Hijaab Oct-18

میرے خواب زندہ ہیں

نادیہ فاطمہ رضوی

حجاب کی قاری بہنوں کو میرا بہت بہت سلام۔
آج ایک طویل عرصے کے بعد میں آپ سے ہم کلام ہوں گو کہ ایک سفر کی تیاری ہے اور ایک سفر نے ساتھ چھوڑ دیا ہے‘ جی ہاں ’’میرے خواب زندہ ہیں‘‘ کا ناول کے اختتام کی طرف گامزن ہے‘ دل پُر مسرت بھی ہے اور افسردہ بھی‘ خوشی اس لیے کہ آپ سب قارئین کے محبت بھرے تبصروں کے سائے تلے ناول کا سفر بہت خوبی کے ساتھ تمام ہوا‘ میں ان تمام بہنوں کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے خواب زندہ ہیں کو پڑھ کر اسے اپنی پسند کی سند دی اور اس پر تبصرہ کرکے مجھے داد و تحسین سے نوازا۔ افسردگی کا سبب ناول سے جدائی ہے یقین جانیے اچھی بہنو‘ یہ ناول جیسے میری زندگی کا حصہ بن گیا تھا ہر ماہ قسط لکھتے ہوئے میں ناول کے کرداروں سے ملاقات کیا کرتی تھی بلکہ اکثر اوقات تو میں اسی ناول کی دنیا میں گھومنے لگتی تھی اب جبکہ ناول اختتام پزیر ہے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ کردار بھی میری زندگی سے جدا ہوگئے ہیں۔
پیاری بہنوں آپ سب سے گزارش ہے کہ جو پیغام میں نے اس ناول میں دینے کی کوشش کی ہے اسے ضرور اپنی زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کیجیے گا اور وہ پیغام یہ ہے کہ حالات ہمارے لیے چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں ہماری زندگی میں کوئی بھی طوفان آجائے مگر ہمیں ہمت و حوصلے کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے جیسے لالہ رخ نے اپنی زندگی میں در آنے والی مشکلات کا کتنا جرأت مندی سے مقابلہ کیا جس طرح ماریہ یہ زمانے کے آلام و مصائب کے آگے مستقل مزاجی اور ہمت سے کھڑی رہی۔
بس پیاری بہنوں حالات کے آگے ہمیں ہار نہیں ماننی ہے بلکہ اس کا سامنا بہادری اور دلیری سے کرنا ہے کیونکہ عورت اس کائنات کی بہت طاقت ور ہستی ہے بس اسے اپنی اس طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔
آخر میں ان تمام بہنوں کی میں بہت مشکور اور احسان مند ہوں جنہوں نے میرے ناول کو پسند کرکے مجھے تعریفی کلمات سے نواز کر میرے دل کو طمانیت بخشی اور ان بہنوں سے صدق دل سے معذرت خواہ ہوں جنہیں میرے ناول میں کوئی کمی لگی یا میرے تخلیق کردہ جملوں اور حالات سے ان کی دل آزاری ہوئی۔
اب اجازت چاہتی ہوں زندگی رہی تو پھر کسی تحریر کے سنگ آپ کے روبرو ہوں گی (ان شاء اللہ)
آپ کی محبتوں کی مقروض اور دعاؤں کی طالب
نادیہ فاطمہ رضوی
/…ۃ…ۃ…/
(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
سمیر شاہ احتشام کو دیار غیر میں یوں روبرو دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں۔ احتشام بھی سمیر کو تمام حقائق سے آگاہ کرتا ہے کہ کس طرح وہ دولت اور آسائشات کے حصول کی خاطر بیرون ملک آیا تھا اور پھر خاور کے کہنے پر حورین کو طلاق دی تھی۔ اپنی مشکلات کا تذکرہ کرتے وہ خاور کے دھوکے کا بھی ذکرکرتا ہے۔ جیکولین ایسے میں نہ صرف اس کی مدد کرتی ہے بلکہ اسے شادی کی بھی آفر کرتی ہے لیکن اس سے پہلے وہ اسے اپنا مذہب چھوڑ دینے کا کہتی ہے اور احتشام بھی پرتعیش زندگی گزارنے کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کرلیتا ہے۔ حورین لالہ رخ کو اپنی بیٹی سمجھتی ہے اس سے میں ملنے کے بعد حورین کی طبیعت قدرے سنبھل جاتی ہے۔ فراز شاہ حورین کے متعلق مختصراً اسے بتاتا ہے کہ وہ اپنی گمشدہ بیٹی کو لے کر ذہنی طور پر بے حد پریشان ہیں۔ لالہ رخ کو بھی حورین کی حالت پر بے حد افسوس ہوتا ہے۔ باسل اپنے طور پر لالہ رخ کی تلاش جاری رکھتا ہے۔ ایسے میں اچانک نجم الدین کی آمد ان سب کے لیے خوشگوار ثابت ہوتی ہے۔ وہ حورین کے ماضی سے واقفیت رکھنے کے سبب بہت سے حقائق باسل کے سامنے رکھتا ہے کہ کس طرح اس کی شادی احتشام سے ہوتی ہے پھر اس کی بیٹی لالہ رخ اور طلاق کے بعد خاور سے شادی کا تذکرہ کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی گمشدہ بیٹی لالہ رخ کا ذکر کرتے اس کے زندہ ہونے کی نوید بھی دیتا ہے۔ لیکن خاور حیات کے ڈر سے کبھی وہ یہ بات حورین کو نہیں بتاپاتا۔ باسل فوراً زرتاشہ سے رابطہ کرکے اس کے والدین کی کے متعلق استفسار کرتا ہے اور یہ جان کر ششدر رہ جاتا ہے کہ اس کی بہن لالہ رخ ہی دراصل حورین کی بیٹی تھی جو پارس بیگم اور امیر علی کے زیر سایہ پلی بڑھی تھی۔ باسل تمام حقائق سے سمیر کو بھی آگاہ کر دیتا ہے۔ جلد ہی وہ حورین کو بھی لالہ رخ سے ملوانے کا ارادہ کرلیتے ہیں۔ ماریہ فراز اور لالہ رخ کی دوستی کو لے کر خدشات کا شکار رہتی ہے ایسے میں وہ فراز کی زندگی سے چلے جانے کا ارادہ کرلیتی ہے۔ دوسری طرف لالہ رخ فراز سے کہتی ہے کہ وہ ماریہ اور اپنے رشتے کو قبول کرلے۔ ابرام لالہ رخ سے محبت کرنے لگتا ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کردیتا ہے جس پر لالہ رخ خائف نظر آتی ہے۔ کامیش کا رشتہ مہرو سے طے ہوجاتا ہے اور مہرو بھی زندگی کے اس فیصلے پر بے حد خوش ہوتی ہے۔ تاہم سونیا کی ذات کو لے کر چند خدشات کا شکار ہوتی ہے۔ جیکولین کی اچانک پاکستان آمد ماریہ کے لیے حیران کن ہوتی ہے۔ ایسے وہ میں اس سے معافی مانگتی ہے۔ جیکولین بھی اسے اس کے باپ کے متعلق بتاتی ہے کہ اس کا باپ احتشام ایک مسلمان شخص تھا، جس نے اس کے کہنے پر اپنا مذہب چھوڑ دیا تھا۔ ماریہ کے لیے یہ سب بہت شاکنگ ہوتا ہے۔ جب ہی وہ احتشام کی پہلی بیوی اور بیٹی کا بھی تذکرہ کرتی ہے۔ لیکن ماریہ بالکل گم صم انداز میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھئے)
/…ۃ…ۃ…/
جیکولین اپنی بات کہہ کر خاموش ہوگئی‘ جب کہ ماریہ ابھی تک جیکولین کے کیے گئے انکشافات کی زد میں ساکت سی بیٹھی گہری سوچوں میں غرق تھی‘ قسمت کا کھیل بھی کتنا عجیب تھا۔ وہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتی تھی مگر شعور سنبھالنے پر وہ کسی دوسرے مذہب کی پیروکار تھی اور پھر جب وہ اپنے رب کی مہربانی کی بدولت اپنے اصل دین کی جانب لوٹی تو اسے بے پناہ اذیتوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
’’کیا میری ماں نے میرے ساتھ نا انصافی کی یا میرے باپ نے‘ جس نے دنیاوی عیش و آرام کی خاطر اپنے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی آخرت بھی برباد کرنا چاہی۔‘‘ ماریہ خود کلامی کی پھر جیکولین کو دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’ماما… میں یہ مانتی ہوں کہ ڈیڈ ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے دامن بچاتے رہے‘ وہ نہ اچھے باپ بن سکے نہ بیٹے بلکہ وہ تو کوئی بھی رشتہ بے غرض اور مخلص ہوکر نہ نبھا سکے‘ مگر مام آپ… آپ نے بھی کچھ ٹھیک نہیں کیا‘ کیوں ڈیڈ کو ان کا مذہب بدلنے پر فورس کیا اور مجھے بھی اس بات سے لاعلم رکھا کہ میں…‘‘ وہ یک دم ٹھہری پھر تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی‘ جیکولین خاموشی سے اسے وہاں سے جاتا دیکھتی رہی‘ پھر کچھ دیر بعد ایک تھکی ہوئی سانس بھرکے افسردگی سے بولیں۔
’’ابرام… ماریہ شاید ٹھیک کہہ رہی ہے‘ مجھے ماریہ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ اس لمحے شرمندگی و ندامت اور پچھتائوں کے رنگوں کو جیکولین کے چہرے سے جھلکتے دیکھ کر ابرام محض اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
کامیش اور مہرینہ کا نکاح سادگی سے انجام پا گیا تھا‘ جس میں صرف گھر کے افراد نے ہی شرکت کی تھی‘ البتہ دو دن بعد ولیمہ کی تقریب شہر کے معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی۔
اس پل مہرو کامیش کے کمرے میں اس کے بستر پر بیٹھی محو انتظار تھی‘ جب کہ دل عجیب وسوسوں اور خدشات کی زد میں مبتلا تھا‘ کامیش شاہ اس کے دل کی تمنا اور پہلی محبت تھا‘ جسے اس نے چپکے چپکے چاہا تھا‘ اسے حاصل کرنے کے لیے ان گنت دعائیں کی تھیں‘ آج جب تقدیر نے اسے کسی انعام کی صورت اسے عطا کیا تھا تو وہ خود ہی اپنی قسمت پر حیران و مسرور تھی‘ مگر پھر بھی اس کے دل و دماغ میں کامیش کی پہلی شادی اور سونیا اٹکی ہوئی تھی‘ ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک کھٹکے کی آواز پر اس نے چونک کر کامیش شاہ کو اندر آتے دیکھا اور اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔
آف وائیٹ شلوار کرتے میں اپنی مخصوص چال چلتے ہوئے وہ اس کے مقابل آکر بیٹھا تو مہرو خود میں سمٹ گئی‘ گہرے میرون رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس جس پر گولڈن نفیس سا کام گیا تھا اور ہلکے میک اپ میں بھی وہ بے پناہ خوب صورت لگ رہی تھی‘ کامیش نے اسے چند ثانیے دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر بولا۔
’’مہرینہ… مجھے اندازہ ہے کہ میری فرسٹ میرج اور وائف کے متعلق آپ کے ذہن میں بہت سے سوالات ہوں گے مگر آپ کوئی ٹینشن مت لیں میں آپ کے ہر سوال کا جواب دوں گا‘ بشرطیکہ آپ کے سوال احمقانہ نہ ہوں۔‘‘ کامیش کی آخری بات پر مہرو نے بے ساختہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تو کامیش کے لبوں پر پھیلی شریر مسکراہٹ سے سٹپٹا کر دوبارہ نگاہیں جھکالیں‘ کامیش نے چند ثانیے کچھ سوچا پھر ایک ہنکارا بھر کر کہا۔
’’سونیا سے میری شادی میری ماں کی خواہش پر ہوئی تھی…‘‘ پھر وہ سب کچھ بتاتا چلا گیا یہ کہ اس کی سونیا کے ساتھ کبھی انڈر اسٹینگ ہوئی ہی نہیں اور یہ بھی کہ وہ کیا ارادے لے کر اس گھر میں آئی تھی‘ مہرو پوری توجہ سے سب کچھ سنتی رہی اور پھر آخر میں کہا۔
’’آئی ہوپ اب آپ کو اپنے تمام سوالوں کے جواب مل گئے ہوں گے۔‘‘ کامیش کی بات پر مہرو نے بے ساختہ اثبات میں سر ہلایا تو کامیش نے دھیرے سے ہنس کر کہا۔ ’’گڈ‘ ویری گڈ… اوکے اب آپ جاکر چینج کرلیجیے اور تھوڑا ریسٹ بھی‘ بہت دیر سے آپ ایسے ہی بیٹھی ہیں۔‘‘ جواباً مہرو تابعداری سے چینج کرنے کی غرض سے بستر سے اٹھ گئی تھی۔
/…ۃ…ۃ…/
اگلے دن باسل‘ احمر کے ساتھ فراز شاہ کے پاس آیا اور اس نے مسٹر نجم الدین کی تمام گفتگو فراز کے گوش گزار کی‘ فراز یہ سب سن کر ششدر رہ گیا‘ کتنی ہی دیر تک وہ کچھ بھی بولنے سے قاصر رہا‘ اس انکشاف نے گویا اس کی قوت گویائی ہی سلب کردی تھی پھر بہت دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوا تو انتہائی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا۔
’’باسل… بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ لالہ رخ‘ حورین آنٹی کی بیٹی ہے؟ او میرے اللہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا۔‘‘ آخر میں اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا‘ باسل اور احمر دونوں نے ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھا پھر باسل سنجیدگی سے بولا۔
’’فراز بھائی… یہ بالکل سچ ہے میں سمیر انکل کو بھی بتاچکا ہوں کہ آپ کی فرینڈ لالہ رخ ہی مام اور ان کے ایکس ہزبینڈ احتشام کی بیٹی ہیں‘ جس کی جدائی میں آج مام اس حال کو پہنچ گئی ہیں۔‘‘ باسل کے لہجے میں گہرے دکھ کی آمیزش تھی‘ فراز نے اسے چونک کر دیکھا‘ پھر ایک ہنکارا بھر کر رہ گیا۔ کچھ دیر کے لیے وہاں گہری خاموشی چھائی رہی پھر چند ثانیوں بعد باسل نے قدرے بے قراری سے کہا۔
’’فراز بھائی… یہ یقینا ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت کرم ہے کہ مام کی بیٹی زندہ ہے اور اب ہمیں مل بھی گئی ہے‘ یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں۔‘‘
’’تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو باسل‘ یہ ہمارے رب کریم کا احسان عظیم ہے کہ جسے ہم زندہ ہی نہیں سمجھ رہے تھے وہ تو ہمارے ہی درمیان تھی لالہ رخ۔‘‘ اس لمحے فراز بھی بے پناہ ممنونیت سے بولا تو احمر پُر سوچ آواز میں گویا ہوا۔
’’فراز بھائی‘ یہ خبر یقینی طور پر آنٹی کے لیے بھی کسی گہرے شاکڈ سے کم نہیں ہوگی‘ میرا مطلب ہے کہ وہ بھی سب کی طرح یہی سمجھی بیٹھی تھیں کہ لالہ رخ اس دنیا میں موجود نہیں‘ اب جب یہ انکشاف ان کے سامنے آئے گا تو کہیں یہ بات ان کی برداشت سے باہر نہ ہو۔‘‘ احمر کی بات سو فی صد درست تھی‘ باسل اور فراز یہ سن کر بے اختیار سوچوں میں گم ہوگئے تھے۔
/…ۃ…ۃ…/
اپنی حقیقت اور سچائی جان کر وہ رو رو کر خود کو ہلکان کررہی تھی مگر پھر بھی اس کے دل کو قرار ہی نہیں آرہا تھا۔ ایک آگ تھی جو اندر ہی اندر اسے جلائے دے رہی تھی‘ اسے کبھی اپنے باپ کی بے حسی پر غصہ آتا تو کبھی ماں کی سفاکی پر‘ آخر انہوں نے کیوں اسے اتنی بڑی سچائی سے لاعلم رکھا‘ وہ دل ہی دل میں اپنے رب کا بھی بے پناہ شکر ادا کررہی تھی جس نے اسے ہدایت کی روشنی عطا کرکے اسے مہیب اندھیروں سے نکال لیا تھا۔
