Hijaab May-18

محبت گزیدہ

قرۃ العین سکندر

نکاح ہوتے ہی ریحان نے گہری سانس خارج کی۔ اس کا ذہنی اضطراب جو اتنے دنوں سے اس پر حاوی تھا۔ اب سب ٹھیک ہوگیا تھا اور وہ واقعی بے حد خوش تھا اور سب کے چہرے خوشیوں سے آسودہ تھے۔ ان ساری خوشیوں میں ایک دل بے حد تنہا اور اداس و ملول تھا‘ وہ زویا کا دل تھا‘ اس قدر خوشیوں سے پُر ماحول میں اسے زریاب کا خیال ستا رہا تھا‘ نجانے وہ کہاں ہوگا؟ اسے اتنے دنوں سے اس نے دیکھا بھی نہ تھا اور یہاں آناً فاناً اتنا کچھ بدل گیا تھا۔ زیبا اب رخصت ہوجاتی اور اس سے جدائی بھی اسے سوگوار کررہی تھی۔ زیبا بھی اچانک رو دی تھی۔ سب حیران پریشان ہورہے تھے۔
’’زویا ان سے کہو ابھی صرف نکاح ہوا ہے‘ رخصتی کے لیے بھی آنسو بچا لیں کچھ۔‘‘ ریحان نے شوخ لہجے میں کہا تو زیبا سر جھکا کر مسکرادی۔
پھر وہ لوگ رات سے پہلے واپسی کے لیے روانہ ہورہے تھے۔ عابد صاحب اور فائزہ بیگم نے تو بہت زور دیا تھا کہ اگلے دن آپ لوگ چلے جائیں رات کو آرام کرلیں‘ مگر عابد صاحب کے اصرار کے باوجود بھی بلال صاحب نے یہ مناسب خیال نہ کیا اور وہ لوگ واپسی کے سفر کے لیے روانہ ہوگئے۔ گیٹ تک چھوڑنے ریحان خود آیا تھا اور گاڑی میں سوار سجی سنوری زیبا کو دیکھ کر اس کا دل گونا گوں خوشی سے نہال بھی تھا اور قدرے ملول بھی۔ یہ وقتی جدائی بھی اس کے لیے جاں گسل تھی لیکن وہ شاد تھا کہ اب اس نے زیبا کو حاصل کرلیا ہے‘ اب زیبا اس کے لیے قطعی غیر نہ تھی۔ اس کا زیبا پر حق تھا اور یہ حق نکاح کے مقدس بولوں کا ودیعت کردہ تھا۔ زیبا کو تب تک وہ دیکھتا رہا تھا جب تک گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی پھر اس نے لمبی سانس خارج کی اور گیٹ بند کرکے واپس اندر کی جانب پلٹ آیا۔
زندگی نے ایک نیا موڑ لے لیا تھا‘ اس کی اور امبر کی دونوں کی نئی زندگی کی شروعات ہوچکی تھی اور اب ایک ہی معرکہ باقی تھا‘ جب ذکیہ آپا کو یہ حقیقت معلوم ہوتی تو نجانے ان کا کیا ردعمل ہوتا… وہ آج کی رات کو فضول سوچوں سے آزاد کرکے محبت کے رنگ بھرتا خوابوں میں کھو گیا تھا۔
٭…٭٭…٭
’’بھئی ہمیں تو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا گیا‘ ہم تو غیر ہیں‘ یوں بھی اس قابل بھی نہیں کہ ہم سے رشتے داری اور ناطہ جوڑا جاسکے۔‘‘ آنسہ پھوپو کو جیسے ہی زیبا کے نکاح کی اطلاع ملی وہ چڑھ دوڑی تھیں۔ غصہ سے ان کا برا حال تھا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ نجانے کیا کردیں اور دادی جان ہونق ان کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔
’’کملی ہوگئی ہے تُو تو‘ بتایا تو ہے کہ بس آناً فاناً ہی سارے معاملات ازخود ہی طے ہوتے چلے گئے۔ ہم نے تو صرف منگنی کی رسم کی نیت باندھی تھی مگر وہ لوگ نکاح کے لیے بضد تھے اور سچ پوچھو تو آنسہ مجھے وہ لوگ بے حد بھائے تھے اور پھر تقدیر میں جو لکھا ہو مل کر رہتا ہے‘ وقت سے پہلے اور تقدیر سے زیادہ نہ کبھی کسی کو ملا ہے اور نہ ملے گا۔‘‘ دادی نے اپنی دانست میں بہت ہی سلیقہ سے بات کا رخ بدل دینا چاہا تھا اور واقعی ان کی بات کی منطق کسی حد تک ان کی بھی سمجھ میں آگئی تھی۔
’’میں یہ بتانے آئی تھی کہ کرن کی بھی ایک جگہ بات تقریباً طے ہوگئی ہے‘ وہ لوگ کرن کو اپنانے کو تیار ہیں‘ باقی کرن کی جذباتی کیفیت کا میں نے کوئی اظہار نہیں کیا‘ سلجھے ہوئے لوگ ہیں‘ لڑکا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے مگر ہمارے لیے تو یہی بہت ہے کہ کرن کا معاملہ حل ہوگیا‘ میری تو دن رات کی فکریں ہی اس کے لیے تھیں۔‘‘ آنسہ پھوپو نے سکون کا جیسے سانس لیا۔ اس ہی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔
سلمیٰ بیگم نے لپک کر دروازہ کھولا‘ سامنے ہی ریحان کو دیکھ کر وہ خوشی سے نہال ہوگئیں۔
’’ارے میرا بچہ گھر آیا ہے ماشاء اللہ آئو اندر۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے ریحان کی بلائیں ہی لے ڈالیں۔ کچن میں بریانی کو دم لگاتی ہوئی زیبا ریحان کی آمد پر بے چین سی ہوگئی تھی۔
’’کیسے آنا ہوا؟‘‘ دادی تحیر سے سیدھی ہو بیٹھیں۔
’’اصل میں امی نے یہ ملبوسات اور زیورات بھجوائے ہیں‘ زیبا کے لیے… وہ خود آنا چاہتی تھیں مگر میں نے ہی کہا کہ ایک تو لمبا سفر طے کرکے ان کے لیے آنا محال تھا‘ ان کی صحت اجازت نہیں دیتی اب اور دوسرا گھر میں امبر کی شادی کے لیے کافی کام بکھرے ہیں جو سمٹ ہی نہیں رہے ہیں۔‘‘ ریحان نے ادب سے جواب دیا تو دادی مسکرادیں۔
’’اچھا ہی کیا جو آگئے ہو آئو بیٹھو تمہیں دیکھ کر جی خوش ہوگیا اور سنائو گھر والے سب کیسے ہیں؟‘‘ وہ دادی کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا اور آنسہ بیگم اسے تیکھی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
’’جی الحمد للہ سب ٹھیک ہیں۔‘‘ وہ مبہم سا مسکرایا۔ پھرسارے شاپنگ بیگز اس نے دادی کے حضور پیش کردیئے۔
’’لو بھلا میں نے کیا دیکھنا ہے یہ تو لڑکیوں کے کام ہوتے ہیں‘ اللہ بس میری زیبا کے نصیب اچھے کرے ایسا کرو یہ سارا سامان لے جاکر تم اندر دے آئو سلمیٰ کو۔‘‘ وہ دادی کی بات پر سر ہلاتا ہوا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ آنسہ بیگم کی تیکھی اور خشمگیں نگاہیں اس کا دور تک تعاقب کرتی رہیں۔ اس نے لائونج میں کرن کو بیٹھا دیکھا جو کسی ٹی وی شو میں منہمک تھی۔ اسے دیکھ کر سیدھی ہو بیٹھی۔
’’آئیے آپ کا آنا کیسے ہوا؟‘‘ کرن نے متعجب ہوکر اس سے پوچھا۔ اس نے تفصیل بتائی تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
’’ذرا دکھائیں تو یہ ساری چیزیں۔‘‘ کرن نے کہا تو اس نے متذبذب ہوکر سامان وہیں ٹیبل پر رکھ دیا۔
کرن ایک ایک شے کو کھول کر دیکھنے لگی تھی۔ بے حد نفیس کامدار خوش رنگ جوڑے تھے‘ قیمتی ملبوسات کے ساتھ ساتھ نفیس جڑائو کنگن اور دوسری جیولری بھی تھی جو یقینا گولڈ کی ہی تھی۔ میچنگ جیولری کے ساتھ میچنگ سینڈلیں تھی۔ کانچ کی نازک چوڑیاں اور میک اپ کا مکمل سامان تھا۔ وہ سب دیکھ کر جیسے کلس کر رہ گئی۔ اس نے ایک نگاہ بے دلی سے سارے سامان پر ڈالی‘ اسے تو منگنی کی رسم میں ایک سادہ سا لباس ملا تھا اور فنکشن کا ایک عدد سوٹ تھا‘ اس قدر بھاری بھرکم اور ہلکے دونوں طرح کے ملبوسات ہرگز اسے نہ ملے تھے۔ نہ ہی اس کے لیے منتخب کردہ ملبوسات اس قدر خوش رنگ تھے‘ وہ تحیر اور بے حد حاسدانہ انداز میں کھول کر رہ گئی تھی‘ تبھی اس نے عقب میں کھڑے ریحان پر ایک نگاہ ڈالی‘ محض مصنوعی مسکراہٹ میں لپٹی ہوئی خوشی دکھائی۔ ریحان اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر قدرے مطمئن سا ہوگیا تھا۔
’’وہ سب تو ٹھیک ہے مگر آپ کے ساتھ اچھا نہیں ہوا… مجھے بہت ہمدردی ہے آپ کے ساتھ؟ ڈرتی ہوں کہوں کہ نہ کہوں؟‘‘ کرن نے نپے تلے انداز میں اطراف میں کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا‘ اس کی نظر بھی تھی کہ مبادا کوئی اچانک سے آہی نہ جائے۔
’’کیا مطلب…! میں کچھ سمجھا نہیں؟‘‘ وہ واقعی حیرت میں گھرا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہتی تھی۔
’’ارے آپ کو نہیں معلوم زیبا اور شہیر بھائی کا چکر…؟ اف آپ بھی ناں… شہیر بھائی کا تو اتنا سخت ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جب ان کو معلوم ہوا کہ زیبا کا رشتہ آپ کے ساتھ ہونے جارہا ہے اور زیبا کا بھی رو رو کر برا حال تھا‘ اسی لیے تو اس قدر خاموشی سے سب زیبا کو گھیر گھار کر رشتے کے لیے آمادہ کرکے لے گئے تھے‘ دیکھا نہیں آپ نے ہمیں تو بلایا بھی نہیں۔ بھنک تک نہیں پڑنے دی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس طرح شہیر تک دوبارہ بات جاتی وہ کہاں برداشت کرتا یہ سب۔‘‘ وہ اپنے تئیں الفاظ چن کر اس کے دل پر گھائو لگا رہی تھی اور وہ جو خوش گمانیوں میں گھرا اتنا لمبا طویل سفر طے کرکے آیا تھا‘ ایک جاں گسل لمحہ کی لپیٹ میں سب بہہ گیا تھا۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ مگر یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ وہ دو قدم بے یقینی کی لہر میں لپٹا ہوا وجود لیے پیچھے ہوا۔
اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ زیبا… نہیں مگر زیبا کے چہرے پر تو ایسا کوئی تاثر نہ تھا مگر پھر اچانک عین نکاح کے بعد زیبا کا پھوٹ پھوٹ کر رونا اسے یاد آگیا اور زیبا کا متورم چہرہ نگاہوں میں سما گیا تھا‘ کیا زیبا بھی شہیر کو… نہیں‘ نہیں‘ اس سے زیادہ اس سے سوچنا بھی محال تھا‘ وہ بے یقینی سے وہیں صوفے پر ڈھے سا گیا۔
’’پلیز خود کو سنبھالیں اب تو جو ہونا تھا ہوچکا‘ میں نے بتا کر شاید اچھا نہیں کیا… مجھے اب بے حد افسوس ہورہا ہے مگر میں کیا کرتی میرے دل میں اتنا غصہ تھا زیبا کو چاہیے تھا کہ میرے بھائی کے ساتھ یہ کھیل نہ کھیلتی‘ اتنا گھنائو نہ کھیل کھیلنے کے بعد نئی زندگی کی شروعات کرنے چلی ہے۔‘‘ وہ دکھ سے بولی۔ اس کے چہرے پر اتنے ماہرانہ تاثرات تھے کہ وہ بس دیکھتا ہی رہ گیا‘ تبھی سلمیٰ بیگم کی آمد پر بات درمیان میں ہی رہ گئی اور سلمیٰ بیگم کے عقب میں وہی دشمن جاں تھی‘ سر جھکائے ٹرالی دھکیلتی ہوئی آرہی تھی‘ وہ محض آج تک اس کے لیے دیے انداز کو اس کی فطری شرم پر محمول کرتا رہا تھا‘ مگر اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید یہ بے رخی بے اعتنائی تھی۔
اب وہ اس کی بے اعتنائی کی اس گرد میں اٹ گیا تھا‘ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں‘ اس کی آنکھوں میں بجھنے لگی تھیں اور محبت اپنی اس بے اعتنائی پر بال کھولے ماتم کناں تھی‘ سارے دھنک رنگ اب سیاہی میں مدغم ہوگئے تھے۔ ساری شہنائیاں نوحوں میں بدل کر رہ گئی تھیں۔ وہ آزردگی سے اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ اور وہ ان سب محسوسات سے نابلد اپنی جگہ پُرسکون سی سر جھکائے شرم سے دوہری ہورہی تھی اور وہ جواب زیبا کے تمام حقوق کا مالک تھا اس کے نام سے منسوب تھا اس کا مجازی خدا تھا‘ پھر بھی اب اسے پانے کے بعد کھوچکا تھا۔ اس کا دل غمگین تھا۔ سوگوار تھا‘ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر اپنی شکست فاش پر غم منائے‘ مگر ابھی سب کے سامنے اپنے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو سنبھالے اپنے اندر اٹھتے ہوئے جوار بھاٹا کو دبائے وہ بیٹھا تھا۔
بہ ظاہر بے حد پُرسکون سا اور جب زیبا نے چائے کی پیالی اس کے ہاتھوں میں تھمائی تو نظروں کا لمحہ بھر کا تصادم ہوا تھا۔ زیبا ریحان کی نگاہوں میں اٹھتے سوالات کو دیکھ کر چونک سی گئی تھی۔ عجیب سی خون رنگ نگاہیں تھیں‘ زیبا کو نجانے کیوں ان نگاہوں سے خوف محسوس ہونے لگا اور وہ واقعی اس وقت ہراساں ہوگئی تبھی چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں لرز سی گئی تھی۔
کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے چائے کی پیالی ریحان کو تھمائی۔ سارے رنگ پھیکے پڑگئے تھے‘ پھر وہ خود کو سنبھالتا ہوا وہاں سے جلدی اٹھ آیا تھا۔
٭…٭٭…٭
سفید کرتے شلوار اور سفید واسکٹ میں ملبوس طارق مونچھوں کو تائو دیتا ہوا چودھری حشمت کے سامنے بیٹھا تھا۔
’’کیا ہوا بابا جان… خیر تو ہے؟‘‘ اس نے استعجاب سے پوچھا۔
’’یہ کیا معاملہ ہے اس زریاب خان کا‘ بڑا سورما بنا پھرتا ہے کل میرے سامنے یوں تن کر کھڑا ہوگیا تھا‘ اب اسے سبق سکھانا ہی ہوگا‘ پہلی بات تو یہ اس کمی کمین کی ہمت کے میرے سامنے تن کر کھڑا ہو اس کی گردن نہ تن سے جدا کردوں۔‘‘ چودھری حشمت نے اسے بے شمار صلواتیں سنائیں‘ وہ اس وقت غصے سے لال بھبھوکا ہورہا تھا۔ لب بھینچ کر اپنے اندر کے جوار بھاٹا کو دباتے اس کی آنکھیں شعلہ اگل رہی تھیں۔
’’ہونہہ… بابا جان میں نے بھی اس کی آنکھوں میں عناد دیکھا ہے‘ ذرا اس عناد کو نکال لوں تو پھر ملتا ہوں‘ حکم بابا صاحب۔‘‘ طارق نے بھی غصے سے کہا مگر یہ غصہ محض زریاب کے لیے تھا‘ بابا جان کے سامنے تو اس کی ساری اکڑفوں نکل جاتی تھی اور وہ مودب ہوجاتا تھا‘ صرف بابا جان کے حکم کے ایماء پر چلتا تھا۔
’’کرنا کیا ہے وہی جو ہم چودھریوں کی شان ہے‘ نہ تو بھگانا ہے نہ ہی زنانی کو اٹھانا ہے‘ سیدھا صاف نکاح خواں بلا اور ابھی جاکر نکاح کے بول پڑھوا کے لا۔‘‘ چودھری حشمت نے فیصلہ کن لہجے میں کہا تو طارق چونک اٹھا۔
’’ابھی مگر ابھی تو بابا صاحب وہ بھی ادھر ہی ہوگا۔‘‘ طارق متذبذب ہوا‘ تبھی پہلی مرتبہ مبہم سی مسکراہٹ چودھری حشمت کے لبوں پر مچلی۔
’’ارے جس کھونٹے سے لڑکی کو باندھنے چلے تھے ناں‘ وہ کھونٹا ہی آج کھیتوں میں مرا پڑا ہے‘ زاہد نام تھا ناں اس لڑکے کا‘ اس کی ہڈیوں کا سرمہ بنا ڈالا ہے میرے کارندوں نے‘ اب کس ایماء پر وہ لوگ انکار کریں گے اور اب انکار کریں تو سب کے سامنے اس زریاب کی ٹھکائی کردینا‘ بس کہہ دیا۔‘‘ چودھری حشمت نے ہاتھ اٹھایا‘ تبھی عقب سے چودھرائن عابدہ نکلی۔
’’ارے کب تک اپنے بیٹے کو ان بری صحبتوں میں الجھائے رکھوگے‘ اب کہاں اسے دنگے کے لیے بھیج رہے ہو؟‘‘ چودھرائن کا غصے سے براحال تھا‘ وہ اپنے جواں مرد بیٹے کے تیور بھی ملاحظہ کررہی تھی‘ جو اپنے بابا کے کہتے ہی کسی کو بھی کچلنے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ اس وقت غیض و غضب کا شکار بنا کھڑا تھا۔ اس کے انداز دیکھ کر چودھرائن کا دل ہول رہا تھا۔
’’تو عورت ذات ہے… عورت ذات بن کر رہ‘ کس طرح تو ہمارے سامنے آجاتی ہے‘ بہت اکڑ ہے ناں تجھے اپنے سات بھائیوں کی‘ تو اپنے بھائیوں کے ایماء پر میرے سامنے اکڑتی ہے۔ مگر اس کے باوجود یاد رکھ تیرے سات بھرا بھی اپنی زنانی کے غلام نہیں بنے تو میں کیسے بن سکتا ہوں۔‘‘ چودھری حشمت نے لال انگارہ آنکھوں سے جواب دیا۔
’’نہ کر… نہ کر اوئے رب سے ڈر اور کتنے گھر اجاڑے گا‘ کسی کی آہ نہ لے‘ دیکھو رب سے ڈر اپنی بھی بیٹی ہے‘ ہم نے کل کلاں کو اس کا بھی ویاہ کرنا ہے اگر کسی دوسرے کی عزت اچھالیں گے تو پگڑی اپنے سر پر بھی نہیں رہنی ہے۔‘‘ چودھرائن نے روتے ہوئے کہا‘ وہ بے بسی کی انتہا پر تھی۔
’’میرے سامنے صبح سویرے منہ ماری نہ کر‘ جا طارق اسے اندر لے جا‘ ایسا نہ ہو تیری ماں پر میرا ہاتھ اٹھ جائے۔‘‘ چودھری حشمت کا واقعی اشتعال سے برا حال تھا۔
اور طارق کو واقعی اپنی ماں سے بے پناہ محبت تھی‘ طارق کو یاد تھا کہ اس کے گھر میں عورت کی کوئی توقیر نہ تھی اور اس کا ثبوت ہر سال بدلتی عورتیں تھیں‘ جو اس کی ماں کہلاتی تھیں مگر اس نے کبھی ان کو اپنی ماں کا درجہ نہیں دیا تھا۔ اور دل نے صرف ماں کو ہی ماں جانا تھا۔ شاید چودھرائن کا بھی وہی حال وہی سلوک ہوتا‘ جو باقی ساری عورتوں کا تھا‘ مگر اسے ایک تو صاحب اولاد ہونے کی فوقیت حاصل تھی‘ پھر دوسرا یہ کہ وہ سات بھائیوں کی بہن تھی اور خاندانی تھی‘ عام کمی کمین نہ تھی‘ کسی مزارعے کی بے بس بیٹی ہرگز نہ تھی بلکہ وہ ایک امیر کبیر عورت تھی‘ جو بے شمار اراضی نکاح کے بندھن میں بندھ کر لائی تھی‘ اس سے بڑھ کر بھی اسے طارق کا سہارا حاصل تھا۔
طارق ہر معاملے میں اپنے باپ سے دب جاتا تھا مگر ماں کے خلاف ایک لفظ سننا گوارانہ کرتا۔ اسے یاد تھا کہ وہ چھوٹا تھا اور جب اس کے باپ نے کسی بات پر اس کی ماں کو بے شمار گالیوں سے نوازا تھا اور جب گالی گلوچ سے بھی اس کا جی نہ بھرا تو پھر اس نے لاٹھی اٹھالی تھی‘ لاتوں گھونسوں سے اس کی مرمت کی تھی۔ تب دس سالہ طارق آکر ماں سے روتے ہوئے لپٹ گیا تھا اور باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر کھڑا ہوگیا تھا‘ دس سال کی عمر میں بھی طارق نے اچھا خاصا قد کاٹھ نکال لیا تھا‘ خالص دیسی گھی‘ دودھ‘ مکھن کی بہتات اور خالص غذائوں سے اس کا اپنی عمر سے دگنا نظر آنا کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی۔
اور جوان ہوتے بیٹے کی نفرت اور شعلہ بیاں آنکھیں چودھری حشمت کو لرزا اٹھی تھیں۔ وہ ان کا لخت جگر تھا‘ ان کا اکلوتا بیٹا اور ان کا وارث۔ اب ان کا اپنا خاندانی خون ان کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا تو وہ رک گئے تھے‘ ان کے مسلسل چلتے ہوئے ہاتھ تھم سے گئے تھے اور اب وہ چپ چاپ ہوگئے تھے۔
’’دیکھ ابا… میری بات تیری بات‘ مگر میری ماں کو آج کے بعد نہ چھونا۔‘‘ وہ اکڑ کر کھڑا تھا کسی کڑیل جوان مرد کی طرح اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔
مگر اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہی لاٹھی جو باپ نے زمین بوس کردی تھی‘ اس کے اپنے بیٹے پر اب ماں برسانے لگی تھی۔
’’کم بخت باپ کو انگلی دکھائے گا‘ اس دن کے لیے تجھے پال پوس کر بڑا کیا ہے‘ ناہنجار کہیں کا۔‘‘ ماں اسے مار رہی تھی اور وہ مار کھا رہا تھا بنا اف کیے… اس کے بازو شل ہورہے تھے اور منہ سے خون بہنے لگا تھا‘ یہ منظر دیکھ کر چودھری حشمت آگے بڑھا۔
’’بس کردے کیا جان لے گی۔‘‘ اور بات اس وقت تو آئی گئی ہوگئی اور اس نے واقعی غصے سے لاٹھی زمین پر پھینک دی تھی اور لاٹھی گراتے ساتھ ہی خود بھی زمین پر ڈھے کر زارو قطار رونے لگی تھی۔
نگاہیں اپنے جوان بیٹے کے خون پر تھیں اور دل نمناک تھا۔ وہ ایک قدامت پسند خاتون تھی جو شوہر کے ہر طرح کے غیظ وغضب کو بھی تحفہ سمجھ کر قبول کرتی تھی‘ ان کی مار بھی ہنس کر سہ لیتی تھیں‘ آج جب اپنے ہی جوان بیٹے کو باپ کے دوبدو دیکھا تو اس کا غصہ عود کر آیا تھا۔ مگر اسے اتنا مار مار کر اس نے لہولہان کردیا تھا اب اس کا اپنا کلیجہ اسے خون میں دیکھ کر منہ کو آرہا تھا۔
’’میرے جگر کا ٹکڑا۔‘‘ وہ ماں تھی لپٹ گئی اپنے بیٹے سے مگر اس کا ایک فائدہ ضرور ہوا… اس کے بعد سے وہ کبھی بھی چودھری کے عتاب کا نشانہ نہیں بنی تھی‘ چودھری حشمت نے کبھی اس پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا۔
غصہ ہوتا تو اسے نظر سے دور کردیتا اور زیادہ ہی غصہ ہوتا تو خود ہی وہاں سے کہیں چل دیتا تھا۔ یوں بھی اب اتنے ماہ وسال گزرنے کے بعد خود چودھرائن نے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔
وہ کیا کرتا ہے‘ کیسے کرتا ہے‘ سب جان کر بھی اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں‘ اس میں بہتری تھی‘ مصلحت کی چادر اوڑھ لی تھی اور اب چپ کی بکل بھی مار لی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا‘ طارق کے سامنے چودھری حشمت نے غصہ تو کیا مگر ہاتھ آج بھی نہ اٹھایا اور چودھرائن کے منہ سے لفظ بیٹی چودھری حشمت کو کسی تازیانے کی مانند لگا تھا۔ کس کی شامت اعمال آئی تھی‘ کس کی جرأت تھی کہ اس کی بیٹی اس کی ناموس اس کی عزت کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھ لیتا۔
اس وقت اشتعال کی شدید لہر اس کے رگ وپے میں سرائیت کرگئی تھی اس لیے چودھرائن بھی مجبوراً اندر چل دی تھی۔ طارق ماں کے دونوں ہاتھ تھامے سامنے بٹھا کر ٹھنڈا پانی پلا رہا تھا۔
’’ماں تو کیوں اتنا غصہ کرتی ہے۔ کیوں بار بار بابا صاحب کے سامنے آجاتی ہے‘ جانتی ہے میں تیری تذلیل برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ طارق نے بے بسی کی انتہائوں کو چھوتے لہجے میں ماں سے کہا۔
’’بیٹا اللہ ظالم کو ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر انجام بد تو اس کا نصیب ہی ہوا کرتا ہے‘ بالآخر… اور میں جو بھی کہتی ہوں تیرے بھلے کے لیے کہتی ہوں۔‘‘ وہ دل سوز‘ دل گیر لہجے میں بولیں۔ طارق مسکرا دیا‘ وہ ماں کی اسی محبت کا اسیر تھا۔ ماں کے سامنے اس کے بے لوث جذبوں کے سامنے ہار جاتا تھا۔
’’طارق او طارق…‘‘ باپ کی آواز پر وہ ماں کا ہاتھ چھوڑ کر پلٹ گیا اور وہ دھک سے بیٹھی رہ گئی تھی جہاں کی تہاں۔
٭…٭٭…٭
دروازہ کوئی زور زور سے پیٹ رہا تھا جب وہ گھبراتے دل کے ساتھ دروازے تک آئی تھی۔
’’کیا ہوا پتر کیا بات ہے؟‘‘ دروازے پر زریاب کھڑا تھا جس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
’’میرے ساتھ چل خالہ۔‘‘
’’ساتھ چلوں مگر کہاں؟‘‘ وہ اچھنبے سے بولی۔
’’خالہ زیادہ سوال جواب کا وقت نہیں ہے۔‘‘ وہ جانتا تھا کہ وہ ان تمام سوالات کا جواب دے بھی نہیں سکتا ہے۔ پھر وہ سر پر چادر کی بکل مارے اس کے عقب میں چلتی ہوئی کئی گلیاں پار کرتی پگڈنڈیوں تک جاپہنچی تھی۔ فصلوں تک آکر اس نے ٹھٹک کر ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا جو آپس میں چہ میگوئیاں کررہے تھے‘ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ رک گئی۔ اس نے ساتھ چلتے زریاب کا ہاتھ تھام کر استعجاب سے دیکھا۔ زریاب کی آنکھیں لہو رنگ تھیں اور سر ندامت سے جھکا ہوا تھا اور پھر نجانے وہ کیوں لمحہ بھر میں ساری بات کی تہہ تک جاپہنچی تھی۔
’’ہائے میں مر گئی میرا پتر میرا زاہد۔‘‘ وہ دوڑتی ہوئی اس ہجوم کا سینہ چیر گئی تھی‘ سامنے ہی ہجوم کے چھٹ جاتے ہی سامنے زمین پر زاہد پڑا تھا‘ آنکھیں چت کھلی تھیں‘ آخری سانسیں تھیں‘ بس کسی دم کا مہمان تھا اور ماں کو دیکھ کر ہلکی سی رمق اس میں بیدار ہوئی۔
بشیراں نے آنسوئوں سے تر چہرہ اپنے شیر پتر پر جھکا دیا۔ اس کے آنسو زاہد کے خون میں تر چہرے میں مدغم ہونے لگے تھے۔
’’وے میں مر گئی ہائے اللہ تجھے میری عمر لگ جائے‘ ہائے میں مر گئی۔‘‘ وہ تڑپ رہا تھا اور ماں مر رہی تھی… وقت مرگ اس کا تھا اور سانسیں ماں کی اٹک رہی تھیں‘ درد سے بے حال وجود ایک اذیت ناک لمحہ جو اب ختم ہونے والا تھا۔ اور اس کا وہ لمحہ واقعی ختم ہوگیا تھا‘ آتی جاتی سانسوں کو فقط ماں کے دیدار کی آس تھی۔ ماں کی نرم گرم آغوش میں وقت دم مرگ کسی قدر آسان ہوگیا تھا اور وہ آرام سے اپنی آنکھیں موند گیا تھا۔ بشیراں کا رو رو کر برا حال تھا۔ درد سے اس کی جان نکل رہی تھی‘ اذیت ناکی عروج پر تھی۔ پھر اس کی آہ وبکاہ نے جیسے زمین ہلا دی تھی‘ آسمان کی وسعتوں میں اس کے درد نے ہچکی لی تھی۔
