Aanchal Apr-18

دکھ دریا کے بیچ نگر میں

نزہت جبین ضیا

دکھ دریا کے بیچ نگر میں

وہ جب سے آئی تھیں۔ عجیب سی بے چینی اور اضطراب کا شکار تھیں۔ برسوں گزر جانے کے بعد آج پھر ایک بار پرانے زخم ہرے ہوگئے تھے۔ دکھ اور بے وقعتی کا احساس‘ ٹھکرائے جانے کا کرب ایک بار پھر پوری سرایت کے ساتھ رگ و پے میں اترتا محسوس ہوا تھا۔ وہ دکھ جو انہوں نے تھپک تھپک کر سلا دیئے تھے۔ تلخیاں اپنے اندر مار کر زندگی کو نارمل انداز میں گزارتے ہوتے اس مقام تک آئیں تھیں لیکن آج ان کے بیٹے نے ان کو تیس سال پیچھے لاکھڑا کیا تھا۔
انسان اپنے دکھ درد محرومیوں اذیت کو جب تھپک کر سلا دیتا ہے اور اپنے طور سے مطمئن بھی ہوجاتا ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھول چکا ہے۔ حال میں مگن ہوکر محض خود کو جھوٹی تسلی دیتا ہے۔ بظاہر ہنستا بولتا انسان اپنے اندر نہ جانے کیسے کیسے شوریدہ طوفان چھپائے ہوئے ہوتا ہے اور کسی بھی یاد کا ننھا سا کنکر کسی کی سوچ کا معمولی سا اثر اور کسی کے ساتھ کا ایک لمحہ اسے پھر سے اسی مقام پر لا کھرا کرتا ہے کہ جس سے منہ چھپا کر اور دامن بچا کر وہ ساری زندگی گزار دیتا ہے۔ یہی حال تسکین بیگم کا تھا۔ وہ جن یادوں کو گزشتہ کئی برسوں سے بھولنے کی کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوچکی تھیں کہ… آج پھر ایک بار انہی یادوں کے بھنور میں پھنس کر بے چینی اور اضطرابی کیفیت سے دو چار تھیں۔ وہ تلخیاں ایک بار پھر سے ان کے حواسوں پر اس طرح سے قابض ہونے لگیں تھیں کہ ان کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔ خولہ دو بار انہیں دیکھ کر خاموشی سے دروازے سے لوٹ گئی تھی۔ کافی دن بعد اس نے مما کو اس حالت میں دیکھا تھا۔ اس نے مما کو مخاطب کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ وہ جانتی تھی کہ مما کو ایسی حالت میں تنہا چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ مگر وہ اس کیفیت سے پریشان ضروری تھی۔ جبران بھی گھر پر نہ تھا۔ حالانکہ شام تک مما اتنی خوش تھیں۔ خوشی خوشی روزینہ کے گھر گئی تھیں۔ ان کو جبران کی پسند پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ تو ساری زندگی بچوں کی خوشی میں خوش رہنے والی خاتون تھیں مگر آج ان کا یہ رویہ‘ خولہ نے جبران کو کال بھی کرنے کی کوشش کی تھی کہ جلدی لوٹ آئے لیکن اس کا سیل بھی آف تھا۔
تسکین بیگم نے بیڈ کی پشت سے سر ٹکایا اور آنکھیں بند کرکے ماضی کے دھندلکوں میں اترتی چلی گئیں۔ بند آنکھوں میں گزشتہ ماہ و سال پرت در پرت کھلتے چلے گئے۔
’’اماں… اماں…‘‘ وہ تقریباً چیختی ہوئی گھر میں داخل ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر گزشتہ کئی دن کی ناامیدی‘ تھکن اور کوفت کی جگہ امید‘ مسکراہٹ اور تازگی نمایاں تھی۔ اس کی آواز پر اماں کمرے سے باہر نکلیں۔
’’اماں شکر اللہ پاک کا مجھے جاب مل گئی اور تنخواہ بھی مناسب ہے۔ ان شاء اللہ جلدی ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی ہماری۔‘‘ وہ اماں سے لپٹ کر بولی اماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے‘ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں بیٹی کو نوکری کی خاطر دھکے کھانے پڑیں گے۔ اچانک سے حالات ہی ایسے ہوگئے تھے کہ مجبوراً تسکین کو ہی گھر سے باہر نکلنا پڑا تھا۔
ہاشم صاحب دفتر میں جاب کرتے تھے دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ بیٹیاں تسکین اور مہرین اور بیٹے چھوٹے اظفر اور اشعر تھے۔ معمولی سی جاب تھی پھر بھی سفید پوشی برقرار رکھی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ تسکین بی اے کررہی تھی جب کہ مہرین فرسٹ ایئر‘ اظفر اور اشعر ساتویں اور چھٹی کلاس میں تھے۔ تسکین کا رشتہ طے تھا اور اس کی شادی گریجویشن کے بعد ہونی تھی۔ تسکین کا رشتہ اس کی اور زعیم کی پسند سے طے ہوا تھا۔ زعیم اس کا ماموں زاد تھا۔ ماموں شروع سے ہی دبئی میں تھے۔ زعیم اکلوتا بیٹا ہونے کے ساتھ لاڈلا بھی تھا۔ پیسے کی کمی نہ تھی۔ ممانی قدسیہ بیگم تھوڑی نک چڑھی تھیں مگر پھر بھی بیٹے کی پسند کو نہ چاہتے ہوئے بھی پسند کرکے رشتہ طے کرچکی تھیں۔ ہاشم صاحب روایات کے پابند تھے۔ اس لیے رشتہ طے ہوجانے کے بعد گو کہ زعیم اور تسکین کو بات چیت کرنے یا ملنے جلنے پر اعتراض نہ کیا مگر گھومنا پھرنا‘ سیر و تفریح کی اجازت نہیں دی تھی۔ زعیم آتا تو سب کے ساتھ ہی بیٹھتا۔ اسے بھی پھوپا کی اس بات سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ دن کی بات تھی پھر تو شادی ہوجانی تھی۔ قدسیہ بیگم نے اس بات پر واویلا کیا تھا۔
