Aanchal Jan-18

کام کی باتیں

حنا احمد

شرمیلا پن مناسب نہیں
مسائل کو مثبت انداز فکر کے ساتھ دیکھیں
خود کو اجنبی سمجھتے ہوئے یہ بات یاد رکھیں کہ سامنے والا شخص بھی انہی کیفیات کا شکار ہوتاہے نئے لوگوں کے درمیان جب بھی بیٹھیں تو گفتگو کا آغاز کسی سوال سے کریں جواباً نئے اور اجنبی لوگ بھی اس موضوع پر گفتگو شروع کردیں ایسے میں کمرے کی فضا گرما جائے گی اور اجنبیت کے بادل اڑ جائیں گے۔ اجنبی لوگوں کی ساتھ گفتگو کرنا چنداں مشکل نہیں آپ چاہیں تو اپنے مشاغل‘ رشتہ داروں‘ دوستوں اور جاب سے متعلق بات کرسکتی ہیں اور جب آپ لوگوں سے مل کر کمرے سے باہر نکلیں تو اپنی کیفیات کو کسی ڈائری میں نوٹ کرلیں مثلاً واضح طور پر لکھیں کہ کمرے میں داخل ہوتے وقت آپ شرما رہی تھیں‘ خاموش تھیں‘ کچھ پریشان تھیں وغیرہ۔ ان کیفیات کو تحریر کرتے ہوئے یقینا آپ ایک خاص احساس سے گزریں گی اور شرمیلا پن کم ہونا شروع ہوجائے گا۔
شرمیلا پن راتوں رات ختم نہیں ہوسکتا
یہ کیفیت برسوں سے آپ کو اپنی لپیٹ میں رکھے ہوئے ہے فوراً ختم ہونا ناممکن ہے ایسے میں ضروری ہے کہ پہلے پہلے آپ اپنے قریبی ہمسایوں یا رشتہ داروں میں گھلنے ملنے کی کوشش کریں انہیں چائے پر مدعو کریں اس سے کی گئی گفتگو آپ میں اجنبیوں سے ملنے اور بات کرنے کا حوصلہ پیدا کرے گی یہ حوصلہ پاتے ہی کامیابی پر خود کو مبارک باد دینا مت بھولیے گا۔
اچھا سامع بننا سیکھئے
گفتگو کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ خود میں اچھا سامع بننے کی صلاحیت پیدا کریں اچھے جملے سنیں ان کے مطلب پر غور کریں پھر جواباً اپنی بات کہیں لوگوں کو موقع دیں کہ وہ آپ سے اپنی بات کہہ سکیں۔ جملوں کے درمیان مداخلت سے گریز کریں‘ سامنے والے کو جتادیں کہ آپ ان کی گفتگو میں زبردست دلچسپی لے رہی ہیں‘ کبھی ایسا سوال مت پوچھیں جس کا جواب یک لفظی ہو۔ سوال کی نوعیت ایسی ہونی چاہیے کہ بولنے والا نان اسٹاپ بولتا رہے۔
اپنا اعتماد کسی
اور کے حوالے مت کریں
شرمیلے لوگ اکثر کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی بیساکھیاں استعمال کریں یہ روش غلط ہے کیونکہ قدرت نے اعتماد کی صلاحیت آپ کو بھی ودیعت کر رکھی ہے اس کا استعمال البتہ آپ کو سیکھنا ہے لہٰذا جب بھی کسی اجنبی سے ملاقات کریں تو خوش دلی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کیونکہ وہ آپ سے اسی خوش دلی کا متمنی ہوتا ہے۔
پیچھے نہیں آگے دیکھیے
کل کیا ہوا تھا اس کے بارے میں آج ہر گز نہ سوچیں کیونکہ جو گزر گیا وہ ختم ہوگیا نہ ہی کہیں جانے سے ہچکچانے کی ضرورت ہے۔ شرمیلا پن اس وقت خاصا تکلیف دہ ہوجاتا ہے جب آپ اپنی تکلیف کو مسلسل برداشت کرتی رہیں اور صرف ایک اجنبی سے نہ ملنے کے خوف کے باعث آزار بڑھتا جائے۔ اس کیفیت سے نجات کے لیے درد کی انتہا کو محسوس کریں یقینا اس درد کو برداشت کرنے کی بجائے آپ اس اجنبی ڈاکٹر سے ملنا پسند کریں گی۔
اپنی طاقت پر بھروسہ کریں
آپ شرمیلے پن سے نجات حاصل کرنے کے لیے کچھ کرسکتی ہیں تو اس پر ضرور توجہ دیں اور خاص طور پر اس شخص کا جائزہ لیں جو آپ کے خیال میں سب سے زیادہ با اعتماد ہے اور پھر اس کی مثبت عادتوں سے سیکھنے کی کوشش کریں۔
خود کو سمجھایئے کہ اللہ نے ہر شخص کو کوئی نہ کوئی صلاحیت دی ہے
