Hijaab Oct-18

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
چودھری حشمت شاہ زرشمعون اور شنائیہ کی نسبت طے کرنے کے بعد سب سے رضا مندی پوچھتے ہیں۔ چودھری بخت خوشی کا اظہار کرتے ہیں چودھری بخت کی نظر میں شنائیہ کو شاہ زرشمعون کی صورت اچھا برملا تھا۔ سمہان اس فیصلے پر حیران ہوتا ہے اسے شک گزرتا ہے کہ اس فیصلے کی تبدیلی میں ضرور عیشال کا ہاتھ ہے دوسری طرف عیشال جہانگیر شنائیہ کو تنگ کرتی اس سے بدلہ لیتی ہے۔ ماورا یحییٰ منزہ کی رپورٹ لے کر اسپتال جاتی ہے وہ کسی اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کرتے منزہ کی بیماری کا علاج کروانا چاہتی ہے ڈاکٹر جنید اسے رپورٹس ڈاکٹر چودھری بخت کودکھانے کا مشورہ دیتے ہیں ماورا ریسیپشن سے ڈاکٹر چودھری بخت کا معلوم کرتی ہے چودھری بخت ان دنوں چھٹی پر تھے لہذا ماورا یحییٰ مایوس ہو جاتی ہے۔ شنائیہ چودھری بخت اور دیا کے سامنے اس رشتے سے انکاری ہوجاتی ہے۔ چودھری بخت پہلے شنائیہ کو نرمی سے سمجھاتے ہیں پھر سختی سے دیا کو اسے سمجھانے کا کہتے کمرے سے نکل جاتے ہیں، دیا بھی اس رشتے پر خوش ہوتی ہیں جب ہی وہ شنائیہ کو اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کا کہتی ہیں۔ ایشان جاہ یونیورسٹی میں ماورا یحییٰ کو اداس و پریشان دیکھتا ہے تو از راہ ہمدردی اس سے اداسی کی وجہ پوچھتا ہے جس پر ماورا یحییٰ اسے غصہ سے سناتی ششدر کر جاتی ہے ایشان جاہ ماورا یحییٰ سے بد ظن ہوتا بدلا لینے کا سوچتا ہے۔ شنائیہ چودھری شاہ زر شمعون سے مدد مانگتی اسے رشتے سے انکار کرنے کا کہتی ہے جس پر شاہ زر شمعون برہم ہوتا ہے اسے خود ہی رشتے سے انکار کرنے کا کہتا ہے۔ منزہ ماورا یحییٰ سے رپورٹس لے لیتی ہیں ان کے خیال میں اگر یہ رپورٹس انوشا نے دیکھ لیں تو شادی سے ہی انکار کردیتی جبکہ وہ اپنی موت کی خبر پا کر ہی اس کی شادی جلدی کرنا چاہ رہی ہوتی ہیں ماورا منزہ سے ڈاکٹر چودھری بخت کا ذکر کرتی ہے جس پر وہ چونکنے کے ساتھ علاج سے انکاری ہوجاتی ہے۔ چودھری حشمت چودھری جہانگیر کو عیشال کے نکاح نہ ہونے کا بتا کر انہیں حویلی آنے کا کہتے ہیں جس پر وہ انکار کردیتے ہیں چودھری حشمت سختی سے انہیں ہر حال میں شنائیہ اور شاہ زر شمعون کے نکاح میں شامل ہونے کا کہتے ہیں۔ منزہ باہر کام سے جاتی ہے اسیے میں دروازے پر ہونے والی دستک پر ماورا دروازہ کھولتی ہے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ بھکاری سمجھ کر ٹالنا چاہتی ہے لیکن جب وہ منزہ کا پوچھ کر اپنا نام بتاتا ہے تو ماورا چونک جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
خ…ز…/
’’تم دروازے پر کھڑی کیا کررہی ہو؟‘‘ گلی کے نکڑ سے ہی منزہ کی نظریں اپنے گیٹ کی طرف تھیں اور دروازے پر کھڑے اس شخص کو دیکھ کر جہاں ان کا دل ماورا کو گھر میں اکیلا سوچ کے لرزا‘ وہیں انہوں نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کردی۔ ان کا خدشہ سامنے کھڑا تھا۔ ماورا دروازے پر کھڑی تھی اور جانے وہ بدبخت کیا کچھ کہہ گیا تھا۔
ماورا جو اجنبی کی باتیں سن رہی تھی‘ آندھی طوفان کی طرح اچانک نازل ہونے والی منزہ کو دیکھ کر اسے کسی قدر تقویت ہوئی‘ ورنہ سنسان گلی اور اجنبی کی پراسرار آمد نے خوف زدہ کرنے کے ساتھ ساتھ تجسس کے ہاتھوں اسے وہیں جما رہنے پر مجبور کردیا تھا لیکن اس کا اجنبی سے مخاطب ہونا منزہ کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا تب ہی وہ آتے ہی شروع ہوگئی تھیں۔
’’ہزار بار کہا ہے کسی ایرے غیرے بھکاری کے لیے بھی دروازہ نہ کھولنا مگر… سبزی لے کر جائو‘ میں آتی ہوں۔‘‘ ایک نظر ماورا پر ڈال کر یحییٰ کو سخت نظروں سے گھورتی منزہ کی سانس تیز تیز چلنے لگی تھیں۔ بھاگم بھاگ آنے کی وجہ سے ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے مگر انہوں نے دروازے کا سہارا لے کر خود کو سنبھال رکھا تھا۔
’’اماں‘ یہ…!‘‘ ماورا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کچھ کہنا چاہا‘ شاید نام کی مماثلت بتانا چاہ رہی تھی‘ تب ہی منزہ نے سرد نظر ڈالی تو ماورا نظروں کا مفہوم سمجھ کر سبزی کا شاپر تھامے دروازے سے پلٹ گئی۔
’’بڑا رعب ہے بیٹیوں پر…‘‘ وہ ہنسا‘ ماورا کچن میں جاچکی تھی۔ یہ تسلی کرتے کہ وہ صحن میں کھڑی ہوکر ان کی باتیں نہیں سن رہی‘ منزہ نے دروازہ بھیڑ دیا۔
’’میں نے منع کیا تھا یہاں آنے سے۔‘‘ منزہ دھیمی آواز سے غرائیں۔
’’تو نے پیسے نہیں پہنچائے تو مجھے آنا ہی پڑا۔‘‘ معصومیت سے جواب دیا۔
’’پیسے پیڑ پر نہیں لگے ہوئے کہ توڑ توڑ کر تمہیں بھرتی رہوں اور میری بیٹیاں محنت کرتی ہیں تب اس گھر کا چولہا جلتا ہے اور اوپر سے تم آگئے‘ ہماری زندگی خراب کرنے…‘‘
’’پیسے نہیں دے سکتی تو دونوں بیٹیاں مجھے دے دے وہی کما کر مجھے پال لیں گی۔‘‘ اس درجہ بے غیرتی پر منزہ نے بپھر کر زمین پر پڑا پتھر اٹھا لیا۔
’’چلا جا یہاں سے‘ دفع ہوجا… ورنہ تیرا سر پھاڑ دوں گی… خبردار جو اپنی گندی زبان سے پھر میری بیٹیوں کا نام بھی لیا۔‘‘ منزہ کے سر پر خون سوار ہوگیا تھا۔ آواز حتی الامکان دھیمی رکھی تھی تاکہ دیوار کے اس پار نہ جاسکے اور ماورا کچھ سن لے… دوسری طرف گلی میں کسی کے دیکھ لیے جانے کا خطرہ بھی موجود تھا۔
’’اگر ایسی ویسی بات برداشت نہیں تو پہلے دے دیا کر۔‘‘ وہ تول مول کے گر سکھا رہا تھا۔ پتھر نیچے پھینک کر منزہ نے مٹھی میں دبے چھوٹے سے بٹوے کی زپ کھولی اور اس میں سے اکلوتا سو کا نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
’’بس یہی ہے میرے پاس لے اور دفع ہوجا تیری کہیں کوئی عزت ہو یا نہ ہو مگر میری اور میری بیٹیوں کی ہے۔‘‘ وہ اسے دھتکارنے لگیں۔
’’یہ تو کیا مجھے بھکاریوں کی طرح سو پچاس پکڑا دیتی ہے۔‘‘ نوٹ جھپٹتے ہوئے وہ انہیں گھورنے لگا۔
’’ویسے تو نے بیٹیوں کو ان کے باپ یعنی میری تصویر تک نہیں دکھائی…؟‘‘ باپ کا لفظ سن کر چونکی‘ ماورا لہجہ بدل کے چڑانے لگا تو منزہ نے ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالی۔
’’تو باپ کہلانے کے لائق ہے؟ اگر جو خوف الٰہی نہ ہوتا تو تیرا نام ہی کاٹ دیتی ولدیت کے خانے سے…‘‘ وہ غضب ناک ہوئیں۔
’’اچھا‘ اچھا… زیادہ اکڑ مت دکھا… مزید پیسے کب دے گی یہ بتا؟‘‘ وہ بحث سے بے زار ہوا۔
’’چند روز میں کمیٹی مل جائے گی… پھر میں تجھے موٹی رقم دے دوں گی لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ تو آئندہ یہاں آکر ہماری زندگی میں کوئی تماشا نہیں کرے گا۔‘‘ منزہ کو یہی حل مناسب لگا کہ دس بیس ہزار پکڑا کر اس سے جان چھڑا لیں۔
’’چل‘ جب پیسے دے گی تب بات کرنا… ابھی شربت دے اندر جاکے‘ بہت گرمی ہے۔‘‘ وہ آرام سے گویا ہوا۔
’’میں تجھ جیسے کو زہر پلانا پسند نہ کروں… چل جا یہاں سے۔‘‘ اسے دھتکار کر منزہ دروازے کے اندر قدم رکھ رہی تھیں اور اسے خبر تھی کہ وہ زبان کی کتنی پکی ہے۔
خ…ز…/
’’کیا کروں…؟ کس سے کہوں کہ مجھے اس ہٹلر سے نکاح نہیں کرنا۔‘‘ سوچ سوچ کر اس کا سر پھٹنے لگا تھا۔ چودھری بخت اور دیا تو اس بارے میں کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھے‘ اس ہٹلر کے منہ پر بھی انکار کرکے دیکھ چکی تھی مگر وہ الٹا ضد میں آگیا تھا‘ اس کی باتوں سے وہ اتنی ہراساں ہوئی کہ رات کو جب بھی آنکھ کھلتی نظر بار بار دروازے تک جاتی اور دروازے کو مقفل دیکھ کر ہر بار کسی قدر تسلی ہوتی۔
ماہم کی صبح جلدی ہوگئی تھی‘ وہ فریش ہوکر کمرے سے باہر چلی گئی تو شنائیہ چودھری نے دوڑ کے دروازہ مقفل کرلیا تھا۔
’’اتنے خطرناک انسان سے نکاح کروں…؟ جس کے ڈر سے سکون کی نیند اڑ گئی۔‘‘ منہ چڑھا کے‘ کشن گود میں دبوچ کر آنکھیں موند کر سوچنے لگی۔
’’کس سے مدد لوں… کس سے…؟ دی جان… نہیں۔‘‘ سوچتے ہوئے وہ کچھ مطمئن ہوئی لیکن اگلے ہی پل اپنے خیال کی خود ہی نفی کی۔
’’نہیں… وہ دا جان کے خلاف کبھی نہیں جائیں گی… پھر کون… سمہان…؟‘‘ اس کا خیال آتے ہی وہ ایک دم پُر جوش ہوگئی۔
’’ہاں‘ اس سے کہتی ہوں۔‘‘ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ جھٹ سیل فون کی تلاش میں نظر دوڑانے لگی لیکن اسی وقت دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔
’’اکیلا پا کر کہیں گن لے کر تو نہیں آگیا ہلاکو…‘‘ اس نے دروازہ تھوڑا سا کھولا۔
’’بی بی جی ناشتا لگ گیا ہے‘ آجائیں سب انتظار کررہے ہیں آپ کا۔‘‘ ملازمہ پیغام لیے حاضر ہوئی تھی۔
