آگئی جہاں تالاب میں لاش دریافت ہوئی تھی‘ لاش کو اب ایک بیگ میں رکھاجاچکاتھا اوروہاں موجود پولیس افسران کاخیال تھا کہ لاش کی پشت پرجونشان موجود تھا اسے قتل کے بعد بنایاگیاتھا۔
r…r…r
ہائی لینڈ پولیس ڈپارٹمنٹ کے بریفنگ روم میں بیٹھی ریکل کافی کی چسکیاں لے رہی تھی کمرے میں دو سفید رنگ کی مستطیل پلاسٹک کی میزیں رکھی ہوئی تھیں جن کے سامنے دیوار پر ایک وائٹ بورڈ لگاہواتھا بالکل کسی اسکول کی کلاس والا منظر تھا لیفٹیننٹ میک کونل ہاتھ میں بلیک پوائنٹر لیے بورڈ کے قریب کھڑاتھااس کاقد لمبا چہرہ ستواں اور بال سیاہ تھے‘ کمرے میں ریکل کے ساتھ ساتھ پیک اور دوسرے پولیس افسران بھی موجود تھے وہ ان سب کو لیکچر دے رہاتھا۔
’’میراخیال ہے آپ سب ہی کرسمس منارہے ہوں گے؟‘‘ اس نے پوچھا اس کی بات کا کسی نے اثبات میں سرہلا کراور کسی نے ہنکارا بھر کر جواب دیاتھا۔
’’میں جانتاہوں آپ سب کے جذبات کیاہوں گے ؟‘‘ میک کونل نے کہا ’’سارے لوگ کرسمس کی خوشیاں منارہے ہیں اچھے اچھے کھانے کھارہے ہیں لیکن ہمیں اپنی ڈیوٹی ادا کرناہے چنانچہ ہمارا فرض ہے کہ ہم جان ڈوز کے قاتلوں کاپتہ لگائیں تاکہ ہم بھی اپنے گھروں کوواپس جاکر ان خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔‘‘
’’ہم سب متفق ہیں۔‘‘ سب نے یک زبان کہا۔
’’خوب۔‘‘کونل نے تعریفی نظروں سے سب کودیکھتے ہوئے کہا۔ ’’توپھر آغاز کرتے ہیں… گیٹس تم مجھے لاش کے بارے میں بتائو۔‘‘
جتنی دیر گیٹس لاش کے بارے میں تفصیلات بتاتارہا پچھلی نشست میں بیٹھے ریکل اورپیک بھی اس کیس پر اپنے خیالات اکٹھا کرتے رہے اور گیٹس کے بعد انہوںنے اپنی معلومات بھی کونل کے ساتھ شیئر کیں۔
’’لگتا ہے کہ مقتول کاپیچھا کیاگیااور پھراسے فائر کرکے ہلاک کیاگیا۔‘‘ پیک نے کہنا شروع کیا۔ ’’اور پھراسے پانی کے تالاب میں ڈبودیاگیا پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی یہی بتاتی ہے اندازہ ہے کہ وہ کافی عرصے سے کسی کاقیدی تھا اوراس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیاجارہاتھا میراخیال ہے اس نے فرار کی کوشش کی ہوگی جوناکام ہوگئی اور یاپھراسے آزاد کیاگیاتھااوراس کے بعد ڈرامائی اندازمیں اس کاشکار کیا گیا۔‘‘ پیک نے کہاکمرے میں مکمل خاموشی تھی پیک کے بیٹھنے کے بعد ریکل کھڑی ہوگئی تھی۔
’’اس کی پشت پر موجود نمبر خاص اہمیت رکھتاہے شاید ہمیں ایک سیریل کلر کاسامنا ہے لیکن ہمارے ڈیٹابیس کے تجزے کے بعد بھی کوئی نام سامنے نہیں آیاہے۔‘‘ ریکل نے لاش کی پشت کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا۔ ’’ممکن ہے یہ لاش ہمارے قاتل کے جرائم کاآغاز ہو یاوہ پہلے آغاز کرچکا ہواوراب اس اقدام کو آگے بڑھارہا ہو لیکن ابھی ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘
’’ہمیں محنت سے اس کیس پر کام آگے بڑھانا ہوگا۔‘‘ کونل نے کہا۔ ’’اب تک کے لیے اتنا ہی میں چاہتاہوں آپ سب مل کر اس کیس پرکام کریں موسم خراب سے خراب ترہوتاجارہا ہے اپنا خیال رکھیے گا۔‘‘
ریکل اور پیک کی میزوں پر پرانی طرز کے مانیٹرزموجود تھے اور کیس کی فائلوں کاپلندہ تھاجن میں پرانی DNA رپورٹس بھی موجود تھیں۔ ایک سراغرساں کی حیثیت سے ریکل نے کبھی بھی صرف ایک کیس پر کام نہیں کیا تھاوہ ایک وقت میں کئی کئی کیسوں پرکام کررہی ہوتی تھی‘ اس وقت بھی وہ ایک ساتھ چار کیسوں پرکام کررہی تھی ایک فرار کاکیس تھا ‘ ایک میاں بیوی کے جھگڑے کاکیس تھا جس میں شوہر نے بیوی کوقتل کردیاتھا‘ ایک جنگ فیملی کاکیس تھا جو عدالت جاچکاتھااورایک موجودہ کیس جس میں لاش تالاب سے ملی تھی اورریکل کے خیال کے مطابق یہی کیس سب سے اہم تھا ریکل نے اپنی اسکیچ بک نکالی اوراس کی ورق گردانی کرنے لگی اس میں ایک لڑکی‘ ایک لڑکے(جو برساتی کوٹ) پہنے ہوئے تھے‘ اور دوسری تصویریں بنی ہوئی تھیں پھراس کی نظریں تالاب میں ملنے والی لاش کے اسکیچ پررک گئی تھیں اس کے بارے میں ملنے والی تمام معلومات اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھیں کہ اسے کافی عرصہ پہلے قتل کیاگیااور نہایت سفاکی سے قتل کیاگیا یہ انسانی ظلم کی بدترین مثال تھی۔ ریکل نے سراٹھا کر اطراف کاجائزہ لیا توپیک اس کی سمت ہی دیکھ رہاتھا۔
’’تم یہ کیس آرام سے حل کرسکتی ہو۔‘‘ پیک نے اس سے کہا۔
’’میراخیال ہے تمہارا یہ آئیڈیا اچھانہیں ہے۔‘‘
’’کیاتم نئے سال کی آمد کے دنوں میں بھی اسی کام میں الجھے رہنا چاہتی ہو؟ مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ پہلے حل نہیں ہوا تو ہماری نئے سال کی چھٹیاں بھی برباد ہوجائیں گی۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ ریکل نے جواب دیا وہ اداس تھی۔
’’چلو‘باہر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ پیک نے پیش کش کی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ریکل نے کہااور کھڑی ہوگئی برسوں کی دوستی اور ساتھ کام کرنے کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے تھے ریکل چالیس سال سے اوپر کی تھی اوراس کی اپنے شوہر بیرٹ سے علیحدگی ہوچکی تھی۔ کھانے کے لیے کسی ریسٹورنٹ میں جانے سے پہلے ریکل نے ایک روز پہلے ملنے والی لاش دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی جوگیٹس کی نگرانی میں سرد خانے میں رکھی ہوئی تھی اور پیک کے سامنے اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا وہ اس کے ساتھ پہلے سرد خانے گیاتھاجہاں گیٹس نے تھوڑی سی بحث کے بعد انہیں لاش کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیاتھا۔
’’چونکہ اس کانام معلوم نہیں اس لیے ہم اسے نمبر ون کہہ رہے ہیں۔‘‘ گیٹس نے بتایا۔
’’ہوں… مرنے کے بعد انسان کی بس اتنی ہی اہمیت رہ جاتی ہے کہ اسے نمبر سے شمار کیا جائے۔‘‘ ریکل نے تاسف سے کہا گیٹس نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیاتھااور کمرے سے نکل گیاتھا جاتے جاتے اس نے ریکل اور پیک کو ڈسپوزایبل دستانے دیئے تھے جو انہوں نے پہن لیے تھے لیکن گیٹس کے جانے کے بعد ریکل نے اپنے دائیں ہاتھ کادستانہ اتار دیاتھا اور لاش کے اوپر سے چادر ہٹا کر اپنا سیدھا ہاتھ اس کے ماتھے پررکھ دیاتھا‘ لاش سرد تھی ریکل نے ایک جھرجھری لی تھی اس نے لاش کے ماتھے پر ہاتھ رکھنے کے بعد کچھ محسوس کرنے کے لیے آنکھیں بند کی تھیں لیکن اسے اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہیں آیا تھا۔
’’حیرت ہے … کچھ پتہ نہیں چل رہا۔‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی اس نے دوبارہ کوشش کی ‘اس باراندھیرے میں اسے ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سنائی دی اوراسے لگا جیسے وہ ایک چھوٹالڑکا ہو جس کاپیٹ درد سے پھٹاجارہا ہو شدید سردی کااحساس بھی اسے ہو رہاتھا‘ پھراسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی روشنی کی لکیر کسی دروازے سے اندر آرہی ہو اور نمبر ون کسی پنجرے میں قید ہو۔ اس کی انگلیاں زخمی ہوں کیونکہ اپنی ننگی انگلیوں سے وہ اس پنجرے کی کنڈیاں کھولنے کی کوشش کرتارہاہو اورپھراس کے والد نے اسے باہر جانے کی اجازت دی ہو۔
پھراسے دوسرا منظرنظر آنے لگا ایک ٹرک تیزی سے رکاتھااس کادروازہ اچانک کھلاتھا‘ جس سے نمبر ون اچھل کرباہر گراتھااور ٹرک کی بیک سے ٹکرایاتھااسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی اور ٹرک دوبارہ پہاڑی راستوں پرجانے کے لیے اسٹارٹ لے رہاتھااسے محسوس ہوانمبر ون فرار کے بارے میں سوچ رہاتھا لیکن اس میں فرار کی ہمت نہیں تھی وہ سوچ رہاتھا اس کا کوئی نام نہیں ہے ‘ کوئی آواز نہیں ہے وہ اپنی عمر تک نہیں جانتااس لیے اس کے والد ہی سب کچھ ہیں ان کے بغیر نمبر ون کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس کی تمام یادیں صرف اور صرف اس کے والد سے وابستہ تھیں وہی اسے کھلاتاتھا وہی اسے کپڑے پہناتاتھا وہی اسے آرام دیتاتھا اس کے لیے زندگی صرف والد کاگھریاان کاٹرک تھااس کے علاوہ کچھ یاد نہیں تھاان کے علاوہ کوئی نہیں تھا جو اس کا خیال کرے اس کی رہنمائی کرے پھراس میں زندگی کی لہر دوڑ ی تھی وہ فرار چاہتاتھااس نے ٹرک سے باہر چھلانگ لگائی تھی اور اندھیری رات میں سڑک پر آگراتھا سرد ہوا اس کے جسم میں سوئیاں چبھارہی تھیں اوراس کاسیدھا ہاتھ کسی پتھر سے ٹکراکرزخمی ہوچکاتھا۔ وہ لڑھکتا ہوا روڈ سے نیچے جنگل کی ڈھلان میں گرتاچلاگیاتھا اس کے چاروں طرف لمبے لمبے برف سے ڈھکے درخت تھے‘ ٹرک تیز چرچراہٹ کی ساتھ رکاتھااور اس نے سوچاتھا کہ والد اس کے تعاقب میں آرہے ہیں‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے اس نے خود کو قریبی جھاڑیوں میں چھپالیاتھا برف نے اس کے پیروں کے تلوئوں کو سن کردیاتھا پھر بھی اس نے اٹھ کردوڑنا شروع کردیاتھا اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کدھرجارہاہے بس وہ اپنے والد سے زیادہ سے زیادہ دور جانا چاہتاتھا اس وقت اس کے لیے یہی اہم بات تھی۔
گن کے فائر کی آواز بہت تیز تھی اس کے ساتھ ہی اس کے پہلو میں شدید درد کی چمک ہوئی تھی اس کی چیخ نکل گئی تھی او روہ ایک درخت کے تنے سے ٹکرایاتھا‘اس نے اپنے خون آلود ہاتھ سے ایک گرے ہوئے درخت کوتھاما تھااور پھر برفیلی زمین پر دوڑنا شروع کردیاتھااور پھر وہ پانی میں گر گیاتھا۔ اس نے پانی سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مارے تھے اسے پتہ نہیں تھا کہ کیسے تیراجاتاہے اس کے والد کاسایہ جو اس کے تعاقب میں تھا کچھ فاصلے پرآکر رکاتھاوہ بالکل تالاب کے قریب تھا۔
’’نہیں … نہیں … نہیں ۔‘‘ وہ چیخاتھا لیکن والد نے کئی فائر کیے تھے اور پھر رائفل کواس کی اور بڑھایا جیسے اسے سہارا دینا چاہتا ہو نمبر ون نے اسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھالیکن سرد پانی نے اسے نگل لیاتھاڈوبتے ہوئے نمبر ون نے اپنے والد کی آواز آخری بار سنی تھی جو ایک درد بھری چیخ تھی۔
ریکل کا سر درد سے پھٹاجارہاتھا گرم کپڑوں کی تین تہیں اس کے جسم پر ہونے کے باوجود سرد پانی کے احساس نے اس کی ہڈیاں تک جیسے جمادی تھیں اور جیسے ہی وہ ہوش میں آگئی تھی اور نمبر ون کے تصور سے باہر آگئی تھی اپنی ان صلاحیتوں کواستعمال کرتے ہوئے اسے اکثر ایسا محسوس ہوتاتھاجیسے وہ خطروں سے کھیل رہی ہووہ جانتی تھی اس طرح اسے نقصان بھی پہنچ سکتاتھا پیک بغور اس کاجائزہ لے رہاتھا۔
r…r…r
’’تم نے کیادیکھا؟‘‘ کچھ دیر بعد پیک نے اس سے پوچھا سرد خانے سے واپسی پر وہ پیک کے ساتھ ریسٹورینٹ آگئی تھی اور گرم کافی پی رہی تھی۔
’’مجھے یوں لگا جیسے میں ایک ٹرک کے اندر موجود ہوں ۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’میرااندازہ ہے کہ وہ ٹرک دس یابارہ فٹ لمبا رہا ہوگا۔‘‘ وہ کانپ رہی تھی اسے اب تک اپنے جسم میں درد محسوس ہو رہاتھا جو دراصل نمبر ون کی کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرنے کی وجہ سے تھا۔
’’کیاتم نے قاتل کو دیکھا؟‘‘ پیک نے پوچھااور ریکل نے ایک بار پھر آنکھیں بند کرکے تصور میں اس منظر کو دہرایا جس کو کچھ دیر پہلے دیکھاتھا۔
’’نہیں میں نے صرف اس کی چیخ سنی تھی… میرا خیال ہے شاید اسے لڑکے کی فکر تھی… شاید وہ اسے بچانا چاہتاتھا۔‘‘
’’اپنے پیارے کو اگر کسی وجہ سے کوئی موت کے گھاٹ اتارتا ہے تو اسے دکھ بھی ہوتا ہے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’میراخیال نہیں کہ وہ اپنے قیدی کو مارنے کی کوشش کررہاتھا شاید وہ اسے دوبارہ پکڑنا چاہتا ہو؟‘‘
’’تم نے بتایا کہ وہ رات کاوقت تھا اور وہ بھاگ رہاتھا توممکن ہے قاتل نے اسے صرف زخمی کرنے کے لیے فائر کیا ہو وہ اسے فرار ہونے سے روکنا چاہتاہو؟‘‘ پیک نے کہا۔
’’ممکن ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔‘‘ ریکل نے بحث کرنامناسب نہیں سمجھا۔
’’ابھی کوئی فیصلہ کرنا درست بھی نہیں ہوگا کیونکہ ہم نہیں جانتے تمہیں جو مناظر نظر آئے ہیں وہ کس حد تک سچے ہیں۔‘‘
’’لیکن پیک مجھے تو یوں لگتا ہے کہ وہ سچے ہیں میں وہ ساری کیفیات خود محسوس کرتی ہوں۔‘‘
’’ہاں… لیکن ان تصورات پریقین کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں عملی طور پر تحقیقات بھی کرنا ہوگی۔‘‘
پیک نے کہاریکل نے اس کی بات کاجواب نہیں دیاتھا کیونکہ وہ بھی درست کہہ رہاتھا وہ جو کچھ دیکھتی تھی اسے مقتول کی سوچ کاحصہ کہاجاسکتاتھالیکن ایک حقیقت مسلمہ تھی کہ ایک قاتل موجود تھا جسے مقتول کے ذہن اور جسم پراختیار حاصل تھاخدا ہی جانتاتھا کہ وہ کب کسی اور کواپنا شکار بناتاہے اوراسے نمبر ٹو کانشان عطا کرتا ہے۔
