Hijaab Jul-18

میری عید تم سے ہے

زارا رضوان

’’تین دِن ہوگئے تمہیں دیکھے ہوئے‘ تمہیں دیکھے بغیر میرے دِن کس طرح گزر رہے تھے‘ تم اندازہ نہیں کرسکتی‘ کب سے تمہارا اِنتظار کررہا تھا‘ آج آئی ہو پورے چار دِن بعد‘ ہمیشہ کی طرح بیگانی بن کر پاس سے یوں گزر گئی جیسے دیکھا ہی نہ ہو۔ کب تک دِل کو پتھر بنائے رکھو گی۔ خدارا اب تو دوستی کا ہاتھ تھام لو۔ میں تمہارے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔ اگر تم نے کوئی جواب نہ دیا تو میں سیدھا تمہارے گھر پہنچ جاؤں گا رِشتہ لے کر‘ کہوں گا تمہاری رضا مندی سے آیا ہوں۔‘‘ اِتنی بڑی دھمکی سن کر وہ شدتِ خوف سے کانپنے لگی۔ خط کا ہر لفظ اُسے خنجر محسوس ہورہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کوئی تیز چاقو سے اس کی عزت کو تار تار کرنے کے در پے ہو۔ چور نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھا اور کانپتے ہاتھوں سے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ڈسٹ بن کی نذر کردیا۔
یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری تھا۔ کالج کے سامنے سڑک کے کنارے ایک درخت تھا۔ جہاں ہر کوئی اپنی مطلوبہ بس کے اِنتظار میں کھڑا ہوتا تھا تو کوئی چھاؤں کی غرض سے کھڑا ہوتا۔ وہیں ایک روز وہ وین کا اِنتظار کررہی تھی جب کسی اجنبی نے اسے مخاطب کیا۔ تحریم نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ تو سر پر سوار ہی ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد وین آگئی تو اُس نے کلمہ شکر اَدا کیا اور عہد کیا کہ اب اُس پیڑ کے نیچے کھڑی نہ ہوگی۔ کچھ دِنوں تک وہ یہ بات بھول گئی۔ ایک دِن اُس نے پتھر پر کاغذ لپیٹ کر اس کی طرف پھینکا۔ بہت ہی عامیانہ اور تھرڈ کلاس حرکت تھی۔ ایک پل کو تو تحریم سن ہوکر رہ گئی لیکن پتھر پر لپٹا خط اب بھی نہ اُٹھایا تھا۔
’’اُٹھا لیں مس ورنہ ہاتھ میں لیٹر پکڑا دوںگا۔‘‘ سب سے نظریں بچا کر اُس نے کہا اور جھٹ بائیک اسٹارٹ کرکے یہ جا وہ جا۔ تحریم پریشان ہوگئی۔ یہ وہی لڑکا تھا جو کچھ دِن پہلے اسے تنگ کررہا تھا۔
ہر دو تین دِن کے بعد سب سے نظریں بچا کر کاغذ کو بال کی شکل دے کر اس کی طرف پھینک دیتا جس میں فون نمبر دینے کی استدعا اور دوستی قبول کرنے کی درخواست ہوتی۔ تحریم کا دِل مٹھی میں آجاتا۔ وہ کسی کو کچھ بتانے کی ہمت کررہی تھی نہ خود کچھ کرسکتی تھی۔
’’اگر وہ واقعی گھر پہنچ گیا تو؟ یااللہ میری مدد فرما‘ کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے یہ۔ کیسے روکوں اسے؟ کس کس کو یقین دِلاؤں گی…‘‘
’’تحریم۔‘‘ سر گھٹنوں میں دیئے وہ رو دینے کو تھی لیکن سعیدہ بیگم کی آواز سن کر فوراً کتاب کھول لی اور پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔
’’کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ سعیدہ بیگم نے اُس کے چہرے کو دیکھ کر پوچھا جو زرد ہورہا تھا اور آنکھیں چھلکنے کو بے تاب۔
’’جی جی بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ وہ ایک دم بوکھلا گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔
’’لگ تو نہیں رہی۔‘‘ سعیدہ زمان نے ایسے دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہوں کہ آیا وہ سچ کہہ رہی ہے۔
’’سر میں بہت درد ہے۔‘‘
’’تم بیٹھو میں کھانا یہیں لادیتی ہوں۔ کھانا کھا کر ٹیبلیٹ کھا لینا اور آرام کرنا۔‘‘
’’نہیں امی بھوک نہیں۔ ایک کپ چائے کا مل جاتا تو…‘‘
’’میں لاتی ہوں۔‘‘ سعیدہ بیگم کے جاتے ہی تحریم کو اپنی بوکھلاہٹ کا احساس ہوا۔ ’’امی کیا سوچتی ہوں گی؟ کیا ان کو اعتماد میں لے کر سب بتا دوں؟ نہیں نہیں‘ ایسا نہیں کرسکتی وہ پریشان ہو جائیں گی۔ پیپرز میں کچھ دِن باقی ہیں پھر کون سا کالج جانا ہوگا۔‘‘ وہ سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گئی۔
٭…٭٭…٭
’’کیا بات ہے تحریم؟ میں دیکھ رہی ہوں تم پچھلے کئی دِنوں سے پریشان ہو؟‘‘ سعیدہ زمان نے پوچھا تو چائے کا کپ ہونٹوں تک لے جاتے تحریم کے ہاتھ لمحہ بھر کو کانپے لیکن جلد ہی خود پر قابو پالیا۔ ماں کی نظروں سے ہاتھوں کی کپکپاہٹ چھپ نہ سکی۔
’’نہیں امی۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ اِمتحان سر پر ہیں اس لیے تھوڑا…‘‘
’’جھوٹ مت بولو۔ آج سے پہلے تو اِمتحانوں کو سر پر سوار نہیں کیا؟‘‘ سعیدہ زمان نے قدرے غصے سے کہا۔
’’امی یقین کریں ایسی کوئی بات نہیں۔ اگر ہوتی تو آپ کو بتاتی؟‘‘ لہجے کو بہت حد تک نارمل کیا۔
’’پکی بات ہے؟ دیکھو اگر کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ۔‘‘
’’امی ایسی کوئی بات ہوتی تو آپ سے شئیر کرتی بلکہ ضرور شئیر کرتی۔ آپ بس دُعا کیجئے کہ اللہ کامیاب کرے۔‘‘ تحریم نے اپنے لہجے اور بوکھلاہٹ پر کافی حد تک قابو پاکر سعیدہ بیگم کو اپنے تئیں مطمئن کردیا تھا۔
’’اللہ کامیاب کرے۔‘‘ اُنہوں نے صدقِ دِل سے دُعا دی لیکن مطمئن وہ اب تک نہ ہوئی تھیں۔