’’تم چلو میں آتی ہوں۔‘‘ ملازمہ سے کہہ کر وہ اندر آگئی۔
’’فون کرنے کے بجائے روبرو بات کرکے زور دوں گی تاکہ سمہان اس جلاد سے میرا پیچھا چھڑا دے۔‘‘ یہ حتمی بات سوچ کر وہ جلدی سے فریش ہونے چلی گئی۔
اس نے ڈائننگ ہال میں قدم رکھا تو فریال اور فائزہ کو ملازموں کو ہدایت دیتے پایا‘ دونوں سب کی پسند کا ناشتہ ان کے آگے رکھتی ملازمائوں کو ہدایت دے رہی تھیں‘ نکاح کی تیاری کے سلسلے میں لڑکیوں نے آج کالج سے چھٹی کی تھی۔ مردوں میں اس وقت صرف سمہان آفندی ہی اسے میز پر براجمان نظر آیا تھا۔ موقع پاکے وہ اس کے برابر والی کرسی خالی دیکھ کر فوراً بیٹھ گئی۔
’’صبح بخیر۔‘‘ سیب کی قاش کھاتے انگریزی اخبار پر نظریں جمائے وہ اس میں مگن تھا‘ جب اس نے آہستگی سے وش کیا۔
’’صبح بخیر…‘‘ ایک نظر اس پر ڈال کر‘ خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے وہ دوبارہ اخبار کی جانب متوجہ ہوا۔ تو شنائیہ چودھری طائرانہ نگاہ ڈال کر ہال کا جائزہ لینے لگی کہ آیا یہ مقام بات کرنے کے لحاظ سے موزوں ہے بھی یا نہیں کہ سارے مرد تقریباً آگے پیچھے آتے دکھائی دیے۔
سب سے آگے دا جان تھے۔ جو چودھری بخت سے کچھ کہتے ہوئے آرہے تھے پھر انہوں نے گردن موڑ کر کسی کو اشارہ کیا اور شاہ زرشمعون کو ایک دم آتے دیکھ کر اس نے سراسیمگی سے سر جھکا لیا تھا۔ سب کو آتے دیکھ کر عورتیں بھی محتاط ہوگئی تھیں‘ سمہان آفندی اخبار پر سے نظریں ہٹا کر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’سمہان… ناشتے کے بعد مجھے اکیلے میں تم سے بات کرنی ہے‘ اٹ از ویری ارجنٹ اینڈ امپورٹنٹ فار می۔‘‘ اس نے سر جھکائے نقل کرنے والے بچوں کی طرح دھیمی آواز سے سرگوشی کی‘ اپنا نام سن کر سمہان کی نگاہ اس پر گئی لیکن وہ سر جھکائے اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ رہی‘ دیکھنے والے کو محسوس ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ ابھی اس نے کوئی سرگوشی کی ہے لیکن سمہان آفندی سن چکا تھا اور اسی لمحے ناشتہ لیے اندر آتی ان کے پیچھے سے گزرتی عیشال جہانگیر نے شنائیہ کا سرگوشی میں کہا جملہ بغور سن لیا تھا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی سمہان آفندی کو اس کے برابر بیٹھے دیکھ کر ہی وہ لب بھینچ کر رہ گئی تھی اور اب شنائیہ کا سرگوشی کرتا لہجہ اس کے اندر برق دوڑا گیا‘ اس نے رفتار دانستہ دھیمی کرلی تاکہ سمہان آفندی کا جواب بھی سن لے مگر اس کی طرف سے خاموشی رہی تو خالی کرسی پر بیٹھ گئی جو ان دونوں سے خاصی دور لیکن نظروں کے سامنے تھی۔ شاہ زرشمعون کی نگاہ شنائیہ پر پڑی جو اپنے مزاج کے برخلاف سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کی رات کی فون پر کی گئی بکواس یاد آئی تو لب ایک بار پھر بھنچ گئے۔
’’السلام علیکم!‘‘ خواتین نے سر پر دوپٹا درست کرتے ہوئے سب پر مشترکہ سلامتی بھیجی‘ کسی نے باآواز بلند تو کسی نے سر ہلا کر جواب دیا پھر سب نے اپنی اپنی کرسی سنبھالی‘ شاہ زرشمعون کو عین اپنے سامنے براجمان ہوتے دیکھ کر شنائیہ چودھری مزید سٹپٹائی۔
لمبی چوڑی میز پر یہاں سے وہاں تک ناشتہ سجا ہوا تھا‘ پائے‘ نہاری‘ مرغ چھولے‘ روغنی نان‘ آلو کے پراٹھے‘ کچوری اور حلوہ بھی موجود تھا تو ساتھ ہی شہری مہمانوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے بریڈ‘ بٹر‘ جیم‘ کارن فلیکس کا ناشتا بھی موجود تھا۔
خ…ز…/
’’ہزار بار سمجھایا ہے کہ کسی بھی اجنبی کے لیے دروازہ مت کھولا کرو مگر تمہاری سمجھ میں نہیں آتا اور اس سے باتیں بھی کرنے لگیں۔‘‘ منزہ کے حکم کی تکمیل میں وہ کچن میں آتو گئی تھی مگر سبزی بناتے ہوئے اس کا سارا دھیان باہر کی طرف تھا کچھ منزہ کی تربیت آڑے آرہی تھی جو وہ صحن میں کھڑی ہوکر سن گن نہ لے سکی‘ منزہ کا ردعمل نیا نہیں تھا‘ نہ ہی ان کی ڈانٹ ڈاپٹ نئی تھی‘ ان کی زندگی کے کچھ اصول تھے جن پر وہ خود بھی سختی سے عمل کرتی اور بیٹیوں کو بھی خاص ہدایت تھی اس لیے ماورا کو ان کے انداز پر حیرانی نہیں ہوئی لیکن حیرانی کا باعث تو وہ شخص تھا اور اس کا نام۔
وہ اسی ادھیڑ بن میں شلجم کاٹ رہی تھی جب منزہ آکر برسنے لگیں‘ ان کے غصے کو دیکھ کر وہ بدحواس ہوگئی۔
’’میں نے صائمہ آنٹی کے دھوکے میں گیٹ کھولا تھا اماں اور سامنے یہ شخص آگے۔‘‘ اس نے آہستگی سے جواب دیا۔
’’میں دروازہ بند کرنے لگی تھی لیکن جب وہ آپ کا پوچھ کر اپنا نام بتانے لگے تو میں حیرت میں گھر گئی تھی۔‘‘ ماورا نے سادگی سے کہا اور منزہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ جانے وہ کیا کیا بول گیا تھا… منزہ سپاٹ نظروں سے اس کے چہرے کو ٹٹول رہی تھیں۔
’’یحییٰ سرفراز… یہ نام تو ہمارے بابا کا ہے ناں؟ پھر یہ آدمی کون تھا‘ آپ کا کیوں پوچھ رہا تھا؟‘‘ چھری ہاتھ میں لیے سبزی کاٹنا بھول کر وہ الجھن بھرے انداز میں سوال کررہی تھی‘ ایک سکون کی لہر منزہ کے اندر تیزی سے پھیل گئی تھی یعنی اس نے زیادہ کچھ نہیں بتایا تھا۔
’’یحییٰ سرفراز… اب ایک اول و آخر تمہارے ابا کا تو نام ہونے سے رہا… دنیا میں ہزاروں لوگ ایک نام لیے گھوم رہے ہیں… اب کیا تم ہر اجنبی کے نام پر حیران ہوکر اس کا منہ تکنے لگو گی؟ اور وہ پو چھے گا کیوں نہیں… اکثر پیسے مانگنے آتا ہے… دے دیتی ہوں کچھ نہ کچھ… جس در سے ملنے کی آس ہو‘ ضرورت مند سارے در چھوڑ کر اسی کے آگے کھڑا صدا لگاتا ہے۔‘‘ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے منزہ نے سبزی کی ٹوکری اپنے آگے گھسیٹ کر ماورا کے ہاتھ سے چھری لے لی لہجہ نارمل ہی رکھا‘ حالانکہ دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
’’میں سبزی بنا رہی ہوں‘ تم آٹا گوندھ لو انوشا بھی اسکول سے آنے والی ہوگی‘ آج دیر ہوگئی ہانڈی پکانے میں۔‘‘ منزہ نے کی طرف متوجہ کرکے اس کا دھیان بھٹکنے کی کوشش کی… وہ سر ہلا کر آٹے کے کنستر سے آٹا نکال کر چھاننے لگی لیکن چہرے پر سوچ کی لکیریں واضح تھیں۔ منزہ کا دل اندر ہی اندر کانپ رہا تھا۔ وہ دزدیدہ نظروں سے بار بار اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ ان کی مدد کرتی ہیں… لیکن وہ تو کہہ رہے تھے وہ بھکاری نہیں ہیں۔‘‘ آٹے میں نمک ڈالتے ہوئے ماورا جیسے پوری کہانی میں کوئی سرا ڈھونڈ رہی تھی۔
’’کچھ بھکاریوں کو اپنی انا بڑی عزیز ہوتی ہے‘ وہ کب مانتے ہیں کہ بھیک مانگ رہے ہیں‘ وہ تو اسے ضرورت کا نام ہی دیتے ہیں اور ہم پر بھی فرض ہے کہ ہم ان کی انا کا خیال کرتے رہیں انہیں بھکاری نہ سمجھیں۔‘‘ منزہ یقینا بہت برا پھنسی تھیں‘ بمشکل آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاکر وہ اس کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینا چاہ رہی تھیں تاکہ کوئی کمزور پہلو اسے تجسس میں نہ ڈال دے۔
’’کہیں بابا کا ہم شکل نظر آتا ہے تو کہیں ہم نام سامنے آجاتے ہیں تو مکمل ہمارے بابا… افسوس…!‘‘ ماورا دکھی ہوگئی۔
’’قبر سے اٹھالائو باپ کی ہڈیوں کو… ماں کی بات کا تو تمہیں یوں بھی یقین نہیں…‘‘ منزہ چھری‘ سبزی کی ٹوکری میں پھینک کر اٹھنے لگیں۔
’’اماں… میں نے ایسا تو نہیں… بس ہم نام بندے کو دیکھ کر افسوس ہوا کہ کاش ہمارے بابا بھی زندہ ہوتے… ہمارے ساتھ ہوتے۔‘‘ اس نے چھٹ منزہ کا ہاتھ تھام کر انہیں اٹھنے سے روک کر دلی خواہش بیان کی‘ اس کے چہرے کی حسرت و محرومی دیکھ کر منزہ کے دل پر گھونسا پڑا تھا۔
’’یہ حسرت بھری روٹی اور آرزوئوں بھری سبزی سے کسی کا پیٹ نہیں بھرے گا بہتر ہے ہاتھ ذرا تیز چلائو۔‘‘ سرزنش کرتے ہوئے منزہ نے آٹے کی طرف دھیان دلایا جس میں وہ پانی کچھ زیادہ ڈال گئی تھی اور احساس ہوتے ہی افسوس سے ہونٹوں کو دانتوں تلے کچلا‘ اس شخص کی دوبارہ آمد یقینا ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتی تھی‘ وہ جلد سے جلد اس خبیث انسان سے پیچھا چھڑانا چاہ رہی تھیں۔
خ…ز…/
چودھری جہانگیر ناشتے میں مصروف تھے۔ دن خاصا چڑھ آیا تھا مگر رات اہم آپریشن کے باعث ان کی واپسی صبح ہی ہوئی تھی‘ یوں تو ان کے پیشے میں کوئی وقت مقرر نہیں تھا سو ان کے سونے‘ جاگنے‘ کھانے‘ پینے کے الگ ہی معمولات تھے۔ اس وقت طرح دار سی صہبا اسٹائلش کپڑوں میں مناسب میک اپ کیے‘ شوہر کے روبرو بیٹھی انہیں کمپنی دے رہی تھیں۔
’’ارے…ایشان آج جلدی آگئے یونی سے؟‘‘
