Aanchal Jan-18

آو پھول چینں

صدف ریحان کیلانی

’’میں نے اسکول سے ریزائن کردیا ہے۔‘‘ چہرہ پونچھتی وہ لائونج میں آئی‘ گیلا تولیہ بے پروائی سے صوفے کی بیک پر ڈالا اور نہایت عام سے انداز میں اس نے حاضرین کو مطلع کیا‘ جبکہ ادھر اچھا خاصا اثر ہوا تھا۔ ہادیہ جو ابھی یونیورسٹی سے لوٹی تھی جوتے اتارتے اس کے ہاتھ وہیں تھم گئے‘ بغور اس نے بڑی بہن کے نکھرے‘ ستھرے‘ دھلے دھلائے شفاف چہرے کو دیکھا پھر یوں سر ہلایا گویا کہہ رہی ہو ’’یہ نہیں سدھرنے والیں۔‘‘
دوسری طرف امی بھی اسکرین پر چلتے گرما گرم سیاسی اکھاڑے سے نظر ہٹا کر اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئیں۔
’’ہیں… کیا ہوا… کیوں دے آئیں ریزائن؟‘‘ وہ دونوں تو ابھی بول ہی نہ پائی تھیں کہ ببلو کا فیڈر ہلاتی بوکھلائی ہوئی علینہ کچن سے نکلی۔
’’بس دے آئی۔‘‘ وہ دونوں پائوں اوپر کیے صوفے پر چڑھا کر بیٹھ گئی‘ ایک ناگوار نظر اسکرین پر ڈالی اور اگلی للچائی ہوئی امی کے ہاتھ میں دبے ریمورٹ پر۔
’’مگر پھر بھی ہوا کیا؟‘‘ علینہ نے فلور کشن پر ایڑیاں رگڑ کر روتے ببلو کے منہ سے فیڈر لگایا اور خود پاس ہی ٹک گئی۔
’’بس دل اکتا گیا تھا میرا۔‘‘ وہ خود کو حد درجہ پُرسکون ظاہر کررہی تھی اور اس میں یہ دریائی صفت تو بچپن سے ہی تھی اندر جو بھی اکھاڑ پچھاڑ مچی ہو مگر سطح پر ہل چل نہ آنے دیتی۔
’’یہ تو اچھی بات نہیں ہے‘ پچھلے اسکول میں بھی تم نے بمشکل تین ماہ لگائے‘ وہاں تو چلو بچے زیادہ تھے تمہارے ذمہ پھر وہ توقیر کے دوست بھی تھے تو اچھا کیا چھوڑ دیا مگر یہاں تو بہت مطمئن تھیں تم‘ اچھا سلسلہ چل پڑا تھا نہ زیادہ مشقت نہ زیادہ بچوں کی چخ چخ پھر میڈم بھی اتنی ڈیسنٹ سی ہیں دونوں۔ اسکول کا ماحول بھی اس قدر بہترین‘ پے بھی ٹھیک ٹھاک مل رہی تھیں تو پھر کیا وجہ بنی‘ کیا لڑائی ہوگئی کسی سے؟‘‘
’’کسی سے لڑائی نہیں ہوئی میری‘ سب ہی بہت اچھے ہیں بس ایک میں ہی بری ہوں اور بے فکر رہو تمہارے میاں سے خرچہ نہیں مانگوں گی۔ حد ہوگئی ایک بات کے پیچھے ہی پڑجاتی ہو۔‘‘ علینہ کی مسلسل جرح اسے ناچاہتے ہوئے بھی بولنے پر اکسا گئی۔ تڑخ کر کہتی واک آئوٹ کر گئی‘ امی نے گھور کر اسے جاتے دیکھا‘ ہادیہ اسی انداز سے سر ہلا رہی تھی جبکہ بے چاری علینہ کا رنگ سفید پڑگیا کئی لمحے تو اس سے کچھ بولا ہی نہ گیا۔ ببلو کے منہ سے فیڈر نکل گیا تھا وہ پھر سے ایڑیاں رگڑ رہا تھا‘ اس نے خود کو سنبھالا۔
’’دیکھ رہی ہیں پھوپو اسے‘ میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا جو اسے اتنا برا لگا۔ آپ کو پتا ہے ناں توقیر تو پہلے بھی اس کی جاب کے حق میں نہیں تھے اس کی ضد کو دیکھتے ہوئے کتنی دقتوں سے منایا تھا میں نے انہیں۔ وہ تو اس کی پہلی جاب چھوڑنے پر ہی سیخ پا ہوئے تھے کہ جب اتنا حوصلہ ہے ہی نہیں تو پھر نکلتی کیوں ہے گھر سے‘ تب ان کی اپنے دوست سے بھی اچھی خاصی ان بن ہوئی۔ اچھا بھلا آدمی تھا وہ‘ پر اسے ہی شوخا لگا تھا۔ اللہ جانے آج کیا مسئلہ بنا ہے وہاں‘ مجھے تو فکر ہے کہیں لڑ ہی نہ پڑی ہو کسی سے‘ غصہ بھی اتنا آتا ہے اسے۔‘‘ علینہ حقیقتاً پریشان ہوگئی تھی‘ سر تو امی نے بھی پکڑلیا تھا۔
یہ نہیں تھا کہ وہ اب ایسی ہوگئی تھی وہ تو شروع سے ہی ایسی تھی‘ ہمیشہ سے صاف گو‘ سیدھی بات کرنے والی‘ کسی سے بھی اور کسی مقام پر بھی گھبرانا اس کی فطرت ہی نہ تھی۔ خلاف مزاج بات ہو یا رویہ اس سے برداشت ہی نہ ہوتا۔ پہلے تو سب اس کی ان ادائوں کو غیر معمولی ذہانت پر محمول کرتے اور بلاشبہ ذہین تو وہ تھی۔ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک اچھے گریڈز لیتی رہی تھی۔ نصابی سرگرمیوں کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی ہر بار ٹاپ آف دی لسٹ ٹھہرتی‘ اسے نئے نئے میدان سر کرنے کا شوق تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب عمل کا سوچا تو پہلی بار توقیر بھائی کے خلاف کھڑے ہوگئے۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا‘ جاب کرکے تم دنیا کو یہ بتانا چاہتی ہو کہ بھائی تمہارے سر پر ہاتھ نہیں رکھتے۔‘‘ کبھی ٹیڑھی آنکھ سے نہ دیکھنے والے بھائی کے ایسے سخت الفاظ سیدھا دل میں ترازو ہوگئے‘ وہ حساس بھی خوب ہورہی تھی ان دنوں۔ ابھی صرف دو ماہ ہی تو ہوئے تھے کہ جان سے پیارے بابا نے چپکے سے آنکھیں موند لی تھیں۔ اس کی تو دنیا ہی اندھیر ہوگئی تھی جیسے‘ گھنیری چھائوں جیسے بابا دل کو ویران کر گئے تھے۔ اس کی ذات کو خوبیاں بخشنے والے بابا کی کمی جب اندر سے خالی کرنے لگی تو وحشتوں سے گھبرا کر اس نے مصروفیت ڈھونڈنا چاہی تھی۔ بابا نے تو کبھی کسی معاملے میں روک ٹوک نہ کی تھی‘ اولاد کی ہر من چاہی خوشی وہ کہیں سے بھی ڈھونڈ لاتے تھے اور اسے تو کبھی کمی نہیں ہونے دی تھی انہوں نے۔ وہ ان کی لاڈلی عنابیہ تھی‘ کیا بابا زندہ ہوتے تو اسے یوں روکتے۔ تب بھائی کا رویہ ازحد دکھی کر گیا جبکہ غلط تو وہ بھی نہ تھے‘ وہ اس سے نہ صرف عمر میں بڑے تھے بلکہ تجربہ بھی رکھتے تھے۔ جانتے تھے یہ دنیا ہے اور دنیا وہ آری ہے جو دو اطراف دندانے رکھتی ہے‘ وہ تو ابھی ناواقف تھی اور ناتجربہ کار بھی۔ وہ اسے کڑی دھوپ سے بچانا چاہتے تھے مگر وہ پہلے کسی مقام پر پیچھے ہٹی تھی جو اَب ہٹ جاتی پھر اس کی ضد دیکھتے ہوئے دقتوں سے اجازت دی۔
جب اس نے پہلی جاب چھوڑی تب انہوں نے خوب لتے لیے‘ پندرہ دن کے سکون کے بعد عنابیہ پھر نئی مہم پر نکل کھڑی ہوئی تھی اور تب بھی علینہ نے جیسے انہیں منایا وہی جانتی تھی سو اس کا اتنا فکر مند ہونا بنتا تھا یعنی اب پھر گھر میں ایک نئی معرکہ آرائی ہوگی‘ وہ بچے کو لیے وہاں سے چلی گئی۔
’’آج کوئی کھانے پانی کو بھی پوچھے گا کہ بھوکا مارنے کا ارادہ ہے۔‘‘ وہ کمرے سے نکلی امی کی تیغ صفت نظریں اٹھیں۔
’’تم نے تو پڑھ لکھ کر گنوا دیا عنابیہ… افسوس ہے مجھے اپنی تربیت پر‘ تمہارا تو مزاج ہی ساتویں آسمان پر چلا گیا ہے۔ ذرا بھی جو سمجھ داری رہی ہو تمہارے اندر‘ علینہ بڑی ہے تم سے‘ اس سے بات کرتے ہوئے ادب لحاظ ملحوظ رکھا کرو۔ تمہیں تو اپنے شوق سے فرصت نہیں‘ ہادیہ کو اپنی پڑھائی سے‘ پیچھے وہی سارا گھر سنبھالتی ہے اور تم دونوں کی بوڑھی ماں کو بھی۔ یہ موئی نوکری کا شوق تمہارا اپنا تھا ورنہ ہم تو تھے ہی نہیں اس حق میں‘ تمہارے سر پر بھوت سوار تھا اپنی صلاحیتیں آزمانے کا‘ خیر سے آزمالیں ہیں بہت۔ میرا خیال ہے اب خوب تسلی ہوگئی ہوگی تمہاری‘ اب اطمینان سے گھر بیٹھو اور گھر داری سیکھو‘ میں تو دن رات اللہ سے دعا کرتی ہوں کوئی اچھا گھرانہ ملے اور ٹھکانے لگائوں تمہیں۔‘‘ ایک تو ان کی ہر بات کی تان بھی تمام مائوں کی طرح اسی ایک پوائنٹ پر آکر ٹوٹتی تھی‘ خود چاہے ہزار مصیبتیں جھیل چکی ہوں مگر پھر بھی کتنا شوق ہوتا ہے ناں مائوں کو بیٹی کو جلد از جلد ٹھکانے لگانے کا۔ وہ پائوں پٹخ کر مڑی اور جانے لگی۔
’’اب کہاں چلیں؟‘‘ امی نے ڈپٹ کر پوچھا۔
’’اسکول… تاکہ ریزائن واپس لے سکوں۔‘‘ زمانے بھر کا بھولپن اس کے چہرے پر سمٹ آیا تھا اور امی کو فوری طور پر ایسی کوئی چیز ہاتھ نہ لگی جو کھینچ کر اسے مار سکیں‘ ہادیہ بے اختیار ہنس دی۔
ء…/…ء
سارا صحن رنگ رنگ کے کپڑوں سے اٹا پڑا تھا‘ بدلتے موسم کو دیکھتے ہوئے علینہ نے سب کے گرم کپڑے نکال کر دھو ڈالے تھے‘ صبح سے مسلسل ہوتی مشین کی گھرر گھرر میں نیند کیا خاک آنی تھی۔ وہ کمرے سے نکلی تو امی نے اپنا ناشتا بنانے کے ساتھ ساتھ کچن صاف کرنے کا آرڈر دے ڈالا‘ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ کچن سمیٹ کر مختصر سا ناشتا لیے صحن میں چلی آئی۔ جہاں پھیلی نرم گرم سی دھوپ نہایت سکون آمیز تھی‘ ایک تار سے کپڑے ہٹا کر اس نے دھوپ کا راستہ مزید کھولا اور چارپائی بچھا کر بیٹھ گئی۔
’’ارے یہ تو بہت ہی اچھا کام کیا تم نے‘ ببلو کو بھی اپنے پاس بٹھالو اور ہاں اسے بھی کچھ کھلا دینا‘ صبح سے ایک فیڈر ہی پیا ہے بس۔‘‘ علینہ نے جو دیکھا تو لپک جھپک بچے کو اس کے حوالے کر گئی ایک نئے حکم نامے کے ساتھ چونکہ اس کی ببلو سے ہیلو ہائے بہت کم رہتی تھی سو وہ اس سے اتنا مانوس نہیں تھا اس کی شکل دیکھتے ہی پہلے تو اس نے ایک دلدوز چیخ ماری پھر جو بھاں بھاں شروع کی تو اسے بھی بوکھلا کر رکھ دیا‘ پھر تو کیا اور کہاں کا ناشتا۔
’’توبہ ہے علینہ… میری تو بہت فکر رہتی ہے تمہیں اپنے بچے کی تربیت تو ہو نہیں سکی تم سے۔ ایسا چالاک بچہ‘ اوہو‘ ارے بھائی چپ بھی کرجائو اب۔‘‘ اسے بہلانے کی کوشش میں ناکام ہوکر وہ بری طرح چڑی‘ کلاس میں سو پچاس بچے اس کی ایک للکار سے سہم جاتے تھے اور یہ اپنے ہی گھر کا بالشت بھر کا بچہ اس سے قابو نہیں ہورہا تھا۔ یہ تو بے حد انسلٹنگ تھا‘ اب کیا کرتی اس کی ماں پر ہی غصہ نکلنا تھا جس سے ایک وقت کبھی اس کی خوب دوستی ہوا کرتی تھی تب عنابیہ کو اس کی معصومیت اٹریکٹ کرتی تھی اور علینہ کو اس کا شارپر ہونا انسپائر کرتا۔ جب توقیر بھائی کی شادی کا وقت آیا تو یہ اس کا ہی مشورہ تھا کہ علینہ ہی میری بھابی بنے گی توقیر جو پہلے ہی سب معاملات امی پر چھوڑے ہوئے تھا بنا چوں چراں اس فیصلے پر سر جھکا گئے اور خیر دوستی تو ان کے درمیان اب بھی تھی اس روز وہ خراب موڈ کے باعث اس سے سخت لہجے میں بات کر گئی تھی مگر پھر معافی بھی مانگ لی تھی۔ وہ ایسی ہی تھی دھوپ چھائوں جیسی اور علینہ اس کی بات پر ہنس رہی تھی۔
’’چھ ماہ کے بچے کی تربیت اُف… یہ تو سچ ہے مجھ سے نہ ہوسکے گا۔ میں بھلا ایسی لائق فائق کہاں‘ ہاں تم میں اتنے گٹس ہیں تم کرسکتی ہو بھئی۔ آج ہی سے یہ کام شروع کردو‘ دعائیں دوں گی تمہیں۔‘‘ اور اس کا جی چاہ رہا تھا آنکھیں میچے پورا منہ کھولے روتے اس فتنے کے گول گپوں جیسے گالوں پر دو دو لگا دے مگر مشکل یہ تھی ہاتھ اٹھنے سے قاصر تھا۔ وہ روتا ہوا بھی اتنا کیوٹ لگ رہا تھا کہ وہ بے اختیار اسے چومے گئی‘ علینہ مسکرا کر اپنے کام کی طرف متوجہ رہی۔
’’لائو اسے مجھے دو‘ میں سنبھال لیتی ہوں۔ تم کچن میں جاکر ہانڈی چڑھا دو۔‘‘ ببلو کے لیے سیری لیک بناکر امی ادھر ہی چلی آئیں۔
’’کیا…‘‘ ان کی بات پر وہ ایسے اچھلی گویا چارپائی کے بان میں کرنٹ دوڑ گیا ہو۔
’’ہانڈی چڑھانے کا کہا ہے‘ ہل چلانے کا تو نہیں کہہ دیا میں نے جو ایسے حواس باختہ ہوگئی ہو۔‘‘ انہیں سخت ناگوار گزرا اس کا ردعمل‘ وہ ان سے زیادہ چڑیں۔
’’والدہ محترمہ ویسے آپ یہ اچھا سلوک نہیں کررہیں میرے ساتھ‘ میں نے جاب چھوڑ کر کوئی سزا تو منتخب نہیں کرلی اپنے لیے۔ حد ہوتی ہے ظلم کی بھی‘ اس دن سے بہانے بہانے کچن میں ہی بھیجے جارہی ہیں آپ‘ میں آپ کی بیٹی ہوں یا ماسی سمجھ رکھا ہے‘ کچھ تو خیال کریں۔ صبح برتن دھلوائے کچن صاف کروایا‘ ناشتا بھی میں نے اپنا خود بنایا‘ اب ہانڈی بھی پکا کر دوں‘ واہ بھی پھر آپ ارشاد فرمائیں گی چاول بھی پکالو پھر رات کا کھانا‘ برتنوں کی دھلائی‘ آخر چاہتی کیا ہیں مجھ سے؟‘‘
’’صرف تمہارا بھلا چاہتی ہوں اگر آج کچھ سلیقہ آجائے گا تو کل کو وہ تمہارے ہی کام آئے گا۔ چلو اب زیادہ باتیں نہ بنائو‘ ہانڈی پکاؤ جاکر۔‘‘ اس کی دل سوز تقریر کے جواب میں ان کا انداز ناک سے مکھی اڑانے والا تھا‘ وہ ناچار اٹھی۔ ’’اور ہاں سنو‘ آٹا بھی گوندھ ڈالو لگے ہاتھوں‘ تھوڑے سے چاول بھی بھگو دینا۔‘‘
’’پھر پتا ہے ناں ہادیہ کا‘ صرف روٹی کا سن کر ناک بھوئوں چڑھاتی ہے وہ‘ ایک تو میری اولاد کے نخرے۔ توبہ ہے بھئی‘ کس کو دیکھوں میں اور کس کو چھوڑوں۔‘‘ امی جی جان اپنے پوتے کو کھلانے میں مشغول تھیں‘ بت بنی کھڑی بیٹی کو دیکھا ہی نہ تھا انہوں نے۔ علینہ سے ہنسی روکنا دوبھر ہورہا تھا‘ دوپٹہ منہ پر رکھے بڑی مشکل سے حلق سے ابلتے قہقہوں کو روکے ہوئے تھی وہ‘ اگر جو عنابیہ کی نظر پڑ جاتی تو پھر کوئی شک نہ تھا کہ توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجاتا۔
ء…/…ء
نور مال میں زبردست سیل میلہ چل رہا تھا آج کل‘ ہر چیز بہترین و روایتی اور بارعایت قیمت میں باآسانی دستیاب تھیں۔ ہادیہ روز آکر اپنی کلاس میٹس کی شاپنگ کے چٹخارے دار قصے سناتی‘ کچھ تو اس کی باتیں‘ دوسرا ارشین نے بھی کئی بار کال کرکے اکسایا تو اس کا بھی دل مچل گیا۔ اب اسکول سے تو کوئی ایسی قابل ذکر سیلری ملتی نہ تھی‘ جو وہ جمع جوڑ رکھتی‘ گنتی کے چند نوٹ ہوتے تھے جو یونہی ہر ماہ اللے تللوں میں خرچ ہوجاتے‘ بس کبھی کی توقیر بھائی اور امی کی دی ہوئی پاکٹ منی پرس جھاڑنے کے بعد نکلی‘ اس میں تو ڈھنگ کے دو سوٹ بھی نہیں آئیں گے۔ تانے بانے جوڑتی وہ امی کے پاس جاپہنچی‘ مدعا ان کے گوش گزار کیا۔
’’ارے وہ جو اتنا ٹھونس ٹھونس کر کپڑے بھرے پڑے ہیں الماری میں‘ پہلے انہیں تو کسی طرف لگادو۔ گھر کا گھر بھرا پڑا ہے ہر چیز سے‘ بس تم آج کل کی لڑکیوں کو فضول شوق رہتے ہیں یوں بھی اس ماہ تو کوئی فرمائش نہ کرنا‘ خرچے منہ کو چڑھے چلے آرہے ہیں۔ ابھی پرسوں ہی آپا فضیلت اپنے بیٹے‘ بیٹی کی شادی کا کارڈ دے گئی ہیں‘ وہاں بھی دینا دلانا ہے پھر سفیر نے تو اس بار پہلے ہی معذرت کرلی ہے کہ وہ پیسے نہیں بھیج سکے گا۔ کوئی کورس کررہا ہے جس کی فیس جمع کروا دی ہے‘ باہر کے کام‘ باہر کی پڑھائیاں کوئی آسان کام تھوڑ ہی ہے۔‘‘ انہوں نے تو پوری کتھا سنا ڈالی۔
’’ویسے امی اب ایسے بھی حالات نہیں جیسے برا نقشہ آپ نے کھینچ ڈالا ہے۔ بابا کی پنشن سے پورے مہینے کا راشن آجاتا ہے‘ باقی اوپر کا خرچہ آپ توقیر بھائی کی جیب سے نکلوا لیتی ہیں‘ سفیر بھائی الگ ڈرافٹ بھیجتے ہیں اور وہ صرف اس ماہ ہی نہیں بھیجیں گے ناں۔ پہلے جو اتنے مہینوں سے آرہے ہیں ان کی تو آپ کسی کو ہوا بھی نہیں لگنے دیتیں۔ اتنی کنجوسی بھی اچھی نہیں ہوتی پلیز اس میں سے ہی کچھ دے دیں۔‘‘ ان کی گھوریوں کی پروا نہ کرتے وہ منتوں پر اتر آئی۔
’’بہت زیادہ بولنے لگی ہو تم‘ خبردار ان پیسوں کا نام بھی لیا ہو تو۔ تمہاے باپ کی سب جمع پونجی سفیر کو دی تھی اس وعدے کے ساتھ کہ وہ تم دونوں کی شادی کا خرچ اٹھائے گا۔ اب تمہارا باپ تو ہے نہیں ساری ذمہ داری میرے ہی سر ہے اور میں جانتی ہوں میں نے یہ فرض کیسے نبھانا ہے۔ آج سے ہی کچھ بچا کر رکھوں گی تو ہی کل اچھے طریقے سے سرخرو ہوسکوں گی۔ اب تو دن رات ایک ہی دعا ہے میری کہ اللہ میری آنکھیں بند ہونے سے پہلے تم دونوں کے سکھ دکھا دے۔‘‘ وہ تو جذباتی ہی ہوگئی تھیں‘ عنابیہ بے اختیار ان سے لپٹ گئی۔
’’اوہ میری پیاری ماں جان یو آر سو سویٹ‘ لو یو سو مچ۔ سچ میں آپ بہت اچھی ہیں‘ آپ کتنا پیار کرتی ہیں ہم سے۔ آپ سی سمجھ دار‘ سلیقہ شعار ماں اس روئے زمین پر اور کوئی نہ ہوگی‘ آپ وہ سب سیونگ میرے اور ہادیہ کے لیے کررہی ہیں ناں؟‘‘
’’ہاں تو کیا۔‘‘ امی نے آنکھیں پونچھتے جھٹ سے سر ہلایا۔
’’پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں‘ جب وہ سب ہمارے لیے ہی ہیں تو پھر اس میں کیا قباحت ہے۔ وہ ہم کل خرچ کریں یا آج‘ کیا فرق پڑتا ہے پلیز پیاری امی اس میں سے ہی چند ہزار دے دیں ناں۔ میں آپ کے لیے بھی اچھا سا سوٹ میچنگ جوتے اور بیگ لے آئوں گی پلیز… پلیز امی انکار مت کریں‘ دے دیں ناں صرف پانچ ہزار۔‘‘ وہ ان سے زیادہ جذباتی ہوکر بازوئوں کا گھیرا تنگ کرتی چلی گئی‘ انہوں نے یک دم پرے دھکیلا۔
’’ہٹو ہٹو… پرے ہٹو‘ بے کار کی ضد مت کرو۔ جب میں نے ایک بار کہہ دیا تو فضول کی گردان سے میرا سر نہ کھائو اب اور جائو کسی کام سے لگو۔ دھیان بٹے گا تمہارا‘ میں نے قیمے کا پیکٹ نکال کر رکھا تھا‘ مٹر بھی چھیل دی ہیں‘ جائو میری جان ہانڈی چڑھا دو جاکر۔ علینہ کی طبیعت خراب ہے اس کی ماں کا فون آیا تھا‘ ہوسکتا ہے وہ بیٹی کی خبر لینے آئے‘ تم ذرا ایک نظر گھر کی صفائی پر بھی ڈال لینا۔ میں ببلو کو دیکھوں کہیں تنگ ہی نہ کررہا ہو ماں کو‘ کل سے بخار میں تپ رہی ہے اور یہ لو مجھے تو دھیان ہی نہیں رہا‘ چکن بھی ہوگی فریج میں علینہ کے لیے یخنی بھی بنانا ہوگی۔ ساتھ میں نرم سی کھچڑی بھی تیار کردینا۔‘‘ وہ تو حسب عادت آرڈر پاس کرتیں بے اعتنائی سے اٹھ کر چل دیں‘ پیچھے وہ کلس رہی تھی۔
