Aanchal Jan-18

کوئی بتلاو کہ

راشدہ رافعت

کچھ عرصہ پہلے اس نے ایک کہاوت پڑھی تھی جس کا مفہوم تھا‘ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اسی وقت ماں پیدا ہوجاتی ہے آسان سی بات ذرا مشکل سے اس کی سمجھ میں آئی لیکن جب مفہوم سمجھ آگیا تو بے ساختہ مسکراہٹ بھی ہونٹوں پر رینگ گئی چند مہینوں کی بات تھی وہ خود بھی ماں کے درجے پر فائز ہوجاتی۔ فی الحال وہ ماں بننے کے مفہوم سے ناآشنا تھی‘ احمد کو جب اس نے یہ کہاوت سنائی تو اس نے ہنستے نیا نکتہ نکالا۔
’’لو یہ کیا بات ہوئی بھئی جس وقت ماں پیدا ہوتی ہے اسی وقت باپ کا رشتہ بھی تو جنم لیتا ہے۔‘‘ وہ شوہر کی بات سن کر مسکرادی اور اس دن کے بعد احمد نے تو جیسے اس کی چھیڑ ہی بنالی تھی۔
’’ہاں بھئی بیوی ہم دونوں کی ازسر نو پیدائش میں اب کتنا وقت رہ گیا۔‘‘ وہ کبھی ہنس دیتی اور کبھی ان کو گھور کر رہ جاتی لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کا دل انجانے خدشوں سے لرزتا رہتا۔ گھر میں کوئی بڑا بزرگ موجود نہ تھا‘ احمد اس کے خالہ زاد تھے۔ ایمان اور احمد کی شادی سے کچھ عرصہ پہلے ہی خالہ کا انتقال ہوگیا تھا‘ دو خالہ زاد بہنیں بیرون ملک رہائش پذیر تھیں خود ایمان کی امی‘ بابا راہی عدم سدھار چکے تھے۔ بہن بھائی شادی شدہ تھے اور اپنی اپنی زندگیوں میں مگن۔ احمد کی جاب کی وجہ سے وہ اپنے آبائی شہر سے بھی دور تھی ورنہ ہوسکتا تھا بچے کی پیدائش سے کچھ عرصے پہلے کوئی بہن ہی اس کے پاس آجاتی۔ بہت دنوں کے لیے اتنی دور آنا کسی کے لیے ممکن نہ تھا‘ ہاں ٹیلی فون پر سب ہی اسے حوصلہ دیتے رہتے پھر بھی ذہن الٹی سیدھی سوچوں کی زد میں گھرا رہتا۔ شروع شروع میں جب وہ احمد سے اپنے خدشات شیئر کرتی تو وہ پوری توجہ سے اس کی اوٹ پٹانگ باتیں سنتا اور پھر بہت محبت سے اسے تسلی دیتا۔
’’دراصل ماں بننے کا تمہارا پہلا تجربہ ہے ناں اسی لیے اتنا گھبرا رہی ہو بلکہ شاید پہلی بار ہر عورت ہی اتنا ہی نروس ہوتی ہوگی لیکن تم ایسی ویسی سوچوں کو ذہن میں آنے سے پہلے ہی جھٹک دیا کرو۔ اللہ کرم کرے گا‘ ان شاء اللہ سارے مرحلے بخیر و خوبی نمٹ جائیں گے۔‘‘
کئی دنوں تک تو اسی نوعیت کے تسلی دلاسوں کا سیشن چلتا رہا لیکن پھر احمد اس کے اوٹ پٹانگ سوالوں سے زچ ہونے لگے۔ رات کو وہ بات شروع ہی کرتی تو احمد اس کی ڈبڈبائی ہوئی آنکھیں دیکھ کر سمجھ جاتے کہ وہ کیا کہنے والی ہے‘ آفس سے لائی فائل کو سائیڈ پر رکھ کر وہ بیوی کی طرف متوجہ ہوتے۔
’’یہ ہی پوچھنا چاہ رہی ہو کہ اگر دوران ڈلیوری تم انتقال فرما گئیں تو میں کیا کروں گا؟‘‘ وہ جانے کیسے اس کے دل کی بات پاجانے اور ایمان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے۔
