Hijaab Jun-18

تیرے سنگ پیا

سویرا فلک

’’مبارک ہو بھئی بہت بہت۔‘‘ انیسہ بیگم نے اپنی چھوٹی بہن رفعت کو گلے لگاتے ہوئے کہا تو وہ خوش دلی سے بولیں۔
’’آپ کو بھی بہت بہت مبارک ہو آپا۔‘‘
’’خالہ ویسے ہماری عنایا تو بڑی قسمت والی نکلی‘ ٹھیک کہتے ہیں جب دینے والا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔‘‘ یہ عمارہ تھی‘ انیسہ بیگم کی سب سے بڑی بیٹی۔
’’بس بیٹا… اللہ کا کرم ہے میں تو اپنے مولا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے‘ تم منہ تو میٹھا کرو۔‘‘ رفعت نے ٹیبل پر رکھی مٹھائی کی پلیٹ ہاتھ میں اٹھا کر سامنے بیٹھی بہن اور بھانجی کی طرف بڑھائی تو دونوں نے ایک ایک گلاب جامن اٹھالی۔
’’ویسے رفعت اب تو وقت بہت کم رہ گیا ہے۔‘‘ انیسہ بیگم نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بہن سے کہا۔
’’ہاں آپا… ویسے کافی تیاری تو میں نے پہلے سے کر رکھی ہے‘ کپڑوں کا مسئلہ ہے تو میں نے عنایا سے کہا ہے کہ ریڈی میڈ لے لے‘ آپ کو پتہ ہے ویسے بھی اسے ٹیلروں کی سلائی پسند نہیں آتی‘ اسے تو جدید تراش خراش کے ملبوسات چاہیں‘ سو عمارہ ہی کے ساتھ بوتیک چلی جائے اور اپنے من پسند کپڑے خرید لائے‘ مجھ سے تو نہیں پھرا جاتا دربدر بازاروں میں‘ ایک یہ گھٹنوں کا درد اوپر سے گرمی اور حبس۔‘‘ رفعت بیگم نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عمارہ اٹھ کر ان کے پہلو میں آبیٹھی۔
’’ارے خالہ جان… آپ کو تکلیف کرنے کی ضرورت ہے بھی نہیں‘ میں ہوں ناں اور باقی بھی جو کام ہیں سب مل جل کر دیکھ لیں گے آپ بالکل فکر مت کریں۔‘‘
’’جیتی رہو بیٹا… اللہ تمہیں آباد رکھے۔‘‘ رفعت بھانجی کی تابعداری پر نہال ہوگئیں اور اس کا ماتھا چوم ڈالا تو وہ سرشار ہوکر بولی۔
’’اچھا یہ بتائیں عنایہ کہاں ہے؟ وہ تو لگتا ہے ابھی سے مایوں کا جوڑا پہن کر بیٹھ گئی ہے۔‘‘
’’بیٹا کل وہ لوگ بات پکی کرکے گئے تو ہمیں بھی سونے میں دیر ہوگئی۔ رات دیر سے سوئی‘ اٹھایا تھا میں نے پر اٹھی نہیں۔ اب تم ہی جاکر جگائو‘ تمہاری آواز سن کر ضرور اٹھ بیٹھے گی۔‘‘ رفعت نے کہا تو عمارہ ’’جی ٹھیک ہے‘‘ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
ء…/…ء
’’محترمہ عنایہ صاحبہ… اگر آپ کی نازک طبیعت پر گراں نہ گزرے‘ مزاج برہم نہ ہو تو خواب خرگوش کے مزے لینا بند کریں اور جیتی جاگتی دنیا میں واپس قدم رنجا فرمائیں۔‘‘ عمارہ نے عنایہ کے سر تک تنی چادر کو زبردستی کھینچتے ہوئے کہا۔
’’اُف اللہ آپی… سونے دیں ناں‘ تین بجے تو میں سوئی ہوں اور آپ دس بجے ہی اٹھانے آگئیں۔‘‘ عنایہ نے برا سا منہ بنایا اور تکیہ میں منہ دیا تو اب کہ عمارہ نے اس کے بازو میں چٹکی کاٹ کر کہا۔
’’اوہو‘ ابھی محترمہ نے دلہن کا جوڑا بھی نہیں پہنا اور نخرے شروع۔‘‘
’’اوئی اللہ آپی… میں ایسی نہیں ہوں آپ کو پتا ہے۔‘‘ آخر اس وار کے بعد عنایہ بازو سہلاتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
’’گڈ گرل… چلو اب شروع ہوجائو جلدی سے تفصیل بتائو کون ہیں موصوف‘ تصویر تو ہوگی واٹس اپ پر فٹافٹ ہونے والے بہنوئی کا دیدار کرادو۔‘‘ عمارہ نے گویا حکم صادر کیا اور عنایہ کو اس کی مانتے ہی بن پڑی کیونکہ گھر میں اسی کے پاس واٹس اپ تھا‘ چھوٹا بھائی عامر نویں میں تھا تو اسے اسمارٹ فون رکھنے کی اجازت نہ تھی‘ باقی انیسہ بیگم اور ان کے شوہر واصف خود ہی ان جھملوں سے دور تھے کہ اس عمر میں کون یہ نت نئے فنکشنز والے موبائل فون استعمال کرنا سیکھے۔ ایسے میں واٹس اپ وغیرہ کے حوالے سے ہونے والی تمام سرگرمیاں عنایہ کے فون سے ہی ہوتی تھیں سو اول تو بہانہ گھڑنا عبث تھا‘ دوم خود عنایہ نے کب عمارہ سے کچھ چھپایا تھا۔
