Hijaab Sep-18

عشق میرا ایمان

اُم اقصیٰ

یو پی ایس کی ختم ہوتی چار جنگ کی مخصوص ٹون اور ختم ہوتی روشنی نے اسے ہاتھ روکنے پر مجبور کردیا تھا۔ سر اٹھا کے دیوار گیر گھڑی کی جانب نگاہ کی چار بجے کا عمل تھا… مسلسل لکھنے سے اس کا ہاتھ تقریباً اکڑ چکا تھا۔ عشاء کی نماز ادا کرکے، چائے پیتے ہی وہ لکھنے بیٹھ گئی تھی۔ چشمہ اتار کے سامنے بکھرے کاغذات پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے آنکھیں مسلیں۔ آخری صفحہ رہتا تھا… آخری سین… بس پھر اختتام۔ ایک ایک لفظ اس کے اندر جاگ رہا تھا مگر اب ہمت ہی نہ تھی لکھنے کی… مسلسل دکھتا ہاتھ آخری صفحہ تو کیا مزید ایک لفظ بھی لکھنے کی اجازت نہ دے رہا تھا، آنکھیں بند کرکے اس نے آخری سین تخیل میں زندہ کیا تھا۔
ز…ؤ…ز
’’دلاور بھائی نے لکڑی کے پھاٹک سے اندر لاتے ہوئے بیلوں کی جوڑی کو احاطے کی جانب موڑا اور پیچھے آتا ملازم تیزی سے بیلوں کو لیے احاطے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
’’سلام بے جی…‘‘ سفید گھاگھرے چولی میں ملبوس‘ کلے میں پان دبائے دادی نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔ بانو باجی جھٹ سے لسی کا گلاس بھر لائیں۔ اماں پیڑھی پر بیٹھی دیے کی بتیاں بنانے میں محو تھیں۔ چاچی چولہے کے آگے پیڑھی رکھے کچھ پکا رہی تھیں۔ دور جامن تلے بیلا اور صفی جامن کے تنے کو تھامے گول گول گھوم رہے تھے۔
’’ابا نہیں آئے ابھی؟‘‘ ایک نظر سب کی مصروفیت کا جائزہ لینے کے بعد دلاور نے دور بیٹھی ماں سے پوچھا۔
’’کب کے آچکے، اب تیرے تائے اور چاچے کے ساتھ راج پورہ گئے ہیں کچھ سامان لینے۔‘‘ پان چباتی بے جی نے جواب دیا۔
’’اچھا…‘‘ سر ہلاتے دلاور نے لسی کا گھونٹ بھرا۔ دفعتاً چونکا‘ گلاس وہیں بے جی کے پاس تخت پر رکھا اور تیزی سے باہر گیا… بتیاں بناتی اماں نے سر اٹھا کے ایک نظر دلاور کو باہر جاتے اور ہنوز لسی کے بھرے گلاس کو دیکھ کر افسوس سے سر ہلایا اور پھر سے مصروف عمل ہوگئیں۔
’’ساجی آپا کہاں ہیں؟‘‘ دلاور واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک سات آٹھ سالہ بچہ بھی تھا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ بے جی نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا۔ بتیاں بناتی اماں‘ ڈوئی ہلاتی چاچی اور الگنی سے کپڑے اتارتی بانو آپا تک نے سر اٹھا کے دیکھا، جب کہ دور کھیلتے بیلا اور صفی بھی پاس چلے آئے تھے۔
’’یہ علی امداد ہے۔‘‘ پُرسوچ انداز سے بولتے ہوئے وہ بچے کو تخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خود بھی بیٹھ گئے اور لسی کا گلاس پھر سے اٹھالیا۔
’’امداد حسین کا بیٹا؟‘‘ بے جی نے حیرت سے پوچھا۔
’’جی…‘‘ دلاور کے یک لفظی جواب پر اماں سب چھوڑ چھاڑ اس کے پاس چلی آئیں اور چٹ چٹ بلائیں لینے لگیں۔ ہانڈی ادھوری چھوڑ کے چاچی بھی قریب چلی آئیں۔
’’ہک ہا… کتنا سوہنا بیٹا ہے… بس امداد بھائی کی قسمت میں ہی نہ تھا بیٹے کا سکھ دیکھنا۔‘‘ بے جی کی آنکھیں نم جب کہ لہجہ گلوگیر ہوگیا تھا۔
امداد حسین اماں کا کزن تھا۔ بیوی تو بیٹے کی پیدائش کے بعد ایک سال تک زندہ رہی جب کہ امداد حسین ابھی پچھلے مہینے گڑ بناتے ہوئے اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔
’’کتنا پیارا ہے ناں‘ میں خود اسے پالوں گی۔‘‘ امداد کو سینے سے لگائے قدرے بین کرنے والے انداز میں روتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ پاس کھڑے قدرے حیرت سے دیکھتے پانچ سالہ بیلا اور چار سالہ صفی سنتے ہی ننگے پائوں باہر دوڑے۔ سامنے سکھ دیو سنگھ کھڑا تھا۔ بیلا کو وہ ایک آنکھ نہ بھاتا تھا مگر خبر اتنی چٹ پٹی اور وزنی تھی کہ اس کے سامنے سکھ دیو کا برا لگنا ہلکا پڑگیا۔
’’سکھو‘ ہمارے گھر ایک لڑکا آیا ہے وہ اب ہمارے ساتھ ہی رہے گا اور میرے ساتھ کھیلے گا بھی…‘‘ ناک چڑاتے صفی کی انگلی تھامے اس نے فخر سے بتایا۔
’’کون لڑکا؟‘‘ سکھو نے برا سا منہ بناکے پوچھا‘ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی سامنے سے چمپا آتی نظر آئی۔ وہ سکھو کو نظر انداز کرتی چمپا کی جانب لپکی۔
’’اور ہاں‘ میرے ساتھ اسکول بھی جایا کرے گا۔‘‘ چمپا کی جانب بھاگتے ہوئے مڑ کے سکھو کو بتانا اس نے ضروری سمجھا۔
’’ساجی آپا کے لیے لایا ہوں۔‘‘ دلاور نے ماں سے کہا۔
’’ارے تو ساجی کون سا دور ہے یہ دیوار سے دیوار ملی ہے۔ پہروں ادھر ہی پائی جاتی ہے وہ تو۔‘‘ دلاور خاموشی سے اٹھا نلکے کے نیچے بالٹی رکھی اور پانی بھرنے لگا۔ اماں‘ چاچی سے روٹی پکانے کا کہنے لگی جبکہ بانو باجی جھٹ سے اندر سے نئی نکور چنگیر اور خوان پوش لے آئیں۔
