Aanchal Jan-18

نیا سال اور تم

قرۃ العین سکندر

’’بی جان مجھے جلدی سے کھانا دے دیں‘ سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ سمن نے کالج سے آتے ہی بھوک کی گردان شروع کردی اور بی جان نے ایک خشمگیں نگاہ سے سمن کو نوازا تھا۔
’’نامعلوم کب اس لڑکی کو عقل آئے گی‘ جاکر منہ ہاتھ دھوئو‘ کھانا تیار ہی ہے گھڑی بھر دم تو لو۔‘‘ بی جان نے اسے سرزنش کی تو سمن نے لاڈ سے اپنی گداز بانہیں ان کے گرد حمائل کردیں۔
’’ارے میری پیاری بی جان‘ کیوں خفا ہوتی ہیں‘ میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوتی ہوں بے تحاشا لذت آمیز خوشبوئیں میرے نتھنوں سے ٹکراتی ہیں۔ دل خودبخود کچن کے چکر لگانے لگتا ہے اور پھر یہ تو آپ کے ہاتھ کی لذت کی تاثیر ہے۔‘‘ اس نے بی جان کے گال پر بوسہ دیا تو بی جان قدرے نرم ہوئیں۔
’’جائو اب زیادہ مکھن نہ لگائو بات تو کوئی سمجھ آتی نہیں ماں کی اب ان گندے ہاتھوں سے کھائو گی تو بیمار پڑجائو گی۔‘‘ بی جان نے اسے کباب اٹھاتے اور منہ میں رکھتے دیکھ کر کہا۔
’’اور نہیں تو کیا چچی جان‘ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ کھا کھا کر یہ تو موٹی بھینس بنتی جارہی ہے‘ مجھے تو اس مظلوم شخص سے بہت ہمدردی ہے جو مستقبل قریب میں اس کا بوجھ اٹھانے والا ہے یعنی شوہر نامدار بننے والا ہے۔‘‘ تبھی کچن میں زین نے داخل ہوتے ہوئے سمن کو مضحکہ خیز انداز میں نشانہ بنایا۔ سمن جو کباب کے لطف سے محظوظ ہورہی تھی‘ زین کے ان فرمودات سے سخت مشتعل ہوئی۔
’’ہونہہ تم تو اپنی زبان بند ہی رکھا کرو۔‘‘ سمن کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔
’’سمن یہ کیا طریقہ ہے بڑے بھائی سے بات کرنے کا۔‘‘ بی جان نے اسے ڈانٹا۔
’’یہ نہیں ہیں میرے بھائی وائی‘ اللہ کے فضل و کرم سے میرے اپنے تین شیر جوان بھائی موجود ہیں یہ تو کوئی دشمن ہیں جو کوئی وار خالی نہیں جانے دیتے۔‘‘ سمن نے خفگی سے کہا اور کچن سے واک آئوٹ کر گئی‘ تعاقب میں زین کا قہقہہ گونجا۔
ء…/…ء
سمن تین بھائیوں کی اکلوتی اور لاڈلی بہن تھی‘ یکے بعد دیگرے ہونے والے بیٹوں کی پیدائش نے زہرہ بیگم اور ان کے مجازی خدا حمزہ بیگ کے دل میں ازخود بیٹی کا ارمان جگادیا تھا۔ زہرہ بیگم جب جٹھانی کی گود میں دو بیٹیاں دیکھتیں تو حسرت بڑھ جاتی۔ دنیا کا عجیب دستور ہے جٹھانی بیٹے کی متمنی تھیں اور دیورانی بیٹی کی چاہت میں ہلکان ہورہی تھی۔
یہ تو رب العزت کی دین ہے‘ کسی کو رحمت سے نوازتا ہے اور کسی کو نعمت عطا کردیتا ہے مگر دونوں کی دعائوں نے ایک ساتھ رنگ دکھایا تھا۔ جٹھانی کے ہاں زین کی پیدائش ہوئی اور دیورانی نے چند ماہ بعد ایک گلابی سی گڑیا کو جنم دیا جس کا نام سمن رکھا گیا تھا۔
زاہد اور حمزہ دونوں بھائی شیر و شکر ہوکر رہ رہے تھے‘ دوسری طرف جٹھانی دیورانی میں بھی روایتی چپقلش نہ تھی بلکہ یہ مکمل طور پر ایک خوش حال گھرانے کی اعلیٰ مثال تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گھر سے برکت نہ اٹھی‘ باہمی محبت نے گھر میں برکت بڑھادی تھی جو بھی معاملات درپیش ہوتے تھے باہم مل جل کر سلجھالیے جاتے تھے۔ لوگ بیگ ہائوس کی مثالیں دیا کرتے تھے‘ ایسی یگانگت اور بھائی چارہ کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔
