Aanchal Jan-18

وہ ایک پل

اُم ایمان قاضی

شہر سے پچاس‘ پچپن کلو میٹر دور یہ جگہ بالکل ویران تھی‘ مگر دو سال پہلے جب دوسرے شہر جانے والے کچھ مسافروں کو گاڑی کے انجن میں ڈالنے کے لیے پانی درکار ہوا تو پانی ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ یہاں آنکلے تھے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ اس قدر ویران اور سنسان جگہ پر خود سے اور اردگرد سے بے گانہ ایک انسانی وجود موجود تھا۔ ان کو تسلی ہوئی تھی کہ چلو ہوسکتا ہے اس شخص سے تھوڑا سا پانی مل سکے مگر بار بار مخاطب کرنے پر بھی اس شخص کے استغراق میں کوئی خلل نہیں پڑا تھا مگر جب ان افراد میں سے ایک نے باقاعدہ اس شخص کو بازو سے ہلا کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا تو اس نے اپنی سرخ آنکھوں سے گھور کر انہیں دیکھا تھا۔
’’جائو… جائو یہاں سے… کچھ نہیں ہے تمہارے مطلب کا یہاں‘ کچھ بھی تو نہیں۔ ارے تم بے وقوف لوگ کیا جانو کہ میں تو خود دنیا کی نظروںسے بچ کے اللہ کو منانے آیا ہوں۔ وہ ناراض ہے مجھ سے‘ بہت دونوں سے‘ مانتا ہی نہیں‘ دیکھتا ہی نہیں‘ میں تو خود سائل ہوں‘ بھکاری ہوں کسی کو کیا دوں گا‘ جائو جائو…‘‘ یہ کہہ کر اس دیوانے شخص نے انہیں ہاتھوں سے دھکیلنا شروع کردیا۔ وہ لوگ بھی حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے واپس ہولیے مگر جس سنسان راستے پر ان کو زندگی کا تصور بھی ناممکن نظر آرہا تھا وہیں واپسی پر ایک چٹان کی درز سے تھوڑا تھوڑا پانی نکلتا دیکھ کر وہ حیرت سے بُت بن گئے۔
سنگلاخ‘ ویران پہاڑوں کے بیچ سے پانی کہاں سے آرہا تھا؟ اور انہیں پہلے نظر کیوں نہیں آیا تھا؟ وہ یہ جوابات تو ڈھونڈنے میں ناکام رہے تھے مگر نجانے کیوں ان کا ذہن مڑمڑ کر بار بار اس پُراسرار شخص کی طرف ضرور جارہا تھا جو اس ویرانے میں نجانے کب سے تھا اور کیا کررہا تھا۔ ان کا مسئلہ حل ہوتے ہی گاڑی تو رواں ہوکر چل دی تھی‘ اس بات کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا اور ان پانچ افراد نے اس واقعے کو واپس آکر اپنے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا نتیجتاً ہر سننے والے شخص نے بھی اپنی سوچ کے مطابق رنگ دیا اور کچھ لوگ تو باقاعدہ اپنی منت‘ مراد لے کر اس پراسرار شخص کے پاس چل بھی دیئے تھے کہ ہوسکتا ہے ان کے مسئلے کا حل اس شخص کی دعا کا منتظر ہو۔ آہستہ آہستہ لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی اور کچھ ہی عرصے میں وہاں اپنے اپنے مسائل لے کر آنے والوں کا تانتا بندھ گیا اور یہ بات تو طے ہوگئی تھی کہ وہ پراسرار بابا ٹھوڑی کو سینے سے لگائے مسلسل ہلتا رہتا اور دعا کرانے والے اپنا مسئلہ بیان کرتے اور دعا کرنے کی منت کرتے رہتے۔ ہر بات دعا کے لیے کہنے پر اس شخص کی حرکت اور گریہ تیز ہوجاتی مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کبھی کبھی اس وجد اور گریہ کی کیفیت سے باہر آکر وہ شخص لوگوں کو واپس جانے اور سختی سے اپنے پاس آنے سے منع کرتا اور یہی الفاظ دہراتا کہ وہ تو خود سائل‘ توبہ کا منتظر اور معافی کا دروازہ کھلنے کا نجانے کب سے انتظار کررہا ہے اور ہر بار وہ جب بھی لوگوں کو دھتکارتا تو اُن لوگوں کی تب تب مرادیں پوری ہوجاتی نتیجتاً اب اس کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ کچھ لوگ خود ہی سرکردہ بن گئے تھے‘ کچھ نے تو باقاعدہ لنگر کا بندوبست کردیا تاکہ دور سے آنے والے لوگ طویل انتظار کے اس دورانیے میں بھوکے نہ رہیں۔ پراسرار بابا کی گریہ و زاری بڑھ گئی تھی‘ اب وہ پوری وادی میں بھاگ بھاگ کے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر روتا اور معافی مانگتا رہتا۔
ء…/…ء
’’امی…!‘‘ عائشہ نے جھانک کر کمرے میں جائے نماز پر دعا مانگتی ماں کو مخاطب کیا۔ ’’میں تھوڑی دیر کے لیے پھوپو کی طرف جارہی ہوں‘ نیلی آئی تھی تھوڑی دیر پہلے تو اس نے آمنہ کا پیغام دیا ہے اس نے مجھے فوراً بلایا ہے۔‘‘ دروازے میں ہی کھڑی وہ بولی۔
’’ٹھیک ہے‘ یہاں آئو دعا لے کر جائو اور اپنی پھوپو کو میرا سلام کہنا۔‘‘ جائے نماز لپیٹ کر انہوں نے نرمی سے کہا تو عائشہ فوراً اندر آگئی۔ صدیقہ بیگم نے دعائیں پڑھ کر اس پر دم کیا اور خود تسبیح اٹھالی۔ درمیانی باڑھ عبور کرکے ہی تو پھوپو کا گھر تھا‘ عائشہ نے باڑھ کے پاس رک کر سر پر لیا دوپٹہ ایک بار پھر پوری طرح سے نماز کے انداز میں لپیٹا اور اندر آگئی۔ پھوپو اپنے مخصوص تخت پر قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف نظر آئیں۔ اس کے سلام کا حسب معمول روکھا سا جواب دیا اور عائشہ کے پوچھنے پر کہ آمنہ کہاں ہے‘ ان کے ماتھے پر بل آگئے تھے۔ انہوں نے منہ سے کوئی جواب دیئے بنا ہی برآمدے میں بنے دوسرے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ عائشہ اتنی جلدی جان چھوٹ جانے پر شکر ادا کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی جہاں آمنہ اسے دیکھ کر لپک کر اس کی طرف بڑھی اور لپٹ کر بری طرح رو شروع کردیا‘ عائشہ گھبرا گئی۔
’’ارے ارے آمنہ… کیا ہوا بھئی؟ کیوں رو رہی ہو؟ مجھے بتائو پلیز مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے۔‘‘ اس کی پریشانی بھانپ کر آمنہ سوں سوں کرتی اس سے الگ ہوئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
’’سوری تمہیں آتے ہی پریشان کردیا مگر میں کیا کروں‘ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں؟‘‘ آمنہ کی آواز بھرائی۔
’’اماں اور بھائی نے میرا رشتہ پکا کردیا ہے‘ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اسد کو پسند کرتی ہوں اور تائی بھی کتنی بار ابا کے طے کردہ اس رشتے کی تجدید کے لیے یہاں آچکی ہیں جو تایا مرحوم اپنی زندگی میں پکا کر گئے تھے۔ اماں کا کہنا ہے کہ وہ جیتے جی مجھے جہنم میں نہیں بھیج سکتیں کیونکہ ان کے خیال میں ہر پتلون پہننے والا اور کلین شیو آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اسد بھی انہی لوگوں میں شامل ہے جو مسجد کا رخ صرف عید کے عید کرتا ہے وہ ایسے شخص کے ہاتھ اپنی بیٹی نہیں سونپ سکتیں۔ تائی کو بھی یہ سب وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے اسد کے رشتے سے انکار کردیا ہے‘ تائی کی یقین دہانیوں کے باوجود کہ وہ اسد کو سمجھائیں گی وہ نماز میں پابندی کرے گا۔ مغربی پہناوا چھوڑ دے گا مگر اماں کہتی ہیں ’دکھاوے کا دین بھی کیا دین ہے؟‘ بھائی تبلیغی جماعت کے دورے پر ہیں ان کے آنے پر سادگی سے نکاح کا ارادہ ہے۔ تم میری بہن عائشہ اللہ کے لیے کسی طرح اسد تک یہ بات پہنچادو کہ میرا رشتہ طے ہوگیا ہے۔‘‘ اپنی داستانِ غم سناتے ہوئے اس نے عائشہ کے ہاتھ تھامے اور لجاجت سے کہا۔
’’مم… میں کیسے آمنہ‘ پھوپو کو یا عبدالرحمن کو پتا چل گیا تو مجھے گولی مار دیں گے دونوں پھر میں کیسے…!‘‘ اعتماد سے بھرپور عائشہ بھی آمنہ کی فرمائش سن کر گھبرا گئی۔
’’اسد نے ایک بار نمبر دیا تھا اپنا‘ تمہارے پاس تو اپنا موبائل ہے ناں‘ میں تمہیں وہ نمبر دوں گی۔ تم ایک بار یہ پیغام اسے دے دو بس‘ اللہ کی قسم عائشہ‘ جیسی زندگی میں نے اس گھر میں گزاری ہے ویسی زندگی مزید گزارنے کے تصور سے میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ میں تنگ آچکی ہوں یہ فرمودات سن سن کے‘ شعور آتے ہی کانوں نے صرف جہنم کی آگ کے بھڑکنے اور گناہ گاروں کو اس بھڑکتی آگ کا ایندھن بنائے جانے کا قصے ہی سنے ہیں۔ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمارا بھی دل کرتا ہے کبھی اتنی اونچے اونچے قہقہے لگانے کو کہ ساری اندر کی کثافت دھل جائے‘ سجنے‘ سنورنے اور دوستیں بنانے کو پھر دوستوں سے اپنے تمام دکھ سکھ بیان کرنے کو۔ میں نے اپنے مذہب کو ویسا ہی دیکھا ہے جیسا اماں نے ہمیشہ سے دکھایا۔ تم یقین کرو عائشہ کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے اگر میرا دین مجھے کھل کر سانس لینے کی اجازت بھی نہیں دیتا تو میں…‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ اتنی بغاوت تھی اس کے اندر‘ جبکہ میں اس کی ادھوری بات کا مفہوم سمجھ کر کانپ گئی تھی۔
’’میں پھر توبہ کرتی ہوں اپنے باغیانہ خیالات اور سوچوں پر۔ ان سوالات پر جو میرے اندر ادھم مچ مچا کر سر پٹخ کر مرجاتے ہیں۔ شادی کے بعد ایسی زندگی سے نجات کی امید تھی‘ اب اپنے خیالات جیسا ایک بندہ ساری عمر میرے اوپر مسلط کرنا چاہتی ہیں‘ مجھے بتائو میں کیا کروں؟‘‘
’’تم غلط سوچتی ہو آمنہ‘ جتنی نرمی اور گنجائش ہمارے مذہب اسلام میں ہے کسی اور میں شاید ہی ہو اور اللہ تو ستر مائوں کے جتنا انسان کو چاہنے والا ہے۔ اس کی مہربانی تو حد ہی نہیں ہے‘ ایک قدم بڑھانے پر دس قدم خود چل کر آنے والا مہربان اللہ‘ اس سے تم اتنی بدگمان ہو تو شاید اس میں تمہارا اتنا قصور نہیں ہے۔ تمہاری سوچ کو صرف ایک رخ پر چلایا گیا ہے کہ اس کے ننانوے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ’’جبار‘‘ میں بھی ہے۔ پھوپو کی باتیں اور سوچ تو شاید عمر بھر نہ بدل سکے مگر تم نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے ناں جو تمہیں شعور دیتی ہے‘ خود سے صحیح اور غلط سمجھنے کی عقل بھی۔ قرآن پاک کو بمع ترجمہ و تفسیر پڑھنے والی لڑکی کی سوچ ایسی تو ہرگز نہیں ہونی چاہیے آمنہ… بلکہ میں تو کہتی ہوں جب جب پھوپو تمہیں جہنم کی آگ کا حوالہ دیں تم انہیں جنت کے انعامات کا بتائو جہاں وہ اللہ کی پکڑ کا ذکر کریں وہاں تم انہیں اس کے رحمن اور رحیم ہونے کی دلیل دو۔ مجھ سے زیادہ جانتی ہوگی تم کہ اگر نامحرم تک تمہاری ہنسی کی آواز نہیں پہنچ رہی تو اس حد تک تم ہنس سکتی ہو۔ عورت کے خمیر میں سجنا سنورنا رکھا گیا اس پر کسی جہنم کی دفع لاگو نہیں ہوتی اگر تمہارا بنائو سنگھار کسی منفی نیت مثلاً غیر مرد کو رجھانے یا اس کی تعریف سمیٹنے کی غرض سے نہیں ہے تو…‘‘ عائشہ رسان سے سمجھا رہی تھی مگر آمنہ ویسے ہی ٹھس بیٹھی رہی۔
