Aanchal Jan-18

حمد و نعت

عبرت صدیقی/محسن میمن

حمد باری تعالیٰ
رقص میں حسرت وجد میں ارماں بزم تمنا جھوم رہی ہے
حمد خدا کے گیٹ چھڑے ہیں مست ہے دنیا جھوم رہی ہے
صبح کی حسن افروز فضا میں جلوے ہی جلوے بکھرے پڑے ہیں
کاہکشاں کا باندھ کے سہرا شام تمنا جھوم رہی ہے
نقش و نگار صحن گلستاں رنگ و جمال فضل بہاراں
صنعت رب کا دیکھ کے نقشہ چشم تماشا جھوم رہی ہے
سبزہ و گل فردوس بد اماں شز مہر بکف ذرات پریشاں
گود میں بزمِ نور کو لے کر وسعت صحرا جھوم رہی ہے
لب بہ ترنم چاند ستارے‘ ساز بکف یہ نور کے دھارے
عالم وجد و کیف میں فطرت چھیڑ کے نغمہ جھوم رہی ہے
رنگ نظام بزم دو عالم یہ حکمت یہ حسن سلیقہ
وصف خدا کی دھن میں ازل سے محو ہے دنیا جھوم رہی ہے
اوج فلک پر حد نظر تک نور کے عبرت پھول کھلے ہیں
چاند ستاروں کی محفل میں مست ہے زہرا جھوم رہی ہے

جناب عبرت صدیقی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
کاش یہ دعا میری معجزے میں ڈھل جائے
سامنے مدینہ ہو اور دم نکل جائے
ہم گناہ گاروں پر آپ جو کرم کردیں
ہم گناہ گاروں کی زندگی بدل جائے
واسطہ نواسوں کا صدقہ غوثِ اعظم کا
آفت و بلا ساری میرے سر سے ٹل جائے
اے مرے سخی داتا میری سوئی قسمت بھی
آپ کے اشارے سے یا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم بدل جائے
پنجتن کے صدقے میں ہو لحد مدینے میں
ہو کرم جو محسن پر زندگی بدل جائے

جناب محسن میمن

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close