’’بھائی صاحب آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟ بھلا آج کے دور میں ایسی پابندیاں بچے کہاں برداشت کریں گے؟ پھر جب ان لوگوں کو ساری زندگی ساتھ گزارنی ہے تو… زمانے کی سوچ بدل گئی ہے بھائی صاحب۔ اس لیے اپنی سوچ بھی بدلیں۔‘‘ قدسیہ بیگم کی بات پر ہاشم صاحب زیرلب مسکرائے۔
’’قدسیہ بھابی… سوچ بنانے والے ہم خود ہیں۔ معاشرے کو سنوارنے اور بگاڑنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ ہم زمانے کی آڑ لے کر اپنے دل کی خواہشات کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ اچھی سوچ اچھے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ مثبت انداز میں سوچنے والی بات کو زمانے اور سوسائٹی کے انداز سے پرکھیں گے تو مطمئن نہیں ہوسکتے اور پھر ساری زندگی ان کو ساتھ گزارنی ہے تو پھر کچھ دنوں کی پابندی گراں نہیں گزرے گی۔ کم از کم مجھے اپنی بچی پر مکمل یقین ہے کہ وہ میری اس بات کو مثبت انداز میں سوچے گی۔‘‘ ہاشم صاحب کی بات سن کر قدسیہ بیگم نے زعیم کی طرف دیکھا۔ زعیم کے چہرے پر اطمینان نظر آیا تو قدسیہ بیگم اسے گھور کر رہ گئیں۔
’’سچ میں شہناز… بھائی صاحب کی منطق میری سمجھ سے باہر ہے۔ زمانہ کہاں سے کہاں جارہا ہے اور یہ آج تک زمانہ قدیم میں جی رہے ہیں اور ساتھ ساتھ تم لوگوں کو بھی اسی طرز پر جینے کے لیے مجبور کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے نند کے سامنے پھپھولے پھوڑے۔
’’نہیں بھابی… ایسی بات نہیں ہے تسکین کے والد مذہبی اور روایات کے پابند ہیں اور اگر وہ ہمیں پردے کی تاکید کرتے ہیں۔ غیر محرم سے بات نہیں کرنے دیتے یا اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہیں تو ہمیں یہ گراں نہیں گزرتا۔‘‘ نند کی بات بھی ان کو بری لگی تھی۔ وہ ویسے بھی ذاتی طور پر تسکین کو خاص پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اکلوتے بیٹے کے لیے امیر لڑکی کا تصور لیے بیٹھی تھیں مگر شوہر اور پھر زعیم کی ضد کے آگے بے بس تھیں۔
اچانک ہی ایک رات ہاشم صاحب کو فالج کا اٹیک ہوا۔ وہ لوگ ڈاکٹر کے پاس لے کر بھاگے اور ہر طرح کی کوشش کی پر اٹیک بہت شدید تھا اور وہ مفلوج ہوکر رہ گئے۔ یہ سانحہ ان سب کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ گھر کے مسائل ایک دم سے سر پر آگئے تھے‘ بیٹے ابھی چھوٹے تھے جبکہ مہرین کی تعلیم اور دیگر اخراجات کے ساتھ تسکین کی شادی بھی سر پر تھی۔ جاب سرکاری تھی تو ذرا آسر بن گیا تھا۔ ہاشم صاحب بالکل چپ ہوکر رہ گئے تھے۔ بچوں کے لیے دیکھے سارے خواب چکنا چور ہوگئے تھے۔ ان کے سامنے گھر اور بچوں کی ذمے داریاں تھیں۔ وہ سوچ کر ہی بے جان ہوجاتے۔ ایسے میں شہناز بیگم ان کو تسلی دیتیں۔ قدسیہ بیگم نے مالی امداد کرنا چاہی مگر ایک تو ہاشم صاحب نے ساری زندگی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا دوسرے یہ کہ اب قدسیہ بیگم سمدھن تھیں اور بیٹی کے ہونے والے سسرال کے سامنے وہ شرمندہ نہیں ہونا چاہتے تھے۔ جمع پونجی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی تھی۔ ہاشم صاحب کی دوائیں اور گھر کے اخراجات چلانا بے حد مشکل ہوگیا تھا۔ زعیم نے اپنے طور سے مدد کرنی چاہی مگر تسکین نے منع کردیا۔ زعیم حالات جانتا تھا وہ کوشش کرتا اور کبھی پھل فروٹ اور کبھی کسی اور صورت میں درپردہ مدد کرتا۔ شہناز بیگم پریشان رہتیں۔ اسی دوران تسکین کا رزلٹ بھی آگیا اور تسکین نے گریجویشن اچھے نمبروں سے پاس کرلیا۔ ہاشم صاحب بے بسی سے اسے سینے سے لگائے آنسو بہاتے رہے۔ انہوں نے کیا سوچا تھا اور ہوکیا گیا تھا۔ وہ خود کو ناکارہ سمجھ کر مزید اذیت کا شکار ہوجاتے۔ تسکین سے ماں باپ کی حالت اور بہن بھائیوں کی بے بسی دیکھی نہ جاتی۔ وہ اندر ہی اندر کڑھتی رہتی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ تو شکر تھا کہ زعیم کی طرف سے شادی پر اصرار نہ تھا۔