’’واہ یہ اچھا انداز اپنا لیا ہے امی نے‘ اپنی دفعہ تو چاہتی ہیں میں ان کا ہر حکم مانوں اور میری ایک التجا پر غور کرنے کی بھی فرصت نہیں‘ صفا چٹ انکار ہے‘ مجھے تو جیسے باورچن بنانے کا پکا ارادہ کرلیا ہے انہوں نے اور یہ علینہ کو تو دیکھو اب ہر روز ایک نیا بہانہ۔ دو دن پہلے ببلو صاحب کی طبیعت ناساز تھی تو محترمہ سے کوئی کام نہ ہوسکا اور آج خیر سے خود بیمار پڑگئی ہیں۔ واہ بھئی واہ‘ پتا ہے ناں کہ مفت کی نوکرانی ہاتھ لگ گئی ہے اب اسے صبح سے شام کچن نام کی کونڈی میں ڈال کر جتنا دل چاہے کوٹو‘ اُف… میرا ہی دماغ خراب ہوا تھا اس روز جو خود اپنے ساتھ دشمنی مول لے لی۔ وہاں کی چخ چخ سننا کہیں بہتر تھا‘ یہاں کے منٹ منٹ کے حکم ناموں سے۔ بچت اسی میں ہے عنابیہ بی بی کہ اپنے لیے جلد ہی کوئی راستہ ڈھونڈ نکالو‘ ورنہ تو یہ ساس بہو ملی بھگت سے تمہیں شیف بنا کر ہی چھوڑیں گی۔‘‘ اور اپنے اس خیال پر عمل کرنے میں اس نے ایک پل کی بھی دیر نہ کی تھی‘ کچن پر سات سلام بھیج کر کمرے کی جانب لپکی‘ دھاڑ سے دروازہ بند کرنے کے بعد سیل فون کان سے لگائے وہ ارشین سے اپنی دکھی داستان کہہ رہی تھی۔
ء…/…ء
عمارت باہر سے تو بے حد اچھا تاثر دے رہی تھی‘ بظاہر دیکھ کر تو لگ رہا تھا کام بہت اعلیٰ ہے‘ اب اندر کیا صورت حال ہے یہ تو واسطہ پڑنے پر ہی خبر ہوتی۔ سرمئی رنگ کے بڑے سے گیٹ کے داخلی دروازے سے جو کہ کھلاوا ہی تھا وہ بلا روک ٹوک اندر آگئی۔ چھوٹا سا سرسبز لان تازگی کا احساس دے رہا تھا۔ رنگ برنگے پھول والے گملے روش پر ترتیب وار دور تک رکھے تھے۔ گیٹ کے بائیں طرف ایک کیبن بنا ہوا تھا‘ جہاں ایک عورت بیٹھی اپنی تھرتھراتی‘ بھونڈی آواز میں کوئی لوک گیت گنگناتی پورے انہماک سے اون سلائیوں میں الجھی ہوئی تھی۔ وہ صاحبہ تو اس قدر مستغرق تھیں اپنے ہی سروں میں کہ کوئی تیسری بار پکارنے بلکہ للکارنے پر متوجہ ہوئیں۔
’’جی‘ کیا بات ہے‘ کس سے ملنا ہے؟‘‘ اون سلائیاں قریب پڑے کارٹن میں پھینک کر وہ فٹ مستعد ہوئی۔
’’پرنسل صاحب کا آفس کہاں ہے اور کیا وہ ہیں سیٹ پر؟‘‘
’’آئو جی میرے ساتھ۔‘‘ اس کے استفسار پر وہ دائیں جانب کی بغلی گلی میں مڑگئی‘ ایک کمرے کے باہر ٹھہرنے کا اشارہ کرتی خود غڑاپ سے اندرغائب ہوئی۔ عنابیہ گردن اِدھر اُدھر گھماتی جائزہ لینے لگی‘ جہاں وہ کھڑی تھی سامنے ہی لکھا تھا ’’آفس‘‘ اس سے کچھ آگے مزید کمرے تھے اور ان کے باہر کیا لکھا ہے ابھی وہ غور کر ہی رہی تھی کہ ان صاحبہ کی واپسی ہوئی۔
’’جائیں جی اندر‘ صارم صاحب ہیں جو بات کرنی ہے ان سے کرلیں ویسے بات کیا کرنی ہے آپ کو‘ کیا کسی بچے کی شکایت لے کر آئی ہیں یا ٹیچر کی یا پھر بچہ داخل کرانا ہے۔‘‘ کیا سمجھ دار خاتون تھیں عین آفس کے سامنے لاکر محترمہ کو پوچھ گچھ کا خیال آیا تھا‘ عنابیہ نے کڑے تیوروں سے گھورتے انگلی سے ڈور ناک کیا۔
’’یس کم ان۔‘‘ اندر سے بارعب آواز آئی تھی‘ اس نے بھاری پردہ ہٹایا‘ قیمتی مردانہ کلون کی دلفریب مہک سیدھی نتھنوں میں گھسی۔ ویل ڈیکورٹیڈ آفس روم‘ سامنے ہی ٹیبل کرسی کی عقبی دیوار پر پیارے قائد کا خوب صورت پورٹریٹ آویزاں تھا۔ بائیں جانب فرش سے چھت تک بنی الماری مختلف شیلڈز‘ ٹرافیز اور مزید کئی چیزوں سے بھری پڑی تھی۔ ساتھ ہی بک ریک سے کتاب اٹھائے خوش رو‘ خوش پوش حضرت یقینا پرنسل صاحب ہی تھے۔
’’تشریف رکھیے۔‘‘ اس کے سلام کے جواب میں سر ہلانے کے ساتھ شائستگی سے کہا گیا اور وہ بغور انہیں دیکھتی سوچ رہی تھی بقول ارشین کے یہاں تو ایک سنجیدہ‘ بردبار اور بزرگ شخصیت کو ہونا چاہیے تھا جبکہ یہ تو… خیر ڈیسنٹ تو یہ بھی لگ رہے ہیں تو لازم ہے کہ ادارے کا انتظام و انصرام بھی اچھا ہوگا مگر اسکول میں داخل ہوتے ہی جو بات کھٹکی تھی یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ نوک زبان تک نہ آتی۔
’’سر اگر مائنڈ نہ کریں تو ایک بات پوچھ سکتی ہوں گو کہ میں نے یہاں کے متعلق اچھا ہی سنا ہے لیکن مجھے بہت عجیب سا لگا۔ اچھا یہ بتائیں آپ یہ اسکول کب سے اون کررہے ہیں۔‘‘ اس نے اجازت چاہی مگر ملنے سے بھی پہلے شروع ہوگئی اور جاب کے لیے انٹرویو اسے دینا تھا الٹا وہ لینے بیٹھ گئی‘ وہ ڈیسنٹ حضرت سوچ میں پڑگئے۔
’’اووں… پتا نہیں‘ کافی سال تو ہو ہی گئے ہیں۔‘‘
’’آپ کا اسکول اس علاقے کے چند ایک اچھے اسکولز میں شمار ہوتا ہے‘ مجھے تو یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ کتنی بے پروائی برتی جاتی ہے اب دیکھیں ناں یہ تو آپ بھی خوب اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ ہمارے ملکی حالات کیسے جارہے ہیں آج کل بلکہ آج کل کیا ہم تو بہت عرصے سے عالم افراتفری میں گھرے ہیں۔ ہر وقت روزانہ کہیں نہ کہیں سے کوئی بری خبر ضرور ملتی ہے مگر حیرت تو یہ ہے کہ پھر بھی ہم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے آپ یہاں کے اونر ہیں اور کتنی قیمتی جانیں آپ کی بلڈنگ میں آپ کی ذمہ داری پر ہیں مگر حالت تو یہ ہے کہ گیٹ پر کوئی سیکیورٹی نہیں۔ چوپٹ کھلا ہوا تھا گیٹ‘ کیا آپ ایک گارڈ افورڈ نہیں کرسکتے جبکہ یہاں آنے والا ہر بچہ آپ کو ایک معقول امائونٹ دے رہا ہے پھر بھی سر…!‘‘ کہیں بھی کسی بدنظمی کو دیکھ کر بے قابو ہونا تو جیسے گھٹی میں شامل تھا‘ کچھ بھی سوچے سمجھے بنا وہ بے دھڑک بولے گئی حالانکہ گھر سے ایک عظیم معرکہ آرائی کے بعد وہ اسی جذبے سے نکلی تھی کہ اب واپسی کسی بھی کامیابی کے ساتھ ہوگی اس سے پہلے جہاں سے ہوکر آئی تھی وہاں بھی اس کی یہ عجلت پسندی ہی آڑے آگئی تھی ورنہ ارشین کی دی گئی رپورٹ کے مطابق تو وہاں تین چار ٹیچرز کی اشد ضرورت تھی۔ وہ خود کو کول رکھتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ فتح کا جھنڈا لہراتی نکلتی۔
بس… حد تو یہ ہے کہ اب یہاں آکر بھی پہلے ہی قدم پر دھچکا‘ ان موصوف نے بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا‘ اسکائے بلیو کلر کے دلکش ڈریس میں سلیقے سے لیے گئے دوپٹے کے ہالے میں مقید اس کے سادہ سے چہرے پر بے پروائی و اعتماد سے بھری دو آنکھیں چمک رہی تھیں۔
’’دیکھیے مس… ہمارے ادارے کے تمام انتظامات بہترین ہیں اور جیسا کہ آپ نے خود کہا کہ یہ علاقے کے اچھے اداروں میں شمار ہوتا ہے تو سیکیورٹی کا بھی پورا نظام ہے ہمارے پاس‘ باہر سی سی ٹی وی کیمرہ بھی لگا ہے وہ اسکرین دیکھ سکتی ہیں۔ ہوسکتا ہے گیٹ بھولے سے کھلا رہ گیا ہو اور سیکیورٹی گارڈ اسکول کے اندر ہو کسی وجہ سے‘ خیر میں چیک کرلیتا ہوں۔‘‘
’’آپ کی وہ میڈ صاحبہ بھی ’’میڈ‘‘ ہی ہیں‘ انہیں تو جلدی سنائی بھی نہیں دیتا۔ ان کے کانوں کی صفائی بھی کروالیں اور انہیں ٹرینڈ کریں کہ ہر آنے والے سے گیٹ پر ہی ضروری معلومات لے‘ یہ نہیں کہ آفس تک لاکر سب پوچھیں۔‘‘ اس نے اگلا اعتراض کیا۔
’’اوکے‘ جی اور کچھ…‘‘ زیرلب نامحسوس سی مسکراہٹ لیے تابعداری سے فرمایا گیا اور اس کے خیال میں جتنا کچھ کہہ دیا تھا وہی کافی تھا۔
’’سر مجھے خبر ملی ہے کہ یہاں سائنس ٹیچر کی ضرورت ہے اسی سلسلے میں حاضر ہوئی تھی میں۔‘‘
’’ویل‘ آپ نے ٹھیک سنا ہے‘ آپ کی سی وی وغیرہ۔‘‘ عنابیہ نے شولڈر بیگ سے فائل نکال کر ان کے سامنے رکھی۔
’’ہوں‘ اس سے پہلے کہیں جاب کی ہے آپ نے۔‘‘ فائل اچھی طرح دیکھنے کے بعد ٹیبل پر رکھ دی۔
’’جی سر…‘‘ اس نے سر ہلایا۔
’’کتنا عرصہ اور کہاں اور جاب کیوں چھوڑی؟‘‘ لو جی آخری سوال نے تو ہک دک کردیا‘ یہ کیا پوچھ لیا سچ ایسا بھی قابل ذکر نہ تھا اور جھوٹ وہ بولتی نہ تھی پھر جو پوچھا گیا تھا بتانا تو تھا ہی۔
’’ویسے تو سر کسی کی برائی کرنا اچھی بات نہیں ہوتی لیکن اب آپ نے پوچھا ہے تو بتائے دیتی ہوں۔ دراصل وہاں کا ماحول میرے مزاج سے میل نہیں کھاتا تھا‘ اسکول کی آڑ میں صرف اور صرف کاروبار کررہے تھے وہ لوگ‘ بددیانتی کیسی بھی ہو اور کہیں بھی ہو میں برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ اور کرسی پر جھولتی شخصیت نے پوری آنکھیں کھول کر اس شاہانہ مزاج رکھنے والی لڑکی کو دیکھا پھر گویا متاثر ہوکر سر ہلادیا۔
’’آپ یوں کیجیے کل صبح دس بجے فون کرکے انٹرویو کا ٹائم پوچھ لیں۔‘‘ ایک کارڈ اس کی طرف بڑھادیا۔ ’’اینڈ بیسٹ آف لک۔‘‘
’’تھینک یو سر۔‘‘ کارڈ اور فائل سنبھال کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ تب ہی ایک اور موصوف عجلت بھرے انداز میں کمرے میں داخل ہوئے وہ توجہ دیئے بنا باہر نکل گئی‘ آنے والا سامنے نگاہ پڑتے ہی طنزیہ گویا ہوا۔
’’بہت خوب جناب… بہت شوق ہے آپ کو میری سیٹ پر جھولنے کا۔‘‘
’’مائے ڈئیر اسجد وقار صاحب اول تو یہ سیٹ آپ کی نہیں‘ یہ تو میرے پیارے عزیز از جان ماموں جان کی ہے جو بوجہ علالت آج کل اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے قاصر ہیں اور انہوں نے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے کچھ وقت کے لیے اس ادارے کو آپ کی تحویل میں دے دیا ہے اور ساتھ ہی آپ کی مکمل کارکردگی کا جائزہ لیتے رہنے کا ذمہ مجھ ناچیز کے سر ڈال دی اور جب آپ اس سیٹ کی حرمت کا پاس نہ کرتے ہوئے سستی اور کاہلی کا اعلیٰ نمونہ بنے دن کے بارہ بجے تشریف کا ٹوکرا اٹھائے آئیں گے تو میں یہاں جھولے لوں یا کودوں‘ آپ کو اس سے مطلب اور یوں بھی یہ چیئر ہے ہی بہت مزے کی۔ ماں کی گود کی یاد آجاتی ہے قسم سے۔‘‘ اسے چڑاتے ہوئے ایک چکر اس کے گرد لگایا۔
’’میرا تو کبھی کبھی تمہیں چھٹی کا دودھ یاد کروانے کو دل چاہتا ہے اور خیر سے محترمہ کون تھیں؟‘‘ وہ جانے کس بات پر تپ کر آیا تھا۔
’’تمہارے اسٹاف میں قابل قدر اضافہ۔‘‘ صارم نے مزے سے بتایا۔
’’ہیں‘ کیا مطلب؟‘‘ اسجد کی آنکھیں پھیلیں۔
’’ابھی ایک دو روز پہلے تم خود ہی تو رونا رو رہے تھے کہ مسز حمید کے اچانک چلے جانے سے بہت پریشانی ہوگئی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو جو اُن جیسی محنتی اور سمجھ دار ٹیچر مل جائے تو بس یہ وہی ہیں‘ سمجھو غیبی فرشتہ۔‘‘
’’مگر وہ مسئلہ تو حمید انکل نے حل کردیا ہے‘ میں تمہیں بتانا بھول گیا ان کا بھانجا ہے ایف ایس سی کے بعد فری ہے آج کل‘ دو تین ماہ تک ہمارا ساتھ دے گا پھر دیکھیں گے۔‘‘
’’انکل حمید کے بھانجے کو دفع کرو‘ یہ لڑکی کل فون کرے گی انٹرویو کا ٹائم دو‘ پرسوں بلائو اپائنٹ کرو‘ دیٹس اٹ۔‘‘ وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اللہ اللہ… اسکول میرا فیصلے تمہارے‘ یہ تو وہی ہوا مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ کمال ہے بھئی‘ بائے دا وے کب سے جانتے ہو اسے؟ مجھ سے تو کبھی ذکر نہیں کیا۔‘‘ اسجد کی آنکھوں میں اترتی تشخیص پر صارم دوبارہ بیٹھ گیا۔
’’دماغ تو ٹھکانے پر ہے‘ میں ذکر کہاں سے کرتا میں نے تو خود آج پہلی بار دیکھا ہے۔‘‘
’’اور پہلی بار دیکھنا ہی کام کر گیا۔‘‘ ایک آنکھ دباتے اس نے جملہ کسا۔
’’بکواس بند کر بے ہودہ انسان‘ ایک تو تیرا بھلا چاہ رہا ہوں اوپر سے باتیں بنارہا ہے۔ نالائق قسم کا اسٹاف بھرتی کرے بیٹھا ہے‘ چند آدمی‘ اسکول کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا ہے تم نے تو۔ بے حد محنت سے نام و مقام بنایا ہے ماموں جان نے مگر اسے تم ایک دن ڈبو دو گے‘ کوالیفائڈ لڑکی ہے یہ پھر ذمہ داری کا احساس نظر آیا ہے مجھے اس میں‘ اسی لیے فورس کررہا ہوں‘ تم ہی فائدے میں رہو گے ورنہ میری طرف سے جائو بھاڑ میں۔‘‘ صارم کا بس نہ چلا کچھ اٹھا کر دے مارتا۔
’’ذمہ داری تک تو ٹھیک ہے‘ بٹ کوالیفائڈ… تجھے پتا ہے کوالیفائڈ لڑکیاں نخرے کتنے کرتی ہیں پھر سیلری کتنی مانگتی ہیں اور یہ لڑکی تو بہت نخریلی لگ رہی تھی۔ تو کسی دفتر میں کام کرے جاکر‘ یہاں کیا کرنے آگئی تو چھوڑ پرے یار۔ حمید انکل کا بھانجا ہی ٹھیک ہے‘ ابھی بلوالیتا ہوں اسے تو ایک بار اس سے مل لے‘ انکل نے خود کہا ہے دینے دلانے کی فکر نہ کرنا بس بچہ مصروف رہے۔‘‘ اور صارم نے یوں دیکھا جیسے کاٹے گا نہیں نہ ہی بھونے گا بس کچا ہی چبا جائے گا۔
’’تُو جتنا کمینہ باہر سے نظر آتا ہے اس سے کہیں زیادہ اندر سے ہے‘ یہ پھاپے کٹنیوں والی حرکتیں چھوڑ دے۔ تیرے اندر تو کسی سیاستدان کی روح حلول کر گئی ہے‘ بالکل وہی کوالیٹیز ہیں تیری یہاں سے وہاں سے‘ اِدھر سے اُدھر سے‘ نوچ کھسوٹ کے‘ لوٹ مار کے‘ کاٹ کٹوتی سے‘ جیسے تیسے مال بنانے کا خبط ہے بس۔ یہ جو آٹھ آٹھ دس دس جماعت پاس اسٹاف بھرتی کرنے کے چکر میں ہو ناں تو سب سمجھتا ہوں میں‘ اس کے پیچھے کیا کوشش کار فرما ہے۔ تمہاری نظر اب صرف آمدن پر ہے‘ معیار چاہے رہے نہ رہے‘ کچھ اللہ کا خوف کرو باپ کو ہی دیمک بن کر چمٹ گئے ہو۔ وہ بے چارے بیماری کے ہاتھوں تنگ آکر گھر کیا بیٹھے‘ تم نے تو لوٹ مچادی‘ ان تک سب کھاتے پورے جاتے ہیں میں جو یہ ہفتے میں تین دن آکر میتھس کی کلاس لے لیتا ہوں تم مجھے اس کی کاغذی سیلری ادا کرتے ہو یہ اور بات ہے کہ وہ ہر بار میری جیب کے بجائے تمہاری جیب میں ہی چلی جاتی ہے۔ تمہاری سب حرکات پر میں اگر چپ رہا تو صرف تقاضائے دوستی کے ہاتھوں مگر اب حد ہوگئی بہت ہوگئی مروت‘ میرا خیال ہے مجھے اب کچھ سوچ لینا چاہیے۔‘‘ وہ تو پھٹے ہی اکھاڑنے پر آگیا تھا‘ اسجد نے لپک کر دروازہ بند کیا۔
’’میں تو تجھے اپنا دوست سمجھتا تھا پر تُو تو آستین کا سانپ نکلا بھائی… اللہ کا واسطہ منہ بند کرلے‘ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ تُو جو کہے گا وہی ہوگا یہ لڑکی ڈن ہوگئی‘ حمید انکل کا بھانجا دفع ہوگیا اور کوئی حکم۔‘‘ وہ تو پیروں کو چھونے پر ہی اتر آیا تھا‘ صارم نے رخ پھیرلیا۔
’’اچھا ناں اب غصہ تھوک بھی دے‘ کہتا ہے تو ڈسٹ بن ادھر لادوں۔ دیکھ جیسا تُو کہے گا ویسا ہی ہوگا‘ دوستوں میں کیا تیری میری۔ میں تو ایویں بکواس کر جاتا ہوں‘ یہ اسکول مجھ سے زیادہ تیرا ہے بلکہ تیرا ہی ہے۔ چل اب مان بھی جا ناں اور بتا کیا پیے گا۔‘‘ اسجد گھوم کر سامنے آیا‘ چہرے پر چاپلوسانہ مسکان سجی تھی اسے خفا کرنے کا مطلب تھا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا اور ایسی بے وقوفی وہ ہرگز نہیں کرسکتا تھا۔
’’فی الحال تو تیرا خون پینے کو جی چاہ رہا ہے اور ہاں یہ گیٹ کیوں کھلا ہوا ہے آج۔ وہ گیٹ کیپر کہاں گیا‘ ایک ہفتے سے میں نے بھی نہیں دیکھا اسے۔‘‘ صارم کو یک لخت یاد آیا تو پوچھا۔
’’چھٹی کردی کم بخت سیلری بڑھانے کا کہہ رہا تھا‘ اتنے نخرے تو میں اپنی معشوقائوں کے نہیں اٹھاتا جتنے اس نے کرنے شروع کردیئے تھے۔ پتا نہیں ڈیڈ نے کیسے سب کو قابو کر رکھا تھا یہاں تو ہر ایک کی کوشش ہے کہ جوتوں سمیت میرے سر پر چڑھ جائے۔‘‘ اس کے اپنے دکھ تھے۔
’’شاباش‘ بس تم سب کی چھٹی کرتے رہنا پھر وہ دن دور نہیں جب تمہاری چھٹی کے سو فیصد امکان بن جائیں گے کچھ خبر ہے کہ حکومتی سطح پر کتنی سختی ہوچکی ہے۔ اسکولز کی سیکیورٹی کے معاملے میں اگر تم اسے سیکیور نہیں کرسکتے تو پھر بند کردو ورنہ تمہاری اس حماقت کی کہیں رپورٹ ہوگئی تو سونے کی مرغی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ فی الفور واپس بلائو اسے اور یاد رہے آج سے اس سیٹ کا حق دار صرف میں ہوں‘ تم جیسا گدھا‘ پاجی‘ احمق اس چیئر کے قطعاً لائق نہیں۔ ماموں کی محنت کو میں یوں برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا‘ ان کے ساتھ تو وہ ہوا ہے کہ ایک انڈا وہ بھی گندہ‘ آئندہ جتنا ٹائم میں یہاں آئوں گا یہ کرسی صرف میری ہوگی آیا کچھ عقل شریف میں۔‘‘ ماتھے پر اچھی طرح سے انگلی بجائی تھی‘ لگتا تھا ضرب سر سے پائوں تک گئی ہے‘ اسجد دانت کچکچا کر رہ گیا‘ وہ جاچکا تھا اور پیچھے وہ تادیر غائبانہ لتے لیتا رہا۔