٭…٭٭…٭
’’ہیلو‘ تحریم‘ کہاں گم ہو؟‘‘ ہانیہ نے اسے سوچ میں گم دیکھ کر چٹکی بجائی تو وہ ایک دم چونکی۔
’’ہاں ہاں سب ٹھیک ہے۔ بس یونہی طبیعت کچھ…‘‘
’’طبیعت خرابی کا بہانہ مت بنانا۔ طبیعت خراب کم از کم ایسے تو نہیں ہوتی۔ فرق ہے اِس میں اور پریشانی میں۔‘‘ ہانیہ نے فوراً بات کاٹ کر کہا تو تحریم سر جھکانے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔
’’بولو بھی کیا مسئلہ ہے تم مجھ سے شئیر کرسکتی ہو۔‘‘ ہانیہ نے اپنا ہاتھ تحریم کے ہاتھ پر رکھا تو اُس نے اپنے دِل کا بوجھ ہلکا کرنے میں عافیت جانی اور اسے ساری صورت حال بتادی۔
’’یہ بات ہے۔ کب سے پیچھے لگا ہوا ہے؟‘‘
’’ڈھائی ماہ‘ پتہ نہیں کون ہے‘ کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے؟ ہر دوسرے دِن حاضر ہو جاتا ہے۔‘‘ تحریم کے لہجے میں بے بسی تھی۔
’’لوفر ہوتے ہیں ایسے لڑکے۔ کسی نہ کسی کو پھنسانے کے لیے ایسی اوچھی حرکتیں کرتے ہیں۔ اسے تو میں ٹھیک کروا لوں گی۔‘‘ ہانیہ نے کہا۔
’’اُس نے گھر آنے کی دھمکی دی ہے ہانی۔ اگر وہ واقعی آگیا تو…؟‘‘
’’میرے بہنوئی پولیس میں ہیں۔ ان کو کہوں گی۔ وہ اپنے گھر کا راستہ بھول جائے گا تمہارے گھر آنا تو دور کی بات ہے۔ کل سے یہ تمہیں نظر نہیں آئے گا۔‘‘ ہانیہ نے یقین دہانی کرائی۔
اور ویسا ہی ہوا جیسا ہانیہ نے کہا تھا۔ وہ پھر کبھی نظر نہ آیا۔ تحریم نے سکھ کا سانس لیا اور پیپرز کی تیاری دِلجمعی سے کرنے لگی۔ جیسے ہی تحریم کے اِمتحان ختم ہوئے مسز زمان کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہوگئی اور ایک جگہ مناسب رِشتہ دیکھ کر بات پکی کردی۔
٭…٭٭…٭
’’کیسی ہو‘ کہاں غائب تھی اِتنے دِن‘ میرے میسجز کا جواب کیوں نہیں دے رہی؟‘‘ تحریم سے گلے ملتے ہانیہ نے سوالات کی بوچھاڑ کردی۔
’’ارے ارے سانس تو لو میں ٹھیک ہوں اللہ کا کرم ہے۔ دراصل آج تمہیں شادی کا کارڈ دینے آئی ہوں۔‘‘ تحریم نے جواب دیا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’شادی۔ آہاں۔ شکر ہے تمہیں بھابی مل گئی۔‘‘ ہانیہ نے کارڈ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’ہانیہ…‘‘ ہانیہ نے سوالیہ نظروں سے تحریم کو دیکھا۔
’’یہ میری شادی کا کارڈ ہے۔ احسن بھائی کی شادی بڑی عید کے بعد طے پائی ہے۔‘‘ مسکراتے ہوئے اُس نے بتایا۔
’’مبارک ہو تمہیں۔‘‘ ہانیہ کے الفاظ اس کے لہجے اور چہرے کے تاثرات کے منافی تھے جسے تحریم نے محسوس کیا۔
’’کیا ہوا تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟‘‘
’’یہ کیسی بات کی تم نے؟ مجھے بھلا خوشی کیوں نہیں ہو گی۔ اچانک سنا تو تھوڑا حیران ہوں۔ تم نے تو مزید پڑھنا تھا ناں؟‘‘
’’ہاں پڑھنا تھا مگر امی نے کہا اِتنی پڑھائی کافی ہے۔ اُن کے آگے بولنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ بات ان کی بھی درست ہے۔ جتنا شعور آیا کافی ہے۔ البتہ شوہر نے اِجازت دی تو ضرور پڑھوںگی آگے۔‘‘ اُس ڈر کو زبان پر نہ لاسکی جس کی وجہ سے وہ ماں کی بات مان گئی تھی۔ اُسے معلوم تھا ہانیہ اسے قائل کرلے گی‘ قائل وہ ہونا نہ چاہتی تھی۔ اُس شخص کا خوف اِس قدر حاوی تھا کہ وہ خود کو اب تک اس سے نکال ہی نہ پائی تھی۔ حالانکہ ہانیہ کے کہنے کے مطابق اُس دِن کے بعد سے وہ اسے نظر تک نہ آیا تھا۔ آخری پیپر والے دِن تحریم نے اس کی جھلک دیکھی پر وہم سمجھ کر جھٹک دیا کیونکہ وہ ہوتا تو سامنے آتا ضرور۔ پر اُس اِنسان کا خوف پنجے گاڑے ہوئے تھا۔
’’اللہ تمہارا نصیب اچھا کرے۔ آمین۔‘‘
’’شکریہ ہانیہ۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔ بہت کام باقی ہیں۔‘‘
’’کس کے ساتھ جاؤ گی؟‘‘ ہانیہ نے پوچھا۔
’’بھائی کے ساتھ۔‘‘
’’کیا مطلب؟ احسن بھائی کے ساتھ آئی ہو؟ وہ باہر کھڑے ہیں اور تم نے مجھے بتایا نہیں۔ حد کرتی ہو یار۔ ان کو اندر بلا لیتی یا کم از کم بتا دیتی میں باہر بھجوا دیتی کچھ حد کرتی ہو۔‘‘
’’ارے یار اِتنا فارمل ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ بس کھڑے کھڑے ہی لائے ہیں مجھے۔ تب ہی تو زیادہ وقت بیٹھ نہیں سکی۔‘‘
’’تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ۔ میں ان کو کولڈ ڈرنک بھجوا دوں۔‘‘ وہ تحریم کو چھوڑ کر کچن میں بھاگی۔
’’حماد بھائی یہ کولڈ ڈرنک باہر دے آئیں۔‘‘ ٹرے حماد کو پکڑائی جو ٹائی کی ناٹ ٹھیک کرتا ہوا وہاں سے گزر رہا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ تحریم نے فوراً سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام! کیسی ہیں؟‘‘ حماد نے ٹرے پکڑتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ بالکل ٹھیک ہے مگر احسن بھائی باہر کھڑے کھڑے جم گئے ہیں اِس بیوقوف کی وجہ سے۔‘‘ ہانیہ نے اسے دھکیلتے ہوئے کہا تو تحریم ہنس دی۔
