Hijaab May-18

وہ جو تیری چاہت ہے

نفیسہ سعید

’’سجاول آیا ہے۔‘‘ وہ جو سونے کے ارادے سے ابھی لیٹی ہی تھی کہ بھابی کی آواز سے ایک دم اٹھ بیٹھی۔
’’کہاں ہے؟‘‘ بنا دوپٹہ کے پائوں میں چپل پھنسائے وہ نیچے جانے کو تیار کھڑی ہوئیں۔ رشنا نے ایک نظر درشہوار کے خوب صورت چہرے پر ڈالی جہاں پھیلی بے قراری محسوس کرتے ہی وہ دھیمے سے مسکرا دی۔
’’نیچے بابا جان کے پاس ہے۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ عالم مایوسی میں وہ دوبارہ بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی جہاں کچھ دیر قبل سونے کے لیے لیٹی تھی مگر اب سجاول کی آمد کی خبر نے جیسے اس کی ساری نیند ایک پل میں ہی چھین لی تھی‘ ویسے بھی آج وہ پورے دس دن بعد آیا تھا اور ان دس دنوں میں اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستی درشہوار سے اب ایک منٹ تو کیا ایک سیکنڈ بھی خود پر قابو پانا گویا مشکل ہورہا تھا۔
’’تم اسے میسج کرو باہر لان میں رک کر تمہارا انتظار کرلے کیونکہ ابھی عباس بھی گھر نہیں آئے اور نہ ہی حاشر گھر پر ہے وہ تو شاید بابا جان کے پاس اپنے کسی ذاتی کام سے آیا ہے۔‘‘ عباس اور حاشر دونوں اس کے بھائی تھے جبکہ رشنا بھابی اور درشہوار‘ رشنا کی اکلوتی نند جسے وہ اپنی بہن سے بڑھ کر محبت کرتی تھی یہی وجہ تھی کہ سجاول کے معاملے میں درشہوار اس پر مکمل بھروسہ کرتی تھی ایک لحاظ سے وہ اس کی راز دار بھی تھی۔
’’میں میسج نہیں کررہی‘ آج وہ اتنے دنوں بعد آیا ہے اسے چاہیے خود مجھ سے رابطہ کرے‘ ورنہ ایسا لگے گا جیسے میں ہی اس کی محبت میں اتائولی ہوئے جارہی ہوں اور وہ بے نیاز۔‘‘ ایک لمحے میں ہی محبت جیسے انا کی آڑ میں چھپ گئی‘ رشنا مسکرادی‘ جانتی تھی کہ درشہوار کے لیے اپنی بات پر زیادہ دیر تک قائم رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور ایسا ہی ہوا‘ اگلے ہی پل وہ ٹیرس پر چلی آئی جہاں سے مین گیٹ بالکل صاف نظر آرہا تھا جس کے عین سامنے سجاول کی بڑی سی سیاہ جیپ کھڑی تھی‘ جسے دیکھتے ہی درشہوار کے دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر گئی۔ محبوب نہ سہی اس کی وہ سواری ہی سہی جس میں سفر کرکے وہ یہاں تک آیا تھا۔ وہ ریلنگ پر قدرے جھکی نیچے ہی دیکھ رہی تھی جب سجاول اندر سے نکل کر ایک دم سامنے آگیا‘ باہر نکلتے ہی بے اختیار اس کی نگاہ شہوار کے کمرے کی جانب گئی جہاں ٹیرس میں لٹکی وہ اسے اپنی منتظر نظر آئی اسے دیکھتے ہی سجاول کے لب گھنی مونچھوں تلے مسکرادیئے‘ جبکہ درشہوار یک دم گھبرا کر پیچھے ہوگئی مبادا اس کے ساتھ بابا جان نہ ہوں اور پھر جب تک سجاول گاڑی میں بیٹھ کر اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا درشہوار کی نگاہیں مسلسل اس کا تعاقب کرتی رہیں یہاں تک کہ گلی کا موڑ مڑ کر جیپ اس کی نظروں کے سامنے سے یکسر اوجھل ہوگئی اور وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اپنے کمرے میں واپس آگئی اور دوبارہ اپنے بستر پر لیٹ تو گئی مگر اب نیند اس کی آنکھوں سے یکسر غائب ہوچکی تھی‘ اس کی جگہ سجاول کے سہانے سپنوں نے لے لی تھی اور یہ سپنے اسے اپنی نیند سے کئی گنا زیادہ عزیز تھے۔
٭…٭…٭
سجاول نہ صرف عباس کا دوست بلکہ اس کا ہم عمر بھی تھا اور درشہوار سے دو سال بڑا بھی تھا۔ وہ بچپن سے ہی ان کے گھر آیا کرتا تھا‘ کیونکہ اس کے والد الٰہی بخش اور درشہوار کے والد سردار عبدالرب کا یارانہ برسوں پرانا تھا جس کے باعث دونوں گھرانوں کے تعلقات ایسے تھے کہ اکثر لوگ انہیں آپس میں رشتہ دار سمجھتے تھے‘ یہی وجہ تھی کہ ہوش سنبھالتے ہی درشہوار نے سجاول کو اپنے گھر دیکھا وہ اکثر حساب کے سوال حل کرنے میں اس کی مدد کردیا کرتا‘ درشہوار نے سائیکل چلانا بھی اسی سے سیکھی‘ بچپن کی یہ دوستی کب محبت میں ڈھلی دونوں کو احساس ہی نہ ہوا ساتھ کھیلتے‘ پڑھتے‘ وہ ایک دوسرے کی محبت میں اس طرح گم ہوئے کہ سوائے اپنی بے لوث محبت کے انہیں کچھ بھی یاد نہ رہا‘ رشنا‘ درشہوار کی بھابی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خالہ زاد بھی تھی اور بچپن سے ہی سجاول اور درشہوار کے درمیان موجود محبت کے تعلق سے آگاہ بھی تھی وہ اس کی ایسی راز دار تھی جس پر درشہوار آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرسکتی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ کزن سے بھابی بننے کے بعد بھی ان دونوں کی محبت میں رتی بھر فرق نہ آیا… بچپن کے دن بیت گئے‘ وقت کی کروٹ کے ساتھ درشہوار نے بھی جوانی میں قدم رکھ دیا جس کے بعد اس کا سجاول سے ملنا جلنا قدرے کم ہوگیا‘ جبکہ وہ ابھی بھی اسی طرح گھر آیا کرتا کیونکہ وہ اور عباس اکھٹے اسپیئر پارٹس کا بزنس کررہے تھے جس کی وجہ سے وہ اکثر ہی عباس سے ملنے گھر آجاتا مگر اب درشہوار پہلے کی طرح اس کے سامنے نہ جایا کرتی تھی جس کا سب سے بڑا سبب خاندانی روایات اور پھر اس کے اپنے اندر کا چور جو دوستی کا رشتہ محبت میں بدلتے ہی اس کے دل میں جاگ اٹھا تھا جس کے باعث اسے ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا کہیں اس کے دل کی بے قراری چہرے پر عیاں ہوکر سارے راز فاش نہ کردے وہ راز جو اسے پوری برادری میں بدنام کرنے کا سبب بن جائے‘ اسی خوف کے باعث وہ کسی کے سامنے سجاول سے مخاطب بھی کم ہوا کرتی جبکہ سجاول کو ان سب باتوں کی کوئی پروا نہ تھی وہ ہمیشہ گھر صرف درشہوار کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر آتا ورنہ عباس سے ملاقات تو محض بہانہ ہوتی جو درشہوار بھی جانتی تھی۔