ء…/…ء
’’اور سنائو کیسا جارہا ہے نیا تجربہ۔‘‘ ہادیہ نے چائے کا مگ اس کے سامنے رکھا اور خود بھی قریب ہی ٹک گئی۔
’’ہوں ٹھیک۔‘‘ وہ پیپر چیک کررہی تھی۔
’’اس کا مطلب ہے دل لگ گیا ہے تمہارا۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ ابھی بھی سر نہ اٹھایا بند ہونٹوں سے آواز نکالی‘ امی اپنے کمرے سے اسی طرف آرہی تھیں۔
’’یہ بھی پوچھ لو کتنے دن کے لیے؟‘‘ اس کا سر ایک جھٹکے سے اوپر اٹھا اب وہ کچن کی جانب منہ کیے کہہ رہی تھیں۔
’’علینہ بچے… کیا پکا رہی ہو؟‘‘ اور ’’علینہ بچے‘‘ جھٹ دروازے تک آئی۔
’’جو آپ کہیں پھوپو‘ بتادیں وہی پکالیتی ہوں۔‘‘
’’کچھ بھی پکالو بیٹا‘ بس دھیان رکھنا نرم غذا ہو آج کل طبیعت ویسے ہی سست سی ہے میری‘ پتا ہے ناں تمہیں۔‘‘
’’دال چاول پکالوں پھوپو؟‘‘
’’چلو ٹھیک ہے پودینے کی چٹنی ضرور بنانا اور دال مونگ کی پکالو سبز مرچ کے ساتھ‘ سرخ مت ڈالنا اور یہ ہمارا شہزادہ کہاں ہے؟ مغرب سے پہلے پہلے اٹھا دیا کرو اسے اور لے آئو میرے پاس میرا بھی جی بہلے۔‘‘
’’جی پھوپو ابھی لائی۔‘‘ ادھر تابعداری کی انتہا تھی‘ عنابیہ اپنی مصروفیت بھول بھال ’’ساس بہو‘‘ کا رس بھرا مکالمہ سن رہی تھی۔ امی ادھر ہی آبیٹھیں‘ ایک ناگوار نظر اسکرین پر ڈالی جہاں مشہور زمانہ سوپ چل رہا تھا۔ ساس للکارتی ہوئی بہو پھنکارتی ہوئی‘ ان کے درمیان سینڈوچ بنا ایک بے چارہ گھگھیاتا ہوا مرد‘ پتا نہیں ہمارے چینلز کو کیا ہوگیا ہے۔ ناظرین کا دھیان بٹاتے ہوئے خود ہی اس مقام تک آگئے ہیں جہاں سے کبھی ہم ناک تک بھرے بیٹھے تھے‘ وہی ایک سے گھسے پٹے موضوع وہی چلتر بازیاں‘ ناچاقیاں‘ بدمزاجیاں آخر کیا سکھانا چاہ رہے ہیں ہم اپنی نسلوں کو۔
’’ہادیہ ریمورٹ کہاں ہے ہٹائو پرے انہیں‘ بہو بیٹیوں والے گھرانوں میں ایسے ڈرامے چلیں گے تو کیا بنے گا ہمارے معاشرے کا توبہ توبہ‘ دفع بھی کردو اب۔‘‘ امی چڑ کر بولیں‘ انتہائی زہر لگتے تھے انہیں ایسے چینل‘ ان سے بہتر انہیں وہ ٹاک شوز لگتے جہاں ہمارے معاشرے کے بڑے اداکاروں کا فن تو کم از کم اپنے عروج پر نظر آتا تھا۔
عنابیہ نے جھٹ ریمورٹ گھٹنے کے نیچے کھسکالیا‘ ہادیہ اِدھر اُدھر جھاتیاں مار رہی تھیں پھر ہار کر کندھے اچکاتی بیٹھ گئی۔
’’ارے ٹی وی کے بٹن سے ہی پرے کردو ان نامراد شکلوں کو۔‘‘ امی کو غصہ آرہا تھا۔
’’ہادیہ پلیز ہاتھ مت لگانا‘ اب ہی تو ٹوٹس آیا ہے اسٹوری میں‘ دیکھنے تو دو کیا ہوتا ہے۔‘‘ عنابیہ نے پیش بندی کی۔
’’ہادیہ تمہیں سنائی نہیں دے رہا۔‘‘ امی نے گھرکا۔
’’ہادیہ بدل بھی دے تو کیا اصل چابی تو میرے پاس ہے میں پھر لگالوں گی اینڈ مائے ڈئیر مدر… وہ شکلیں بھی کوئی ایسی بامراد نہیں جنہیں آپ بصد شوق دیکھتی ہیں۔ نرا جھوٹ کا پلندہ ہیں وہ‘ زمانے بھر کے فراڈ‘ صیاد لوگ۔‘‘
’’یہ لیں پھوپو… چائے۔‘‘ تبھی علینہ نے پیالی ان کے آگے دھری۔
’’ارے جیتی رہ میری بچی‘ خوش رہو‘ اللہ سدا سہاگن رکھے۔‘‘ اس کی کسی بھی بات کو درخود اعتنار نہ جانتے ہوئے بہو پر یوں نچھاور ہوئیں کہ وہ اندر تک سڑ کر سوا ہوگئی‘ علینہ نہال ہوتی کچن کو ہولی۔
’’امی… آپ کبھی کبھی بالکل بھی اچھی امی نہیں لگتی مجھے‘ بہو کو دیکھتے ہی آپ کی آنکھیں جگمگا اٹھتی ہیں اور مجھے تو دیکھنا بھی آپ کو گوارہ نہیں آخر ایسا کیا جرم کردیا ہے کہ یوں خفا ہوگئی ہیں۔ اپنی بہو سے تو پیار ہے آپ کو‘ اب صرف وہی پیاری لگتی ہے میں تو جیسے…‘‘
’’ہادیہ اس سے کہو چپ کر جائے‘ میرے سر میں پہلے ہی بڑا درد ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے میں یہاں سے چلی ہی جائوں تاکہ آپ ماں بیٹی ڈائریکٹ ایک دوسرے سے نبٹ لیں‘ مجھے تو ایویں گیند سمجھ لیا ہے دونوں نے۔‘‘ ہادیہ نے بچت اسی میں جانی کہ وہاں سے کھسک لے۔
’’سر میں درد تو ہوگا ہی سویٹ والدہ ماجدہ‘ جب ہر وقت فضول کی باتیں سنیں گی کبھی کبھار ہلکی پھلکی تفریح بھی جائز کرلیں خود پر‘ آپ کی بہو کچھ نہیں سیکھے گی ادھر سے‘ وہ پہلے ہی مارے سبق پڑھ کر آئی ہے اور رہ گئیں ہم آپ کی جگر گوشیاں تو ہم کتنی انوسنٹ ہیں یہ تو آپ جانتی ہیں۔ ہم تو آج تک آپ کو سکھایا نہیں سیکھ سکے تو ان بے چاروں کی تو اوقات ہی کیا۔‘‘ اس کا انداز شرارتی تھا‘ والدہ ماجدہ ان سنی کیے چائے کی پیالی میں گم تھیں۔
’’امی… آپ اچھا نہیں کررہی ہیں میرے ساتھ۔‘‘ وہ سب پیپرز ہٹاتی ان تک آئی اور دھڑلے سے گود میں گھس گئی۔
’’ارے ارے لڑکی‘ بائولی ہوگئی ہو کیا‘ خدانخواستہ ابھی چائے گر جاتی تو۔‘‘ انہوں نے بمشکل کپ پرے کہا۔
’’تو کیا میرا منہ جل جاتا اور آپ خوش ہوجاتیں۔‘‘
’’درفٹے منہ‘ الٹی ہی بکواس کرو گی ہمیشہ‘ نہ اچھی بات کرنا نہ سمجھ داری سے کام کرنا۔ تم نے تو ستا کر رکھ دیا ہے مجھے۔‘‘ امی نے اک چپت رسید کی‘ وہ ہنس کر آنکھیں موند گئی۔
’’آہا‘ کتنا سکون ہے یہاں‘ جی چاہ رہا ہے سو جائوں‘ اُف تھک گئی ہے میری آنکھیں۔ امی مجھے لگتا ہے میری آنکھوں کو نظر لگ گئی ہے کل ٹیچر فریدہ تعریف کررہی تھیں‘ کچھ پڑھ کر پھونک دیں ناں۔‘‘ اور امی کو فکر لگ گئی‘ فوراً آواز لگائی۔
’’ہادیہ سات مرچیں لے کر آنا گن کر۔‘‘ اور وہ دونوں کچن کی کھڑکی سے لگی کھڑی مسکرا رہی تھیں۔
’’یہ عنابیہ بھی ناں بہت بڑا ڈرامہ ہے۔‘‘ دونوں کا مشترکہ خیال تھا۔
ء…/…ء
’’مس عنابیہ شفیع اور سنائیں کیسا چل رہا ہے سب‘ کوئی مسئلہ تو نہیں۔‘‘ وہ کلاس لے کر نکلی تھی کہ صارم سے سامنا ہوگیا‘ وہ پوچھ کر رکا نہیں تھا۔
’’ٹھیک ہے سب اور مسئلے کہاں نہیں ہوتے سر…‘‘ وہ بھی پیچھے ہی چل دی تھی۔
’’آں ہاں‘ جو بھی مسئلہ ہو آپ مجھ سے شیئر کرسکتی ہیں۔‘‘
’’آپ ہی سے شیئر کروں گی کیونکہ انہیں حل کرنا آپ ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔‘‘ اور صارم کے قدم پل بھر کو رکے تھے‘ مڑ کر دیکھا اس کے سادہ اور ملیح چہرے پر وہی مخصوص اعتماد لو دے رہا تھا‘ وہ سر ہلا کر چل دیا۔
’’میں آفس میں ہی ہوں‘ وہیں بات ہوگی۔‘‘
’’جی سر۔‘‘ وہ اسٹاف روم کی جانب مڑگئی‘ کچھ دیر بعد وہ اس کے روبرو بیٹھی تھی۔
’’جی مس شفیع… اب کہیے۔‘‘
’’سر جو کلاسز میرے حوالے کی گئی ہیں‘ میں ان پر بات کرنا چاہوں گی‘ کچھ ایسے ایشوز ہیں جنہیں آپ کے سامنے پوائنٹ آئوٹ کرنا بہت ضروری ہے میرے لیے۔‘‘
’’یس شیور۔‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوا‘ انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پر چل رہی تھیں۔
’’سر کیا میں جان سکتی ہوں کہ مجھ سے پہلے ففتھ اور سکس گریڈز کو سائنس کون پڑھا رہا تھا۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’مڈل اینڈ ہائی کلاسز کے لیے مسز حمید تھیں جو بہت محنت سے اپنے فرائض ادا کرتی رہیں ان کا بے حد تعاون رہا ہمارے ساتھ‘ اے ون رزلٹ لاتی تھیں وہ اور پرائمری لیول تک مس نزہت کریم ہیں جو اب بھی پڑھا رہی ہیں۔ آپ کے آنے کے بعد آپ کے انداز کو دیکھتے ہوئے میں نے بہتر جانا کہ ففتھ گریڈ بھی آپ کے حوالے کردیا جائے۔‘‘ صارم نے انگلیاں روک کر مفصل جواب سے نوازا۔
’’اٹس مائے پلیژر سر‘ یہ یقینا آپ کے اعتماد کا اظہار ہے اور میری پوری کوشش ہوگی کہ یہ اعتماد برقرار ہے۔ ہائی گریڈز تک تو بات ٹھیک ہے‘ بٹ ففتھ اینڈ سکس گریڈز سو ٹف ٹارگٹ فار می۔‘‘
’’اینڈ آئی ہوپ کہ آپ اسے اچیو کریں گی‘ اسی بھروسے پر تو یہ ذمہ داری آپ کو سونپی ہے۔ جب بھی کسی ادارے میں کوئی نیا ورکر آتا ہے تو اسے مشکل کو آسان کرکے ہی خود کو اہل ثابت کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک طرح سے اس کی ٹریننگ بھی ہوتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ٹوٹکہ بھی۔‘‘
’’آپ کی بات سو فیصد درست ہے سر اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا کہ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائوں‘ باقی سر کچھ بچوں کا معاملہ مجھے پیچیدہ لگ رہا ہے یا تو ان بچوں پر کلاس میں توجہ نہیں دی جاتی رہی یا پھر وہ بچے ہی کچھ زیادہ ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں کیونکہ قابل افسوس بات تو یہ ہے ہی کہ ان کی رائٹنگ تو قابل توجہ ہے ہی نہیں بلکہ انہیں تو ٹھیک سے ریڈنگ بھی کرنا نہیں آرہی۔ سیکنڈ ٹرم میں اب کچھ ہی عرصہ ہے‘ اگر ایسے میں یہ بچے رزلٹ ٹھیک نہ دے سکے تو سر ان کا ذمہ دار آپ مجھے ہرگز نہیں ٹھہرا سکتے۔‘‘ اس نے سبھائو سے معاملہ آگے رکھا۔
’’میں تو آپ کو ہی ذمہ دار ٹھہرائوں گا کیونکہ اب یہ بچے آپ کے حوالے ہیں‘ آپ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں مجھے اے ون رزلٹ چاہے۔‘‘ صارم نے کورا جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے سر‘ میں تو چاہ رہی ہوں‘ میں شفاف کام کروں لیکن اگر میری کارکردگی بھی یہاں کام نہ آسکی تو پھر میں بھی اسی طرح سے رزلٹ دے دوں گی جیسا کہ ان کی پہلی ٹیچر آپ کو دیتی رہی ہیں۔‘‘ لگی لپٹی تو وہ بھی نہیں رکھتی تھی صاف بات کی۔
’’مطلب…!‘‘ اس نے ایک بھنویوں اچکا کر پوچھا۔
’’مطلب بالکل واضح ہے سر‘ ابھی کل ہی میں نے سب بچوں کی فرسٹ ٹرم رزلٹ شیٹس چیک کی ہیں اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی ہوںکہ ماشاء اللہ تمام کے تمام بچے اے پلس رزلٹ ہولڈرز ہیں اور کوئی شک نہیں کہ سیکنڈ ٹرم میں بھی ان کو یہی رزلٹ دیا جاتا جبکہ چند بچوں کی صورت حال اس سے قطعاً مختلف ہے یہ منتھلی ٹیسٹ فائل ہے سر ان بچوں کی۔ میں نے اس پر مارکنگ نہیں کی آپ اسے خود چیک کریں۔‘‘ عنابیہ نے اٹھ کر سارے کاغذات صارم کے آگے ٹیبل پر رکھے۔
’’آپ نے تو مجھے پریشان کردیا ہے مس شفیع… ایسا کیسے ہوسکتا ہے مجھے تو یہی رپورٹ مل رہی ہے کہ تمام بچے ٹھیک جارہے ہیں۔‘‘ وہ حد درجے الجھن کا شکار ہوا۔
’’ایسا بھی ہوتا ہے سر‘ یہ کوئی انوکھی بات نہیں‘ ہر جگہ ہر ادارے میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ آپ کا ایٹی ٹیوڈ دیکھتے ہوئے مجھے گمان گزرا تھا کہ یہاں کی سچوئشن قدرے بہتر ہوگی بٹ آئی ایم سوری ٹو سے سر ایسا نہیں ہے۔ یہاں بھی کچھ معاملات غفلت کا شکار ہیں اور مجھے پورا یقین ہے سر یہ وہ بچے ہیں جن کے والدین بوجہ مصروفیات ان پر توجہ نہیں دے پاتے اور اسی چیز کا نقصان ان بچوں کو اسکول میں بھی ہورہا ہے اور یہ ان معصوموں کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہے… آپ کو اس پر ضرور توجہ دینا ہوگی۔ میں تو اپنے حصے کا کام کروں گی ہی لیکن سر اس کے ساتھ آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ ایک ارجنٹ میٹنگ ان بچوں کے والدین کو کال کریں کیونکہ اب یہ مسئلہ ہم صرف اکیلے حل نہیں کرسکتے ان کا شامل ہونا اور ساتھ دینا اتنا ہی لازمی ہے اینڈ تھینک یو سر‘ آپ کا بہت سا قیمتی وقت لیا‘ میری کلاس کا ٹائم ہورہا ہے۔‘‘ اس نے جانے کے لیے پَر تولے‘ اسے پوری توجہ سے دیکھتے صارم کو جیسے ہوش آیا۔
’’اوکے مس شفیع اور مجھے بہت اچھا لگا‘ آپ نے جس طرح اس مسئلے کو میرے سامنے رکھا میں بہت جلد ان والدین کو میٹنگ کال کرتا ہوں‘ ان شاء اللہ جلد ہی بہتری نظر آئے گی اور یہ ٹیسٹ تو میں ابھی چیک کرلیتا ہوں اور خود بھی کلاس کا وزٹ کرکے ان بچوں سے بھی بات کرتا ہوں۔‘‘
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے سر‘ یہ اور بھی اچھا ہوگا کیونکہ میں نے دیکھا ہے بچوں پر آپ کا بہت رعب ہے وہ آپ کی بات کو ضرور سمجھیں گے۔‘‘
’’ارے نہیں بھئی میں تو اس بات کا قائل ہی نہیں ہوں‘ میں نے تو کبھی بچوں پر سختی نہیں کی۔ ہمیشہ ان سے نرمی برتی ہے‘ آپ کو یہ غلط فہمی کیونکر ہوئی۔‘‘ وہ فوراً اپنی صفائی دینے لگا عنابیہ مسکرادی۔
’’بے شک سر‘ آپ سختی نہیں کرتے مگر آپ کا بی ہیوئر ایسا ہوتا ہے کہ بچے ایک حد میں رہتے ہیں وہ آپ کا احترام کرتے ہیں فوراً آپ کی بات کو اوبے کرتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے سر‘ ہماری ایک ٹیچر بھی ایسی ہی ہوا کرتی تھیں‘ وہ کبھی ڈانٹتیں نہیں تھیں مگر ان کی شخصیت ہی ایسی سحر انگیز تھی کہ تمام اسٹوڈنٹس ان کی آنکھ کے اشارے پر چلتے تھے اور سر یہ جادو آپ کو بھی آتا ہے مجھے چند دن ہوئے ہیں اسکول جوائن کیے لیکن میں نے تو نوٹ کیا ہے سر‘ کچھ بچے تو ایسے ہیں جن کے سامنے آپ کا نام ہی لیا جائے تو وہ تیر کی طرح سیدھے ہوجاتے ہیں۔‘‘ اور صارم نے اس وقت تو کندھے اچکا دیئے تھے مگر اس کے جانے کے بعد وہ تادیر اس کے لفظوں کے حصار سے باہر نہ آسکا۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ کسی لڑکی نے پہلی بار اس کی تعریف کی تھی‘ وہ ایک دلکش پرسنالٹی کا مالک تھا اور اکثر ہی تعریف وصول کرلیا کرتا تھا مگر ہاں‘ یہ ضرور پہلی بار ہوا تھا کہ عنابیہ شفیع نے اسے سراہا تھا اور اس دن سے لے کر آج تک جب بھی وہ اس لڑکی کو دیکھتا تو خیال آتا۔ اسے اپائنٹ کرکے اسکول کے حق میں ایک اچھا فیصلہ کیا تھا اور آج تو گویا اس خیال پر مہر لگ گئی تھی‘ وہ یقینا ایک سمجھ دار لڑکی ہے اور اس کی مسکراہٹ کتنی پیاری ہے‘ خود سے باتیں کرتے صارم کو اندر سے آواز آئی تھی اس نے ٹھٹک کر اردگرد دیکھا پھر کمرے میں چکراتی اس کی خوشبو کو محسوس کرتے لیپ ٹاپ کو سامنے گھسیٹ لیا مگر انگلیاں حرکت کرنے سے انکاری ہوگئیں‘ اسکرین پر بھی اس کا چہرہ جگمگانے لگا تھا۔
’’یہ کیا حرکت ہے‘ سمجھ دار بنو۔‘‘ اس نے بوکھلا کر دل کو ڈپٹا لیکن بھلا ایسے معاملات میں پہلے کسی کا دل سیانا بنا ہے جو اس کا بن جاتا ‘ وہ مسلسل اسے اپنی منشاء کے عکس دکھا رہا تھا۔ صارم نے جھنجھلا کر سر ٹیبل پر رکھ دیا یہ بالکل ہار ماننے والوں کی ادا تھی۔
ء…/…ء
’’دیکھیے مسز دلاور… آپ سے کہہ چکی ہوں کہ میں اس معاملے میں آپ کو کوئی مدد نہیں کرسکتی‘ یہ ڈیپارٹمنٹ سر اسجد صاحب کا ہے اور جب وہ آپ سے حتمی بات کرکے جاچکے ہیں تو پھر میں کیا کروں۔‘‘ عنابیہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
’’آپ کلاس انچارج ہیں حمزہ کی‘ آپ ہی تو مدد کرسکتی ہیں اب میں اپنی کیا کیا پریشانیاں کھول کر بتائوں‘ میرے شوہر یو اے ای میں ہوتے ہیں۔ بہت اچھی جاب تھی ان کی‘ اللہ جانے کس حاسد رشتہ دار کی نظر کھا گئی‘ میاں کی اچانک سے جاب چلی گئی۔ مانو مصیبت میں ہی آگئے ہم تو‘ اب ہاتھ اتنا تنگ ہے‘ گھر کے باقی خرچے پورے نہیں ہو پارہے‘ میں بچوں کی فیس کہاں سے لائوں۔‘‘ جدید تراش خراش کے ملبوس کو قیمتی خوشبوئوں سے مہکائے ان نفیس سی خاتوں نے اپنے مہنگے پائوچ سے امپورٹڈ ٹشو نکال کر غیر محسوس بھیگ جانے والی آنکھیں صاف کیں۔
’’اوہو‘ یہ تو سچ میں بہت برا ہوا آپ کے ساتھ‘ آپ کے شوہر واپس آگئے پھر۔‘‘
’’ارے نہیں وہ تو واپس آنا چاہ رہے تھے لیکن میں نے ہی منع کردیا‘ چھپ کر رہ رہے ہیں بے چارے۔ وہ خود وہاں اتنی پریشانی میں ہیں‘ کیا کریں۔‘‘ ان کی پلکوں پر مزید آنسو آٹھہرے تھے‘ عنابیہ پوری آنکھیں کھولے انہیں دیکھ رہی تھی۔
’’آپ کے شوہر وہاں چھپ کر مطلب غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں‘ اُف اور آپ نے خود انہیں وہاں روک دیا‘ آپ کو بہتر علم ہے مسز دلاور وہاں کے قوانین کس قدر سخت ہیں۔‘‘