’’بیوی میں ہر جمعرات کو تمہاری قبر پر فاتحہ پڑھنے آیا کروں گا پکا پرامس۔‘‘ وہ پھر سے فائل اٹھا کر کھول لیتے‘ ایمان خفگی سے انہیں گھورنے لگتی۔
’’اچھا بابا ہر جمعرات کے بجائے میں روز رات کو قبرستان کا چکر لگالیا کروں گا‘ آج کل وزن ویسے بھی بڑھ رہا ہے اس بہانے واک بھی ہوجائے گی بلکہ اکیلے جاتے ہوئے تو بور ہو جاؤں گا اگر نئی دلہن مانی تو اسے بھی کمپنی کے لیے ساتھ لے جایا کروں گا۔‘‘ وہ سنجیدگی سے مخاطب ہوتے۔
’’تو آپ دوسری شادی بھی کریں گے؟‘‘ صدمے کے مارے ایمان کی آواز گھٹ کر رہ گئی۔
’’مجبوری ہے یار تم نے مرنے کا پکا پروگرام جو بنالیا ہے۔‘‘ وہ شرارتی انداز میں مسکرا کر کہتے‘ ایمان ناراض ہوکر منہ پھلالیتی۔
آخر بمشکل وقت بھی کٹ ہی گیا اور ایک روشن صبح جب اس نے گل گوتھنے سے ریان کو جنم دیا تو ساری پریشانیاں اور واہمے جیسے بھاپ بن کر اڑ گئے۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی کہ مشکل وقت بیت گیا اصل مشکل مرحلہ تو ریان کو سنبھالنے کا تھا‘ اللہ جانے وہ اتنا کیوں روتا تھا سامنے والی فہمیدہ خالہ جب اسے ریان کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے دیکھتیں تو ہنس پڑتیں۔
’’بچہ پیدا کرنا آسان ہے بیٹا اور پالنا بہت مشکل۔‘‘
’’کوئی ایسی ویسی مشکل خالہ… میری تو مت مار دی ہے اس منے میاں نے۔‘‘ وہ خالہ کی بات کی تائید کرتے ہوئے بولی۔
’’گھٹی وغیرہ تو دے رہی ہو ناں اسے؟‘‘ فہمیدہ خالہ نے پوچھا۔
’’نہیں خالہ… ڈاکٹر نے ایسی چیزوں سے سختی سے منع کیا ہے۔‘‘ اس نے سادگی سے بتایا۔
’’اے لو ڈاکٹروں نے منع کیا اور تم مان گئیں‘ یہ ڈاکٹر لوگ اپنے آپ کو بہت افلاطون چیز سمجھتے ہیں‘ اسی لیے تو بچہ بے چارہ بلک بلک کے روتا ہے۔ پیٹ میں درد ہوتا ہوگا بے چارے کے‘ خیر تمہارا بھی کوئی قصور نہیں کوئی بڑا بوڑھا سر پر ہو تو کچھ بتائے سمجھائے۔ میں گھر جاکر اپنے پوتے کے ہاتھ خالی شیشی بھیجتی ہوں احمد کو نام بتا کر منگوالینا۔ ہمارا تو بچوں کا گھر ہے ایسی سو طرح کی چیزیں ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔‘‘ فہمیدہ خالہ نے کہا اور اپنے کہے کے مطابق جاتے کے ساتھ ہی پوتے کے ہاتھ گھٹی کی خالی شیشی بھجوادی۔ ایمان نے بھی اسی وقت احمد کو فون کرکے تاکید کردی کہ آفس سے واپسی پر گھٹی لیتے آئیں‘ احمد لے بھی آئے لیکن اس رات ریان معمول سے بھی زیادہ رویا تھا۔
’’تم مانو نہ مانو یہ اسی گھٹی کا فتور ہے۔‘‘ احمد بیوی پر خفا ہوئے۔
’’آخر فہمیدہ خالہ بھی تو اپنے پوتے پوتیوں کو یہ ہی گھٹی دیتی ہیں اور ماشاء اللہ کیسے صحت مند بچے ہیں۔ اب ریان کو راس نہیں آئی تو بے چاری فہمیدہ خالہ کا کیا قصور انہوں نے تو نیک نیتی سے ہی مشورہ دیا تھا۔‘‘ ایمان نے فہمیدہ خالہ کی سائیڈ لی‘ احمد بھی چپ ہوگئے۔
