Aanchal Jan-18

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

عشرت عنایت
السلام علیکم! ڈئیر قارئین کو میری طرف سے سلام اور دعا قبول ہو۔ کافی عرصے سے آنچل پڑھ رہی ہوں لیکن لکھنے کی ہمت اب کی ہے‘ جناب آپ حیران نہ ہوں کہ یہ اچانک کون آگیا‘ یار ادھر دیکھئے میری طرف سے‘ اوہو میں ادھر ہوں پلیز ذرا غور سے دیکھیں بالکل آپ کی نظر کے سامنے مابدولت تشریف رکھتے ہیں۔ میرا نام عشرت عنایت ہے اور سب گھر والے پیارا اور غصے سے عشرہ کہتے ہیں‘ ہم نے 4 ستمبر کو دنیا میں آنے کا شرف حاصل کیا‘ ہم چھ بہنیں اور دو کیوٹ سے بھائی ہیں جبکہ ہم پانچویں نمبر پر ہیں ‘ اسٹارپر بالکل یقین نہیں‘ یقین ہے تو اللہ کی ذات پر۔ اِن کمپلیٹ بی اے کیا ہے کیونکہ دو پیپر رہ گئے تھے اور شادی ہوگئی اس لیے بی اے ادھور رہ گیا۔ اب تو ماشاء اللہ چار سال کا بیٹا عدن ہے جسے میں خود سے زیادہ پیار کرتی ہوں۔ وہ بہت شرارتی ہے‘ مجھ سے بھی دس قدم آگے‘ فیملی ممبر میں سے مجھے سب ہی اچھے لگتے ہیں۔ برا کسی کو نہ کہوں گی ‘ فرینڈ میں سے ثمریلہ (عینکو) بہت پسند ہے ‘ اپنا ہر غم اور خوشی اس سے شیئر کرتی ہوں۔ پھولوں میں گلاب کا پھول پسند ہے کیونکہ یہ محبت کو ظاہر کرتا ہے‘ رنگوں میں بلیک اور وائٹ پسند ہے۔ وائٹ اس لیے کہ اسے پہن کے کوہستان کی پری لگوں۔ جیولری میں چوڑیاں پسند ہیں لیکن گولڈ کی۔ مہندی بہت زیادہ پسند ہے اور لگانے کا شوق بھی ہے لیکن لگانی نہیں آتی۔ مہندی کون کو پکڑتے ہوئے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں‘ اوہو یہ نہ سمجھئے گا ڈر سے اس لیے کیونکہ میں نقش و نگار کیا بنائوں۔ کھانے میں بھنڈی اور بریانی بہت پسند ہے‘ کاش روز کھانے کو ملے۔ سویٹ ڈشز میں کھیر اور کسٹرڈ پسند ہے۔ لباس میں شلوار قمیص اور ساڑھی پسند ہے جبکہ پینٹ شرٹ سے نفرت ہے وہ بالکل لڑکیوں کو زیب نہیں دیتی‘ یار ناراض نہ ہونا جس کو پسند ہے وہ پہنیں‘ میری طرف سے اجازت ہے۔ پسندیدہ ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور پسندیدہ کتاب قرآن مجید ہے‘ پسندیدہ رائٹرز میں سمیرا شریف طور‘ عمیرہ احمد‘ نازیہ کنول نازی اور عشناء کوثر سردار ہیں ۔ فیورٹ ناول یہ چاہتیں یہ شدتیں۔سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اللہ کا گھر دیکھوں اور اپنے بیٹے کو اچھے انسان کی حیثیت سے دیکھوں۔ ایک راز ہے ثمریلہ یار میں نے تم سے دستی پتا ہے کیوںکہ کی تھی کیونکہ تیرے ہاتھ میں آنچل تھا (برا نہ ماننا)۔ آپ تنگ تو نہیں آگئے پلیز صبر کریں‘ کیونکہ اب میں جارہی ہوں اپنی دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ اللہ کرے آنچل دن دگنی رات وگنی ترقی کرے‘ آمین۔
سمیرا