٭…٭…٭
’’جانتی ہو تمہیں ایک دن نہ دیکھوں تو ایسے لگتا ہے جیسے میری دنیا اندھیری ہوگئی۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک جذب کے عالم میں بولا۔
’’جھوٹ بالکل جھوٹ…‘‘ درشہوار اس کے ہاتھ کی گرفت سے اپنا نازک ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں ہلکان ہوتے ہوئے تیزی سے بولی‘ جبکہ سجاول بنا کوئی جواب دیئے اسے اپنی کوشش میں ناکام ہوتا دیکھ کر زور سے ہنس دیا۔
’’ہنسو مت‘ زہر لگتے ہو اس طرح ہنستے ہوئے۔‘‘ وہ نروٹھے انداز میں اپنا چہرہ دوسری جانب کرتے ہوئے آہستہ سے بولی۔
’’ارے بابا اب غصہ تھوک دو میری جان تم خود سوچو جب میں یہاں تھا ہی نہیں تو روز تمہارے دیدار کی خاطر گھر کیسے آتا؟‘‘
’’اور جس دن آئے تھے اس دن تو مل کر جاتے۔‘‘
’’چلو مان لیا میری غلطی تھی‘ بس اب معاف کردو۔‘‘ سجاول نے اس کی جانب قدرے جھکتے ہوئے معافی مانگی۔
’’تم بھی کیا یاد کرو گے جائو معاف کیا۔‘‘ وہ ایک شان بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔
’’اچھا یہ بتائو ان دس دنوں میں تم نے مجھے کتنا یاد کیا؟‘‘
’’یہ مت پوچھو یاد کتنا کیا؟ یہ پوچھو کیا دن میں کوئی ایسا لمحہ تھا جب میں نے تمہیں یاد نہ کیا ہو؟ ہر لمحہ‘ ہر پل سمجھو ایسا تھا جیسے تمہیں اب نہ دیکھا تو مر جائوں گی۔‘‘
’’مجھے پتہ تھا اس لیے تو تمہارے لیے یہ لے کر آیا ہوں۔‘‘ سجاول کو لگا اب اگر وہ مزید کچھ بولی تو شاید وہ خود پر کنٹرول نہ رکھ سکے گا اس لیے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا شاپنگ بیگ اس کے سامنے کردیا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘سوال کے ساتھ درشہوار نے بیگ بھی کھول لیا۔
’’ارے اتنی ساری چاکلیٹس۔‘‘ اندر موجود چاکلیٹس دیکھ کر وہ خوشی سے کھل اٹھی۔
’’میں جانتا ہوں کہ تمہیں دنیا میں سب سے زیادہ محبت چاکلیٹ سے ہی ہے۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرادیا۔
’’ہاں اور اس کے بعد تم سے۔‘‘
’’مطلب چاکلیٹس مجھ سے زیادہ اچھی ہیں۔‘‘
’’بالکل…‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ اسی پل اس کے فون کی وائبریشن سنائی دی جس کی اسکرین پر رشنا لکھا جگمگا رہا تھا۔
’’بھابی آگئیں میں چلتی ہوں۔‘‘ چاکلیٹس کا پیکٹ تھامے وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اس کا شکریہ ادا کردینا‘ اس کی مہربانی ہے جو میں تمہارے ساتھ کچھ لمحے محبت کے گزار لیتا ہوں ورنہ تو بہت مشکل ہوتا۔‘‘
’’شکریہ ضرور ادا کردوں گی پر چاکلیٹ نہیں دوں گی۔‘‘ سجاول سے ملنے کی خوشی اس کے چہرے پر جگمگا رہی تھی اور اسی خوشی نے اس کے لہجے میں شرارت بھردی تھی۔
’’مت دینا میں اسے خود دے دوں گا۔‘‘ گالوں کو چھوتی اس کے بالوں کی شرارتی لٹ وہ پیچھے کرتا ہوا بھاری لہجے میں بولا۔
’’اچھا اللہ حافظ۔‘‘ درشہوار یک دم ہی کچھ کنفیوز سی ہوئی اور جلدی سے باہر کی جانب لپکی وہ اور رشنا ایک ساتھ شاپنگ کے لیے آئے تھے جہاں رشنا اسے کیفے میں چھوڑ کر خود پارلر چلی گئی تھی اور اب تقریباً ایک گھنٹہ بعد واپس آئی تھی اور یہ ایک گھنٹہ اس کی زندگی کے یادگار لمحوں میں سے ایک تھا کیونکہ یہ اس نے سجاول کے ساتھ گزارا تھا۔
٭…٭…٭
وہ اپنی گاڑی پارک کرکے جیسے ہی باہر نکلی تو بے اختیار ہی نگاہ گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑی سلور گاڑی پر پڑی جس کا ڈرائیور اندر ہی موجود تھا۔
’’میرا خیال ہے زرین آئی ہوگی؟‘‘ گاڑی لاک کرتے ہوئے وہ دل ہی دل میں خود سے بولی‘ زرین اس کے تایا کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی جو تقریباً اس کی ہم عمر تھی اور اس حوالے سے دونوں میں اچھی دوستی بھی تھی حالانکہ اس کی اور زرین کی عادتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا جہاں وہ ایک آزاد خیال اور قدرے ماڈرن لڑکی تھی وہاں زرین نہ صرف قدرے مذہبی تھی بلکہ وہ ایک مدرسے سے عالمہ کا کورس بھی کررہی تھی صرف زرین ہی نہیں بلکہ تایا نواز کے چاروں بچے ہی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف مدارس کے سند یافتہ عالم بھی تھے‘ شاید یہی سبب تھا جو باوجود آپس میں محبت کے دونوں گھرانوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا قدرے کم تھا۔ ایک واحد زرین تھی جو اکثر ہی درشہوار سے ملنے آجاتی جیسے کہ آج آئی تھی‘ درشہوار جب لائونج میں داخل ہوئی تو نگاہ سامنے صوفہ پر بیٹھی زرین پر پڑی جو سر سے پائوں تک برقعہ میں لپٹی ہونے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں گلوز بھی پہنے ہوئے تھی۔