’’تم یہ باتیں کرسکتی ہو عائشہ‘ کیونکہ تمہیں نہ تو کبھی میرے جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا نہ کبھی زندگی کی معمولی معمولی خوشی کو بھی صرف اسی لیے دل کے اندر مارنا پڑا ہے کہ ان خوشیوں اور میرے بیچ دورخ حائل تھی۔ قرآن تو کہتا ہے ’’علم حاصل کرو‘‘ وہ بھی مرد‘ عورت کی کوئی تخصیص کیے بغیر‘ میٹرک کے بعد جب یہی قرآن پاک کا فرمان اماں کو پڑھ کے سنایا تو پتا ہے انہوں نے کیا کہا ’ہاں یہ ٹھیک ہے مگر قرآن تو وہ علم سیکھنے کے لیے کہتا ہے جو حدیث کا ہو‘ اللہ کے احکامات اور دینی مسائل پر ہو‘ تو اس کے لیے مدرسے اپنے بھائی کے پاس جاکر پڑھو‘ کالج‘ یونیورسٹیوں میں جاکر بے حیائی سیکھنے کے لیے میں تمہیں نہیں بھیج سکتی۔‘‘ وہ اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے بولی‘ جبکہ عائشہ پھوپو کے اعلیٰ فرمودات پر لاحول پڑھ کر رہ گئی۔ اپنی پھوپو کے خیالات سے واقف تھی وہ پھر بھی ہر بار نئے سرے سے افسوس ہوتا تھا‘ اس نے آمنہ سے اسد کا نمبر لیا اور ابھی اٹھنے کے لیے پرتول رہی تھی کہ اس کی خالہ زاد بہن اسے بلانے چلی آئی۔ خالہ شاید بہت دیر سے ان کے گھر آئی ہوئی تھیں‘ عرشی اس کی خالہ زاد اور بہت اچھی دوست بھی تھی تو بس تھوڑی دیر ہی انتظار کرسکی‘ پھر عائشہ کی امی سے پوچھ کر اسے بلانے آگئی پر عائشہ‘ آمنہ کے بہت روکنے پر بھی نہیں رکی اور عرشی کے ساتھ گھر واپس آگئی۔
’’حلیہ اور طور طریقے سے لے کر لباس کو ہی دیکھ لو لگ رہی ہیں کسی مسلمان گھرانے کی بچیاں ہیں یہ۔ مردوں کو ہر انداز سے دعوت نظارہ دینے والی‘ ہونہہ۔ یہی کچھ سیکھ رہی ہیں یہ کالج یونیورسٹی جاکے اور تمہیں آج تک ماں سے گلہ ہے کہ کالج نہیں جانے دیا۔ میں کوئی پاگل ہوں جو عمر بھر کی ریاضت کو اب بڑھاپے میں آکر خاک میں ملادوں اور مجھے تو اس عائشہ کے ساتھ بھی تمہارا ملنا جلنا کچھ خاص پسند نہیں‘ اسی کی صحبت سے گناہ کے چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگنے لگتے ہیں تمہارے ذہن میں ورنہ پہلے نہ تو تم اتنی زبان درازی کرتی تھی نہ ہی حیل وحجت۔ اپنی زبان میں ہی اسے منع کردو کہ مت آیا کرے یہاں۔‘‘ پھوپو آمنہ کو ڈانٹ رہی تھیں۔
درمیانی باڑھ اتنی دور ہرگز نہیں تھی کہ پھوپو کے تحقیرانہ جملے ان دونوں کی سماعتیں نہ سن پاتیں‘ عائشہ تو جیسے اندر تک جھلس کے رہ گئی تھی۔ امی بتاتی تھیں کہ دادی مرحومہ بھی ایسی ہی تھیں‘ بے حد انتہا و شدت پسند اور اپنے خاندان کے سوا کسی کو مسلمان ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتی تھیں۔ کتنا عرصہ تو دادی نے ابا سے بات کرنا ہی چھوڑ دی کہ انہوں نے کسی پڑھی لکھی لڑکی سے شادی ہی کیوں کی جو کہ بے حیائی کا چلتا پھر نمونہ ہوتی ہیں مگر امی ابا کے دوست کی بہن تھیں اور انہیں ایک نظر میں ہی بے حد بھا گئی تھیں یوں دادی کی بے پناہ مخالفت کے باوجود بھی ابا امی کو بیاہ لائے تھے۔ ابا پہلے تعلیم اور پھر کام کے سلسلے میں گھر سے باہر ہی رہے تھے سو دادی کے شدت پسند نظریات کا ان پر اثر کم ہی رہا تھا مگر پھوپو پوری طرح سے ان کے رنگ میں رنگ گئی تھیں۔
گھر میں امی کے ہر بات اور کام پر ان کو اعتراض ہوتا حتیٰ کہ امی نماز بھی ادا کرتیں تو دادی کہتیں ’’نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘‘ ان کے خیال میں دنیا میں وہی ایک اپنے مذہب کی صحیح پیروکار تھیں۔ امی نے کبھی حجاب یا عبایا نہیں لیا تھا مگر باہر جاتے ہوئے دوپٹہ ضرور لیتی تھیں۔ اسی بات پر تو دادی اور پھوپو نے ان پر زندگی کا دائرہ بہت عرصہ تنگ کیے رکھا پھر امی کے گورنمنٹ ٹیچر بھرتی ہونے پر گھر میں طوفان ہی آگیا تھا مگر چونکہ ابا کا مضبوط ووٹ ان کے ساتھ تھا سو دادی اور پھوپو صرف زبانی کلامی گولہ باری تک ہی محدود رہیں پھر دادی نے خوب چھان پھٹک کر اپنے لیے دین دار گھرانہ پھوپو کے لیے پسند کیا تھا مگر پھوپو پر دادی کے خیالات و افکار کی اتنی گہری چھاپ تھی کہ اس سے ان کے خاندان والی محفوظ نہ رہ سکے۔ وہ کسی ایک فرد کو بھی نماز قضا کرتا دیکھ لیتیں اس کی خیر نہیں ہوتی تھی گھر میں۔ انہوں نے اپنا چولہا ہی الگ کرلیا جب سے پتا چلا تھا کہ ان کی دیورانی نماز کی پابند نہیں تھیں اور ان کو ریڈیو پر گانے سننے کا شوق بھی تھا یوں پھوپو کے نزدیک وہ کافر ٹھہری تھیں اسی طرح کا رویہ شوہر کے ساتھ بھی روا رکھا۔ وہ محبت‘ پیار سے اور طریقے سے اپنے نظریات ان کے سامنے بیان کرتیں اور اپنے عمل سے ہی انہیں اپنے طریقے پر چلانے کی کوشش کرتیں تو شاید اپنے اردگرد لوگوں کو قائل بھی کرسکتیں مگر انہوں نے اپنے نظریات پوری زندگی دوسروں پر ٹھونسنے کی ہی کوشش کی تھی۔ یہی بات ان کے بہت سے اپنوں کو جہاں ان سے دور کر گئی تھی وہاں وہ خود بہت زیادہ شدت پسند ہوتی گئی تھیں۔ نہیں جانتی تھیں کہ مسلسل کوشش کا عمل بھی وہیں کامیاب ہوتا ہے جہاں نرمی اور محبت کے عناصر کو پیش نظر رکھا جائے سنگلاخ سے سنگلاخ اور ویران زمین کو بھی کسان کی محنت‘ محبت اور نرمی زرخیزی کی طرف مائل کرتی ہے پھر بیابان اور چٹیل زمین کو گلستان بنانے سے نہیں روکا جاسکتا یہ تو جاندار تھے‘ انسان تھے جنہیں انہوں نے کٹھ پتلیوں کی طرح اپنی انگلیوں پر نچانا چاہا تھا اور خود ہی اکیلی رہ گئی تھیں۔ دو بچے ہوجانے کے بعد بھی ان کا یہی وطیرہ تھا اور جب ان کے خاوند ان کے سخت طرز عمل کے باعث ان کو چھوڑ دینے کا سنجیدگی سے سوچ رہے تھے تو وہ ایک حادثے میں ابدی نیند سوگے تھے۔
پھوپو شادی کے محض چھ سال بعد ہی بیوہ ہوکر واپس بھائی کے در پر آگئی تھیں‘ بچوں پر بھی سختی کا وہی عالم تھا کہ نماز نہ پڑھنے پر وہ ان کو ڈنڈوں سے مار کر ان کے ہاتھ سرخ کردیتیں یوں ان کا بیٹا عبدالرحمن تو ان کی سوچ کے مطابق ڈھل چکا تھا مگر آمنہ کے اندر بغاوت نے جنم لے لیا تھا اور وہ اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کبھی بھی محبت اور فرض کے طور پر ادا نہیں کرپائی تھی صرف ماں کی مار کا خوف اسے یہ سب کرنے پر مجبور کرتا تھا۔
دادی گزر گئی تھیں اور اب تین سال پہلے ابا کی وفات نے عائشہ اور امی کو بھی اکیلا کردیا تھا مگر عائشہ کی امی ایک بلند حوصلہ خاتون تھیں‘ اب ایک ہائی اسکول میں ہیڈ مسٹریس کے عہدے پر فائز تھیں انہوں نے اپنی بیٹی کی تربیت متوازن اصولوں کے تحت کرتے ہوئے اسے حتیٰ الامکان اپنی پھوپو کے سائے سے تو دور رکھا تھا مگر عبدالرحمن سے محبت کرنے سے نہ روک پائی تھیں۔
ء…/…ء
’’زہے نصیب… اپنی خوش نصیبی پر یقین ہی نہیں آرہا کہ آنسہ عائشہ نے خود سے کال کرنے کی زحمت کی ہے مجھ ناچیز کو۔‘‘ دوسری طرف سے آتی خوشگوار آواز اس کے اندر سکون کی لہر دوڑا گئی۔ خالہ اور عرشی بہت دیر سے گھر واپس گئی تھیں ان کے جانے کے فوراً بعد ہی اس نے عبدالرحمن کو کال کی تھی۔ شکر ہے آج اس کا نمبر اسے آن ملا تھا ورنہ تین دن سے مسلسل کوشش کررہی تھی وہ اسے کال کرنے کی مگر زیادہ تر نمبر آف ہی ملتا تھا۔
’’ہونہہ… بس کرو یہ لفاظی عبدالرحمن‘ پتا بھی ہے کہ انگلیاں گھس گئیں میری نمبر ملا ملا کے اور محترم خود ہی سیل بند کیے بیٹھے ہیں اور شکوہ بھی مجھ سے ہے۔‘‘ اس کے خفا لہجے پر عبدالرحمن مسکرادیا۔
’’ارے بھئی ہماری محبت کوئی ان مادی چیزوں کی محتاج تھوڑی ہے‘ کام کے سلسلے میں نمبر مسلسل بند رکھنا پڑتا ہے مگر تم جانتی ہو کہ روح اور دل کے سارے سگنلز ہمہ وقت آن رہتے ہیں جن کا رخ بھی آپ کی جانب ہی رہتا ہے۔‘‘
’’تبلیغی دورے پر ہی ہو یا کوئی رومینس کی کلاسز جوائن کرلی ہیں خفیہ طور پر۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ زور سے ہنس دیا۔ پندرہ دنوں کی تھکاوٹ جیسے ایک پل میں اڑنچھو ہوگئی تھی۔
’’محبت تو دل کی سر زمین پر بس اچانک ہی پھوٹ پڑتی ہے بغیر کسی ہوا‘ پانی اور زرخیز مٹی کے اس کے پودے کا تو بیج بھی اللہ کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے عائشہ… اس کے لیے کسی قسم کی تربیت یا ایکسٹرا کلاسز کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘ وہ پورے جذب سے بولا۔
’’اچھا تو مولوی رومینس‘ یہ بتائیں کہ آمنہ کا چوری چوری رشتہ پکا کردیا اور مجھے بتایا بھی نہیں ویسے مسئلہ مجھے بتانے کا نہیں ہے۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ آمنہ سے بھی پوچھا ہے یا اپنی ہی مرضی سے کیا ہے ایسا‘ مجھ سے زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہو ناں عبدالرحمن کہ شادی جیسے اہم معاملے میں لڑکی کی مرضی جاننا بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنا لڑکے کی۔‘‘ وہ کسی قدر خفگی سے بولی۔
’’تم سے آمنہ نے کچھ کہا‘ کیا اعتراض ہے اسے؟‘‘ وہ فوراً ہی سنجیدہ ہوکر بولا۔ عائشہ اس کے اس قدر درست اندازے پر ایک دم چپ ہوگئی۔
’’اگر تمہاری تائی اتنی چاہ سے رشتہ مانگ رہی ہیں اور آمنہ کا رجحان بھی ہے وہاں تو میرے خیال میں تمہارے لیے آمنہ کی خوشی زیادہ مقدم ہونی چاہیے اس کی پوری زندگی کا معاملہ ہے یہ عبدالرحمن پلیز… پھوپو تو پرانے خیالات کی مالک ہیں مگر تم تو پڑھے لکھے آج کے نوجوان ہو۔‘‘
’’پوری بات سنے اور سمجھے بغیر نتیجہ کبھی بھی اخذ نہیں کیا کرو عائشہ۔‘‘ عبدالرحمن نے اسے ٹوک دیا۔
’’میری ماں ضرور پرانے خیالات کی ہیں‘ ہمارا دین بھی تو چودہ سو سال پرانا ہے تو تمہارے خیالات میں اسے بھی ترک کردینا چاہیے؟ اسد میں سوائے شکل و صورت کے کوئی اچھائی نہیں ہے۔ جب سے تائی کے ہمارے یہاں چکر لگنے شروع ہوئے ہیں میں نے تب ہی اس کی چھان بین کرائی تھی‘ کون سی اخلاقی برائی ہے جو اسد میں نہیں… سگریٹ وہ پیتا ہے‘ جوا کے کاروبار میں آدھے سے زیادہ کا نہ صرف حصہ دار ہے بلکہ یہ غلط شوق اس کی رگ رگ میں شامل ہے۔ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا‘ سود پر قرض بڑے فخر سے دیتا ہے‘ بتائو ایسے میں میرے پرانے خیالات کی ماں اگر یہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی کا ہمسفر پانچ وقت کا نمازی ہو‘ دولت مند بھلے نہ ہو مگر دو وقت کی روٹی حلال کی کمائی سے اسے کھلائے تو کیا غلط کہتی ہیں۔ ہاں میں جانتا ہوں کہ زندگی کی سختیوں نے میری ماں کی زبان پر سختی کے کانٹے ضرور اگا دیئے ہیں مگر ان کا لفظۂ نظر غلط نہیں ہے۔ ایسے میں میں نے اگر اسد کے رشتہ سے انکار کیا تو کیا غلط ہے؟‘‘ اس نے رسان سے پوچھا‘ عائشہ دم سادھے سن رہی تھی اور دل میں اللہ کا لاکھ شکر ادا کررہی تھی کہ اس نے فی الحال آمنہ کے دیے نمبر پر اسد سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