دوسرے روز پیک نے اپنے کمپیوٹر کے ڈیٹابیس سے اس علاقے میں بہترین نشانہ بازوں کے نام معلوم کیے تھے لیکن اسے ناکامی ہوئی تھی ریکل آرام کی غرض سے اپنے پرانے گھر چلی گئی تھی وہ 1892ء میں تعمیر کیا گیاتھا اور جنگلات کے درمیان واقع تھاجب وہ وہاں پہنچی تو گھر کی ویرانی دیکھ کر اداس ہوگئی تیز سرد ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے او راندازہ ہو رہاتھا کہ برفانی طوفان آنے والا تھا جس کی پیشن گوئی کونل نے کی تھی گھر کے چاروں طرف گھنے درخت تھے جو ہوا کے تھپڑوں سے جھول رہے تھے ان کی شاخیں گھر کی دوسری منزل کی کھڑکیوں تک پہنچ رہی تھیں وہ گھر میں داخل ہوئی تو اسے گھر کی دیواریں کراہتی محسوس ہوئیں سورج غروب ہونے والا تھا اس نے گھر کااگلا اور پچھلادروازہ لاک کرلیا اپنی چھٹی اس طرح گزارنے کااس کابالکل کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن وہ مجبور تھی وہ مقتولوں اور حقیقی دنیا کے درمیان ایک رابطہ تھی اوران کی مد د کرنا چاہتی تھی جن کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہواتھا جنہیں بے قصور بے دردی سے قتل کردیاگیا تھا وہ اس ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ اسے اس کام کے لیے چن لیا گیاتھا اس کے ذہن میں اچانک اپنے سابقہ شوہر بیرٹ کاخیال آیا اس نے ریکل کے لیے کتنی خوشی سے یہ گھر خریداتھاپھرجب ریکل پراپنی نئی صلاحیتوں کابھید کھلااوراس نے ان کے مطابق زندگی کوڈھالا اور بیرٹ کواعتراض ہوا وہ نہیں چاہتاتھا کہ ریکل محض ایک معمول بن کر رہ جائے اور ان دیکھی قوتوں کے اشاروں پر ناچتا رہے جبکہ ریکل ان صلاحیتوں کو اپنی قوت سمجھتی تھی۔
’’کیونکہ صرف میں ہی ہوں جوان کی مدد کرسکتی ہوں… صحیح کوصحیح اور غلط کو غلط ثابت کرسکتی ہوں۔‘‘ اس نے اپنے شوہر سے کہاتھا۔
’’تواس کامطلب ہے کہ ایک فیملی کی حیثیت سے ہماری کوئی زندگی نہیں۔‘‘ بیرٹ نے بھی غصے سے کہا تھا اور پھربات بڑھ گئی تھی بیرٹ نے دھمکی دے دی تھی کہ وہ اس زندگی کوخیرباد کہہ دے ورنہ اس کاگھر برباد ہوجائے گااور پھر ہوابھی یہی تھا وہ اسے چھوڑ گیاتھا لیکن وہ سوچتی تھی کہ جو بھی ہوتاہے اچھے کے لیے ہوتاہے وہ پچھلے دس سال سے ان ارواح کی مدد کررہی تھی جو دن رات بھٹک رہی تھیں جن کے ساتھ ظلم ہواتھا بیرٹ نے دوسری شادی کرلی تھی اور زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی تھی۔
رات کے دس بجنے والے تھے جب ریکل اوپری منزل میں اپنے کمرے میں سونے کے لیے گئی تھی اس نے شاورلیاتھااپنے بستر میں گھس گئی تھی۔ کمرے میں ہیٹر نے زندگی بخش حرارت بکھیردی تھی لیکن تیز ہوا کی چیخوں اور گھر کی چرچراہٹ نے اس کی آنکھوں سے نیند کودور بھگادیاتھا اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کوئی چاقو کی تیز نوک سے اس کی پشت پرکھرنچ رہاہے وہ اٹھ کربیٹھ گئی سامنے دیوار پر لگی ڈیجیٹل کلاک میں صبح کے تین بج رہے تھے وہ تیزی سے بستر سے اتر گئی کپڑے تبدیل کیے موٹے سوئٹر پہنے اور ہاتھ میں گن لے کر کمرے سے نکل گئی اسے خطرے کااحساس ہو رہاتھا‘ وہ احتیاط سے چلتی نیچے آئی تھی اور ہال میں پہنچنے پر اسے سامنے کادروازہ چوپٹ کھلا ملا تھا جبکہ کچھ گھنٹوں پہلے وہ خود اسے لاک کرکے گئی تھی دروازے سے آتی ہوئی برف نے ہال میں بھی قبضہ جمالیاتھا اوراس برف پراسے کسی کے قدموں کے نشان نظر آرہے تھے اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا وہ سوچ رہی تھی کہ یہ کسی ان دیکھی ہستی کے پیروں کے نشان ہیں یااس کے گھر میں کوئی مجرم آگھسا ہے اس نے کئی کمروں میں چیک کیا کچن کی لائٹ آن کی لیکن کچھ نظر نہیں آیا کیونکہ لائٹ آن نہیں ہوئی تھی اندھیرااسی طرح چھایا ہواتھا وہ آہستہ آہستہ گھر کے باہر آئی جہاں اس کی وائٹ امپالا پر برف جمی ہوئی تھی دور دور تک کوئی نہیں تھا وہ واپس گھر میں آگئی تب ہی اسے محسوس ہوا جیسے اس کے قریب سے کوئی تیزی سے گزرا ہواور باہر کی طرف گیاہو وہ ایک بار پھر باہر کی طرف مڑی اورتب ہی اس نے اپنے سامنے پڑی برف پرقدموں کے نشان محسوس کیے جو سامنے کے لان کی طرف جارہے تھے پھر وہ ایک جگہ رک گئے تھے یہ ننگے قدموں کے نشان تھے لیکن کوئی نظر نہیں آرہاتھا پھرریکل نے ایک قدم پیچھے ہٹایا تھاتو سامنے برف پربھی ایک قدم اس کی سمت بڑھاتھااورایک سایہ سانمودار ہواتھا۔
’’ون؟‘‘ ریکل نے کہا اوراسی وقت اس کی پشت پرموجود بیرونی دروازہ زور سے بند ہوگیا…وہ تیزی سے دروازے کے قریب گئی اوراس کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ لاک ہوچکاتھا وہ واپس مڑی اب برف پربننے والے قدموں کے نشان اس سے صرف چند قدم کے فاصلے تک آکررک گئے تھے۔
’’اسے کھولو۔‘‘ ریکل نے کہا لیکن قدموں کے نشان اپنی جگہ پرجوں کے توں رہے وہ جوبھی کوئی تھاخود کوظاہر نہیں کرنا چاہتاتھا۔
’’صرف ایک میں ہی ہوں جو تمہاری مدد کرسکتی ہوں۔‘‘ ریکل نے کہا۔ ’’تم جوبھی ہو کیا یہ چاہتے ہو کہ میں سردی میں اکڑ کے مرجائوں؟‘‘
قدم واپس لان کی طرف جانے لگے تھے ریکل نے بھی ان کاتعاقب شروع کردیااس کے ہا تھ اب بھی مضبوطی سے اپنی گن تھامے ہوئے تھے لان میں پہنچ کر قدموں کے نشان ایک جگہ رک گئے تھے اورپھر برف پرایسے نشان بننے لگے تھے جیسے کوئی کسی چھڑی سے کچھ بنارہاہو کچھ دیر میں برف پرایک گھرکانقشہ بناہواتھا جس میں کھڑکیاں ‘دروازے‘ دیواریں‘ چھت سب تھاشروع میں وہ ایک بچے کی ڈرائنگ کی طرح سادہ سی تصویر تھی لیکن پھر وہ بہتر سے بہترین ہوتی چلی گئی تھی اس میں دوسری منزل کااضافہ ہواتھاایک پورچ بھی تھا۔ گاڑی کھڑی کرنے کے لیے چھت سے ڈھکا ڈرائیووے تھا‘ چمنیاں تھیں اور بہت کچھ چند ہی لمحوں بعد ریکل کے سامنے ایک بہترین تصویر بنی ہوئی تھی یہ ایک دومنزلہ گھرتھا جسے چاروں طرف سے درختوں نے گھیراہواتھا۔
’’کیایہ تمہارا گھر ہے ؟‘‘ ریکل نے پوچھااوراسی وقت اس کے سامنے نمبر ون ظاہر ہوا وہ کراہ رہاتھااور اس کے گولی کے زخم سے خون بہہ کربرف پرگررہاتھا برف پرالٹی ترچھی لکیریں بن رہی تھیں لیکن کوئی واضح لفظ نظر نہیں آرہاتھا جسے وہ کچھ لکھنا چاہتا ہو لیکن لکھنا نہ جانتاہو۔
’’تم کتنے عرصے قید رہے ؟‘‘ ریکل نے پوچھا لیکن اس کے سامنے موجود سایہ منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتارہا وہ کچھ بولنے کی کوشش کررہاتھا لیکن بول نہیں پارہاتھا پھرگھر کابیرونی دروازہ خودبخود کھل گیا تھاوہ دروازے کی طرف بڑھی اور جب پلٹ کردیکھا تو نمبر ون غائب ہوگیاتھا ریکل نے جلدی سے اپنا سیل فون نکالااور برف پربنی ہوئی تصویر کے کئی شاٹس لے لیے اس کے بعد اس نے پیک کوفون ملایا۔
’’کیا؟‘‘ پیک کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی۔
’’مجھے کچھ ایسا ملاہے جس سے ہم اپنی تحقیقات آگے بڑھاسکتے ہیں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’صبح کے ساڑھے تین بجے ؟‘‘ پیک نے حیرت سے پوچھا۔
’’وہ جنگل میں بناایک دومنزلہ گھر ہے جہاںنمبر ون کو قید رکھاگیا میں تمہیں تصویریں بھیجتی ہوں۔‘‘ ریکل نے کہااور تصویریں بھیج دیں۔
’’یہ تو برف نظر آرہی ہے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’ہاں؟‘‘ ریکل نے کہااور دوڑ کر اپنا رائٹنگ پیڈ اور پنسل لے آئی پھراس نے برف پراپنی تصویر کو دیکھ کر پیڈ پرتصویر بنائی تھی۔
’’تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ ریکل نے کہاساتھ ہی اس نے اپنی بنائی ہوئی ایک تصویر پیک کو بھیجی تھی۔
’’یہ وہ گھر ہے ۔‘‘
’’اگر ہم میک کونل کو اپنی بات سمجھا سکے او روہ ہماری مدد کے لیے تیار ہوگیا تو ہم اس کوبنیاد بنا کر آگے کام کرسکتے ہیں۔‘‘ پیک نے کہا۔ ’’کل دیکھتے ہیں۔‘‘
’’ہاں… اس وقت تو بات کرنا مناسب نہیں ہے ۔‘‘ریکل نے کہا۔
’’لیکن مجھے کال کرنا؟ یہ مناسب ہے ؟‘‘ پیک نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’شب بخیر پیک۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’شب بخیر ریکل۔‘‘
ریکل واپس گھر میں آگئی تھی وہ آرام کرنا چاہتی تھی وہ پھربستر پر لیٹ گئی اور تصور میں اس گھر کودیکھنے لگی جس کی تصویر اس نے برف پر سے اتاری تھی اسے یوں لگ رہاتھا جیسے وہ خود بھی کبھی وہاں گئی ہو یاوہ اس کاگھررہاہو…!
دوسرے روز وہ سب سے پہلے پولیس اسٹیشن پہنچ گئی تھی ۔اس نے اپنی چند کیسوں کی فائلیں چیک کی تھیں ‘ آٹھ بجے کے قریب پیک بھی آگیاتھااس کے سنہرے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اس نے نیوی بلوکلر کاسوٹ پہناہواتھاوہ اس کے سامنے رکھی کرسی پرآبیٹھاتھا۔
’’میک کونل سے بات کرنے کے لیے تیار ہو’؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘میں تم سے اس کے آفس میں ملوں گی۔‘‘ ریکل نے کہااور کھڑی ہوگئی۔
ریکل نے میک کونل کے کمرے کے دروازے پر دستک دی تھی اوراندر داخل ہوگئی تھی کونل کے آفس میں اس کی فیملی کی تصویر اس کی میز پررکھی ہوئی تھیں زیادہ تصویریں اس کے بیٹے کی تھیں جو سوسر کھیلتے ہوئے لی گئی تھیں‘ کونل اس وقت کافی پی رہاتھا۔
’’میں تمہارے لیے کیا کرسکتاہوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میں اور پیک جنگل میں ایک ایسے کیبن یا گھر کو ڈھونڈناچاہتے ہیں جہاں مجرم نے نمبر ون کو قید کیاہواتھا؟‘‘ ریکل نے کہا۔
’’تمہارے خیال میں اسے اس علاقے میں کیوں قیدی رکھاگیاتھا؟‘‘ کونل نے پوچھا جس کے جواب میں ریکل کو پوری تفصیل بتانا تھی اوراسے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے الجھن ہوتی تھی کوئی شاید ہی اس پریقین کرتا چنانچہ اس نے بات بدل دی۔
’’ہم نہیں جانتے کہ وہ وہاں تھایانہیں لیکن ہمیں اس کی پروفائل مکمل کرنے کے لیے معلومات تو درکار ہیں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’ہم علاقے میں موجود ‘ کیبن‘ گھر‘ ٹریلرز اور تالاب کے قریب بنی عمارتیں چیک کرنا چاہتے ہیں شاید وہاں سے ہمیں کوئی معلومات مل سکیں۔‘‘
’’ہوں… تو تم کیا مدد چاہتی ہو؟‘‘
’’میراخیال ہے ایک فضائی جائزہ صحیح رہے گا۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’توتم …طوفان آنے سے پہلے ہیلی کوپٹر استعمال کرنا چاہتی ہو؟‘‘
’’ہاں… ایساہی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن میں اس کی اجازت تمہیں صرف اس لیے دے رہاہوں کہ تم دونوں میرے پسندیدہ سراغرساں ہو۔‘‘ اس کااشارہ پیک کی طرف بھی تھا۔
’’ہم آپ کے پسندیدہ نہیں بلکہ صرف ہم دو ہی آپ کے سراغرساں ہیں۔‘‘ ریکل نے ناگواری سے کہا۔
’’بہرحال میرے ہیلی کاپٹر کاایندھن خواہ مخواہ ضائع مت کرنا کیونکہ اس کابل ریاست مجھے آسانی سے ادا نہیں کرتی ہے۔‘‘
’’شکریہ لیفٹیننٹ۔‘‘ ریکل نے کہااوراس کے کمرے سے نکل گئی۔
کچھ ہی دیر بعد ریکل اور پیک ہیلی کاپٹر میں موجود تھے انہوں نے ہیڈ فونز لگائے ہوئے تھے اور وہ ہائی لینڈ پر پرواز کررہاتھا۔ جہاں جہاں تک نظر کام کررہی تھی بڑے بڑے پہاڑ سراٹھائے کھڑے تھے اوران پرموجود درختوں پربرف کی چادر بچھی تھی برف سورج کی کرنوں سے سونے کی طرح چمک رہی تھی ریکل کو علاقے کی خوبصورتی نے بہت متاثر کیاتھااس نے اپنے علاقے کی خوبصورتی کوکبھی اوپر سے نہیں دیکھاتھاان کاہیلی کاپٹر برف سے ڈھکے درختوں‘ جمے ہوئے آبشاروں ‘چمکتی ہوئی جھیلوں اور جنگل سے گزرتی ہوئی بے شمار سڑکوں کے اوپر پرواز کررہاتھا۔
ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے پرواز کچھ نیچے کرنا شروع کیا وہ اس تالاب کے اوپر پرواز کررہاتھا جہاں سے نمبر ون کی لاش ملی تھی اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر وہ سڑک تھی جہاں نمبر ون نے ٹرک سے نیچے چھلانگ لگائی تھی جب ہیلی کاپٹر دوسرا چکر لگا رہاتھااسی علاقے میں کچھ فاصلے پرویساہی دومنزلہ گھربناہواتھا جیسا ریکل نے اس تصویر میں دیکھا تھا جونمبر ون نے برف پربنائی تھی۔
’’وہ … وہ دیکھو پیک۔‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے پیک کی توجہ اس گھر کی طرف کرائی تھی اور پیک نے پائلٹ سے اس گھر کی سامنے کی کھلی جگہ میں ہیلی کاپٹر اتارنے کے لیے کہاتھا گھر کی تعمیر سے اندازہ ہو رہاتھا کہ بہت پرانا ہے دیواروں پر جگہ جگہ سے پلاسٹر اکھڑ چکاتھا دروازہ لاک تھا کچھ کھڑکیاں کھلی تھیں جن سے اندر کامنظر نظر آرہاتھا گھر کے بیرونی دروازے سے گزر کر ریکل اور پیک گھر کے پچھلی طرف چلے گئے تھے جہاں دور دور تک پھیلی برف میں جگہ جگہ برف کے ڈھیر یوں بنے ہوئے تھے جیسے کسی نے ہاتھوں سے انہیں وہاں جمع کیاہواب سورج کی روشنی پڑنے سے وہ آہستہ آہستہ پگھل رہے تھے ریکل کو زمین پرایک جگہ برف پھسلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اس نے بغور دیکھا پھروہاں ایک شکل سی ابھرنے لگی ریکل نے پیک کی طرف دیکھا وہ بھی اس کی طرف ہی دیکھ رہاتھا لیکن زمین پر ا بھرنے والی شکل اسے نظر نہیں آرہی تھی۔
