Aanchal Mar-18

تیری زلف کے سر ہونے تک ۱۸

اقرا صغیر احمد

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
مائدہ جنید کے رشتے پر بے حد خوش ہوتی ہے ایسے میں عمرانہ اپنے اور زید کے انکار کا بتا کر اسے حیران کر دیتی ہیں جب ہی وہ بغاوت کرتے اپنی پسندیدگی کا ماں کے سامنے کھلا اعتراف کرلیتی ہے یہ بات عمرانہ کو تشویش میں مبتلا کردیتی ہے جب ہی زید اپنے دوست کی رنگین طبیعت کا مائدہ کو بتا کر اپنے انکار کی اصل وجہ سے آگاہ کرتا ہے لیکن مائدہ کو اپنی محبت میں کچھ نظر نہیں آتا جب ہی وہ ہر نفع و نقصان سے آزاد ہو کر زید سے مقابلے پر اتر آتی ہے اور اپنے جیون ساتھی کے طور پر جنید کو قبول کرلیتی ہے۔ زید شدید اشتعال میں مائدہ کی زبان درازی پر ضبط کرجاتا ہے۔ مدثر صاحب طبیعت کی خرابی کی بنا پر بیٹی کی منگنی میں شرکت نہیں کر پاتے ایسے میں زید اور عمرانہ ان کی طرف سے مزید بد گمان ہوجاتے ہیں۔ بابر اور عاکفہ کے نکاح میں نوفل اور انشراح بھی شرکت کرتے ہیں انشراح کے بدلے انداز نوفل کے رویے میں بدلائو پیدا کرتے ہیں جب ہی وہ اپنے جذبات کے آگے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے دوسری طرف انشراح نوفل اور یوسف صاحب کی سچائی سے پوری طرح واقف ہوجاتی ہے نانی کی زبانی اسے پتا چلتا ہے کہ اس کا باپ یوسف اولاد کی نعمت سے محروم ہے اور اسی لیے نوفل کو اپنا بیٹا مانتے ہیں انشراح بدلے کی آگ میں جلتی یوسف صاحب کو دکھ دینے کی خاطر نوفل کو اپنا ہتھیار بنانا چاہتی ہے ایسے میں بالی اسے ان سب باتوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ منگنی کے فنکشن میں عمرانہ اور عروہ سودہ کو کاموں میں الجھائے رکھتی ہیں جب ہی رات کی تنہائی میں عروہ سودہ اور زید کو ساتھ دیکھ کر غلط فہمی کا شکار ہوتی سب گھر والوں کے سامنے اصلیت رکھ دیتی ہے عمرانہ یہ سب جان کر مشتعل ہوجاتی ہے اور سودہ کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتی ہیں جبکہ دوسری طرف سودہ ان کی سازش سے بے خبر ہوتی ہے اس رسوائی کی زندگی سے بچنے کی خاطر صوفیہ اپنے اور سودہ کے لیے خود کشی کا راستہ اختیار کرلیتی ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
/…٭٭…/
منور صاحب نے کال کرکے زید کو گھر میں ہونے والے ہنگامے کا بتایا تھا ایک ایک لفظ کو دہراتے ہوئے ان کی آواز میں نمی اور رنجیدگی صاف محسوس کی جاسکتی تھی وہ سودہ کے ساتھ کیے گئے مظالم پر از حد غم زدہ تھے ماں کی طرف سے کی جانے والی یہ زیادتی اسے بھی مضطرب کر گئی تھی‘ بہت عجیب بات تھی کہ سگی ماں اس پر الزام تراشی کررہی تھی اور تایا و تائی کو اس کے کردار پر مکمل بھروسا تھا۔ ایک بار بھی اس کو صفائی پیش کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی‘ وہ اس پر اور سودہ پر آنکھ بند کرکے یقین رکھتے تھے‘ ایک اس کی ماں تھی جو سب سے زیادہ بے یقینی و بے اعتباری کا شکار رہتی تھی کسی کے جھوٹ کو سچ ماننے میں لمحہ بھر کی تاخیر کی قائل نہ تھیں۔
عروہ نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے لیا تھا اور جاتے ہوئے بھی آگ لگا گئی تھی۔ اس کا دل کررہا تھا کہ وہ عروہ کو شوٹ کردے… جس نے اپنی ناآسودہ خواہشوں کی بھینٹ سودہ کو چڑھایا تھا۔ وہ آفس سے گھر چلا آیا جہاں مہیب سناٹے و اداسی نے اس کا استقبال کیا تھا۔ وہ تایا اور تائی کی طرف گیا تو گیلری میں نائٹ بلب روشن تھا جس کا مقصد تھا وہ محو استراحت ہیں وہ ویسے بھی جلدی سونے کے عادی تھے پھر گھر میں ہونے والے اعصاب شکن واقعے نے ان کو بددلی کا شکار کردیا ہوگا اور وہ میڈیسن کھا کر سوگئے ہوں گے۔
عمرانہ بیگم کا سودہ پر ہاتھ اٹھانے کا سن کر اس کو بے حد دکھ ہوا تھا اس دہرے معیار پر اب اسے ماں سے اختلاف ہونے لگا تھا وہ مائدہ کو غلط بات پر بھی سرزنش کرنے کی قائل نہ تھیں اور ایک طرف وہ رشتے کی پروا نہ کرتے ہوئے بیٹی کی طرح ہی لڑکی پر ہاتھ چھوڑ بیٹھی تھیں اور معاملہ صرف ایک ادھ تھپڑ پر ہی ختم نہیں ہوا تھا۔ عروہ کے لگائے گئے بہتان سودہ کی زندگی میں ببول کے کانٹے اگا گئے تھے اور وہ جانتا تھا مما سودہ کو کسی طور معاف کرنے والی نہ تھیں یہی سوچتا ہوا وہ کافی کی طلب میں کچن میں آگیا تھا کافی وہ بہترین بنا لیا کرتا تھا، وہاں قدم رکھتے ہی اس کو عجیب سا احساس ہوا تھا۔ ہر وقت صاف ستھرا رہنے والا کچن پہلی بار ابتر حالت میں تھا۔ ایل کی صورت میں بنا ہوا بلیک اینڈ وائٹ ٹائلز والا کائونٹر اور فرش کچھ ماند پڑے ہوئے تھے سنک میں بھی بغیر دھلے برتن موجود تھے اس کو یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا سودہ کو صفائی کا کریز تھا وہ کچن ہی نہیں گھر کا کونا کونا چمکا کر رکھا کرتی تھی۔
آج ہی وہ غافل ہوئی تھی اور ہر شے پر دھول پڑ گئی تھی وہ سوچتا ہوا دودھ نکالنے فریج کی طرف بڑھا تھا معاً اس کی نگاہ دور کونے میں گرے ایک ریپر پر پڑی تھی اس نے آگے بڑھ کر ریپر اٹھایا جس پر چوہے کی تصویر کے ساتھ ہی جلی حروف میں لکھا تھا ’’چوہے مار دوا‘‘ رپیر بالکل نیا تھا جسے کچھ دیر ہی قبل کھولا گیا ہو۔
’’ارے زید میاں۔‘‘ بوا اندر داخل ہوتی ہوئی بولیں۔
’’کچھ کھائیں گے آپ؟‘‘ وہ قریب چلی آئیں۔
’’گھر میں چوہے ہیں بوا؟‘‘
’’کچھ عرصے پہلے تھے صوفیہ بیٹی دوا لے کر آئی تھیں دوا سے ہی چوہے ختم ہوگئے تھے دوبارہ پھر نہیں ہوئے۔‘‘
’’ابھی کچن میں کون آیا تھا؟‘‘ اس کی چھٹی حس خطرے کا الارم دینے لگی تھی ایک وحشت رگ و پے میں سرائیت کرتی چلی گئی تھی۔
’’صوفیہ چائے پکا کر لے گئی ہیں کہہ رہی تھیں ان کے اور سودہ کے سر میں درد ہورہا ہے میں نے کہا بھی نماز پڑھ کر پکا دوں گی۔‘‘ بوا کائونٹر صاف کرتے کہہ رہی تھیں اور اس کے ذہن میں دھماکے ہونے لگے چوہے کچھ عرصہ قبل ہوئے تھے اور اب ان کا نام و نشان باقی نہ تھا پھر اس ریپر کی حالت بتا رہی تھی وہ کچھ دیر قبل ہی پھاڑا گیا ہے۔
’’بیٹا، کچھ چاہیے تو بتا دیجیے۔‘‘ بوا کی آواز بھی نم و افسردہ تھی وہ شاید روتی رہی تھیں سودہ سے انہیں محبت بھی زیادہ تھی۔
’’شکریہ بوا۔‘‘ وہ کہہ کر گویا ہوائوں کے دوش پر گیلری و برآمدہ عبور کرکے صوفیہ کے کمرے کے قریب پہنچا تھا۔ وہاں بھی ہر طرف نیم اندھیرا تھا کمرہ اندر سے لاکڈ تھا۔
اس نے دروازہ ناک کیا ایک… دو… تین… چار بار مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا تھا۔
/…٭٭…/
بیڈ پر کروٹیں بدلتے ہوئے بھی نیند آنکھوں سے اوجھل تھی ذہن ریشم کے تاروں کی مانند الجھ کر رہ گیا تھا بابر اور عاکفہ ایک عرصے سے انشراح کی طرف سے اس کا دل صاف کرنے کی سعی میں لگے ہوئے تھے کہ وہ جس طرح کے خیالات اس کے بارے میں قائم کیے ہوئے تھا ان کو ناگوار گزرتے تھے آج نامعلوم دل کو اس کی آنکھوں میں چھائی اداسی و حزن سے کچھ ایسی انسیت محسوس ہوئی تھی کہ وہ انجانے میں اس کے متعلق سوچنے لگا اس کو لگا ان چراغوں کی مانند روشن آنکھوں میں لو دیتا حزن آمیز دکھ و رنج شناسا ہے‘ اس کے اندر بھی تو ایسی ہی اداسی و حزن کی آگ سلگتی رہتی ہے عاکفہ نے بتایا تھا۔
انشراح کے والدین اس کے بچپن میں فوت ہوگئے تھے اس کی نانی نے اس کی پرورش کی ہے وہ اپنی نانی کے ساتھ ہی رہتی ہے، پیرنٹس کے نہ ہونے کا دکھ کیسا ہوتا ہے اس درد سے وہ بخوبی واقف تھا اور آج ایسا ہی کرب وہ اس کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھ چکا تھا۔ مشترکہ دکھ ہو یا خوشی باہم روابط پیدا کردیتا ہے اور وہ بھی اس کے دکھ سے اچانک ہی واقف ہوا تھا اور غیر ارادی طور پر محسوس کرتا چلا گیا تھا‘ جب دل احساس کی دولت سے مالا مال ہوجائے تو پھر غلط اور صحیح کی تمیز بھی ہونے لگتی ہے‘ زیادتیوں کا خیال بھی آنے لگتا ہے اس کو بھی اپنی ساری غلطیاں و ناروا سلوک یاد آیا تو دل پر بوجھ بڑھتا چلا گیا تھا۔