’’تم سب کچھ ٹھیک کہہ رہے ہو‘ اپنی بہن کے اچھے مستقبل کے بارے میں سوچنا تمہارا حق ہے مگر تم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے عبدالرحمن کہ پھوپو کا رویہ زندگی کے ہر معاملے میں ہی نہایت شدت پسند ہے۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی اولاد ان سے باغی ہوگئی ہے‘ مجھے بتائو آمنہ کہ مزید آگے تعلیم حاصل نہ کرنے کے پیچھے تم کیا دلیل دو گے۔ اچھی بھلی ذہین لڑکی کو ایسے ہی گھر بٹھا کر اس کی سوچوں کو زنگ آلود کردیا ہے‘ ایسے میں تم بھی پھوپو کے ساتھ برابر کے قصور وار ہو عبدالرحمن۔‘‘ وہ دکھ سے بولی۔
’’یہی خرابی ہے تم میں عائشہ کہ تم تصویر کا ایک رخ دیکھتی ہو ہمیشہ‘ تمہاری ہی ایج فیلو اور کلاس فیلو رہی ہے آمنہ‘ مجھے بتائو کہ تمہاری میٹرک میں اے گریڈ کے ساتھ بورڈ کی پوزیشن بھی تھی جبکہ آمنہ کی میٹرک میں دو سپیلیاں آئی تھیں اور اماں اگر اس کی تعلیم کے خلاف ہوگئیں تو اس کے پیچھے بھی کچھ اسباب تھے جو میں اس وقت تمہیں نہیں بتاسکتا۔ آمنہ کا کالج جانے کا مطلب اور مقصد بھی سستی تفریح ہے جس کے کچھ مظاہرے ہم دوران میٹرک دیکھ چکے تھے۔ ہر انسان دنیا میں ایک جیسی فطرت اور کردار لے کر نہیں آتا جو خیالات علم کی ترسیل کے حوالے سے تمہارے ہیں‘ آمنہ نے کبھی اس کا ایک فیصد بھی کبھی نہیں سوچا۔ میں اپنی بہن کی ذات کی کجیاں اور کردار کی کمزوریاں اگر تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں تو صرف اس لیے کہ آئندہ کبھی اس کے خیالات کی اندھی وکالت مت کرنا بلکہ جب جب وہ تم سے کچھ کہے اسے اسی وقت ٹوک دینا۔ ہاں یہ میرا تم سے وعدہ ہے کہ اس کا رشتہ یہاں نہیں تو جہاں بھی کروں گا اس کی مرضی کے مطابق کروں گا مگر یہ بات تم بھی ہمیشہ یاد رکھنا کہ بچے تو کبھی کبھار انگاروں سے کھیلنے کی ضد بھی کرتے ہیں اور ماں باپ ان کے رونے سے پسیج کر ان کو انگارے نہیں تھما دیتے۔‘‘ بہت کچھ نہ بتاتے ہوئے بھی اس نے عائشہ کو کافی کچھ بتادیا تھا۔ ایک بار واقعی پھوپو نے آمنہ کو بہت مارا تھا‘ عائشہ کے عبدالرحمن سے پوچھنے پر اس نے گول مول سا جواب دیا تھا کہ آمنہ کے اسکول بیگ میں سے پھوپو کو کوئی قابل اعترض رسائل اور خطوط وغیرہ ملے تھے وہ بھی کسی لڑکے کی طرف سے۔ پھوپو نے نہ صرف آمنہ کو خوب مارا تھا بلکہ فیصلہ بھی کرلیا تھا کہ آئندہ تعلیم کے نام پر اسے مزید گل کھلانے کو نہیں بھیجیں گی جبکہ آمنہ کتنا عرصہ اس بات سے انکاری رہی تھی کہ وہ رسائل اس کے نہیں تھے وہ کہتی رہی تھی کہ اس کی دوست ایسی تھی تو اس کی صحبت نے اس پر کتنا برا اثر ڈالا ہوگا بعد میں میٹرک کا رزلٹ یہ ساری قلعی کھول گی تھی کہ واقعی اس قصے میں آمنہ خود ہی قصووار ہوگی تب ہی تو تعلیمی حالت بھی ایسی ہی تھی اس کی۔ عائشہ کے سوچ سوچ کر سر میں درد ہوگیا کہ اتنے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی آمنہ کیسے بہک گئی اور اس کے ذہن میں یہی آیا تھا کہ پھوپو کے اتنے شدت پسند رویے کے باعث ہی آمنہ باغی ہوکر غلط راستے پر چل پڑی تھی۔ کل ہی وہ جاکر آمنہ کو سمجھانے کا ارادہ رکھتی تھی کہ اسد واقعی میں اچھا لڑکا نہیں ہے اور اس نے اس کا پیغام بھی اسد تک نہیں پہنچایا مزید یہ کہ وہ وہیں شادی کے لیے ہامی بھرلے جہاں عبدالرحمن کہے کیونکہ ہر کوئی زندگی کے معاملات میں پھوپو جیسی سوچ نہیں رکھتا۔ دوسرے ماں باپ اور بڑوں کی رضا مندی سے طے کردہ رشتوں میں ہی اللہ کی رضا ہوتی ہے اور زندگی میں سکون بھی شامل حال رہتا ہے یہ فیصلہ کرکے وہ رات کو دیر سے مگر مطمئن ہوکر سوئی تھی۔
ء…/…ء
’’زہے نصیب… آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہمارے گھر کو رونق بخشی ہے۔ چٹکی کاٹو عرشی‘ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔‘‘ اسے دیکھ کر اشعر کے دل کی کلی کھل گئی تھی عرشی اپنی جگہ سے اٹھی اور جاکر اشعر کے بازو پر اتنی زور سے چٹکی کاٹی کہ وہ بلبلا کر رہ گیا۔
’’ظالم لڑکی اور کوئی کام تو پہلی بار کہنے پر کبھی نہیں کرتی۔‘‘ اس کے جھلا کر کہنے پر وہ سب ہنس دیئے۔
’’ہاں تو انسان کو دوسرے کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ عرشی اطمینان سے کہتی واپس عائشہ کے پاس جابیٹھی۔
’’اور تم محترمہ‘ خود سے توفیق ہوئی نہیں کہ بہن کی ڈیٹ فکس ہوگئی ہے تو خود ہی چلی جائوں آخر کو سو کام ہوتے ہیں شادی والے گھر میں۔ امی کو ہی آنا پڑا بے مروت لڑکی کو لینے۔‘‘ عرشی جس کی شادی کے لیے خالہ آج ہی عائشہ اور امی کو لے کر آئی تھیں‘ اشعر کو چھوڑ‘ عائشہ کے لتے لینے لگی۔
’’اچھا اب جان چھوڑ دو عائشہ کی اور جاکر کچن میں دیکھو‘ ملازمہ چائے لے کر نہیں آئی ابھی تک۔‘‘ خالہ نے عائشہ کی جان بخشی کروائی کہ عائشہ سے انہیں بہت پیار تھا اور اپنے بیٹے کے دل کی خواہش بھی جانتی تھیں‘ بس عائشہ کے تعلیم مکمل کرتے ہی بہن سے رشتے کی بات کرنے کا پورا ارادہ تھا ان کا‘ عرشی جھنجھلاتے ہوئے اٹھی۔
’’ہونہہ آج تک سنتے ہی آئے ہیں کہ دلہنوں سے کام کرانا شادی سے چھ ماہ پہلے بند کرادیا جاتا ہے۔ یہاں یہ عالم ہے کہ مایوں میں صرف دو دن رہ گئے اور میری امی جیسے ہی میری شکل دیکھیں ہر بھولا بسرا کام انہیں اسی وقت یاد آجاتا ہے۔‘‘ خفگی سے عرشی نے ماں کو مخاطب کیا۔
’’ہڈ حرام لڑکی‘ کون سا امی نے کوئی لمبا چوڑا کام کہہ دیا صرف کچن میں جاکر ایک ہانک ہی لگانی ہے رضیہ کو‘ ویسے کیا ماموں کے گھر والوں کا شادی کے بعد اس سے ہل چلوانے کا ارادہ ہے جو یہ چھ ماہ پہلے سے آرام کرنا چاہ رہی تھی محترمہ۔‘‘ وہ اپنی ماں سے مخاطب ہوتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا‘ پھر خود کو خفگی سے گھورتی بہن کو بازو سے پکڑ کر دوبارہ عائشہ کے پاس بٹھادیا۔
’’لو بیٹھو‘ تم اپنی بچھڑی سہیلی جو قسمت سے ہی تمہارے ہاتھ لگتی ہے‘ گپ شپ کرو‘ میں چائے کا کہہ آتا ہوں۔‘‘
’’یہ دیکھو ذرا اس لڑکی کے کام‘ ایسے ہی کرتی ہے ہمیشہ۔ ہزار بار سمجھایا ہے کہ ایسے لاڈ ناز نخرے ماں باپ اور بہن بھائی ہی اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرا گھر صرف سسرال ہوتا ہے بس مگر مجال ہے جو میری سن لے یہ کبھی۔‘‘ خالہ نے خفگی سے کہا مگر عرشی کے کان پر جوں نہیں رینگی وہ عائشہ کے کان میں گھسی نجانے کیا کھسر پھسر کررہی تھی یہ جانے بغیر کہ وہ موجود ہوتے ہوئے بھی وہاں پر ذہنی طور پر غیر حاضر تھی یہ خیال اسے ابھی ابھی آیا تھا کہ اسے آج آمنہ کے پاس جانا تھا مگر خالہ ناشتے کے بعد ہی آگئی تھیں امی اور اسے لینے سو وہ دونوں ماں بیٹی ایک ہفتے کی پیکنگ کرکے یہاں آگئی تھیں۔
’’چشم بدور… آج کیا سورج مغرب سے نکلا ہے یا میں خواب دیکھ رہا ہوں ویسے یار یہ میں چشم بدور صحیح لفظ ہی یوز کررہا ہوں۔ دراصل انگلش کے استعمال پر تم چڑتی ہو اور اردو میری ویک ہے ایک دوبار غلط الفاظ کے استعمال پر مار کھانے سے بال بال بچا ہوں۔‘‘ وہ اشعر تھا جو عائشہ کو تیار ہوتے دیکھ کر نجانے کیا کیا بول رہا تھا۔
’’اب غلط الفاظ سے مراد گالیاں مت سمجھ لینا مگر یوں سمجھ لو کہ جہاں لفظ عیادت بولنا تھا وہاں تعزیت بول دیا اور جہاں خراج تحسین بولنا تھا وہاں خراج عقیدت بول دیا۔ سمجھو خون خرابہ ہوتے ہوتے رہ گیا‘ اب تمہارے حسن کے لیے یہ لفظ ذہن میں آیا تو بول تو دیا مگر اب تمہارے تاثرات دیکھ کر دل کو ڈھارس ہوئی کہ صحیح بولا ہے ورنہ یقینا اس وقت جو سینڈل تمہارے بیوٹی فل پائوں میں سج رہی ہے وہ تمہارے ہاتھ…‘‘
’’اُف اللہ اشعر‘ مجھے پارلر لے کر جانا ہے اور تم یہاں پتا نہیں کون سے قصے چھیڑے کھڑے ہو؟‘‘ عرشی بولتی ہوئی اندر آئی اور خشمگین نظروں سے اشعر کو گھورا۔
’’چلو چلو… میں تو بس عاشی سے ایک بہت ضروری بات کررہا تھا‘ ٹھیک ہے اے حسین خاتون ہماری جو بات ادھوری رہ گئی ہے وہ عنقریب میں پوری کرنے کے لیے آپ کو ضرور خدمت دوں گا۔‘‘
’’خدمت نہیں زحمت ڈفر‘ ورنہ یہ حسین خاتون اردو ادب کی اتنی توہین کرنے پر کچھ کر ہی نہ ڈالے۔‘‘ عرشی نے اسے بازو سے پکڑ کر دھکیلا‘ عائشہ بے ساختہ ہنسی‘ سائنس کی طالبہ ہونے کے باوجود اردو زبان اور اردو پوئٹری سے اس کا لگائو اور شغف دیدنی تھا۔ غلطی سے بھی کسی کے منہ سے انگلش کا کوئی لفظ نکل جاتا پھر اسے عائشہ سے پورا لیکچر سننے کو ملتا تھا‘ یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر جب سے اشعر کے دل کی حالت بدلی تھی اور عائشہ کے لیے دل میں الگ سے جذبات بیدار ہوئے تھے وہ اپنی اردو بہتر کرنے کے چکر میں خود چکرا کر رہ گیا تھا‘ ساری زندگی کانونٹ اور انگلش اسکولز اور کالجز میں پڑھا ہوا اشعر اردو میں کچھ خاص اچھا نہ تھا بلکہ اس کی تو رسمی بول چال بھی وہی آدھا تیتر‘ آدھا بٹیر والی تھی۔ ایسے میں اسے بہت مذاق کا نشانہ بننا پڑ رہا تھا اور ایک دوبار تو صورت حال خاصی سنگین بھی ہوگئی تھی۔ عائشہ اشعر کی بوکھلاہٹیں یاد کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کمرے میں اِدھر اُدھر بکھری چیزیں سمیٹ رہی تھی جب موبائل کی بیل بجی تھی متوجہ ہونے پر اسکرین پر ’’مولوی‘‘ بلنک کرتا نظر آیا۔ یہ نام پہلے پہل عائشہ نے عبدالرحمن کو بتادیا تھا جب اس نے اپنے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی تھی‘ جہاں میٹرک تک تعلیم تو تھی ہی بچوں کو قرآن‘ حدیث کے ساتھ ساتھ دوسرے دینی علوم کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ چھیڑنے کے لیے بلایا جانے والا وہ نام اتنا عائشہ کی زبان پر چڑھا کہ اب وہ کم ہی عبدالرحمن کو اس کے نام سے پکارتی تھی۔
’’کہاں تھیں عائشہ‘ بہت دیر سے ٹرائی کررہا تھا؟‘‘ سلام کے بعد اس نے بے تابی سے پوچھا۔
’’خالہ کے گھر آئی ہوئی ہوں‘ عرشی کی تاریخ مقرر ہوگئی ہے ناں تو ہال کی سجاوٹ دیکھنے کے لیے کہا تھا خالہ نے۔ موبائل یہیں رہ گیا تھا کمرے میں‘ تم سنائو کیسے ہو‘ کب واپس آنا ہے؟‘‘ وہ اطمینان سے بیڈ پر بیٹھی۔
’’آجائوں گا جلد ہی اور آتے ہی سب سے پہلے آمنہ کے فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد میرا ارادہ تمہارے جملہ حقوق اپنے نام کروانے کا ہے اور اس کے بعد تم نے صرف اور صرف میرا ہوکر رہنا ہے بلکہ دین کی ترویج کے اس سفر میں میرا ساتھ بھی دینا ہے۔‘‘
’’اچھا مسٹر رومینس‘ آپ سے کس نے کہا کہ میں اپنے جملہ حقوق آپ کے نام کروائوں گی۔‘‘
’’میرے دل نے۔‘‘ اس کے جواب پر عائشہ کھلکھلائی۔
’’ایسے ہی نہیں میں تمہیں مولوی رومینس کہتی عبدالرحمن۔‘‘
’’ہمارا کام بہت مشکل ہے عائشہ… میں سوچتا ہوں کہ ہم پر تو زیادہ ذمہ داری ہے‘ بحیثیت مسلمان ہمیں کائنات کا خوب صورت اور مکمل ترین مذہب دیا گیا ہے اور ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اس نعمت پر سجدہ شکر بجا لاتے نہ تھکتے مگر ہوتا کیا ہے عائشہ…‘‘ اس نے تھوڑا توقف کیا۔