’’ون…؟‘‘ ریکل نے پوچھاانداز ایساہی تھاجیسے خود سے ہمکلام ہو۔
پھراس کی آنکھوں کی سامنے وہی بیس سالہ جسم ابھراتھا جواب تک بار بار اسے نظر آتارہاتھا وہ ریکل کی طرف ہی دیکھ رہاتھاا س کے دانت کھلے ہوئے تھے اور کٹی ہوئی زبان نظر آرہی تھی وہ اپنے ہاتھوں کاسہارا لیے بغیر اٹھااب وہ بیٹھ گیاتھا‘پیک اس جگہ بغور دیکھ رہاتھا جہاں ریکل کی توجہ تھی لیکن اسے کچھ نظر نہیں آرہاتھا پھرنمبر ون اپنے ہاتھوں اور پیروں پراچھلاتھا بالکل کسی جانور کی طرح اس کے منہ سے غراہٹ کی آوازیں نکل رہی تھیں ریکل اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’ریکل؟‘‘ پیک نے اسے آواز دی لیکن ریکل نے کوئی جواب نہیں دیاتھااس کی ساری توجہ نمبر ون کی طرف تھی جو چاروں ہاتھوں پیروں سے اچھلتا ہوا گھر کے پچھلے برآمدے کی طرف جارہاتھا ریکل تیزی سے اس کے تعاقب میں دوڑی تھی اور پیک ریکل کے پیچھے بڑھاتھا۔ پچھلے برآمدے میں لکڑی کے کئی ستونوں سے لوہے کی موٹی زنجیریں بندھی ہوئی تھیں ان کے بولٹ اتنے مضبوطی سے لگے تھے جنہیں کسی چیز کی مدد کے بغیر کھولا نہیں جاسکتاتھا وہاں جاکر نمبر ون غائب ہوگیاتھا برآمدے کے لکڑی کے فرش پر کچھ کھرونچوں کے نشانات نظر آرہے تھے جیسے وہاں کسی کوگھسیٹاگیا ہو اس کے علاوہ وہاں بہت سی فٹ بال کی گیندیں بھی موجود تھیں۔
’’میرا خیال ہے ہمیں آفس فون کردینا چاہیے۔‘‘ ریکل نے کہا اور پھراس نے میک کونل کوفون کرکے ساری صورت حال بتائی تھی کچھ ہی دیر میں پولیس کی گاڑیاں وہاں پہنچ گئی تھیں انہوں نے گھر کے دروازے کھولے تھے اور ساری گھر کی تلاشی لی تھی کئی کمروں میں بیڈز موجود تھے فرج میں کھانے پینے کاسامان تھا جو خراب ہوچکاتھا ایک کمرے میں ریکل کو کچھ لکڑی کے بکس نظر آئے جن میں کچھ فائلیں اور کاغذات رکھے تھے اس نے انہیں چیک کرنا شروع کیا ایک بکس میں سے اسے دو ڈرائیونگ لائسنس ملے یہ بکس ایک بیڈ کے نیچے رکھاتھا کسی نے ان پر سے نام کھرچ کر مٹادیئے تھے اس کے علاوہ ایڈریس او رلائسنس

نمبر بھی مٹادیئے گئے تھے اس میں لگی تصویروں کی آنکھیں کھرچ دی گئی تھیں ایک تصویر کسی عورت کی تھی جو خاصی خوبصورت تھی اس کے بال بھی سرخی مائل سنہری تھے دوسرا لائسنس کسی مرد کاتھا جس کے بال اخروٹی رنگت کے تھے ریکل یقین سے کہہ سکتی تھی کہ دونوں لائسنسوں پر ایک ہی ایڈریس لکھاہوا ہوگا کیونکہ دونوں میں ایک ہی سائز کی جگہ سے ایڈریس کھرچاگیاتھا اور دونوں میں لکھے گئے نام کاآخری حصہ بھی ایک سائز کی جگہ میں رہا ہوگا جو کھرچی ہوئی تھی۔
’’میراخیال ہے یہ ایک ہی جوڑا ہوگا۔‘‘ ریکل نے لائسنس پیک کو دکھاتے ہوئے کہااور پیک نے اس کے ہاتھ سے لائسنس لے کربغور دیکھے پھراثبات میں سرہلایا۔
’’شاید نمبر ون کے پیچھے جانے والے کوزیادہ وقت نہیں مل سکاتھا۔‘‘ ریکل نے خیال ظاہر کیا۔
’’ہاں اور یہ ہمارے حق میں بہتر ہوسکتاہے۔‘‘ پیک نے دونوں لائسنس اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا۔
گھر کی تلاشی ختم ہونے کے بعد وہ واپس آگئے تھے ریکل کام کوالتوا میں ڈالنا نہیں چاہتی تھی چنانچہ اس نے آفس پہنچتے ہی دونوں لائسنس اسکین کیے تھے ریکارڈ روم کوبھیج دیاتھا جنہوںنے اپنے ڈیٹابیس کوبھیج دیاتھا اورریکل ان تصاویر کاجائزہ لینے لگی تھی جو انہیں موقع واردات سے ملے تھے ۔
’’قاتل کوڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہو؟‘‘ ریکل کوپشت کی سمت سے آواز آئی تو اس نے مڑ کردیکھااس کے سامنے میک کونل کھڑاتھا۔
’’اس گھرمیں1983ء میںکچھ اموت ہوئی تھیں پھر 2000ء میں بھی کچھ جرائم ہوئے۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’جو کوئی بھی ذمہ دار ہواسے جرم کی سزا ملنا ہی چاہیے۔‘‘ کونل نے کہا۔
’’اس سلسلے میں تم مجھ پربھروسہ کرسکتے ہو۔‘‘ ریکل نے جواب دیا۔
’’ہاں…میں جانتا ہوں… مجھے تم پربھروسہ ہے۔‘‘ کونل نے مسکراتے ہوئے کہا اسی وقت فون کی گھنٹی بجی‘ریکل نے ریسیور اٹھایااور پھر اپنی نوٹ بک پہ ملنے والی معلومات لکھنے لگی کال ختم ہونے کے بعد اس نے پیک کی سیٹ کی طرف دیکھا وہ ہیڈ فون لگائے بیٹھاتھااور کسی کرائم رپورٹ کوچیک کررہاتھا‘ اس کے سامنے رکھی اس کی کافی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔
ریکل اس کے قریب رکھی کرسی پرجاکربیٹھ گئی اور نوٹ بک پرلکھی ہوئی معلومات پڑھ کر پیک کو سنانے لگی۔
’’وہ شادی شدہ جوڑا تھا… ان کانام راجر اور حنا ٹیفٹ تھاان کاتعلق میری لینڈ سے تھا1990ء میں ان کی لاشیں ملی تھیں یہ انفارمیشن ڈیٹابیس سے ملی ہیں۔‘‘ ریکل نے کہااور پیک نے اپنے کمپیوٹر پر اس کیس کے لیے ریسرچ کیاتواس کے سامنے بہت سی تصاویر آگئیں ایک تصویر میں ایک کرین ایک اسٹیشن ویگن کو جھیل سے نکال رہی تھی اور قریب ہی کچھ پولیس آفیسرز کھڑے تھے ‘ اگلی تصویر میں اسٹیشن ویگن کا دروازہ کھلاہواتھاراجر ٹیفٹ اگلی سیٹ پربیٹھاہواتھااوراس کاسر پیچھے کو ڈھلکاہواتھا اور حنا کا سر اس کے کاندھے سے ٹکاہواتھااس کے پیٹ میں گولی کاسوراخ تھا۔
’’پتہ کرتے ہیں… اس جوڑے کے بچے لاپتہ ہوگئے تھے۔‘‘ پیک نے ریکل سے کہااور چند ہی لمحوں میں سات سالہ یوگی اور چھ سالہ ونا ٹیفٹ کی بلیک اینڈ وائٹ تصویریں اسکرین پر نظر آنے لگیں۔ لڑکی کو ریکل شناخت نہ کرسکی لیکن اس کے ساتھ موجود لڑکے کے اوپری جبڑے کے باہر نکلے دانت اس کے چہرے کے نقوش بالکل نمبر ون سے ملتے تھے۔
’’یہ 1992ء کی تصاویر ہیں مجھے یقین ہے تب سے ہی یہ کسی کی قید میں رہا ہوگا۔‘‘ پیک نے کہااور ریکل سوچنے لگی کہ یوگی ٹیفٹ یانمبر ون وہ جو بھی نام اسے دے میں لکھ اور بول نہیں سکتاتھا اس کی زبان کاٹ دی گئی تھی پتہ نہیں کتنا عرصہ پہلے وہ ایک گھر میں قید تھاجس کی کھڑکیاں بھی بند کردی گئی تھیں جہاں بہت سے بیڈز تھے وہ وہاں اکیلا نہیں تھا اسے نمبر ون کے لیے اپنے دل میں ہمدردی محسوس ہوئی۔
’’ابھی میرے ساتھ اس جھیل تک چلوجہاں انہیں ڈبودیاگیاتھا۔‘‘ ریکل نے کہااو رپھر پیک کے ساتھ وہ وہاں پہنچ گئی تھی سردی بڑھ گئی تھی اور برف گرنا شروع ہوگئی تھی۔
’’آخر تم یہاں کیا ڈھونڈنے آئی ہو؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’میں ٹیفٹ فیملی کوڈھونڈنے آئی ہوں۔‘‘ ریکل نے جواب دیااور پیک غیر یقینی انداز سے اسے دیکھنے لگا اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ اس کاکیا جواب دے۔ریکل نے جھیل کے کنارے کنارے چلنا شروع کردیاتھااور وہ پانی میں جھانکتی جارہی تھی پانی کسی آئینے کی طرح چمک رہاتھا۔
’’کم آن‘‘ ریکل بڑبڑائی نہ جانے اسے کیوں امید تھی کہ بیس سالہ نمبر ون اسے یہاں ملنے ضرور آئے گا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ جھیل میں دور ایک چھوٹی کشتی تیررہی تھی اس میں ایک بوڑھا ملاح موجود تھا‘ جس نے ریکل کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا تو ریکل نے اپنے منہ کے قریب اپنے دونوں ہاتھ رکھ کراسے زور سے آواز دی اوراس نے چپوئوں کی مدد سے کشتی کو ریکل کی سمت بڑھایا چند ہی لمحوں میں وہ اس کے قریب آگیا تھا اس بوڑھے نے اپنے گرم کپڑوں کے اوپر تیراکی کالباس بھی پہنا ہواتھاسر پرایک بڑی سی چادر تھی جو اس نے سرکے گرد یوں لپیٹی ہوئی تھی کہ کاندھوں کوبھی ڈھک لیا تھااس نے کشتی کو ریکل کے قریب کنارے سے لگایاتھا۔
’’مجھے تمہاری یہ کشتی چاہیے۔‘‘ ریکل نے اس کے بولنے سے پہلے اپنا بیج دکھا کر اس سے درخواست کی اور بوڑھے نے انہیں کشتی دے دی کچھ ہی دیر بعد ریکل اور پیک جھیل میں کشتی رانی کررہے تھے اور ہلکی ہلکی برف باری بھی شروع ہوگئی تھی۔
’’جب ہم یہ واقعہ میک کونل کوبتائیں گے تو بہت مزہ آئے گا۔‘‘ پیک نے طنزیہ انداز میں کہا۔
’’تم نے کبھی کسی سے مانگ کر کشتی نہیں چلائی؟ میراخیال ہے تم پروفیشنل ہواور اپنے کام سے دلچسپی رکھنے والوں کو کبھی کبھی ایسی صورت حال کاسامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔‘‘ ریکل نے جواب دیا بوڑھا کنارے پرکھڑاانہیں دیکھ رہاتھا شاید اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ ریکل نے اس سے کشتی کس مقصد سے مانگی ہے۔
کچھ دیر بعد ریکل کواحساس ہواجیسے پانی کے نیچے کوئی چیز حرکت کررہی ہے وہ کسی عام مچھلی سے سائز میں بڑی تھی اس نے پیک کواشارہ کیاکہ وہ حرکت نہ کرے۔
’’کوئی غیر مرئی چیز ہے شاید۔‘‘ اس نے زیر لب کہااور پیک نے بھی پانی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اسے کچھ نظر نہیں آیا پھر کشتی خودبخود ہچکولے لینے لگی تھی اور ریکل نے خودکو سنبھالا تھا۔
’’تمہیں کچھ محسوس ہو رہا ہے؟‘‘ اس نے پیک سے پوچھا لیکن پیک نے نفی میں سرہلایا۔
’’تھمب…‘‘ اچانک ایک عجیب سی آواز آئی اور کشتی خودبخود سیدھے ہاتھ کی طرف مڑنے لگی۔ بالکل یوں جیسے کوئی اسے دھکادے کر موڑ رہاہو پھرٹھنڈا پانی کشتی میں آگیاتھاجوریکل کے جوتوں سے ٹکرارہاتھا اورریکل پلکیں جھپکاجھپکا کر اسے دیکھ رہی تھی پیک بغور اس کے چہرے کاجائزہ لے رہاتھا کچھ ہی دیر میں کشتی پھرخشک ہوگئی تھی پھراچانک ریکل نے دیکھا کہ پانی میں سے ایک دبلا پتلا ہاتھ بلند ہواتھااورا س نے کشتی کاکنارہ پکڑ لیاتھا اور وہ اسے ایک سمت میں کھینچ رہاتھا اورریکل اس سے دور ہٹنے کی کوشش کررہی تھی پھردوسرا ہاتھ بھی پانی سے بلند ہواتھااور اس نے بھی کشتی کاکنار ہ پکڑ لیا تھا پیک ریکل کی نظروں کے تعاقب میں اس سمت دیکھ رہاتھا جہاں ریکل کی ساری توجہ تھی۔
’’کیاہوا…؟ وہاں کیا ہے ؟‘‘ پیک نے پوچھا لیکن ریکل نے کوئی جواب نہیں دیاتھا اب وہ ہاتھ کشتی کے اندر آگئے تھے اور سیٹ میں لگی لوہے کی بنی ٹانگوں کو پکڑ لیاتھا پھر یوں لگا تھا کہ کوئی ان دیکھی چیز کشتی میں سوار ہوگئی تھی جس کے صرف ہاتھ نظر آرہے تھے اوراس کے ان دیکھے جسم سے پانی ٹپک ٹپک کر کشتی میں گررہاتھا پھر آہستہ آہستہ اس کاجسم ریکل کو نظر آنے لگا تھااس نے اپنا چہرہ ریکل کی طرف موڑاتھاوہ کوئی مرد تھااس کے بال اخروٹی رنگ کے اور جبڑا چوکور تھااوراس کی لمبی نیلی زبان اس کے جبڑے سے باہر لٹک رہی تھی اس نے پرل کلر کاسوئٹر پہناہواتھااوراپنا سرزور زور سے ہلارہاتھااس کی زبان سے نکلنے والے خون اور رال کی چھینٹیں ریکل کی جیکٹ پر گر رہی تھیں اور وہ اپنا خوف چھپا کرخود کومطمئن ظاہر کرنے کی کوشش کررہی تھی اس کادل چاہ رہاتھا کہ وہ کسی طرح کشتی سے نکل کر کنارے پرپہنچ جائے پھراچانک پانی میں سے ایک عورت کاسر ابھراتھا برف کے گالے جھیل میں گررہے تھے اس عورت کے سر کے بال سرخی مائل تھے چہرہ خوبصورت تھا لیکن عمر زیادہ تھی اس کی آنکھیں کشادہ تھیں اور وہ پلکیں نہیں جھپک رہی تھی پیک نے محسوس کیا کہ اب ریکل کی توجہ کشتی اور جھیل کے درمیان ہے۔
’’کتنے ہیں ؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’دو۔‘‘ ریکل نے جواب دیا۔ ’’میراخیال ہے یہ حنااور راجرٹیفٹ ہیں۔‘‘
’’ہماری مدد کرو۔‘‘ پانی میں سے عورت نے سرگوشی کی جس کاسرباہر ابھراہواتھا۔
عورت کے سر کے گرد کاپانی سرخ ہورہاتھا جیسے اس کے سر میں نظر نہ آنے والا کوئی زخم ہو جس سے وہ رس رہاہو‘ عورت نے دوبارہ ریکل سے التجا کی اوراس بار ریکل کے سامنے کھڑے مرد نے اپنے سیدھے ہاتھ سے ریکل کے کاندھے کوپکڑ کر اسے کشتی سے باہر پانی میں دھکیلنے کی کوشش کی لیکن پیک کے بازو کی اس کے گرد گرفت نے اسے گرنے سے محفوظ رکھا پھر وہ شخص دوبارہ سیدھا کھڑاہوگیاتھا۔
’’پرسکون رہو… ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ ریکل نے سرگوشی کی وہ مرد اور عورت اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’جس شخص نے تمہیں ماراتھا اس نے ہی تمہارے بیٹے کوبھی مار دیااور شاید تمہاری بیٹی بھی اس کے پاس ہو۔‘‘ ریکل نے آہستہ آہستہ کہااس کی بات پرعورت کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیاتھااور وہ زو رسے چیخی تھی اور کشتی میں موجود مرد نے کشتی کاکنارہ چھوڑ کر پانی میں چھلانگ لگادی تھی لیکن اس کے پانی میں گرنے سے پانی بالکل بھی نہیں اچھلاتھابس کچھ دیر کے لیے کشتی کانپی تھی عورت بھی آہستہ آہستہ پانی میں بیٹھتی جارہی تھی۔
’’حنا‘ رکو۔‘‘ ریکل نے جلدی سے اسے مخاطب کیا’’اب بھی تمہیں انصاف مل سکتاہے۔‘‘ اس نے کہا۔ تووہ ریکل کی طرف دیکھنے لگی۔
’’میں تمہارے قاتلوں کو ڈھونڈوں گی … لیکن تمہیں میری مدد کرنا ہوگی۔‘‘ ریکل نے کہا عورت خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’مجھے دکھائو… وہ واقعہ کہاں ہوا تھا… میں جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ ریکل نے کہااوراس عورت نے پانی میں جاتے جاتے اس سڑک کانام ریکل کو بتایا اور غائب ہوگئی اب اس جگہ پربرف کے ٹکڑے گررہے تھے۔