فی زمانہ تو حسد اور کینہ نے ان اعلیٰ اوصاف کو گھن کی طرح چاٹ لیا تھا مگر اس ساری صورت حال میں ان دونوں بھائیوں کی بیگمات کا بھی پورا کمال تھا۔ جو ہر معاملہ باہم خوش اسلوبی سے حل کرلیا کرتی تھیں۔
’’شام کو نادیہ کو دیکھنے رشتے والے آرہے ہیں‘ میرے تو ہاتھ پائوں پھولے جارہے ہیں‘ نامعلوم یہ سب کیونکر ہوپائے گا۔‘‘ صبا بیگم نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔
’’ارے بھابی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں‘ میں سارے انتظامات دیکھ لوں گی۔ نادیہ اور عابدہ میری بھی تو بیٹیاں ہیں‘ میں نے کبھی اپنی سمن اور ان میں فرق نہیں روا رکھا‘ آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں اللہ پاک سے اچھے کی توقع رکھیں۔‘‘ زہرہ بیگم نے ان کے ہاتھ تھام کر حوصلہ بڑھایا‘ صبا بیگم نے ممنونیت بھری نگاہوں سے دیورانی کو دیکھا پھر شام کو آنے والے مہمانوں کی تمام خاطر تواضع عین وعدے کے مطابق دیورانی نے کی نہ صرف یہ بلکہ نادیہ کو تیار کرکے خود ڈرائنگ روم میں لائی تھیں۔
آنے والی دونوں خواتین نے نادیہ کو بھرپور نگاہوں سے دیکھا‘ پرکھا‘ تولا اور ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے اشارہ کیا۔ انہیں گھر کا رکھ رکھائو اور نادیہ دونوں ہی پسند آئی تھیں‘ یوں آناً فاناً رشتہ طے ہوگیا تھا۔ گھر میں شادی کا غلغلہ اٹھ کھڑا ہوا تھا‘ نادیہ کے سسرال والوں نے تو گویا ہتھیلی پر سرسوں جما رکھی تھی انہیں شادی کی بھی بہت جلدی تھی اور نادیہ کی چاہت بھی بہت تھی۔ اتنے قدردان لوگ مل جانے پر صبا بیگم کی آنکھیں بھر بھر آتی تھیں۔
یہاں بھی دیورانی نے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کیں اور ہر معاملے میں جٹھانی کا ساتھ دیا۔
ء…/…ء
ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں نغمگی سے سُر چھیڑ رہی تھیں‘ کبھی جلترنگ سی بکھر جاتی تھی جب ڈھولک اور سروں میں میل تال نہ رہتی تھی۔ پورا گھر قمقموں سے سجا سنورا تھا‘ صبا بیگم غمزدہ سی تھیں‘ کل ان کی بیٹی نے وداع ہوکر پیا گھر سدھار جانا تھا مگر ضبط کیے بیٹھی تھیں۔
گھر میں خوب رونق تھی‘ ہر جانب افراتفری پھیلی تھی‘ سب مہندی کے لیے تیاریوں میں لگے تھے۔ محلے کی خواتین ڈھولکی پر شادی کے رنگیلے گیت گانے میں مصروف تھیں۔ کبھی کبھی فضا کسی سوگوار سے نغمے سے افسردہ ہوجاتی تھی اور پھر فوراً ہی سُر بدل جاتے اور فضا میں خوشی کے سچے موتی بکھر جاتے۔
آج تو سمن کی چھب ہی نرالی تھی‘ دودھیا مرمریں ہاتھوں میں چوڑیوں کی کھنک لیے آنکھوں میں کاجل لگائے‘ بالوں میں گجرے سجائے وہ مہکتی کھلکھلاتی ہوئی اِدھر اُدھر بھاگتی پھر رہی تھی۔ آج سے قبل زین نے کبھی اپنے نہاں خانوں میں سمن کے لیے ایسے جذبات امڈتے نہ دیکھے تھے مگر آج تو جیسے سمن اس کے حواسوں پر چھائی جارہی تھی جب سمن اس کے پاس سے گزرتی تھی وہ سمن کی دلفریب خوشبو کی لپیٹ کے سحر میں خود کو مقید پاتا تھا۔ سمن اس کے دل میں ہلچل مچا کر انجام بنی پھر رہی تھی۔ بارہا زین کی ارتکاز لیے نگاہوں کی تپش سے اس نے جھنجھلا کر موصوف کو دیکھا اور دل میں پکا ارادہ باندھ چکی تھی کہ ابھی جا کر تائی جان سے ان کے بیٹے کی شکایت کرتی ہے مگر پھر کسی نہ کسی کے بلاوے پر بھول بھال کر خوش گپیوں میں مصروف ہوجاتی تھی۔
