Aanchal Sep-18

ہومیوکارنر

طلعت نظامی

ہیضہ (Cholera)
یہ آنتوں کا مقعد حار مرض ہے جو اکثر وبائی صورت میں پھیلتا ہے اس مرض کا باعث ایک قسم کا نیاتی کیڑا‘ یہ بیکٹیریا چونکہ خمدار شکل کے ہوتے ہیں اس لیے اسے کامو بیکٹریا (Common Bacteria) یا ہیضہ کا کیڑا (Colera Bacillus) کہتے ہیں یہ جرثومہ 1883ء میں دریافت کیا گیا تھا۔
اسباب مرض:۔
اس مرض کے بیکٹیریا گندے پانی میں موجود ہوتے ہیں۔ مکھیاں گندگی سے انہیں اپنے پروں اور ٹانگوں میں لگا کر آتی ہیں جونہی یہ مکھیاں کسی کھانے پینے کی چیز پر بیٹھتی ہیں تو جراثیم ان میں شامل کردیتی ہیں۔ یہ جرثومہ مریض کے دست قے کے ذریعے پانی‘ دودھ یا دوسری کھانے پینے کی اشیا میں مکھی کے ذریعے داخل ہوجاتے ہیں اور پھر دوسرے صحت مند اشخاص کی آنتوں میں پہنچ کر یہ مرض پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ہیضہ کے جراثیم بستر یا کپڑوں میں لگ کر مدتوں اس مرض کے زہر کو قائم رکھتے ہیں بعض اوقات کنویں‘ چشمہ یا تالاب کا پانی ان جراثیم سے پر ہو جاتا ہے اور مرض کے پھیلانے کا باعث بنتے ہیں جن اشخاص کا ہاضمہ خراب ہوتا ہے یا جو نازک مزاج اور ڈرپوک ہوتے ہیں ان کو یہ مرض زیادہ ہوا کرتا ہے تیز تھکان‘ بے خوابی‘ ایام ہیضہ میں تیز مسہل لینا‘ گندی و ناپاکیزہ غذا کی بد پرہیزی مثلا گلے سڑے پھل‘ سبزی‘ گوشت‘ مچھلی‘ اسی طرح تربوز‘ آم‘ کھیرے‘ خربوزے‘ ککڑیاں زیادہ کھانا‘ نیم پختہ غذا کا استعمال‘ ملائی دار برف یا قلفی یا زیادہ برف کا پی لینا یہ سب اس بیماری کے اسباب ہیں۔
زمانہ خضانت (Ineubation Period)
اس مرض کا زمانہ خضانت ایک سے چار دن تک ہے لیکن اکثر ایک دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس دوران طبیعت سست‘ کاہل اور بے چین ہوجاتی ہے کبھی ہلکا سردرد دوران سردرد جسم میں گرانی محسوس ہوتی ہے ہاضمہ خراب ہوجاتا ہے اصل مرض شروع ہونے سے قبل مریض کو دوچار دست آتے ہیں جس سے وہ زیادہ فکر مند اور پریشان ہوجاتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ رات کو سوتے میں مرض کا حملہ شروع ہوجاتا ہے۔
مرض کی پیتھالوجی:۔
خوراک یا پانی کے ذریعے Vibrio Cholera نامی بیکٹیریا نظام انہضام میں داخل ہوجاتا ہے یہ بیکٹیریا زندہ حالت میں بھی کافی خطرناک ہوتا ہے مگر مرنے کے بعد یہ اور بھی خطرناک ہوجاتا ہے یہ بیکٹیریا مرنے کے بعد Endotoxins خارج کرتے ہیں اس کے علاوہ ایک انزائم خارج کرتے ہیں جسے Mucinase کہتے ہیں۔ اس انزائم کے اثر سے بلغمی جھلیوں Mucous Epithelium کے خلیات سوکھ جاتے ہیں اور چھلکے بن کر اترنے لگتے ہیں یہ Endotoxius چھوٹی آنت اور بڑی آنت میں موجود عروق شعریہ کو پھیلا دیتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں موجود آبی مادہ Waste prooduct دونوں کو پانی کی طرح پتلا کردیتا ہے آنتوں کا موجودہ ماحول بیکٹریا کے واسطے بہت ساز گار ہوتا ہے یہ تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اس طرح پانی کی طرح پتلے لا تعداد اسہال شروع ہوجاتے ہیں اور لمفاوی غدود متورم ہوجاتے ہیں۔
علامات کے لحاظ سے اس مرض کو چار درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
درجہ اول (Initial Stage)
اس درجہ میں پیٹ میں درد ہو کر قے اور دست آنے لگتے ہیں جن میں فضلے کے ساتھ چاولوں کی پیچ جیسے دست آنے لگتے ہیں دستوں کے کچھ دیر بعد قے آنے لگتی ہے قے میں بھی پہلے غذا نکلتی ہے پھر چاولوں کی پیچ کی طرح قے آنے لگتے ہیں۔
درجہ دوم (Severe Diseased)
اس درجہ میں علامات شدید ہوجاتی ہیں دست و قے زیادہ آنے لگتے ہیں۔ ہاتھ پائوں میں اینٹھن شروع ہوجاتی ہے۔ سر اور پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ شدت کی پیاس لگتی ہے لیکن مریض ادھر پانی پیتا ہے ادھر قے کردیتا ہے۔ بے چینی اور گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے یہ صورت حال دس بارہ گھنٹے تک برقرار رہتی ہے۔
درجہ سوم ( Collapse Stages)
دستوں اور قے کے ذریعے جسم سے رطوبت کے اخراج کے سبب خون گاڑھا ہوجاتا ہے اس لیے جسم کی حرارت کم ہوجاتی ہے۔ مریض بے حد کمزور ہوجاتا ہے سرد پسینہ آتا ہے اور سارا جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے مریض گفتگو نہیں کرسکتا آنکھیں پتھرا جاتی ہیں پیاس بہت لگتی ہے۔ آنکھوں کے گرد نیلگوں حلقے پڑ جاتے ہیں نبض کمزور اور اٹک اٹک کر چلتی ہے چہرے پر مردنی چھا جاتی ہے دست اور قے بند ہوجاتے ہیں۔ یہ حالت دو‘ تین گھنٹے سے زیادہ نہیں رہتی اکثر مریض اسی درجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اگر یہ حالت بخیر و عافیت گزر جائے تو مریض کی شفا کی امید ہوا کرتی ہے۔
درجہ چہارم (Reaction Stage)
اس درجہ میں علامات میں آہستہ آہستہ تخفیف ہوجاتی ہے۔ قے آنے بند ہوجاتے ہیں نبض کی رفتار بڑھ جاتی ہے بدن گرم ہوجاتا ہے کبھی بخار بھی ہوجاتا ہے چہرے پر رونق بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
انجام مرض (Prognosis)
اس مرض کا انجام اکثر خطرناک ہوتا ہے مرض کے ابتدا میں موت کا شکار ہونے کے زیادہ چانسز ہوتے ہیں البتہ آخر میں مرض کا زور ٹوٹ جاتا ہے کمزور قوت مدافعت رکھنے والے لوگ زیادہ دن تک اس مرض کو جھیلتے ہیں جن لوگوں کے گردے خراب ہوں وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو کر بہت کم شفایاب ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close