’’دہری ذمہ داری نبھانا تو ایک طرف ہمیں تو احساس ہی نہیں ہے کہ ہم مسلمان ہیں‘ فرائض ادائیگی سے لے کر زندگی کو چھوٹے بڑے سب معاملات میں اسلامی تعلیمات سے نابلد نجانے کس راہ پر چل پڑے ہیں کہ جس کی کوئی منزل ہے نہ راستہ جس علاقے میں میں آج کل ہوں عائشہ‘ مسلمان تو سب ہیں یہاں مگر باعمل مسلمان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ بس کیا بتائوں اب تمہیں فون پر‘ واپس آکر ہی تفصیلی بات ہوگی بہت فرسٹریشن میں ہوں تب ہی تمہیں کال کرکے اپنا دل کا بوجھ ہلکا کرلیتا ہوں۔‘‘ عبدالرحمن نے سنجیدگی سے کہا اور ایک دو باتیں کرنے کے بعد کال کاٹ دی تھی۔
ء…/…ء
وہ عرشی کی مہندی کا جوائنٹ فنکشن تھا جس کا انتظام گھر کے ہی لان میں تھا‘ وہ عرشی کے ساتھ بیٹھی مسکراتے ہوئے لڑکے لڑکیوں کو بھنگڑا ڈالتے دیکھ رہی تھی جب اشعر نے آکر اسے بھی گھسیٹ لیا وہ نہ نہ کرتی رہ گئی مگر اپنے کزنز کے آگے اس کی ایک نہ چلی تھی۔
’’اگر جو پھوپو اس وقت مجھے لڈی ڈالتے دیکھ لیں وہ بھی لڑکوں کے ساتھ تو…‘‘ یہ خیال اسے بے ساختہ جھرجھری لینے پر مجبور کر گیا ویسے بھی وہ تھوڑی دیر میں ہی تھک گئی تھی سو دوبارہ سے عرشی کے پاس آبیٹھی جو خود ہی اپنی سیلفیاں لے کر اپنے ہونے والے شوہر کو بھیج رہی تھی۔
’’کیا ہے یار عاشی‘ کتنی بورنگ ہوگئی ہو تم‘ دس منٹ بھی نہیں رہیں ہمارے ساتھ۔ میں نے جان کر اپنا پئیر تمہارے ساتھ بنوایا تھا پرفارمنس میں اور تم ہوکے مجھے چھڑا چھانٹ چھوڑ کے چلی آئیں۔‘‘ اشعر بھی دھپ سے اس کے پاس آکر بیٹھ گیا جبکہ اس کے چھڑا چھانٹ کہنے پر وہ اور عرشی بے ساختہ ہنس دی تھیں وہ غالباً تنہا کہنا چاہ رہا تھا۔
’’یار یہاں آئو‘ ذرا پانچ چھ شاندار قسم کے فوٹوز بنادو ہم دونوں کے۔ میری یہ کزن بڑی مشکل سے ہی ہمارے ہاتھ آتی ہے پھر ایک آدھا نشانی کے طور پر دلہن کے ساتھ بھی فوٹو لے لینا۔‘‘ مزے سے کہتے ہوئے اس نے فوٹو گرافر کو اشارے سے پاس بلایا۔ عائشہ اٹھنے کے لیے پر تولنے لگی‘ وہ جانتی تھی کہ خالہ اور ماموں کی فیملی ان لوگوں سے کہیں زیادہ ایڈوانس تھے مگر امی نے خود بھی ایک حد میں رہ کر زندگی گزاری تھی اور عائشہ کے لیے بھی کچھ اصول مقرر تھے فی الوقت عائشہ کے پیش نظر عبدالرحمن کی وہ ہدایات تھیں جو اسے خالہ کے گھر قیام کے دوران وہ دو تین بار کرچکا تھا۔
’’اپنے رشتہ داروں سے تعلق رکھنے سے میں تمہیں کبھی منع نہیں کروں گا عائشہ‘ مگر یہ بھی یاد رہے کہ مجھے تمہارے خاندان والوں کا بے حجابانہ انداز ہرگز پسند نہیں ہے خصوصاً تقریبات میں تو وہ لوگ بالکل ہی شتر بے مہار ہوجاتے ہیں عورت مرد کی تخصیص کے بغیر بہت بے تکلفانہ سا انداز ہے آپس میں سب کا۔ محرم‘ نامحرم جیسے الفاظ کس لیے وضع کیے گئے ہیں‘ ان کو کوئی سروکار نہیں اس سے مگر مجھے یقین ہے کہ تم میرے کہے گئے الفاظ کا پاس رکھو گی۔‘‘ وہ کہتے کہتے رکا تھا۔ ’’میں نے تمہیں کبھی عبایا یا حجاب لینے پر مجبور نہیں کیا کہ ابھی میں ایسا کوئی حق فی الحال نہیں رکھتا مگر درخواست تو کر ہی سکتا ہوں کہ تم نے ایسی کسی بے تکلفی سے کام ہرگز نہیں لینا اور دوپٹہ ایک عورت کے لیے کیسے ڈھال کا کام کرتا ہے یہ بات اگر ہم جان لیں تو میرے خیال میں آدھی سے زیادہ معاشرے کی برائیاں جنم لینے سے پہلے ہی دم توڑ جائیں۔ یہ مت سمجھنا کہ میں اپنے نظریات تم پر ٹھونس رہا ہوں‘ اسے میری طرف سے ایک مخلصانہ مشورہ سمجھنا جو ایک خیر خواہ ہی اپنوں کو دیتا ہے۔‘‘ عبدالرحمن کی تازہ ترین گفتگو ذہن میں گونجتے ہی عائشہ نے اپنا ہاتھ اشعر کے ہاتھ سے چھڑوایا اور تیزی سے اٹھ کر ہجوم میں گم ہوگئی تھی۔
ء…/…ء
اگلے دن بارات کا فنکشن تھا‘ اس نے بیگ سے آج کی تقریب کے لیے سوٹ نکالا تاکہ اس کے ساتھ کی جیولری اور جوتے وغیرہ میچ کرکے رکھ دے‘ بعد کی ہڑ بونگ سے بچنے کے لیے مگر لباس دیکھ کر کچھ خیال آیا تو اس نے وہ اٹھا کر واپس بیگ میں رکھ دیا۔ بلیک کلر کے سلور نگوں والے پائوں کو چھوتے لباس کو اس نے دل سے پسند کیا تھا‘ اب غور کرنے پر اس کی بازو اسے پیور نیٹ کے نظر آئے تھے اور دوپٹہ تو تھا ہی نیٹ کا۔
’’عورت کا لباس اور انداز ایسا پُروقار ہونا چاہیے کہ اس کی طرف اٹھنے والی آنکھ کا پہلا تاثر چاہے جو بھی ہو‘ آخری تاثر صرف احترام کا ہونا چاہیے۔‘‘ کافی عرصے پہلے کہی گئی عبدالرحمن کی بات اسے ایک دم ہی یاد آئی تھی پھر اس نے دوسرا لباس نکالا تھا وہ بھی فراک ہی تھی مگر اس کے ساتھ کا دوپٹہ نسبتاً بڑا تھا۔
’’کہاں ہو عاشی‘ رات کے بعد سے پھر تمہیں ہی نہیں‘ کہاں گم ہو رات سے؟‘‘ اشعر نے کمرے کا دروازہ کھول کر جھانکا‘ جیولری باکس میں سے جیولری نکال کر منتخب کرتی عائشہ نے بے ساختہ ایک طویل سانس کی۔
’’ایک تو غلط اردو فقرات بولنے سے بہتر ہے کہ تم ٹھیک انگریزی ہی بول لیا کرو‘ مہربانی کرکے تاکہ اردو کے بانیوں کی روحوں کو تمہاری مہربانی سے ملنے والی تکلیف ختم ہوجائے دوسرا لڑکیوں کے کمرے میں منہ اٹھا کر نہیں آجاتے‘ دستک دی جاتی ہے۔‘‘ اس نے ٹھک سے جیولری باکس بند کرتے اشعر سے کہا۔
’’لیکن کیوں ڈئیر کزن‘ تم جانتی ہو تم کوئی ان نون پرسن تو ہو نہیں‘ میری کزن کے ساتھ ساتھ فرینڈ بھی ہو اور فیوچر میں تو ایک بیوٹی فل ریلیشن بننے والا ہے ہمارے درمیان۔‘‘ اس کی بات کو غیر سنجیدگی سے لیتا ہوا اشعر باقاعدہ پھیل کر بیٹھ گیا۔
’’ویسے تو ممی آنٹی سے بہت پہلے ہی بات کرچکی ہیں مگر میں آج پھر پوچھ رہا ہوں۔‘‘
’’وِل یو میری می۔‘‘ اشعر نے سینے پر ہاتھ باندھ کر مودبانہ عرض کی۔
’’نو…‘‘ فوراً جواب حاضر تھا۔
’’لیکن کیوں ڈئیر؟ میں جانتا ہوں تم مذاق کررہی ہو۔‘‘ وہ خود اعتمادی کی آخری سیڑھی پر تھا۔
’’اس پر بعد میں بحث ہوگی مگر فی الوقت جب تک میں یہاں ہوں اللہ کے لیے اشعر انگریزی اردو دونوں پر رحم کرتے ہوئے صرف ضروری بات ہی کیا کرو‘ مجھے تو اختلاج قلب ہونے لگتا ہے۔ پندرہ منٹ تمہاری باتیں مجھ سے برداشت نہیں ہورہیں‘ عمر بھر کیسے برداشت کرسکتی ہوں۔‘‘ وہ بے زاری سے بولی۔
’’پر میں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا عاشی جس سے تمہیں ہارٹ کی کوئی بیماری ہوجانے کا خطرہ ہو۔‘‘ کچھ سوچتے ہوئے اشعر کا کہنا اب کے عائشہ کو پوری طرح غصہ دلاگیا۔
’’براہ مہربانی اس وقت تم یہاں سے تشریف لے جائو اس سے پہلے کہ میں واقعی دل کی مریضہ بن جائوں۔‘‘ عائشہ نے نہ صرف کہا بلکہ باقاعدہ بازو سے پکڑ کر اسے دروازے تک چھوڑ آئی اور دروازہ بند کردیا۔
’’توبہ کیسے کیسے ڈرامے بھرے پڑے ہیں دنیا میں‘ ول یو میری می… ہونہہ بے وقوف نہ ہو تو مسخرہ۔‘‘ اسے صلواتیں سناتے ہوئے وہ ایک بار پھر جیولری کی طرف متوجہ ہوگئی جبکہ باہر کھڑا اشعر کان کھجاتا سوچتا رہ گیا کہ اس کی کون سی بات عائشہ کو بری لگی تھی۔
ء…/…ء
پھر خالہ کے بہت روکنے کے باوجود بھی وہ اور امی ولیمے والے روز ہی واپس آگئیں تھیں۔
’’ڈئیر عاشی‘ اگر یاد ہو تو میں نے ایک درخواست دائر کی تھی‘ وہ یاد دلانے اور اس کا حل نکالنے کے لیے میں کال کروں گا۔‘‘ آتے ہوئے بھی اشعر نے اردو کے ہاتھ پائوں توڑ کر عائشہ سے سرگوشی میں کہا تھا اور عائشہ جو اسے ڈانٹنے کا ارادہ رکھتی تھی جب اسے خود کو متاثر کرنے کے لیے اتنا سنجیدہ دیکھا تو بغیر کوئی جواب دیئے صرف مسکرا کر سر ہلادیا تھا۔ امی تو آج اسکول چلی گئی تھیں کہ ان کی چھٹیاں ختم تھیں جبکہ عائشہ کا آج آرام کرکے کل سے یونی جانے کا ارادہ تھا۔ وہ کچن میں جاکر کچھ پکانے کا سوچ رہی تھی جب اسے عبدالرحمن کی کال موصول ہوئی۔
’’ممانی کو تو جاتے ہوئے میں نے دیکھا تھا‘ تم اگر گھر پر ہو تو میں ملنا چاہتا ہوں تم سے۔‘‘ عائشہ کے سلام کے جواب میں اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’خیریت تو ہے ناں عبدالرحمن؟ میں گھر پر ہی ہوں مگر…‘‘ وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی۔
’’مگر اکیلی ہوں اس وقت‘ ماسی بھی کام کرکے جاچکی ہیں۔‘‘
’’تو…‘‘ عبد الرحمن نے یک لفظی سوال میں نجانے کیا پوچھنا چاہا تھا۔
’’تو عبدالرحمن تم خود ہزار بار کے لیکچر میں مجھے بتاچکے ہوکہ دو نامحرموں کو کبھی بھی تنہائی میں نہیں ملنا چاہیے۔‘‘
’’تمہیں کم از کم مجھ سے ایسے نہیں کہنا چاہیے‘ مجھ پر ایسے ہی اعتبار کرنا چاہیے جیسے میں تم پر کرتا ہوں اور ایسی بات کرنے سے پہلے تم یہ بھول گئی کہ میری تربیت کیسے اور کن ہاتھوں میں ہوئی ہے جس کی تربیت میری ماں جیسے ہاتھوں سے ہوئی ہو‘ اس سے زیادہ بھلا ضبط نفس کا مفہوم کس کو معلوم ہوگا۔‘‘ اسے لگا عبدالرحمن کو اس کی بات بری لگی۔
’’مگر عبدالرحمن‘ اس میں غصے والی تو کوئی بھی بات نہیں ہے قرآن کی کہی ہوئی ایک بات ہی دہرا رہی ہوں میں کہ مرد اور عورت کے درمیان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے اور اگر وہ دونوں نامحرم ہوں تو پھر وہ چور راستے ڈھونڈ کر ان کو ورغلانے کی کوشش کرتا ہے میں نے کبھی…‘‘ اور ابھی عائشہ کی بات مکمل نہیں ہوپائی تھی کہ اس نے دوسری طرف عبدالرحمن کا رابطہ منقطع ہوتے محسوس کیا۔
’’ناراض ہوگیا ہے۔‘‘ یہ سوچ ہی اسے پریشان کیے دے رہی تھی اس نے تین چار بار دوبارہ نمبر ملایا مگر ہر بار ہی کاٹ دیا گیا تھا۔ عائشہ نے اسے ٹیکسٹ کیا۔
’’میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا عبدالرحمن نہ ہی خدانخواستہ میں تمہاری نیت یا کردار پر شک کررہی تھی۔ تم نے ہی ایک بار کہا تھا کہ جب گھر میں اکیلی ہوں تمہیں بتادیا کروں تاکہ تم ملنے نہ آئو۔ یہ بات تم نے کوئی دو ماہ پہلے خود کہی تھی ان حوالہ جات کے ساتھ جو میں نے ابھی تمہیں کہے بہرحال ابھی کے ابھی مجھ سے ملنے آئو ورنہ میں خود ہی مدرسے تم سے ملنے پہنچ رہی ہوں۔‘‘ ٹیکسٹ کرنے کے بعد وہ واقعی چادر اٹھا کر مدرسے جانے کو تیار تھی جب اسے عبدالرحمن کا جوابی ٹیکسٹ موصول ہوا کہ وہ مت آئے مدرسے وہ خود آرہا ہے تب کہیں جاکر عائشہ نے سکون کی سانس لی اور جب وہ آگیا اور اس نے کہا کہ اسے عائشہ کی بات سے سخت تکلیف ہوئی تھی۔ عائشہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اسے اس قدر دل گرفتہ دیکھ کر اس نے معذرت کلی کہ آئندہ وہ ایسی کوئی بات نہیں کرے گی۔
’’میں نے تم سے کہا تھا ناں عائشہ‘ کڑے حالات کی سختی اور تلخی میں تم میرے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہو‘ پتا نہیں کیسا تعلق ہے تمہارا اور میرا کہ جب جب زندگی نے مجھے کوئی کڑوا گھونٹ پلایا ہے تمہارے سامنے بیان کرنے سے جان کنی کی وہ کیفیت ختم تو نہیں ہوتی کم ضرور ہوجاتی ہے۔ سانس لینا آسان لگنے لگتا ہے۔‘‘ اس کے ایسا کہنے پر عائشہ دہل سی گئی۔