وہ روتے ہوئے وہیں ڈھیر ہوگئی تھی‘ گود میں جوان بیٹے کا لاشہ رکھا تھا اور وہ بے جان ہورہی تھی‘ اس کا دل کررہا تھا وہ بھی زاہد کے پاس چلی جائے‘ اس کے ساتھ ہی اس جہان سے دوسرے جہان چلی جائے مگر ایسا ممکن نہ تھا۔ اس کی تلخ زندگی کے ایام ابھی باقی تھے۔ جو اسے روزانہ زاہد کی یادوں کو گلے لگا کر جینے بھی تھے اور مرنے بھی تھے۔ پھر اس کا وجود گہرے صدمے سے دوچار ہوگیا‘ اس کے سامنے اس کی گود سے اس کے بیٹے کو اٹھایا گیا مگر وہ گہرے صدمے اور سکتے میں چلی گئی تھی۔
اسے گھر لے جایا گیا‘ وہ بالکل ساکت وجود لیے ایک جانب بیٹھی تھی‘ عورتیں پرسہ دینے آرہی تھیں‘ دلاسہ دے رہی تھیں‘ کچھ اس کے بیٹے کے مرنے کی اصل وجہ اس بات کی تہہ تک جانا چاہ رہی تھیں اور کچھ اس سے ہمدردی کے ساتھ مخاطب تھیں۔ مگر اب اس کے کان کہاں اس ساری گفتگو کو سن رہے تھے‘ وہ تو غیر مرئی نقطے پر نگاہیں مرکوز کیے نجانے کن خیالات میں گم تھی۔ اس کا خود سے بیگانہ ہوجانا بھی سب کے لبوں پر محو گفتگو تھا‘ چہ میگوئیاں ہورہی تھیں‘ پھر جب عذرا آئی تو وہ بہن کو گلے لگا کر خوب روئی‘ مگر وہ بالکل چپ تھی‘ اس کے آنسو رک گئے تھے‘ جب روح گھائل ہو تو آنسو بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ مگر جب رانو نے بشیراں کے پاس بیٹھ کر خالہ کا ہاتھ تھاما تو بشیراں کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹ گئی اور اس نے ایک نفرت بھری نگاہ رانو پر ڈالی۔
’’تو ہے… جو میرے پتر کو موت کے منہ میں لے جانے کا سبب ہے… تو نے کھا لیا میرے گھر کی خوشیوں کو‘ تیرے لیے پاگل ہوگیا تھا میرا پتر… کہتا تھا رانو کو رانی بنا کر رکھوں گا‘ ارے کہاں کی رانی تُو تو ڈائن نکلی میرے بیٹے کو ہی نگل گئی۔ جا دفعہ ہوجا یہاں سے۔‘‘ بشیراں کا کرخت بلند وبانگ لہجہ وہاں موجود سارے افراد اس جانب متوجہ ہوچکے تھے اور سارے ہی اس بات کو غور سے سن رہے تھے۔
کچھ اسے گہرے صدمے سے دوچار ہونے کا سبب قرار دے رہے تھے‘ مگر بہت سوں کو اصل بات کی خبر تھی اور جانتے تھے کہ یہ سب کیوں اور کس کے ایما پر کیا گیا ہے وہ الگ بات کہ سب نے اپنے لبوں پر فقل لگا لیے تھے۔کوئی بھی اصل بات منہ پر نہ لے کر آسکتا تھا کیونکہ سب کے گھروں میں بیٹیاں تھیں‘ سب کے گھروں کی ناموس ابھی تو محفوظ تھی مگر زبان کھولنے کے بعد سب کی عزتوں پر حرف زنی ہوسکتی تھی۔
سب درپردہ چودھری حشمت سے ڈرتے تھے اس کی سخت گیری اور ظالمانہ صفت سے واقف تھے۔ یہ بات بھی سب جانتے تھے کہ کئی دنوں سے طارق رانو کے گھر کے چکر لگا رہا تھا۔ رانو پر تو شک وشبہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھاؔ۔ رانو ان سب کے سامنے پل بڑھ کر جوان ہوئی تھی اور رانو نے ہمیشہ ہی اپنی عزت کروائی تھی وہ تو اب گھر کی چار دیواری میں خود کو ایسا مقید کرچکی تھی کہ کئی عرصے سے تو کسی نے اس کی جھلک بھی نہ دیکھی تھی سب جانتے تھے کہ عذرا نے اسے کس طرح پالا پوسا ہے اس کی تربیت کس نہج پر کی ہے مگر سب یہ بھی بخوبی جانتے تھے کہ طارق نے کسی شادی کی تقریب میں رانو کو دیکھ کر اسے اپنانے کی ضد باندھ لی تھی وہ ہر صورت رانو کو حاصل کرلینا چاہتا تھا۔ جو شے چودھری کو پسند آگئی ہو اس پر کون نظر رکھنے کی جسارت کرسکتا تھا‘ مگر زاہد تو ایک مدت سے رانو کے عشق میں گرفتار تھا۔ اور آج اس عشق کا نتیجہ تھا کہ وہ منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو خالہ‘ میرے دل سے پوچھ آج زاہد کے جانے کے بعد میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔‘‘ وہ زور زور سے چیخ کر رونے لگی۔
’’ارے یہ ٹسوے کسی اور کے سامنے بہانا‘ میں اپنے بیٹے کی قاتل کو اس گھر کی چار دیواری میں نہیں دیکھ سکتی تو فوراً یہاں سے دفعان ہوجا‘ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔‘‘ وہ بے حد غصے میں تھی‘ ایسے جیسے اگر رانو نے اس کی بات نہ مانی تو وہ رانو کو سخت سزا بھی دے سکتی تھی۔ شاید مار پیٹ کر اسے دھکے دے کر نکال دیتی اور اس سے پہلے کہ یہاں نیا تماشہ شروع ہوجاتا رانو ہچکیوں کے درمیان روتی دھوتی خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
رانو سے اتنی نفرت کے باوجود نجانے کیوں بشیراں نے اس کی ماں کو نہیں کہ وہ یہاں سے چلی جائے۔ شاید ماں جائی ہونے کا کوئی لحاظ یا مروت آڑے آگیا تھا۔ ورنہ تو اس کے اس رویے کے بعد عذرا بھی خاصی دلبرداشتہ ہوگئی تھی اور عذرا نے ہی آنکھ کے اشارے سے رانو کو وہاں سے چلے جانے کا کہا تھا اور رانو بھی ماں کے اشارے کو سمجھ کر اٹھ گئی تھی۔ رانو گھر میں داخل ہوئی تو سامنے ہی طارق اور اس کے ساتھ موجود کارندوں کو دیکھ کر اس کے قدم جامد ہوگئے تھے‘ کسی انہونی کے خیال سے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر طارق بھی اس کے ارادے کو بھانپ گیا تھا تبھی اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
’’ارے کہاں بھاگ رہی تھی رانی اور کس طرح آزمائے گی میری محبت کو… یہ دیکھ مولوی صاحب آئے بیٹھے ہیں۔ اور ہاں زنانی بھی لایا ہوں اپنی‘ اندر چل کمرے میں‘ وہ تجھے سجا سنوار دے گی‘ زیادہ چوں چراں نہ کرنا ورنہ زاہد کی طرح تیرے بھائی کی بھی آج کے آج ہی لاش اٹھے گی‘ اب سوچ لے کہ تو کیا چاہتی ہے‘ ایک قتل تو کروا چکی ہے‘ اب کیا اپنے بھائی کی قاتل بھی کہلانا چاہتی ہے۔‘‘ طارق اس کے حسن سے اپنی آنکھیں خیرہ کررہا تھا‘ اس کی غزالی آنکھیں اس کے اندر انتشار برپا کررہی تھیں‘ غضب کا حسن پایا تھا‘ جو سر پر چڑھتا دل پر اثر کرتا تھا۔ وہ اس کے جادوئی حسن میں جیسے کھو سا گیا تھا‘ وہ حشر ساماں اور فتنہ ساماں تھی۔ تبھی تو وہ اس کے پیچھے پاگل ہوگیا تھا اور پھر وہ اس کی ضد بن گئی تھی۔
’’میں تیری دھمکی میں نہیں آنے والی‘ چھوڑ میرا ہاتھ‘ ورنہ میں چیخ چیخ کر سارے محلے کو اکھٹا کرلوں گی‘ اللہ کے قہر سے ڈر کچھ تو خوف کر اور مجھے نکاح کے دو بول پڑھ کر حاصل تو کرلے گا مگر میرے دل میں تیری نفرت کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ تو چاہ کر بھی ان جڑوں کو نکال نہ پائے گا۔ چل کر نکاح میں بھی تو دیکھوں تو مجھے کیسے حاصل کرتا ہے۔‘‘ شاید وہ جنونی ہورہی تھی تبھی بے انتہا دلیری سے بولی۔ طارق نے مضحکہ خیز انداز میں اسے دیکھا۔ پھر اسے ایک زور دار دھکا دیا اور وہ اس کی پہیلی بیوی کے پاس جاگری تھی۔
’’جا سجا سنوار اسے اور آدھ گھنٹے میں ہی یہ نکاح ہوگا ابھی اور اسی وقت‘ تاجے تو دروازے پر کھڑا ہوکر چوکسی کے ساتھ پہرہ دے۔‘‘ طارق نے اپنے فرماں بردار کارندے تاجے کو کہا اور تاجا اس کے احکامات ملتے ہی فوراً اثبات میں سر ہلا کر دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ وہ رائفل لیے اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا اور اندر طارق مولوی صاحب کے عین سامنے صوفے پر بیٹھ کر انتظار کی گھڑیاں گن رہا تھا کہ مولوی بھی خوف زدہ تھا اور جلد از جلد نکاح کے بعد یہاں سے فرار ہوجانا چاہتا تھا۔ اسے بھی چودھری حشمت کے بندے اٹھا لائے تھے اور اندر زہرہ طارق کی پہلی بیوی رانو کی منت سماجت کررہی تھی۔
’’ارے کیوں ضد کرتی ہے‘ تو نہیں جانتی اس ضد کا نتیجہ کیا ہوگا‘ جیت تو طارق کی ہی ہونی ہے۔ پھر اس بے جا ضد کا کیا فائدہ؟ کیا تیرا بھائی اکیلا اس ظالم سماج کو بدل سکتا ہے۔ کیا وہ تیری شادی رکوا سکتا ہے؟ کیا تو اپنے بھائی کو مرنے دے گی‘ بتا پھر کیوں بیکار باتوں میں خود بھی الجھ رہی ہے اور وقت کا ضیاع کررہی ہے۔‘‘ رانو جانتی تھی کہ زہرہ کی تمام باتیں من وعن بالکل درست ہیں اور ان میں صداقت بھی ہے مگر وہ کیا کرتی کہ وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔
جو زاہد کے دکھ میں گرفتار تھا۔ اس کے قلب جاں میں نوجے گونج رہے تھے ایسے میں یہ کیا ہورہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کیا وہ اپنے پیار کے قاتل سے بیاہ کرلیتی اور اس سے پیار جتاتی۔ اس کا دل بند ہونے لگا اور روشنی کا ہلکا سا بھی شائبہ تک نہ رہا تھا۔
ٹمٹماتی روشنی ڈگمگا رہی تھی اس کے اندر زلزلوں کے جھٹکے اور ہچکولے تھے۔ وہ فیصلہ نہ کرپا رہی تھی‘ پھر اسے لگا کہ اس کا بھائی بھی زاہد کی طرح مرنے والا ہے اور خالہ کی طرح اس کی ماں کا بھی کلیجہ پھٹا جارہا ہے‘ بس پھر وہ ایک لمحہ ہی تھا جب اس نے نکاح کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرلیا تھا۔ اس نے بالکل خاموشی سے وہ لباس اٹھایا اور پہن لیا‘ پھر زہرہ نے اسے زیورات سے سجانا شروع کردیا‘ وہ اتنی خوب صورت تھی کہ فقط لباس اور زیورات کے بعد ہی بے حد حسین لگنے لگی تھی۔ اس کا روپ سجا ہوا تھا‘ وہ یہ سب مجبوراً کررہی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا‘ اب وقت جس طرف بھی لے جاتا یہ اس کی قسمت تھی۔
پھر اسے تیار کرکے زہرہ باہر لے آئی۔ طارق نے ایک بھرپور نگاہ اس کے دلکش و اداس چہرے پر ڈالی… نکاح خواں نے نکاح شروع کیا‘ وہ اس تمام دورانیے میں کٹھ پتلی کی مانند بیٹھی تھی۔ حجاب وقبول کے مراحل کے بعد مولوی صاحب کو یہاں سے جانے کی اجازت مرحمت فرما دی گئی۔ وہ جان بچی سو لاکھوں پائے کے مصداق وہاں سے چل دیے تھے۔
’’مبارک ہو آج سے تم میری ہوگئی‘ میری ملکیت میں ہو۔‘‘ ابھی اس کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا جب دروازے پر کھڑے ہوئے زریاب اور حامد صاحب پر اس کی نگاہ پڑی۔
’’یہ کیا بکواس کررہے ہو۔‘‘ زریاب سب کچھ بھول گیا‘ سارے طبقاتی فرق پس پشت ڈال کر اس وقت وہ محض ایک غیرت مند بھائی بن کر کھڑا تھا۔
’’زبان کو لگام دو ورنہ گدی سے کھینچ دوں گا۔ یاد رکھنا تم کمی کمین ہو اور ہاں اب تو یہ بھی میرا ظرف جانو کہ تم جیسوں کو عزت بخشی ہے۔ یہ اب تمہاری بہن نہیں میری بیوی بن چکی ہے‘ اگر یقین نہیں آرہا تو سامنے کھڑی اپنی بہن سے پوچھ لو۔ کیوں تاجے بتا ذرا…‘‘ تاجے نے ہی نہیں ساتھ کھڑے اور دو بندوں نے زور وشور سے سر ہلا کر اس بات کی تصدیق کی اور سب سے زیادہ تاسف تو اس بات کا اسے تھا کہ اس کی بہن کی نظریں جھک گئی تھیں۔
اس کا جھکا ہوا سر ہی نہیں اس کا سجا سنورا وجود بھی اس بات کا ثبوت تھا کہ طارق کی بات من وعن سچ ہے۔ اس نے تاسف سے ایک ملامتی نگاہ اپنی بہن پر ڈالی لیکن حامد صاحب نے سارا معاملہ بھانپ لیا تھا طارق دندناتا ہوا رانو کو لے کر وہاں سے چل دیا۔ اس گھر پر تومصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ مصیبتوں نے اس گھر کا رخ کرلیا تھا۔ ابھی تک عذرا بیگم کو اس بات کا علم بھی نہ ہوسکا تھا کیونکہ وہ اپنی بہن کو اس گہرے صدمے میں چھوڑ کر واپس آنے پر آمادہ نہ تھی اور وہ لوگ تو تدفین کے بعد گھر کی طرف آگئے تھے اور یہاں کا منظر ہی دل دہلا دینے والا تھا۔