’’واپس چلو۔‘‘ ریکل نے پیک سے کہا جو حیرت سے اسے دیکھ رہاتھا۔
’’کیا؟‘‘ اس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’میں ان سے کچھ پوچھ رہی تھی۔‘‘
’کیا؟ کوئی نئی بات پتہ چلی ؟‘‘ پیک نے پوچھااسے ریکل کی خداداد صلاحیتوں پریقین تھاوہ بہت سے موقعوں پر اپنی انہی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوئے کئی کیس حل کرچکی تھی۔
جب ریکل اور پیک کنارے پر پہنچے تو بوڑھاان کامنتظرتھا۔
’’تم دونوں کیا ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘اس نے پوچھا۔
’’ان سے پوچھو۔‘‘ پیک نے ریکل کی طرف اشارہ کیا۔
’’بس کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’کیاتمہیں کچھ ملا؟‘‘
’’ہاں شاید… اپنا خیال رکھنا بہت بڑا برف کا طوفان آنے والا ہے۔‘‘ ریکل نے کہا پھر وہ پیک کے ساتھ اس سڑک تک گئی تھی جس کانام اسے عورت نے بتایاتھا۔ سڑک کے دونوں جانب درخت کھڑے تھے ایک جانب درختوں کے ساتھ بڑے بڑے پہاڑ تھے اور دوسری جانب ڈھلان جہاں حفاظتی باڑ لگی ہوئی تھی اور برف سے ڈھکی سڑک دور تک چلی گئی تھی اچانک ریکل نے پیک کی توجہ سڑک کے درمیان کھڑے ہوئے راجر اور حنا کی طرف کرائی۔
’’دیکھو… وہاں… شاید وہی حادثے کامقام ہے۔‘‘ ریکل نے کہااور پیک نے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر سڑک کے کنارے گاڑی روک دی پھروہ ڈیش بورڈ ہیٹر کے سامنے اپنے ہاتھ سینکنے لگاتھا۔
’’میرے ساتھ آرہے ہو؟‘‘ ریکل نے گاڑی سے اترتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ پیک نے اطمینان سے کہا ریکل دروازہ بند کرکے مرد اورعورت کی طرف بڑھ گئی تھی جن کے چہروں پر کوئی تاثر نہیں تھا جوزندہ نظر آرہے تھے لیکن سانس نہیں لے رہے تھے اس کے سیدھے ہاتھ پرحفاظتی ریلنگ تھی اور بائیں ہاتھ پرپہاڑوں کی چڑھائی اور عورت نے اسی طرف اشارہ کیاتھا۔
’’شوٹر۔‘‘ عورت نے انگلی سے پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس حصے کی طرف اس نے اشارہ کیا تھاوہاں بہت سے درخت لگے تھے اور جھاڑیاں بھی تھیں دن کے وقت تک وہاں چھپنے والے کودیکھا جاسکتاتھا لیکن رات میں کوئی بھی وہاں چھپ کر سڑک پرنظررکھ سکتاتھا۔
’’اس شوٹر نے کیا کیاتھا؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’یہاں گاڑی پارک کی۔‘‘ اس نے ریکل کی پشت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہااور راجر کوقتل کیا… مجھے قتل کیا…‘‘عورت نے آہستہ آہستہ کہا۔
’’اور ونااوریوگی کاتعاقب کیا…‘‘ عورت نے ڈھلان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’کیاتم نے قاتل کاچہرہ دیکھاتھا؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’اس کی گاڑی کیسی تھی ؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’بوکس ٹرک۔‘‘ عورت نے کہا اور ریکل نے لکھنے کے لیے اپنی نوٹ بک اور قلم نکالا اسی ایک لمحے میں جب ریکل نے آنکھیں جھپکیں تو اسے وہی منظر نظر آیا جوا س نے سرد خانے میں دیکھا تھا جس میں نمبر ون نے خود کوٹرک کے پیچھے چھپالیا تھا اس نے سوچاشاید حنا بھی اسی ٹرک کاذکرکررہی ہوبہت سے سیریل کلرز کوئی ایسی عادت رکھتے ہیں جو ہر جرم میں نظر آتی ہے چنانچہ اس کی توقع کی جاسکتی تھی۔
’’لائسنس پلیٹ۔‘‘ریکل نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کون ساماڈل تھا؟‘‘ ریکل نے پوچھا اس بار مرد نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن وہ الفاظ صاف ادا نہیں کرسکا۔
’’فورڈ۔‘‘ عورت نے بتایا ریکل نے اتنی ہی معلومات کوغنیمت جانا اور واپس اپنی گاڑی کی طرف مڑگئی۔
’’وہ فورڈ ٹرک تھا۔‘‘ریکل نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’یہ حادثہ 1992ء میں ہوا تھا چنانچہ اس علاقے میں کسی فورڈ ٹرک کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس ریکارڈ میں چیک کرنا چاہیے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ ریکل نے کہااور پیک نے اسی وقت پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرکے ٹرک کے بارے میں تفصیل بتائی اور سرچ کرنے کے لیے کہا پھر واپسی پر وہ ایک ریستوران میں شام کاناشتہ کرنے کے لیے رک گئے تھے اور وہیں ریکل کواسٹیشن سے کال آئی تھی۔
’’ٹرک کاپتہ چل گیا ہے‘ ہارس کیوروڈ پر ایک1990ء کافوڑد ٹرک ملاہے کیا ہم تحقیقات کریں؟‘‘
’’نہیں… تم اس سے فاصلے پر رہو… ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس کامالک کہاں چھپاہوا ہے؟‘‘ ریکل نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ دوسری طرف سے کہاگیا۔
’’ہم آرہے ہیں۔‘‘ ریکل نے اٹھتے ہوئے کہا پھرپیک اور ریکل ریستوران سے نکل گئے تھے۔ ہارس کیو زیادہ دور نہیں تھا وہ جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے اوراس پولیس آفیسر کو واپس بھیج دیا تھا جس نے انہیں اطلاع دی تھی اور وہاں سے خود آگے جانے کا فیصلہ کیاتھا کیونکہ ان کے خیال میں پولیس کار کے مقابلے میں ان کی پرائیویٹ کار زیادہ محفوظ تھی کچھ ہی فاصلے پر انہیں وہ بوکس ٹرک نظر آگیاتھا اور انہوں نے اس کاتعاقب شروع کردیاتھااس کی رفتار بہت تیز تھی اس کی باڈی سفید اور نیلے رنگ کی تھی اور جگہ جگہ زنگ لگی ہوئی تھی اس کے سامنے کاحصہ ایک نارمل فورڈ پک اپ جیساتھا پیک نے تعاقب کرتے ہوئے اس سے خاصا فاصلہ رکھاتھااور ریکل نے اس کالائسنس پلیٹ نمبر اتارلیاتھا‘ ٹرک پرجگہ جگہ مٹی لگی ہوئی تھی اوراس کے ونڈ اسکرین کے وائپرز چل رہے تھے جو اسکرین سے برف صاف کررہے تھے برف کی تہ دبیز ہوتی جارہی تھی اور تیز ہوا سیٹیاں بجاتی چل رہی تھی۔ ٹرک ہچکولے لیتا پہاڑی کی چڑھائی چڑھ رہاتھا۔
’’اس موسم میں اس شخص کو بھی ڈرائیونگ کرنے میں مشکل ہو رہی ہوگی۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’اگر اس کے پاس ونا ابھی تک ہے تو ہمیں پتہ کرناہوگا کہ اس نے اسے کہاں چھپایاہوا ہے ؟‘‘ ریکل نے کہا۔
’’چارہزار فیٹ کی بلندی پراتنے سخت برفانی طوفان میں ڈرائیونگ کرنا آسان نہیں ہے۔‘‘ پیک نے پھر کہا۔میراخیال ہے پینتالیس منٹ میں اندھیرا چھاجائے گااور پہاڑی کی چوٹی بھی قریب آگئی ہے۔‘‘
ایک موڑ پر ٹرک ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیاتھااور ریکل کوخطرے کااحساس ہونے لگاتھا پھرجیسے ہی پیک نے گاڑی کوموڑاتھا وہ کسی چیز سے ٹکرایاتھا وہ ٹرک ہی تھا پھروہ تیزی سے روڈ پردوڑنے لگاتھا۔
’’اس نے ہمیں کب دیکھ لیا؟‘‘ ریکل نے حیرت سے کہا۔
’’میراخیال ہے اسے شروع ہی سے ہماری موجودگی کاعلم تھا۔ ممکن ہے وہ ہمیں خود اپنے پیچھے لگا کرلایا ہو اب تواس کاتعاقب ہی کرنا ہے۔‘‘ پیک نے کہااور ریکل نے اثبات میں سرہلایا روڈ پر برف کی تہہ دبیز ہوگئی تھی اور گاڑی اس پرچلنے کے ساتھ ساتھ پھسل رہی تھی۔
r…r…r
’’سراغرساں ریکل ‘میں ان تمام ڈیوٹی پرموجود یونٹس سے درخواست کررہی ہوں جومجھے سن رہے ہیں۔‘‘ ریکل ڈیش بورڈ ریڈیو سے بات کررہی تھی ۔ ’’ہم ایک مجرم کاتعاقب کررہے ہیں جومسلح ہے اوربہت خطرناک ہے۔‘‘ ریکل نے کہااور تیزی سے چڑھائی چڑھتی ہوئی گاڑی کے ٹائرزورسے چرچرائے ۔
’’سوری ریکل‘ آپ کو اس وقت صرف زمینی یونٹس کی مدد ہی دی جاسکتی ہے کیونکہ اس وقت برفانی طوفان شدید ہے اور ہیلی کاپٹر اس میں پرواز نہیں کرسکتا۔‘‘ دوسری طرف سے کہاگیا۔ریکل کواندازہ تھا کہ اسے یہی جواب ملے گا کیونکہ طوفان بہت شدید تھا۔
’’کچھ اسکائڈ گاڑیاں آپ کی مدد کے لیے آرہی ہیں آپ اپنے ٹارگٹ پرنظر رکھیں۔‘‘ اسے ہدایت ملی۔
’’وہ میری نظروں کے سامنے ہے۔‘‘ ریکل نے جواب دیااور ریڈیو واپس رکھ دیا ٹرک سے ان کافاصلہ آہستہ آہستہ بڑھ رہاتھا کیونکہ اس نے رفتار بڑھادی تھی۔
’’اوہوپیک کیا تم اور زیادہ تیز نہیں چلاسکتے؟‘‘ اس نے پیک کو ٹوکاتواس نے مزید رفتار بڑھادی۔ گاڑی کے ونڈ اسکرین پر برف کی تہ موٹی ہوگئی تھی اور وائیپرز کام نہیں کرپارہے تھے سامنے کامنظر دھندلاگیاتھا اوراب ٹرک کی پچھلی لائٹس کی روشنی ہی میں وہ اس کاتعاقب کررہے تھے۔
’’اوہ خدایا۔‘‘ پیک کے منہ سے اچانک نکلا کیونکہ ٹرک سے ان کافاصلہ تیزی سے کم ہو رہاتھااور ان کے ٹکرانے کاخطرہ تھا ریکل کو اپنے چاروں طرف سے خطرہ اپنی طرف آتامحسوس ہو رہاتھایااسے خطرے کی وارننگ مل رہی تھی۔
ٹرک کے بریک چرچرائے لیکن چالیس ہزار پائونڈ اٹھارہ پہیوں والا ٹرک ان کی چھوٹی سی امپالہ کے قریب سے قریب تک آتا جارہاتھا پیک نے تیزی سے اسٹیئرنگ وہیل گھمایااور امپالہ سیدھے ہاتھ پرپہاڑی کی چڑھائی سے ٹکرائی پھر پیچھے کو لڑھکی اور ٹرک ٹکرمارتا ہوا آگے نکل گیا کار کاپچھلا بمپر ٹوٹ کرگرگیاریکل نے پچھلے آئینے میں دیکھا ٹرک تیزی سے آگے بڑھ کرنظروں سے اوجھل ہوگیاتھا ‘ٹکر بہت شدید تھی پیک کے سر سے خون بہہ رہاتھا شاید اسے شدید چوٹ آئی تھی لیکن اس نے گاڑی سنبھال کر پھر ٹرک کاپیچھا شروع کردیاتھا وہ پہاڑی کی چوٹی پرپہنچ گئے تھے اور انہوں نے خداکاشکرادا کیاتھا کیونکہ یہاں پر روڈ کافی ہموار تھا ٹرک انہیں تیس فٹ کے فاصلے پر نظر آرہاتھا پھراس کی اگلی کھڑکی کاشیشہ کھلاتھا اور ریکل خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ کھڑکی سے لمبی نال والے ریوالور کی نال نظر آرہی تھی اوراس کارخ پیک او رریکل کی طرف تھا۔ ریکل کو اپنے جسم میں سوئیاں سی چبھتی محسوس ہوئیں اور پیک بھی اپنی سیٹ پر ایک سمت کوجھک کربیٹھ گیا۔
’’بوووم‘‘ ایک زور دار آواز کے ساتھ ریوالور سے سفید شعلہ نکلا اور پیک کے سائیڈ کا شیشہ کرچیوں میں بکھر گیا‘ پیک نے اس حملے سے بچنے کے لیے گاڑی کو ایک سمت موڑاتھااورایک بار پھر پہاڑی سے ٹکرایاتھا۔
’’ریکل ہوشیار رہنا… یہ کوئی موقع چھوڑے گا نہیں…‘‘پیک نے تنبیہہ کی اوراسی وقت دوسرا فائر ہوااس بار ان کے ونڈ شیلڈ میں ایک بڑا سوراخ ہوگیاتھا گولی پیک اور ریکل کے درمیان سے نکلتی ہوئی پچھلے شیشے سے باہر نکل گئی تھی پیک اور ریکل نے اپنے سردوسری سمت میں جھکالیے تھے اب سامنے کے شیشے کے سوراخ سے ٹھنڈی یخ ہوا اندر آرہی تھی۔
’’اس شخص کانشانہ ہم دونوں ہیں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’ہاں‘ تمہیں اس کاجواب دینا ہوگا۔‘‘ پیک نے کہااو رریکل نے اپنا پستول نکالااسی وقت ایک اور فائر ہوااور پیک کاسرزور سے ڈیش بورڈ سے ٹکرایاریکل نے خود کوقابو رکھتے ہوئے اگلی کھڑکی کاشیشہ نیچے کیاتھااور اپنا پستول والا ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالاتھا سرد اور تیز ہوا دستانوںاور جیکٹ کے باووجود اس کے جسم میں گھس رہی تھی اس نے تیزی سے کئی فائرکئے تھے لیکن کوئی بھی نشانے پرنہیں لگاتھا۔
’’مجھے اس کاکلیئر نشانہ لیناہوگا۔‘‘ ریکل نے اپنا نچلا ہونٹ کاٹتے ہوئے کہااور اپنی سیٹ بیلٹ کھول دی پھر اس نے اپنا آدھا دھڑ گاڑی سے باہر نکالا تھااس وقت دونوں گاڑیاں ایک پہاڑی موڑ مڑرہی تھیں اورریکل کے کانوں میں تیز ہوا کی سیٹیاں سنائی دے رہی تھیں اوپر سے گرتی ہوئی برف اس کی الٹی آنکھ میں چلی گئی تھی ریکل نے اس طرح ٹرک کے ٹائر کانشانہ لے کرفائر کردیاتھا اور بوکس ٹرک کے پچھلے ٹائر سے ایک بڑا ربڑ کاٹکڑا ٹوٹ کر دور جاگراتھا۔ ٹرک ڈرائیور ٹرک کابیلنس درست رکھنے کے لیے اسے کبھی سیدھے ہاتھ اور کبھی الٹے ہاتھ کی طرف گھمارہاتھا ریکل نے پھر کئی فائر کیے تھے لیکن وہ خطا ہوگئے تھے۔ ٹرک ڈرائیور نے پھرفائر کیاتھا اس بار امپالا کی ایک ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی تھی پیک نے کار کوسنبھالنے کی کوشش کی تھی اور بائیں جانب لگی روڈ کی حفاظتی ریلنگ سے ٹکرایاتھا اور ریکل اس جھٹکے سے کار سے باہر گرتے گرتے بچی تھی اس نے جلدی سے خود کو سنبھالاتھا او راپنی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی برف اس کی ناک‘ منہ اور بھنوئوں پر جم گئی تھی اور وہ سردی سے کانپ رہی تھی اس کاچہرہ سن ہوچکاتھا اس نے غصے سے پیک کی طرف دیکھاتھا اور ڈیش بورڈ ریڈیو اٹھا کرچیخی تھی۔
’’ہمیں فوراً مدد چاہیے۔‘‘
’’طوفان بہت شدید ہے ریکل… اور ہماری ایک کار راستے میں کھائی میں لڑھک گئی ہے‘ ہمارا مشورہ ہے کہ تم دشمن سے تھوڑا فاصلہ رکھو… ہم جلد ہی پہنچ جائیں گے ۔‘‘
’’نہیں… ہم اسے کھونانہیں چاہتے۔‘‘ ریکل نے غصے سے کہااور ریڈیو واپس رکھ دیا وہ لڑھک کر نیچے گراتھا اوراس کے قدموں میں جھولنے لگاتھا اسی وقت ایک موڑ آیا تھا اور ٹرک نے بریک لگائے تھے۔
’’ریکل۔‘‘ پیک نے اسے خبردار کرنے کے لیے آواز لگائی اوراسی وقت امپالاٹرک کی پچھلی سائڈ سے ٹکرائی ‘ریکل نے فوراً اپنے بازو اپنے چہرے کے آگے کرلیے تھے اور وہ ڈیش بورڈ سے ٹکرائی تھی۔ اس کی زبان اس کے دانتوں میں آکر کٹ گئی تھی اور منہ میں خون کاذائقہ محسوس ہو رہاتھا پیک کار کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہاتھااور وہ بار بار روڈ کی ریلنگ سے ٹکرارہی تھی۔