عمارہ عنایہ سے پورے چھ سال بڑی تھی خود اس کا دو سال پہلے نکاح ہوا تھا اور اب سال بھر بعد رخصتی طے تھی۔ عمارہ بھی اپنی اور حماد کی ہر بات ہی اس سے شیئر کرتی تھی اور عنایہ اسے خوب چھیڑتی تھی اور اب عمارہ کی باری تھی عنایہ کو تنگ کرنے کی‘ سو عنایہ کو بھی شرماتے لجاتے ہونے والے شوہر نامدار عاشر کا دیدار کرواتے ہی بنی جسے دیکھ کر عمارہ کے ہونٹوں سے بے اختیار ہی ’’ماشاء اللہ‘‘ نکل گیا۔ متناسب خدوخال‘ گندمی رنگت اور فرنچ داڑھی کے ہمراہ جاذب نظر نوجوان واقعی ہر لحاظ سے ڈیشنگ کہلائے جانے کے لائق تھا۔ اوپر سے اعلیٰ تعلیم اور حسب و نسب کے ساتھ کینیڈین نیشنلٹی نے تو گویا اس کی شخصیت کو الگ ہی چارم بخش دیا تھا کیونکہ ویسے بھی ہمارے ہاں بیرون ملک مقیم لوگوں سے خاصے متاثر ہوتے ہیں۔ عنایہ کا رشتہ بھی اس طرح باہر طے ہوجانے پر سب ہی عنایہ کو خوش قسمت قرار دے رہے تھے‘ خود عنایہ بھی گویا ہوائوں میں اڑ رہی تھی‘ شومئی قسمت اسے عاشر نے خود اپنے کسی کزن کی شادی کی تصویروں میں دیکھ کر پسند کیا تھا۔ جہاں عنایہ بطور مہمان مدعو تھی اور واقعی جب قسمت کھلتی ہے تو راہیں ہموار ہوتی ہی چلی جاتی ہیں محض ایک ماہ بعد ہی نکاح ہونا طے پایا تھا تاکہ عاشر جلد از جلد عنایہ کے ویزے کے لیے اپلائی کرسکے۔
ء…/…ء
ایک ماہ تیاریوں میں ہی یوں پَر لگا کر گزرا کہ عنایہ کو آنے والے لمحوں کے سبب دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالنے کا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ عاشر کے پہلو میں لاکر بٹھا دی گئی۔ ریڈ اور آف وائٹ کے انتہائی خوب صورت کامبینیشن کے اسٹائلش کٹ کے برائیڈل سوٹ میں‘ ماہر بیوٹیشن کے ہاتھوں تیار ہوئی عنایہ کا رنگ و روپ اور بھی دلکش ہوگیا تھا۔ دوسری جانب آف وائٹ شیروانی اور کلے میں عاشر بھی کسی شہزادے سے کم نہ دکھ رہا تھا۔ سب ہی دونوںکی بلائیں اتارتے ہوئے نظر بد سے محفوظ رہنے کی دعا دے رہے تھے‘ ایسے میں کھانے کا دور شروع ہوا‘ مہمان اِدھر اُدھر ہوئے تو عاشر نے اپنا رخ مکمل طور پر عنایہ کی طرف موڑا۔ عنایہ نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا سب ہی کھانے کی طرف متوجہ تھے مگر وہ عاشر کی تپتی نگاہوں کی تاب نہ لا پارہی تھی سو اس نے شرمیلی مسکراہٹ کے تحت گردن جھکالی‘ تب عاشر نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’کب تک بھاگو گی‘ جلدی تمہیں اپنے پاس بلالوں گا تاکہ میں دل بھر کر تمہیں دیکھ سکوں اور حال دل کہہ سکوں۔‘‘ عاشر کے چہرے پر پھیلی شرارتی اور ذومعنی مسکراہٹ نے ایک بار پھر عنایہ کو نگاہیں چرانے پر مجبور کردیا تھا۔
ء…/…ء
اور پھر جانے عاشر کے جذبے صادق تھے یا عنایہ ہی قسمت کی دھنی تھی کہ محض ایک سال سے بھی پہلے عنایہ کو کینیڈین ویزا مل گیا۔ وہ بہت خوش تھی بلکہ اس کی خوشی یہ سوچ کر بھی دگنی ہوئی جارہی تھی کہ ایک تو وہ اپنے شریک حیات کے پاس جارہی تھی دوسرا یہ کہ وہ نکاح کے بعد اپنی پہلی عید عاشر کے ساتھ منانے والی تھی۔ عاشر بھی خوش تھا کہ عنایہ رمضان المبارک سے قبل ہی پہنچ رہی ہے تو ایسے میں اسے کئی برسوں سے سحری اور افطاری کی تیاریوں میں جن دشواریوں کا سامنا تھا وہ دور ہو جائیں گی اور دوسرا دیار غیر میں روکھی پھیکی گزرتی عید اب عنایہ کے ہمراہ خوشگوار اور بھرپور گزرے گی۔
پھر عنایہ کو دعائوں کے سائے میں رخصت کردیا گیا اور آخرکار طویل مسافت طے کرنے کے بعد عنایہ عاشر کے پاس پہنچ گئی۔ گھر پہنچ کر عاشر کے دروازہ کھولنے پر عنایہ کا استقبال گلاب کی پتیوں کی راہ گزر نے کیا۔ عاشر نے دروازے سے لے کر بیڈ روم تک فرش گلاب کی پتیوں سے سجایا تھا‘ جن پر اب عنایہ عاشر کا ہاتھ پکڑے آہستگی سے سہج سہج کر قدم رکھ رہی تھی۔ عاشر نے اسے بیڈ روم میں گول محرابی بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود باہر چلا گیا۔ عنایہ نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کیا‘ کمرے میں جابجا پھولوں کے بکے رکھے ہوئے تھے‘ بیڈ کے دائیں جانب قد آدم ڈریسنگ ٹیبل تھی جس پر چند پرفیومز اور لوشن سلیقے سے رکھے ہوئے تھے‘ بائیں جانب کھڑکی تھی جس پر خوب صورت اور نفیس پردے ڈلے ہوئے تھے۔ وہ دل ہی دل میں عاشر کی نفیس طبیعت اور عمدہ ذوق کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکی۔ اسی اثناء میں کمرے کا دروازہ کھلا اور عاشر ہاتھ میں ٹرے پکڑے اندر آگیا اور ٹرے لاکر عنایہ کے سامنے رکھ دی جو کافی سینڈوچز اور کیک کے لوازمات سے پُر تھی‘ وہ شرمندہ ہونے لگی۔
’’آپ نے مجھے مہمان ہی سمجھ لیا‘ مجھے کہتے میں بنا دیتی۔‘‘
’’ابھی تو تم مہمان ہی ہو‘ اس گھر اور میرے دل کی‘ تمہیں تمہاری منہ دکھائی تو سونپ دوں پھر گھر بھی سونپ دوں گا۔‘‘ عاشر نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا تو وہ عاشر کا مطلب سمجھتے ہوئے بری طرح شرما گئی اور چہرہ حنائی ہاتھوں میں چھپالیا اور کمرہ عاشر کے قہقہے سے گونج اٹھا۔
ء…/…ء