زریاب کو گہرا ملال ہو ہا تھا۔ وہ اپنی بہن کو اس اذیت سے کسی صورت بچانہ سکا۔ جس مصیبت سے نکالنے کے لیے اس نے اتنے جتن کیے تھے‘ وہ اس میں ناکام ہوگیا تھا۔ اب اس میں مزید یہاں رہنے کا حوصلہ باقی نہ تھا۔ وہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا تھا۔ اس میں ایک لمحہ اس گھر کے درو دیوار کو سہنے کا حوصلہ نہ تھا۔ جو اس کی بے بسی کا مضحکہ اڑا رہے تھے۔ وہ ماں سے بھی نہ مل سکا اور تھکا ہوا واپس لوٹ گیا تھا۔
٭…٭٭…٭
ذکیہ واپس لوٹی تو اسے سارے حالات کا علم ہوا۔ ایک گہرا رنج و ملال تھا اسے‘ اس خوشی کی بات کو اس نے کھلے دل سے ہرگز تسلیم نہ کیا بلکہ گہرے رنج سے دو چار ہوئی تھی۔
’’کیا آپ ساری بات جانتے تھے اور جان بوجھ کر مجھے وہاں لے کر گئے تھے۔‘‘ ذکیہ نے عثمان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عثمان بوکھلا ہی تو گیا تھا۔ وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا۔
’’اس سے کیا پوچھ رہی ہو مجھ سے پوچھو میں بتاتی ہوں۔ سچ بہت کڑوا ہوتا ہے اور اس سچ کو سہنے کی ہمت بھی ہر کسی میں نہیں ہوا کرتی اور ہر بات لائق جواب نہیں ہوا کرتی‘ کچھ معاملات میں درگزر کا گھونٹ پینا پڑتا ہے۔ جیسے تمہیں ایک عرصے سے میرا بیٹا برداشت کرتا آرہا ہے ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں تم میں جو سب کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں تم نے اور سچ سننا ہے اور سچ جاننا ہے تو جائو اپنی ماں سے جاکر پوچھو‘ اپنے بابا سے پوچھو ہم سے کیا پوچھتی ہو۔‘‘ آج دردانہ بیگم کا حوصلہ جواب دے گیا۔
’’سن رہے ہیں آپ؟ اتنی باتیں سننے کی مجھے قطعاً عادت نہیں‘ اب ایک لفظ اور مزید کہا تو میں ابھی اسی وقت یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور دوبارہ اس گھر میں قدم بھی نہ رکھوں گی۔‘‘ ذکیہ کا یہ سن کر غصے سے برا حال ہوگیا تھا۔
’’یاد رکھو عثمان میرا بیٹا ہے‘ یہ میری ہی تربیت کا اثر تھا کہ وہ اتنے عرصے تمہیں برداشت کرتا رہا‘ ورنہ تمہارے والدین تو تمہیں محض بڑوں سے بات کرنے کا ادب وتہذیب نہ سکھا سکے۔ کس سے کب اور کس انداز میں بات کرنی ہے‘ اس کا نہ تو تمہیں ادب ولحاظ ہے نہ قرینہ‘ جانتی ہو تمہارے گھر والے تم سے کس قدر عاجز آچکے ہیں‘ تمہارے حکم کے آگے سر تابی نہیں کرسکتے کیونکہ پہلے انہوں نے تمہیں خود اپنے سر کا تاج سمجھ کر پہن لیا تھا‘ اب وہی تاج ان کے لیے اذیت کا سبب بن گیا ہے۔‘‘ وہ بے حد صاف گوئی سے کہہ رہی تھیں‘ ذکیہ ایک مدت سے یہ سب سننے کی عادی نہ رہی تھی۔ وہ تو صرف حکم نامہ جاری کرتی تھی اور بس‘ آج جب اسے کسی محلے والی نے بتایا کہ اس کی بہن اور بھائی دونوں کا نکاح ہوگیا ہے‘ تو اس پر گہرا اثر ہوا تھا۔ وہ بنا کسی سے پوچھے سیدھا گھر کی جانب روانہ ہوئی۔ جہاں گھر میں شادی کا سامان بکھرا ہوا تھا۔ یقینا جلد شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ وہ سیدھا ماں کے روبرو پیش ہوئی۔
’’یہ سب میں کیا سن رہی ہوں‘ کیا آپ میری واپسی تک بھی اس نکاح کو التواع میں نہیں ڈال سکتی تھیں۔ میں سگی بہن ہوں اور مجھے یہ خبر کسی پرائے سے معلوم ہورہی ہے کہ میرے بہن اور بھائی کا نکاح ہوچکا ہے اور مبارک باد مل رہی ہے‘ واہ واہ یہی ہے ناں میری اوقات‘ میری حیثیت‘ یعنی میں اب اتنی گئی گزری ہوگئی ہوں مجھے بتانا ہی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ میں پوچھ سکتی ہوں کہ یہ سب کیا ہے؟‘‘ وہ غصے سے تن کر کھڑی تھی اور اس کا غصہ دیدنی تھا۔
’’تم اگر آرام سے بیٹھو تو میں بتاتی ہوں تمہیں‘ یہ سب آناً فاناً طے ہوگیا تھا۔ پھر وہ لوگ دوسرے شہر سے آئے تھے تو ہم نے معاملات اسی وقت طے کرنا مناسب سمجھے‘ جہاں تک تمہاری بات ہے تو تم شادی میں شریک ہوگی‘ اس شادی میں شرکت سے کون روکے گا بھلا تمہیں۔‘‘ فائزہ بیگم نے قرینے سے بات سنبھالنا چاہی مگر ذکیہ کو تو جیسے پتنگے لگ گئے تھے۔
’’صاف صاف کیوں نہیں کہتیں کہ مجھے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دوسرے شہر روانہ کیا گیا تاکہ میں درمیان میں رخنہ اندازی نہ کروں۔ کوئی کام کی بات‘ کوئی نصیحت نہ کردوں اور مجھے تو سب یہاں اپنا دشمن سمجھتے ہیں‘ کوئی بھی مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتا‘ سب خائف رہتے ہیں مجھ سے‘ حالانکہ دشمنی تو آپ سب نے مجھ سے کی ہے‘ میرے حالات اسی کا نتیجہ ہیں۔‘‘ وہ بہت غصے میں بولتی رہی۔
’’تم غلط سمجھ رہی ہو۔‘‘ اب بات فائزہ بیگم سے سنبھل ہی نہیں رہی تھی‘ تو ذکیہ غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتی سیدھی گھر کی جانب روانہ ہوگئی۔
اب اپنے مجازی خدا سے پوچھ رہی تھی کہ وہ بتائے سچ کیا ہے؟ اور اس میں اس کی ساس یعنی پھوپو نے دخل اندازی کی اور اب بات سنگین صورت حال اختیار کرتی جارہی تھی۔
’’جب میں اپنے خاوند سے بات کررہی ہوں تو آپ کو کیا ضرورت ہے بیچ میں آکر منہ ماری کرنے کی۔‘‘ تڑاخ تھپڑ اس کا گال سرخ کر گیا‘ ایک عرصے تک صبر کو اپنے سینے پر بھاری سل کی مانند رکھے ہوئے عثمان کے صبر کا پیمانہ آج لبریز ہوگیا اور پہلے تو وہ اسے بے یقینی سے دیکھتی رہی پھر اس نے غصے اور نفرت سے بھرپور نگاہ اپنی ساس پر ڈالی اور جاکر کمرے میں اپنا سامان سمیٹنے لگی‘ اب وہ سب بچے نہ تھے اس کے نہ بھانپ گئے تھے۔ مگر اب عثمان کا قطعی دل نہ کررہا تھا کہ اس سے معافی تلافی کرے‘ جاتی ہے تو چلی جائے۔ ویسے بھی اس کی زندگی کو تو اس نے جہنم بنادیا تھا۔
آئے روز کے جھگڑے اور روز روز کی تکرار سے وہ تنگ آچکا تھا۔ گھر کی فضا ایک دم سے بوجھل ہوگئی تھی۔ دردانہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسے روکنا چاہا مگر درمیان میں عثمان آگیا۔
’’جاتی ہے تو جانے دیں‘ اسے روکنا اب بیکار ہے‘ اگر یہ خود ہی اس گھر سے جارہی ہے تو خود ہی واپس بھی آئے گی‘ اسے بتادیں کہ یہ کسی قسم کی خام خیالی میں ہرگز نہ رہے کہ میں اسے منا کر لے آئوں گا۔‘‘ وہ بھی آج مردانہ زعم میں آچکا تھا‘ ایک مدت اس نے اس کی ناز برداریاں برداشت کی تھیں مگر اب اس میں صبر کا یارا نہ رہا تھا‘ تبھی وہ اس کی بات سن کر بھی ان سنی کرتی ہوئی بیگ تھامے گھر کی دہلیز پار کر گئی تھی۔
٭…٭٭…٭
زیبا بیاہ کر دوسرے شہر ریحان کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرنے آگئی تھی جبکہ امبر وداع ہوگئی تھی۔ سلمیٰ بیگم وداعی پر نمناک نگاہیں لیے تھیں جبکہ خود فائزہ بیگم کا دل دوہرے احساسات کا ترجمان تھا‘ اگر ایک بیٹی کو وداع کیا تھا تو دوسری بیٹی کو اس گھر میں رونق بنا کر لائی بھی تھیں اور زیادہ خوشی ان کو اس بات کی بھی تھی کہ وہ ان کے اپنے بیٹے کی خوشی بھی تھی اور پھر زیبا کو دیکھ کر تو وہ پہلی ہی نظر میں اس پر فدا بھی ہوگئی تھیں۔ امبر کو تھوڑا سا اس بات کا قلق تھا کہ وہ بھابی کے ساتھ کچھ دن سکون وعافیت کے نہ گزار سکی تھی۔ مگر یہ بھی شکر کا مقام تھا کہ وہ اب اپنے گھر رخصت ہوگئی تھی۔ بنا کسی رخنہ اندازی کی‘ ذکیہ اس دن کے بعد سے لڑ جھگڑ کر ادھر ہی آن بیٹھی تھی مگر لبوں پر قفل سا پڑگیا تھا۔ ناک بھوں چڑھاتی ان کی خوشیوں کو دیکھتی رہتی تھی۔
امبر اور آنے والی دلہن کے لیے کی جانے والی خریداری سے اسے دیکھ کر ہی غش آنے لگے تھے۔ اس نے تو اپنی شادی پر کسی قسم کی اس طرح کی شاپنگ ہی نہ کی تھی۔ اسے اس قدر غصہ تھا جب زیادہ اصرار ہوا تو بازار جاکر الم غلم اٹھا لائی تھی کہ وہ یہ بھی تو بتانا چاہتی تھی کہ وہ اس رشتے سے کتنی ناخوش ہے‘ اسے یہ رشتہ کسی طور پر بھی گوارا نہیں‘ اس لیے اس نے بھدے رنگوں والے کپڑے خود ہی جان بوجھ کر خریدے تھے تاکہ عثمان کے دل کو گہرا ملال ہو مگر اسے تو وہ ہر رنگ میں جچتی تھی۔
مگر اب اس کی محبت کی پٹی اس کی آنکھوں سے رفتہ رفتہ سرکنے لگی تھی محبت میں عزت پہلی ترجیح ہوا کرتی ہے‘ کیونکہ جو محبت کرتے ہیں اور دوسرے فرد کی عزت کی پاسداری ہی نہ کریں تو اس کا واضح مطلب یہی ہوا کرتا ہے کہ وہ آپ سے بھی محبت کا حق دار نہیں ہوسکتا ہے۔ اتنے عرصے کے ساتھ میں نہ تو ذکیہ نے عثمان کو کوئی راحت پہنچائی تھی‘ نہ ہی اس کے احساسات اور خوشیوں کا خیال رکھا تھا‘ وہ محض ’میں‘ کے خود ساختہ خول اور زعم میں جینے کی خواہش مند ایک نفسیاتی مریضہ تھی۔ اسے اپنی انا کے سامنے اپنے والدین اپنے پیاروں کی محبتوں کا کوئی مان رکھنا نہ آتا تھا۔ اس لیے آج وہ عین شادی کے موقع پر لڑ کر آگئی تھی۔
شادی میں جو بھی آیا اس نے عثمان اور اس کی ماں کی بابت سوال کیے‘ نکاح کی تقریب میں تو ذکیہ بھی شامل نہ تھی ایک لحاظ سے بات آئی گئی ہوگئی مگر اب شادی میں ذکیہ تو ہرہر معاملے میں آگے تھی جبکہ اس کی ساس جو رشتے میں خیر سے پھوپو کے عہدے پر بھی فائز تھی اور اس کا میاں دونوں ہی غائب تھے اور محلے والوں نے تو آنے والوں کو یہ تک بتادیا تھا کہ خیر سے دو گلیاں چھوڑ کر تو ذکیہ کی سسرال ہے۔ بامشکل عثمان کی خود ساختہ بیماری کا بہانہ بنا کر معاملے کو دبانے کی سعی کی گئی تھی مگر پھر بھی سوال باقی تھے کہ ذکیہ کے چہرے پر تو ڈھونڈے سے بھی ذرا سی پریشانی کا شائبہ تک نہ ملتا تھا۔
اب کوئی کیا بتائے کہ اسے تو دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھولنا آتا تھا۔ دوسروں کے سینے پر مونگ دلنا آتا تھا۔ تو وہ بھلا کیوں کسی قسم کی پریشانی کا شکار ہوگی۔ جو لوگ اپنی آسودگی کی خاطر دوسروں کو سوگوار اور پُرملال کردیتے ہیں‘ زندگی میں خوش وہ بھی نہیں رہتے‘ کسی قسم کی پریشانی نہ سہی پر آنکھ میں اس کے لیے عجیب سا تجسس تھا جو اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ زبان زدعام ہوچکی تھی اور کم از کم یہ بات اسے بھی بے چین کر گئی تھی۔ اسے یوں کسی کی بھی گوسپ کا حصہ بننا ہرگز پسند نہ تھا۔
اب زیبا کی آمد پر اس کا ردعمل بھی عجیب تھا۔ ساس تو بہو کو خوش دلی سے گھر کی دہلیز سے اندر لارہی تھی‘ مگر زیبا کی اس خوش کن آمد پر وہ بالکل غیر جانبدار ہوکر ہاتھ جوڑے ایک جانب کھڑی نفرت بھری نگاہ سے زیبا کو دیکھ رہی تھی اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زیبا کو گھر میں قدم بھی نہ رکھنے دے۔ جب وہ دکھوں کے دوراہے پر کھڑی تھی اس کی تمام خوشیاں پامال ہوچکی تھیں تو کسی کو بھی کیا حق حاصل تھا کہ اپنی محبتوں کو حاصل کرلیتا اور ساری خوشیوں کو پالیتا۔
اسے زویا نے جب بتایا کہ ذکیہ آپا ہم سب بہت خوش نصیب ہیں کہ ریحان بھائی نے اس قدر محبت اور چاہت سے زیبا آپی کا ساتھ مانگا اور یہ بات ہمارے لیے بے حد تقویت کا باعث ہے۔ زویا نے تو یہ بات محض اپنی سادگی میں کہی تھی مگر ذکیہ پھر ذکیہ ہی تھی وہ بنا کہے باقی سارا معاملہ بھانپ چکی تھی۔ اس نے بھی طے کرلیا تھا کہ وہ زیبا کا جینا دوبھر کردے گی۔ جس طرح اس کی خوشیوں کی کسی کو بھی کوئی پروا نہیں ہے کہ وہ جیے یا مرے اس طرح سے وہ بھی دوسروں کی خوشیوں میں رخنہ انداز ہوگی‘ جہاں تک ممکن ہوگا اپنی زہریلی فطرت سے دوسروں کو ڈس لے گی۔