ٹرک ڈرائیور نے ایک بار پھر اپنی کھڑکی سے ریکل کانشانہ لیا لیکن ریکل نے ایک سیکنڈ میں صورت حال بھانپ کر اس پرفائر کردیا ٹرک کاایک پچھلا ٹائر ٹرک سے الگ ہوگیااوروہ ہچکولے لینے لگااسی وقت ٹرک ڈرائیور نے بھی فائر کیا لیکن اس بار اس کانشانہ خطا ہوگیاتھا اب ٹرک روڈ ریلنگ کے ساتھ ٹکراتا چل رہاتھا جس سے تیز شور پیدا ہو رہاتھا پھر وہ ڈھلان میں لڑھکتا چلاگیاتھا ایک تیز دھماکا سنائی دیاتھااور ٹرک نظروں سے اوجھل ہوگیاتھا۔
پیک نے اپنی گاڑی کوبریک لگائے تھے اور گاڑی تقریباً دس قدم آگے جاکر رکی تھی۔ ریکل نے خود کو سنبھالا تھاااور روڈ پرمنہ سے نکلنے والا خون تھوک دیاتھااس کے گال سے بھی خون رس کر اس کے اسکارف پر گررہاتھا اس نے ہتھیلی سے مسل کرگال صاف کردیا‘ پیک نے گہری سانس لی تھی او راپنی سردی سے اکڑی ہوئی انگلیاں بہ مشکل اسٹیئرنگ وہیل سے آزاد کی تھیں اس کے کاندھوں میں بھی درد ہو رہاتھااس نے ریکل کے گھٹنے پراپنا ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی اور پھر گاڑی سے اتر گیاتھا پھراس نے اپنی جیب سے اپنا پستول نکالا تھااور اس سمت بڑھاتھا جہاں سے ٹرک نیچے گراتھا ریکل نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کی تھیں پھراپنے سامنے لٹکتا ہوا ریڈیو مائیک اٹھایاتھااور اپنے ساتھیوں کواپنا محل وقوع سمجھا کراپنی پستول کے ساتھ گاڑی سے باہر آگئی تھی اور پیک کی طرف بڑھی تھی۔
طوفان میں کافی کمی آچکی تھی پیک او رریکل نے ہاتھوں میں پستول سنبھالے نیچے جھانکاتھا باکس ٹرک تقریباً بیس گز نیچے چھوٹے درختوں کے جھنڈ میں اٹکاہواتھا پیک نے بہت احتیاط سے آہستہ آہستہ نیچے اترنا شروع کیاتھاریکل اس کے پیچھے تھی ہر طرف خاموشی تھی صرف ان کے دل کی دھڑکنیں اور ان کے جوتوں کی آواز ہی انہیں سنائی دے رہی تھی یاپھر ٹرک کے دھواں اگلتے انجن کی ہلکی سی آواز تھی۔ جب وہ ٹرک کے سامنے کے حصے کے قریب پہنچے تو ڈرائیور کی سمت کادروازہ کھلا ہواتھا اور ٹرک خالی تھا پیک نے فضا میں دوانگلیوں سے اشارہ کرکے ریکل کو بتایاتھا کہ وہ مزید آگے جاکر صورت حال کاجائزہ لینا چاہتا ہے اور ریکل اس سے کچھ فاصلے پررک گئی تھی تاکہ ان دونوں کے ایک لائن میں ہونے کی وجہ سے دشمن انہیں ایک ہی گولی سے شکار نہ کرلے ان دونوں میں سے کسی نے بلٹ پروف نہیں پہنا ہواتھا ٹرک ڈرائیور کے دروازے کے قریب سے قدموں کے نشان برف میں نیچے تک چلے گئے تھے جس کامطلب تھا کہ ڈرائیور ڈھلان میں کہیں چھپاہواتھا۔
’’میں اس کے پیچھے جارہاہوں۔‘‘ پیک نے کہااور قدموں کے نشانات کے ساتھ ساتھ ڈھلان میں اترتاچلاگیاچند ہی لمحوں میں وہ ریکل کی نظروں سے اوجھل ہوگیاتھا ‘ریکل کومحسوس ہورہاتھا کہ کوئی چیز اسے ٹرک کی طرف کھینچ رہی ہے اس نے احتیاط سے اپنی پستول پراپنی گرفت مضبوط کی اور نپے تلے قدموں سے ٹرک کی طرف بڑھی پھراس نے جھانک کر ٹرک میں دیکھا ٹرک کی چابیاں اگنیشن میں موجود نہیں تھیں جس کامطلب تھا کہ ان چابیوں کے ساتھ کچھ اورچابیاں بھی لگی ہوں گی جیسے گھر کی یا کسی اہم جگہ کی جبھی ڈرائیور چابیاں ساتھ لے گیاتھا پھرریکل نے نوٹ کیا کہ ٹرک کا سامنے کاحصہ پچھلے حصے سے ایک سفید دیوار کے ذریعے الگ کیا گیاتھا پچھلاحصہ جوسامان وغیرہ رکھنے کے کام آتا ہوگا تقریباً 15فٹ لمباتھا۔
’’پیک…‘‘ ریکل نے پیچھے مڑ کرا پنے ساتھی کو آواز دی لیکن اسے کوئی جواب نہیں آیا۔ریکل نے سوچا وہ ابھی اتنی دور تو نہیں گیا ہوگا چنانچہ وہ اس کے تعاقب میں روانہ ہوگئی برف سے پہاڑ اور درخت ڈھکے ہوئے تھے قدموں کے نشانات سے اندازہ ہو رہاتھا کہ وہ شخص بھاگتا ہوا نیچے کی طرف گیاتھا ریکل سوچ رہی تھی کہ وہی اس کامطلوبہ شخص ہوسکتاہے کیونکہ کوئی معصوم شہری کبھی بھی کسی پولیس افسر پر فائرنگ نہیں کرے گا‘ کچھ دور جاکر قدموں کے نشان ایک چھوٹے آبشار کے پاس ختم ہوگئے تھے جہاں سے پانی ایک ندی کی شکل میں بہہ رہاتھا ریکل نے سوچا اس کاحریف بہت اسمارٹ ہے اس نے قدموں کے نشان چھپانے کے لیے پانی میں آگے بڑھنا پسند کیاہوگا اس نے اپنے ایک ہاتھ کادستانہ اتار کر پانی میں انگلیاں ڈالیں وہ بہت سرد تھا۔
’’پیک ؟‘‘ اس نے ایک بار پھر اپنے ساتھی کو پکارا لیکن کوئی جواب نہیں ملااب اس پر خوف طاری ہوتاجارہاتھا اور بار بارپیک کاخیال آرہاتھا‘ وہ اس کی خیریت کی دعائیں مانگ رہی تھی پھراس نے ندی کے ساتھ ساتھ چلنے کافیصلہ کیا‘ کچھ دور جانے کے بعد ریکل کو اپنی پشت پر ایک آہٹ سنائی دی اس نے ہاتھ میں پکڑی پستول کارخ اس سمت کردیااور جھاڑیوں کاجائزہ لینے لگی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا‘ تھوڑی دیر بعد پھراسے آہٹ سنائی دی اس بار کچھ جھاڑیاں ہلی بھی تھیں اس نے بغور ادھر دیکھا چند ہی لمحوں بعد ایک جنگلی ہرن وہاں سے نکل کر اس کے سامنے آکھڑاہواتھا اس نے آنکھیں جھپکیں پھر اپنے کان ہلائے اور آگے بڑھ گیا لیکن ریکل نے پستول پرگرفت ڈھلی نہیں کی تھی اسے خطرے کااحساس ہو رہاتھا اوریوں لگ رہاتھا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہووہ پھر احتیاط سے آگے بڑھی ایک بار پھر پیچھے سے آہٹ سنائی دی اس بارریکل نے گھوم کرپیچھے موجود شے کوپکڑ لیا اورجب اس نے آنکھیں کھولیں تو پیک اس کے سامنے موجود تھا اس کے بال بھیگے ہوئے تھے۔
’’کیاتم چاہتے ہو کہ میں تمہیں شوٹ کردوں؟‘‘ ریکل نے حیرت سے پوچھا۔
’’وہ غائب ہوگیا۔‘‘ پیک نے ریکل کی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
’’میراخیال ہے اس موسم میں اب اس کوتلاش کرناممکن نہیں ہے واپس چلتے ہیں۔‘‘ ریکل نے کہااور پھر اس کے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے وہ دونوں واپس اپنی گاڑی تک آگئے۔
’’میراخیال ہے امدادی ٹیم جلد ہی پہنچنے والی ہوگی۔‘‘ ریکل نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’میراخیال ہے ہمیں ٹرک کے اندر چیک کرنا چاہیے شاید کوئی نشانی مل سکے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’لیکن میرا خیال ہے امدادی ٹیم کاانتظار کرلیاجائے۔‘‘ ریکل نے کہاوہ خاصی تھک گئی تھی لیکن پھر وہ چونکی۔
’’پیک تم ٹھیک کہتے ہو مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے وہاں کچھ ہے۔‘‘ ریکل نے کہاپھر وہ دونوں ٹرک کے پچھلے حصے کی طرف گئے تھے او رپچھلا دروازہ کھول کرریکل اندر داخل ہوگئی تھی اسے یوں محسوس ہواجیسے وہاں کوئی چیز حرکت کررہی تھی پھردوسرے ہی لمحے ایک چھوٹے قد کابچہ اس پر چڑھا ہوا تھااوراپنے لمبے لمبے ناخنوں سے اس کے چہرے پرکھرونچے ماررہاتھا‘ریکل کی گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کردورجاگری تھی او روہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کررہی تھی جبکہ پیک نے پیچھے ہٹ کراس پستہ قد کانشانہ لیاہواتھا لیکن فائرکرنے سے قاصر تھا کیونکہ اسطرح ریکل بھی زخمی ہوسکتی تھی۔
’’پیک…‘‘ ریکل کی چیخ نکل گئی جب اس پستہ قد نے اپنے تیز دانت ریکل کے بازو میں گاڑھ دیئے حالانکہ اس نے جیکٹ پہنی ہوئی تھی پھربھی درد سے کراہ رہی تھی۔
’’میں اسے نشانہ نہیں بنا سکتا وہ چھوٹی بچی ہے۔‘‘ پیک نے چیخ کر کہا۔ ’’بہ مشکل چھ سات سال کی ہوگی۔‘‘ ریکل نے اس کے دونوں منحنی سی کلائیاںپکڑ کر اسے دور دھکیلا اور اٹھ کھڑی ہوئی لڑکی نے ایک ڈنڈی اٹھالی تھی اورریکل کومارنے لگی تھی لڑکی کے بِالوں سے خون بہہ رہاتھااوراس نے ایسا لباس پہناہواتھا جیسے اس کے جسم کے گرد کوئی تکیہ غلاف لپیٹ دیاگیاہو پھر پیک نے اپنی پستول رکھی تھی اور دوڑ کر لڑکی کو ہاتھ پکڑ کر اوپراٹھالیاتھا لیکن وہ چھوٹ کربھاگی تھی تب ہی ریکل نے چھلانگ لگا کراسے پکڑا تھااس کے ہاتھ سے لڑکی کابغیر آستینوں والا لباس پشت سے پھٹ گیاتھا اوراس کی پشت پر9کاعدد کھدا ہواتھا ریکل حیران رہ گئی تھی اور پیک کی طرف مڑی تھی جو ادھر ہی دیکھ رہاتھا۔ لڑکی برف میں اوندھی پڑی تھی اور چیخ رہی تھی اسی وقت پیچھے ٹرک سے کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی تھی اور پیک اپنی پستول سنبھال کر پھر ادھر بڑھاتھااوراسے ٹرک میں دوسائے اور نظرآئے تھے اس نے مڑ کر ریکل کوبتایاتھا اوراسی وقت پولیس کی گاڑیوں کی سائرنوں کی آوازیں سنائی دی تھیں امدادی ٹیم پہنچ گئی تھی۔
r…r…r
اسپتال میں گہری خاموشی تھی کم روشنی والے مدھم بلب کے نیچے سفید چادروں والے تین بستروں پرتین بچے لیٹے ہوئے تھے جنہیں چمڑے کی بیلٹوں سے باندھاگیا تھااورانہیں نیند کی دوائیں دی گئی تھیں‘ انہیں دیکھ کراندازہ ہورہاتھا کہ وہ ہفتوں سے نہائے نہیں تھے ان کے جسم بہت دبلے پتلے تھے ان کی پسلیاں ان کی کھال سے نظر آرہی تھیں اوران کے پیٹ پیالے کی طرح اندر دھنسے ہوئے تھے ان کے دانت نوکیلے تھے ان سب کو کہیں نہ کہیں زخم لگے ہوئے تھے خاص طور سے ان کی پشت پر کسی ریزر کی مدد سے نمبر کھودے گئے تھے۔
ریکل اور پیک کمرے میں موجود تھے ان کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور سردی کی شدت سے چہرے پر کئی جگہ کھال چٹخ گئی تھی ان کے سامنے بائیں جانب والے بیڈ پرنمبر 9 لیٹی ہوئی تھی اس کے سر میں زخم تھا جو ٹرک کوحادثے کے وقت لگاتھا اس کے برابر نمبر4 لیٹی تھی وہ تیرہ سالہ لڑکی تھی اس کے جسم پر بھی جگہ جگہ زخم لگے تھے لیکن وہ ہوش میں تھی۔
’’میراخیال ہے انہیں پکڑنے کے بعد انہیں نمبر لگائے جاتے ہوں گے نمبر ون پہلا ہوگااورباقی اس کے بعد والی اور نمبر9 آخری۔‘‘ پیک نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’یہ توہم سوچ رہے ہیں… اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں… ہمیں ان سے بات کرناہوگی تم سمجھ رہے ہومیرا مطلب کیاہے؟‘‘ ریکل نے کہا۔’’جو کوئی بھی ان بچوں کے ساتھ یہ سب کررہاہے اسے روکنا بہت ضروری ہے لیکن ہمارے پاس حقیقت جاننے کاکوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
’’اس کے لیے ہمیں ان لڑکیوں پرانحصار کرنا ہوگا۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’ڈرائیور نے فائرنگ کرنے میںپہل کی تھی چنانچہ ہمیں مجبوراً اسے نشانہ بناناپڑا۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’میں جانتا ہوں‘ہم نے ان بچیوں کوزخمی تو کیا ہے لیکن ان کی زندگی بھی بچائی ہے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’خود کوقصور وار کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگاان کی حالت دیکھو۔‘‘ ریکل نے لڑکیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ کبھی سوسائٹی میں نارمل زندگی نہیں گزار سکیں گی۔‘‘
’’خدا پر بھروسہ رکھو وہ ان کی مدد کرے گا۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’کچھ چیزیں ہوتی ہیں جنہیں ہم واپس نہیں لاسکتے۔‘‘ ریکل نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘ لیکن ان کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہو یہ فیصلہ کرنے میں تو ہم آزاد ہیں۔‘‘ پیک نے جواب دیااور اسی وقت ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئی اس کے برائون بال کاندھوں تک کٹے ہوئے تھے اس کے چہرے پر کوئی میک اپ نہیں تھا اس کے چہرے پر کرختگی تھی اس کے ہاتھ میں ایک کلپ بورڈ تھااوراس نے سفید کوٹ پہناہواتھا وہ پی ایچ ڈی تھی اور اس کانام ڈاکٹر لوئیس نورڈن تھا۔
’’کیاہم ان سے مل سکتے ہیں؟‘‘ ریکل نے ڈاکٹر سے پوچھا جب وہ لڑکیوں کے کمرے سے باہر آئی ۔
’’ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نورڈن نے کہا۔
’’بہرحال ہمیں کام تو کرنا ہے۔‘‘ ریکل نے کہا تو ڈاکٹر نورڈن نے انہیں اندر جانے کی اجازت دے دی کمرے کی سفید دیواریں بے جان لگ رہی تھیں کمرے میں کسی کیمیکل کی بوبسی ہوئی تھی ۔ ’’ان کی حالت بہت خراب تھی چنانچہ ہم نے ان سب کو غسل دلوایا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا وہ چلتے ہوئے نمبر 9 کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ’’ان سب کی کلائیوں کے گرد بھی زخم کے نشان تھے ان کے بالوں میں جوئیں تھیں جو شاید کافی عرصے سے تھیں کیونکہ ان کے سروں میں زخم پڑے ہوئے تھے۔‘‘ ڈاکٹر آہستہ آہستہ تفصیل بتاتی جارہی تھی۔
’’اسے اٹھائو۔‘‘ ریکل نے نمبر 9 کی طرف اشارہ کیا۔
’’میں ایک بار پھر آپ کو تنبیہہ کرتی ہوں یہ بچے بہت ڈرے ہوئے ہیں‘‘ ڈاکٹر نورڈن نے کہااور نمبر 9 کا کاندھاہلایا اس نے آنکھیںکھول دی تھیں۔