’’عابدہ جائو بہن کو لائو۔‘‘ فوٹو سیشن کا دور چل نکلا تھا‘ عابدہ اور سمن نادیہ کو لینے کمرے میں آئیں جہاں نین کٹورے بھرے نادیہ سوگواریت لیے بیٹھی تھی۔
’’یہ کیا نادیہ آپی… آپ کی ان حسین آنکھوں میں آنسو نہیں جچتے۔‘‘ سمن نے لگاوٹ سے کہا تو نادیہ کو اور بھی زیادہ رونا آنے لگا‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
’’ارے آپی روئیں تو ناں‘ بس خوشی کے موقع پر یوں رونا کوئی اچھی علامت تو نہیں پھر تائی جان بھی اداس ہوجائیں گی۔‘‘ سمن نے ایک دم سنجیدگی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں کہا تو نادیہ نے جھٹ اپنے آنسو پونچھ ڈالے‘ وہ ماں کو آزردہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔
شرمگیں چہرہ لیے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں سر نیچے کیے بیٹھ گئی تھی۔ صبا بیگم نے دل ہی دل میں اپنی بیٹی کی ڈھیروں بلائیں لے ڈالی تھیں۔ سمن نادیہ کے پہلو سے لگی نادیہ کو اپنی خوش گفتاریوں سے بہلا رہی تھی‘ اس کی باتو نے اپنا اثر دکھایا تھا‘ مدھر سی مسکان نادیہ کے لبوں نے چھولی تھی۔ کسی بات پر سمن نے شرارتی انداز میں قہقہہ لگایا تو زین نے جھٹ اپنے کیمرے میں یہ انمول پل محفوظ کرلیے تھے۔
ء…/…ء
آج بارات کے ساتھ نادیہ نے پیا گھر رخصت ہوجانا تھا‘ گھر کی بجائے شادی ہال میں تقریب سعید کا اہتمام کیا گیا تھا‘ سب وقت مقررہ پر وہاں پہنچ گئے تھے۔ نادیہ ابھی پارلر سے تیار ہوکر نہیں آئی تھی ادھر بارات کے آنے کا وقت ہوچلا تھا‘ تائی جان بوکھلائی ہوئی پھر رہی تھیں۔
’’زین جاکر بہن کو لے آئو۔‘‘ زہرہ بیگم نے زین کو ایک جانب لے جاکر کہا۔
’’جی چچی جان… میں بس جانے ہی والا تھا۔‘‘ ابھی زین کے الفاظ ادا ہی ہوئے تھی کہ خرم سمن اور نادیہ کے ساتھ آتا دکھائی دیا۔ خرم نے بھی بھائی ہونے کا حق ادا کیا تھا‘ زہرہ بیگم نے طمانیت کی سانس لی۔
زین کی نگاہوں نے سمن کے سراپے کا احاطہ کر رکھا تھا‘ آج کامدار کپڑوں گہرے میک اپ میں وہ بے حد خوب صورت لگ رہی تھی۔ نادیہ کے ساتھ ساتھ وہ بھی پارلر سے تیار ہوکر آئی تھی‘ بالوں کا اسٹائل بے حد دلکش تھا۔ جب زین اور سمن کی نگاہیں آپس میں ٹکرائیں تو سمن زین کی نگاہوں سے ہویدا ہوتی محبت کی مہر کو دیکھ کر پل بھر کے لیے سخت متعجب ہوئی تھی۔ اگلے ہی پل اسے اپنا وہم جان کر جھٹک بھی گئی تھی‘ زین تو اس کا ازلی دشمن تھا۔ بچپن سے اس کی شکایتوں کا ایک انبار ہوا کرتا تھا‘ سمن کی پل پل کی شرارت کی خبریں بڑوں تک کیسے رسائی پاتی ہیں۔ ایک طویل عرصہ دراز تک سمن کے لیے یہ معمہ ہی بنارہا تھا‘ مگر ایک روز اس نے ازخود زین کو بی جان سے اس کے خلاف زہر اگلتے دیکھ لیا تھا۔
تب سے ایک نامعلوم سی خلیج زین اور سمن کے درمیان قائم ہوچلی تھی‘ جسے بڑے تو ان کی نادانی سمجھ کر درگزر کردیتے مگر سمن تو اس معاملے میں بہت سخت تھی۔ نفرت اور محبت دونوں میں شدت پسند واقع ہوئی تھی پھر نادیہ بڑوں کی دعائوں کے حصار میں آنسو بہاتے رخصت ہوگئی تھی۔ گھر ایک دم نادیہ کے جانے کے بعد سونا سونا سا لگنے لگا تھا‘ سب ہی مضمحل اور نڈھال سے تھے اور تو اور ہر دم چہکنے والی سمن بھی آزردہ سی تھی۔
