Hijaab Jun-18

تیری دید میری عید سجن

ام مریم

’’ارے دیکھو آئس مین۔‘‘ وہ جو انتظار کی کوفت محسوس کرتی ابھی داخلی گیٹ سے نظریں ہٹا کر جرنل کی سمت متوجہ ہی ہوئی تھی کہ اس پُرجوش آواز پر بے ساختہ دھڑک اٹھنے والے دل کو سنبھالتی جھٹکے سے سر اٹھا کر سامنے دیکھنے لگی۔ گرے چست جینز پر گرے اور بلیو چیک کی شرٹ میں ملبوس موبائل پہ بات کرتے ہوئے وہ کس درجہ بے نیازی اور نخوت زدہ انداز میں اسے نظر انداز کیے قریب سے گزر کر آگے بڑھ گیا تھا وہ بنا پلکیں چھپکائے اور سانس روکے اس کے نقش قدم کو گھورتی رہ گئی تھی۔
’’اوہ یہ تو گئی کام سے… اچھی بھلی لڑکی تھی عادل شیرازی کی ایک جھلک دیکھ کر ہی دیوانی ہوگئی۔‘‘ مضحکہ اڑاتا لہجہ اور جلترنگ بجاتی ہنسی اسے چونکاتے ہوئے حواس کی نگری میں واپس لے آئی۔ ماہین ثنا اور نازو کے ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑی اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اس کے صبیح چہرے پر خجالت امیز سرخی بکھرتی دیکھی تو ثنا ماہین کو گھورتی اس کے قریب آگئی۔
’’ہوگیا تمہارا کام مکمل‘ اب چلیں اسے کون سا کام کرنا تھا اصل مقصد تو عادل شیرازی کو دیکھنا تھا۔‘‘ ماہین کو پھر موقع ملا تھا سو طنزیہ بولی۔
’’شٹ اپ ماہی تمہیں شاید اندازہ نہیں کہ تم حد سے بڑھ رہی ہو۔ دوستی میں مذاق تو کیا جاسکتا ہے مگر طنز اور تضحیک کی کہیں گنجائش نہیں۔‘‘ ثنا نے حیا کے بھینچے ہوئے لبوں سے اس کے ضبط کا اندازہ کرتے ہوئے تنبیہی لہجے میں سرزنش کی جس کا ماہین نے بالکل اثر نہیں لیا جب ہی تحیر آمیز انداز میں آنکھیں پھیلا کر کہنے لگی۔
’’تو کیا میں غلط کہہ رہی ہوں کہ مس حیا لغاری کو عادل شیرازی سے محبت…‘‘
’’انف… ماہین پلیز انف اگر یہ سچ بھی ہے تو اس کی تشہیر کرنے کی کیا ضرورت ہے بھلا۔‘‘ نازو نے عاجز ہوکر کہا۔ جبکہ ماہین یہ سنتے ہی چمک کر مزید کہنے لگی۔
’’ہے ناں ضرورت… ارے بیوقوف لڑکی تشہیر نہیں ہوگی تو عادل شیرازی کو کیسے پتہ چلے گا کہ حیا لغاری کو اس سے م…‘‘
’’اسٹاپ اٹ ماہین۔‘‘ معاً حیا نہایت درشتگی سے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک گئی۔
’’ثنا ٹھیک کہتی ہے تمہیں یہ سب کہنے کی واقعی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اوہ… تو یہ سب بھی تم خود کرلو گی یعنی اظہار محبت جیسے اس سے پہلے محبت کرچکی ہو۔‘‘ ماہین آنکھیں گھماتے ہوئے ہونٹ سکیڑ کر بولی تو حیا کا صبیح چہرہ آن واحد میں بے تحاشا سرخ ہوگیا کچھ دیر تک وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے تپتی نظروں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر آنچ دیتے لہجے میں بولی۔
’’ہاں اگر اس کی ضرورت پڑی تو آف کورس ایسا بھی کروں گی‘ بٹ مائنڈ اٹ تمہیں انوالو نہیں کروں گی۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد چلی گئی جبکہ ماہین کے لبوں پہ زہرخند مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
’’بڑا نخرہ ہے بھئی۔‘‘ وہ بالوں کو جھٹک کر ہنسی۔
خ…ز…خ
پارکنگ لاٹ سے گاڑی نکال کر مین روڈ پر لاتے ہی حیا بری طرح چونکی۔ عادل شیرازی ہاتھ میں پکڑی فائل کو چہرے کے سامنے کیے گویا اس جھلسا دینے والی دھوپ سے بچنے کی ناکام سعی میں مصروف تھا فائل نے تقریباً اس کا نصف چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ پہلی نگاہ میں تو کوئی بھی اسے نہ پہچان پاتا مگر وہ حیا تھی… حیا لغاری جس کی دھڑکنوں میں اس کا ہی نام بسا تھا۔ جب ہی اگلے لمحے بے اختیار اس کا پائوں بریک پر جا پڑا مدھم رفتار میں چلتی گاڑی ہلکے سے جھٹکے سے عین اس کے سامنے رک گئی تھی۔
’’آئیں پلیز میں آپ کو ڈراپ کردوں۔‘‘ چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ لیے‘ وہ بہت خوش اخلاقی کا مظاہرہ کررہی تھی۔ وہ جو چونک کر اسے دیکھنے لگا تھا اس آفر بھی سپاٹ نظروں سے تکتا ہوا چند قدم پیچھے ہٹنے کے بعد یوں چہرہ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگا جیسے حیا لغاری جیسی خوب صورت نازک اندام لڑکی کی جگہ کسی اسی برس کی خرانٹ بڑھیانے اسے یہ لفٹ آفر کی ہو‘ اسے تو کچھ ایسا ہی لگا تھا اس کے تاثرات سے جب ہی سبکی وخجالت کے احساس سے کچھ لمحوں تک بول نہ پائی مگر پھر خود کو سنبھال کر کمپوز کرتے ہوئے بہت جذب سے بولی۔
’’دیکھیے عادل صاحب میں آپ سے مخاطب ہوں کہ میں آپ کو…‘‘
’’نو تھینکس میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے ہی مخاطب ہیں اس کے باوجود میں اگنور کررہا ہوں تو سو سمپل یا تو میں آپ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا یا پھر مجھے آپ کی لفٹ کی ضرورت نہیں‘ ہوگئی تسلی اب برائے مہربانی تشریف لے جائیے۔‘‘ تضحیک آمیز لہجہ حیا کو سراسر اپنی تذلیل محسوس ہوا جب ہی اسے اپنی پیشانی سلگتی ہوئی محسوس ہوئی تھی گو کہ وہ ایسا ہی مشہور تھا‘ روکھا پھیکا اور اکھڑ مگر اس طرح اس سے قبل وہ کسی سے بھی بات کرتا ہوا نہیں پایا گیا تھا‘ اس حد تک بے عزتی اور وہ بھی سر راہ حیا کے تو گمان تک میں نہیں تھی اسے لمحوں میں اپنا وجود سن ہوتا محسوس ہوا۔ ساکن پلکوں پہ پھسلتی نمی لیے وہ سکتے کے عالم میں بیٹھی تھی جبکہ عادل شیرازی لمبے لمبے ڈگ بھرتا لمحہ بہ لمحہ اس سے دور ہوتا جارہا تھا۔
خ…ز…خ
گو کہ اس کا رویہ بے حد تضحیک آمیز تھا اس کے باوجود وہ دل کو اس کے معاملے میں انتہا درجے کا ضدی پارہی تھی۔ ایسا ضدی بچہ جو پسندیدہ کھلونا دیکھ کر پانے کی خواہش میں ایڑیاں رگڑ رگڑ روتا ہے شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے اس مس بی ہیویئر کے باوجود دل نے بہت فراغ دلی سے اس خطا کو معاف کرتے ہوئے گنجائش پیدا کرلی تھی وہ کسی بھی قیمت پر اسے اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھی غالباً نادان تھی جو نہیں جانتی تھی کہ اس طرح اس کے پیچھے خوار ہوکر وہ اس کی نگاہوں میں اپنا رہا سہا مقام بھی کھو رہی ہے۔ اس وقت بھی وہ اسے گھاس کے قطعے پہ چند اسٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھا نظر آیا تو بنا کچھ سوچے سمجھے تیز تیز قدموں سے چلتی عین اس کے سامنے آرکی۔ تاہم اس کے اس قدر صفائی سے نظر انداز کیے جانے کو نظر انداز کرتی وہ متوجہ کرنے کی کوشش میں باقاعدہ کھنکھاری وہ جو لڑکوں کے چلے جانے کے بعد بیک سے ٹیک لگا کر نوٹس پڑھنے میں منہمک تھا پلکیں اٹھا کر سپاٹ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
’’کیا میں یہاں بیٹھ جائوں۔‘‘ اس سے کچھ فاصلے پہ رکھی کرسی کی سمت اشارہ کرتے ہوئے دلکش مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر ریشمی بالوں کو خفیف جھٹکے سے پیچھے کرتی ادائے دلربائی سے بولی تو عادل شیرازی کی فراغ پیشانی پہ موجود شکنوں میں مزید ایک شکن کا اضافہ ہوگیا۔
’’آپ سے کس نے کہا کہ یہ کالج میری پراپرٹی کا حصہ ہے کہ آپ کو کہیں بیٹھنے سے قبل میری اجازت کی ضرورت محسوس ہو۔‘‘ سرد مہر نخوت زدہ لہجہ ہمتیں پست کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا مگر وہ تو جیت کا عزم لے کر میدان میں اتری تھی سو دل برداشتگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جب ہی محسوس کیے بنا لبوں پہ موجود مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے بولی۔
’’ایکچولی مجھے آپ سے کچھ بات کرنا تھی۔‘‘ نشست سنبھال لینے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر اس کی توجہ کی طالب ہوئی کہ وہ پتھر مار جواب دے کر پھر سے مطالعہ میں غرق ہوگیا تھا۔ حیا کو اس کے ہاتھ میں پکڑی فائل سے اس لمحے شدید ترین رقابت محسوس ہوئی تھی۔ عادل شیرازی نے اس کی بات کا جواب دیا نہ نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا کی‘ یہ نظر اندازی حیا کو تائو دلانے کا باعث بنی۔ محنت سے کی گئی تیاری غارت ہوتی نظر آئی۔ وہ تو خود سے عہد کرکے آئی تھی۔ آج عادل شیرازی کو چاروں شانے چت کردے گی۔ اس نے ٹھنڈا سانس بھرا وہ اس کے قریب آبیٹھنے پہ ہمیشہ کی طرح اٹھا نہیں تھا فی الحال یہی کافی تھا۔
’’آپ کو پتہ ہے ناں عادل کالج کی پڑھائی اختتام کی طرف ہے آئی مین آپ کا یہاں لاسٹ ایئر ہے‘ ایگزامز کے بعد آپ کالج چھوڑ دیں گے پھر اس کے بعد کیا ارادے ہیں۔‘‘ بہت ہمت کرتے ہوئے اس نے تمہید باندھنا شروع کی۔
’’مجھے آپ کو شاید یاد دلانا پڑے گا کہ آپ کچھ پرسنل نہیں ہورہیں۔‘‘ پُرتپش چٹختا ہوا لہجہ عجیب سا طنز سموئے ہوئے تھا حیا کی رنگت لمحہ بھر کو متغیر ہوئی‘ لب کچل کر اس نے خود کو نروس ہونے سے بچایا پھر تھوک نگل کر ہمتیں مجتمع کرتے ہوئے بولی۔
’’ہوسکتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہماری پرسنلز…‘‘