ماورا سے ہوئی جھڑپ کے باعث موڈ اتنا خراب تھا کہ وہ دوستوں کو بناء بتائے ہی لوٹ آیا تھا… راستے میں دوستوں کی کال آئی تو اس نے غیر تسلی بخش جواب دے کر فون بند کردیا تھا۔ اسے دیکھ کر صہبا نے حیرانی کا اظہار کیا تو وہ ان دونوں کے پاس آکر رک گیا۔
’’ہائے ڈیڈ…‘‘
’’بیٹھو… کچھ منگوائوں تمہارے لیے…؟‘‘ کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صہبا نے پاس بیٹھنے کو کہا۔
’’ابھی موڈ نہیں… آرام کروں گا… آئی ایم سو ٹائرڈ۔‘‘ ایشان جاہ نے بے زاری سے کہا تو ناشتے کرتے چودھری جہانگیر نے عزیز از جان بیٹے کی طرف دیکھا۔
’’کیا ہوا چیمپ؟ بڑے بورنگ لگ رہے ہو‘ بیٹھ جائو تھوڑی دیر باپ کے پاس۔‘‘ چودھری جہانگیر نے بھی کہا تو وہ منہ بسورتا ہوا بیٹھ گیا۔
’’بس کچھ دل نہیں چاہ رہا ڈیڈ…‘‘
’’کیوں نہیں چاہ رہا؟‘‘ چودھری جہانگیر نے نوالہ بناکر ایشان جاہ کے منہ کی طرف بڑھایا تو باپ کی محبت میں اس نے بے ساختہ منہ کھولا… چودھری جہانگیر نے نوالہ منہ میں ڈالا ساتھ ہی ایشان جاہ نے ہاتھ اٹھا کر بس کا اشارہ کرتے ہوئے دوسرے نوالے سے منع کیا۔
’’جب سے کلاس اسٹارٹ ہوئی ہے کم و بیش روز ہی اس کا موڈ خراب رہتا ہے اور یقینا یہ سب اسی لڑکی کی وجہ سے ہورہا ہوگا۔‘‘ صہبا نے اندازہ لگاتے ہوئے سوال کیا تو ایک بار پھر ماورا کا انداز یاد کرتے ہوئے ایشان جاہ کا جہاں حلق کڑوا ہوا وہیں چودھری جہانگیر چونکے۔
’’کون لڑکی… کیا معاملہ ہے؟‘‘ چودھری جہانگیر نے استفسار کیا۔
’’جانے کون لڑکی ہے جس نے انٹری ٹیسٹ میں ٹاپ کرکے ہمارے بیٹے کو نیچا دکھایا اور مسلسل ٹینشن کا باعث بنی ہوئی ہے۔‘‘ صہبا نے اجنبی لڑکی کے متعلق ناگواری سے بتایا تو چودھری جہانگیر کی نظریں ایشان جاہ کی طرف اٹھ گئیں۔
’’اگر زیادہ اری ٹیٹ کررہی ہے تو نام اور حلیہ بتائو مجھے… پھر کراچی تو کیا پورے پاکستان میں کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملے گا اسے۔‘‘ چودھری جہانگیر کے اثرو رسوخ سے وہ اچھی طرح واقف تھا‘ اسے بس بتانے کی دیر تھی مگر آج والے واقعے کے بعد سے اسے مزید چڑ ہوگئی تھی۔ اس ماورا سے جسے جانے کس بات کا گھمنڈ تھا۔ وہ چودھری جہانگیر کی مدد سے نہیں بلکہ خود اس کا غرور توڑنا چاہ رہا تھا جس کا اس نے پختہ ارادہ کرلیا تھا۔
’’ایسا کچھ نہیں کرنا ڈیڈ… ورنہ میں پہلے ہی آپ سے کہہ دیتا… مجھے اسے صحت مندانہ مقابلے میں مات دینی ہے… جو جیت کی بساط وہ بچھائے بیٹھی ہے میں اسے اس کی ہار کی بازی بنا دوں گا۔‘‘ اس کے چہرے سے عزم جھلک رہا تھا۔
’’گڈ… یہ تو شیروں والی بات کی ہے تم نے۔‘‘ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے‘ ناشتا ختم کرنے کا سگنل دیتے ہوئے چودھری جہانگیر اسے سراہا۔
’’آج اتفاق سے آپ دونوں ایک ساتھ ہیں تو چلیں میں بھی لگے ہاتھوں بات ہی کرلوں۔‘‘ انہیں اکٹھا دیکھ کر صہبا کو اپنی بات یاد آگئی۔
’’ایسی کیا بات ہے‘ جس کے لیے ہم دونوں کا ساتھ ہونا ضروری تھا؟‘‘ کرسی تھوڑا پیچھے کیے وہ آرام دہ حالت میں بیٹھ گئے۔
’’ضیاء کا اصرار ہے کہ ہم ایشان اور انشراح کی منگنی جلد کردیں‘ میں سوچ رہی ہوں‘ ہم نکاح میں گائوں تو جا ہی رہے ہیں… وہیں سب کو ایشان اور انشراح کی منگنی کے لیے مدعو کرلیں گے اور وہاں سے واپسی پر منگنی…‘‘
’’ایک منٹ مما… یہ آپ سے کس نے کہا کہ میں انشراح سے شادی کروں گا؟‘‘ صہبا کی پٹر پٹر چلتی زبان پر چودھری جہانگیر کے ماتھے پر لکیریں پڑنے لگیں تو ایشان جاہ بھی بری طرح چونکا تھا۔
’’لو کہنا کس نے ہے… میں نے عرصہ سے ضیاء سے خواہش ظاہر کر رکھی تھی‘ انشراح کے لیے… صبح سے رات تک تم لوگ ساتھ ہوتے ہو‘ غضب کی انڈر اسٹینڈنگ ہے دونوں میں… کیا ہمیں نظر نہیں آتا؟‘‘ صہبا کو ایشان جاہ کا درعمل عجیب لگا‘ ان کا تو خیال تھا ایشان جاہ ہاں ہی کرے گا مگر خلاف توقع اس کا چونکنا ان کی سمجھ سے بالاتر تھا‘ چودھری جہانگیر کہنا تو بہت کچھ چاہتے تھے مگر ان سے پہلے ایشان جاہ بول پڑا تھا۔
’’سارے دن ساتھ رہنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس سے شادی کرلوں… وہ میرے لیے جسٹ ایک فرینڈ اور کزن ہے اور اس سے زیادہ میں اسے اور کوئی مقام نہیں دے سکتا۔ دیٹس اٹ… آپ پہلی فرصت میں ضیاء انکل کے ذہن میں یہ بات ڈال دیں تاکہ وہ کسی آس میں نہ رہیں۔‘‘ بنا لگی لپٹی رکھے اس نے صفا چٹ انکار ان کے منہ پر دے مارا تو صہبا کا منہ کھلا رہ گیا… چودھری جہانگیر دونوں ماں بیٹے کی باتیں سنتے ہوئے چائے کی چسکی لے رہے تھے۔
’’اور انشراح… اس کا کیا ہوگا؟ وہ تو تمہیں ہی اپنا لائف پارٹنر سمجھے بیٹھی ہے۔‘‘ صہبا کو اس کا انکار انتہائی ناگوار گزارا تھا۔
’’شی از اے اسمارٹ گرل… وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہے اگر اس نے ایسی کوئی خوش فہمی پال رکھی ہے تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں‘ ہمارے درمیان آج تک اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی… انشراح خود اس بات کی گواہ ہے۔‘‘ وہ چڑا۔
کچھ دیر پہلے ایک لڑکی کے ذکر پر اس کے چہرے کا رنگ کچھ اور تھا… تیور کچھ اور تھے وہ جو بظاہر اس کی حریف تھی‘ اجنبی تھی لیکن اب ذکر کزن کا تھا… دوست کا تھا مگر انداز‘ لب و لہجے میں بلا کی اجنبیت تھی۔
’’آپ بھی کچھ کہیں…؟‘‘ ایشان جاہ کی طرف سے ناکام ہونے پر صہبا نے پریشانی سے چودھری جہانگیر کو دیکھا۔
’ویل… میں کیا کہوں… ایشان جاہ کی طرح تم نے مجھے بھی سرپرائز کردیا ہے۔‘‘ چودھری جہانگیر کا گمبھیر لہجہ بھی ایشان جاہ کے بگڑے موڈ کو ٹھیک نہ کرسکا۔
’’سرپرائز کی کیا بات ہے جہانگیر… انشراح میری بھانجی ہے‘ بچپن سے آنا جانا ہے… وہ اپنے گھر میں کم اور یہاں زیادہ پائی جاتی ہے‘ آپ انجان تو ہیں نہیں جو آپ سرپرائزڈ ہوگئے اور آپ کا بیٹا منہ پر انکار کررہا ہے۔‘‘ صہبا برا مان گئیں۔
’’تم نے کسی کو پسند کر رکھا ہے… کوئی آئیڈیل وغیرہ کا چکر…؟‘‘ صہبا کے گلے کو نظر انداز کرتے چودھری جہانگیر نے ایشان جاہ کی طرف دیکھا تو وہ ایک ثانیے کو چپ سا رہ گیا‘ اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت در آئی۔ جسے وہ کوئی نام نہیں دے سکا۔
’’نو…‘‘ جواب قطعیت سے دینا چاہا مگر جانے اندر سے زور دار قہقہے کی آواز کیوں آئی تھی۔
’’صہبا بیگم… آپ یہاں بڑے آرام سے اپنے بیٹے کا رشتہ جوڑے بیٹھی ہیں اور بیٹے نے انکار کردیا… جانے ایشان کی پسند کا معیار کیا ہے لیکن میں یہاں آپ دونوں کو یاد دلادوں کہ بچوں کی شادی کا فیصلہ بابا جان ہی کرتے ہیں اس بارے میں نہیں سوچا آپ دونوں نے…؟‘‘ چودھری جہانگیر کے سوال پر ایک لمحے کو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
’’کم آن ڈیڈ… میری پسند کا کھلونا یورپ سے لاکر دینے والے ڈیڈ کے منہ سے یہ انیس سو اسی کے ڈائیلاگ کم از کم میں نہیں سن سکتا… شادی میں اپنی مرضی سے کروں گا… دا جان کو ہنیڈل کرنا آپ کا کام ہے… ایکسکیوز می۔‘‘ اپنی بات واضح انداز میں جتا کے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ یہ چودھری جہانگیر کا دیا ہوا مان ہی تھا‘ جو غرور بن کر ایشان جاہ کے لہجے سے جھلکنے لگا تھا۔
’’آپ نے بھی تو کبھی اپنے والد کی مانی نہیں… اب میرے بچوں کو مت پھنسائیں… گائوں کے دقیانوسی ماحول کے گھٹے ہوئے فیصلوں میں اگر بابا جان گائوں کی کسی جاہل گنوار مٹیارن یا حویلی کی کسی لڑکی کا رشتہ میرے چاند سے بیٹے سے جوڑیں گے تو کیا وہ آپ کے اور میرے لیے قابل قبول ہوگا؟ جب آپ حویلی میں وہاں کی ان پڑھ عورتوں میں نہ رہ سکے تو میرا ایشان کیسے رہے گا؟‘‘ نفرت و نخوت کے اظہار میں سب کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہوئے ڈگری یافتہ دیوارنیوں‘ جٹھانیوں کو بھی جاہلوں کی صف میں لاکھڑا کیا تھا۔
’’کہہ تو ٹھیک رہی ہو…‘‘ انہوں نے مطمئن انداز میں کرسی پر بازو پھیلائے۔
’’لیکن اس خوش فہمی میں تم بھی نہ رہو کہ انشراح کے لیے وہ مان جائے گا… اپنے بیٹے کے لیے میں زبردستی کا رشتہ کبھی پسند نہیں کروں گا… اس کے باپ نے بھگت لیا زبردستی کا رشتہ‘ یہی بہت ہے۔‘‘ یکایک ان کا لہجہ بدلا‘ صہبا کو بھی کوئی آس نہیں تھی‘ تب ہی دکھی ہوگئیں۔
’’جانے کیسی پسند ہوگی اس کی؟‘‘ انہیں تشویش نے آلیا۔
’’وہ لڑکی کون ہے‘ جس کی وجہ سے ایشان ڈسٹرب ہے… کوئی نام پتا؟‘‘ چودھری جہانگیر جیسا زیرک انسان شاید سوچ پڑھنے میں بھی کمال رکھتا تھا‘ جس کیفیت کو ایشان جاہ کوئی نام نہیں دے پارہا تھا‘ چودھری جہانگیر اس کی تھاہ کو چھو آئے تھے۔