’’ہاں سب پتا ہے لیکن کیا کروں میں اپنی جگہ مجبور ہوں‘ ان کے یہاں آنے میں بھی تو آسانی نہیں ہے ناں‘ کون سا انہیں یہاں اتنی اچھی جاب مل جائے گی اور پھر سارے خاندان میں کیسی جگ ہنسائی ہوگی ہماری۔ ارے ایسے اللہ مارے ہیں سب کے سب ان حالات میں کیا خاک ساتھ دیں گے۔ نری باتیں ہی بنائیں گے جی جلانے کو۔‘‘ انہیں تو جیسے اور کوئی فکر ہی نہیں تھی‘ اسے تو غصہ ہی آگیا‘ کیسی ظالم عورت تھی‘ شوہر پردیس میں بدحال دھکے کھا رہا تھا اور اسے یہاں سارے خاندان میں صرف اپنے ناک بچانے کی پڑی تھی۔ یااللہ کیسے کیسے لوگ بھرے پڑے ہیں اس دنیا میں اور ایسی بیمار ذہنیت کے لوگ نہ ہی کسی ہمدردی کے لائق تھے اور نہ ہی ان پر ترس کھانا چاہیے وہ تو کورا سا جواب دے ہی دیتی مگر شاید ان کی قسمت اچھی تھی جو صارم آگیا اور اس کے استفسار پر عنابیہ تو کیا بتاتی ان خاتون نے خود ہی سارا دکھڑا کہہ سنایا پھر اس نے انہیں تو بھرپور تسلی دے کر بھیج دیا اور اس سے کہنے لگا۔
’’آپ یوں کیجیے‘ چالیس پرسنٹ ڈسکائونٹ کے ساتھ وائوچر بنوا دیں اور جب تک ان کے شوہر کو جاب نہیں مل جاتی تب تک یہ رعایت برقرار رہے گی۔‘‘
’’مگر سر… ایسے تو…‘‘ اس نے آبجکشن اٹھانا چاہا تھا کہ صارم نے وہیں ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
’’دیکھیں مس شفیع… ندا اور حمزہ بریلینٹ بچے ہیں‘ ایسے بچے ادارے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ میں ہرگز یہ پسند نہیں کروں گا کہ چند پیسوں کی وجہ سے ان بچوں کے اسٹڈیز متاثر ہوں‘ میں نے ان بچوں کی والد کو نہیں دیکھا میں نے صرف اپنے سرمائے کو دیکھا ہے اینڈ آئی ایم شیور کہ اب آپ کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں ہوگا۔‘‘
’’یس سر… شیورڈ۔‘‘ وہ مطمئن ہوکر مسکرادی‘ وہ تو صرف اس وجہ سے متاثر تھی کہ جس طرح اسجد اسے سختی سے منع کر گیا تھا ان سے کسی بھی طرح کی رعایت برتنے سے تو شاید اس کا بھی ویسا ہی روکھا رویہ ہوتا مگر اس کے لفظوں نے تو ہلکا پھلکا کردیا تھا‘ وہ اس سے مزید متاثر ہوئی تھی۔
’’جیسا آپ بہتر سمجھیں سر… میں ابھی وائوچر بنوا دیتی ہوں۔‘‘ وہ باہر کی طرف بڑھی تھی کہ بے اختیار وہ پکار بیٹھا۔
’’عنابیہ…‘‘ اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس کے نام سے پکارا ہو‘ وہ تو ٹھٹک کر رکی ہی تھی وہ خود بھی گڑبڑا گیا۔
’’وہ… وہ ایسا ہے کہ زینت سے کہیں اچھی سی چائے لے آئے۔‘‘ وہ کھڑی تھی اب کچھ تو کہنا ہی تھا اور اس کے نکلتے ہی جھنجھلا کر ماتھے پر ہاتھ مارا۔
’’دھت تیرے کی‘ ویسے تو ساری دنیا کے آگے زبان چلتی ہے تیری‘ ایک اس لڑکی کے سامنے ہی کیوں بل کھانے لگتی ہے‘ حد ہے یار…‘‘ وہ اپنے آپ سے ہی شاکی ہوا‘ اب کرتا بھی کیا ہمہ وقت سلیقے سے لیے گئے دوپٹے کے ہالے میں مقید اس کا چہرہ لگتا ہی اتنا دلنشیں تھا کہ آنکھ اٹھتے ہی زبان کنگ ہوجاتی‘ تب بولتا تو بس دل اور دل بے چارے کی فی الحال وہ خود ہی سن سکتا تھا اور خوب سن رہا تھا۔
ء…/…ء
’’ابے بھائی تُو کیوں ہاتھ دھوکر بلکہ نہا کر میرے پیچھے پڑگیا ہے تُو چاہتا کیا ہے آخر‘ میرے ہی ادارے میں میری عزت دو کوڑی کی کردی اور وہ لڑکی کچھ زیادہ ہی ایفیشنٹ بنتی ہے۔ جب میں نے اسے منع کردیا تھا پھر اس نے تجھے اس معاملے میں کیوں گھسیٹا۔ تم نے حلیہ دیکھا تھا مسز دلاور کا‘ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو کم از کم ایک کلو سونا چڑھا رکھا تھا۔ بارہ ہزار کا جوڑہ‘ تین ہزار کا جوتا اور ڈھائی ہزار کا پائوچ پکڑ رکھا تھا ہاتھ میں اور آئی تھیں ہماری ہمدردی سمیٹنے۔ اللہ کا خوف نہیں آیا اس عورت کو‘ سو طرح کے خرچے ہوتے ہیں ہمارے بھی‘ یہ اتنا اسٹاف رضا کارانہ کام کرنے ہرگز نہیں آتا پھر ادارے کی مینٹینس۔ لوگوں کو صرف اپنی مشکلات نظر آتی ہیں دوسروں کا پرابلم کوئی سمجھنا نہیں چاہتا‘ تم نے بھی اٹھا کر اکٹھے ہی فورٹی پرسنٹ کی چھوٹ دے دی۔ اوہ بھیا تم آفس میں بیٹھے تھے یا اپنے ابا کے سپر اسٹور پر‘ حد ہوتی ہے کسی بات کی‘ طریقہ ہوتا ہے کسی کام کا تمہیں انگلی پکڑائی تھی تم تو پورا ہاتھ ہی کھانے لگے‘ ہو کس دھیان میں۔‘‘ اسجد آتے ہی کسی غبارے کی طرح پھٹا تھا‘ صارم نے گھور کر دیکھا اور پھر سے میگزین کے اوراق پلٹنے لگا۔
’’تم سے بات کررہا ہوں ان دیواروں سے نہیں۔‘‘ اسجد نے میگزین جھپٹ کر دور اچھال دیا بس چلتا تو یقینا اسے بھی اٹھا کر پھینک دیتا مگر کیا کرتا کہ وہ ڈیڈ کا سر چڑھا بھانجا تھا اور اپنی بے شمار صلاحیتوں کی وجہ سے ان کی گڈ بک میں سرفہرست۔ مسئلہ تو یہ رہا تھا کہ وہ خود بھی اس کے متاثرین میں سے تھا جب ڈیڈ نے اپنی ذمہ داری اس کے ناتواں شانوں پر ڈالی تب وہ خود ہی درخواست گزار ہوا تھا کہ صارم کو اس کا ہیلپر مقرر کیا جائے (آخر اپنی خوبیاں بھی تو معلوم ہی تھیں اسے) اب یہ وقت تھا کہ وہی صارم اس کے لیے وہ ہڈی بن چکا تھا جسے نہ نگلے بنتی اور نہ اگلے۔ بچپن سے ہی دونوں کی خوب گاڑھی چھنتی رہی تھی‘ ایک محلہ‘ ایک ہی اسکول پھر یونیورسٹی‘ لڑائیاں‘ پنگے بازیاں سب ساتھ چلتی رہیں۔ اب یہ تعلق مزید مضبوط یوں ہوگیا تھا کہ اسجد کی بڑی آپا صارم کی بڑی بھابی بن گئیں‘ جن کی درگت وہ ہمیشہ ہی بناتے وہ بے چاری اکثر ان کے درمیان پل کا کام انجام دیتیں‘ اب جہاں دوستی ہے وہاں لڑائی نہ ہو ایسا تو ہو نہیں سکتا‘ اب بھی وہ چائے لے آئیں تو اسجد کو بے نتھے بیل کی سی حالت میں پایا۔
’’کیا ہوا؟ تمہارا تھوبڑا کیوں ٹماٹر بنا ہوا ہے وہ بھی ڈھائی پائو کا۔‘‘ ان کا سارا دن کچن میں گزرتا سو مثالیں بھی ویسے ہی سوجھتی تھیں وہ کرنٹ کھا کر ان کی طرف پلٹا۔
’’آپا… آپا سمجھالیں اپنے اس رشتے دار کو‘ بہت سر چڑھنے لگا ہے یہ میرے۔‘‘
’’ہیں‘ یہ کیا بدتمیزی ہے ایسے بات کرتے ہیں‘ ہوا کیا ہے آرام سے بیٹھ کر بتائو۔‘‘ اور وہ تو پہلے ہی کوئی کاندھا ڈھونڈ رہا تھا‘ جو شروع ہوا تو پھر نہ کوما لگایا نہ فل اسٹاپ۔ صارم ہینڈ فری کانوں میں لگائے‘ راحت فتح علی کی آواز انجوائے کرتا رہا۔ بھابی اس کی طرف منہ کیے کچھ کہہ رہی تھیں کہ نظر جیب سے نکل کر کان تک سفر کرتی تار پر پڑی بس پھر صارم نے انہیں صرف اٹھتے دیکھا تھا‘ ایک زور دار دھموکا گھٹنے پر پڑا اور یہ منظر تو جیسے اسجد کو تراوٹ بخش گیا۔
’’ایک سے کام نہیں بنے گا ایک اور لگائیں اسے‘ بڑا بنا پھرتا ہے پرنسپل صاحب۔‘‘ اس نے آخری لفظ خصوصاً کھینچ کر ادا کیے۔
’’اوئے ہوئے بڑا دھواں اٹھ رہا ہے‘ ہاں ہوں میں تجھے کوئی تکلیف۔‘‘ گھٹنا سہلاتے تگڑی گھوری سے نوازا۔
’’اینڈ فار یور کائنڈ انفارمیشن‘ اسکول کے کسی بھی مسئلے کو حل نکالنے کا اختیار مجھے ماموں جی نے دے رکھا ہے اس کے لیے انہوں نے مجھے تم جیسے چوزے سے مشورے کا بھی پابند نہیں کیا۔ سو جو میں نے سمجھا وہ کیا اس کے لیے تمہیں شور مچانے کی قطعاً ضرورت نہیں اور دوسری بات میں اتفاقاً آفس چلا گیا تھا‘ عنابیہ نے مجھے اس معاملے میں انوالو نہیں کیا اور نہ ہی تم اس سے کسی قسم کی باز پرس کرو گے اور تیسری بات تمہاری بے پرائیوں کے طفیل اسکول کے بہت سے معاملات توجہ طلب ہیں جن کا اب میں ازخود نوٹس لے رہا ہوں اور ان شاء اللہ بہت جلد تمہاری کار گزاری اور اپنے کارکردگی کی رپورٹ ماموں کے حضور پیش کروں گا اور چوتھی اور خاص بات تم مسز دلاور کی پرابلم کی بجائے ان کے حلیے پر غور کرتے رہے اور ہر چیز کی پرفیکٹ پرائز کا کیا خوب اندازہ ہے جناب کا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواتین کی شاپنگ کا یقینا وسیع تجربہ ہے آپ کو اور بھابی… اب آپ اس سے پوچھیں کس کو کرواتا ہے یہ اتنی شاپنگ؟‘‘
’’ہیں‘ واقعی… اسجد کے بچے کتنے گھنے مینسے نکلے تم تو‘ اس سے تو مجھے بھی لگ رہا ہے کہیں پارٹ ٹائم کسی بوتیک پر تو نہیں بیٹھنے لگے۔ غضب خدا کا ماں کے لیے تو کبھی پراندہ نہیں خریدا تم نے‘ تین بہنیں خدمتیں کرکر کے آدھی ہوگئیں انہیں تو کبھی ایک ڈوپٹہ لے کر دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ہیں بتائوں نا ذرا‘ تو اب کس کو…‘‘ اس کے ساتھ تو وہ ہوئی تھی کہ آپ اپنے دام میں صیاد آگیا تھا‘ اب بھلا کون بچاتا کشتی کے پتوار تو اپنے ہاتھوں پھینک بیٹھا تھا۔ آپا کا سیاپا شروع ہوچکا تھا وہ پورے کیل کانٹوں سے لیس چڑھ دوڑیں‘ صارم ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے مزے سے ایک پائوں ہلاتا رہا۔
ء…/…ء
لگ رہا تھا ہر سو بہار اتر آئی ہے‘ بے شمار تازہ رنگ برنگے پھول اور اس سے بڑھ کر خوش نما پیرہن میں ہشاش بشاش چہروں والے لوگ جن میں ایک وہی ہر طرف سے بے نیاز و بے زار صورت لیے ہوئے تھی۔ توقیر بھائی کی کولیگ کی شادی تھی‘ وہ اپنی فیملی کے ساتھ اسے بھی زبردستی لے آئے تھے اس کا موڈ تو ہرگز نہیں تھا جو یہاں آنے کے بعد مزید خراب یوں ہوا کہ علینہ ببلو کو اس کے حوالے کرکے میاں کے ساتھ دلہن کو سلامی دینے چل دی۔ ماں کو جاتا دیکھ کر ببلو صاحب نے غل غپاڑہ مچا ڈالا‘ بہترا چمکارنے پچکارنے پر بھی اپنے راگ بند کرنے پر قائل نہ ہوا‘ اسے غصے کے ساتھ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ وہ دونوں اسے اتنے اصرار سے کیوں لے کر آئے تھے۔ بچے کی آیا گیری جو کروانا تھی خود وہ مزے سے ہاتھ جھلاتے گھومتے پھر رہے تھے اسے کام سے لگادیا تھا۔ وہ اس چھٹکو کو اٹھائے اِدھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی‘ کسی طرح تو بہلے۔
خوش گپیوں میں مگن مجمع میں ایک وہی نالا و خفاں تھی‘ کئی گردنیں مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھیں‘ اس نے بھی دیکھا تھا اور اگلی بات کرنا بھول گیا‘ رائل بلو اینڈ وائٹ امتزاج کی لمبی سی تاروں بھری فراک پر وائٹ ہی حجاب سے سر ڈھکے از حد پیاری لیکن ضبط سے لال پڑتی صورت لیے وہ عنابیہ شفیع تھی۔ ایک پل کو تو آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں کہیں نظر کا دھوکہ تو نہیں ہو لیکن یقینا ’’وہ‘‘ وہی تھی مگر اس کے شانے سے لگا وہ بلکتا ہوا نونہال… یا اللہ… دل نے گویا فضا میں تیرتے کبوتر کی طرح پلٹا کھایا تھا۔
دلہا میاں نہ صرف پڑوسی بلکہ بچپن کے یار بھی تھے پھر ان تمام دوستوں میں سب سے پہلے سہرا باندھنے کا اعزاز ان کے سر گیا تھا‘ وہ سارے کے سارے جی جان سے اس کی خوشیوں میں شریک ہونے آئے تھے وہ تو خوب ہنس رہا تھا مگر اب یک لخت ’’بُت‘‘ کیوں بن گیا ہے۔ اسجد نے یہی معاملہ بھانپنے کے لیے اس کی نظروں کا تعاقب کیا اور صورت حال سمجھ میں آتے ہی زور سے اس کے پیر پر پیر دے مارا وہ بھی فوراً سنبھلا اب وہ اتنے لوگوں میں گھرے کھڑے تھے اگر سب اس طرف متوجہ ہوجاتے تو… اور چند لمحوں بعد سب سے ایکسکیوز کرتا اسجد اُدھر چل دیا‘ صارم کا دھیان ادھر ہی تھا‘ اسجد اس سے حال احوال پوچھ رہا تھا وہ اکتائی ہوئی بچے کو کبھی ایک سے دوسرے اور کبھی دوسرے سے پہلے شانے پر لیتی اور وہ تو جیسے مکمل آزمانے پر تلا ہوا تھا مگر بھلا ہو اسجد کا جس کی جیب سے برآمد ہوتے چھوہاروں کے پیکٹ نے آخرکار اسے بہلا ہی لیا۔ عنابیہ حد درجے ممنون نظر آرہی تھی‘ بچے کو اب ٹیبل پر بٹھا دیا تھا‘ وہ ایک ہاتھ سے دوسرا بازو دباتی اسجد سے ہمکلام تھی ادھر وہ مسکرا مسکرا کر باتیں کررہا تھا اور ادھر وہ کلس رہا تھا مگر آخر کب تک‘ وہ بھی بہانے سے اٹھ گیا جب تک وہ ان تک پہنچا دوسری طرف سے علینہ اور توقیر بھی آچکے تھے۔ ببلو نے ماں کو دیکھتے ہی سب کچھ پرے پھینکا اور ہمک کر اس کی گود میں چڑھ گیا اور اسے دیکھ کر عنابیہ کے چہرے پر خوشگوار حیرت امڈ آئی تھی اور یہ یقینا اس کی نظر کا دھوکا نہیں تھا وہ ان کا تعارف کروا رہی تھی۔
’’بھائی یہ اسجد صاحب ہیں اور یہ ہیں صارم ولید صاحب‘ ہمارے اسکول کے اونر۔‘‘ کچھ عرصہ تو ہوا تھا اسے اسکول آتے ہوئے اور اس عرصہ میں اس نے صارم کو ہی اس سیٹ پر دیکھا تھا اور تمام معاملات نبٹاتے ہوئے بھی پھر اس کی عادت تھی ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتی کسی سے فالتو گپیں لگانا مشغلہ نہیں تھا سو وہ حقیقت حال سے واقف نہ ہوپائی تھی اور اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اسجد کو بھی یہی وقت ملا تھا گلا کھنکھارتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ہم دونوں نالائق تو کچھ عرصہ سے ادارے کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں‘ ان فیکٹ ادارے کے اونر میرے والد صاحب ہیں جو علیل ہونے کے باعث کچھ عرصہ سے بیڈ ریسٹ پر تھے مگر اب اللہ کے کرم سے بہت بہتر ہیں اور عین ممکن ہے کچھ عرصے تک وہ دوبارہ اپنی سیٹ پر واپس آجائیں کیونکہ ایک تو میں نے اس وجہ سے اپنا سمسٹر فریز کردیا تھا اور دوسرے صارم صاحب بھی اپنی جاب کو مکمل ٹائم نہیں دے پارہے اور یہ زیادہ مشکل میں یوں ہیں کہ ان کی جاب اپنے والد صاحب کی فرم میں ہی ہے اور ان کی صلاحیتیں متاثر ہونے کی وجہ سے آج کل وہ ان سے خاصے برگشتہ ہوئے پھر رہے ہیں۔‘‘ اسجد اور اسے چڑانے کا کوئی موقع جانے دے یہ تو ہو نہیں سکتا تھا‘ صارم کا بس نہ چلا کہ اس کی گردن مروڑ دیتا۔ برگشتہ تو اصل میں ماموں ہوئے پھر رہے تھے اس کی ناقص کار گزاریوں کی بناء پر اور اسی لیے انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ جلد ہی خود اپنی ذمہ داری کو سنبھالیں گے۔
’’تمہیں تو میں دیکھ لوں گا۔‘‘ صارم نے دانت کچکچاتے اسے دھمکی آمیز نظروں سے دیکھا مگر بظاہر چہرے پر مسکراہٹ تھی‘ عنابیہ کی خوشگواریت رنگ بدل گئی تھی یہ ایک بالکل نئی خبر تھی اس کے لیے۔ پھر تو توقیر بھائی ان سے یوں گھل مل گئے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ اسجد تو باتوں کا دھنی تھا ہی‘ صارم کا انداز گفتگو بھی سامنے والے کو حصار میں لے لیتا تھا‘ وہ جو اب تک اس سے خائف تھے تو اب یقینا مطمئن ہوچکے تھے وہ اچھے لوگوں کے ساتھ کام کررہی ہے‘ یہ تسلی کافی تھی اور واپسی پر وہ اس سے لڑ رہا تھا۔
’’میری عزت تو برداشت ہی نہیں ہوتی تجھ سے تو میری خوبیاں مان کیوں نہیں لیتا‘ سڑ سڑ کے مر جائے گا کسی دن تو دوست کے روپ میں دشمن ہے میرا۔ پہچان لیا ہے میں نے تجھے‘ پیدائشی کمینہ ہے تُو‘ یہ ساری تفصیل آج ہی بتانی ضروری تھی گیا۔ پتا نہیں عنابیہ نے کیا سوچا ہوگا میرے بارے میں۔‘‘
’’اوہ‘ بہت فکر ہورہی ہے ویسے پوچھ سکتا ہوں حالات تو ٹھیک ہیں تمہارے‘ اسے دیکھتے ہی حواس کھو بیٹھے تھے۔‘‘ ڈھٹائی سے دانت نکوستے اسجد نے آنکھیں گھمائیں وہ سر جھٹک کر مسکرا اٹھا۔
اب کیا بتاتا کہ اس کی گود میں ایک کیوٹ سے بچے کو دیکھ کر ایک پل کے لیے وسوسے نے دل میں سر اٹھایا تھا ایک دم‘ اس سے جب بھی بات ہوئی کسی نہ کسی کام کے متعلق۔ اس کے متعلق تو کچھ جانتا ہی نہ تھا وہ اور نہ ہی کبھی پوچھنے کی ہمت کرسکا۔ ہر بار بس سوچ کر رہ جاتا‘ وہ سامنے آتی تو اور کچھ یاد ہی کہاں رہتا تھا اور آج اتفاقاً اس کی فیملی سے مل کر بہت اچھا لگا تھا اور اس کے چہرے کا وہ خوش کن تاثر تو دل پر نقش ہوگیا تھا گویا وہ کار ڈرائیو کرتا اپنے ہی دھیان میں مسکرائے جارہا تھا۔
’’چچ… چچ… یہ تو گیا کام سے۔‘‘ متاسف سا اسجد دائیں بائیں گردن ہلاتا سوچ رہا تھا۔
ء…/…ء
’’عنابیہ… جلدی سے آئو‘ تمہارا فیورٹ سوپ ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہورہا ہے‘ آج تو امی بھی خالہ کی طرف گئی ہوئی ہیں۔ تم مزے سے تمام اقساط دیکھ سکتی ہو۔‘‘ ہادیہ نے دروازے سے جھانک کر اطلاع دی اور اتنی اہم خبر پر اس نے کوئی خاص رسپانس نہیں دیا تھا‘ آہستگی سے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور فقط اچھا کہہ دیا۔ ہادیہ جو اس کے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اتر بھاگنے کی منتظر تھی ایسے ٹھس انداز پر ٹھٹک گئی۔
’’کیا ہوا‘ خیر تو ہے طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘
’’ہوں‘ ٹھیک ہے تم چلو میں آتی ہوں۔‘‘ وہ کسلمندی سے ٹیسٹ پیپر سمیٹنے لگی جو بہت دیر سے اس کی توجہ کے طالب تھے اور مجال ہے اس نے کسی ایک کو بھی دیکھا ہو‘ جی نہیں چاہ ہار تھا اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ایسا تو چند دن سے ہورہا تھا۔ اسکول میں بھی حد درجہ بے زاریت ہونے لگی تھی حالانکہ وقار صاحب کا رویہ تمام اسٹاف کے ساتھ بے حد مشفقانہ تھا اور اسے تو وہ خاص طور پر مطمئن تھے۔ صارم انہیں تمام رپورٹ دیتا تھا تو اس کی کارکردگی کے بارے میں بھی یقینا انہیں خوب آگاہ کر رکھا تھا آج کل وہ دونوں ہی غائب تھے۔ اسجد تو اپنی اسٹڈیز پھر سے شروع کرچکا تھا اور صارم جاب میں بزی تھا۔
’’مجھے امید ہے آپ اسی طرح محنت اور لگن سے اپنا کام کرتی رہیں گی اور آپ کی کلاس کا تھرڈ ٹرم کا رزلٹ گزشتہ سے بھی شاندار ہوگا۔‘‘ صارم نے جانے سے پہلے اس سے کہا تھا اور اس نے مسکرا کر یقین دہانی بھی کروائی تھی اور دو چار دن تک تو معاملہ بالکل فٹ چلتا رہا لیکن پھر اچانک سے جانے کیا ہوا‘ وہ اسکول جاتی تو حد درجے اجنبیت محسوس ہوتی۔ بد دلی سے کلاس لیتی باہر نکلتی تو خالی کوریڈور عجیب سا لگتا اب کوئی نہیں پوچھتا تھا۔ ’’جی مس شفیع کوئی مسئلہ تو نہیں۔‘‘
آفس روم میں جاتی تو لگتا اس کے کلون کی مہک اب بھی کہیں آس پاس چکرا رہی ہے‘ وہ سر جھکائے وقار صاحب سے بات کرتی رہتی۔ اس سیٹ کی طرف نگاہ اٹھانے کی ہمت نہ پڑتی‘ اب وہ نظر نہیں آتا تھا تو الجھن سی ہوتی۔ فارغ وقت میں تمام ٹیچرز خوش گپیوں میں مگن ہوتیں وہ کوئی کتاب کھول لیتی‘ کسی سے بولنا اچھا ہی نہ لگتا اور یہ دل ایسی نادانیاں کیوں کررہا تھا وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی۔ اب بھی چارو نا چار کمرے سے نکلی۔
’’عنابیہ کھانا لے آئوں۔‘‘ اسکول سے واپسی پر اس نے کھانا نہیں کھایا تھا‘ سارے گھر کی فکر کرنے والی علینہ کو یقینی طور پر اس کی بھی فکر تھی‘ اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ یک لفظی جواب دیا‘ نظریں اسکرین پر تھیں‘ مگر دھیان کہیں اور اڑانیں بھر رہا تھا۔ اس کی عدم دلچسپی کو علینہ نے بغور محسوس کیا۔
’’کیا بات ہے؟ آج اسکول میں ایسا کیا کھا لیا تھا جو ابھی تک بھوک نہیں لگی۔ صبح بھی تم صرف ایک سلائس اور ایک کپ چائے پی کر گئی تھیں۔‘‘
’’میں کچھ نہیں کھاتی اسکول میں اور میں نے کہا ناں بھوک نہیں ہے مجھے۔ ہاں اگر چائے پکائو گی تو ایک کپ میرے لیے بھی۔‘‘ اس نے دونوں پائوں اوپر کرلیے‘ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر ٹھوڑی ٹکالی‘ آنکھیں بے حد بوجھل ہو رہی تھیں گویا کئی راتوں سے نیند پوری نہ لے رہی ہو‘ اسے یوں سکڑتے دیکھ کر علینہ کی فکر مندی میں مزید اضافہ ہوا۔
’’طبیعت ٹھیک ہے تمہاری‘ بہت سست لگ رہی ہو‘ کہیں بخار تو نہیں ہوگیا؟‘‘
’’ٹھیک ہوں بھئی کچھ نہیں ہوا مجھے۔‘‘ وہ بے زار ہوئی۔
’’اسکول میں تو سب ٹھیک چل رہا ہے ناں‘ کوئی مسئلہ تو نہیں؟‘‘ علینہ کی عاد ت تھی‘ سوال پر سوال کیے جاتی اور اس کے اس سوال نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا۔ کوئی بے حد یاد آیا تھا‘ گھور کر اسے دیکھا وہ بے چاری بوکھلا سی گئی۔
’’اچھا بھئی اگر اسکول میں بھی کوئی مسئلہ ہے تو چھوڑ دینا‘ دفع کرو اور مجھے پتا ہے تم پھر میرے میاں سے خرچہ بھی نہیں مانگو گی۔ اس شہر میں اسکول کوئی کم تھوڑا پڑگئے ہیں‘ یہ نہیں تو اور سہی… اور نہیں تو اور سہی لیکن پلیز تم اس طرح کی شکل بنا کر مت بیٹھو پریشانی ہونے لگی ہے مجھے۔ کھانا نہیں کھانا تو مت کھائو میں ابھی تمہارے لیے اچھی سی چائے اور مزیدار سینڈوچ لے کر آتی ہوں‘ وہ کھا لینا ٹھیک ہے۔‘‘ وہ جلدی جلدی بولتی گود میں کھیلتے ببلو کو کارکپٹ پر بٹھا کر چلی گئی۔ ہادیہ بھی اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور عنابیہ کو اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔
’’جب اس طرح کا رویہ بر تو گی تو سب سوال تو پوچھیں گے ہی‘ یہ کیا بے وقوفی ہے کہ اندر کی تحریر چہرے پر بھی نمایاں ہونے لگی ہے۔ کس کس کو کیا کیا وضاحتیں دوں گی اپنی بے نام الجھنوں کی‘ سنبھالو اپنے آپ کو۔‘‘ وہ خود کو گھرک رہی تھی پھر ہادیہ پر چڑھ دوڑی۔
’’کیا گھور گھور کر دیکھ رہی ہو مجھے‘ جائو علینہ سے کہو چائے ابھی رہنے دو کھانا گرم کرے بھوک لگ رہی ہے مجھے۔‘‘ ہادیہ گڑبڑا کر جھٹ حکم کی تعمیل کے لیے اٹھی۔ وہ ببلو کی طرف متوجہ ہوگئی جو کرولنگ کرتا اس کے پاس آگیا تھا اور اب صوفے کو پکڑ کر کھڑا ہونے کی کوشش کررہا تھا جھک کر اسے چومتے ہوئے دوپٹے سے آنکھیں بھی رگڑ ڈالیں‘ دو موتی وہیں کہیں گم ہوگئے تھے۔
ء…/…ء
بے حد امپورٹنٹ ڈیل تھی اور اس کے کیرئیر کے لیے خاص اہمیت کی حامل کیونکہ بابا جان نے وارننگ جاری کی تھی کہ اس بار اکیلے خود کو ثابت کرو تاکہ میں بھی دیکھوں کہ تم میری فرم کے قابل بھی ہو یا نہیں اور ہر بار ہوتا یہ تھا کہ اس کے حصے کے کتنے ہی کام عازم بھائی سنبھال لیتے تھے وہ جب چاہے منہ اٹھائے آفس چلا آتا‘ کوئی پوچھ گچھ کوئی پرتال نہیں کی جاتی تھی۔ چھوٹا اور لاڈلہ ہونے کے کئی فائدے حاصل تھے اسے‘ مگر اس بار تو انہوں نے بھی صاف ہری جھنڈی دکھادی سو اب جو کرنا تھا خود ہی کرنا تھا۔ اپنا آپ منوانا آسان نہیں ہوتا۔ محنت کے شیشے چلا کر ہی خوش بختی کی نہر نکالی جاتی ہے۔ تقدیر سے پہلے تدبیر کا پتا کھیلنا پڑتا ہے جو چل جائے تو کتاب زیست کے ہر باب کا عنوان بدل جاتا ہے‘ اس نے بھی جان لڑا دی تھی پھر کیسے نہ کامیابی مقدر ٹھہرتی جب بابا نے گلے لگا کر شانہ تھپکا تو سمجھو ساری محنت وصول ہوگئی تھی وہ بے پناہ مطمئن و مسرور تھا اور آج تو کچھ زیادہ ہی۔ اپنے فیورٹ سانگ کی دھن پر گنگناتے ہوئے بڑے اہتمام سے تیار ہورہا تھا۔
بلیک ڈریس پینٹ کے ساتھ گرے اور پنک مائیکرو چیک شرٹ پر میچنگ ٹائی لگائے‘ سلیقے سے بال جمائے‘ خود کو خوشبوئوں میں بساتے‘ چمکتے جوتوں میں پیر پھنساتے دھیان کے آسمان پر ایک ہی طائر خیال پرواز کرتا رہا وہ متانت بھرا لب و لہجہ‘ وہ سادہ پُرتمکنت روپ‘ وہ دلنشیں پُر اعتماد چہرہ جو ایام گزشتہ کی ہر گھڑی میں اس کے ساتھ ساتھ رہا۔ وہ انگلیوں پر سارے دن شمار کرسکتا تھا جو اسے بن دیکھے بیت گئے تھے۔
ماموں کی کال آئی تھی‘ ان کی صحت یابی کی خوشی میں تمام ٹیچرز ایک چھوٹی سی ٹی پارٹی دے رہے تھے‘ اسے بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور خاص تاکید بھی کے وقت نکال کر ضرور پہنچے اور وقت نہ بھی ہوتا وہ پھر بھی شامل ہوتا کہ اب دل مضطرب کو سنبھالنا مشکل ہونے لگا تھا۔ وہ سج سنور کر ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو اماں اور بھابی نے بے اختیار بلائیں لے ڈالیں‘ بھابی کو تو کھانسی ہی لگ گئی۔ انہیں سب خبر تھی‘ اتنی خاص تیاری کے پیچھے کون سا جذبہ کار فرما ہے‘ اسجد کے طفیل وہ اس کا حال دل جان چکی تھیں اور وہ تو خود بے حد بے تاب تھیں اس سے ملنے کے لیے‘ جس نے ان کے پیارے سے دیور کا دل موہ لیا تھا ان کی مسلسل کھوں کھوں پر وہ انہیں گھورتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
اسکول میں خوب چہل پہل تھی‘ ماموں جی نے کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔
’’اوہو‘ آج تو بڑے جچ رہے ہو۔‘‘ اسجد نے سر تا پیر جائزہ لیتے سراہا۔
’’میں ہمیشہ ہی جچ رہا ہوتا ہوں ماشاء اللہ سے۔‘‘ اس نے نخوت سے گردن اکڑاتے کالر سے نادیدہ گرد جھاڑی۔
’’اوئے ہوئے خوش فہمیاں تو دیکھو جناب کی۔‘‘
’’اسے خوش فہمی نہیں خود آگاہی کہا جاتا ہے۔‘‘ اسجد نے مسکرا کر سر ہلادیا ماموں بہت فخر کے ساتھ اس کی حالیہ کامیابی کے بارے میں سب کو بتارہے تھے‘ سب مبارک باد دینے لگے اور تمام اسٹاف موجود تھا جسے دیکھنے کی چاہ میں وہ کشاں کشاں کھنچا چلا آیا تھا‘ اس رخ روشن کا تو اب تک دیدار نہ ہوا تھا اور مارے بے چینی و بے قراری کے ماموں سے اس کے متعلق استفسار کر ہی لیا۔
’’عنابیہ بیٹی… ہاں اسے کوئی ضروری کام تھا‘ تمہارے آنے سے کوئی پانچ منٹ پہلے ہی گئی ہے ویسے بہت لائق بچی ہے۔ بہت مطمئن ہوں میں اس کے کام سے‘ بچے بھی حد درجے مانوس ہوگئے ہیں اس سے۔‘‘ ماموں کہہ رہے تھے اور اس کی حالت یوں تھی گویا اب چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
ء…/…ء
فرشتے رزق بانٹ گئے تھے‘ پرندے چہچہا چہچہا کر اب چپ چاپ آب و دانہ کی فکر میں غلطاں تھے۔ کھلی کھڑکی سے قطار در قطار اترتی سورج کی کرنیں اتنی جمع ہوگئیں کہ سارا کمرا روشن ہوگیا۔ ہر چیز اجلی اور روشن نظر آرہی تھی۔ ہادیہ اسے جگانے کی کوشش میں ناکام ہوکر یونیورسٹی سدھار چکی تھی‘ اب اس بے چاری کو کون بتاتا کہ سوتے کو تو کوئی جگا لے لیکن جو جاگنا ہی نہ چاہے اسے کوئی کیسے جگائے۔ علینہ الگ دو بار جھانک کر جاچکی تھی اس انتظار میں کہ اس نے بستر شاہی چھوڑ دیا ہو تو وہ ناشتا لے آئے مگر کہاں جی آج تو اس کا منہ ہی چادر سے باہر نہ نکلا تھا۔ کسلمندی سے آنکھیں موندے پڑی تھی اور جانے کب تک خواب غفلت میں پڑی رہتی کہ امی کی آواز نے اسے جھٹکے سے چادر پرے پھینک کر اٹھنے پر مجبور کردیا جو کہہ رہی تھیں۔
’’عنابیہ… فون ہے تمہارے لیے‘ یہ لو بات کرو۔‘‘ وہ کارڈ لیس لیے سر پر کھڑی تھیں‘ اس نے ان کے ہاتھ میں تھمے آلے کو یوں دیکھا گویا پہلی بار دیکھا ہو۔
’’بات کرو۔‘‘ وہ تو یہی سمجھیں ابھی تک نیند میں ہے‘ کارڈ لیس اس کی طرف بڑھاتے دوبارہ کہا۔ چارونا چار تھام لیا‘ دوسری جانب وقار صاحب تھے جو مسلسل غیر حاضری کی وجہ دریافت کررہے تھے۔
اسے زمانے بھر کا گھسا پٹا بیماری کا تراشتے بہت عجیب سا تو لگا مگر کیا کیا جاتا کہ بعض اوقات اپنا بھرم رکھنے کے لیے جھوٹ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔
’’اپنا بہت سا خیال رکھیں اور جلدی سے صحت یاب ہوکر اسکول آئیں‘ بچوں کا بہت حرج ہورہا ہے۔ آپ کو علم ہے ناں فائنل ٹرم میں کتنا کم ٹائم رہ گیا ہے۔‘‘ وہ کہہ رہے تھے‘ اس نے جھٹ یوں سر ہلایا جیسے وہ دیکھ رہے ہوں‘ منہ سے مرا مرا ’’جی‘‘ نکلا انہوں نے مزید تاکید کے بعد کال ڈراپ کردی امی نے کارڈ لیس ہاتھ سے لے لیا۔
’’تنگ پڑگئی ہو تو سیدھے سیدھے بتا دینا تھا انہیں‘ بہانے کس لیے بنا رہی ہو‘ میں تو خوش ہوگئی تھی شکر کیا تمہارے سر سے بھوت اترا۔‘‘
’’نہیں امی وہ دراصل…‘‘ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر انہوں نے سنا ہی نہیں۔
’’چلو اب جو بھی ہے چھوڑو پرے‘ تم نے تو ایک درد سری مول لے رکھی ہے۔ اسکول میں جان کھپا کر آتی ہو تو گھر میں بھی کاپیاں کتابیں لیے بیٹھی رہتی ہو۔ اس فکر میں لگ کر اپنی طرف تو دھیان ہی نہیں رہا تمہارا‘ حالت تو دیکھو کیا کرلی ہے۔ سچ میں بیمار دکھنے لگی ہو‘ رنگ کیسا کملا گیا ہے‘ آنکھیں اندر کو دھنس گئی ہیں۔ ارے آج کل کی لڑکیاں تو اتنا کچھ لیپا پوتی کیے رکھتی ہیں‘ ایسا سنور کر رہتی ہیں مگر تمہیں تو ایک ہی شوق ہے بس اور اس بار تو بہت دن ہوگئے ضرور تمہارا شوق پورا ہوگیا ہوگا۔ اب جان چھڑائو اپنی‘ گھر میں رہو‘ اپنا خیال رکھو۔ آصفہ خالہ کی بہو کی بہن بہت دنوں سے آنے کا کہہ رہی ہیں‘ میں انہیں بلائوں تو تب ناں جب…‘‘
’’کک… کون آصفہ خالہ…‘‘ وہ بڑے تحمل سے سن رہی تھی مگر اس بات پر بوکھلا کر سر اٹھایا۔
’’اے لو‘ اب تم آصفہ خالہ کو بھی بھول گئیں‘ ارے بھئی میری آصفہ خالہ تمہاری صفی نانی وہ جو ملیر میں رہتی ہیں اور جن کے…‘‘ امی تفصیل گوش گزار کررہی تھیں اور اسے ان کے بائیو ڈیٹا سے کوئی سروکار نہیں تھا‘ حلق میں اٹکتا کانٹا نگل کر پوچھا۔
’’مم… مگر وہ آنا کیوں چاہ رہی ہیں۔‘‘
’’ارے وہ کہاں آنا چاہ رہی ہیں‘ ان سے اب کہاں ہوتا ہے اتنا سفر۔ جوڑوں کا درد لے کر بیٹھ گیا انہیں تو ورنہ دو چار مہینوں بعد آکر مل ہی جایا کرتی تھیں۔ تمہارے ابا کے بعد مجھے بھی ایسے جھمیلے چمٹے کہ کہیں نکلنے کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ توقیر کی اپنی مصروفیات ہیں‘ سفیر یہاں ہے نہیں‘ اب کسے کہوں کہ مجھے وہاں تک لے جائے۔ پرسوں آیا تھا ان کا فون تو بتارہی تھیں کہ…‘‘ اور یک لخت ہی امی کی نظر اس کے رنگ اڑے چہرے پر پڑگئی وہ یوں سہمی بیٹھی تھی جیسے وہ اسے کسی رشتے دار کی نہیں بلکہ کسی بھوت کی آمد کی اطلاع دے رہی ہوں‘ انہیں اس پر غصہ تو کیا آتا بے اختیار ہی پیار آگیا۔ اپنی جان ومنفرد سا مزاج رکھنے والی بیٹی انہیں پیاری بھی تو بہت تھی‘ اس میں تو جان اٹکی رہتی تھی ان کی‘ جتنا چاہتی تھیں کہ وہ ذرا سی سمجھ دار ہوجائے اتنا ہی وہ انہیں فکر مند کیے رکھتی تھی وہ مسکرا کر بات ہی پلٹ گئیں۔
’’اچھا چلو تم اٹھ کر منہ ہاتھ دھولو‘ کب تک پوستیوں کی طرح پڑی رہو گی‘ علینہ کئی بار دیکھ گئی ہے تمہیں۔ اب تم ناشتا کرو تو وہ کچن سمیٹے پھر اور بڑے کام ہوتے ہیں اسے‘ بچہ الگ تنگ کرتا ہے اس کا۔ کیا کیا کرے وہ بے چاری‘ تمہارا تو گھر میں رہنا اور نہ رہنا ایک سا ہی ہے۔ کسی کام کو تو ہاتھ لگانا نہیں ہوتا‘ میں تو سوچ رہی ہوں ہادیہ کی پڑھائی مکمل ہوتے ہی کچن کی آدھی ذمہ داری اس کے سر پر ڈال دوں گی۔ اسے تو میں نے گھر سے پھر نکلنے نہیں دینا‘ توبہ میری۔ تمہیں ڈھیل دینے کا نتیجہ دیکھ لیا ہے میں نے۔‘‘ وہ یونہی بولتیں دروازہ پار کر گئیں۔ اسے غصہ کے ساتھ رونا بھی آرہا تھا مگر کس بات پر؟ اسے خود علم نہیں تھا ہاں بس رونا آرہا تھا۔ گو کہ امی نے بتایا نہیں تھا مگر اب وہ ایسی بھی بے وقوف نہیں تھی کہ ان کی باتوں کا لب لبالب نہ جان پاتی‘ اسے اچھی طرح سمجھ آگئی تھی‘ خالہ کی بہو کی بہن کے تذکرے کے پیچھے ضرور کوئی کہانی چھپی تھی اور اگر سچ میں کوئی قصہ نکل آیا تو…
’’اُف نہیں…‘‘ اس کا پہلے سے الجھا دل مزید گرہوں میں الجھ گیا اور یہ الجھن ہی تو تھی جو وہ اس روز رفعت کریم سے بھڑ پڑی تھی۔
کلر ڈے منایا جارہا تھا‘ وقار صاحب نے تمام تر تیاری کا ذمہ ان دونوں کے شانوں پر ڈال دیا‘ اب اس کے نزدیک تو کلر ڈے منانا ایسا کوئی ضروری بھی نہ تھا‘ اس کے علاوہ اور بہت سے ایسے خاص دن ہوتے ہیں جن کی اہمیت مستقبل کے معماروں پر واضح کرنا نہایت ضروری ہے اور جن پر ہم توجہ نہیں دیتے مگر خیر جہاں ہم نے اور بہت سی خرافات اپنالی ہیں وہاں یہ بھی سہی۔ جیسے تیسے کرکے وہ یہ ذمہ داری نبھا ہی لیتی لیکن جب ایک لچر سے گانے پر رفعت نے ننھے ننھے بچے بچیوں کو واہیات سے اسٹیپ بتائے تو اس سے رہا نہ گیا۔
’’بچے ہمارے پاس علم کے علاوہ اچھی اقدار سیکھنے آتے ہیں‘ بری روایات نہیں۔ ہمیں صرف انہیں لکھنا پڑھنا ہی نہیں سکھانا ہوتا‘ ان کی اخلاقی تربیت بھی ہمارے ذمہ ہیں۔ ہم نے انہیں اچھائی برائی کی تمیز سمجھانی ہے نہ کہ ہم ہی اس فرق کو مٹا دیں‘ یہ بالکل ٹھیک نہیں۔‘‘ بس اس بات پر اختلاف اتنا بڑھا کہ وہ کامن روم سے اٹھ آئی‘ وقار صاحب تک بھی تمام قصہ پہنچا انہوں نے دونوں کو بلا بھیجا‘ توجہ سے ساری کتھا سننے کے بعد انہوں نے اس کے موقف کو درست قرار دیا۔ شاباشی سے الگ نوازا‘ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ خوش اور مطمئن ہوجاتی مگر بس وہی بے نام کی الجھن‘ اس نے ذمہ داری سے تو معذرت کی۔ تین دن کی چھٹی الگ لے آئی‘ سوچ لیا تھا بس اب نہیں جانا اور اسی سوچ پر کار بند رہتے ہوئے آج پانچواں دن چڑھ آیا تھا۔
لیکن وقار صاحب کی کال نے سوچ کا رخ پھیر دیا‘ اب اس سارے سلسلے میں ان معصوم بچوں کا کیا قصور‘ جن کے چند دنوں میں منتھلی ٹیسٹ شروع تھے اور اس کی مسلسل غیر حاضری یقینا ان کی اسٹڈی کو متاثر کررہی تھی۔