’’پلیز اسٹاپ اٹ…‘‘ معاً وہ ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک گیا۔ ’’آپ کو یہاں بیٹھنا ہے تو بیٹھیں ورنہ جائیں‘ میرے پاس فضول باتوں کا جواب دینے کا بالکل وقت نہیں۔‘‘ انتہائی درشتگی سے کہتا وہ موبائل کی جانب متوجہ ہوگیا جہاں روشن ہوتی اسکرین پہ یقینا کوئی میسج آیا تھا جبکہ حیا تپتے ہوئے چہرے سے اسے دیکھتی رہی تھی اس سے قبل ایسا کب ہوا تھا کہ اس نے کسی سے بات کرنا چاہی ہو اور اسے یوں ٹوک دیا گیا ہو۔ وہ تو بات بھی اپنی مرضی سے کرتی تھی اور یہ عادل شیرازی کیا تھا جسے اس کی حد سے بڑھی ہوئی والی خوب صورتی بھی چونکا نہیں سکی تھی جبکہ اس کے پیچھے تو ایک دنیا دیوانی تھی اگر وہ عادل شیرازی کے سامنے جھکی تھی تو خالی کیسے اٹھ جاتی اسے پانا چاہتی حاصل کرنا چاہتی تھی اگر وہ اسے نہ ملتا تو اسے چھیننا بھی آتا تھا سو عادل شیرازی کا یہ انسلٹنگ رویہ مزید برداشت کرنا اسے بالکل گوارا نہ تھا‘ جب ہی لب بھینچتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھا کر سیل فون اس کے ہاتھ سے تقریباً چھینا۔
’’اس حقیر سے سیل فون میں تمہیں مجھ سے زیادہ ایٹریکشن محسوس ہورہی ہے۔‘‘ وہ جیسے بھڑک کر کہتی موبائل اس کی آنکوں کے سامنے لہرا کر پھنکاری تھی۔ عادل شیرازی جو اس کی اس درجہ جرأت وبے باکی پہ ابھی تک ششدر تھا جیسے یک دم شدید قسم کی توہین کے احساس سے بے قابو سا ہوگیا تھا۔
’’واٹ نان سنیس مس حیا لغاری کیا مجھے آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ اوور کونفیڈنس ہورہی ہیں… واٹ از دس۔‘‘ موبائل واپس جھپٹتے ہوئے وہ تقریباً غرایا۔
’’تم میری بات نہیں سن رہے‘ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟‘‘ اس کا ضبط بھی جیسے یہیں تک تھا جواباً دبے دبے لہجے میں چیخی تو عادل شیرازی جو اپنی کتابیں اور فائل اٹھا رہا تھا کہ یک دم اس کی جانب متوجہ ہوا۔
’’مائنڈ یور لینگویج مس آپ میری کوئی سگی نہیں ہو… کس لہجے میں بات کررہی ہیں مجھ سے۔‘‘ کتنا اشتعال سمٹا ہوا تھا اس کے سرد بھینچے ہوئے لہجے میں مگر اس پر جیسے اثر ہی نہ ہوا تھا۔ جب ہی اس کی سلگتی بھڑکتی آنکھوں میں اپنی نظریں گاڑھ کر بے خوفی سے بولی۔
’’سو واٹ… سگی نہیں ہوں ہو تو سکتی ہوں ناں۔‘‘ بے ربط سرکشی لیے لہجہ اور بے قابو ہوتی سانسیں عادل شیرازی بری طرح سے چونک کر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کے کٹے بال کیچر میں جکڑے ہونے کے باوجود لٹوں کی صورت چہرے اور گردن کے گرد حصار باندھے اس کے چاند چہرے کی خوب صورتی وتابناکی کو بڑھا رہے تھے۔ کھلتے ہوئے سی گرین لباس میں وہ اس وقت شگفتہ گلاب کی مانند نکھرا ہوا روپ لیے اس کے سامنے تھی۔ حیا نے اس کی نگاہ کو اٹھتے اور ٹھہرتے محسوس کیا تو دل دھک سے رہ گیا۔ اسے ان نگاہوں کی تپش نے ہی یہ احساس بخشا تھا کہ وہ کچھ بہت غلط کہہ گئی ہے‘ کچھ ایسا جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا‘ کیا تھا اس پہ اٹھنے والی ان نگاہوں میں‘ تاسف‘ ناپسندیدگی‘ حقارت یا پھر نخوت‘ وہ اس نگاہ کا مفہوم سمجھ کر جیسے اندر سے ریتلی دیوار کی مانند گرتی چلی گئی‘ اسے بہت شدت سے احساس ہوا کہ وہ جیتنے کی بجائے ہار چکی ہے۔ اس کی سوچ کے بخیے عادل شیرازی کی تند و تتیز آواز نے ادھیڑ کے رکھ دیے تھے جو آگ برساتے لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔
’’مجھے یہ سب کہتے ہوئے بے حد افسوس ہے کہ پتہ نہیں آپ کے پیرنٹس نے آپ کا نام حیا کیوں رکھ دیا‘ سوری ٹو سے تم اپنے نام کے بالکل برعکس ہو‘ تم جیسی لڑکیاں تو اس قابل بھی نہیں ہوتیں کہ ان کی عزت کی جائے کیونکہ تم عزت کروانا ہی نہیں چاہتی۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل کرکے رکا نہیں‘ معاً کچھ یاد آنے پہ پلٹا اور اس کے دھواں ہوتے چہرے پر تمسخرانہ نگاہ ڈالی اور زہرخند لہجے میں بولا۔
’’ایک بات اور عادل شیرازی کی زندگی میں تم جیسی لڑکی کی قطعی کوئی گنجائش نہیں نکلتی‘ آئندہ میرا راستہ روکنے یا مجھ سے مخاطب ہونے کی جرأت نہ کرنا‘ انڈر اسٹینڈ۔‘‘ وہ آنکھیں نکال کر غرایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا۔ حیا وہیں گھٹنوں کے بل گرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ چکی تھی۔
خ…ز…خ
عادل شیرازی کی تعلیم مکمل ہوئی اور وہ چلا گیا مگر حیا کے لبوں پہ لگے خاموشی کے قفل نہ ٹوٹے‘ اتنی تذلیل ایسی تحقیر کا تصور بھی اس کے آس پاس کہیں نہ تھا‘ غلطی بے شک اس کی تھی اس کے باوجود اسے ایسا لگتا تھا جیسے عادل شیرازی نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہو وہ آج تک اپنا بکھرا وجود سمیٹ نہیں پائی تھی‘ تکلیف دہ یادیں اس کے ذہن کو مسکن بنا کر بیٹھ گئی تھیں۔ پھر اسی ذہنی خلفشار میں ایک سال بیت گیا تھا‘ اس نے ایف ایس سی مکمل کی‘ چھٹیوں میں گھر آئی تو مما نے اس تبدیلی کو شدت سے نوٹ کیا مگر اس کے پاس ان کی تسلی کرانے کو کچھ باقی نہ تھا‘ ان کے خیال میں وہ بدل گئی تھی اور بدل تو وہ واقعی گئی تھی کسی کام میں دل ہی نہ لگتا تھا‘ عجیب سی وحشت ذہن ودل کو ہمہ وقت جکڑے رکھتی اس روز وہ واپس جانے کی لیے تیار ہورہی تھی۔ مما نے روک لیا۔
’’آج مت جائو بیٹا تمہاری پھوپو آرہی ہیں۔‘‘
’’سوری مما چھٹیاں تو ختم ہوگئیں اب نہیں رک سکتی۔‘‘ وہ ہنوز پیکنگ میں مصروف رہ کر بولی۔
’’ایک دن سے کچھ فرق نہیں پڑے گا بیٹا‘ بہت نازک رشتے ہوتے ہیں‘ میں نہیں چاہتی انہیں اعتراض کا کوئی موقع دوں‘ دس سال بعد واپس وطن آئی ہیں‘ مجھے یقین ہے‘ اس مرتبہ وہ تمہارے بابا سے تمہاری شادی کی بات ضرور کریں گی۔‘‘
’’کس کی شادی کی بات…؟‘‘ اس کا بیگ کی زپ بند کرتا ہوا ہاتھ اسی زاویے پہ ساکن ہوگیا‘ بری طرح چونکتے ہوئے ماں کی صورت تکنے لگی۔
’’تمہاری شادی کی بات‘ میری جان تمہاری پیدائش پہ ہی انہوں نے اپنے سب سے بڑے بیٹے کے لیے تمہارے بابا سے تمہیں مانگ لیا تھا۔‘‘
’’واٹ…!‘‘ اسے دھچکا لگا‘ بے یقینی سے آنکھوں میں نمی آگئی۔ وہ منہ پہ ہاتھ رکھے واش روم میں جا گھسی۔
’’پتہ نہیں میں کبھی عادل شیرازی اور اس سے ملنے والی تذلیل کو بھلا پائوں گی یا نہیں اور وہ… وہ شخص جانے کیسا ہو پتہ نہیں میں اسے قبول کرسکوں گی یا نہیں۔‘‘ امڈتی چیخوں کا گلا گھونٹتی وہ زارو قطار رو رہی تھی کہ وہ جانتی تھی نارسائی کے احساس سے بڑھ کر جان لیوا تھا رد کیے جانے کا احساس‘ اس قدر اذیت ناک کہ وہ ان لمحوں کو یاد کرتے ہی کانپ جاتی۔ کاش عادل شیرازی اب زندگی میں کبھی تم سے سامنا نہ ہو۔
خ…ز…خ
اگلے دو روز میں نہ صرف پھوپو ان کے گھر آپہنچیں بلکہ برسوں قبل طے کیے گئے اس رشتے کی تجدید کرتے ہوئے چھوٹی سی منگنی کی تقریب میں اس کے ہاتھ کی انگلی میں اپنے بیٹے کے نام کی انگوٹھی بھی پہنا دی۔ پھوپو اکیلی نہیں آئی تھیں ان کے شوہر اور بچے بھی ساتھ تھے ماسوائے بڑے بیٹے کے‘ جسے حیا نے دیکھا تک نہ تھا مگر اسے اس کے نام ضرور کردیا گیا تھا۔ منگنی کی اس چھوٹی سی تقریب میں اس کی شادی کی تاریخ بھی طے کردی گئی جو دو ماہ بعد کی تھی‘ اس نے سنا تو اندر جیسے ہر سو سناٹے بکھر گئے۔ حیا نے سخت احتجاجی نگاہوں سے مما کے خوشی سے چمکتے ہوئے چہرے کو تکا مگر وہ اس لمحے ان نگاہوں کا شکوہ پڑھے بغیر پھوپو سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی رہی تھیں مگر رات کو جب وہ دودھ کا گلاس لیے اس کے کمرے میں آئیں تو حیا جو تب سے اذیت میں مبتلا تھی ان سے الجھ گئی۔
’’اتنی جلدی شادی طے کرنے کی کیا ضرورت تھی مما‘ آپ کو پتہ ہے میری تعلیم مکمل نہیں‘ میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی تھی‘ آپ جانتی بھی ہیں مجھے ڈاکٹر بننے کا کتنا شوق ہے۔‘‘ بات کے اختتام تک اس کا گلا بھرا گیا‘ تب مما نے بے ساختہ لپک کر اسے گلے لگا کر پچکارتے ہوئے کہا۔
’’دل کیوں چھوٹا کرتی ہو بیٹا‘ اگر واقعی تمہیں تعلیم ادھوری رہ جانے کا قلق ہے تو بے فکر ہو جائو عادل تمہیں تعلیم مکمل کرنے سے نہیں روکے گا‘ وہ خود بہت ایجوکیٹڈ ہے۔ اتنی تو ڈگریاں ہیں اس کے پاس‘ ظاہر ہے بیوی بھی پڑھی لکھی پسند کرے گا‘ پھر تمہاری پھوپو کو واپس لندن جانا ہے جانے سے پہلے بیٹے کی شادی کرنا چاہتی ہیں‘ بتائو ہم لڑکی والے ہوکر انکار کیسے کرسکتے تھے۔‘‘ مما تو اپنی دھن میں اسے تسلی دیتے ہوئے اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں مگر وہ تو ایک لفظ عادل پہ جیسے اٹکی رہ گئی تھی۔ وہ ایک نام جس سے وہ آج تک نگاہ چراتی پھر رہی تھی عمر بھر کو اس کے نام کے ساتھ جڑ رہا تھا تو پھر وہ اوسان کیسے بحال رکھ پاتی‘ یہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ‘ میرے خدایا‘ مما کے جانے کے بعد اس نے چکراتا ہوا سر تھام لیا۔ ضروری تو نہیں یہ وہی عادل شیرازی ہو بلکہ یہ وہ کیسے ہوسکتا ہے؟ نہیں نہیں… اس کا اضطراب جب حد سے بڑھا تو وضو کرنے کے بعد عشاء کی نماز ادا کی‘ دعا میں سر سجدے میں رکھنے کے بعد وہ کتنی ہی دیر گڑگڑاتے ہوئے انداز میں عادل شیرازی سے کبھی سامنا نہ ہونے کی التجا رب سے کرتی رہی تھی۔