ء…/…ء
’’پر آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ صبا بیگم نے قدرے حیرت سے کہا۔
’’بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں‘ نادیہ کی قسمت میں لکھا تھا تو اس کی شادی غیروں میں ہوگئی مگر عابدہ میری بیٹی ہے۔ خرم نے بھی اپنی پسند سے آگاہ کردیا ہے اب خرم عابدہ کی امانت ہے‘ آپ اس کے لیے بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔‘‘ زہرہ بیگم نے بے حد سبھائو سے بات کی تو صبا بیگم نے ممنونیت بھرے انداز میں دیورانی کو دیکھا۔
’’میں کس طرح تمہارا شکریہ ادا کروں۔‘‘ وہ گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’ارے شکریہ تو میں ادا کرتی ہوں آپ اپنے جگر کا ٹکڑا مجھے دیں گی میں بھی ایک بیٹی کی ماں ہوں۔ بیٹی کی چاہت اور قدر جانتی ہوں‘ جلد ہی گھر میں منگنی کی تقریب بھی رکھ دیں گے۔ نادیہ سے پوچھ لیتے ہیں وہ کس وقت آسانی سے شرکت کرسکے گی‘ اب بھابی یہ بات پکی ہے۔‘‘ وہ بے حد محبت سے بولی تھیں‘ پھر دونوں بھاوجیں ایک دوسرے سے گلے ملی تھیں‘ محبت نے مسکرا کر اس منظر کو دیکھا تھا۔
ء…/…ء
’’اب میں کیسے اپنی دوست کی سالگرہ میں جائوں گی؟‘‘ سمن نے منہ بسورتے ہوئے کہا‘ زین قدرے فاصلے پر بیٹھا اس کی روتی صورت دیکھ رہا تھا۔
’’دیکھو اگر خرم فارغ ہوتا تو میں اسے تمہارے ساتھ بھیج دیتی مگر وہ بھی فارغ نہیں ہے اور اسجد اور اسد شام گئے آتے ہیں۔ اس وقت میں تمہیں اکیلے بھیجنے کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘ زہرہ بیگم نے ناصحانہ انداز میں اسے باور کرواتے ہوئے کہا مگر سمن کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
’’چچی جان اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں سمن کو چھوڑ آتا ہوں‘ واپسی کی بھی فکر نہ کیجیے گا میں ہی لے آئوں گا۔‘‘ زین نے ایک دلکش آفر کی جس پر سمن نے پٹ پٹاتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا‘ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ زین ہے جو ہر لحظہ اسے رلانے اور ستانے میں مہارت رکھتا تھا پھر اس کے آنسو دیکھ کر بھی نہ پگھلتا تھا اب سمن کو کوئی کیسے سمجھا تاکہ زین کے پر دل پر سمن کا نام نقش ہوچکا تھا۔ دل کے نہاں خانوں پر جب ایک مرتبہ کسی کا نام درج ہوجائے تو وہ پھر مٹ نہیں سکتا اگرچہ حالات و واقعات اس کے نقوش مدھم کردیتے ہیں مگر ازل سے لکھا ہوا نام مٹتا نہیں ہے۔ اب زین کو احساس ہورہا تھا کہ اسے تو ایک عرصے سے سمن سے عشق تھا۔
’’تم… مگر بیٹا تم کیسے جائو گے؟‘‘ زہرہ بیگم بھی اس کایا پلٹ پر محو حیرت ہوئیں۔
’’کیوں چچی جان میں کیوں نہیں جاسکتا سمن کو چھوڑنے۔‘‘ زین نے ہنس کر پوچھا۔
’’ارے میرا یہ مطلب تھوڑا ہی تھا۔‘‘ چچی جان جھینپ سی گئیں۔