جب کافی دیر گزر گئی تو ابرام دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر اندر آیا‘ ماریہ کی دگرگوں حالت اور سوجی آنکھیں دیکھ کر اس کے دل کو دھچکا لگا جب کہ ماریہ نے بے پناہ ناراضی سے ابرام کی جانب سے منہ پھیر لیا تھا‘ ابرام ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا‘ پھر اس کے مقابل آکر بیٹھ گیا۔
’’میں جانتا ہوں ماریہ‘ تم مجھ سے سخت خفا ہو مگر ہنی پلیز بلیو می‘ جس طرح تم لاعلم تھیں اسی طرح مجھے بھی کچھ نہیں معلوم تھا‘ اس دن جب مام تمہارے جانے سے بے پناہ ڈپریسڈ تھیں‘ اس وقت انہوں نے مجھے تمہارے ساتھ ساتھ میری حقیقت بھی بتائی تھی۔‘‘ ماریہ جو ابرام سے بالکل لاتعلقی ظاہر کررہی تھی‘ تیزی سے چہرہ ابرام کی جانب موڑ کر اسے بے حد حیران نگاہوں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’آپ کی حقیقت…! آپ کی حقیقت کیا ہے برو؟‘‘ ابرام نے لحظہ بھر کو ماریہ کے ہونق چہرے کو دیکھا‘ پھر عجیب سے لہجے میں بولا۔
’’یہی کہ میں ابرام سائمن نہیں ہوں۔‘‘
’’کیا…! کیا مطلب ہے اس کا؟‘‘ ماریہ قدرے جھنجھلائی۔
’’سائمن میرا سر نیم نہیں ہے بلکہ مام کے فادر کا نک نیم ہے۔‘‘ ماریہ اب بھی نہیں سمجھی تھی۔
’’مگر مام نے آپ کے فادر کا نام آپ کے ساتھ کیوں نہیں جوڑا؟‘‘
’’کیوں کہ میرا باپ مصری نژاد تھا۔‘‘ ابرام سابقہ لہجے میں بولا تو ماریہ نے بے تحاشا تحیر کے عالم میں ابرام کو دیکھا۔
’’مگر مام نے تو بتایا تھا کہ ان کے فرسٹ ہزبینڈ…‘‘ پھر خود ہی اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر ابرام کو پریشان نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
’’یعنی میرا باپ بھی تمہارے فادر کی طرح مسلمان تھا۔‘‘ ماریہ کافی دیر تک ناسمجھی سے اسے دیکھتی رہی پھر تیزی سے ابرام کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی‘ جب کہ ابرام کی آنکھیں بھی نم ہوتی چلی گئی تھیں۔
/…ۃ…ۃ…/
مہرو اور کامیش کے ولیمے کی تقریب بخیر و عافیت انجام پاگئی تھی‘ جب کہ سونیا کو کامیش کی جانب سے طلاق کے کاغذات موصول ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری شادی کی اطلاع بھی مل گئی تھی‘ جسے سن کر وہ زخمی ناگن کی مانند بل کھا کر رہ گئی تھی‘ اسے اپنی شکست اور ناکامی کسی طور قبول نہیں ہورہی تھی۔
’’ہونہہ وہ خود کو سمجھتا کیا ہے؟ میری زندگی اجاڑ کر وہ اپنی دنیا بسانے چلا ہے‘ میں اسے تباہ و برباد کردوں گی‘ اسے کسی قابل نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ سونیا غصے سے پاگل ہوئی جا رہی تھی۔
’’بس سونیا… تمیں جو کچھ کرنا تھا وہ تم کرچکی ہو اور تمہاری زندگی خود تمہارے ہاتھوں ہی برباد ہوئی ہے‘ تم خود ہو اس ساری بربادی کی ذمہ دار‘ صرف تم خود۔‘‘ سارا بیگم بھی سونیا سے ملنے ٹورنٹو آگئی تھیں۔ سونیا نے انتہائی تحیر کے عالم میں اپنی ماں کے غصے سے لال ہوتے چہرے کو دیکھا۔
’’واٹ ربش مام…‘‘ کچھ توقف کے بعد وہ نخوت سے بولی تو سارا بیگم نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتی ہوئی انتہائی تاسف بھرے لہجے میں کہا۔
’’تم تو وہ مثال بن گئی ہو سونیا جس نے اپنی جنت‘ اپنا سکون خود اپنے ہی ہاتھوں تباہ و برباد کر ڈالا خود کو نشان عبرت بنا ڈالا‘ میں نے تمہیں کتنا سمجھایا‘ کتنا روکا مگر تم… تم اپنی من مانی کرتی چلی گئیں‘ ارے کامیشں جیسے ہیرے کو ٹھوکر مار کر تم نے خوش نصیبی کو خود دھتکارا ہے سونیا‘ اب تمہیں کامیش جیسا انسان اس دنیا میں کبھی نہیں مل سکے گا‘ اب منائو اپنی بربادی کا جشن۔ بیٹا اس انتقام اور بدلے کے کھیل میں تمہارے ہاتھ کیا آیا ہاں؟ صرف اور صرف بدنامی‘ پھٹکار‘ نفرت اور تنہائی۔‘‘ آج پہلی بار سونیا اعظم شیرازی ماں کے منہ سے اتنے سنگین الفاظ سن کر بے اختیار کپکپا کر رہ گئی۔
’’ما… م… آ… پ مجھے بددعا دے رہی ہیں۔‘‘ وہ تقریباً ہکلاتے ہوئے بولی‘ جب کہ وحشت و دہشت اس پل صاف اس کی آنکھوں میں دیکھی جاسکتی تھی۔
’’ہوہنہ‘ میں تمہیں کیا بددعا دوں گی سونیا‘ تم تو خود ہی بد دعا بن چکی ہو۔‘‘ سارا بیگم اسی لہجے میں بولیں تو سونیا انتہائی بے قراری سے اپنی جگہ سے اٹھ کر سارا بیگم کے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ان کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
’’آپ کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہیں مام… آپ دیکھ لینا مجھے کامیش سے کہیں زیادہ اچھا اور کامیاب انسان مل جائے گا اور… اور آپ کو تو معلوم ہے ناں‘ وہ طلحہ مجھ سے شادی کرنے کے لیے کیسے مرا جا رہا ہے۔ مم… میں ابھی اسے فون کرتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیر کی تیزی سے اٹھی اور میز پر پڑا اپنا موبائل فون اٹھا کر طلحہ کا نمبر ملانے لگی۔
’’ہیلو طلحہ مم… میں سونیا بات کررہی ہوں۔‘‘ سونیا قدرے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی‘ جب کہ سارا بیگم خاموش نگاہوں میں دکھ لیے اسے دیکھ رہی تھیں۔
’’ہاں بولو سونیا… میں ذرا جلدی میں ہوں‘ دو گھنٹے بعد میری پاکستان کے لیے فلائیٹ ہے۔‘‘ وہ کافی روکھائی سے بولا۔
’’واٹ…! تم پاکستان جا رہے ہو اور تم نے مجھے بتانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی؟‘‘ سونیا مشتعل ہوکر بولی۔
’’میں نے تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھا سونیا‘ اچھا اس وقت میں کافی بزی ہوں اوکے بائے۔‘‘
’’ایک منٹ طلحہ… میری بات تو سنو۔‘‘ طلحہ لائن کاٹنے ہی والا تھا جب سونیا تیزی سے بولی۔
’’ہاں جلدی کہو۔‘‘ طلحہ بے زاری سے بولا تو سونیا نے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچا پھر تھوڑا ہچکچا کر بولی۔
’’طلحہ… تم مجھ سے پوچھتے تھے ناں کہ میں اپنے پیرنٹس کو کب لے کر آئوں تو تم جب چاہو انہیں لاسکتے ہو۔‘‘
’’واٹ آر یو کڈینگ سونیا؟‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنس کر بولا۔
’’میں کیوں مذاق کروں گی طلحہ۔‘‘ سونیا تپ کر بولی‘ تب ہی طلحہ انتہائی ہتک آمیز لہجے میں بولا۔
’’اوکم آن سونیا… تم جیسی لڑکیاں چار پانچ ٹائم ڈنر کرنے کے لیے اور چند دن گھومنے پھرنے کے لیے تو صحیح ہوتی ہیں‘ مگر تم جیسیوں کو اپنے گھر کی عزت اور زینت کبھی نہیں بنایا جاسکتا۔‘‘
’’مائینڈ یور لینگویج طلحہ… تم مجھ سے اتنی گھٹیا اور چیپ بات کیسے کرسکتے ہو‘ میں سونیا اعظم خان ہوں‘ سمجھے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس طرح کی بات کرنے کی۔‘‘ سونیا غصے سے آگ بگولا ہوکر بولی‘ تب ہی طلحہ کی تحقیر آمیز آواز ابھری۔
’’جانتا ہوں ڈیئر… وہ سونیا اعظم خان جو نہ اپنے شوہر کی وفادار تھی نہ اپنے عاشق فراز شاہ کی‘ تم ایک دھتکاری ہوئی عورت ہو یہ ہے تمہارا پورا تعارف۔‘‘
’’او یو شٹ اپ‘ میں تمہارا منہ توڑ دوں گی طلحہ۔‘‘ سونیا اشتعال کی زیادتی سے کپکپا کر بولی۔
’’اینی وے اب مجھے فون مت کرنا‘ پاکستان جاتے ہی میری کزن سے میرا نکاح ہے اوکے۔‘‘ جواباً سونیا نے اپنا سیل فون پوری قوت سے دیوار پر دے مارا‘ دوسرے ہی پل وہ ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر بکھر گیا۔ سارا بیگم بے حد پریشان ہوکر اپنی نشست سے اٹھیں۔
’’سونیا…‘‘
’’وہ خود کو سمجھتا کیا ہے ہونہہ… وہ دو ٹکے کا انسان مجھ سے یعنی سونیا خان سے اس طرح کی باتیں کرے گا۔ میں اسے شوٹ کردوں گی۔ اسے جان سے ماردوں گی۔‘‘ سونیا ہذیانی انداز میں چلاتے ہوئے بول رہی تھی۔
’’سونیا کنٹرول یور سیلف۔‘‘ سارا اسے سنبھالتے ہوئے ہلکان ہورہی تھیں‘ پھر کافی دیر بعد وہ ہوش میں آئی تو اسے لگا جیسے وہ تپتے‘ سلگتے صحرا میں برہنہ پائوں تنہا اور لاچار کھڑی ہے۔
’’مام یہ… یہ میں نے کیا کردیا؟‘‘ سونیا رونے لگی‘ آج احساس زیاں عود کر آیا تھا‘ مگر اب کچھ ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔ سارا بیگم نے اسے اپنے گلے سے لگالیا۔ دونوں ماں بیٹی زار و قطار روتی رہیں۔
/…ۃ…ۃ…/
فراز شاہ اور سمیر شاہ لالہ رخ کے گھر آئے تو لالہ رخ ان سب کو دیکھ کر خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوئی‘ پھر بہت جلد خود کو سنبھال کر ان کا استقبال کیا اور انہیں لیے ڈرائینگ روم میں آگئی۔ خلاف معمول آج فراز کے چہرے پر سنجیدگی اور کسی گہری سوچ کی پرچھائیاں واضح نظر آرہی تھی‘ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد سمیر شاہ نے جو آج اسے انتہائی مشفقانہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے‘ پارس بیگم کی بابت استفسار کیا تو لالہ رخ نے انہیں بتایا۔
’’وہ شاید نماز پڑھ رہی ہیں‘ میں ابھی انہیں بلا کر لاتی ہوں۔‘‘ لالہ رخ اپنی جگہ سے اٹھی ہی تھی کہ یک دم فراز کی گمبھیر آواز نے اسے اپنی جگہ منجمد کردیا۔
’’بیٹھ جائو لالہ… ہمیں تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ لالہ رخ نے قدرے چونک کر فراز کو دیکھا‘ پھر دوسرے ہی پل سمیر شاہ کی جانب ایک نگاہ ڈالی۔
’’کیسی بات فراز؟‘‘ لالہ رخ الجھی‘ فراز ایک ہنکارا بھر کر بولا۔
’’لالہ… میں نے تمہیں ہمیشہ ایک مضبوط‘ بہادر اور حوصلہ مند لڑکی پایا ہے‘ تمہاری زندگی کے اتار چڑھائو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور میں یہ بات بہت فخر اور غرور سے کہہ رہا ہوں کہ زندگی کے کسی بھی کٹھن امتحان اور آزمائشوں کے سامنے تم نے کبھی ہمت نہیں ہاری‘ ہمیشہ سرخرو ہوئیں‘ مجھے تمہاری دوستی پر ناز ہے لالہ…‘‘ لالہ رخ نے فراز شاہ کی بات دھیان سے سنی جب وہ خاموش ہوا تو وہ تیزی سے بولی۔
’’ہاں مگر فراز تم یہ سب باتیں اس وقت کیوں کررہے ہو… کیا بات ہے‘ کچھ ہوا ہے کیا‘ مہرو ٹھیک تو ہے ناں فراز؟‘‘ ایک بھیانک خیال ذہن میں آیا تو وہ انتہائی گھبرائی۔
’’بیٹا… مہرو بالکل ٹھیک ہے‘ آپ پریشان مت ہوں۔‘‘ سمیر شاہ نرم لہجے میں بولے تو لالہ رخ کو کچھ اطمینان ہوا‘ پھر فراز کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی‘ تب ہی سمیر شاہ نے کہا۔
’’بیٹا… میں جانتا ہوں کہ آپ اپنی والدہ کو دل و جان سے چاہتی ہیں‘ ان سے بے پناہ محبت بھی کرتی ہیں اور ہونی بھی چاہیے کیوں کہ انہوں نے آپ کو سگی ماں کی طرح پیار دیا ہے۔‘‘ لالہ رخ سمیر شاہ کے آخری جملے پر چونکی۔
’’سگی ماں کی طرح…!‘‘ وہ زیرلب بڑبڑائی پھر الجھ کر انہیں دیکھ کر بولی۔
’’کک… کیا مطلب سگی ماں کی طرح؟ انکل امی میری سگی ماں ہی تو ہیں۔‘‘ جب کہ نماز سے فارغ ہوکر اندر آتی پارس کے قدم دروازے پر ہی منجمد ہوگئے تھے۔
’’آپ کی امی آپ کی سگی ماں نہیں ہیں لالہ رخ۔‘‘
’’کیا…! یہ… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں انکل؟ آپ کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے‘ میری ماں میری سگی ماں ہی ہیں۔‘‘ لالہ رخ انتہائی پریشان ہوکر بولی‘ جب کہ پارس بیگم نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا‘ وہ تو خود بھی یہ بات بھول چکی تھیں کہ لالہ رخ ان کی سگی اولاد نہیں‘ بولتے ہوئے جوں ہی لالہ رخ کی نگاہ دروازے پر پڑی پارس بیگم کو گم صم سا کھڑا دیکھ کر وہ تیزی سے ان کی جانب لپکی۔
’’امی… یہ سمیرا انکل کیا کہہ رہے ہیں… آپ پلیز بتائیے ناں ان لوگوں کو کہ میں آپ کی بیٹی ہوں۔‘‘ لالہ رخ نے پارس بیگم کے ہاتھوں کو تھاما‘ جن کے چہرے پر کرب و اذیت آثار بہت نمایاں تھے‘ وہ آہستگی سے اندر آئیں اور لالہ رخ کا ہاتھ چھوڑ کر صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ کر بولیں تو ان کے لہجے میں بے پناہ تھکن تھی۔
’’بھائی صاحب سچ کہہ رہے ہیں میری بچی… میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا‘ مگر اللہ گواہ ہے کہ میں نے تمہیں ہمیشہ اپنی تاشو کی طرح ہی سمجھا بلکہ میں تو یہ بات بہت عرصے پہلے بھول ہی گئی تھی کہ میں نے اور امیر علی نے تمہیں گود لیا تھا۔‘‘ لالہ رخ کو اس پل لگا جیسے کوئی ٹرین اس کے وجود کو روندتی ہوئی گزر گئی ہو‘ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے یک ٹک اپنی اس ماں کو دیکھتی رہی جو اسے اس دنیا میں ہر شے سے زیادہ عزیز تھی۔
’’لالہ… پلیز خود کو سنبھالو۔‘‘ فراز اس کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور بے حد نرمی سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا‘ تو یک دم لالہ رخ کا سکتہ ٹوٹا۔