خ…ز…خ
پھوپو جاچکی تھیں اور مما نے اسے ہاسٹل جانے سے روک لیا تھا۔ شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں‘ مما صبح ناشتے کی ٹیبل پر اس کے ساتھ شاپنگ پہ جانے کا پروگرام طے کررہی تھیں‘ جب بابا نے ان کی بات پہ چونکتے ہوئے اخبار رکھ کر انہیں دیکھا۔
’’آج شاپنگ کے لیے مت جائیے۔‘‘
’’کیوں خیریت؟‘‘ مما ان کے لیے چائے کپ میں نکالتے ہوئے حیرانگی ظاہر کیے بنا نہ رہیں۔
’’ایکچولی عادل بزنس کے سلسلے میں اسلام آباد آیا ہے‘ ایک دو دن کا ٹور ہے‘ میں نے اسے ہوٹل میں رہنے سے منع کردیا ہے‘ تم ایسا کرنا اس کے لیے کمرہ تیار کردینا اس کے علاوہ کھانے وغیرہ کی تیاری اپنی نگرانی میں کروانا۔‘‘
’’آپ فکر ہی نہ کریں۔‘‘ مما عادل کی آمد کا سنتے ہی کھل سی گئیں جبکہ حیا کو وہاں بیٹھنا دشوار محسوس ہوا تو اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
’’حیا بیٹا… دیکھنا دروازے پہ کوئی ہے۔‘‘ مما کے بار بار اصرار پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھ کر دروازے تک آئی۔ فیروزی ہلکی کڑھائی کے دوپٹے کا پلو سنبھالتے ہوئے ناب گھما کر دروازہ اوپن کرتے ہی زمین وآسمان اس کی نگاہوں میں گھوم کر رہ گئے تھے۔ ایش گرے پینٹ کوٹ میں غضب کی دراز قامت اور تمام تر مردانہ وجاہتوں سے عادل شیرازی اس کے سامنے تھا‘ یقین سے عاری ساکت نظریں لیے وہ فق چہرے سے کسی مجسمے کی طرح ساکت اسے دیکھتی رہ گئی تھی‘ اس کے اس انداز نے آنے والے کو ایک پل کو ٹھٹکایا تھا‘ اس پر اٹھنے والی یکسر اجنبی اور غیر نگاہ میں اگلے چند ثانیوں میں امڈنے والی حیرت لمحہ بھر کو نظر آئی اس کے بعد ان نگاہوں کی حقارت کی تحریر کو پڑھنا قطعی دشوار امر نہ رہا تھا۔ یقینا پہچان کے مراحل طے کرتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات جامد ہونے کے بعد نفرت وحقارت سمیٹ لائے تھے۔ لب بھینچتے ہوئے وہ اگلے ہی لمحے نگاہ کا زاویہ بدل گیا تھا۔
’’حیا کیا بات ہے بیٹا آپ اس طرح راستے میں کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ بابا جو یقینا عادل شیرازی کے بعد اندر داخل ہوئے تھے‘ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پریشانی سے گویا ہوئے تو حیا بھی جیسے اسی پل تکلیف دہ کیفیت کے حصار سے آزاد ہوئی تھی۔
’’شاید تم نے عادل کو پہچانا نہیں‘ بیٹا یہ عادل ہیں‘ عادل شیرازی تمہاری پھوپو جان کے بڑے بیٹے۔‘‘ بابا جان جو اس کے متغیر دھواں ہوتے چہرے کو دیکھتے تعارف کروا رہے تھے‘ حیا کی ٹوٹتی بکھرتی ہوئی دھڑکنیں اس یقین محکم کو پاکر جیسے بالکل ہی ڈوب گئیں‘ اس نے بے اختیار سہارے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو بابا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے‘ متفکر سے انداز میں آگئے بڑھ کر اسے سنبھال لیا۔
’’واٹ ہیپنڈ سویٹ ہارٹ؟‘‘ وہ اس پر جھکے پوچھ رہے تھے جبکہ اس کے حلق میں کچھ اٹک کر رہ گیا تھا‘ اپنا آپ چھڑاتی وہ سرعت سے پلٹ کر دھڑا دھڑ سڑھیاں چڑھتی اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی‘ اس بات پہ دھیان دیئے بنا کہ پیچھے بابا جان اور خاص طور پر عادل شیرازی کیا سوچتا ہوگا؟
خ…ز…خ
گو کہ عادل شیرازی آفس کے کام سے ایک رات ٹھہرنے کے ارادے سے آیا تھا مگر وہ کھانا بھی ماما اور بابا کے اصرار پہ گویا زہر مار ہی کرسکا تھا اور مزید ٹھہرے بنا واپس چلا گیا۔ بابا جان کو پہلے حیا پھر عادل شیرازی کے الجھے ہوئے رویے نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا مگر وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے‘ یقینا عادل شیرازی بھی حیا کو اپنی منگیتر کے روپ میں دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا۔ عادل شیرازی نے کس حد تک اسے اس رشتے سے قبول کیا وہ نہیں جانتی تھی مگر یہ بات طے تھی کہ اسے وہ ہرگز ہرگز قبول نہیں تھا۔ وہ تو زندگی میں کبھی اس کا سامنا ہوجانے کے خیال سے خائف تھی‘ کجا عمر بھر کا ساتھ‘ اگلے چار دن عادل شیرازی کی جانب سے کسی رسپانس کا انتظار کرتے اس نے گویا کانٹوں پہ بسر کیے تھے اسے پورا یقین تھا عادل شیرازی کبھی بھی اس سے شادی کرنے پہ آمادہ نہیں ہوگا‘ مگر ادھر اس کی توقع کے برعکس ہنوز خاموشی اس کا دل دہلائے دے رہی تھی۔ اس کے انتظار میں مزید اس کا ایک ہفتہ ضائع ہوگیا‘ اب وہ خود اپنے طور پر فیصلہ کرلینا چاہتی تھی۔ عادل شیرازی کے ساتھ اس بندھن کو باندھنے کا مطلب تھا عمر بھر کی ذلت ورسوائی جو اسے مر کے بھی گوارانہ تھی جب ہی اس روز وہ مما کے کمرے میں چلی آئی تھی جو اپنے سامنے بیڈ پہ زیورات کے ڈبے پھیلائے حساب کتاب میں مصروف نظر آرہی تھیں‘ وہ انہیں مصروف دیکھ کر جھنجلائی۔
’’مما پلیز چھوڑیں ان بے کار کاموں کو میری بات سنیں۔‘‘ وہ سخت جھلائے ہوئے انداز میں کہتی انہیں چونکا گئی۔
’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘ انہیں پریشانی لاحق ہوئی۔
’’مما آئی ایم سوری مجھے احساس ہے کہ آپ ہرٹ ہوں گی مگر مجھے یہ شادی نہیں کرنی پلیز…‘‘
’’کیا…؟‘‘ مما کی رنگت یکلخت پیلی پڑی اور ہاتھ سے زیور کا ڈبہ چھوٹ کر نیچے جا گرا۔ ’’کیا کہہ رہی ہو حیا…؟‘‘ ان کا لہجہ کانپا‘ حیا ان کی آنکھوں کی غیر یقینی اور گہرے دکھ کو پاکر نظریں چرا گئی۔
’’مما مجھے عادل سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ سر جھکا کر ہاتھ مسلتے ہوئے اس نے جیسے اپنے فقرے کی تصحیح کی۔
’’اور یہ میرا اٹل فیصلہ ہے‘ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ مما کو یونہی حیران وپریشان چھوڑ کر چلی گئی۔
خ…ز…خ
’’حیا کیا کہہ رہی تھیں تم کل۔‘‘ اگلے دن وہ پیکنگ کرنے میں مصروف تھی جب مما دروازے پہ آکر برہمی سے بولیں… اپنے تئیں وہ ہر مسئلے کو نپٹا کر ہاسٹل شفٹ ہونے کو تیار تھی۔ مما کو روبرو پاکر چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
’’کچھ پوچھا ہے میں نے… تم اتنی سرکش اور بے حیا کب سے ہوگئیں کہ اتنی بے شرمی سے منہ پھاڑ کے شادی سے انکار کردو۔‘‘ وہ اس کا کندھا پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے دبے ہوئے لہجے میں پھنکاریں‘ جبکہ اس کے اندر تو جیسے بھونچال اٹھ کھڑا ہوا تھا‘ اسے لگا یہ مما نہیں عادل شیرازی ہے جو سلگتے لہجے اور انگارے برساتی نظروں سے اس کے سامنے کھڑا ہے۔
’’مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ کل کہہ چکی‘ اب ہاسٹل جارہی ہوں۔‘‘ خاصی دیر بعد خود کو سنبھال کر وہ مما کی تیز نظروں سے نگاہیں ملائے بغیر گویا ہوئی۔
’’کالج سے تم چھٹیاں لے چکیں اب شادی کے بعد ہی کالج جا سکوگی۔‘‘ مما نے آگے بڑھ کر اس کا سوٹ کیس واپس رکھ دیا۔
’’اس طرح آپ مجھے شادی پہ آمادہ کرلیں گی یہ آپ کی بھول…‘‘ مما کے تھپڑ نے اس کی بات پوری نہ ہونے دی۔
’’آئندہ اگر یہ بات تمہارے منہ سے سنی تو زبان گدی سے کھینچ لوں گی یاد رکھنا اگر ہم نے تمہیں لاڈ پیار دیا ہے تو بے مہار ہونے پہ لگامیں کھینچنا بھی آتی ہیں۔‘‘ اسے بیڈ پہ دھکا دیتے ہوئے وہ مزید گویا ہوئی۔
’’میں تم سے عادل سے شادی کے انکار کی وجہ بھی نہیں پوچھوں گی کہ میں اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی‘ میں جانتی ہوں وہ ہر لحاظ سے بہترین لڑکا ہے۔‘‘ حیا گال پہ ہاتھ رکھے صدمے سے چور انہیں دیکھتی رہ گئی۔ اس نے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
مما کے اس شدید ردعمل نے اسے کچھ کہنے کے قابل چھوڑا بھی نہیں تھا۔ مما کے کمرے سے چلے جانے کے بعد بھی وہ کتنی دیر تک یونہی خشک آنکھوں سے چھت کو گھورتی رہی‘ اس کے اندر جوار بھاٹے اٹھ رہے تھے‘ اس کے مفلوج ہوتے ذہن نے خودکشی کی راہ دکھلائی‘ نہیں ابھی نہیں ابھی ایک راہ ہے‘ اس کے ذہن میں جیسے کوندا سا لپکا اگر تم مجھے رد کرسکتے ہو عادل شیرازی تو میں کیوں نہیں‘ اس سوچ کے آتے ہی وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔
خ…ز…خ
اس نے بہت سوچ کر عادل کو کال ملائی۔ نمبر اس نے چوری سے ابو کے موبائل سے نکال لیا تھا اور اب بیل جاتے ہی یہ سوچ رہی تھی کہ کیا بات کرے جبکہ پچھلی تمام باتیں ذہن کے پردے پر نمایاں ہوگئی تھیں جنہیں وہ کبھی سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ دوسری طرف تیسری بیل پر کال ریسیو ہوگئی تھی۔