’’سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرنے لگتا ہے اور میرے خیال میں عورت سانپ سے بھی زہریلی اور خطرناک ہوتی ہے میرے پاپا کو بیوی کے روپ میں ایک ناگن نے ڈسا اور اسی ناگن نے ماں کے روپ میں مجھے‘ عورت ذات پر اعتبار کرنے کے قابل نہ چھوڑا۔‘‘ کروٹیں بدل بدل کر سکون نہ ملا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور کھڑکی کھول کر باہر آسمان کی طرف دیکھنے لگا جہاں سیاہ آسمان پر اوائل ماہ کا چاند چمک رہا تھا ہوائیں پُرکیف تھیں اور ماحول میں گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔
’’اب محسوس ہوا ہر عورت کا مزاج علیحدہ ہوتا ہے ہر عورت صرف ڈسنا نہیں جانتی‘ ایسی عورتیں اپنے ہی غم میں گھلتی رہتی ہیں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آج بابر کی نکاح کی تقریب کا وہ منظر گھومنے لگا جب بابر کی والدہ نے شگون کے طور پر پہنائے جانے والے کنگن اس کو دیتے ہوئے پہنانے کا کہا تھا اور اتفاق ہی تھا کہ اس وقت اسے کسی نے پکارا تھا اور وہ معذرت کرتی ہوئی چلی گئی تھی پھر وہ تمام رسوم کی ادائیگی تک وہاں نہیں آئی تھی بابر کے ساتھ ساتھ اس نے بھی یہ بات شدت سے نوٹ کی تھی۔
’’عاکفہ کہتی ہے آپ اس کی بیسٹ فرینڈ ہی نہیں بہن بھی ہیں اس ناطے آپ کو اتنے خاص موقع پر عاکفہ کو تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔‘‘ رسموں کے اختتام پزیر ہوتے ہی وہ کہیں سے نمودار ہوئی تو بابر نے شکوہ کرنا حق سمجھا تھا۔
’’عاکفہ تنہا کہاں تھی… سب ہی لوگ یہاں موجود تھے۔‘‘ وہ مسکرا کر گویا ہوئی تھی۔
’’سب لوگوں میں آپ نہیں تھیں۔‘‘
’’میرا ہونا ضروری بھی نہیں تھا۔‘‘
’’یہ آپ کہہ رہی ہیں جس کو وہ سب سے زیادہ چاہتی ہے؟‘‘
’’یہ میری چاہت کے ہی کچھ انداز ہیں۔‘‘
’’آپ از خود دوست کی خوشیوں سے دور ہوگئی تھیں؟‘‘
’’جی ہاں تاکہ اس کی خوشیوں کو میری نظر نہ لگے۔‘‘ اس کے مسکراتے لہجے میں دکھ کی دبی ہوئی کوئی چنگاری بھڑکی تھی جس نے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے نوفل کو چونکا دیا تھا۔
’’میں نہیں چاہتی میری حرماں نصیبی کی معمولی سی رمق بھی عاکفہ پر پڑے اور اپنی سیاہ بختی کے اثر سے بچانے کے لیے مجھے منظر سے غائب ہونا پڑا تھا۔‘‘ اس کی مسکراہٹ خاصی گھائل تھی۔
بابر ہی نہیں وہ خود بھی دم بخود رہ گیا تھا اور پھر وہ گاہے بگاہے اس کی نگاہوں کے حصار میں رہی تھی اور وہ غیر محسوس انداز میں اس کو سوچتا ہی چلا گیا تھا‘ وہ اپنے اس تغیر کو کوئی نام نہ دے سکا تھا۔ تنہا رات میں اداس چاند کو اس کی نگاہیں تک رہی تھیں‘ نیند اسی طرح آنکھوں سے اوجھل تھی سمجھ نہیں پارہا تھا زندگی نے اب یہ کون سا رخ بدلا ہے۔
/…٭٭…/
سرد موسم میں وہ پسینے میں شرابور ہوگیا تھا چوہے مار دوا کا تازہ رپیر اس کے ذہن کی اسکرین پر گویا فریز ہوکر رہ گیا تھا وہ جانتا تھا عروہ اور خالہ رضوانہ کی لگائی گئی آگ نے سب کچھ جلا کر رکھ دیا ہے اور اگر صوفیہ پھوپو اور سودہ کو کچھ ہوجاتا ہے تو… شدید بے چینی و اضطراب نے اس پر حملہ کیا اور وہ دروازے پر دستک زور دار آواز میں دیتا چلا گیا تھا جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکالا تھا۔
’’زید…‘‘ صوفیہ نے ہکابکا انداز میں سامنے پریشان انداز میں کھڑے زید کو دیکھ کر کہا اور وہ کوئی جواب دیے بنا ان کو دونوں بازوئوں سے پکڑ کر نرمی سے ایک طرف کرتا ہوا آگے بڑھا تھا۔
سودہ چائے کا مگ منہ تک لے جانا چاہتی تھی کہ اس کو جارحانہ انداز میں آتے دیکھ کر ساکن رہ گئی تھی۔ زید نے برق رفتاری سے آگے بڑھ کر سودہ کے ہاتھ سے مگ لے کر کھڑکی سے باہر پھینکا اور ساتھ ٹیبل پر رکھا دوسرا مگ بھی کھڑکی سے باہر اچھال کر کھڑکی کا شیشہ برابر کرکے پردہ درست کیا اور صوفیہ کے بیڈ پر بے دم انداز میں بیٹھ گیا… جذبات سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا گہرے گہرے سانس لے کر وہ خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا‘ سودہ کے بے تحاشا سرخ و سوجھے ہوئے چہرے پر ایک کے بعد دوسری نگاہ نہ ڈالی گئی تھی‘ ماں کی جارحانہ و منتقم مزاجی سے واقف تھا مگر وہ بنا پوچھ گچھ کے ایسی ظالمانہ کارروائی کریں گی یہ گمان نہ رکھتا تھا سودہ بھی ایک دم سمٹ کر بیٹھ گئی تھی اور ساتھ ہی چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا گویا وہ اس کا چہرہ دیکھنے کی متمنی نہ تھی۔
’’پھوپو جان۔‘‘ وہ ان کے قریب آکر بیٹھیں تو وہ دھیمے سے بولا۔
’’کیا کرنے جارہی تھیں آپ، آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے؟‘‘
’’زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں… آج ہم پر بھی ایسا وقت آگیا تھا کہ یہاں زندگی سے زیادہ موت عزیز ہوگئی ہے۔‘‘ ان کا چہرہ بھی بے تحاشا رونے کی گواہی دے رہا تھا بکھرا ہوا لہجہ، ٹوٹے ہوئے اعصاب و شکستہ لب ولہجہ غمازی تھے اس امر کی کہ وہ پوری طرح سے ہمت و حوصلہ ہار بیٹھی ہیں۔
’’میں نے آپ کو زندگی کے کٹھن لمحوں میں بھی ثابت قدم پایا ہے اور آج آپ خود اپنی ہی نہیں سودہ کی بھی زندگی دائو پر لگا رہی تھیں۔‘‘ اس کے انکشاف پر وہ ذرا بھی متعجب نہ ہوئی تھیں شاید ذہنی اور جذباتی طور پر وہ بری طرح مفلوج ہوکر رہ گئی تھیں۔
’’اگر اتفاقاً میں کچن میں کافی بنانے نہ جاتا اور میری نگاہ چوہے مار دوا کے ریپر پر نہ پڑتی اور یہ بھی اللہ کی مدد ہوئی کہ اسی وقت بوا کچن میں چلی آئی تھیں اور ان کی زبانی ہی پتا چلا کہ کچھ عرصہ قبل آپ وہ دوائی لائی تھیں اور میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ آپ چند لمحوں قبل ہی چائے پکا کر لے گئی ہیں۔‘‘ وہ بولتے ہوئے بے ربط ہورہا تھا صوفیہ بے حس و حرکت بیٹھی تھیں۔
’’بوا کے بتانے پر مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ آپ یقینا وہ چوہے مار زہر چائے میں ملا کر لے گئی ہیں اور پہلی بار مجھے معلوم ہوا کہ میرے دل میں آپ کے لیے کتنی محبت ہے۔‘‘ اس کے انکشاف پر سودہ نے پلٹ کر ماں کی طرف دیکھا… استعجاب و تحیر سے پھٹی پھٹی آنکھیں تھیں اس کو معلوم نہ تھا ماں کی محبت سے لانے والی چائے میں زہر ملا ہوا ہے تب ہی انہوں نے کہا تھا چائے پی لو سارے دکھ درد ہمیشہ کے لیے دور ہوجائیں گے۔
’’آپ کو یقین نہیں آئے گا پھوپو آپ سوچ رہی ہوں گی میں آپ کی دلجوئی کررہا ہوں، مسکے لگا رہا ہوں کیونکہ آج سے قبل میں نے آپ سے اس طرح سے بات ہی نہیں کی۔‘‘ زید کی گمبھیر آواز گونجی۔
’’آج ہر رشتے پر اعتبار ختم ہوگیا ہے بیٹا آج جس طرح سے عزت تار تار ہوئی ہے بھابی کے ہاتھوں، اس نے ہر امنگ‘ ہر لگن کو چور چور کردیا ہے‘ میں نے ہمیشہ تمہارے اور سودہ کے درمیان حجاب رکھا کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی تمہارے اور سودہ کے مابین کوئی بے تکلفی ہو جو عموماً ایک گھر میں رہنے والے کزنز کے درمیان ہوجاتی ہے اور عمرانہ بھابی اس کو کوئی غلط رنگ دیں اور بھابی نے اس عمر سے ہی پہرے لگانے شروع کردیے تھے جب تم دونوں ہی ان جذبوں سے ناواقف تھے اور آج نوبت یہاں تک آگئی کہ میں بیٹی کی عزت و سلامتی کی خاطر خودکشی جیسا حرام فعل اپنانے پر بھی مجبور ہوگئی تھی میں کیا کروں، کہاں جائوں اللہ کے پاس جانے کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں ہے‘ ہر دو دن بعد سودہ کے کردار پر اٹھنے والی عمرانہ بھابی کی انگلی اور زبان مجھے خوف زدہ کرچکی ہے ایسے میں ہمارا مر جانا ہی بہتر ہے۔‘‘ وہ بے آواز رونے لگی تھیں۔
زید نے آگے بڑھ کر ان کو سینے سے لگالیا اور وہ بھی ایک عرصے بعد اس کے سینے پر سر رکھ کر خوب روئی تھیں زید نے کل رات پیش آنے والی غیر متوقع صورت حال اور عروہ کا ان دونوں کو سلپ ہوتے دیکھنا اور مما کے کان بھرنے والی تمام باتیں مناسب انداز میں بتادی تھیں عروہ کا اپنے کمرے میں آنے اور فضول باتیں کرنے کو وہ دانستہ گول کر گیا تھا کہ ان باتوں سے اس کے دل کا بھید بھی عیاں ہوتا اور وقار مجروح ہوجاتے یہ اس کو کسی طور بھی قبول نہ تھا۔
’’میں مما کی طرف سے آپ سے معافی مانگتا ہوں آپ بھی پرامس کیجیے کہ پھر کبھی ایسا نہیں کریں گی وگرنہ اس گھر سے دو نہیں کئی جنازے اٹھیں گے۔‘‘ وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