ایمان کی بات غلط نہ تھی لیکن ایک فہمیدہ خالہ پر کیا موقوف آئندہ آنے والے دنوں میں ہر کس و ناکس نے اسے ناتجربہ کار جانتے ہوئے ’’نیک نیتی‘‘ کے مشوروں کی بھرمار کردی۔ اسے سمجھ نہ آتا کس کا مشورہ مانے اور کس کا نہ مانے کس کی با ت پر یقین کرے اور کس کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دے۔
ریان دس دن کا ہی ہوا تھا کہ احمد کی دور پرے کی پھوپی بیٹے کی مبارک باد دینے ان کے ہاں تشریف لائیں۔
’’ناک نقشہ تو بالکل باپ پر گیا ہے۔‘‘ پھوپی ریان کو لے کر اس کے نقوش کا تفصیلی معائنہ کررہی تھیں‘ ایمان موقع غنیمت جان کر واش روم میں گھس گئی یہ چھٹانک بھر کا بچہ اتنا مصروف رکھتا تھا کہ اسے ڈھنگ سے ہاتھ‘ منہ دھونے کی فرصت بھی میسر نہ آتی تھی۔ اب بھی اس نے دانت برش کرنے کا سوچا‘ واش روم کا دروازہ کھلا ہی تھا پھوپی نے جب اسے دانت برش کرتے دیکھا تو اپنی کراری آواز میں ٹوکا۔
’’اے دلہن بائولی تو نہیں ہوگئی‘ بچہ ابھی دس دن کا بھی نہیں ہوا اور تم دانت مانجھنے کھڑی ہوگئیں۔ بچہ جننے کے بعد عورت کا جوڑ جوڑ اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے‘ یہ برش رگڑو گی تو بتیسی ہاتھ میں آجائے گی۔‘‘ انہوں نے کیا خوفناک منظر کشی کی‘ ایمان نے بھی فوراً کلی کرلی تھی۔
’’سوا مہینے تک تو دلہن ہر طرح کا پرہیز ہوتا ہے‘ اگر دانت صاف ہی کرنے ہیں تو یہ موا پیسٹ یا کوئی دانتوں کا منجن انگلی پر لگا کر ہولے ہولے دانت صاف کرلیا کرو مگر یہ ٹوتھ پیسٹ برش پر لگا کر نہیں رگڑنا۔‘‘ انہیں ایمان کی فرماں برداری پسند آئی تھی اس لیے اس بار نرم لہجے میں سمجھایا تھا‘ ایمان اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔
ء…/…ء
’’ہائے اللہ باجی… یہ آپ کیا کررہی ہیں۔‘‘ وہ اس روز ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں کی چوٹی بنارہی تھی جب صغریٰ (ملازمہ) نے ایک دم اسے ٹوکا۔
’’نظر نہیں آرہا بال بنارہی ہوں۔‘‘ اس نے صغریٰ کو گھورا۔
’’نہ باجی جی‘ سوا مہینے تک شیشہ نہیں دیکھتے‘ چہرے پر جھائیاں پڑجاتی ہیں۔‘‘ اس نے بہت مدبرانہ انداز میں سمجھایا۔
’’آئینہ نہ دیکھوں تو کنگھا چوٹی احمد سے کروائوں کیا…؟‘‘ وہ جھنجھلائی تو صغریٰ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’احمد بھائی جان سے کیوں جی‘ میں ہوں ناں‘ ذرا کاموں سے فارغ ہوجائوں پھر آپ کے سر میں تیل لگا کر چوٹی بنادوں گی۔ آپ نے تو جی نہ کسی مالش والی کو لگایا نہ سر میں تیل لگاتی ہیں ایسے تو دماغ بھی خشک ہوجائے گا۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے اب کھڑے کھڑے باتیں نہ بناؤ‘ کام نمٹائو پھر لگا دینا سر میں تیل۔‘‘ اس نے صغریٰ کا مشورہ مان لیا تھا شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی اسے یاد تھا جب اس کے میکے میں بھابی کے ہاں پہلا بچہ ہوا تھا تو پڑوس کی ماسی جنتے بھابی کی مالش کرنے بلا ناغہ آتی تھی۔ کتنی دیر تک وہ بھابی کے مالش کرکے ان کا جسم دباتی تھی اور سوا مہینے تک بھابی کا سر بھی تیل سے چپڑا ہی رہتا۔