’’کون… عادل شیرازی؟‘‘ تصدیق کی گئی تھی وہ زہرخند ہوا۔
’’جی فرمائیے کیوں زحمت کی۔‘‘ وہ بھرپور تلخی سے بولا۔
’’اس شادی سے انکار کردو‘ عادل شیرازی اس زحمت کی وجہ یہی ہے‘ ورنہ مجھے تم سے بات کرنے کا بالکل شوق نہیں ہے۔‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ادھر سے زمانے بھر کی بے زاری لہجے میں سمو کر جیسے پتھر برسائے گئے تھے۔ عادل شیرازی کے اندر تک جیسے کڑواہٹ بھر گئی۔
’’اچھا…‘‘ وہ طنزاً ہنسا۔ ’’حالانکہ زیادہ پرانی بات نہیں غالباً آپ ہی مجھ سے بات کرنے اور شادی کرنے کے لیے مری جارہی تھیں‘ پوچھ سکتا ہوں یکایک یہ تغیر کیسا؟‘‘ حقارت زدہ اشتعال دلاتا ہوا لہجہ تھا۔
’’شٹ اپ…‘‘
’’یوشٹ اپ۔‘‘ جواباً وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں مقدور بھر نفرت سمو کر بولا تو دوسر ی جانب حیا جیسے روہانسی ہوگئی۔
’’میں پچھلی کسی بات کو یاد رکھنا بھی نہیں چاہتی…‘‘
’’اوہ…‘‘ اس کی بات قطع کرتا وہ طنزاً ہنسا تو ایک بار پھر دوسری سمت گہری خاموشی چھا گئی۔ جس سے اکتا کر اسے ہی بولنا پڑا۔
’’آئی ایم سوری میں تمہاری کسی قسم کی بھی مدد سے قاصر ہوں۔‘‘ اس نے نہایت عیاری سے کہتے ہوئے جیسے اپنی لاچاری ظاہر کی۔
خ…ز…خ
تمام رسومات کی ادائیگی کے بعد وہ اپنے بیڈ روم میں آیا۔ اعصاب شدید کشیدگی اور تنائو کا شکار ہوکر چٹخ رہے تھے۔ دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی غیر ارادی طور پر نگاہ بیڈ پر موجود وجود سے الجھ گئی اور اگلے ہی لمحے جیسے اس کے اعصاب کو مزید دھچکا برداشت کرنا پڑا۔ روایتی دلہن کے روپ کی بجائے وہ سادہ لباس میں میک اپ سے صاف چہرہ لیے بہت نارمل انداز میں بیڈ پہ پائوں لٹکائے بیٹھی تھی۔ اس کے ساتھ ہی شیراز کی بھی شادی ہوئی تھی وہ جتنا خوش تھا‘ عادل شیرازی حیا کو اپنے پہلو میں پاکر قسمت سے اسی قدر شاکی ہوا تھا مگر حیا کی اس حرکت کو بہت شدت سے اسے اپنی توہین سے تعبیر کیا تھا۔ دماغ میں جیسے یکلخت بھانھبڑ جل اٹھے‘ جی تو یہی چاہا کہ دو تھپڑ لگا کر دماغ درست کردے اس بد دماغ لڑکی کا مگر محترمہ ثابت کیا کرنا چاہتی تھیں اس پر… وہ خود پہ ضبط کے پہرے بٹھاتا لب بھینچتے ہوئے اگلی نگاہ اس پہ ڈالے بنا معمول کی مصروفیت میں مگن ہوگیا‘ باتھ لے کر سیلپنگ گائون پہنا اور بال بنانے کے بعد بیڈ پہ آیا ہی تھا کہ حیا فوراً بیڈ سے اتری تو عادل شیرازی جو اب تک بہت ضبط کرچکا تھا‘ اس کی اس تائو دلاتی حرکت پہ تلملا کر اٹھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کی پہنچ سے دور ہوتی۔ عادل نے دبوچنے کے انداز میں اس کی کلائی پکڑ کر نہایت بے دردی سے بیڈ پر پٹخا اس کا لحظہ بہ لحظ دہکتا چہرہ اس کے خراب موڈ کا واضح غماز تھا۔
’’یہ… یہ کیا بدتمیزی ہے؟‘‘ اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔
’’اگر یہی سوال میں تم سے کروں تو…‘‘ وہ پھنکار کر بولا تو حیا کی آنکھیں حیرت وخُوف سے پھیل گئیں۔
’’کک… کیا… کیا بدتمیزی کی ہے میں نے؟‘‘ وہ اس کے اوپر جھکا اسے مزید طیش دلا رہا تھا وہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے لگی۔ جب ہی وہ اسے ایک بازو کے حصار میں جکڑ کر غراہٹ زدہ لہجے میں بولا۔
’’اس ڈرامے بازی کی وجہ جاننا چاہتا ہوں میری شکل بدل گئی ہے یا پھر تمہیں آج کل کسی اور سے عشق ہوگیا ہے۔‘‘ اس کا کٹیلا لہجہ نوکیلے خنجر کی مانند بے دردی سے اس کی رگ جاں کو کاٹتا چلا گیا تھا جب ہی وہ زخمی ناگن کی طرح بل کھا کر چیخی۔
’’عادل شیرازی میں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔‘‘ اس نے صرف کہا نہیں بلکہ سچ مچ غصے میں بے قابو ہوکر اس کا چہرہ نوچ لینا چاہا تھا مگر عادل شیرازی نے بروقت اسے قابو کرتے ہوئے خود کو اس کے حملے سے محفوظ کیا تھا۔
’’خودکشی کرکے اس ڈرامے سے اپنا کردار ختم کیوں نہ کرلیا تم نے… مگر نہیں تمہیں کیا ضرورت تھی ایسا کرنے کی‘ تمہاری تو دلی مراد بر آئی تھی ناں۔‘‘ نفرت چھلکاتا تضحیک آمیز لہجہ حیا کی آنکھوں میں جھلملاتے اس کے عکس کو دھندلا گیا‘ جبکہ عادل شیرازی اس کی دلی وذہنی اذیت سے بے نیازی سے بھرپور تلخی سے بولا۔
’’ایک بات یاد رکھنا آج کے بعد تم محبت میں اس قدر سطحی حرکتوں سے توبہ ضرور کرلوگی اس سے پہلے کہ وہ اس کی سنگین دھمکی سے کوئی نتیجہ اخذ کرتی عادل شیرازی نے جارحانہ انداز میں اسے اپنی جانب گھسیٹ لیا تھا۔
خ…ز…خ
اس نے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو چھلکتی آنکھوں سے دیکھا اور سر جھکا کر سسک اٹھی۔ اسے اپنی غلطی کا بہت پہلے احساس ہوچکا تھا یہ اس کی زندگی کی سنگین غلطی تھی کہ اس نے کمال جرأت سے اس مرد سے اظہار محبت کیا تھا جسے اس کے دل نے پسند کیا تھا‘ غالباً وہ نادان تھی‘ نہیں جانتی تھی کہ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کی یہ جرأت جرأت نہیں بے باکی یا بے حیائی تو کہلائی جاسکتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں‘ رات اس مرد کے ناروا غیر انسانی سلوک نے اسے جو احساس ندامت اور احساس زیاں بخشا تھا وہ شاید عمر بھر اس کے ساتھ رہنے والا تھا وہ بہت حیران تھی عادل شیرازی نے اس سے نفرت کے باوجود اس سے شادی سے انکار کیوں نہیں کیا‘ لیکن اب اسے اس سوال کا بھی جواب مل گیا تھا‘ اسے لمحہ لمحہ ذلیل کرکے وہ اپنے منتقمانہ جذبات کی تسکین کرنا چاہتا تھا۔
’’تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں۔‘‘ وہ سوچوں کے بھنور میں گھری تھی جب پھوپو کی آواز پہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔
’’میں نے پوچھا ہے بیٹا تم ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئیں‘ میں نے تو ناشتہ بھی تیار کرالیا۔‘‘ اس کی الجھی ہوئی نافہم نگاہوں کے سوال کو پڑھ کر پھوپو نے اپنی بات دہرائی تو بجائے جواب دینے کے وہ گھبرا کر انہیں دیکھنے لگی۔ پھوپو نے اس کے گھبراہٹ زدہ سٹپٹاتے ہوئے انداز کو تحیر سے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں‘ پھر انہوں نے ہی اسے تیار ہونے میں مدد دی گہرے جامنی‘ خوب صورت تراش خراش کے لباس میں اس کی دودھیا اجلی رنگت کا نکھار نگاہ کو چونکا دے رہا تھا۔ پھوپو نے بے اختیار اس کی صبیح پیشانی پر بوسہ ثبت کرکے دعائوں سے نوازا تو اس کی آنکھیں چھلکنے کے لیے تاب ہو اٹھیں‘ جنہیں ان سے چھپانے کی غرض سے وہ سر جھکا گئی تھی۔ تبھی واش روم کا دروازہ کھول کر عادل شیرازی اندر آیا تازہ غسل نے اس کی وجاہتوں کو عجیب سا نکھار بخشا تھا۔ پیشانی پہ بکھرے بالوں کو تولیے سے رگڑ کر خشک کرتا وہ پھوپو کی کسی بات کے جواب میں مسکرا رہا تھا ان کی باتوں کے جواب میں مہذبانہ انداز میں مسکراتا وہ اسے رات کے عادل شیرازی سے یکسر مختلف نظر آیا‘ وہی عادل سوبر اور ڈیسنٹ‘ وجیہہ وشاندار جسے وہ کالج میں ملی تھی اور محبت جیسی غلطی کر بیٹھی تھی۔ اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے سر جھکا لیا۔ کاش… اے کاش اس شخص کا دل بھی اس کے چہرے کی مانند اجلا ہوتا‘ اس کے اندر ہزاروں تشنہ خواہشوں کے سنگ ایک یہ خواہش بھی سسک اٹھی تھی۔
خ…ز…خ
ولیمے کی تقریب بے حد شاندار اور ہنگامہ خیز رہی حیا میرون بنارسی برائڈل ڈریس میں اپنے سوگوار حسن سے کل سے کہیں بڑھ کر دلکش نظر آرہی تھی۔ عادل شیرازی کی جب بھی نگاہ اٹھی پلٹنا بھول جاتی۔ ہال میں اسے کہیں نہ پاکر وہ بیڈ روم میں آیا تو اسے وارڈ روب سے کچھ تلاش کرتے پاکر بے نیازی کا تاثر دیتا بالکل نزدیک آکر کھڑا ہوگیا‘ گہرے میرون بھاری لباس میں غضب ڈھاتی وہ گویا حواسوں پہ سوار ہورہی تھی۔
’’مجھے ہاتھ مت لگانا… آپ مجھ سے اس قسم کا سلوک نہیں کرسکتے۔ مائنڈ اٹ۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر ہسٹیرک ہوکر چلائی تو عادل شیرازی نے طنزیہ نگاہوں سے اس کا سجا سنورا روپ دیکھا اور طنزاً ہنسا۔
’’اگر میں تمہیں کہوں کہ تم جیسی عورتیں صرف اسی قسم کے سلوک کی مستحق ہوا کرتی ہیں تو کیا کہو گی تم۔‘‘ اس کی بے بسی سے حظ اٹھاتا ہوا وہ اس کے بالکل نزدیک آکر طیش دلانے والے لہجے میں جتا کر بولا‘ جب ہی حیا کے اندر جیسے آگ بھڑک اٹھی تھی۔
’’کس قسم کی عورتیں ہاں… کیا کیا ہے میں نے بولو؟‘‘ وہ اسے دونوں ہاتھوں سے پیچھے کی جانب دھکا دیتی ہوئی آگ بگولا ہوئی۔
’’مجھ سے پوچھتی ہو جیسے خود کچھ نہیں جانتیں‘ اپنے گریبان میں جھانکو ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو مجھ سے شادی کرنے کی بجائے ڈوب کے مر جاتیں‘ لیکن تم…‘‘ وہ اس کے لال بھبھوکا ہوتے چہرے کو دیکھتا مسلسل انگارے چبا رہا تھا مگر پھوپو کے اچانک آجانے سے اس کی زبان کو بریک لگ گئے تھے۔