فرض پر غرض کو فوقیت دینا کسی بھی طرح جائز نہیں اور کیا وہ اتنی ہی کمزور ہوگئی ہے کہ ایک ذرا سے مٹھی بھر کے لوتھڑے کے ہاتھوں ملغوب ہوکر خیانت کی مرتکب ہونے لگے گی۔ جس منزل کا کوئی نشاں نہ ہو اس راستے کی طرف بھی دیکھنے سے کیا حاصل؟ خود کو مزید بھٹکنے سے بچانے کے لیے ضروری تھا اپنے آپ کو مصروف رکھا جائے۔ وہ ایک فیصلہ کرکے اٹھی‘ ابھی اسے فریش ہونا تھا پھر مزے دار سا ناشتا‘ اس کے بعد کمرے کی تفصیلی صفائی اور ہاں پورے ہفتے کے لیے کپڑے بھی پریس کرکے ہینگ کرنا تھے‘ بھئی کل سے وہ اسکول جارہی تھی۔
ء…/…ء
اسجد بہت دن بعد آیا تھا‘ بے شمار قصے تھے اس کی زبان پر‘ ابھی ایک پورا نہ ہوتا کہ وہ کسی دوسری رام کہانی کی ٹانگ پکڑ لیتا۔
یہ ہوا… وہ کیا ہوا… اس نے کہا… اس نے وہ کہا… وہ بول رہا تھا اور وہ مٹھی پر تھوڑی رکھے بڑے دھیان سے (بظاہر) سن رہا تھا لبوں پر خفیف سی مسکان بھی سجی تھی۔ اسجد نے گھور کر دیکھا اور تڑخ کر پوچھا۔
’’اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟‘‘
’’کس میں…؟‘‘ وہ بری طرح چونکا۔
’’اچھا دوست ہے تُو بھائی… میں تجھے بتارہا ہوں اس کمینے نے بھری محفل میں میری ٹوپی گھما دی اور تُو ہنس رہا ہے۔‘‘
’’اوہ… اچھا تمہاری ٹوپی گھما دی‘ مگر کس کمینے نے؟‘‘ وہ جلدی سے ہمدردی جتانے کے چکر میں کہہ تو گیا پھر جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ کیا کہہ گیا ہے کیونکہ اسجد کے تیور یک لخت ہی رنگ بدل گئے تھے‘ ماتھے پر پڑتے بل آنکھوں کی بڑھتی خشونت وہ پھنکارتا گویا ہوا۔
’’میں تم سے بات کررہا ہوں ان دیواروں سے تو نہیں‘ اپنا جلتا کلیجہ ٹھنڈا کرنے آیا تھا تیرے پاس۔ دوست ہی دوست کا دکھ بٹاتے ہیں پر تجھے میرے کسی دکھ کی اب کیا سمجھ آئے گی‘ تُو تو اب خود کسی غم میں ڈوبا ہوا لگ رہا ہے‘ ہوا کیا ہے تیرے ساتھ‘ سب ٹھیک تو ہے؟‘‘ وہ اپنا سیاپا بھول کر اس کے لیے فکر مند ہوا۔
’’ہوں‘ سب ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا‘ تم چھوڑو ساری باتیں‘ یہ بتائو کیا پیو گے؟‘‘ صارم خود کو سنبھال چکا تھا‘ اپنے آپ کو ریلیکس ظاہر کرتے استفسار کیا۔
’’ماشاء اللہ بہت جلدی خیال آگیا آپ کو‘ آداب میزبانی نبھانے کا۔ میرے جانے کے بعد فون کرکے پوچھ لیتے‘ اب بھی کیا ضرورت تھی۔ بول بول کر حلق خشک ہوگیا‘ فی الحال تو غصہ ہی پی لیا ہے میں نے۔ میں نے اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں ناں‘ تُو بھی اب کوئی ہینگی پینگی مت مارنا بلکہ چل شروع ہوجا اور الف سے بے تک ساری کہانی کہہ ڈال۔ میں پورے غور سے سنوں گا‘ سچ بتانا کہیں جھاڑ تو نہیں پڑگئی اس سے؟‘‘
’’کس سے؟‘‘ صارم حیران ہوا۔
’’اسی سے جس سے حال دل کہا ہوگا۔‘‘ اسجد نے بھرپور شرارت سے آنکھیں مٹکائیں‘ جبکہ اس کی آنکھیں ماتھے پر جاٹکیں۔
’’بکو مت‘ خوامخواہ کے قیافے لگانا عادت ہے تمہاری‘ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر کیسا ہے میرے بھائی… تمہارا یہ بوتھا پہلے تو کبھی اس رنگ میں نہیں دیکھا میں نے۔ یہ بکھرے بال‘ یہ اجڑے حال‘ یہ منتشر حواس‘ یہ رونے والی داستان پر ہنسنا اور ہنسنے والی کہانی پر رونا۔ یہ دن رات کسی کے خیال میں کھوئے رہنا یقینا یہ سب اچھی علامات نہیں ہیں۔ تم بتانا نہ چاہو تو الگ بات ہے وگرنہ تمہاری حالت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے‘ اس صدی کا رانجھا‘ ماہی وال‘ فرہاد‘ چنیسر‘ جنوں میں ہی ہوں۔ تم سارے زمانے سے چھپ سکتے ہو مجھ سے نہیں‘ میں تو تمہاری نبص دیکھ کر بتا سکتا ہوں‘ تمہیں کتنے ڈگری کا بخار الفت ہے اور ہاں ڈیڈی بتا رہے تھے اسکول میں کلر ڈے تھا اس روز‘ میں تو اتنا مصروف تھا کہ جا ہی نہیں سکا‘ تم تو ضرور گئے ہوگے‘ ہے ناں؟‘‘
’’ہاں ماموں نے کال کی تھی‘ گیا تھا میں۔‘‘ جتنا اس کا انداز کریدتا ہوا تھا اس سے کہیں زیادہ سرسری جواب آیا تھا۔
’’اچھا‘ تو پھر ملے تھے اس سے‘ کوئی بات کی۔‘‘ وہ پُرشوق لہجے میں پوچھتا بے اختیار آگے کو کھسک آیا۔
’’نہیں۔‘‘ صارم کے ایک لفظ نے خاصا بدمزا کیا‘ واپسی پیچھے کو جاتی بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
’’ایک بات تو تمہیں ماننا پڑے گی یار… تم دوسروں کی نظر میں چاہے جتنے بھی ذہین‘ فطین‘ لائق فائق‘ قابل‘ عامل‘ کامل بن جائو لیکن میرے جیسا بااعتماد کبھی بھی نہیں بن سکتا۔ مجھے دیکھو میں کبھی نہیں گھبرایا اس معاملے میں‘ جو اچھی لگتی ہے بے دھڑک اس کی تعریف اس کے منہ پر کردیتا ہوں بلکہ ہمیشہ ایک کی چار لگا کر بتاتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ شروع سے ہی حلقہ صنف نازک میں خاصا مقبول رہا ہوں۔ لڑکیاں بے تاب رہتی ہیں مجھ سے بات کرنے کے لیے اور تیری تو کبھی اسکول میں بھی جرأت نہیں ہوتی تھی کسی لڑکی سے بات کرنے کی۔ کالج‘ یونیورسٹی میں بھی تیرا یہی حال رہا‘ بنے پھرتے رہے انیس سو ساٹھ کے ہیرو‘ اب دیکھ لو ایسا بیبا بچہ بننے کا کیا فائدہ ہوا تمہیں‘ ایک لڑکی سے دو لفظ نہیں کہہ سکتے تم اب تک‘ حد ہوگئی یار‘ یہی میرے جیسے ہوتے تو…‘‘
’’استغفار… شکر ہے میں تم جیسا نہیں‘ تم جسے بااعتماد ہونا کہہ رہے ہو ناں اسے اعلیٰ درجے کا چھچھور پن کہتے ہیں میری لغت میں۔‘‘ وہ خاصا جل کر بولا۔ اسجد کی حرکتوں سے ہمیشہ ہی نالاں رہا تھا وہ‘ اس معاملے میں جس قدر محتاط اور سنجیدہ مزاج اس کا تھا اس قدر اسجد بے فکر اور غیر سنجیدہ رہا کرتا۔ ہر دوسری لڑکی سے اس کی دوستی ہوجاتی جبکہ صارم کبھی بھی سلام دعا سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرتا۔ اس نے ایک حد فاصل اپنے گرد کھینچ رکھی تھی جسے کبھی کسی کو پار کرنے نہ دیا‘ اسجد طنزاً ہنس رہا تھا۔
’’کہاں ہے وہ تمہاری مقدس لغت‘ میرے ہاتھ لگے تو چولہے میں ڈال دوں۔ کاش کے تھوڑا سا چھچھور پن تمہارے اندر بھی ہوتا تو آج راول ثانی نہ بنے ہوتے شیم آن یو۔‘‘ وہ اسے چڑا رہا تھا اور وہ چڑ بھی گیا بے اختیار کشن اٹھا کر اس کے چہرے کا نشانہ لیا۔
ایک تو وہ پہلے ہی دل جلا ہورہا تھا‘ اس روز بھی خوب تیاری کے ساتھ وہاں پہنچا تھا‘ خیال تھا بس آج تو حال دل کہہ ہی دوں گا لیکن عجیب اتفاق تھا وہ جب بھی اس سے ملنے کے خوش کن تصورات لیے گیا وہ منظر سے ہی غائب ملی‘ اس کی تو ہر بار دل کی دل میں رہ جاتی ہے۔ عجب ہے یہ آزار محبت بھی پھر خاص طور پر وہ نومولود محبت جو ابھی صرف احتیاط کے لبادے میں لپٹی آس کے ہنڈولے میں ہلکورے لیتی ہو۔ جسے راحت فزا ہونے کے لیے احساس الفت کی فقط چند بوندیں ہی کافی ہوں مگر جب نہ الفت ملے نہ دید کی طلب پوری ہوتی ہو تو پھر دل بے کل و بے قرار کو سوجھے بھی کیا سوائے اس کے خیال میں ڈوبے رہنے کے۔ وہ تو آج کل پورے کا پورا بجھے دیے کی طرح دھواں چھوڑ رہا تھا‘ ہر پل جھنجھلایا ہوا رہتا۔ اچھی بات بھی اچھی نہ لگتی تو پھر جو بات ہو ہی جلتی پر تیل ڈالنے والی تو وہ کیسے خود پر ضبط رکھتا۔ ثمر بھابی جوس لیے آئیں تو وہ بچوں کی طرح بھڑ رہے تھے۔
’’ہائیں… ہائیں… یہ کیا ہورہا تھا‘ تم لوگوں نے تو حشر کردیا لائونج کا۔ چلو اٹھو جلدی سے‘ سمیٹو یہ سب۔‘‘ انہوں نے دونوں کو گھرکا۔
’’ارے واہ‘ میں کیوں سمیٹوں۔ آپ کے گھر کا تو اچھا اصول ہے‘ گھر آئے مہمان کی کوئی عزت ہی نہیں۔ دیکھیں یہ اپنے رشتے دار کو پتا نہیں کہاں کہاں کا غصہ نکال رہا ہے مجھ پر۔ اب اگر اسے کسی نے گھاس نہیں ڈالی تو بھلا اس میں ہمارا کیا قصور۔ آپ یہ جوس مجھے پلانے کے بجائے اس کے سر پر انڈیل دیں کچھ تو مزاج سرد ہوں موصوف کے‘ جلتے توے کی طرح تپ رہا ہے بے چارہ۔‘‘ اسجد نے منہ پھلائے کر کہا‘ بھابی نے صارم کو دیکھا‘ جو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بال سنوارتا یقینا خود پر قابو پانے کی سعی کررہا تھا۔ اسجد کو کچھ کہنا تو پرے دیکھا بھی نہیں تھا اس نے اور اسے گم صم تو وہ بھی کئی دن سے دیکھ رہی تھیں۔ اس کے انداز میں وہ پہلے سی تازگی نظر نہیں آتی تھی‘ وہ تو سمجھ رہی تھیں کہ آفس کی ذمہ داری سنبھالنا پڑ رہی ہے تو اسی لیے بچہ بردبار ہوتا جارہا ہے لیکن یہاں تو مسئلہ شاید کچھ اور ہی تھا‘ وہ فکر مند سی ہوتیں پاس ہی ٹک گئیں۔
’’کیا ہوا صارم… اتنے برہم کیوں ہورہے ہو‘ کیا بات ہے؟ سب ٹھیک تو ہے ناں۔‘‘
’’سب ٹھیک ہے بھابی‘ کچھ نہیں ہوا‘ اس کی تو پرانی عادت ہے فضول کہانیاں گھڑنے کی۔ آپ کس کی باتوں میں آکر پریشان ہورہی ہیں۔‘‘ اسجد پر ایک کڑی نگاہ ڈالتا وہ اٹھ کھڑا ہوا اور قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتیں وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب چل دیا‘ انہوں نے اسجد کو دیکھا اس نے شانے اچکا کر جوس کا گلاس اٹھالیا۔
ء…/…ء
اور اسی رات جب وہ سونا چاہ رہا تھا اور سو نہیں پارہا تھا کہ ثمر بھابی دروازے پر دستک دیتیں اندر چلی آئیں‘ وہ انہیں دیکھ کر جلدی سے اٹھ بیٹھا وہ اس کے اور اپنے لیے گرما گرم کافی بنا کر لائی تھیں۔
’’اوہ جئیں پیاری بھابی…‘‘ وہ بے اختیار ممنون ہوا۔
’’مجھے اندازہ تھا تم ابھی جاگ رہے ہوگے‘ تمہارے بھائی صاحب تو گھر پر ہوکر بھی گھر نہیں ہوتے‘ ان کا سیل فون ہی ان کی جان نہیں چھوڑ رہا میں نے سوچا کافی تمہارے ساتھ انجوائے کرتی ہوں۔‘‘
’’مائے پلیژر‘ سچ پوچھیں تو میرا دل بھی چاہ رہا تھا‘ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ جاکر اچھی سی چائے پکائوں۔ نیند تو آنہیں رہی۔‘‘ اس نے مسکرا کر مگ اٹھالیا۔
’’نیند کیوں نہیں آرہی تھی جناب کو‘ بے خوابی ویسے کوئی اچھی علامتوں میں شمار نہیں ہوتی۔ اس کے سرے عموماً ایک ہی مرض سے جاکر ملتے ہیں اور وہ مرض پتا ہے کون سا ہوتا ہے۔‘‘ بھابی کے چہرے پر شرارتی مسکان کھیل رہی تھی‘ بغور اسے دیکھتے پوچھنے لگیں۔
’’سوری… مجھے علم نہیں۔ میرا تعلق بو علی سینا کے خاندان سے بالکل بھی نہیں۔‘‘ وہ سمجھ رہا تھا ان کا انداز مگر تجاہل عارفانہ سے کام لیا‘ وہ ہنس دیں۔
’’اچھا‘ پھر تعلق تو میرا بھی تمہارے ہی خاندان سے ہے لیکن اتنا علم ہے مجھے۔ اس علامت کے سرے جاکر مرض عشق سے ملتے ہیں اور آج کل تم پکے عاشق نظر آتے ہو۔ پتا ہے تمہیں اگر نہیں یقین تو ابھی اٹھ کر آئینہ دیکھ لو۔ آج تو اماں جان بھی لڑ رہی تھیں بابا کے ساتھ کہ تمہیں آفس کی ذمہ داریاں سونپ کر اچھا نہیں کیا انہوں نے‘ تم تو ان کے پاس بیٹھنا بھی بھولتے جارہے ہو۔ صبح ناشتے کی ٹیبل پر کھڑے کھڑے شکل دکھاتے ہو اور پھر سارا دن کے لیے غائب۔ رات گئے آتے ہو تو بس اپنے بیڈ روم کے ہوجاتے ہو‘ وہ ٹھیک ٹھاک فکر مند ہیں تمہاری طرف سے اور انہوں نے تو بابا سے یہ کہا کہ اس سے پہلے کہ بچہ بالکل ہی گھر سے بے پروا ہوجائے اس کی شادی کردینی چاہیے اور وہ تو بہت جلد پورے خاندان کی لڑکیوں کی فائل بھی ترتیب دینے والی ہیں تاکہ پھر باہم مشاورت سے تمہارے لیے ایک بہترین انتخاب کیا جاسکے۔‘‘ وہ مزے سے بولتی چلی جارہی تھیں‘ ان کی اس بات نے حلق میں جاتے مزیدار کافی کے گھونٹ کو یک دم ہی کڑوا کردیا‘ بوکھلا کر انہیں دیکھا‘ گھبرا کر مگ رکھا اور لڑکھڑاتے لہجے میں بولا۔
’’مگر آپ اماں جان کو سمجھائیں‘ میرا مطلب ہے کہ آپ کو پتا ہے ناں کہ وہ… دیکھیں پلیز یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ میں خود اماں جان کو بتانا چاہ رہا تھا مگر اس سے پہلے ایک بار عنابیہ سے بات ہوجاتی تو…‘‘
’’اور وہ تم سے ہو نہیں رہی‘ تم نے تو سچ میں حیران کردیا ہے صارم… بھلا آج کل کہاں ہوتے ہیں ایسے لڑکے۔ ایک لڑکی سے تم بات نہیں کرسکے اب تک‘ لڑکیوں کی مشرقیت کا تو سنا تھا لڑکوں میں پہلی بار دیکھ رہی ہوں اس صدی کا عجوبہ ہی ہو تم تو۔ اسجد بچپن سے تمہارے ساتھ ہے‘ اس سے بھی کچھ نہیں سیکھا تم نے۔ دوستوں سے زیادہ تو سہیلیاں ہیں اس کی اور سب کے سامنے کیسے فراٹے سے جلتی ہے اس کی زبان۔‘‘ بھابی تو اسے ٹھیک ٹھاک شرمندہ کرنے لگیں۔ وہ جھنجھلاتا انہیں اپنی آپ بیتی سنانے لگا اور بمشکل انہیں یقین دلاپایا کہ اس کا کوئی قصور نہیں بس کچھ اتفاقات ہی ایسے ہوتے رہے ہیں کہ وہ اس سے چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کہہ پایا۔
’’تو چلو پھر تم رہنے ہی دو کچھ مت کہو‘ ویسے تو میں نے اماں جان سے ذکر کردیا ہے عنابیہ کا‘ وہ تو سنتے ہی بے چین ہوگئی ہیں اسے دیکھنے کے لیے اور اپنی فائل میں سب سے پہلے اس کا نام درج کرنے پر راضی ہیں۔‘‘
’’سچ بھابی… اوہ یو آر گریٹ‘ اور پلیز اماں جان سے کہیں یہی ایک نام کافی ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔ وہ اتنی اچھی ہے کہ اسے دیکھیں گی تو دل سے پسند کرنے لگیں گی۔‘‘ وہ بے حد خوش ہوتا اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوا۔
’’اگر ایسی بات ہے تو پھر جلد ہی اسے دیکھنا پڑے گا۔‘‘ بھابی اس کی بے تابیوں پر مسکرادیں‘ اتنے دنوں سے کبوتر جیسا کم گو صارم طوطے کی طرح ٹائیں ٹائیں کررہا تھا۔ دل کھول کر سب کہہ لینے کے بعد اس رات وہ بہت اچھی نیند سویا‘ مزے مزے کے خواب پلکوں پر اترتے تھے جن میں وہ ہم قدم تھی۔
ء…/…ء
ان لمحوں میں ایک عجب سا سکوت چھایا تھا جس پر کبھی سکھ چین کی شاخوں میں چھپے بیٹھے کوّے اپنی بے سری آوازوں سے ضرب لگاتے تو طبیعت کی بے زاری کچھ اور بڑھنے لگتی۔ وہ چند روز پہلے گئی تھی مارکیٹ تو وصی شاہ اور بشیر بدر کے دو چار شعری مجموعے بھی اٹھا لائی تھی یونہی دل بہلائے رکھنے کو‘ اب اکثر فارغ اوقات میں اندر ایک حشر سا برپا رہنے لگا تھا اس حشر سے نبٹنے کے لیے کوئی ایک کتاب پکڑ لیتی مگر آج تو سارا انہماک ہادیہ کی بچی نے تتر بتر کردیا تھا۔
کھڑکیوں‘ دروازوں کے پردے گرائے پورا کمرہ اندھیر میںکر ڈالا‘ یونیورسٹی سے واپسی پر وہ دو ڈھائی گھنٹے کی نیند ضرور لیتی تھی اور وہ جو کبھی خود بھی اس کی طرح مدہوش پڑ جایا کرتی تھی اب پلکیں جھپک جھپک کر اسے رشک سے دیکھا کرتی مگر اس وقت اسے دیکھنے کی بجائے وہ کتاب لیے باہر آگئی۔ سحر انگیز لفظوں میں کھوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس نے چمکتی دھوپ میں بے وقت توقیر بھائی کو آتے دیکھا خوب لدے پھندے ہوئے۔
’’کہاں ہیں سب؟‘‘ وہ اس کے پاس رکے‘ چہرے پر انوکھی سی تمتماہٹ تھی۔
’’سب اندر ہیں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اچھا گاڑی میں کچھ چیزیں ہیں وہ نکال لائو میری گڑیا۔‘‘ وہ بہت پیار اور عجلت سے کہتے اندر چلے گئے۔ کتنے تھیلے تو انہوں نے خود اٹھائے ہوئے تھے‘ بقایا جب وہ لیے کچن تک پہنچی تو علینہ بھی ادھر ہی تھی جسے وہ تاکید کررہے تھے۔
’’سب چیک کرلو اگر اور کچھ چاہیے تو ابھی بتادو اور دھیان رہے کسی بھی طرح کی کمی نہیں رہنی چاہیے۔‘‘
’’نہیں سب ٹھیک ہی ہے اور فکر نہ کریں کوئی کمی نہیں رہے گی ان شاء اللہ۔‘‘ علینہ نے تسلی دی۔
’’اوکے‘ تم یہ سب سنبھالو‘ میں امی کے پاس ہوں۔‘‘
’’لگتا ہے توقیر بھائی کے مہمان آرہے ہیں۔‘‘ کائونٹر پر شاپر رکھتے اس نے اپنا خیال ظاہرکیا۔
’’ہوں‘ بالکل ٹھیک سمجھی ہو تم‘ مہمان اور وہ بھی بہت خاص۔‘‘ علینہ پراسرار سا مسکرائی تھی وہ پھلوں میں سے موٹا تازہ مالٹا چن کر نکالتے ہوئے بولیں۔
’’میری ہیلپ کی ضرورت ہو تو بتادینا۔‘‘
’’ہیلپ کی ضرورت تو ہے‘ تم ذرا جلدی سے ڈرائنگ روم دیکھ آئو۔ صبح میں نے صفائی تو کی تھی لیکن ایک بار پھر جھاڑ پونچھ ہوجائے تو اچھی بات ہے۔‘‘
’’لو میں نے تو مروتاً کہا تھا تم تو سچ ہی سمجھ بیٹھیں۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکان پھیلی تھی جو علینہ کو بالکل بری نہ لگی کتنے دن بعد تو اس کے چہرے پر یہ مسکراہٹ دیکھی تھی وگرنہ تو جیسا وہ مفکرانہ انداز اپنائے رکھنے لگی تھی۔ وہ ٹھیک ٹھاک تشویش میں مبتلا کیے رکھتا تھا‘ وہ بچپن کی سکھیاں تھیں اور ان میں بھی وہی عادات تھیں جو اکثر دیرینہ دوستی میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی بھی بات ایک دوجے سے شیئر کیے بنا نہ رہا جاتا تھا لیکن یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات تھی‘ اب تو وہ دن خواب ہوئے وہ اس کی سننا تو بھول ہی گئی تھی بلکہ اپنے دل کی بھی کبھی نہیں بتاتی تھی اور وہ تھوڑی نہیں بہت زیادہ بدل گئی ہے۔ علینہ کے دل کو پکا یقین تھا بے اختیار ہی جی چاہا اس کی شرارت کا جواب بھرپور شرارت سے دے‘ اسے بتائے آنے والے مہمان کس ’’چاہ‘‘ میں کھنچے چلے آرہے ہیں لیکن پھر اس کے پل پل بدلتے موڈکا سوچ کر چپ رہنا ہی بھلا جانا جبکہ وہ اس کے یوں گم صم ہونے کو کچھ اور سمجھی۔