ز…ؤ…ز
’’تم سکھ دیو کو کیوں کچھ نہیں کہتے اس نے کل پھر مجھے مارا تھا۔‘‘ ناک بسورتی وہ علی امداد سے گلہ کررہی تھی۔
’’کل کب؟‘‘
’’چھٹی میں گھر آتے ہوئے۔‘‘ نروٹھی آواز اور بھیگا لہجہ تھا۔
’’تب تو میں ساتھ تھا تیرے۔‘‘ علی الجھا۔
’’تم موہن سے بات کررہے تھے تو اس نے مجھے چٹکی بھری تھی۔‘‘
’’تم نے اسی وقت بتانا تھا ناں پھر دیکھتی میں کیسی پھینٹی لگاتا… خیر میں پوچھوں گا اس سے۔‘‘ علی نے تسلی دی۔
’’امرت نے بھی چھڑی ماری مجھے زور کی۔‘‘ اس نے کلائی دکھائی۔
’’کیوں؟‘‘ بے ساختہ آگے آکر علی امداد نے کلائی دیکھی۔
’’میں نے بھجن نہیں گایا تھا۔‘‘ اس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔
’’لیکن استانی جی کو پتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں‘ انہوں نے تمہیں ایک طرف کھڑا نہیں کیا۔‘‘ بھجن گاتے مسلمان بچوں کو ایک طرف کردیا جاتا تھا۔
’’استانی کلاس میں نہیں تھی… امرت مانیٹر ہے ناں۔‘‘
’’بس دو ہی مہینے ہیں پھر میں ہائی اسکول چلا جائوں گا تو تمہیں بھی وہیں ساتھ لے جایا کروں گا اور صفی کو بھی۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس کی طرف دیکھتے بیلا نے مطمئن سر ہلایا، یکبارگی اسے علی کی آنکھوں میں ڈھیروں ستارے اترتے دکھائی دیے۔ ایسے ستارے بانو باجی کی آنکھوں میں روشن رہتے تھے۔ ہمہ وقت گویا قندیلیں جلی ہوں۔ دلاور بھائی کے گھر آتے ہی ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلی رہتی۔ لرزتی پلکیں اور مسکاتے ہونٹ‘ اس سمے اسے بانو باجی دنیا کی حسین لڑکی لگا کرتی تھیں۔
ان دنوں بانو باجی اور دلاور بھائی کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں‘ چچی اپنی اکلوتی بہو کے سب ارمان پورے کرنا چاہتی تھیں۔ بانو باجی اور ان کی سکھیاں دن بھر چہلیں کرتیں اور دلہن کے سوٹ کو گوٹا لگاتیں… رات بھر ملن کے گیت گائے جاتے۔ ان کے محلے میں زیادہ تر سکھ رہتے تھے ان کی بھی لڑکیاں آجاتیں تو مل کر سب گدیں ڈالتیں‘ بے جی پان کلے میں دبائے ہنستی رہتیں۔
ز…ؤ…ز
’’بیلا‘ میری بچی‘ ضد نہ کر… یہ کھا لے دو دن سے بھوکی ہے۔‘‘ اماں نے آلو کی بھجیا اور پراٹھا اس کے آگے لاکر رکھا۔
’’تو آپ لوگ مان جائو ناں میری بات۔‘‘
’’کیا کہہ رہی ہے کیوں نہیں کھا رہی کھانا۔‘‘ ساجی آپا گھاگھرہ اٹھائے اندر آئیں۔
ساجی آپا‘ بے جی کی بہن تھیں، بیوہ اور بے اولاد علی امداد ان ہی کے گھر رہتا زیادہ تر وہ دونوں ماں بیٹا ادھر ہی پائے جاتے تھے۔
’’کہتی ہے آگے پڑھے گی‘ علی گڑھ جائے گی یا دہلی بھجوادو‘ آپ ہی بتائو آپا‘ لڑکی ذات کو اتنی دور کیسے بھیجیں اوپر سے ملک کے حالات‘ کب کیا ہوجائے خبر نہیں‘ اپنے محلے میں تو سب سے بنی ہوئی ہے کچھ اس کے ابا کا رعب ہے تب ہی امن ہے۔ گھاٹ کے ساتھ جو امین صاحب ہیں ان کو نکال دیا ہے سکھوں نے کہ تمہارا دیس بن رہا ہے نکلو یہاں سے۔‘‘ اماں بے بس سی بولیں۔
’’ارے دیس بن رہا ہے ناں ابھی… بنے گا تو چلے بھی جائیں گے۔‘‘ ساجی آپا نے لاپروائی سے ہاتھ ہلایا۔
’’اری میٹرک تو کرلیا اور کتنا پڑھے گی… ایسا ہی شوق چڑھا ہے تو عرضی بھیج دے استانی بن جا لکھت پڑھت ہوتی رہے گی تمام عمر۔‘‘
’’کہاں مانتی ہے۔‘‘ اماں عاجز آئی ہوئی تھیں۔
’’علی امداد سے کہتی ہوں‘ آکر سمجھائے اسی کی مانے گی۔‘‘ پڑھنا اس کا شوق ضرور تھا مگر درحقیقت وہ اس محلے‘ اس گلی سے دور جانا چاہتی تھی‘ اسے سکھ دیو سے ڈر تو ہمیشہ سے لگتا تھا مگر اب باقاعدہ خوف آنے لگا تھا۔ دن بدن اس کی جرأت اور جسارت بڑھتی ہی جارہی تھی۔ صرف اسی کی وجہ سے بیلا نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ ایک خوف کے حصار میں آگئی تھی۔ جس عزم سے وہ بیلا کو دیکھتے ہی کہتا۔
’’ووہٹی تے میں تینوں ئی بناواں گا۔‘‘ (تجھے میں اپنی دلہن بنائوں گا) اس سے بیلا خوف زدہ رہتی تھی۔
سکھ دیو کا باپ بچپن میں ہی فوت ہوگیا تھا۔ ماں کا ابھی چند مہینے پہلے انتقال ہوا تھا گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا۔ ہندو مسلم فسادات جب سے شروع ہوئے تھے وہ کرپان لیے گھومتا پھرتا۔
ز…ؤ…ز
’’یہ لیگی تو دھن کا پکا نکلا‘ لگتا نہیں تھا اتنا بڑا کام کرجائے گا۔‘‘ ابا رات کھانا کھاتے ہوئے محمد علی جناح کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔
’’پرکھوں کے اثاثے اور لاشے (زمین میں دفن بزرگ) کیسے چھوڑ کر جائیں گے۔‘‘ ساجی آپا متفکر تھیں۔