زیبا اپنے حجلہ عروسی میں سر جھکائے من موہنے خیالات سے سرشار ریحان کا انتظار کررہی تھی‘ وہ مجسم انتظار تھی۔ آج وہ جی بھر کر ریحان کا دیدار کرسکتی تھی۔ زمانے کی کوئی ظاہری دیوار آج حائل نہ تھی۔ وہ آج شرعی طور پر اس کی شریک سفر بن گئی تھی۔ ریحان کی محبت اس کے پور پور میں دھڑکن بن کر سما گئی تھی۔ وہ کافی دیر تک سر جھکا کر بیٹھی تھکن محسوس کرنے لگی تھی۔ پہلے اتنا طویل سفر اور پھر یہاں آکر وہ ریحان کا اتنی دیر تک انتظار۔ اسے گھڑی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اچھا خاصا وقت بیت چکا ہے‘ رات کا پچھلا پہر شروع ہوچکا ہے اور ابھی تک ریحان نے کمرے میں قدم نہ رکھا تھا۔ اسے اب فکر ستانے لگی تھی مگر وہ نئی نویلی دلہن تھی اٹھ کر کمرے سے باہر جاکر دیکھ بھی نہ سکتی تھی کہ آخر ماجرا کیا ہے اس لیے وہ سمٹی سمٹائی اس کی منتظر رہی۔
دوسری جانب ریحان کمرے سے باہر پہلے تو جان بوجھ کر دوستوں اور کزنوں کے درمیان گھرا رہا کیونکہ وہ خود بھی اس لمحے سے خائف تھا‘ وہ دل ہی دل میں زیبا سے سخت خفا تھا اسے دکھ تھا کہ وہ کسی اور کو چاہتی ہے اور اسے محض اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر گئی ہے۔ اسے اس بات کا گہرا ملال تھا کہ وہ شہیر کی محبت میں مبتلا ہے۔ شہیر کی محبت اگر اس کے دل میں اس قدر مضبوط تھی تو اسے چاہیے تھا کہ وہ اس محبت کا اعتراف کرلیتی‘ ایک بات طے تھی یا اسے بے وقوف بنایا گیا تھا‘ اس کے جذبات سے کھیلا گیا تھا دوسری شہیر کو بھی اپنی محبت کے جال میں پھانسا گیا تھا‘ جب وہ زیبا کی معصوم صورت کو اپنی نگاہوں کے سامنے لاتا تو اسے لگتا کہ یہ سب جھوٹ ہے فریب ہے زیبا ایسا کر ہی نہیں سکتی… انہی خیالات کی بدولت وہ کمرے میں جانے سے کترا رہا تھا۔ خود شکستگی سے ڈرتا تھا‘ اسے خوف تھا کہ وہ زیبا کے رعب حسن میں نہ آجائے۔ وہ کسی صورت اب اس کے سامنے جھکنا نہیں چاہتا تھا‘ اعتراف محبت کی ثبت سے اپنے پاکیزہ جذبات کو کچلنا نہیں چاہتا تھا۔
دوسری طرف اسے ضد بھی تھی کہ اب زیبا کو تسخیر کرنا ہے‘ اب جو اس کے نام کے ساتھ منسوب ہوچکی ہے اسے اپنے سامنے ریزہ ریزہ بکھرتا ہوا دیکھنا ہے‘ نجانے پھر وہ رات کا کون سا پہر تھا جو وہ اپنی خود ساختہ جنگ سے تھک سا گیا تھا‘ سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے سارے کام نبٹا کر۔ جب فائزہ بیگم کی نگاہ اکیلے ٹیرس پر کھڑے ہوئے ریحان پر پڑی تو وہ بری طرح سے چونکیں اور لپک کر اس کے پاس آئیں۔
’’تم یہاں کیا کررہے ہو اس وقت؟ تمہیں تو دلہن کے پاس جانا چاہیے‘ وقت دیکھا ہے تم نے‘ کیا بات ہے کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہو؟‘‘ یکے بعد یگرے بے شمار سوالات ان کے دماغ میں گردش کرنے لگے تھے‘ وہ بے حد فکر مندی کا اظہار کررہی تھیں‘ وہ پھیکی سی مسکان لیے مسکرا دیا۔
’’جی امی جاہی رہا ہوں۔‘‘ وہ سیدھا ہوکر بولا۔
’’دیکھو ریحان میری ایک بات یاد رکھنا‘ اگر کوئی بات ہے تو مجھے ابھی صاف بتادو‘ میں ماں ہوں تمہاری یہ اتری ہوئی صورت تو صاف بتلا رہی ہے کہ کوئی گڑبڑ ہے۔‘‘ فائزہ بیگم کا رنگ بھی پھیکا پڑگیا‘ چہرے پر فکرمندی ہویدا تھی‘ کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو شادی کی رات یوں پریشان حالت میں تنہا پائے گی تو سو طرح کے اندیشے اور وسوسے اسے ستانے لگیں گے اور وہ بھی ایک ماں تھی جس کا دل مامتا سے لبریز و گداز تھا اور وہ ریحان کو ہر صورت آباد دیکھنے کی خواہش مند تھیں‘ اسے ہنستا بستا دیکھنے کی آرزو مند تھی۔
’’ارے امی‘ میں ذرا جھجک سا رہا تھا‘ اب آپ سے کیا کہوں مجھے یہ سب عجیب سا لگ رہا ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بات سنبھال گیا۔
’’کیا…؟ اف تو نے تو میری جان ہی نکال کر رکھ دی تھی‘ جائو اب وقت ضائع نہ کرو‘ شکر ادا کرو کہ میری نگاہ ہی پڑی ہے تم پر‘ کسی اور نے دیکھ لیا ہوتا تو نجانے صبح تک کیا کچھ کہانی بن چکی ہوتی۔ سارے مہمان تو جاچکے ہیں‘ دوسرے شہر سے آئے جو مہمان ہیں وہ صبح سویرے ہی ناشتے کے بعد روانہ ہوجائیں گے۔ ولیمے کی تقریب تو یوں بھی ہم نے تین دن بعد کی ہی رکھی ہے۔‘‘ وہ بات مکمل کرکے بولیں۔ وہ ماں کی بات پر کمرے میں چلا گیا۔ بے حد مودب ہوکر‘ وہ بہرکیف کسی طور بھی اپنی ماں کی پریشانی کا سبب نہیں بن سکتا تھا۔
زیبا اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ تھکن اس کے چہرے سے ہویدا تھی‘ لمحہ بھر کے لیے ریحان کو اپنی اس غلط حرکت پر افسوس ہونے لگا‘ جو بھی تھا جیسے بھی تھا وہ اس کی محبت بھی تو تھی۔ اس نے اس دن کے لیے کیا کیا نہ سوچا تھا‘ کتنے روپہلے کرنوں والے خواب آنکھوں میں سجائے تھے۔ وہ اس کے پاس ہی بیڈ کے کنارے پر آن بیٹھا‘ وہ شرما کر سر جھکا گئی تھی۔
سرخ رنگ کے لہنگے میں ماہر بیوٹیشن کے میک اپ سے اس وقت کھل گئی تھی‘ اس کا نکھرا روپ اور حسن جاوداں دل کو تسخیر کررہا تھا۔ اس کا پلکوں کا جھکا دینا اس کے چہرے پر بکھری محبت کی تمازت اسے جاذب نظر بنارہی تھی۔ وہ ایک لمحہ وصل تھا جس میں ریحان سب بھول بھال گیا تھا‘ حتیٰ کہ یہ بھی کہ اس نے منہ دکھائی میں زیبا کو کنگن دینے تھے‘ جو اس نے کوٹ کی جیب میں رکھے ہوئے تھے‘ مگر اسے یاد تھا تو محض یہ کہ یہ سراپا حسن اس کا مقدر ٹھہرا ہے‘ وہ اس پر حق جتا سکتا ہے اور پھر وہ اس کے پندار حسن اور خوشبوں سے بسے وجود میں خود کو مدغم کر گیا تھا‘ مگر اس سب میں بھی اسے کہیں نہ کہیں غصہ تھا‘ دبی دبی چنگاری تھی جو سلگ رہی تھی‘ تبھی وہ محبت کی نرماہٹ کی بجائے سلگتے جذبات اور غصہ سے اسے اپناتا چلا گیا اور زیبا جو اس سے اپنی اس خاص تیاری پر تعریفی جملے سننے کی متمنی تھی یا کوئی محبت بھری بات سننے کی اہل تھی۔ ریحان کے اس عجیب سے احساسات میں گھری وہ جیسے اپنے خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھ رہی تھی۔ اس کے خواب اس کی پلکوں کی باڑ پر ہی دم توڑ گئے تھے۔ وہ دل شکن بس دیکھتی رہ گئی تھی پھر ریحان تو گہری نیند کی وادی میں گم ہوگیا تھا جو قلعہ اسے مسمار کرنا تھا وہ اسے تسخیر کرچکا تھا‘ مگر وہ اپنے دکھی جذبات لیے بنا آواز کے ایک تسلسل سے رو رہی تھی‘ گرم سیال آنسو ایک تواتر سے اس کے گالوں کو بھگو رہے تھے‘ اس کا چہرہ تر تھا‘ دل غمگین۔
وہ یونہی سوگوار سی بیٹھی تھی پھر نجانے کب وہ بستر پر ڈھے سی گئی اور پھر اسی طرح اسی انداز میں سکڑی سمٹی وہ سوگئی تھی‘ کچھ اس طرح کہ روتے روتے کچھ آنسو اس کے گالوں پر جم سے گئے تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی آنکھ باہر ہونے والی زور دار دستک سے کھل گئی تھی۔ اس نے ہڑبڑا کر اطراف کا جائزہ لیا‘ اس کے برابر ریحان بے خبری سے گہری نیند میں گم تھا‘ وہ لمحہ بھر میں رات کے ہونے والے تمام واقعات کو ذہن میں دہراتی ہوئی سیدھی ہو بیٹھی تھی۔ اس نے پہلے اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹا اور دروازے تک آئی اور دروازہ دوبارہ سے زور دار دستک سے بج اٹھا تھا۔
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی ذکیہ آپا کو کھڑا پایا۔
’’کیا بات ہے دن چڑھ آیا ابھی تک سوئی پڑی ہو‘ کیا والدین کے گھر میں بھی اسی طرح کے اطوار تھے تمہارے۔‘‘ ذکیہ آپا نے زہرخند لہجے میں کہا‘ وہ سمجھ ہی نہ سکی کہ اس بات کا کیا جواب دے۔ وال کلاک پر اس وقت دن کے نو بج رہے تھے مگر وہ ساری رات روتی رہی تھی اور پھر یہ شادی کے لحاظ سے بہت جلدی کا وقت تھا پھر وہ یہ سوچ کر بھی تحیر کا شکار تھی کہ کیا اسے اہل خانہ کے لیے ناشتہ تیار کرنا تھا اولین دن میں بھی۔ اس نے یہ سب سوچا ضرور مگر لب بستہ کھڑی تھی۔
’’اب کھڑی میرا منہ کیا تک رہی ہو‘ فریش ہوکر باہر نکل آئو‘ ایک ہم تھے صبح سویرے ہی جاگ جاتے تھے۔‘‘ وہ حیرت سے کھڑی رہی اور ایک طرف وہ اسے جانے کو کہہ رہی تھیں‘ دوسری طرف ان کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی‘ جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ اب پلٹنے ہی والی تھی جب وہ بولیں۔
’اب گھنٹہ نہ لگا دینا‘ جلدی آئو مجھ سے یہ سارے بکھیڑے اکیلے نہیں دیکھے جاتے… سب مہمان ابھی بھی موجود ہیں‘ آکر میرا ہاتھ بٹائو۔‘‘ وہ سر اثبات میں ہلا کر واپس پلٹ گئی۔
واش روم میں آئینے کے سامنے اپنا عکس دیکھا‘ رونے کی وجہ سے سوجی آنکھیں اس کے درد کی داستان بیان کررہی تھیں۔ نجانے رات کو ریحان کا اس نے کون سا روپ دیکھا تھا‘ درندہ صفت انسان کیا وہ وہی ریحان تھا جسے اس نے ایک عرصے تک چاہا اور سراہا تھا۔ اس کے خواب دیکھے تھے‘ دل کے نہاں خانوں میں اس کا عکس جھلملاتا تھا اور آج لگتا تھا کہ اس کا وہ عکس بلندو بالا بت مسمار ہوگیا تھا۔ محبت اور نفرت میں ایک ذرا سا ہی فاصلہ ہوا کرتا ہے‘ جب یہ محبت نفرت کے اس پار قدم رکھتی ہے تو پھر اس میں شدتیں بھی آجاتی ہیں‘ مگر وہ تو اس وقت عجیب متضاد کیفیات سے دوچار تھی‘ اس نے ساری سوچوں کو ذہن سے جھٹکا اور آئینے کے سامنے اپنے عکس کو دیکھ کر گیلے بال سلجھانا شروع کردییِ تھے‘ ہلکے کامدار نگینوں والا لباس زیب تن کیا سر پر قرینے سے دوپٹہ رکھ کر وہ باہر کی جانب قدم رکھ رہی تھی جب اس کی نگاہ ریحان پر پڑی تھی جو بے حد معصوم لگ رہا تھا۔ اتنے دنوں کی بے خوابی کے بعد وہ آج گہری نیند میں تھا اور وہ اسے اس قدر سکون سے سوتا دیکھ کر کلس کر رہ گئی۔
دوسرے کا سکون لوٹ کر وہ کس قدر پُرسکون لگ رہا تھا۔ اس نے ایک خشمگیں نگاہ اس پر ڈالی اور باہر کی جانب چل دی۔ اس نے سیدھا کچن کا رخ کیا چونکہ اس سے قبل پہلے بھی ایک مرتبہ آچکی تھی اس لیے اسے معلوم تھا کچن کس طرف ہے۔
کچن میں اس وقت ذکیہ آٹا گوندھنے کی کوشش میں برسر پیکار تھی اس نے دیکھا ابھی تک سنک گندے برتنوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا‘ اس نے تحیر سے دیکھا‘ وہ کیسے آرام سے ان گندے برتنوں کا ڈھیر نظر انداز کرکے ناشتا تیار کرنے لگی۔ اس کا تو دل ہی اوب گیا تھا۔ یہاں کھڑے ہونے کے بھی حالات نہ تھے‘ اس نے کمر کیس لی اور سب سے پہلے اس نے برتن دھونا ہی شروع کیے۔ اسے برتنوں کی جانب متوجہ دیکھ کر ذکیہ بالکل مطمئن ہوگئی تھی۔ کیونکہ اس کا بالکل بھی ارادہ اور نیت نہ تھی اتنے برتنوں کا ڈھیر دھونے کی ذکیہ آٹا گوندھ چکی تھی‘ اس نے مڑ کر اسے مخاطب کیا۔
’’اب تم پراٹھے پکانا شروع کرو‘ ساتھ میں آملیٹ بنالو اور ابھی ابا چنے وغیرہ بازار سے لے کر آجاتے ہیں۔‘‘ ذکیہ یہ کہہ کر باہر نکل گئی تھی۔ اس نے پہلے برتن صاف کرکے قرینے سے الماری میں رکھا‘ اس کے بعد چولھا جلا کر خستہ نرم سے پراٹھے پکانا شروع کردیئے اور اس کے ساتھ ہی سارے گھر میں اس کے تیار کردہ پراٹھوں کی مہک پھیل گئی تھی۔ وہ آملیٹ بنا رہی تھی جب دوبارہ ذکیہ کا کچن میں چکر لگا‘ نجانے وہ اسے احکامات دے کر کہاں چل دی تھی۔