’’خیر سے آئی تھی تحریم؟‘‘ جیسے ہی وہ گئی حماد نے ہانیہ سے پوچھا۔ جواب میں ہانیہ نے کچھ کہنے کی بجائے شادی کا کارڈ آگے رکھ دیا۔ وہ کتنی ہی دیر کارڈ ہاتھوں میں لیے بیٹھا رہا۔ ہانیہ کا اِس وقت کچھ بھی کہنا بیکار ہوتا لہٰذا وہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی۔
ہم آپ اپنا مقدر سنوار لیتے مگر
ہمارے ہاتھ کف کوزہ گر نہیں آیا
٭…٭٭…٭
’’تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ کتنا کہا تھا مجھے اپنی محبت کا اظہار کرنے دو یا میری محبت کی خوشبو اُس تک پہنچا دو مگر تم نے… تم نے۔‘‘ اس نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا تو آنسوؤں نے بات مکمل ہونے سے پہلے آنکھوں میں ڈیرہ جما لیا۔ ہانیہ کا دِل بھر آیا۔ آج پہلی بار اُس نے حماد کو اِس قدر غمگین اور بکھرا ہوا دیکھا تھا۔ چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر حماد کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
’’حماد بھائی ایسی کون سی بہن ہوگی جو اپنے بھائی کی خوشی نہ چاہتی ہوگی؟ میں چاہتی تھی مناسب وقت آنے پر بات کی جائے اور امی آپ کا رِشتہ لے کر جائیں۔ مجھے کیا پتہ تھا سب اِتنی جلدی ہوجائے گا۔ میرا یقین کریں حماد بھائی۔‘‘ ہانیہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی خوشیوں کو واپس لائے۔
’’محبت… مل جائے تو سکونِ زندگی اور اگر نہ ملے تو اِنسان کو مار دیتی ہے‘ ختم کردیتی ہے‘ روح تار تار ہو جاتی ہے‘ جھلسا کر رکھ دیتی ہے سارا وجود‘ میں تو اب تک سمجھ نہیں پایا کہ زندہ کیوں ہوں۔‘‘
’’حماد بھائی یک طرفہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ میں جانتی ہوں یہاں غلطی مجھ سے ہوئی اور سزا آپ کو ملی۔‘‘ آنسوؤں کا پھندا اس کے گلے اٹکا۔
’’ہانی…‘‘ حماد سے اس کا رونا دیکھا نہ گیا۔ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی‘ جان سے پیاری اور حماد کی تو اُْس میں جان تھی۔
’’تم نے کوئی غلطی نہیں کی ہانی۔ تم وہی چاہتی تھی جو ہر بہن چاہتی ہے کہ والدین رِشتہ لے کر جائیں بجائے اِس کے کہ لڑکا خود پہلے اِظہارِ محبت کرے۔ تم نے وہی کیا جو واقعی کرنا چاہیے۔‘‘
’’بھائی اُن کے گھر کا ماحول الگ قسم کا ہے۔ تحریم فرماں بردار ہے۔ اُس نے وہی کیا جو اس کے والدین چاہتے ہیں۔ ہم سب کی طرح وہ بھی جانتی ہے کہ والدین اولاد کے لیے برا نہیں سوچ سکتے۔ تبھی میں چاہتی تھی امی رِشتہ لے کر جائیں تاکہ اِنکار کی کہیں گنجائش نہ ہو۔‘‘ ہانیہ نے مزید صفائی دی۔
’’اگر میری محبت میں اثر ہوا تو وہ مجھے ضرور ملے گی۔‘‘
’’کیا مطلب؟ آپ کو اب بھی ملنے کی اُمید ہے جبکہ اس کی شادی ہے۔‘‘ ہانیہ حماد کی بات سن کر حیران ہوئی۔
’’کچھ نہیں تم جائو میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ہانیہ نے مزید کچھ کہے بنا چلی گئی۔
٭…٭٭…٭
شادی کا دِن بھی آن پہنچا ہانیہ سارا وقت تحریم کے ساتھ رہی۔ جب بھی حماد کی طرف دیکھتی دِل بے چین ہو جاتا۔ احسن کے ساتھ کھڑا حماد گاہے بگاہے تحریم پر نظر ڈالتا تو اُس کے پہلو میں بیٹھے شخص کو دیکھ کر اپنے دل پر بوجھ محسوس کرتا۔
’’کاش تمہاری شادی اِتنی جلدی نہ ہوتی۔‘‘ ہانیہ نے تحریم کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا۔
’’جلد یا بدیر ہونی تو تھی ناں۔‘‘ تحریم نے نظریں جھکائے جواب دیا۔
’’جلدی ہونی تھی تو حماد بھائی کے ساتھ کیوں نہیں۔‘‘ ہانیہ کو بے وقوفی کا احساس ہوا۔
’’میں ابھی آتی ہوں۔‘‘ وہ سہولت سے وہاں سے اُٹھ گئی۔ تحریم اس کی بات پر الجھ گئی پر بات کو قابلِ غور نہ سمجھ کر خاموش رہی۔ وقت کا کام ہے گزرنا سو گزر گیا اور تحریم رخصت ہوکر اپنے گھر چلی گئی۔
٭…٭٭…٭
آواز سن کر تحریم سمٹ سی گئی‘ مدھم مسکراہٹ ہونٹوں کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ ارمغان نے گھونگھٹ اُٹھایا تو تحریم کا سر مزید جھک گیا۔
’’میں نے کہا تھا نہ میں تمہارے گھر پہنچ جاؤں گا رِشتہ لے کر۔‘‘ تحریم کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔
’’دیکھ لو۔ اپنا کہا سچ کر دِکھایا۔‘‘ منہ دِکھائی کے لیے لائی گئی انگوٹھی اس کے سامنے پھینکتے ہوئے ارمغان حیدر نے کمینگی سے کہا تو بت بنی تحریم کا سر سرعت سے اوپر اُٹھا۔ اُس شخص کو مجازی خدا کے روپ میں دیکھ کر دِل کٹ کر رہ گیا۔
’’یااللہ… یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا؟ آخر کون سا گناہ کیا تھا جس کی اِتنی بڑی سزا ملی؟‘‘ وہ دِل ہی دِل میں اللہ سے شکوہ کناں ہورہی تھی۔
’’میں ایک شریف لڑکی ہوں اور شریف لڑکیاں ایسے راہ چلتے لڑکوں کی دوستیاں قبول نہیں کرتیں۔ اگر آپ مجھے پسند کرتے تھے تو اوچھی حرکتوں کی بجائے سیدھے طریقے سے رِشتہ میرے گھر بھیج دیتے۔‘‘ تحریم نے دِل پر جبر کرکے کہا۔ جو بھی تھا اب وہ اس کا شوہر تھا۔
’’پسند… نو وے۔ میں صرف دوستی کرنا چاہتا تھا تحریم زمان۔ میری منگنی دو سال پہلے ہی میری محبت یعنی میری خالہ زاد کزن کے ساتھ طے ہوچکی ہے۔‘‘ ٹائی اُتار کر بیڈ پر پھینکی۔