’’اوہو بھئی‘ میں تو مذاق کررہی تھی‘ تم تو سنجیدہ ہی ہوگئیں اچھا بابا کردیتی ہوں صفائی۔ کیا یاد کرو گی تم بھی۔‘‘ شاہانہ انداز سے کہتی مالٹے کی پھانک منہ میں رکھے وہ باہر کو چل دی۔ علینہ مسکراتی ہوئی کائونٹر پر پھیلی چیزیں سمیٹنے لگی اس کا رخ تو ادھر ہی تھا کہ توقیر بھائی کی آواز نے روک لیا جو اس کے سر پر چپت لگاتے کہہ رہے تھے۔
’’جائو امی کی بات سنو۔‘‘ (اوہو آج تو بڑے موڈ میں ہیں‘ لگتا ہے باس کی دعوت کررہے ہیں‘ ضرور پروموشن کا چانس ہوگا) وہ سوچتی تابعداری سے سر ہلا کر ادھر کو مڑ گئی اور امی کو دیکھتے ہی ایک لحظہ کو تو پریشان ہی ہوگئی وہ پلّو سے آنکھیں رگڑ رہی تھیں۔
’’خیریت تو ہے امی کیا ہوا‘ آپ رو رہی ہیں؟‘‘ بے حد گھبراتی وہ ان کے پیروں کے پاس آبیٹھی‘ انہوں نے سر اٹھایا تو مسکرا رہی تھیں۔ لبوں پر پُرسکون سی مسکراہٹ آنکھوں میں پانی اور اس پانی میں ہلکورے لیتی بے تحاشہ ممتا۔ بے شک وہ اب کچھ عرصہ سے یہی دعا کرتی تھیں کہ ان کی بگڑی لاڈو اپنے گھر کی ہوجائے۔ جس طرح وہ کبھی کبھار انہیں زچ کردیتی تھی بس وہ سوچتیں اچھا سا کوئی گھرانہ ملے تو میں اس کا بوجھ تو سر سے اتاروں اور ان لمحوں میں ان کا دل ایک بھرا ہوا پیالہ بن گیا تھا جب وہ بہت چھوٹی سی ان کے ہاتھوں میں آئی تھی اور اب تک کی اس عمر کا ہر سال ان کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا۔ کیا یہ اتنا ہی آسان ہوگا ان کے لیے‘ اتنے نازوں سے بیٹی کو پالنا پھر کسی اور کے حوالے کردینا‘ یقینا یہ بہت مشکل ہوتا ہے ہر ماں کے لیے اور ابھی تو صرف مہمان آرہے تھے اور ان کی حالت یہ ہورہی تھی کہ جی چاہ رہا تھا اسے خود میں چھپالیں۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں میں اس کا من موہنا سا چہرہ لے کر پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیا اور وہ اس بنا اطلاع کی شفقت پر حیران ہوئی تھی اس کے اور ان کے تعلقات جس نہج پر رہتے تھے اس میں یہ نوبت شاذ ہی آتی تھی سو اس کا بحر حیرت میں غوطہ لگانا بنتا تھا۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ ان کے ہاتھ تھامتے بے اختیار پوچھا تو وہ ہنس دیں۔
’’بالکل میری چندا… طبیعت بالکل ٹھیک ہے‘ باقی سب بھی ٹھیک ہے۔ ہاں البتہ میری شہزادی خوش نہیں لگ رہی‘ ویسے تو میری گڑیا پر ہر رنگ ہی اچھا لگتا ہے جو بھی رنگ پہن لے‘ لگتا ہے اسی کے لیے بنا ہے لیکن وہ جو پچھلے دنوں سوٹ لے کر آئی ہو ناں وہ ٹی پنک کلر میں‘ وہ تو تم نے ابھی تک پہن کر دکھایا ہی نہیں‘ جائو ابھی وہی سوٹ نکالو اور فٹافٹ خوب پیاری سی تیار ہوکر آئو۔ جائو میری جان۔‘‘ اور اس کا ماتھا ٹھنکا دل کی رفتار بے ربط ہوئی‘ بے وقت ایسی فرمائش۔
’’کک… کیوں امی… وہ سوٹ تو آپ کو بتایا تھا کہ ارشین کی منگنی پر پہننے کے لیے لائی ہوں۔‘‘
’’ارے تب بھی پہن لینا‘ اس میں تو ابھی بڑے دن پڑے ہیں‘ ابھی تو اٹھو اور سنو گھر میں کچھ مہمان آرہے ہیں پہلی بار ملنا ہے انہوں نے ہم سے تو ذرا حلیہ تو ڈھنک کا ہونا چاہیے ناں اور اب دیکھو مزید کوئی سوال مت کرنا مجھ سے۔ ٹائم کم ہے‘ بہت سے کام پڑے ہیں‘ میں بھی جلدی سے فریش ہوجائوں اور یہ ہادیہ ابھی تک سو رہی ہے‘ اُف اللہ! ایک تو اس لڑکی کی نیندیں ہی پوری نہیں ہوتیں۔ بس پڑھنا اور سونا دو ہی کام ہیں اسے تو‘ اٹھ جائو عنابیہ بچے‘ اسے بھیجو میرے پاس۔‘‘ انہوں نے اٹھ کر الماری سے اپنا ایک سوٹ نکالا اور واش روم میں بند ہوگئیں یقینا یہ اس کے سوالوں سے بچنے کی شعوری کوشش تھی‘ اس کا دل بند ہونے لگا وہ کتنی دیر ہل نہ سکی۔
’’مہمان… کون سے مہمان… کیسے مہمان… اور یوں اچانک سے‘ اوہ کہیں یہ وہی صفی نانی کی بہو کی بہن تو نہیں۔ اُف میرے اللہ… نہیں۔‘‘ اس کے لیے تو ایسا کوئی تصور ہی سوہان روح تھا جبکہ یہاں تو حقیقت منہ پھاڑے چلی آرہی تھی‘ اسے کسی مہمان سے کوئی سروکار نہیں تھا‘ اس کی بلا سے کوئی آئے کوئی جائے۔ ایک پل کو تو جی میں آئی اٹھے اور دوڑتی ہوئی کہیں بہت دور نکل جائے‘ جہاں کوئی اس کے پیچھے نہ آسکے یا پھر اپنے کمرے میں ہی بند ہوجائے اور ہزاروں دستکوں پر بھی دروازہ نہ کھولے لیکن پھر توقیر بھائی کا جوش و خروش‘ امی کی مسکراہٹیں‘ ان کے چہرے سے چھلکتی طمانیت‘ کیا وہ ایسا کچھ کرپائے گی اس نے خود سے سوال کیا اور اگر پوچھا گیا وہ ایسا کیوں کررہی ہے تو وہ کیا جواب دے گی۔ کیا جواز پیش کرے گی‘ اوہ نہیں… وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتی‘ ہاں لیکن وہ ایک برف کا بُت ضرور بن گئی تھی۔ اسے کچھ دھیان نہیں تھا‘ وہ کسی طرف دھیان دینا بھی نہیں چاہ رہی تھی‘ اس کے اندر لہریں سر پٹخ رہی تھیں۔ بہت مشکل سے امی کی ہدایت پر عمل کرتے وہ مہمانوں کے سامنے آئی تھی اور اس جان کنی کے عالم سے وہ خود کو چند منٹ سے زیادہ نہ گزار سکی‘ وہ اٹھ آئی تھی پھر جو کمرے میں بند ہوئی تو سارے بند بھی ٹوٹ گئے۔
’’اُف یہ دن بھی آنا تھا‘ یااللہ میں نے کچھ زیادہ کی چاہ تو نہیں کی تھی بس ایک خواب‘ ایک خواہش‘ وہ گلشن دل میں کھلا پہلا آرزوئے پھول تو کیا اب وہ سب نوچ ڈالوں‘ لیکن کن ہاتھوں‘ کس دل سے‘ میں ٹوٹ جائوں گی۔ مر جائوں گی۔‘‘ اس نے تکیے میں منہ چھپالیا‘ جو لحظہ بہ لحظہ بھیگتا ہی رہا۔
ء…/…ء
یہ چاند کتنا خوب صورت لگتا ہے ناں‘ جب مکمل ہوجاتا ہے اس سے پھوٹتی چاندنی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ روحوں کو مسحور کرتی ہے‘ ہر ذات کو اپنے حصار میں قید کرلیتی ہے‘ چکور اپنے قفس میں تڑپ تڑپ جاتا ہے۔ سمندر کی موجیں مچل مچل جاتی ہیں‘ اسے چھونے‘ پانے کو اور آسمان کی گود میں سویا چاند سب سے بے پروا مدہوش پڑا رہتا ہے آج تو اس کا دل بھی سمندر ہورہا تھا۔ چکور کی طرح سینے کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا تھا۔ جانے کتنے لمحے گزرے ایک ہی جگہ کھڑے‘ شیشم کی ٹہنیاں جھوم جھوم کر پتے اس پر سے وار رہی تھیں‘ ہوا اپنی مستیوں میں ڈوبی بار بار آٹکراتی‘ فضا میں خوش گوار سی خنکی بھری تھی۔
آج کا دن اس کی زندگی کا بے قرار ترین دن تھا‘ ایسا اضطراب تو تب بھی کبھی محسوس نہ ہوا جب کسی امتحان کے نتیجے کا انتظار ہوتا اور شاید اس نے اب تک ایسا کوئی امتحان پہلے دیا بھی نہیں تھا‘ ثمر بھابی نے کہا تھا۔
’’تم اب اس سے کچھ مت کہو‘ ہوسکتا ہے قدرت اسی بات پر راضی ہو کہ تم نے اس تک پراپر وے سے اپنی بات پہنچائی اور ایک لڑکی کے لیے اس سے بڑھ کر اور مان کیا ہوگا کہ اسے اتنا معتبر کردیا جائے۔ تمہارا یہ عمل اس کے دل میں تمہاری عزت اور احترام کو گراں قدر کردے گا۔‘‘ اور ان کا مشورہ دل کو لگا تھا‘ سوچ لیا ہاں یہ ٹھیک ہے۔
اسے اپنے جذبوں کی صداقت پر پورا یقین تھا جو مہک اس کے روم روم کو مہکائے ہوئے تھی‘ گمان ہی نہیں ایمان تھا وہ خوشبو اس تک بھی گئی ہوگی اس روز کی اس کے چہرے کی وہ خوشی بھلائے نہیں بھولتی تھی اور پھر ایسے کئی لمحات جب وہ نظر چرائے بات کرتی وہ اس کی جانب دیکھتی نہیں تھی اپنے ہاتھوں کو تکتی رہتی یا پھر دائیں بائیں۔ صارم کو اس کی یہی ادائیں تو لے ڈوبی تھیں‘ وہ جو پہلے خود اعتماد سے بات کیا کرتی اس نے اب ایسے محتاط و گریزاں انداز اپنا لیے اور کیوں؟ یہی خیال تو اسے گدگدانے لگا تھا‘ کتنے ہی حسین گمان قافلوں کی صورت دل کی زمین پر اتر آتے۔ وہ محبت جو کچھ عرصہ سے ایک ضدی بچے کی طرح اس کے دامن سے لپٹی اٹھکھیلیاں کررہی تھی یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اس محبت کی قلقاریاں اس نے نہ سنی ہوں‘ وہ خود دانستہ اسے دیکھا کرتا‘ ایک بار نہیں باربار‘ تب اس کی آنکھوں کی جگمگاہٹ‘ رخساروں پر پھیلتی شفق اپنے اندر تک جانے لگتی۔ اس کی آتی جاتی سانسیں بھی ایک ہی ورد کیا کرتیں‘ عنابیہ… عنابیہ… اور جب اماں جان تک اس کے دل کی خبر پہنچی تو انہوں نے ذر دیر نہ کی تھی۔ اپنے لاڈلے کے لیے چاند سی دلہن لانے کا ہر ماں کی طرح انہیں بھی بڑا ارمان تھا‘ عنابیہ انہیں پسند آئی تھی لیکن…
’’صورت شکل تو اللہ سوہنے کی بنائی ہوئی ہے اس میں تو کوئی کمی نہیں ماشاء اللہ ہیرے کی کنی سا دمکتا ہے اس بچی کا حسن۔ والدہ بھی نہایت سلجھی ہوئی خاتون ہیں‘ سارا گھرانہ ہی بہت نفیس ہے لیکن…‘‘ ان کے لیکن نے اس کی سانس اٹکا دی۔
’’لیکن سچ کہوں تو مجھے مزاج کی اکھڑ اور سنجیدہ لگی ہے وہ۔‘‘ بہو ہنستی کھلکھلاتی ہوئی چاہیے‘ وہ ہنسے گی تو سارا گھر جگمگائے گا اور اگر وہی روتی صورت ہوئی تو… اب ثمر کو ہی دیکھ لو کیسے گھل مل کر رہتی ہے ہم میں‘ میری تو خواہش تھی دوسری بہو بھی ایسے ہی گنوں والی ہو۔‘‘
’’اگر گھر کے سارے افراد ایک ہی مزاج کے ہوں تو جلد ہی ایک دوسرے سے اکتا جاتے ہیں‘ درخت کا صرف تنا ہی نہیں ہوتا اس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں‘ پتے بھی ہوتے ہیں‘ پھول لگتے ہیں‘ پھل بنتا ہے‘ یہی ہوتا ہے خاندان۔ تاریں ہمیشہ نگیٹو اور پازیٹو باہم ملا کر نظام چلایا جاتا ہے اگر دونوں تاریں صرف گرم ہوں یا دونوں ٹھنڈی تو فیوز اڑ جایا کرتا ہے یہ مت بھولیں آپ۔‘‘ بابا جان نے بھرپور دلیل کے ساتھ ان کی بات کو ہنسی میں اڑا دیا۔
’’تو ہمارا صارم بھی کون سا چارلی چپلن کا جانشین ہے اماں جان اور جب عنابیہ اسے پسند ہے زندگی اس نے گزارنی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔‘‘ یہ عازم بھائی کی رائے تھی‘ اماں جان چپ سی ہوگئیں اور بھابی تو جب سے آئی تھیں ایسی ہی چپ تھیں‘ وہ چائے کے برتن سمیٹ کر کچن میں گئیں تو وہ ان کے پیچھے ہی چلا آیا۔
’’آپ نے کچھ نہیں کہا اب تک‘ کیا اپنی متوقع دیورانی سے مل کر آپ کو کوئی خوشی نہیں ہوئی‘ کیسی لگی وہ آپ کو‘ آپ نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ وہ سخت بے تاب تھا وہاں کا سب احوال جاننے کے لیے‘ وہ چاہ رہا تھا وہ ایک ایک بات بتائیں۔ توقیر اور علینہ سے تو وہ ایک بار مل چکا تھا‘ عنابیہ کی امی‘ ہادیہ وہ کیسی ہیں پھر وہ کیسی لگ رہی تھیں۔
’’ہوں‘ اچھی ہے بلکہ بے حد نائس ہے۔ خوشی ہوئی تمہاری پسند دیکھ کر لیکن…‘‘
’’اُف… یہاں بھی لیکن… کیا لیکن…‘‘ وہ بے چین سا کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا‘ بھابی نے نل کھول کر فوم بھگویا اب وہ سنک میں رکھے برتن دھونے لگیں۔
’’لیکن تم نے کہا تھا اس کی مسکراہٹ بہت دلنشیں ہے اور میں تو اسی اشتیاق میں کشاں کشاں کھنچی چلی گئی تھی اور حد ہے وہ ایک بار بھی نہیں مسکرائی بلکہ اس نے تو سر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں ہماری طرف‘ مجھے تو اس کے رخسار بھیگے بھیگے سے لگ رہے تھے اور آنکھیں گلابی۔ اب دیکھو اسے علم تو ہوگا کہ ہم لوگ کون ہیں اور ان کے ہاں کس غرض سے گئے ہیں لیکن میں تو حیران رہ گئی اس کے رویے پر‘ وہ تو زیادہ سے زیادہ تین یا چار منٹ ہی ٹھہری ہمارے پاس پھر اٹھ کر یوں بھاگی جیسے ڈر ہو ہم اسے پکڑ کر باندھ ہی نہ لیں‘ اس کی فیملی کا رویہ تو بہت حوصلہ افزا تھا سب نے اتنی عزت دی۔ اچھا خاصا اہتمام کر رکھا تھا‘ سب ہی کچھ بہت اچھا تھا وہاں‘ ہمیں تو عنابیہ نے ہی الجھا دیا۔ میں نے تمہیں روکا تھا کہ تم اس سے کچھ مت کہو لیکن اب میرا خیال ہے صارم… تم اس سے ایک بار خود ضرور بات کرلو‘ پوچھ لو اس کی رائے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی فیملی اس کے ساتھ کوئی زبردستی کردے۔ ہوسکتا ہے وہ کہیں اور… تم سمجھ رہے ہو ناں میری بات۔‘‘ بھابی جھجک کر رکیں۔
اور اس کے تو جیسے سب ارمانوں پر اوس پڑگئی تھی‘ وہ تو اب تک خوش گمانیوں میں گھرا تھا اسے ایک پل کو بھی کسی خدشے نے نہیں ستایا تھا‘ کوئی واہمہ لاحق نہیں ہوا تھا تو خود پر یقین تھا اسے اپنے جذبوں پر مکمل بھروسہ تھا۔ محبت کی رتھ پر سوار وہ تو بہت دور نکل آیا تھا‘ تو کیا اسے خواب جزیرے سے واپسی کا سفر کرنا ہوگا اور کیا یہ ممکن ہوسکے گا؟ وسوسوں کا ایک کوہ گراں تھا جو اس کے سامنے تن کر آکھڑا ہوا تھا‘ ہر ہر خیال نوکیلے پتھروں کی طرح روح میں گھستا جارہا تھا۔ اس کے اندر الائو دہک رہا تھا وہ اپنے آپ میں نہیں رہا تھا‘ جانے کن قدموں سے چلتا ٹیرس تک آیا اور تب سے وہیں کھڑا تھا۔ چپ‘ گم صم‘ ساکت‘ منجمد‘ رات اپنے سفر پر تھی۔ چاند نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔
’’یہ بھی دیوانہ لگتا ہے‘ لوجی ایک اور اضافہ۔‘‘ اس نے مسکرا کر سوچا اور سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
ء…/…ء
اس نے بے حد خوب صورت پوشاک اوڑھ رکھی تھی‘ لگتا تھا سارے جگنو اکٹھے کرکے اس پر ٹاک دیئے گئے ہوں‘ وہ دوپٹہ پلو میں چن چن کر پھول اکٹھے کررہی تھی۔ ہر طرف پھول ہی پھول کھلے تھے‘ سرخ‘ زرد‘ عنابی‘ کاسنی‘ گلابی… یوں لگ رہا تھا قوس قزح اتر آئی ہو۔ بہار نے اپنے دامن میں بھرے سارے رنگ یہیں اچھال دیے ہوں‘ ایسے خوشنما پھول اور ان سے اٹھتی بھینی بھینی مہک کے روح تک معطر ہوگئی۔ وہ اس سے سخت خفا تھا نپے تلے قدم اٹھاتا اس تک آیا اور ڈپٹ کر پوچھا۔
’’کیوں توڑ رہی ہو پھول؟‘‘ اس نے گھنیری پلکیں اٹھائیں‘ گلوں کے سب عکس اس کی آنکھوں نے چرا لیے تھے‘ وہ ایک ادا سے مسکراتی بے نیازی سے گویا ہوئی۔
’’میرے دل نے کہا ہے اس لیے۔‘‘ چند لمحے مبہوت سا دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا‘ مزاج کی تمام برہمی جاتی رہی اس کے جواب نے محظوظ کیا تھا‘ وہ سب خفگی بھول کر مسکرادیا۔
’’بہت خوب… بھلا اور کیا کیا کہتا ہے تمہارا دل۔‘‘
’’اور بھی بہت کچھ کہتا ہے لیکن آپ کو کیوں بتائوں؟‘‘ وہ اٹھلاتی اگلی کیاری کی جانب بڑھ گئی۔
’’اچھا چلو سب نہ بتائو‘ یہ تو بتادو کہ میرے بارے میں کیا کہتا ہے‘ کیا مجھ سے محبت کرتا ہے۔‘‘ لپک کر ہمقدم ہوتے بے دھڑک پوچھ لیا‘ اس نے پلّو میں اکٹھے کیے پھولوں سے مٹھی بھرلی۔ ایک عجیب سی نرمی اور ٹھنڈک ہتھیلی میں اتری تھی۔
’’اووں… پوچھ کر بتائوں گی۔‘‘ اس ست رنگی پیرہن والی کا لہجہ شوخی و شرارت سے بھرپور تھا۔ آنکھیں ستاروں سی چمک رہی تھیں اور ان سے نکلتی روشنی سارے منظر کا حسن بڑھا رہی تھی۔
’’کب پوچھو گی ابھی پوچھ کر بتائو فوراً…‘‘ جھنجھلاتے ہوئے حکم دیا‘ جواباً وہ کھلکھلاتی سارے پھول اس پر نچھاور کرتی بھاگ کھڑی ہوئی وہ اس کے پیچھے تھا اور قریب تھا کہ اسے تھام لیتا کہ کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
’’صارم… صارم بیٹا…‘‘ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں‘ اماں جان اس پر جھکی ہوئی تھیں‘ انہوں نے پیار سے اس کے بال سہلائے۔
’’صدقے جائوں کتنا تھک گیا ہے میرا بچہ‘ کتنے دن بھی تو ہوگئے جاگتے ہوئے‘ اٹھو میری جان گھر چلے جائو‘ سکون سے نیند پوری کرلو جاکر‘ یہاں کیسے بے آرام سے سو رہے ہو۔‘‘