’’میرے جسم میں اسی لیے تو درد نہیں رہنے لگا کہ میں نے کسی مالش والی کا بندوبست ہی نہیں کیا۔ چلو یہ صغریٰ ہے ناں اسی کو اضافی پیسے دے کر تیل‘ مالش کروالیا کروں گی۔‘‘ ایمان نے دل میں فیصلہ کیا تھا پھر صغریٰ کی اگلی بات یاد آئی تو ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں چہرے کا بغور جائزہ لیا۔ جھائیاں تو نہ نظر آئیں لیکن کم خوابی کی وجہ سے آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے۔
’’توبہ ہے میں کس کی باتوں کو سیریس لے رہی ہوں۔‘‘ ایمان نے دل ہی دل میں خود کو ڈپٹا۔
تین چار دن بعد کی بات تھی وہ ریان کو سلا کر نہانے کے لیے واش روم میں گھسی ہی تھی کہ پڑوس سے حنا باجی ملنے چلی آئیں۔ صغریٰ انہیں ایمان کے بیڈ روم میں ہی لے آئی‘ حنا باجی کافی ہنس مکھ خاتون تھیں۔ ایمان کی ان سے اچھی گپ شپ تھی ان کے سیل فون کی چنگھاڑتی ہوئی رنگ ٹون سے ریان ڈر کر جاگ گیا اور حلق پھاڑ کر رونے لگا۔ حنا باجی اسے بے بی کاٹ سے نکال کر چپ کروانے کی کوشش کرنے لگیں‘ ایمان جلدی سے نہاکر باہر نکلی تھی۔
’’لاؓئیں باجی اسے فیڈ کروا دوں ایسے چپ نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے ان کی گود سے ریان کو لینا چاہا۔
’’ارے پہلے ذرا بال تو تھوڑے سے خشک ہولینے دو‘ گیلے بالوں کے ساتھ فیڈ نہیں کرواتے۔‘‘ حنا باجی نے ریان کو تو اسے دے دیا مگر ساتھ ہی فیڈ کروانے سے بھی منع کردیا۔
’’اتنا رو رہا ہے باجی…‘‘ وہ بے چارگی سے گویا ہوئی۔
’’اچھا چلو اللہ کا نام لے کر پلادو لیکن آئندہ احتیاط کرنا‘ ایسے بچے کو ٹھنڈ لگ جاتی ہے چندا۔‘‘ انہوں نے پیار سے سمجھایا‘ ایمان نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ریان کچی نیند سے جاگا تھا‘ دودھ پی کر پھر سے سوگیا‘ ایمان نے احتیاط سے اسے بی بی کاٹ میں لٹایا پھر پیاس محسوس ہوئی تو سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ میں سے گلاس میں پانی انڈیلا پھر غٹاغٹ پی گئی تھی۔
’’اتنا پانی… اس طرح تو تم اپنے فیگر کا ستیاناس کرلو گی ایمان۔‘‘ حنا باجی نے انتہائی پُرتفکر لہجے میں اسے مخاطب کیا‘ وہ ہکابکا سا ہوکر ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’ڈلیوری کے بعد مہینہ‘ دو مہینے تک پانی بہت کم پینا چاہیے ورنہ پیٹ بڑھ جاتا ہے۔‘‘ حنا باجی نے اس کی حیرت بھانپ کر بتایا۔