’’پھر مجھ سے شادی کیوں کی؟‘‘ تحریم کی آنکھوں میں شکوہ تھا جسے وہ بے حس دیکھ نہ سکا۔
’’بدلہ۔‘‘ جوتے اتارتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
’’کیسا بدلہ… میں نے کیا کیا؟‘‘
’’تم نے کیا نہیں کیا… اُس پولیس والے کو بھیج کر میری جو اِنسلٹ کروائی اس کا بدلہ‘ دو دِن حوالات میں مار کھائی اُس کا بدلہ‘ میرے منہ اور جسم پر مار کے جو نشانات پڑے اس کا بدلہ۔ پھر کہتی ہو تم نے کیا کیا ہنہ میں جب تک کسی سے بدلہ نہ لے لوں سکون کا سانس نہیں لیتا اور تم وہ ہو جس نے مجھے ذلیل کروایا۔‘‘ جوتا اُتار کر شدت سے سامنے دیوار پر دے مارا۔ تحریم کا جسم لرز رہا تھا۔
تحریم کہہ نہ سکی کہ تم جیسے اوباش اور آوارہ لڑکوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے جو لڑکیوں کو سرِ راہ تنگ کرتے ہیں۔ جتنے ماہ اس کی وجہ سے وہ اذیت میں رہی یہ مار کم تھی جو اسے دو دِن پڑی۔ وہ کہہ نہ سکی۔ زندگی گزارنے کے لیے اسے خاموش ہی رہنا تھا مگر یہ اس کی بھول تھی۔ اس کی سزا اِتنی طویل نہ تھی۔
’’میں نے جو کیا اپنی عزت بچانے کی خاطر۔‘‘ وہ سسک اُٹھی۔
’’خاموش‘ ایک لفظ اور نہیں تحریم زمان۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر چلایا تو تحریم کا دِل لرزگیا۔ وہ بیڈ کے کونے پر بیٹھ گئی۔
’’میں… میں تحریم ارمغان حیدر ہوں آپ کی بیوی۔‘‘ اُس نے ضبط سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا جیسے خود اِس حقیقت کو جھٹلانا چاہتی ہو۔
’’بیوی‘ ہنہ صرف ایک رات کے لیے بلکہ یوں کہہ لو کہ چند گھنٹوں کے لیے دیکھتا ہوں کیسے عزت بچا سکو گی اپنی۔ کیا جواب دو گی سب کو کہ کیوں پہلی ہی رات شوہر نے چھوڑ دیا؟ بات کرتی ہو عزت کی۔‘‘ ارمغان نے حقارت سے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’میں ارمغان حیدر تمہیں پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں‘ طلاق دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں… نہیں ایسا مت کریں۔‘‘ اُس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے جیسے یہ ناپسندیدہ لفظ ٹل جائے گا۔ کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلے الفاظ کب واپس آتے ہیں۔ اُس کے بعد کیا ہوا اُسے کچھ خبر نہ تھی۔
٭…٭٭…٭
’’شکر ہے تمہیں ہوش آیا۔‘‘ سعیدہ زمان نے اس کے ہوش میں آتے ہی کلمہ شکر اَدا کیا۔
’’کاش میں کبھی ہوش میں نہ آتی۔ بے ہوشی میں ہی مر جاتی۔‘‘ وہ سسکی۔
’’اللہ نہ کرے۔‘‘ زمان صاحب تڑپ اُٹھے۔
’’ایسی زندگی کی خواہش کس لڑکی کو ہوگی ابو جان؟ کون ہوگی جو ایک ہی رات میں لٹ کر ماں باپ کی دہلیز پر آنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہتی ہوگی؟ آپ لوگوں کی عزت پر دھبہ لگ گیا۔ مر جاتی تو آپ لوگ کچھ بھی کہہ دیتے کہ کیوں مری۔ مگر اب، اب کس کس کو جواب دیں گے۔‘‘ تحریم نے سچائی بیان کی۔
’’اللہ نے یہ تھوڑی سی تکلیف دے کر ہمیں بہت بڑی تکلیف سے بچالیا ہے بیٹا۔ اُس کا جتنا شکر اَدا کریں کم ہے۔‘‘ سعیدہ زمان نے کہا تو تحریم نے حیرانگی سے دیکھا۔
’’یہ تکلیف تھوڑی سی ہے؟‘‘
’’ہاں گڑیا یہ تکلیف تھوڑی سی ہے۔ اُس تکلیف کے مقابلے میں بہت کم جو شاید تمہیں بعد میں ملتی۔ ارمغان جیسے لڑکے سے کچھ بعید نہیں تھا۔ وہ جن لوگوں کے ساتھ رِشتہ لے کر آیا تھا وہ اس کے والدین نہیں تھے۔ وہ گھر بھی ان کا نہیں تھا۔ کچھ دِنوں کے لیے کرائے پر لیا گیا تھا۔ شکر ہے وہ بد ذات جانے سے پہلے ایک اچھا کام کر گیا جو تمہاری اطلاع ہمیں دے دی ورنہ جانے تم کب تک وہاں بے ہوش پڑی رہتی۔‘‘ احسن نے تفصیل بتائی۔
’’آخر اُس نے یہ سب کیوں کیا؟ کیوں کھیلا ہماری بچی کی اور ہماری عزت سے۔‘‘ زمان صاحب سر پکڑے بیٹھے تھے۔ رِشتے داروں کے سوالوں سے خائف تھے۔ ابھی تک کسی کو خبر نہ تھی اِس واقعے کی مگر یہ بات چھپی بھی نہ رہ سکتی تھی۔
’’اُس نے یہ سب مجھ سے بدلہ لینے کے لیے کیا۔‘‘ تحریم نے ساری بات گھر والوں کو بتا دی۔
’’تو تم اس لیے پریشان رہتی تھی۔ میں نے پوچھا بھی تھا مگر تم نے نہ بتایا۔ اگر مجھے بتا دیتی تو آج یہ دِن نہ دیکھنا پڑتا۔‘‘ مسز زمان نے افسوس سے کہا۔
’’امی اگر بتا بھی دیتی تو کیا کرلیتے ہم؟ وہی جو ہانیہ کے بہنوئی نے کیا۔ پھر بھی وہ ایسے ہی رِشتہ لے کر آتا۔ ہم نے کون سا دیکھا ہوا تھا اسے۔‘‘ احسن نے کہا تو زمان صاحب نے ہاں میں ہاں ملائی۔
’’احسن ٹھیک کہہ رہا ہے۔ چلو جو ہونا تھا ہو گیا۔ لکیر کو پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
’’لکیر ساری زندگی پیٹی جائے گی ابو۔ بار بار ڈھکے چھپے لفظوں میں کبھی واضح لفظوں میں ہماری عزت کو تار تار کیا جائے گا‘ مجھے گناہ گار ٹھہرایا جائے گا‘ طلاق یافتہ ہونے کا طعنہ دیا جائے گا۔ مرد جیسا بھی ہو اُس پر ایک حرف نہیں آتا۔ عورت بے گناہ ہوکر بھی گناہ گار ہو جاتی ہے۔‘‘ وہ سسک پڑی۔