’’حیا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں‘ بھائی جان جلدی کا کہہ رہے ہیں‘ انہیں رات گہری…‘‘ ان کی بات ادھوری رہ گئی‘ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کڑے تیوروں سے جارحانہ موڈ میں کھڑا دیکھ کر وہ چونکیں۔ عادل شیرازی لب بھینچے سرعت سے پلٹ کر باہر چلا گیا جبکہ وہ پیچھے رہ گئی تھی‘ چھلکتی آنکھوں بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتے ان کے تمام تر سوالوں کا جواب دینے کے لیے۔
’’حیا بیٹے کوئی بات ہوئی ہے‘ یہ عادل…‘‘ اسے نگاہ چرا کر رخ پھیرتے دیکھا تو تشویش سے کہتیں قریب آگئیں۔ حیا نے سرد آہ بھر کے سختی سے دانتوں پہ دانت جمالیے‘ محض نفی میں سر ہلا کر جواب دیتی وہ جھک کر بیگ اٹھاتے ہی کمرے سے باہر نکل گئی‘ عادل شیرازی بازو پہ کوٹ رکھے بابا کے ساتھ کھڑا کتنا نارمل دکھائی دے رہا تھا‘ جیسے ابھی کچھ دیر قبل کچھ بھی نہ ہوا ہو اس کی ذات کو پرخچُوں کی صورت فضا میں نہ بکھیرا ہو‘ وہ اس پہ نگاہ ڈالے بغیر جاکر گاڑی میں بیٹھ گئی‘ مما کچھ دیر بعد آکر فرنٹ سیٹ پہ بابا کے ساتھ جبکہ وہ اس کے مقابل آبیٹھا تھا‘ حیا نے شدید ناگواریت سے فاصلہ بڑھاتے ہوئے کھڑکی کی جانب رخ پھیر لیا‘ عادل شیرازی نے بغور اس کی اس حرکت کو نوٹ کیا تھا۔
خ…ز…خ
وہ بابا جان کے ساتھ ٹی وی لائونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب مما تیزی سے اندر آئیں۔
’’آذر جلدی اٹھیں… پلیز دیکھیں تو حیا کی طبیعت کتنی خراب ہورہی ہے۔‘‘ بابا گھبرا کر یکلخت اٹھے اور تیز قدموں سے چلتے باہر نکل گئے۔ بابا کے ساتھ ہی وہ بھی اس کے کمرے میں آیا تو حیا زرد چہرہ لیے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے سکڑی بیٹھی تھی‘ چہرے پہ تکلیف کے آثار بہت نمایاں تھے۔
’’حیا کیا ہوا بیٹے۔‘‘ بابا نے سرعت سے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’’پتہ نہیں بابا جان مجھے کچھ پتہ نہیں چل رہا‘ بس پیٹ میں بہت شدید درد ہے۔‘‘ اس کی نقاہت زدہ آواز میں لرزش بھی در آئی تھی جو اس کی بگڑتی ہوئی طبیعت کی گواہ تھی۔
’’ابھی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں‘ اٹھو بیٹے۔‘‘ انہوں نے جھک کر اس کا گال سہلا کر گویا تسلی سے نوازا‘ پھر عادل کی جانب پلٹتے ہوئے بولے۔
’’عادل بیٹے آپ حیا کو لے کر آئو میں گاڑی نکالتا ہوں۔‘‘ عجلت بھرے انداز میں کہتے بابا باہر نکلے تو عادل اسے دیکھتے ہوئے قدم بڑھا کر قریب آیا۔
’’آئو…‘‘ اپنا بازو سہارے کے لیے اس کی جانب بڑھا کر وہ قدرے نرمی سے گویا تھا۔
وہ درد سے کراہی اور اس کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کرتے ہوئے مما کی جانب سہارے کو ہاتھ بڑھایا۔ مما نے اس کا پورا وجود ہی سنبھال لیا‘ جبکہ عادل شیرازی کے وجیہہ چہرے پہ تاریک سا سایہ لمحہ بھر کو آکر معدوم ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے چیک کرنے کے بعد دوا دی۔ انجکشن اور چند ہدایات کے ساتھ فارغ کردیا۔ واپسی کے سفر میں دوائوں کے زیر اثر اس پہ غنودگی طاری ہونے لگی تھی‘ ایک دوبار اس کا سر ڈھلک کر اس کے شانے سے ٹکرایا تھا تب مما نے اس کے شانے پہ بازو دراز کرتے ہوئے اس کا سر اپنے کندھے پہ رکھ لیا تھا۔ گھر آنے کے بعد مما اسے دوا دینے کے بعد سونے کی تاکید کرتی کمرے سے چلی گئیں تو عادل شیرازی پشت پہ ہاتھ باندھے کمرے میں ٹہلتا ہوا نڈھال سے انداز میں بستر پہ لیٹی حیا کا جائزہ لینے لگا‘ کیسے لمحوں میں وہ ہلدی کی مانند زرد محسوس ہونے لگی تھی۔ دلکشی نزاکت ورعنائی کا بھرپور سنگم لیے اس کا سراپا اس کے سامنے تھا۔ جانے کس جذبے کے تحت وہ اس پہ جھکا اور اپنے حق کی مہر اس کی دراز لانبی پلکوں پہ ثبت کر گیا۔ بالکل غیر متوقع طور پر حیا نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ خجالت سے سرخ پڑتا یکلخت سیدھا ہوا۔
’’ڈونٹ ٹچ می پلیز۔‘‘ وہ سسک اٹھی‘ عادل شیرازی ایک پل کو گنگ سا ہوگیا پھر نظریں چراتا تیزی سے پلٹ کر باہر نکل گیا۔
خ…ز…خ
جس وقت وہ عادل شیرازی کے ساتھ گھر پہنچی رات گہری ہوچکی تھی۔ کھانے کی ٹیبل سے اٹھ کر پھوپو اور سیما نے بہت پُرتپاک انداز میں اس کا خیر مقدم کیا۔
’’اچھا ہوا تم آج ہی آگئے‘ میں نے تمہارے ماموں کو فون کیا تھا۔‘‘ پھوپو حیا کو اپنے مقابل کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولیں تو عادل شیرازی چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔
’’خیریت؟‘‘
’’ہوں… دراصل تمہارے پاپا تو لندن واپس جارہے ہیں‘ ظاہر ہے میں اور سیما بھی ساتھ جائیں گی اور شیراز ہما کے ساتھ سوئزر لینڈ ہنی مون کے لیے جارہا ہے‘ تمہارے پاپا چاہتے ہیں تم دونوں ہمارے ساتھ لندن چلو ہنی مون بھی ہوجائے گا اور حیا ہمارے ساتھ کچھ وقت بھی گزار لے گی۔ ویسے وہاں کا موسم آج کل بہت اچھا ہے حیا انجوائے کرے گی۔‘‘ پھوپو نے بات کے آخر میں مسکرا کر لاتعلق سی بیٹھی حیا کو دیکھا۔
’’بات آپ کی ٹھیک ہے مما لیکن یہاں بزنس کون دیکھے گا‘ آئی تھنک ہم لوگ ابھی نہیں جاتے‘ شیراز واپس آجائے تب سہولت سے چلے جائیں گے۔ ٹھیک ہے ناں حیا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں۔‘‘ وہ بات کرتے ہوئے اچانک روئے سخن اس کی جانب کرتے ہوئے اسے گڑبڑا کے رکھ گیا۔
’’جج… جی…‘‘ وہ ہکلا کر رہ گئی۔ کھانے کے دوران وہ مسلسل ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا جبکہ وہ سر جھکائے جانے کس سوچ میں گم تھی۔ پھوپو کو اعتراض تھا انہیں عادل کی بات پسند نہیں آئی‘ مگر عادل نے جیسے ٹھان رکھی تھی کرنا وہی ہے جو سوچ لیا‘ جب ہی ٹیبل سے اٹھنے سے قبل وہ پاپا کو قائل کرچکا تھا۔ ہما چائے لے کر آئی تو حیا کو مزید وہاں ٹھہرنے کا موقع میسر آگیا‘ چائے کے بعد شیراز اور ہما اپنے کمرے میں چلے گئے۔ پاپا بھی اٹھ گئے‘ پیچھے وہ سیما اور پھوپو رہ گئی تھیں۔ وہ سیما سے باتیں کرتی ٹی وی دیکھتی رہی تھی۔
’’حیا بیٹے رات بہت ہوگئی ہے اپنے کمرے میں جائو۔ عادل انتظار کررہا ہوگا۔‘‘ پھوپو کے احساس دلانے پر وہ لب کچلتی اٹھ کر کمرے کی جانب چلی آئی‘ ناب گھما کر اندر قدم رکھا تو اسے گہری نیند کی آغوش میں پاکر بے اختیار سکون کا سانس بھرتے ہوئے اپنے کشیدہ اعصاب کو ڈھیلا چھوڑا تھا۔
خ…ز…خ
مگر اگلے دنوں میں اس کا یہ سکون شدید اضطراب میں ڈھل گیا کہ عادل شیرازی کی بے نیازی اور لاتعلقی بے حسی میں بدل گئی تھی۔ سیما پھوپو کے ساتھ نہیں گئی تھی‘ سو وہی دن بھر اسے مصروف کیے رکھتی‘ اس روز بھی جانے کہاں سے آئی تھی آتے ہی اسے دیکھ کر بولی۔
’’بھابی شام میں تیار رہنا میں نے بھائی کی شادی کی خوشی میں اپنی فرینڈز کو ٹریٹ دی ہے‘ آپ بھی ساتھ چلنا۔‘‘
’’کہاں دے رہی ہو پارٹی؟‘‘ حیا نے یونہی پوچھ لیا۔
’’فائیو اسٹار ریسٹورنٹ میں۔‘‘ وہ نیل فائل کررہی تھی مصروف سے انداز میں بولی۔
’’تم گھر پر پارٹی کیوں نہیں رکھتیں؟‘‘
’’کھانا تو پھر بھی باہر سے منگوانا پڑے گا۔‘‘ سیما کے لہجے میں بے نیازی تھی۔
’’نہیں میں پکا لیتی ہوں اور بازار سے اچھا ہوگا دیکھ لینا۔‘‘ اس نے مسکرا کر آفر کی۔
’’رہنے دو اتنا سب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ سیما کو آئیڈیا خاص پسند نہیں آیا۔
’’نہیں میں کرلوں گی۔‘‘ وہ بے کراں فراغت اور لایعنی سوچوں سے گھبرا گئی تھی۔ جب ہی اپنی بات پہ زور دے کر بولی اور ایسا کر بھی لیا اتنی گرمی میں وہ کچن میں مختلف ڈیشز تیار کرنے میں مصروف تھی۔ جب بلیک پینٹ کوٹ میں عادل شیرازی نے کچن میں قدم رکھا۔ حیا نے بلینڈر میں دہی بلینڈ کرتے ہوئے کسی کی موجودگی کے احساس کو محسوس کرتے پلٹ کر دیکھا تھا۔ عادل شیرازی کو غیر متوقع طور پر سامنے پاکر خجالت بھرے انداز میں اپنے آپ میں سمٹ گئی تھی۔
’’افوہ کیا شور مچا رکھا ہے اسے تو بند کرو۔‘‘ اس نے کچھ کہا تھا جو اس کے پلے نہ پڑسکا تھا تب ہی وہ جھلا کر کہتا بلینڈر آف کرنے کو آگے کی سمت جھکا تو حیا بالکل ہی اس کے حصار میں گھر کر رہ گئی۔ سگریٹ‘ پرفیوم کی مہک نے براہ راست اس کے اعصاب پہ حملہ کیا تھا۔
’’ماموں کا فون ہے تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ چولہے پہ چڑھی دیگچیوں کو دیکھتے ہوئے وہ موبائل اس کی جانب بڑھائے کہہ رہا تھا‘ حیا جو ہنوز اس کی قربت کے فسوں سے آزاد نہ ہوئی تھی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی الٹے قدموں پیچھے ہوتی دیوار سے جالگی۔ کانپتے ہاتھوں سے سیل لے کر وہ کترائے ہوئے انداز میں بات کرتی رہی‘ کچن بے تحاشا گرم ہورہا تھا جبکہ وہ پسینے میں شرابور جتنی دیر وہ بات کرتی رہی عادل وہیں کھڑا اس کا جائزہ لیتا رہا تھا۔ حیا اس کی نگاہوں کے حصار میں خود کو پاکر اندر ہی اندر جزبز ہورہی تھی۔