’’جانا تو پڑے گا ہی آپا… اپنا دیس ہوگا… اپنا وطن… یہاں کے روز روز کے دنگا فسادات سے تو جان چھوٹے گی۔‘‘ چچا میاں کا انداز تسلی آمیز تھا۔
’’رجنی نے یوں تو عہد کیا ہے یہاں سے بحفاظت نکالنے کا مگر مجھے ان سکھوں پر زیادہ بھروسا نہیں‘ میں نے اپنے طور بھی کچھ انتظامات کر رکھے ہیں۔ آپ سب لوگ اپنی قیمتی اشیاء باندھ لیں… فیصلے سے پہلے ہی نکل چلیں گے۔‘‘ ساجی آپا اور بے جی کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔
یوں تو انہوں نے تیاریاں پہلے ہی کرلی تھیں مگر حالات ایسے ہوتے چلے گئے کہ نکلا ہی نہ جاسکا… بانو باجی نے صبح ہی ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔ جس کا نام محمد علی رکھا گیا… ساجی آپا نے پتیلا بھر کھیر بانٹنے کے لیے بنائی تھی۔
ز…ؤ…ز
علی امداد اور چچا میاں گھاٹ تک گئے تھے۔ کسی کام کے سلسلے میں‘ بیلا صبح سے اداسی سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھی۔ یہ گھر اسے بہت پیارا تھا۔ جہاں اس کا بچپن گزرا تھا‘ اس کی اور علی امداد کی شرارتیں اور صفی کا ساتھ دینا‘ علی امداد کے نام پر ڈھیروں ستارے اس کی آنکھوں میں اتر آئے… اس رمضان اس نے علی امداد کے لیے بہت سی دعائیں مانگی تھیں۔ علی امداد کی لمبی زندگی کی، صحت کی، خوشیوں کی اور ہاں ملن کی بھی‘ وہ وہیں برگد کے بوڑھے درخت سے ٹیک لگائے خوش کن خیالات میں کھو گئی… ایک نیا دیس… ایک نیا وطن… جہاں گھور کر دیکھنے والا کوئی سکھ دیو نہ ہوگا۔
’’آہ…‘‘ کسی کیڑے نے اچانک سے کاٹا تھا۔ بیلا ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔ ظہر کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ کمرے سے کپڑے اٹھا کے وہ دیوار پار‘ ساجی آپا کے غسل خانے میں چلی آئی… ساجی آپا بے جی کے پاس بیٹھی تھیں۔ وہ بیرونی دروازے تک آئی عادتاً گلی میں جھانکا۔ سکھ دیو پھر رہا تھا اسے دیکھتے ہی زیرلب بڑبڑا کر مونچھوں کو تائو دینے لگا۔
’’بدتمیز…‘‘ بیلا نے لکڑی کے دروازے کو اندر سے کنڈی لگائی اور غسل خانے میں چلی آئی۔
غسل سے فارغ ہوکر برگد کے تنے کے ساتھ جاء نماز بچھا کر وہیں نماز ادا کرنے لگی۔ دو نفلوں کی نیت باندھی تھی جب اسے کسی کے کودنے کی آواز آئی۔ ابا میاں بے حد عجلت میں اندر آئے تھے۔
’’نکلو جلدی بھاگو… جتنی جلدی ہوسکے کوچوان باہر کھڑا ہے۔‘‘ وہ بولتے ہوئے بھاگ بھاگ کے چیزیں اکھٹی کررہے تھے… ساجی آپا بے جی کا ہاتھ تھامے باہر کو لپکیں… صفی‘ اماں کا ہاتھ تھامے باہر نکلا۔ بانو باجی تیزی سے اٹھیں… درد کی شدید لہر ان کے پیٹ میں اٹھی وہ وہیں بیٹھتی چلی گئیں۔
’’عابدہ دلہن‘ تم بانو کو لے کر دروازے تک آئو۔ دلاور دوسرا تانگہ لے کر آیا ہے۔ علی امداد اور اصغر اسٹیشن پر کھڑے ہیں۔‘‘ ابا تیزی سے بولتے ہوئے باہر نکلے۔
وہ تیزی سے پڑھتے ہوئے سلام پھیرنے ہی والی تھی کہ جب پیچھے سے کسی نے آکر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور کھینچتا ہوا کمروں کے پیچھے لے گیا۔ وہ سکھ دیو تھا۔ وہ مزاحمت کی بھر پور کوشش کررہی تھی… اپنے گھر سے اسے بیلا بیلا چلانے کی آواز آرہی تھی۔ دلاور بھائی اسے اونچی آواز سے پکار رہے تھے… انہوں نے ساجی آپا کے گھر میں جھانکا اور آواز دی۔ کوئی نہیں تھا۔ برگد کے پیڑ تلے جاء نماز بچھی تھی۔ چلی گئی ہوگی بڑبڑاتے ہوئے وہ بھی الوداعی نظر گھر پر ڈالتے باہر کی جانب بڑھے۔
سکھ دیو سنگھ کو جب ان کے دور چلے جانے کا یقین ہوا تب وہ بیلا کو اسی طرح کھینچتا ہوا پچھلی گلی سے اپنے گھر لے آیا تھا۔
’’سکھ دیو! اللہ کا واسطہ ہے مجھے جانے دے۔‘‘ وہ رسیوں سے باندھ رہا تھا جب بیلا چلائی۔
’’کوئی فائدہ نہیں… وہ سب چلے گئے۔ نئے دیس چلے گئے۔‘‘ وہ چلاتی رہ گئی، سکھ دیو اسے باندھ کے کمرے کو تالا لگا کے باہر نکل گیا تھا۔
ز…ؤ…ز
وہ سب الگ الگ بوگیوں میں افراتفری میں سوار ہوئے تھے۔ موت کی آہٹ قریب سے سنائی دے رہی تھی جانے کب کیا ہوجائے، سب سہمے ہوئے تھے۔ ہر دل دھڑک رہا تھا۔ لاہور اسٹیشن پر اتر کر سب اکٹھے ہوکر سجدۂ شکر بجا لائے تھے۔
’’بیلا کہاں ہے؟‘‘ ابا نے دلاور سے پوچھا۔
’’وہ تو آپ کے ساتھ تھی ناں۔‘‘ دلاور پریشان ہوا۔
’’میرے ساتھ تو نہیں آئی… میں نے تو جلدی سے ان لڑکیوں کو سوار کرایا تھا باقی سب کو تمہارے ساتھ ہی تو آنا تھا۔‘‘
’’لیکن جب میں تانگہ لایا بیلا کہیں نہیں تھی۔ ساجی آپا کے گھر جاء نماز بچھی تھی مجھے لگا عجلت میں آپ کے ساتھ اٹھ بھاگی ہوگی۔‘‘