’’کیاتمہیں میری آواز آرہی ہے؟‘‘ ریکل نے پوچھا تونمبر9 اس کی طرف خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی پھراس کی نظر پیک پرپڑی تھی اوراس نے زور زور سے چیخنا شروع کردیاتھا ساتھ ساتھ وہ اپنے ہاتھ بھی چمڑے کی پٹی سے آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی اور پیک جہاں تھاوہیں رک گیاتھا۔
’’یہ مردوں کوپسند نہیں کرتیں‘ خوفزدہ ہوجاتی ہیںجبکہ بڑی عمر کی عورتوں سے نہیں گھبراتیں شاید ماضی میں ان کا واسطہ ان سے ہی پڑاہو۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’کیاانہیں باندھ کررکھنا ضروری ہے؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’ہاں کیونکہ نمبر 9 نے دوبار میری اسسٹنٹ کی آنکھیں نوچنے کی کوشش کی تھی تب ہی ہم نے اسے باندھاہے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہانمبر9 کی چیخوں سے نمبر4بھی جاگ گئی تھی اوراس نے بھی چیخنا شروع کردیاتھا۔
’’ان سب کو ایک کمرے میں رکھنے کاآئیڈیا بہت اچھا ہے۔‘‘ پیک نے طنزیہ انداز میںکہا۔
’’انہیں الگ بھی رکھاتھا لیکن لڑکیاں بہت چیخ رہی تھیں میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ بیرونی دنیا سے یہ ان کاپہلا سامنا ہے کافی عرصے بعد۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔ ’’یہ ابتک ایکد وسرے ہی کو دیکھتی رہی ہیں انہیں ساتھ رکھنا ہی بہتر ہے اورمیں یہ بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ بغیرپڑھی لکھی اور زبان کے بغیر ہونے کی وجہ سے یہ آپس میں کیسے بات کرتی ہیں۔‘‘ڈاکٹر نے کہاتواس کی بات پرریکل کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ظالم مجرم نے ان سب کی زبانیں کاٹ دی ہیں وہ آہستہ آہستہ نمبر9 کی طرف بڑھی تواس نے زیادہ شدت سے چیخنا شروع کردیاوہ بار بار دانت پیس رہی تھی اور چیخ رہی تھی۔
’’میں تمہیں تکلیف نہیں دوں گی۔‘‘ ریکل نے بیڈ کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’فادرجاچکے ہیں۔‘‘
فادر کانام لیتے ہی لڑکی کے چہرے پر خوف نظر آنے لگاتھااوراس نے چیخنابند کردیاوہ بغور ریکل کو دیکھنے لگی تھی۔
’’یہاںفادر نہیں ہیں تم اب محفوظ ہو۔‘‘ ریکل نے اسے یقین دلایا تو لڑکی نے پیک کی طرف خوف سے دیکھا۔
’’پیک ‘تم پیچھے رہو۔‘‘ ریکل نے کہاتو پیک نے اثبات میں سرہلایا اورپیچھے ہٹ گیاتھا لیکن کمرے ہی میں تھاوہ ایسی جگہ کھڑاہوگیاتھا جہاں سے لڑکیوں کونظر نہیں آرہاتھا۔
’’میرانام ریکل ہے۔‘‘ وہ لڑکی سے مخاطب ہوئی۔ ’’میںنے ہی تمہیں آزادی دلائی ہے میں پولیس کے محکمے میں کام کرتی ہوں کیا تم جانتی ہوپولیس کون ہوتی ہے ؟‘‘ اس کی بات پر لڑکی نے سرہلایا۔
’’کیاتم کوئی تصویر بناسکتی ہو؟‘‘ ریکل نے پوچھا تو لڑکی نے اثبات میں سرہلایا جس پرریکل نے ایک پینسل اور اپنی نوٹ بک اس کی طرف بڑھائی۔
’’اس کے ہاتھ کھول دو۔‘‘ ریکل نے ڈاکٹر سے کہا۔
’’میں آپ کو اجازت نہیں دوں گی کہ آپ یہ نوکیلی پینسل اس بچی کودیں۔‘‘ ڈاکٹر نے کہااور پیک اسی وقت کمرے سے باہر چلاگیا۔
’’ڈاکٹر آپ معاملے کی نزاکت نہیں سمجھ رہی ہیں بہت ممکن ہے اس ظالم کے پاس اوربھی بچے ہوں ‘ہرلمحہ جو گزررہاہے وہ بچے اس قصائی کے ساتھ گزارنے پرمجبور ہیں ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’میں آپ کی حفاظت کے خیال سے آپ کو آگاہ کررہی ہوں اس بچی کو کوئی تیز چیز دینا خودبھی خطرے میں ڈالنے کے برابر ہے اور اس کے لیے بھی ۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا اوراسی وقت پیک کمرے میں واپس آیا۔
’’یہ مجھے لابی میں پڑی ملی ہے۔‘‘ پیک نے ایک کریائو پینسل ریکل کی طرف بڑھائی۔’’میراخیال ہے یہ اس سے کسی کونقصان نہیں پہنچاسکتی۔‘‘ پیک پینسل دے کر پھرواپس اپنی جگہ پرچلاگیاتھا۔
’’اب میری مدد کرو۔‘‘ ریکل نے ڈاکٹر سے کہا تواس نے بچی کے ہاتھ کھول دیئے اور ریکل نے نوٹ بک اور کلر پینسل اسے دے دی۔
’’فادر کیسا دکھتاہے تم ڈراکرسکتی ہو؟‘‘ ریکل نے کہااور لڑکی نے ایک صفحے پر تصویر بنانا شروع کردی۔ اس نے ایک دبلی سی فیگر بنائی تھی اور سر کی جگہ بڑا سا دائرہ اس کی آنکھیں غصے والی بنائی تھیں۔
’’بہت اچھے۔‘‘ ریکل نے کہا۔ ’’اچھااب اپنا گھر بنائو۔‘‘ ریکل نے کہاتو لڑکی نے ایک گھربنایا جس کی دو چھتیں تھیں لیکن اس تصویر سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔
’’تم ابھی کہاں رکی ہوئی ہو؟‘‘ ریکل نے پوچھا لیکن لڑکی اس کی بات نہیں سمجھی۔
’’یہ بتائو تم لوگ کھیلتے کیسے تھے ؟‘‘
اس بات پروہ لڑکی مسکرائی تھی اس کے پیلے پیلے دانت نظرآنے لگے تھے اس نے جو گھر بنایا تھااس کے پیچھے ایک احاطہ بنایاتھا اورایک قطار میں لکڑیاں لگی تھیں جو درختوں کے علاقے میں گھوم رہی تھی ریکل چند لمحے اسے دیکھتی رہی اور جب اس کی سمجھ میں اس تصویر کا مطلب آیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جولائنیں تھیں وہ دراصل زنجیریں تھیں‘ریکل نے وہ صفحہ پھاڑ لیا اورپیک کو دے دیا‘ جو ابھی تک ایک کونے میں کھڑا تھا ‘ لڑکی اب بھی ڈرائنگ بنارہی تھی ایک تصویر میں فادر اسے مکے مار رہاتھا‘ ایک تصویر میں وہ اسے ایک پیالے میں کھانا کھانے پرمجبور کررہاتھا اورایسی ہی بہت سی تکلیف دہ مناظر وہ بنارہی تھی اور پیک ان تصویروں کی تاب نہ لاتے ہوئے کمرے سے نکل گیاتھا۔
’’تم بہت بہادر ہو۔‘‘ ریکل نے لڑکی کی تعریف کی اور ڈاکٹر نورڈن کواپنا کام ختم ہونے کااشارہ دیا۔پھر وہ بھی پیک کے پیچھے کمرے سے نکل گئی تھی۔
پیک اسپتال کے باہر اس کامنتظر تھااور اداس نظر آرہاتھا۔
’’ا ن لڑکیوں کودیکھ کرمجھے اپنی بیٹی کلوو کاخیال آگیا۔‘‘ پیک نے اداسی سے کہا۔
’’میں تو تصور ہی نہیں کرسکتی کیونکہ میری تو کوئی اولاد ہی نہیں ہے لیکن اگر ہم اجنبیوں کے لیے اتنا دکھ محسوس کرسکتے ہیں تو جن کے یہ بچے ہیں ان کوکتنا دکھ ہوتا ہوگا۔‘‘ ریکل نے کہااسے یاد نہیں تھا کہ وہ آخری بار کب روئی تھی لیکن آج اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ کوئی بچوں پر بھی اتنا غیر انسانی ظلم کرسکتاہے۔
دوسرے روز ریکل پھراسپتال پہنچ گئی تھی اس بار اس نے نمبر4سے بات کی تھی جس کی عمر تیرہ سال کے قریب تھی اس کی جلد پیلے رنگ کی تھی وہ مسلسل دیوار کوگھو ررہی تھی ریکل ایک کرسی لے کراس کے سامنے بیٹھ گئی تھی لیکن وہ ریکل کونظرانداز کررہی تھی پھراچانک ریکل کواحساس ہوا کہ یوگی اس کے پاس کھڑا ہے وہ پھٹے پرانے کپڑوں میں تھااور لڑکی کو دیکھ رہاتھا۔
’’میں نمبر ون کو جانتی ہوں۔‘‘ ریکل نے لڑکی سے کہا تووہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’جب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی تو تم وہاں تھیں؟‘‘ ریکل نے پوچھا لیکن نمبر4 نے جواب نہیں دیا۔
’’میں جانتی ہوں تم تمام قیدی آپس میں بہن بھائیوں جیسا برتائو کرتے تھے اگر تم فادر سے دوسروں کوبچانا چاہتی ہو تو ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرناہوگی۔‘‘
نمبر4 نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا لیکن پھر بند کرلیا۔ شاید اسے اپنی کٹی زبان کاخیال آگیا تھا پھراس نے لکھنے کااشارہ کرکے کاغذ اور پینسل مانگی تھی ریکل نے ادھر ادھر دیکھا ڈاکٹر نورڈن وہاں موجود نہیں تھی چنانچہ اس نے کریان پینسل اور نوٹ بک اسے دے دی تھی۔
’’میں تمہارے ہاتھ کھول کرخطرہ مول لے رہی ہوں کوئی غلط حرکت مت کرنا۔‘‘ ریکل نے کا۔
’’اس نے تمہیں کیسے پکڑاتھا؟‘‘ ریکل نے پوچھا اورنمبر4 نے ایک اسکول کی عمارت بنائی وائٹ ٹرک بنایااور ایک اسٹک جیسی تصویر بنائی جس کے منہ پر فادر نے رومال رکھاہواتھا۔
’’تم کتنی چھوٹی تھیں؟‘‘ ریکل نے پوچھا تو اس نے لاعلمی کااظہار کرنے کے لیے کاندھے اچکادیئے پھر وہ دوسری تصویر بنانے لگی تھی اس میں کئی لڑکے اور لڑکیاں تھے ان کے بالوں کی الگ الگ لمبائی تھی اوران کی بھی لیکن سب کے چہروں پر خوف تھا قریب کھڑے یوگی نے سب سے لمبے لڑکے کی طرف اشارہ کیا او رپھر اپنی طرف اشارہ کیا پھراس نے سب سے لمبی لڑکی کی طرف اشارہ کیااور دوانگلیوں کااشارہ کیا پھر تیسری فیگر کی طرف اشارہ کرکے تین انگلیوں کااشارہ کیا اس طرح اس نے تصویر میں موجود تمام فیگرز کے نمبر ریکل کو بتائے جو تعداد میں گیارہ تھے۔
r…r…r
ہائی لینڈ پولیس ڈپارٹمنٹ میں پشت پرنمبر لکھے ہوئے بچوں کی فرضی تصاویر دیوار پر لگی تھیں جن میں سے نمبر4.7.9 اسپتال میں تھے ریکل اکیلی کمرے میں بیٹھی انہیں دیکھ رہی تھی ان میں تین لڑکے اورباقی لڑکیاں تھیں نمبر ون مرچکاتھا ابھی سات اور تھے جنہیں ریکل کو بچانا تھا۔
ریکل نے اپنا ڈیجیٹل ورک ان بوکس چیک کیا ان باکس میں وائٹ ٹرک کے لائسنس نمبر کارزلٹ آگیا تھا وہ کسی بیکٹر کوئن نامی شخص کی ملکیت تھاوہ ایک سیلزمین تھااس کاتعلق اوہیوسے تھااوروہ 1989ء میں اپنے ٹرک کے ساتھ غائب ہوگیاتھا وہ غیر شادی شدہ تھااور اس کی کوئی فیملی نہیں تھی چنانچہ کسی نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی فادر کوڈھونڈنے کے لیے کوئی نشانی ان کے ہاتھ نہیں لگی تھی اس کے ٹرک سے صرف تین بچے ۹‘۷‘۴ ملے تھے جنہیں وہ کہیں لے جارہاتھا اس کامطلب تھا کہ اس کے دوٹھکانے تھے پیک اپنے طو رپر پتہ لگانے کی کوشش کررہاتھا لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا تھا۔ ریکل اپنی سیٹ سے اٹھ کر پیک کی میز پر گئی وہ کمپیوٹر پر کچھ سرچ کررہاتھاوہ اس کے قریب کرسی پربیٹھ گی۔قریب رکھے ٹی وی پرشام کی خبروں میں ان بچوں کے بارے میں خبر نشر ہو رہی تھی جنہیں ریکل اور پیک نے وائٹ ٹرک سے باز یاب کرایاتھا۔
’’پیک دیکھو ان بچوں کی تصویریں بھی دکھارہے ہیں۔‘‘ ریکل نے پیک کی توجہ خبر کی طرف مبذول کرائی۔
’’ہاں… دیکھو یہ نمبر4کی خبر ہے اس کی پشت پرلکھا نمبر4 بالکل ایسا لگ رہا ہے جیسے فٹ بال کی ٹیم کی جرسی پرنمبر پڑے ہوتے ہیں…‘‘ پیک نے کہااور ریکل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’اوہ‘ یہ تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا… پیک…‘‘ اس نے حیرت سے کہا۔
’’کیا؟‘‘
’’یہی کہ ان بچوں کی پشت پرنمبر ایسے کندہ کیے گئے ہیں کہ ایک نظر میں کسی فٹ بال ٹیم کی جرسی کاشبہ ہوتا ہے… کہیں ہمارے مجرم کاتعلق کبھی کسی فٹ بال ٹیم سے تو نہیں رہا؟‘‘
’’ہو بھی سکتاہے؟‘‘ پیک نے کہا۔
’’دیکھو‘ بچوں کی تعداد بھی گیارہ ہے ٹیم کی طرح‘ ان پرنمبر کندہ ہیں اورہم ایک گھر میں بہت سی فٹ بال کی گیندیں دیکھ چکے ہیں جوہمارے خیال میں اس کی ملکیت ہوسکتا ہے تم کیاسمجھتے ہو ہمارا سامنا کس قسم کے شخص سے ہے؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’تمہیں پتہ ہے میں مبہم سوالوں کے جواب نہیں دیتا۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’توپھر ریسرچ کرو… ایسے فٹ بال کے کھلاڑیوں کے لیے جو کبھی ٹیم میں رہے ہوں یا تو کھلاڑی یا کوچ اوران کی بے عزتی کرکے نکالا گیا ہو یاوہ کسی کے ظلم کا شکار ہوئے ہوں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’لیکن یہ بڑا مشکل ہوگا۔‘‘
’’مگرناممکن نہیں۔‘‘ ریکل نے کہااور پیک سرچ میں مشغول ہوگیا۔
’’ہائی لینڈ کے علاقے میں کوئی فٹ بال ٹیم نہ ہے اور نہ کبھی تھی۔‘‘ پیک نے بتایا۔
’’توپھرایک طریقہ اور بھی ہوسکتا ہے ہمیں معلوم ہے کہ یوگی اس کا پہلا شکار تھا کوئی تووجہ ہوگی کہ اس کے بعد اس نے بچے اغوا کرناشروع کردیئے تھے ہمیں وہ وجہ ڈھونڈناہوگی تب ہی ہم مجرم تک پہنچ سکیں گے۔‘‘
’’مجھے تووہ کوئی مخبوط الحواس شخص لگتا ہے جس کے کسی کام کی کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اذیت پسند ہے۔‘‘ پیک نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’شاید۔‘‘ ریکل نے کہااور اسے اپنی پشت پر یوگی کی موجودگی محسوس ہوئی وہ اس کے پسینے کی بو پہچان جاتی تھی۔
’’کیاوہ ایک کوچ تھا؟‘‘ریکل نے سرگوشی میں پوچھا جس پریوگی نے اس کاکاندھا پکڑ کراسے کھینچا اس کے لمبے ناخن ریکل کی گردن میں چبھے لیکن وہ جانتی تھی کہ اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ پیک بغور اس کی طرف دیکھ رہاتھا پھراس کی نظریں اس جگہ مرکوز ہوگئیں جہاں ریکل کی توجہ تھی۔
’’کوئی وزیٹر؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’1992ء سے یہاں کے اسکولوں کی ٹیموں کے کوچز میں ڈھونڈو۔‘‘ ریکل نے پیک سے کہااور پیک نے تیزی سے ٹائپ کرنا شروع کردیا۔
’’کوئی نمایاں واقعہ نہیں مل رہا ہے۔‘‘ پیک نے پرانے آرٹیکلرز دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ٹرک کامالک ایک سیلزمین تھا اس کاتعلق اوہیو سے تھا وہاں چیک کرو۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’وہ مختلف علاقوں میں سفر کرتاتھا تو کسی بھی علاقے میں حادثہ ہوسکتا ہے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’کچھ بھی سہی تم سرچ کرو۔‘‘ ریکل نے کہااور پیک پھراپنے کام میں مشغول ہوگیا۔
