Aanchal Mar-18

یاد گار لمحے

جویریہ سالک

دعا سے بدل جاتی ہے تقدیر
دعاکا موضوع کوئی نیا اور اچھوتا نہیں ہے۔ یہ موضوع اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان۔ حضرت آدم کو رب کریم نے جو دعا سیکھائی قرآن میں موجود ہے۔ اس طرح پے در پے باقی انبیاء کی بھی دعائیں موجود ہیں۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کے ذریعے ہمیں یہ پیغام پہنچایا ہے کہ دنیا کے آخر تک کس طرح سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ شریع اصطلاح میں دعا کا مفہوم مدد طلب کرنا ہے۔ دعا بذات خود عبادت کا مقام رکھتی ہے۔ رب کریم نے قرآن پاک میں فرمایاہے کہ ’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا طلب کرتے رہو‘ میں تمہاری دعائوں کوقبول کرتا رہوں گا۔یقیناً جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ جلد جہنم میں پہنچ جائیں گے۔‘‘
یعنی دعا ہمیں اس یقین کے ساتھ مانگنی چاہئے کہ قبول ہوگی اور ہمارا پروردگار ہمیں سترمائوں سے بڑھ کرہم سے محبت کرتا ہے۔ ہم اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہمارا رب ہمارے ماضی حال مستقبل سے خوب واقف ہے۔ بعض دعائیں قبول نہیں ہوتیں اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ ہمیں پسند نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیں ہماری طلب سے زیادہ بہتر دینا چاہتا ہے۔ ایک مومن کا تمام طاقتوں وسائل کا حاصل تو کل اللہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ۔’’آپ فرمادیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے۔ توکل کرنے والے اس پر توکل کرتے ہیں۔ انسان اپنی نادانی کی وجہ سے جلد بازی کرنے لگتا ہے۔ اوراپنے وجود کو سوچ سمجھ سے خالی کرنے لگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھول رکھاہے اور جس سے بندہ توبہ کرکے اپنا نام نیک لوگوں میں شامل کرسکتا ہے۔ دعا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان تدبیر بھی کرے مثال کے طورپر اگر کوئی شخص بیمار ہے تو وہ علاج و معالجہ اختیار نہیں کرتا تو یہ غلط ہے۔ صحت کے ممکنہ اسباب اختیار کرے اور دعا کرے۔ انسان کو دعا ہمیشہ پورے دل کے ساتھ مانگنی چاہیے۔ ایسا نہ ہو زبان سے دعا مانگتے ہو اور دل کسی اور طرف متوجہ ہو۔ حدیث پاک ہے کہ ’’غافل اور بے پروا دل والے بندے کی دعا اﷲ قبول نہیں فرماتا۔‘‘یعنی ہمیں دعا اس یقین اور اطمینان کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور اگر ہماری مانگی ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہمیں دل برداشتہ اور شکستہ دل ہونے کے بجائے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اللہ ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے اورہمارے یقین کا تقاضا بھی یہی ہونا چاہئے کہ ہم اللہ کی رضا میں پورے دل سے راضی ہوں۔(بقول علامہ اقبال۔
تقدیر کے پابند جمادات و نباتات
مومن فقط احکام الٰہی کاہے پابند)
تابندہ جبیں۔ کراچی
غم سے نہ گھبرائو
اپنے زخم کسی کو نہ دکھائو۔ اس عمل سے اللہ عزوجل ناراض‘ دوست پریشان اور دشمن خوش ہوتے ہیں۔