اپنے آپ میں اعتماد بہت ضروری ہے اور واقعی اللہ نے ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خوبی رکھی ہوئی ہے اب تین سوال یاد کرلیں۔
ہر شخص آپ کی سب سے بہترین خوبی سیکھنا چاہتا ہے۔
ہر بات پر کہیں میں کوشش نہیں یقینا یہ کام کروں گی۔
نئے نئے لوگوں سے میل جول بڑھایئے۔
دو سنہرے اصول اور یاد رکھیں
اگر گفتگو کا موضوع نہ ملے تو اخبار پڑھنا شروع کردیں‘ موضوع گفتگو مل جائے گا۔
کسی بات پر شک ہو تو اس کے بارے سوال کریں شبہ دل میں نہ رہنے دیں۔
خود سے لڑنا چھوڑیں
مہمانوں کی آمد ہو اور آپ اپنے گھر کو بھی سجا ہوا دیکھنے کی زبردست خواہش رکھتی ہوں‘ ہر وقت اپنے ٹیبل کی صفائی ستھرائی‘ الماری کو ترتیب سے رکھنا‘ آپ کے مزاج کا حصہ بن گیا ہو تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ پرفیکشنسٹ ہیں اور جامعیت پسند شخصیت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکثر و بیشتر ناکام ہوتا ہے۔ آج کی جدید زندگی میں عورت کو کل کے مقابلے میں کہیں زیادہ کام کرنا پڑرہا ہے ایسے میں ہر کام میں جامعیت اور کامیابی بہت مشکل ہے اسی دنیا میں پرفیکشنسٹ شخص کے مقابلے میں چند لوگ ایسے بھی ہیں جو خود پر شکست خوردہ کا لیبل لگوانا پسند کرلیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ ہر کام میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جبکہ جامعیت پسند وقت کے ساتھ ساتھ اپنا پیسہ بھی ایک ایسے کام کو مکمل کرنے میں ضائع کردیتی ہیں جو ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ جامعیت پسند شخص کے لیے اس کی یہ عادت نہ صرف خطرناک ہوتی ہے بلکہ اس کی یہ عادت نہ صرف اس کے کیرئیر پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ تعلقات اور صحت بھی متاثر ہوتے ہیں۔
آپ جامعیت پسند کس طرح بنتے ہیں
ہماری اکثر عادات ایسی ہوتی ہیں جو ہم ورثے میں حاصل کرتے ہیں مثلاً اگر والدین میں یہ عادت ہے تو آپ میں بھی منتقل ہوگی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ بچپن ہی سے والدین کی عادات کی نقل کرتے ہوں اور اب جامعیت پسندی آپ کی اپنی عادت بن چکی ہے۔
ماحول بھی جامعیت
پسندی کا سبب ہوسکتا ہے
گھٹن بھرے ماحول میں اکثر لوگ جامعیت پسندی کے خول میں چھپ کر زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ گھٹن کی طرف توجہ دے کر اسے ختم کریں وہ ہر شے کو مکمل بنانے کی طرف توجہ مرکوز کرلیتے ہیں۔
شخصی کمزوری
بچپن مین بعض بچوں پر ان کے والدین ’’ناکارہ‘‘ کا ایسا بورڈ لگادیتے ہیں کہ وہ بچہ شخصی طور پر بالکل دب جاتا ہے اور خود کو ناکارہ سمجھنے لگتا ہے۔ والدین یہ نہیں سمجھتے کہ بچے کو برا بھلا کہنے کی بجائے اگر اس عادت کو خراب کہہ دیا جائے تو بچہ احساس کمتری کا شکار نہیں بنتا نہ ہی وہ خود کو پرفیکشنسٹ بنانے کی کوشش کرتا ہے اس کے علاوہ بچپن سے محبت کے متلاشی بالغان میں بھی جامعیت پسندی کی ایک بڑی محبت کا ارتکاز حاصل کرنا ہے اکثر یہ لوگ بچپن ہی سے محبت کے متلاشی ہوتے ہیں‘ ایسے لوگ جو بچپن میں زیادتی کا شکار ہوئے ہوں وہ بھی اس داغ کو دھونے کے لیے خود کو ’’مسٹر کمپلیٹ‘‘ بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں پھر کسی دوسرے میں موجود ہلکی سی کمی بھی انہیں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگتی ہے۔
جویریہ ضیاء…کراچی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close