’’ہائے… بیلا رہ گئی…‘‘ اماں دونوں ہاتھوں سے سر تھامے نیچے بیٹھتی چلی گئیں۔ سب کا صدمے سے برا حال تھا۔ علی امداد کے جسم سے جیسے روح نکل گئی تھی۔
’’میں دیکھتا ہوں…‘‘ دلاور پریشانی سے واپس مڑا علی امداد بھی اس کے ساتھ ہولیا تھا۔
ہر آنے والے قافلے کے بندے بندے کو دلاور اور علی امداد نے دیکھا مگر بیلا کہیں نہ تھی… ریل گاڑی کی بھی تلاشی لی، لٹے پٹے قافلے آرہے تھے… اکثر ٹرینوں میں سے لاشیں نکلتیں… مگر بیلا ان میں بھی نہ تھی… دلاور اور علی امداد نے واپس جانے کی بھی بے حد کوشش کی مگر کوئی سبیل نہ بن سکی۔ علی امداد کو سو فیصد یقین تھا کہ وہ آئے گی ضرور آئے گی‘ وہ کوئی بچی نہیں تھی… قافلے آرہے تھے کسی ایک قافلے کے ساتھ تو وہ ضرور ہی آئے گی۔ ہر نئی ٹرین کے آنے پر اس کا دل دھڑک اٹھتا… دھڑکتے دل سے ایک ایک کا چہرہ کھوجتا اور پھر وہیں بیٹھ کر دعائیں کرنے لگتا۔
انہیں گھر الاٹ ہوگیا تھا۔ سب گھر میں چلے گئے تھے مگر علی امداد خود کو کھو بیٹھا تھا۔ ان کے سامنے شروع شروع میں ایک دو دن گیا گھر پھر چپکے سے نکل آیا۔
ایک دن اسے پتا چلا… لڑکیوں اور عورتوں کا تبادلہ ہو رہا ہے… ادھر جو ہندو عورتیں رہ گئیں، ادھر بھیجی جارہی ہیں۔ ان کے بدلے میں مسلمان عورتی ادھر سے آرہی ہیں… اس نے بیلا کا نام بھی لکھوا دیا مگر انتظار… انتظار ہی رہا۔ لٹی پٹی لڑکیوں کی کہانیاں اتنی خوف ناک تھیں کہ ساجی آپا‘ بے جی، اماں‘ چاچی دل چھوڑ بیٹھیں جو تھوڑی بہت امید تھی بیلا کے مل جانے کی وہ بھی جاتی رہی۔ اب تو سب یہی دعا کرتیں کہ اسے موت نصیب ہوگئی ہو عزت کی۔
ز…ؤ…ز
بیلا کو اس اندھیری کوٹھڑی میں بند ہوئے چار دن گزر گئے تھے۔ سکھ دیو دن میں تین چار بار آتا اسے کھانا وغیرہ دینے۔ رو رو کے بیلا نے اپنا برا حال کرلیا تھا۔ اب تو مزاحمت کے لیے بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ شام کو سکھ دیو نے اسے اپنی ماں کی ساڑھی باندھنے کو دی‘ تھوڑی دیر بعد وہ اندر آیا تو بیلا جوں کی توں بیٹھی تھی۔ سکھ دیو کا پارہ ایک دم ہائی ہوگیا تھا۔
’’اسے آرام سے پہن کے ساتھ چل میرے… عزت تجھے یوں بھی راس نہیں آرہی‘ چار دن سے رونا برداشت کررہا ہوں تیرا مسلی… مجبور مت کر مجھے۔‘‘ بیلا کے بالوں کو بے دردی سے جھٹکے دیتے ہوئے وہ غراریا تھا… بیلا کا بے ساختہ دل چاہا اس کے منہ پر تھوک دے۔
’’عزت سے بیوی بنانے جارہا ہوں تجھے موتیا‘ تیری سہیلی بھی ادھر ہی ہے۔ رویندر کے تینوں بھائیوں کی اکلوتی بیوی بن کے رہ رہی ہے وہ۔ مجھے ایسی کسی حرکت پر مجبور مت کر…‘‘ اس کی خباثت بھری آواز پر بیلا کا روم روم کانپ اٹھا… خاموشی سے اٹھ کر اس نے ساڑھی باندھی اور سکھ دیو کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔
’’گھونگھٹ نکال لے۔‘‘ دروازے سے باہر نکلتے ہوئے اسے سکھ دیو کی آواز آئی۔
اسے ساتھ لیے سکھ دیو پچھلی گلی کی جانب آیا اور سڑک پار کرکے پگڈنڈی پر لے آیا۔ یہ پگڈنڈی جنگل کی جانب جاتی تھی۔ بیلا کا سارا خوف دم توڑ چکا تھا۔ اس سے برا اور کیا ہوسکتا تھا بھلا وہ چپ چاپ سکھ دیو کے پیچھے چلتی رہی۔ اس کے پائوں کے نیچے کچھ تھا۔ انگلیوں سے محروم پھیلا ہوا ہاتھ شاید اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔ بیلا کو بانو باجی کا علی امداد بے ساختہ یاد آیا۔ اس کے اندر سے سسکیاں سی اٹھنے لگیں۔ یہ سلسلہ محض ہاتھ تک نہ تھا جوں جوں وہ آگے بڑھتے جارہے تھے۔ مختلف اعضاء کٹے پھٹے راستے میں نظر آرہے تھے۔
’’وہ دیکھ… یہ حال ہونا تھا تیرا۔ بچا لیا تجھے میں نے…‘‘ سکھ دیو نے اس کا ہاتھ ایک دم اپنی جانب کھینچ کے سامنے اشارہ کیا۔
’’یا اللہ…‘‘ بیلا کا رواں رواں کانپ اٹھا۔
سامنے آم کے پیڑوں سے دس بارہ لڑکیوں کی برہنہ لاشیں لٹکی ہوئی تھیں۔ خون میں نہائی… کٹے اعضاء اور اکڑے ہوئے بازو… قیامت سی قیامت تھی۔ سکھ دیو ان کے پاس جاتا ایک ایک لاش کو زور سے ہاتھ مار کر چلاتا۔
’’بچا لیا پھر بھی روتی پھرتی ہے تو۔‘‘ دو انگلیوں اور انگوٹھے سے اس کا چہرہ دبوچے وہ احسان مند لہجے میں گویا تھا۔
بیلا کا رواں رواں کانپ رہا تھا‘ آنکھیں سختی سے بند تھیں اور پورے وجود پر لرزہ طاری تھا… وہ یوں ہی آنکھیں بند کیے الٹے پلٹے قدموں سے سکھ دیو کے پیچھے ہولی۔ آگے بڑھتے ہی ذرا سی آنکھیں کھولے اس نے سامنے دیکھا، وہاں ایک نہایت خوب صورت کم سن سی لڑکی کی لاش تھی۔
’’جس کے لیے اتنے خوب صورت لوگوں نے قربانیاں دیں، وہ دیس کیسا ہوگا‘ میرا دیس… میرا وطن… میرا ملک… میں جائوں گی ایک دن وہاں ضرور جائوں گی۔‘‘ ایک عزم تھا جس نے بیلا کی ہمت بندھائی تھی۔