’’کیا ہوا ہے عبدالرحمن‘ کیوں پریشان ہو‘ اللہ کے لیے مجھے بتائو میں پریشان ہورہی ہوں؟‘‘ بکھرے بکھرے سے عبدالرحمن کو دیکھ کر کسی انہونی کا احساس ہورہا تھا۔
’’آمنہ گھر سے چلی گئی ہے عائشہ‘ اس نے اسد سے جاکر نکاح کرلیا ہے۔ اسد اپنے گھر بھی نہیں ہے‘ وہ دونوں کسی جگہ چھپ گئے ہیں دو دن پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا ہوں اسے۔ آج ایک مختصر سا میسج میرے موبائل پر آیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے اسے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کی جائے۔‘‘ سر جھکائے وہ بڑی مشکل سے بول پارہا تھا۔ عائشہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی۔
’’اُف میرے اللہ! کیسے اور کیوں گئی وہ بے وقوف لڑکی… اسے جو بھی مسئلہ تھا تمہیں بتاتی‘ اب کیا ہوگا؟‘‘ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ ’’عبدالرحمن پھوپو ایسی سختی کرتیں نہ اس کے اندر ایسی بغاوت جنم لیتی۔ انسان تھی وہ جیتی جاگتی‘ کوئی بے جان شے تو نہیں جسے وہ اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتی تھیں۔ ہر وقت کی روک ٹوک‘ ڈانٹ‘ سختی نے اسے گھر‘ حالات اور رشتوں تک سے باغی کردیا تھا۔‘‘ عائشہ پھٹ پڑی‘ مگر وہ عبدالرحمن تو ہمیشہ کی طرح آج بھی ماں کے خلاف کچھ سننے پر تیار نہیں تھا۔
’’ایسے ہٹ دھرم لوگوں کے لیے سختی اور مار کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچتا عائشہ‘ گر اماں اسے پیار اور آزادی دیتیں تو اس نے جو قدم آج اٹھایا ہے وہ دو سال پہلے ہی اٹھالیتی‘ ہٹ دھرمی اور نافرمانی ابا کے خاندان سے اسے جہیز میں ملی تھی۔ اماں کی تربیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے‘ انہوں نے تو مجھ پر بھی عمر بھر وہی زندگی کے اصول لاگو کیے جو اس پر‘ پھر میں کیوں نہ بگڑا‘ بس یہ میری ماں جیسی پرہیز گار اور نیک عورت کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے۔ وہ اس وقت بالکل خاموش ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ زندگی کے اس کڑے وقت میں میں انہیں کیسے سہارا دوں‘ وہ بے غیرت تو ہمارے لیے مر گئی۔‘‘ عبدالرحمن کی آنکھیں سرخ ہوگئیں‘ عائشہ کو اس کی بہت سی باتوں سے اختلاف تھا مگر اس وقت وہ جس قسم کے احساسات و جذبات کا شکار تھا اس میں عائشہ کو مناسب نہیں لگا کہ وہ آمنہ کے حق میں کوئی بات کرکے اس کے ذہن کو مزید پراگندہ کرے اور تسلی دینے کے لیے اسے کوئی مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
’’ہمارے گھر‘ محلے کے بہت کم لوگوں کا آنا جانا ہے‘ فی الحال تو یہ بات ابھی کسی کے علم میں نہیں آئی مگر ایسی باتیں چھپتی تو ہرگز نہیں ہیں۔ بدنامی کا جو سیلاب بند توڑ کر ہمارے گھر کی دہلیز تک آن پہنچا ہے‘ اسے میں کیسے روکوں‘ میری ماں مر جائے گی عائشہ۔‘‘ عبدالرحمن جیسے رو ہی دیا تھا۔
’’عبدالرحمن… ایک مشورہ ہے اگر اس پر عمل کرو تو ہوسکتا ہے تمہاری پریشانی ختم تو نہ ہو مگر اس کی نوعیت ضرور بدل جائے گی۔‘‘ عائشہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا‘ عبدالرحمن کچھ بولا نہیں مگر استفہامیہ نظروں سے ضرور اس کی جانب دیکھا پھر اس نے عبدالرحمن سے کہا کہ وہ پھوپو کو کچھ دنوں کے لیے لے کر یہاں سے چلا جائے اور جب واپس آئے تو یہ بات پھیلادے کہ اس نے اپنی بہن کا سادگی سے نکاح کرکے اسے وہیں سے رخصت کردیا ہے بے شک اپنے ددھیال کا ذکر کردے کہ اپنے آبائی گھر میں جاکر بہن کی شادی کی ہے اس نے۔ اس کے بارے میں چونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ تبلیغی دوروں پر رہتا ہے تو شرعی طریقے سے سادگی سے بہن کے نکاح کردینے پر کوئی نہ تو شک کرسکے گا نہ ہی اعتراض۔‘‘ عبدالرحمن خاموشی سے اس کی پُرجوش انداز میں پیش کی گئی تجویز سنتا رہا اور بغیر کوئی جواب دیئے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تم سے بس ایک درخواست ہے عائشہ… یہ بات اماں اور میرے درمیان ہی ہے ابھی مجھ سے رہا ہی نہیں جاتا جب تک تم سے اپنی ہر بات‘ اپنا ہر مسئلہ بیان نہ کرلوں مگر تم نے یہ بات کسی سے بھی نہیں کرنی‘ اپنی امی سے بھی نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے عبدالرحمن‘ میں سمجھتی ہوں اس معاملے کی نزاکت کو تم بے فکر رہو‘ مگر بیٹھو تو سہی میں بھی پاگل ہوں۔ تمہیں چائے کا پوچھا ہی نہیں حالانکہ پتا بھی ہے کہ میرے ہاتھ کی چائے تم کتنے شوق سے پیتے ہو۔‘‘ اس نے قصداً اپنا لہجہ ہلکا پھلکا بنایا۔
’’نہیں بس چلتا ہوں پھر آئوں گا۔‘‘ پژمردہ سا عبدالرحمن پھر رکا نہیں تھا۔
ء…/…ء
’’امی… پھوپو ایسی کیوں ہیں؟ ایب نارمل سی‘ صرف خود کو مکمل اور عقل کل سمجھنے والی‘ ان کی اولاد ان کے اس رویے سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آمنہ میں عجیب سی باغی سوچ پنپ رہی ہے‘ عبدالرحمن میں بھی بہت حد تک پھوپو کی سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔ وہ بھی یہی خیالات رکھتا ہے جیسے وہ لوگ کوئی آسمان سے اتاری گئی مخلوق ہیں اور چونکہ ان کی تربیت پھوپو جیسی عظیم خاتون کے ہاتھوں ہوئی ہے تو وہ کوئی گناہ ہی نہیں کرسکتے۔ ان کے خاندان کے سوا باقی ہر کوئی گناہ گار ہے دنیا میں گویا…‘‘ عبدالرحمن کے جانے سے لے کر اب تک وہ بے حد پریشان اور الجھی ہوئی تھی۔ اپنی امی سے ہر بات شیئر کرنے والی عائشہ نے آمنہ والی بات اور عبدالرحمن کا یہاں آنا سب ان سے پوشیدہ رکھا تھا مگر اپنی پریشانی کو ختم نہ کر پارہی تھی سو امی کے پاس چلی آئی تھی۔ وہ اخبار کے مطالعے میں مصروف تھیں‘ اس کا سوال سن کر انہوں نے اخبار تہہ کرکے ٹیبل پر رکھا‘ عینک اتار کر اسے بغور دیکھا اور پھر ہاتھ سے پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھالیا۔
’’پھوپو کے گھر گئی تھیں یا کوئی نئی بات ہوئی ہے ان کی طرف سے؟‘‘ انہوں نے پوچھا عائشہ نے نفی میں سر ہلادیا۔
’’نہیں کوئی بات نہیں ہوئی نہ ہی میں ان کی طرف گئی تھی بس ویسے ہی خیال آتا ہے کئی بار کہ کوئی تو وجہ ہوگی ان کے ایسے رویے کی جس سے سارا خاندان بلکہ جو لوگ ان سے منسلک رہے یا ہیں سب ہی متاثر ہوئے تو وہ شروع سے ہی ایسی تھیں یا کوئی واقعہ ان کی ایسی سوچ اور ایسے واقعہ کا محرک بنا تھا۔‘‘
’’کچھ بھی نہیں ہوا تھا بیٹا‘ بس پہلے تمہاری دادی مرحومہ تھیں‘ کم و بیش انہی کے جیسے خیالات اور سوچ رکھنے والی تمہارے دادا مرحوم قرآن و حدیث کے بہت بڑے عالم گزرے ہیں مگر ویسا فخر اور غرور تو ان صاحب کو اپنے علم پر نہ ہوگا جتنا تمہاری دادی مرحومہ کو تھا میں چونکہ غیر خاندان سے آئی تھی سو معتوب ہی ٹھہری عمر بھر پھر میری سرکاری نوکری نے ان کے مزاج کو سوا نیزے پر پہنچادیا بس اپنی ماں کے افکار سے بے حد متاثر تمہاری پھوپو اپنی اماں کے جیسے ہی نظریات لے کر تمام عمر رہیں اور دوسروں پر بھی وہ نظریات ٹھونسنے چاہے تھے۔ اپنے خاوند مرحوم کو نماز نہ پڑھنے پر ایسے ایسے طعنے دیتیں کہ الامان الحفیظ سسرال والے بھی تمام عمر ان کی اس روش سے نالاں رہے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ تمہارے پھوپا ان کو طلاق دینے کا قصد کیے بیٹھے تھے جب اجل نے انہیں آلیا۔ بیوہ ہوکر یہاں آگئیں‘ تمہارے ابا تو بہت سمجھاتے تھے انہیں مگر وہ الٹا ان سے ناراض ہوتیں پھر بچوں کو بھی اس نہج سے پروان چڑھایا جیسے خود چاہتی تھیں۔‘‘ امی جیسے خلاء میں نظریں جمائے بول رہی تھیں پھر انہوں نے عائشہ کو دیکھا۔
’’تم سمجھ دار ہو‘ سب کچھ جانتی ہو پھر بھی عبدالرحمن کی طرف تمہارا رجحان میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اب تم اپنی پھوپو کی ایک آدھ کڑوی کسیلی بات سے بھاگ کر میری گود میں آکر چھپ جاتی ہو‘ ان کے رویے پر الجھتی ہو‘ سوال کرتی ہو کیسے عمر بھر گزارا کرو گی عائشہ‘ وہ بھی ایسی صورت میں جب عبدالرحمن بھی کم و بیش ویسی ہی سوچ رکھتا ہے۔ وہ شریف ہے‘ خوش شکل ہے‘ معاشی لحاظ سے بھی مضبوط ہے مگر جو آج میری آنکھیں اور میری سوچ مجھے دکھا رہی ہے تم اس کا فہم بھی نہیں رکھتیں‘ تم کبھی بھی خوش نہیں رہ پائو گی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔
’’تمہاری خالہ نے ایک دو بار اشاروں میں مجھ سے اشعر کے حوالے سے بات کی تھی اور اب عرشی کی شادی پر کھل کر رشتہ بھی پیش کردیا۔ اشعر نے خود کہا ہے تمہارے لیے میں تو اسی وقت ہاں کہہ دیتی مگر تم سے ایک بار پوچھنا ضروری سمجھا‘ میری خواہش اور رائے یہی ہے کہ تمہیں اشعر کے رشتہ پر حامی بھرلینی چاہیے۔‘‘
’’آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں مگر میں کیا کروں کہ اس حوالے سے جب بھی سوچا عبدالرحمن کو ہی سوچا‘ اب کسی اور کو سوچنا ہی ناممکن ہے میرے لیے۔ شادی تو بہت دور کی بات ہے ابھی…‘‘ امی اس کی عبدالرحمن کے حوالے سے سنجیدگی دیکھ کر دنگ رہ گئیں‘ وہ اسے ایک وقتی پسندیدگی سمجھتی تھیں مگر وہ کچھ اور تھا اور پھر عائشہ نے آہستہ آہستہ امی کو بتایا کہ عبدالرحمن سے اس لگائو کی جڑیں بہت گہری اور پرانی تھیں اس کی پہلی کونپل اس کے دل میں جب پھوٹی جب ایک بار اس نے ابا اور پھوپو کو باتیں کرتے سنا تھا اور اس گفتگو میں ابا نے بہن سے عبدالرحمن کو اپنا داماد بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی پھر پھوپو کا جواب بھی اسے ازبر تھا۔
’’میرے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہوگی کہ میری اپنی بھتیجی میری بہو بنے مگر دھیان رہے کہ اس کی تربیت اس کی پڑھی لکھی ماں سے کہنا ایک اسلامی بچی کی طرح شرعی طریقے سے کرے۔ کچی عمر کے اس دور میں مجھے صرف یہی یاد رہا کہ پھوپا کا خوب صورت اور بے نیاز رہنے والا بیٹا بڑا ہوکر میرا دلہا بنے گا۔ اس سوچ نے ایک خواب کو جنم دیا جس نے دل کی سر زمین پر مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ دیئے اور اس سوچ کی تعبیر پانے کو وقت کی آہٹوں کو بے چینی اور بے تابی سے گننے لگا۔‘‘ عائشہ نے اپنی ماں سے کبھی کچھ نہ چھپایا تھا‘ یہ سب بھی بتادیا اور ان کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