/…٭٭…/
ساریہ کو کراچی آئے ایک ماہ ہوچکا تھا اور اس عرصے میں اس کا زیادہ وقت لاریب کے ساتھ ہی گزر رہا تھا ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی وہ جانے کا نام نہیں لے رہی تھی نہ ہی ابھی اس کے پیرنٹس ورلڈ ٹور سے واپس آئے تھے لاریب کی فطرت میں ہرجائی پن تھا متلون مزاجی تھی جو اس کو ایک جگہ ٹھہرنے کی اجازت نہ دیتی تھی۔ وہ باغ باغ گھومنے اور پھول پھول منڈلانے والا بھنورا تھا ایک جگہ ٹھہرنا اس کو جمود کا شکار کرتا تھا اور جمود تو گویا موت کا نام ہے بھری جوانی میں موت کا تصور بھی اس کے لیے محال تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اب ساریہ کی کمپنی میں بوریت محسوس کرنے لگا تھا۔ اگر ساریہ سے بھی اس کے دوسری لڑکیوں جیسے تعلقات ہوتے تو وہ بخوشی اس کی واپسی تک اس کو برداشت کرلیتا مگر اس کے ساتھ تعلقات نبھانے میں اس نے بے حد محتاط روی و تحمل کا مظاہرہ کیا تھا کہ معلوم تھا نوفل بے شک ساریہ کو اس نظر سے نہیں دیکھتا تھا جس نظر کی وہ خواہش مند تھی مگر اس کی ایسی ویسی نظر وہ برداشت کرنے کی اہلیت بھی نہ رکھتا تھا اسی خوف سے وہ مذاق میں بھی اس کو ٹچ تک نہ کرتا تھا اور اسی بندش نے اس کو پھر سے باہر کی راہ دکھانی شروع کردی تھی، باہر اس کی فی الوقت ایک ہی کمزوری تھی جس کو حاصل کرنے کے وہ کئی پینترے‘ کئی حربے استعمال کرچکا تھا اور ہر بار اس چڑیا کو شکار کرنے میں ناکام رہا تھا۔
لیکن وہ بھی تہیہ کرچکا تھا کسی طرح بھی انشراح کو گرفت میں لانے کا‘ اس کو معلوم تھا یہ آسان کام نہیں مگر مشکل کام کرنے میں ہی مردانگی تھی اور وہ ویسے بھی بہت مشکل پسند مرد تھا۔ چوکیدار نے اس کی گاڑی دیکھ کر پہلے اندر سے اجازت لی تھی پھر اس کو جانے دیا تھا جہاں آرأ لائونج میں ہی بیٹھی تھیں۔
’’آئو، کیسے آنا ہوا؟‘‘ وہ سرد و سپاٹ لہجے میں بولیں۔
’’ارے اتنی خفگی، بیٹھنے کا بھی نہیں کہیں گی؟‘‘
’’ٹائم نہیں ہے ایک پارٹی میں جانا ہے۔‘‘
’’اوہ، کیسا وقت آگیا، پارٹی ہم سے زیادہ عزیز ہوگئی ہے آنٹی؟‘‘ جہاں آراء کے بگڑے تیوروں سے نو لفٹ کی صدائیں آرہی تھیں وہ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کررہی تھیں اگر اس میں ذرا بھی حمیت ہوتی تو وہ ایک لمحہ بھی وہاں نہ ٹھہرتا، مگر وہ گھاگ شکاری تھا شکار پکڑے بغیر جال اٹھانے والا نہ تھا۔
’’لاریب تمہاری وجہ سے انشی موت کے منہ میں جاتے ہوئے بچی ہے میں نہیں چاہتی پھر ایسی کوئی بات ہوجائے بہتر یہی ہے، تم اس کو بھول جائو۔‘‘ وہ روکھے انداز میں بولیں۔
’’بھول جائوں… کیسے بھول جائوں، پیار کرتا ہوں انشی سے۔‘‘
’’شٹ اپ… خوب اچھی طرح جانتی ہوں تم جیسے مردوں کا پیار۔‘‘
’’یہی تو آپ کی غلط فہمی ہے آنٹی۔‘‘ اس کے لہجے میں یک دم اداسی سمٹ آئی تھی۔
’’آپ مجھے ان مردوں جیسا سمجھتی ہیں جو رات کے اندھیرے میں پیار کا راگ الاپتے ہیں اور دن کی روشنی میں بھول جاتے ہیں۔‘‘
’’ٹائم ویسٹ مت کرو پلیز، اپنا نہ میرا چلے جائو انشی تم سے پیار نہیں کرتی اس کو تمہاری پرچھائیں سے بھی چڑ ہے اور پیار وہ جذبہ ہے جو زبردستی حاصل کرنے والا بے مراد رہتا ہے۔‘‘
’’انشی سے زیادہ خفا آپ لگ رہی ہیں آنٹی، ایم سوری اس دن میں نے آپ سے بے حد بدتمیزی کی تھی‘ آئی سویئر میں ہوش میں نہیں تھا‘ میں آج بھی گلٹی فیل کرتا ہوں اپنے اس ایٹی ٹیوڈ کی…‘‘ وہ تیزی سے اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
’’ارے رے… یہ کیا کررہے ہو…‘‘
’’آپ جب تک معاف نہیں کریں گی میں آپ کے قدموں سے نہیں اٹھوں گا خواہ آپ مجھے ٹھوکر مار دیں یا دھکے۔‘‘ وہ ان کے قدموں سے لپٹ گیا۔
اس کے انداز سے خجالت و شرمندگی محسوس ہورہی تھی جہاں آرأ نے بہت کچھ کہہ کر اس کی گرفت سے اپنے پائوں چھڑانے چاہے تھے مگر وہ تو گویا اپنے گناہوں کی معافی لے کر ہی اٹھنا چاہتا تھا۔ عجیب انکساری تھی، غضب کی سعادت مندی تھی جہاں آرأ کو معاف کرنا ہی پڑا۔
/…٭٭…/
’’میں تم کو نکاح کی خوشی میں ایک گرینڈ پارٹی دینا چاہتا ہوں تم بتائو کب اعزاز بخشو گے۔‘‘ وہ فری پریڈ میں ساتھ بیٹھے تھے معاً نوفل نے دعوت دی تو وہ مسکرا کر گویا ہوا۔
’’ابھی کیسی پارٹی یار، پارٹی شارٹی شادی کے بعد ہی لیں گے۔‘‘
’’جب بھی لے لینا مجھے کوئی اعتراض نہیں… میں اب بھی پارٹی دوں گا۔ تمہاری خوشی سلیبریٹ کرنے کا حق میرا بھی ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر چمکتی خوشی کے رنگ میں وفا کی مہک تھی۔
’’تمہاری خوشی میں خوش ہوں تم جب کہو میں پارٹی اٹینڈ کرنے کو تیار ہوں، مگر ایک شرط میری بھی ہوگی۔‘‘ رضا مندی کے ساتھ ہی اس نے شرط بھی رکھی۔
’’کیسی شرط…!‘‘ وہ متعجب ہوا۔
’’پارٹی میں صرف ہم چاروں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’چار…! چاروں کون؟‘‘
’’میں‘ عاکفہ، انشراح اور تم…‘‘
’’انشراح…!‘‘ وہ چونک کر زیرلب بڑبڑایا۔
’’ہاں انشراح کیا اس کو بلانا نہیں چاہو گے آئی نو، عاکفہ اس کے بغیر نہیں آئے گی وہ اس کو کتنا چاہتی ہے یہ تم بھی جانتے ہو۔‘‘
’’کیا وہ میرے بلانے سے آجائے گی۔‘‘ اس کے دل میں چھپا خوف زبان پر آگیا تھا بہت مشکل ہوتا ہے اپنی انا کو زیر کرنا اور وہ اس مشکل میں گرفتار تھا ان دنوں۔
’’میں نے بہت زیادتیاں کی ہیں اس کے ساتھ اب ممکن نہیں ہے کہ وہ میرے خلوص پر اعتبار کرسکے۔‘‘ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
اس کا یوں اپنی زیادتیوں کا اعتراف کرنا بابر کے لیے خوشگوار حیرت تھی وہ اس کے بدلتے جذبات سے بے خبر تھا۔
’’تم نے کیا کہا تمہیں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا ہے…! یہی کہا ہے نا تم نے، مجھے سننے میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی ہے ناں؟‘‘
’’یہی کہا ہے میں نے ماما نے یہی تعلیم دی ہے کہ اگر انجانے میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوجائے تو ایکسیپٹ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ بابر کی نگاہوں میں معنی خیزی دیکھ کر وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’یہ تمہاری اعلیٰ ظرفی ہے تم نے دیر سے ہی سہی، مگر اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا غلط کو غلط مانا ایسے ہی احساسات زندگی کو آسان بناتے ہیں ویسے بھی تم نے لائف میں اسٹریگل کی ہے‘ جذباتی رشتوں کے حوالے سے اب تمہیں کوئی اپنے حوالے سے بہترین فیصلہ کرنا ہوگا۔‘‘
’’بات کیا ہورہی تھی اور تم کہاں لے گئے۔‘‘
’’تمہاری اس پوزیٹیو اپروچ نے مجھے خاصا ریلیکس کیا ہے فیل ہورہا ہے تم زندگی کی ضرورتوں کو سمجھنے لگے ہو۔‘‘
’’زندگی کی ضرورتوں کو میں پہلے ہی سمجھتا ہوں تم نامعلوم کیا سمجھ رہے ہو میں نے پارٹی کی بات کی ہے اور تم نے بات کو کہاں سے کہاں گھما ڈالا… اب تم فائنل کرو کب فری ہوگے؟‘‘ اس کے گداز لہجے میں یک دم ہی سنجیدگی در آئی تھی اور بابر گہری سانس لے کر رہ گیا تھا وہ یہ سوچ کر خوش ہورہا تھا کہ شاید پتھر میں جونک لگ گئی ہے مگر وہ پتھر پتھر ہی رہا تھا۔
/…٭٭…/
میں ہنس کر جھیل لیتا ہوں جدائی کی سبھی رسمیں
گلے جب اس کے لگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
نہ جانے ہوگیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
دوسرے دن گھر میں ایسی خاموشی چھائی ہوئی تھی جیسی طوفان گزرنے کے بعد چھا جاتی ہے آج سب نے معمول کے خلاف اپنے اپنے کمروں میں ناشتہ کیا تھا کسی میں بھی ہمت نہ تھی ایک دوسرے سے نگاہ ملانے کی… پر عمرانہ کو اپنے ظلم کا احساس تک نہ تھا وہ بیدار ہوتے ہی رضوانہ کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگی تھیں موڈ ان کا بری طرح آف تھا۔ وہ گھر کے دوسرے افراد کے علاوہ زید سے بھی بات نہیں کررہی تھیں زید جو صوفیہ کی جذباتی حرکت کے بارے میں سوچ سوچ کر رات بھر سو نہ سکا تھا صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد وہ لان سے گزرا تو صوفیہ کے کمرے کے باہر کھڑکی کے نیچے کا منظر دیکھ کر وہ شاکڈ رہ گیا تھا۔ اس کے رات باہر پھینکے گئے مگ وہاں ٹوٹے ہوئے تھے اور قریب ہی ایک بلی مری پڑی تھی جو یقینا ان ٹوٹے ہوئے مگ سے بہنے والی چائے پی کر ہلاک ہوئی تھی کئی لمحوں تک وہ مری ہوئی بلی کو دیکھتا رہا اور ذہن میں بہت کچھ گڈمڈ ہونے لگا تھا۔