’’فراز…! یہ… یہ امی کیا کہہ رہی ہیں‘ کیا میں ان کی سگی بیٹی نہیں ہوں‘ کیا انہوں نے مجھے جنم نہیں دیا؟‘‘ جواباً فراز نے نفی میں سر ہلایا‘ پھر بے حد نرمی سے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا۔
’’لالہ… تمہیں جنم دینے والی ماں تمہاری جدائی میں آج موت کے دہانے پر کھڑی ہے‘ تم محض تین سال کی عمر میں ان سے بچھڑ گئی تھیں‘ اس دن سے آج تک اس ماں نے سکون کا ایک سانس نہیں لیا‘ وہ تمہاری یاد میں دیوانوں کی طرح روتی ہیں‘ تمہیں آوازیں دیتی ہیں‘ تمہاری جدائی کے غم میں اپنے حواس کھونے لگی ہیں۔‘‘ لالہ رخ منہ کھولے فراز شاہ کو بس دیکھتی رہی تھی۔
’’ہاں لالہ… تمہاری ماں تم سے بات کرنے‘ تمہیں دیکھنے‘ تمہیں چھونے کو بے قرار ہے‘ تم میرے ساتھ چلوگی ناں ان کے پاس۔‘‘ فراز نے بے حد نرمی و محبت سے کہا تو اس پل لالہ رخ کو جیسے اپنی ہی آواز اجنبی لگی۔
’’کون ہے میری ماں؟‘‘ جب ہی فراز نے جیسے دھماکا کیا۔
’’حورین… حورین آنٹی باسل کی مدر۔‘‘ پہلے تو وہ کافی دیر ہونق سی فراز کو دیکھتی رہی‘ پھر کچھ دیر بعد جب دماغ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو انتہائی الجھ کر بولی۔
’’کیا مطلب فراز؟‘‘ تب ہی سمیر شاہ نے اپنی نشست سے اٹھ کر اس کے قریب آکر انتہائی شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’تم حورین کی بیٹی ہو لالہ رخ۔‘‘ پارس بیگم جنہوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے فراز کے منہ سے حورین کا نام سن کر اسے اپنا وہم گردانا تھا‘ بے اختیار کھڑی ہوگئیں‘ جب کہ لالہ رخ نے انتہائی عجیب نگاہوں سے سمیر شاہ کو دیکھا جو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
’’یہی سچ ہے بیٹا… تم امیر علی کی نہیں بلکہ حورین اور احتشام کی بیٹی ہو۔‘‘ یہ سب سن کر لالہ رخ اب اپنے اعصاب پر مزید قابو نہیں رکھ سکی‘ چکرا کر فراز کے بازوئوں میں جھول گئی‘ جب کہ پارس جہاں کی تہاں کھڑی کی کھڑی کی رہ گئی تھیں۔
/…ۃ…ۃ…/
احمر یزدانی‘ زرمینہ کے مقابل بیٹھا اسے اس بات کے لیے تیار کررہا تھا کہ وہ اپنے بھائی سے اس رشتے کی بابت بات کرے جو بڑی خاموشی سے ان دونوں کے درمیان قائم ہوگیا تھا‘ مگر زرمینہ مسلسل انکاری تھی‘ جب کہ تایا جان نے خود اپنی مرضی سے کچھ دن پہلے ہی شاہ دل سے کہہ دیا تھا کہ وہ زرمینہ کو اپنے نابالغ بیٹے کے نکاح سے جلد سے جلد آزاد کردیں گے تاکہ وہ لوگ زرمینہ کی کسی مناسب جگہ شادی کردیں اب وہ بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک دوسری حمیرا کا جنم ہو جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے ترس ترس کر ایک دن بے موت مر جائے‘ شاہ دل اور اسفند یار نے ان کے فیصلے کی بھرپور تائید کی تھی۔
’’احمر… آپ سمجھ کیوں نہیں رہے‘ یہ سب ابھی بھی اتنا آسان نہیں‘ مانا کہ میری فیملی میںکافی تبدیلیاں آگئی ہیں‘ مگر مجھے نہیں لگتا کہ بھائی اور بابا آپ سے میری شادی کرنے پر آسانی سے رضا مند ہوجائیں۔‘‘
’’افوہ یار… ایک تو تم ڈرتی بہت ہو‘ کیا اپنے احمر پر تمہیں ذرا بھی بھروسا نہیں۔‘‘ احمر اسے والہانہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا تو زرمینہ پہلو بدل کر رہ گئی۔
’’اچھا اب آپ یہاں سے جائیں ہمیں ہاسٹل بھی جانا ہے۔‘‘ احمر آج زرمینہ سے ملنے اس کے ڈپارٹمنٹ آیا تھا‘ اس وقت وہ دونوں کینٹین کے قریب بنے باغیچے میں بیٹھے ہوئے تھے‘ چھٹی کا وقت ہوچکا تھا اکثر طلباء گھر واپس جانے کے لیے پوائنٹس کی جانب جا رہے تھے‘ زرمینہ نے کال کرکے زرتاشہ کو بلالیا جو انہیں تنہائی فراہم کرنے کی غرض سے لائبریری چلی گئی تھی۔
’’اچھا پلیز‘ تم شاہ دل بھائی سے میرا تذکرہ تو کرو۔‘‘ احمر لجاجت سے بولا‘ تب ہی زرمینہ سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’نہیں احمر… جب تک تایا جان کی جانب سے فیصلہ نہیں آجاتا میں گھر میں کسی سے بھی آپ کے متعلق بات نہیں کروں گی۔‘‘ زرمینہ نے احمر یزدانی کو اپنے بابا کی شادی اور گمشدہ بیٹی کے متعلق فی الحال کچھ نہیں بتایا تھا‘ ابھی احمر مزید کچھ کہنے والا ہی تھا کہ سامنے سے زرتاشہ آتی دکھائی دی۔
’’شکر ہے آپ دونوں کی میٹنگ ختم ہوئی‘ مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے ہاسٹل جاتے ہی میں تو بستر میں گھس جائوں گی۔‘‘ وہ آتے ہی نان اسٹاپ بولی‘ جب کہ احمر اور زرمینہ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی‘ پھر وہ تینوں ہاسٹل کے راستے کی جانب بڑھ گئے۔ تقریباً آدھا راستہ ان لوگوں کے ساتھ چلنے کے بعد احمر دونوں کو اللہ حافظ کہہ کر دائیں جانب پارکنگ کی طرف جانے کے لیے شارٹ کٹ راستے کی جانب چل دیا تھا۔ ابھی اسے چلتے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اسے کسی گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز سنائی دی اور پھر اگلے ہی پل زرمینہ اور زرتاشہ کی بلند چیخیں فضاء میں ابھری تھیں‘ احمر نے گھبرا کر مڑ کر دیکھا تو سامنے کا منظر یقینا ہوش اڑا دینے والا تھا‘ سیاہ پجارو سے نکل کر ایک شخص زبردستی زرتاشہ کو اندر کرنے کی کوشش کررہا تھا‘ جب کہ زرمینہ اور زرتاشہ بھرپور مزاحمت کررہی تھیں‘ تب ہی ایک دوسرا شخص مغلظات بکتا باہر آیا۔
’’تجھ سے ایک لڑکی قابو نہیں ہوتی۔‘‘ یہ سن کر دونوں لڑکوں نے زرتاشہ سے چمٹی زرمینہ کو دھکا دیا‘ وہ اسے گاڑی میں ڈال کر لے جانے ہی والے تھے کہ احمر کے زور دار مکے نے اس دوسرے لڑکے کا حلیہ ہی بگاڑ دیا‘ وہ لڑکا شاید نشے میں تھا‘ احمر کے مکے نے اس کے جیسے اوسان ہی خطا کردیے تھے پھر دوسرے ہی لمحے تینوں لڑکے آپس میں گتھم گتھا ہوگئے تھے جب کہ اسی اثناء میں زرمینہ نے پوری طاقت سے مدد کے لیے لوگوں کو پکارنا شروع کردیا تھا۔
’’ٹونی چھوڑ اسے‘ جلدی گاڑی میں بیٹھ۔‘‘ احمر جو خود بھی مار کھاتے ہوئے ان دونوں کی اچھی خاصی دھلائی کر رہا تھا۔ اس آواز پر بے اختیار کرنٹ کھا کر پلٹا کچھ اسٹوڈنٹس کو اس جانب آتا دیکھ کر وہ دونوں تیزی سے پجارو کے اندر گھسے اور آن واحد میں گاڑی زن سے احمر کی قریب سے گزر گئی مگر پچھلی نشت پر بیٹھے وہ اس شخصکو بخوبی دیکھ چکا تھا اور اس پل جیسے آسمان اس پر گر پڑا تھا۔
’’عدیل…‘‘ کچھ لڑکے لڑکیاں قریب آکر اب ان سے معاملے کی بابت پوچھ رہے تھے‘ جب کہ زرتاشہ سہمی ہوئی چڑیا کی طرح احمر کے بازو سے لپٹی بری طرح کانپ رہی تھی۔
’’تاشو… میری جان تم ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘ اسی دوران زرمینہ اپنی چوٹ کی پروا کیے بناء اس کا حال پوچھ رہی تھی۔
’’او ڈیم اٹ… ایک بار پھر ناکامی۔‘‘ ٹونی انتہائی جلبلا کر بولا جب کہ عدیل کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
’’تم ایک نمبر کے نکمے اور بے وقوف آدمی ہو‘ تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں تھا کہ زرتاشہ کے ساتھ ایک لڑکا بھی موجود ہے۔‘‘ ٹونی اور عدیل نے شاہد نامی شخص کو زرتاشہ پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا تھا۔
’’سر… یہ لڑکی لائبریری میں پچھلے ایک گھنٹے سے اکیلی ہی بیٹھی تھی۔‘‘ شاہد قدرے خائف ہوکر بولا اگر وہ ان لوگوں کو بتا دیتا کہ زرتاشہ پر نظر رکھنے کے دوران اس کی گرل فرینڈ کے فون نے اسے دنیا و مافیہا سے بیگانہ کردیا تھا تو وہ یقینا اسے شوٹ کردیتے‘ جب تقریباً گھنٹے بھر بعد وہ فون سے فارغ ہوا تو وہاں دور دور تک کوئی نہیں تھا۔
’’دھت تیرے کی… مارے گئے یہ لڑکی کہاں چلی گئی؟‘‘ وہ حواس باختہ سا ہوکر اِدھر اُدھر دیکھ کر بولا پھر خود ہی اپنے اندازے سے ٹونی کو بتادیا کہ وہ دونوں لڑکیاں اکیلی ہی ہاسٹل کی جانب گئی ہیں‘ جب کہ خوش قسمتی سے آج احمر یزدانی ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا‘ وگرنہ شاہد پچھلے تین دنوں سے ان کی نگرانی کررہا تھا۔
احمر یزدانی نے اپنے اعصاب پر قابو پاکر فوراً سے پیشتر باسل حیات کو فون کیا۔
’’کہاں ہو احمر یار‘ میں یونیورسٹی سے نکل رہا ہوں‘ ایسا کرو شام کو گھر آجانا۔‘‘ احمر اسے بتا کر آیا تھا کہ وہ زرمینہ سے ملنے جارہا ہے تب ہی باسل نے اسے اپنے نکلنے کا بتایا۔
’’باسل یہاں ایک بہت بڑی ایمرجنسی ہوگئی ہے زرتاشہ کو کسی نے کڈنیپ کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
’’واٹ…!‘‘ اس پل باسل کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر زور سے مسل دیا ہو۔
’’وہ… وہ ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘ باسل بمشکل بول پایا‘ جب ہی احمر تیزی سے بولا۔
’’ہاں تم ایسا کرو اپنے کزن کامیش کو فون کرو میں نے گاڑی کا نمبر نوٹ کرلیا ہے اور کڈنیپر کو بھی پہچان لیا ہے۔‘‘ احمر کا آخری جملہ نفرت و تحقیر کی زہر میں بجھا ہوا تھا۔
’’کون تھا وہ کڈنیپر؟‘‘ باسل کو اپنے جسم میں خون کی روانی بے حد تیز ہوتی محسوس ہوئی۔
’’عدیل…‘‘ احمر کے منہ سے نکلے لفظ نے اسے جیسے فضا میں معلق کردیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
’’فیروزہ میری پڑوسن اور ایک بااخلاق عورت تھی مگر اولاد کی نعمت سے محروم تھی‘ اس کی ماں نے ایک دن اسے بتایا کہ جہاں وہ کام کرتی ہے وہاں کی بیگم صاحبہ کی پہلے شوہر سے ایک بچی ہے جسے ان کا صاحب کسی طور اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہے اور وہ اسے کسی یتیم خانے میں بھیجنے کا فیصلہ کرچکا ہے جب کہ اس بیگم صاحبہ نے اس کی ماں سے کہا کہ وہ یہ بچی اپنے پاس رکھ لے‘ حالات اور شوہر سے مجبور ہوکر اس کی بیگم صاحبہ نے کسی یتیم خانے سے بہتر یہ جانا کہ وہ اپنی اولاد کو اپنے گھر کی ملازمہ کے حوالے کردے۔‘‘ پارس بیگم جیسے ایک ٹرانس کی کیفیت میں گھری بول رہی تھیں‘ جب کہ کمرے میں گمبھیر خاموشی تھی‘ سب بے حد توجہ سے اُن کی بات سن رہے تھے۔
’’یوں فیروزہ بڑی خوشی خوشی اس بچی کو اپنی ماں کے مالکوں کے گھر سے لے آئی تھی‘ فیروزہ لالہ رخ کی پرورش بہت پیار سے کررہی تھی مگر لالہ رخ اپنی ماں کو یاد کرکے بہت روتی تھی۔‘‘ اس پل لالہ رخ کی آنکھیں جیسے چپکے چپکے سمندر بہا رہی تھیں‘ جبکہ فراز اور سمیر شاہ کی آنکھیں بھی بھیگ رہی تھیں۔
’’میں اور فیروزہ‘ لالہ رخ کو بہت بہلاتے تھے‘ اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔‘‘ پارس بیگم لالہ رخ کو محبت پاش نظروں سے دیکھ کر دھیمی مسکراہٹ سے بولیں۔
’’بچہ تو معصوم اور نادان ہوتا ہے‘ صرف پیار کی زبان سمجھتا ہے‘ لالہ رخ جلد ہی ہم دونوں سے مانوس ہوگئی اور پھر ایک دن وہاں لینڈ سلائیڈنگ کا حادثہ ہوگیا‘ خوش قسمتی سے اس وقت میں لالہ رخ کو اپنے گھر لے آئی تھی‘ میں اسے اکثر اوقات اپنے ساتھ لے آتی تھی‘ یوں لالہ رخ بچ گئی… میرا رب گواہ ہے کہ اس دن کے بعد سے میں نے لالہ کو صرف اپنی بیٹی سمجھا‘ اپنی تاشو سے زیادہ عزیز رکھا‘ لالہ رخ میرے اور امیر علی کے لیے اللہ کا تحفہ تھی اور پھر وقت نے یہ ثابت بھی کیا کہ میری لالہ رخ حقیقت میں ہیرا تھی‘ قدرت کا انعام تھی‘ مگر اس کی جدائی نے میری حرماں نصیب سہیلی‘ میری بہن کی دل کی دنیا کو اجاڑ دیا‘ اسے جیتے جی زندہ درگور کردیا‘ یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔‘‘ پارس بیگم کے آخری جملے پر تینوں نے چونک کر انہیں دیکھا۔
’’ہاں میں ہی حورین کی بچپن کی سہیلی‘ اس کی راز دار پارس ہوں‘ واہ ری قدرت تو نے میری بہن کی زندگی ہی میری جھولی میں ڈال دی۔‘‘ انہوں نے سر اونچا کرکے کہا‘ پھر روتے ہوئے بولیں۔
’’خاور حیات… یہ تم نے اچھا نہیں کیا‘ ارے اس احتشام نے تو اس کے دل کا خون کیا تھا‘ مگر تم نے تو میری حورین کی روح کو ہی قتل کر ڈالا‘ اسے زندہ لاش بنادیا۔‘‘ لالہ رخ انہیں بے تحاشا روتے دیکھ کر تیزی سے اٹھ کر ان کے پاس آئی۔
’’امی پلیز خود کو سنبھالیے۔‘‘ پھر دوسرے ہی لمحے دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں۔
/…ۃ…ۃ…/
باسل نے ایک لمحہ ضائع کیے بناء کامیش کو تمام صورت حال بتائی اور ساتھ میں گاڑی کا نمبر اور رنگ بھی بتادیا کامیش نے فوری طور پر علاقے کی ناکہ بندی کرادی تھی‘ گرنے کی وجہ سے زرمینہ کو کچھ خراشیں آئی تھیں‘ احمر اور زرتاشہ کے اصرار پر ان دونوں کو ہاسٹل ہی چھوڑ آیا تھا‘ کیونکہ فی الحال زرتاشہ اس واقعہ کی خبر امی اور لالہ رخ کو نہیں دینا چاہتی تھی‘ جب کہ زرمینہ تو یہی چاہ رہی تھی کہ زرتاشہ اپنے گھر چلی جائے۔ احمر ابھی ابھی گھر پہنچا تھا‘ جب کہ باسل اس کے گھر پر بے چینی سے اس کا ہی انتظار کررہا تھا۔