السلام علیکم! آنچل کے تمام قارئین کو محبت بھرا سلام قبول ہو۔ میرا انام سمیرا ہے اور سرگودھا کے ایک علاقے شاہ نکڈر سے میرا تعلق ہے‘ آنچل میں پہلی بار لکھ رہی ہوں اور اگر پذیرائی ملی تو آئندہ بھی لکھتی رہوںگی۔ 20 فروری کو اس دنیا میں تشریف لائی اور اس لحاظ سے میرا اسٹار حوت ہے لیکن اسٹار پر بالکل یقین نہیں۔بہن بھائیوں کی تعداد نو ہے جن میں میرا آخری نمبر ہے ‘ سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے بہت پیار ملا ہے۔ میٹرک کے بعد قرآن حفظ کیا ہے اور فرسٹ ائر کی طالبہ ہوں۔ پرائیوٹ ایف اے کررہی ہوں‘ نرم دل لوگ بہت اچھے لگتے ہیں اگر کوئی پیار سے جان بھی مانگے تو دے دوں لیکن اگر کوئی غصہ سے بات کرے تو میرا دل کرتا ہے کہ میں اس کی جان لے لوں ویسے مجھے غصہ بہت کم آتا ہے لیکن جب آتا ہے تو دل کرتا ہے یا سامنے والے کو مار دوں یا خود مرجائوں۔ رسائل پڑھنے کا حد سے زیادہ شوق ہے‘ میرے پاس بہت سے رسائل کا ذخیرہ ہے۔ شاعری سے تو عشق ہے ہر اچھا شعر میری کمزوری ہے جہاں بھی کسی شاعر یا شاعرہ کا اچھا شعر نظم یا قطعہ دیکھوں فوراً اسے اپنے پاس نوٹ کرلیتی ہوں۔ موسم مجھے سارے پسند ہیں خاص کر سردیوں کی لمبی راتیں اور گرمیوں کے لمبے دن۔ مجھے سے جھوٹ برداشت نہیں ہوتا اور اگر کوئی میرے ساتھ بے ایمانی کرے تو بہت دکھ ہوتا ہے۔ شدت پسند بہت ہوں‘ نفرت کی تو ٹوٹ کرکی اور جب محبت کی تو ہر جذبہ اس پر غالب آگیا ۔ لوگ اسے برائی سمجھتے ہیں لیکن مجھے یہ اپنی خوبی لگتی ہے اپنے ملک سے بے حد محبت کرتی ہوں پاکستان ائیر فورس مجھے جنون کی حد تک پسند ہے اگر میں مرد ہوتی تو ضرور اسے جوائن کرتی۔ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ نظر آنے والے لوگ ذہنی کوفت میں مبتلا کردیتے ہیں۔رنگوں میں ہلکے رنگ پسند ہیں‘ شلوار قمیص پہننا اچھا لگتا ہے۔ سبزیاں ساری شوق سے کھالیتی ہوں (حیرت ہوئی)۔ پھل بھی سارے پسند ہیں‘ ذہین لوگ بہت اچھے لگتے ہیں۔ رائٹرز میں نازیہ کنول نازی‘ نمرہ احمد‘ ماہا ملک‘ عمیرہ احمد بہت پسند ہیں۔ ناولز میں پیر کاملؐ، متاع جاں ہے تُو‘ جو چلے تو جاں سے گزر گئے‘ قراقرم کا تاج محل‘ محبت دل پر دستک نے بہت متاثر کیا۔ بچے بہت اچھے لگتے ہیں‘ اپنے بھتیجوں سمیع‘ منشاء‘ حسنین اور سیف اللہ میں تو میری جان ہے۔ پرفیومز میں فار مین پسند ہے‘ میری خواہش ہے کہ اللہ مجھے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک دکھائے اور قرآن پاک مجھے اس طرح یاد ہو کہ میں چلتی جائوں اور پڑھتی جائوں اور پڑھتی جائوں۔ اب اجازت دیجیے اگر کوئی بات بری لگی ہو تو ایڈوانس سوری‘ اللہ حافظ۔
وہ اس دنیا میں مصروف اس قدر ہوگیا ہے
اس نے کس کس کو بھلادیا اسے تو اتنا بھی یاد نہیں
