Aanchal Jan-18

الکوثر

مشتاق احمد قریشی

معراج کے اس مبارک موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے آسمان پر وہ تمام مناظر دکھا دیئے جو اللہ کی نا فرمانی کرنے‘ شرک و کفر کرنے اور احکامِ الٰہی سے بغاوت کرنے کے جرم میں دئے جائیںگے۔ یہ مناظر دراصل دوزخ کے مناظر تھے کیونکہ پہلے آسمان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقاتیں حسبِ مراتب پیغمبران کرام علیہ السلام سے ہوئیں۔ وہاں پہلے آسمان کی مانند کسی کو زیر عتاب‘ زیر سزا نہیں دیکھا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کے روزِ حساب یعنی آخرت سے قبل ہر انسان اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق اپنی دنیاوی پسندیدہ زندگی کے مطابق جزا و سزا کے عالم میں اپنا بقایہ وقت گزارے گا جب تک قیامت واقع نہیں ہوجاتی اور میدانِ حشر آراستہ نہیں ہوجاتا تمام انسان دنیا میں اپنے کئے ہوئے اعمال کے مطابق جیسا کہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے مبارک موقع پر دیکھایا گیا زندگی گزاریں گے معراج البنیصلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور دانائی‘ اقتدار و قوت کے اظہار کے ساتھ ساتھ تمام انسانیت پر یہ واضح کرنا بھی ہے کہ دنیا میں کئے گئے اعمال و افعال کا ہمیں کیسا اور کتنا صلہ ملے گا تاکہ انسانوں میں خصوصاً اُمتِ مسلمہ میں خوفِ الٰہی پیدا ہو اور وہ ہر وقت اپنے اعمال وا فعال سے چوکنا رہے اور کسی بھی لمحے شیطان کے بہکائے میں آکر کسی غلطی کے مرتکب نہ ہوں اور ہر لمحہ ہر آن اپنی آخرت کی خیر مناتے رہیں اور اللہ کے احکام پر پوری پابندی سے عمل پیرا رہیں۔ کیونکہ انسانی نفسیات میں یہ بات شامل ہے کہ اگر ہمیں اپنے کام کے صلے کی خبر نہ ہو تو ہم وہ کام دل جمعی سے نہیںکرتے اور اگر ہمیں یہ بات معلوم ہو کہ ہم جو عمل کررہے ہیں اگر اسے نہ کیا توہمیں کتنی اور کیسی سزا مل سکتی ہے‘ کیسا نقصان ہوسکتا ہے‘ اور اگر کام کرلیا توہمیں کیسا انعام اور کیسی جزا ملے گی۔ انسان کی فطرت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان کسی بھی کام کو دو طرح سے انجام دیتا ہے یا تو اسے کسی کا یا کسی طرح کا خوف ہو یا پھر اسے اس کام کرنے کا شوق ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تمام اہلِ ایمان کو واقعہ معراج کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے۔ اب یہ سوچنا‘ سمجھنا اور اللہ سے ڈرنا اور برے‘ بد اعمال سے بچنا نیک اور اچھے اعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے جبکہ ہم جان چکے ہیں کہ ہماری لاپروائی‘ بداعمالی ہمیں کس عذاب سے دو چار کرسکتی ہے۔ یہی معراج کی روح ہے۔ یہ دنیا انسانوں کے لیے ایک امتحان گاہ بھی اور دائمی زندگی اختیار کرنے سے پہلے زندگی گزارنے کا طریقہ طے کرنے کی جگہ بھی ہے۔ جس طرح کی زندگی ہم اس دنیا میں اختیار کریں گے ویسی ہی زندگی بھی دائمی طور پر روزِ آخرت‘ حساب کتاب کرکے دے دی جائے گی۔ جیسی تیاری ہم نے اس دنیا میں کی ہوگی ویسی ہی زندگی ہم انسان عالمِ برزخ میں گزاریں گے۔ جس کا احوال واقعہ معراج کے ذریعے تمام امت کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری اہلِ ایمان کی ہے کہ وہ نماز میں سستی نہ کریں اور جماعت ترک نہ کریں۔ زکوٰۃ پوری ادا کریں اور صدقات و خیرات کا اہتمام کریں‘ میاں بیوی ہونے کے باوجود دوسری عورتوں مردوں کے ساتھ زنا نہ کریں‘ کسی پر لعن طعن نہ کریں اور امانت میں خیانت نہ کریں‘ کسی کی غیبت نہ کریں‘ جھوٹی خوشامد نہ کریں اور نہ جھوٹی گواہی دیں اور سود سے قطعی پرہیز کریں‘ عورتیں اپنے شوہروں کی نافرمانی نہ کریں‘ منافقت نہ اختیار کریں‘ اولاد ماں باپ کی نافرمانی نہ کرے کیونکہ ان سب کا احوال پہلے ہی آسمان پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا یہ عمل خالصتاً امتِ مسلمہ کی اصلاح و فلاح کے لیے ہے تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور برائیوں اور برے اعمال سے بچیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر وہاں سے ہم آگے بڑھے تو ایک وسیع میدان نظر آیا۔ اس سرسبز اور شاداب میدان میں ہر طرف مشک و عنبر کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور ایک آواز بار بار آرہی تھی۔ ’’یا الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا وہ پورا کر۔‘‘
جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا اسرار ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ خوشبو بہشت سے آرہی ہے۔ جہاں طرح طرح کی نعمتیں ہیں۔ باغ‘ پھل‘ پھول رنگ برنگ کے خوش ذائقہ ہوتے ہیں۔ بہشت میں چاندی‘ سونے‘ یاقوت اور مروارید کے مکان بنے ہیں۔ یہ آواز بہشت سے آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آواز کے جواب میں فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے گا۔ قرآنِ حکیم اور حدیث کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے گا اور خود کو شرک اور بدعت سے بچائے رکھے گا۔ اسے تجھ میں (بہشت) داخل کیا جائے گا پھر اس کے جواب میں جنت کہتی ہے۔ ’’میں راضی ہوں۔‘‘ یکایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کے سامنے سے پردہ اٹھا اور جنت آپ کے سامنے عیاں ہو گئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم ایک میدان میں پہنچے۔ وہاں سخت بدبو پھیلی ہوئی تھی اور چیخ پکار اور گریہ زاری کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جب جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بدبو دوزخ سے آرہی ہے اور یہ آوازیں ان دوزخیوں کی ہیں جو اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہیں۔ وہ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں اور جب وہ جنبش کرتے ہیں تو زنجیریں اور لوہے کے طوق بجتے اور کھڑ کھڑاتے ہیں۔ ان آوازوں میں سانپ اور بچھوئوں کی آوازیں بھی شامل ہیں جو ان کے جسم سے چمٹے ہوتے ہیں اور انہیں کاٹ رہے ہیں۔ ڈس رہے ہیں۔ دوزخ اللہ تعالیٰ سے فریاد کررہی ہے کہ اے خداوند تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو دوزخ کا پیٹ بھرے گا سو اب وہ وعدہ پورا کر تاکہ میرا پیٹ بھرے اور ارشاد خداوندی ہوتا ہے کہ جو شخص شرک کرے گا کفر میں مبتلا ہو گا یا میرے احکام کی نافرمانی کرے گا اسے اے دوزخ میں تیرے حوالے کروں گا۔ جو میرے رسول کی توہین کرے گا انہیں جھٹلائے گا ان سب کو تیرے پیٹ میں بھیجوں گا۔ آپ کے سامنے سے اچانک پردہ اٹھا اور آپ نے دوزخ کو تمام ہولناکیوں سمیت دیکھ لیا۔ (مسند احمد‘ بخاری‘ ابن ماجہ‘ حاکم)
دوسرا آسمان
پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے۔ جبرائیل علیہ السلام نے دوسرے آسمان کے دروازے پر دستک دی؟ اندر سے کسی نے دریافت کیا؟ ’’کون ہے؟‘‘
جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ میں جبرائیل ہوں اور میرے ہمراہ اللہ کے محبوب رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
یہ جواب سنتے ہی دروازہ فوراً کھل گیا اور فرشتے ہمیں بہت تعظیم و تکریم سے اندر لے گئے۔ دوسرے آسمان کے فرشتوں کا سردار قابیل نامی فرشتہ ہے۔ قابیل نے ہمیں سلام کیا اور بغل گیر ہوا۔ ہم اس آسمان کی سیر کرتے ہوئے ذرا آگے بڑھے تو ہمارے پاس حضرت یحییٰ علیہ السلام اور ان کے خالہ زاد بھائی حضرت عیسیٰ روح اللہ آئے جبرائیل علیہ السلام نے کہا انہیں سلام کریں میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے تعظیم کرتے ہوئے کہا مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالح۔
اور آگے بڑھے تو ایک مہیب و خوف ناک شکل کا فرشتہ نظر آیا۔ اس کے ستر ہزار سر تھے اور ان کے ستر ہزار منہ ستر ہزار زبانیں تھیں۔ جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ اس فرشتے کا نام قاسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقِ عالم کی روزی اس کے سپرد کی ہے جس مخلوق کی جس وقت اور جس مقدار میں روزی مقرر کی گئی ہے یہ اسے پہنچاتا ہے۔ (مسلم‘ بخاری)
تیسرا آسمان
پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے۔ جبرائیل علیہ السلام نے حسب دستور دروازے پر دستک دی۔ اندر سے کسی نے دریافت کیا کہ کون ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں جبرائیل علیہ السلام ہوں اور میرے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ دروازہ کھلا اور وہاںکے فرشتوں کے سردار مائیل نے سلام کیا اور تعظیم بجا لایا۔ کچھ آگے بڑھے تو ایک ایسے بزرگ ملے جن کا حسن عام انسانوں کے مقابلے میں ایسا تھا جیسے تاروں کے مقابلے میں چودھویں کا چاند یہ حضرت یوسف علیہ السلام تھے جبرائیل علیہ السلام نے کہا انہیں سلام کریں میں نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا صالح بھائی صالح نبی مرحبا۔