’’ٹھیک ہے اگر تم اپنی ذمہ داری پر اسے لینے اور چھوڑنے جاسکتے ہو تو مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ یہ سنتے ہی سمن نے تیاری کے لیے دوڑ لگادی‘ زین اس کی بچگانہ حرکت پر ہنس دیا پھر جب سمن سجی سنوری آئی تو زین کو لگا جیسے اس کا دل ہی دھڑکنا بھول گیا ہو۔ وہ مجسم سراپا حسن تھی‘ میرون کلر کے لانگ فراک اور پاجامے میں وہ کھلی زلفیں لیے اس کے گرم جذبوں کی حدت سے قطعاً انجان کھڑی تھی۔ جب وہ زین کے ہمراہ بائیک پر بیٹھی تو زین کو لگا جیسے وہ ہوائوں کے دوش پر اڑا جارہا ہو۔ محبت اسے کشاں کشاں لیے جارہی تھی‘ جبکہ ساتھ بیٹھی سمن کو دوست سے ملنے کی بے تابی تھی‘ وہ اپنے خیالوں میں اتنی منہمک تھی کہ جب بائیک ایک دم رکی تو وہ چونک سی گئی‘ زوبیہ اسے لینے باہر تک آئی تھی۔ پھر نجانے دونوں نے ایک دوسرے کے کانوں میں کیا کہا کہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دی تھیں‘ زین واپس پلٹ گیا تھا۔
’’وائو یہ موصوف کون تھے؟‘‘ زوبیہ نے راز درانہ انداز میں اس سے پوچھا۔
’’یہ میرے کزن ہیں۔‘‘ اس نے بے فکری سے کہا۔
’’بہت ہی ڈیشنگ پرسنالٹی ہے‘ بہت ہینڈسم ہے تمہارا کزن۔‘‘ زوبیہ نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
’’اچھا مجھے تو نہیں لگتا ایسا۔‘‘ اس نے اعتنائی کی حد کردی تھی۔
’’ہاں وہ کیا کہتے ہیں کہ گھر کی مرغی دال برابر‘ ویسے کیا اس کی کہیں منگنی ونگنی ہوگئی ہے؟‘‘ زوبیہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’ارے یہ تم نے کیا زین نامہ لگا دیا آتے ہی‘ سارا موڈ کرکرا کردیا میرا۔ تم کیوں اتنے سوال کررہی ہو؟‘‘ سمن نے بدمزہ ہوتے ہوئے کہا‘ اسے زین کی اتنی تعریف اور زین کے نام کی تکرار قطعاً پسند نہ آئی تھی۔ زوبیہ اس کے انداز پر وقتی طور پر خاموش ہوگئی تھی اور حیرت زدہ بھی کہ سمن کیوں اتنی چڑچڑی ہورہی تھی۔
ء…/…ء
گھر میں کھلبلی سی مچ گئی تھی‘ نادیہ کی شادی میں کسی خاتون نے سمن کو دیکھا تھا اور انہیں سمن بے حد بھائی تھی اب وہ سمن کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی تھیں۔ لڑکا پڑھا لکھا سلجھا ہوا تھا‘ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا پھر ان خاتون کا محبت بھرا اصرار دیکھ کر بمشکل سوچنے کی مہلت لی گئی تھی۔ گھر میں باہم مشورہ ہورہا تھا۔
’’سمن سے بھی اس بابت پوچھ لیا جائے تو بہتر ہے۔‘‘ صبا بیگم نے مشورہ دیا۔
’’بھلا سمن کیا کہے گی‘ وہ اتنی ناسمجھ ہے اسے اپنے برے بھلے کی کیا پہچان؟‘‘ زہرہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔
’’کہتی تو ٹھیک ہی ہو مگر آج کل کے دور میں بچوں کی رائے کو بھی اہمیت دینی چاہیے‘ بالآخر زندگی تو ان کو ہی گزارنی ہے۔‘‘ سمن کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا جب سمن سے پوچھا گیا تو اس نے سر جھکا کر آمادگی ظاہر کردی۔
وہ لوگ اگلے ہفتے باقاعدہ منگنی کی رسم کرنے آنے والے تھے‘ گھر کی چہ میگوئیاں جب زین کے کانوں میں پڑیں تو وہ بوکھلا کر رہ گیا۔ ابھی تو محبت نے اس کے دل پر دستک دی تھی‘ ابھی تو اس نے روپہلے خوابوں کی کرنوں کا عکس سمن کی آنکھوں میں اترتے بھی نہ دیکھا تھا کہ جدائی کا بھونچال آگیا تھا۔ اسے یہ بات اس قدر گراں گزری تھی کہ اس نے سختی سے اپنے لب بھینچ لیے تھے اور اس نے دل میں پکا عہد کرلیا تھا کہ آج ہی صبا بیگم سے دو ٹوک بات کرے گا‘ وہ زین ہی کیا جو اپنی محبت کو یوں لٹتا ہوا دیکھتا رہے۔
ء…/…ء
’’امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں‘ زین اور میں…‘‘ سمن کا مارے حیرت کے برا حال ہوا۔