’’اگر کھانا پکانا تمہیں اتنا ہی بے زار کرتا ہے تو اس تکلف کی ضرورت نہیں‘ باسی کھانا کھانے سے بہتر ہے میں کک ہائر کرلوں۔‘‘ عجیب لہجہ تھا تنفر سے بھرپور کسی قدر اہانت آمیز حیا تحیر سے اس کا بگڑا ہوا موڈ دیکھنے لگی۔ پھر جیسے سمجھتے ہی گڑبڑا کر وضاحت پیش کرتے ہوئے بولی۔
’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں یہ تو سیما کی فرینڈز آرہی ہیں تو اس لیے اہتمام ہوا ہے ورنہ…‘‘ وہ اس کی پوری بات سنے بغیر ہی کچن سے نکل گیا تو حیا نم پلکیں جھپکتی پھر سے بلینڈر کی سمت متوجہ ہوگئی تھی۔
خ…ز…خ
ایک ماہ بعد ہما اور شیراز ہنی مون سے واپس آئے تو ہما اسے دیکھ کر حیرت کی زیادتی سے چیخ پڑی۔
’’مائی گاڈنیس حیا یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں یہ تم ہی ہو۔‘‘ وہ اس کی مضمحل بجھی صورت اور بے رنگ آنکھوں کو دیکھ کر جس طرح بولی تھی جواباً حیا اس سے بڑھ کر حیران نظر آئی۔
’’کیوں کیا ہوا ہے مجھے؟‘‘ سوال کے جواب میں سوال ہما کو زچ ضرور کرتا مگر فی الوقت اس کی تمام تر توجہ اس کی منتشر حالت کی جانب تھی۔
’’یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو۔‘‘ ہما نے جواباً عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ کر ملامت کی پھر بغور اسے دیکھ کر بولی۔
’’کیا بیمار رہی ہو یا پھر ہمارے عادل بھائی کو پپا بنانے کے چکروں میں ہو۔‘‘ اس کی اگلی بات حیا کے اوسان خطا کر گئی تھی‘ یکایک ہی اسے اپنی پیشانی تپتی ہوئی محسوس ہوئی‘ چہرہ شرم کے حصار میں سرخ نظر آیا‘ ہما اس کی حالت دیکھے بنا سیما کو اس کی سمت متوجہ کرتی اپنا ہمنوا بناتے ہوئے بولی تھی۔ ’’تم دیکھو سیما اسے‘ کیا میں غلط کہہ رہی ہوں‘ یہ بیمار نہیں لگتی؟‘‘ حیا کو توجہ اور تسلسل سے ہوتا اپنا تذکرہ گھبراہٹ میں مبتلا کرنے لگا تھا۔ وہ بے بس سی ہوکر محض ہما کو دیکھ کر رہ گئی جو اب متفکرانہ نظروں سے اسے دیکھ کر کہہ رہی تھی۔
’’اگر میرا پہلا شک بھی درست ہے تو پریگنینسی میں بھی عورت یوں حال سے بے حال تو نہیں ہوتی‘ کیا عادل بھائی تمہارا خیال نہیں رکھتے۔‘‘
’’ہما پلیز ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ صرف منمنا ہی سکی۔
’’عادل بھائی بزنس میں بہت مصروف رہتے ہیں ان کے پاس کسی کے لیے ٹائم نہیں اور خاص کر بھابی کے لیے تو بالکل بھی نہیں۔‘‘ سیما نے جل کر کہا۔ تب وہ بھیگی آنکھوں سے عجلت بھرے انداز میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔ وہ کیا بتاتی کیسے کہہ دیتی کہ عادل شیرازی کی بے اعتنائی بے رخی اسے اندر ہی اندر گھن کی طرح کھائے جارہی ہے۔ پہلی رات جس انداز میں اس کی ذات کی نفی کرتے ہوئے نسوانیت کی توہین کی تھی اس کے بعد جو فاصلے بڑھائے انہیں سمیٹنے کا اس شخص کو کبھی خیال نہیں آسکا تھا‘ اس کے لیے تو گویا اس کا ہونا نہ ہونا برابر تھا‘ اور بیوی کے مرتبہ پہ فائز ہونے والی عورت کی اس سے زیادہ تذلیل کیا ہوسکتی تھی کہ اس کا شوہر اسے اس قابل بھی نہ سمجھے وہ اسی توہین آمیز احساس سے اندر ہی اندر گھلتی جارہی تھی۔ اس نے عادل شیرازی سے شدید محبت کی تھی یہ اس کی غلطی تھی یا نہیں البتہ اس کا اظہار ضرور اس کی ازدواجی زندگی میں زہر گھول چکا اور عادل شیرازی شاید ان مردوں میں سے تھا جو کسی معمولی غلطی کو بھی کبھی معاف نہیں کر پاتے۔
خ…ز…خ
نگاہوںکے ارتکاز کو محسوس کرتے ہی حیا نے پلکوں کی جھالر اٹھالی تو بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے عادل شیرازی کو بہت فرصت سے اپنا جائزہ لیتے پاکر اس نے بے ساختہ دھڑک اٹھنے والے دل کو سنبھالتے نگاہ جھکالی تھی جبکہ عادل شیرازی نگاہوں کے اس تصادم کے بعد بھی ہنوز اسی انداز میں اسے دیکھتا رہا تھا۔ حیا نے بنا دیکھے ہی ان گرم لو دیتی نگاہوں کا مرکز خود کو پایا تو کتاب بند کرکے سینے پہ رکھتے ہوئے آنکھوں پہ بازو رکھ لیا۔ جانے کیوں اس کا دل یکایک ہی بہت مضطرب ہوا تھا اور آنکھوں کی سطح گیلی ہونے لگی تھی۔ وہ اپنی کمزوری اس پر عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’آج تمہیں کچھ جلدی نیند نہیں آرہی‘ یہاں آئو میرے پاس۔‘‘ آنکھوں کی نمی پلکوں کی دہلیز پھلانگ کر گالوں پہ اتر آئی تھی۔ جب اس نے عادل شیرازی کی قدرے خشک اور سرد آواز سنی۔ اس نے خود کو بہت بڑی مشکل میں گرفتار محسوس کیا جبکہ اس کی آنچ دیتی نظروں کا حصار ہنوز اس کے گرد بندھا ہوا تھا۔
’’کس چیز کی کمی ہے تمہارے پاس پھر کیوں چہرے پہ مسکنیت اور بے چارگی کا ٹائٹل سجا کر پھرتی ہو۔‘‘ وہ پھنکار کر بولا تو حیا کو اپنی سانسیں تھمتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
’’اس طرح اگر تم سمجھتی ہو کہ میری توجہ اور ہمدردی حاصل کرلو گی تو بہت بڑی غلطی پہ ہو‘ تمہارے لیے میرے پاس خیرات میں دینے کو بھی کچھ نہیں انڈرسٹینڈ۔‘‘ وہ تیز لہجے میں بولا‘ حیا خاموش رہی جیسے اس کی مخاطب وہ نہیں کوئی اور ہو‘ اسے یقین ہوگیا تھا ہما اور سیما نے مل کر اس کی سخت کلاس لی ہے جب ہی وہ اس طرح اس پر برس رہا ہے۔
’’میں دیواروں سے باتیں نہیں کررہا۔‘‘ وہیں سے ہاتھ بڑھا کر اس کے بال مٹھی میں جکڑنے کے بعد زور دار جھٹکا دیتے ہوئے وہ اندر امڈتے اشتعال پہ قابو پانے میں ناکام ہوکر دبے لہجے میں غرایا تو حیا بنا کچھ بھی کہے بھبک کے رو دی۔ وہ لب بھینچے کچھ دیر یونہی اسے تکتا رہا پھر اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
خ…ز…خ
اس کی طبیعت اچانک ہی بگڑی تھی‘ ہما اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر آئی تو مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے مسکرا کر خوش خبری کی نوید سنا کر اسے ششدر کردیا۔
’’اوہ تھینکس گاڈ کہ مجھے یہ خوش خبری سننے کو ملی‘ ویسے تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو عادل بھائی نے تو مجھے زندہ نہیں چھوڑنا تھا۔‘‘ واپسی پہ ہما چہکتی رہی جبکہ حیا کے لبوں پہ اس آخری بات نے زہرخند مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔
’’اینی وے اپنا بہت خیال رکھا کرو‘ ڈاکٹر نے بہت احتیاط بتائی ہے۔ میں عادل بھائی سے بھی کہوں گی تمہیں خوش رکھا کریں۔ بھئی بزنس ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے وہ مسلسل بول رہی تھی جبکہ اس کے پاس تو کہنے کو جیسے کچھ تھا ہی نہیں‘ وہ ایک رات جو ان کے درمیان بندھن کی سب سے مضبوط ساعتوں کا باعث بنی تھی اسے اتنا قیمتی تحفہ عطا کر گئی تھی۔ گھر پہنچتے ہی ہما نے پہلے سیما کو یہ خوش خبری سنائی پھر لندن فون کرکے مما کو جبکہ وہ سر جھکائے ایک غیر محسوس سے خوشگوار احساس میں گھری رہی تھی‘ جانے کب کی بھولی بھٹکی مسکراہٹ ایک بار پھر اس کے چہرے کا احاطہ کر گئی تھی۔ عادل شیرازی گھر لوٹا تب ہما نے بے صبرے پن کے ساتھ یہ خبر سناتے شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر اسے مٹھائی پیش کرتے ہوئے وش کیا۔ عادل شیرازی پہلے تو کچھ سمجھا ہی نہیں پھر جیسے سمجھ کر بھی نارمل سے انداز میں یوں مٹھائی کھائی جیسے اس انمول خوشی سے اس کا کوئی سرے سے تعلق ہی نہ بنتا ہو‘ وہاں سے اٹھ کر اندر آیا تو حیا وارڈ روب میں کپڑے رکھ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر رخ پھیر لیا۔
’’آج ہی پاپا نے ہمارے ہنی مون کے لیے ٹکٹس بھجوائے تھے ان کا خیال تھا ہمیں یہ گولڈن چانس مس نہیں کرنا چاہیے زندگی میں بندہ ایک بار ہی تو شادی کرتا ہے لیکن انہیں کیا پتہ تھا کہ ان کی بہو یہ گل کھلائے بیٹھی ہے‘ اب مما نے فون کرکے کہا ہے تم مکمل بیڈ ریسٹ کروگی‘ کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ اس کے نزدیک کھڑا بے حد عجیب سے لہجے میں بات کررہا تھا۔ وہ جو نافہمی کے عالم میں اس کی بات سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھی سمجھتے ہی بے تحاشا سرخ پڑگئی۔ بے تحاشا خفت کا احساس اس کی قوت گویائی سلب کر گیا تھا کیا کہہ رہا تھا وہ گل کھلائے بیٹھی ہے کیسے بات کررہا تھا جیسے یہ اس کے اپنے بچے کی نہیں کسی… اس سے زیادہ سوچنا بھی اس کے لیے محال تھا‘ اسے لگا جیسے وہ اسے گالی دے رہا ہو‘ سرعت سے بھیگتی آنکھوں کو جھپکتی وہ بھاگتی واش روم میں گھس گئی۔ وہ کیسا باپ تھا جو اپنے پہلے بچے کی آمد کے موقع پہ بھی اس درجہ بے اعتنائی کا مظاہرہ کررہا تھا‘ یہ سوچ ہی اسے بلکنے پہ مجبور کررہی تھی۔
خ…ز…خ