اس روز رات کے کھانے کے بعد ہاشم صاحب حسب معمول دوا لے کر سوچکے تھے۔ شہناز بیگم کمرے کی لائٹ آف کرکے برآمدے میں آگئیں اور کپڑے تہہ کرنے لگیں۔ اظفر‘ اشعر اور مہرین پڑھائی کررہے تھے۔ تسکین کچن کی صفائی کرکے آئی اور برآمدے میں شہناز بیگم کے قریب ہی تخت پر بیٹھ گئی۔ شہناز بیگم نے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر کپڑے تہہ کرنے لگیں۔ ان کے چہرے پر فکر اور پریشانی نمایاں تھی۔ وہ خود آنے والے حالات کو لے کر پریشانی کا شکار تھیں۔
’’اماں… آٹا ختم ہوگیا ہے۔ صبح کے لیے اظفر سے پاپے منگوالیں اور ہاں باقی چیزیں بھی ختم ہورہی ہیں۔‘‘ تسکین کی آواز پر شہناز بیگم نے دوبارہ نگاہ اٹھائی اور آہستگی سے سر ہلایا۔
’’اماں… آج خالہ بھی باہر مجھے ملی تھیں کہہ رہی تھیں کمیٹی کے پیسے جمع کروا دو ماہ سے پیسے نہیں آئے۔‘‘ اظفر بھی پاس آکر پڑوس کی خالہ کا ذکر کرتے ہوئے بولا۔
’’ہنہ…‘‘ شہناز بیگم نے ٹھنڈی سانس بھری اور پان دان کی ٹرے اٹھا کر نیچے کے خانے سے اپنی سونے کی چین نکالی۔
’’تسکین کل اسے فروخت کردیتے ہیں۔ مہینے کا راشن تمہارے ابا کی دوائیاں اور کمیٹی کے پیسے بھرنے ہیں۔‘‘ ان کی آواز میں دکھ بول رہے تھے۔ آنکھوں میں جھلملاتے آنسو باہر نکلنے کو بے تاب تھے۔ تسکین نے تڑپ کر ماں کی جانب دیکھا۔ ایک ہی چین تو اماں کے پاس تھی۔ باقی تو انہوں نے دونوں بیٹیوں کے لیے سنبھال کر رکھ دیا تھا۔
’’نہیں اماں…‘‘ وہ بے ساختہ بولی۔
’’پھر… پھر کیا کروں؟‘‘ وہ کہتے رو دیں تھیں۔
’’اماں پلیز…‘‘ اس نے آگے بڑھ کر شہناز بیگم کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’یوں دل چھوٹا نہ کریں اللہ بہتر کرنے والا ہے۔ میں نے اپنی دوست سے جاب کی بات کی تھی اور کل مجھے اس کے بھائی نے آفس میں بلوایا ہے۔ پلیز آپ منع مت کیجئیے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں عاجزی تھی۔
’’نہیں بیٹی… ہرگز نہیں۔ تم اپنے ابا کو نہیں جانتیں۔ وہ کسی صورت بھی یہ اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ شہناز بیگم نے کہا۔
’’اماں… حالات بدل چکے ہیں۔ آپ خود دیکھ رہی ہیں کہ ہم کن حالات کا شکار ہیں۔ آگے چل کر مزید حالات خراب ہوں گے۔ کھانا پینا‘ دوائیاں اور پھر ادائیگیاں وغیرہ یہ سب کیسے ہو پائے گا؟ مجھے بذات خود بھی یہ سب پسند نہیں اماں مگر اب مجبوری ہے۔ اگر میں نہیں تو کون سوچے گا؟ ابا نے ہمیں پڑھایا۔ اسی پڑھائی کو لے کر وہ کتنے خوش تھے۔ میں نے تو خواب میں بھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ کبھی میں جاب کے بارے میں بھی سوچوں گی مگر اب یہ مجبوری ہے اور ضرورت بھی… پلیز آپ اجازت دے دیں۔‘‘ وہ عاجزی سے ہاتھ تھام کر التجا کررہی تھی۔ شہناز بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ واقعی زندگی میں کبھی ایسا مقام بھی آئے گا یہ تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ مہرین نے بھی کہہ دیا تھا کہ وہ بھی شام کے وقت گھر پر بچوں کو ٹیوشن دیا کرے گی سب کو مل کر ہی اس برے وقت کو گزارنا تھا۔ شہناز بیگم بھی مجبور تھیں۔ ہاشم صاحب بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سمجھ رہے تھے مگر کس قدر مجبور و بے بس اور لاچار تھے کہ سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ شہناز بیگم کی طرف سے اجازت ملی تو دونوں بہنوں نے اپنا کام شروع کردیا۔ تسکین نے اپنی دوست رباب کو کال کی اور مہرین نے اظفر کی مدد سے ٹیویشن سینٹر کا بورڈ لگوادیا۔ شام تک محلے سے چار پانچ بچوں کی امائیں ٹیوشن کی بات کرنے بھی آگئیں۔ ادھر تسکین اپنے ڈاکومینٹس سمیٹ کر فائل بنا رہی تھی کہ زعیم آگیا۔ وہ وہیں بیٹھ گیا۔ مہرین‘ اظفر اور اشعر بھی وہیں بیٹھے تھے۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ زعیم نے پھیلے ہوئے کاغذات دیکھ کر سوال کیا۔
’’جاب کے لیے کوشش کررہی ہوں۔‘‘ تسکین نے پیپر اسٹیپل کرتے ہوئے سر اٹھا کر اسے دیکھا آنکھوں میں بے بسی تھی۔
’’کیوں…! تم جاب کرو گی؟‘‘ زعیم کو حیرت ہوئی۔ یہ اس کے لیے غیر یقینی اور شاکڈ خبر تھی۔
’’ہاں! زعیم مجبوری ہے ابا جی کی حالت سنبھلنے میں نہیں آرہی… اس لیے مجھے ہی کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا۔‘‘
’’اوہنہ…‘‘ زعیم نے سر ہلایا۔
’’اوکے… ایک کام کرو ابھی تم صبر کرلو۔ میں کچھ دن کے لیے آئوٹ آف سٹی جارہا ہوں۔ واپس آکر اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔‘‘ زعیم نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا۔
