Aanchal Feb-18

نیرنگ خیال

ایمان وقار

نظم
اے چلے جانے والے سال
تجھے کیا کہوں‘ تجھے کیا کہوں
تُو گزر گیا…
تُو چلا گیا…
میری حسرتوں سے کھیل کر
میری چاہتوں سے کھیل کر
دے کر زندگی کے غم مجھے
خود ماضی بن کے گزار گیا
تجھے اپنے آنسوئوں کا دوش دوں
یا اپنی قسمت پر چھوڑ دوں
کہنا آنے والے سال سے
مجھے خوشیوں سے نواز دے
گزاری ہے شبنم کی زندگی
ان آنسوئوں کی تاب میں

شبنم کنول… پاپا نگری‘ حافظ آباد

نظم
تمہیں معلوم ہے جاناں
برس اک اور بیتا ہے
تمہارے بن…
تمہارے سارے وعدوں کو
تمہاری ساری قسموں اور
باتوں کو…
گئے برسوں کی دیمک نے کھایا ہے
نئے اس سال میں جاناں
کہو اب کون سی خوش فہمیاں پالیں؟
تمہاری ذات سے امید رکھنے سے کیا حاصل؟
تمہاری باتوں کے ریشم میں جو ہم برسوں سے الجھے ہیں
اس لجھن کو اب کے برس تم ختم کر ڈالو
یا اپنے وعدوں اور دعوئوں پر عمل کرلو
یا…
کہہ دو صاف کہ تم نے
اب تلک جو بھی کہا ہم سے
فقط جھوٹا ڈرامہ تھا کیونکہ
نئے اس سال میں ہم نے
تمہارے سارے وعدوں‘ دعوئوں اور باتوں کو دفن کرنا ہے
اور نیا سال اب کی بار
خوش ہوکر منانا ہے

سباس گل… رحیم یار خان

تیری جدت
کیا نیا ہے کہ
کہوں تجھ کو
نیا سال بھلا میں
ہے لہو کی وہی سرخی
ہے وہی بھوک کا ماتم…
صحرا کی وہی پیاس ہے
پھولوں پر خزاں بھی…
آ‘ دیکھ یہاں… سن
میرے معصوموں کی آہیں
انصاف پر تالے ہیں
میسر نہیں منصف
ہاں دن بھی وہی ہیں
وہی راتیں ہیں یہاں تو…
کیا نیا ہے یہ بتا مجھ کو
نئے سال ذرا تُو…
تُو نیا ہے تُو بدل ڈال
یہ سرکش سی ہوائیں
ہاں پونچھ یہ آنسو
ہاں یہ دن رات بدل دے
نئی صبحیں دکھا
اور نئی شام اٹھالا
ورنہ مسکانؔ کو
منظور نہیں
جدت تیری
تجھ جیسے کئی سال
یہاں دیکھ چکے ہیں
ہندسے ہی بدلتے تھے محض
سب تھا دکھاوا
تیری جھولی میں بھی اب میرے لیے
حسرت پنہاں…
اب تُو بھی چلا جا کہ
بلکتے ہوئے ہم تو…
صدیوں سے جیے جاتے ہیں
نئی بات نہیں ہے
تیری جدت‘ اے نئے سال
تجھے ہی ہو… مبارک
تجھے ہی ہو… مبارک!

نورین مسکان سرور… ڈسکہ‘ سیالکوٹ

نیا سال
ہر بار ہمیں تڑپاتا ہے
دکھ درد بہت دے جاتا ہے
یہ سال نیا جب آتا ہے
مائوں کی گودیاں اجڑتی ہیں
بہنوں کی آبرو لٹتی ہے
کسی بیٹے کے جواں کے سینے پر
ظالم کی گولی لگتی ہے
ماں کرتی ہے بین میت پر
اور سینہ کوبی کرتی ہے
کیا کیا دل پر لگ جاتا ہے
ہر بار ہمیں تڑپاتا ہے
یہ سال نیا جب آتا ہے
کہیں دہشت گردی لوٹ و مار
اس ملک میں ہے کیسا آزار
سبزی ہو‘ چاول‘ دودھ‘ دہی
پیٹرول ہو یا دال‘ اچار
حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں
ان کے لیے نہیں کچھ بھی دشوار
مہنگائی سے غریب گھبراتا ہے
ہر بار ہمیں تڑپاتا ہے
یہ سال نیا جب آتا ہے

نورین انجم… کراچی

نظم
اس جنوری میں
وہ پھر سے ہوائیں آنے لگی
وہ جب تم میرے تھے
وہ یادیں ستانے لگی
اس جنوری میں…
وہ درختوں کے سائے
میں بیٹھنا…
وہ پل جو گزارے تھے
ساتھ ہمارے
وہ یاد آنے لگے
اس جنوری میں…

ایم ظفر… جلال پور

غزل
محبت میںد ست دعا لکھنے والو
محبت کو سمجھو وفا لکھنے والو
ذرا خود بھی اس پر عمل کرکے دیکھو
کبھی زندگی کو وفا لکھنے والو
زمین پر تمہاری حکومت رہے گی
کہا تک یہ خود کو خدا لکھنے والو
قفس میں پرندے مرے جارہے ہیں
کہاں چھپ گئے ہو ہوا لکھنے والو
میری زندگی کا خدا مہربان ہے
بھلا ہو تمہارا سزا لکھنے والو
تمہیں کس قدر خوب صورت لگی ہوں
فریؔؔ کی قاتل ادا لکھنے والو