پھوپو تو بہت خوش تھیں لیکن اتنی دور سے آبھی نہیں سکتی تھیں‘ حالانکہ ان کا بس چلتا تو اڑ کر اس کے پاس پہنچ جاتیں‘ وہیں بیٹھے بیٹھے وہ اسے دن میں کئی بار فون کرکے مختلف ہدایات‘ تاکید اور سرزنش کرتی رہتیں‘ آخر وہ ان کے پہلے پوتے کی ماں بننے جارہی تھی‘ ان کے تو جیسے پائوں زمین پہ نہیں ٹک رہے تھے‘ ہما نے بھی اسے ہتھیلی کا چھالا بنا لیا تھا سیما الگ خدمتیں کرتی نظر آتی‘ شیراز بھی آفس آتے جاتے اس کا حال احوال ضرور دریافت کرتا‘ ایک وہی دشمن جاں تھا جو ہنوز بے حس اور کٹھور بنا بیٹھا تھا‘ پھوپو ہما اور سیما کی ہدایات کے مطابق وہ خود بھی اپنا خیال رکھتی مگر جانے کیسے اس روز واش روم میں اس کا پائوں پھسلا تو سنبھلنے کے باوجود وہ گرتی چلی گئی اور اس کی دلخراش چیخوں پہ ہی ہما بدحواس ہوکر اس تک آئی اور اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر اوسان خطا کر بیٹھی‘ پھر کیسے اسے ہوسپٹل لے جایا گیا اسے خبر نہ ہوسکی تھی۔ شیراز اور عادل شیرازی کو ہما نے ہی فون کیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد ہی اسے پتہ چلا تھا کہ جس نقصان کے خیال سے اس کی روح تک خوف زدہ ہوا اٹھی تھی اللہ نے اس پر رحم فرما دیا ہے‘ حالانکہ جس برے طریقے سے وہ گری تھی مس کیرج ہونے کا شدید خدشہ لاحق ہوگیا تھا۔ وہ تو مطمئن اور پُرسکون ہوگئی تھی مگر عادل شیرازی کا بگڑا ہوا موڈ مزید بگڑ گیا تھا گھر آنے کے بعد وہ بیڈ پہ کروٹ کے بل لیٹی کمرے میں اس کی موجودگی کو محسوس کررہی تھی۔ ہما‘ سیما یہاں تک کہ شیراز نے بھی اسے اپنے طور پر تسلی دلاسے سے نوازا شکر ادا کیا تھا مگر وہ اس کی جانب سے جذباتی سہارے کی منتظر تھی اور اب یہ انتظار جیسے گہری مایوسی کا لبادہ اوڑھ چکا تھا دل کچھ اس طرح سے گھبرایا کہ اس کی سسکیاں ہچکیوں میں ڈھل کر کمرے کی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کرنے لگیں۔ عادل شیرازی کے نزدیک وہ انتقامی کارروائی تھی نفرت یا اسے شکست دینے کا کوئی انداز کچھ بھی تھا مگر حیا کے لیے انہی لمحات میں زندگی سمٹی ہوئی تھی۔ اس کی تمام تر غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک کے باوجود اور یہ ننھی جان تو اسے خود سے بڑھ کے عزیز تھی وہ تو اس کی محبت کی نشانی کا انمول تحفہ تھا جسے وہ سینت سینت کر رکھ رہی تھی۔ وہ چاہتی بھی تو اس کی غلط فہمی دور نہیں کرسکتی تھی کہ عادل شیرازی کچھ سمجھنے سننے کا روادار ہی کب تھا۔
خ…ز…خ
اس کے بعد وہ بہت خوف زدہ ہوگئی تھی‘ عادل شیرازی دو ماہ کے بزنس ٹور پہ بیرون ملک گیا تو اس کی ویرانیاں کچھ اور گمبھیر ہوگئیں۔ سیما بھی پھوپو کے پاس لندن چلی گئی‘ شیراز اور ہما کی اپنی زندگی تھی۔ خوش باش اور مکمل ان دونوں کی اسی بھرپور اور آئیڈیل زندگی کو دیکھ کر ہی حیا کے اندر محرومی کا احساس شدید تر ہوجاتا تھا ایک غیر اختیاری حرکت زندگی بھر کے نقصان سے ہمکنار کرچکی تھی وہی بے رونق سے شب وروز تھے‘ عادل شیرازی کے لوٹ آنے کے بعد بھی اس کی زندگی کا پھیکا پن جوں کا توں رہا اپنی تمام تر حسرتوں اور محرومیوں سے وہ اپنی ذات میں بہت تنہا ہوکر رہ گئی تھی پہلی مرتبہ تخلیق کے مراحل ہر عورت کے لیے ہی بہت کٹھن ثابت ہوتے ہیں ایسے میں اگر شریک حیات کی محبت اور اس کا تعاون وتوجہ بھی ساتھ نہ ہو تو ایسی عورت زندگی کے احساس سے عاری ہوتی چلی جاتی ہے‘ مما جب بھی اس سے ملنے آتیں اس کا زرد چہرہ اور آنکھوں میں ویرانیاں دیکھ کر اندر ہی اندر ہول کر رہ جاتیں۔ اس وقت بھی وہ خود سے بے زار سی نظر آتی ملازمہ سے ڈسٹنگ کروانے میں مصروف تھی جب مما اس سے ملنے چلی آئی تھیں۔
’’تم آنٹی کے پاس جاکر بیٹھو یہ کام میں دیکھ لوں گی۔‘‘ ہما کے کہنے پہ وہ مما کے ہمراہ اپنے بیڈ روم میں آگئی۔
’’حیا بیٹے کیا حالت بن ارکھی ہے‘ اس گھر کی مالکن ہو تم مگر حلیہ ملازموں سے بدتر ہے۔‘‘ اس کے شکن آلود مسلے ہوئے لباس اور بکھرے بالوں کو دیکھتے ہوئے مما نے ہمیشہ کی طرح سمجھانا اپنا فرض سمجھا تو اسے کوفت نے آن لیا۔ ’’کتنا عرصہ ہوگیا تم باہر نہیں گئیں اپنا چہرہ دیکھو کتنا بے رونق لگ رہا ہے‘ بال کتنے رف ہورہے ہیں اور کپڑے…‘‘ انہیں جھنجلاہٹ ہونے لگی جبکہ وہ سر جھکائے ہاتھ مسلتی بالکل خاموش بیٹھی رہی۔
’’بیٹا دیکھو مرد صبح کا گیا تھکا ہارا لوٹتا ہے تو اس کا جی چاہتا ہے بیوی بنی سنوری ملے‘ مسکرا کر استقبال کرے۔‘‘ اس کے چہرے کے عضلات کھینچ سے گئے وہ اس موضوع پر کچھ کہنا نہیں چاہتی تھی۔ ’’بیٹا اگر مرد خود مائل نہ ہوتا ہو تو عورت کو ہی لچک پیدا کرنی چاہیے اچھے کپڑے پہنو‘ میک اپ کرو پھر دیکھنا۔‘‘ وہ بولیں۔
’’مما پلیز اسٹاپ اٹ… پلیز میں ان کی گرل فرینڈ نہیں ہوں کہ انہیں اپنی جانب متوجہ کرنے لیے اس قسم کی تھرڈ کلاس حرکتیں کرتی پھروں۔‘‘ اس کا ضبط جواب دے گیا تو تیز لہجے میں بولی۔ مما نے بغور اسے دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں مچلتے آنسوئوں سے نظریں چرا کر بولیں۔
’’میں بھی تو یہی سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں کہ تم اس کی بیوی ہو‘ یہ اس کا حق ہے کہ تم یہ سب کچھ اس کے لیے کرو۔‘‘
’’اونہہ حق ان کا حق کیا ہے یہ انہیں بھی پتہ ہے اور باقی سب کو بھی۔ میرے حقوق کیا ہیں اس کے متعلق کسی کو پروا نہیں‘ مما رہنے دیں آپ کچھ نہیں جانتیں۔‘‘ وہ اب کی بار بلک اٹھی۔ ان کے شانے پر سر رکھ کر شدت سے روئی تو مما بدحواس سی ہوکر اسے دیکھنے لگیں۔
’’کیا ہوا جان… کیا بات ہے‘ مما کو بتائو؟‘‘ انہوں نے کہتے ہوئے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا تو حیا بالکل ہی بکھر سی گئی۔ زارو قطار روتے ہوئے یقینا وہ سب کچھ کہہ جاتی اگر جو اسی وقت دروازہ کھول کر عادل شیرازی اپنی دھن میں اندر نہ چلا آتا۔
’’السلام علیکم آنٹی۔‘‘ پہلی نگاہ ان پر ڈالتے ہی وہ بے ساختہ چونکا۔ وہ اپنے بزنس ٹور سے ابھی لوٹا تھا۔
’’ہاں بیٹے ابھی آئی ہوں تم کیسے ہو؟‘‘ مما کھڑی ہوکر اس کے مضبوط شانے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں۔ حیا اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔
’’یہ حیا کیوں رو رہی تھی۔‘‘ حیا نے دروازے سے نکلتے اس کی آواز سنی تھی یا نہیں مما نہیں جانتی تھیں سو ٹھنڈا سانس بھرتے سر جھکا لیا۔
’’پتہ نہیں بیٹا کیا ہوگیا ہے اسے‘ عجیب الجھانے والا انداز ہے اس کا‘ سچ پوچھو تو میں اس کی وجہ سے بہت پریشان ہوگئی ہوں پریگنینسی کی حالت میں یوں ٹینشن لینا ٹھیک نہیں مگر…‘‘ پھر کچھ خیال آنے پہ وہ بات ادھوری چھوڑتے ہوئے اسے دیکھ کر بولیں۔ ’’اگر تم اجازت دو بیٹا تو میں کچھ دنوں کے لیے ساتھ لے جائوں‘ ہوسکتا ہے ماحول بدلنے سے اس کا جی بھی بہل جائے۔‘‘
’’جی آپ کی مرضی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ اس نے چائے کی ٹرے لیے اندر آتی حیا کو دیکھ کر سرسری سے انداز میں جواب دیا تو حیا کے اندر یاسیت بارش کے قطروں کی طرح گرنے لگی تھی بنا کچھ کہے ا س نے دونوں کو چائے دی اور پھر وارڈروب سے کپڑے نکال کر بیڈ پہ ڈھیر کرنے لگی۔ اس نے اسی وقت مما کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا‘ چائے کا سپ لیتے عادل شیرازی نے قدرے چونک کر اس کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا اس کی نگاہ بھٹک گئی۔ بلیک لباس میں روئی روئی سی وہ جانے کیوں اس کی تمام توجہ کا مرکز بن کر رہ گئی۔ جس وقت وہ جارہی تھی عادل شیرازی نے بہت خاموش نگاہوں سے اسے دیکھا تھا البتہ کہا کچھ نہیں جبکہ حیا دل میں ہزاروں مچلتے شکوے لیے مما کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔
خ…ز…خ
رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا۔ غالباً اکیسواں روزہ ہوگا جب اس نے نارمل ڈلیوری کے بعد صحت مند اور خوب صورت بچی کو جنم دیا‘ اسے مما کے ہاں آئے ساتواں مہینہ تھا۔ اس دوران عادل شیرازی کو ایک مرتبہ بھی اس سے ملنے‘ فون کرنے کا خیال نہیں آسکا‘ مما نے بچے کی خوش خبری فون پہ عادل شیرازی کو دی مگر مزید ایک ہفتہ گزر گیا‘ کوئی بھی وہاں نہیں آیا۔ حیا کے اندر دور دور تک سناٹوں کا راج تھا۔ وہ اتنی خاموش ہوکر رہ گئی کہ مما‘ بابا اگر بات بھی کرتے تو محض ہوں ہاں میں جواب دیتی۔ بچی کو مما ہی سنبھالتی تھیں‘ وہ تو جیسے عادل شیرازی کی جانب سے بالکل ہی مایوس ہوچکی تھی۔ ایسی بے رنگ اور بے کیف زندگی اس کا مقدر تھی وہ اتنے عرصے سے اسی ایک بات سے سمجھوتہ نہ کرپائی تھی۔ بچی اس سے کچھ فاصلے پہ گہری نیند کی آغوش میں تھی۔ کھلی کھڑکی سے قریبی مسجد کے لائوڈ اسپیکر سے نعت پڑھنے کی مدھم آواز ہوا کے دوش اس تک بھی پہنچ رہی تھی وہ چونکتے ہوئے متوجہ ہوئی۔
’’حیا بیٹی کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ مما کی آواز پر وہ نگاہ کا زاویہ بدل کر انہیں دیکھنے لگی‘ اس کی آنکھوں میں موجود ہلکی نمی مما کے اندر مجرمانہ احساس بن کر بکھری تھی۔ جب ہی اس کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کرلیا۔
