Aanchal Jan-18

مسیحائی

خدیجہ جلال

جب اس کی ماں کے سر میں درد کی لہر اٹھتی تو وہ بے جان ہوجاتیں گویا چہرے پر ہلدی مل دی گئی ہو۔ نقاہت انہیں بے دم کردیتی‘ وہ تکیہ پر سر پٹختی اور رو رو کر بے حال ہوجاتیں۔ ایک طرف بندہ مسجد میں مولوی کو لینے چلا جاتا دم درود اور جھاڑ جھنکار ہوتا۔ مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ ان پر جن کا سایہ ہے‘ یہ باہر گئی ہیں ویرانے میں وہاں جنوں کی فیملی رہتی تھی‘ اس کے بچے پر پائوں رکھ کر زخمی کیا اس کی ماں اپنے بچے کا بدلہ لینے کے لیے اس پر آتی ہے اور یوں اس اذیت کا دورہ پڑتا ہے۔ مولوی صاحب جن کو نکالنے کے لیے کبھی کبھی ایک تعویز کی بتی جلا کر ناک میں رکھتے اور وہ چیختی چیختی بے ہوش ہوجاتیں۔ ہمارے دیہاتوں میں یہی علاج کا روحانی طریقہ چل رہا ہے۔
گائوں میں آرمی میڈیکل کور کے نرسنگ لانس نائیک ریٹائر ہوکر آئے‘ ٹیکہ لگانا‘ بلڈ پریشر چیک کرنا‘ مرہم پٹی کرنا جیسے میڈیکل سے سیکھ آئے تھے اور اب گائوں میں کامیاب ڈسپنسری چلا رہے تھے اور ڈاکٹر ریاض کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ نے ہاتھ میں شفا رکھی تھی ان کو بلایا جاتا اور وہ ایک ٹیکہ لگاتے اور اماں آرام سے سوئی رہتیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک تو گائوں کے اور اپنی برادری کے تھے اور ہر ایک کے حالات سے باخبر تھے‘ فیس نقد کے علاوہ نقد آور فصل بھی قبول فرماتے اور ادھار کا کھاتا بھی کھلا تھا۔ جہاں ان کی ڈاکٹری کامیابی سے چل رہی تھی وہیں قرب و جوار کے گائوں اور قصبوں میں ان کی شہرت تیزی سے پھیلی یوں ان کا کلینک کامیابی سے چل رہا تھا اور دن بدن رش بڑھ رہا تھا اور پھر ڈاکٹر ریاض نے اماں کو شہر کے سول اسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا اور ابا جی کی درخواست پر ساتھ بھی گئے۔
گائوں کے حساب سے ہمارا گھر متمول گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بارانی زمینیں تھیں اگر باران رحمت ہوجاتی تو فصل بہت اچھی ہوجاتی اور جانوروں کے لیے گھاس اور سبزہ ہوجاتا اور ہمارے لیے بھی مبارک ثابت ہوتا۔ میں اس وقت چھٹی جماعت کا طالب تھا‘ اسپتال میں ان کو داخل کرایا گیا میں ہی ان کے پاس پورا مہینہ رہا۔ وہاں ان کے بہت تفصیلی ٹیسٹ ہوئے اور جو رزلٹ آیا اس کے مطابق ان کے دماغ میں ٹیومر تھا اور اس کا آپریشن ضروری تھا۔ میں نے اسپتال میں ڈاکٹرز‘ نرسنگ اسٹاف کو دیکھا جو بہت درد اور جذبہ سے خدمت کرتے۔ میں نے مسیحائی کو پیغمبری پیشہ جانا ہے‘ یہ درد دل رکھنے والے لوگوں کا کام ہے۔ میں بڑے ہوکر ڈاکٹر بنوں گا اور غریب لاچار بے کس و بے بس مریضوں کا فری علاج کروں گا۔ میں ماں کو تڑپتے دیکھتا تو کلیجہ پھٹتا‘ کاش میں کچھ کرسکتا…