’’تم بہت معصوم ہو عائشہ اور تمہاری بے ریا آنکھوں اور سادہ سوچ نے بہت مہنگے اور الجھے خواب بن لیے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں‘ مجھے تو نہیں لگتا تمہاری پھوپو اس دہلیز پر تمہارا رشتہ لے کر آئیں گی۔ تمہارے ابا کی وفات پر آخری بار آئی تھیں اور جانتی ہو مجھے کیا کہا تھا۔‘‘ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی دکھ سے بولیں۔
’’بے پردہ اور بے راہ عورت جس نے اپنی عاقبت تو خراب کی سو کی اپنی بچی کی بھی غلط تربیت کرکے اپنی راہ پر چلالیا… بتائو جس عورت کے اپنی بھابی اور بھتیجی کے بارے میں ایسے خیالات ہوں‘ وہ بھلا کیسے تمہیں اپنی بہو کے روپ میں قبول کرے گی۔‘‘
’’ان کو چھوڑیں امی… ہم جانتے ہیں کہ وہ نارمل نہیں ہیں‘ ان کو یہاں لے کر آنا اور شادی کے لیے منانا عبدالرحمن کا کام ہے۔‘‘ جواب میں عائشہ کا اطمینان دیدنی تھی‘ امی طویل سانس لے کر چپ ہوگئیں۔
عبدالرحمن سے اس دن کے بعد رابطہ نہیں ہوسکا تھا اس کا نمبر بھی مسلسل بند تھا اور بہانے سے دوبارہ پھوپو کے گھر کا چکر لگا چکی تھی جو کہ بند تھا۔ اس کا مطلب عبدالرحمن اس کے آئیڈیے پر عمل کرنے کے لیے پھوپو کو لے جاچکا تھا مگر وہ اس کے لیے پریشان تھی۔ امی نے آج عرشی اور اس کے خاوند کو دعوت پر بلالیا تھا‘ ساتھ خالہ اور اشعر کو بھی‘ اشعر اپنی اردو کی دھاک بٹھانے کے لیے بونگیاں مار کر سب کو ہنسا رہا تھا‘ ایک عائشہ ہی کو کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ بے دلی سے بیٹھی بس چاول پلیٹ میں یہاں سے وہاں کرتی رہی۔
’’دیکھیں تو آنٹی… اس بے وفا لڑکی کو‘ ہمارے ہاں آتی ہے تو ہم اپنے دل‘ گردے‘ جگر‘ آنکھیں وغیرہ سب راہوں میں بچھا دیتے ہیں اور یہاں پر جب سے ہم آئے ہیں منہ بنائے بیٹھی ہے‘ جیسے ابھی کے ابھی ہم سب کو گیٹ آئوٹ کرے اور سکون کی سانس لے۔‘‘ اشعر کے شکوہ پر امی نے عائشہ کو تنبیہی نظروں سے گھورا پھر بھانجے کی تسلی کرانے لگیں۔
’’ارے نہیں بیٹا… ایسی کوئی بات نہیں ہے‘ مجھ سے زیادہ خوش تھی عائشہ آپ سب کے یہاں آنے پر‘ اس خوشی میں اس نے مجھے تو کچن سے آزاد کردیا اور سب کچھ خود تیار کیا ہے۔‘‘
’’اچھا آپ نے پہلے بتانا تھا ناں آنٹی‘ میں عاشی سے خوامخواہ ناراض ہوا بیٹھا تھا۔‘‘ اشعر اتنی سی بات میں ہی راضی ہوگیا مگر عائشہ کو بے زاری ہورہی تھی۔ وہ واقعی چاہتی تھی کہ ان کے جانے کے بعد پھوپو کی طرف کا ایک چکر لگا آئے اس لیے اس نے امی کے اشارے کے باوجود اشعر کے شکوے کی تائید و تردید نہیں کی تھی۔ عرشی نے تب ایک نیا شوشا چھوڑا عرشی کی سسرال کے سب لوگ جو کہ عائشہ اور عرشی دونوں کے ماموں کی فیملی تھی‘ نے شمالی علاقہ جات جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ خالہ اور اشعر بھی جارہے تھے‘ اب عرشی اور اشعر چاہ رہے تھے کہ عائشہ بھی ان کے ساتھ ہی چلے۔
’’میں ضرور چلتی عرشی مگر میرے امتحان بالکل سر پر ہیں اور تیاری بھی کچھ خاص نہیں ہے۔ زندگی رہی تو ان شاء اللہ اگلی دفعہ ضرور چلوں گی۔‘‘ اس سے پہلے کہ امی عائشہ کے جانے کے حوالے سے حامی بھرتیں‘ عائشہ نے رسان سے کہا‘ باقی سب تو اس کی وجہ قابل قبول جان کر چپ ہوگئے تھے مگر اشعر نے خوب احتجاج کیا تھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی عاشی؟ تین سال سے تمہیں پہلے بتا کر پروگرام سیٹ کیا جاتا ہے مگر تم نے ہر بار کوئی نہ کوئی ایکسکیوز کرکے انکار ہی کیا ہے۔‘‘
’’اور کچھ لوگ تو ساتھ جاتے ہی تمہاری وجہ سے ہیں‘ سوچو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی تمہارا انکار سن کے۔‘‘ عرشی چونکہ بھائی کی خواہش سے واقف تھی سو اشعر کو دیکھ کر اسے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
’’یقین کرو عرشی… میرا پروگرام تھا پچھلی دفعہ بھی لیکن یاد نہیں کیسے بری طرح بیمار پڑگئی تھی میں اور اس بار تمہاری شادی پر جو چھٹیاں کی ہیں وہ لیکچرز رہ گئے تھے میرے‘ صرف ڈیڑھ ماہ رہ گیا ہے امتحان میں مگر میں وعدہ کرتی ہوں کہ امتحانوں کے بعد کوئی اچھا پروگرام رکھ لیں گے مل بیٹھنے کا۔ میں آپ سب کے لیے چائے لاتی ہوں۔‘‘ عائشہ اس کے بعد رکی نہیں تھی کچن میں آکر دم لیا تھا پھر ان کے جانے کے بعد اس نے امی سے کہا تھا کہ پھوپو کے گھر بہت دن سے نہیں گئی نہ ہی آمنہ سے ملاقات ہوپائی ہے۔ کل اور پرسوں بھی اس نے چکر لگایا تھا تو پھوپو کے گھر تالا لگا ہوا تھا۔ وہ پتا تو کر آئے کہ خیریت تو ہے۔ امی نے کوئی تبصرہ کیے بنا صرف سر ہلادیا تھا‘ وہ عائشہ کی پھوپو کے گھر سے والہانہ لگائو سے واقف تھیں۔
پھوپو کا گھر کھلا دیکھ کر دل میں خدشات اور سکون دونوں جذبات نے ایک دم ہی دھاوا بولا تھا‘ پتا نہیں آمنہ والے مسئلے کا کیا بنا ہوگا؟ پہلی سوچ ہی ذہن میں یہی آئی تھی۔
’’رکو… کہاں منہ اٹھائے چلی جارہی ہو‘ نہ سلام نہ دعا نہ اجازت۔‘‘ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی پھوپو ویسی کی ویسی تھیں‘ وہ کچن سے نکل رہی تھیں‘ عائشہ نے آہستہ سے سلام کیا۔
’’اپنا حلیہ دیکھ‘ کہیں سے کسی شریف عورت کا لگ رہا ہے‘ گلے میں دوپٹہ کھلے بال‘ ایسے فیٹنگ والے کپڑے‘ گویا درزی نے جسم پر رکھ کر سلائی کی ہو۔ مردوں کو ورغلانے کی صاف صاف دعوت اور پھر گلہ ماں باپ سے ہوتا ہے کہ اتنی سختی کیوں کرتی ہیں۔‘‘ عائشہ حسب معمول ایک بار پھر ان کے غصے کی لپیٹ میں تھی‘ انہوں نے اس کے سلام کا جواب بھی نہیں دیا تھا۔
’’میں نہائی تھی کچھ دیر قبل پھوپو‘ بال گیلے تھے تو کھلے رہنے دیئے اور درمیانی دروازے سے آئی تھی اس لیے دوپٹہ میں چلی آئی۔ باہر سے آتی تو چادر لے کر آتی۔‘‘ اس کی وضاحت کو انہوں نے اہمیت نہ دیتے ہوئے ہنکارا بھرا اور خود برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھ کر قرآن پاک کی رحل اپنے قریب کرلی۔
’’آمنہ سے ملنے آئی ہو تو وہ تو اب اپنے گھر میں ہے‘ سادگی سے نکاح کردیا اس کا ہم نے۔‘‘ اطمینان سے کہہ کر انہوں نے قرآن پاک کھولا‘ گویا عائشہ کو جانے کا واضح اشارہ کیا ان سے کہیں زیادہ اطمینان عائشہ نے اپنے اندر اترتے محسوس کیا۔
’’اچھا پھوپو بہت مبارک ہو آمنہ کی شادی کی‘ جب آئے مجھے بتایئے گا میں ملوں گی اس سے‘ چلتی ہوں اب اللہ حافظ۔‘‘ کچھ بھی جتائے بغیر اس نے کہا اور دوبارہ سے درمیانی باڑھ عبور کرکے اپنے گھر آکر امی کو آمنہ کی شادی کا بتایا تو وہ حیران رہ گئیں۔
’’کمال کرتی ہیں تمہاری پھوپی‘ سادگی سے بچی کی رخصتی کی اچھا کیا مگر بندہ کوئی ایک آدھ عزیز رشتہ دار ہی بلا لیتا ہے۔ میں تو خیر کسی کھاتے میں رہی نہیں عمر بھر تم تو ان کے اکلوتے بھائی کی بیٹی تھیں اور آمنہ کی اکلوتی دوست بھی۔‘‘
’’چھوڑیں امی آپ کو تو پتا ہے کہ پھوپو اپنی زندگی کے ہر کام میں شریعت کے احکامات کو مدنظر رکھتی ہیں‘ شکر ہے آمنہ کے فرض سے سبکدوش ہوگئیں وہ۔‘‘ عائشہ نے کہا تو امی استہزائیہ سی ہنسی ہنس کر بولیں۔
’’ہاں ہر کام شریعت کے احکامات کو مدنظر رکھ کر کیا مگر حقوق العباد کی بھی اللہ کے نزدیک اتنی ہی اہمیت ہے جتنی حقوق اللہ کی‘ یہ بات پڑھنا بھول گئیں یا شاید برتنا۔ ان کو تو آج تک اتنی بڑی اور اہم بات نہیں پتا یا شاید جان کر انجان بنی رہیں کہ دل توڑنا اللہ کو کس قدر ناپسند ہے اور وہ یہ کام برسوں سے کرتی آرہی ہیں۔‘‘
’’چھوڑیں آپ یہ سب‘ میں کرلیتی ہوں باقی کام۔ آپ کمرے میں چلیں میں چائے لے کر آتی ہوں پھر دونوں مل کر خوب باتیں کریں گے۔‘‘ عائشہ نے ان کا دھیان دوسری طرف لگانے کے لیے ان کے ہاتھ سے کپڑا لیا جس سے وہ دھلے ہوئے برتن صاف کررہی تھیں۔
ء…/…ء
’’یہ کیا کہہ رہے ہو عبدالرحمن… اپنی عمر بھر کی کمائی کو اٹھا کر میں ایک ایسی لڑکی کے حوالے کردوں جس کی تربیت ہرگز ایسی نہیں ہوئی جیسی میں تمہاری بیوی کے حوالے سے چاہتی ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ میرے بھائی کی بیٹی ہے‘ میرا اپنا خون ہے مگر کون سا ایسا عمل ہے جو تمہیں متاثر کر گیا یا جس سے تمہیں لگتا ہے کہ وہ اس گھر کی بہو بننے کے قابل ہے۔ تم مانو یا نہ مانو‘ آمنہ کی اخلاقی تربیت میں اس لڑکی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سارا دن گھسی رہتی تھی وہ اس کے ساتھ‘ اب نتیجہ بھگت لیا ناں صحبت کا‘ وہ تو تمہیں ہی خیال آگیا اس بدنامی کو روکنے کا جو گھر کی دہلیز پر کھڑی دستک دے رہی تھی ورنہ میرا تو عمر بھر کا غرور خاک میں مل جاتا۔‘‘
’’اماں… میری پیاری اماں‘ آپ کی سب باتیں بالکل ٹھیک ہیں مگر عائشہ ویسی ہرگز نہیں ہے جیسا آپ اسے سمجھتی ہیں۔ مامی نے جیسی اس کی تربیت کی ہے وہ ویسے ہی ڈھل گئی ہے اب جب آپ کے گھر آجائے گی‘ آپ اسے اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لیجیے گا۔ باہر سے جتنی بھی چھان پھٹک کر لڑکی لائیں گے وہ اگر ہمارے معیار پر پوری نہ اتری تو سوچیں کیا کریں گے۔ عائشہ بس ذرا تھوڑی سی آزاد خیال ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ میں اور آپ اسے جیسا طرز زندگی دیں گے وہ اسی کے مطابق زندگی بسر کرے گی‘ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔‘‘ پھوپو قائل ہوئی تھیں یا نہیں تاہم ماتھے پر بل ڈال کر چپ ضرور بیٹھی رہی تھیں پھر کچھ دیر خاموش بیٹھنے کے بعد انہوں نے بیٹے کو خود امید بھری نظروں سے تکتے پایا تو گویا ہوئیں۔
’’اگرچہ مجھے اس رشتے پر کئی قباحتیں ہیں لیکن میں پھر بھی مان سکتی ہوں مگر کچھ شرائط ہیں جن پر عائشہ کو عمل کرنا ہوگا۔‘‘ پھر انہوں نے عبدالرحمن کی زندگی کی بنیاد ہی اپنی طرز کی کچھ خواہشات پر رکھی تھی جنہیں ان کے بیٹے نے بلا عذر مان لیا تھا‘ عائشہ سے منوانا اب اس کا کام تھا۔
ء…/…ء
پتا نہیں کتنے برسوں بعد انہوں نے بھائی کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تھا‘ بھائی کی وفات پر ہی آخری بار آئی تھیں۔ ان کے مانتے ہی عبدالرحمن نے فون کرکے عائشہ کو خوش خبری سنائی تھی‘ وہ وہاں ویسے ہی بیٹھی تھیں جیسے رشتہ لینے کے لیے آنے والی مائوں کا رویہ ہوتا ہے‘ اپنی ذات اور اعمال پر تفاخر پہلے سے بڑھ کر دو گنا ہوچکا تھا۔ عائشہ کی امی ان کی خاطر مدارت کرتے ہوئے بس ان کے فرمودات سنے گئیں پھر آدھا گھنٹہ بیٹھنے کے بعد آخرکار جاتے ہوئے وہ رشتے کا عندیہ بھی یہ احسان جتاتے ہوئے دے گئی تھیں کہ اگرچہ اعلیٰ حسب نسب کی کئی دیندار بچیوں کے رشتے عبدالرحمن کے لیے آچکے ہیں مگر وہ یہاں تک آئی ہیں تو ان کے پیش نظر صرف ایک بات ہے کہ عائشہ ان کے مرحوم بھائی کی آخری نشانی ہے۔ دوسرے وہ چاہتی ہیں وہ اسے اپنے ساتھ رکھ کر‘ اپنی بہو بناکر اس کی اس نہج پر تربیت کریں کہ عائشہ کی عاقبت سنور جائے۔