ایک دو دن تو عنایہ نے سفر کی تھکان اتارنے کی غرض سے گھر میں ہی گزارے پھر اس کے اندر کی خواہش بیدار ہوئی اور یہ خیال بھی آیا کہ عاشر کی چھٹیاں بھی ختم ہوجائیں گی سو اس نے عاشر سے کینیڈا کے تفریحی مقامات کو دیکھنے کی فرمائش کردی۔
’’جو حکم ملکہ عالیہ… آپ بس اپنی خواہشات بتاتی جائیں بندہ ان کو پورا کرنے کی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا۔ چلیں آپ تیار ہوجائیں میں بھی فریش ہوجائوں بس پھر نکلتے ہیں بلکہ آج ڈنر بھی باہر کریں گے۔‘‘ عاشر نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکایا تو وہ سرشار ہوگئی‘ عورت کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے شوہر کی توجہ اور محبت اس کے اندر جینے کا احساس دو چند کردیتی ہے۔
’’تھینک یو عاشر… آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ اس نے شرما کر کہا تو عاشر ہنس دیا۔
’’آئی نو مائی ڈئیر وائف… چلو اب تیار ہوجائو۔‘‘ عاشر یہ کہہ کر کمرے سے باہر ٹی وی لائونج میں چلا گیا۔ عنایہ نے آتشی رنگ کا بے حد دلکش ٹاپ اور اس کے ہمراہ ایمبوسڈ بلیک ٹائٹس نکالا جو وہ خاص طور پر یہاں پہننے کے لیے خرید کر لائی تھی۔ اس کے ہمراہ بلیک مالا اور بریسلیٹ نکال کر اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا پھر شاور لے کر لباس تبدیل کرکے اس نے بالوں کو آئرن کیا۔ لائٹ سوفٹ میک اپ کرکے‘ جیولری پہن کر اس نے بلیک ویلوٹ اسکارف گردن میں ٹائی کی شکل میں باندھ لیا اور پھر خود کو پرفیوم میں بسا کر ہائی ہیلز پہن کر وہ باہر لائونج میں چلی آئی۔
’’میں تیار ہوگئی‘ چلیں۔‘‘ اس نے ٹی وی دیکھتے عاشر سے کہا تو اس نے چونک کر سر گھمایا اور عنایہ کو دیکھا تو دیکھتا چلا گیا جس پر عنایہ جھینپ گئی۔
’’کیا دیکھ رہے ہیں؟ آپ تو تیار بھی نہیں ہوئے ابھی تک‘ چلیں ناں۔‘‘
’’عنایہ پلیز یہ ڈریس چینج کرو‘ کوئی ڈھنگ کا لباس نہیں تمہارے پاس مطلب شلوار قمیص وغیرہ۔ دیکھو باہر سب غیر مرد ہوتے ہیں اور پھر یہ تو ویسے ہی غیر مسلموں کا معاشرہ ہے میں اپنی بیوی کو ایسے تو نہیں باہر لے کر جاسکتا۔‘‘ عاشر کا بدلا لب و لہجہ عنایہ کو بری طرح چونکا گیا۔
’’تو کیا عاشر روایتی مرد ہے؟‘‘ وہ سوچنے پر مجبور ہوگئی۔
’’عنایہ تم چینج کرو جب تک میں فریش ہوکر آتا ہوں اس نے عنایہ کے چہرے کے بدلتے رنگوں کا نوٹس لیے بغیر کہا اور خود لائونج سے باہر چلا گیا۔ عنایہ نے بھی اپنے بے جان قدموں کو گھسیٹا اور نہایت بد دلی سے آف وائٹ کلر کا پلازو اور ہم رنگ کام والی کرتی نکال کر پہن لی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔ عاشر نہاکر باہر آیا اور آئینہ کے سامنے بال بناتے ہوئے عنایہ کے جھانکتے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میرے خیال میں تم ایک عبایہ لے لو‘ ہم رمضان کی گروسری کرنے جائیں گے تو یاد دلانا۔‘‘
’’اُف عبایا…‘‘ عنایہ نے کڑھتے دل سے اس کی طرف نگاہ کی‘ وائٹ ٹی شرٹ اور بلیو جینز میں وہ اچھا خاصا اسمارٹ دکھ رہا تھا۔ عنایہ اس کی ڈریسنگ سے بھی بہت متاثر تھی اور اب وہ حیرت میں تھی کہ وہ باہر رہ کر بھی ایسی دقیانوسی سوچ کا مالک ہے جبکہ اس نے کینیڈا میں شادی کا سن کر ہی خصوصاً ہنی مون پیریڈ کے لیے ویسٹرن ڈریسز خریدے تھے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ رفعت کے اصرار پر اس نے کچھ مشرقی جوڑے بھی رکھ لیے تھے کہ مبادا عاشر کے دوست احباب کی جانب سے دی گئی دعوتوں میں ان کی ضرورت پڑ جائے تو کیا عاشر اسے قید کردے گا؟ اسے سوچ سوچ کر وحشت ہونے لگی کہ عاشر لبرل ازم کا قائل نہیں۔
’’چلیں؟‘‘ عاشر نے کندھوں پر جیکٹ ڈال کہا تو وہ جو بدستور انگلی میں پہنی رنگ گھمانے میں مصروف تھی‘ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہوگئی اب کہ اس نے دوپٹہ گلے کے بجائے سر پر لپیٹ رکھا تھا۔ عاشر نے گاڑی کی چابیاں اٹھا کر بیرونی دروازے کی جانب قدم بڑھائے۔ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی مگر اس کا پہلے والا جوش و خروش جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا۔
ء…/…ء
اس دن کے بعد سے اس نے خود سے عاشر سے کہیں جانے کی خواہش ظاہر نہیں کی البتہ عاشر خود اسے تین چار بہترین مقامات پر لے گیا تھا۔ عاشر کی چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں اور رمضان کریم بھی شروع ہونے والے تھے لہٰذا ایک ہفتے قبل وہ عنایہ کو لے کر ڈیپارٹمنٹل اسٹور چلا آیا۔