’’باسل یار… ریلیکس ہوجائو‘ مجھے یقین ہے کہ وہ گھٹیا انسان عدیل اور اس کا دوست ٹونی جلد ہی پولیس کی تحویل میں ہوں گے۔‘‘ باسل کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ پستول کی چھ کی چھ گولیاں وہ عدیل کے سینے میں اتار دے‘ جس نے دوست بن کر ان سب کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا‘ ان کے اعتماد اور بھروسے کا مذاق اڑایا تھا۔
’’یہ یقینا ٹونی وہی لوفر ہوگا جسے میں نے اس دن ریسٹورنٹ میں باتیں کرتے سنا تھا۔‘‘ باسل ایک دم بولا تو احمر نے بھی کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو باسل اور تو اور مہوش کی مہندی والی رات زرتاشہ کے ساتھ وہ گھٹیا حرکت ان ہی دونوں نے کی تھی تاکہ وہ زرتاشہ کو کڈنیپ…‘‘ پھر احمر نے ایک جھری جھری لے کر خود ہی جملہ ادھورا چھوڑا جب کہ باسل کے تصور کے پردے میں وہ منظر پوری جزئیات سمیت نمودار ہوا تھا کہ کس طرح زرتاشہ ڈولتے قدموں سے باسل کے کشادہ سینے سے آٹکرائی تھی۔
’’او میرے اللہ… عدیل اتنا سازشی ذہن کا مالک ہوگا‘ اس کا تو مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔‘‘ یک دم باسل احمر کے بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے بولا تو احمر تاسف سے سر ہلا کر گویا ہوا۔
’’ہاں یار… وہ دوست کے روپ میں بھیڑیا تھا مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے زرتاشہ جیسی معصوم لڑکی کو دو بار اس سفاک درندے سے بچا لیا۔‘‘ جواباً باسل نے تائیدی انداز میں سر ہلایا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
ماریہ‘ فراز کو فون پر جیکولین کے یہاں آنے کی اطلاع دے چکی تھی‘ فراز کو آج ذرا فرصت ملی تو وہ اپارٹمنٹ آیا‘ ماریہ اسے دیکھ کر قدرے چونکی‘ وہ چھ دن بعد آیا تھا‘ اسے دیکھتے ہی ماریہ کے بے تاب دل کو جیسے قرار سا آگیا تھا۔
سلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوئوں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
وہ ہر آہٹ‘ ہر سانس میں اس کی منتظر رہتی تھی مگر اس جفا شعار کو تو اس کے دل کی حکایت کی کوئی خبر ہی نہیں تھی‘ نہ ہی اس نے جاننے کی کوشش کی تھی‘ ماریہ اپنی تقدیر کی اس ستم ظریفی پر کڑھ کر رہ جاتی تھی کہ وہ شخص اس کا سب سے اپنا ہونے کے باوجود اس کے لیے یکسر اجنبی تھا‘ محرم ہوتے ہوئے بھی اس سے کوسوں دور تھا۔
جیکولین‘ فراز شاہ سے بہت اچھی طرح ملی تھی‘ فراز نے بھی بڑی خوش دلی سے اس کا خیر مقدم کیا تھا‘ اس وقت وہ چاروں بیٹھے یوں ہی اِدھر اُدھر کی باتیں کررہے تھے مگر فراز ہوتے ہوئے بھی جیسے وہاں موجود نہیں تھا۔ اس حقیقت کو کہ لالہ رخ حورین آنٹی اور احتشام کی بیٹی ہے‘ قبول کرنا اسے بھی کافی مشکل لگ رہا تھا‘ آج کل حورین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘ سمیر شاہ اور باسل حیات نے حورین کے ڈاکٹر کو تمام تر حقائق بتا کر اب آگے کے لائحہ عمل کے لیے مشورہ مانگا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ابھی حورین کی ایسی حالت نہیں کہ وہ اتنی بڑی خوش کو برداشت کرلیں لہٰذا تھوڑا وقت دیں تاکہ وہ کچھ سنبھل جائیں‘ البتہ سمیر شاہ اور باسل حیات نے تمام معاملات اور سچائی کو فی الحال خاور حیات سے پوشیدہ رکھا تھا۔ وہ اپنی ان ہی سوچوں میں گم تھا جب ابرام کی گمبھیر آواز ابھری۔
’’فراز… ہم تمہیں کچھ بتانا چاہتے ہیں‘ میں سمجھتا ہوں کہ ماریہ کا شوہر ہونے کے ناطے تمہیں تمام حقائق معلوم ہونے چاہیں۔‘‘ فراز نے بے ساختہ ابرام کو دیکھا‘ جب کہ لفظ ماریہ کا شوہر کہنے پر ماریہ نے ابرام کو شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا تھا۔
’’دراصل ماریہ مام کے سیکنڈ ہزبینڈ کی بیٹی ہے اور یہ بات تمہیں پہلے ہی معلوم ہے۔‘‘ ابرام کی بات پر فراز نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا‘ ابرام نے قدرے توقف سے کہا پھر ہموار لہجے میں کہا۔
’’مام نے ماریہ کے فادر سے لو میرج کی تھی‘ حالانکہ نہ ہی وہ ان کے کلچر کے تھے اور نہ ہی ہم مذہب…‘‘ فراز کا چونکنا فطری تھا‘ وہ بڑی توجہ سے ابرام کو دیکھ رہا تھا۔
’’مسٹر ایڈم ایک مسلم فیملی سے بی لونگ کرتے تھے۔‘‘ پھر ابرام اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا کہ کس طرح جیکولین نے مسٹر ایڈم کو سہارا دیا‘ انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے کو کہا‘ وہ ایک شاکڈ کی کیفیت میں سنتا رہا‘ ابرام جب خاموش ہوا تو کچھ دیر بعد جیکولین بڑے بکھرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’محبت کے نام پر دو بار میری زندگی اجڑی‘ صرف خسارہ ہی خسارہ میرے حصے میں آیا‘ ابرام کے باپ کے جانے کے بعد میں نے اپنی پوری سچائی سے احتشام سے محبت کی…‘‘ وہ جو بے حد توجہ سے جیکولین کی بات سن رہا تھا‘ احتشام کے نام پر اس کے دماغ کو زور دار جھٹکا لگا وہ بے حد اچنبھے سے اسے دیکھتا رہا‘ جو مزید بتا رہی تھی۔
’’احتشام ایشین تھا‘ اس کا تعلق پاکستان سے تھا‘ میں نے اس کے اوپر صرف ایک اپنی مرضی مسلط کی تھی‘ صرف مذہب تبدیل کرنے کی شرط تھی میری مگر میں نے اس کی ہر بات کو مانا تھا‘ اس کا ساتھ دیا‘ یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان بھی سیکھی‘ ابرام اور ماریہ کو بھی یہی لینگوج سکھائی‘ مگر شادی کے کچھ سالوں بعد وہ بدلتا چلا گیا‘ مجھ سے اور ماریہ کے وجود سے یکسر لاپروا ہوتا گیا‘ اسے صرف میرے پیسوں سے غرض تھی‘ جب وہ شخص اپنے والدین‘ اپنی پہلی بیوی اور بیٹی سے وفا نہیں کرسکا تو وہ مجھ سے کیسے مخلص ہوسکتا تھا۔‘‘ آخری جملے میں جیکولین کے لہجے میں احتشام کے لیے بے پناہ نفرت اور حقارت در آئی تھی‘ فراز محض انہیں دیکھتا رہا‘ پھر ایک سانس بھر کر کہا۔
’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آنٹی‘ وہ شخص اتنی محبتوں کو ڈیزرو نہیں کرتا تھا‘ آپ اور ماریہ کے ساتھ جو کیا سو کیا مگر اس سے کہیں زیادہ برا انہوں نے اپنی پہلی بیوی اور بیٹی کے ساتھ کیا۔‘‘ فراز کے جملے پر تینوں نفوس بڑی زور سے چونکے۔
’’یو مین فراز… تم ایڈم میرا مطلب ہے مسٹر احتشام کی فرسٹ وائف اور بیٹی کو جانتے ہو؟‘‘ ابرام نے ششدر ہوکر پوچھا۔
’’ہاں… مجھے معلوم ہے کہ ان کی پہلی بیوی اور بیٹی کون ہے۔‘‘ فراز نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’کون ہیں وہ؟‘‘ ماریہ کے لبوں سے سرگوشی خارج ہوئی۔ فراز نے ایک نگاہ ماریہ کو دیکھا‘ پھر اسی لہجے میں بولا۔
’’حورین آنٹی اور لالہ رخ۔‘‘
’’لالہ رخ…!‘‘ ماریہ نے ایک دم شاکڈ کی حالت میں بے قراری سے پہلو بدل کر کہا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
کامیش شاہ کی ٹیم نے ٹونی اور عدیل کو شہر کے مضافات سے دور ایک ریسٹ ہائوس سے بمع گاڑی کے گرفتار کرلیا تھا‘ پولیس نے اپنے روایتی انداز میں چند منٹوں میں ہی ٹونی اور عدیل سے اقرار جرم کروالیا تھا‘ اب وہ دونوں حوالات میں تھے مگر چند ہی گھنٹوں میں کامیش اور اس کے آفسرز کے پاس بااثر لوگوں کے فون آنا شروع ہوگئے کیونکہ دونوں کے گھرانوںکے تعلقات وزراء کی سطح کے لوگوں تک تھے‘ اگلی شام کو کامیش کو مجبوراً دونوں کو رہا کرنا پڑا تھا‘ جس پر باسل اور کامیش اندر ہی اندر بہت مشتعل بھی تھے۔
’’کامیش بھائی… ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا‘ نجانے ان دونوں لڑکوں نے کتنی ہی معصوم لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی ہوں گی‘ انہیں کڑی سزا ملنی چاہیے تھی۔‘‘ باسل نے خاصا برہم ہوکر کہا۔ کامیش کچھ سوچ کر اپنے مخصوص لہجے میں باسل کے چہرے کو ایک نگاہ دیکھ کر کہنے لگا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو باسل‘ یہ بگڑے ہوئے رئیس زادے اپنے باپ دادا کی حرام کی کمائیوں پر عیاشیاں کرکے ان کی بخشش کا ذریعہ بنتے ہیں۔‘‘ کامیش کے لب و لہجے میں طنز کی کاٹ واضح تھی۔
’’مگر تم فکر مت کرو باسل… اب ٹونی اور عدیل میری نظروں میں آچکے ہیں‘ یہ مجھ سے آسانی سے نہیں بچ سکتے‘ بس مجھے کسی موقع کا انتظار ہے پھر تم دیکھنا کسی منسٹر کا فون بھی انہیں قانون کی گرفت سے نہیں بچاسکے گا۔‘‘ کامیش کی بات کو باسل نے بغور سنا پھر وہ اس کے آفس سے رخصت ہوگیا مگر اندر سے امڈتا لاوا کسی طور ٹھنڈا نہیں ہورہا تھا‘ جب ہی وہ عدیل کے پاس جا پہنچا عدیل اسے اپنے گھر میں دیکھ کر تھوڑا گھبرایا پھر خود کو سنبھال کر خاصے اکھڑ انداز میں بولا۔
’’باسل… تم کیا سمجھتے تھے کہ تمہارا وہ کزن مجھے ہمیشہ کے لیے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دے گا… ہونہہ ایسے تو ہزاروں پولیس افسر میرے تایا کی جیب میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ عدیل کے لہجے سے جھلکتا تحقیر و حقارت کا رنگ بالکل واضح تھا‘ جب کہ باسل بنا کچھ بولے بس اسے گھورتا چلا رہا تھا۔ عدیل بظاہر تو اکڑا ہوا تھا مگر اندر ہی اندر وہ باسل کی نگاہوں کی گہری کاٹ اور نفرت سے خائف ہورہا تھا۔
’’مجھے اپنے کزن سے اریسٹ کروا کر تم اپنی دوستی تو بخوبی نبھا چکے ہو‘ اب میرے پاس کیا لینے آئے ہو؟‘‘ اس کا جملہ مشکل ہی پورا ہوا تھا کہ اچانک ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے دائیں گال پر پڑا‘ اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔
’’میں یہاں دنیا کے اس گھٹیا، غلیظ اور بد کردار انسان کو دیکھنے آیا ہوں‘ جس نے دوست بن کر پیٹھ پر وار کیا‘ جو بظاہر تو کسی شریف اور با وقار گھرانے کا معلوم ہوتا ہے‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف وہ خود بدنیت اور کمینہ ہے‘ بلکہ اس کا خون، اس کا خاندان بھی گھٹیا اور بے حمیت…‘‘ اس پل عدیل کی غیرت جاگ اٹھی وہ بلبلا کر تیزی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
’’باسل… اپنی زبان کو لگام دو‘ تم یہ مت بھولو کہ اس وقت تم میرے ہی گھر پر کھڑے ہو۔‘‘ باسل نے عدیل کو غصے میں تلملاتے دیکھ کر ایک استہزائیہ مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر سجا کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’میں بالکل جانتا ہوں کہ اس وقت میں اس رذیل شخص کے گھر پر کھڑا ہوں‘ جسے دوسروں کے گھروں کی بہن بیٹیوں کی عصمت کی پروا نہیں‘ جو دوسروں کے گھروں کی عزتوں پر نقب لگاتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ اس کے اپنے گھر کی عورتوں کی حرمت کیسے محفوظ رہی ہوگی۔‘‘ الفاظ تھے یا انگارے جنہوں نے ایک ہی لمحے میں عدیل کو سر تاپا جھلسا کر رکھ دیا تھا۔
’’اویو شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ… ابھی اور اسی وقت یہاں سے دفع ہوجائو۔‘‘ عدیل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ باسل کا گلا ہی دبا دے مگر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے‘ اس کے والد کے تعلقات بھی بہت اوپر تک تھے‘ کامیش جیسا عفریت بھی اس کے پیچھے لگ گیا تھا جس نے ان دونوں کو رہا کرتے وقت بہت ہی عجیب سے انداز میں کہا تھا۔
’’ابھی تو بلبل آزاد ہورہی ہے مگر وہ یہ بات اچھی طرح جان لے کہ مجرموں کا پیچھا کامیش شاہ اس کی قبر تک کرتا ہے‘ خاص کر عزت کے لٹیروں کا تو وہ حشر کرتا ہے کہ موت بھی پناہ مانگتی ہے۔‘‘ ٹونی اور عدیل کو کامیش کی آواز میں اژدھوں کی پھنکار محسوس ہوئی تھی جس پر وہ دونوں ہی اندر سے بری طرح کانپ کر رہ گئے تھے۔
’’جا رہا ہوں میں مگر عدیل… اب تم اپنے گھر کی چوکیداری کرنے کے لیے ہمہ وقت جاگتے رہنا کیونکہ رہزن کسی بھی وقت تمہارے گھر آنے والا ہے۔‘‘ انتہائی سکون سے کہہ کر باسل پلٹ گیا‘ جب کہ اس کے وہاں سے نکلتے ہی عدیل لائونج میں رکھے صوفے پر گر کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
عنایہ شاہ دل سے ملنے آئی تھی جو معصومہ کے اب تک نہ ملنے پر خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا‘ وہ تو بابا سے وعدہ کرکے آیا تھا کہ بہت جلد وہ ان کی بیٹی کے ساتھ واپس آئے گا مگر ساری کوششیں جیسے بے کار گئی تھیں‘ مومن جان نامی شخص انہیں اب تک نہیں ملا تھا‘ دانش صاحب اور شاہ دل کا یہ خیال تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اب دنیا میں موجود ہی نہ ہو یا پھر وہ کسی دوسرے شہر میں جاکر بس گیا ہو‘ جب کہ ان کی تلاش صرف مری تک محدود تھی۔
’’ارے شاہ دل… ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ وہ تمہارا ملازم… کیا نام ہے اس کا؟‘‘ شاہ دل سے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے یک دم عنایہ کے ذہن میں ایک خیال آیا تو اس نے تیزی سے کہا۔