’’لیکن مجھے تو فیڈ کرواکر بہت پیاس لگتی ہے۔‘‘ وہ بے چارگی سے گویا ہوئی۔
’’وہ تو ہر کسی کو لگتی ہے بھئی مگر اپنی اسمارٹنس کے لیے یہ قربانی تو دینی پڑتی ہے۔ مرد خود جتنا مرضی موٹا ہوجائے بیوی اسے سلم اسمارٹ ہی اچھی لگتی ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولیں‘ ایمان ان کے کہنے پر خاموش رہی تھی لیکن احمد سے اس نے ضرور پوچھا۔
’’آپ کو موٹی عورتیں کیسی لگتی ہیں احمد…؟‘‘
’’ہائیں یہ کیا سوال ہوا‘ موٹی عورتیں موٹی ہی لگتی ہیں بھئی۔‘‘ اخبار پڑھتے ہوئے انہوں نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔
’’افوہ… میں یہ پوچھ رہی ہوں آپ کو موٹی عورتیں اچھی لگتی ہیں یا اسمارٹ؟‘‘ اس نے سوال کی وضاحت کی‘ احمد نے ذرا غور سے اسے دیکھا‘ جانے اس کے دماغ میں کیا تھا۔
’’مجھے اسمارٹ عورتیں اچھی لگتی ہیں بالکل تمہارے جیسی۔‘‘ اپنی دانست میں انہوں نے اس کی تشفی کروائی تھی‘ ایمان چپ ہوگئی۔ اس دن سے اس نے حنا باجی کا مشورہ مانتے ہوئے دن میں پانی بہت کم پینا شروع کردیا نتیجہ بلڈ پریشر لو ہونے کی صورت میں نکلا تھا‘ شکر ہے احمد اس روز گھر پر تھے شدید چکروں کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہوتے دیکھی تو فوراً اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔
’’پریشانی کی کوئی بات نہیں احمد صاحب… ایک تو آپ کی مسز پہلے ہی دھان پان سی ہیں‘ فرسٹ بے بی ہے‘ بی پی لو ہورہا ہے۔ آپ اپنی ڈائٹ پر توجہ دیں‘ دودھ لیں‘ فروٹ کھائیں اور زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔‘‘ ڈاکٹر نے پہلے احمد کی پریشانی دیکھ کر اسے تسلی دی تھی اور پھر ایمان کو مخاطب کیا۔
’’زیادہ سے زیادہ پانی؟‘‘ اس نے حیران ہوکر ڈاکٹر کو دیکھا اور اس کی حیرانی ڈاکٹر سے چھپی نہ رہ پائی۔
’’آپ دن میں کتنے گلاس پانی پیتی ہیں مسز احمد؟‘‘ ڈاکٹر نے اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’ڈیڑھ یا دو گلاس…‘‘ ڈاکٹر کی نگاہوں سے خائف ہوتے ہوئے اس نے اٹک اٹک کر بتایا۔
’’او مائی گاڈ…! ڈیڑھ سے دو گلاس‘ بی بی اپنے اور اپنے بچے پر رحم کریں۔ دودھ پلانے والی مائوں کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔ جوسز اور دودھ بھی جتنا زیادہ پی سکتی ہیں پئیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے آج کل کی پڑھی لکھی بچیاں اتنا سینس نہیں رکھتیں۔‘‘ ڈاکٹر نے ناراضگی سے کافی ڈانٹ ڈپٹ کی تھی‘ ڈاکٹر کی ڈانٹ تو اس نے خاموشی سے سن لی لیکن گھر آکر جب احمد اس کی کم عقلی پر خفا ہوئے تو وہ روہانسی ہوگئی۔