’’ہاں بیٹا اس میں حرج ہی کیا ہے‘ پھر زین کا ہی اصرار ہے کہ وہ شادی کرے گا تو صرف سمن سے‘ اب بتائو گھر کا دیکھا بھالا بچہ ہے۔ نہایت باادب اور نیک پھر چاہت بھرا دل لیے ہاں کا منتظر بھی۔ میں تو ہاں ہی کہوں گی سوچا ایک بار تم سے بھی بات کرلی جائے۔‘‘ زہرہ بیگم تو تمام معاملات طے کیے بیٹھی تھیں۔
’’امی میں ہرگز اس سے شادی نہیں کرسکتی‘ آپ کے لیے ہوگا ہونہار تابعدار مگر میرے حق میں تو وہ ہمیشہ ہی برا ثابت ہوا ہے۔‘‘ وہ رونے والی ہوئی۔
’’یہ تم کیسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہو‘ ہوش میں تو ہو۔ میں نے تو بس رسماً ہی یہ بات کی تھی ورنہ میں اور تمہارے بابا گھر کا بچہ ہوتے ہوئے کیوں باہر کا رشتہ دیکھیں۔ ہم دونوں راضی ہیں‘ تم بھی اپنا دماغ درست کرلو‘ ایک دن ٹھنڈے دل سے اس کے بارے میں سوچ لو۔‘‘ وہ ساری بات اس پر ڈال کر چل دی تھیں‘ سمن سخت شش و پنج میں تھی۔ زین کے لیے اس کے دل میں کبھی کسی جذبے نے سر نہیں ابھارا تھا بلکہ اس کی رائے زین کے متعلق خاصی بری رہی تھی۔ اگرچہ اب وہ سوچنے پر مجبور تھی کہ چند دنوں سے زین کیوں اسے تنگ نہیں کررہا تھا کیوں اس کی ہر بات پر لبیک کہہ رہا تھا۔ یہ معمہ تو حل ہوگیا تھا مگر اب وہ کیا کرتی کہ دل کسی طور پر بھی زین کے لیے آمادگی کا اظہار نہ کررہا تھا مگر سمن نے بھی جیسے ضد پکڑلی تھی وہ زین کے لیے اپنے دل کے بند دروازے وا نہیں کرے گی۔
زین تک بھی سمن کی خاموشی اور لب بستگی کی داستان پہنچ چکی تھی‘ وہ چاہتا تھا کہ کسی طور سمن کو آمادہ کرے۔ ایک فطری جھجک سی تھی جو زین کی خوشیوں میں دیوار بن رہی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اسے آمادہ نہ کر پارہا تھا پھر ایک دن اسے سمن تنہا بیٹھی دکھائی دی اور اس نے بات کرنے کی ٹھان لی۔
’’سمن…‘‘ زین نے اسے پکارا‘ وہ گہری سوچوں میں غلطاں تھی اپنے استغراق سے بری طرح چونکی۔
’’جی کیا بات ہے۔‘‘ زین پر نگاہ پڑتے ہی اس نے اجنبیت اور کھردرے لہجے میں پوچھا۔ زین اس کی بے اعتنائی پر بری طرح سٹپٹا کر رہ گیا۔
’’کیا میں تمہارے انکار کی وجہ دریافت کرسکتا ہوں؟‘‘ زین نے گمبھیر لہجے میں پوچھا۔
’’بالکل بھی نہیں کیونکہ میں آپ کو جوابدہ نہیں ہوں۔‘‘ وہ رکھائی سے بولی۔ اس کی بات پر زین کی آنکھوں میں محبت کے جگنوئوں نے اپنی روشنائی جیسے کھو سی دی تھی۔ کیا وہ اس سے اتنی ہی بے زار اور متنفر تھی‘ وہ محض سوچ کر رہ گیا چند لمحات میں وہ ساکن کھڑا اس کی جانب سے مزید کسی بات کا منتظر تھا مگر وہ ہنوز خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی تھی‘ وہ بے حد خاموشی سے واپس پلٹ گیا۔
’’سمن میں یہ نہیں کہتی کہ تم میرے بھائی سے زبردستی شادی کرو مگر یہ ضرور کہوں گی کہ جس چاہت سے زین تمہارا طلب گار ہے اور جس طرح میری امی تمہیں بالکل مائوں کی طرح پیار کریں گی وہ تم بخوبی جانتی ہو۔ کسی اور آشیانے میں تمہیں وہ خوشی اور آسودگی نہیں مل سکتی۔ ہم سب بچپن سے ساتھ پروان چڑھے ہیں‘ نہ ہم روایتی نندیں ثابت ہوں گی‘ نئے گھر میں ایڈجسٹ کرنا بہت مشکل ہوگا‘ خاص کر تمہارے لیے کیونکہ تم تو کبھی بھی نا سننے کی روا دار نہیں رہی ہو۔ ان تمام نکات پر خوب اچھے سے غور کرلینا‘ ورنہ میرے بھائی کو بھی اچھی لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں۔ زوبی خالہ نے بھی کئی بار زین کو اپنا بیٹا بنانے کی چاہت ظاہر کی ہے اور مجھے ردا بہت پسند ہے‘ بہت سادہ سی ہے مگر وہ رشتوں میں احترام کی قائل ہے۔‘‘ عابدہ تو یہ سب کہہ گئی تھی‘ مگر سمن کے ذہن میں لامتناہی سوچوں کا امڈ آنے والا سیلاب تھا کہ رک ہی نہیں رہا تھا ردا اسی لیے ہر ہفتے ملنے آجاتی تھی۔