’’السلام علیکم!‘‘ اسے دیکھتے ہی وہ یک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ سلیولیس شرٹ پر بنا دوپٹے‘ زرین سے گلے ملتے ہوئے اسے خود بھی کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔
’’یہ ننجا کو آج ہماری یاد کیسے آگئی۔‘‘ لپٹی لپٹائی زرین کو وہ ہمیشہ ایک کارٹون کریکٹر ننجا سے تشبیہہ دیا کرتی جس کا وہ کبھی بھی برا نہ مناتی۔
’’یہ ماشاء اللہ مکمل عالمہ بن گئی ہے جس کی مٹھائی دینے آئی ہے۔‘‘ زرین کے جواب دینے سے قبل ہی رشنا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔
’’ارے واہ مبارک ہو۔‘‘
’’خیر مبارک۔‘‘ ہلکا سا نقاب سرکاتے ہوئے زرین دھیرے سے مسکرائی۔
’’برقعہ اتار کر ریلیکلس ہوجائو گھر میں اس وقت کوئی بھی نہیں ہوتا۔‘‘ درشہوار نے سامنے رکھی مٹھائی سے ایک گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں جارہی ہوں‘ اس وقت تو سیدھی مدرسے سے آئی ہوں پھر کسی وقت آئوں گی اطمینان سے بیٹھ کر باتیں کریں گے چاچی آئیں تو میرا سلام کہہ دینا۔‘‘ کولڈ ڈرنک کا گلاس ختم کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’تمہیں اس طرح برقعہ میں گرمی نہیں لگتی۔‘‘ اسے گیٹ تک چھوڑتے ہوئے وہ یک دم پوچھ بیٹھی۔
’’اس وقت لگنے والی گرمی دوزخ کی گرمی سے قدرے کم ہے۔‘‘ جواب دیتی زرین گیٹ عبور کر گئی اس کا جواب سن کر کندھے اچکاتی درشہوار واپس اندر پلٹ آئی تھی۔
٭…٭…٭
اس نے آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا اچھی طرح تنقیدی جائزہ لیا‘ وائٹ نیٹ کی فراک کے ساتھ میچنگ جیولری اور ریڈ لپ اسٹک میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوب صورت لگ رہی تھی وہ خود کو دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ باہر سے سنائی دینے والے تیز ہارن کی آواز پر چونک گئی۔ یہ یقینا سجاول کی جیپ کا ہارن تھا‘ اس نے کچھ دیر قبل ہی درشہوار کو بتایا تھا کہ وہ اسی طرف آرہا ہے‘ وہ تیزی سے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر ٹیرس پر آگئی جانتی تھی کہ سجاول اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آیا ہے۔ گاڑی سے باہر نکلتے سجاول نے ایک نظر اوپر ڈالی اور اسے دیکھتے ہی مسکرادیا اس کی ایک مسکراہٹ سے درشہوار کی ساری محنت وصول ہوگئی جو اس نے پچھلے کئی گھنٹوں سے اپنی تیاری پر صرف کی تھی اور اس کا دل ایک دم پُرسکون ہوگیا‘ ابھی سجاول کو دیکھتے ہوئے اس کا من بھرا بھی نہ تھا کہ کمرے سے آتی ممی کی آواز سن کر چونک اٹھی جو اسے ہی پکار رہی تھیں‘ وہ جلدی سے واپس کمرے کی جانب مڑی مبادا وہ اسے تلاش کرتی باہر ٹیرس پر ہی نہ آجاتیں۔
’’تیار ہوگئیں۔‘‘ اس پر نظر پڑتے ہی ممی نے سوال کیا۔
’’جی…!‘‘ ایک بار پھر آئینہ میں اپنا جائزہ لیتے ہوئے وہ دل ہی دل میں مسکرائی کیونکہ اس پل‘ اس کے تصور میں باہر کھڑا سجاول تھا۔
’’دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟‘‘
’’دوپٹہ…‘‘ درشہوار بڑبڑائی۔
’’میرے اس گائون کے ساتھ دوپٹہ نہیں ہے مما۔‘‘ ساتھ ہی اسے حیرت ہوئی کہ ممی کو اس وقت اچانک دوپٹہ کیسے یاد آگیا۔
’’میں جانتی ہوں نہیں ہے مگر آج تو لینا پڑے گا بڑی مشکل سے تو عبداللہ نے اپنے نکاح میں خاندان کی خواتین کو آنے کی اجازت دی ہے ورنہ تم جانتی ہو وہ مسجد میں صرف مردانہ نکاح کے لیے ہی زور دے رہا تھا۔‘‘ عبداللہ اس کے تایا کا سب سے بڑا بیٹا اور زرین کا بھائی تھا۔
’’ایسے میں تمہارا یہ ڈریس خاصا نامناسب ہے تمہیں پہلے ہی کچھ ایسا لباس پہننا چاہیے تھا جو اس تقریب کے لحاظ سے ہوتا۔‘‘ اس نے دیکھا ممی بالکل سادہ سی تھیں جبکہ عام طور پر وہ کسی تقریب میں جاتیں تو خوب تیار ہوتیں۔
’’اور ویسے بھی جہاں ہم گھر کی دس بارہ خواتین ہوں وہاں اتنی تیاری بے کار ہے لڑکی والے بھی خاصے سادہ اور باپردہ لوگ ہیں۔‘‘ ممی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ اس کی اتنی تیاری کے پس پردہ حقائق کیا تھے یہ فی الحال ممی نہ جانتی تھیں پہلے تو اس کا دل چاہا جانے سے ہی انکار کردے مگر مجبوری تھی ایک تو نکاح سگے تایا کے بیٹے کا تھا‘ دوسرے باہر اس کے انتظار میں کھڑا سجاول۔
’’آپ انتظار کریں میں چینج کرلیتی ہوں۔‘‘ بددلی سے کہتے ہوئے اس نے اپنے وارڈروب سے ایک قدرے سادہ سا سوٹ نکالا جو فل سلیوز اور دوپٹے سمیت تھا‘ کپڑے تبدیل کرکے جلدی جلدی ساری جیولری اتار کر اپنے بال سمیٹ کئے اور ممی کے ساتھ باہر نکلی تو گیٹ سے ذرا ہٹ کر سجاول اور عباس بھائی کھڑے باتیں کررہے تھے۔
’’السلام علیکم آنٹی۔‘‘ ممی کو سلام کرتے سجاول نے ہلکا سا اس کا جائزہ بھی لیا۔
’’وعلیکم السلام بیٹا۔‘‘
’’درشہوار تم کیسی ہو؟‘‘ چہرے پر قدرے سنجیدگی طاری کیے وہ یک دم اس سے مخاطب ہوا تو وہ گھبرا گئی۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ جواب دے کر وہ گاڑی کی جانب بڑھی ہی تھی کہ پیچھے سے آتی سجاول کی آواز نے اس کے قدم روک دیئے۔