’’سوچنا اور بات کیا کرنی ہے زعیم؟ مجھے ہر حالت میں جاب کرنی ہے۔‘‘ اس نے فیصلہ سنایا۔
’’اوکے… مگر کچھ دن ٹھہر جائو۔‘‘ زعیم جلدی میں تھا۔ اسے کہہ کر وہ واپس لوٹ گیا اور شام کو ہی دوسرے شہر چلا گیا۔
زعیم تین ماہ کے لیے گیا تھا اور تین ماہ تک انتظار کرنا ناممکن تھا۔ ادھر انٹرویو کی کال بھی آگئی تھی اور تسکین کسی صورت یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ سو وہ صبح ہی وقت سے کچھ پہلے آفس پہنچ گئی۔ امید واروں کی لمبی لائن دیکھ کر ایک لمحے کے لیے وہ دل برداشتہ ہوئی تھی مگر پھر سب کچھ اللہ کے سپرد کرکے صوفے پر ٹک گئی۔ بے باک اور فیشن ایبل لڑکیاں‘ دوپٹوں سے بے نیاز تنگ کپڑوں میں ملبوس اونچے اونچے قہقہے لگا کر اپنے تراشیدہ بالوں کو جھٹکے دیتی ہوئی میک اپ سے دمکتے چہرے بیش قیمت پرس اور موبائلوں کے ساتھ مطمئن اور پُرسکون لڑکیوں کو دیکھ کر وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی یا اللہ! کیا یہ لڑکیاں ضرورت مند ہوں گی؟ کیا ان کے گھر میں بوڑھا بیمار اور اپاہج باپ ہوگا؟ کمزور اور پریشان حال مائیں ہوں گی؟ ان کے گھروں میں راشن کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوگی؟ تب اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔ عام سے کاٹن کے سوٹ پر عبایا پہنے چہرے کو اچھی طرح نقاب سے چھپائے کاجل سے بے نیاز آنکھیں۔ معمولی سا پرس اور ساتھ ہی فائل سنبھالے عام سے جوتوں میں وہ خود کو مس فٹ سمجھنے لگی تھی۔ اس کا نام پکارا گیا۔ ہمتیں جمع کرکے وہ پُر اعتماد طریقے سے اجازت لے کر روم میں داخل ہوئی۔ پُراعتماد جوابات‘ ذہانت اور پھر رباب کے بھائی کی گزارش پر اسے منتخب کرلیا گیا۔ وہ خوشی سے بے قابو ہورہی تھی۔ اسے بالکل بھی یقین نہ تھا کہ اسے چن لیا جائے گا۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے وہ رباب اور اس کے بھائی کی بہت مشکور ہورہی تھی کہ ایسے کٹھن وقت میں رباب نے دوستی کا حق ادا کردیا تھا۔ شہناز بیگم کو خوش خبری سنا کر اس نے فوراً ہی شکرانے کے نفل ادا کیے۔ اس روز ہاشم صاحب بہت روئے تھے۔ قدسیہ بیگم آج کل اپنے میکے میں کسی کی شادی اٹینڈ کرنے گئی ہوئی تھیں۔ ابھی ان کے علم میں یہ بات نہیں تھی۔ زعیم بھی دوسرے شہر میں تھا۔
سیلری بھی معقول تھی پک اینڈ ڈراپ بھی تھا کیونکہ آفس گھر سے کافی دور تھا۔ بظاہر سب کچھ بہتر تھا۔ اللہ کا نام لے کر تسکین نے جاب شروع کردی تھی۔ خاموشی سے سر جھکائے اپنے کام میں مصروف رہتی۔ غیر ضروری کسی کی طرف دیکھتی بھی نہیں تھی۔ آفس میں بد دماغ اور مغرور مشہور ہوگئی تھی۔ کچھ فیشن ایبل لڑکیاں اس کے حجاب کا اور اس کے انداز کا مذاق بھی بناتیں لیکن وہ ہر چیز کو درگزر کرتی اور اپنے کام پر مکمل دھیان رکھتی۔ اس کے باس اس کے کام سے بہت خوش تھے اور اس سے بالکل بیٹی کی طرح شفقت سے بات کرتے اسے اور کیا چاہیے تھا۔
زندگی میں ٹھہرائو آگیا تھا۔ اسے سیلری ملی تو وہ بہت خوش تھی۔ اباجی کے لیے فروٹ لے کر آئی۔ گھر کا ماحول بھی کچھ بہتر ہوگیا تھا۔ اظفر اور اشعر اسکول اور ٹیوشن سے فارغ ہوکر محلے کی موبائل کی دکان پر دو گھنٹے کام کرتے تو کچھ پیسے ان کو بھی مل جاتے۔ مہرین کے پاس بھی ٹیویشن کے بچے آنے لگے تھے۔ پھر تسکین کو بھی اچھی خاصی سیلری مل رہی تھی۔ شہناز بیگم کے چہرے پر بھی کچھ بحالی آگئی تھی۔ اتوار کا دن تھا۔ آج اظفر اور اشعر کی فرمائش پر تسکین نے بریانی اور مہرین نے شاہی ٹکڑے بنائے تھے۔ ہاشم صاحب کی طبیعت بھی قدرے بہتر تھی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد چائے کا دور چلا۔ سب بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ کافی دنوں بعد قدسیہ بیگم اپنے شوہر نجم الدین کے ساتھ آگئیں۔
’’آئیے آئیے کیسے ہیں آپ لوگ؟‘‘ شہناز بیگم نے جلدی سے کھڑے ہوکر پلنگ پر ان کے لیے جگہ بنائی۔ بچے سلام کرکے کھسک گئے۔ تسکین جلدی سے ان کے لیے بھی چائے لے آئی تھی۔ قدسیہ بیگم کا موڈ کچھ آف لگ رہا تھا۔ چائے پینے سے بھی صاف انکار کردیا تھا۔
’’بھابی تھوڑی سی پی لیں بچی لے کر آئی ہے۔‘‘ شہناز بیگم نے کہا۔
’’اور سنائیے شادی کیسی رہی آپ کے بھانجے کی؟‘‘ شہناز بیگم نے ساتھ ہی سوال بھی کر ڈالا۔