’’عنایہ… اب تک تو جیسے تیسے زندگی گزر رہی تھی‘ اب تم آگئی ہو کچن کا چارج بھی تمہارے ہی حوالے ہے‘ دیکھ لو جو ضروری سمجھو جو دل چاہے خرید لو۔ اب ہم عید کے قریب آئیں گے۔‘‘ عاشر نے کہہ کر ٹرالی اس کی جانب بڑھائی تو عنایہ نے مسکراتے ہوئے ٹرالی تھام لی اور عاشر کی ہمراہی میں آہستہ آہستہ قدم بڑھانا شروع کردیئے۔ اسے کوکنگ کا شوق بھی تھا اور کورسز وغیرہ کرکے اپنی صلاحیتوں کو نکھار بھی لیا تھا سو اس نے کافی چیزیں خرید لیں‘ عاشر نے بھی کوئی روک ٹوک نہیں کی۔
گھر آکر اس نے کچن میں سارا سامان سیٹ کیا پھر عاشر کسی کام سے چلا گیا تو اس نے عادت کے مطابق پندرہ دن کا سحرو افطار کا مینو پلان کرلیا۔ اگلی صبح عاشر نے آفس جوائن کرلیا تو عنایہ نے کئی اقسام کی چٹنیاں بنالیں‘ چھولے ابال لیے اور ساتھ قیمے کے سموسے اور چائنیز رول بناکر فریز کردیئے۔ عاشر اس کی مہارت اور اور لگن دیکھ کر بہت خوش اور متاثر ہوا تھا۔
دوسرے دن چاند رات تھی‘ عاشر نے آفس جانے سے پہلے اسے یاد دلایا کہ وہ تراویح کے لیے کپڑے تیار رکھے‘ عنایہ نے اس کے جاتے ہی اس کے کپڑے پریس کرکے رکھے پھر سحری کے لیے ورقی پراٹھوں کا آٹا گوندھ کر رکھ دیا‘ ساتھ میں شامی کباب کا گوشت چڑھایا اور قیمہ میں مصالحہ لگا کر میرنیٹ کردیا۔ مغرب کے کچھ دیر بعد ہی رمضان کریم کا چاند نظر آنے کی تصدیق ہوگئی تو عاشر تراویح کے لیے نکل گیا۔ جب عاشر آیا تو وہ سونے لیٹ چکی تھی عاشر بھی جلد سوگیا۔ صبح الارم پر عاشر نے اسے جگایا تو اس نے جلدی سے بال سمیٹ کر کیچر میں مقید کیے اور کچن میں چلی آئی۔ دو آدمیوں کی سحری ہی کیا تھی‘ پراٹھے بیلتے بیلتے اس نے قیمہ بھونا اور پراٹھے اتار کر چائے پکائی اور پھر دودھ پھینی‘ قیمہ پراٹھے اور چائے لے کر وہ کمرے میں آئی تو عاشر نے قرآن پاک پڑھ لیا تھا۔ کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔ عنایہ نے ٹی وی آن کرلیا جہاں پاکستانی چینل پر سحری ٹائم چل رہا تھا‘ ٹی وی دیکھتے دیکھتے دونوں نے سحری ختم کی۔ عاشر نماز کے لیے باہر نکل گیا اور وہ برتن سمیٹ کر کچن میں چلی آئی۔ برتن دھوکر وہ لیٹ گئی جب اس کی آنکھ کھلی تو بارہ بج رہے تھے‘ عاشر آفس جاچکا تھا اس نے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں پھر ٹی وی آن کرلیا۔ کوکنگ شو میں خاتون کوکنگ ایکسپرٹ نئے طریقے کے پکوڑے بنانا سکھا رہی تھی‘ اس نے ریسپی نوٹ کی اٹھ کر شاور لیا اور کچن میں چلی آئی۔ کوکنگ شو والے پکوڑے بنانے کے اجزاء نکالے‘ بیسن گھولا‘ چھولے کی چاٹ اور فروٹ تیار کی اور باہر آگئی۔
عاشر کے آنے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا وہ پھر ٹی وی آن کرکے بیٹھ گئی‘ اب افطار ٹرانس میشن شروع ہوچکی تھیں‘ اپنے ملک کا چینل دیکھ کر خود کو انہی لوگوں کے درمیان محسوس کررہی تھی اس کی آنکھیں بھی اپنے لوگوں کو یاد کرکے نم ہونے لگی تھیں۔ اتنے میں عاشر آگیا افطار میں آدھا گھنٹہ باقی تھا‘ عاشر نے یونہی آنکھیں موند لیں۔ وہ کچن میں آگئی اور سموسے رول اور پکوڑے فرائی کرنے لگی اور پھر افطار سے چند منٹ قبل اس نے ٹیبل پر سارا سامان سیٹ کیا عاشر کو آواز دی اور ٹی وی کھول لیا تاکہ افطار ٹائمنگ کا صحیح اندازہ بھی ہوتا رہے۔ عاشر وضو کرکے آیا اور ٹی وی کی آواز بند کردی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے‘ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی۔ اذان کی آواز پر روزہ افطار کرتے فرورٹ چاٹ اور شربت کے گلاس پر ہی اکتفا کیا تو عنایہ نے سموسے اور رول کی پلیٹ اس کی طرح بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے یہ تو چکھا ہی نہیں‘ افطاری بھی اتنی سی کی ہے کیا اچھی نہیں بنی؟‘‘