’’تمہاری اسٹڈی کیسی جارہی ہے؟‘‘ جانتی تھی کہ وہ عباس کی موجودگی میں محض شرارت کررہا ہے سینے پر دونوں بازو باندھے بظاہر وہ خاصا سنجیدہ تھا۔
’’جی وہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ جواب دے کر وہ رکی نہیں بلکہ تیز تیز چلتی گاڑی میں جابیٹھی‘ جہاں ممی اور بابا اس کے منتظر تھے اس وقت اس کا دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل آئے گا‘ گاڑی میں بیٹھتے ہی فون کی میسج ٹون نے اسے یقین دلا دیا کہ اس وقت آنے والا پیغام یقینا سجاول کا ہوگا۔
٭…٭…٭
آج عبداللہ کا ولیمہ تھا‘ جس میں شرکت سے حاشر نے قطعی انکار کرتے ہوئے کہا۔
’’عجیب سا ماحول ہے ممی‘ اپنی فیملی میں لگتا ہے جیسے ہم پرائے ہوں کل اچانک میں اندر کسی کام سے چلا گیا تو زرین مجھے دیکھتے ہی ایسے چھپی کہ میں خود ہی شرمندہ ہوگیا سلام کا جواب بھی اس قدر دھیما تھا کہ میرے کانوں تک آواز ہی نہ آئی‘ مجھے سمجھ نہیں آتا یہ لڑکی یونیورسٹی جاتی ہے جہاں مخلوط طریقہ تعلیم ہے وہاں کیا کرتی ہوگی۔‘‘
’’جو بھی ہے یہ اس کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے جسے ہم اس طرح ڈسکس نہیں کرسکتے‘ ویسے بھی اللہ جسے ہدایت دے وہ بہتر جانتا ہے۔‘‘ بابا کو اپنے بھائی کے بچوں سے بڑی خاص انسیت تھی جس کا اندازہ اس لمحے ان کے لہجے میں چھلکتی محبت سے بخوبی لگایا جاسکتا تھا۔
’’عبداللہ کی دلہن کیسی ہے؟‘‘ عباس نے ماحول میں پھیلی تلخی دور کرنے کے ارادے سے برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔
’’ہم نے کب دیکھی۔‘‘ ممی نے برا سا منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
’’وہ تو ڈبہ میں بند تھی۔‘‘ آگے کا جملہ درشہوار نے ہنستے ہوئے مکمل کیا۔
’’عورتوں میں بھی اس قدر پردہ کہ بس‘ مجھے تو گھبراہٹ ہونے لگی اسے دیکھ کر جانے سانس کیسے لے رہی تھی۔‘‘
’’ظاہر ہے عبداللہ جیسے شرعی بندے کی بیوی ایسی ہی ہونی چاہیے تھی۔ ویسے بھی یہ سب اس کی اپنی ڈیمانڈ تھی اسے شرعی باپردہ لڑکی درکار تھی جو مل گئی۔‘‘ عباس اور عبداللہ میں خاصی اچھی دوستی تھی دونوں ایک ساتھ پڑھتے رہے تھے یہ ہی سبب تھا جو عباس‘ عبداللہ کے متعلق سب کچھ جانتا تھا۔
’’لڑکی کا تعلق متوسط گھرانے سے ہے‘ شادی کا جوڑا بھی خاصا سادہ سا تھا اور جہاں تک میرا خیال ہے وہ تیار بھی گھر ہی میں ہوئی ہوگی۔ آپ تو جانتی ہیں عبداللہ کو شروع سے ایسی ہی لڑکیاں پسند رہی ہیں سیدھی سادی اور اپنے آپ میں سمٹی ہوئی۔‘‘
’’مگر زرین تو ایسی نہیں ہے وہ تو خاصی ہوشیار اور زمانہ شناس لڑکی ہے بے شک باپردہ ہے مگر ہے تو بڑی چالاک۔‘‘ ممی نے فوراً عباس کو ٹوکتے ہوئے اپنا تجزیہ پیش کیا۔
’’وہ ایک تعلیم یافتہ اور قابل بچی ہے ویسے بھی میرا بھائی جنتی ہے ماشاء اللہ سارے بچے حافظ قرآن ہیں‘ سبحان اللہ۔‘‘ درشہوار کو لگا بابا کے لہجے میں ہلکی سی حسرت جھلک رہی ہو جو یقینا ممی کو پسند نہ آئی۔
’’دراصل ان کے گھر کا ماحول شروع سے ہی خاصا مذہبی رہا ہے یہی سبب تھا بچے بھی ویسے ہی ہوگئے جبکہ آپ تو خود آزاد خیال رہے ہیں تو پھر بھلا بچوں میں وہ ماحول کیسے آتا جو آپ کے بھائی کے گھر کا تھا۔‘‘ ممی کو شاید بابا کا اس طرح ان سب کی تعریف کرنا پسند نہ آیا تھا۔
’’ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔‘‘ بابا نے ہنستے ہوئے بات کو رفع دفع کیا اور پھر جب وہ سب تیار ہوکر شادی ہال پہنچے تو اندر داخل ہوتے ہی وہاں کے ماحول نے درشہوار کی طبیعت کو خاصا مکدر کردیا تھا۔ لیڈیز اور جینٹس کی پارٹیشن الگ تھی یہ تو وہ جانتی تھی مگر یہ علم نہ تھا کہ زنانہ میں ویٹرز بھی خواتین ہی ہوں گی اس کے علاوہ مہمانوں کی تعداد بھی خاصی کم تھی دلہن سفید میکسی میں ملبوس ہلکے میک اپ میں تھی یقینا آج بھی وہ گھر پر ہی تیار ہوئی تھی۔ اسٹیج پر وہ تنہا تھی شاید بے پردگی کے باعث عبداللہ کا داخلہ اپنے ہی ولیمے کے زنان خانہ میں بند تھا یہ سوچ کر وہ دل ہی دل میں ہنس دی اور ویسے بھی عبداللہ نے یہاں آکر کرنا بھی کیا تھا نہ کوئی مووی نہ کیمرہ اسے عجیب سی وحشت نے گھیر لیا ایسی شادی کا تو وہ تصور بھی نہ کرسکتی تھی جہاں کوئی رونق ہی نہ ہو اور جب وہ فارغ ہوکر باہر نکلیں تو گیٹ کے عین سامنے بابا کے ساتھ عبداللہ کھڑا نظر آگیا۔ درشہوار نے دیکھا سفید شلوار قمیص میں اونچا لمبا عبداللہ خاصا خوب صورت دکھ رہا تھا جبکہ اس کے مقابلے میں دلہن ذارا ایک عام سی لڑکی تھی جسے عبداللہ جیسے عالیشان بندے کا ساتھ محض اس لیے میسر ہوا کہ وہ اس کے شرعی معیار پر پوری اترتی تھی یا شاید دونوں کے نصیب ایک دوسرے سے میل کھاتے تھے اور پھر وہیں کھڑے کھڑے عبداللہ اور تایا جی سے سلام دعا لے کر وہ گھر آگئی۔ عبداللہ کی شادی یقینا ایک ایسی شادی تھی جسے کئی عرصہ تک نہ صرف ان ماں بیٹیوں نے یاد رکھا بلکہ حاشر اور رشنا نے بھی اکثر منفی انداز میں اس کا ذکر کئی بار کیا‘ سوائے عباس اور بابا کے جنہیں وہاں موجود سادگی خاصی پسند آئی تھی۔
٭…٭…٭
وہ کلاس لے کر باہر نکلی تو سامنے کھڑے سجاول کو دیکھ کر یک دم ہی کھل اٹھی۔