دکھ تو آزمائش کا دوسرانام ہے۔
اللہ عزوجل ہمیشہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے۔
انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے۔
خود کو غم میں نہ ڈھالے۔ بلکہ اللہ عزوجل سے دعا کرے‘ زندگی میں کوئی غم‘ مصیبت یا کوئی دکھ آئے تو صبر اور تحمل کرنے کی توفیق دے۔
مشکل وقت میں اپنے رب کو پکارو۔ اللہ عزوجل تمہاری پکار بھی سنے گا اور مشکل حل بھی کرے گا اور غم سے نجات بھی دے گا۔
بینا خالد۔ملتان
فرمائیے
اک گھڑی میں بارہا مر جائیے
کیا یہی ہے زندگی فرمائیے
یاد رکھیں حشر تک اہل جہاں
کام کچھ تہذیبؔ وہ کرجائیے
راؤتہذیب حسین تہذیبؔ…رحیم یارخان
اچھی باتیں
ژجس رشتے کو تم نبھانہ سکو اسے اچھا موڑ دے کر چھوڑدو۔
ژدوست جتنا بھی برا ہو اسے نہ چھوڑو کیونکہ گندہ پانی بھی آگ بجا سکتا ہے۔
ژآسمان پر نظر ضرور رکھو مگر یاد رہے کہ پائوں زمین پر ہی رہیں۔
سمیراجمیل۔دولتالہ
اگر سمجھ سکو تو سمجھ لو
ایک بزرگ اپنا موبائل مرمت کرانے لے گئے۔ دکاندار نے چیک کرکے کہا۔
بابا جی!’’اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔‘‘
بزرگ مایوسی اور آہستگی سے بولے۔
’’تو پھر میرے بچے کی کال کیوں نہیں آتی۔‘‘
علشبہ نور۔بھیرکنڈ
اصول
اپنی محبت کے کچھ اصول
اسے بھی سیکھا دینا
جس سے تم بے پناہ محبت کرتے ہو
ہاں
کچھ اس کے بھی تو اصول ہوں گے نا!
جسے تم چاہتے ہو
پھر دیکھوں گی میں
کون اترتا ہے پورا
اس اصول پر
وہ جسے تم چاہتے ہو
تم یا وہ جو تمہیں چاہتی ہے
شبنم کنول۔گائوں پاپانگری حافظ آباد
عقل وحکمت
عقل وحکمت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے
٭نظر نیچی رکھنا
٭زبان کو بے محل نہ کھولنا
٭حلال غذا کھانا
٭سچ بولنا
٭عہد کوپورا کرنا
اور
٭جس بات کا کوئی فائدہ نہ ہو‘ اسے ترک کردینا
ارم صابرہ…تلہ گنگ
محبت
ژ’’محبت ایک بے رنگ‘ان چاہا ان دیکھا احساس ہے جس کا کوئی وجود نہیں ہے مگر ہر وجود کو اپنے رنگ میں ڈھالا ہوا ہے۔‘‘
طیبہ رمضان اینڈ ماریہ کنول ماہی۔ گوجرانوالہ
یادیں
زندگی میں بہت دوست آتے ہیں
کچھ اپنے کچھ بیگانے
کچھ جان سے پیارے لگتے ہیں
جن کے بنا جینا بھی دشوار ہوتا ہے
جن کے بنا ہر خوشی ادھوری ہوتی ہے
لیکن اک دن سب چھوڑ جاتے ہیں
کچھ جان بوجھ کر بھو ل جاتے ہیں
کچھ کسی بات پر ناراض ہوجاتے ہیں
اور کچھ خاموشی سے ہی ناتا توڑ جاتے ہیں
یہ سب واپس لوٹ کر تو نہیں آتے
لیکن رہ جاتی ہیں تو صرف ان کی یادیں
ندا افتخار۔چشتیاں
اقوال زریں
ژاعتبار شیشے کی مانند ہے جوٹوٹ جائے تو کبھی نہیں جڑتا۔
ژانسان کی زبان خوب صورت ہے چاہے تو دل جیت لے چاہے تو دل چیر دے۔
ژانسان اپنے اوصاف سے عظیم ہے کیونکہ کوامحل کے مینار پر بیٹھ کر عقاب نہیں بن جاتا۔
ژزندگی کا ہر دن آخری سمجھو۔
ہالہ و عائشہ …کراچی
نادانی
انسان کا ہر لمحہ بے انتہا قیمتی ہوتا ہے۔ مگر انسان کو خود اس لمحے کی قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا۔انسان اگر یہ جان لے کہ وہ انسان ہے تو حیوان بننے سے بچ جاتا ہے۔