بالآخر بوجھل قدموں سے وہاں سے ہٹا اور چوکیدار سے اپنی نگرانی میں وہاں سے صفائی کرائی تھی اور گھر والوں کی بیداری سے قبل ہی وہاں سے تمام نشانات مٹا دیے تھے۔
پہلی بار اس کو اپنی ماں کی خود غرضی و بے حسی بری لگی تھی کل تک وہ اپنی ماں کو بے قصور مظلوم و دنیا کی ستائی ہوئی عورت سمجھتا تھا جس کے ساتھ اس کے باپ اور پھوپو نے ظلم کیا تھا اس کے بسے بسائے گھر کو اجاڑنے میں بقول مما کے صوفیہ کا بھرپور ہاتھ تھا۔ وہ قدرت کے فیصلے پر اجڑ کر آئی تھی مگر اس گھر پر اپنی حاکمیت جمانے کے لیے اس نے دوسری عورت لانے کے لیے بھائی کو مجبور کیا تھا۔ ایسی ہی زہریلی باتیں تھیں جو بچپن سے وہ سنتا آیا تھا اور صوفیہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوتی چلی گئی تھیں۔ لیکن وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو دھیرے دھیرے ساری سچائی اور حقیقت پرت در پرت کھول کر دکھا دیتا ہے رفتہ رفتہ وہ بھی لہجوں رویوں کو جج کرنے لگا تھا کھرا اور کھوٹا پرکھنا سیکھ گیا تھا۔ وقت نے ثابت کردیا تھا صوفیہ پھوپو زبان کی کڑوی ہونے کے ساتھ دل کی صاف اور بھلی عورت ہیں جو بات ان کے دل میں ہوتی تھی وہ ہی بات زبان پر بھی آتی تھی وہ غصہ ور تھیں مگر منافق نہ تھیں۔ وہ صفائی کروا کر اپنے کمرے میں آگیا تھا بوا ناشتہ لے کر آئیں تو چائے پینے سے بھی انکار کردیا تھا کہ دل عجیب کیفیت کا شکار ہورہا تھا بوا جو اس سے اصرار نہ کرسکیں کہ وہ اس کے غصے سے ہمیشہ ہی خائف رہتی تھیں۔
عمرانہ اور مائدہ کے علاوہ سب نے ہی برائے نام ناشتہ کیا تھا جبکہ ان دونوں نے خوب ڈٹ کر فراخدلی سے ناشتا کیا اور ناشتا کرنے کے بعد عمرانہ زید کے کمرے میں چلی آئی تھیں۔
’’میں یہ گھر چھوڑ کر جارہی ہوں، ہمیشہ کے لیے۔‘‘ وہ آتے ہی جارحانہ لہجے میں بنا تمہید گویا ہوئیں۔
’’گھر چھوڑ کر جا رہی ہیں لیکن کیوں؟‘‘ ان کا چہرہ دیکھ کر سارا غصہ و بدگمانی ہوا میں تحلیل ہوگئی تھی۔
’’تاکہ آپ کو عشق و عاشقی کا کھل کر مظاہرہ کرنے کا موقع مل سکے۔ زید آپ نے بجیا کے سامنے مجھے نگاہ اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔‘‘ وہ یکلخت دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگیں۔ ’’میں نے آپ کو کیا سمجھا اور آپ کیا نکلے؟‘‘
’’آپ ہر بار کیوں دوسروں کی لگائی گئی آگ میں جلنے لگتی ہیں… مما آپ کو سب پر اعتبار ہے اگر نہیں ہے تو صرف اپنے بیٹے پر نہیں۔‘‘ وہ ان کے قریب بیٹھ کر شکستہ لہجے میں گویا ہوا۔
’’کس طرح اعتبار کروں، جتنا میں تم کو اس ناگن سے دور رکھنے کی سعی کرتی ہوں تم اتنا ہی اس کے قریب جاتے ہو۔‘‘
’’جو آپ کو عروہ نے بتایا وہ سچ نہیں تھا میرا پائوں سلپ ہوگیا تھا اور میں خود کو سنبھال نہیں پایا تھا۔‘‘
’’ہوں بالکل اپنے باپ کی طرح پھسلنے کی عادت ہے تمہاری بھی، تمہارا باپ بھی گرا تھا اور گندگی میں ڈھیر ہوگیا تھا اور تم بھی۔‘‘ وہ آنسو صاف کرکے غصے سے غرائیں۔
’’مما پلیز… آپ حقیقت کی عینک سے سچائی کو کیوں نہیں پرکھتی… آپ کو عروہ کی باتوں پر یقین ہے اور میری باتوں پر نہیں ہے؟‘‘
’’کس طرح یقین کروں، وہ بارش والی رات جب گھر میں سودہ اور آپ کے علاوہ کوئی اور نہ تھا آپ نے اس کے ساتھ ایک روم میں گزاری تھی یا نہیں؟‘‘ ان کے عامیانہ انداز پر اس کے ہونٹ بھینچ کر رہ گئے تھے۔
’’چپ کیوں ہیں جواب دیں اس کے علاوہ بھی میں نے آپ کو اس کے ارد گرد منڈلاتے ہوئے دیکھا ہے اور ابھی کا واقعہ تو بالکل ہی تازہ ہے جو عروہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘
پرپل اینڈ یلو ایمبرائڈی سوٹ میں سروقد کھڑی ماں کا قد اس کو بہت چھوٹا دکھائی دیا‘ ڈائی کیے گولڈن بالوں کے درمیان چہرہ سیاہ لگنے لگا تھا‘ وہ کیسی ماں تھیں جو اس سے بدگمانی و بے اعتباری میں کسی دشمن کا کردار ادا کررہی تھیں‘ وگرنہ ماں وہ ہستی ہے جو دنیا بھر کے عیبوں سے داغدار اولاد کو بھی اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے‘ اس کے کردار کی‘ اس کی بری حرکات کی کسی کو خبر نہیں ہونے دیتی‘ ہر مشکل وقت و کٹھن لمحات میں اولاد کے آگے سینہ سپر ہوجاتی ہے‘ مر جاتی ہے‘ مٹ جاتی ہے، فنا ہوجاتی ہے۔
’’بس… اگر مجھے اس گھر میں رکھنا ہے میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ کو آج ہی عروہ سے نکاح کرنا ہوگا، اس صورت حال میں آپ کو معاف کرسکتی ہوں وگرنہ…!‘‘ انہوں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہنا شروع کیا۔
’’آپ جانتے ہیں میں کتنی ضدی اور ہٹ دھرم عورت ہوں اپنی انا مجھے ہر رشتے سے پیاری ہے مدثر نے آپ کی طرح غلطی کی میں نے اس کی طرف مڑ کر دیکھنا گوارا نہ کیا اور اگر آپ نے میری بات نہیں مانی تو میں مرنے کے بعد بھی آپ کو اپنی صورت نہ دکھانے کی وصیت کرکے جائوں گی اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔‘‘
/…٭٭…/
بابا رحمت یوسف صاحب کے والد کے دوست تھے‘ ان کا تعلق بھی ایک دولت مند گھرانے سے تھا‘ کسی وقت میں انہوں نے لو میرج کی تھی شادی کے چند ہفتوں بعد ہی ان کی بیوی ایک حادثے میں ہلاک ہوگئی تھی اور ساتھ ہی ان کے دل کی دنیا بھی تاریک کر گئی تھی۔ ایک عرصے تک وہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہوکر در در کی خاک چھانتے رہے تھے پھر جیسے ہی جدائی کے زخم سے لہو رسنا بند ہوا وہ حواسوں میں لوٹنے لگے اور گھر والوں نے بہت چاہا کہ وہ پھر سے شادی کرلیں، مگر عشق مزاجی ان کو عشق حقیقی تک لے گیا تھا جب عشق حقیقی سے لو لگ جائے تو پھر دنیا اور دنیا کی محبت بے کیف ہوجاتی ہے ان کو عشق الٰہی کی ایسی دولت میسر آئی تھی کہ دنیا کی دولت کو ٹھوکر مار کر درویشانہ زندگی گزار رہے تھے۔
ایک طویل عرصے بعد وہ یوسف صاحب سے ملنے آئے تھے اور یوسف صاحب نے بڑی محبت و عقیدت سے انہیں وہاں چند دن قیام کے لیے روک لیا تھا ان کے پُرخلوص اصرار پر وہ مزید انکار نہ کرسکے تھے۔ رات کھانے کے بعد قہوہ کا دور چلا تھا اور یوسف صاحب پھر ان کو لے کر اس کمرے میں آگئے تھے جو کبھی ان کے والد مرحوم آصف صاحب کے زیر استعمال ہوا کرتا تھا۔
’’ارے یہ کیا کررہے ہو بیٹا؟‘‘ یوسف نے ان کے قریب آکر پائوں دابنے شروع کیے تو وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے شفقت سے گویا ہوئے۔
’’بابا جان کی ایسی خدمت کرنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا کہ ان دنوں وزارت کے عہدے کے باعث اپنوں میں ٹھہرنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ اب اس سعادت حاصل کرنے کا قیمتی وقت مجھ سے نہ چھنیں۔‘‘ وہ حلاوت آمیز لہجے گویا ہوئے۔
’’آصف کو اللہ نے عمر ہی اتنی عطا کی تھی۔ یہ زندگی ٹرین کے جیسی ہے اسٹیشن آتے جاتے ہیں لوگ اپنے اعمالوں کی گٹھڑیاں اٹھا اٹھا کر اترتے رہتے ہیں ہمارا اسٹیشن بھی جلد آنے کو ہے۔‘‘ ان کا جسم کانپ اٹھا اور آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
’’بابا جان آپ موت سے خوف زدہ ہورہے ہیں۔‘‘ یوسف صاحب کو دھچکا لگا تھا ان کی عبادت و ریاضت سے وہ بخوبی واقف تھے پھر موت سے ڈر کیا معنی رکھتا تھا۔
’’موت سے کیسا ڈر بیٹا، ڈر تو اپنے اعمالوں سے لگتا ہے سوچتا ہوں سیاہ اعمالوں کی گٹھڑی کے ساتھ کس طرح اس رب کا سامنا کروں گا؟ اس رب کی رحمتیں، برکتیں، نوازشیں ہم گناہ گاروں پر بے حساب برستی ہیں اور ہم تو سیاہ کار ہیں جو عبادت بھی گن گن کر کرتے ہیں۔‘‘ کہتے ہوئے وہ بے اختیار رونے لگے۔