’’اللہ رکھا۔‘‘ اسے نام یاد کرتا دیکھ کر شاہ دل جلدی سے بولا۔
’’ہاں… ہاں وہی اللہ رکھا‘ اس سے مومن جان کے چہرے کے خدوخال پوچھ کر ایک اسکیچ تیار کروا کے پاکستان بھر میںشائع ہونے والے اخبار میں چھپوا دیتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی لکھ دیتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں اطلاع دینے والے کو خطیر رقم انعام میں دی جائے گی۔‘‘ شاہ دل، عنایہ کے منہ سے اتنا زبردست آئیڈیا سن کر اچھل پڑا‘ پھر پُرجوش لہجے میں بولا۔
’’وائو، بریلینٹ عنایہ… یہ تو بہت اچھا آئیڈیا ہے‘ پھر ہم آگے خود ہی چھان بین کرلیں گے کہ اطلاع دینے والا سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔‘‘ عنایہ نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا تو شاہ دل آگے کے لائحہ عمل کے لیے فوراً اللہ رکھا کو فون ملانے لگا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
’’مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا لالہ کہ تم میری حورین کی بیٹی ہو‘ میری سہیلی جو میری بہنوں سے بھی بڑھ کر تھی‘ اس کا خون ہو‘ واہ ری قدرت، تو اپنے کیسے کیسے روپ دکھاتی ہے۔‘‘ پارس بیگم جن کی طبیعت اس انکشاف کے بعد سے کافی بگڑ گئی تھی‘ بستر پر نیم دراز نقاہت زدہ لہجے میں بولیں تو لالہ رخ جو خود اپنی زندگی میں آئے اس تلاطم خیز طوفان کی زد میں گھری ہوئی تھی‘ یک دم چونک کر اپنی امی کو دیکھنے لگی۔
پارس بیگم جو اس سے حقیقت چھپانے پر کئی بار معافی مانگ چکی تھیں‘ ایک بار پھر شرمندہ اور نادم سی ہوگئیں جب کہ لالہ رخ نے ان کی کیفیت کو بخوبی سمجھتے ہوئے ان کے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے نرمی سے کہا۔
’’امی پلیز… آپ خود کو کسی بھی حوالے سے قصور وار مت سمجھیں بلکہ مجھے تو اس بات کا پورا یقین ہے کہ وہ آپ کی شکر گزار ہوں گی کہ آپ نے ان کی بیٹی کی کتنی اچھی تربیت کی اور کتنا پیار دیا۔‘‘
’’اور تم لالہ… تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو؟‘‘ یک دم لالہ رخ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر کہا۔
’’میں اپنی امی سے کبھی ناراض ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘ جواباً امی نے اسے اپنے سینے سے لگالیا‘ پھر لالہ رخ اِدھر اُدھر کی ہلکی پھلکی کفتگو کرکے امی کا دل بہلانے لگی تھی۔
/…ۃ…ۃ…/
زرتاشہ اس وقت شدید بخار کی لپیٹ میں تھی اور اتفاق سے آج ہاسٹل میں موجود ڈاکٹر صاحبہ بھی غائب تھیں‘ زرمینہ مسلسل اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی مگر اس کی حالت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا رہا تھا‘ مجبوراً زرمینہ نے احمر کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے پاپا کے کام کے سلسلے میں شہر سے دو دن کے لیے باہر ہے‘ احمر نے زرمینہ کو تسلی دی اور کہا کہ وہ باسل کو وہاں بھیج رہا ہے اور تقریباً آدھے گھنٹے میں باسل حیات وہاں موجود تھا۔ زرتاشہ بخار کی حدت سے سرخ چہرہ لیے بے سدھ پڑی تھی۔
’’باسل بھائی… اب ہم کیا کریں یہ تو اٹھنے کے قابل بھی نہیں ہے‘ میرے خیال میں ہم لالہ آپی کو فون کردیتے ہیں۔‘‘ زرمینہ نے بدحواسی سے کہا۔
’’آپ پلیز فکر مت کریں‘ میں ڈاکٹر کو یہیں بلوالیتا ہوں۔‘‘ باسل نے ڈاکٹر کو فون ملایا اور وہ زرتاشہ کو آکر چیک بھی کر گیا‘ فوری انجکشن لگانے سے بخار کا زور ٹوٹ گیا تھا‘ تب ہی زرمینہ نے ممنون ہوکر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ کا بہت بہت شکریہ باسل بھائی…‘‘ وہ ابھی مزید کچھ کہتی کہ اسی دم دروازے پر دستک ہوئی تو زرمینہ فوراً اس جانب بڑھی۔
’’آپ کو میڈم بلا رہی ہیں۔‘‘ کسی کی نسوانی آواز باسل کے کانوں میں باآسانی پہنچی تھی۔
’’اچھا تم چلو، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘ پھر زرمینہ باسل حیات سے تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر وہاں سے چلی گئی تو باسل، زرتاشہ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور بے ارادہ ہی زرتاشہ کے چہرے کو دیکھتا رہا‘ اب یہ باسل کی نگاہوں کی تپش کا اثر تھا یا پھر دوا کا کہ زرتاشہ نے کسمسا کر آنکھیں تھوڑی سی کھولتے ہوئے پانی مانگا تو باسل تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس کو اس کے لبوں سے لگا دیا‘ زرتاشہ آہستہ آہستہ پانی اپنے حلق میں اتارنے لگی‘ اس دوران باسل کو یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ پانی پلاتے وقت اس نے اپنا ہاتھ انتہائی نرمی سے اس کے سر کے پیچھے رکھ کر اپنے بازو کی مدد سے اسے تھوڑا اٹھالیا تھا جب کہ زرتاشہ کے چہرے سے اس کا فاصلہ بھی کم ہوگیا تھا‘ تقریباً آدھا گلاس پانی پینے کے بعد زرتاشہ نے قدرے چونک کر باسل کو دیکھا جو اس پل اس کے بے حد قریب تھا۔
’’آئی… ایم سوری زرتاشہ۔‘‘ باسل بے تحاشہ شرمندہ سا ہوکر دو قدم پیچھے ہٹا پھر سرعت سے مڑ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
شاہ دل اور عنایہ نے اللہ رکھا کے بتائے ہوئے حلیے کا اسکیچ بنوا کر اخبار میں چھپوا دیا تھا حالانکہ اللہ رکھا مومن جان کے نین نقوش کو کافی حد تک بھول گیا تھا مگر شاہ دل اور عنایہ کے بار بار ذہن پر زور ڈالنے کی ہدایت پر وہ اچھا خاصا حلیہ بتانے میں کامیاب ہوگیا تھا اب وہ بڑی بے چینی سے کسی جواب منتظر تھے۔ دوسرے دن لاہور کے مضافاتی علاقے سے ایک میل نرس کا فون آیا اس نے بتایا کہ وہ ایک سرکاری ہاسٹل میں نرسنگ کا کام کرتا ہے اور اخبار میں چھپے فوٹو والے شخص کا تقریباً چھ ماہ پہلے ان ہی کے ہسپتال میں انتقال ہوگیا تھا یہ سن کر شاہ دل یک دم بجھ سا گیا۔
’’اچھا آپ کے پاس اس شخص کے گھر کا کوئی ایڈریس یا کسی رشتے دار کا کوئی پتا تو ہوگا؟‘‘ شاہ دل نے ایک موہوم سی امید لیے اس سے پوچھا۔
’’سوری صاحب اس کے گھر والوں کا تو کوئی اتا پتا نہیں چلا‘ دراصل وہ نشے کا عادی تھا‘ استعمال شدہ سرنج کی وجہ سے انتہائی موذی مرض میں مبتلا ہوکر یہاں آیا تھا اور پھر کچھ ہی عرصے میں دنیا سے چلا گیا تھا۔‘‘
شاہ دل یک لخت بے حد مایوس ہوگیا تھا‘ وعدے کے مطابق انہوں نے اس شخص کو رقم کے ساتھ ساتھ اس کے سچ ہونے کی تسلی کے لیے وہاں جاکر اس وفات کا اندراج بھی دیکھ لیا تھا‘ عنایہ نے اسے ایک بار پھر ہمت دلائی تو وہ نئے سرے سے معصومہ کا کھوج لگانے کے لیے کمربستہ ہوگیا جب ہی کچھ دن بعد اس کے موبائل فون پر ایک لڑکی کی کال آئی۔
’’شاہ دل صاحب… میں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ آپ نے اس شخص کا اشتہار کیوں لگوایا ہے؟ مم میرا مطلب ہے آپ کو ان سے کیا کام ہے؟‘‘ مہرو کو آج گھر کی صفائی کا شوق اٹھا تو وہ ملازموں کو ایک طرف کرکے خود ہی صفائی ستھرائی میں لگ گئی تھی‘ وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے بور ہوگئی تھی کیونکہ سمیر اور ساحرہ دونوں ہی آفس چلے جاتی تھیں‘ البتہ اب ساحرہ حقیقی معنوں میں مجبور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرتی تھی اور آفس سے آنے کے بعد سارا وقت اپنے گھر اور فیملی کو دیتی تھی۔ فضول کی پارٹیز اور ڈنر وغیرہ میں جانا چھوڑ دیا تھا۔
دروازے کے چمکتے شیشے کو مزید چمکانے کے لیے اس نے ملازمہ سے پرانے اخبار منگوائے اور یوں اس کی نظر ایک صفحے پر چھپی تصویر پر پڑی پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ فون ملا بیٹھی تھی۔
’’محترمہ… آپ کیا انہیں جانتی ہیں؟‘‘ شاہ دل نے سوال در سوال کیا تو مہرو ایک لمحے کے لیے بالکل چپ سی ہوگئی‘ پھر دھڑکتے دل سے کہنے لگی۔
’’یہ… یہ میرے ابا کے دوست تھے۔‘‘
’’واٹ…! اومائی گاڈ… رئیلی تو پلیز میڈم مجھے بتائیے کہ ان کی ایک بیٹی بھی تھی‘ میرا مطلب ہے لے پالک بیٹی۔‘‘ شاہ دل تیزی سے بولا اور اس پل مہرو کو لگا جیسے بہت بڑا انکشاف ہونے جارہا ہے۔
’’جی ہاں مہرو… مہرینہ نام ہے اس کا۔‘‘ وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔
’’وہ… وہ مہرو نہیں ہے بلکہ معصومہ ہے… میری بہن میرے فادر کی دوسری وائف کی بیٹی… آپ کون بات کررہی ہیں؟‘‘ شاہ دل کا آخری جملہ ہیجان انگیز اور بے تابانہ تھا۔
’’مہرو…‘‘ وہ سرگوشی میں بولی اور شاہ دل کے پورے جسم میں جیسے چیونٹیاں سی رینگ گئیں‘ وہ بے دم سا ہوکر صوفے پر گر گیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
ماریہ کو جب سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لالہ رخ اس کی بڑی بہن ہے اس کے دل میں لالہ رخ کے لیے محبت و چاہت کا سمندر نجانے کہاں سے نمودار ہوگیا تھا‘ وہ اس سے ملنے اس کے گلے لگنے کو بہت بے قرار تھی‘ وہ مسلسل فراز سے کہہ رہی تھی کہ وہ اسے لالہ رخ کے پاس لے چلے مگر فراز، لالہ رخ کو سنبھلنے کا موقع دینا چاہ رہا تھا‘ دو دن بعد وہ ماریہ کو لے کر لالہ رخ کے گھر آپہنچا اور جوں ہی لالہ رخ نے دروازہ کھولا وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکی اور اس کے وجود سے لپٹ گئی‘ پہلے تو وہ ماریہ کا یوں گلے لگنا معمول کے مطابق سمجھی کیونکہ وہ ہمیشہ ہی ایسے ملا کرتی تھی مگر جب کچھ دیر بعد اس نے غیر معمولی پن محسوس کیا تو وہ الجھ سی گئی جب کہ ماریہ ہنوز اس سے لپٹی رہی تب ہی فراز شریر لہجے میں بولا۔
’’ماریہ کیا ساری زندگی یہیں کھڑی رہو گی اندر نہیں چلو گی؟‘‘ فراز کی بات پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے الگ ہوئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے دیکھ کر لالہ رخ نے پریشان ہوکر پوچھا۔
’’تم ٹھیک تو ہو ناں ماریہ… رو کیوں رہی ہو‘ سب خیریت تو ہے ناں؟‘‘ جواباً ماریہ نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
’’لالہ… مجھے تم سے آج پھر ایک بے حد ضروری بات کرنی نہیں بلکہ بتانی ہے۔‘‘ فراز سنجیدگی سے گویا ہوا تو لالہ رخ نے بڑی عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا‘ پھر ایک گہری سانس کھینچ کر انہیں ڈرائنگ روم کی جانب لے آئی۔
’’لالہ یہ بات تو تم جانتی ہو ناں کہ تمہارے فادر پاکستان چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے؟‘‘ بے ساختہ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو فراز نے سبز رنگ کے سادے سے شلوار سوٹ میں ملبوس الجھی الجھی سی لالہ رخ پر ایک نگاہ ڈالی پھر ہموار لہجے میں کہا۔
’’ایکچولی انہوں نے وہاں ایک برطانوی نژاد خاتون سے شادی کرلی تھی…‘‘ لالہ رخ سب کتھا سنتی چلی گئی‘ اپنے باپ کی بے حسی‘ خود غرضی اور سفاکیاں سن کر اس کے اندر تلخی اترتی چلی گئی‘ تب فراز بے بالکل آخر میں کہا۔
’’اس خاتون سے ان کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی تھی۔‘‘ لالہ رخ جو سر جھکائے بیٹھی تھی، یک دم جھٹکے سے سر اٹھا کر فراز کو حیرت سے دیکھنے لگی۔
’’ہاں لالہ… تمہارے علاوہ ان کی ایک اور بھی بیٹی ہے۔‘‘
’’کون ہے وہ؟‘‘ لالہ رخ نے سن ہوتے ذہن کے ساتھ پوچھا تو فراز نے رخ موڑ کر ماریہ کو دیکھا پھر دھیرے سے بولا۔
’’ماریہ… یہ ماریہ ہی تمہاری بہن اور احتشام انکل کی بیٹی ہے۔‘‘ لالہ رخ نے انتہائی اچنبھے سے ماریہ کو دیکھا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
کامش شاہ گھر آیا تو آج مہرو اسے ہمیشہ کی طرح سٹنگ روم یا کچن میں نظر نہیں آئی‘ وہ اس کے بارے میں سوچتا ہوا بیڈ روم میں آیا تو وہ اسے بستر پر لیٹی دکھائی دی‘ اسے عجیب سے انداز میں لیٹا دیکھ کر وہ قدرے چونکا‘ اس وقت سونے کا وقت بھی نہیں تھا کیونکہ شام کے سات بج رہے تھے کچھ سوچ کر وہ آگے بڑھا اور سوئچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کردی کمرہ یک لخت روشنی سے بھر گیا‘ جس کی چبھن محسوس کرکے مہرو یک دم ہڑبڑا کرا اٹھی‘ پھر جوں ہی کامیش پر اس کی نظر گئی‘ اس نے بڑی بدحواسی سے اپنا دوپٹا تلاش کیا جھجک اور اجنبیت کی دیوار اب بھی دونوں کے درمیان حائل تھی۔
کامیش نے اسے اس لمحے بغور دیکھا‘ پھر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا‘ جب کہ مہرو جزبز سی ہوگئی‘ جس کی سرخ نگاہیں کامیش سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھیں۔
’’کیا ہوا مہرینہ… تم روئی ہو کیا… یا کسی نے کچھ کہا ہے؟‘‘ اس نے بے حد حلاوت آمیز لہجے میں استفسار کیا۔ جب کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مہرو کی آنکھیں ایک بار پھر چھلک اٹھیں‘ اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا تب ہی کامیش نے اس کے آنسوئوں کو اپنی پوروں میں سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’تو پھر یہ بن بادل برسات کیوں؟‘‘