’’میں نے تو اسے کہا تھا گھر چلا جائے لیکن یہ مانا ہی نہیں۔‘‘ تکیے کے سہارے نیم دراز وقار صاحب بولے‘ تین دن پہلے اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی‘ فوراً ہاسپٹلائز کرنا پڑا تب سے سخت پریشانی میں کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔ وہ تو آج ان کی صحت قدرے بہتر نظر آئی تو اس نے اسجد کو زبردستی گھر بھیج دیا‘ وہ اسے بھی کہتے رہے کہ وہ بھی جاکر آرام کرلے لیکن وہ مان کر نہ دیا۔ باتیں کرتے ہوئے وہ سوگئے تھے اس کی بھی میگزین پڑھتے ہوئے کب آنکھ لگی پتا ہی نہ چلا اور مسلسل تین راتوں کے جاگنے کے بعد یہ ذرا سی نیند کیسی مہربان تھی جو اسے ایسی حسین سرسبز وادی میں لے گئی تھی جہاں وہ من چاہے منظر دیکھ رہا تھا۔ کئی لمحے تو اس گل و گلزار فسوں خیز وادی کے سحر سے نکل ہی نہ سکا۔ آنکھیں تو جاگ گئی تھیں مگر دل اب بھی وہیں بھٹک رہا تھا‘ سینے سے ایک ہوک سی اٹھی‘ کاش یہ سب حقیقت میں ہوتا۔
’’اب میں اور اماں جان ہیں ڈیڈی کے پاس‘ تم اطمینان سے گھر جاسکتے ہو۔‘‘ ٹفن باکس ٹیبل پر رکھتے ثمر بھابی نے کہا‘ وہ ماتھے پر بکھرے بال‘ انگلیوں سے سمیٹتا سیدھا ہو بیٹھا۔
’’اسجد آجائے پھر چلا جائوں گا‘ اور کھانے میں کیا لے کر آئے ہیں آپ لوگ‘ سچ میں بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘
’’تمہارا فیورٹ چکن منچورین ہے ود بوائلڈ رائس۔‘‘
’’واہ‘ اٹینڈنٹ کے لیے اتنا اہتمام اور پیشنٹ کو تین دن سے تم لوگ ایک ہی طرح کے پتلے سے بدذائقہ سوپ پر ٹرخا رہے ہو‘ اٹس ناٹ فیئر بیٹا جان۔‘‘ ثمر کی بات پر وقار صاحب جلدی سے بولے تو وہ سب مسکرادیئے۔
’’کیا کریں مجبور ی ہے‘ آپ کے لیے یہی سوپ بتایا ہے ڈاکٹر نے‘ اب اس میں ہم کہیں سے بھی قصور وار نہیں۔ غلطی تو آپ کی اپنی ہے‘ نہ کرتے بدپرہیزیاں تو نہ یوں ہسپتال کے بستر پر لیٹنا پڑتا۔‘‘ ثمر نے ترنت جواب دیا‘ وہ ان کے لیے پیالے میں سوپ نکال رہی تھیں وہ بے اختیار ٹوک گئے۔
’’میرے لیے مت ڈالو‘ جی نہیں چاہ رہا میرا‘ کچھ دیر پہلے ہی جوس پلایا ہے صارم نے۔‘‘
’’اس آدھے گلاس جوس کو پیے پورے دو گھنٹے گزر چکے ہیں ماموں جان… یہ سوپ تو اب ڈل چکا‘ آپ کو پینا ہی پڑے گا‘ لایئے بھابی مجھے دیں۔‘‘ وہ بھی ان کا بھانجا تھا انہیں پلا کر ہی دم لیا اور اس کا کھانا لگ چکا تھا کہ سیل پر کال آنے لگی‘ فون اسکول سے تھا یہ بتانے کے لیے کہ وہ لوگ وقار صاحب کی عیادت کے لیے ہسپتال آرہے ہیں۔
’’کیا عنابیہ بھی آرہی ہے؟‘‘ یک لخت شدت سے جی چاہا کہ پوچھ لے لیکن زبان ہل نہ سکی۔ ابھی کچھ دیر پہلے کا خواب پھر سے ذہن کی اسکرین پر روشن ہوگیا۔
’’کیا وہ آئے گی…؟‘‘ اس نے خود سے پوچھا۔
وہ کتنے عرصے بعد اسے دیکھے گا‘ آخری بار تب دیکھا تھا جب… وہ یاد کرنے لگا اور وہ تو ماموں کی فکر میں لگ کر بھول ہی گیا تھا کہ وہ رات کیسی اذیت میں کٹی تھی‘ کیسا درد سینے میں اٹھ رہا تھا وہ ساری سوچیں تو خاردار کی طرح دل سے لپٹی پڑی تھیں اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا بھوک ہی مر گئی تھی۔
’’کیا ہوا‘ کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔‘‘ اماں نے پوچھا‘ وہ نفی میں سر ہلاتا کمرے سے نکل گیا‘ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی ایک بار تو جی میں آئی گھر چلا جائے نہ اسے دیکھے گا نہ درد بڑھے گا‘ مگر پھر سوچ لیا اب اس درد سے نجات تب ہی ملے گی جب اس سے بات ہوگی اور وہ آج ہی ہوگی۔
ء…/…ء
وہ دھک سے رہ گئی تھی۔
’’اوہ… یہ… یہ چہرے تو… حالانکہ ایک آدھ نظر ڈالی تھی ان پر لیکن وہ حافظے میں کسی بری یاد کی طرح محفوظ ہوگئے تھے۔ یہی تو وہ چہرے تھے جو خوب صورت ہونے کے باوجود اسے انتہائی برے لگے تھی۔
’’افوہ… مگر یہ یہاں کہاں؟ وہ حد درجہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہو اٹھی تھی‘ وہ تو تمام اسٹاف کے ساتھ وقار صاحب کی عیادت کے لیے آگئی تھی کہ انہیں سامنے پاکر ہونق سی دیکھے گئی جبکہ ثمر اتنے ہی تپاک سے اس کی طرف بڑھی۔ پیار سے ساتھ لگا کر گال تھپتھپائے‘ ہاتھ پکڑ کر اماں جان کے پاس لا بٹھایا‘ انہوں نے بھی کھلی بانہوں سے استقبال کیا‘ پیشانی چومی‘ خیر خیریت دریافت کی وہ بس سر ہلائے گئی‘ بولنے کی تو سکت ہی نہ بچی تھی۔
’’یااللہ کیا ہے یہ سب؟‘‘ مارے گھبراہٹ کے دل بری طرح دھڑک رہا تھا‘ بے چین سی انگلیاں چٹخاتی رہی۔
سب نے وقار صاحب کی مزاج پرسی کی‘ پھولوں اور دعائوں سے نوازا‘ کچھ دیر ٹھہر کر وہ سب واپسی کے لیے تیار تھے وہ بھی جلدی سے اٹھی۔
’’تم کہیں نہیں جارہیں‘ بیٹھو ہمارے پاس‘ بہت سی باتیں کرنا ہیں تم سے۔‘‘ ثمر نے اپنائیت سے کہتے پھر بٹھالیا‘ وہ بوکھلا کر اٹھنے لگی تو وہ وقار صاحب سے بولیں۔
’’دیکھ لیں ڈیڈی‘ یہ تو میری مان ہی نہیں رہی‘ آپ ہی کہیں ناں اس سے۔‘‘
’’ڈیڈی…‘‘ حیرت کا یہ دوسرا جھٹکا تھا اور پہلے سے کہیں زیادہ شدید‘ وہ پوری کی پوری ہل گئی۔ آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل گیا‘ یہ تو گمان سے بھی پرے کا کوئی قصہ تھا‘ وقار صاحب کہہ رہے تھے۔
’’کیا بات ہے عنابیہ بیٹا کچھ پریشان ہو؟ ارے بھئی گھبرائو مت‘ ہم سب تمہارے اپنے ہی ہیں‘ بیٹھ جائو۔‘‘ اور وہ یوں بیٹھی گویا خود کار مشین ہو۔ ’’دیٹس لائک آ گڈ کرل‘ بھئی عنابیہ تو بہت ہی لائق اور محنتی بچی ہے۔ اسے اتنا ٹائم نہیں ہوا ہمارے ساتھ لیکن یقین جانیں آپا میں اس کی اپنے کام سے لگن اور دیانت داری سے شدید متاثر ہوں۔‘‘ وقار صاحب اپنی بہن سے مخاطب تھے اور اس نے اپنی تمام زندگی میں خود کو اتنا بدحواس اور بزدل کبھی محسوس نہیں کیا تھا‘ جتنا ان لمحوں میں خود سے ہی شرمندگی ہورہی تھی۔ دوسری طرف دل کی حالت عجیب تھی تو کیا جو وہ سمجھ رہی تھی بالکل ویسا ہی تھا اس کے لیے آنے والا پرپوزل صارم کا تھا۔ اوہ میرے اللہ… کیا ہوجاتا اگر اس روز ہادیہ کی بات سن لیتی کس قدر ایکسائٹڈ تھی وہ‘ جب اسے بتانے آئی تھی۔
’’جانتی ہو‘ مہمان کون تھے؟‘‘
’’نہیں‘ اور مجھے جاننے کی ضرورت بھی نہیں۔ مجھے کوئی دلچسپی نہیں کسی مہمان میں۔‘‘ وہ سخت بے زار تھی‘ مارے رنج کے گلا رندھا ہوا تھا۔
’’ارے سنو تو‘ اتنے مزے کی بات ہے‘ پتا ہے یہ لوگ…‘‘
’’پلیز‘ خاموش ہوجائو‘ کچھ مت کہنا‘ کچھ مت بتائو مجھے تمہیں بابا کی قسم اور ہاں جاکر کہہ دو امی سے ابھی کچھ وقت کے لیے بخش دیں میری جان۔ چھوڑ دیں مجھے‘ مت فکر میں گھلیں میری‘ مجھے کوئی نہیں کرنی شادی وادی۔‘‘ وہ حلق کے بل چلائی تھی‘ ہادیہ تو ہادیہ اس طرف آتی علینہ بھی اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی۔
وہ سب تو خوش تھے ہینڈسم اینڈ ڈیسنٹ سا صارم ولید سب ہی کو اچھا لگا تھا‘ پڑھا لکھا‘ خوبرو‘ اچھے اوصاف رکھنے والا۔ ایک باعزت خاندان کا چشم و چراغ‘ وہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا اس کی اور عنابیہ کی جوڑی بلاشبہ چاند سورج کی جوڑی ہوتی اور پھر جس طرح اس کی فیملی پیام لے کر آئی تھی جس محبت اور مان سے وہ اسے مانگ رہے تھے یقینا اس کی خوش نصیبی تھی اور ایک وہ تھی کہ… علینہ کو سخت دکھ ہوا‘ پتا نہیں اس لڑکی کو کب عقل آئے گی‘ کب سدھرے گی یہ۔
’’کیا کہتی ہے عنابیہ…؟‘‘ امی بے چین سی پوچھ رہی تھیں‘ آج تو ان کے چہرے پر بھی الوہی سا سکون سایہ کیے ہوئے تھا۔ علینہ کی ہمت نہ ہوئی ان کا اطمینان لوٹنے کی‘ زبردستی کی مسکان کھینچ کر ہونٹوں پر سجائی۔
’’بے وقوف ہے‘ رو رہی ہے کہتی ہے امی سے دور نہیں جائوں گی۔ میں نے تو کہا کون سا دور جانا ہے اسی شہر میں رہو گی ہمارے قریب۔ چاہے روز مل لیا کرنا مگر آپ کو تو پتا ہے ناں پھوپو… ایسے موقعوں پر لڑکیوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔ میں خود اتنا روئی تھی امی سے لپٹ لپٹ کر منتیں کی تھیں کہ خود سے دور مت کریں مجھے‘ وہ بھی ایسی ہی کنڈیشن سے گزر رہی ہے۔ ابھی اس سے کچھ بھی کہنا بے کار ہے‘ آپ بھی کوئی بات مت کیجیے گا‘ دو چار دن گزریں گے اس کا دل و ذہن اس حقیقت کو قبول کرنے پر آمادہ ہوگا تو خود ہی نارمل ہوجائے گی‘ ٹھیک ہے ناں پھوپو۔‘‘ ان کے ہاتھ تھامے وہ بولی تھی‘ امی کو اپنی پیاری بیٹی پر ڈھیروں پیار آیا‘ انہوں نے سر ہلادیا۔ وہ اس سے پوری طرح متفق تھیں‘ یہی وجہ تھی کہ پھر کسی نے یہ موضوع نہ چھیڑا وہ سب اسے وقت دے رہے تھے اور اب وہ خیالوں میں اپنا ماتھا پیٹ رہی تھی۔
کاش… کاش وہ ایک بار ہی سہی پوری بات تو سن لیتی تو ایسی اذیت میں تو نہ کٹتے اتنے دن۔ اُف… وہ کسی سے نظر نہیں ملا پارہی تھی‘ سر جھکا ہوا تھا‘ عارض سرخ ہورہے تھے‘ لرزتی ہوئی پلکیں اور اماں جان اسے دیکھتی سوچ رہی تھیں۔
’’ارے میں یونہی غلط فہمی کا شکار ہوئی‘ ایسے موقعوں پر بچیاں گھبرا ہی جایا کرتی ہیں۔ یہ تو اتنی سادہ‘ خاموش طبع اور شرمیلی سی لڑکی ہے‘ اللہ نظر بد سے بچائے۔‘‘ انہوں نے فرط محبت سے ایک بار پھر اسے گلے لگا کر چوم لیا۔
’’اوئے ہوئے‘ یہاں تو بڑے لاڈ ہورہے ہیں‘ لو بھئی آپا… آپ کی تو ویلیو ڈائون ہونے کے دن آگئے‘ محبت تقسیم ہوجائے گی اب تو۔‘‘ اندر آتے اسجد نے شرارت سے کہتے ثمر کو چڑایا‘ اماں جان جلدی سے بولیں۔
’’محبت تو ہوتی ہی تقسیم ہونے کے لیے ہے میرے بچے‘ اسے جتنا بانٹو یہ اتنا ہی بڑھتی ہے۔ ایک ماں کے دل میں ساری اولاد کے لیے پیار ہوتا ہے‘ ثمر کی اپنی جگہ ہے۔ یہ میرے گھر کی بڑی بہو ہے‘ اس کی ویلیو تو ہرگز بھی کم نہیں ہوسکتی اور آنے والی کی اپنی جگہ ہوگی‘ وہ اپنے حصے کی محبتیں خود لے لے گی ہم سے‘ میں تو خوش نصیب ہوں جسے اتنی پیاری بیٹیاں مل گئیں۔‘‘
’’واہ جی اور یہ دوسری بیٹی اچھی ملی ہے آپ کو‘ آپ اپنے لاڈلے کو ہی بھول گئیں‘ کچھ خبر بھی ہے کہاں ہے وہ‘ اتنی دیر سے کال کررہا ہوں اور وہ گدھا ہے کہ پک ہی نہیں کررہا‘ پریشان ہوکر بھاگا آیا ہوں۔‘‘
’’ارے ہاں‘ کہاں گیا یہ صارم… کافی دیر پہلے کمرے سے نکلا تھا‘ ابھی تک واپس نہیں آیا۔‘‘ اور اس کے ذکر پر عنابیہ کی دھڑکنیں زیر و زبر ہوگئیں‘ اس کی نظریں تو کب سے اسے ڈھونڈ رہی تھیں جس کے نام کی بے پایاں خوشی ملی تھی اسی کا دیدار اب تک نہ ہوا تھا۔ کتنے جتن سے وہ خود کو روکتی رہی تھی نہ اسے دیکھوں گی نہ خود پر سے اختیار کھوئوں گی۔ کچھ خواہشیں بہت ضدی ہوتی ہیں‘ روتی ہیں‘ کرلاتی ہیں‘ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر سینے میں شگاف ڈال دیتی ہیں۔ صارم ولید بھی تو ایک ایسی ہی خود سر خواہش بنتا جارہا تھا لیکن وہ اپنی ذات کا وقار اور اعتماد بھی کسی صورت نہیں کھونا چاہتی تھی تب ہی تو خود کو یہ سمجھا کر پیچھے ہٹانے لگی کہ من چاہی خوشیاں ہر کسی کا نصیب نہیں بنتیں۔ جو مقدر میں نہ ہو اس کے لیے کیا واویلا کرنا پھر مقدر تو انار کی طرح ہوتا ہے‘ پھیلنے سے پہلے تک بالکل اندازہ نہیں ہوپاتا کہ دانہ میٹھا ہے یا ترش اور وہ یقینا خوش بختوں میں سے تھی اس کے حصے میں میٹھا پھل آیا تھا۔ ثمر نے صارم کو کال کی‘ وہ یہیں تھا ہسپتال کے باغیچے میں۔
’’میں دیکھ کر آتی ہوں کیا کررہا ہے وہاں۔‘‘ وہ اٹھیں پھر رک کر اسے دیکھا۔
’’عنابیہ آجائو تم بھی میرے ساتھ۔‘‘ اور وہ ان کے ساتھ کھنچتی چلی گئی۔ سر سبز گھاس پر پائوں پسارے نیم کے گھنے پیڑ کے تنے سے وہ ٹیک لگائے بیٹھا تھا‘ اپنے ہی کسی دھیان میں مگن۔
’’صارم… خیریت تو ہے ایسے کیوں بیٹھے ہو یہاں؟‘‘ ثمر نے شانہ ہلایا۔
’’کچھ نہیں بس ویسے ہی‘ بڑی پُرسکون سی جگہ ہے‘ ہسپتال کے اندر تو میڈیسنز کی بُو نے دماغ سُن کردیا تھا۔ یہاں تازہ ہوا ہے کچھ دیر سانس لے کر بہت اچھا لگا‘ ماموں کی طبیعت اب قدرے بہتر ہے‘ میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں‘ اب انہیں گھر لے جاتے ہیں وہاں زیادہ بہتر فیل کریں گے وہ۔‘‘ کپڑوں سے گھاس کے خشک تنکے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا‘ وہ چند قدم پیچھے ہی رک گئی تھی۔ ہمیشہ نک سک سے درست نظر آنے والے صارم ولید کا حلیہ اس وقت یکسر الٹ تھا‘ ٹرائوزر کے ساتھ سمپل ٹی شرٹ پہنے‘ بکھرے بال‘ چہرے پر تھکان اور بڑھی ہوئی شیو میں بھی وہ خاصا ڈیشنگ لگ رہا تھا‘ بلکہ اسے تو ہمیشہ سے بڑھ کر اچھا لگا۔ یہ پیارا سا شخص اس کا تھا‘ یہ احساس ہی کیسا جاں افزا تھا‘ روم روم میں سرشاری سی بھر گئی تھی یہ اس کی نظروں کا ارتکاز ہی تھا جو صارم نے اُدھر دیکھا۔ سیاہ اسٹالر کے ہالے میں دلنشین سا چہرہ‘ چمکتی آنکھیں‘ باہم بھنچے گلابی ہونٹ اس کے دیکھتے ہی گڑبڑا کر کہہ گئی۔
’’السلام علیکم سر!‘‘ لبوں نے بے آواز جنبش کی تھی‘ صارم کا سر بھی میکانکی انداز سے ہلا‘ ان دونوں کو دیکھتے ثمر مسکرادیں۔
’’عنابیہ تو واپس جارہی تھی‘ میں نے ہی اسے روک لیا۔ بھئی یہ تو بڑی کم گو ہے‘ ہم سے تو اس نے کوئی بات ہی نہیں کی ہوسکتا ہے تم سے ہی کچھ بول لے‘ بلکہ ایسا کرنا صارم تم اسے ڈراپ بھی کر آنا۔‘‘ اور وہ چپ کھڑا تھا‘ اندر کلبلاتے سوالوں کا ہجوم لفظوں کا روپ دھارنے کو ترپ اٹھا‘ دھکم پیل شروع ہوگئی تھی اتنا غل مچ گیا کہ باہر آواز اس شور میں دب گئی۔
’’اوہو‘ میرا سیل فون شاید اندر ہی رہ گیا‘ کہیں عازم کی کال نہ آجائے۔ میں دیکھ کر آتی ہوں ابھی۔‘‘ ثمر کو اچانک یاد آیا واپس پلٹ گئیں۔ وہ دونوں اپنی اپنی جگہ گم صم کھڑے تھے‘ صارم اس سے روٹھا ہوا تھا ایک نظر کے بعد رخ پھیر لیا‘ عنابیہ کے جذبات چہرے سے مترشح تھے‘ فطری حیاء نے اپنے حصار میں لے لیا تھا وہ اس سے نظر چرائے کھڑی تھی‘ کئی لمحے خاموشی کی نذر ہوگئے۔ وہی ہمت مجتمع کرتی آگے بڑھی‘ اُدھر اس کے سوال حلق تک آن پہنچے تھے۔
’’آپ…‘‘ دونوں ایک ہی ساعت میں آمنے سامنے ہوئے‘ آنکھیں چار ہوئیں اس کے لبوں میں مسکان دبی تھی‘ صارم نے لب بھینچ لیے۔
’’کیا کہہ رہے تھے آپ؟‘‘ وہ مقابل آن کھڑی ہوئی‘ صارم کو اس کے چہرے پر رقصاں مسکان نے حیران کیا‘ اسے اذیتوں کی بھٹی میں جھونک کر کس قدر خوش تھی یہ لڑکی۔ اسی کے طفیل وہ ایک ان دیکھی آگ میں جل رہا تھا اور اس کے تو ہونٹ ہی نہیں آنکھیں بھی ہنس رہی تھیں‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا لیکن ہر بار جانے کیوں کہہ نہیں پایا یا پھر آپ نے ہی کبھی موقع نہیں آنے دیا اور جب خود کچھ نہ کہہ سکا تو اپنے دل کا ترجمان بنا کر اپنی فیملی کو آپ کی طرف بھیج دیا لیکن…‘‘ وہ سانس لینے کو رکا۔
’’اب صرف ایک سوال پوچھنا چاہوں گا‘ ول یو میری می۔‘‘ آج تک یہ سوال کسی نے اتنے اکھڑ لہجے میں چہرے پر ایسی خشونت لیے یوں رعب جما کر نہیں پوچھا ہوگا۔ عنابیہ کو ہنسی آگئی‘ بے ساختہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے‘ وہ تیکھے چتون لیے گھور رہا تھا‘ بمشکل ہنسی کنٹرول کی۔
’’آپ اتنے خفا کیوں ہیں؟‘‘ جواب کے بجائے نہایت معصومیت سے استفسار کیا۔
’’اور آپ اتنی خوش کیوں ہیں؟‘‘ یہی تو اصل جلن ہورہی تھی‘ کلستے ہوئے پوچھ ہی لیا وہ سر جھکا گئی۔
’’آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا‘ میں سمجھی تھی کہ وہ مہمان…‘‘ اور پھر جھجکتے ہوئے رک رک کر اس نے سب کہہ ڈالا‘ اس کے لفظ تھے کہ امرت دھارا جو قطرہ قطرہ سماعتوں میں اترتے اور رس گھولتے گئے۔ اتنے دنوں سے جلتا کلستا دل ٹھنڈی پھوار میں بھیگ گیا تھا‘ ایک گہرا سانس لیتے اندر کی ساری کثافت کو باہر نکالتے کھل کر مسکرادیا‘ اس کی باتوں میں سب وضاحتیں بھی تھیں اور اقرار بھی۔
’’بہت تنگ کیا ہے تم نے۔‘‘ وہ ایک ہی پل میں سب تکلیف اور فاصلے پاٹ گیا۔
’’میں نے…؟‘‘ مارے حیرت کے گردن اوپر اٹھ گئی‘ سامنے والے کی آنکھوں میں محبتوں کا ایک جہان آباد تھا۔ سارے ان کہے جذبے اب پٹرپٹر بول رہے تھے۔
’’کمی تو آپ نے بھی کوئی نہیں رکھی۔‘‘ جی میں تو آئی تھی کہہ دے مگر حیاء نے لبوں پر قفل ڈال دیئے‘ گھبرا کر پلکوں کی چلمن گرالی۔
’’آئو عنابیہ پھول چنیں۔‘‘ صارم نہایت نرمی و محبت سے اس کا ہاتھ تھامتا کیاری کی طرف لے گیا‘ وہ اسے اپنا خواب سنا رہا تھا اور ہنستے ہوئے اس کے سنگ پھول چنتی عنابیہ کے لبوں پر ایک ہی دعا تھا۔
’’یارب… یہ بہار سدا قائم رکھنا۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close