’’صرف بیس پراٹھے استغفراللہ باہر مہمانوں کا جم غفیر ہے‘ کیا یہ وہ کھائیں گے‘ میں نے جتنا آٹا گوندھا تھا کم تھا تو اور گوندھ لیتی‘ اب نیا آٹا گوندھو اور سرے سے ناشتہ تیار کرو۔‘‘ ذکیہ کا نیا حکم سن کر وہ جو اب مطمئن سی تھی کہ کاموں سے فراغت مل رہی ہے پریشان ہو اٹھی تھی ایسا بھی نہ تھا کہ وہ کام چور اور کاہل وجود تھی‘ اسے کام کاج کرنے نہ آتے تھے۔
مگر اس وقت وہ سخت ذہنی اضطراب سے دوچار تھی‘ اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا‘ اسے رہ رہ کر ریحان پر غصہ آرہا تھا‘ مگر اس کے ساتھ اپنی کم ماؔئیگی کا دکھ بھی تھا۔ اس نے کتنے ارمان سجائے تھے اور اس نے ایک پل میں اس کے تمام خوابوں کو چکنا چور کردیا تھا اس کی تمام امیدوں کا محل زمین بوس ہوگیا تھا۔ تبھی حامد صاحب آگئے تھے چنے اور ڈھیروں نان لیے۔
’’ارے بہو… تم کچن میں کیا کررہی ہو‘ تمہاری ساس کہاں ہیں؟ توبہ ہے بھئی۔‘‘ حامد صاحب بے حد خفا ہو ئے تھے۔
’’جی کوئی بات نہیں میں نے یہ پراٹھے پکائے ہیں شاید کم ہیں میں مزید بنادیتی ہوں۔‘‘ وہ ہمیشہ سے ہی مودب رہی تھی‘ اب کیسے ممکن تھا کہ حد ادب ہوجاتی‘ اس نے بہت ادب سے جواب دیا۔
’’نہیں… نہیں اس کی قطعی ضرورت نہیں ہے‘ میں بازار سے ناشتہ لے آیا ہوں‘ سب کرلیں گے اور جس کو بازاری ناشتہ ہضم نہیں ہوتا وہ آکر خود زحمت کرلے گا‘ تم ابھی کے ابھی باہر نکلو اور جاکر اپنے کمرے میں بیٹھو‘ آرام کرو۔‘‘ حامد صاحب نے قطعی انداز میں کہا‘ ان کا لہجہ اتنا بلند ضرور تھا کہ اسی وقت فائزہ بیگم بھی آگئیں۔ ان کے چہرے سے ہی معلوم ہورہا تھا کہ ان کی طبیعت خراب ہے‘ ستا ہوا چہرہ تھا۔
’’ارے دلہن تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ فائزہ بیگم تو اسے یہاں دیکھ کر ہی ہک دک رہ گئیں۔ یقینا انہیں قطعاً علم نہ تھا کہ وہ یہاں برسرپیکار ہے اور پراٹھے بنارہی ہے۔
’’یہ خیر سے پندرہ بیس پراٹھے بناچکی ہے‘ آٹا گوندھ چکی ہے اور ظاہر ہے جب میں یہاں سے گیا تھا تو یہاں برتنوں کا انبار بھی تھا جو بہو نے ہی دھویا ہے‘ کیا سوچتی ہوگی کہ آتے ساتھ ہی… تم کہاں تھیں اور اسے کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو۔‘‘ حامد صاحب سخت خفا ہو رہے تھے۔
اور وہ ان کی محبتوں کو دیکھ کر ہی شرمندہ ہورہی تھی۔
’’میں نے کہا تھا اباجی اور اس میں حرج ہی کیا ہے اب یہ کوئی غیر نہیں رہی‘ اس گھر کا حصہ ہے… اگر دو چار کام کر بھی لیے تو ایسی کون سی قیامت آگئی‘ ابھی سے اسے سر چڑھائیں گے تو کل کلاں کو آپ کے لیے ہی مصیبت بن جائے گی‘ میں کہے دیتی ہوں کہ پہلے دن سے ہی اسے کاموں کی عادت ڈالیں۔‘‘ وہ منہ بگاڑ کر بول رہی تھی‘ اب جاکر یہ عقدہ کھلا کہ اس کے پیچھے روح رواں کوئی اور نہیں وہ خود تھی‘ تب سب نے شرمندگی سے سر جھکا دیے تھے‘ وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی کیونکہ اب سب بضد تھے کہ وہ آرام کرے اور کاموں میں حصہ نہ لے۔
وہ کمرے میں آئی تو وہ دشمن جاں سامنے ہی بیٹھا تھا۔ نگاہوں کا تصادم ہوا اور ریحان ندامت سے نگاہ چرا گیا تھا۔ شاید اب اسے بھی اپنے ناروا سلوک کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا اور اس کا ثبوت اس کی نگاہوں میں اجاگر ہوتی ندامت تھی۔ پھر سب نے مل کر پُراہتمام ناشتے سے ہاتھ صاف کیے تھے‘ وہ بالکل چپ چاپ سی تھی اور بامشکل ہی اس نے دو چار لقمے زہر مار کیے تھے۔ اس نے تو کل رات بھی کھانا نہ کھایا تھا مگر پھر بھی بھوک اس سے روٹھ چکی تھی۔
’’کیا بات ہے بہو تم نے بہت کم ناشتہ کیا‘ بیٹا سیر ہو کر کھائو۔ کسی قسم کا تکلف نہ کرو۔‘‘ فائزہ بیگم نے محبت پاش لہجے میں کہا تو ریحان نے چونک کر زیبا کو دیکھا۔ تھکا مضمحل وجود اس کے سوگوار حسن میں اضافہ کررہا تھا۔ اسے اپنا آپ مجرم لگنے لگا تھا اس کا قصور وار تو وہی تھا۔
’’جی میںکھا رہی ہوں۔‘‘ وہ شائستگی سے دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’تم نے زیور بھی کوئی نہیں پہنا… اور نہ ہی تیار ہوئی ہو۔ بیٹا تم ابھی نئی نویلی دلہن ہو‘ سج سنور کر رہو‘ ابھی دوپہر تک تمہارے گھر والے بھی ملنے آئیں گے‘ پھر میں ان کے سامنے یوں تمہیں سادہ سے حلیے میں نہ دیکھوں۔‘‘
’’جی میں ابھی تیار ہوجاتی ہوں۔‘‘ وہ سادگی سے بولی۔
مگر ذکیہ کھانے کے اس دستر خوان پر بیٹھی‘ گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ گھاگ تھی‘ اسے نجانے کیوں وہ خوش نہیں لگ رہی تھی اور وہ اس کے اس سادہ حلیے کو بھی اس کی ناخوشی پر محمول کرکے خوشی محسوس کررہی تھی۔
شام سے قبل ہی زویا اور ساتھ میں سب اہل خانہ آگئے تھے۔ ان کو ادھر ہی رہنا تھا کیونکہ اگلے دن ولیمہ کی تقریب تھی اور وہ سب اس کے بعد ہی گھر جانے والے تھے۔ زویا کرن سب تھے‘ شہیر اور ظفری بھی آئے تھے۔ شہیر کو دیکھ کر نجانے کیوں ریحان کی رگیں تن سی گئی تھیں۔ وہ اس شخص کو بالکل بھی دیکھنے کا روادار نہ تھا‘ واقعی اب اس نے متلاشی نگاہوں سے دیکھا‘ اسے معلوم ہورہا تھا کہ شہیر کس قدر کمزور اور اداس سا لگ رہا تھا۔
اس نے تو اس نہج پر پہلے سوچانہ تھا اور شہیر بالکل چپ چاپ تھا۔ ظفری کی طرح ہنس بول بھی نہیں رہا تھا‘ یقینا موصوف کو گہرا صدمہ ملا تھا‘ تبھی تو وہ اس قدر آزردگی لیے بیٹھا تھا۔ وہ جو زیبا کے پُرملال چہرے کو دیکھ کر اس میں وقتی طور پر سہی احساس ندامت جاگ گیا تھا وہ دوبارہ سے ختم ہوگیا تھا۔ اس کا دوبارہ سے غصے میں براحال تھا‘ دھوکہ ملا تھا اسے۔ پھر نجانے اس کی عادت تھی کہ وہ دل کی بات دل میں نہیں رکھتا تھا زویا کسی بات پر اس سے مذاق کررہی تھی۔
’’دولہا بھائی اس قدر چپ کیوں بیٹھے ہیں۔‘‘ اس وقت کمرے میں صرف زیبا اور وہ ہی تھے۔
کرن اور سب باہر لائونج میں بیٹھے تھے۔ وہ کسی کام سے کمرے میں آیا تھا‘ جب وہ دونوں بہنیں سر جوڑے نجانے کیا باتیں کررہی تھیں‘ اسے دیکھ کر فوراً سیدھی ہوگئی تھیں۔ نجانے کون سے رازونیاز میں مصروف تھیں۔ اور جب وہ اپنے کپڑے لے کر باہر نکل رہا تھاجب زویا نے اسے روک کر کہا۔
’’یہ آپ اپنی بہن سے پوچھیں‘ جو زبردستی اس رشتہ میں منسلک ہوگئی ہے۔ جسے میرا ساتھ قبول نہ تھا… اگر انہیں شہیر ہی پسند تھا تو پھر اس سے شادی کیوں نہ کرلی۔ وہ تو یوں بھی ہر لحاظ سے مجھ سے بہتر تھا۔ مال و دولت میں بھی‘ شکل وصورت میں بھی اور سب سے بڑھ کر اپنا تھا۔‘‘ نجانے کیوں اس کے منہ سے سارا سچ نکل گیا اور وہ دونوں ہونق بنیں بیٹھی اس کا منہ تک رہی تھیں۔
’’یہ خرافات کس نے کہی ہیں آپ سے؟‘‘ اب کے زویا سیدھی ہو بیٹھی تھی۔
’’کس نے کہنی ہے‘ میں بھی آنکھیں رکھتا ہوں‘ سب دیکھ سکتا ہوں‘ سنا ہے موصوف کو اتنا صدمہ ملا کہ ایکسیڈنٹ بھی ہوا تھا زیبا صاحبہ کی محبت میں۔‘‘ وہ کڑوے کسیلے لہجے میں بول رہا تھا‘ زیبا کا تو تحیر سے اور دکھ سے براحال تھا تو یہ وجہ تھی اس کے اس انداز بے رخی کی۔ مگر یہ زہر اس کے دل میں کس نے بویا تھا یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آرہی تھی۔
مگر جب زویا نے حد سے زیادہ ریحان کے الزامات سنے تو صبر ختم ہوگیا اور اٹھ کھڑی ہوئی اس نے لپک کر دروازہ اندر سے بند کیا اور عین دروازے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
’’ریحان بھائی یہ کوئی فلم نہیں ہے‘ جس میں غلط فہمیاں جنم لیں اور ختم ہونے کا نام ہی نہ لیں۔ میں نے سب سنا اور سب سن کر اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ سب کسی کی کارستانی ہوسکتی ہے۔ رہی بات شہیر کی تو وہ واقعی کسی کی محبت میں گرفتار ہے اور صدمے سے ہی اس کا ایکسڈنٹ بھی ہوا تھا۔‘‘ زویا کی بات پر استہزائیہ مسکراہٹ نے ریحان کے لبوں کو چھوا۔
’’مگر جانتے ہیں کہ وہ زیبا نہیں جس کی محبت میں اس نے یہ قدم اٹھایا‘ وہ کم بخت سیاہ بخت میں ہوں‘ مجھ سے محبت کا دعویدار ہے وہ اور میں چاہ کر بھی اس کی محبت کو قبول نہیں کرسکتی… آپ تو بہت محبت کی دعویدار تھے کہاں گئی آپ کی محبت زیبا سے‘ بہت غرور تھا کہ زیبا کہتی کہ ریحان مجھے بہت آسودہ رکھیں گے‘ کیا یہی وہ خواب کی تعبیر ہے‘ کیا یہی وہ محبت ہے جس کے خواب آپ نے زیبا کی آنکھوں میں بھردیے تھے اور اب زیبا کو رلا رہے ہیں۔ جانتے ہیں زیبا بہت باظرف ہے‘ میں تب سے اس کے اداس وملول چہرے کو دیکھ کر پوچھ پوچھ کر ہلکان ہوگئی کہ بتادو زیبا کیا بات ہے مگر مجال ہے کہ یہ لڑکی پھوٹ ڈالے منہ سے۔‘‘ وہ بولی۔ اس کے اس انکشاف پر ریحان کے دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔
’’مگر کرن نے تو مجھ سے کہا تھا کہ…‘‘ اس کی بات درمیان میں ہی ادھوری رہ گئی۔
’’اوہ تو یہ کارستانی کرن کی ہے‘ مجھے پہلے ہی اس کا اندازہ ہوگیا تھا کہ کرن ایک حاسد‘ متعصب لڑکی ہے‘ اسے غصہ تو مجھ پر تھا اور اس کا سارا ملبہ میری ہی بہن پر ڈال دیا‘ مجھے کہتی مجھے الزام دیتی مگر میری بہن بے قصور ہے۔ اسے مورد الزام ٹھہرا دیا یہ اس کا نفسیاتی مسئلہ ہے‘ جس سے وہ دو چار ہے‘ اسے مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کس کو کیا کہہ کر فساد پھیلا رہی ہے‘ اس کا مسئلہ فقط اتنا سا ہے کہ وہ ایک ناسمجھ لڑکی ہے وہ نہیں جانتی کہ اس کا ایک اٹھایا غلط قدم کتنی زندگیوں کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘ وہ افسردگی سے بولی اور وہ حیران پریشان کھڑا لب بستہ تھا۔
’’وہ بہت چھوٹی سی تھی تب سے اس نے دھتکار سہی ہے‘ دکھ جھیلے ہیں‘ اب جاکر اس کا رشتہ طے ہوا ہے‘ میری دعا ہے کہ وہ خوش رہے آباد رہے‘ رہی بات کہ اس نے ایسا کیوں کیا‘ وہ اس کا ایک ذہنی مسئلہ ہے‘ وہ یوں ہی کرتی آئی ہے ہم سب جانتے ہیں کبھی کسی کا من پسند کھلونا لے لیا‘ کسی کا خوب صورت لباس لے لیا‘ کبھی کسی کے ہاتھ کے کنگن اتروا لیے‘ کسی کی خوب صورت دیدہ زیب جوتی لے لی اور کبھی کسی کے بنا پوچھے اس کی کوئی بھی چیز جو دل کو بھاگئی اٹھالی۔ مسئلہ یہ ہے کہ کرن کسی کا نصیب نہیں چرا سکتی‘ اس معاملے میں وہ قطعی بے بس ہے۔ اس نے یہ آگ لگائی تاکہ زیبا ناآسودہ رہے مگر زیبا نے ہر کسی سے نیکی کی ہے‘ ہمیشہ سب سے محبت کی ہے‘ اس لیے اسے رب نے بھی آسودہ ہی رکھنا ہے‘ ریحان بھائی میں سچ کہہ رہی ہوں‘ زریاب سے محبت کرنے کی سزا ملی ہے مجھے‘ میں نے انکار کردیا تھا اس دن آنسہ پھوپو سخت خفا ہوئی تھیں اور شہیر بھی غصے میں گاڑی نکال کر بھگا لے گیا تھا۔ اس کا بری طرح سے ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور زخمی حالت میں کئی دن تک ہاسپٹل میں رہا‘ اس کے بعد سب نے ہی خاموشی اختیار کرلی تھی۔ میں نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا‘ میں چاہتی تو چپ چاپ شہیر کا ساتھ قبول کرلیتی‘ مگر اس کے بعد کیا ہوتا‘ اس کے بعد نہ میں خوش رہتی اور نہ ہی شہیر خوش رہتا۔ کل کلاں اسے میری اور زریاب کی محبت کا ادراک ہوتا تو وہ گہرے ملال میں گھر جاتا‘ اس لیے بہتر یہ تھا کہ میں صاف انکار کردوں اور میں نے ایسا ہی کیا تھا۔ اب آپ بتائیں اس سب میں زیبا کا کیا قصور‘ یہ بے چاری تو بے قصور ہے‘ نہ اسے میں نے اپنی داستان میں کبھی ملوث کیا‘ میں نے محبت کی مگر اسے کبھی زبان زدعام نہیں کیا۔ اس محبت کو سینت سینت کر اپنے جی میں دبالیا‘ کبھی کوئی حد عبور نہیں کی‘ یہ ایک احساس ہے جس میں گھر کر میں نے دکھوں کو سہا ہے مگر میں اب آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں اسے معاف کردیں‘ اس کا قطعی کوئی قصور نہیں۔‘‘ وہ واقعی رو رہی تھی۔ آنسوئوں سے لبالب بھری اس کی آنکھیں تھیں اور خود ریحان شرمندگی میں ڈوب گیا تھا۔