ساری گفتگو میں اسے ردا کی بات ہی کھلنے لگی تھی‘ ردا کا بارہا آنا نت نئی ڈشز پکا پکا کر وہ بھی تائی جان کو پیش کیا کرتی تھی۔ وہ بھی اس کے اس انداز محبت پر وارے صدقے جاتی تھیں‘ نامعلوم کیوں ایک ٹیس سی تھی جو سمن کے دل میں اٹھی تھی۔ وہ اس کو کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی پھر عابدہ کا یہ کہنا وہ بھی ردا سے خاص الفت رکھتی تھی۔ اپنے اندر ایک خاص معنی رکھتا تھا وہ نجانے کیوں اس نہج پر سوچ رہی تھی‘ اگرچہ وہ زین کے حوالے سے کوئی بھی جذبہ نہ رکھتی تھی۔ اسے لگا وہ جیسے ہارنے لگی ہو۔
زین خاصی دیر سے نوٹ کررہا تھا کہ کھانے کی میز پر بیٹھی سمن بے حد چپ سی تھی وہ کن انکھیوں سے گاہے بگاہے سامنے بیٹھی ردا پر نگاہ ڈال لیتی تھی۔ ردا صبا بیگم کے پہلو سے لگی بیٹھی تھی اور نجانے کون کون سی روداد سنا رہی تھی۔
’’خالہ جانی یہ کسٹرڈ کتنا لذیز ہے؟‘‘ ردا چہکی۔
’’ہاں بیٹا میں نے خاص طور پر تمہارے لیے بنوایا ہے‘ تمہیں پسند بھی تو بہت ہے۔‘‘ صبا بیگم نے محبت پاش لہجے میں جواب دیا۔ سمن اپنی جگہ پر پہلو بدل کر رہ گئی۔
’’اور بھئی زین‘ کہاں گم ہوتے ہیں جناب؟‘‘ ردا اب زین کی جانب متوجہ ہوئی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں اور یہیں ہوتا ہوں۔‘‘ زین نے مسکرا کر جواب دیا۔ اچانک ہی سمن نے چمچ پلیٹ میں پٹخا اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی‘ زین سمیت سب نے ہی سمن کی اس حرکت کو محسوس کیا۔
ردا چند دنوں کے لیے یہاں رہنے آئی تھی‘ وہ پہلے بھی یہاں رہنے کی غرض سے آیا کرتی تھی۔ صبا بیگم اپنی اس بھانجی کی آئو بھگت میں کوئی کمی روا نہ رکھتی تھیں مگر اس بار تو سمن بڑی شدت سے محسوس کررہی تھی کہ ردا سے تائی جان کو خاص لگائو تھا۔ شام کو عابدہ‘ ردا اور زین خوش گپیوں میں مصروف نظر آتے تھے۔ نجانے کیوں کس بات کا قلق تھا کہ سمن کو ردا کی یہ اہمیت ایک آنکھ نہ بھا رہی تھی‘ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ردا کو اس منظر سے پس منظر کا حصہ بنادے۔
’’تم نے کیا سوچا ہے پھر؟‘‘ زہرہ بیگم نے اس سے پوچھا۔
’’زین کے حوالے سے ہاں کروں یا اس نئے آنے والے رشتے کے حوالے سے؟‘‘ زہرہ بیگم نے اس پر گہری نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا‘ انہیں اس وقت سمن کچھ الجھی الجھی سی دکھائی دے رہی تھی۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ باہر سے گزرتے زین نے جب اپنا نام سنا تو وہ ٹھٹک کر رک گیا تھا۔ دم سادھے وہ بھی سمن کے جواب کا منتظر تھا۔
’’امی کیا فائدہ زین کے رشتے پر ہاں کہنے کا جبکہ میں دیکھ چکی ہوں کہ زین سمیت سبھی اہل خانہ کی دلچسپی فقط ردا کی جانب مبذول ہے۔ وہ سب ہر وقت اس کے آگے پیچھے پھرتے رہتے ہیں‘ یہاں میری کہاں گنجائش نکلتی ہے۔‘‘ سمن کی آواز میں ایک کرب تھا۔