طاہرہ منور علی بھٹی
1998ء کی بات ہے‘ بہار کا موسم تھا‘ مارچ کا مہینہ تھا ہر طرف پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے‘ فصلیں لہلہارہی تھیں۔ پرندے چہچہارہے تھے‘ 29 تاریخ کو صبح سے ہی ہوائیں چل رہی تھیں‘ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے‘ ایسے سہانے موسم میں ایک معزز گھرانے میں ایک معصوم سی پیاری سی بچی نے آنکھ کھولی۔ آنچل فرینڈز آپ کو پتا ے کہ یہ کون تھی‘ نہیں پتا‘ کوئی نہیں بات یار میں بتادیتی ہوں۔ جی تو آنچل فرینڈز یہ جو آپ کے سامنے گہری کالی آنکھوں‘ لمبی گھنی پلکوں‘ ستواں ناک‘ گلابی نرم و ملائم ہونٹ لمبی مخروطی انگلیوں والے ہاتھ کی پشت پر تھوڑی ٹکائے نماز کی صورت دوپٹہ لپیٹے دھیمے سے مسکراتی ہوئی‘ یہ جو معصوم (ہائے رے خوش فہمی) اسمارٹ سی لڑکی نظر آرہی ہے یہ میں خود ہوں یعنی (طاہرہ منور علی بھٹی) مجھے کسی ناول کی ہیروئن نہ سمجھ لینا‘ ہاہاہا۔ میں رئیل میں ایسی ہی ہوں تو میرے پیارے سے آنچل فرینڈز نام تو میرا آپ پڑھ چکے ہیں‘ ہم تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ میں سب سے بڑی ہوں‘ پھر سائرہ منور‘ عثمان علی بھٹی‘ صباء منور اینڈ پر ناٹی بوائے رحمان منور علی بھٹی ہے۔ میری آئیڈیل شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت فاطمہ ؓ ہیں۔ بارش‘ سردی‘ بہار‘ پھول‘ بچے اور آنچل بہت پسند ہے۔ بارش میں نہانا اچھا لگتا ہے‘ ستاروں کے جھرمٹ میں سجا چاند دیکھنا اور ستارے گننا مجھے بہت پسند ہے۔ بلیک‘ پنک‘ ریڈ اینڈ وائٹ کلر بہت پسند ہے۔ گلاب‘ چنبیلی اور موتیا کے پھول بہت پسند ہیں‘ پڑھنے کا مجھے بہت شوق ہے‘ چاہے وہ شاعری کی کتاب ہو‘ ناول ہو یا پھر اسلامی کتابیں جو بھی میرے ہاتھ لگ جائے اسے ختم کیے بغیر سکون نہیں ملتا۔ وصی شاہ‘ نازیہ کنول نازی‘ محسن نقوی‘ احمد فراز‘ پروین شاکر‘ راشد ترین اور علامہ اقبال کی شاعری بہت پسند ہے۔ ٹیچرز میں ٹیچر شمیم‘ ٹیچر جمیلہ‘ ٹیچر فرزانہ‘ ٹیچر شبانہ اور ٹیچر کوثر بہت پسند ہیں‘ یہ سب میرے ہائی اسکول ککڑھٹہ کی ٹیچرز ہیں۔ سنگرز میں عاطف اسلم‘ علی ظفر‘ راحت فتح علی خان اور بلال سعید کے سونگز اچھے لگتے ہیں۔ رائٹرز میںام مریم‘ نازیہ کنول نازی‘ سمیرا شریف طور‘ فاخرہ گل‘ صائمہ قریشی‘ نادیہ فاطمہ رضوی‘ سباس گل‘ اقبال بانو‘ نمرہ احمد اور عمیرہ احمد شامل ہیں۔ فیورٹ ناول‘ قراقرام کا تاج محل‘ جنت کے پتے‘ ٹوٹا ہوا تارا‘ دیمک زدہ محبت اور نازیہ کنول نازی کے قلم سے لکھے ہوئے ہر ایک لفظ سے عشق ہے۔ مہندی کی خوشبو اور گیلی مٹی کی خوشبو بہت پسند ہے۔ مہندی لگانے کا بہت شوق ہے‘ ڈائری لکھنا بہت پسند ہے اور دوستی کرنے کا بھی بہت شوق ہے اور اگر کوئی آنچل فرینڈ بننا چاہے تو موسٹ ویلکم۔ عائشہ نصیر‘ عائشہ حفظ‘ شکیلہ یونس‘ ثمرانہ افضل‘ رابعہ صغیر‘ فوزیہ نذیر‘ جمیلہ ریاض‘ ضیاء فاطمہ‘ خوشی نورین اور ثناء فاطمہ میری فرینڈز میں شامل ہیں۔ آنچل سے تعلق بہت پرانا ہے ‘ ہم کلاس میں صرف چار لڑکیاں پڑھتی تھیں میں‘ حسن شہزادی‘ شہلا رب نواز اور مہوش رب نواز باقی ساری کلاس کنجوس تھی‘ ہاہاہا۔ یار اگر اب بھی آنچل پڑھتی ہو تو آنچل میں انٹری دو‘ پلیز آنچل سے متعارف بھی حسن شہزادی نے کروایا‘ اب بات ہوجائے خوبیوں اور خامیوں کی۔
خوش مزاجی بھی مشہور تھی ہماری سادگی بھی کمال ہے
ہم شریر بھی انتہا کے تھے‘ اب سنجیدگی بھی بے مثال ہے
غصہ نہیں کرتی اگر آئے بھی تو تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے‘ حساس ہوں‘ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔ ہر کسی کو معاف کردیتی ہوں‘ اعتبار بہت جلدی کرلیتی ہوں‘ خود غرض ‘ منافق‘ کینہ پرور‘ خود غرض‘ لالچی‘ حسد کرنے والے‘ جھوٹ وعدہ خلاف بے وفا لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اس کے برعکس محبت کرنے والے‘ حساس‘ نرم دل اور معصوم لوگ مجھے بہت پسند ہیں‘ اپنی فیملی سے بہت پیار ہے۔ اب ایک پیاری سی بات کے ساتھ اجازت دیں بہت وقت لے لیا آپ کا‘ تمنا کو کبھی دل میں جگہ نہ د یں یہ گہرے زخم ہیں جو ہمیشہ ہر ے رہتے ہیں میرا تعارف کیسا لگا بتایئے گا ضرور ‘ اللہ حافظ۔
وقت رخصت جو کسی اشک کو روکا جائے
عمر بھر کے لیے آنکھوں میں ٹھہر جاتا ہے
رمشاء آفتاب جاناںؔ
تعارف کے لیے بس اتنا کافی ہے
میں اس کی کبھی نہیں ہوتی جو ہر کسی کا ہوجائے
سب سے پہلے آل آنچل ریڈرز اینڈ رائٹرز کی خدمت میں محبت و چاہت سے بھرپور سلام۔ نام تو پہلے ہی آنچل کی تتلیوں کے گوش گزار کرچکی ہوں تو اب آتے ہیں کام کی طرف۔ تو جناب محترمہ 10 فروری 2000 ء کو اس خوب صورت دنیا میں مزید خوب صورتیاں بکھیرنے تشریف لائی اس لحاظ سے اسٹار ایکو یریس ہے۔ میٹرک میں 1029 نمبر لے کر اب ایف ایس سی پارٹ ون میں ہوں اور ایک بات ایڈوانس بتادوں کہ مستقبل کی ڈاکٹر ہوں‘ ہم ماشاء اللہ چھ بہن بھائی ہیں‘د و بھائی اور آپی مجھ سے بڑے اور د و بھائی چھوٹے ہیں۔ عدنان بھائی اور ذیشان سے خو ب بنتی ہے جبکہ آپی سے اکثر محاذ چھڑا رہتا ہے‘ اپنی مما جانی سے بہت پیار کرتی ہوں اب اگر پسند نا پسند کی طرف آئیں تو ڈریسز میں فیشن کے مطابق سب کچھ ہی اچھا لگتا ہے بشرطیکہ اس میں حیاء ہو‘ لانگ فراکس اور چوڑی دار پہننا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ فرینڈز کے ساتھ بارش میں بھیگنا بہت اچھا لگتا ہے اور لائٹ جیولری اچھی لگتی ہے جس میں بریسلیٹ‘ رنگ اور چین ود آپینڈنٹ۔ اب اگر خامیاں اور خوبیوں کی طرف آئی تو آپ کہیں گے کہ بھئی کیسی لڑکی ہے جو خود ہی اپنی تعریفیں کیے جارہی ہے ویسے بھی اکارڈنگ ٹو مائے پوائنٹ آف ویو تعریف اور عزت ہمیشہ دوسروں کے منہ سے ہی اچھے لگتے ہیں۔ اپنی تعریف آپ تو فرعون‘ نمرود اور شداد نے بھی بہت کی‘ بہرحال پھر بھی اگر دوستوں کا نکتہ نظر بتادوں تو میری سویٹ فرینڈ طوبی کے بقول خود غلط بات کرتی نہیں اور کسی کی مانتی نہیں۔ جھوٹ اور دھوکہ سے بہت الرجکس ہوں جو اچھا لگ جائے اس سے دوستی کرنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لیتی۔ کالج میں کافی خوش مزاج جبکہ گھر پر کافی سنجیدہ مزاج ہوں‘ کالج اور آنچل دونوں سے ہی جنون کی حد تک عشق ہے۔ میری بیسٹ فرینڈ صباء ہے جس سے میں محبت نہیں کرتی کیونکہ وہ خالی محبت کے قابل ہی نہیں ہے اوہو‘ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ بیسٹ فرینڈ کہتی ہے اور محبت نہیں کرتی تو جناب جی! میں اس سے عشق کرتی ہوں ‘ ہاں شاک ناں لگا۔ اب ٹھیک سے سانس لیا ہوگا‘ میرا حلقہ احباب اتنا وسیع ہے کہ اگر ابھی نام لینے شروع کیے تو آپ کو پڑھتے پڑھتے رات ہوجائے گی ویسے ایک انوکھی خواہش بتائوں کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کاش میں لڑکا ہوتی تو پکا آرمی جوائن کرتی پر پتا ہے مجھ سے بھی زیادہ آرمی سے عشق میری فرینڈ صباء کو ہے۔ مجھے اپنی سابقہ پرنسپل میڈم خدیجہ شکیل سے بہت محبت ہے۔ وہ میرے دل کی سرزمین پر اس طمطراق سے براجمان ہیں کہ انہیں وہاں سے نکالنا تو بہت دور کی بات کوئی کھڑا بھی نہیں کرسکتا۔ مزے کی بات بتائوں میں اسلامک جمعیت طالبات کی نائب ناظمہ (سیکریٹری) ہی ہوں۔ یہ جمعیت ’’نیکی کے ہم لوگ سپاہی‘‘ دینی تبلیغ کی ایک جمعیت ہے۔ شاعری سے بہت لگائو ہے اور شعر کہتی بھی ہوں‘ میری فرینڈ امیر میرے شعروں کی بہت فین ہے۔ 14 سال کی عمر میں‘ میں نے سب سے پہلے کہانی (ادھوری محبت) لکھی تھی جو شائع نہیں کروائی‘ اب اگر رائٹرز کی بات کی جائے تو میں ہاشم ندیم‘ نازیہ کنول‘ سمیرا شریف اور بھی بہت سی رائٹرز ہیں جن کی میں فین ہوں پر بات لمبی ہورہی ہے سو سب کے نام نہیں لکھوں گی۔ چلیں جی اب میں لیٹ ہوگئی‘ سو بائے بائے‘ ہاہاہا۔ آپ کو کیا لگا کہ میں وہی گھسا پھٹا سا جملہ بولوں گی کہ ’’آپ بور ہورہے ہوں گے‘‘ امپاسبل ویسے بھی آنچل کی تحریریں پڑھتے ہوئے کوئی کبھی بور نہیں ہوتا۔ چلیں جی اب میں کسی اور روپ میں آپ سے ملوں گی‘ ارے ارے مطلب آنچل میں‘ اگر کوئی مجھ سے دوستی کرنا چاہے یا پھر میرے پیارے کشمیر میں آنا چاہے تو موسٹ ویلکم‘ ابھی کے لیے اللہ حافظ پھر ملیں گے‘ ان شاء اللہ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close