’’آج تو میں کچھ اور مانگتی تو وہ بھی مل جاتا۔‘‘ سجاول کے قریب پہنچ کر وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی۔ ’’جانتے ہو تمہیں دیکھنے کو اس قدر دل مچل رہا تھا کہ بے اختیار یہ خواہش جاگی کہ کاش میں باہر نکلوں اور تم سامنے موجود ہو۔‘‘
’’دیکھ لو تمہارے دل نے خواہش کی اور میں سامنے آگیا مانتی ہو ناں میری محبت کو جو تمہارے دل سے نکلی آواز تک سن لیتی ہے۔‘‘ سجاول نے مسکراتے ہوئے ایک نظر درشہوار پر ڈالی جس کی گوری رنگت رائل بلیو ٹاپ میں خوب دمک رہی تھی۔
’’وائو آج تو تم بہت خوب صورت لگ رہی ہو۔‘‘ وہ اسے دیکھتے ہوئے بے ساختہ بولا۔
’’صرف آج…!‘‘ وہ ایک ادا سے مسکرائی۔
’’نہیں‘ ہمیشہ تم اتنی ہی خوب صورت لگتی ہو۔‘‘ وہ فوراً ہی ہار مانتے ہوئے بولا۔
’’جانتی ہوں۔‘‘ اپنے بالوں کو جھٹکے سے پیچھے کرتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں بولی۔
’’آجائو تھوڑی دیر کیفے ٹیریا بیٹھتے ہیں تم پھر گھر چلی جانا۔‘‘ سجاول اس سے آگے چلتے ہوئے بولا‘ پھر وہ جب سجاول کی سنگت میں چلتے ہوئے کیفے ٹیریا پہنچی تو اپنی یونیورسٹی کا عام سا کیفے آج اسے ہر لحاظ سے بے حد خاص لگا کیونکہ آج اس کے ساتھ سجاول تھا جس کے ساتھ نے آس پاس کی ہر شے کو ایک محبت بھرا احساس بخش دیا تھا۔
٭…٭…٭
سجاول کے والد الٰہی بخش ایک بار پھر اپنے گائوں سے الیکشن جیت گئے ان کی جیت کی خبر سن کر درشہوار کو تھوڑی سی حیرت ضرور ہوئی جس کا اظہار وہ بھابی سے کئے بنا نہ رہ سکی۔
’’مجھے تو کوئی ایسا کام اس گائوں میں نظر نہیں آتا جو الٰہی انکل نے گائوں والوں کی فلاح کے لیے کیا ہو پھر بھی جانے کیوں لوگ ہر سال انہیں ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچا دیتے ہیں۔‘‘
’’وہاں اہمیت کام کی نہیں نام کی ہے الٰہی انکل کا خاندان وہاں کا گدی نشین ہے جس کے باعث ان کو وہاں ایک خاص عزت واحترام حاصل ہے بھلا سوچو وہ لوگ جو ان کے قدموں میں بیٹھتے ہوں بھلا کیسے ان کے علاوہ کسی اور کو ووٹ دیں گے۔‘‘
’’رشنا صحیح کہہ رہی ہے الٰہی بھائی کے خاندان کا بڑا رعب ودبدبہ ہے وہاں اور ان کے ہوتے ہوئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی اور اس گائوں سے الیکشن جیت جائے‘ سمجھو وہ سیٹ تو ان کی جدی پشتی سیٹ ہے جس کے وہ بادشاہ ہیں۔‘‘ ممی نے رشنا کے خیال کی تصدیق کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں مزید وضاحت کی۔
’’حیرت ہے۔‘‘ درشہوار نے کندھے اچکاتے ہوئے اپنی حیرت کا اظہار کیا اور پھر اپنی یہ حیرت وہ سجاول سے شیئر کیے بنا نہ رہ سکی‘ اس رات جیسے ہی سجاول کا فون آیا وہ فوراً پوچھ بیٹھی۔
’’مجھے سمجھ نہیں آتا تم لوگ اپنے گائوں سے الیکشن کیسے جیت جاتے ہو؟‘‘
’’میں تمہاری بات سمجھا نہیں۔‘‘ درشہوار کی جانب سے کیے جانے والے اس اچانک سوال کو سن کر وہ قدرے حیرت سے بولا۔
’’میں ایک دفعہ تمہارے گائوں گئی تھی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے وہاں سڑکیں آج بھی کچی ہیں‘ کوئی اچھا اسکول نہیں۔ وہاں کے رہائشی اچھی تعلیم حاصل کرسکیں‘ پانی کا معقول انتظام ناپید ہے پھر کیسے وہ لوگ الٰہی انکل کو ووٹ دے دیتے ہیں۔‘‘
’’ان ساری باتوں سے ووٹ کا کیا تعلق؟‘‘
’’ظاہر ہے جو نمائندہ ان کے ووٹ پر الیکشن جیت کر اسمبلی میں جائے گا اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے۔‘‘ وہ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بولی۔
’’اس کے علاوہ ان کے اور بہت سے بنیادی مسائل ہیں جو بابا جان حل کردیتے ہیں۔‘‘
’’تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پانی‘ تعلیم اور پکی سڑکیں ان کے بنیادی مسائل میں شامل نہیں۔‘‘ سجاول کے جواب نے اسے قدرے حیران کردیا۔
’’ارے یہ تم آج کس بحث میں پڑگئی ہو‘ چھوڑو تمہیں ان سب باتوں سے کیا لینا دینا‘ بابا جانیں اور ان کے ووٹرز‘ ہم بلاوجہ کیوں ان کے پیچھے الجھ رہے ہیں۔‘‘ درشہوار کی باتوں سے سجاول قدرے چڑتا ہوا بولا۔
’’میں نے تو تمہیں تمہارے لیے فون کیا تھا تم بلاوجہ دوسروں کو لے کر میرا موڈ خراب کررہی ہو۔‘‘ صاف لگ رہا تھا کہ وہ برا مان گیا ہے جبکہ درشہوار اس کی اس قدر ناراضگی کی وجہ سمجھ نہ پائی۔
’’سوری سجاول اگر تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہو میرا مقصد تو محض…‘‘
’’اٹس اوکے چھوڑو۔‘‘ درشہوار کے ایک معذرت بھرے جملے نے اس کے موڈ کو قدرے بحال کردیا جبکہ درشہوار کو ساری رات یہ سوچ کر نیند نہ آئی کہ اس کی باتوں میں ایسا کیا تھا جس نے سجاول جیسے ٹھنڈے مزاج کے مرد کو غصہ دلا دیا۔
٭…٭…٭