آگے پورا ایک قافلہ لٹا پڑا تھا… بوڑھے… بچے… عورتیں… کہیں کہیں ایک دو نوجوان بھی… وہ بظاہر آنکھیں نیچی کیے ایک ایک چہرے کو کھوج رہی تھی۔ کہیں اس کا کوئی پیارا۔
’’تیرے ہوتے سوتے نہیں ہیں ان میں… نکل گئے تھے وہ پہلے ہی۔‘‘ پیچھے مڑتے سکھ دیو نے اس کا چہرہ پڑھا تھا۔
چہار اطراف سے فصلوں میں گھرا وہ ایک چھوٹا سا گائوں تھا جس میں ایک کچا گھر سکھ دیو کی نانی کا تھا سکھ دیو اسے یہاں ہی لایا تھا۔
’’کسے پکڑ لایا ہے رے؟‘‘ سکھ دیو کی نانی‘ کہانیوں کی نانی جیسی تھی۔ سفید بال‘ جھریوں سے اٹا سفید چہرہ‘ خمیدہ کمر اور رعشہ زدہ ہاتھ۔
’’نوں (بہو) ہے تیری بے جی۔‘‘ سینہ چوڑا کیے پہلوئوں پہ ہاتھ رکھے وہ کسی فاتح کی طرح بولا۔
’’مُسلی ہے کیا؟‘‘ ہاتھوں سے بیلا کو ٹٹولتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھی۔
’’اس سے کیا بے جی جو بھی ہو… ہمارے ساتھ ہماری طرح رہے گی۔‘‘
’’ارے ان مسلیوں کے دل سے ان کا دھرم نہیں جاتا۔‘‘
’’نہ جائے… ہمیں دھرم سے کیا لینا… تو یہ بتا رکھ تو لے گی ناں۔‘‘
’’ارے واہے گرو کی کرپا سے یہ تمہارا ہی تو ہے‘ جم جم آئو… رہو… پھولو… بڑھو…‘‘ نانی بھی اپنی تنہائی سے اکتائی ہوئی لگتی تھی۔
ز…ؤ…ز
دوپہر کو وہ چولہے کے پاس بیٹھی تھی جب سکھ دیو اس کے قریب آیا۔
’’کہا تھا ناں… تجھے ہی ووہٹی بنائوں گا۔‘‘ اسے بغور دیکھتا اس نے کہا۔ بیلا چپ رہی۔ وہ چپ ہی رہتی تھی زیادہ تر اب۔
’’کچھ بولے گی نہیں۔‘‘ سکھ دیو نے بغور اسے دیکھا۔
’’ایک بات پوچھوں۔‘‘ بیلا نے بے حد آس سے پوچھا۔
’’ہاں پوچھ۔‘‘
’’اگر میں اپنے وطن جانا چاہوں تو اس کی کیا قیمت لو گے تم۔‘‘
’’تیری زندگی… پوری زندگی… دن رات… صبح‘ شام اگر تو میرے ساتھ ہنسی خوشی بتائے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ مرنے کے بعد تجھے تیرے دیش پہنچادوں گا…‘‘ بیلا کو اس کا لہجہ نہایت سفاک لگا تھا۔
’’ایک بات سن بیلا‘ یہ دیش ویش کچھ نہیں ہوتے۔ سب مٹی، درخت، ہوا، پانی ایک سے ہیں… جس جگہ آپ ہو وہی دیش ہے۔ واہے گرو نے سب ایک جیسا بنایا ہے۔ جہاں آپ خوش وہی آپ کا دیش… بھلا بتا‘ یہاں کیا تنگی ہے تجھے۔ پہلے نانی تھی، کبھی کبھار بول وول لیتی تھی پر اب تو ہی مالکن ہے… سیاہ سفید کی… پھر بھی خوش نہیں رہتی۔‘‘ وہ خوش کیسے رہتی بھلا اس کا دل اس کے وطن میں دھڑکتا تھا۔ جہاں اس کے گھر والے جاچکے تھے‘ جانے وہ کبھی ان سے مل پائے گی یا نہیں۔
ہمت کرتی تو وہ یہاں سے نکل بھاگتی… پر اس کے بعد… اسے جنگل میں آم کے پیڑوں سے لٹکتی برہنہ کٹی پھٹی لاشیں یاد آتیں… کنوئیں سے پانی بھر کے لاتے وہ چہار اطراف دیکھا کرتی۔ کہیں کوئی راستہ، سرنگ، پگڈنڈی نہ ملتی جو سیدھی اس کے وطن کو جاتی ہو… بیلا کا دیس دور تھا… بہت دور۔
ز…ؤ…ز
اینٹیں دھوتے علی امداد نے دور بہت آس سے دیکھا۔ سرحد کے اس پار اس کی زندگی‘ اس کا دل تھا‘ جینے کا سامان تھا‘ اسے یقین تھا اس کی بیلا زندہ ہے۔ وہ آئے گی… ایک دن ضرور آئے گی۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر اس نے کتنے ہی دن گزارے تھے۔ قافلے کی آخری ٹرین تک… آخری فرد تک کو کھوجا تھا لیکن بیلا نہیں تھی۔ اسے بیلا سے صرف محبت ہی نہیں اسے تو بیلا سے عشق تھا اور اب وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح پھرا کرتا تھا۔ ابھی بھی سرحد کے اس طرف بارڈر کے قریب آرمی کی کوئی عمارت بن رہی تھی وہ وہاں مزدوری کررہا تھا۔ بار بار وہ ایک نظر ادھر بھی ڈال لیتا کہ شاید کوئی جھلک ہی نظر آجائے۔
وہ پاس تھی تو کبھی احساس تک نہ ہوا کہ وہ زندگی کے لیے اتنی ضروری ہے۔ اب پاس نہیں تھی تو رگ رگ کٹتی محسوس ہوتی تھی۔ وہ اٹھا اور سامان باندھنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں وہ قانونی طور سے کبھی اسے ڈھونڈنے وہاں نہیں جاسکتا لیکن یہ طے تھا کہ اسے بارڈر کے قریب کسی علاقے میں جانا ہے… جہاں بیلا کے ہونے کا احساس رہتا تھا۔
ز…ؤ…ز
گائوں میں سے کبھی کبھار کوئی عورت اس کے پاس آکر بیٹھ جایا کرتی تھی… بیلا تو چپ رہتی وہ خود ہی باتیں کرتی اور بیزار ہوکر اٹھ جاتی۔ گیتی تو ہر دوسرے دن آجاتی چکی پر دانے پیسنے کے بہانے… بیلا بھی پاس بیٹھی مدد کروا دیا کرتی۔ آج بھی دونوں چکی کے قریب بیٹھی تھیں… گیتی مٹھی بھر بھر دانے اندر ڈالے جاتی، بیلا چکی گھماتی جاتی… گیتی نے ایک ہاتھ سے ہتھی بھی پکڑ رکھی تھی۔ دوپٹا ایک طرف رکھا تھا۔ چکی کی ہتھی گھماتے بیلا کی نظر اس کے وجود پر پڑی تو اسے الجھن ہونے لگی… عجیب سی گھن کا احساس اس کے اندر جاگا تھا۔ وہ وہیں سب چھوڑ چھوڑ کے اندرکی جانب آگئی… کتنے ہی سال ہوگئے تھے اپنوں کو دیکھے بے جی اور ساجی آپا تو جانے زندہ بھی ہوں گی یا نہیں… اماں، ابا، چاچا، چاچی‘ صفی، دلاور بھائی، بانو باجی اور علی امداد‘ سب اسے بہت یاد آرہے تھے۔