’’آہ… یہی تو ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ مرد کچھ بھی کرلے اُس پر کوئی حرف نہیں آتا‘ ہر بات سے بری الذمہ۔ عورت باحیا‘ پاک دامن اور بے گناہ بھی ہو تو معاشرہ اسے جینے نہیں دیتا۔ بار بار اس کی روح کو طنزیہ باتوں‘ طعنوں کے نشتر چلا کر زخمی کیا جاتا ہے۔‘‘ حریم نے پہلی بار زبان کھولی۔ اُس نے اپنے والد کو دیکھا جن کی کمر جھکی ہوئی تھی۔ ایک ہی دِن میں وہ برسوں کے بیمار دکھنے لگے تھے۔
’’میرے اور ابو کے ہوتے تمہاری روح کو کوئی چھلنی نہیں کرے گا۔ میں دیکھتا ہوں لوگ کیسے باتیں بناتے ہیں۔‘‘
’’مارنے والے کا ہاتھ پکڑ سکتے ہیں بھائی پر بولنے والی کی زبان نہیں روک سکتے۔ ابھی تو آپ کے سسرال والوں کو علم نہیں اِس بات کا۔‘‘ حریم نے کہا جو تحریم کے گرد بازو حائل کرکے بیٹھی ہوئی تھی جیسے اسے زمانے کی تپتی دھوپ سے بچانا چاہتی ہو۔
’’علم ہو بھی جائے تو کیا کرسکتے ہیں بیٹا۔ احسن تم رِشتہ داروں اور دیگر احباب کو فون کرکے بتا دو کہ مجبوری کی بنا پر ولیمہ کینسل کردیا ہے لڑکے والوں نے۔ آئندہ کی دیکھی جائے گی کیا ہوتا ہے۔ اب تم لوگ جاؤ۔ تحریم کو آرام کرنے دو۔ حریم تم یہیں رہنا بہن کے پاس۔‘‘ زمان صاحب نے کہا اور سست قدموں سے چلے گئے۔ مسز زمان نے تحریم کو پیار کیا اور احسن کی پیروی میں کمرے باہر چلی گئیں۔
٭…٭٭…٭
نک سک سی تیار ہانیہ اپنی والدہ کے ہمراہ تحریم کے گھر پہنچی تو سناٹا دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ اسے لگا سب ہال کے لیے نکل چکے ہیں۔ گھڑی کی طرف دیکھا جو ساڑھے آٹھ بجا رہی تھی اِس حساب سے وہ آدھا گھنٹہ پہلے پہنچے تھے۔
’’امی لگتا ہے سب جاچکے ہیں۔‘‘
’’ہاں شاید مگر کوئی نہ کوئی تو ہوگا ورنہ گھر لاکڈ ہوتا۔‘‘ ہانیہ کی والدہ نے کہا۔
’’ہانیہ آپ… السلام علیکم آنٹی۔‘‘ ہانیہ اور اس کی والدہ کو دیکھ کر احسن پریشان ہوگیا۔ اُس نے تو ولیمہ کینسل کی اِطلاع سب کو دے دی تھی۔ اس کے علم میں نہ تھا کہ ہانیہ مدعو ہے۔
’’حماد بھائی چھوڑ گئے ہیں تاکہ ہال آپ لوگوں کے ساتھ چلے جائیں۔ ان کو کچھ کام تھا اور ہال کافی دور ہے اس لیے۔‘‘ احسن کو دیکھ کر اُس نے کلمہ شکر اَدا کیا‘ ساتھ ہی ہمیشہ کی طرح عادتاً تفصیلی جواب دیا۔
’’لگتا ہے سب ہال جاچکے ہیں۔‘‘
’’نہیں آنٹی سب گھر پر ہی ہیں۔ دراصل کچھ وجوہات کی بناء پر ولیمہ کینسل کردیا گیا ہے۔‘‘
’’سب ٹھیک تو ہے احسن بھائی؟‘‘ ہانیہ کو حماد کی بے چینی یاد آئی۔ اُس کا دِل تحریم کو لے کر بے چین تھا۔
’’آپ لوگ آیئے بیٹھیں پلیز۔‘‘ احسن کو یاد آیا تو بیٹھنے کا کہا۔
’’بتایئے کیا ہوا؟‘‘ ہانیہ نے بیٹھتے ہی پوچھا۔ احسن نے ساری بات ان کو بتا دی۔
’’تم لوگوں نے چھان بین نہیں کروائی تھی؟‘‘ ہانیہ کی والدہ نے پوچھا۔
’’گھر کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ ابھی کچھ ٹائم پہلے ہی شفٹنگ کی ہے اس لیے لوگوں سے مراسم نہیں۔ لڑکے کی نئی جاب لگی تھی۔ وہاں جاکر معلوم کیا تھا سب نے کہا اچھا لڑکا ہے‘ بظاہر کوئی برائی نظر نہیں آئی تھی۔‘‘
’’کیسے کیسے لوگ ہیں دُنیا میں۔ بدلہ لینے کے لیے کوئی اِس حد تک کیسے جاسکتا ہے۔ ایک لڑکی کی نہیں پوری فیملی کی عزت خراب کردی تف ہے ایسے اِنسان پر میں ذرا سعیدہ سے مل لوں۔‘‘ ہانیہ کی والدہ دُکھی دِل سے بولیں اور احسن کے ساتھ سعیدہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ ہانیہ وہیں خاموش بیٹھی رہی۔
٭…٭٭…٭
’’دُعا کا کوئی رنگ نہیں ہوتا مگر یہ رنگ لے آتی ہے‘ اثر رکھتی ہے۔ مجھے دُعاؤں کی قبولیت کا یقین تھا۔‘‘ ہانیہ کی بات سن کر حماد نے کہا تو ہانیہ نے عجیب نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا۔
’’آپ بہت مطلبی ہیں۔ اُس کی زندگی خراب ہوگئی‘ انکل آنٹی کی عزت پر بات آگئی اور آپ کو…‘‘ ہانیہ نے قصداً بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’محبت مطلبی اور خود غرض بنا دیتی ہے شاید مگر اللہ گواہ ہے میں نے دِل سے اس کی خوشیوں کے لیے دُعا کی تھی۔ اپنے دِل کو سمجھا لیا تھا اُس کا نام کسی اور کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں ہانی میرا دِل بار بار کہتا تھا وہ میرا مقدر و نصیب ہے‘ مجھے لگتا تھا اسے میرا ہی ہونا ہے۔ تحریم کی زندگی ضرور روشن ہوگی ہانی۔ جیسے روشنی اندھیرے کو چاٹ لیتی ہے بالکل اِسی طرح میں اس کی زندگی کا اندھیرا بھی دور کردوں گا۔ میں اُس کو اندھیرے سے نکال کر روشنیوں کی طرف لے جاؤں گا۔ انکل آنٹی کا کھویا ہوا وقار ان کو واپس ملے گا۔‘‘
’’اِن شاء اللہ۔‘‘ ہانیہ نے دِل سے کہا۔
’’تمہیں امی سے جلد بات کرنا ہوگی۔ اب کی بار تاخیر نہیں کرنی گڑیا۔‘‘
’’بالکل نہیں بھائی۔ میں آج ہی بات کروں گی امی سے ایسا کرتی ہوں سنبل آپی اور فرقان بھائی کو بھی فون کرکے بلا لیتے ہیں۔‘‘ حماد نے کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہانیہ نے امی سے بات کی اور انہیں حماد کی محبت کے بارے میں بتایا کہ کس طرح وہ تحریم سے خاموش محبت کرتا ہے اور اس کی شادی کو لے کر کسی قدر پریشان تھا۔ امی سوچ میں پڑ گئی تھیں۔ ایک طلاق یافتہ کو بہو بنا کر لوگوں کی باتوں کا سامنا کرنا انہیں مشکل لگ رہا تھا لیکن اولاد کی محبت میں وہ ہار گئیں اور ہانیہ نے انہیں قائل کرلیا تھا‘ جب ہی وہ حماد کا رشتہ لے جانے پر تیار ہوئیں تھیں۔