’’یہ بتائو… تسکین کہیں نوکری کررہی ہے۔ کسی آفس میں؟‘‘ قدسیہ بیگم نے سوال کو اگنور کرکے اکھڑ لہجے میں آنکھوں کو قدرے ٹیڑھا کرکے شہناز بیگم سے الٹا سوال کر ڈالا۔
’’جی بھابی۔‘‘ شہناز بیگم کی آواز دھیمی تھی۔
’’اونہہ… بتانا بھی مناسب نہ سمجھا آپ لوگوں نے۔ ہماری ہونے والی بہو کو یوں بنا پوچھے آپ نے کیسے اجازت دی نوکری کی۔ کس کی مرضی اور اجازت سے اس نے جاب شروع کی؟‘‘ اچانک ہونے والے حملے پر شہناز بیگم کے ساتھ ساتھ ہاشم صاحب اور تسکین بھی چونکے۔ یہ حملہ نجم الدین کی جانب سے تھا۔
’’کس کی اجازت ہوگی بھائی صاحب؟ ظاہر ہے میری اور اپنے ابا کی اجازت سے کررہی ہے۔‘‘ شہناز بیگم نے سنبھل کر نرم لہجے میں کہا۔
’’ابا کی اجازت؟‘‘ قدسیہ بیگم نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں پہلے شہناز اور پھر ہاشم صاحب کو دیکھا۔ ہاشم صاحب کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا تھا۔
’’جی کیوں؟ آپ کا کیا خیال ہے۔ میں اپنی مرضی سے جارہی ہوں؟‘‘ اس بار تسکین نے جواب دیا تھا۔
’’بڑی حیرت ہورہی ہے مجھے بھائی صاحب کے اس دوغلے پن پر… اتنی تقریریں کرنے والے‘ مذہب شرح اور پابندیوں پر لیکچر دینے والے دلائل اور ثبوت کی پٹاری لے کر چلنے والے اور… اور آج بیٹی کو یوں غیر محرموں کے ساتھ دس گھنٹے گزارنے کی اجازت کیسے دے دی؟‘‘ قدسیہ بیگم کی طنز میں ڈوبی ہوئی بات سیدھی ہاشم صاحب کے دل پر جاکر لگی تھی۔ شہناز بیگم نے گھبرا کر ہاشم صاحب کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر ندامت نمایاں تھی۔
’’بھابی‘ بھائی صاحب پلیز دوسرے کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ شہناز بیگم کو حیرت تو اپنے بھائی پر ہورہی تھی کہ وہ بے شک زن مرید تھے مگر آج… آج ان کے منہ میں بھی بیوی کی زبان آگئی تھی۔ ان کے انداز بھی بدل گئے تھے۔
’’نہیں بھئی… ہاشم بھائی کے سامنے ہی بات ہوگی۔‘‘ نجم الدین نے فیصلہ سنایا۔ تسکین کے چہرے پر پریشانی نمودار ہوچکی تھی۔ وہ بے بسی سے ہونٹ کاٹنے لگی۔
’’بھائی صاحب… آپ کو تو پتہ ہے کہ جب سے ہاشم صاحب بیمار ہوئے ہیں ہم پر کس قدر کڑا وقت آگیا ہے۔ الحمدللہ اب تک تو سب کچھ سہی چلتا رہا مگر اب مہنگائی اور ضرورتوں نے کمر توڑ دی ہے تو کچھ عرصے کے لیے تسکین کو جاب کی اجازت دی ہے۔ مہرین اور بچے بھی اپنے طور سے مدد کررہے ہیں۔ اللہ نے آزمائش ڈالی ہے تو اس کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا ناں۔‘‘ شہناز بیگم کی آواز میں دکھ نمایاں تھا۔
’’ارے ہم مر گئے تھے کیا؟ نہ زعیم کو خبر نہ ہمیں کانوں کان خبر ہونے دی۔ ہم مہینہ باندھ دیتے؟‘‘ نجم الدین کے لہجے میں تقافر تھا۔
’’معاف کیجئے ماموں جان ہمیں مہینہ نہیں چاہیے۔ جب اللہ نے مجھ میں صلاحیت دی ہے تو پھر کیوں کسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں۔ بس کچھ دن کی بات ہے۔ اظفر میٹرک کرلے تو ان شا اللہ تعالیٰ اس کو باہر بھیج دیں گے۔‘‘ تسکین کو ماموں کی بات بری لگی تب ہی اس نے درمیان میں ماموں ٹوک کر ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’دیکھو بھئی… پہلے ہماری بات پر تم لوگوں کو اعتراض تھا اور رشتہ طے ہونے کے باوجود بھی میرے بچے پر پابندیوں کا انبار لگا دیا تھا اور اب…‘‘ قدسیہ بیگم کہتے ہوئے ایک لمحے کو رکیں پہلے شوہر کی جانب دیکھا اور پھر نند اور نندوئی کی طرف۔
’’اب کیا بھابی… آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘ شہناز بیگم نے ان کے مشکوک انداز پر ہول کر پوچھا۔
’’اب ہمیں نوکری کرنے والی بہو پر اعتراض ہے۔ اس لیے تسکین کو نوکری کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ قدسیہ بیگم کی بات پر تسکین کے ساتھ ساتھ شہناز بیگم اور ہاشم صاحب بھی بری طرح چونکے۔
’’بھابی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ہمیں بھی شوق نہیں ہے۔ تسکین کو گھر سے باہر بھیجنے کا مگر… کچھ عرصے کی بات ہے۔‘‘ شہناز بیگم نے بھاوج کی طرف دیکھ کر نرم لہجے میں کہا۔
’’دیکھو بھئی… یہ ہمارا فیصلہ ہے۔‘‘ اس بار نجم الدین بولے۔
’’بھائی صاحب… ابھی تسکین ہمارے گھر میں ہے۔ بے شک آپ اپنے گھر لے جاکر اسے جیسے بھی چاہیں رکھ سکتے ہیں۔‘‘ شہناز بیگم بھائی سے مخاطب ہوئیں۔