’’یہ دیکھو۔‘‘ پیک نے اس کی توجہ ایک آرٹیکل کی طرف مبذول کرائی۔ ’’ایک متمول شخص کی طرف سے ذاتی عناد کی وجہ سے ایک کوچ کوملازمت سے نکال دیاگیا۔‘‘ اس آرٹیکل پرنظر ڈال کر ریکل نے یوگی کی طرف دیکھا لیکن اس نے کسی ردعمل کامظاہرہ نہیں کیا۔
’’اچھا… یہ دیکھو… ا س کے بارے میں کیا خیال ہے ؟‘‘ پیک نے کوچ کی ایک تصویر دکھائی لیکن اس بار بھی یوگی بے حس وحرکت کھڑارہا۔
’’ہم کس بات کاانتظار کررہے ہیں؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’اپنے دوست کے ردعمل کا۔‘‘ ریکل نے جواب دیا۔
’’آہ…‘‘ پیک نے مایوسی سے کہااور پھر سرچ کرنے میں مصروف ہوگیا یوگی تب تک وہا ں کھڑا رہا تھا جب تک پیک نے کرک ہین کی تصویر نہیں نکال لی تھی اسے دیکھتے ہی یوگی نے طرح طرح کی آوازیں نکالناشروع کردی تھیں اور وہ بے چین نظر آرہاتھااورریکل نے پیک کوسرچ روکنے کااشارہ کیاتھا۔
’’ہمارا مطلوبہ شخص یہی ہے۔‘‘ ریکل نے انگلی سے کمپیوٹر اسکرین کو چھوااور پیک نے وہ آرٹیکل پڑھنا شروع کردیا۔
’’1988میں حادثہ ہواتھا33سالہ کرک ہین اوہیو کے اسکول ہائی ہل میں کوچ تھا وہ ایک بس میں اسٹوڈنٹس کو لے کرجارہاتھا کہ اسے حادثہ پیش آگیااس میں فٹ بال ٹیم کے گیارہ کھلاڑی تھے جنہیں ان کی جیت کے سلسلے میں انعامات دیئے جانے تھے وہ سب اس حادثے میں مرگئے تھے او ریہ سب کرک کی وجہ سے ہواتھا کرک کوبھی سرمیں شدید چوٹیں آئی تھیں او راس کادماغ متاثر ہواتھا۔‘‘ پیک نے پہلا آرٹیکل پڑھتے ہوئے بتایا پھراس نے دوسرا آرٹیکل پڑھنا شروع کیا۔
’’کرک نے کوچ کی حیثیت سے اپنا استعفیٰ دے دیااسکول نے اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی اورحادثے کواتفاقیہ قرار دیا اس کے بعد سے کرک کے بارے میں کوئی خبر بھی سننے میں نہیں آئی۔‘‘ پیک نے کہا اور ایک تصویر ریکل کو دکھائی جو بیس سال پرانی تھی جس میں کرک33سال کاتھااس کے بال چھوٹے اور برائون کلرکے تھے اس کانیچے کاجبڑا چوڑا آنکھیں چھوٹی اور جسم دبلا پتلاتھا اس کاچہرہ نارمل ساتھا لیکن یوگی اسے دیکھ کر چیخنے لگاجیسے وہ کوئی شیطان ہو‘ پھرپیک نے ڈیٹا بیس سے کرک کے بارے میں معلومات جمع کیں اس نے کچھ ٹریفک کی خلاف ورزیاں کی تھیں لیکن کوئی بڑا جرم نہیں کیا تھا‘ ایک پکچر میں اس کاڈرائیونگ لائسنس بھی تھا جوکافی بعد کاتھااوراس کی تصویر میں اس کی عمر زیادہ لگ رہی تھی۔لائسنس پر جوپتہ لکھاہواتھا وہ سلویانامی جگہ کاتھا جو ہائی لینڈ سے تھوڑے ہی فاصلے پرواقع تھی پیک اور ریکل نے فوراً ہی وہاں جانے کا فیصلہ کیااور کچھ ہی دیر بعد وہ ایک گھر کے سامنے جاپہنچے جو ایک منزلہ ہی تھا بہت چھوٹااور لکڑی کابناہواتھااوراس کے باہر ایک زنگ آلود کار کھڑی ہوئی تھی اس علاقے میں اس جیسے اور بھی کئی گھر تھے جن میںمتوسط طبقے کے لوگ رہتے تھے پیک اپنی پستول سنبھالتے ہوئے گھر کادروازہ کھول کراندرداخل ہوگیاتھاریکل اس کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہوئی تھی لیکن چند ہی لمحوں بعد وہاں ایک مقامی سیکیورٹی آفیسر آگیاتھا۔
’’کیا تمہارے پاس گھر کی تلاشی کاوارنٹ ہے تم اس طرح کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے میں کورٹ میں تمہارے خلاف درخواست دائر کروں گا۔‘‘ آفیسر نے غصے سے کہا۔
’’اور کیا تم جانتے ہو کہ اگریہ ہمارا مطلوبہ شخص ہوا تو تمہاری ترقی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ پیک نے اس سے کہا جس پروہ آفیسر بڑبڑاتا ہوا ایک طرف ہٹ گیا گھر کو کسی حد تک سجایاگیاتھا لیکن ہر طرف مٹی بکھری ہوئی تھی اور آتشدان پر پرانی فٹبال کی ٹرافیاں سجی ہوئی تھیں اور ہائی ہل اسکول کے مرنے والے فٹ بال کے کھلاڑیوں کی تصاویر دیواروں پرلگی ہوئی تھیں یہاں موجود مٹی کی ایک تہہ کو دیکھ کر کہا جاسکتاتھا کہ کئی ہفتوں سے یہاں کوئی نہیں آیا ہے فرج خالی تھافریزر میں کچھ کچے برگراور پیٹیز موجود تھے او رایک الماری میں کچھ فٹ بال کی اور دوسرے کھیلوں کی کتابیں موجود تھیں اوراسی الماری کے پیچھے پیک کو ایک بکس میں کچھ اہم دستاویزات ملی تھیں اس میں سوشل سیکیورٹی نمبر‘ پیدائشی سرٹیفکیٹ‘ کاروباری کانٹریکٹ (جو لوکل ٹرک کمپنی) کاتھااور ایک گھر کے پراپرٹی کے کاغذات۔
’’دیکھا… میں نے تمہیں بتایاتھا ناکہ یہ گھر اس نے نمبر ون کوپکڑنے سے بھی پہلے لیاتھا۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’میں تمہاری روحوں پریقین نہ کرنے کے لیے معذرت چاہتاہوں۔‘‘ پیک نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ تمام اہم کاغذات ریکل نے اپنے باس کونل کودیئے تھے اور خود ٹرک کمپنی کے مالک سے فون پررابطہ کیاتھا جس کے لیے کرک کام کرتاتھا۔
’’ہم پورے ملک میں جگہ جگہ اپنے ٹرک بھیجتے ہیں‘ کرک بھی ہمارے ڈرائیوروں میں سے ایک تھا۔‘‘
’’آپ کے استعمال میں 18وہیلرز ہیں؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’جی ہاں‘ ہم زیادہ تر بڑے گروسری اسٹورز کا سامان ڈیلیور کرتے ہیں۔‘‘
’’کرک کہاں ہے ؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’وہ ابھی چھٹیوں پر ہے کئی سالوں سے وہ اپنی سالانہ چھٹیاں جمع کرتا ہے اورسردیوں میں دو ہفتے کی چھٹی پرجاتاہے میں یقین نہیں کرسکتا کہ جن بچوں کی خبر نشر ہورہی ہے وہ ان کے کیس میں ملوث ہے۔‘‘
’’ہم اکثر موقعوں پر دھوکا کھاتے ہیں‘ کیاتم اس کے بارے میں کچھ اور بتاسکتے ہو؟‘‘
’’وہ اپنی ذات میں مگن رہتا ہے‘ فٹ بال سے محبت کرتا ہے‘ شکار کرتاہے اور ہر ہفتے جنگل میں جاتاہے وہ ایک اچھاانسان ہے۔‘‘
’’اگراس کی کوئی او رپراپرٹیز ہیں تو کیا تمہارے علم میں ہیں؟‘‘
’’میںکچھ نہیں کہہ سکتا وہ میرے زیادہ اجرت لینے والے ملازموں میں شامل ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ اپنی رقم کہاں خرچ کرتا ہے ہم تقریباً بیس سال سے ایک ساتھ کام کرتے ہیں وہ ہمارے لیے ایک بند کتاب ہے۔‘‘
’’اچھااگر کوئی خاص بات معلوم ہو تو مجھے یاپیک کوفون کرنا۔‘‘ ریکل نے کہا۔
r…r…r
میک کونل نے بچوں کے اغوا اور قتل کی خبر جب سے میڈیا کودی تھی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی لوگوں سے اپیل کی جارہی تھی کہ وہ اگر کوئی مشکوک شخص دیکھیں تو پولیس کواطلاع دیں کرک کاحلیہ بھی بیان کردیاگیاتھا کئی لوگوں کے فون آچکے تھے جو اپنے اپنے طور پرمعلومات دینے کی کوشش کررہے تھے لیکن کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوسکی تھی پھراچانک ایک فوٹو نکال آئی اور ہائی لینڈ کے علاقے میں ایک مشتبہ گھر کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد ریکل اور پیک اپنی ٹیم کے ساتھ اس مکان کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ ریکل نے اپنی وردی کے ساتھ ساتھ حفاظتی طور پر بلٹ پروف اورہیلمٹ بھی لے لیاتھا جس پرفیس گارڈ لگاہواتھا گاڑیاں مطلوبہ مکان سے خاصے فاصلے پرروک دی گئی تھیں یہ جنگل کے درمیان بناہوا تین منزلہ مکان تھاجس کاگرائونڈ مضبوط اینٹوں کالیکن بالائی دونوں منزلیں مضبوط لکڑی کی بنی ہوئی تھیں قریب ہی ایک پن چکی بھی لگی ہوئی تھی جس کے چلنے کی چرچراہٹ دو رتک سنائی دے رہی تھی اسے دیکھ کراندازہ ہورہاتھا کہ وہ کم از کم ایک صدی پرانی تو رہی ہوگی۔
پولیس آفیسر زایک ایک کرکے گاڑیوں سے اترے تھے رات کی تاریکی اور سردی بڑھ رہی تھی وہ خاموشی سے ریکل اور پیک کی ہدایت پرمختلف سمتوں میں بکھر گئے تھے سب کے ہاتھوں میں گنیں تھیں‘ ریکل نے گاڑی سے اترتے ہی خود کو زمین پر گرادیاتھااور رینگتے ہوئے ایک درخت کے پیچھے پناہ لی تھی‘ اس کے اوپر مکان کی تیسری منزل کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور ریکل کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ وہاں خطرہ تھا پھرریکل نے اطراف کاجائزہ لینے کے بعد مکان کی طرف پیش قدمی کی تھی اوراسی وقت اوپر سے ایک فائر ہواتھا ریکل کے ساتھ چلنے والا آفیسرزمین پرلیٹ گیاتھا۔
r…r…r
’’آفیسر…ڈائون… آفیسر ڈائون‘‘ پیچھے سے کوئی چیخاتھا اسی وقت اوپر سے دوسرا فائر ہواتھا جس کے بعد کئی آفیسرز نے مکان کی تیسری منزل کی طرف فائر کیے تھے اوپر سے پھرفائر کیے گئے تھے اندازہ ہو رہاتھا کہ فائر کرنے والا پولیس افسران کومکان سے دور رکھنا چاہتا ہے ریکل نہیں جانتی تھی کہ شوٹراس پرفائر کررہاہے یانہیں لیکن وہ کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی اسی وقت اس کے پیچھے موجود پیک نے اپنی رائفل سے لیزر پوائنٹر سے روشنی اوپر کھڑکی پرڈالی تھی اور فائر کردیاتھا شاید گولی شوٹر کو لگی تھی کیونکہ وہ پیچھے کوگراتھا لیکن چند لمحوں بعد ہی اس ے دوبارہ فائر کیاتھا اس بار گولی پیک کے سر کے قریب سے گزر گئی تھی۔
’’ہمیںپیش قدمی کرناہوگی۔‘‘ ریکل نے کہا وہ گھر کے دروازے سے زیادہ قریب تھی اس نے موقع دیکھ کرتیزی سے دروازے کی طرف دوڑ لگادی وہ شوٹر کوموقع نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ مزید فائر کرے اس کاایک پولیس آفیسرزخمی ہوچکاتھا وہ جانتی تھی کہ اوپر موجود شوٹر بھی اسے نشانہ بنانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا پھرریکل نے اندھادھند کھڑکی کی طرف فائر کیے اور دوڑتی ہوئی دروازے تک پہنچ گئی اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ لاک تھا۔
اس نے کئی فائر لاک پر کیے دروازہ کھل گیا اس دوران شوٹر نے کوئی فائر نہیں کیا تھا ریکل کواندازہ تھا کہ شوٹر جانتا ہے کہ وہ گھر میں داخل ہو رہی ہے لیکن اس طرح دوسرے آفیسر زکوبھی موقع مل گیاتھا کہ وہ بھی آگے بڑھیں اس کے ساتھ تین آفیسرز مکان میں داخل ہوئے تھے جن میں پیک بھی شامل تھااندر بالکل اندھیرا تھاوہ اپنی رائفلز کی روشنی میں آگے بڑھ رہے تھے ایک زینہ اوپر کی جانب جارہاتھا نیچے ہال میں کچھ بوریاں رکھی تھیں جن میں گندم اور مکئی بھری ہوئی تھی کچھ خالی پڑی تھیں وہ زینے سے اوپر چڑھنے لگے تھے کچھ آفیسرز نیچے ہی تھے اور کمروں کی تلاشی لے رہے تھے۔
اوپری منزل کا فرش لکڑی کاتھا‘ریکل اپنی رائفل کی روشنی کمرے میں ڈال رہی تھی ایک پلاسٹک کی میز پر اسے پلیٹ میں ڈبل روٹی اور گوشت رکھانظر آیا جیسے کوئی اسے کھارہاتھااس نے رائفل کی روشنی چاروں طرف ڈالی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
’’بووم…بوووم…‘‘ اچانک اوپر لکڑی کی چھت سے کسی نے نیچے دو فائر کیے لکڑی کے کچھ تختے ٹوٹ کرنیچے گرے جواب میں ایک پولیس آفیسر نے بھی اوپر لکڑی کی چھت پر فائر کیے ایک تختہ ریکل کے ہیلمٹ کوچھوتا ہوا نیچے گراتھا۔
’’تم سامنے آجائو ہم تمہیں آخری موقع دے رہے ہیں کرک۔‘‘ پیک نے چیخ کرکہالیکن کوئی جواب نہیں آیا اس کے ساتھ ہی ریکل نے پیک کواشارہ کیا اور وہ دونوں ایک ساتھ تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچ گئے جیسے ہی وہ دروازہ کھول کر ہال میں داخل ہوئے تھے ریکل کی نظریں فرش پر پڑی ہوئی رائفل پر گئی تھیں اور سامنے ایک سایہ کھڑاتھا جس کے ہاتھ میں پستول تھی‘ اس نے ریکل کی سمت فائر کیاتھا اور وہ تیزی سے ایک صوفے کے پیچھے ہوگئی تھی اس کے ساتھ ہی پیک نے اس سائے پرفائر کیاتھا اورسایہ نیچے گر گیاتھا ریکل تیزی سے آگے بڑھی تھی اور رائفل کی روشنی اس سائے پر ڈالی تھی وہ کرک نہیں تھا بلکہ وہ ایک عورت تھی جس کے بالوں کارنگ سونے جیسا سنہراتھا اس کاچہرہ گول تھا اور ناک چھوٹی تھی وہ خوفزدہ نظر آرہی تھی اور زخمی تھی ایک آفیسر نے اس کے ہاتھ سے پستول لے لیاتھا‘ کمرے میں ڈبہ بند کھانے رکھے ہوئے تھے وہاں سے چھ بچے ملے تھے جن کے جسموں اور چہروں پر مٹی لگی ہوئی تھی پولیس نے گھر کاچپہ چپہ چھان لیاتھا لیکن کرک وہاں نہیں تھا۔
’’فادر کہاں ہے ؟‘‘ ریکل نے اس عورت سے پوچھا جوزخمی ہوئی تھی اس کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی اس نے اپنی ٹانگ پرلگا گولی کازخم پکڑاہواتھا اور کوئی جواب نہیں دیاتھا۔
’’ان بچوں کو جلد ازجلدیہاں سے نکالو اورایمبولینس منگوائو۔‘‘ ریکل نے چیخ کر کہا پھرریکل قیدی بچوں کاجائزہ لینے لگی تھی اسے نمبر 4کی بنائی ہوئی تصویر یاد آئی تھی جوبڑی لڑکی زخمی ہوئی تھی وہ نمبر2 تھی‘ ریکل اس میں اوریوگی میں مماثلت دیکھ سکتی تھی ۔ ایک کالے بالوں والا لڑکا جو ان سب کی حفاظت کررہاتھا نمبر3تھاایک سترہ سالہ لڑکا جو دبلا پتلاتھا نمبر5 تھا اورایک چودہ سالہ لڑکی نمبر6تھی اس کے بعد8-10 اور11نمبر لڑکیاں تھیں جن کی عمریں دس سال سے کم تھیں گیارہویں لڑکی کی عمر پانچ سال رہی ہوگی۔