ماں کے سر میں ٹیومر ہے اور دماغ کا آپریشن ہونا ہے جو بہت مہنگا ہے۔ مالی وسائل اور گھر کے حالات اتنے مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہمارے ملک میں ڈھنگ کا اسپتال نہیں‘ عوام تڑپ تڑپ کر مر رہی ہے اور بڑے لوگوں کو زکام بھی ہو تو علاج کے لیے باہر جاتے ہیں اور ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔ ملک تو آزاد ہوگیا مگر ہماری گردنوں میں غلامی کا طوق بدستور پڑا ہے۔ قانون دستور طریقے پہلے سے بھی بدتر اور عوام کی حالت بدسے بدتر ان کی قسمت بدلنے سے رہی کہ غیر ملکی آقا کی جگہ مقامی آقا آگئے جن کے کتے اور گھوڑے ہم سے قیمتی ہیں۔
ہم اس ملک سے باہر کسی اچھے اسپتال میں علاج نہیں کراسکتے اور ملکی اسپتال کے لیے گھر میں رکھے مویشی‘ اچھے وقتوں میں لیا گیا سونا اور کھڑی فصل کو بیچ کر انہیں داخل کرایا آپریشن بھی ہوا مگر وہ جانبر نہ ہوسکی۔ ہمارے دیہاتوں میں زندگی سستی اور موت مہنگی ہے‘ اسے بھی رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ موت برحق لیکن اس کے پیچھے دسویں‘ جمعرات اور چالیسیوں جیسی رسوم پر دعوتیں لٹائی جاتیں اور یہی ہمارے گھر میں ہوا۔
میں نے ماں کھودی‘ میری محبت لٹ گئی‘ میں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور ماں کا لاڈلا تھا لگا پائوں کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی اور سر پر تنا آسمان چھن گیا اور بے یارو مددگار رہ گیا۔ میں جو ہر جذباتی موقع پر ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون پاتا تھا اب میرا وہ سکون چھن گیا مجھے اب اپنے سہارے ہی جینا ہے۔ میں نے گائوں سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور میٹرک کے لیے میں تین میل روزانہ چل کر دوسرے گائوں جاتا اور وہاں ہائی اسکول میں صرف آرٹس کے مضامین پڑھائے جاتے یہ بھی غنیمت تھا اور میں نے میٹرک کا امتحان وظیفہ لے کر پاس کیا اور پھر مزید پڑھنے کے لیے شہر چلا گیا۔ گھر سے والد کچھ رقم دے دیتے‘ وہ بوڑھے بھی ہوگئے تھے اور کمزور بھی ہم نو بہن بھائی تھے‘ پانچ بھائی اور چار بہنیں سب اپنے اپنے گھر کے تھے۔ ابا بیٹوں کے محتاج تھے‘ بڑھاپے میں جب زندگی کا ساتھی نہیں رہتا تو بڑھاپا گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ عورت جو مرد کو ہتھیلی کا چھالہ بنائے رکھتی ہے‘ وہ اس کے کھو جانے کے بعد بہت لاچار اور بے بس و کمزور ہوجاتا ہے۔
بیٹے باپ کی بہت عزت کرتے اور بہوئیں بھی باری باری اپنے گھر میں رکھتیں‘ لیکن جب مرکز نہیں رہتا تو پھر زندگی دائروں کے گرد گھومتی بے وقعت سی لگتی ہے۔ زمینیں تو والد کے نام تھیں لیکن ان کی کمائی تو بیٹوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ خود بھی بال بچے دار تھے۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ غریب گھروں کے بچے وقت سے پہلے باشعور اور سمجھ دار ہوجاتے ہیں ان کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود محسوس کرتے ہیں ان کی خواہشات‘ طلب اور مطالبات کچھ بھی نہیں ہوتے وہ بچپن سے چھلانگ لگاتے ہیں اور بڑھاپے میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ جسے جوانی مستانی کا نام دیتے ہیں وہ ولولے‘ جوش اور جذبوں کا دور ان پر نہیں آتا اور مجھے بھی وقت نے عمر سے پہلے زندگی کی تلخ سچائیوں سے روشناس کردیا۔