’’ہم نے تو سمدھیانے والے نخرے دکھائے ہی نہیں شہناز بیگم۔ لیکن یہ ہمارا حتمی فیصلہ ہے کہ اگر رشتہ برقرار رکھنا ہے تو ہماری یہ بات ماننی پڑے گی؟‘‘ تسکین کے ساتھ شہناز بیگم نے ان کے جملے پر حیرت سے ان کو دیکھا۔ انہوں نے بڑی آسانی سے اگر لفظ استعمال کیا تھا۔
’’بھائی صاحب‘ بھابی آپ لوگ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں؟‘‘ شہناز بیگم نے پہلے شوہر کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر بھائی بھاوج کو مخاطب کیا۔ تسکین جو برداشت کی آخری حدود پر تھی۔ ماں اور باپ کے شکستہ چہروں کو دیکھا تو اس کی برداشت جواب دینے لگی۔ اتنی معمولی بات کو ایشو بنا کر یہ کیا فیصلہ کرنے جارہے تھے۔
’’ماموں… اگر میں جاب نہیں چھوڑوں تو…؟‘‘ وہ دو قدم آگے بڑھی اور ماموں کے عین سامنے جاکر کھڑی ہوئی اور سوال کیا۔
’’تم… تم خود سمجھ دار ہو لڑکی… زعیم کے منع کرنے کے بعد تم نے یہ قدم اٹھایا… تم خود سر لڑکی ہو تسکین۔ جب اس نے منع کیا تھا تو تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کرنے کی۔‘‘ قدسیہ بیگم نے غصے سے تسکین کی جانب دیکھا۔
’’ٹھیک ہے ماموں‘ مامی… اگر آپ لوگوں کا فیصلہ ہے تو میرا بھی فیصلہ ہے کہ میں جاب ہر صورت میں کروں گی۔‘‘
’’تسکین… چپ ہوجائو تم اندر جائو۔‘‘ شہناز بیگم نے چلا کر تسکین کو خاموش کروانا چاہا۔
’’اماں پلیز… آپ چپ ہوجائیں ابھی۔ یہ لوگ کیسی باتیں کررہے ہیں۔ یہ میرے ماموں ہیں ان کو احساس نہیں ہے۔ ہم سے ہمدردی اور ساتھ تعاون کرنے کے بجائے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں۔ ایک معمولی سی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر ہمیں دھمکی دے رہے ہیں اماں۔‘‘ وہ چلائی۔
’’توبہ بھئی… دیکھ لیا آپ نے؟ کیسی زبان ہے اس کے منہ میں۔ میں پہلے ہی جانتی تھی۔ آپ کو بڑا شوق تھا ناں اپنی بہن کی بیٹی کو بہو بنانے کا۔‘‘ قدسیہ بیگم میاں کو لعنت ملامت کرکے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ساتھ ہی نجم الدین بھی کھڑے ہوگئے۔
’’بھائی صاحب‘ بھابی رکیے تو سہی‘ بات تو سنیں۔‘‘ شہناز بیگم دونوں کو پکارتی رہیں لیکن دونوں اول فول بکتے گھر سے باہر نکل گئے۔
’’یہ تم نے کیا کردیا‘ ہم کچھ نہ کچھ کرلیتے۔ زعیم کو کال کرکے بات کرتے۔‘‘ شہناز بیگم تسکین کی طرف پلٹیں۔
’’اماں… اللہ کے لیے چپ ہوجائیں۔ میں‘ میں پاگل ہو جائوں گی۔‘‘ تسکین کی عجیب ہذیانی کیفیت ہورہی تھی۔ شہناز بیگم منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگیں۔
’’اماں… مامی کو روز اول سے اس رشتے پر اعتراض تھا۔ وہ بہانے ڈھونڈ رہی تھیں۔ آج نہیں تو کل یہ ہونا تھا۔ آپ فکر نہ کریں اللہ پاک بہتر کرے گا۔‘‘ کچھ دیر بعد تسکین نارمل ہوئی تو ماں کے کاندھے پر سر رکھ کر نرم لہجے میں مخاطب کیا تب ہی زعیم کی کال آگئی۔
’’تسکین تم خود کو آخر کیا سمجھتی ہو۔ شرم تو نہیں آئی میری امی اور ابو کی بے عزتی کرتے ہوئے۔ وہ میرے ماں باپ ہی نہیں تمہارے ماموں ممانی بھی تھے۔‘‘ سلام نہ دعا چھوٹتے ہی تیز لہجے میں کہا۔
’’زعیم میری پوری بات سنو… شاید تم کو ساری باتوں کا علم نہیں۔ میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی بلکہ…‘‘
’’چپ کرو تسکین… تمہارے خیال میں میرے ماں باپ جھوٹے ہیں۔ تمہیں درمیان میں بولنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ بڑوں میں بات ہوجاتی۔ پہلی بات تو یہ کہ جب میں نے تمہیں روکا تھا تو تمہیں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کچھ ماہ بعد میں آجاتا تو بات ہوجاتی مگر نہ صرف تم نے میری بات رد کی بلکہ میری فیملی کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔ تسکین میں نے تمہیں چاہا تھا۔ تمہیں دل سے پیار کیا تھا۔ تمہارے ساتھ جینا چاہتا تھا مگر… تم نے مجھے میرے ماں باپ کی نظروں میں بھی گرادیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم یوں بدل جائوں گی اور یہ رشتہ ختم کردوگی۔ اگر کوئی اور پسند تھا تو…‘‘
’’چپ ہوجائو زعیم… ایک لفظ بھی آگے مت کہنا اور میری بات سنو…‘‘
’’مجھے کچھ نہیں سننا تسکین… میری طرف سے بھی رشتہ ختم سمجھو۔‘‘
’’زعیم…‘‘ وہ منمنائی۔
’’اگر تم میرے بنا رہ سکتی ہو تو میں بھی رہ سکتا ہوں۔ آئندہ مجھ سے بات کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔‘‘ کال کٹ چکی تھی۔