’’میں کیا کروں احمد… مجھے حنا باجی نے کہا تھا کہ زیادہ پانی پینے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے‘ میرا پہلا تجربہ ہے ناں اس لیے ہر کسی کی باتوں پر یقین کرلیتی ہوں جس کو دیکھو مجھے مشورہ دینے بیٹھ جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کس کی بات سنوں‘ کس کی نہ سنوں شاید میں ہر کسی کو شکل سے بے وقوف لگتی ہوں جیسے مجھے کسی بات کا نہیں پتا اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے واقعی کچھ نہیں پتا۔ جب سے ریان ہوا ہے میں تو عجیب کنفیوژن میں مبتلا ہوں۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولی‘ احمد اس کی کیفیت سمجھ سکتے تھے‘ ذرا سا مسکرائے۔
’’اچھا ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں‘ یہ صرف تمہارے ساتھ ہی نہیں ہورہا۔ ہماری قوم کی عادت ہے‘ ہر معاملے میں دوسروں کو مفت مشورہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ لوگوں کے خلوص اور نیک نیتی پر شبہ نہیں کرنا چاہیے لیکن بات اسی کی مانو جو آپ کے دل کو لگے۔‘‘ احمد نے اسے رسانیت سے سمجھایا تھا اور اس بار بات اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔
وقت گزرتے کب دیر لگتی ہے‘ ریان کے دو سال بعد حریم اور حریم کے تین سال بعد انوشے اس کی گود میں آگئی تھی اب وہ خود تجربہ کار ماں کے عہدے پر فائز ہوچکی تھی۔ چھوٹا بچہ سنبھالنا قطعاً مسئلہ نہ لگتا تھا بلکہ اب وہ بچوں کی پرورش کے متعلق دوسروں کو مشورہ دینے کی اہل بھی ہوچکی تھی۔ پڑوس میں احمد کے کولیگ کی فیملی آکر آباد ہوئی تھی بلکہ احمد نے ہی ذیشان کو یہ اپارٹمنٹ کرائے پر لینے میں مدد کی تھی‘ ذیشان جاب کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ یہیں رہتا تھا فیملی آزاد کشمیر میں بستی تھی۔ کچھ دن ہوئے علینہ اور ذیشان کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی تھی۔ علینہ کی بھابی تین چار دن اس کے پاس رک کر واپس چلی گئی تھی اب علینہ اکیلے بچی کو سنبھالنے میں ہلکان رہتی تھی۔ ایمان کو کچھ ہی عرصے میں علینہ سے عجیب سی انسیت ہوگئی تھی کچھ احمد کی ہدایت تھی کہ وہ ذیشان کی بیگم کی خبر گیری کرتی رہے سو گھر کے کاموں سے فراغت پاکر وہ اکثر علینہ کے پاس چلی جاتی۔ اس روز بھی وہ علینہ کی طرف گئی تو اس کی بیٹی کا رو رو کر برا حال تھا اور علینہ اسے سنبھالنے کے چکر میں ہلکان تھی۔
’’ایسے کیوں رو رہی ہے منی‘ خیر تو ہے؟‘‘ اس نے بچی کو اپنی گود میں لے کر ہولے ہولے تھپکنا شروع کیا۔
’’پتا نہیں ایمان بھابی… دو دن سے ایسے ہی بلک بلک کر رو رہی ہے کل شام کو چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس لے کر گئے تھے اس نے پیٹ کے درد کے ڈراپس دیئے ہیں۔ چار چار گھنٹے کے وقفے سے دے رہی ہوں لیکن کوئی فرق نہیں پڑرہا۔ آج ذیشان سے کہا ہے کہ دوسرے ڈاکٹر سے اپائنمنٹ لے لیں۔‘‘ علینہ روہانسی ہوکر بتارہی تھی۔