’’چندا ہر انسان کی اپنی جگہ اپنا مقام ہوا کرتا ہے‘ ردا ان کی بھانجی ہے ان کا خون ہے وہ کیونکر اس سے پیار نہ کریں۔ تم رشتوں کو ان کے اصل مقام پر رکھ کر سوچو تو یہ سب نارمل ہے‘ اس انداز سے مت پرکھو جس انداز سے تم پرکھ رہی ہو۔‘‘ زہرہ بیگم نے اسے پیار سے سمجھایا۔
’’اور زین کیا وہ بھی بھید بھائو کا قائل نہیں‘ آپ نے دیکھا نہیں کل کس طرح ردا کی بات پر اس کے دانت نکل رہے تھے۔‘‘ سمن کی بات پر وہ بے ساختہ ہنس دیں۔
’’ارے پگلی‘ ہنسنے سے کیا ہوتا ہے‘ وہ تو تجھے ہی چاہتا ہے‘ بائولا بنا پھرتا ہے۔‘‘ وہ ہنس دیں مگر وہ ہنوز خاموش اور سنجیدہ صورت لیے بیٹھی رہی۔
’’آپ ایک دفعہ زین سے پوچھ لیں اگر اب بھی اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ باقی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ اس نے سر جھکایا اور زہرہ بیگم نے اس کی پیشانی پر بڑھ کر بوسہ لیا‘ باہر زین کے دل میں گویا شگوفے کھل گئے تھے۔
’’ہونہہ تو محترمہ حسد کی آگ میں جل رہی تھیں۔‘‘ زین نے پُرسوچ انداز میں زیرلب کہا اور مطمئن سوچ و شاد پلٹ گیا۔
ء…/…ء
گھر کے عقبی لان میں زین اور سمن دوسری جانب خرم اور عابدہ کی منگنی کی تقریب رکھی گئی تھی۔ دونوں بھاوجوں کے چہرے شادمانی سے معمور تھے‘ ہر جانب خوشیوں نے اپنے پنکھ پھیلا دیئے تھے۔
پہلے خرم نے عابدہ کے دائیںہاتھ کی انگلی میں منگنی کی انگوٹھی پہنائی‘ عابدہ اور خرم کے سر شار چہرے دیکھ کر ان کی مائیں کھل رہی تھیں۔ دوسری جانب زین نے بڑھ کر سمن کی مخروطی انگلی میں انگوٹھی پہنائی تو تالیوں کی گونج نے ماحول کو جلترنگ سا کردیا تھا۔ سب کے دل خوشی سے شاد تھے مگر سمن بے حد خاموش اور مضمحل سی بیٹھی تھی۔ چند دنوں سے زین نے اسے جلانے اور ستانے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا تھا۔ ردا سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا اور جب سمن کا وہاں سے گزر ہوتا تو یہ ہنسی قہقہے میں بدل جاتی تھی۔ اب یہ تو سمن ہی کی ہمت تھی کہ وہ اپنے بھرے ہوئے نین کٹورے کمرے میں جاکر بند ہوکر بہاتی تھی اور سب کے سامنے ضبط کا مظاہرہ کرتی۔ دیر سے ہی سہی اس پر بھی آگہی کا در وا ہوگیا تھا کہ وہ بھی زین کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ زین نے محبت پاش نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ سے مطلب؟‘‘ وہ تیکھے انداز میں دو بدو بولی۔
’’مطلب تو سارے مجھ سے ہی نکلتے ہیں‘ ویسے کتنا خوش کن سال ہوگا ناں کل یکم جنوری ہے نئے سال کا پہلا تحفہ تو مجھے مل ہی گیا۔‘‘ وہ ناسمجھی سے تکے گئی۔
’’کتنی بدھو ہو تم‘ ہر بات سمجھانی پڑتی ہے۔ نئے سال میں تمہاری یہ سنگت مجھے تحفے میں ہی تو ملی ہے۔‘‘ زین کی بات پر اس کا سراز خود جھکتا چلا گیا۔ شرمگیں مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کرلیا تھا۔
’’اُف شرماتے ہوئے تم کتنی اجنبی سی لگ رہی ہو‘ مجھے تو وہ لڑنے والی بلی پسند ہے جو ہر وقت پنجے مارتی ہے۔‘‘ زین نے ہنس کر کہا تو سمن مسکرانا بھول کر اسے غصیلی نگاہوں سے دیکھنے لگی مگر زین کی نگاہوں میں رقصاں محبت دیکھ کر دوبارہ سر جھکا گئی۔ واقعی نئے سال میں اسے زین کی چاہت کے انوکھے رنگ ملے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close