فریدہ فری یوسف زئی… لاہور

دسمبر
کیسے بتائوں کہ دسمبر کیا ہے؟
دسمبر نام ہے اذیت کا
رستے ہوئے زخموں کا
بچھڑے ہوئے لوگوں کا
الجھے ہوئے رشتوں کا
روتی ہوئی آنکھوں کا
درد میں ڈوبی سانسوں کا
تڑپتی ہوئی یادوں کا
دل چیرتی تنہائی کا
ویرانی دل کا
کرلاتی تمنائوں کا
بین کرتی وفائوں کا
بے توقیر چاہتوں کا
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا
تھکن سے چُور دھرکنوں کا
دم توڑتی دعائوں کا
اور دسمبر نام ہے
ہر زخم کے ٹانکوں کے ادھڑ جانے کا
اور…
ہر پل مرمر کے جیے جانے کا

شگفتہ خان… بھلوال

نیا سال مبارک
پھر سے نئے برس کی آمد کا بول بالا ہے
ہم نے بے ساختہ ہاتھوں سے دل سنبھالا ہے
یاد ماضی کے پور خار گھنے جنگل سے آتی
اس بے وفا کی اک صدا نے دل دکھایا ہے
وہ بے وفا جو روح رواں تھا چاہت کی
جسے کہتے تھے وہ میری زیست کا سرمایہ ہے
گئے وقتوں کی رنگین مسکراہٹیں لے کر
میری آنکھوں میں وہ اشکوں سا آسمایا ہے
نئے برس کی پور زور صدائیں سن کر
گماں گزرا ہے کہ اس نے مجھے بلایا ہے
ہاتھوں میںپھول اور آنکھوں میں محبت لے کر
وہ سراپا سوغات بن کے آیا ہے
پر یہ تو اک گماں ہے‘ تصور ہے‘ اک چھلاوا ہے
یہاں بس تنہائی ہے‘ میں ہوں اور میرا سایہ ہے
بیتے لمحوں میں اس کی آمد کا وہی اک لمحہ
میری آنکھوں میں اشکوں کی باڑ لایا ہے
کبھی اس نے کہا تھا نئے سال مبارک مجھ سے
آج وہی جملہ میری سماعتوں سے ٹکرایا ہے
وہ جاچکا ہے پر اس سے جڑی رسموں نے
بارہا میرا ضبط آزمایا ہے
وقت کی ڈگر پہ آج تنہا کھڑی ہے انعمؔ
اس حقیقت نے مجھے آج تک رلایا ہے

انعم زہرہ… ملتان

اسی سال میں
دیکھیں گے اس سال ہماری
کتنی خوشیاں پوری ہوں گی
دیکھیں گے اس سال ہمارے
کتنے ساتھی بچھڑیں گے
دیکھیں گے اس سال بھی ہم تم
خواب نگر کے سپنے پیارے
احسن و محبت بھائی چارہ
نہیں حقیقت شاید سارے
اسی سال میں‘ اسی سال میں
شاید کنولؔ اسی سال میں
یاسمین کنول… پسرور
اے کاش ایسا ہو
اے کاش ایسا ہو
سال نو مین
رحمتوں کا حصول ہو
برکتوں کا ظہور ہو
امن اور سکون ہو
محبتوں اور شفقتوں کا سایہ ہو
برکت ہو
علم و عمل میں‘ رزق میں‘ صحت میں
کاش…
سال نو ایسا ہو
وطن عزیز پرسکون رہے
دہشت گردی سے محفوظ رہے
آفتوں سے مامون رہے
میلی آنکھ اس سے دور رہے
کاش سال نو میں ایسا ہو
کھیتیاں ہری بھری ہوجائیں
مائوں کی گودیں بھر جائیں
روزی میں وسعتیں ہوجائیں
مسجدیں آباد ہوجائیں
کاش سال نو میں ایسا ہو
اولادیں فرماں بردار ہوں
درسگاہیں آباد ہوں
تمام ادارے پاک ہوں
خیات سے‘ ظلم سے‘ حسد سے‘ جھوٹ سے
اے کاش سال نو میں ایسا ہو
امت مسلمہ میں اتحاد ہو
فرائض کا اہتمام ہو
عورت بھی باپردہ ہو
گھروں میں امن و سکون ہو
اے کاش سال نو میں ایسا ہو

اسماء صدیقہ… عبد الحکیم‘ خانیوال

جویریہ وسمی کے نام
تیری شیریں گفتگو کی طرح تیرا مقدر ہو
سج جائے تیری زندگی تری آواز کی مانند
تیری روح کی گہرائیوں میں اترجائے کوئی شخص
زیست ساری ہی گزرے تیری مہ ناز کی مانند
تیرے گھر سے اداسی کے پرندے کریں کوچ
خوشیوں کے طیّور اتریں حسیں ساز کی مانند
آغاز محبت تجھے سرشار جوانی دے
انجام بھی کہانی کا ہوآغاز کی مانند
مایوسی کا کوئی موسم تجھے چھونے نہ پائے
امید سدا سنگ رہے اعزاز کی مانند

کوثر خالد… جڑانوالہ

نئی شروعات کریں
آئو نئے سال کے موقع پر
نئی شروعات کریں
بھول کے دکھ غم سارے
خوشیوں کا استقبال
کریں…
نہ پتوں کی مانند بکھریں
نہ ذرّے کی طرح
مسلے جائیں
شاہین ہیں ہم
اقبال کے
آئو اپنے آسمان پر پرواز کریں
مرنے سے پہلے کیوں
مریں؟
آئو جینے کا عنوان
بنیں
ہزاروں غم ہزاروں نشتر ہیں یہ
مانا ہ نے
مگر ان ہزاروں غموں سے
لاکھوں خوشیوں کی
پیداوار کریں
آئو نئے سال پر
نئی شروعات کریں

انیلا طالب… گوجرانوالہ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close