’’بس ایسے ہی۔‘‘ اس نے منمنا کر کہا‘ کامیش کی قربت اس پل اسے بے حد پریشان کررہی تھی۔
’’ایسے ہی تو نہیں‘ ٹیل می ڈیئر… کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتا ہوا پوچھا تو مہرو غیر ارادی طور پر تھوڑا پیچھے کھسکی جب کہ کامیش نے اس کی اس حرکت کو بخوبی نوٹ کیا۔
’’ن… نہیں بس وہ دراصل میں…‘‘ بولتے ہوئے وہ نظریں گھماتے ہوئے اپنے دوپٹے کو بھی تلاش کررہی تھی۔ تب ہی وہ اسے کائوچ پر پڑا دکھائی دیا وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ کامیش نے ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھا دیا۔
’’تمہارا دوپٹا کوئی بھاگا نہیں جا رہا یہاں سکون سے بیٹھو اور بتائو کیا بات ہے؟‘‘ مہرو نے بے بسی سے اسے دیکھا پھر اسے سب کچھ بتاتی چلی گئی کہ مومن جان نے کس طرح اسے، اس کی ماں کو ذہنی اذیتیں دیں‘ پھر اپنی حقیقت معلوم ہونے پر اس پر کیا گزری‘ ساتھ ساتھ وہ مسلسل روتی بھی رہی تھی‘ کامیش خاموشی سے سب کچھ سنتا رہا۔
’’کامیش میں نے اپنے دل اور روح پر کیسے کیسے گھائو سہے‘ کتنی اذیت اٹھائی اور آج… آج کسی نے فون پر بتایا کہ وہ میرا بھائی ہے‘ میرے باپ کا بیٹا… کیسا باپ تھا وہ کامیش جس نے مجھے یوں دوسروں کے حوالے کردیا‘ مم… میں اپنی اماں سے بے تحاشا محبت کرتی ہوں اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ان کی عظیم آغوش میں میری تربیت ہوئی مگر میرا شکوہ ہے کہ میرے جنم دینے والے ماں باپ نے مجھے ایسے کیوں اپنی زندگی سے نکال کر پھینک دیا کامیش؟‘‘ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی‘ کامیش نے انتہائی محبت سے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
’’اگر اماں، لالہ اور ماموں، مامی نہ ہوتے تو میرا کیا حال ہوتا‘ میں کہاں ہوتی‘ ان لوگوں نے میرے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟‘‘ وہ مسلسل شکوہ کیے جا رہی تھی جب کہ کامیش اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اپنے ہونے کا یقین دلا رہا تھا۔ جب کافی دیر گزر گئی تو مہرو کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو وہ سرعت سے کامیش سے الگ ہوئی‘ تب ہی کامیش نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر ہولے سے دباتے ہوئے کہا۔
’’مہرو… جو ہوا سب بھول جائو‘ بس یہ یاد رکھو کہ میں تمہارا شوہر ہوں‘ تمہاری زندگی کا ساتھی اور ہر قدم، ہر لمحہ تمہارے ساتھ رہوں گا۔‘‘ مہرو نے بے اختیار کامیش کی جانب دیکھا جو اس پل اسے انتہائی محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ وہاں سے بھاگنے کے لیے پر تولنے لگی۔
’’مم… میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں۔‘‘
’’پہلے مجھے یہ بتائو کہ تم میگزین میں میری تصویر دیکھ کر میرے عشق میں گرفتار ہوگئی تھیں ناں…‘‘ اس نے شریر لہجے میں پوچھا جب کہ مہرو نے بھونچکا ہوکر اسے دیکھا۔
’’یہ… یہ آپ کو کس نے بتایا؟ نہیں خیر ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ کھسیانی ہوئی۔
’’اچھا تو کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ تمہیں میری مونچھیں بہت پسند تھیں اور دن میں کئی مرتبہ تم میگزین نکال کر میری تصویر دیکھتی تھیں۔‘‘ کامیش کو اسے تنگ کرنے میں بہت مزہ آرہا تھا۔
’’افوہ… ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ کو کسی نے بالکل غلط بتایا ہے۔‘‘ وہ جھنجلائی۔
’’اچھا تو کیا میں تمہارے خوابوں میں بھی نہیں آتا تھا اور…!‘‘
’’مجھے پتا ہے یہ سب لالہ نے آپ کو بتایا ہے اب میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ وہ تلملا کر اپنی جگہ سے اٹھی مگر دوسرے ہی پل وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور کامیش کے اوپر آن گری جس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھٹکا دے کر گرایا تھا۔
’’سیدھی طرح سے اقرار جرم کرلو ورنہ مجھے اور بھی بہت سے طریقے آتے ہیں۔‘‘ روپہلے مہکتے جذبوں سے لبریز کامیش کا لہجہ اس کے کانوں میں گونجا تو وہ اپنی پلکیں جھکا گئی تھی۔
/…ۃ…ۃ…/
دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر خوب روئیں‘ اب مطلع صاف تھا فراز ماریہ کو چھوڑ کر کسی ضروری کام سے نکل گیا تھا‘ لالہ رخ نے ماریہ کو آج رات یہیں روک لیا تھا‘ پارس بیگم بھی ماریہ کی حقیقت جان کر اور اس سے مل کر بہت خوش ہوئی تھیں‘ رات کو جب وہ سونے کے لیے لیٹیں تو ماریہ دھیرے سے کہا۔
’’لالہ… میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں‘ شاید انجانے میں میں نے آپ کے ساتھ بہت زیادتی کردی تھی۔‘‘
’’کیسی زیادتی ماریہ؟‘‘ لالہ رخ نے یہ سن کر حیران لہجے میں پوچھا۔ وہ نگاہیں جھکا کر خفیف سے انداز میں کہنے لگی۔
’’میں نے آپ کے فراز کے ساتھ شادی جو کرلی اور اب بھوت بن کر اس کی زندگی سے چمٹی ہوئی ہوں۔‘‘ لالہ رخ نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا‘ پھر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گراتے ہوئے کہا۔
’’یا اللہ یہ سارے احمق لوگ میرے ہی حصے میں کیوں آتے ہیں؟‘‘ جواباً ماریہ نے اسے ناسمجھی والے انداز میں دیکھا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ بدھو کہ فراز صرف میرا اچھا دوست ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘ اس لمحے ماریہ کو محسوس ہوا جیسے کوئی وزنی چٹان ایک ہی لمحے میں اس کے سر سے ہٹی ہو۔
’’تو… تو آپ فراز سے…‘‘ وہ خود ہی اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔
’’جی ہاں میری چھوٹی مگر کم عقل بہن… فراز صرف تمہارا ہے۔‘‘ ماریہ کو اس پل لگا جیسے اسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو۔
’’اولالہ… آئی لو یو سو مچ۔‘‘ وہ شدت جذبات سے اسے بھینچ کر بولی تو لالہ رخ نے مسکرا کر کہا۔
’’اب آپ پلیز یہی جملہ فراز سے بھی کہہ دیں۔‘‘ لالہ رخ نے کہتے ہوئے اسے شرارتی نگاہوں سے بھی دیکھا۔ تو ماریہ گڑبڑا گئی۔
’’میں نہیں… لالہ میں اس سے یہ نہیں کہہ سکتی۔‘‘ پھر لالہ رخ نے اس سے سب کچھ اگلوا لیا اور وہ سب کچھ بتاتی چلی گئی‘ اپنا دل لالہ رخ کے سامنے کھول کر وہ پھول کی طرح ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔
’’اچھا اب آپ مجھے بتائیے کہ میرے برو سے آپ اتنا کیوں چڑتی ہیں۔‘‘ ماریہ نے جوں ہی اس کا ذکر کیا لالہ رخ کے تصور کے پردے پر یک دم ابرام کی شبیہہ ابھری۔
’’میں کیوں چڑنے لگی ان موصوف سے۔‘‘ وہ لاپروائی سے شانے اچکا کر بولی تو ماریہ نے اسے شریر نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔
’’ویسے ان کے ارادے آپ کے لیے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب وہی جو تھوڑی دیر پہلے آپ مجھے سمجھا رہی تھیں…‘‘ بے ساختہ لالہ کا دل دھڑک اٹھا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کچھ۔‘‘ وہ تپ کر بولی۔
’’آپ فکر مت کریں‘ برو آپ کو سمجھا دیں گے‘ انہیں بہت اچھی طرح سمجھانا آتا ہے سب کچھ۔‘‘ ماریہ آنکھیں گھما کر بولی تو لالہ رخ نے اسے تادیبی انداز میں گھور کر کہا۔
’’ماریہ…‘‘
’’سوری سسٹر… اس کام میں تو میں برو کا ہی ساتھ دوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر ماریہ نے بستر پر لیٹ کر چادر منہ تک تان لی جب کہ لالہ رخ اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
/…ۃ…ۃ…/
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا
اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا
یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
کس طرح مری روح ہری کر گیا آخر
وہ زہر جسے جسم میں گھلتے نہیں دیکھا
احتشام اس کے سامنے کسی ایسے شکست خوردہ شخص کی مانند بیٹھا تھا جس کا سب کچھ لٹ چکا ہو‘ یہاں تک کہ اس کی اپنی ذات بھی اس سے بچھڑ گئی ہو‘ کل صبح اس نے فون کرکے سمیر شاہ کو بتایا کہ وہ پاکستان آرہا ہے اور آج وہ یہاں موجود تھا اور آتے ہی اس نے حورین کی بابت جس تڑپتے لہجے میں استفسار کیا تھا‘ سمیر شاہ اسے دیکھتے رہ گئے تھے‘ پھر وہ اسے سب کچھ بتاتے چلے گئے‘ جب کہ احتشام کے چہرے پر آتے دکھ‘ اذیت‘ کرب‘ شرمندگی اور پچھتائوں کے رنگوں کو دیکھ کر ان کا دل بھی رنج و تاسف سے بھرتا چلا گیا تھا‘ سمیر شاہ جب سب کچھ اس کے گوش گزار کے خاموش ہوئے تو بہت دیر تک تو وہ کچھ بھی نہیں بول سکا‘ پھر بڑے اذیت آمیز انداز میں کراہ کر کہا۔
’’خاور نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا… اس نے مجھ سے طلاق دلوا کر حورین سے شادی کرلی اور میری بیٹی کو بھی دربدر کردیا۔‘‘ جب ہی سمیر شاہ بڑے ٹھنڈے لہجے میں گویا ہوئے۔
’’خاور نے ایسا کیا غلط کیا احتشام؟ اپنے گھر کے دروازے تو تم خود کھول کر گئے تھے‘ چور کو تو تم نے خود ہی اپنی قیمتی متاع چوری کرنے کا موقع دیا تھا۔‘‘ جواباً احتشام نے اسے انتہائی زخمی نگاہوں سے دیکھا‘ پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو سمیر… میں بہت سارے لوگوں کا قصور وار ہوں‘ شاید میرا اللہ بھی مجھے معاف نہیں کرے گا۔‘‘ پھر کچھ دیر بعد ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’مجھے لیور کینسر ہے جو اپنی لاسٹ اسٹیج پر ہے‘ میں مرنے سے پہلے حورین اور اپنی بیٹی سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ سمیر شاہ نے اسے پھٹی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔
’’یہ… یہ تم کیا کہہ رہے ہو احتشام؟‘‘
’’ہاں میرے دوست… زندگی کی کہانی اب تمام ہونے کو ہے جس دنیا کی چکا چوند اور رعنائیوں کے پیچھے پاگل ہو کر ہر رشتے کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا تھا‘ آج معلوم ہوا کہ کتنا دھوکہ دیا مجھے اس دنیا نے۔‘‘ وہ بے پناہ ٹوٹے لہجے میں بول۔ تو سمیر شاہ نے انتہائی مغموم ہوکر احتشام کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
کامیش نے شاہ دل سے فون پر بات کرکے اسے گھر بلوا لیا تو وہ فوراً سے پیشتر مہرو سے ملنے آن پہنچا‘ مگر مہرو کا انداز لیے دیے ہی تھا‘ پھر شاہ دل نے اسفند یار اور اپنی ماں کو معصومہ کے مل جانے کی خوش خبری دی‘ جب کہ زرمینہ تو یہ جان کر ہی سکتے میں مبتلا ہوگئی تھی کہ مہرو ہی بابا کی بیٹی معصومہ ہے۔
حواس بحال ہونے کے بعد تو وہ خوشی سے بے حال ہوگئی تھی کہ مہرو اس کی بہن ہے‘ زرتاشہ جو تندرست ہونے کے بعد گھر آئی تھی لالہ رخ کی حقیقت جان کر بے تحاشا روئی تھی‘ جس پر لالہ رخ نے اسے ڈھیروں پیار کرتے ہوئے سمجھایا تھا کہ وہ ہمیشہ اس کی سگی بہن کی طرح پہلے جیسے ہی رہے گی‘ پھر جب مہرو اور زرمینہ کے رشتے کی بابت اسے پتا چلا تو اس دفعہ اسے خوش گوار حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔
مہرو کچھ دن تو اسفند یار اور شاہ دل سے اکھڑی رہی مگر پھر ان کی محبتوں اور بے قراریوں کے سامنے اس نے گھٹنے ٹیک دیے تھے‘ سمیر شاہ اور ساحرہ بھی مہرو کے لیے بہت خوش تھے‘ البتہ مہرو کو اپنی ماں کی وفات کا بہت رنج ہوا تھا۔
دن یوں ہی ایک دوسرے کے تعاقب میں بھاگتے جارہے تھے‘ زرتاشہ اور زرمینہ کا بی ایس مکمل ہوچکا تھا‘ کامیش اور باسل نے لالہ رخ کو زرتاشہ کے اغوا کا واقعہ سنا دیا تھا جس پر لالہ رخ نے بے پناہ ہراساں ہوکر زرتاشہ کو اب مزید ہاسٹل میں رہنے کی اجازت نہیں دی تھی‘ البتہ امی سے یہ سب چھپا لیا تھا‘ باسل اب بڑے استحقاق سے لالہ رخ سے ملنے آتا تھا اور اس سے خوب ناز اٹھواتا تھا‘ جب کہ زرتاشہ باسل کو دیکھ کر کونے کھدروں میں چھپ جاتی تھی‘ زرمینہ کو تایا ابا نے اپنے بیٹے کے نکاح سے آزاد کردیا تھا‘ وہ آج کل اپنے بابا کے گھر پر تھی جب کہ اسفند یار نے بخوبی شاہ دل اور عنایہ کا رشتہ پکا کر یا تھا اور یوں چار ماہ کا عرصہ پر لگا کر اڑ گیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
ڈاکٹرز کی کڑی محنت اور باسل کی بھرپور توجہ و خیال سے حورین کی حالت میں بہت زیادہ بہتری آگئی تھی‘ اب اس کے اندر پہلے والی حورین کی جھلک دکھائی دینے لگی تھی‘ مگر خاور حیات اور اس کے درمیان کافی فاصلے پیدا ہوگئے تھے‘ وہ خاور سے بے حد متنفر اور بدظن تھی‘ خاور چپ چاپ بڑے حوصلے سے حورین کی بے اعتنائی اور نفرت برداشت کررہا تھے جو اُن کے لیے کسی اذیت ناک عذاب سے کم نہیں تھا‘ وہ معمول کے مطابق شام کی چائے تیار کر رہی تھیں کہ باسل نے اسے آواز دے کر کہا۔