نامعلوم یہ ان کی نیک صحبت کا اثر تھا یا ان کا دل بھی کسی ایسے ہی اپنے کی تلاش میں تھا جس کے آگے آنسو بہاتے ہوئے کسی شرمندگی و ندامت کا احساس نہ ہوسکے دونوں ہی بے خودی کے عالم میں رو رہے تھے بابا جان کی آنکھیں بند تھیں سفید ریش آنسوئوں سے تر ہونے لگی تھی وہ دبلے پتلے لمبے قد کے مالک تھے رنگت صاف اور سفید چہرے پر جاہ و جلال کی سرخی نے رعب پیدا کیا ہوا تھا۔ دائیں ہاتھ میں ان کے سبز رنگ کی تسبیح تھی جس کے دانے وقفے وقفے سے گر رہے تھے کمرے میں چھائے سکون میں ان کی دھیمی دھیمی ہچکیاں ارتعاش پیدا کرنے لگی تھیں خاصی دیر بعد قلب کو قرار حاصل ہوا تو وہ یوسف صاحب کے شانے پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوئے۔
’’ایک عرصے سے بہت بے سکون و مضطرب ہو، تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں کہ مدت سے میٹھی نیند کو ترس رہے ہو۔‘‘ وہ آنکھیں بند کیے کہہ رہے تھے یوسف صاحب نے ان کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا از حد عقیدت تھی ان کے انداز میں۔
’’بالکل درست کہہ رہے ہیں بابا جان آپ، سالوں پر محیط ہے میری بے سکون و اضطراب کا سفر جوں جوں عمر بڑھ رہی ہے ویسے ویسے سکون و قرار ختم ہوتا جارہا ہے سمجھ نہیں آتا ہے دل کا سکون کہاں سے خریدوں؟‘‘
’’دل کی تاریکیوں میں جھانکنے کی کوشش کرو بیٹا خود کو ٹٹولو‘ کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں کی‘ کسی کا دل تو نہیں دکھایا، کسی کے قرض چکانے تو نہیں بھول گئے، قرض صرف روپیہ کھا ہی نہیں ہوتا اور بھی کئی طرح کے قرض ہوتے ہیں۔‘‘
/…٭٭…/
انا کی قید سے نکلے مقابلہ تو کرے
وہ میرا ساتھ نبھانے کا حوصلہ تو کرے
کبھی نہ ٹوٹنے والا حصار بن جائوں
وہ میری ذات میں رہنے کا فیصلہ تو کرے
مدثر صاحب کو ڈاکٹر بائی پاس سرجری ایڈوائز کرچکے تھے جس کو وہ ایک عرصے سے نظر انداز کرتے آرہے تھے اور نتیجتاً ان کی طبیعت دن بدن گرتی جارہی تھی کمزوری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ کئی کئی ہفتے گزر جاتے تھے سودہ اور دیگر گھر والوں سے ملنے جانا نہیں ہوتا تھا بس سب سے فون پر بات کرلیا کرتے تھے مگر سودہ سے ملنے کو ان کا دل کرتا تھا سودہ سے محبت وہ سب سے بڑھ کر کرتے تھے۔ اس کی سادگی، اخلاص، بے لوث پیار ایک عرصہ قبل ان کو گرویدہ کرچکی تھی کہ ان کی سگی اولاد کی محبت سودہ کی محبت کے آگے کمزور تھی اس کو ہمیشہ انہوں نے اپنی بہو کے روپ میں دیکھا تھا۔ زید کی اور اس کی جوڑی چاند و سورج کی جوڑی لگتی تھی ان کی خواہش پر ہی منور صاحب نے زید کے آگے سودہ کا پروپوزل پیش کیا تھا ان کو موہوم سی امید تھی شاید وہ مان جائے ان کی دلی خواہش پوری کرنے میں اپنا حق ادا کردے گھر کی بیٹی بہو بن کر گھر کے آنگن کو ہی مہکائے، لیکن جس کا اندیشہ تھا وہ ہی ہوا تھا اس نے انکار کردیا تھا اور اس کے انکار نے گویا ان کا دل کمزور کرکے رکھ دیا تھا وہ اندر ہی اندر صدمے کا شکار ہوگئے تھے۔
ابھی اس غم کو بھولے بھی نہیں تھے کہ آج منور کی کال آئی تھی کہ صوفیہ نے پیارے میاں کا رشتہ نہ صرف قبول کرلیا بلکہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کی مصداق وہ سودہ کی شادی کا اعلان بھی کرچکی ہیں، پہلے صوفیہ کا نہ ماننا شدت سے پیارے میاں کا رشتہ ٹھکرانہ اور اب آناً فاناً منگنی و شادی کی خبر نے ان کو پریشان کردیا تھا کل سے بخار ہونے کے باعث وہ وہاں جانے کی ہمت خود میں محسوس نہیں کررہے تھے مگر صوفیہ کی جلد بازی و رضا مندی انہیں کسی انہونی کا پتا دے رہی تھی صوفیہ کے فیصلے کے پیچھے کوئی اہم وجہ تھی۔ یہی بات وہ بار بار صالحہ بیگم اور شاہ زیب کے سامنے دہرا رہے تھے۔
’’پاپا آپ کو کیوں لگتا ہے پھوپو نے کسی دبائو میں آکر سودہ کے پرپوزل کو ایکسیپٹ کیا ہے؟‘‘ شاہ زیب نے ان کو پریشان دیکھ کر پوچھا۔
’’میں جانتا ہوں صوفیہ اپنی نیند کو بالکل پسند نہیں کرتی کیونکہ اس میں بہت زیادہ باتیں ایسی ہیں جو ناپسندیدہ و ناقابل برداشت ہیں‘ سودہ اس کی بہو بنے یہ بات مجھے کو بھی گوارا نہ تھی اور اب اس کا یوں رشتے کو قبول کرنا اور فوری طور پر شادی کرنے کا ارادہ کرنا مجھے کسی گڑبڑ کا احساس دلا رہا ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں کچھ ایسی بے چینی تھی کہ ان ماں بیٹے نے ایک دوسرے کی طرف الجھی ہوئی نگاہوں سے دیکھا جبکہ وہ کہہ رہے تھے۔
’’صوفیہ کو میں جانتا ہوں وہ بہن ہے میری میں اس کی نیچر سے واقف ہوں۔‘‘
’’ڈاکٹر نے آپ کو معمولی سی بھی ٹینشن لینے سے منع کیا ہے اور آپ ہیں کہ کال آنے کے بعد سے اسٹریس لیے ہوئے ہیں یہ آپ کی صحت کے لیے ذرا بھی مناسب نہیں ہے۔‘‘ صالحہ کے انداز میں تفکر تھا۔
’’میں نے کتنا چاہا تھا سودہ میری بہو بنے میں نے ہمیشہ تصور کی نگاہ سے سودہ کو زید کے ساتھ دیکھا تھا کیا خوب کپل تھا بے مثال جوڑی تھی۔‘‘ بے اختیار آنے والے آنسوئوں کا ریلا ان کی آنکھوں سے بہہ نکلا تھا صالحہ کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں۔
شاہ زیب شاکڈ سا بیٹھا باپ کو دیکھتا رہ گیا تھا بہت باوقار اور بارعب شخصیت تھی ان کی اور آج ان کو بچوں کی مانند روتے دیکھ کر وہ ٹوٹ سا گیا تھا۔
’’خواب تو پھر خواب ہی ہوتے ہیں میں نے بھی خوابوں پر بھروسا کیا اور یہ بھول گیا کہ زید ماں کے کنٹرول میں ہے اس کی حیثیت اس ریموٹ کی سی ہے جس کا سارا کنٹرول اس کی ماں کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
شاہ زیب بھرے دل کے ساتھ وہاں سے اٹھا تھا کاروباری مصروفیات کی وجہ سے سودہ کے پاس اس کا چکر بھی خاصا عرصے سے نہیں لگا تھا… وہ سیدھا پارکنگ شیڈ آیا لمحوں میں اس کی کار ہوائوں سے باتیں کررہی تھی۔
/…٭٭…/
بابر اور عاکفہ دونوں ہی پارٹی لینے کے حق میں نہیں تھے پھر آج تو بابر کے پیرنٹس بھی انگلینڈ جارہے تھے ان کی خواہش پر عاکفہ بھی ان کو سی آف کرنے ایئرپورٹ آئی تھی اور حسب عادت اس نے زبردستی انشراح کو بھی ساتھ گھسیٹا تھا۔
’’سسرال تمہارا ہے تم ہی ان فارمیلٹیز کو فالو کرو، مجھے تم کیوں اپنے ساتھ گھسیٹتی ہو ہر جگہ۔‘‘ اس نے لاکھ سعی کی وہ اس کو ساتھ نہ لے کر جائے کہ اس کے اور بابر کے درمیان اپنا وجود اس کو ان فٹ لگتا تھا۔
’’پلیز انشی وہاں بابر کی ساری فیملی ہوگی اور ابھی ان لوگوں کے درمیان مجھے شرم آئے گی تم ساتھ ہوگی تو خود کو تنہا محسوس نہیں کرو گی۔‘‘ وہ ایسی دلیلیں دے کر اسے زبردستی ساتھ لے آئی تھی مگر بابر کے ساتھ نوفل کو دیکھ کر اس پر سرد مہری سی چھا گئی تھی۔ بابر کے خاندان میں یگانگت و محبت کی مثال قائم تھی ایئرپورٹ پر اس کے چچا تایا اور پھوپوئوں کی فیملیز موجود تھیں۔
نیا رشتہ، نیا تعلق اور اس حوالے سے سب اس کو چھیڑ رہے تھے ہنسی و قہقہے تھے خوشگوار باتیں ہورہی تھیں عاکفہ کی ساس محبت سے اس کا ہاتھ تھامے سب سے اس کا تعارف کروا رہی تھیں بابر بھی ساتھ ہی تھا خوشی ان دونوں کے چہروں سے عیاں تھیں انشراح بہت خاموشی سے ان کے درمیان سے نکل کر ٹیرس پر کھڑی ہوگئی تھی۔ ارد گرد لوگوں کا جم غفیر تھا کوئی آرہا تھا کوئی جارہا تھا عجب افراتفری کا عالم تھا کہیں چہروں پر ہجر کے آنسو بہہ رہے تھے تو کہیں لبوں پر وصال کی کلیاں کھلی ہوئی تھیں وہ کھوئی کھوئی نگاہوں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ ہجر و وصال کے سکھ و دکھ چہروں پر سجائے ان تمام لوگوں میں ایک قدر مشترک تھی۔ وہ تھی اپنائیت، خلوص اور مروت ایک دوسرے کی خاطر جان دینے کا جذبہ ان کے طور و اطوار سے جھلک رہا تھا اور وہ ایسے میں خود کو تنہا اور سب سے الگ تھلگ کسی عجوبہ کی طرح محسوس کرنے لگی تھی۔
’’ایکسکیوز می۔‘‘ قریب سے نوفل کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا۔
’’کافی پلیز۔‘‘ اس کو بے حس و حرکت کھڑی دیکھ کر وہ گویا ہوا۔
’’میں نے کب کہا آپ سے کافی لانے کو؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی سرد مہری سے گویا ہوئی۔
’’انکل آنٹی کی فلائٹ لیٹ ہوگئی ہے ابھی ان کو مزید چند گھنٹے ویٹ کرنا ہوگا تب تک کافی کے بنا نہیں رہا جاسکتا۔‘‘