’’ارے نہیں یار… بس میں اتنا ہی کھاتا ہوں ورنہ تراویح میں مشکل ہوتی ہے اور عنایہ ہم دو ہی تو افراد ہیں تمہیں روزانہ اتنی افطاری کا تردد کرنے کی ضرورت ہے بھی نہیں بلاوجہ وقت اور چیزیں دونوں ضائع ہوں گی‘ افطار کے نام پر اسراف ویسے بھی غلط ہے۔ بس فروٹ چاٹ کے ساتھ کوئی ایک آئٹم رکھا کرو البتہ روز کچھ نیا بنانا چاہو تو اچھا ہے کیونکہ ذائقہ ہے تمہارے ہاتھ میں۔ بہرحال اپنی توانائی اور وقت اس ماہ عبادت کو دو کیونکہ سحر و افطار کے اہتمام کی طرح ہم یہ بھی تو سارا سال نہیں کرتے۔ میں نماز کے لیے جارہا ہوں تم بھی پڑھ لو۔‘‘ عاشر نے ٹی وی آف کیا اور جیب سے ٹوپی نکال کر سر پر جمائی اور کھڑا ہوگیا۔ عنایہ ہونٹ بھینچتے ہوئے برتن سمیٹنے لگی‘ برتن کچن میں رکھ کر اس نے نماز پڑھی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہی جانے کیوں اسے رونا آگیا اور اس کے رخسار بے اختیار بھیگتے چلے گئے‘ دس پندرہ منٹ بعد جب دل ہلکا ہوا تو چائے کی طلب ہوئی۔ اس نے چائے کا پانی رکھا تو عاشر بھی آگیا‘ دونوں نے چائے پی۔ عاشر نے اس کا موبائل لے کر سم نکالی پھر جیب سے دوسری سم نکال کر لگائی اور موبائل بند کرکے واپس عنایہ کے پاس رکھ دیا۔
’’اب تم آرام سے پاکستان ڈائریکٹ بھی کال کرسکتی ہو‘ میں نے کارڈ لوڈ کردیا ہے۔‘‘ عاشر نے آنکھیں موند لیں۔ عنایہ نے گھونٹ گھونٹ سر جھکائے چائے حلق سے اتاری اور اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’کتنے روپ ہیں اس شخص کے۔‘‘ اس کے دل سے صدا اٹھی وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ برتن دھوکر صبح کا آٹا گوندھ کر فارغ ہوئی تو عشاء ہوگئی تھی۔ عاشر نماز اور تراویح کے لیے نکل گیا اس نے بھی وضو کرکے نماز پڑھی پھر موبائل اٹھایا اور رفعت کو کال کی۔ وہ بیٹی کی آواز سن کر نہال ہوگئیں‘ خیر خیریت کے بعد رفعت نے بتایا کہ عمارہ بھی آئی ہوئی ہے اور پھر انہوں نے موبائل عمارہ کو دے دیا اور خود نماز پڑھنے چلی گئیں کیونکہ دوائوں کے سبب انہیں جلد نیند آجاتی تھی‘ عمارہ نے فون سنبھالتے ہی اس کی خبر لی۔
’’بڑی بے وفا نکلیں تم تو لڑکی‘ جاتے ہی بھول گئیں۔ یہ نہیں کہ اسکائپ یا ایف بی پر ہی رابطہ کرلیتیں‘ بس پہنچنے کی اطلاع دی اور غائب۔ لگتا ہے عاشر ہلنے نہیں دیتا سامنے سے محبوب بیوی کو‘ کیوں؟‘‘ عمارہ کا لہجہ شوخی سے بھرپور تھا مگر نہ چاہتے ہوئے بھی عنایہ کا لہجہ بھیگ گیا۔ اس کی سسکیوں کی آواز عمارہ کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ چونک پڑی اور بری طرح گھبرا گئی۔
’’اللہ خیر‘ کیا ہوا عنایہ‘ تم ٹھیک تو ہو‘ کیا عاشر بھائی ٹھیک نہیں تمہارے ساتھ؟ تم خوش ہو یا نہیں اللہ کے لیے بولو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں؟ خدارا بتائو تو سہی ورنہ میرا دل بند ہوجائے گا۔‘‘ عمارہ تقریباً چیخ پڑی تو عنایہ نے لرزتی آواز میں دل کا حال بیان کردیا۔
’’میں خوش نہیں عمارہ آپی… عاشر تو بہت ہی روایتی سا مرد ہے‘ وہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے بارے میں بس اسے ہی پتا ہے۔ وہ یوں مجھے نماز روزے اور دیگر اسلامی اصولوں کے متعلق یوں سمجھاتا ہے جیسے وہ ہی مسلمان ہے میں تو جیسے غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی ہوں۔ وہ مجھے حجاب پہنانا چاہتا ہے آپ کو معلوم ہے مجھے ایسے دوغلے لوگوں سے کیسی نفرت ہے اگر ایسا ہی ہے تو کیوں رہ رہا ہے غیر مسلم معاشرے میں۔ مجھے تو حجاب پہنانا چاہتا ہے اور خود نیم برہنہ عورتوں کے ساتھ کام کرتا ہے ابھی سے اس نے اپنی مردانہ حاکمیت کا احساس دلانا شروع کردیا ہے‘ ایسے نہ کرو‘ ویسے نہ کرو‘ یہ صحیح ہے یہ غلط ہے۔ آپ بتائیں کہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی کیسے پُرسکون گزرے گی بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہمارا ساتھ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔ ‘‘ عنایہ بھڑاس نکال کر پُرسکون ہوگئی تو عمارہ کی آواز نے اسے پھر لرزا دیا۔
’’بھاڑ میں گیا تمہارا خیال‘ دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے شاید تمہارا۔ غضب خدا کا تم نے اچھے بھلے شریف آدمی کی شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ اپنے تئیں صحیح غلط کا فیصلہ کرلیا‘ حد ہے عنایہ تم جذباتی تھیں یہ تو مجھے پتا ہے مگر اس حد تک بے وقوف بھی ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا۔‘‘
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپی…! مجھے غلط کہہ رہی ہیں‘ میں جانتی ہوں جو مجھ پر بیت رہی ہے اور آپ ہیں کہ الٹا مجھے ہی مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔‘‘ وہ روہانسی ہونے لگی تو عمارہ کو نرم ہونا پڑا۔