٭…٭٭…٭
’’ہم کیا کہیں بہن۔ آپ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں تو بہتر۔ یہ کچھ دِنوں یا مہینوں کا سفر نہیں عمر بھر کی بات ہے۔‘‘ زمان صاحب نے رسانیت سے کہا۔
’’ہم نے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہے انکل۔ ہم اِس رِشتے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ بدقسمتی سے یہ سب ہوگیا۔‘‘ ہانیہ نے کہا۔
’’بھائی صاحب میں یقین دِلاتی ہوں آپ کو ہم سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ تحریم سب تلخیاں بھول جائے گی۔‘‘
’’ہمیں کوئی اعتراض نہیں بہن بلکہ ہم مشکور ہیں اور آپ کی اعلیٰ سوچ کے معترف بھی۔‘‘ سعیدہ زمان نے پہلی بار زبان کھولی۔ وہ اب تک بے یقین سی سب باتیں سن رہی تھیں۔
’’تحریم کا پتہ نہیں کیا ردِ عمل ہو۔ ابھی اِس بات کو کچھ دِن بھی نہیں گزرے کہ وہ بھول سکے۔‘‘ احسن نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
’’وقت سب ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ بے شک پیچھے اچھا برا ماضی چھوڑ جاتا ہے مگر ہم اس کے پیچھے بھاگ کر اپنا حال و مستقبل داؤ پر نہیں لگاسکتے۔‘‘ فرقان علی نے کہا۔
’’تحریم سے میں بات کرلوں گی وہ میری بات کو سمجھے گی۔‘‘ مسز سعیدہ زمان نے کہا۔
’’بس پھر بات پکی ہوگئی۔ ڈیرھ ماہ بعد خیر سے رمضان ہے۔ ہم آخری عشرے میں شگن دے جائیں گے اور عید کے تیسرے دِن بارات لے کر پہنچ جائیں گے اپنی دُلہن لینے۔‘‘ ہانیہ کی امی نے بات پکی کردی۔ حریم نے سب کا منہ میٹھا کروایا۔
٭…٭٭…٭
گھر میں سب ویسے ہی چل رہا تھا جیسے کوئی نئی بات نہ ہوئی ہو۔ تحریم آہستہ آہستہ اِس فیز سے نکل رہی تھی۔ زمان صاحب اور احسن نے مل کر سب حالات سنبھال لیے تھے۔ اسے کسی بات کے لیے جواب دہ نہ ہونا پڑا۔ کس طرح دونوں نے مل کر ہینڈل کیا‘ کس طرح احسن کے سسرال والوں کو قائل کیا تحریم کو کچھ پتہ نہ چلا۔ رمضان شروع ہوگئے۔ تحریم نے اُسی طرح اہتمام کیا جیسے وہ پہلے کرتی تھی۔ اُسی طرح خشوع و خضوع سے عبادت کی روزے رکھے۔ اکیسویں روزے کو مسز تنویر‘ ہانیہ‘ سنبل‘ فرقان باقاعدہ شگن کے لیے آئیں۔
’’کیسی ہو تحریم؟‘‘ ہانیہ نے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
’’اچھی ہوں۔‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’وہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ تم بہت اچھی ہو۔‘‘ سنبل نے کہا۔
سب باتیں کرنے لگے۔ افطاری میں کچھ دیر باقی تھی۔ افطاری کے بعد مسز زمان نے تحریم کو تیار ہونے کا کہا۔
’’کس لیے؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
مسز تنویر کا ارادہ ظاہر کرتے اس کے سامنے کپڑے اور جیولری رکھتے ہوئے کہا۔ لہجے میں جھجھک و خوف تھا جانے اس کا کیا ری ایکشن ہو۔
’’شگن…! کیسا شگن؟‘‘ وہ ایک دم کھڑی ہوگئی۔
’’میں بتاتی ہوں آنٹی آپ کو امی بلا رہی ہیں۔‘‘ ہانیہ نے مسز زمان کی مشکل آسان کی۔
’’ہم نے حماد بھائی کے لیے تمہارا ہاتھ مانگا ہے۔ آج چھوٹی سی رسم کرنے آئے ہیں اور عید کے تیسرے دِن شادی۔‘‘
’’واٹ…! اِتنا سب کچھ ہوگیا اور کسی نے مجھے مطلع کرنا ضروری نہ سمجھا۔ میری زندگی کا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘
’’وہ تمہارے والدین ہیں تمہارا برا نہیں چاہیں گے تحریم۔ ہاں پہلے جو ہوا اُس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اُنہوں نے اپنے طور پر تسلی کرکے شادی کی تھی۔ یہ بات تم سے اس لیے چھپائی کہ تم جس فیز میں تھی اِس بات کو نہ سمجھتی بلکہ تم سمجھتی کہ ہم یہ سب ہمدردی میں کررہے ہیں۔‘‘ ہانیہ نے رسان سے سمجھایا۔
’’یہ میں اب بھی کہہ سکتی ہوں؟ وہ کڑا اور سخت وقت گزر گیا لیکن مجھ پر لگا دھبہ نہیں مٹا نہ مٹ سکتا ہے۔‘‘ تحریم نے طنز کیا۔
’’تم غلط سمجھ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہے۔ حماد بھائی تمہیں بہت پہلے سے پسند کرتے تھے۔ مجھ سے کئی بار اپنی پسندیدگی کا اِظہار بھی کیا پر میں چاہتی تھی کہ پہلے تمہارے پیپرز ہو جائیں پھر امی کو بتاؤں گی۔ مگر اُس سے پہلے ہی سب ہاتھ سے نکل چکا تھا۔‘‘