’’ہاں پھر آپ پییں کافی میں گھر جائوں گی اتنی دیر ویٹ نہیں کروں گی۔‘‘ وہ جتنی نرمی سے بات کررہا تھا اس کے لہجے میں اتنا ہی اکھڑپن و بے مروتی در آئی تھی اور عجیب بات تھی۔ اس کو انشراح کا یہ انداز برا نہیں لگ رہا تھا بلکہ وہ خاصا محفوظ ہورہا تھا۔
’’کافی سے کیا ناراضگی۔‘‘ بھاپ اڑاتا مگ پھر اس کی طرف بڑھایا۔
’’میں نے کب کہا کافی سے ناراضگی ہے میں پینا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ شانے اچکا کر کہتی ہوئی آگے بڑھنا چاہتی تھی معاً وہ راہ میں حائل ہوگیا‘ انداز میں بے حد پُر اعتمادی تھی۔
’’آپ میرا راستہ کیوں روک رہے ہیں؟‘‘
’’پہلے کافی پیو پھر کوئی بات ہوگی ورنہ میں یونہی کھڑا رہوں گا۔‘‘ اندر بھڑکتی غصے و انتقام کی آگ اس کے لہجے کو دہکا رہی تھی اس پر نظر پڑتے ہی اس کے اندر کوئی پکار اٹھتا کہ وہ اس شخص کو بہت عزیز ہے جس شخص نے اسے اولاد ماننے سے انکار کردیا تھا اور ٹھکرائے جانے کا درد اس کو بے کل و بے چین کررہا تھا۔
اب بھی وہ اس درد و کرب میں مبتلا بنا بات الجھ رہی تھی پھر دل نے سرزنش کی تھی کہ وہ کیوں اس کو ایٹی ٹیوڈ دکھا رہی ہے۔ قربانی کا بکرا اس کو ہی بنانا ہے انتقام کی چھری اس کے ہی گلے پر پھیرنی ہے اگر اس کو بھنک بھی پڑ گئی اپنے اور اس کے رشتے کی پھر وہ کہاں قابو میں آئے گا اپنا رویہ اس کے ساتھ بہتر رکھنا چاہیے۔
’’ایک کپ کافی میں اتنی سوچ و بچار مائی گاڈ۔‘‘ اس کے سنجیدہ چہرے پر شوخی خاصی بھلی لگ رہی تھی انشراح نے کافی لے لی اور چہرے پر نرمی چھانے لگی تھی۔
’’تھینکس آ لاٹ۔‘‘ وہ کافی کا گھونٹ بھرتی ہوئی آہستگی سے بولی۔
’’میں بدلے میں آپ کو تھینکس ہرگز نہیں کہوں گا۔‘‘
’’مجھے شوق بھی نہیں ہے آپ سے تھینکس سننے کا۔‘‘ اس کے برجستہ جواب پر وہ مسکرا اٹھا‘ پھر کافی ختم ہونے تک ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی کچھ دیر بعد وہ بابر کی فیملی کی طرف آگئے تھے جہاں عاکفہ نے اس سے کہا تھا۔
’’فلائٹ دو گھنٹے لیٹ ہے ہمیں جب تک یہیں ٹھہرنا پڑے گا۔‘‘
’’میں اتنی دیر نہیں رک سکتی، مجھے گھر جانا ہے نانو کی طبیعت ابھی بہتر نہیں ہوئی ہے اور تم تو جانتی ہو ان کو ہمارا یوں ملنا جلنا زیادہ بھاتا نہیں ہے لیٹ ہونے پر سارا وقت لیکچر سنتے گزرے گا۔‘‘
’’ہوں، ویسے بھی انہوں نے بے دلی سے اجازت دی ہے میں بابر سے معلوم کرتی ہوں شاید کسی کے ساتھ شوفر آیا ہو وہ تم کو ڈراپ کر آئے گا۔‘‘ عاکفہ پہلے ہی اس کی نانی کی بدمزاجی سے خائف رہتی تھی بابر نے بتایا کہ ڈرائیور کسی کے ساتھ نہیں ہے البتہ نوفل جارہا ہے اگر وہ چاہے تو نوفل اس کو ڈراپ کرنے کو راضی ہے اس نے چاہا فوراً انکار کردے مگر اندر سے سرگوشی ابھری۔
’’وقت اگر خود ہی راستہ بنا رہا ہے پھر وہ کیوں بے وقوفی کی راہ پر چلے۔‘‘
/…٭٭…/
شاہ زیب کو گھر کی فضائوں میں عجیب سی اداسی و خاموشی ملی تھی صوفیہ زمرد کے ساتھ سودہ کے جہیز کا سامان لینے گئی ہوئی تھیں‘ منور صاحب کسی دوست کے گھر شام کی چائے پر مدعو تھے‘ عمرانہ اور مائدہ اپنی خالہ کی طرف گئی ہوئی تھیں ایک بوا ہی تھیں جو وہاں تنہا بیٹھی تھیں اور ان کی زبانی ہی معلوم ہوا کہ کون کہاں کہاں گیا ہے وہ ان کے ساتھ لائونج میں ہی بیٹھ گیا تھا منع کرنے کے باوجود بھی بوا چائے لے آئی تھیں خلاف معمول بوا بہت چپ بیٹھی تھیں۔
’’سودہ اس وقت سوتی نہیں ہے خیریت تو ہے ناں اس کی طبیعت ٹھیک ہے۔‘‘ بوا کے بتانے پر وہ چونک کر گویا ہوا۔
’’دو تین دن سے ایسا بخار چڑھا ہے کہ اترنے کا نام نہیں لے رہا۔‘‘
’’ڈاکٹروں کو دکھایا تو ضرور ہوگا ناں؟‘‘
’’تین دن میں تین ڈاکٹر بدلے ہیں مگر بچی کو کوئی افاقہ نہیں ہورہا تین دن میں وہ تیس دن کی مریضہ لگ رہی ہے۔‘‘ بوا روہانسی ہوئیں۔
’’ارے ایسا کیا ہوگیا، اتنی بیمار کیسے ہوگئی وہ اور ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟‘‘ مارے پریشانی کے چائے کا کپ اس نے واپس رکھ دیا۔
’’ڈاکٹر کہتے ہیں کوئی شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے سودہ بیٹی کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھا جائے مگر وہ تو کیا خوش رہیں گی نہ کسی سے بولتی ہے نہ ہنستی ہے کسی مجسمے کی مانند ساکت رہتی ہیں۔‘‘
’’ایسا کیا ہوا ہے… کوئی بات ہوئی گھر میں، بوا سودہ کو کوئی ذہنی صدمہ پہنچا ہے؟‘‘ وہ ایک دم ہی پریشان ہوکر گویا ہوا تو بوا کو بھی احساس ہوا ان کو سختی سے زبان بندی کا حکم دیا گیا تھا کہ تین دن قبل ہونے والے واقعے کی مدثر صاحب اور شاہ زیب کو خبر نہیں ہونی چاہیے۔
’’نہیں، نہیں کوئی بھی بات نہیں ہوئی ہے بیٹا۔‘‘ وہ بری طرح گھبرائیں‘ سودہ اپنے کمرے میں سو گئی تھی گھر میں کوئی اور نہیں تھا وہ کس طرح شاہ زیب سے سچ کو چھپائیں۔
’’کوئی بات تو ہوئی ہے بوا آج میں نے پاپا کو روتے دیکھا ہے سودہ کی خاطر، وہ بہت مضبوط اور ضبط سے کام لینے والے بندے ہیں لیکن ایسا کچھ ضرور ہوا ہے جس کی تکلیف روحانی طور پر پاپا نے بھی محسوس کی ہے وہ ہم سب سے زیادہ سودہ کو پیار کرتے ہیں اور جن سے پیار کیا جاتا ہے ان کے سکھ و دکھ کی خبر دل سے دل کو ہوجاتی ہے۔‘‘
’’میں سودہ بیٹی کو دیکھ کر آتی ہوں اٹھی ہیں یا نہیں۔‘‘ باہر کار رکنے کی آواز آئی تو بوا تیزی سے کمرے سے نکلی تھیں اور چند لمحوں بعد زید اندر داخل ہوا تھا۔ حسب معمول وہ سلام کرتا ہوا اس سے گلے ملا تھا۔
’’کافی عرصہ بعد آئے ہو کہاں تھے اتنے دن؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے وجود کا عادی ہوگیا تھا تب ہی استفسار کر بیٹھا تھا۔
’’کچھ بزنس ایکٹیویٹیز میں بزی رہا تھا۔‘‘ دونوں ساتھ بیٹھے تھے۔
’’گڈ اپنے کام سے لگائو رکھنے والے لوگ مجھے پسند ہیں۔‘‘
’’شکریہ بھائی ایک بات پوچھوں آپ سے؟‘‘ اس کی سنجیدگی اور رکھ رکھائو والا انداز مقابل کو بے تکلف ہونے کی جسارت نہیں دیتا تھا وہ ہچکچا کر گویا ہوا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ اس کی طرف دیکھ کر گویا ہوا۔
’’پھوپو جان نے سودہ کا رشتہ پیارے میاں سے کیوں طے کیا؟ اور نہ صرف طے کیا بلکہ چند دنوں میں شادی کا ارادہ بھی ہے ان کا۔‘‘
’’وہ سودہ کی ماں ہیں اور اس کے متعلق فیصلہ کرنے کا ان کو مکمل حق حاصل ہے تمہیں کوئی اعتراض ہے اس رشتے پر۔‘‘ اس کا لہجہ خوامخواہ ہی سخت ہوا تھا۔
’’مجھے نہیں لیکن پاپا کو ہے جانتے ہیں بھائی آج میں نے پاپا کو روتے دیکھا ہے۔‘‘ شدت جذبات سے اس کی آواز بھرا گئی تھی اور وہ بے اختیار رونے لگا تھا۔
کئی لمحوں کو وہ بھی گم صم سا بیٹھا رہ گیا تھا یہ کیا کہہ رہا تھا شاہ زیب؟ اس نے اس شخص کو آج روتے دیکھا جس کو اس نے ہمیشہ بجلی کی طرح کڑکتے اور بادل کی طرح گرجتے دیکھا تھا۔
’’وہ سودہ کی خاطر رو رہے تھے‘ اس کے مستقبل کے لیے رو رہے تھے‘ آپ نے اسے نہیں اپنایا آپ کے دھتکارے جانے پر رو رہے تھے۔ اللہ کی قسم بھائی اگر میں دل کی گہرائیوں سے سودہ کو بہن نہ مان لیتا تو کبھی بھی اس کو چاند میاں کی نہ ہونے دیتا، مگر سارا قصور دل کا ہی ہے یہ اس کو بہن کے علاوہ کسی اور رشتے میں دیکھنے کا متمنی ہی نہیں ہے وگرنہ سودہ جیسی لڑکی ہر مرد کی پسند ہوتی۔‘‘
’’نصیب آسمانوں پر لکھے جاتے ہیں یہ بات ڈیڈی کو معلوم ہوگی۔‘‘
’’ارادے اور دعائیں نصیب کو بھی بدل ڈالتی ہیں۔‘‘ اس کے جواب پر وہ کچھ کہہ نہیں سکا‘ جب ہی چپ ہوکر رہ گیا تھا اور وہ جو بہت غور سے اس کی بدلتی کیفیت کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں سودہ کے ذکر پر کئی ٹوٹتے ستارے دیکھے تھے وہ اتنا بے حس و بے پروا نہیں تھا۔ جتنا سودہ کے ذکر پر دکھائی دیتا تھا۔
’’بھائی ابھی بھی وقت ہے۔‘‘ اس نے ہمت مجتمع کی۔
’’کس بات کا۔‘‘ وہ اٹھا تھا۔
’’سودہ سے شادی کرکے پاپا کی خواہش پوری کرنے کا اس کے بعد وہ آپ سے کوئی اور خواہش نہیں کریں گے۔‘‘
’’بیکار کی باتیں مت کرو شاہ زیب۔‘‘
’’یہ بیکار کی باتیں نہیں پاپا کی خواہش ہے بھائی۔‘‘
’’ہر خواہش پوری ہونے کے لیے نہیں ہوتی۔‘‘
’’آپ ہاں تو کریں اس کو بھابی بنا کر لانے کا کام میرا ہے۔‘‘