’’دیکھو گڑیا… میں تمہاری دشمن نہیں ہوں مگر سچ پوچھو تو حقیقت میں مجھے تم سے ایسی جذباتی اور نادانی بھری باتوں کی امید نہیں تھی۔ عنایہ‘ تمہیں تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ عاشر غیر مسلم معاشرے میں رہ کر بھی پختہ ایمان والا مرد ہے۔ اگر وہ اکھڑ اور شکی ہوتا تو تمہیں ہم لوگوں سے بھی بات نہ کرنے دیتا‘ تم اس وقت اکیلی ہو اور موبائل تمہارے ہاتھ میں ہے وہ چاہتا تو تمہیں پابند کرتا کہ تم کال یا فیس بک کے لیے موبائل صرف اس کی موجودگی میں استعمال کرو۔ رہی نماز روزے کی پابندی تو برا نہیں مانو اس کے لیے تو تمہیں خالہ بھی کہتی تھیں۔ پگلی مسلمان مرد کے لیے تو یہ تک حکم ہے کہ وہ تہجد کے لیے اٹھے تو اپنی بیوی کو بھی اٹھائے اگر وہ حاکمانہ ذہنیت کا مالک ہوتا تو یہ باتیں تم سے کرتے وقت اس کا لہجہ دوستانہ یا مدھم نہ ہوتا۔ عنایہ‘ اگر تم دل و دماغ کو پُرسکون کرکے سوچو تو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تم بدقسمت نہیں خوش قسمت ہو کیونکہ یہ بھی اللہ کا وعدہ ہے کہ پاکیزہ مردوں کے لیے پاکیزہ عورتیں رکھی گئی ہیں تو پاکیزہ عورتوں کے لیے پاکیزہ مرد۔ سوچو اگر عاشر دوسری عورتوں کے چکر میں ہوتا ہے یا خدانخواستہ شراب کی لت میں مبتلا ہوتا تمہیں خود غیر مردوں کی محفل کی زینت بناتا تو کیا تمہارے لیے ایسا عاشر قبول ہوتا؟‘‘
’’اللہ نہ کرے آپی… توبہ استغفار… کیسی باتیں کررہی ہیں آپ؟‘‘ عنایہ اندر تک دہل اٹھی۔
’’اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ صحیح اور غلط کا فیصلہ اپنے نظریے اور سوچ کی بنیاد پر نہیں‘ قرآن و سنت کے آئینے میں کرو کیونکہ بس یہی وہ پیمانہ ہے جو کھرے کھوٹے کی پہچان کراسکتا ہے۔ اب میں جارہی ہوں مجھے بھی نماز پڑھنی ہے‘ سونا ہے ورنہ پھر صبح آنکھ نہیں کھلے گی‘ اپنا خیال رکھنا۔‘‘ عمارہ نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا تو عنایہ نے بھی ٹھندا سانس لے کر لائن ڈسکنکٹ کردی۔
ء…/…ء
اس دن کے بعد سے عنایہ نے اپنے اور عاشر کے درمیان ایک لکیر سی کھینچ لی گو کہ اس سرد جنگ میں وہ اکیلی لڑ رہی تھی کیونکہ عاشر ایک تو آفس‘ روزے‘ تراویح کے باعث مصروف اور تھکا تھکا سا تھا اور پھر عنایہ کی خاموشی کو بھی اس نے اسی زاویے سے دیکھا۔ البتہ عنایہ کے طور اطوار میں اس کی مرضی اور پسند کے مطابق تبدیلی اسے اندرونی خوشی اور اطمینان دے رہی تھی۔ عنایہ کی خاموشی عاشر کو سمجھوتہ کرنے والی اور شوہر پرست عورت کا روپ دکھا رہی تھی لیکن سمندر میں تلاطم تو اس وقت برپا ہوا جب چاند رات کو عاشر نے اس سے عید کی شاپنگ کے لیے چلنے کا کہا۔
’’مجھے کہیں جانے اور کچھ لینے کی ضرورت نہیں اور نہ آپ کو اس مہربانی کی ضرورت ہے۔ عجیب بہروپئے انسان ہیں آپ مجھے اپنا آپ چھپا کر رکھنے کو بھی کہتے ہیں اور پھر آرائشی لوازمات کے تحائف سے بھی نوازنا چاہتے ہیں۔ میں پوچھ سکتی ہوں آخر اس عنایت کی وجہ کیا ہے‘ الماری میں بند کرنے کے لیے اور بہت سا سامان ہے جو میں نے بڑے ارمانوں سے لیا تھا‘ خود تو آپ دنیا کی عورتوں کے درمیان رہتے ہیں‘ چلتے پھرتے ہیں اور مجھے سات پردوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ بس کردیجیے عاشر صاحب یہ ڈھونگ رچانا‘ آپ کی دوغلی سوچ سامنے آچکی ہے میرے مگر معاف کیجیے میں دوغلی نہیں اور نہ دوغلی زندگی جی سکتی ہوں۔ آپ بس میرے واپس جانے کا انتظام کردیجیے‘ آزاد کردیجیے مجھے اس پنجرے سے۔‘‘ وہ بے تکان‘ بے لحاظ بول رہی تھی۔ عاشر کچھ لمحے تو چپ چاپ سنتا رہا مگر اس کے آخری جملے پر جیسے اسے کرنٹ لگا قریب تھا کہ وہ اپنا اٹھا ہوا ہاتھ عنایہ کے گال پر جڑ دیتا۔ عنایہ کے لرزتے وجود نے اس کے قدم روک دیئے اور وہ سرخ چہرہ لیے کمرے سے باہر نکل گیا اور جانے کیوں عنایہ بستر پر گر کر سسک پڑی۔
ء…/…ء
جانے کتنے لمحے بیت گئے وہ یوں ہی چھت کو گھورتی رہی۔ آنسو اب آنکھوں سے نکل کر خشک ہوکر گالوں پر جم سے گئے تھے۔ وہ ساکت تھی کہ موبائل کی رنگ ٹون نے اسے واپس ہوش و حواس کی دنیا میں لاکھڑا کیا۔ اس نے لپک کر سیل اٹھایا‘ پاکستان سے کال تھی اس نے اوکے کا بٹن پریس کرکے کانوں سے لگایا تو عمارہ کی شوخ آواز کانوں سے ٹکرائی۔
’’پہلی چاند رات اور عید بہت مبارک ہو۔‘‘ اور وہ چاہ کر بھی جواباً خیر مبارک نہ کہہ پائی اور سسک اٹھی اور پھر عمارہ کے زور دینے پر دل کا حال بھی کہہ ڈالا۔