’’اب اس لڑکی کا کہاں سے ذکر آگیا… یقینا بیٹے کا خلجان دور کریں گے‘ لڑکی کو سبق سکھا کر۔‘‘ صہبا کو ان سے یہی امید تھی‘ تب ہی حیرانی کا اظہار کرکے ذہن پر زور دینے لگیں‘ چودھری جہانگیر نے سگریٹ نکال کر سلگالیا۔
’’انشراح نے نام تو بتایا تھا شاید… ہاں ماورا…‘‘ وہ اپنی یادداشت سے نام نکال لینے پر خوش ہوئیں۔
’’ماورا…‘‘ چودھری جہانگیر دھوئیں کے مرغولے میں نام دہرانے لگے تھے۔
خ…ز…/
سب اِدھر اُدھر ہوئے تو شنائیہ چودھری سب سے نظر بچاکر حویلی کے پچھلے حصے کی طرف آگئی۔ گھنے پیڑ کے نیچے نسب بنچ پر بیٹھتے شنائیہ چودھری کو یہ مقام خاصا معقول لگا جہاں وہ آرام سے بات کرسکتی تھی۔
’’سمہان‘ میں حویلی کے پیچھے باغ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں‘ جلدی آئو مجھے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ سمہان آفندی کا نمبر ملا کے اس نے ایک ہی سانس میں کہہ کر فون بند کردیا تھا۔ سمہان آفندی ایک لمحے کو سوچتا رہا کہ آیا اسے جانا چاہیے یا نہیں۔
لیکن اگلے ہی لمحے اپنی فطرت سے مجبور‘ شنائیہ چودھری کی پریشانی کا احساس کرتے ہوئے اس کے قدم باغ کی طرف اٹھے‘ جانے ایسی کیا بات تھی جو ضروری تھی‘ ناشتے کی میز پر بھی وہ ذکر کرچکی تھی اور اب وہاں منتظر تھی۔
’’تھینکس ٹو اللہ تم حویلی میں تھے… خدشہ تھا کسی نہ کسی کام سے حویلی سے باہر نہ نکل گئے ہو۔‘‘ بلو جینز پر ڈھیلی ڈھالی وہائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس‘ شنائیہ چودھری اسے دیکھتے ہی شکر ادا کرنے لگی۔
’’خیر ہے‘ شنائیہ جی… اتنی چلچلاتی دھوپ میں آپ یہاں کیا کررہی ہیں؟ بات تو اندر بیٹھ کر بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ اسے بہت عجیب لگ رہا تھا اس بلاوے پر یہاں آتے ہوئے ساتھ ہی گرم تھپیڑوں نے گرمی کا شدت سے احساس دلایا‘ لیکن گھنے پیڑوں کی چھائوں اس وقت کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہورہی تھی۔
’’اندر سب جو موجود ہیں‘ مجھے تم سے اکیلے میں بات کرنا تھی… میرا خیال ہے‘ یہ مناسب جگہ ہے بات کرنے کے لیے۔‘‘ لہجے میں اطمینان تھا‘ اس جگہ کا انتخاب کرنے پر اس نے جیسے خود کو شاباشی دی۔
’’ایسی کیا بات ہے‘ جو سب کے سامنے نہیں ہوسکتی؟‘‘ وہ آزاد ماحول میں پلی بڑھی تھی اسے شاید ان نزاکتوں کا اتنا احساس نہیں تھا‘ جتنا اس گھڑی وہ کررہا تھا کوئی بھی انہیں اس طرح دیکھ کر کچھ بھی سوچ سکتا تھا۔ بنچ پر شنائیہ چودھری سے فاصلہ رکھ کر بیٹھنے کے بجائے وہ مضبوط پیڑ سے ٹیک لگا کر کھڑا رہا۔
’’ہے ناں…‘‘ شنائیہ چودھری نے منہ بنایا۔
’’فرمائیے آپ کے کیا کام آسکتا ہوں؟‘‘ اسے خبر تھی اس وقت یہاں کسی کا بھی آنا تقریباً ناممکن تھا لیکن وہ بھی پھر بھی اس کی پریشانی سن کر جلد سے جلد جانے کے موڈ میں تھا یوں تنہائی میں باتیں کرنا اسے کچھ مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ عزت تو وہ پہلے بھی شنائیہ چودھری کی بہت کرتا تھا اور اب شاہ زرشمعون کی نسبت سے اس کا مقام مزید بلند ہوگیا تھا۔
’’پلیز کسی طرح یہ نکاح رکوا دو…‘‘ وہ بے دھڑک کہہ گئی تو وہ چونکا۔
’لیکن کیوں…؟‘‘ انداز میں حیرت تھی۔
’’مجھے شاہ زرشمعون بالکل پسند نہیں… اتنا مغرور‘ گھمنڈی انسان… میرا لائف پارٹنر… میں کبھی تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی۔‘‘
’’آپ نے یہ بات کسی سے کی… میرا مطلب ہے‘ کسی کے سامنے انکار کیا؟‘‘ وہ کوئی بھی جواب دینے سے پہلے مکمل معلومات لینے کے حق میں تھا۔ شنائیہ چودھری منہ بسور کر رہ گئی۔
’’مما‘ پپا سے کہہ کر دیکھ لیا‘ انہوں نے انکار کو موت سے تشبیہ دی‘ شاہ زرشمعون سے بھی کہا… مجھے لگا تھاکہ وہ میری ناپسندیدگی جان کر خود انکار کردے گا مگر وہ الٹا اڑ گیا کہنے لگا کہ خود ہی انکار کرو…‘‘ سمہان آفندی کے چہر پر تردد چھایا‘ گویا وہ ہر حربہ آزما لینے کے بعد اس سے مدد کی خواہاں تھی۔
’’ہٹلر نے عیشال کے لیے منہ پھاڑ کے انکار کردیا تھا… ریزن دیا‘ بہن ہے… میں اسے اپنے چاچا کی بیٹی لگتی ہوں ناں…!‘‘ وہ یوں چڑ کے بولی کہ ضبط کے باوجود بھی سمہان آفندی کے لبوں پر تبسم پھیل گیا جسے اس نے جلدی سے چھپا لیا۔
’’معاف کیجیے گا تھوڑا پرسنل سوال کررہا ہوں… آپ کے انکار کے پیچھے کیا وجہ ہے‘ آئے مین‘ آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں… کوئی کمٹ منٹ وغیرہ…؟‘‘ اس نے جھجک کے سوال کیا۔ شنائیہ چودھری کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سرخی جھلکی پھر وہ نارمل ہوگئی۔
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ سمہان آفندی نے سوال تو کر لیا تھا مگر اس کے جواب آنے تک ایک عجیب سی سوچ نے اسے گھیر لیا تھا‘ اگر جو وہ ہاں کہتی تو اسے شاہ زرشمعون کے لیے بے حد دکھ ہوتا لیکن اس کا انکار سن کر کسی قدر خوشی ملی۔
’’جب ایسی کوئی بات ہی نہیں تو بلاوجہ اس رشتے سے انکار… شاہ بہت اچھا ہے شنائیہ جی… بھائی کے متعلق کوئی مجھے حلف اٹھا کر بھی اسے برُا کہے تو میں اس کا یقین نہیں کروں گا‘ پھر آپ اتنے اچھے انسان کو اپنانے سے کیوں منع کررہی ہیں… آپ نے بھائی کا سخت روپ دیکھا ہے بس… وہ اندر سے بہت نرم ہے‘ اپنوں سے بے حد محبت کرتا ہے… یہ آپ سب کی فکر ہی تھی جو اتنی دور سے بیٹھ کر اس نے آپ سب کی رکھوالی کے انتظامات کیے۔‘‘
’’تم چاہے جتنی تعریف کرو لیکن مجھے شاہ کا حاکمانہ انداز پسند نہیں… میں ساری زندگی اس کے ماتحت نہیں گزار سکتی‘ مجھے شاہ کا مان سخت ناپسند ہے اگر تم جیسے مزاج کا ہوتا سو فٹ‘ لایٹ… تو بے دھڑک ہاں کردیتی…‘‘ شنائیہ چودھری شاید روانی میں ایسا کہہ گئی تھی مگر سمہان آفندی یک دم چونکا اور جب بولا تو لہجہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ تھا۔
’’جہاں محبت ہوتی ہے‘ وہاں کوئی حاکم اور محکوم نہیں ہوتا‘ شنائیہ جی… بالفرض ایسا ہوتا بھی ہے تو دونوں فریقین ہمیشہ ایک منصب پر براجمان نہیں رہتے‘ مرد حاکم ہوتا ہے تو کبھی محکوم بننا بھی گوارا کرلیتا ہے کیونکہ نکاح جیسے رشتے کی خوب صورتی ہی یہی ہے… رہی میرے مزاج کی بات تو میرا اصل مزاج تو صرف اس بندی پر کھلے گا جو میری زندگی میں آئے گی… اسی طرح شاہ کے سخت روپ کے پیچھے جو حساس دل ہے اس کی خبر بھی صرف ہماری بھابی یعنی آپ کو ہوگی… ایک بات واضح کردوں… مرد جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں… اس کا اصل روپ وہی عورت جان سکتی ہے جو اس کے اندر اتر چکی ہو…‘‘ اس نے بڑے سبھائو سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’میں نے تمہیں مدد کے لیے بلایا ہے اور الٹا تم مجھے قائل کرنے کے لیے دلیلیں دے رہے ہو…‘‘ وہ چڑ سی گئی۔ بھابی سن کے تو منہ ہی بن گیا… حوالہ جو شاہ زرشمعون کا تھا۔
’’آپ کے انکار کی کوئی معقول وجہ ہوتی تو میں یقینا کوشش کرتا لیکن اس بچکانہ سوچ پر کیا کہوں سوائے اس کے کہ آپ کی سوچ غلط ہے… آپ حویلی میں نہیں رہتیں لیکن حویلی کے اصولوں سے واقف تو ہیں کہ دا جان کے فیصلے پتھر کی لکیر ہوا کرتے ہیں اور ہمیں انحراف کی اجازت نہیں۔‘‘
’’کل کو دا جان تمہاری شادی ایسی ویسی لڑکی سے کردیں گے تو کیا تم اپنی باری میں بھی چپ رہو گے…؟‘‘ شنائیہ چودھری کو یہی لگا کہ وہ اس کی مدد کرنا نہیں چاہتا تب ہی باتیں گھڑ رہا ہے اور اسی لیے اس نے تنک کے گیند اس کی طرف اچھال دی۔
شنائیہ چودھری کے سوال پر ایک لمحہ کو دل رکا… اس کی تو نہیں لیکن عیشال کی شادی کا سن کر اس پر جس طرح افسردگی سی چھا گئی تھی… جانے اپنی باری میں کیا ہوتا؟
’’اور میرا جواب ہے‘ شاید ہاں۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو شنائیہ اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی تھی۔
خ…ز…/
حقیقت جان کر ایسی حماقت کون کرتا ہے؟
بھلا بے فیض لوگوں سے محبت کون کرتا ہے؟
بتائو جس تجارت میں خسارہ ہی خسارہ ہو
بنا سوچے خسارے کی تجارت کون کرتا ہے؟
ہمیں ہی غلط فہمی تھی کسی کے واسطے ورنہ
زمانے‘ کے رواجوں سے بغاوت کون کرتا ہے؟
خدا نے صبر کرنے کی مجھے توفیق بخشی ہے
ارے! جی بھر کے تڑپائو‘ شکایت کون کرتا ہے؟
زمانے کی نگاہوں سے ہیں دلوں کے بھید پوشیدہ
خلوص دل سے رب جانے‘ محبت کون کرتا ہے؟