’’اچھا خیال ہے آپ کا‘ اپنی طرف سے تو عاقبت سنوارنے کا خیال ہر مسلمان کو ہی ہوتا ہے جیسے ہی وہ شعور سنبھالتا ہے مگر یہ تو اس کریم ذات پر ہے کہ وہ کس کو اپنی رحمت کی چھائوں میں پناہ دیتا ہے۔ بخشنے پر آئے تو گناہ گار سے گناہ گار بندے پر بھی رحمت کی بارش کردے اور خدانخواستہ پکڑنے پر آئے تو چھوٹی سی غلطی پر ہی ولیوں کی عمر بھر کی ریاضت واپس منہ پر مار دے۔ ہم تو بس کوشش کرتے ہیں۔‘‘ امی کی سنجیدگی سے کہی گئی بات پر وہ ٹھٹک گئیں۔
’’واہ بی بی واہ… یہ بھی خوب کہی تم نے‘ صرف رحمت کی آس پر بخشش کی امید رکھنا ہی تم جیسے دنیا داروں نے اپنا وطیرہ بنالیا ہے بھلا ساری زندگی گناہوں پر گناہ کرنے والے اور عمر بھر رب کی رضا حاصل کرنے کی کوشش میں سجدوں پر سجدہ کرنے والے بھی برابر ہوسکتے ہیں؟ فرائض میں کوتاہی نہ برتو‘ رب کو منانے کی کوشش میں لگے رہو اسی کی اطاعت اس طریقے سے کرو کہ زندگی کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ اسی کی مرضی اور تعلیمات کے مطابق پھر اس کی رحمت کی امید رکھو تو ہی بات بنتی ہے۔ یہ نہیں کہ جان کر گناہ پر گناہ کیے جائو یہ سوچ کہ وہ رحیم ہے تو رحم کرکے معاف کردے گا۔ یہ فرق ہے تمہارے اور میرے نظریے میں‘ اپنے نظریات بدلو بی بی‘ ورنہ بخشش نہیں ملنے والی یہ میں بتارہی ہوں۔‘‘ ایک زودار تقریر جھاڑ کر وہ چادر اوڑھ کر درمیانی دیوار جو کہ ایک باڑھ پر مشتمل تھی‘ باڑھ کی کٹنگ کرکے دروازہ بنا ہوا تھا کو عبور کرگئیں‘ کچن میں کھڑی عائشہ پھوپو کو جاتے دیکھ کر لپک کر امی کے پاس آئی تھی۔
’’اللہ کے لیے عائشہ… ایک بار پھر سوچو بیٹا‘ آدھے گھنٹے کی اس بات چیت میں انہوں نے ہزار بار جتایا کہ اللہ کی جنت کی حق دار صرف وہی ہیں ہم سب گناہ گار ہیں بس‘ تمہیں بھی وہ سو احسان کرکے صرف اس لیے بہو بنانا چاہتی ہیں کہ تم ان کے مرحوم بھائی کی بیٹی ہو۔ دوسرا وہ نہیں چاہتیں کہ میرے ساتھ رہ کر تم جہنم کا ایندھن بنو‘ اُف عائشہ… بچے تو بسا اوقات نادانی میں آگ کی چمک دمک سے متاثر ہوکر انگارے کی طرف بھی ہاتھ بڑھا بیٹھتے ہیں‘ روتے ہیں‘ ضد کرتے ہیں‘ ایڑیاں تک رگڑتے ہیں مگر ماں باپ صرف اس کی خوشنودی کے لیے آگ نہیں پکڑا دیتے۔ میں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے میں اشعر کے رشتے کے لیے آج ہی ہاں کررہی ہوں‘ بعد میں ایسی ایب نارمل خاتون کے رویے سے تنگ آکر روز تمہیں روتے دیکھوں اس سے بہتر ہے کہ تم ایک دفعہ ہی اپنی محبت پر رولو۔‘‘ امی تو بھری بیٹھی تھیں سو پھٹ پڑیں۔ عائشہ پہلے تو کچھ دیر ان کا ایسا شدید ردعمل دیکھتی رہی پھر انہیں تھام کر بستر پر بٹھایا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
’’عبدالرحمن کے لیے میرے احساسات کیا ہے‘ یہ میں آپ کو بتا چکی ہوں امی‘ اس کی جگہ میں کبھی بھی کسی کو نہیں دے سکتی۔ آپ کو ڈر ہے کہ میں پھوپو کے رویے سے کبھی بھی خوش نہیں رہ پائوں گی۔ مجھے آپ یہ بتائیں کہ میں عبدالرحمن کو بھول کر اشعر کے ساتھ کیسے خوش رہ سکتی ہوں۔ آپ بے شک پھوپو کو انکار کردیں مگر پھر آپ یہ بھول جائیں کہ میں کسی اور کے لیے ہاں کروں گی۔‘‘ اس کی سنجیدگی دیکھنے لائق تھی پھر امی نے کچھ دیر اسے بغور دیکھتے رہنے کے بعد طویل سانس لیتے ہوئے کچھ کہے بغیر ہاتھ چھڑاے‘ یہ ایک قسم کی ان کی ناراضی کا اظہار تھا مگر عائشہ جانتی تھی کہ وہ انہیں منا ہی لے گی۔
ء…/…ء
’’کیا کمی تھی عائشہ مجھ میں یا میری محبت میں‘ جس شخص کے لیے تم نے ہامی بھری ہے اس سے بھی تمہارا خون کا رشتہ اتنا ہی مضبوط ہے جتنا میرا بلکہ دیکھا جائے تو مالی لحاظ سے تو کیا ہر لحاظ سے میں اس سے بڑھ کر ہی ہوں۔ تمہاری بے رخی‘ ناراضی کو میں ایک کزن کی نوک جھونک سمجھتا رہا اور ہمیشہ تصور میں تمہیں ہی اس حوالے سے دیکھا‘ سوچا۔ کل ہی ہم ٹور سے واپس آئے اور آج مما بتارہی ہیں کہ عائشہ کی پسند سے اس کا رشتہ اس کے کزن سے ہوگیا ہے ایسا کیسے کرسکتی ہو تم؟‘‘ مضطرب سی وہ آواز اشعر کی تھی جس کی کال اسے ابھی ابھی موصول ہوئی تھی‘ ابھی کل ہی تو پھوپو آکر اسے انگوٹھی پہناگئی تھیں اور کہا تھا کہ اگلے ماہ سادگی سے نکاح اور ولیمہ کریں گی‘ امی اس پر بھی متذبذب تھیں مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی انہیں عائشہ کی ماننی پڑی تھی۔ اشعر دوسری طرف سے ہیلو ہیلو کررہا تھا‘ وہ خیالات سے دامن چھڑا کر حال میں آئی۔
’’تم نے ٹھیک سنا اشعر… مگر میرا رشتہ ہوجانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم سے میرا خون کا رشتہ نہیں ہے یا تم کسی لحاظ سے کم تر یا وہ کسی حوالے سے برتر ہے۔ بس یوں سمجھو کہ رشتوں سے بڑھ کر یہ احساسات ہوتے ہیں جو رشتوں کو مضبوط اور کمزور بناتے ہیں۔ جس طرح تم نے اپنی شریک حیات کے طور پر مجھے سوچا‘ میری سوچوں پر بھی عبدالرحمن قابض رہا۔ بچپن سے ہی اور جب میں نے سنا کہ ابا بھی یہی چاہتے ہیں تو لاشعور نے اس بات کا اذن شعور کو ایسے بخشا کہ اس کے لیے جو احساسات دل میں پیدا ہوئے پھر میں ان سے منہ ہی نہ موڑسکی۔ بخدا میرا مقصد تمہارا دل دکھانا ہرگز نہیں تھا‘ تم بہت اچھے ہو اور یقین کرو تمہارے لیے بھی کوئی اچھی لڑکی دنیا میں بھیجی گئی ہوگی۔‘‘
’’وہ اچھی لڑکی تم کیوں نہیں ہوسکتیں عاشی؟‘‘ اس کی بے بسی اسے آزردہ کرنے لگی‘ جانتی تھی جب دل کی مرضی چلنے لگے تو بعض اپنوں کی خواہشات کو بھی دل کی مرضی کے تابع کرنا پڑتا ہے‘ جیسے کہ امی اس کے اس رشتے سے خوش نہیں تھیں مگر عائشہ کے دل کے آگے ان کی ایک نہ چلی تھی۔
’’میں بہت جلد چکر لگائوں گی اشعر… پھر عرشی اور میں تمہارے لیے لڑکی ڈھونڈنے کی مہم پر نکلیں گے اور دیکھنا ایسی لڑکی تلاش کرکے دیں گے کہ تم اپنی ان باتوں کو بے وقوفانہ سمجھ کر ان پر ہنسا کرو گے۔ میری خوشیوں کے لیے دعا کرنا اشعر’ اپنوں کی خلوص دل سے نکلی دعائیں انسان کی زندگی کی وہ روشن شمعیں ہوتی ہیں جو اس کی راہوں میں اندھیرا نہیں ہونے دیتیں۔‘‘ موبائل بند کرکے نجانے کیوں وہ کتنی دیر اشعر کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔
ء…/…ء
اگلے دن خالہ اور ماموں کی ساری فیملی امی کو مبارک باد دینے آئی تھی صرف اشعر نہیں آیا تھا۔ امی کے پوچھنے پر عرشی نے پھیکے لہجے میں کہا تھا کہ وہ ضروری کام کے سلسلے میں گیا تھا مگر جلد ہی اسے مبارک باد دینے آئے گا‘ امی نے تو خالہ اور ممانی سے شادی کی خریداری میں مدد کو کہا تھا وہ دونوں تیار ہوگئی تھیں اور اس خریداری مہم کا آغاز اگلے دن سے ہی شروع کردیا تھا‘ عائشہ یونیورسٹی اور امی اسکول چلی جاتیں۔ واپسی پر امی کو خالہ اور ممانی لینے آتیں اور پھر وہ مغرب کے وقت خوب لدی پھندی واپس آتی تھیں۔ عائشہ کو عبدالرحمن کے ملنے کا اذن کیا ملا تھا کہ اسے مزید کسی چیز سے سروکار ہی نہ تھا۔ امی لاکھ منتیں کرتی رہ جاتیں کہ وہ ساتھ چلے‘ نئے فیشن کے مطابق چیزیں دیکھے‘ خریدے مگر اس نے امی کے گلے میں بانہیں ڈال کر بڑے لاڈ سے کہا تھا۔
’’بچپن سے لے کر اب تک میری ساری خریداری آپ کرتی آئی ہیں اور وہ مجھے دل و جان سے پسند ہوتی ہے اب بھی میں وہی عائشہ ہوں جس کو اپنی امی کی پسند اور انتخاب پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘
’’ہاں بس زندگی کے سب سے بڑے معاملے اور انتخاب میں ہی ماں کو الگ کردیا مگر اللہ سے تمہاری خوشیوں اور اچھے نصیب کی دعائیں ہیں۔‘‘ دل میں آئی ایک سوچ کو جھٹکتے انہوں نے اس کے اچھے نصیب کی دعا کی تھی‘ معمول کے مطابق امی اپنے اسکول کے لیے اور عائشہ یونیورسٹی کے لیے نکل گئی تھیں‘ آج اس کا یونیورسٹی کا آخری دن تھا کچھ کتابیں لائبریری سے ایشو کرانی تھیں‘ ایک دو اسٹوڈنٹس سے دو تین لیکچرز کے نوٹس لینے تھے اس قسم کے کئی کام تھے جو اسے آج یونیورسٹی میں نپٹانے تھے۔
پندرہ دن بعد سے امتحان شروع تھے تو اب وہ یکسوئی سے گھر بیٹھ کر تیاری کرنا چاہتی تھی قریباً تین بجے وہ گھر واپسی آئی تھی۔ فریج میں سالن دیکھ کر بے اختیار امی پر پیار آیا تھا اپنی بے تحاشا مصروفیات کے باوجود وہ سالن پکا کر جاتیں۔ آٹا بھی فریج میں گوندھا ہوا رکھا تھا‘ ہاں گھر کی صفائی ستھرائی عائشہ خود کیا کرتی تھی جب تک آٹا نکال کر سلیب پر رکھا اتنی دیر میں اس نے سالن گرم کرنے کے ساتھ ساتھ سلاد بھی بنالیا تھا عموماً اس ٹائم وہ دونوں اکٹھے کھانا کھالیتی تھیں پھر چائے پینے کے دوران دونوں اپنی دن بھر کی روداد ایک دوسرے کو سناتیں۔ عصر کی نماز ادا کرکے عائشہ تو اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جاتی امی تھوڑی دیر آرام کرنے لیٹ جاتی تھیں۔
آج کل امی تقریباً مغرب کے بعد ہی لوٹ رہی تھیں‘ اسکول سے واپسی پر خالہ اور ممانی کے ساتھ خریداری مہم زوروں پر تھی‘ آج بس زیور فائنل کرنے جانا تھا۔ کھانا کھاتے اس کی چائے بھی تیار ہوگئی تھی‘ مگ میں چائے انڈیل کر اس نے لگے ہاتھوں برتن کھنگال لیے اور کل کے لیے کچن کی تفصیلی صفائی کا پروگرام بناتی چائے لے کر اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ چائے پی کر اس نے نماز ادا کی پھر امی کو کال کرنے پر پتا چلا کہ وہ لوگ ابھی تک مارکیٹ میں ہیں‘ غنودگی کی ہلکی سی لہر محسوس کرتے ہی اس نے کمرہ لاک کیا اور بستر پر ڈھے گئی۔ پتا نہیں کتنی دیر گزری تھی اسے سوئے ہوئے کہ بجلی کڑکنے کی آواز سے وہ دہل کر اٹھ بیٹھی‘ کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا‘ کھڑکی کے شیشے سے آسمانی بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج عجیب سا ماحول بنا رہی تھی۔ عائشہ نے درود پاک پڑھتے ہوئے لائٹ جلائی‘ اسے بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج ہمیشہ بے حد خوف زدہ کرتی تھی۔ ٹائم دیکھنے پر پتا چلا کہ ابھی تو سات بھی نہیں بجے تھے‘ مطلب مغرب کی نماز کا وقت تھا ابھی‘ نماز کی ادائیگی کے بعد اسے امی کا خیال آیا‘ کال کرنے پر پتا چلا کہ وہ خالہ کے گھر ہیں اور بارش رکنے کا انتظار کررہی ہیں۔ امی کو پتا تھا کہ وہ ڈرتی ہے ایسے موسم سے سو انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ پھوپو کے گھر جاسکتی ہے۔ پھوپو کے ذکر پر ایک دم اسے عبدالرحمن یاد آیا تھا‘ پتا نہیں کہاں مصروف تھا کہ تین دن سے اس سے بات ہی نہ ہوپائی تھی۔ پھوپو کے پاس جانے سے بہتر ہے کہ عبدالرحمن سے بات کرلی جائے اس نے سوچا۔