’’میں بہت شرمندگی محسوس کررہا ہوں‘ میں کس طرح زیبا کے بارے میں اس قدر غلط فہمی کا شکار ہوگیا۔‘‘ ریحان نے دکھ سے کہا۔ اس وقت واقعی وہ گہری ندامت سے دوچار تھا۔ زیبا بھی رو رہی تھی اور خود زویا بھی رو رہی تھی۔
’’ایسا کرو اب تم لوگ ایک دوسرے سے کھل کر بات کرو‘ میں ابھی جاتی ہوں۔‘‘ زویا شرارت سے بولی اور آنسو صاف کرتی کمرے سے نکل گئی۔
کمرے میں گہری خاموشی تھی اور زیبا سر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر بے ساختہ ہی مسکرایا اور اس کے عین مقابل آکر بیٹھ گیا اور اس کا چہرہ اونچا کیا۔
’’کیا بہت زیادہ خفا ہو‘ معافی کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے اب؟‘‘ وہ شوخ انداز میں بولا۔
’’بہت برے ہیں آپ۔‘‘ بے ساختہ زیبا کے لبوں سے پھسلا۔
’’ہاں یہ تو سچ ہے جانم‘ مگر میں برا ہوں یا بھلا‘ ہوں تو تمہارا ہی۔‘‘ وہ اس سے شوخ انداز میں بولا اور اس نے شرم سے دہری ہوکر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔
’’ہائے اللہ کس قدر حسین لگ رہی ہو بخدا دل میں اتر گیا تمہارا یہ حسین نقش۔‘‘ وہ محبت پاش لہجے میں بولا۔ اس کی نگاہوں میں محبت ہلکورے لے رہی تھی‘ زیبا اور وہ اب مطمئن سے ہوگئے تھے۔
’’آپ نے بہت برا سلوک کیا مجھ سے کوئی دشمن سے بھی ایسا نہیں کرتا۔‘‘ وہ خفگی سے بولی اور وہ واقعی شرمندہ ہوگیا‘ اس کا ذمہ دار تو وہی تھا اور اس وقت وہ عجیب سا محسوس کررہا تھا۔
’’سچ کہا جو دکھ میں نے دیا ہے اس کا ازالہ بھی میں ہی کروں گا‘ تم پریشان نہ ہو‘ میں اب ان جھیل جیسی آنکھوں میں کبھی پانیوں کو آنے نہیں دوں گا‘ ہاں کبھی رونا بھی ہو تو اس پھول جیسے چہرے پر خوشی کے آنسو ہی ہوں گے۔‘‘ وہ وعدے کررہا تھا اور وہ ان وعدوں میں جی رہی تھی۔
محبت کا ایک جہان دونوں کی نگاہوں میں آباد تھا۔ عشق کی امبربیل نے دل کے نہاں خانوں میں محبت کی صورت میں بسیرا کرلیا تھا۔ وہ اس کے دل کی دھڑکن میں سماگئی تھی۔ محبت کی چڑیا نے اپنے پنکھ پھیلا لیے تھے اور اس محبت کا ٹھکانہ‘ محبت کی زمین سے لبریز دل تھے۔
اظہار محبت کی مہر ثبت ہوچکی تھی اور یہ وعدے وفا کرنے کا عہد کرکے وہ ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے۔
٭…٭٭…٭
اس کا درشت متکبرانہ انداز تھا اور کمرے میں خون آشام خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ طبقاتی دیواروں کا ہی رخنہ تھا کہ وہ اب ایک بیوی کم اور زر خرید ملازمہ زیادہ لگ رہی تھی۔ اگر بیوی ہوتی تو عزت سے بیاہی جاتی یوں بنا اجازت کے نہ لے جائی جاتی۔ اس کی نگاہوں میں نفرت کی چنگاریاں تھیں اور اس کے ساتھ کیسا کھیل کھیلا گیا تھا‘ وہ اپنے دکھوں میں چور تھی۔
اس وقت نجانے کتنے نوحے اس کے اندر گونج رہے تھے ابھی تک تو اس کا دل زاہد کے جانے سے مر جھایا ہوا تھا‘ اس کا تلخ وترش انداز بھی اس خبیث انسان پر اثر انداز نہ ہوسکا تھا‘ اس نے اپنے وڈیرے ہونے کی رعونیت میں اس کی ایک نہ سنی تھی۔ اس کے احساسات کی اس کے نزدیک قطعی کوئی بھی وقعت نہ تھی۔ یہاں حکم مرد ذات کا چلتا تھا اور وہ تو حاکم تھا اور وہ محکوم اور حاکم اور محکوم کا رشتہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
’’ہاں اب تو ساری اکڑفوں نکل گئی ہوگی تیری۔ اب میری بات یاد رکھ‘ آج کے بعد تو گھر کا رستہ بھول جا‘ تو اب اس طرف کارخ نہیں کرے گی۔ اگر میں نے سنا کہ تو نے غلطی سے بھی ادھر کا رخ کیا ہے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا‘ اس کا خمیازہ تجھے اب اپنے بھائی کی جان سے دینا ہوگا۔‘‘ وہ اس وقت ظالم جابر حکمران لگ رہا تھا‘ کسی طرح بھی اس کا دکھ سکھ کا ساتھی‘ اس کا شوہر نہیں لگ رہا تھا۔
وہ بھی نباہ کرنے میں جت گئی تھی۔ نجانے اسے نباہ کرنے کا یہ ہنر کہاں سے آیا تھا کہ اس کے ہر ہر ظلم کے سامنے سر جھکا گئی تھی۔ کمال ضبط سے کھڑی اس کا حکم نامہ سن رہی تھی۔
یہ وسیع وعریض کوٹھی تھی اس میں اس کی دو سوتیلی مائیں تھیں۔ یعنی طارق کے توسط سے… ایک طارق کی حقیقی والدہ تھیں‘ یہ دولت وامارت اب اس کا بھی حق قرار دی گئی تھی‘ طارق سے نکاح کے بعد اس کی حیثیت میں بھی واضح طور پر فرق آیا تھا۔ اب اسے کسی بھی کام کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی‘ رات سے قبل سج سنور کر طارق کے سامنے اس کی زینت بن جانا ہی اس کا واحد کام رہ گیا تھا۔ اب اس کی اپنی خادمائیں تھیں جو ہاتھ جوڑے اس کے حکم کے لیے کھڑی رہا کرتی تھیں۔ کوئی اس کے لیے لباس لے آتی‘ کوئی اس کے لیے ناشتہ لاتی‘ پھر ایک ملازمہ اس کا کمرہ سنوارتی اور وہ بالکل چپ چاپ سب کو دیکھتی رہتی‘ وہ یہاں کے حالات دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
یہ امارت یہ شان وشوکت اس کے کسی کام کی نہ تھی۔ اس امارت نے اس دل میں ذرا برابر بھی احساس برتری پیدا نہ کی تھی۔ وہ اس وسیع وعریض کوٹھی کے زنان خانے میں بولائی بولائی پھرتی تھی۔ اس کے آنسو اس کے اندر ہی جیسے منجمد ہوگئے تھے۔ اپنے ساتھ اس بربریت پر وہ ایک بار بھی نہ روئی تھی سارے آنسو اس کے اندر ہی اندر جامد ہوگئے تھے۔ راتوں کو طارق اس پر حق جتاتا اور وہ خاموش رہتی تھی۔ اس رشتے کی اس کے نزدیک کوئی بھی حقیقت نہ تھی‘ یہ ایک ظالم اور مظلوم کا رشتہ تھا‘ زور زبردستی کا۔
زہرہ بیگم تخت پوش پر دراز تھیں ملازمہ نے اسے پیغام دیا کہ چودھرائن نے اسے یاد کیا ہے۔ وہ سر پر اچھی طرح دوپٹہ لپیٹ کر ان کے سامنے پیش ہوئی تھی۔
انہوں نے اسے بغور دیکھا۔ تیکھے نین نقش اجلی رنگت اور اٹھتی ہوئی خوبصورتی جو دل کو کھینچ رہی تھی۔ تو یہ تھی وہ لڑکی جو اس کے طارق کو دیوانہ کر گئی تھی۔ اس کے حواسوں پر چھا گئی تھی اور سب سے زیادہ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ ابھی تک اتنے دنوں کے بعد بھی طارق اس کے لیے بائولا ہوا پھر رہا تھا۔ آتے ہی اس کی خیریت دریافت کرتا‘ اس نے کیا کھایا‘ اس نے دن کیسے گزارا؟ اور اس کی ایک ایک ضرورت کا خاص خیال رکھتا‘ نامعلوم یہ اس کا کون سا انداز تھا کیونکہ اگر وہ اس کا من پسند کھلونا بھی تھی تو اب تک شاید اس کا دل نہ بھرا تھا اور شاید جب اس کا دل اس کھلونے سے بھر جاتا تو وہ اسے طاق پر رکھ دیتا۔ ساس سے اس کی یہ باضابطہ طور پر پہلی ملاقات تھی۔
’’ادھر آ میرے پاس بیٹھ۔‘‘ وہ جو نظر جھکائے مودب سی کھڑی تھی۔ اس آواز میں چھپی حلاوت پر بری طرح چونک گئی۔ اتنے دنوں سے یہ وہ پہلی آواز‘ لہجہ‘ جملہ تھا جس میں اس نے محبت کی گرمائی اور احساس کی آنچ محسوس کی تھی۔ وہ جیسے ٹرانس میں چلی گئی تھی‘ سیدھی جاکر وہ ان کے پاس موڑھے پر بیٹھ گئی۔ جو پاس ہی پڑا تھا۔
’’دیکھ دھی رانی‘ تو اب اس گھر کا حصہ ہے‘ سارا دن کمرے میں گھسی کیا کرتی رہتی ہے‘ یہاں رہنا اب تیرا مقدر ہے تو یہاں دل لگا‘ سب سے بول چال‘ یہاں سے باہر جانے کے اب تمام راستے تیرے لیے مسدود ہوچکے ہیں۔ تو اب میرے طارق کی امانت ہے اور تو چودھریوں کی اکڑ کو بخوبی جانتی ہے‘ کوئی میلی نگاہ تجھ پر پڑے یہ وہ اب گوارا نہیں کرے گا‘ اب تجھے یہاں ہی رہنا ہوگا‘ اب یہ تجھ پر منحصر ہے کہ تو یہ سب خوشی خوشی سہتی ہے یا پھر رو دھو کر‘ دیکھ میرا ماننا ہے کہ تقدیر میں جو رقم ہے وہ بدلا نہیں جاسکتا‘ جو ملا‘ جتنا ملا اس میں راضی رہے گی تو سوہنا رب تجھے وہ بھی عطا کرے گا جو اس نے تجھ سے لے لیا ہے۔ میں نے پہلی مرتبہ اپنے طارق کی آنکھوں میں محبت کی آنچ دیکھی ہے‘ تو اسے فی الحال محض زبردستی کا قصہ سمجھ رہی ہے مگر میرا خیال ہے وہ تجھ سے دل لگا بیٹھا ہے۔‘‘ بڑی بی نجانے کیوں یہ سب اسے بتا اور سمجھا رہی تھیں۔
وہ تو یوں بھی اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ چکی تھی اور اس نے طے کرلیا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں وہ صبر شکر سے اس پر قناعت کرے گی۔
’’تو بھی سوچ رہی ہوگی کہ میں یہ سب تجھے کیوں بتارہی ہوں۔‘‘ پہلی مرتبہ اسے اس خاتون سے خوف سا محسوس ہوا کیونکہ اس مرتبہ اس نے اس کے دل کی بات جان لی تھی۔
’’جانتی ہو محبت ایسی ہی ہوتی ہے بنا کسی جواز کے‘ کسی دلیل کے‘ کسی وجہ کے‘ جب جس سے جس مقام پر ہونی ہو‘ ہوجاتی ہے‘ محبت کے بعد انسان کو کبھی کبھار تو پہلی مرتبہ میں پہلے لمحے میں اس محبت کی گہرائی کا ادراک ہوجاتا ہے اور بعض اوقات ایک عمر گزر جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جس سراب کے پیچھے ہم بھاگ رہے تھے وہی محبت ہے اور یہی میرے طارق کے ساتھ ہورہا ہے‘ اب مجھے تو بہت عزیز ہوگئی ہے‘ تو جانتی ہے آج تک میں نے طارق کے سارے کھلونے سارے شوق سنبھال کر رکھے ہیں نجانے کون سے لمحے میں اسے وہ یاد آجائے‘ مگر تم تو ایک جیتی جاگتی گڑیا ہو‘ جو اس کے دل کو بھاگئی ہے۔ میں کھلے دل سے تمہیں تسلیم کرتی ہوں اور اب تم اس گھر کا مان و عزت ہو۔‘‘ وہ قطعیت سے بولیں۔
’’کس عزت کی بات کررہی ہیں آپ… اور محبت کا معنی بھی معلوم ہے آپ کے بیٹے کو؟ وہ ایک مغرور گھمنڈی اور بے ضمیر انسان ہے۔‘‘ وہ نجانے کیسے پہلی مرتبہ تلخ وترش لہجے میں بولی۔ اس کی بات پر لمحہ بھر کے لیے چودھرائن کے چہرے پر غصہ نمودار ہوا تھا۔
’’میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا اب تم جاسکتی ہو۔‘‘ وہ بھی اس انداز کو بخوبی جانتی تھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ جب وہ باہر نکلی تو اس کا سامنا بتول سے ہوا‘ بتول طارق کی اکلوتی بہن تھی۔
’’آپ میری بھاوج ہو ناں۔‘‘ وہ بڑی چاہت سے پوچھ رہی تھی۔ اپنی ہی عمر کی لڑکی کو دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئی۔
’’میں طارق بھائی کی بہن ہوں‘ ان کی اکلوتی چھوٹی لاڈلی بہن۔‘‘ وہ اپنا تعارف کروا رہی تھی اور وہ سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے بارے میں کیا کہے‘ اس کی تو اب کوئی شناخت ہی نہ رہی تھی۔
’’آئیں ناں میرے ساتھ۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گئی‘ کشادہ سا کمرہ جو گھر سے قدرے مختلف تھا پُرتعیش‘ پُرآسائش ہر طرح کی سہولت سے آراستہ۔