کسی کے دل کے زخموں پر مرہم رکھنا ضروری ہے
مگر اس دور میں محسن یہ زحمت کون کرتا ہے؟
کمرے میں آکر وہ جل بھن رہی تھی سارے منظر نے موڈ غارت کردیا تھا۔
شنائیہ چودھری کا سمہان آفندی سے حد سے زیادہ فری ہونا اسے سخت ناگوار گزرتا تھا یوں تو حویلی میں ساری لڑکیاں ہی اس سے فری تھیں۔ وہ اچھا بھائی اور اچھا کزن تھا سب کے کام آتا تھا پر شنائیہ سے اسے ہمیشہ سے ایک چڑ سی محسوس ہوتی تھی‘ شاید اس لیے کہ وہ شہری ماحول کی پروردہ تھی‘ چودھری جہانگیر کے شہر سے تھی‘ جس طرح چودھری جہانگیر کو اس کی گنوار ماں سے نفرت تھی اسی طرح اسے شہری لوگوں سے… شنائیہ چودھری سے چڑنے کی دوسری وجہ سمہان آفندی بھی تھا۔ اس کی خوش خلقی کے تو سارے پنڈ میں چرچے تھے مگر جب وہ ہنس ہنس کر صنف مخالف سے بھی خوش اخلاقی جھاڑنے لگتا تو اسے سخت زہر لگتا تھا۔
’’وہ شخص اس قابل ہی نہیں ہے کہ میں اسے سوچوں… بھاڑ میں جائے‘ مجھے اب اس سے کوئی امید ہی نہیں رکھنی۔‘‘ بے دردی سے آنسو ہاتھوں کی پشت سے رگڑتی وہ خود ترسی کے سمندر میں ڈوبتی جا رہی تھی… نہ قول و قرار تھے‘ نہ دلی کیفیات کبھی بیاں ہوئی تھی‘ بس کہی ان کہی کے پیچ ایک بے نام سا رشتہ تھا جسے وہ پہلے بھی رد چکا تھا‘ غلط فہمی سے تشبیہ دے چکا تھا‘ پھر کس زعم میں وہ خود کو اہم گردانتی… اپنے جذبوں پر نہال ہوتی۔
ناشتا نہ کرنے کے باعث اس کے قدم کچن کی طرف اٹھے تھے لیکن باغ کی طرف سے پہلے شنائیہ چودھری اور پھر سمہان آفندی کو نکلتے دیکھ کر اس کے صدمے میں اضافہ ہوگیا تھا‘ شنائیہ چودھری تو تیزی سے گزر گئی مگر ہر گھڑی چوکنا رہنے والے سمہان آفندی نے ارد گرد کا بھرپور جائزہ لیا اور عیشال جہانگیر کو قہر برساتی نظروں سے اپنی طرف دیکھتے پاکر ٹھٹک گیا‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا عیشال پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی اور اب خود ترسی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی تھی۔
’’میرا وجود بے کار ہے‘ اس حویلی میں… سب اپنی دنیا میں مگن ہیں… میرا کوئی نہیں… جس سے امید تھی وہ بھی اجنبی بن کے ہنسی اڑاتا ہے… سب جان کے انجان بن کے میرے درد کا تماشا دیکھتا ہے… اس کی اپنی دنیا ہے… جس میں‘ میں کہیں بھی نہیں ہوں… وہ بھی حویلی کے ظالموں میں سے ہے… نجانے میں نے کیوں‘ اسے اوروں سے مختلف سمجھنے کی غلطی کر رکھی ہے اور یہ غلطی میں مسلسل کررہی ہوں…‘‘ خود اذیتی میں گھری‘ وہ خود ہی بول رہی تھی… آنسو بے دردی سے رگڑ رہی تھی اور جس کے لیے یہ سب کررہی تھی‘ وہ جانے کیا سوچ رہا تھا۔
خ…ز…/
’’تمہیں کیا ہوا… اتنی چپ چپ کیوں ہو؟ کئی دنوں سے نوٹس کررہی ہوں کچھ پریشان ہو… کیا پھر کوئی حرکت کی ایشان جاہ یا اس کے گروپ نے؟‘‘ وہ کوچنگ سینٹر جانے کے لیے تیار ہورہی تھی‘ چند دن ہی ہوئے تھے اسے کوچنگ سینٹر میں پڑھاتے ہوئے۔ چند گھنٹوں کا اچھا معاوضہ مل رہا تھا تو اسے کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوا۔ اس کی غائب دماغی اور پُر سوچ انداز کو تشویش بھری نظروں سے دیکھتی انوشا نے سوال کیا تو وہ اپنے خیالوں سے چونک گئی۔
کوئی ایک بات ہوتی تو وہ اسے بتاتی بھی منزہ کی بیماری کا دھچکا ہی سب سے بڑا تھا‘ اس پر اس ڈاکٹر بخت کی مسلسل چھٹیوں نے اسے افسردہ کر رکھا تھا تو ایشان جاہ سے جھڑپ اور پھر یحییٰ سرفراز نامی بندے سے متعارف ہوکر وہ بہت الجھی رہی تھی۔
اس نے دانستہ انوشا سے اپنے باپ کے ہم نام شخص کی آمد چھپائی تھی‘ وہ نہیں چاہتی تھی وہ جس قدر پریشان ہورہی ہے انوشا بھی ہو اور اس پر ستم یہ کہ منزہ سن لیتیں تو ان کی ناراضی الگ سہنی پڑتی۔
’’تنگ تو نہیں کیا لیکن…‘‘ ماورا نے سنبھل کر صبح کی گفتگو اور ایشان جاہ سے مڈبھیڑ کا احوال کہہ سنایا تو مارے حیرت کے انوشا کی آنکھیں ابل پڑیں۔
’’ہیں… واقعی…! یہ تو بڑا پوزیٹو سائیڈ دکھا رہی ہو اس کا… مجھے یقین نہیں آرہا کہ وہ واقعی تمہاری مدد کرنا چاہ رہا ہے‘ امیزنگ… تم بھی ناں… بتا دینا تھا اسے شاید وہ کوئی مدد ہی کردیتا جب اس کے تایا اور تائی جان اسی ہاسپٹل میں ہوتے ہیں تو… جانے کیوں رپورٹس ٹھیک آنے کے باوجود اماں کی طبیعت میں بہتری نہیں آرہی… تم نے ٹھیک کہا جو دوسرے ڈاکٹر کا پتا کرنے لگیں۔‘‘ انوشا سن کر از حد متاثرہوئی کہ ایشان جاہ نے مدد کی پیشکش کی ماورا نے حقیقت چھپا کر ہی کہانی سنائی تھی۔
’’اب کے وہ مدد کرنا چاہیے تو سن لینا۔‘‘ انوشا لہجہ بدل کے نصیحت کرنے لگی۔
’’چھوڑو… اس میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی چال ہو… جب اکڑ سے دال نہ گلی تو روپ بدل کے مدد گار بن کے آگیا۔‘‘ نخوت سے سر جھٹکا۔
’’ایک تو تم ہر بات کا منفی پہلو دیکھتی ہو… ضروری تھوڑی ہے کہ ایک بندہ ہر بار غلط ہو۔‘‘ انوشا نے اس کی طرف داری کی۔
’’جب ایک چیز کی بنیاد ہی غلط ہے تو وہ آگے جاکر اچھی کیسے ہوسکتی ہے؟ کل تک مجھے نیچا دکھانے والا آج مہربانی کے موڈ میں ہے تو کوئی تو بات ہوگی ناں۔‘‘ ماورا ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔
’’ٹھیک ہے مت مانو… لیکن آئندہ وہ کوئی اچھی بات کرے تو تم بھی لڑنے نہ کھڑی ہوجانا۔‘‘ انوشا کی بات پر ماورا اسے گھورتی رہی۔
’’اچھا تو تم کیوں اس کی سائیڈ لے رہی ہو؟ ایک ذرا سی چیز سے کیا وہ ہیرو بن گیا؟‘‘ وہ سخت برا مان گئی۔
’’توبہ ہے‘ تم تو مجھ سے بھی لڑنے لگیں… ہے کیا یہ ایشان جاہ‘ جس کا نام سنتے ہی تم توے پر جا بیٹھتی ہو؟ اس چڑ کی وجہ ڈھونڈو گر ہوسکے۔‘‘ انوشا نے ہنستے ہوئے ہاتھ جوڑے‘ آخر میں لہجہ شرارتی ہوگیا تھا۔
’’اماں نے تمہاری یہ سطحی باتیں سن لیں ناں تو مجھ سے زیادہ بہتر کلاس لیں گی تمہاری اور مجھ سے تعاون کی امید نہ رکھنا کیوں کہ اس وقت تم مجھے ڈیزرونگ لگ رہی ہو۔‘‘ وہ منہ پھلا کر تن کر بولی تو انوشا کھلکھلا کے ہنس دی تھی۔
خ…ز…/
نکاح کی تیاری کے سلسلے میں سب کو بازار جانا تھا فائزہ نے زمرد بیگم سے شہر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے چودھری حشمت سے اجازت لے لی‘ فائزہ نے سب کو تیار ہونے کو کہا تو لڑکیوں میں کھلبلی مچ گئی۔
شنائیہ چودھری نے تو سنتے ہی صاف منع کردیا تھا البتہ دیا اور ماہم جارہی تھیں‘ اس کے بے زاری سے منع کرنے پر دیا سب کی سامنے گھور کے رہ گئیں اور سر درد کا بہانہ بناکر دوا دینے کے بہانے اس کی ٹھیک ٹھاک کلاس لے لی تھی۔
عیشال جہانگیر کا موڈ بے حد خراب تھا ندا کے اصرار پر وہ راضی ہوگئی کہ حویلی میں بیٹھ کر وہ کرتی بھی تو کیا؟ روتے رہنے سے کون سا اس کے مسئلے حل ہوجاتے اور جس کے لیے یہ رونا دھونا تھا وہ جانے کہاں کی خاک چھان رہا تھا۔
چونکہ نکاح کی تقریب بڑے پیمانے پر تھی تو اسے بھی اپنی تیاری کرنا تھی‘ پہلے تو بے دلی کی وجہ زبردستی نکاح تھی لیکن اب کوئی قدغن نہیں تھی وہ بڑی اچھی طرح اس تقریب کو انجوائے کرسکتی تھی۔
وہ تیار ہوکر آئی تو دونوں گاڑیاں روانگی کے لیے تیار تھیں چونکہ شنائیہ چودھری اور زمرد بیگم کو چھوڑ کے تقریباً تمام ہی خواتین تھیں اس لیے دو گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ پہلی گاڑی تقریباً بھر چکی تھی جس میں فریال‘ فائزہ اور دیا کے ساتھ زرش براجمان تھی‘ جب کہ دوسری گاڑی میں لڑکیوں نے ہلہ بول دیا تھا جس میں ندا‘ شازمہ یمنیٰ اور ماہم ٹھنس کے بیٹھی تھیں۔ دونوں گاڑیوں کو بھرا دیکھ کر عیشال جہانگیر کا منہ بن گیا تھا۔
’’مجھے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنے کی کوئی خواہش نہیں… تم آجائو فرنٹ سیٹ پہ…‘‘ وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولے کھڑی تھی جبکہ چاروں پیچھے ٹھنس ٹھنسا کے بیٹھی تھیں۔
’’ڈرائیور اپنا ہی ہوگا عیشال‘ ڈرنے کی کیا بات ہے۔‘‘ یمنیٰ نے سوچا کہ وہ گلاب خان (ڈرائیور) کے ساتھ بیٹھنے سے گھبرا رہی ہے تو دلاسا دینے لگی اور ڈر کی بات غالباً عیشال کے دل پر تازیانہ بن کے لگی تھی تب ہی وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے لگی۔
’’ڈرائیور اپنا ہو یا پرایا آگے بیٹھنے میں کیا حرج ہے؟ جب گاڑی حویلی کی ہے تو…‘‘ تردد کو ایک طرف رکھ کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی جب ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے سمہان آفندی کو دیکھ کر سب ہنسنے لگیں۔