’’علی امداد جس کی آنکھوں میں میں دن میں بھی جگنو اترتے‘ ستارے چمکتے تھے اور وہ سب خواب جو دونوں نے ایک دوسرے سے کہے نہیں تھے، مگر مل کے بنے تھے… ان کہی خواہشیں جو دونوں کو مل کر پوری کرنا تھیں۔‘‘
’’آہ میرا دیس… میرے دیس کے باسی…‘‘ وہ سب کو یاد کرتے ہوئے بلک رہی تھی… روتے ہوئے اس کے پیٹ میں ٹیس سی اٹھی، تکلیف کا احساس جاگا… نفرت کا بھرپور احساس اس کے اندر اٹھا وہ باہر لپکی… گیتی آٹے کی پرات اٹھائے جارہی تھی۔ اس کے وجود کو بیلا نے نفرت بھری نگاہ سے دیکھا اور کچی سیڑھیوں کی جانب آگئی۔ آخری سیڑھی پر بیٹھتے ہی اس نے قلابازی کھائی۔ دس بارہ سیڑھوں سے لڑھکتی وہ نیچے آگری… تکلیف حد سے سوا تھی۔ نیچے آنے تک کچی جگہ کی وجہ سے کوئی گہری چوٹ نہ آئی تھی۔ اسے سکھ دیو سنگھ کی نسل نہیں بڑھانا تھی۔ وہ سکھ دیو کو ناجانے کسے برداشت کررہی تھی۔ یہی تکلیف بہت تھی۔
ز…ؤ…ز
ملگجے اندھیرے نے ابھی سویرے کا چولا نہ پہنا تھا‘ آنکھیں ملتی بیلا اٹھی تو بان کی چار پائی چرچرائی۔ سکھ دیو نے آنکھیں کھول کے ایک نظر بیلا کو دیکھا… چند لمحوں بعد وہ واپس آکر لیٹ گئی۔ سکھ دیو نے اس کی بھیگی کلائیوں اور چہرے کو دیکھا آنکھیں بند تھیں البتہ ہونٹ ہل رہے تھے۔ دائیں ہاتھ کی انگلی کھڑی تھی۔ سکھ دیو کو ہنسی آگئی۔ بے چاری چپکے چپکے اپنے رب کی پوجا کررہی ہے سکھ کی پتنی ہو کر… سکھ کے گھر میں بیٹھ کر۔
’’بیساکھی کا تہوار شروع ہورہا ہے کل سے چلو گی؟‘‘ اس نے اچانک پوچھا تو بیلا نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں۔
’’تمہاری مرضی…‘‘ بیلا آہستگی سے بولی۔
شروع دنوں میں سکھ دیو کا اس کے ساتھ برتائو اچھا تھا، حالانکہ تب بیلا مزاحمت بھی بہت کیا کرتی تھی… اس کے بعد آہستہ آہستہ جارحانہ ہوتا گیا۔ بات بہ بات مار کٹائی، گالم گلوچ… اب آہستہ آہستہ پھر نارمل ہوتا جارہا تھا۔ ابھی بھی غصہ آتا تو وہ بیلا کو دھنک کے رکھ دیتا مگر پہلے والا حساب نہ تھا۔
’’کل صبح تیار رہنا۔‘‘ آنکھیں دوبارہ موندنے سے پہلے اس نے بیلا کو ہدایت دی۔
اگلے دن بیلا کو ساتھ لیے وہ پیدل ہی چل پڑا۔ تین کلو میٹر کے فاصلے پر میلہ لگا تھا۔ ہر سو چہل پہل سی تھی… ڈھول کی آواز دور سے ہی آرہی تھی۔ زیادہ تر لوگ ننگے پائوں ہی تھے۔ عورتیں شوخ رنگوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ جشن کا سا سماں تھا۔ سکھ دیو جو بھی چیز لینے کو کہتا بیلا انکار کردیتی… اسے ایسے منظر اب خوشی نہ دیتے تھے۔ عجیب وحشت اس کے وجود میں برپا تھی۔ دل چاہتا ابھی یہاں سے بھاگ جائے لیکن ایک خوف تھا اس کے اندر بیٹھا ہوا… اسے پکڑ لیا جائے گا۔
’’مسلی ہے… مسلی ہے۔‘‘ کہہ کر سنگسار کردیا جائے گا یا اسے جنگل میں درختوں سے لٹکتی لاشوں کے ساتھ لٹکا دیا جائے گا۔
ز…ؤ…ز
ماہ و سال نے ایک سا چولا پہن رکھا تھا۔ دن ایک سی چھب روز دکھلاتا اور گزر جاتا۔ راتیں ایک سی تاریک اور طویل بیلا کے سر میں چاندی جھانکنے لگی تھی۔ وجود خزاں زدہ ہوا جاتا تھا لیکن اپنے پیاروں سے ملنے کی امید ابھی بھی اس کے اندر نہ صرف زندہ تھی بلکہ جوان تھی۔
سکھ دیو کا دوست آیا ہوا تھا۔ بیلا اس کے کھانے کے انتظام میں لگی ہوئی تھی۔ آلو پیاز چھیل کے مٹی کی ہانڈی میں ڈالے‘ چولہے کے نیچے سرکنڈوں میں آگ سلگائی اور چھلکے پھینکنے کو چوکی سے اٹھی… سکھ دیو اور اس کا دوست باتوں میں محو تھے۔
’’ارے ایویں بکواس کرتے ہیں سفارتی تعلقات والے… یہ آلو جو اس بار کم ہوئے ہیں تو ادھر سے منگوائے ہیں… یہ مسلوں کے ہاتھوں کی محنت ہے، جس کی ہم بھاجی بنا رہے ہیں۔‘‘ آلو کے چھلکے کوڑے میں پھینکتی بیلا ایک دم ٹھٹھکی‘ سب چھلکے آنچل میں چھپائے‘ اندر چلی آئی۔ میرے وطن کی مٹی… میرے دیس کی مٹی کا ہنر… وہ آلوئوں کے چھلکوں کو چومتی اور روتی جاتی تھی۔
رات اس نے روٹی نہایت رغبت سے کھائی تھی۔ اسے لگا تھا شاید صدیوں بعد کوئی لقمہ حلق سے اترا ہے۔ آلوئوں کے چھلکے بیلا نے نہایت تقدس سے کاغذ میں لپیٹ کے کپڑوں میں چھپا دیے تھے۔ رات کتنے ہی موتی اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر بکھرے تھے۔