’’یااللہ کیسا آدمی تھا یہ۔ ایک طرف کی جھوٹی سچی بات سن کر اتنا بڑا فیصلہ کرلیا۔ وہ بتانا چاہتی تھی اپنی سچائی اور ممانی کی دھمکی۔ لیکن وہ… وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھا۔ تسکین نے دوبارہ کال ملائی لیکن سیل آف تھا۔
’’یا اللہ یہ کیا ہوگیا…؟‘‘ پل میں سارے رشتے ناطے ختم ہوگئے تھے۔
قدسیہ بیگم جو چاہتی تھیں وہ ہوگیا تھا۔ ان کو ویسے بھی اپنی بھانجی سے زعیم کی شادی نہیں کرنی تھی۔ ان کو نہ تسکین پسند تھی اور نہ یہ متوسط اور سفید پوش گھرانہ۔ ہاشم صاحب نے صدمہ دل پر لے لیا اور بالکل چپ ہوگئے۔ شہناز بیگم کا بھی برا حال تھا۔ بچے بھی اس صورت حال سے خاصے ڈسٹرب تھے۔ لیکن تسکین نے ہمت اور حوصلے سے رفتہ رفتہ سب کو نارمل کرلیا۔ دکھ تو اس کو بھی اس بات کا شدید تھا کہ اتنے عرصے سے رہنے والا رشتہ یوں پل میں غلط فہمی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ختم ہوگیا۔ اسے ماموں ممانی سے زیادہ زعیم سے شکایت تھی کہ اس نے صفائی کا موقع بھی نہیں دیا تھا۔ ماں کی باتوں میں آکر اتنا بڑا فیصلہ کر ڈالا۔ برسوں کی محبت کو محض یک طرفہ فریق کی بات سن کر پل میں روند ڈالا۔
دن پر دن گزرتے گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب لوگ اس حادثے کو بھولنے لگے تھے۔ تسکین نے نہایت محنت اور دل جمعی سے کام کیا تو اسے ترقی بھی ملتی گئی اور پوزیشن بھی اچھی ہوتی گئی۔ زعیم‘ ماموں اور ممانی سے کوئی رابطہ نہ تھا نہ کوئی ان کی خیر خبر دیتا۔ گویا ان لوگوں کے تعلق اور رشتے کا باب ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا تھا۔ تسکین کے لیے آفس میں کام کرنے والے عبدالرحمن اظہار کا رشتہ آیا تھا۔ اچھی فیملی تھی اس کی بات طے ہوگئی۔ تب تک اظفر میٹرک کرکے دبئی جاچکا تھا۔ مہرین کی بات بھی طے ہوگئی تھی۔ تسکین کی شادی ہوگئی۔ عبدالرحمن بہت اچھا اور نیک انسان تھا۔ تسکین کا بہت خیال رکھتا۔ وہ بہت خوش تھی۔ وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا رہا۔ تسکین کے لیے زعیم اور زعیم سے وابستہ ہر بات ایک خواب بن کر رہ گئی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ قدرت نے اس کی جھولی میں پہلے جبران اور پھر خولہ کی صورت میں پیارے پیارے بچے ڈال دیئے۔ اباجی کا انتقال ہوگیا۔ اماں بھی چھوڑ کر چلی گئیں۔ عبدالرحمن نے بھی داغ مغارت دے کر ملک عدم کی راہ سنبھالی۔ تسکین کے لیے صرف اور صرف بچے اور بچوں کی خواہشات عزیز تھیں۔ جبران نے پڑھائی مکمل کرکے بہترین جاب کرلی۔ خولہ نے گریجویشن کرلیا اس کا رشتہ طے ہوگیا۔ آج تسکین بیگم ایک اچھے مقام پر تھیں۔ اللہ پاک نے ان پر کرم کر رکھا تھا۔ مالی لحاظ سے خاصی مستحکم تھیں اور اولاد کی طرف سے بھی خوش قسمت۔ اب انہوں نے جبران کے لیے رشتے کی تلاش شروع کی تو… جبران کی پسند اور خواہش پر آج زونیہ کے گھر گئیں تھیں اور جب سے واپس آئی تھیں اضطرابی کیفیت سے دو چار تھیں۔ انہوں نے ساری زندگی بچوں کے ساتھ بالکل دوستانہ رویہ رکھا تھا۔ اپنی ہر بات بچوں سے شیئر کی تھی۔ بچوں کے سامنے وہ کھلی کتاب تھیں۔
آج ان کا یہ رویہ اور چپ خولہ اور جبران کے لیے نہایت تکلیف دہ تھی۔ پرانے زخم ایک بار پھر سے تازہ ہوگئے تھے۔ جبران آیا تو خولہ نے اسے مما کے رویے کے بارے میں بتایا۔
’’مما…‘‘ جبران کی آواز پر تسکین بیگم خیالات کی دنیا سے باہر نکلیں۔ آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اس کی جانب دیکھا۔ سرخ اداس آنکھیں۔ جبران تڑپ اٹھا۔
’’مما… کیا ہوگیا ہے‘ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ناں؟ مما… آج بہت عرصے بعد آپ اتنی پریشان اور مضطرب ہیں۔ پلیز مجھے بتائیے۔ خولہ بتا رہی ہے آپ زونیہ کے گھر سے آنے کے بعد سے پریشان ہیں۔ کیا ہوا مما؟ اگر آپ کو زونیہ یا اس کی فیملی پسند نہیں تو میں ہرگز اس سے شادی نہیں کروں گا؟ آپ سے وجہ بھی نہیں پوچھوں گا۔ مگر آپ پلیز اس طرح سے اداس مت ہوں‘ یہ… یہ میں برداشت نہیں کرسکتا۔ مما مجھے آپ کی خوشیاں عزیز ہیں اور کچھ نہیں۔‘‘ جبران ان کے ہاتھ تھام کر جذب کے عالم میں بول رہا تھا اس سے ماں کی یہ کیفیت برداشت نہیں ہورہی تھی۔ خولہ بھی ساتھ ہی کھڑی تھی۔
’’جبران مجھے تمہاری پسند پر اعتراض نہیں ہے مگر…‘‘ تسکین بیگم سیدھی ہوکر بیٹھتے ہوئے بولیں اور زخمی نظروں سے جبران کی طرف دیکھا۔