’’کیوں عیشال… ڈرائیور تو اپنا ہے ناں…؟‘‘ اسے ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہوتا دیکھ کر اور سب کے جملوں اور ہنسی پر وہ جزبز ہونے لگی… سمہان آفندی نے اچنبھے سے ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی اسے فرنٹ سیٹ پر دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکنے لگیں‘ صد شکر جو گلاسز کے باعث کسی کو نظر نا آسکیں… عیشال جہانگیر کھسک کے تقریباً دروازے سے جا لگی تھی۔
’’تم ساتھ جارہے ہو سمہان؟‘‘ ندا کو بھی حیرت ہوئی۔
’’جی… گلاب خان کو ایمرجنسی میں گھر جانا پڑگیا اس کے بچے کی طبیعت خراب ہے اس لیے دا جان نے میری ڈیوٹی لگا دی اگر زیادہ برا لگ رہا ہوں تو کہہ دیں میں دوسرے ڈرائیور کو یہاں بھیج دیتا ہوں اور میں دوسری گاڑی میں چلا جاتا ہوں۔‘‘ دزدیدہ نظروں سے دروازے سے لگی عیشال جہانگیر کو دیکھتے ہوئے وہ ندا سے بولا‘ درحقیقت اسے سنا گیا تھا… بڑی دلچسپ صورت حال ہوگئی تھی کہاں وہ اسے دیکھتے ہی پیر پٹخ کے بھاگ رہی تھی اور کہاں اب برابر میں بیٹھی ہوئی تھی۔
’’ارے… نہیں‘ نہیں… تم ہی ٹھیک ہو… عیشال فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ہچکچا رہی تھی کہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا تم ہو تو تسلی ہے اب۔‘‘ ندا نے فوراً کہا تو عیشال جہانگیر‘ ندا کے سچ اگل دینے پر منہ باہر کی طرف کرکے رخ پھیر گئی‘ تب ہی زرش دوسری گاڑی سے نکل کر بھاگتی ہوئی ان کی گاڑی تک آئی اور پیچھے ایک نظر ڈال کر کھٹ سے عیشال کی طرف کا دروازہ کھلا‘ عیشال جہانگیر جو دروازے سے چپکی بیٹھی تھی گرتے گرتے بچی… بچی نہیں… بازو تھام کر اسے بچایا گیا تھا بڑی سی سیاہ چادر میں اس نے خود کو چھپا رکھا تھا۔ عیشال جہانگیر نے بایاں ہاتھ ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوئے سرعت سے اپنے بازو پہ اس کی گرفت کو دیکھا وہ سب زرش کی طرف متوجہ تھیں ان کی نظر سے یہ منظر اوجھل رہا تھا۔ اسے سنبھلتے دیکھ کر سمہان آفندی نے سرعت سے ہاتھ ہٹالیا تھا۔
’’بڑی بے مروت لڑکیاں ہو تم سب… یہاں سب مزے سے گھسی بیٹھی ہو اور مجھے مما اور دونوں تائیوں کے ساتھ بور ہونے کو اکیلا چھوڑ دیا میرے لیے بھی جگہ بنائو اس میں۔‘‘ زرش کھڑکی پر جھکی سب کو لعنت ملامت کررہی تھی۔
’’ہم تو خود پھنس کے بیٹھے ہیں‘ سانس بھی مشکل سے آرہا ہے۔‘‘ شاذمہ نے ہری جھنڈی دکھائی۔
’’عیشال چلو آگے کھسکو شاباش۔‘‘ پیچھے سے ناامید ہوکر زرش نے اسے آگے دھکیلتے ہوئے سیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو مجوراً عیشال جہانگیر کو آگے کھسکنا پڑا۔
’’دروازہ ہی بند نہیں ہورہا اور آگے تو ہو کون سا اسی‘ نوے کلو وزن ہے تمہارا‘ جو پوری سیٹ پر پھیل کر بیٹھی ہو۔‘‘ زرش نے مزید آگے نہ کھسکنے پر کلاس لی تو وہ مزید آگے ہوتی چڑ گئی۔
’’اب کیا گیئر پر چڑھ جاؤں؟‘‘ جھنجلائے انداز پر سمہان آفندی نے ہاتھ لبوں پر رکھ کر مسکراہٹ چھپائی۔
سمہان آفندی کے اتنے قریب بیٹھنے پر وہ پہلے ہی حواس باختہ ہورہی تھی‘ آنکھوں پر چڑھے بلیک گلاسز کے پیچھے چھپی آنکھیں مسکراتی محسوس ہورہی تھیں‘ گرے جینز‘ بلیک ٹی شرٹ میں گلاسز چڑھائے وہ ہینڈ سم دل کی دنیا کو زیر و زبر کررہا تھا۔
’’میرا بھائی کھا نہیں جائے گا تجھے… کھسک…‘‘ زرش نے بھی ادھار نہ رکھا تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ گیئر کے مزید قریب ہوئی تو زرش نے کھٹ سے دروازہ بند کرلیا۔
’’اگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگئی ہے تو چلوں؟‘‘ اس نے مسکراتی نظروں سے سوال کیا۔ عیشال جہانگیر نے تو جل کر منہ پھیر لیا کہ صبح کے دونوں منظر بھولی نہیں تھی‘ سب نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے بھی اگنیشن میں چابی گھمائی۔
’’سمہان… طویل سفر ہے‘ اچھا سا سونگ ہی لگا دو۔‘‘ پیچھے سے ندا نے ہانک لگائی تو سب کی کھی کھی کھی پر عیشال جہانگیر لب بھینچ گئی‘ سمہان آفندی نے لب دبا کر فرمائش پوری کی۔
ساکوں ڈھول منانو ناں ایں
ساکوں یار منانوں ناں ایں
بھانویں سر دی بازی لگ جاوے
گانا لگتے ہی سب پُر جوش ہوگئیں‘ سمہان آفندی نے چہرہ بے ساختہ کھڑکی سے باہر کرکے سائیڈ مرر دیکھنے کے بہانے اپنے تاثرات چھپائے‘ جزبز ہوتی عیشال نے کھا جانے والی نظر ڈال کر بے ساختہ اسے گھورا تھا۔
خ…ز…/
سب چلے گئے تو حویلی میں سناٹا بولنے لگا تھا‘ اکیلے پن کے خیال سے زمرد بیگم کافی دیر اس کے پاس بیٹھی رہیں گائوں کی عورتیں ان کے پاس آنے لگیں تو وہ شکر ادا کرتی اپنے کمرے میں آگئی… ذہن اس قدر الجھا ہوا تھا کہ کسی کے روبرو مسکرا کر ہوں ہاں کرنا بھی مشکل لگ رہا تھا۔
سمہان آفندی کا آسرا بھی ختم ہوگیا تھا وہ بھی ناصح بن گیا تھا‘ جس پر وہ مزید بد دل ہوگئی تھی‘ ایسے میں سب نے بازار جانے کا شور مچایا تو اس نے منع کردیا جس کے نتیجے میں دیا نے خاصی عزت افزائی بھی کی… دیا نے سب کے سامنے سر درد کا بہانہ بنایا اور اب واقعی سوچ سوچ کے اس کا سر پھٹنے لگا تھا لیکن مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔ دروازے پر دستک ہو رہی تھی‘ مرد حضرات اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے‘ چودھری بخت‘ چودھری فیروز اور چودھری اسفند کے ساتھ اپنی بزرگوں کی زمینوں اور کھیتوں کی سیر کو نکلے ہوئے تھے۔
دستک یقینا ملازمہ دے رہی تھی زمرد بیگم نے کہا تھا کہ وہ چائے کے ساتھ شام کا مینیو ملازمہ کو بتادے اس کا کچھ کھانے پینے کا موڈ نہیں تھا‘ تب ہی نظر انداز کردیا تھا اور اب دستک نے احساس دلایا کہ خواہ وہ نظر انداز کردے مگر حویلی کی خدمت پر مامور وفادار ملازم اپنے فرائض تن دہی سے سر انجام دیتے ہیں۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھی رہی کہ ملازمہ خود ہی تھک کر چلی جائے گی مگر جب دستک نہ رکی اور آواز کی شدت بڑھنے لگی تو غصے سے کھولتے ہوئے اس نے تیزی سے دروازہ کھولا بری طرح دھکیلنے کے باعث دروازہ زور دار آواز سے دیوار سے جا لگا تھا‘ توقع کے عین مطابق ملازمہ کھڑی تھی جو اس کے جارحانہ انداز اور غصیلے تیور کے ساتھ دروازہ پٹخنے پر سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی تھی۔
’’کیا تکلیف ہے تمہیں؟ ذرا مینرز نہیں تم جاہل گنوار لوگوں میں کہ دروازہ نہیں کھل رہا تو کوئی وجہ ہوگی‘ مینرز نہیں تو کسی کی پرائیویسی کا ہی خیال کرلو لیکن نہیں… میں بھی کس کے منہ لگ رہی ہوں‘ جسے مینرز اور پرائیویسی کے مفہوم و معنی تک نہیں آتے ہوں گے… حویلی والوں نے بس بھیڑ‘ بکریوں کی طرح نوکروں کی فوج جمع کر رکھی ہے کسی کو ایجوکیٹ نہیں کیا…‘‘ ملازمہ تو اس کے غصیلے چہرے کو دیکھ کر پہلے ہی سراسیمہ ہوگئی تھی اور جب شنائیہ چودھری بری طرح پھٹ پڑی تو وہ بھاگنے کے لیے پر تولنے لگی۔
’’وہ میں… آپ کے لیے چائے…‘‘
’’زہر ڈال کے لے آئو‘ اس چائے میں…‘‘ وہ کاٹ کھانے کو دوڑی تو ملازمہ ہکلا کے رہ گئی۔
راہداری سے گزرتے‘ شاہ زرشمعون نے دروازہ کھلنے سے لے کر اس کے سارے جملے پورے سیاق و سباق کے ساتھ سننے کا شرف حاصل کیا اور اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کرکے اس کے کمرے تک آیا جہاں ملازمہ بے چاری اس ’’حکم‘‘ پر اسے ’’تشویش‘‘ سے دیکھ رہی تھی۔ شاہ زرشمعون کو دیکھ کر جہاں اس کی زبان رکی وہیں ملازمہ نے سکون کا سانس لیا۔
’’تم جائو۔‘‘ اندھا کیا چاہیے دو آنکھیں… شاہ زرشمعون کا اشارہ پاتے ہی ملازمہ سرپٹ دوڑی‘ ایک پل کو اسے مزا بھی آیا کہ کیسے صاحب کے سامنے آنے پر بی بی جی کی آواز بند ہوگئی تھی۔ ملازمہ راہدی میں غائب ہوئی تو شاہ زرشمعون اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’سب سے پہلے تو اپنی آواز آہستہ رکھنا سیکھیں… یہ آپ کا محل نہیں‘ حویلی ہے اور یہاں کسی کو اونچی آواز میں بولنے کی قطعاً اجازت نہیں۔‘‘ سرد لہجے میں باور کراتے وہ اسے لب بھینچنے پر مجبور کر گیا۔
’’خدمت پہ مامور لوگ آپ کے لیے ملازم ہوں گے لیکن حویلی میں نسل در نسل لوگ یہ فرائض ادا کرتے ہیں‘ ان کی وفاداری اور جاں نثاری پر ہم نے کبھی انہیں ملازم نہیں سمجھا وہ اس حویلی کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔‘‘ اس کے سرد لیکن کڑے لہجے پر شنائیہ چودھری دوسری طرف دیکھنے لگی۔
’’زہر کھانے کا شوق چرایا ہے تو شہر جاکر کھا لیجیے گا‘ امپورٹڈ زہر ہوگا… یہاں تو شاید آپ کو زہر کا ٹیسٹ بھی پسند نہ آئے…‘‘ جوتا مخمل میں لپیٹ کے مارنے پر شنائیہ چودھری کے ماتھے پر لکیریں پڑنے لگیں۔