میں کچھ بننا کچھ کرنا چاہتا تھا‘ وہ لوگ جو سیلف میڈ ہوتے ہیں یہ خود ساز لوگ جب جہد مسلسل کرتے ہیں تو وہ ہستی جو کار ساز ہے وہ خدا ساز بھی ہے وہ کسی کو اپنی ذات سے مایوس نہیں کرتی۔ اس کا وعدہ ہے کہ جو بدلنے کی کوشش کرے گا وہ بدل جائے گا۔ وہ مانگنے والے ہاتھوں کو خالی نہیں لوٹاتا‘ عطا اور بخشش اس کی دین ہے۔
اسی ذات کے بھروسے پر میں نے کالج میں داخلہ لیا‘ اخبار و رسائل کی ایجنسی میں جب سب طلباء اپنے کمروں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے۔ میں سائیکل نکالتا اور ہاکر کی ڈیوٹی دیتا‘ گھر گھر اخبار صبح تڑکے تڑکے پہنچا کر ناشتا کرتا اور کالج پہنچ جاتا۔ انٹر کا وظیفہ بھی آگیا اور اس طرح میں نے اپنے اخراجات پورے کیے۔ بی اے میں تھا تو چھوٹے بچوں کی ٹیوشن مل گئی میں نے لمحہ لمحہ کی قیمت ادا کی میں نے وقت کو ضائع نہیں کیا اور جو وقت کی قدر کرتے ہیں وقت انہیں پوری قیمت ادا کرتا ہے۔ میرے ساتھ بڑے گھرانوں کے لڑکے تھے جو کالج کینٹین میں گھنٹوں بیٹھ کر پیریڈ گول کرتے‘ گپ شپ‘ آوارگی میں وقت گزرتے۔ بی اے میں پولیٹیکل سائنس میں سب سے زیادہ نمبر لے کر وظیفہ لیا اور یونیورسٹی پہنچ گیا۔ والد فوت ہوچکے تھے اور میں نے اپنے بل بوتے پر کھڑا ہونا تھا‘ ایم اے کے بعد لاء کالج میں داخلہ لیا اس سارے دور میں تنہا ہرگز نہ تھا میری ماں ہر قدم میرے ساتھ تھی۔ میں نے تو ڈاکٹر کا سوچا تھا اور میرے حالات مجھے دوسری طرف لے جارہے تھے‘ ہم بندے بھی دنیا کی اسٹیج پر کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہے ہیں ڈور کا دوسرا سرا کسی اور کے اختیار میں ہے‘ وہ ہلا رہا ہے اور ہم مجبورو بے بس وہی کچھ کررہے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔
لاء کالج سے ایل ایل بی کرنے کے بعد انگلینڈ بار ایٹ لاء کرنے چلا گیا۔ نئے راستے بن رہے تھے اور میں سرپٹ دوڑ رہا تھا‘ وہاں میں نے ڈگری بھی لی اور نوکری کرکے پونڈز بھی کمائے۔ وہاں تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وسیع مواقع تھے‘ میری کلاس میں ایک پاکستانی طالبہ عنایہ تھی جس کے والدین مزدوری کے لیے آئے تھے وہاں کسی کی صلاحیتوں کو روندا نہیں جاتا۔ جتنی محبت کروگے صلہ پائو گے‘ باپ کنڈیکٹری کرتا تھا اور ماں ایک اسٹور پر سیلز گرل تھی اور پھر انہوں نے اپنا اسٹور کھولا دن رات محنت کی اور اب خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ میں اپنے ملک لوٹنا چاہتا تھا‘ میں نے بیمار ماں کے سرہانے کھڑے ہوکر سوچا تھا میں ڈاکٹر بنوں گا اور کسی غریب بے بس و بے کس ماں کو اس طرح تڑپ کر مرنے نہیں دوں گا وہ خاموش عہدو پیمان کسی پل چین نہیں لینے دیتا اور میں چاہتے ہوئے بھی ڈاکٹر نہ بن سکا۔ میری سوچوں نے مجھ سے ایک فیصلہ کروایا شاید وہ ہی عطا کا لمحہ تھا۔ نوازنے کی گھڑی تھی‘ قدرت مجھ سے کچھ کروانا چاہتی تھی میں اپنے گائوں میں اسپتال بنائوں گا اپنی ماں نور بی بی کی یاد میں خیراتی اسپتال… اور میں نے آخری سال بہت محنت کی۔ نیت خالص ہو تو غیب سے مدد پہنچتی ہے‘ میں کامیاب اور مال دار بیرسٹر بن گیا اور میری بیوی عنایہ پوری طرح میرے ساتھ تھی حالانکہ وہ وہیں پیدا ہوئی پلی بڑھی لیکن اپنے آبائی وطن اپنی دھرتی ماں کا قرض اتارنا چاہتی تھی۔
