Aanchal Feb-18

حمد و نعت

عبدالستار نیازی/محمدیامین وارثی

حمد

کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے دل ہ جنوں بیدار ہوا
تلوئوں کا تقاضا یاد رہا نظروں کا تقاضا بھول گیا
احساس کے پردے لہرائے ایماں کی حرارت تیز ہوئی
سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ سر اپنا سودا بھول گیا
جس وقت دعا کو ہاتھ اٹھے یاد آ نہ سکا جو سوچا تھا
اظہار عقیدت کی دھن میں اظہاذوق تماشا بھول گیا
پھر روح کو اذنِ رقص ملا خوابیدر تمنا بھول گیا
پہنچا جو حرم کی چوکھٹ پر اک ابرِ کرم نے گھیر لیا
باقی نہ رہا یہ ہوش مجھے کیا مانگ لیا کیا بھول گیا
ہر وقت برستی ہے رحمت کعبے میں جمی اللہ اللہ
ہادی ہوں میں کتنا بھول گیا عامی ہوں میں کتنا بھول گیا

عبدالستار نیازی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
چھا گئے ابرِ کرم ہو گئے ختم ستم
آگئے شاہِ اُمم ہو گئی چشمِ کرم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
آیا سدرہ کا مقام بولا آقا سے غلام
میری منزل ہے یہی تیرے قدموں کی قسم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
ہم بُرے ہیں یا بھلے جو بھی ہیں آپ کے ہیں
صدقہ حسنین کا دو ورنہ مر جائیں گے ہم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
ہوگا جب حشر بپا انبیاء دیں گے صدا
مصطفیٰ چشم کرم مصطفیٰ چشمِ کرم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
اے مرے سرور دیں آپ سا کوئی حسیں
دونوں عالم میں نہیں حُسنِ یوسفؑ کی قسم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
خواب میں آگے شہا اتنا فرما دو ذرا
تو کوئی فکر نہ کر تیرے غم خوار ہیں ہم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
چھوڑ کر آپ کا در جائیں جائیں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کدھر
صدقہ حسنین کا دو ورنہ مر جائیں گے ہم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم
آئے دن پھر سے بھلے قافلے طیبہ چلے
سب گئے رہ گئے ہم جانے کب ہوگا کرم
للہ اب کر دو کرم للہ اب کر دو کرم

محمد یامین وارثی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close