’’یہ تم نے کیا کیا… میں نے کتنا سمجھایا تھا تمہیں مگر تم نے وہی کیا جو تمہارے ضدی اور خود سر دل و دماغ نے تمہیں سمجھایا۔ تم نے کسی کا بھی خیال نہیں کیا‘ نہ ہمارا نہ اپنے شریف النفس شوہر کا‘ نہ عید تہوار اور سب سے بڑھ کر نہ ہی اللہ کے حکم کا۔ تم نے شوہر کی نافرمانی بھی کی اور اس کی عزت و حرمت کا پاس بھی نہیں کیا۔ ٹھیک ہے اگر تمہاری اور ہماری قسمت میں رسوائی اور تکلیف ہے تو یونہی سہی۔‘‘ عمارہ نے فون بند کردیا مگر اس کا اندر کا سویا ہوا ضمیر جیسے جاگ اٹھا‘ وہ جھٹکے سے اٹھی واش روم میں جاکر منہ ہاتھ دھویا اور بال سمیٹ کر کچن میں آگئی فٹافٹ دودھ گرم کرکے اور سویاں فرائی کرکے شیر خرمہ چڑھایا۔ میوے تو وہ کاٹ کر اور خشک کرکے فریز میں رکھتی ہی تھی‘ گھر کی صفائی بھی صبح ہی ہوجاتی تھی کچھ سوچ کر وہ شیر خرمہ ہلکی آنچ پر رکھ کر کمرے میں آئی اور عاشر کو فون کرنے لگی مگر اس کا فون بند جارہا تھا۔ ایک‘ دو‘ تین… کئی بار اس نے ٹرائی کی مگر ’’یور نمبر از ناٹ رسپانڈنگ‘‘ کی انائونسمنٹ نے اس کے اعصاب شل کرنا شروع کردیئے۔
اس نے گھڑی کی طرف نظر کی عاشر کو گئے کافی وقت ہوچکا تھا‘ اس کا حلق خشک ہونے لگا۔ اس نے کھڑکی کے پردے کھسکا کر باہر دیکھا مگر وہاں کوئی چہل پہل نہیں تھی ظاہر ہے یہ ایک غیر اسلامی ملک تھا یہاں چاند رات کی رونق کا کیا سوال تھا۔ اس کی وحشت دوچند ہوگئی وہ چولہا بند کرکے بستر پر آلیٹی‘ دل کی دھڑکنوں کا شور بڑھ کر اسے اور ہراساں کررہا تھا۔ سچ ہے انسان ہمیشہ اپنے لیے خود ہی گڑھا کھودتا ہے‘ خوف و ندامت کا ملا جلا احساس اسے اذیت میں مبتلا رہا تھا اس نے خود کو کمبل میں چھپالیا‘ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔
ء…/…ء
کانٹوں جیسی چبھن کے احساس نے گویا اس کا قرار و سکون لوٹ لیا اور سوکھتے حلق پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے جگ میں سے گلاس میں پانی ڈالا اور منٹوں میں حلق میں انڈیل دیا۔ بوجھل آنکھوں سے چاروں طرف نظر گھمائی تو خالی پن کے احساس نے اس کا دل اور روح بھی بوجھل کردیئے۔ یکایک کسی خیال کے تحت اس نے تیزی سے نظر وال کلاک کی طرف کی تو صبح کے پانچ بجنے والے تھے اس پر واضح ہوگیا کہ اب یہ تنہائی اس نے عمر بھر بھگتنی ہے اور تنہائی کا احساس بڑا جان لیوا ہوتا ہے اور یہی وہ پل ہوتا ہے جب انسان خود کو اپنی ہی لگائی عدالت میں لاکھڑا کرتا ہے جہاں پر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے باعزت بری بھی ہوتا ہے اور قید بامشقت کی سزا پاکر اپنی ہی نظروں میں بھی گر جاتا ہے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہورہا تھا۔
اس نے ایک بار پھر موبائل اٹھا کر عاشر کو کال ملائی مگر فون بند ہونے کی اطلاع نے عاشر سے دوری کا احساس دوچند کرکے پشیمانی کا احساس دوچند کردیا۔ اس کے رخسار ایک بار پھر بھیگنے لگے۔ اسی اثناء میں موبائل پر فجر کی اذان کے لیے لگایا الارم بج گیا وہ چپ چاپ موبائل کو تکنے لگی پھر آنکھیں بند کرکے اس نے سر بیڈ کرائون سے ٹکادیا۔ اذان کی آواز میں اذان کا بجتا الارم اس کے اندر سکون کی لہریں پیدا کررہا تھا‘ اس کے آنسو تھم گئے اور دھڑکنیں اعتدال پر آنے لگیں۔
’’بس وہ پاک ذات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے‘ بس وہ ہے جو سب دیکھتا ہے‘ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘ عنایہ کے دل و دماغ اعتراف کرنے لگے۔ ’’واقعی صرف وہی تو ہے جو بندے کی پکار کو ان سنا نہیں کرتا جو ہر وقت اپنے بندے کے پاس رہتا ہے اسے اکیلا نہیں چھوڑتا۔‘‘ اسی اعتراف کے ساتھ وہ نئی توانائی سے اٹھ کھڑی ہوئی‘ وضو کیا اور رب کے حضور حاضر ہوگئی اور پھر سب کچھ کہہ ڈالا‘ اعتراف گناہ کرکے معافی بھی مانگ لی اور سکون و راحت بھی طلب کرلی اور اس کی تو شان یہی ہے کہ وہ کسی کو بھی خالی ہاتھ اور بے مراد نہیں لوٹاتا۔ وہ سجدے میں پڑی رہی اور اس کے اندر کا طوفان تھمتا چلا گیا‘ اسے لگا کہ وہ اب تک بپھری ہوئی موجوں کے حوالے تھی اب کسی نے اسے باحفاطت ساحل پر لاکھڑا کیا ہوا وہ خاموشی سے سانسیں بحال کرتی رہی‘ ایسے میں میں ڈور کھلنے کی آواز آئی تو اس کی سانسیں جیسے بوجھل ہوگئیں۔ قدموں کی چاپ نے اس کی دھڑکنوںکو بھی تقریباً خاموش کردیا اور پھر کندھے پر مانوس لمس پاکر اور ’’عنایہ‘‘ کی آواز سن کر گویا اس کے مردہ وجود میں جان پڑگئی وہ جھٹکے سے اٹھی اور تڑپ کر عاشر کے گلے لگ گئی۔