’’حیا مجھے معاف کردو‘ میں خود کو تمہاری مجرم سمجھتی ہوں۔ تمہاری اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر میرے اندر گلٹ کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولیں تو حیا نے یونہی سپاٹ نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’میں تو تمہیں یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ خوش رہا کرو‘ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا اس کے بعد تو شاید کوئی لڑکی بھی خوش نہیں رہ سکتی۔ کاش کاش میں نے تب تمہاری بات پہ دھیان دیا ہوتا‘ تمہیں سمجھنے کی کوشش کی ہوتی تو…‘‘
’’مما پلیز چھوڑیں جانے دیں اب کیا فائدہ ان باتوں کا۔‘‘ ان کی بھیگی پلکوں پہ اٹکے آنسوئوں کو اپنی پوروں سے صاف کرتی وہ رسانیت سے بھرپور ٹھہری ہوئی آواز میں بولی تو مما جیسے بکھر سی گئیں۔
’’نہیں یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے میں مجرم ہوں تمہاری۔‘‘ وہ اضطراری کیفیت کے زیر اثر بے ساختہ سسکیں۔
’’مما…‘‘ حیا نے ان کے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگالیے۔ ’’مت سوچیں مما… پلیز ٹیک اٹ ایزی‘ میں ٹھیک ہوں۔ سب ٹھیک ہوجائے گا اور دیکھیں ہم نے ابھی تک اپنی گڑیا کا نام ہی نہیں رکھا۔‘‘ وہ ان کا دھیان بٹانے کی غرض سے بات بدل گئی تو مما نے گہری یاسیت سے اسے دیکھا اور سسکیاں دباتیں تیزی سے اٹھ کر چلیں۔
خ…ز…خ
انیتسواں روزہ تھا۔ سارا دن خاصا پُرتپش رہا تھا مگر شام ہوتے ہی فضا میں خنکی محسوس ہونے لگی تھی۔ افطار کے لیے وہ بھی مما بابا کے ساتھ ٹیبل پہ آبیٹھی تھی گو کہ اس کا روزہ نہیں تھا مگر بابا کہتے تھے اگر افطار کے وقت روزہ داروں کے ساتھ افطار کرلیا جائے تو ثواب ملتا ہے۔ وہ یہی سوچ کر وہاں چلی آئی تھی کچھ مما کی باتوں کا اثر تھا وہ نہیں چاہتی تھی مما اس کی وجہ سے احساس جرم کی اذیت میں مبتلا ہوں۔ مما بابا نے اسے ٹیبل پہ موجود پاکر خوشی کا اظہار کیا۔ افطار کے وقت جب بابا نے دعا کو ہاتھ اٹھائے تو بے اختیار ہی اس نے بھی اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائیں اور دل میں بس ایک ہی خُواہش دھڑکن بن کر اودھم مچاتی تھی‘ عادل شیرازی کے اس کی جانب لوٹ آنے کی‘ خواہش سو وہی خواہش کسی بے تاب دعا کا روپ دھار کر لبوں پر مچلی تو ساتھ ہی نوک مژگاں سے کئی ستارے بکھر کر اس کی گلابی شفاف ہتھیلی پہ آٹھہرے تھے۔ افطار کے بعد وہ یونہی گھبرائے ہوئے دل سے چھت پہ آگئی۔ آس پاس کے گھروں کی چھتوں پہ بھی بچے اپنے والدین کے ساتھ موجود چاند دیکھنے کو بے تاب تھے‘ اس کی نگاہیں بھی بھٹک کر آسمان کی بیکراں وسعتوں میں گم ہوگئی تھیں۔
’’حیا…‘‘ بھاری بھرکم آواز مخصوص سی شناسائی سے اس کی سماعتوں میں اتری مگر وہ جیسے یقین کرنے میں متامل رہی تھی۔
’’حیا…‘‘ پکار میں کچھ اور بھی شدت آئی اور وہ قدم بڑھا کر بالکل اس کے سامنے آن رکا‘ وائٹ کلف دار کرتا شلوار میں تمام تر وجاہت سے وہ اسے اپنی بصارتوں کا دھوکہ محسوس ہوا تھا۔ عادل اس کے لب کانپے اور سرسراتی آواز ہوا کے سنگ بکھر گئی۔
’’حیا اگر صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو کیا اسے معاف نہیں کردینا چاہیے۔‘‘ ایک قدم مزید بڑھا کر اس کے بالکل نزدیک آنے کے بعد اس نے اپنے مضبوط ہاتھ حیا کے کندھوں پہ رکھ کر اتنی آہستگی سے کہا کہ وہ بامشکل سن پائی‘ وہ ابھی تک جیسے غیر یقینی کے حصار میں تھی۔ ’’میں کتنا بدنصیب ہوں‘ میں محبت جیسے انمول جذبے کی قدر نہ کرسکا‘ میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر اب یقینا میری حرکتوں کی وجہ سے تم مجھ سے نفرت کرتی ہوگی اور تمہیں کرنا بھی چاہیے… پرامس حیا میں وہی فیصلہ کروں گا جو تم چاہوگی لیکن اس سے پہلے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں‘ کچھ ایسا جو پہلے کبھی نہیں کہا۔‘‘ وہ اس کی ساکن پلکوں کو بغور تکتا ہوا انتہائی ملائمت سے کہہ رہا تھا۔
’’حیا اس سے پہلے کہ تم مجھے کوئی بھی اپنا سنگین فیصلہ سنائو‘ میں… میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کب سے پتہ نہیں‘ شاید اپنی شادی کی اولین رات سے‘ اس رات کی پہلی ساعت سے مگر میں اس محبت کو سمجھ نہیں پایا اور جب جانا تو خائف سا ہوگیا‘ یہی سوچ کر کہ میں تم سے اظہار کیونکر کروں کیسے جبکہ میں نے تو کیا کچھ نہ کہہ دیا تھا تمہیں‘ اسی ایک اظہار کی وجہ سے حیا میں ہر روز حوصلہ مجتمع کرتا اور تمہارے سامنے آتے ہی جیسے ہار سا جاتا اس کے ہاتھ اس کے شانوں سے ہوکر نازک وجود کے گرد حمائل ہوگئے اس کا چہرہ حیا کے ریشمی سیاہ بالوں میں چھپ سا گیا تھا۔
’’میں دل پہ بوجھ لیے پھرتا رہا ہوں‘ اب ہار گیا ہوں‘ مجھے کہنے دو حیا آئی لو یو… آئی لو یو حیا۔‘‘ اس کی آواز بوجھل سرگوشی میں ڈھل گئی‘ جبکہ حیا تو جیسے اس کے حصار میں قید بالکل گم صم کھڑی تھی۔ یقین نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا‘ وہ خود اسے یقین دلا رہا تھا مگر وہ بجائے خوش ہونے کے بکھر سی گئی۔ اس کی ہر زیادتی ایک ایک کرکے یاد آتی گئی‘ وہ بے نیازی‘ تیکھا پن‘ وہ سسک سسک کر اسے گنواتی چلی گئی‘ روتی رہی… عادل اس کی ہر بات خاموشی سے سنتا رہا‘ اس کے چپ ہونے پر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔
’’فرحت شاہ کا ایک قطعہ سنوگی۔‘‘ حیا کو اس پہ غصہ آیا یہ اس کی بات کا جواب تھا بھلا جبکہ وہ مسکراتا ہوا گنگنانے لگا۔
اپنا پن بھی اسی انجانے پن میں ہے
سارا علم اسی دیوانے پن میں ہے
یہ جو میں تم سے انجان بنا پھرتا ہوں
ساری بات اسی انجانے پن میں ہے
’’اب بتائو ناراضگی ختم ہوئی۔‘‘ وہ اس کی سرخ ہوتی ناک دبا کر بولا تو حیا نے خفیف سی مسکراہٹ سے سر جھکا لیا۔
’’آنٹی بتا رہی تھیں تم نے عید کے لیے بالکل شاپنگ نہیں کی۔ جلدی تیار ہوجائو‘ آج تمہیں اپنی پسند سے مہندی لگوائوں گا اور چوڑیاں تو خود پہنائوں گا اور…‘‘
’’اور کیا؟‘‘ وہ جو بہت دھیان سے اسے سن رہی تھی چونکی۔
’’اور بہت پیار سے دلہن بنائوں گا۔‘‘ اس کے شوخ معنی خیزی سے بھرپور جملے نے اسے بری طرح بلش کردیا۔ جب ہی اس کی گرفت سے ہاتھ چھڑاتی تیزی سے نیچے چلی گئی۔
خ…ز…خ
’’تم نے اب تک بچی کا نام نہیں رکھا‘ کوئی خاص وجہ؟‘‘ وہ لوگ شاپنگ سے واپس آرہے تھے‘ حیا کی مرمریں کلائیوں میں سرخ اور نیلی شعاعیں بکھیرتی چوڑیاں کھنک رہی تھیں اور چہرے پہ بے پناہ آسودگی جب عادل نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے بالکل اچانک اسے دیکھا۔
’’جی وہ دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا نام رکھوں‘ ویسے بھی میں چاہتی تھی آپ اس کا نام رکھیں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ عادل نے ہنکارا بھرا کچھ لمحے سوچتا رہا پھر اسے دیکھ کر بولا تھا ’’حجاب… حجاب نام کیسا ہے۔‘‘
’’حجاب…!‘‘ حیا کے چہرے پہ تاریک سایہ لہرایا۔ ’’نہیں کوئی اور نام رکھ دیں۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ رخ پھیرتی ہوئی آہستگی سے کہتی عادل شیرازی کو عجیب سے مجرمانہ احساس سے دوچار کر گئی‘ کچھ دیر تک دونوں کے درمیان تکلیف دہ خاموشی کا وقفہ رہا۔
’’حیا آئی تھنک تم مجھے دل سے معاف نہیں کرسکیں۔‘‘
’’نہیں ایسی بات تو نہیں۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’تو پھر…‘‘
’’بس یونہی۔‘‘ وہ جبراً مسکرائی تو عادل نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
’’مجھے احساس ہوگیا ہے کہ میں ہی غلط تھا…‘‘
’’عادل میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔‘‘ اسے شرمندہ دیکھنا حیا کو اچھا نہ لگا تو تیزی سے بات کاٹی۔
’’تو پھر ہماری بیٹی کا نام حجاب ہی ہوگا ڈن۔‘‘ وہ مسکرا دی۔ تب عادل مطمئن ہوا۔ عادل مسلسل اچھے دنوں کی سہانی باتیں کرتا رہا اور وہ خوش بھی تھی مگر یہ بھی سوچ رہی تھی کہ بلاشبہ اس نے بھی غلطی کی تھی۔ ایک مشرقی اور مسلمان حیا دار لڑکی کو بہرحال یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی غیر مرد سے یوں بے باکانہ اظہار کرتی پھرے۔ اسے یہ بات دیر سے سمجھ آئی تھی مگر آتو گئی تھی۔ اب عادل نے اپنی بیٹی کا نام حجاب رکھا تھا تو اس پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ اس کی تربیت کے ساتھ ساتھ اس کے نام کا بھرپور عکس اس کی شخصیت میں بھر دے۔ عادل نے اسے کچھ کہا پھر اسے دیکھ کر مسکرایا گو کہ اسے اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی مگر اس نے اس کی مسکراہٹ کا ساتھ ضرور دیا کہ وہ جان گئی تھی اللہ نے غم کی اندھیری رات کے بعد خوشیوں کا سورج طلوع کردیا‘ یہ عید اس کے لیے البیلی خواہشوں کی نوید لائی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close