ریکل نے گھر کے اطراف میں بھی آفیسرز کوبھیج کر کرک کو تلاش کروایاتھا لیکن اس کی کوئی نشانی نہیں ملی تھی۔ تمام بچے گھر کے ایک کونے میں ایک کمبل میں چھپے بیٹھے تھے جنہیں بعد میں گاڑیوں میں بٹھا کروہاں سے روانہ کردیاگیاتھا۔
r…r…r
ہائی لینڈ پولیس ڈپارٹمنٹ میں کرسمس کی شام منائی جارہی تھی سارے آفیسرز ہال میں موجود تھے اوران کاباس میک کونل انہیں کامیاب آپریشن پرمبارک باد دے رہاتھا۔
’’تم سب نے جس بہادری سے بچوں کو بازیاب کیاہے میں تمہیں مبارکباد دیتاہوں۔‘‘
’’شکریہ کونل… لیکن ابھی ہمارا کام ادھورا ہے ابھی ہمیں کرک نہیں ملاہے اورجب تک ہم اسے گرفتار کرکے انجام تک نہیں پہنچاتے ہماری کامیابی ادھوری ہے۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’ہاں تم ٹھیک کہتی ہو لیکن ہدایات جاری کردی گئی ہیں ایک ایک پولیس آفیسراس کی تلاش میں ہے۔‘‘ کونل نے بتایا۔’’وہ اپنے انجام سے بچ نہیں سکے گا لیکن تم لوگوں نے جو زندگیاں بچائی ہیں ان کی بھی بڑی اہمیت ہے۔‘‘
’’ان بچوں کاکیاہوگا جوبازیاب ہوئے ہیں؟‘‘ ریکل نے پوچھا۔
’’ان میں سے کچھ کے والدین نے ہم سے رابطہ کیاہے وہ جلد انہیں لینے آئیں گے اور دوسرے بچوں کے علاج کے لیے لوگ چندہ دے رہے ہیں وہ ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں پھرانہیں فلاحی اداروں کے حوالے کردیاجائے گابہترین ڈاکٹرز ان کاعلاج کریں گے جولڑکی تمہارے فائر سے زخمی ہوئی تھی وہ اب ٹھیک ہے۔‘‘
’’اچھا میں چلتاہوں‘ میری بیوی میراانتظار کررہی ہوگی تم دونوں کرسمس کی خوشیاں منائو۔‘‘ کونل نے کہااور اپنی کار کی چابیاں گھماتا وہاں سے چلاگیا۔
ریکل کومحسوس ہورہاتھا کہ کمرے کے ایک کونے میں حنا‘ راجر اور یوگی کھڑے تھے وہ خوش نظر نہیں آرہے تھے۔
’’میرے مہمان مجھ سے خوش نہیں ہیں۔‘‘ ریکل نے پیک سے کہااو روہ اس کامطلب سمجھ گیا۔
’’وہ تم سے اس لیے ناراض ہوں گے کہ تم نے کرک کو نہیں پکڑا۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’ہاں‘میں نہیں سمجھ سکی کہ ہم نے اسے کیسے کھودیا۔‘‘ ریکل نے کمرے کے کونے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہم نے سب جگہ اسے ڈھونڈا لیکن وہ نہیں ملا۔‘‘
’’وہاں ایک اور بھاری گاڑی کے نشانات تھے اس نے ہمیں دیکھاہوگاار وہاں سے نکل گیا ہوگا۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’لیکن اپنے بچوں کو چھوڑ کربھاگ گیا؟ جبکہ وہ ان سے محبت بھی کرتاتھاتمہیں اندازہ نہیں ہے جب یوگی مراتھاتووہ کیسے رویاتھا۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’ہاں‘ جو کچھ اس نے کیا اس سے وہ فرشتہ ثابت ہوتاہے۔‘‘ پیک نے طنز کیا۔
’’میرا یہ مطلب نہیں ہے‘ وہ بھی ذہنی مریض ہے اور اسے روکنے کی ضرورت ہے علاج کی ضرورت ہے ۔‘‘ ریکل نے کہاپھر وہ دونوں اپنے ساتھیوں کوالوداع کہہ کرپولیس اسٹیشن سے نکل گئے تھے۔
’’چلو تم مجھے میرے گھر ڈراپ کرتے ہوئے جانا۔‘‘ ریکل نے پیک سے کہا۔
جب وہ دونوں کار میں بیٹھے تو ریکل نے آنکھیں بند کرکے کار کی سیٹ کی پشت گاہ سے سرٹکالیا اس کے تصور میں کرک او راس کے قیدی بچوں کی جھلک نظر آئی اوراس نے اپنی نوٹ بک نکال کرفادر کی فیملی کی تصاویر بنانا شروع کردیں اسے فارغ وقت میں بھٹکی ہوئی روحوں کی تصاویر بنانے کاشوق تھا وہ تین جرنل بھرچکی تھی اوراس کی بنائی ہوئی یہ تصاویر مختلف میگزینز میں شائع بھی ہوتی تھیں اب ان میں گیارہ مزید تصاویر کااضافہ ہوگیاتھا پیک کار چلاتے ہوئے ریکل کی طرف بھی متوجہ تھا وہ تصویریں اسے بھی متاثر کررہی تھیں وہ ہیڈ لے ہائوس کی طرف جارہے تھے جو ریکل کی رہائش تھی سڑک سنسان تھی دونوں اطراف لگے ہوئے درخت برف سے ڈھکے ہوئے تھے او رریکل سوچ رہی تھی کہ اب اس کاگھر تھوڑے ہی فاصلے پر ہے کچھ دیر بعد وہ اپنے آرام دہ گرم بستر میں ہوگی اوربہت عرصے بعد سکون کی نیند نصیب ہوگی‘ اچانک کہیں سے یوگی کار کے سامنے آکھڑا ہواتھااوراسے دیکھ کرریکل کی چیخ نکل گئی تھی۔
’’روکو… کار روکو…‘‘ اس نے چیخ کر پیک سے کہاتھااورپیک نے بے ساختہ بریک لگائے تھے ریکل نے دیکھ ایوگی گاڑی سے ٹکرایاتھا اور اچھل کراس کی چھت کی طرف چلاگیاتھا گاڑی جھول گئی تھی اوران سے چند قدم کے فاصلے پر ایک پرانا پک اپ ٹرک سڑک کے بیچوں بیچ کھڑاتھااوراس نے سڑک کوبند کردیاتھا۔
’’تم نے دیکھ لیا ورنہ ہم دونوں مارے جاتے۔‘‘ پیک نے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔
’’کچھ گڑبڑ ہے پیک۔‘‘ ریکل نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہااور پیک نے سڑک کے بیچ میں گاڑی روک دی۔
’’ہاں تم ٹھیک کہتی ہو کچھ گڑبڑہے۔‘‘ پیک نے اپنی پستول سنبھالی اور گاڑی سے اترنے لگا پھروہ آہستہ آہستہ ٹرک کی طرف بڑھاتھا ٹرک کے اندر روشن پیلی روشنی ہرچیز کوواضح دکھارہی تھی ٹرک اندر سے خالی تھاریکل کوہونے والا خطرے کااحساس بڑھتاجارہاتھا اس نے جلدی سے اپنی سائڈ کی کھڑکی کاشیشہ کھولا اور چیخی۔
’’پیک فوراً واپس آجائو۔‘‘لیکن پیک نے شاید سناہی نہیں کیونکہ ومسلسل ٹرک کی طرف بڑھ رہاتھا۔
’’میں سراغرساں ریکل بو ل رہی ہوں۔‘‘ ریکل نے جلدی سے پولیس ریڈیو میں بولنا شروع کیا۔
’’ہمارے راستے میں ایک خراب گاڑی کھڑی ہوئی ہے جس نے سڑک بلاک کردی ہے ہمیں مدد کی فوری ضرورت ہے۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’ہم ڈسپیج سے بات کررہے ہیں آپ کی طرف موقع پر موجود آفیسر بھیجاجارہاہے۔‘‘ اسے جواب ملا۔
خطرہ محسوس کرنے کے باوجود ریکل اپنے ساتھی کی مدد کرنے کے لیے گاڑی سے اتر گئی۔ اندھیرا گہرا ہوگیاتھا اور ہوابھی تیز تھی جس میں آگے بڑھنا ریکل کے لیے مشکل ہو رہاتھا۔آسمان پر نہ چاند تھااورنہ کوئی تارہ اور برف کے بڑے بڑے گالے ریکل سے ٹکرا رہے تھے۔ لائٹ کاواحد ذریعہ پیک کی امپالہ کی ہیڈ لائٹس کی روشنی تھی یاپھرخالی کھڑے ٹرک کے اندر روشن ہلکی لائٹ… پیک ٹرک کے دروازے کے ہینڈل تک پہنچ گیا تھا‘ریکل کوپھرخطرہ محسوس ہوا۔
’’پیک جھک جائو۔‘‘ ریکل نے کہااور پیک اس کی آواز پر فوراً بیٹھ گیا اس کے ساتھ ہی ایک زور دار آواز کے ساتھ فائر ہواتھا۔
’’تم ٹھیک ہو؟‘‘ ریکل نے جلدی سے پوچھا۔
’’ہاں‘ واپس کار میں چلو۔‘‘ پیک نے کہااور ریکل اس کے ساتھ رینگتی ہوئی کارکی طرف بڑھنے لگی اسی وقت پھرفائر ہوا ریکل نے سر نیچے کرلیااسے ابھی تک اندازہ نہیں ہواتھا کہ فائر کس سمت سے کیے جارہے ہیں اس نے رینگنے کی رفتار بڑھادی تھی ‘پیک نے بھی اس کی تقلید کی تھی اسی وقت پھرایک فائر ہوا۔
’’وہ کہاں ہے ؟‘‘ پیک نے تجسس کااظہار کیا۔
’’میں نہیں جانتی۔‘‘
پیک جب امپالہ کے قریب پہنچا او راس کی نظر کار کے اگلے ٹائر پرپڑی تو اسے احساس ہوا کہ کس چیز پرفائر کیے جارہے تھے کار کے تین ٹائر ان فائروں کانشانہ بن چکے تھے ریکل نے درختوں کی قطار کی طرف غور سے دیکھاتاکہ شوٹر کاسرآغ مل سکے پھرایک فائر ہوااس کے ساتھ شعلہ بھی چمکا گولی ریکل کے سر کے اوپر سے نکل گئی تھی ریکل نے اسی سمت میں پے درپے کئی فائر کردیئے پیک نے بھی ایسا ہی کیاتھایک درخت کی شاخ ٹوٹ کرگری تھی اور جھاڑیاں ہلی تھیں پھر کسی کے گرنے کی آواز آئی تھی ریکل اور پیک تیزی سے اس سمت بھاگے تھے ہر قدم کے ساتھ ریکل کا دل تیزی سے دھڑک رہاتھا پیک اپنی پستول کی ہلکی روشنی میں نیچے برف پر کچھ دیکھ رہاتھا پھراس کی نظر خون کے سرخ دھبے پر پڑی جو لکیر کی صورت میں جنگل کی طرف چلی گئی تھی وہ دونوں اس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگے ایک جگہ جاکروہ لکیر بھی غائب ہوگئی تھی وہ سڑک سے کافی دور آچکے تھے نیچے برف پرقدموں کے نشان تھے جو ہر سمت جارہے تھے گویاشوٹر انہیں چکمہ دینے کی کوشش کررہاتھا طوفان میں شدت آگئی تھی جس کی وجہ سے کوئی جانور باہر نہیں تھا‘ریکل اور پیک ایک دوسرے سے پشت ملائے کھڑے اطراف کاجائزہ لے رہے تھے پھر اندھیرے میں جیسے کسی چیز نے حرکت کی‘ ریکل نے اپنی سانسیں درست کرنے کی کوشش کی لیکن اسے ناکامی ہوئی پھراس کے سامنے موجود درخت کے قریب کسی نے حرکت کی تھی او رریکل نے فوراً اندازے سے ادھر فائر کردیاتھا گولی سیدھی راجر ٹیفٹ کے سر پر لگی تھی جو شاید ایک مظلوم روح ہونے کے ناطے اس کی مدد کرنے آیا تھا وہ سیدھا آگے بڑھتا گیاتھااور ریکل اس کے پیچھے بڑھی تھی‘ راجر کے سر میں بننے والا گولی کاسوراخ چند ہی لمحوں میں بھرگیاتھا۔
فائرون کی آواز پھ رسنائی دی تھی اور پیک تیزی سے اس سمت بڑھا تھاریکل نے بھی ایسا ہی کیاتھا لیکن اندھیرے میں ایک درخت سے ٹکرا کر گر گئی تھی۔
’’اگرہم نے اسے جلد ہی نہیں ڈھونڈا تو ایک بار پھرہم اسے کھودیں گے۔‘‘ پیک نے سرگوشی کی کیونکہ تیزی سے گرتی ہوئی برف ان کے پیروں کے نشان بھرتی جارہی تھی پھرایک سمت سرسراہٹ ہوئی اور پیک تیزی سے اس سمت بڑھااس بار ایک ریوالور کادستہ زور سے کسی نے اس کی کنپٹی پرماراتھا اور وہ گر کربے ہوش ہوگیاتھا جب ریکل وہاں پہنچی تو اس نے پیک کو گرے دیکھ کراپنا دستانہ اتارااور اس کی گردن کے قریب اس کی نبض محسوس کی جوچل رہی تھی اس کامطلب تھا وہ بے ہوش تھا اب جنگل میں ریکل دشمن کے ساتھ تنہا تھی پھراچانک کسی نے پشت کی جانب سے اس پرچھلانگ لگائی تھی اس کا پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر دورجاگرا تھا اورآنے والے نے اس پرمکوں سے بارش کردی تھی وہ اس کے چہرے پرمکے ماررہاتھا‘ اس نے دھات کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی جو اس کے چہرے کوزخمی کیے جارہی تھی۔
’’یہ مکا میری ٹیم کے لیے ۔‘‘ اس شخص نے کہا۔
’’اور یہ میری فیملی کے لیے ۔‘‘ اس نے دوسرا مکا مارااور پھر مارتا چلا گیا تھاریکل نے ایک مکا اس کی گردن میں ماراتھاوہ ذرا سا لڑکھڑایاتھااوراس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اس کی گرفت سے نکل گئی تھی۔ پھراس کی ہی گن چھین کر ریکل نے اس کے سر پر فائر کردیاتھا وہ اپنی جگہ کھڑا جھومنے لگاتھا لیکن گھنے درختوں کی طرف جارہاتھا‘ ریکل نے پھر کئی اورفائر اس پرکیے تھے‘ ریکل کومحسوس ہو رہاتھا جیسے جنگل میں سے بہت سی آنکھیں اس کی طرف دیکھ رہی ہیں اسے خود سے دور پانچ ہیولے کھڑے نظر آرہے تھے جنہوں نے اسے دائرے میں لیاہواتھا لیکن برف کی دھند میں وہ واضح نہیں تھے لیکن ریکل نے اندازہ لگایاتھا کہ ان میں سے چار ہیولے روحوں کے تھے جبکہ ایک فادر تھا اس نے فادر پر فائر کردیاتھا اوروہ زمین پرگر گیاتھااس نے دوسرا فائر کیاتھا جو اس کے بازو میں لگاتھا وہ کراہ رہاتھا۔
’’چلائو… گولی چلائو… اور مجھے مار دو۔‘‘ اس نے درد کی شدت سے کراہتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہیں ماروں گی نہیں میں تمہیں گرفتار کرتی ہوں یوگی‘ راجر اورحنا کے قتل کے الزام میں اور مختلف بچوں کواغوا کرنے اوران پرظلم کرنے کے الزام میں۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’مجھے مار دو… ‘‘فادر دوبارہ کراہا لیکن ریکل نے فوراً ہی اسے ہتھکڑیاں لگادیں۔
’’تم جو بھی بولوگے وہ تمہارے خلاف استعمال کیاجاسکتا ہے۔‘‘ ریکل نے کہا۔
’’مجھے مار دو… خدا کے لیے مجھے مار دو۔‘‘ فادر پھربولا شاید اسے اپنے انجام سے ڈر لگ رہاتھا۔ریکل نے اس کی ہتھکڑی سے بندھی زنجیر کوایک قریبی جھاڑی کے ساتھ لاک لگادیاتھا اور آگے بڑھ گئی تھی۔ اسے اپنی پشت سے فادر کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں۔
’’چیختے رہو کرک ‘ یہاں کوئی سننے والا نہیں۔‘‘ ریکل نے کہاواپسی پر وہ پیک کو سہارا دے کراپنے ساتھ لائی تھی۔
’’تمہارے چہرے کوکیاہوا؟‘‘ پیک نے پوچھا۔
’’چپ رہو اور چلتے رہو۔‘‘ ریکل نے کہا پھردور روڈ پر کھڑی اسکاڈ کار کی لائٹیں اسے نظر آئی تھیں اور وہ ادھر بڑھتی چلی گئی تھی آفیسر جان انہیں دیکھ کر ان کی طرف بڑھاتھا۔
’’میڈیکل ٹیم بھی پہنچنے والی ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’اس کی ضرورت ریکل کو ہے۔‘‘ پیک نے کہا۔
’’کرک جنگل میں ہے اس سے پہلے کہ وہ سردی سے اکڑ جائے اسے لے آئو۔‘‘ ریکل نے جگہ بتاتے ہوئے کہا۔
جلد ہی وہ کرک کو لے آئے تھے‘ موقع پر ہی ریکل اور پیک کو طبی امداد دے دی گئی تھی۔
’’مجھے یقین ہے تم دونوں اسپتال توجانا نہیں چاہوگے؟‘‘ جان نے پوچھا۔
’’احمق یہ تو نیو ایئر کی شام ہے ہم یہ منانا چاہتے ہیں۔‘‘ ریکل نے پیک کی طرف دیکھتے ہوئے کہااوراس کے ساتھ اسکاڈ کار میں بیٹھ گئی۔
’’ہمیں میرے گھر ڈراپ کردو۔‘‘ ریکل نے کہا۔
پھر جب ریکل اور پیک ریکل کے گھر میں داخل ہو رہے تھے تو دور جنگل میں کھڑی ٹیفٹ فیملی کی روحیں آہستہ آہستہ غائب ہوگئی تھیں انہیں انصاف مل گیاتھا‘ کیس کلوز ہوگیاتھااور ریکل پیک کے ساتھ نئی زندگی میں قدم رکھ رہی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close