’’ہم ملازم کی خدمت کے عوض انہیں پے کرتے ہیں… ان کی عزت نفس مجروح کرنے اور اپنا غصہ معصوم لوگوں پر اتارنے کا آپ کوئی حق نہیں رکھتیں… خیال رکھیے گا آئندہ کبھی کسی ملازمہ سے بدتمیزی سے پہلے سوچ لیجیے گا۔‘‘ تنبیہہ کرکے وہ پلٹا ہی تھا کہ اسے رکنا پڑا۔
’’ایک منٹ… یہ ورنہ… لیکن… آئندہ… آپ دھمکی کس بات کی دے رہے ہیںپ کر کیا لیں گے آپ میرا…؟‘‘ ایک تو وہ پہلے ہی چڑی بیٹھی تھی سونے پر سہاگہ وہ آکر بھاشن دینے لگا اور جس کی وجہ سے اس کا سکون غارت ہوا‘ وہی اس پر برسے یہ اس سے زیادہ دیر برداشت نہ ہوسکا تو سارے ڈر ایک طرف رکھ کے وہ بھڑک اٹھی۔
’’آپ کا کون کیا بگاڑ سکتا ہے… چھید والا گھڑا بھی کبھی کار آمد ثابت ہوا ہے؟‘‘ استہزائیہ انداز سے گھورتے ہوئے وہ اسے مزید سلگا گیا۔
’’جب اتنی ہی برائیاں ہیں مجھ میں تو کیوں خوشی خوشی نکاح کررہے ہیں… جائیے جاکر منع کردیجیے دا جان کو تاکہ وہ آپ کے لیے آرڈر پر عقل مند پری تیار کروا لیں۔‘‘ موقع پر چوکا لگاتے اس نے رگیدنا مناسب خیال کیا تاکہ وہ بلبلا کر پیچھے ہٹ جائے مگر اس کی کوشش پر وہ مسکرا دیا‘ اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کی چاہ تھی لیکن اپنا مذاق اڑتے دیکھ کر مزید آگ بگولہ ہونے لگی۔
’’محترمہ… اگر آپ سوچ رہی ہیں کہ یوں تیلی دکھا کر مجھے بھڑکا سکیں گی تو آپ کی عقل کو سلام‘ ٹھیک ہے آپ سے شادی کرنا میری خواہش نہیں لیکن اب ضد بن گئی ہے… لگالیں ایڑی چوٹی کا زور یہ نکاح تو اب ہوکر ہی رہے گا چاہے آپ پنکھے سے لٹک جائیں یا حویلی کی چھت سے کود جائیں…‘‘ اس کے ہٹیلے لہجے پر وہ جھلس ہی تو گئی تھی۔
خ…ز…/
شاپنگ سینٹر آکر تو سب اِدھر اُدھر ہوگئی تھیں فائزہ‘ فریال‘ دیا سامان دیکھتے ہوئے صلاح مشورے سے کام لے رہی تھیں تو لڑکیاں من پسند چیزیں دیکھ کر پُرجوش ہورہی تھیں‘ ڈرائیور پارکنگ میں ہی بیٹھا ہوا تھا لیکن سمہان آفندی ان کی حفاظت کے خیال سے ان سب سے فاصلہ رکھے ان کے پیچھے چل رہا تھا‘ اس کی نظریں عیشال جہانگیر پر تھیں‘ لڑکیاں آگے نکل کر دائیں بائیں دکانوں میں گھس گئیں اور وہ ایک جگہ رک گئی تھی‘ چند قدم آگے آکر سمہان آفندی نے اس کی نظروں کا مرکز دیکھا فیمیل ڈمی لگی ہوئی تھی‘ میل اور فی میل ڈمی کے ساتھ چھوٹا سا بابا ڈمی بھی موجود تھا اور تینوں ہی ڈریسز کمال کے تھے۔
’’ڈریس پسند آیا؟‘‘ اس کی محویت نوٹ کرکے اس نے یہی اخذ کیا کہ سوٹ پسند آرہا ہے… ایک دم قریب سے آواز سن کر اس نے بے ساختہ گردن موڑی‘ وہ ساتھ ہی کھڑا تھا۔
’’یہ فیملی پسند آئی ہے۔‘‘ سر جھٹک کر ارد گرد نظر ڈالتی وہ سست روی سے آگے بڑھنے لگی۔
’’ناراض ہو؟‘‘ وہ ہم قدم ہوا‘ پلکوں پر چمکتے آنسو جنہیں وہ بڑی مہارت سے سب سے چھپا گئی تھی اس کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکے۔
’’میں کیوں ناراض ہونے لگی بھلا۔‘‘ وہ نخوت سے جھٹلانے لگی‘ وہ اس کے انداز پر مسکرادیا‘ ناراض بھی تھی اور جھٹلا بھی رہی تھی۔
’’شنائیہ جی‘ اس نکاح کی وجہ سے تھوڑی ڈسٹرب ہیں‘ اتنی عجلت میں اعلان ہوا شاید اسی لیے وہ اسے قبول نہیں کرپا رہیں… انہوں نے اسی سلسلے میں بات کرنے کے لیے بلایا تھا۔‘‘
’’تو مجھے کیوں بتا رہے ہو… میں نے کون سا تمہاری ڈاڑھی کے تنکے تلاش کرلیے…‘‘ اس کے تازہ شیو پر چوٹ کی تو وہ اس کے جلے بھنے لفظوں پر مسکرادیا۔
’’میں نے تو اس لیے بتایا ہے کہ شاید تمہاری ٹینشن کچھ کم ہو جائے۔‘‘ اس نے چھیڑا۔
’’مجھے کیوں ٹینشن ہونے لگی؟‘‘ جھٹلاتے ہوئے اس کا نروٹھا انداز ہوا‘ وہ بے ساختہ دیکھنے لگی۔
’’جب سمندر میں اترتے ہیں تو چھوٹی موٹی لہروں کی پروا نہیں کرتے پیراک کی نگاہ تو تھاہ میں موجود سیپ کے اندر موجود موتی پر ہوتی ہے کیوں کہ اس موتی کی اہمیت اس کی نظر میں ان لہروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔‘‘ ساتھ چلتے وہ دھیمے سروں میں گویا ہوا‘ عیشال جہانگیر نے بے ساختہ اسے دیکھا۔
وہ کیا سمجھانا چاہ رہا تھا؟ کیا وہ جان گیا تھا کہ وہ جلن محسوس کررہی ہے…؟ اس کی بے گانگی پر کلس رہی ہے…؟ آیا کیا یہ اظہار تھا…؟ اس کے ہونق چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ ہولے سے مسکرایا۔ سیاہ لباس میں مبلوس اس روشنیوں سے بھرے ماحول اور طرح دار بے حجاب حسینائوں کے آگے‘ وہ اپنے وجود کے گرد لپٹی چادر کو تھوڑی کی طرف انگلیوں سے پکڑے اتنی معصوم لگ رہی تھی کہ سمہان آفندی اسے دیکھتا ہی رہا۔
’’پریشان نہ ہو… صبر سے انتظار کرو… میری پوری کوشش ہے کہ وہی ہو جو تم چاہتی ہو لیکن اس کے لیے تمہیں موجودہ روش چھوڑنا ہوگی… اچھی لڑکی بن کے سب کو دکھانا ہوگا جو جان جانے پر بھی اف نہیں کرتی…‘‘ جانے وہ کیا سمجھانا چاہ رہا تھا‘ عیشال جہانگیر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’حاصل و لاحاصل کو قسمت کی گھٹی میں ڈال کر کوشش کیے بنا قربان ہوجانا‘ میری نظر میں بڑا کارنامہ نہیں… اپنے مفاد کے لیے آواز اٹھانا اور باقی پر سانوں کی کا بورڈ لگانا میرا شیوہ نہیں… کنڈیشنل چیزیں میرے پاس نہیں رہتیں اور افسوس میں ڈمی نہیں بن سکتی۔‘‘ اس کے دو ٹوک انداز پر سمہان آفندی نے گہرا سانس لیا‘ اگر وہ حویلی کا وفادار نہ ہوتا تو اس کی جرأت کو سلام ضرور پیش کرتا۔
خ…ز…/
کمیٹی والی نے کمیٹی لے جانے کی نوید دی تو منزہ کو از حد خوشی ہوئی‘ انوشا کے سسرالی شادی کی تاریخ طے کر گئے تھے اور اب وہ جلد سے جلد سارے انتظامات کرنا چاہ رہی تھیں‘ اوپر سے اس خبیث کے آنے کا ڈر بھی بار بار ستا رہا تھا۔ کمیٹی ملنے کی خوشخبری ملی تو اس کا دیا کارڈ وہ بٹوے میں دبا گئیں۔ اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ دروازے پر آکر ان کی پریشانی میں اضافہ کرتا وہی اس کے منہ پر پیسے مار آنے کا سوچ رہی تھیں۔
وہ ایک گنجان علاقے میں کھڑی تھیں‘ تنگ و تاریک گلیاں‘ جگہ جگہ چائے خانے اور پان کے کھوکھے اور اس پر عجیب و غریب لوگوں کا رش اور ان کی لپکتی نظریں دیکھ کر منزہ نے چادر سے چہرہ چھپایا ہوا تھا۔ تھوڑی کوشش سے انہیں فلیٹ مل گیا‘ اندھیرے میں ڈوبی تنگ سیڑھیاں دیکھ کے انہیں ہول اٹھنے لگے‘ ایک بار تو دل میں سمایا کہ واپس لوٹ جائیں مگر پھر دل کڑا کرکے باقی کی سیڑھیاں طے کرکے انہوں نے دروازے پر دستک دے ہی دی۔
’’اوہو… میری رانی آئی ہے…!‘‘ چند ثانیے بعد دروازہ کھل گیا اور یحییٰ سرفراز انہیں دیکھتے ہی چہکنے لگا‘ اس کا چہکنا منزہ کو ایک آنکھ نہ بھایا۔
’’میں پیسے دینے آئی تھی… یہ رکھو دس ہزار اور آج کے بعد پھر کبھی میرے گھر کا دروازہ نہ بجانا ورنہ پولیس کو یہاں لانے میں مجھے ذرا دیر نہیں لگے گی۔‘‘ پرس کھولتی منزہ نے دھونکنی کی طرح چلتی سانس کے باوجود ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا۔
’’ارے‘ ایسی بھی کیا بے رخی؟ ٹھیک ہے تو کہہ رہی ہے تو پھر نہیں آئوں گا تیرے دروازے پر لیکن مجھے تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی‘ بیٹھ جا تھوڑی دیر اندر آکر۔‘‘ دس ہزار کا سن کر وہ اندر آنے کی دعوت دینے لگا۔
’’نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘ منزہ اپنے پرس کو کھنگال رہی تھیں لیکن الگ سے رکھا لفافہ جانے کہاں جا چھپا تھا انہیں چکر آنے لگے تو توازن برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے دیوار کو تھامنے کی کوشش کی۔
’’دیکھ گر جائے گی اندر آکر پانی پی لے… تو‘ تو مجھے دھتکار کے بھگا دیتی ہے لیکن میں ایسا نہیں کروں گا آجا اندر… کون سا نامحرم ہوں جو مجھ سے ڈر رہی ہے۔‘‘ اس کی قینچی کی طرح زبان چل رہی تھی‘ منزہ کو کھڑے کھڑے واقعی چکر آرہے تھے کچھ بعید نہ تھا وہ اس اجنبی علاقے میں‘ اس خبیث کے سامنے بے ہوش ہوجاتیں… دل کڑا کرکے وہ اندر آہی گئیں۔
’’تو بیٹھ‘ میں تیرے لیے پانی لاتا ہوں۔‘‘ وہ لنگڑاتا ہوا ایک طرف کو بنے کچن کی طرف چلا گیا تو منزہ لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گئیں کہ وہی اس کمرے میں قدرے صاف ستھری تھی۔
گھر کیا تھا کباڑخانہ تھا کوئی چیز ترتیب سے نہیں تھی… میلا کچیلا بستر‘ کھڑکیوں پر ٹنگے غلیظ پردے‘ گندے برتنوں پر چلتے کاکروج اور ناخوش گوار بو سے انہیں ابکائی آنے لگی۔