’’مگر کیا مما؟‘‘ جبران نے بے تابی سے پوچھا۔
’’تم نے اس کے پورے نام پر غور نہیں کیا؟ اس کا کیا نام ہے؟‘‘ تسکین بیگم کی بات پر جبران نے الجھی نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
’’کیا مما… زونیہ زعیم احمد۔‘‘ وہ بے ساختہ روانی میں کہہ گیا اور دوسرے لمحے ہی اس نے ہونٹوں کو سیکڑا۔
’’اوہ مما…‘‘ خولہ بھی اس کی بات پر چونکی۔
’’وہ زعیم احمد کی بیٹی ہے۔ آپ کے کزن… اوہ سوری مما… آئی ایم ویری ویری سوری۔ میں اس بات سے قطعی لاعلم رہا۔ مجھے اندازہ نہ تھا کہ انجانے میں‘ میں نے کتنی بڑی غلطی کر ڈالی۔ میں بہت شرمندہ ہوں مما۔ آج آپ کو میری وجہ سے دکھ پہنچا… میری ذات نے آپ کو ایک بار پھر ماضی کی تلخیوں میں دھکیل دیا۔ آپ گزشتہ دو گھنٹوں سے تلخ یادوں میں گھری رہیں‘ میں ابھی زونیہ کو میسج کرکے منع کردیتا ہوں۔ مجھے صرف اور صرف آپ کی خوشی‘ آپ کا ساتھ اور آپ کی شفقت چاہیے۔ بس آپ بھی ہماری خاطر اس دکھ اور تکلیف کو بھول جائیں‘ میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ آج بہت دکھی ہوں کہ میری وجہ سے آپ کو دکھ پہنچا ہے۔‘‘ جبران نے روتے ہوئے ان کے پیر تھام لیے۔ وہ بغور جبران کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ زونیہ سے بہت پیار کرتا تھا‘ اس کی باتیں کرتا‘ دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ دونوں انجان تھے۔ وہ تو بے خبر تھے کہ زندگی کس طرح سے ان کے ماں باپ سے کھیل چکی ہے۔ بھلا ان دونوں کا کیا قصور تھا؟ آج تیس سال بعد زعیم کو دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ندامت اور شرمساری نظر آئی تھی۔ تسکین کو دیکھ کر وہ لڑکھڑایا تھا۔ جتنی دیر بیٹھا نگاہیں نہیں ملائیں تھیں۔ شاید اپنی غلطی پر پشیمان تھا۔ تسکین اسے دیکھ کر بری طرح ٹھٹھکیں تھیں۔ قدرت نے یہ کس مقام پر لاکھڑا کیا تھا کہ آج… زعیم کی بیٹی تسکین کے فیصلے کی منتظر تھی اور تسکین کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تھا۔ معاف کردینے کا اجر بہت زیادہ ہے۔ لیکن اللہ پاک نے بدلے کا حق ضرور دیا ہے۔ خواہ جان ہو‘ مال‘ عزت و آبرو یا… آپ کی شخصیت کی دھجیاں اڑائی گئی ہوں۔ آپ کو حق ہے کہ آپ اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا بدلہ لے سکیں اور آج وہ وقت آگیا تھا۔
تسکین کچھ دیر تک سوچتی رہی اور پھر اٹھی۔ میز پر سے اپنا موبائل اٹھایا اور جبران کی طرف بڑھایا۔
’’زونیہ کے پاپا کا نمبر ملائو۔‘‘
’’مما میں… میں زونیہ کو کہہ دوں گا۔‘‘ جبران نے ہونٹ کاٹتے ہوئے دبی آواز میں کہا۔ تسکین بیگم کی حالت سے وہ پریشان ہورہا تھا۔
’’میں نے جو کہا ہے اتنا کرو تم۔‘‘ تسکین بیگم نے سختی سے کہا تو جبران نے موبائل لے کر نمبر ملایا اور تسکین بیگم کو تھمادیا۔
’’السلام علیکم! جی میں جبران کی والدہ مسز عبدالرحمن بات کررہی ہوں۔ مجھے زونیہ بیٹی بہت پسند آئی ہے۔ آپ لوگ نیکسٹ سنڈے میرے گھر آسکتے ہیں تاکہ بات آگے بڑھائی جاسکے۔‘‘ انہوں نے کہا تو جبران اور خولہ منہ کھولے حیرانی سے ان کو دیکھ رہے تھے وہ کیا کہہ رہی تھیں۔ جبران کو یقین نہیں آرہا تھا۔
’’مما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘ جبران نے حیرت اور خوشی سے انہیں کاندھے سے تھام لیا۔ خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ ماں کی عظمت اور ہمت پر بے ساختہ ان سے لپٹ کر رو دیا۔
’’مما آئی لو یو… آپ بہت عظیم ہیں۔‘‘
’’ہاں بیٹا… میں ایک عورت ہوں اور سمجھ سکتی ہوں کہ پہلی محبت کھو کر انسان زندگی نہیں گزارتا بلکہ زندگی اسے گھسیٹتی ہے اور… میں نہیں چاہتی کہ ایک بار پھر ایسا ہو۔ جیتے تو سب ہیں مگر جینے میں فرق ہوتا ہے۔ جدائی اور نارسائی کا کرب بہت اذیت ناک ہوتا ہے اور میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ میں خوش ہوں کہ میں نے اچھا فیصلہ کیا۔‘‘ جبران کے ساتھ خولہ کو سینے سے بھینچتے ہوئے آج تسکین بیگم جی بھر کے رولینا چاہتی تھیں۔ برسوں پرانا وہ غبار جو ان کے اندر آج بھی دل کے کسی کونے میں موجود تھا۔ آنکھوں کے رستے بہا کر نئی زندگی کی ابتداء کرنا چاہتی تھیں۔ جس دکھ دریا کے بیچ ساری زندگی گزاری آج اسے پار کرلینا چاہتی تھیں۔
(الحمدللہ مسلسل اشاعت کے چالیس سال مکمل)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close