انسان کے قدموں کی چاپ ہر روز انسان کو پیغام دیتی ہے کہ چل اس کے گھر جس نے تجھے پیدا کیا۔ مگر انسان اس پیغام کو کچھ اور سمجھ کر کسی اور ہی راستے پر چل نکلتا ہے۔
ذکاء زرگر۔جوڑہ
افسانچہ
عجلت میں گھر کے سارے کام نمٹا کر وہ اور میں یعنی ہم دونوں سب سے نظریں چرا کر چھت پر آگئے۔ صبح دس بجے سے لے کر دو بجے تک ہم دونوں کا ساتھ بے حد حسین ہوتا۔ہم ایک دوسرے سے رازو نیاز کرتے۔ کبھی میں اسے اپنے سینے پر لٹاتی تو کبھی اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اسے چھوتی۔اسے چھونے کا یہ احساس مجھے اپنے آپ سے بیگانہ کردیتا۔ جب ہم دونوں ساتھ ہوتے تو ایک دوسرے میں کھو سے جاتے اور دنیا ومافیہاسے بیگانہ ہو کر ہم اپنے پیار کی دنیا میں مگن کسی حسین وادی میں اپنے پیار کے رنگ بکھیرتے۔ پھر تو جیسے ہر طرف سے پیار کی خوشبو آنے لگتی‘ خوب صورت آبشاریں اور جھرنیں سب ہمارے پیار کا گیت الاپتی۔پھر اچانک سے ہم دونوں کے بچھڑنے کا وقت آگیا وہ اور میں بچھڑنے کے غم میں ایک دوسرے کے سینے سے لگ کر بے حد روئے۔اس نے مجھے تسلی دی اور میں نے اسے۔ پھر عہدوپیماں کیے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کاساتھ ضرور دیں گے اور کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی نہیں بدلے گا۔بلکہ آنے والے وقتوں میں اس کے جذبات میں مزید شدت آئے گی۔اس نے مجھ سے کہا کہ پگلی مہینہ ختم ہونے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ اگلے مہینے کی بائیس یا تئیس کو پھر ہم دونوں ملیں گے۔ اس کی یہ بات سن کر میں نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے۔ اب مسکرا بھی دو اس نے کہا۔ پھر میں سب کچھ بھول کر فوراً سے مسکرا دی اور اسے الوداع کرتے ہوئے یہ دعا دی کہ خدا تجھے اپنی امان میں رکھے تو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔
ارے ارے…الٹا سیدھا مت سوچیے میں آپ کو بتا دیتی ہوں کہ وہ کون ہے جس کے بچھڑنے سے میں بے حد اداس ہو ںاور غمگین ہوں وہ ہے میرا بہت ہی پیارا ساتھی میرا اپنا ڈائجسٹ ’’آنچل‘‘ اب بتائیں کیسا لگا آپ سب کو میرا سرپرائز۔ہوگئے ناں آپ سب حیران۔
سعدیہ سلیم… شجاع آباد‘ ملتان
علم کا فائدہ
خلیفہ ہارون الرشید گھوڑے پر سوارہو کر کہیں جارہے تھے کہ راستے میں ایک عالم ابوالحسن ملے۔ہارون الرشید احتراماً گھوڑے سے نیچے اترے اور مصافحہ کیا اور ان سے دربار نہ آنے کی شکایت کی۔ ابوالحسن نے جواب دیا میں مطالعے میں اس قدر مصروف رہتا ہوں کہ مجھے فرصت ہی نہیں ملتی۔ ہارون الرشید نے جواب سنا اور پوچھا اتنے علم کا کیا فائدہ…؟
ابوالحسن نے جواب دیا کیا یہ کم ہے کہ بادشاہ نے گھوڑے سے اتر کے مصافحہ کیا…؟
طیبہ سعید…بھاگوال
یادگارلمحے
ژزندگی اور خربوزے میں ایک مشترکہ بات ہوتی ہے کہ اگر یہ پھیکی بھی نکل آئے تو پھینکی نہیںجاتی۔
ژگہری اور با آواز رعب والی آواز میں بولنے والا ضروری نہیں کہ ایک شہنشاہ ہو وہ شدید زکام کا شکار شخص بھی ہوسکتا ہے۔
ژکہتے ہیں کہ گاجریں کھانے سے نظر تیز ہوتی ہے جبھی تو خرگوش عینک نہیں پہنتے۔
علشبہ نور…بھیرکنڈ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close