سجاول کے بڑے بھائی بلاول کی منگنی تھی لڑکی لندن سے آئی تھی اس تقریب میں شرکت کے لیے درشہوار کئی دنوں سے خاصی ایکسائٹڈ تھی بقول سجاول اس کی ہونے والی بھابی فاریہ خاصی خوب صورت اور قابل لڑکی تھی اب وہ چاہتا تھا کہ اس فیملی فنکشن میں درشہوار سب سے نمایاں نظر آئے یہی وجہ تھی جو درشہوار نے کئی ہفتہ لگا کر اپنے لیے خاصی تیاری کی‘ اچھے پارلر سے سروس کے ساتھ ساتھ اس نے بال بھی ڈائی کروا لیے اور بقول رشنا وہ بالوں کے اس کلر کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ خوب صورت دکھائی دے رہی تھی منگنی کا یہ فنکشن سجاول کے گھر کے بڑے سے لان میں ہی رکھا گیا تھا‘ ریڈ سلیولیس قمیص کے ساتھ اورنج دوپٹہ میں درشہوار نظر لگ جانے کی حد تک خوب صورت لگ رہی تھی‘ گیارہ بجے جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو ابھی مہمان آنا ہی شروع ہوئے تھے۔ لان بے حد خوب صورتی سے سجایا گیا تھا جس کے ایک طرف چھوٹا سا جوس کارنر بھی بنایا گیا تھا سروس کے لیے ویٹرز موجود تھے‘ رنگ ونور کا ایک طوفان ہر طرف امڈا آیا تھا‘ دھیما دھیما میوزک اعصاب پر خوشگوار اثر ڈال رہا تھا۔ غرض پیسے کی فراوانی ہر طرف دکھائی دے رہی تھی‘ سجاول اپنے والد کے ساتھ ریسپشن پر ہی موجود تھا جس کے پاس سے گزر کر وہ اندر آگئی۔
’’الٰہی بھائی اپنے بچوں کی خوشیوں پر بڑا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘ صوفہ پر بیٹھنے سے قبل ممی نے ساڑھی کا پلو سنبھالتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
’’صحیح کہہ رہی ہیں یہاں آکر پتہ چلتا ہے کہ زندگی کیا ہوتی ہے؟ ایک وہ عبداللہ بھائی کی شادی تھی اتنا حبس کہ مجھے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہورہا تھا۔‘‘ رشنا بھابی آج بھی عبداللہ کی شادی نہ بھولی تھیں۔
’’سچی بات ہے انسان جب تک زندہ ہے زندگی تو انجوائے کرے یہ کیا بات ہوئی اپنی زندگی مردوں کی طرح جی کر دنیا سے رخصت ہوجائو۔‘‘ ہر طرف نظر ڈالتے ہوئے درشہوار نے برا سا منہ بنایا‘ اسی پل ویٹر جوس کے گلاس لیے ان کے قریب آن موجود ہوا‘ سب نے اپنے اپنے گلاس اٹھائے ہی تھے کہ سجاول آگیا‘ جسے اپنے سامنے دیکھتے ہی درشہوار کے چہرے پر خوشی کا رنگ ابھرا جو سجاول کے ساتھ ساتھ رشنا کی نظروں سے بھی پوشیدہ نہ رہ سکا۔
’’السلام علیکم کیسے ہیں آپ لوگ؟‘‘ مخاطب سب تھے مگر نظریں درشہوار کے گرد ہی گھوم رہی تھیں جنہیں محسوس کرتے ہی وہ کچھ کنفیوز سی ہوگئی۔
’’وعلیکم السلام بھئی ویسے ہی ہیں جیسے تم کل دیکھ کر آئے تھے۔‘‘ ممی نے مسکراتے ہوئے کہا‘ امی کا جواب سنتے ہی وہ درشہوار کی جانب پلٹا۔
’’آؤ میں تمہیں اپنی بھابی سے ملوائوں۔‘‘ سجاول کے مخاطب کرتے ہی وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آپ بھی آجائیں بھابی۔‘‘ اور پھر ان دونوں کو اپنے ساتھ لیے وہ اسٹیج پر آگیا جہاں سیلیولیس بلائوز کے ساتھ بلیک ساڑھی میں فاریہ موجود تھی جسے ماہر بیوٹیشن کے ہاتھوں نے اتنا خوب صورت کردیا تھا کہ ایک پل کے لیے درشہوار بھی اس کے چہرے سے نظریں ہٹانا بھول گئی۔ فاریہ ان سے بہت اچھی طرح ملی مگر جانے کیوں درشہوار کو اس کے انداز میں ایک انجانا غرور سا محسوس ہوا جس کی وجہ شاید بلاول جیسے عالیشان مرد کا ساتھ تھا‘ پھر اسی پل درشہوار اس کا موازنہ زارا سے کر بیٹھی‘ بے شک عبداللہ شکل وصورت کے اعتبار سے بلاول سے کئی گناہ خوب صورت تھا اور معاشی لحاظ سے بھی وہ زارا کی فیملی کے مقابلے میں خاصا بہتر تھا پھر بھی زارا کے انداز میں آج تک وہی سادگی تھی جو شروع سے اس کے مزاج کا خاصا رہی‘ لیکن شاید خوب صورتی فاریہ کو وہ اوصاف تھا جس کی وجہ سے وہ ایک اتنے بڑے سیاسی خاندان کا حصہ بنی تھی اور یہی غرور اس کی شخصیت میں بھی جھلک رہا تھا عالیشان فنکشن کے ساتھ ساتھ کھانا بھی اتنا شاندار تھا جس کا تذکرہ گھر آکر بھی وہ کئی دنوں تک کرتے رہے اور اس تذکرہ میں کئی بار عبداللہ کا ذکر بھی آیا جس نے بنا جہیز کے نہایت سادگی سے زارا کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔
٭…٭…٭
زرین کے لیے ایک بہت اچھا رشتہ آیا تھا جسے تایا جی نے رد کردیا وجہ کیا تھی یہ جان کر درشہوار حیران رہ گئی۔
’’وہ لڑکا ہماری ذات برادری کا نہ تھا اور ہم اپنی ذات برادری کے بنا رشتہ نہیں جوڑتے۔‘‘ یہ اظہار خیال اس کے پیارے بابا جان کا تھا جنہیں وہ ہمیشہ سے خاصا لبرل سمجھتی آئی تھی اور یہ ذات برادری والا فارمولا بھی اسے آج ہی سمجھ میں آیا تھا۔
’’میں نے تو سنا ہے کہ زرین کو یہ رشتہ خود بھی پسند تھا پھر بھلا تایا جی نے ذات برادری کا مسئلہ کیوں کھڑا کیا۔‘‘ وہ حیران تھی کہ صرف ایک اتنی چھوٹی سی بات پر بھی کسی کو ٹھکرایا جاسکتا ہے جبکہ اس کی اجازت ہمارا مذہب نہیں دیتا۔
وہ تو شاید مان بھی جاتے مگر اصل وجہ بابا جان تھے جن کا یہ کہنا تھا کہ غیر برادری میں رشتہ داری کے سبب وہ تایا جی کی فیملی کو چھوڑ دیں گے۔
’’یہ بابا جان نے کہا؟‘‘ درشہوار تو بھابی کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ سن کر ہی حیران ہوگئی۔
’’ہاں دری تم شاید نہیں جانتی کہ بابا جان اس معاملے میں خاصے انتہا پسند ہیں اور صرف بھائی کی محبت کی خاطر تایا جی نے سگی بیٹی کا دل توڑ دیا۔‘‘ سکینہ سے ڈسٹنگ کروانے کے ساتھ ساتھ وہ درشہوار کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بولیں۔ درشہوار کو یاد آیا آج تک کوئی رشتہ فیملی سے باہر ہوا ہی نہ تھا سوائے عبداللہ کے تو پھر بھلا کیسے پتہ چلتا کہ اس سلسلے میں بابا جان کی رائے کیا ہے؟ یہ بات تو آج پہلی بار اس کے سامنے کھل کر آئی تھی کہ ان کے ہاں ذات برادری کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔
’’عبداللہ کی بیوی زارا بھی تائی جی کی دور پارے کی رشتہ دار ہے جبکہ پروفیسر امان اللہ نہ صرف غیر ذات بلکہ غیر زبان کا بندہ تھا تو پھر بھلا بابا جان کیسے راضی ہوتے۔‘‘ بھابی مسلسل بول رہی تھی جبکہ درشہوار کا ذہن الجھ چکا تھا‘ اس رونما ہونے والے نئے واقعے نے اسے احساس دلایا کہ سجاول بھی ایک غیر ذات اور غیر زبان کا بندہ ہے تو کیا بابا جان اپنی ضد میں اسے بھی زرین کی طرح مایوس اور تہی دامن کردیں گے زرین کی تو امان سے کوئی خاص وابستگی بھی نہ تھی ماسوائے اس کے کہ وہ دونوں یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے‘ جبکہ اس کی تو جان سجاول میں تھی تو کیا بابا اس سے اس کی جان چھین لیں گے‘ اس خیال کے دماغ میں آتے ہی وہ بے چین ہو اٹھی‘ اب اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے؟ سچ ہے کبھی کبھی روانی سے چلنے والی خوب صورت زندگی میں کوئی ایسا موڑ آجاتا ہے جو آپ کی سوچ کے دھاروں کو یکسر تبدیل کردیتا ہے اور ایسا ہی کچھ شاید مستقبل میں درشہوار کے ساتھ بھی ہونے والا تھا جس سے فی الحال وہ قطعی لاعلم تھی۔
٭…٭…٭
’’تمہاری تصویریں بہت خوب صورت آئی ہیں۔ مما جان تو دیکھ دیکھ کر نہال ہورہی تھیں۔‘‘ بلاول کی منگنی کی تصاویر آگئی تھیں اور سجاول انہی کا ذکر کررہا تھا۔
’’ظاہر ہے جب میں خود خوب صورت ہوں تو تصاویر بھی خوب صورت ہی آئیں گی۔‘‘ وہ لاڈ بھرے فخر سے اٹھلائی۔
’’تم خوب صورت ہو نہیں‘ تمہیں میری محبت نے خوب صورت بنادیا ہے۔‘‘ وہ محبت پاش نگاہوں سے اس کی جانب تکتا ہوا بولا۔
’’خوب صورت تو خیر میں ہوں ورنہ تم کہاں مجھ سے محبت کرتے۔‘‘ اس کا دل چاہا کہ آج وہ اپنی تعریف سنے اور یہ بات سجاول بھی سمجھ آگیا تھا۔
’’بالکل اس میں کوئی شک نہیں مگر ایک بات یاد رکھنا درشہوار میری محبت کا تعلق تمہاری خوب صورتی سے نہیں ہے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں جس سے محبت کی جائے ان کے چہرے نہیں دیکھے جاتے‘ جیسے میں نے تم سے محبت تمہارا چہرہ دیکھ کر نہیں کی۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرائی۔
’’ایک بات کہوں درشہوار۔‘‘ سجاول کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
’’ہاں کہو۔‘‘
’’تم بھابی سے کہو وہ گھر میں میرے لیے بات کریں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے امتحانات ختم ہوتے ہی مما سے اپنے رشتے کی بات کرلوں بابا میری اور بلاول کی شادی ایک ساتھ کرنا چاہتے ہیں‘ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں اپنی پسند سے آگاہ کردوں۔‘‘ ظاہر ہے ان کے درمیان جو کچھ چل رہا تھا اسے کسی ایک موڑ تک تو پہنچنا تھا اور یہ کوئی ایسی انوکھی بات بھی نہ تھی مگر سجاول کی بات سن کر درشہوار چپ سی ہوگئی۔
’’دری…‘‘ اسے خاموش دیکھ کر سجاول نے پکارا۔
’’آں ہاں…‘‘
’’سب ٹھیک تو ہے ناں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میری بات سن کر تم کچھ پریشان سی ہوگئی ہو۔‘‘
’’نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا پھر تم جلدی بھابی سے بات کرکے مجھے بتادو ٹھیک ہے۔‘‘ کہنے کو تو وہ کہہ آئی مگر گھر آنے تک اس کا دماغ الجھا رہا ابھی کچھ دن قبل تو زرین والا واقعہ ہوا تھا ایسے میں بھلا بھابی سے وہ کس طرح سجاول کے رشتہ کی بات کرتی مگر سجاول نے اگلے دو دن تک اتنی بار یہ بات دہرائی کہ وہ موقع ملتے ہی رشنا کے سامنے ساری بات کرے گی۔
’’انکل الٰہی چاہتے ہیں کہ بلاول کے ساتھ ہی سجاول کی شادی بھی کردی جائے اور سجاول چاہتا ہے کہ آپ گھر میں بات کریں۔‘‘ رشنا نے محسوس کیا اس کے لہجے میں ایک اضطراب سا جھلک رہا تھا جس کے پس پردہ کیا حقائق تھے وہ فوراً سمجھ گئی۔
’’دیکھو دری تم سجاول کو سمجھائو فی الحال زرین کے رشتہ ہونے تک وہ خاموش رہے جیسے ہی تایا جی زرین کا کہیں رشتہ طے کرتے ہیں میں عباس سے سجاول اور تمہاری بات کروں گی‘ اس سے پہلے فی الحال یہ ناممکن ہے۔‘‘ زرین کے رشتے کے سلسلے میں پیدا ہونے والی صورت حال نے ان دونوں کو ہی پریشان کردیا تھا۔
’’ویسے بھابی مجھے بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ اس دور میں ہر بات کی آزادی کے باوجود ہمارے گھرانے میں ذات برادری کو اہمیت دی جائے گی۔‘‘ رشنا کے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہ تھا‘ اس لیے وہ خاموش رہی اور پھر درشہوار نے بھی کسی طرح سجاول کو آمادہ کرلیا کہ فی الحال زرین کے رشتہ طے ہونے تک انہیں خاموش رہنا ہوگا۔
٭…٭…٭
فون کی بیل کب سے بج رہی تھی‘ درشہوار نے اپنے ہینڈ بیگ میں ہاتھ ڈال کر جلدی سے موبائل ڈھونڈا خلاف توقع دوسری جانب زرین تھی‘ اسکرین پر جگمگاتا اس کا نام دیکھ کر اس نے فوراً یس کا بٹن دبا کر سیل اپنے کان سے لگالیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ ہیلو کہتے ہوئے وہ رک گئی کیونکہ زرین اسے ہمیشہ تنبیہہ کرتی کہ جب میری کال ریسیو کرو تو ہیلو ہائے مت کیا کرو۔