’’اللہ کے لیے مجھے یوں تنہائی کی سزا نہ دیں‘ مجھے معاف کردیں اگر میرا بدتمیز وجود آپ کو گوارا نہیں تو میں ساری عمر آپ کے قدموں میں پڑے رہنے کو تیار ہوں مگر مجھے دوریاں اور جدائی کے زندان میں دفن نہ کریں۔‘‘ وہ عادت کے مطابق جذباتی ہوکر بے تکان بولتی عاشر کی بانہوں میں ڈھے گئی تو عاشر نے تیزی سے اسے اٹھایا اور بستر پر لٹا کر پانی کے چھینٹے اس کے چہرے پر مارے تو اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں‘ عاشر کو دیکھا اور پھر بری طرح رو پڑی تب عاشر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا‘ اس کے تڑپتے وجود کو خود سے قریب کیا اور آہستگی سے بولا۔
’’بہت پاگل لڑکی ہو تم‘ خود ہی فیصلہ کرتی ہو‘ سناتی ہو اور پھر اس فیصلے سے دستبردار بھی ہوجاتی ہو‘ عنایہ… پریکٹیکل زندگی اور شادی ہرگز بھی مذاق نہیں‘ جذباتی پن اور غصے کی آخری منزل صرف اور صرف پچھتاوا ہے ویسے تو میں تمہیں اتنی آسانی سے چھوڑنے والا تھا نہیں کیونکہ تمہارے بغیر جینے کا تصور ہی میرے لیے محال تھا مگر تمہاری ضد نے میرے اندر کی کشمکش کو اس قدر بڑھادیا کہ بالآخر مجھے فیصلہ کرنا ہی پڑا مگر میں نے یہ فیصلہ قطعاً جذبات میں آکر نہیں کیا۔‘‘ عاشر سانس لینے کو رکا تو عنایہ نے رکتی سانسوں کے ساتھ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ چند لمحے یونہی بیتے پھر اچانک عاشر کے قہقہے سے کمرہ گونج اٹھا‘ عنایہ اسے یوں ہنستا دیکھ کر ہونقوں کی طرح اسے گھورنے لگی تو وہ مشکل خود پر قابو پاکر بولا۔
’’یار تم تو ڈری سہمی بھی اتنی پیاری لگتی ہو کہ کون بے وقوف ہوگا جو ہر روپ میں پیاری دکھتی ایسی بیوی کو چھوڑے گا سو میں نے سوچ لیا تھا کہ میں سمجھوتہ کروں گا مگر اب جب آیا ہوں تو تمہارا یہ بدلا روپ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ زندگی کے رنگ پھیکے نہیں‘ بڑے خوب صورت اور خوش رنگ ہوں گے۔‘‘ وہ شرارت سے آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا تو وہ شرما اٹھی تب عاشر نے اس کی ٹھوڑی انگلی سے اٹھاتے ہوئے مخمور لہجے میں کہا۔
’’سنو الماری میں عید کا جوڑا اور چوڑیاں رکھی ہیں پہلے مجھے میری بیوی کے حسین روپ کا دیدار کروا کر میری عید کرادو پھر کچھ اور میری طرف سے تمہیں اجازت ہے۔‘‘ وہ خاموشی سے اٹھی اور شیر خرمہ ٹرے میں سجا کر اس کے سامنے رکھا۔
’’پہلے آپ شیر خرمہ کھا کر نماز پڑھ کر آیئے پھر آپ کی یہ خواہش پوری ہوگی۔ آپ کے کپڑے واش روم میں ریڈی ہیں۔‘‘ وہ کسی خیال کے تحت چونک کر اٹھا‘ جلدی سے واش روم کی طرف بھاگا شاور لے کر کپڑے بدلے اور شیر خرمہ کھا کر عید کی نماز کے لیے نکل گیا‘ واپس آیا تو حسب خواہش وہ اسے مکمل سولہ سنگھار سے لیس ملی۔ پرپل اور اسکن کلر کے خوب صورت کامبینیشن کی لانگ فراک میں کامدار شیفون کے دوپٹے کو وہ سر پر لپیٹے ہم رنگ چوڑیاں پہنے مکمل مشرقی سراپا میں ڈھلی خوب صورت لگ رہی تھی۔ عاشر نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرکے اسے خود سے قریب کرلیا۔
’’عید مبارک جان عاشر… گو کہ دل تو نہیں کہ تمہارا یہ روپ آنکھوں سے اوجھل کروں مگر تمہاری خاطر خود پر جبر کرکے تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں آئوٹنگ پر لے جانے کے لیے بالکل تیار ہوں بس تھوڑا ناشتا کرادو‘ خالی پیٹ ڈرائیونگ نہیں ہوگی۔‘‘ اس نے مسکین سی شکل بناکر لاچاری سے کہا تو شرم سے نظریں جھکائی عنایہ کو بے اختیار ہنسی آگئی۔
’’آپ کو اس کی ضرورت بھی نہیں‘ ناشتا تو خیر تیار ہے مگر ناشتا کرنے کے بعد بھی آپ کو ڈرائیونگ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے باہر نہیں جانا۔ میرا سولہ سنگھار‘ میرا وقت‘ میری محبت توجہ سب آپ کے لیے ہے فقط آپ کے لیے۔ میری زندگی کی تمام سانسیں آپ کے سنگ گزریں بس یہی میری خواہش اور یہی میری دعا ہے۔‘‘ وہ عاشر کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر سرشاری کے عالم میں سب کہہ گئی اور وہ اس کے چاہت بھرے اقرار پر نہال ہوگیا۔ عید کی خوشیوں کے چاہت بھرے احساس نے دونوں کے دل و جان مسرور کردیئے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close