’’تم ہی کھانے پینے میں بداحتیاطی کررہی ہوگی جو بچی کے پیٹ میں درد ہے ورنہ کیا وجہ ہوسکتی ہے۔‘‘ ایمان نے اندازہ لگایا۔
’’میں کیوں بداحتیاطی کرنے لگی‘ سادہ روٹی سالن ہی کھاتی ہوں۔‘‘ علینہ نے سادگی سے بتایا۔
’’روٹی سالن‘ اف اللہ… تم تین وقت روٹی لیتی ہو۔‘‘ اس نے علینہ کو گھورا‘ علینہ نے پریشان سی ہوکر اثبات میں گردن ہلائی۔
’’بے وقوف لڑکی… ابھی زیادہ تر نرم غذا لو‘ اتنی چھوٹی بچی ہے۔ تمہاری اور تم تین وقت روٹی کھا رہی ہو‘ دوپہر کو کبھی حلوہ لیا کرو۔ کبھی نرم سی کھچڑی پکالیا کرو بلکہ میری مانو تو خوب دیسی گھی ڈال کر سوجی کا حلوہ بنالیا کرو۔ تمہاری کمزوری بھی دور ہوگی اور منی کا…‘‘
’’حلوہ وہ بھی دیسی گھی والا‘ میرے تو حلق سے ہی نہیں اترے گا۔‘‘ علینہ نے بے بسی سے اس کی بات کاٹی۔
’’بس پھر تم اپنی زبان کے چٹخارے پورے کرلو‘ بچی کے پیٹ میں اسی لیے تو اینٹھن ہوتی ہے۔ میری مانو تو سوا مہینے تک دن میں ایک چپاتی سے زیادہ مت کھائو‘ بھلے حلوہ یا کھچڑی سے پیٹ بھرے نہ بھرے۔ میری بات آزما کر دیکھ لو پھر کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔‘‘ اس نے وثوق بھرے لہجے میں کہتے ہوئے منی واپس علینہ کے سپرد کی۔ بچی رو رو کر اتنا ہلکان ہوچکی تھی کہ بغیر دودھ پیے ہی تھپکیوں سے سوگئی۔
’’اور یہ تم نے منی کے سر کے ساتھ کیا کردیا‘ سر کی صحیح شیپ ہی نہیں بن رہی۔ شروع کے دو‘ ڈھائی مہینے ہوتے ہیں سر صحیح طور پر بٹھانے کے۔ اسے ہرگز کروٹ کے بل مت سلایا کرو بلکہ سوتے وقت سر کے نیچے کوئی گتہ یا سخت چیز رکھ دیا کرو۔‘‘ اس نے علینہ کو ایک اور مشورہ سے نوازا تھا۔
’’لیکن ڈاکٹرز تو کہتے ہیں کہ بچے کو کروٹ کے بل سلانے سے سانس آسانی سے آتا ہے۔‘‘ علینہ نے اختلاف کرنے کی معمولی سی کوشش کی۔
’’ارے ڈاکٹرز کی تو عادت ہوتی ہے ایسے شوشے چھوڑنے کی ان کی اپنی مائوں نے کیا‘ ان کے سر کی صحیح شیپ کے لیے جتن نہ کیے ہوں گے۔ بچے کا سر پیچھے سے لمبوترا ہو تو کتنا عجیب لگتا ہے بچہ‘ میرے بچوں کو دیکھو‘ ریان اور حریم کی بار تو مجھے زیادہ محنت نہ کرنی پڑی تھی لیکن یہ انوشے…‘‘
’’ہائیں یہ انوشے کہاں چلی گئی…؟‘‘ انوشے کا ذکر آنے کے ساتھ ہی اسے ڈھائی سالہ بیٹی کا خیال آیا جو اس کی انگلی پکڑ کر ساتھ آئی تھی اور اب جانے کہاں چلی گئی تھی۔
’’او محترمہ پہنچ گئی تمہارے واش روم میں‘ نل چلانے کی کوشش میں مصروف ہوگی۔‘‘ ایمان بیٹی کی آواز کا سراغ پاکر فوراً واش روم کی طرف لپکی اور پیچھے علینہ حیران پریشان ہوکر اپنی بچی کے سر کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close