چوتھا آسمان
تیسرے آسمان کی سیر اور حضرت یوسف علیہ السلام کی ملاقات کے بعد ہم چوتھے آسمان پر پہنچے۔ اس آسمان کے فرشتوں کا سردار معطائیل ہے۔ اس نے سلام کیا اور بغل گیر ہوا۔ اس آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالحیں کہہ کر استقبال کیا۔ (بخاری‘ مسند احمد‘ ابن ابی حاتم)
وہاں ایک فرشتہ نظر آیا۔ اس کے چاروں طرف چار منہ تھے اور بڑی خوفناک اور ہیبت ناک شکل و صورت تھی۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھا تھا اور ایک بڑا سا تخت اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ اس کا بایاں منہ مشرق اور دایاں مغرب کو تھا اور تمام دنیا اس کے سامنے دکھائی دیتی ہے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا۔ ’’یہ کون ہے؟‘‘
جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا یہ عزرائیل ہے۔
میں نے اس کے سامنے جاکر کہا۔ السلام علیکم یا ملک الموت
لیکن عزرائیل نے سکوت کیا اور سلام کا جواب نہ دیا اسی وقت حکم باری تعالیٰ پہنچا اے عزرائیل میرے محبوب کے سلام کا جواب دے۔ تب عزرائیل نے سر اٹھا کر کہا وعلیکم السلام یا حبیب اللہ۔ اور وہ بغل گیر ہوا۔ پھر اس نے بڑی عزت و تکریم کے ساتھ مجھے تخت پر بٹھایا اور کہا۔ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے جب سے مجھے پیدا کیا ہے میرے سپرد مخلوق کے بہت زیادہ کام ہیں۔ مجھے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ میں اس قدر مصروف رہتا ہوں کہ کسی سے ایک بات تک نہیں کر سکتا۔ آج اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے اس لیے آپ سے بات کررہا ہوں۔‘‘
میں نے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل‘ تم لوگوں کی روح کس طرح قبض کرتے ہو؟‘‘
عزرائیل نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہ میرے سامنے جو یہ درخت لگا ہے یہ اتنا بڑا اور گھنا ہے کہ اس کے ہر پتے پر مخلوق خدا کا نام اور اس کا پتہ درج ہے۔ جب کسی کی موت قریب ہوتی ہے تو اس کے نام کے پتے کا چالیس دن پہلے سے رنگ زرد ہونے لگتا ہے اور ٹھیک چالیس دن بعد وہ پتا شاخ سے گر جاتا ہے۔ میری نگاہ ان پتوں پر ہر وقت جمی رہتی ہے۔ جب پتا گرتا ہے اگر میں دیکھتا ہوں کہ اس کا شمار اہل رحمت میں ہے تو میں اپنی دائیں جانب کے فرشتوں کو رحمت کے ساتھ اس کے پاس بھیجتا ہوں اور اگر وہ لعنتی ہوا تو بائیں طرف کے فرشتوں کو مع عذاب کے اس کے گھر بھیجتا ہوں۔‘‘ پھر میں نے عزرائیل سے سوال کیا۔ ’’اے عزرائیل! روح کی حقیقت بیان کر کہ یہ کیا چیز ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ‘ میں نہیں جانتا کہ روح کی حقیقت کیا ہے اور یہ کون سی چیز ہے‘ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ جب میں کسی کی روح قبض کرتا ہوں تو مجھے اپنی ہتھیلی پر ایک بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔‘‘ پھر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل یہ چار منہ ہونے کا کیا راز ہے؟‘‘ عزرائیل نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دائیں طرف کے منہ سے صرف مومنوں کی روح قبض کرتا ہوں اور بائیں طرف کے منہ سے کافروں اور مشرکوں کی روح قبض کرنے کا کام لیتا ہوں۔‘‘ پھر عزرائیل نے خود ہی بتایا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مبارک ہو اور یہ خوش خبری ہے کہ مجھے جس دن خداوند کریم نے پیدا کیا تھا اسی دن حکم دیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس قدر آرام سے قبض کرو جس طرح بچہ اپنی ماں کی چھاتیوں سے دودھ کھینچتا ہے اور ماں کو احساس نہیں ہوتا۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات جب میں نے عزرائیل کی زبان سے سنی تو میں فوراً ہی سجدہ شکر بجا لایا۔ پھر میں نے عزرائیل سے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل! کیا کبھی اس کرسی سے اٹھنے کی ضرورت پیش آئی؟‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’’ہاں یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ‘مجھے تین بار اس کرسی سے اٹھنا پڑا۔‘‘ پھر انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ ’’ایک بار میں اس کرسی سے اس وقت اٹھا تھا جب مجھے حضرت آدم کا پتلا بنانے کے لیے مٹّی لانے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری بار جب مجھے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا تھا تو میں اس کرسی سے اٹھا تھا۔ اسی طرح تیسری بار مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لیے کرسی سے اٹھ کر جانا پڑا تھا۔‘‘ پھر میں نے عزرائیل سے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل کبھی روح قبض کرتے وقت تمہیں کسی پر رحم آیا؟‘‘ عزرائیل نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو موقعوں پر مجھے بڑا رحم آیا‘ مجھے غم ہوا ایک مرتبہ تو جب ایک عورت اپنے بچے کو لیے دریا میں ایک تختے پر بہتی جارہی تھی اور مجھے اس کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا تھا اور دوسری دفعہ مجھے اس وقت غم ہوا تھا جب مجھے شدّاد کی روح قبض کرنے کا اس وقت حکم ہوا تھا اس کا ایک قدم باغِ ارم کے اندر تھا اور ایک باہر اُس وقت اُس کی عمر نو سو سال تھی۔ شداد نے یہ جنت چار سو سال کی مدت میں بنوائی تھی اور اس میں جنت کے مانند سونے چاندی کے مکانات تھے۔‘‘
پانچواں آسمان
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوتھے آسمان کے بعد ہم پانچویں آسمان پر پہنچے۔ حسب دستور جبرائیل علیہ السلام نے دستک دی اور جب انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں تو آسمان کا دروازہ فوراً کھل گیا۔ اس آسمان کے فرشتوں کے سردار عائیل تھے۔ انہوں نے میری تعظیم کی اور مجھ سے معانقہ کیا۔ ہم آگے بڑھے تو ہماری ملاقات حضرت ہارون علیہ السلام سے ہوئی۔ انہوں نے کہا۔ ’’مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالحیں‘‘
چھٹا آسمان
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھٹے آسمان پر ہمارا استقبال ہابیل نے کیا جو وہاں کے ملائکہ کے رب النوع اور سردار ہیں۔ ہابیل نے کہا۔ ’’مرحبا یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ وہاں سے ہم آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہم سے ملاقات کے لیے آئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ ’’مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالح‘‘
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ ’’یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ جو کچھ فرائض آپ کی اُمّت کے لیے مقرر کرے اس پر غور کر کے اور سمجھ کر قبول فرمایئے گا کیونکہ اُمّت کمزور‘ ناتواں ہے اور اس کی عمر بھی مختصر ہے۔‘‘
وہاں سے آگے بڑھے تو ہیبت ناک فرشتہ نظر آیا۔ وہ اس قدر دہشت ناک تھا کہ عقل اسے دیکھ کر حیران رہ جاتی تھی۔ وہ اس قدر جسیم تھا کہ اس کے دائیں اور بائیں شانوں کا درمیانی فاصلہ ایک سال کی مسافت کا تھا۔ اس کے ارد گرد ایسی شکل و صورت کے اور بھی فرشتے جمع تھے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا۔ ’’یارسول اللہ!یہ فرشتہ مالک ہے۔ اسے دوزخ پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ماتحت انیس اور فرشتے ایسے ہی دہشت اور وحشت ناک ہیں۔ جو حکم اسے اللہ کی طرف سے ملتا ہے اسے بجا لاتا ہے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دوزخ کے سردار مالک کے پاس گیا اور میں نے اسے سلام کیا لیکن اس نے میرے سلام کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس وقت ندا آئی کہ ’’اے مالک یہ محمد مصطفیٰ‘ خاتم الانبیاء اور میرے محبوب ہیں۔ تو نے ان کی تعظیم کیوں نہ کی۔ ان کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا۔‘‘
مالک اپنا نام سن کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت عزت و تعظیم سے مجھ کو بٹھایا اور کہا۔ ’’یارسول اللہ! آپ تمام انبیاء میں افضل ہیں۔ آپ کی اُمّت بھی سب سے افضل ہے۔ تمام انبیاء کی اُمتیں‘ آپ کی اُمّت کی پیروی کریں گی۔‘‘
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close