Hijaab Jul-18

ہومیو کارنر

طلعت نظامی

ملیریا (Malaria)
لفظ Malaria (ملیریا) اطالوی (Atalian) زبان سے لیا گیا ہے جو کہ دو الفاظ سے ماخود ہے Mala کے لغوی معنی Bad اور Aria کے معنی ’’ہوا‘‘ کے ہیں یہ لفظ سب سے پہلے اٹلی میں استعمال ہوا ان کے مطابق یہ وہ بیماری ہے جو کہ دلدلی علاقوں کی کثیف ہوا سے پھیلتی ہے۔
1880ء میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر (Laveran) لیورن نے یہ ثابت کیا کہ یہ ایک خاص قسم کی مادہ مچھ (Anopheles) نامی کے کاٹنے سے انسان کے جسم میں داخل ہو کر اس کے خون میں رہتا ہے۔
ملیریا کی تعریف: ملیریا ایک متعدی مرض ہے جو کہ خون میں ایک خاص قسم کے کرم کی موجودگی سے پیدا ہوتا ہے بخار کا ہونا تلی اور جگر کا بڑھ جانا اور کمزوری وغیرہ اس مرض کی خاص علامات ہیں۔
ملیریا ایک ایسی اصطلاع ہے جو کہ چند ایک قسم کے شدید بخاروں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کا سبب پروٹوزوا قسم کے جراثیم طفیلی Parasites ہیں ان جراثیم کے اصطلاحی نام حسب ذیل ہیں۔
پلازموڈیم ملیریائی (Plasmodium Malariae) پلازموڈیم وائی ویکس (Plasmodium Vivax) پلازموڈیم اوویل (Plasmodium Ovale)ý پلاموڈیم فالسی بیرم (P.Falci Patum) ان چاروں جراثیم کو ملیریا کے جراثیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ملیریا کے یہ جراثیم خاص قسم کے مچھروں کے کاٹنے سے جسم انسان میں داخل ہو کر اس کے خون میں پرورش پاتے ہیں لیکن مچھر کے توسط کے بغیر یہ جراثیم مریض ملیریا کے جسم سے تندرست آدمی کے جسم میں داخل نہیں ہوسکتے پس ان جراثیم ملیریا کی زندگی کے دو دور ہیں ایک دور انسانی جسم میں اور دوسرا دور مچھر کے جسم میں۔ انسان ان جراثیم کا مستقل میزبان ہے اور مچھر ان کا متوسط میزبان۔
ملیریا کا کرم صرف انسانی خون میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ اس سے ملتے جلتے کرم کتے‘ مینڈک‘ چمگاڈر‘ مرغی وغیرہ کے خون میں بھی پائے جاتے ہیں پرندوں کے خون کا کرم ملیریا بہت حد تک انسانی خون کرم ملیریا سے مشابہت رکھتا ہے ایک عرصہ تک محقیقین کی یہی رائے تھی کہ دونوں کرم ایک ہی قسم کے ہیں لیکن اب یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ انسانی خون میں مذکورہ تین قسم کے ہی کرم ملیریا پائے جاتے ہیں۔
ملیریا زمانہ قدیم سے ہی انسان کا خونخوار دشمن چلا آرہا ہے قدیم یونانی اور رومی اطباء نے اس کا ذکر کیا ہے حکیم بقراط (460 ق م) اور رومی حکیم کلسوس (25 ق م) اور حکیم جانیوس وغیرہ نے ملیریائی بخاروں کا ذکر کیا ہے یہ مرض دنیا کے تمام حصوں میں موجود ہے شروع میں اس کا سبب خراب اور زہریلی ہوا کو سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ ملیریا اور مچھر کا کچھ نہ کچھ تعلق ضروری ہے اٹلی کے کاشتکار ایک عرصہ سے اس بات کو جانتے ہیں کہ جب وہ نمناک سبزہ‘ دار اور دلدلی زمینوں میں جاتے ہیں تو وہاں پر ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے انہیں بخار ہوجاتا ہے آخر کار 1880 میں ڈاکٹر لیورن نے جراثیم ملیریا کو دریافت کیا اور 1895 میں ڈاکٹر راس (Ross) نے یہ عقدہ حال کیا کہ ایک خاص قسم کا مچھر ان جراثیم کو انسان کے جسم میں داخل کرتا ہے۔