’’میں ہاں نہیں کرسکتا مجھے اس سے شادی نہیں کرنی اور پلیز اب تم اس بات کو کبھی بھی دہرائو گے نہیں۔‘‘ وہ آنکھوں میں آنے والی نمی کو چھپاتا ہوا سخت لہجے میں کہہ کر چلا گیا تھا لیکن وہ نمی اس کی آنکھوں سے مخفی نہ رہ سکی تھی کہ اس راز سے وہ ایک عرصے سے واقف تھا کہ وہ دل ہی دل میں سودہ سے محبت کرتا ہے اقرار میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی مما تھیں اور وہ ماں کی محبت میں پاگل ہوکر اپنی محبت کو آگ لگا چکا تھا کچھ لوگ صرف قربانیاں دینے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہوئے مر جاتے ہیں وہ بھی ایسے ہی بے لوث لوگوں میں سے ایک تھا اس کو اپنے بھائی پر فخر ہونے کے ساتھ ساتھ ترس بھی آیا تھا مگر ایسے لوگوں کے لیے کوئی کیا کرسکتا ہے جو خود اپنے لیے کچھ نہ کرنا چاہیں وہ گہری سانس لے کر سودہ کے کمرے کی طرف چلا گیا تھا سودہ کو دیکھ کر اس کو شاک لگا تھا وہ دوائوں کے زیر اثر بے خبر سو رہی تھی گلابی کمبل گردن تک ڈھکا ہوا تھا اس کا چہرہ بے تحاشا زرد ہورہا تھا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نمایاں تھے۔
’’بوا، یہ کیا ہوگیا ہے سودہ کو؟‘‘ وہ ان کے ساتھ باہر نکلتا ہوا بولا۔
’’پتا نہیں کیا روگ لگ گیا ہے کس ظالم کی نظر کھا گئی ہے۔‘‘
’’بوا آپ کو میری قسم ہے بتائیے کیا ہوا ہے میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو بھی نہیں بتائوں گا کہ آپ نے کوئی بات بتائی ہے۔‘‘ وہ بوا کا ہاتھ پکڑ کر التجائیہ لہجے میں گویا ہوا۔
’’کیسی بات کرتے ہو بیٹا صوفیہ بیٹی کو پتا چل گیا تو میں کہاں جائوں گی میرا کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے اس گھر کے سوا۔‘‘
’’میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگا۔‘‘ اس کے اصرار نے بوا کو مجبور کردیا اور وہ حرف بہ حرف ہر بات اس کے گوش گزار کرتی گئیں۔
/…٭٭…/
کار روانی سے سڑک پر رواں دواں تھی رات ابھی ڈھلی نہیں تھی رات کا اندھیرا بھی پر پھیلائے ہوئے تھا دھند موسم میں چھائی ہوئی تھی اسٹریٹ لائٹس کو دھند نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا سڑک پر نصب قطار در قطار لائٹس خاموش رات میں ستاروں کی مانند روشن تھیں بہت دلکش نظارے تھے وہ محویت سے ونڈو گلاس سے چہرہ ٹکائے باہر دیکھ رہی تھی کہ سڑکوں پر ٹریفک بھی کم تھا۔
’’ونڈو سے لگ کر بیٹھ گئی ہیں کیا میرے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں۔‘‘ اس کو مسلسل کھڑکی سے چپکے بیٹھے دیکھ کر وہ گویا ہوا۔ ’’یا ڈر لگ رہا ہے؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’ڈر… آپ مجھے ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘ وہ اس کی طرف پوری شدت سے متوجہ ہوئی۔
’’ڈرانے کی میری عادت نہیں۔ بٹ مجھے فیل ہورہا ہے تم مجھ سے خوف زدہ ہو ونڈو سے اس طرح چپک کر بیٹھی ہو گویا ابھی کھڑکی سے باہر نکل جائو گی۔‘‘ اس نے چڑایا۔
’’آپ اتنی بے تکلفی سے مجھے تم کہہ کر کیوں مخاطب کررہے ہیں آپ کے اور میرے درمیان ایسی بے تکلفی ہرگز نہیں ہے کہ آپ مجھے تم کہہ کر پکاریں۔‘‘ وہ اس کے انداز پر طنزیہ لہجے میں بولی۔
’’اوہ سوری… بٹ تم کہنا کوئی جرم تو نہیں…‘‘ وہ اس کی طرف دیکھتا جتانے والے لہجے میں بولا۔
’’ویسے بھی تم مجھ سے تین چار سال چھوٹی ہو۔‘‘ اس نے جواب دینے کے لیے منہ کھولنا ہی چاہا تھا کہ پیچھے سے آتی کار نے ان کا راستہ روکا تھا اور پھرتی سے تین لڑکے اس میں سے نکلے تھے اور قبل اس کے کہ وہ سنبھلتے یا سمجھتے وہ اسلحے کے زور پر ان دونوں کو کار سے باہر آنے کا اشارہ کررہے تھے اس نے گھبرا کر نوفل کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر خطرناک تاثرات تھے۔
’’آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ اس کو اسٹیرنگ پر مضبوطی سے ہاتھ جمائے دیکھ کر تیزی سے گویا ہوئی‘ اس کے تیور بری طرح بگڑے ہوئے تھے۔
’’میں اس روڈ کو ہی ان کے لیے قبرستان بنا دوں گا۔‘‘
’’یہ کرمنل لوگ ہیں فائرنگ کرنے میں لمحہ بھی نہیں لگائیں گے۔‘‘ وہ ان کو گاڑی سے ہٹ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور وہ اس کا ارادہ بھانپ کر ہراساں لہجے میں بولی تھی۔
اس اثناء میں وہ لوگ کار کو گھیرے میں لے چکے تھے اور بار بار نوفل کو باہر نکلنے کا اشارہ کررہے تھے چار و ناچار اس کو باہر نکلنا پڑا تھا۔
’’تمہیں باہر نکلنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ باہر نکلتے ہوئے بولا۔
’’ہینڈز اپ۔‘‘ ایک لڑکے نے اس کے باہر نکلتے ہی حکم دیا تھا نوفل نے شرافت سے ہاتھ اوپر کرلیے تھے۔
ایک لڑکا اس کی طرف گن تانے کھڑا تھا دوسرے لڑکے نے تیزی سے اس کی جیبوں کی تلاشی لینی شروع کردی تھی کوٹ کی جیب سے والٹ اور خاصی تعداد میں نقد رقم مل گئی تھی اس لڑکے نے اس کی بائیں کلائی سے رسٹ واچ بھی اتار لی تھی۔ وہ انشراح کی خاطر بڑے ضبط و تحمل سے اس ساری کارروائی کا شکار ہورہا تھا وگرنہ وہ اتنا آسان ہدف کبھی ثابت ہونے والا نہ تھا۔
’’باس موبائل نہیں ہے اس کے پاس باقی سامان مل گیا۔‘‘ تلاشی لینے والا لڑکا وہ سب سامان قریب چوکنا انداز میں کھڑے تیسرے لڑکے کی جیکٹ کی جیبوں میں منتقل کرتا ہوا بولا۔
’’موبائل کہاں ہے؟‘‘ وہ لڑکا غرا کر بولا۔
’’ڈیش بورڈ پر دیتا ہوں ابھی۔‘‘
’’تم کیوں زحمت کرتے ہو یہ نیک کام ہم خود کرلیں گے۔‘‘ وہ لڑکا جس کو باس کہہ کر پکارا گیا تھا مسکرا کر کار میں سراسیمہ بیٹھی انشراح کی طرف دیکھتا ہوا گویا ہوا۔
’’وہاں کوئی نہیں جائے گا موبائل میں خود لا کر دے رہا ہوں۔‘‘ اس کا بلند لہجہ خوف و ڈر سے عاری تھا ساتھ ہی اس نے پستول تانے لڑکے کو فلائننگ کک رسید کی اور وہ لڑکا چیختا ہوا گرا تھا ان دونوں لڑکوں نے پھرتی سے گنوں کو لوڈ کیا تھا اور نوفل کی طرف فائر کرنے ہی والے تھے کہ انشراح حواس باختہ ہوکر چیختی ہوئی کار سے نکلی اور آگے بڑھی تھی کہ اس لڑکے نے اس کی کنپٹی پر پستول رکھ دی تھی۔
/…٭٭…/
’’بہت سے لوگوں کو دنیا میں سب کچھ مل جاتا ہے‘ من چاہی مراد‘ دل میں بسی خواہشیں‘ من میں کھلتی آرزوئیں‘ سب مل جاتی ہیں‘ نامعلوم ایسے لوگ کس قلم سے نصیب لکھوا کر لاتے ہیں جو چاہتے ہیں وہ پاتے ہیں کچھ لوگ مجھ جیسے بدنصیب بھی ہوتے ہیں پیدائشی بدقسمت جن کے مقدر میں کچھ بھی نہیں ہوتا… حتیٰ کہ باپ کی شفقت سے بھی محروم رہتے ہیں دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزرتی چلی جاتی ہے۔‘‘
’’سودہ اللہ اللہ کرکے تمہارا بخار اترا ہے طبیعت کچھ بہتر ہوئی ہے اور تم پھر سوچوں میں گم ہونے لگی ہو ڈاکٹر نے سختی سے کہا ہے کہ تم کو اسٹریس سے دور رکھا جائے۔‘‘ صوفیہ نے اس کو سوچوں میں گم دیکھ کر نرمی سے سمجھایا۔
’’ممی جو میرے ساتھ ہوا اور جو میرے ساتھ ہوتا آرہا ہے وہ کس طرح سے برداشت کیا ہے میں نے وہ میں ہی جانتی ہوں۔‘‘
’’میں جانتی ہوں بیٹا، مگر ان باتوں پر کڑھنے کا کیا فائدہ جن کا کوئی حاصل نہ ہو، ان سوچوں اور ظالمانہ سلوک سے محفوظ رکھنے کے لیے ہی تو میں نے تمہاری شادی کا فیصلہ کیا ہے تمہاری شادی کے بعد میں بھی یہاں نہیں رہوں گی مدثر بھائی اور صالحہ بھابی کے پاس چلی جائوں گی ابھی بھی صرف منور بھائی اور زمرد بھابی کے خیال سے یہاں رہ رہی ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میرا دل یہاں سے اچاٹ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھیں کہہ رہی تھیں اس کی بیماری نے ان کو اس کے بے حد قریب کردیا تھا وہ ہر دکھ سکھ اس سے شیئر کیا کرتی تھیں۔
’’عمرانہ بھابی نے جس طرح تم کو مارا ہے وہ وقت میں کبھی بھول ہی نہیں سکتی۔ کوئی پالتو جانوروں کو بھی ایسی بے دردی و سنگ دلی سے نہیں مارتا۔‘‘
’’بھول جائیں ممی جو ہوا سو ہوا آپ کیوں دل برا کرتی ہیں۔‘‘ عمرانہ ممانی نے اس کے جسم کو ہی نہیں دل کو بھی گھائل کر ڈالا تھا ایک عرصے سے عمرانہ ممانی اس کو زید کے ساتھ رسوا کرتی آئی تھیں اور وہ ان کی عادت سمجھ کر صبر کرتی چلی آئی تھی مگر اب تو انتہا سے بھی آگے بات بڑھ گئی تھی ممانی کے ساتھ ان کی بہن اور بھانجی نے اس پر واہیات الزام لگائے تھے۔