’’واقعی سب ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ میں تہی داماں ہوں کسی کو کیا دے سکتی ہوں؟‘‘ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ آپ کی بھول ہے آپی۔ جو گزر چکا ہے برا وقت تھا۔ اب اچھا وقت آپ کا منتظر ہے۔ آپ نے پہلے بھی امی ابو کا مان رکھا تھا ان کی پسند پر سر جھکا کر۔ اب بھی ان کا مان رکھ لیں۔ یقین مانیں اِس بار آپ کا مان نہیں ٹوٹے گا۔‘‘ حریم نے اُس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’بیٹیاں تو ہوتی ہی والدین کا مان ہیں جو ہمیشہ سے ہی اُن کا مان رکھتی آئی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ اُن کے والدین کبھی غلط نہیں کریں گے نہ ان کا برا سوچیں گے۔ وہ اپنی بیٹی کو سب دیتے ہیں مگر یہ جو قسمت ہے ناں اِس کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔ حوا کی بیٹی ہار جاتی ہے قسمت کے ہاتھوں۔‘‘ ہانیہ کی امی نے حریم کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’اب کی بار حوا کی بیٹی جیتے گی تحریم۔ حماد بھائی تمہیں کبھی ہارنے نہیں دیں گے۔‘‘ ہانیہ نے یقین دہانی کروائی۔
’’اگر سب مردوں کی سوچ حماد بھائی جیسی ہو جائے تو کسی کی بیٹی دُکھی نہ ہو‘ پامال نہ ہو‘ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی گناہ گار نہ ہو۔ آپ بہت لکی ہیں آپی جسے اِتنی اچھی فیملی ملی۔‘‘ حریم نے کہا اور کپڑے اس کے سامنے کیے۔ وہ جانتی تھی اس کی بہن مان جائے گی۔ تحریم نے کپڑے اُٹھائے اور چینج کرنے چلی گئی۔
٭…٭٭…٭
’’میں حماد… سوچا آپ سے تھوڑی بات کرلوں۔ اِجازت ہو تو فون کرلوں؟‘‘ انجان نمبر سے میسج موصول ہوا تحریم نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
’’میں مزید اِصرار نہیں کروں گا۔ یو جسٹ ریلیکس پلیز۔‘‘ جواب نہ پاکر ایک اور میسج کیا۔ تحریم کو شرمندگی نے آن گھیرا۔ جو شخص اسے اپنا رہا ہے‘ اسے اور اس کے گھر والوں کو عزت دے رہا ہے وہ اُسی کے ساتھ ایسا کررہی ہے۔ اُس نے جواب میں تھینکس کا میسج کردیا۔ حماد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھا گئی۔ چلو کچھ بھی صحیح جواب تو دیا ساتھ ہی ایک اور شعر میسج کردیا اور موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔
یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے
وہ دِن میں کئی کئی شعر میسج کرتا جس میں ڈھکے چھپے لفظوں میں اِظہارِ محبت ہوتا۔ تحریم پڑھ کوئی رسپانس نہ دیتی۔ کبھی کسی شعر پر پہروں بیٹھ کر سوچتی اور کسی شعر پر دِل عجیب لے پر دھڑکنے لگتا۔ آخری عشرہ ختم ہونے میں کچھ دِن باقی تھے۔ عید کی تیاری کے ساتھ شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ وہ بالکل نارمل ہوچکی تھی اس کی محبت کا اعجاز تھا یا اپنانے کا شرف۔ جو بھی تھا وہ خوشیوں کی طرف لوٹ رہی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ اچھے وقت کے لیے اُسے برے وقت کو بھلانا ہوگا۔ یاد کرنے سے سوائے تکلیف کے حاصل بھی کیا ہونا۔
خیال یار میں بیٹھے ہوئے ہمیں اکثر
گزرتے شام و سحر کا پتہ نہیں چلتا
فوراً دوسرا میسج بھیجا
میں تبسم فروش ہوں شاید
لوگ مجھ کو نہیں اداس پسند
’’اداس لوگ ناپسند ہیں تو زندگی کیسے گزاریں گے؟‘‘ تحریم نے کسی خیال کے زیرِ اثر پوچھا۔ حماد کتنی دیر حیران رہا۔ وہ رسپانس کی توقع نہیں کررہا تھا۔
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموشِ عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آگئے
’’جیسے ہر شادی شدہ جوڑا گزارتا ہے خوش و خرم‘ پر سکون‘ محبت و اعتماد سے بھرپور۔‘‘ شعر کے فوراً بعد اس کی بات کا جواب دیا۔ تحریم نے میسج پڑھ کر موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔
چاند رات کو مسز تنویر تحریم کی عیدی لے کر آئیں۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ تحریم کے ساتھ سب نے دِل سے خوشیوں کے قائم رہنے کی دُعا کی۔ ہانیہ نے جلدی سے چیزیں اُٹھائیں اور تحریم کو دِکھانے لے گئی۔
’’یہ سوٹ حماد بھائی کی پسند کا ہے۔ وہ چاہتے ہیں تم عید کے دِن پہنو۔ یہ کلر اُن کا فیورٹ ہے۔ یہ جیولری بھی اُنہوں نے اپنی پسند سے سیلیکٹ کی ہے۔‘‘ وہ خاموش رہی کیونکہ اسے یقین نہ آرہا تھا کہ کوئی اِس قدر بھی چاہ سکتا ہے۔
’’کیا ہوا…؟ تم کچھ کہتی کیوں نہیں۔‘‘
’’کیا کہوں ہانی۔ حماد نے مجھے اور میری فیملی کو جو عزت بخشی ہے میں یہ احسان کبھی نہیں چکا سکتی ورنہ کون قبول کرتا ہے طلاق یافتہ کو۔‘‘
’’احسان… تمہارے نزدیک اُنہوں نے تم پر انکل آنٹی پر احسان کیا ہے؟ تمہیں ان کی محبت پر شک ہے؟‘‘ ہانیہ کو اس کی باتیں بری لگیں۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا ہانیہ‘ مجھے غلط مت سمجھو۔ تم سب بہت اچھے ہو جنہوں نے مجھے قبول کیا۔ آنٹی‘ فرقان بھائی جنہوں نے پہلے بھی ساتھ دیا اور اب بھی‘ تم لوگوں نے امی ابو کو ذلت‘ ملال‘ پچھتاوے‘ دُکھ‘ سناٹے و ویرانی سے نکال کر زندگی کی نوید دی ہے۔‘‘ اُس نے فوراً ہانیہ کو بٹھایا جو جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’میں حمادکی محبت کی مقروض ہوں۔ میرے دِل میں وہ بہت اونچے مقام پر ہیں۔‘‘
’’پھر ان کا قرض تمہیں چکانا ہوگا تحریم۔‘‘ اُس نے ناسمجھنے والے انداز میں ہانیہ کو دیکھا۔
’’کل وہ آئیں گے اپنے ساس سسر سے عید ملنے۔ تم تھوڑی دیر کے لیے مل لینا۔ سارے خدشے دُور کرلینا۔‘‘ ہانیہ نے شوخی سے کہا۔