’’مام… پلیز باہر آئیے دیکھیے تو میں کسے لایا ہوں؟‘‘ باسل کے لہجے میں خوشی و انبساط کی کھنک صاف محسوس ہورہی تھی‘ جب ہی حورین مسکراتی ہوئی باہر آئی تو جیسے اس کا جسم کسی نے جادوئی چھڑی گھما کر منجمد کردیا تھا‘ آج اتنے عرصے بعد اپنی عزیز از جان سہیلی پارس کو دیکھ کر ششدر ہی رہ گئی‘ پھر اس کے ہونٹ بے ساختہ پھڑپھڑائے۔
’’پارس…‘‘ اگلے ہی پل وہ بھاگ کر اس کے گلے سے جا لگیں۔
’’پا… رس…! تم… تم کہاں چلی گئی تھیں‘ مجھے چھوڑ کر‘ تمہیں پتا ہے کہ میں نے تمہیں کتنا یاد کیا‘ تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔‘‘ جذبات کی شدت سے مغلوب ہوکر حورین کی آواز رندھ گئی۔
’’حورین… کیا تم مجھ سے خفا نہیں ہو؟‘‘ پارس نے جلدی سے پوچھا۔
’’ارے پاگل میں تجھ سے کیوں خفا ہونے لگی‘ تو صرف میری سہیلی تھوڑی تھی میری بہن بھی تو تھی۔‘‘ پھر دونوں آپس میں لپٹ کر بہت دیر تک رونے کے بعد ایک دوسرے کو اپنی کتھا سنانے لگیں‘ جب کہ باسل دونوں کو تنہائی فراہم کرکے وہاں سے جاچکا تھا‘ اپنی کہہ سن کر جب دونوں اپنا دل ہلکا کرچکیں تو پارس بیگم نرمی سے بولیں۔
’’حورین… تمہاری ایک امانت میرے پاس ہے۔‘‘ حورین استفہامیہ لہجے میں بولی۔
’’میری امانت…! کون سی امانت پارس؟‘‘ پارس بیگم نے گہرا سانس بھرا‘ پھر دھیرے سے بولیں۔
’’تمہاری بیٹی لالہ رخ۔‘‘ حورین نے بے پناہ اچنبھے سے پارس بیگم کو دیکھا‘ پھر خود ہی ہنس کر بولی۔
’’کیوں مذاق کررہی ہو پارس‘ میری گڑیا تو…‘‘
’’نہیں حورین… تمہاری گڑیا زندہ ہے۔‘‘
’’پارس پلیز‘ میرے زخموں پر نمک پاشی مت کرو۔‘‘ حورین تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھی۔
’’نہیں میری جان‘ میں خدانخواستہ ایسا کیوں کروں گی‘ تیری قسم حورین ہماری لالہ رخ زندہ ہے۔‘‘ اس پل حورین نے غائب دماغی سے اسے دیکھا‘ پھر سر جھٹک کر تیزی سے بولی۔
’’میں نے تمہیں ابھی بتایا ناں کہ خاور نے لالہ رخ کو ہماری ملازمہ کی بانجھ بیٹی کے حوالے کردیا تھا اور وہ وہاں مری میں حادثے کا شکار ہوکر…‘‘ اتنا بول کر اس نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کچلا۔
’’اور میں نے بھی تمہیں بتایا تھا کہ میں نے ایک بچی کو گود لے کر پالا ہے جو میرا فخر ہے‘ میرا مان ہے۔‘‘
’’تو اس بچی کا میری لالہ رخ سے کیا تعلق…؟‘‘ وہ زچ ہوئی۔
’’تعلق یہ ہے کہ وہی تمہاری بیٹی لالہ رخ ہے کیونکہ اس دن میں تمہاری بیٹی کو تمہاری ملازمہ کی بیٹی فیروزہ کے گھر سے اپنے ساتھ لے آئی تھی۔‘‘ حورین نے انتہائی ہونق ہوکر پارس کو دیکھا‘ پھر بہت سارے لمحے یوں ہی خاموشی سے گزرتے چلے گئے‘ پارس کے جملوں کی بازگشت بار بار اس کے کانوں میں گونج رہی تھی جب ہی باسل کی عقب سے آواز ابھری۔
’’آنٹی ٹھیک کہہ رہی ہیں مام… آپ کی بیٹی لالہ رخ زندہ ہے اور اس وقت آپ کے پاس ہے۔‘‘ حورین نے بے پناہ سرعت سے گردن موڑ کر دیکھا‘ باسل کے ساتھ کھڑی اس لڑکی کی خوشبو کو وہ لمحے کے ہزاروے حصے میں پہچان گئی تھی۔
’’لالہ میری گڑیا…‘‘ حورین اٹک اٹک کر بہ مشکل بولی اور اگلے ہی پل چکرا کر کارپٹ پر گر پڑی جب کہ سب اس کی جانب گھبرا کر دوڑے تھے۔
/…ۃ…ۃ…/
احتشام کی کل رات طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی‘ سمیر کو فون کرنے پر وہ فوراً سے پیشتر اسے ہاسٹل لے آئے تھے‘ احتشام اپنے پرانے ہی محلے میں ایک گھر کرائے پر لے کر رہ رہا تھا‘ سمیر شاہ نے فی الحال احتشام کے پاکستان آنے کی اطلاع کسی کو بھی نہیں دی تھی‘ سمیر شاہ جب احتشام کے پاس ساری رات گزار کر گھر آئے تو ساحرہ کے متفکرانہ استفسار پر وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئے اور پھر انہوں نے ناشتے کی میز پر سب کو بتایا کہ احتشام کچھ عرصے پہلے یہاں آگیا تھا‘ جس کا مرض اب کسی بھی وقت اسے زندگی کی قید سے آزاد کرسکتا ہے‘ مہرو‘ کامیش اور فراز یہ سن کر دکھ و تاسف کی کیفیت میں گھرے خاموش بیٹھے رہ گئے پھر کافی دیر بعد مہرو پُر سوچ لہجے میں بولی۔
’’انکل… میرے خیال میں لالہ کو احتشام انکل سے ایک بار ملنے جانا چاہیے۔‘‘ سمیر شاہ نے چونک کر اسے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو بیٹا احتشام جیسا بھی ہے‘ لالہ رخ کا باپ تو ہے اور دنیا سے رخصت ہوتے شخص کی خطائوں کو درگزر کرکے اسے معاف کردینا چاہیے۔‘‘ پھر اسی شام سمیر شاہ خاور حیات کے پاس چلے آئے اور احتشام کی بابت سب کچھ بتا کر متاسف زدہ انداز میں بولے۔
’’سمجھ میں نہیں آتا کہ تم دونوں میں زیادہ قصور وار کون ہے‘ وہ احتشام جو دنیاوی عیش و عشرت کے پیچھے بھاگتا رہا یا تم جس نے اس کی کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اس سے اس کا سب کچھ چھین لیا مگر سچ تو یہ ہے کہ تم دونوں کے ہی ہاتھ کچھ نہیں آیا‘ آج تم دونوں ہی اپنا خالی دامن لیے شکست زدہ سے بیٹھے ہو۔‘‘ باسل اور حورین گو کہ اب بھی اس کا ساتھ دیتے تھے مگر بے حد اجنبیوں اور غیروں کی طرح… ایک چھت کے نیچھے رہتے ہوئے بھی وہ ان دونوں سے بہت دور ہوچکا تھا۔
’’سمیر پلیز‘ اللہ کے واسطے خاموش ہوجائو۔‘‘ وہ پہلے ہی ایک اذیت اور کرب سے گزر رہا تھا‘ سمیر کی باتوں نے اسے ایک بار پھر ضمیر کی عدالت میں رگیدنا شروع کردیا تھا‘ جب کہ کل اچانک لالہ رخ نے اس کے گھر آکر اسے حیران و پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ بے طرح شرمندہ بھی کیا تھا‘ باسل نے انتہائی روکھے اندازمیں اس سے کہا تھا کہ کس طرح اللہ نے اپنا معجزہ اور شان دکھا کر لالہ رخ کو زندہ رکھا اور پھر ہم لوگوں سے ملوایا وگرنہ تو آپ نے انہیں مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور جواباً وہ اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی نہیں بول سکا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
حورین کو تھوڑی دیر بعد خود ہی ہوش آگیا تھا‘ اپنے سامنے اپنی بیٹی کو پاکر وہ تو دیوانی ہوئی جارہی تھیں۔
’’لالہ… میری بچی… میری گڑیا‘ تت… تم زندہ ہو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فرطِ جذبات سے اسے زور سے بھینچ لیا۔
’’یااللہ تو کتنا عظیم ہے‘ مجھے میری بیٹی عطا کردی‘ میری لالہ مجھے مل گئی‘ مجھے میری زندگی لوٹا دی‘ میں کیسے تیرا شکر ادا کروں‘ میری لالہ واپس آگئی۔‘‘ وہ مسلسل بول رہی تھیں‘ پھر اسے خود سے الگ کرکے دیوانوں کی طرح اس کے چہرے کو چومنے لگیں۔
’’میری بیٹی میرے گھر آگئی‘ جانتی ہو لالہ تمہاری اس بدنصیب ماں نے تمہیں کتنا یاد کیا‘ کتنا تڑپی ہوں میں تمہاری جدائی میں‘ ت… تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو ناں؟‘‘ وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے کچھ ہراساں سی ہو کر بولیں۔
’’نہیں امی… میں آپ سے بالکل ناراض نہیں ہوں۔‘‘ لالہ رخ محبت بھرے لہجے میں بولی تو حورین کو جیسے نئی زندگی مل گئی‘ باسل ماں کی خوشی دیکھ کر خود بھی بہت مسرور تھا۔ لالہ رخ کے مل جانے سے اسے بھی بڑی بہن جو مل گئی تھی‘ پھر ایک دن موقع دیکھ کر اس نے اپنے دل کی بات لالہ رخ کو بتادی‘ وہ زرتاشہ کو اپنانا چاہتا ہے‘ یہ سن کر لالہ رخ نے اسے خوش گوار حیرت میں گھر کر دیکھا۔ اس نے سب کو راضی کرلینے کا وعدہ کیا مگر اس سے پہلے وہ فراز شاہ سے دو دو ہاتھ کرنا چاہتی تھی تب ہی آج وہ اس کے آفس آئی تھی۔
’’فراز… تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے‘ مجھے سچ سچ بتائو کیا ماریہ تمہیں اچھی نہیں لگتی؟‘‘ یک دم فراز کے تصور کے پردے پر ماریہ کا صبیح چہرہ لہرایا۔
’’میں نے ایسا کب کہا۔‘‘
’’تو وہ تمہیں بہت اچھی لگتی ہے…؟ ہوں۔‘‘
’’میں نے ایسا بھی نہیں کہا۔‘‘
’’او فراز‘ تم اتنے مشکل کیوں ہوگئے ہو‘ مجھے ابھی اور اسی وقت بتائو کہ وہ تمہیں پسند ہے یا نہیں؟‘‘
’’یا وحشت لالہ… تم تو تھانیدارنی بن گئیں۔‘‘ وہ چڑا۔
’’اچھا ٹھیک ہے‘ جو تمہارا دل چاہے تم وہی کرو۔‘‘ انتہائی ناراضی سے بول کر وہ کرسی سے اٹھی تو فراز نے اسے منانا چاہا مگر وہ یوں ہی خفا ہوکر اس کے کمرے سے نکل گئی۔ جب کہ فراز نے جھنجلا کر اپنے ہی بالوں کو نوچ ڈالا۔ لالہ رخ نے کمرے سے باہر آکر کچھ دیر سوچا پھر خود اعتمادی سے سمیر شاہ کے کیبن کی جانب بڑھ گئی۔
’’ارے لالہ رخ بیٹا‘ پلیز کم‘ آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے۔‘‘ پھر لالہ رخ وہاں رکھے صوفے پر بیٹھ کر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اصل موضوع کی جانب آتے ہوئے بولی۔
’’انکل… اگر میں آپ کو ایک بات بتائوں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گے۔‘‘ سمیر شاہ نے اس پل تھوڑا چونک کر اسے دیکھا‘ پھر مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
’’او ناٹ ایٹ آل مائی ڈیئر بولو۔‘‘ لالہ رخ نے سب کچھ انہیں بتا دیا کس طرح فراز کو ماریہ لندن میں ملی جس کی مدد کرنے کے لیے اسے مجبوراً اس سے نکاح کرنا پڑا اور یہ بھی بتادیا کہ ماریہ دراصل اسی کی چھوٹی بہن یعنی احتشام کی اولاد ہے‘ سمیر شاہ کو ماریہ کا مذہب بچانے کی خاطر فراز سے شادی کرنے پر کوئی شکایت نہیں ہوئی‘ مگر اس حقیقت نے انہیں گم صم سا کردیا کہ وہ لڑکی احتشام کی بیٹی تھی‘ پھر بہت دیر بعد وہ خود کو سنبھال کر اپنے مخصوص لہجے میں گویا ہوئے۔
’’بیٹا… مجھے ماریہ کو بہو بنانے پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ مجھے تو اپنے بیٹے پر آج فخر ہورہا ہے کہ اس نے ماریہ کی زندگی اور ایمان بچا کر مجھے بھی سرخرو کیا ہے۔‘‘ لالہ رخ یہ سن کر بہت خوش ہوگئی۔
’’تھینک یو سو مچ انکل… آپ بھی بہت گریٹ ہیں‘ ان فیکٹ فراز آپ پر ہی گیا ہے۔‘‘ جواباً سمیر شاہ زور سے ہنس دئیے تھے۔
/…ۃ…ۃ…/
لالہ رخ نے پارس بیگم اور حورین کو باسل کی پسند بتادی تھی‘ دونوں خواتین کو بھلا کیا اعتراض ہوتا بلکہ وہ تو بہت خوش ہوئیں کہ ان کے بچے اس مقدس رشتے میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جائیں گے۔ شاہ دل اور عنایہ کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی تھی جب کہ مہرو اور عنایہ نے اسفند یار اور اماں کے سامنے زرمینہ اور احمر کا کیس لڑا تھا اور جیت بھی گئی تھیں۔ زرمینہ نے والدین نے احمر کے گھر والوں کو ہاں کردی تھی‘ مہوش‘ زرمینہ کے اپنی بھابی بن جانے پر بہت خوش اور پُر جوش تھی اسے شروع سے زرمینہ بہت اچھی لگتی تھی۔
لالہ رخ نے ماریہ اور فراز کو ایک کرنے کا پلان بنایا تھا‘ جس میں اس نے ابرام‘ کامیش‘ باسل‘ مہرو اور زرتاشہ کو ملا لیا تھا‘ ورنہ دونوں ہی نجانے کب تک ایک دوسرے سے بھاگتے رہتے‘ سمیر صاحب نے ساحرہ کو بھی فراز کی شادی اور تمام حالات سے آگاہ کردیا تھا‘ اسے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔
لالہ رخ نے ماریہ کو انتہائی اسٹائلش فراک جس کے فیروزی رنگ پر سنہرے اور روپہلے امتزاج کا کام تھا اور اس کے ساتھ میں چوڑی دار پاجامے کے اس سوٹ کو یہ کہہ کر زبردستی پہنایا تھا کہ آج زرمینہ کی منگنی ہے۔
’’افوہ لالہ… آپ نے مجھے اتنا بھاری سوٹ پہنا دیا‘ اسے پہن کر دلہن زرمینہ نہیں بلکہ میں لگ رہی ہوں۔‘‘ ماریہ آئینے کے سامنے منہ بناتے ہوئے بولی پھر جب اس نے زرتاشہ کو میک اپ کٹ کھولتے دیکھا تو چیخ ہی پڑی۔
’’نو لالہ… میں میک اپ ہرگز نہیں کروں گی۔‘‘
’’افوہ ماریہ… تم چپ نہیں رہ سکتیں۔‘‘ لالہ رخ مصروف سے انداز میں بولی‘ پھر دونوںنے اس کا زبردستی میک اپ کر دیا‘ گولڈن اور سلور امتزاج کی انتہائی نفیس سی جیولری اور خوب صورت میک اپ میں وہ اپنا اجنبی مگر بے حد حسین عکس دیکھ کر سر پکڑے بیٹھ گئی۔
’’یا اللہ… آپ لوگوں نے مجھے کیا بنا ڈالا میں منہ دھونے جا رہی ہوں۔‘‘ وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی۔
’’خبر دار جو تم نے ایسا کچھ بھی کرنے کا سوچا تو…‘‘ لالہ رخ ڈپٹ کر بولی۔
’’ہائے اللہ ماریہ… آپ اتنی پیاری لگ رہی ہیں۔‘‘ زرتاشہ چہک کر بولی۔ معاً ماریہ کو کچھ خیال آیا تو حیران سی ہوکر بولی۔
’’مجھے تو آپ دونوں نے دلہن بنا ڈالا‘ اب آپ دونوں کب تیار ہوں گی؟‘‘
’’آں… ہم بھی بس تیار ہورہے ہیں۔‘‘ وہ دونوں ہی گڑبڑائی جب کہ دوسری طرف مہرو اور کامیش نے جلدی جلدی فراز کے کمرے کو تازہ گلاب اور دیگر پھولوں سے سجادیا تھا جب کہ باسل اسے اپنے ساتھ بہانے سے قریبی مال لے آیا تھا لالہ رخ ماریہ کو لے کر ابرام کے ہمراہ فراز کے گھر پہنچی تھی۔
’’یہ ہم کہاں آگئے لالہ… کیا منگنی یہاں پر ہے؟‘‘ ماریہ کچھ حیرت سے بولی پھر معاً ان کے حلیے کا خیال آیا تو پریشان سی ہوکر بولی۔