’’چائے پی میرے ہاتھ کی‘ اپنے لیے بنا رہا تھا‘ زیادہ بن گئی شاید دل کو پتا تھا‘ تو آئے گی۔‘‘ وہ پانی کے ساتھ چائے کے دو کپ بھی لے آیا تھا۔ اس کی بکواس پر منزہ کا حلق تک کڑوا ہوگیا بیٹھنے کے باعث حواس قدرے بحال ہونے لگے تھے‘ مگر انہوں نے اس گھر کا پانی تک پینا گوارا نہیں کیا۔
’’مجھے کچھ نہیں چاہیے… میں یہ پیسے دینے آئی تھی۔‘‘ لفافہ مل گیا تھا‘ اپنی محنت کی کمائی دیتے ہوئے دل ضرور دکھا تھا مگر اس سے جان چھڑانے کے لیے یہ تکلیف بھی برداشت کرنا تھی۔ لفافہ اس کی طرف بڑھاتے‘ پرس اٹھا کر جانے کی نیت سے کندھے پر ڈالنے لگیں تو اس نے پرس کھینچ لیا۔
’’چلی جانا‘ اتنی جلدی کیا ہے بیٹھ جا تھوڑی دیر… تیری ناراضی ختم نہیں ہوئی اب تک معاف کردے مجھے… ایک موقع دے میں سدھر جائوں گا… اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ‘ ہم ساتھ رہیں گے۔‘‘ وہ جانے کون سے سہانے سپنے دکھا رہا تھا‘ وہ نفرت سے منہ پھیر گئیں‘ لبوں پر تلخ مسکراہٹ سج گئی۔
’’خواب دیکھنا چھوڑ دو یحییٰ سرفراز… تمہیں تو میں نے اپنی زندگی سے اسی دن نکال پھینکا تھا‘ جس دن تمہارے گھر سے بھاگی تھی اور اب اتنے سالوں بعد تم نظر آئے تو مجھے خوشی ہوئی کہ برسوں پہلے میں نے بہت اچھا فیصلہ کیا تھا‘ میں تمہاری کسی بات میں نہیں آئوں گی… یہ پکڑو دس ہزار اور میری بات پر سنجیدگی سے غور کرنا یہ نہ ہو مجھے سختی سے عمل کرنا پڑے۔‘‘ لفافہ اس کی گود میں پھینکتے ہوئے نفرت و نخوت سے کہہ کر انہوں نے اپنا پرس کھینچا جو وہ دبوچے بیٹھا تھا تاکہ منزہ اٹھ کر نہ جا سکیں اس کے بت بنے رہنے پر منزہ نے پرس کھینچ کر نکالا اور تیزی سے نکل گئی تھیں۔
خ…ز…/
سعید کی منگنی تھی ان کا سارا گروپ پیش پیش تھا‘ سعید نے پوری کلاس کو مدعو کیا تھا‘ کلاس فیلوز کو دیکھ کر جانے کیوں ایشان جاہ کو یہ گمان ہونے لگا کہ ماورا بھی آئے گی گو وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیسے ان کے گروپ سے بدکتی ہے لیکن جانے کیوں کلاس کے لڑکے لڑکیوں سے مل کے اس کا خیال بار بار آرہا تھا۔
چوھری جہانگیر نے جب آئیڈیل کا پوچھا تو جانے کیوں وہ ایک لحظے کو رک گیا تھا‘ اس کے لیے بے حد حیران کن تھا کہ اس کے ذہن و دل میں ماورا کا نام آیا تھا۔
’’اس مغرور لڑکی نے اتنا زچ کردیا ہے کہ چوبیس گھنٹے مجھے صرف اسی کا دھیان رہنے لگا ہے۔‘‘ خود کو بہلاتے ہوئے وہ قدرے الگ تھلگ گوشے کی طرف آگیا‘ باقی سب وہیں اسٹیج پر چڑھے رسم کے بعد ہنسی مذاق میں لگے ہوئے تھے۔
’’کیا ہوا… تم انجوائے نہیں کررہے‘ ہمارے ساتھ؟‘‘ انشراح اسے ڈھونڈتی ہوئی آئی‘ ریڈ گائون میں دوپٹے کے تکلف سے آزاد‘ نفاست سے کیے گئے میک اپ میں خاصی خوب صورت لگ رہی تھی۔
’’نہیں… موڈ نہیں ہورہا۔‘‘ اس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر وہ کولڈ ڈرنک کا گھونٹ بھرتے ہوئے ارد گرد نظر دوڑانے لگا‘ سیاہ سوٹ میں وہ معمول کے حلیے سے خاصا مختلف اور متین لگ رہا تھا۔
’’بہت موڈی ہوتے جارہے ہو… الگ تھلگ رہنے لگے ہو‘ کچھ عرصہ سے بہت چینج محسوس کررہی ہوں میں تمہارے اندر۔‘‘ شکایتی نظروں سے دیکھتی انشراح سامنے براجمان ہوئی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ ایشان جاہ کو اس کا گلہ بے تکا لگا۔
’’شاید یہ تبدیلی تم نے خود بھی محسوس نہیں کی لیکن میں کم و بیش اٹھارہ بیس گھنٹے تمہارے ساتھ ہوتی ہوں اور مجھے تم بہت بدلے بدلے لگ رہے ہو۔‘‘ وہ بغور اسے دیکھ رہی تھی۔
’’میچور ہورہا ہوں شاید۔‘‘ اس نے ہنس کر ٹالنا چاہا‘ انشراح کئی ثانیے اسے سنجیدگی سے دیکھتی رہی۔
’’صہبا آنٹی کا مما کو فون آیا تھا کہ تم‘ مجھ سے شادی کے لیے راضی نہیں ہو… وجہ پوچھ سکتی ہوں؟‘‘ اس نے بے دھڑک سوال کیا‘ لہجہ سنجیدگی لیے ہوئے تھا‘ ایشان جاہ نے بے ساختہ اسے دیکھا شاید وہ جواب لینے ہی بیٹھی تھی۔
’’وجہ کیا ہونی ہے… مجھے نہیں لگتا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں اور ہمیں شادی کرلینا چاہیے بس…‘‘ اس نے لاپروائی سے کہا۔
’’کون ہے وہ‘ جسے دیکھ کر تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہارے لیے بنی ہے… کون سی کمی ہے مجھ میں جو تمہیں کسی اور کو ڈھونڈنا پڑ رہا ہے؟‘‘ انکار سن کر انشراح کو بے حدا برُا لگا‘ اس لیے جب بولی تو لہجہ کسی قدر تیکھا تھا۔
’’کون ہے… کہاں ہے… کب ملے گی…؟ یہ تو ٹھیک سے میں بھی نہیں جانتا لیکن ملے گی ضرور‘ اتنا پتا ہے۔‘‘ وہ مطمئن تھا اور اس کا اطمینان انشراح کو سلگا گیا۔
’’میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ انشراح نے بلا جھجک اپنی خواہش ظاہر کی۔
’’کم آن انشراح‘ ہم اچھے دوست ہیں‘ ایک دوسرے کے موڈ مزاج کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں… دوستی کا رشتہ اور شادی کرنا‘ دو الگ باتیں ہیں بھلے میں تمہارے لائف پارٹنر کی امیج پر پورا اترتا ہوں… لیکن میرے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے تو میں کیا کروں؟‘‘ اس نے نرمی سے اسے سمجھایا‘ انشراح کے آنسو بہہ نکلے تو ایشان جاہ نے لب بھینچ لیے۔
’’اگر تم حقیقت کو قبول کیے بناء اسی طرح ری ایکٹ کرتی رہوگی تو شاید ہماری دوستی بھی نہ رہے۔‘‘ اس کے سنجیدہ لہجے پر انشراح اس کی صورت تکنے لگی تھی۔
خ…ز…/
’’اب طبیعت کیسی ہے اماں؟‘‘ سستی سے لیٹی منزہ کو وہ دونوں تشویش سے دیکھ رہی تھیں۔
’’مجھے کیا ہونا ہے… ٹھیک ہوں… بس تھک گئی ہوں سفرکی عادت جو نہیں رہی۔‘‘ منزہ نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے انہیں بہلایا۔
یحییٰ سرفراز کو پیسے دینے کے چکر میں انہیں بڑی خواری اٹھانا پڑی تھی اور واپس آکر وہ بستر پر ڈھے گئی تھیں‘ سفر کی طوالت نے الگ ہڈیوں کو دکھا دیا تھا۔
’’کہا بھی تھا‘ آپ نہ جائیں ہم دونوں لے آتے جاکر۔‘‘ انوشا نے فکر مندی سے ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو منزہ مسکرا دیں۔
’’زمانہ ظالم دیو جیسا ہے اور میری بیٹیاں پریوں سی… مجھے تو تم لوگوں کو درسگاہوں تک بھیجتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے… تم لوگ باہر نکلتے ہوئے چہرہ کور کرکے رکھا کرو… کسی کی نظر و نیت کا کوئی بھروسا نہیں ہے۔‘‘ منزہ کی ذہنی رو بھٹکنے لگی‘ ان کی بیٹیاں ان کا پر تو تھیں‘ خصوصاً ماورا تو ان کی جوانی کی تصویر تھی اور جب سے ماضی کے چہرے سامنے آنے لگے تھے وہ اس درجہ مماثلت پر ڈرنے لگی تھیں۔
’’آپ بے فکر رہیں اماں ہم اچھی طرح کور کرکے رکھتے ہیں۔‘‘ انوشا نے دلاسا دیا۔
’’کمیٹی مل گئی ہے لیکن دس ہزار کم ہیں‘ کمیٹی والی نے بعد میں دینے کا کہا ہے۔ ہم چالیس ہزار میں ہی بجٹ بنانے کی کوشش کریں گے… باقی کے دس ہزار شادی کے موقع پر لے لوں گی۔‘‘ اب دس ہزار کی کمی پر منزہ کو کوئی نہ کوئی کہانی تو سنانا ہی تھی‘ دونوں سر ہلانے لگیں۔
’’ماورا… میرے پرس سے چالیس ہزار نکال کر کہیں اچھی طرح سنبھال کے رکھ دو… مجھے بھولنے کی بیماری ہے۔‘‘ انوشا نے قریب رکھا پرس اٹھا کر ماورا کی طرف بڑھایا۔
’’ٹھیک ہے اماں… ہم پہلے انوشا کی شاپنگ شروع کردیتے ہیں؟‘‘ ماورا پرس کی زپ کھولتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ہاں‘ یہی مناسب ہے‘ شکر ہے‘ یاسر اور لڑکوں سے مختلف ہے… اس نے صاف منع کردیا کہ نا اس کی شاپنگ کی جائے اور نہ ہی وہ پیسے لے گا‘ اپنی ساری تیاری خود کرے گا… ورنہ اس کی شاپنگ کے لیے پیسے کہاں سے آتے؟‘‘ منزہ کو تسلی ہوئی‘ انوشا ہونے والے شوہر کی تعریف اور افکار پر مسکرانے لگی۔
’’اماں پیسے کہاں رکھے ہیں؟‘‘ ماورا نے پورا پرس دیکھ کر پوچھا۔
’’لائو مجھے دو۔‘‘ منزہ یہی سمجھیں کہ اسے نہیں مل رہا تب ہی پرس لے کر خود دیکھنے لگیں لیکن جیسے جیسے پرس کی چیزیں چھان رہی تھیں ان کے چہرے پر تشویش کے آثار بڑھنے لگے تھے۔
’’آرام سے اماں… مل جائیں گے۔‘‘ ماورا کو بھی ان کے انداز پر تشویش ہوئی‘ مننزہ نے سارا پرس پلنگ پر الٹ دیا‘ وہ ایک ایک چیز کو دیوانوں کی طرح دیکھ رہی تھیں‘ سب کچھ تھا کچھ نہیں تھا تو پیسوں کا لفافہ۔
’’کیا ہوا اماں… آپ نے پرس میں ہی رکھا تھا ناں؟‘‘ ان کی غیر ہوتی حالت پر دونوں کو تشویش ہوئی۔
منزہ سر پر ہاتھ رکھ کر دیوار سے جالگیں‘ سارا معاملہ ان کی سمجھ میں آگیا تھا پرس دبوچے رکھنے کے بہانے وہ ہاتھ کی صفائی دکھا گیا تھا۔ پیسوں کی گمشدگی پر ان کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔
(ان شاء اللہ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close