بدچلن، آوارہ‘ بدکردار اور بھی کچھ ایسے ہی القابات تھے جو اس پر لگائے گئے تھے زید کو اس کے لیے ایک ایسی خوف ناک بلا بنا دیا گیا تھا جس سے وہ چھوٹی عمر سے ڈرتی آئی تھی اور عمر کے ساتھ ساتھ وہ خوف بھی بڑھتا ہی گیا تھا وہ اس کی موجودگی میں خوف زدہ رہتی تھی پیار و محبت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
’’ٹھیک کہتی ہو تم جو ہوا سو ہوا اس پر مٹی ڈالو مگر میرا یہ فیصلہ اٹل ہے تمہاری شادی کے بعد میں مدثر بھائی کے گھر پر ہی رہوں گی۔‘‘ وہ اس کو سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر گہری سانس لے کر گویا ہوئی۔
’’اچھی آپا دو تین دفعہ آگئی ہیں تم بخار میں دوائوں کے زیر اثر سو رہی تھیں اب کل آنے کا کہہ رہی ہیں تم ذرا تیار ہوجانا پیارے میاں بھی ساتھ ہوں گے کسی ناگواری کا اظہار مت کرنا نا چاہتے ہوئے بھی میں حامی بھر چکی ہوں پھر وہ خود تمہارا طلب گار ہے اور جو مرد محبت کرتے ہیں وہ مرتے دم تک محبت کرتے ہیں۔‘‘
’’آپ نے نہیں میرے بارے میں بتا دیا تھا ممی؟‘‘
’’تمہارے بارے میں کیا بتائوں گی وہ سب جانتے ہیں۔‘‘
’’یہ بھی جانتے ہیں کہ میں آوارہ، بدکردار و بدچلن ہوں۔‘‘ اس کے سرد و سپاٹ لہجے پر وہ چند لمحے بھونچکا رہ گئی تھیں۔
’’یہ سب آپ کو ضرور بتانا چاہیے بعد میں پتا چلا تو پھر کیا ہوگا۔‘‘
’’سودہ میری بچی۔‘‘ انہوں نے اس کو خود سے لپٹا لیا۔
’’ایک پاگل اور سر پھری عورت کی احمقانہ باتوں کو کیوں دل سے لگاتی ہو اسی پاگل پن میں وہ مدثر بھائی کو دوسری عورت کے ساتھ گھر بسانے پر مجبور کرچکی ہے‘ تم اس کی باتوں کو دل سے لگا رہی ہو جو تمہیں بدنام کرتے وقت یہ نہیں سوچ رہی ہے کہ میری بیٹی رسوا ہورہی ہے تو بیٹا اس کا بھی رسوا ہورہا ہے۔‘‘ وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’جو عورتیں دوسروں کے بچوں کی طرف انگلیاں اٹھاتی ہیں ایسی ہی عورتوں کے بچے میں ان کے چہروں پر رسوائیوں کی کالک مل دیتے ہیں مائدہ نے خود زید کے دوست جنید کو پھانس کر بات پکی کرائی ہے‘ کئی بار میں نے خود فون پر اس کی باتیں سنی ہیں مگر وہ میرا ہی خون ہے‘ میرے بھائی کی بیٹی ہے کس طرح اس کو رسوا کرسکتی ہوں۔‘‘ ماں کی اعلیٰ ظرفی پر ان کی محبت اس کے دل میں اور بڑھ گئی تھی پھر وہ جھوٹ بھی نہیں کہہ رہی تھیں کہ یہ سب وہ بھی جانتی تھی۔
’’بھابی کی خواہش ہے کسی طرح بھی عروہ کو بہو بنا کر لے آئیں اور زید نہیں مان رہا… وہ شاید کسی اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
’’یہ آپ کو کس نے بتایا کہ زید بھائی کسی لڑکی میں انٹرسٹڈ ہیں۔‘‘ بہت اجنبی سا محسوس ہوا تھا اس کو زید کا کسی لڑکی کے ساتھ نام آنا اکھڑ، بدمزاج و کم سخن وہ شخص بھلا کسی لڑکی سے محبت کرسکتا ہے‘ کسی کو جان سکتا ہے‘ کوئی لڑکی اس کے معیار پر پورا اتر سکتی ہے۔
’’جب ہی تو وہ ماں کو انکار کررہا ہے ورنہ وہ تو ایسا بیٹا ہے جو ماں کے حکم پر اپنی گردن کاٹ کر بھی دے دے۔‘‘
’’کیسی ہوگی وہ لڑکی جو زید بھائی کو پسند ہوگی ہائو امیزنگ۔‘‘ وہ اپنا دکھ بھول کر ایک نئے تجسس میں مبتلا ہوگئی تھی۔
/…٭٭…/
’’اسمارٹ مت بنو، وگرنہ یہ لڑکی جان سے جائے گی۔‘‘ وہ لڑکا زور دار کک کھا کر اٹھ ہی نہ سکا تھا اس کے ہاتھ سے پستول گر گئی تھی جو جھک کر نوفل نے اٹھا لی تھی اور وہ ابھی پستول اٹھا کر مڑا ہی تھا کہ اس لڑکے کی آواز آئی تھی۔
’’پستول پھینک دو وگرنہ میں اس لڑکی کو شوٹ کردوں گا۔‘‘ اس لڑکے نے چیخ کر کہا۔
’’تو نے اس کو ٹچ کرنے کی ہمت کیسے کی۔‘‘ نوفل پر گویا جنون سوار ہوگیا تھا اس کی نگاہیں چند لمحے کے لیے انشراح کے چہرے پر اٹھی تھیں جہاں خوف ہی خوف تھا وہ لڑکا سختی سے اس کے سر پر پستول لگائے کھڑا تھا۔
’’دیکھ آگے نہیں بڑھ۔‘‘
’’تو لڑکی کو چھوڑ دے۔‘‘
’’میں اس کو گولی مار دوں گا۔‘‘
’’پھر تم میں سے کوئی زندہ نہیں جائے گا۔‘‘ پستول اس کے ہاتھ میں تھا وہ مسلسل آگے بڑھ رہا تھا اس کے چہرے پر اس کے انداز میں کچھ ایسی وحشت و جنون پھیلا ہوا تھا کہ ان لڑکوں کا رنگ اڑنے لگا تھا۔
انہوں نے تو اسے آسان شکار سمجھ کر گھیرا تھا جو ان کو بھاری پڑنے لگا تھا ایسے لوگ لاکھ باہر سے بہادر بنے پھرتے ہیں مگر اندر سے وہ چیونٹی سے بھی زیادہ کمزور اور بزدل ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا ایک ساتھی پڑا کراہ رہا تھا دوسرے نے بھی اس پر حملہ کرنا چاہا تھا مگر نوفل کے غیض و غضب نے اس کو دو تین مکوئوں میں ہی ڈھیر کردیا تھا پھر وہ تیسرے کی طرف بڑھتا چلا گیا جس کی حالت دونوں ساتھیوں کو ڈھیر ہوتے دیکھ کر پتلی ہوگئی تھی۔
بجھتا ہوا چراغ پھڑپھڑایا تھا اس کو معلوم تھا تینوں گن خالی ہیں اور خالی پستول سے ہی وہ لوگوں کو لوٹ لیا کرتے تھے پہلی بار کسی ایسے شخص سے واسطہ پڑا تھا کہ اس نے ان کو دھول چٹا دی تھی۔ ہاتھ میں پسٹل لیتے ہی نوفل کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ بلٹس سے خالی ہے چند لمحوں بعد ہی وہ انشراح کے قریب پہنچ گیا اور اس کو قریب دیکھ کر وہ لڑکا اس قدر بوکھلایا تھا کہ پستول اس نے انشراح کے منہ پر دے مارا تھا چوٹ اچانک اور شدید لگی تھی مارے درد کے وہ چیخ بھی نہ سکی اور بیٹھتی چلی گئی تھی۔
نوفل نے ایک نگاہ اس کی طرف دیکھا مگر اس کی طرف آنے کی بجائے وہ اس بھاگتے ہوئے لڑکے کی طرف دوڑا تھا اور کچھ لمحوں بعد وہ لڑکا اس کی گرفت میں لاتیں گھونسے و مکے کھا رہا تھا۔ نوفل اس وقت رحم کرنے و معافی دینے کا قائل نہ تھا اس کے سامنے اس نے بے قصور لڑکی پر نہ صرف پستول تانا تھا بلکہ زخمی بھی کردیا تھا۔ وہ لڑکا زیادہ دیر مقابلہ نہ کرسکا تھا معافیاں مانگنے لگا‘ گڑگڑانے لگا اس کے دونوں ساتھی بھی اپنے باس کی دگرگوں حالت دیکھ کر ساکت پڑے تھے‘ انشراح نے ہمت کرکے چہرہ اوپر اٹھایا بائیں رخسار اور ہونٹوں کی طرف درد ہی درد تھا مگر سامنے کا منظر بہت خطرناک تھا‘ نوفل نے مار مار کر اس لڑکے کا حشر کردیا تھا اور ابھی بھی اس کا ارادہ اسے چھوڑنے کا نہیں تھا۔
’’جان سے مار دیں گے کیا…؟ چھوڑ دیں اس کو۔‘‘ وہ قریب جا کر گویائی ہوئی۔
’’ایسے لوگوں کو جان سے ہی مار دینا چاہیے جو دوسروں کو بلاوجہ نقصان پہنچاتے ہیں‘ لوٹتے ہیں۔‘‘ وہ جنونی لہجے میں بولا۔
’’پلیز… لیو اٹ۔‘‘ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر التجائیہ لہجے میں گویا ہوئی‘ اس کے نرم و گرم ہاتھوں میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ وہ میکانکی انداز میں ایک دم رکا تھا لہو رنگ آنکھیں اس کے سوجے ہوئے نیلے پڑتے رخسار پر جم سی گئی تھیں۔
اس موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ لہو لہان لڑکا انشراح کے قدموں میں گر کر معافیاں مانگنے لگا تھا۔
’’گو۔‘‘ انشراح نے اس لڑکے کو کہا تو وہ لڑکا اور اس کے دونوں ساتھی کار میں بیٹھ کر ایسے بھاگے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
’’ایم سوری… میری وجہ سے آپ کو چوٹ آئی۔‘‘ وہ کار اسٹارٹ کرتا ہوا ندامت بھرے لہجے میں گویا ہوا۔
’’آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں میرے ساتھ ایسے حادثات ہوتے ہی رہتے ہیں عادی ہوں ایسی تکلیفوں کی ڈونٹ وری۔‘‘
’’بہت پین ہورہا ہوگا۔‘‘ ڈرائیونگ کے دوران بھی اس کی نگاہ اس کے رخسار پر تھی جو نیلا ہونے کے ساتھ ساتھ مزید سوجھتا جارہا تھا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’میں نے کہا بھی تھا کار سے مت نکلنا مگر تم نکل گئیں اور انجام دیکھا ناں چہرہ کسی غبارے کی مانند پھولتا جارہا ہے۔‘‘ وہ پھر کچھ نہیں بولی‘ درد میں اضافے کے ساتھ ساتھ چکر آنے لگے تھے اس نے بیک سے ٹیک لگالی تھی اور بے سدھ ہوگئی تھی۔ اس کی طرف سے خاموشی محسوس دیکھ کرتے نوفل نے اس کی طرف دیکھا اور بری طرح چونکا تھا اس کے ہونٹوں کی سائیڈ سے خون بہہ رہا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close