’’مگر آپ دونوں نے تو چینج بھی نہیں کیا… لالہ مجھے سچ سچ بتائیے معاملہ کیا ہے؟‘‘ ماریہ کو اب کسی گڑبڑ کا احساس ہو چلا تھا مگر لالہ رخ لاپروائی سے بولی۔
’’ارے بابا… یہ میری حورین امی کا گھر ہے تمہیں ان سے ملنے کا شوق تھا ناں اس لیے یہاں آگئے اور ہم دونوں بھی یہیں تیار ہوں گے۔‘‘
’’اچھا واقعی؟‘‘ وہ اشتیاق سے بولی‘ اسے حورین سے ملنے کا بے حد شوق تھا‘ وہ زرتاشہ اور لالہ رخ کی معیت میں ایک کمرے کے دروازے تک پہنچی اور جوں ہی اندر قدم رکھا‘ پھولوں کی انتہائی دلفریب خوشبوئوں نے اس کا استقبال کیا جب کہ اگلے ہی پل زرتاشہ نے تیزی سے دروازہ باہر سے مقفل کردیا۔
’’یہ… یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘‘ ماریہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے گھبرا کر خود سے بولی اور تقریباً پانچ منٹ بعد باسل فراز کو گھر لے آیا‘ فراز نے اپنی جون میں آکر باہر سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور جوں ہی اندر بڑھا اسے ہزار والٹ کا کرنٹ لگا کمرہ حجلۂ عروسی کا منظر پیش کرتا ہوا بہت خوب صورت لگ رہا تھا جب کہ کمرے کے بیچوں بیچ ہراساں کھڑی ماریہ جنت کی حور لگ رہی تھی۔
/…ۃ…ۃ…/
سب نے اپنے پلان کو تکمیل تک پہنچا کر سکون کا سانس لیا تھا‘ ابرام وہاں سے جانے کے لیے اٹھا تو لالہ رخ اسے باہر تک چھوڑنے آئی۔ اس نے اس کا دل سے شکریہ ادا کیا‘ جیکولین دو ماہ پہلے ہی لندن واپس جاچکی تھی‘ جب ابرام نے اسے بتایا کہ تین دن بعد وہ بھی لندن جارہا ہے تو یک دم اس کا دل جیسے ڈوبا تھا۔
’’میں ماریہ کی طرف سے بہت مطمئن اور خوش ہوکر جا رہا ہوں‘ لالہ رخ اسے ایک اچھا جیون ساتھی ملنے کے ساتھ ساتھ اپنی بہن بھی مل گئی ہے۔‘‘ وہ اس کے خوب صورت چہرے کو اپنی آنکھوں میں جذب کرتے ہوئے بولا تو لالہ رخ ہولے سے گویا ہوئی۔
’’مگر آپ کا مقام اپنی جگہ بہت اہم ہے مسٹر ابرام… ماریہ آپ سے بہت پیار کرتی ہے۔‘‘ ابرام نے اس کی بات پر تائیدی انداز میں سر ہلایا پھر سنجیدگی سے بولا۔
’’لالہ رخ… اب میرا نام ابرام نہیں بلکہ عالیان ہے‘ میں بھی اپنے اصل کی طرف لوٹ آیا ہوں۔‘‘ ابرام بھی اسلام قبول کر چکا تھا لالہ رخ نے خوش گوار حیرت سے اسے دیکھا پھر خلوص دل سے بولی۔
’’مبارک ہو آپ کو بہت بہت۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد گویا ہوئی۔ ’’دیر ہو یا سویر انسان اپنے اصل کی جانب ایک نہ ایک دن ضرور لوٹتا ہے۔‘‘ ابرام نے اثبات میں سر ہلایا پھر بولا۔
’’اگر میں آپ سے ایک بات کہنے کی اجازت چاہوں تو کیا آپ مجھے موقع دیں گی؟‘‘ پھر اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی کہنے لگا۔
’’لالہ رخ… میں نے آپ کو اپنے دل کی پوری گہرائیوں سے چاہا ہے اور بڑی شدت سے آپ کے ساتھ کی تمنا کی ہے…‘‘ لالہ نے انتہائی متحیر ہوکر اسے دیکھا۔
’’آئی لو یو لالہ اینڈ آئی وانٹ یو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے مڑ کر گاڑی میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا جب کہ لالہ رخ ہک دک سی کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔
/…ۃ…ۃ…/
’’آ… پ یہاں کیسے فراز…؟‘‘ ماریہ اسے دیکھ کر بے پناہ حیرت سے بولی۔
’’یہ میرا کمرہ ہے ماریہ… مگر تم یہاں کیا کررہی ہوں اور… اور تم اتنا سجی سنوری کیوں ہو؟‘‘ وہ بھی بے حد متعجب ہوا۔
’’تو کیا یہ حورین آنٹی کا گھر نہیں؟ اور لالہ نے تو مجھے زبردستی زرمینہ کی انگیجمنٹ میں جانے کے لیے تیار کیا تھا۔‘‘
’’مگر زرمینہ کی تو آج منگنی نہیں۔‘‘ وہ حیرت سے بولا۔
’’واٹ… تت… تو لالہ نے مجھے… یہ سب کیوں…؟‘‘ اور پھر اسی پل ساری بات دونوں کیا سمجھ میں گئی‘ فراز نے بے ساختہ ایک گہرا سانس بھرا اور فوراً سے پیشتر لالہ رخ کو فون ملایا۔
’’کانگریچولیشن فراز… شادی بہت بہت مبارک ہو اور ہاں اپنا نیگ ہم تم سے صبح لیں گے‘ اب جائو اپنی دلہن کے پاس کامیش اور مہرو نے منہ دکھائی کا گفٹ تمہاری سائیڈ دراز میں رکھ دیا ہے اور ایک بات اور… میں نے سمیر انکل کو بھی سب کچھ بتادیا ہے انہوں اور آنٹی نے دونوں نے ہی ماریہ کو بخوشی قبول کرلیا ہے اب اوکے اللہ حافظ۔‘‘ لالہ رخ نے اسے ایک لفظ بھی بولنے کا موقع نہیں دیا تھا‘ وہ ہونقوں کی طرح منہ کھولے کھڑا رہ گیا‘ ماریہ خفیف سی ہوکر بولی۔
’’میں منہ دھو کر آتی ہوں۔‘‘ وہ پلٹی ہی تھی کہ یک دم اس کا بازو فراز کی گرفت میں آگیا۔
’’اب اتنی بھی بری نہیں لگ رہی ہو کہ منہ دھونا پڑے‘ اچھی خاصی حسین نظر آرہی ہو۔‘‘ فراز کا لہجہ اور نگاہیں دونوں ہی سرعت سے بدلے تھے‘ جب کہ ماریہ کا دل بے اختیار تیزی سے دھڑکنے لگا تھا‘ پھر وہ اس کے بے حد قریب آکر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
’’فراز شاہ کا دل تمہارا ہوا‘ اس کی حفاظت کرنا جان فراز…‘‘ جواباً ماریہ نے ایک گہری سانس کھینچ کر اپنا سر اس کے شانے سے ٹکا دیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
چار مہینے پہلے جو عدیل کامیش شاہ کے سامنے بڑا اکڑ رہا تھا‘ آج جھکے کندھوں اور نگاہوں سے اس کے پاس آیا تھا‘ جس تایا کے بل بوتے پر وہ جیل سے چھوٹا تھا‘ ان کے پیچھے نیب کا محکمہ لگ گیا تھا‘ جس نے ان پر مقدمات کردیے تھے‘ اب وہ خود منہ چھپاتے پھر رہے تھے جب کہ عدیل کامیش کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنے گزشتہ گناہ کی معافی مانگ کر اس سے اپنی بہن کے لیے انصاف کی درخواست کررہا تھا‘ جس کو ٹونی نے بے آبرو کرکے اس کی زندگی کو تباہ کر ڈالا تھا۔
کامیش جو در پردہ ٹونی کے خلاف پکے ثبوت اکھٹے کررہا تھا‘ اس رپورٹ پر اب وہ اسے بہ آسانی گرفتار کرسکتا تھا‘ البتہ عدیل کچا کھلاڑی تھا اور اب پشیمان بھی تھا‘ لہٰذا اسے معاف کرکے اس نے ٹونی کو گرفتار کرلیا تھا لڑکیوں کے اغوأ کے علاوہ اس پر منشیات بیچنے کے بھی الزامات تھے اس دفعہ وہ پکا اندر گیا تھا جب کہ احمر اور باسل عدیل کے متعلق جان کر چپ کے چپ رہ گئے تھے۔
/…ۃ…ۃ…/
سمیر شاہ نے حورین اور لالہ رخ کو احتشام کے بارے میں بتاکر ان دونوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ایک بار جاکر اس سے مل لیں چند ثانیے خاموش رہنے کے بعد وہ دونوں ہی رضا مند ہوگئی تھیں اور اس وقت وہ احتشام حاکم کے سامنے انتہائی عجیب سی کیفیت میں گھری یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھیں۔
’’حو… رین… ت… تم آگئیں…!‘‘ احتشام کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے انداز میں نکلا۔
’’میں تو کہیں گئی ہی نہیں تھی احتشام… تم ہی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔‘‘ حورین کھوئے ہوئے لہجے میں بولیں۔
’’ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو حورین… میں ہی چلا گیا تھا سارے دروازے بند کرکے سب رشتے ناتے چھوڑ کے۔‘‘ وہ جیسے کراہا پھر وہ لالہ رخ کا ہاتھ پکڑکر اپنی آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولا۔
’’بیٹی… ہوسکے تو مجھے معاف کردینا تمہارا باپ اس دنیا کا بہت برا انسان ثابت ہوا۔‘‘ لالہ رخ تیزی سے بولی۔
’’آپ پلیز یہ مت سوچیے۔‘‘ اس پل احتشام نے چونک کر لالہ رخ کو دیکھا‘ پھر حورین کو دیکھ کر مسکرا کر بولا۔
‘’حور تمہاری بیٹی تمہاری ہی طرح اعلیٰ ظرف ہے۔‘‘ حورین میں احتشام کی دگرگوں حالات دیکھنے کی مزید تاب نہ ہوئی تو وہ تیزی سے باہر جانے کو پلٹی مگر چند قدم چل کر رکتے ہوئے بولیں۔
’’احتشام… میں نے تمہیں معاف کیا میرا اللہ بھی تمہیں معاف کرے۔‘‘ حورین کے الفاظ احتشام کے نحیف وجود میں ٹھنڈک ہی ٹھنڈک اتار گئے تھے۔
ماریہ بھی فراز کے ہمراہ احتشام سے ملنے آئی اور اس کے سینے سے لگ کر بے تحاشا رو دی تھی جب کہ خاور نے بھی اس سے معافی مانگی تھی اور اگلے دن سویرے سویرے احتشام دارِ فانی سے کوچ کر گیا تھا۔
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تیری دہلیز پر دھر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پر اتر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
/…ۃ…ۃ…/
احتشام کا سوئم ہوچکا تھا‘ ہر دل مغموم اور دکھی تھا‘ ابرام جو اب عالیان تھا‘ اس نے جیکولین کو بھی اطلاع پہنچا دی تھی‘ جسے سن کر وہ بھی گم صم ہوگئی تھی۔ خاور حیات احساس ندامت سے چور حورین کے سامنے جاکھڑ ہوا۔
’’حورین کک… کیا تم مجھے معاف کرسکتی ہو پلیز حورین تمہیں اللہ کا واسطہ… مجھے معاف کردو میں دوسرا احتشام نہیں بننا چاہتا…‘‘ بولتے ہوئے وہ بلک بلک کر رونے لگا‘ جب ہی باسل جو نجانے کب کمرے میں آیا تھا خاور حیات کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
’’پلیز ڈیڈ خود کو سنبھالیں۔‘‘ خاور نے بے اختیار مڑ کر دیکھا پھر دوسرے ہی لمحے باسل کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا جب کہ حورین کی آنکھیں بھی جل تھل ہوگئی تھیں۔
/…ۃ…ۃ…/
ماریہ نے فراز کو عالیان (ابرام) کی دل کی حکایت سنا ڈالی تھی تب ہی فراز نے لالہ رخ سے جب اس متعلق پوچھا تو ایک ہی پل میں اس نے لالہ رخ کی آنکھوں میں عالیان کی پرچھائی کو بخوبی دیکھ لیا۔
’’یااللہ لالہ… یہ کیا احمقانہ پن ہے‘ تم روک کیوں نہیں لیتیں عالیان کو۔‘‘ وہ سر پکڑ کر بولا تو لالہ رخ کنفیوژ سی ہوکر اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوئے کہنے لگی۔
’’مگر فراز میں…‘‘
’’افوہ… اگر مگر کچھ نہیں جائو اسے جاکر روک لو بے چارا ٹوٹے دل سے واپس جا رہا ہے۔‘‘ پھر فراز نے اسے اپنے اپارٹمنٹ میں عالیان کے پاس لا چھوڑا‘ عالیان جو پیکنگ مکمل کرچکا تھا اور کچھ ہی دیر میں ایئر پورٹ کے لیے نکلنے والا تھاؔؔ اس وقت اسے وہاں دیکھ کر چونکا۔
’’وہ… وہ میں یہ کہنے آئی تھی کہ فراز کہہ رہا تھا کہ آپ جا رہے ہیں۔‘‘ وہ اول فول بولنے لگی‘ جب ہی عالیان بے حد دلچسپی سے اپنے دونوں بازو سینے پر باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔
’’مم… میں… وہ افوہ… آپ یہیں رک کیوں نہیں جاتے۔‘‘ لالہ رخ اب جھنجلا کر بولی‘ جب ہی وہ چلتا ہوا اس کے قریب آکر بولا۔
’’دل سے روک رہی ہو؟‘‘ جواباً لالہ رخ نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اچھا ذرا میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو۔‘‘
’’اب آپ پھر اوور ہونے لگے۔‘‘ وہ چڑ کر بولتی جوں ہی مڑی عالیان تیزی سے گھوم کر اس کے سامنے آیا نتیجتاً وہ اس کے سینے سے ٹکرا گئی۔
’’آف مجھے فراز کی باتوں میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔‘‘ وہ بے اختیار اپنا سر تھام کر بولی تو عالیان قہقہہ لگا کر ہنس دیا جب کہ لالہ رخ سب کچھ بھول بھال کر اسے دیکھتی رہ گئی جو اس پل ہنستے ہوئے بے حد دلکش لگ رہا تھا۔ وہ اپنے دونوں کانوں کو پکڑتے ہوئے بولا۔
’’اچھا اب میں تنگ نہیں کروں گا‘ بس ایک بار مجھے پیار سے رک جانے کو کہو۔‘‘ لالہ رخ نے اسے تادیبی نظروں سے دیکھنا چاہا مگر پھر اس کی نگاہوں کی شوخیوں سے گھبرا کر جلدی سے پلکیں جھکا لیں جب کہ عالیان لالہ رخ کے حیا کے رنگوں سے سجے چہرے کو مبہوت سا ہوکر دیکھتا رہ گیا تھا۔
/…ۃ…ۃ…/
آج حورین زرتاشہ کی انگلی میں باسل کے نام کی انگوٹھی پہنانے جا رہی تھیں‘ لالہ رخ تو بے چاری گھن چکر بن گئی تھی دوپہر کو وہ پارس بیگم اور زرتاشہ کے پاس ہوتی اور شام کو وہ یہاں باسل اور حورین کے درمیان پائی جاتی جب کہ ماریہ اور مہرو نے بھی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ ماریہ کو بھی اس نے بیٹی کی طرح اپنا لیا تھا‘ حورین آج اپنی فیملی کو مکمل دیکھ کر بہت آسودہ تھی‘ رات کی تقریب کی تیاری کرتے ہوئے وہ آئینے کے سامنے اپنے بالوں میں برش کرتے ہوئے کچھ گنگنا بھی رہی تھیں‘ جب ہی خاور حیات نے وہاں آکر اس سے استفسار کیا۔
’’کیا سوچ کر مسکرایا جا رہا ہے بیگم صاحبہ؟‘‘ حورین نے مڑ کر خاور کو دیکھا پھر دھیرے سے بولیں۔
’’اپنے خوابوں کے بارے میں سوچ رہی تھی خاور ایک ہنستا بستا مکمل گھر میرا خواب تھا‘ خواب جہاں میری بیٹی کی کھلکھلاہٹیں ہوں بیٹے کی شوخیاں ہوں‘ آج وہ خواب پورے ہوئے… میرے خواب زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘‘ آخری جملہ جذبات سے بوجھل تھا‘ جب ہی خاور نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
’’آمین…‘‘
’’اچھا میڈم… اب چلیں باہر سب انتظار کررہے ہیں۔‘‘ تب ہی حورین بے حد مطمئن سی ہوکر خاور کے ہمراہ باہر کی جانب بڑھ گئی تھیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close