میری بیٹی عیشاء سات سال کی اور معاذ و معوز چار پانچ سال کے تھے۔ میں اپنے وطن آیا مگر وہ گائوں ابھی بھی اتنا پسماندہ اور جدید سہولتوں سے دور حال مست مال مست‘ سب آنکھوں پر پٹی باندھے کولہو کے بیل کی طرح اپنے دائرے میں گھوم رہے تھے جب جمہوریت آتی‘ برادری اور وڈیرے کے کہنے پر جہاں کہا جاتا ٹھپہ لگا آتے اور جب مارشل لاء کا دور ہوتا تو اس میں بھی زندہ تھے‘ کنویں کے مینڈک کی طرح جیے جارہے تھے۔ میرے بچے برطانیہ کے پیدائشی تھے لیکن میں انہیں اپنے ملک کے اداروں میں تعلیم دلانا چاہتا تھا۔ میں نے انہیں شہر کے اچھے اسکولوں میں داخل کرایا ہم دونوں میاں بیوی کامیاب وکیل تھے ہماری پریکٹس خوب چل رہی تھی۔ گائوں میں ایک بہت بڑا رقبہ لے کر میں نے اسپتال بنوانا شروع کیا۔ میں نے سارا سرمایہ اسی پر لگادیا جدید ترین مشینری منگوائی اور ایسا اسپتال کھڑا ہوا جس کو پورے ملک میں انگلیوں میں گنے جانے والے اچھے اسپتالوں میں شمار کیا جاتا۔
اور میرے تینوں بچے جب کالج میں مضامین کے انتخاب کا وقت آیا تو میں انہیں میڈیکل سائنس کے چنائو کا مشورہ دیتا عنایہ ہر بار بچوں کی سائیڈ لیتی۔
’’آپ انہیں ان کی مرضی کے مطابق فیلڈ کے چنائو کا اختیار دیں۔‘‘ اور میں ہر بار مصر ہوتا۔
’’نہیں‘ انہوں نے ڈاکٹر بننا ہے۔‘‘ اور جب میری بیٹی عیشاء نے کہا۔
وہ ایم بی اے کرکے اپنا بزنس کرنا چاہتی ہے‘ اس کی خواہش تھی وہ بزنس میں نام بھی کمائے اور پیسہ بھی۔ بزنس ٹائیکون بننا چاہتی ہے‘ اسے پتا ہے وہ اچھی ڈاکٹر نہیں بن پائے گی۔ وہ پیسہ کمانا چاہتی ہے‘ پیسہ ہی اصل حقیقت ہے یہ مادی دور ہے یہاں اب ہر رشتہ پیسے سے ناپا تولاجاتا ہے۔ رشتہ داریاں‘ خونی رشتے بہت مدھم اور ڈھیلے پڑگئے ہیں اب سب کچھ پیسہ ہے۔ یہ نفسانفسی اور آپا دھاپی کا دور ہے ایک وقت تھا اعلیٰ انسانی قدروں کو پذیرائی تھی۔ جہاں کالا دھن ہو‘ حرام کی کمائی ہو‘ لوگ ایسے لوگوں سے ملنے جلنے اور روابط بڑھانے میں ہچکچاتے تھے کہ یہ ان کا حوالہ نہ بن جائیں مگر اب تو زمانہ ہی بدل گیا فارم ہائوسز‘ اونچے شاندار محل نما بڑے گھر قیمتی گاڑیاں اور دولت کی ریل پیل۔ یہی اسٹیٹس سمبل اور تعارف ہے‘ یہی بڑے لوگ ہیں‘ دولت گھرکی باندی‘ پیسہ غلط ذریعے سے آیا ہے یا صحیح جائز یا ناجائز حرام ہے یا حلال یہ سب کچھ ختم۔ اس معاشرہ میں مقام بنانے کے لیے کھلا پیسہ ہو‘ اسمبلی میں پہنچنے کے لیے یہی سیڑھی ہے اور حکومت کے ایوانوں میں جانے کے لیے اس کا سہارا چاہیے‘ میں اسے بتارہا تھا۔ یہ حقیقت سہی لیکن اصل سچائی نہیں‘ سب کچھ وقتی ہے پھر انجام کار سچائی‘ حق‘ حلال اور راست بازی کی فتح ہوگی۔ اخلاقی پستی کا یہ دور ہماری آزمائش ہے ہم نے اس سے مرعوب نہیں ہونا۔