’’کیا کبھی کسی قلم کار کے نوک قلم سے میرے جذبے لکھے جائیں گے؟ میری کہانی پڑھی جائے گی یا میں بھی ان درجنوں لڑکیوں کی طرح گمنام بھلا دی جائوں گی۔ وطن کے لیے میری قربانی پوشیدہ ہی رہے گی۔‘‘ رات اس کے سوالوں سے نظر چراتی گزر رہی تھی۔
ز…ؤ…ز
کھانسی کا ایک شدید دورہ تھا، جس کی زد میں اس وقت سکھ دیو آیا ہوا تھا۔ آٹا گوندھتی بیلا بھاگ کر آئی۔ گھڑونچی سے گلاس میں پانی نکالا اور سکھ دیو کے لبوں سے لگایا دوسرے ہاتھ سے پیٹھ سہلائی۔ کافی دنوں سے سکھ دیو کو کھانسی ہورہی تھی۔ حکیم سے پڑیا لایا تھا مگر کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا کھانستے کھانستے وہ دہرا ہوجاتا… بیلا پانی لبوں سے لگاتی‘ پیٹھ سہلاتی… مگر اب تو کھانسی کے ساتھ بلغم اور خون کا فوارہ سا نکلتا… غلاظت سے کپڑے بھیگ جاتے۔ بیلا خاموشی سے سب صاف کردیتی۔ کپڑے تبدیل کرواتی… خود اس کے بوڑھے ہاتھوں میں اب اتنا دم نہ رہا تھا مگر جتنا ہوسکتا ضرور کرتی۔
’’تجھے مجھ سے گھن نہیں آتی‘ نفرت محسوس نہیں ہوتی؟‘‘ سکھ دیو پوچھتا۔
’’میرے دین نے مجھے بیمار سے نفرت نہیں سکھائی۔‘‘
’’اور حالات نے؟‘‘
’’حالات کا کیا بھروسا‘ حالات میں مذہب جتنی طاقت نہیں ہوتی۔‘‘
’’ایک بات سن…‘‘ وہ جانے لگی تھی کہ سکھ دیو نے اپنے بوڑھے کانپتے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ پکڑا۔
’’ایک بار تو نے پوچھا تھا ناں… اپنی رہائی کی قیمت‘ میں نے زندگی کہا تھا… تو نے چکادی قیمت بیلا… تو نے قیمت چکادی… میں رہائی کا پروانہ دیتا ہوں۔ جا تجھے قید سے آزادی کی نوید دیتا ہوں… تجھے تیرے دیس کی مٹی مبارک ہو بیل… جا اپنے دیس چلی جا۔‘‘ یہ ایک ایسی بات تھی جسے سننے کو بیلا کے کان برسوں ترسے تھے۔ امید کے دیے کو اس نے بجھنے نہیں دیا تھا… خوشی سے بیلا کا جسم رعشہ زدہ ہوگیا تھا۔
ز…ؤ…ز
سہ پہر ڈھلی تو ریت نے گرم لبادہ آہستہ آہستہ بدلنا شروع کیا۔ کیپٹن احمد نواز نے پردہ سرکا کر باہر جھانکا۔ بوڑھا اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے خیمہ ٹھیک کررہا تھا۔ آج ریت کا طوفان آیا تھا۔ جس نے ہر چیز تلپٹ کردی تھی۔ چھوٹے موٹے ریتیلے طوفان اکثر ہی آیا کرتے تھے۔ صد شکر کہ بڑا طوفان کبھی نہ آیا تھا۔ ورنہ بوڑھا ریت کے اندر دھنسا ملتا۔ اپنی پہلی پوسٹنگ سے بھی پہلے اس نے بوڑھے کو یہاں پایا تھا۔ تنہا ہر چیز سے بے نیاز۔ یہاں تعینات افراد کے لیے جو کھانا آتا اس میں اسے بھی شریک کرلیا جاتا۔ وہ نہایت کم بولتا بس پہروں بارڈر کے اس جانب تکتا رہتا تھا۔
بارڈر کے اس جانب بھی صحرا ہی تھا، کسی ذی روح کا نظر آنا ناممکنات میں سے تھا۔ پھر جانے بوڑھا کسے تکتا رہتا تھا کل سے شدید بخار کی لپیٹ میں تھا۔ صبح ناشتے کے بعد احمد نواز نے اسے دوائی کھلائی‘ بے حد لاغر ہورہا تھا۔ آج احمد نواز چھٹی پہ جارہا تھا۔ اپنے سب ساتھیوں سے زیادہ وہ ہی بوڑھے کا خیال رکھتا تھا۔ آج بھی ضرورت کا تمام سامان، پانی اور خوراک کے ڈبے وہ بوڑھے کے خیمے میں رکھ کر جارہا تھا۔ افسردہ دل سے اس نے بوڑھے کو اللہ حافظ کہا۔ اسے نجانے کیوں بوڑھے سے اپنائیت سی محسوس ہونے لگی تھی۔
ز…ؤ…ز
پچھلے دو دن سے سکھ دیو کہیں غائب تھا۔ بے حد خراب طبیعت میں اسے آزادی کی خوش خبری سناکر خود نجانے کہاں غائب ہوگیا تھا۔ بیلا کا رواں رواں خوشی سے کانپتا رہتا تھا۔ اسے لگتا یہ خوشی اس کی جان ہی لے لے گی۔ وہ اپنے دیس جا رہی تھی۔ اپنے وطن… اپنے ملک اپنے پاکستان میں… خوشی سے اس کا دل گویا پھٹا جا رہا تھا۔ وہ اپنوں میں جا رہی تھی… نجانے کون کون زندہ ہوگا۔ وہ خود بوڑھی ہو گئی تھی… اس کے بوڑھے تو قبروں کو سدھار چکے ہوں گے۔ چلو قبریں دیکھ ہی لے گی فاتحہ ہی پڑھ لے گی۔
دلاور بھائی تو ہوں گے ہی۔ بانو باجی اور اس کے بچے‘ صفی اور علی امداد بھی تو… اس کی دھڑکنیں علی امداد کے نام پہ رک سی گئیں۔ کیا امداد علی میرا منتظر ہوگا؟ پھر خود ہی مسکرا دی۔ ایک امداد علی ہی کیوں سارا ملک میرے انتظار میں ہوگا۔ سب کھڑے ہوکر میرا استقبال کریں گے۔ جشن منائے جائیں گے، چراغاں ہوگا… میں اپنی جوانی، اپنے ماہ و سال اس ملک کے لیے قربان کرکے آرہی ہوں۔ استقبال میرا حق ہے… بیلا آگئی۔ بیلا اپنے دیس آگئی، کی صدائیں ملک بھر میں گونجیں گی۔ سوچتے سوچتے وہ تھک کے گر سی گئی۔
’’نہیں نہیں مجھے ابھی نہیں مرنا… مجھے اپنے دیس جانا ہے…‘‘ ہانپتی کانپتی وہ تمام توانائیاں جمع کرکے اٹھی اور پانی پینے لگی۔ زندگی میں پہلی بار وہ موت سے خوف زدہ ہوئی تھی۔