پلازموڈیم وائیویکس:۔
ان جراثیم کے پھیلائے ہوئے ملیریا کا دورہ 48 گھنٹے کے بعد Repeat ہوتا ہے یا بخار ہرتیسرے دن چڑھتا ہے اس وجہ سے اسے (Tertian Fever) بھی کہتے ہیں۔
پلازموڈیم ملیریا:۔
اس جراثیم کے پھیلائے ہوئے ملیریا میں بخار 72 گھنٹے بعد دوبارہ چڑھتا ہے اس وجہ سے اس کو Quarten Fever کہتے ہیں۔
پلازموڈیم فیلسی پیرم:۔
اس جراثیم کے پھیلائے ہوئے ملیریاکا دورہ 40 سے 48 گھنٹے کے بعد دوبارہ Repeat ہوتا ہے بعض اوقات یہ وقفہ 15 سے 20 گھنٹے کا رہ جاتا ہے یا پھر بعض حالتوں میں وقت کی بالکل قید نہیں ہوتی اس وجہ سے اس کو Irregular Fever بھی کہتے ہیں۔
ملیریال پیرا سائٹ کے دو میزبان (Hosts) ہوتے ہیں۔
انسان اور دوسرا مادہ انوفلیز مچھر۔
جراثیم ملیریا (Malarial Parasite)
اگر مریض ملیریا کے خون کے ایک قطرہ کو خورد بین کے نیچے ایک خاص طریقہ سے دیکھا جائے تو خون کے سرخ دانوں کے اندر سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے نقطے نظر آتے ہیں جو مختلف اشکال کے ہوتے ہیں یہی نقطے ملیریا کے جراثیم ہوتے ہیں جو خون کے سرخ دانوں میں رہتے ہیں۔
جراثیم ملیریا کی پیدائش توldا سے بھی ہوتی ہے اور تناسل سے بھی چنانچہ طریق تولد سے تو یہ انسان کے خون میں بڑھتے ہیں اور بطریق تناسل مچھر کے جسم میں جو جراثیم بطریق تولید بڑھتے ہیں انہیں جراثیم تولدی (Sporocytes) کہتے ہیں اور جو بطریق تناسل بڑھتے ہیں انہیں جراثیم تناسل (Gamocytes) کہتے ہیں۔
انسانی جسم میں ملیریا کے جراثیم کا دورہ حیات
(A Sexual Life Cycle)
جب کوئی مادہ انوفلیز مچھر (Female Anopheles Mosquito) جس کے Salivary Glands میں ملیریا پیرا سائٹ موجود ہوں کسی صحت مند انسان کو کاٹتی ہے تو زخم کے اندر ملیریل پیرا سائٹ داخل کردیتی ہے ان کو Sporo Zoites کہتے ہیں یہ باریک دھاگوں کی شکل کی ہوتے ہیں ان کے دونوں سرے نوکدار ہوتے ہیں اور درمیان میں نیو کلیئس ہوتا ہے اسپوروز وائٹ خون میں شامل ہو کر جگر میں داخل ہوجاتے ہیں جگر کے خلیات میں تین چاریوم رہتے ہیں وہاں ان کی شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ بار بار تقسیم ہوتے ہیں تین چار دن کے بعد جن کو ہم (Cryptozoites) کہتے ہیں واپس خون میں آجاتے ہیں اور خون میں موجود Red Blood Cells میں داخل ہوجاتے ہیں جب پیراسائٹ RBC میں ہوتے ہیں اس وقت ان کو Trophozoites کہتے ہیں جو کہ RBC کی شکل میں گول ہوتے ہیں RBC کی موجودگی کے دوران یہ اپنی شکلیں تبدیل کرتے ہیں پہلے ان میں خلا بنے گا اور نیو کلیئس ایک طرف کو چلا جاتا ہے اس کو Ring Stage کہتے ہیں۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close