دولت کتنی بھی ہو ہوس نہ مرتی ہے نہ مٹتی ہے۔ قبر کی مٹی سب کو بھرے گی‘ شداد و قارون کی خزانے ان کے کام نہیں آتے۔ قارون جس کے خزانوں کی چابیاں چالیس اونٹوں پر لدی ہوتیں وہ اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ فرعون جو اقتدار میں اندھا ہوکر خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔ کہاں گئی حکومت اور کہاں گیا اقتدار‘ قیامت تک کے لیے سامان عبرت بن گیا۔ فتح حق کی ہوتی ہے صداقت‘ سچائی ابدی حقیقت ہے۔ وہ جنہوں نے تاج و تخت کو ذرہ برابر اہمیت نہ دی اور انسانی محبت کو معراج جانا تو اس کے بندوں سے محبت کے انعام میں ابراہیم بن ادھم بن کر امر ہوگئے۔
عیشاء میڈیکل لائن میں آگئی اور معاذ و معوذ نے بھی میڈیسن کے لیے میری منتخب کردہ راہ کو اختیار کرلیا۔ عنایہ کہتی ہے یہ پاکستانی والدین اپنی ناآسودہ خواہشات کو اپنی اولاد کے ذریعے پورا کرکے اپنی آرزو کی تکمیل چاہتے ہیں‘ بھئی جب اولاد اصل وراثت اور صدقہ جاریہ ہے تو پھر اس کے ذریعے ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کرنا کون سا جرم ہے؟
میرے تینوں بچے مانے ہوئے ملک کے مایہ ناز ڈاکٹر ہیں‘ عیشاء نیورو سرجن‘ معاذ ہارٹ اسپیشلسٹ اور معوذ میڈیکل اسپیشلسٹ اور تینوں گائوں کے خیراتی اسپتال میں کام کررہے ہیں۔ جب اللہ کے بندوں کی خدمت کے لیے نکلتے ہیں تو جو آسودگی تسکین اور خوشی ملتی ہے‘ تمام دنیاوی خزانے اس کے سامنے ہیچ ہوتی ہیں۔
نور اسپتال کی شہرت ملک کے کونے کونے میں ہے‘ غریبوں کا علاج بالکل مفت ہوتا ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا‘ پاکستانی قوم خیرات اور صدقات دینے میں دنیا کے صف اول میں شمار ہوتی ہے اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی خون پسینہ کی کمائی ضائع نہیں جائے گی تو وہ عورت جس کے بارے میں کہا جاتا ہے اسے زیور گہنا سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ وہ برے وقتوں کے لیے سینت کر رکھی گئی پائی نچھاور کرنے کو بھی تیار ہوتی ہے۔ میں نے اپنے وسائل تو وقف کر رکھے تھے مگر جب بھی جھولی پھلائی کبھی خالی نہیں لوٹائی گئی میری توقعات سے بڑھ کردیا گیا۔ جب اس ہستی پر توکل کرو تو راستے خودبخود وا ہوجاتے ہیں جب بھی ضرورت ہوئی غیب سے مدد آئی۔
وہ جو کہانیاں سینہ بہ سینہ چلتی ہیں ان میں بہت جان ہوتی ہے۔ وہ غریب و بے کس مجبور جو علاج کرانے کا سوچ نہیں سکتے اور جب صحت یاب ہوکر گئے تو ساری زندگی کے لیے دامے درمے‘ قدمے سخنے کرنے لگے‘ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے اور پیسہ پیسہ خطیر خزانہ بن جاتا ہے۔ باہر ملک میں کام کرنے والے اپنے شعبے کے ماہرین نے اپنی خدمات پیش کیں وہ نہ صرف مالی تعاون کرتے بلکہ ڈاکٹروں کی دنیا میں ہونے والی جدید محقق سے آگاہ کرتے اپنی چھٹیاں وقف کردیتے۔
میں تو اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا
مانگنے والے کو دیا جاتا ہے اور میں منگتا اور بھکاری تھا میری جھولی چھید چھید تھی لیکن دینے والے کی سخاوت بے کراں۔
وہ میری بیٹی عیشاء جو سرمایہ دار بننا چاہتی تھی‘ ایسی قناعت اسے ودیعت ہوئی کہ اپنے گھر بچوں کے ساتھ سادہ سی زندگی گزار کر روحانی سکون پائی۔
’’پاپا جانی آپ نے مجھے کیسی راہ دکھائی ہے کہ وہ پیسہ جو میرا مطمع نظر تھا اور میں اس کی ہوس میں نہ جانے کہاں بھٹک رہی ہوتی۔ آپ نے اس خدمت کی راہ پر لگا کر میری دنیا ہی نہیں عاقبت بھی سنوار دی۔‘‘
’’بیٹا وہ ایک لمحہ ہوتا ہے جو عطا کرتا ہے‘ دیا جاتا ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں دونوں راستے کھلے ہوتے ہیں چوائس اس کی اپنی ہوتی ہے وہ کس راہ کا انتخاب کرتا ہے‘ بڑوں کا کام نیک و بد سمجھانا ہے۔‘‘
’’سچ تو یہ ہے ماں کے تڑپنے کی اذیت تو میں نے دیکھی‘ ماں کے درد نے مجھ سے خاموش عہد لیا مگر قدرت مجھ پر مہربان نہ ہوتی تو میں اکیلے یہ کیسے کر گزرتا۔‘‘ درد دل رکھنے والی زندگی کی ساتھی اور میرے خوابوں اور امیدوں پر پورا اترنے والی اولاد یہ سب تو میرے گھر سے مددگار رہے اور اگر گھر سے ساتھ نہ ملے تو منزل کٹھن اور دور ہوجاتی ہے اور راستے مشکل۔ پھر وہ ساتھی مل گئے جن کو میں جانتا تک نہ تھا اور سب سے بڑے بہی خواہ وہ تھے۔
مزے کی بات بتائوں یہ گائوں کے لوگ بھی کیسے خوش عقیدہ اور خوش فہم ہوتے ہیں‘ کسی ایسے ہی دیوانے نے صحت یاب ہونے پر نور بانو کی قبر ڈھونڈ کر ایک دیا روشن کردیا‘ وہ اس میں سرسوں کا تیل ڈالتا اور ساری رات جلتا رہتا دیکھا دیکھی دوسرے نے ایک اور دیا ساتھ رکھ دیا اور پھر ایک ایک کے اضافے سے وہاں لاتعداد دیئے جلنے لگے دور سے ان کی ٹمٹماتی روشی بھلی لگتی۔ کچھ دنوں بعد دیکھا راتوں رات ایک چار دیوار بن گئی اور پھر کسی مجذوب نے دیوار میں الماری لگا کر سپارے رکھ دیئے اب جو دیا جلانے آتا فاتحہ خوانی کرتا‘ سپارہ پڑھتا بخشتا اور اپنی عقیدت دوسرے کو منتقل کردیتا۔ دیکھا دیکھی ہوتے ہوتے چھت بھی ڈال دی گئی اور کھمبے سے ایک تار لے کر بجلی قمقمہ روشن کردیا۔ واپڈا کے کسی اہلکار نے میٹر لگادیا۔
کتنے خوانچہ والے وہاں چھاپڑی لیے پہنچ گئے اور پھر ایک چائے کا کھوکھا کھلا اور ساتھ ہی ایک نان بائی نے تندور لگالیا اور دور سے آنے والے مسافروں کے لیے چائے پانی کا بندوبست ہوگیا۔ کھوکھے والے نے کچھ کمرے بنائے اور ملاقاتیوں کے لیے رہائش کا بندوبست بھی ہوگیا۔
کسی پیسے والے نے پانچ ستارہ ہوٹل ’’نور محل‘‘ کے نام سے بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے سڑک کے دونوں اطراف دکانوں کا اضافہ ہوگیا یہ سب کچھ کیسے ہوا‘ نیکی اکیلی نہیں ہوتی اسے درخت کی جڑیں بہت دور تک لے جاتی ہیں اور برگ و بار دیتی ہیں۔ نیک و صالح اولاد اگر صدقہ جاریہ ہے تو ان بچوں کے صدقات و خیرات بے مصرف نہیں ہوتے بلکہ نور اور روشنی بن کر دوسروں کو راستہ دکھاتے ہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close