’’میں یہاں کی شہزادی ہوں اور یہ میرا محل ہے‘ میرا کشادہ پُرآسائش کمرہ‘ میرا بھائی مجھ پر جان چھڑکتا ہے اور اس نے آپ کا ذکر کیا تھا مجھ سے۔ میں پہلے جھجکتی رہی تھی‘ پھر سوچا کہ دیکھوں تو سہی ایسی کون ہے جس نے میرے بھیا کا دل موہ لیا ہے اور واقعی میں تو آپ کے حسن میں کھو سی گئی ہوں۔ آپ کتنی چھوئی موئی سی لگتی ہیں‘ شہابی رنگت‘ دلکش سراپا اور اس قدر خوب صورت نقوش سیدھا دل کے آر پار ہوتے ہیں۔‘‘ وہ کھل کر اس کی تعریف میں رطب اللسان تھی اور کھلکھلا کر ہنس بول رہی تھی۔ جبکہ وہ بالکل خاموشی سے اس کی بات سنتی کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ خود اس کے بات کرنے کے انداز کو ملاحظہ کررہی تھی۔ اس کا انداز گفتگو بہت مہذب تھا۔
’’جانتی ہیں میرے بھیا کسی عام شے کو دیکھ کر پسند کرتے ہی نہیں۔‘‘ یہ خالصتاً ایک بہن کی اپنے بھائی کے لیے محبت تھی۔
٭…٭٭…٭
بے حسی شرط ہے جینے کے لیے
اور ہم کو احساس کی بیماری ہے
وہ اسی کرب سے دو چار واپس لوٹ آیا تھا اور اسے امید تھی کہ اسے زویا دکھائی دے گی‘ وہ ٹوٹ سا گیا تھا‘ اس سے اپنے اندر کے دکھ کہہ دینا چاہتا تھا۔ وہ نوحے جو رات کے پچھلے پہر اس کے اندر گونجتے تھے اپنے حالات وہ اس سے سب کہہ دینا چاہتا تھا‘ مگر وہ یونیورسٹی نہیں آرہی تھی۔ کوئی ایسا تھا بھی نہیں کہ جس سے وہ معلوم کرتا کہ وہ کیوں نہیں آرہی‘ پھر بہت مشکل سے اسے اس کی دوست دکھائی دی۔
’’ایکسکیوز می بات سنیں۔‘‘ اس نے اسے مخاطب کیا۔
’’جی کیسے ہیں آپ زریاب۔‘‘ وہ اسے دیکھ کر کھل کر مسکرائی۔ شاید وہ اتنا ہی سب کے نزدیک مشہور ومعروف تھا۔
’’زویا دکھائی نہیں دے رہی… اصل میں‘ میں کچھ دنوں کے لیے گوٹھ گیا ہوا تھا اس لیے مجھے اس کی بابت معلوم نہیں میں نے سوچا آپ اس کی دیرینہ دوست ہیں آپ کو تو ضرور معلوم ہوگا۔‘‘ وہ طریقے سے پوچھ رہا تھا‘ پہلی مرتبہ وہ اس کی بات پر ہنسی۔
’’صاف صاف کہیے کہ اس کی یاد ستا رہی ہے۔‘‘
’’جی…!‘‘ وہ متعجب ہوا۔
’’میں صرف ان کی خیریت…‘‘ اس کی بات اس لڑکی نے جھٹ سے کاٹ دی۔
’’مجھے زویا نے سب بتایا ہوا ہے‘ آپ ان فارمیلیٹز کو جانے دیں‘ اس کی کزن کی شادی ہے ناں‘ تو اس لیے وہ آنہیں رہی‘ دو تین دن میں آجائے گی اور پھر آپ کو معلوم ہے کہ ایگزام کے لیے تو ہر صورت حاضر ہونا ہی ہوگا اس لیے خاطر جمع رکھیں۔‘‘ وہ بولی تو اس نے تقویت محسوس کی۔ وہ اس کے لیے واقعی بے حد متفکر تھا۔ اس کی غیر حاضری کا اصل سبب جاننے سے قاصر تھا‘ اب اسے معلوم ہوا تو دل مطمئن سا ہوگیا۔
بچھڑتے وقت جو تم سونپ کر گئے تھے مجھے
وہ انتظار میرے چار سو ابھی تک ہے…
واقعی وہ اس کے لیے شعوری ولاشعوری طور پر منتظر تھا۔ ہر لمحہ اس کی سوچ اس کے قلب وجاں میں دستک دیتی تھی۔ اسے اس سے محبت تھی اور محبت انسان کو دوسرے نفس سے اس قدر قریب کردیتی ہے اس کے غم اس کی خوشیاں اس کی پریشانیاں سب ہماری ہوجاتی ہیں۔
پھر وہ ہاسٹل آگیا‘ تمام کلاسز لے کر وہ اب فارغ تھا تو سیدھا ہاسٹل کا رخ کیا تھا۔ کسی نے اسے پکارا‘ جب وہ اتنے دنوں کا اکٹھا ہوا کام نوٹ کررہا تھا‘ یہ نوٹس اس نے اپنے ایک دوست سے لیے تھے‘ اس نے سوچا تھا آج یہ سارا کام مکمل کرلے گا‘ کیونکہ اتنے دنوں کی غیر حاضری سے اس کا سارا کام التواع کا شکار تھا۔ اس کا چلتا قلم تھم گیا اس نے مڑ کر دیکھا وہ اس کا روم میٹ تھا۔
’’یار یہ خط آیا ہے تمہارے نام۔‘‘ وہ اسے ایک خط تھما کر آگے بڑھ گیا اور وہ اس خط کو دیکھ کر تحیر سے سب بھول بھال گیا۔
اس نے جلدی سے خط چاک کیا‘ سامنے کی تحریر وہ دیکھ کر اسے ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔ یہ اس کی رانو کی تحریر تھی۔
’’بھیا جی…!
سلام عرض ہے… میں جانتی ہوں کہ بظاہر میں آپ کی مجرم ہوں‘ آپ کی ہی نہیں میں تو سب کی مجرم ہوں‘ اماں کی بابا کی اور سب سے بڑھ کر خالہ کی… جن کے لخت جگر نے مجھ سے محبت کی تھی‘ ایک گناہ کیا تھا اور محبت ہم جیسے غریبوں کی لغت میں جرم ہی کہلاتی ہے۔ یہ امیروں کے چونچلے ہوتے ہیں محبت کرنا‘ محبت کے تاج محل میں رنگ بھرنا‘ ہم جیسے تو محبت کرلیں تو ان کو اس کی سزا بھی ضرور دی جاتی ہے‘ اب زاہد تو منوں مٹی تلے جا سویا ہے‘ مگر میں اب جیتے جی بھی پل پل مر رہی ہوں۔ بھیا میں نے یہ شادی یہ نکاح‘ یہ رسم نبھائی ہے محض آپ کی خاطر‘ میں جانتی تھی کہ نفرت وانتقام کا یہ کھیل تب تک جاری رہے گا جب تک میں کسی ٹھکانے نہیں لگ جاتی۔ میں نے یہ شادی اس وقت فوراً ہی کرلی تھی‘ جب طارق نے مجھے کہا تھا کہ اب کی بار ان کا نشانہ آپ ہوں گے‘ بھیا مجھ میں مزید حوصلہ نہیں ہے کہ اپنوں کو کھودوں‘ ہمیشہ کے لیے کھونے سے بہتر تھا کہ میں ایک مرتبہ خود ہی سب سے دور ہوجائوں۔ میں بیاہ کر آگئی ہوں‘ یہاں بہت آسائش ہے‘ مراعات ہیں‘ جانتے ہیں ملازمائیں آگے پیچھے پھرتی ہیں۔ طارق سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھتے ہیں اور میری فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ مجھے کوئی غم نہیں ہے میں نے ایک فیصلہ جبراً اور مصلحتاً کیا تھا… اب اس فیصلے کو نبھا رہی ہوں۔ میں اب پلٹ کر آنہیں سکتی… مگر مجھے بابا کی تنہائی کا بہت احساس ہے‘ بھیا ہوسکے تو بھابی لے آؤ‘ اب بابا تنہا رہتے ہیں تو مجھے ان کی تنہائی کے آسیب ڈستے ہیں۔ میرے بابا اور ماں کے لیے بھابی لے آؤ۔ میں جانتی ہوں جب دن بھر اماں خالہ کے پاس رہتی ہے‘ خالہ کے بال سنوارتی‘ خالہ کو کپڑے بدلواتی‘ اسے کھلاتی ہے تو پیچھے ابا نظر انداز ہوتا ہے۔ خالہ نے بھی ضد پکڑلی ہے کہ وہ زاہد کو چھوڑ کر گھر سے قدم باہر نہیں نکالے گی‘ مگر اب اس کی سزا ابا کو مل رہی ہے‘ اماں وہاں ابا یہاں… سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے پل پل کی خبر کیسے ہے۔ میں اب مالکن بن گئی ہوں ناں‘ تو سب ملازمائیں میری خوشنودی کے لیے مجھے وہاں کے سارے حالات بتا کر انعام وصولتے ہیں‘ یہ خط بھی میں خفیہ طور پر لکھ کر آپ تک پہنچادوں گی‘ بھیا میرا مان رکھنا اور اب شادی کرلو۔
تمہاری مجرم
رانو!
وہ جانتا تھا کہ رانو نے خط میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں لکھا ہے جس سے اس کے دل کی حالت بیان ہو‘ مگر وہ اس کی سطر سطر پڑھ کر اس کی دلی کیفیت کو سمجھ گیا تھا۔ نجانے کیوں وہ خط پڑھ کر دل پر بوجھ محسوس کررہا تھا۔ کہیں نہ کہیں یہ سماج اس کا قصور وار تھا‘ جہاں ظالم کو ظلم کرنے کی چھوٹ دے دی جاتی ہے اور مظلوم صرف ظلم سہتا رہتا ہے۔
خدا کرے کوئی شکن نہ آئے تیرے ماتھے پر
میری آنکھیں ہر روز تجھے ہنستا دیکھیں…!
دولت کے انبار نے اس کی ساری خوشیاں اس سے چھین لی تھیں‘ مگر ایک وعدہ اس نے اپنے آپ سے کرلیا تھا کہ وہ اپنی بہن کی اس خواہش کو ضرور پورا کرے گا اور اب اسے زویا کی آمد کا انتظار تھا‘ اس کے آتے ہی اس نے اس سے بہت سی باتیں کرنی تھیں‘ اس نے سارے تشنہ خواب اس سے ضرور بانٹنے تھے۔ جس کے لیے وہ اب اس کے ہر قدم‘ ہر آہٹ کو گن رہا تھا۔
٭…٭٭…٭
ولیمے کا شاندار فنکشن ختم ہوتے ہی سب واپسی کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔ سب خوش تھے کیونکہ زیبا اور ریحان بے پناہ خوش تھے۔ دعائوں کے حصار میں زیبا کو چھوڑ کر سلمیٰ بیگم گاڑی میں آن بیٹھی تھیں۔
’’اوہو بے دھیانی میں میں شہیر تمہارے پاس آبیٹھی ہوں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے متعجب ہوکر کہا۔
’’جی اس سے کیا فرق پڑتا ہے باقی لوگ دوسری کار میں بیٹھ جائیں گے۔‘‘ وہ بولا۔
’’مگر آتے وقت میں ظفری کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ناں۔‘‘ وہ ذرا کشمکش کا شکار نظر آرہی تھیں۔ شہیر نے دیکھا ظفری کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر طلال صاحب تھے‘ جبکہ عقبی سیٹوں پر سارہ آنٹی‘ عمیر اور کرن بیٹھے تھے‘ وہ گاڑی فل ہوچکی تھی۔
اب سب وہاں بیٹھ گئے تھے‘ اس لیے ادھر آنسہ پھوپو فرنٹ پر بیٹھی تھیں اور عقب میں آکر وہ دشمن جاں آن بیٹھی تھی جس کے بارے میں وہ ہر لحظہ سوچتا رہتا تھا۔ دادی جان بھی ہمراہ نہیں تھیں کیونکہ وہ گھر پر تھیں یوں یہ تمام کنبہ دونوں گاڑیوں میں روانہ ہوا تھا‘ بلال صاحب نے اشارہ کیا تو گاڑی روانہ ہوگئی تھی۔
شہیر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔ اس نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بیک ویو مرر سے دیکھا‘ وہ گہرے مہرون کلر میں اس قدر جاذب نظر دکھائی دے رہی تھی۔ ہلکا سا میک اپ اس کے حسن کو دو آتشہ کررہا تھا۔
یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں
یہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو
ساحل سے سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں
رکھا تھا آشیانہ دل میں چھپا کر تم کو
وہ گھر تم نے چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں
وہ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا… مگر بظاہر خود کو سنبھالے ہوئے تھا‘ جوڑے ہوئے تھا۔
اچانک بادل گرجنے لگے‘ موسم کے تیور خراب ہونے ہونے کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ ابھی تو سفر کا آغاز ہی ہوا تھا‘ ابھی تو خاصی دور جانا تھا۔ شہیر نے پریشانی سے اگلی گاڑی کو دیکھا جس میں سوار ظفری کار کی تیز رفتاری سے اسے لے جارہا تھا۔ اس نے دل میں سوچا کہ کسی طرح ظفری کو آگاہ کرے کہ اس قدر تیز ڈرائیونگ نہ کرے اور دونوں گاڑیوں کو فاصلے پر ایک دوسرے کے قریب ہی رکھے مگر اس وقت فون کرنا بھی مشکل مرحلہ تھا‘ اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر روک دی تھی۔
’’گاڑی کیوں روک دی بیٹا سب خیریت ہے؟‘‘ بلال صاحب نے تشویش سے پوچھا۔
’’جی میں نے سوچا ہے کہ ظفری کو کال کروں کار کی اسپیڈ کم کرے‘ ایک تو موسم کے تیور ٹھیک نہیں‘ اس پر اس کا اس طرح فل اسپیڈ پر کار دوڑانا خطرناک ہوسکتا ہے۔‘‘ اس نے فکرمندی سے کہا تو اس کی بات پر سب نے ہی غور کیا‘ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا اور ظفری سے بڑے ہونے کے ناطے اس کی فکر بھی بجا تھی۔ اس نے ڈیش بورڈ سے فون اٹھایا اور اس نے ظفری کا نمبر ڈائل کیا۔ مگر فون آف جارہا تھا۔
’’اس کا فون سوئچ آف ہے۔‘‘ اس نے مایوسی سے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے‘ اب کار چلائو زیادہ فاصلہ نہ ہوجائے… ایک تو وہ تیز کار ڈرائیو کررہا ہے دوسرا اگر فاصلہ زیادہ ہوگیا تو وہ ہم سے رابطے میں نہ رہے گا‘ دیکھو تو کار نظروں سے اوجھل ہوتی جارہی ہے۔‘‘ بلال صاحب نے پُرسوچ انداز میں کہا‘ تو وہ بھی ان کی بات پر دوبارہ کار اسٹارٹ کرچکا تھا۔ اس مرتبہ اس کا اور ظفری کی کار کے درمیان فاصلہ واقعی خاصا بڑھ گیا تھا۔ جب ہی اس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور زور دار دھماکے کی بازگشت دور تک سنائی دی تھی۔
’’ہائے میں مرگئی میری کرن۔‘‘ آنسہ پھوپو نے دل ہی تھام لیا تھا۔ جبکہ سب کے جگر کے ٹکڑے اگلی گاڑی میں تھے۔
اور خود سلمیٰ بیگم کا چہرہ فق تھا‘ ظفری ہی تو گاڑی چلا رہا تھا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close