بارش اسی تسلسل سے برس رہی تھی‘ دوسری ہی بیل پر کال ریسیو کرلی گئی‘ عائشہ نے مختصر ساری صورت حال بتاکر کہا کہ وہ ابھی کچھ دیر اس سے بات کرتا رہے تاکہ ایسے موسم میں وہ اکیلی نہ رہے‘ یہ خوف رفع ہوجائے۔
’’بات…‘‘ عبدالرحمن نے کچھ لمحے سوچا۔ ’’تم فون بند کرو میں خود آرہا ہوں‘ ایک سرپرائز دینا چاہ رہا تھا کچھ دنوں سے‘ مصروفیت نے موقع ہی نہیں دیا ویسے بھی کزن کے لحاظ سے یہ آخری ملاقات ہو شاید اس کے بعد تو باضابطہ آپ کو اپنے نام کرالیں گے پھر ہی مل سکیں گے۔‘‘
’’مم… مگر عبدالرحمن… میں اکیلی ہوں اور موسم بھی ٹھیک نہیں ہے تو ایسے میں مناسب نہیں لگتا۔ امی آجائیں پھر آجانا‘ وہ کون سا منع کرتی ہیں ملنے سے۔‘‘ عائشہ نے گھبرا کر کہا۔
’’تم نے جب سے انگوٹھی پہنی ہے ناں عائشہ میرے نام کی‘ تم پر غصہ بھی نہیں آتا ورنہ تم مجھے بھی جانتی ہو اور میری فطرت سے بھی واقف ہو۔ سب سے بڑھ کر میری ماں کی تربیت ہی ایسی تھی کہ اٹھتے بیٹھتے انہوں نے اپنے نفس کو پچھاڑنے اور اس پر قابو پانے کے اتنے اسباق گھول کر پلا دیئے کہ میں مر تو سکتا ہوں مگر اپنی ماں کے فخر کو خاک میں ملانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘
’’ٹھیک کہا تم نے عبدالرحمن… مجھے خدانخواستہ تمہاری نیت اور کردار پر کوئی شک نہیں اور یقین مانو تو میں تمہارے کردار کی ہی اسیر ہوکر یہاں تک آئی ہوں لیکن ایک بات تو طے ہے ناں کہ ابلیس مردود کا ابد تک اللہ کے بندوں کو بہکانے کا وعدہ ہے اور میں نے خود پڑھا تھا ایک بار کہیں الفاظ اور ان کی ترتیب شاید ٹھیک نہ ہو مگر مفہوم یہی تھا کہ انسان کتنا ہی نیک اور پارسا کیوں نہ ہو‘ اس کا دل چٹیل میدان میں اڑنے والے ایک ٹوٹے پتے کی مانند ہے جسے نفس کی ہوا کبھی شر کی طرف اڑالے جاتی ہے تو کبھی خیر طرف۔ خیر تم آجائو‘ میں تمہارے سرپرائز کی منتظر ہوں۔‘‘ عائشہ نے کہہ کر کال ڈراپ کردی اس نے کھڑکی کھول کر برستی بارش کا جائزہ لیا گرج چمک تو ماند پڑگئی تھی مگر بارش اسی تواتر سے برس رہی تھی‘ دوپٹہ سر پر اوڑھ کر وہ کمرے سے باہر آگئی برآمدے میں ایک لمحے رک کر تڑاتڑ برستی بارش کو دیکھا پھر تیزی سے چھوٹا سا صحن عبور کرکے کچن میں آگئی۔ چائے پکنے تک اس نے کیبنٹس کھنگال کر نمکو اور بسکٹ بھی برآمد کرلیے اور کل کے لیے گھر کی خریداری میں مزید اور چیزیں بھی شامل کرلیں۔ مہمانوں کے لیے خاطر مدارت کا سامان ختم ہوچکا تھا‘ امی یقینا اس کی شادی کی خریداری میں کچن کا سامان لینا نظر انداز کر گئی تھیں۔ بھیگا ہوا عبدالرحمن کچھ دیر بعد کچن کے دروازے میں کھڑا تھا۔
’’اوہ تم لگتا ہے درمیان سے آئے ہو باڑھ پھلانگ کر‘ میں دروازے پر دستک کا انتظار کررہی تھی اور سوچ رہی تھی اتنی دور جاکے تو میں بھیگ جائوں گی‘ تم نے میرا کام آسان کردیا۔‘‘ عبدالرحمن کے سلام کے جواب میں وہ مسکرا کر بولی کیونکہ بیرونی دروازہ تھوڑا دور اور باہر کی طرف تھا۔
’’اچھا عبدالرحمن… اب ٹرالی کو تیزی سے بارش سے بچا کے اندر لے چلو میں چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ اس نے چائے کی ٹرے اٹھاتے ہوئے کہا پھر دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے عائشہ کے کمرے میں آگئے تھے۔
’’آمنہ کا کچھ پتا چلا۔‘‘ چائے پینے کے دوران عائشہ نے پوچھا تو خوشگوار موڈ میں بیٹھے عبدالرحمن کے تاثرات ایک دم پتھریلے ہوگئے۔
’’نہیں اور نہ ہی میں اس وقت مزید یہ ذکر سننا چاہتا ہوں‘ تم ذرا یہ دیکھو۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہہ کر جیب سے ایک ڈبیہ نکالی۔
’’کیا ہے؟‘‘ عائشہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’اسی سرپرائز کے لیے تو کسی ایسے دن کے انتظار میں تھا‘ بہت دن پہلے لے کر رکھی ہوئی تھی۔ روز نکال کر دیکھتا تھا اور سوچتا تھا کہ کب اسے تمہارے ہاتھوں کی زینت بنائوں گا‘ لائو ہاتھ…‘‘ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
’’پھوپو نے پہنا تو دی تھی عبدالرحمن مگر میں سچ کہتی ہوں کہ تم بھی پورے مسٹر مولوی رومینس ہو۔‘‘ عائشہ نے مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھایا‘ عبدالرحمن نے بڑے پیار سے سفید نگ والی انگوٹھی اسے پہنادی تھی۔
’’اوکے مولوی رومینس… اب تمہیں جانا چاہیے‘ بارش کا زور ٹوٹ چکا ہے‘ امی نکل چکی ہوں گی۔ میں بھی اب ذرا کتابوں کا درشن کروں‘ آج کا دن ضائع ہوگیا میرا۔‘‘ اسے بغور خود کو دیکھتے پاکر وہ کھڑی ہوتے ہوئے بولی‘ عبدالرحمن بھی سر ہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ دروازے تک دونوں ساتھ آئے تھے جب اچانک لائٹ چلی گئی تھی‘ اسی دم بادل کے زور سے گرجنے پر بے ساختہ عائشہ نے عبدالرحمن کے بازو کو گرفت میں لیا تھا۔
’’ذرا رک جائو عبدالرحمن‘ میں ایمرجنسی لائٹ جلالوں۔‘‘ اس کی کپکپاتی آواز پر جذبات کے ایک منہ زور ریلے نے عبدالرحمن پر اپنا غلبہ پایا تھا‘ نجانے کیا ہوا اس نے عائشہ کے نرم و نازک وجود کو خود میں سمیٹ لیا تھا‘ اس کی بے خودی اور عجیب سی کیفیت کو عائشہ نے اندھیرے میں بھی محسوس کرلیا تھا اور اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کی تھی مگر ناکامی پر اس کے منہ سے سرگوشی کے انداز میں نکلا تھا۔
’’عبدالرحمن…‘‘ بادل ایک بار پھر زور و شور سے گرج رہے تھے۔
ء…/…ء
کتنی دیر وہ اپنے خون آلود ہاتھوں کو دیکھ دیکھ کر رو رہا تھا‘ زخمی ہاتھوں کو پھر شیشے کی میز پر مارتا مگر ہر بار کی تکلیف پر بھی وہ تکلیف دل اور ضمیر کی اس تکلیف پر حاوی نہ ہو پارہی تھی جو اسے لمحہ لمحہ مارے دے رہی تھی۔ فخر و زعم کا وہ بت اس کے سامنے پاش پاش ہوا پڑا تھا جس کی نمو اس کی ماں کے ہاتھوں ہوئی تھی اور جس کی آبیاری ان ماں بیٹے نے عمر بھر کی تھی یہ بات بھول کر کہ تکبر صرف اس پاک ذات کی چادر ہے اور اسی پر جچتی ہے جس ہستی کو دیکھ کر وہ جیتا تھا جس کے سامنے ہر قسم کا دکھ بیان کرکے وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا تھا۔
آج اس معصوم پھول جیسی کلی کو اسی زعم میں اس نے مسل دیا تھا‘ جس پل اس پر چھایا نفس کا خمار چھٹا وہ پورے قد سے نیچے آن گری تھی اسے دیکھے‘ سنبھالے بغیر وہ برستی بارش میں وہاں سے بھاگ نکلا تھا۔
’’اے میرے اﷲ میں کس کس سے معافی مانگوں گا‘ مجھے تو اس نے کئی لوگوں کو ٹھکرا کر اپنا راہبر جانا تھا۔ میں ہی اس نازک سی لڑکی کے لیے راہزن بن گیا‘ ہر اس پل اس نے مجھے خبردار کرنا چاہا‘ نفس نامی بلا سے بچانا چاہا جو ہر لمحہ انسان کے ایک غافل پل کو چور راستہ بنا کر اسے پچھاڑ ڈالتی ہے۔‘‘ اس نے ایک بار پھر اپنے زخمی ہاتھوں کو زور سے ٹوٹے شیشے پر مارا اور زارو قطار رونے لگا۔ ایک گناہ اسے پاگل کرنے کا‘ دوسرا جرم یہاں آکر چھپ کر بیٹھ جانے کا۔
’’میں جائوں گا‘ مجھے ہی اسے سمیٹنا ہے‘ اس کے پائوں پڑ کر معافی مانگوں گا۔ میں… میں آج ہی اس سے نکاح کروں گا‘ ایسے اسے زندہ درگور نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ خود فراموشی کے اس عالم میں شعور نے ایک نئی راہ سجائی تو وہ تیز تیز قدموں سے جانے پہچانے راستوں کو طے کرنے لگا‘ پوری زندگی میں ایک بھی نماز نہ قضا کرنے والا عبدالرحمن عمر بھر کی ریاضت کو قضا کر آیا تھا۔ گھڑی پر ٹائم دیکھنے پر پتا چلا کہ وہ خونی سیاہ رات اختتام پذیر ہونے کو تھی۔
رات کو وہ عشاء کی نماز پڑھ کر نکلا تھا اور اب فجر کی اذانوں کی گونج ہر سو ایک عجیب سحر طاری کررہی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اسے اس فجر سے خوف آیا‘ اس بلاوے سے خوف آیا‘ اللہ کی پکڑ سے خوف آیا۔ دل تیز تیز دھڑک کر کسی انہونی کا پتا دے رہا تھا۔ ایمبولینس کے تیز سائرن اس کی ساری توانائی نچوڑ کر لے گیا‘ وہ سانس روکے وہیں رک گیا۔
’’میرا گناہ تو سنگسار کیے جانے سے بھی بڑا ہے‘ مجھے ہزار بار تیری سزا قبول ہے میرے مالک… مگر برے وقت کی جو آہٹ میں سن رہا ہوں‘ وہ صرف اندیشہ ہو سچ نہ ہو۔ خطائیں بخشنے والے میری خطا کو درگزر کردے۔‘‘ زبان پر کچھ کہنے کی تاب نہیں تھی مگر دل تھا کہ معافی کے سجدے پر سجدے کررہا تھا۔ تھوڑا آگے آنے پر اپنے محلے میں اسی ستمگر کے گھر کے آگے رکی ایمبولینس اس میں سے ڈیڈ باڈی نکالتا ہسپتال کا عملہ عائشہ کے ننھیال کے نڈھال سے مرد‘ دروازے میں بین کرتی مامی‘ اسے لگا کسی نے اس کی گردن کے گرد پھندا ڈال کر کسنا شروع کردیا ہو۔
’’اللہ معاف کرے ایسی ناگہانی سے‘ جوان جہان بچی تھی بے چاری‘ اچانک ہی بلڈ پریشر ہائی ہوا اور دماغ کی شریان پھٹ گئی۔‘‘
’’بس جی قیامت کی نشانیں ہیں یہ سب‘ پہلے موت عمر رسیدگی اور بیماری پر ہوتی تھی اب تو زندگی سستی ہے‘ موت ہے کہ نہ جوان دیکھ رہی ہے نہ بچہ‘ سنا ہے بچی کی شادی طے تھی اگلے ماہ۔‘‘
’’شریف عوت ہے ملک صاحب کی بیوہ… عمر بھر دنیا کے جھمیلوں سے بچا کر رکھا بچی کو‘ اب آخری عمر میں جب اس کی خوشیاں دیکھنے کا وقت آیا داغ مفارقت دے گئی ماں کو۔ واہ میرے مالک‘ کیا کیا مصلحت کے راز تُو نے پوشیدہ رکھے ہیں ہر کام کے پیچھے۔‘‘ محلے کے لوگ جمع تھے ہر زبان اپنی ہی بات الاپ رہی تھی اس نے اپنے گلے کے گرد سے وہ نادیدہ پھندہ ہٹانا چاہا پھر نجانے کیا ہوا کہ اس کے قدم واپسی کی طرف مڑنے لگے۔ ہوا کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر لینے کی کوشش میں اس نے مدد طلب نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا‘ گھٹن شدید سے شدید تر ہورہی تھی۔
’’مولوی رومینس… تمہیں اب گھر جانا چاہیے‘ جتنے بھی پارسا صحیح عبدالرحمن ہو تو نامحرم ناں میرے لیے… چادر تو لیتی ہوں عبدالرحمن عبایا اور حجاب کی ابھی عادت نہیں ہے مجھے مگر تمہاری محبت میں یہ بھی کر گزروں گی۔‘‘ اس خوب صورت آواز نے اس کے گرد شکنجہ کسنا شروع کیا جو اسے کبھی نہیں سنائی دینے والی تھی‘ یہ سوچ کر وہ آخری دموں پر آگیا کہ اب وہ من موہنی صورت منوں مٹی تلے چلی جائے گی۔ تیز تیز دوڑتا وہ ٹھوکر کھا کر گرا اور ہوش و حواس سے عاری ہوگیا۔
توازن ہی کائنات کا اصول ہے‘ توازن ہی میں زندگی کا حسن ہے۔ اسی سے چیزوں میں ترتیب آتی ہے‘ اسی سے زندگی میں حسن ہے‘ انتہا پسندی اور شدت ہر چیز کو برباد کرتی ہے‘ رویوں‘ جذبوں‘ چیزوں کو اور کبھی کبھی زندگی کو بھی۔ عبدالرحمن آج بھی اس ایک پل کی غفلت کی معافی کی تلاش میں قریہ قریہ بھٹک رہا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close