شام سے ذرا پہلے سکھ دیو آگیا تھا اور اسے ساتھ چلنے کو کہا تھا۔ بیلا ان ہی کپڑوں میں ان ہی قدموں سے چل پڑی تھی۔ وہ اپنے وطن جا رہی تھی۔ اپنے دیس… اپنے پیاروں کے پاس۔ رات انہوں نے کسی جنگل میں بسر کی تھی۔ مسافت ایسی طویل ہوئی جارہی تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھی یا شاید بیلاہی زیادہ پُرجوش ہورہی تھی… گھر سے پیدل نکلے تھے۔ پھر ایک لوکل بس میں سفر کیا تھا۔ تڑکے اٹھ کے پیدل چلے تھے۔ وہاں سے تانگہ لے کے سکھ دیو کے دوست کے گائوں آئے تھے اور اب پھر سے سفر جاری تھا۔
بیرونی طور سے بیلا کا تھکن سے بڑا حال تھا اور اندرونی طور سے خوشی سے۔ زیادہ تر وہ گھر میں ہی رہی تھی۔ عرصہ دراز بعد سفر کررہی تھی۔ تب ہی سفر نے اسے بری طرح تھکا دیا تھا۔ بوڑھا جسم حرارت زدہ ہورہا تھا۔ یہ اس کی اندرونی خوشی ہی تھی۔ جس نے اس کے اندر توانائی بھر دی تھی۔ ورنہ جسمانی طور سے تو وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔
یہ اس سے بھی اگلے دن صبح کی بات ہے۔ جب دونوں صحرا میں جا پہنچے تھے… بیلا سے قدم اٹھانا دوبھر ہورہا تھا۔ سکھ دیو کی کھانسی کا بھی برا حال تھا۔ خون تھوک تھوک کر وہ نڈھال ہوا جارہا تھا۔
’’بس بیلا ذرا سی اور ہمت… تیرا دیس بلا رہا ہے تجھے…‘‘ ہانپتے سکھ دیو نے اس کی ہمت بندھائی تھی۔ چند ہی قدم آگے چلے تھے کہ ایک باڑ سی نظر آنے لگی۔
’’دیکھ بیلا… وہ باڑ کے اس طرف تیرا دیس ہے… میں نے سب پتا کروایا ہے کوئی تجھے کچھ نہ کہے گا ادھر… ادھر تو تیرے اپنے لوگ ہی ہوں گے ناں، یہاں زیادہ سخت پہرہ نہیں لیکن پھر بھی جلدی نکل لے…‘‘ ہانپتا ہوا سکھ دیو نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ سکھ دیو کی حالت خراب ہورہی تھی… بیلا تذبذب میں پڑ گئی تھی۔
’’جا بیلا جا…‘‘ بیلا نے مڑکے دیکھا۔ وہ دونوں ہاتھ باندھے ہوئے تھا۔ آنکھوں سے آنسو پونچھے… لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
یہ وہ شخص تھا جس سے اس نے بے پناہ نفرت کی تھی اور یہی وہ شخص تھا جو اسے زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے چلا تھا۔ آنسو صاف کرتی وہ آگے بڑھی… چند قدم عبور کرکے پھر پیچھے دیکھا۔ سکھ دیو وہیں بیٹھا تھا… بیلا کی اپنی سانس گلے میں اٹکنے لگی مگر ہمت‘ موت کو شکت دینے والی تھی۔ لرزتے ہانپتے اس نے باڑ عبور کرکے اس نگری کو الوداع کہا۔ توانائی مجتمع کرکے چند قدم آگے بڑھ کے سجدہ ریز ہوگئی… اس دھرتی کو چومنے کی خاطر کتنے سال بتادیے تھے… وہ اپنے دیس آگئی تھی… اپنے وطن میں… اپنے ملک میں… اپنی نگری میں… اس سا خوش قسمت بھی کوئی ہوگا۔
ریت کی خوشبو اس نے اپنے اندر بسائی… اس سے اٹھا نہیں گیا۔ وہ یونہی لیٹے لیٹے آگے رینگنے لگی… وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اس کا ایمان مکمل ہونے جارہا تھا… وہ سرکتے سرکتے ہانپنے لگی تھی کہ اسے سامنے سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آیا… ایک نئی توانائی اس کے اندر ابھری تھی وہ پھر سے رینگنے لگی۔
ز…ؤ…ز
بوڑھے بے ہوش پڑے وجود میں جان کی ذرا سی رمق باقی تھی… وہ خیمے سے ذرا دور بے سدھ پڑا تھا۔ صبح سے وہ اسی حالت میں تھا۔ یونہی ریت پہ الٹا چت لیٹے اس نے بازو پھیلا رکھے تھے۔
’’تو پھر یہ طے ٹھہرا بیلا کہ میں جیتے جی دوبارہ تمہیں نہیں دیکھ سکتا…‘‘ نیم جاں آنکھوں سے سامنے دیکھتے وہ بڑبڑایا اور اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا‘ اس سے ذرا سے فاصلے پر اسی کے انداز میں کوئی نسوانی وجود لیٹا تھا۔
’’بیلا…؟‘‘ علی امداد کی بوڑھی‘ انتظار کھائی آنکھوں میں بے یقینی ابھری۔
’’بیلا…‘‘ وہ چنگھاڑا۔ بند ہوتی پلکوں کو پوری ہمت سے دوبارہ کھول کر بیلا نے سامنے دیکھا۔
’’علی امداد…‘‘ بند ہوتے ہونٹ ذرا سے ہلے تھے۔ خوشی کی ایک زور دار لہر اس کے بے جان ہوتے وجود میں دوڑ گئی تھی۔
علی امداد پوری جان لگا کر آگے سرکا مگر ہانپتے ہوئے ریت میں دھنس سا گیا۔ آخری بچی کھچی ہمت اس نے جمع کی اور ہاتھ آگے سرکایا اور بیلا کے بوڑھے استخوانی ہاتھ کو اس کے ہاتھ نے ڈھانپ لیا… بند آنکھ کی جھری سے بیلا نے دیکھا اور مسکائی… وہ اپنے وطن میں اپنے پیاروں کے پاس پہنچ گئی تھی۔
ز…ؤ…ز
قلم کار نے دکھتے ہاتھ کو دبایا… بھیگی گزری رات سے آنکھ چرائی اور اختتام کو سوچنے لگی مگر محبت کا اختتام کہاں ہوتا ہے؟ محبت وطن سے ہو یا محبوب سے‘ چاہنے والے فنا ہوجاتے ہیں‘ محبت باقی رہتی ہے‘ اس کا سفر چلتا رہتا ہے‘ محبت جو کائنات کی اساس ہے‘ اس کا کوئی اختتام نہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close