’’کیا مطلب…! عید کے تیسرے روز شادی ہے پھر ملنا کیسا۔‘‘ وہ یہ سوچ کر پریشان ہوگئی کہ گھر والے کیا سوچیں گے۔
’’ارے بھئی تمہیں اپنے شوہر سے ملنے کے لیے کون روکے گا؟ حماد بھائی کی پُر زور درخواست پر تم دونوں کا نکاح ابھی کیا جارہا ہے بلکہ انکل آنٹی کو بھائی نے کہا تھا کہ نکاح چاند رات کو ہوگا تاکہ تم عید کا دِن خوشی خوشی گزارو۔ تمہارے پیرنٹس بھی یہی چاہتے ہیں تحریم۔ وہ تمہارے چہرے پر حقیقی خوشی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بس ابھی تھوڑی دیر میں نکاح خواں آتا ہوگا۔‘‘
وہ تحریم زمان سے مسز تحریم حماد بن گئی۔ وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کررہی تھی۔ اُس نے گہری سانس لی اور بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ ایک نام نے اسے زمانے بھر میں رُسوا کیا اور ایک نام اسے معتبر کر گیا۔
آج چاند رات ہے
اور میں اپنے ہاتھوں میں
دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں
کہ یہ عید کس کے نام کروں
اس کے نام
جو دل کی دھڑکنوں میں ہے
یا پھر اس کے نام
جو ہاتھوں کی لکیروں میں ہے
نکاح مبارک مسز تحریم حماد
موبائل کی بیپ ہوئی۔ میسج باکس پر حماد کا نام جھلملا رہا تھا۔ میسج کے آخر میں اپنے نام کے ساتھ اس کا نام دیکھ کر تحریم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ایسی مسکراہٹ جس میں شرم تھی‘ مان تھا‘ اعتماد تھا‘ خلوص اور محبت تھی۔ وہ جانتی تھی اس کی دھڑکنوں میں بھی وہی ہے اور ہاتھ کی لکیروں میں بھی۔ تبھی آج وہ اُس کے نام سے منسوب ہوچکی تھی۔
’’تحریم حماد کے نام۔‘‘ یہ مختصر جواب پڑھ کر حماد کی روح تک سرشار ہوگئی۔
٭…٭٭…٭
’’احسن اِف یو ڈونٹ مائنڈ‘ کیا تحریم سے مل سکتا ہوں۔‘‘ سب سے عید مل کر تحریم سے ملنے کی اِجازت طلب کرتے وقت وہ نا چاہتے ہوئے بھی جھجھک محسوس کررہا تھا۔
’’ارے اِجازت کس بات کی بیٹا۔ تمہاری بیوی ہے وہ۔ حریم آپی کو بلا لاؤ۔‘‘ احسن کے کہنے سے پہلے ہی سعیدہ زمان نے حریم نے کہا۔ جیسے ہی تحریم آئی احسن اور مسز زمان بہانے سے وہاں سے اُٹھ گئے تاکہ دونوں اطمینان سے باتیں کرسکیں۔
’’السلام علیکم! عید مبارک تحریم۔‘‘ فوراً کھڑے ہوتے سلام کیا جیسے کوئی طالب علم اپنے استاد کو دیکھ کر ادب سے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے اِس انداز پر وہ اپنی ہنسی ضبط کر گئی۔ شدتِ ضبط سے چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ حماد کی پسند کا لایا ہوا سرخ اور نارنجی کنٹراسٹ کا سوٹ پہنے وہ ترو تازہ لگ رہی تھی۔ کانوں میں پہنے سرخ اور گولڈن بندوں کی چمک چہرے کو روشن کرکے اسے مزید حسین بنا رہی تھی۔
’’وعلیکم السلام! آپ کو بھی عید مبارک۔‘‘
’’تحریم‘ محبت میں اَدب‘ عزت اور احترام نہ ہو تو وہ کسی کام کی نہیں۔‘‘ حمادنے سنجیدگی سے کہا۔ نظریں جھکائے وہ خاموش رہی۔ مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی۔
’’بہت خوب صورت لگ رہی ہیں آپ‘ فریش فریش۔ صبحِ عید کی طرح۔‘‘ حماد نے کھلے دِل سے تعریف کی۔ اس کے ہونٹوں پر شرمگیں مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’شکریہ۔‘‘
’’ویسے تم ہنستی ہوئی اور بھی زیادہ خوب صورت لگتی ہو۔‘‘ آپ سے تم کا فاصلہ اُس نے سیکنڈ میں طے کیا۔ اس کا طرزِ مخاطب تحریم کو اچھا لگا‘ چاہت‘ اپنائیت اور مان سے بھرپور۔
’’حسنِ نظر ہے۔‘‘ اس کا سر مزید جھک گیا۔ شرم کی لالی حسن دوبالا کررہی تھی۔
’’آپ نے میری زندگی میں خوشیوں کے جو رنگ بھرے ہیں‘ مجھے جو مان و اعتماد دیا ہے جو محبت بخشی ہے۔ میں مشکور ہوں۔‘‘ اُس نے کھلے دِل سے اعتراف کیا۔
’’اِس مان کا ہمیشہ پاس رکھوں گا۔ جانے کا دِل تو نہیں مگر جانا ہوگا تاکہ دو دِن بعد تمہیں لینے آسکوں۔ یہ میری زندگی کی سب سے حسین و خوب صورت عید ہے تحریم۔ تمہارا ساتھ کسی نایاب و قیمتی تحفے سے کم نہیں۔‘‘ حماد نے اِجازت لی ساتھ ایک خوب صورت سا کارڈ دیا جس پر سرخ گلاب بنا تھا۔ تحریم کی نظروں نے دُور تک اس کا تعاقب کیا۔ کارڈ کھول کر دیکھا تو اُردو رسم الحظ میں شعر لکھا ہوا تھا جو اس کے پاکیزہ اور پُر خلوص جذبوں کو عیاں کررہا تھا۔
میری آرزوؤں کی تمہید تم سے ہے
میرا چاند تم ہو میری عید تم سے ہے
اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی تھی۔
اِس عید پر اسے نہ صرف محبت کرنے والا جیون ساتھی ملا بلکہ اس کی طرف سے اِقرار نے اس کی روح کو اندر تک سرشار کردیا۔
گزری زندگی کے تمام باب وہ کسی بھیانک خواب کی صورت بھول گئی تھی اور اس کے لیے بھول جانا ہی بہتر تھا کیونکہ جو دوسروں کی زندگی برباد کرتے ہیں چین و سکون ان کی زندگی میں بھی شامل نہیں رہتا اور تحریم کو اپنی آنے والی زندگی کو خوب صورت بنانا تھا اس لیے سب بھول کر اس نے حماد کے خواب عید کے دن آنکھوں میں سجا لیے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close