’’وعلیکم السلام کیسی ہو تم؟‘‘
’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘ یہ آج تمہیں میری یاد کیسے آگئی؟‘‘
’’یاد تو خیر میں تمہیں ہمیشہ رکھتی ہوں مگر اس وقت ایک خاص کام کے لیے فون کیا تھا اگر تم فری ہو تو…‘‘
’’ہاں ضرور بتائو کیا کام ہے۔‘‘
’’کل شام میری ایک دوست کے گھر ذکر کی محفل ہے اور میں چاہ رہی تھی کہ تم میرے ساتھ چلو۔‘‘
’’ذکر کی محفل۔‘‘ حیرت سے دہراتے ہوئے درشہوار نے فون اپنے کان سے دور کیا۔
’’ہاں بھلا اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے بحیثیت مسلمان تم کسی ذکر کی محفل میں نہیں جاسکتیں۔‘‘
’’ایسا نہیں ہے زرین مگر میں کبھی گئی نہیں۔‘‘
’’تمہاری مرضی ہے دراصل اس نے ہم سب کو ٹاسک دیا تھا کہ اپنے ساتھ کم از کم تین لوگ ضرور لے کر آئیں اس لیے میں تم سے پوچھ بیٹھی کیونکہ میں‘ زارا اور امی ہم تین ہیں اور اگر تم چلتیں تو مطاہرہ کا دیا ہوا ٹاسک پورا ہوجاتا‘ بہرحال تمہاری مرضی کوئی زبردستی نہیں ہے۔‘‘ اور پھر الوداعی کلمات کے بعد زرین نے فون بند کردیا۔
مگر کچھ دنوں بعد ہی پیش آنے والے ایک واقعے نے اسے مجبور کیا کہ وہ کم از کم ایک بار زرین کے ساتھ ذکر کی محفل میں ضرور شریک ہو۔
٭…٭…٭
وقت جیسے جیسے گزر رہا تھا درشہوار کے دل کی حالت عجیب ہی ہوتی جارہی تھی‘ سوتے جاگتے سجاول کا خیال اس کے ذہن کو الجھائے رکھتا‘ سجاول کا روز بروز بڑھتا مطالبہ کہ وہ اپنے گھر والوں سے بات کرے‘ اسے پریشان کررہا تھا حالانکہ یہ کسی بھی لڑکی کے لیے خوشی کا مقام تھا وہ جسے چاہے وہ اسے اپنانے پر آمادہ ہو‘ اس کا ساتھ نبھانے کو تیار ہو مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا سجاول چاہتا تھا کہ وہ جلد از جلد اپنے گھر بات کرکے اسے گرین سگنل دے تاکہ وہ اپنی فیملی کو رشتہ کے لیے بھیج سکے جبکہ درشہوار تمام تر آزادی کے باوجود سجاول کا ذکر محض اس لیے گھر میں کسی سے کرتے ہوئے گھبرا رہی تھی کہ اس کا تعلق ایک غیر ذات اور برادری سے تھا مانا کہ محبت ذات اور برادری نہیں دیکھتی مگر کیا کیا جائے ان بڑوں کا جو اپنے بچوں کو ہر طرح کی آزادی دے کر روایات کی زنجیروں میں جکڑ دیتے ہیں‘ آج بھی وہ ان ہی خیالوں میں الجھی ہوئی میسج کے ذریعے سجاول سے بات کررہی تھی جب بابا لائونج میں داخل ہوئے ان کے چہرے پر چھائی خوشی اس بات کی غمازی تھی کہ وہ کوئی اچھی خبر سن کر آئے ہیں۔
’’السلام علیکم بابا۔‘‘ درشہوار کے ساتھ ساتھ رشنا نے بھی انہیں سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ بابا وہیں صوفے پر بیٹھ گئے جب ملازمہ ان کے لیے ٹھنڈے پانی کا گلاس لے کر آئی جسے وہ تین سانسوں میں ختم کرتے ہی ممی کی جانب متوجہ ہوئے جو لائونج میں ہی موجود تھیں۔
’’مبارک ہو‘ زرین کا رشتہ ایک بہت اچھے گھرانے میں طے ہوگیا ہے۔‘‘
’’ہیں…! یہ کب ہوا؟‘‘ ممی یہ خبر سن کر قدرے شاکڈ ہوئیں۔
’’آج اور ابھی میں ان کے گھر سے ہی آرہا ہوں‘ بھرجائی نے ہی فون کرکے بلوایا تھا چونکہ میں باہر تھا اس لیے تمہیں بتائے بنا ہی چلا گیا سوچا واپس جاکر یہ خوش خبری سب کو سنائوں گا۔‘‘
’’اچھا اب کہاں کیا ہے رشتہ؟‘‘
’’اپنی ہی برادری کے لوگ ہیں‘ زرین کی طرح لڑکا بھی عالم دین ہے‘ اچھا گھرانہ ہے فروٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔‘‘
’’زرین آمادہ ہوگئی اس رشتے پر۔‘‘ یہ وہ سوال تھا جس کا جواب سننے میں درشہوار بھی قدرے دلچسپی رکھتی تھی۔
’’اس کے آمادہ نہ ہونے کی کیا وجہ تھی؟‘‘ ممی کے سوال نے بابا کو حیران کردیا۔
’’میں نے سنا تھا کہ وہ پروفیسر صاحب کو پسند کرتی تھی جس کا رشتہ اس سے قبل آیا تھا۔‘‘
’’میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ تھا یہ سب تم عورتوں کی اڑائی ہوئی باتیں ہیں ویسے بھی وہ سب بہن بھائی خاصے سمجھدار ہیں دینی اور باشعور‘ اپنا اچھا برا سمجھنے والے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح بابا نے ایک بار پھر زرین کی تعریفیں شروع کردیں۔ وہ تعریفیں جن سے ممی کو کسی قدر چڑ تھی۔
’’میری بھی بڑی خواہش تھی کہ میرا کوئی بچہ دینی تعلیم حاصل کرتا جس طرح میرے بھائی کے بچوں نے حاصل کی مگر شاید اس میں میری ہی کوتاہی تھی جو میں یہ اعزاز حاصل کرنے کے قابل نہ رہا بہرحال جو بھی ہے شاید اس میں ہی اللہ کی رضا تھی ورنہ یقینا آج درشہوار بھی زرین کی طرح عالمہ ہوتی۔‘‘ درشہوار نے چونک کر ایک نظر بابا کے چہرے پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہے تھے جبکہ ان کی بات سنتے ہی ممی کے چہرے پر کسی قدر ناگواری کے تاثرات پھیل گئے۔
’’اللہ کا شکر ہے میرے بچوں کو بھی دین کی ساری سوجھ بوجھ ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہم دین ودنیا ساتھ لے کر چلتے ہیں ان کی طرح دنیا چھوڑ کر نہیں بیٹھے۔‘‘ غصہ سے کہتی ممی باہر نکل گئیں جبکہ بابا اپنی جگہ بیٹھے مسکراتے رہے اس پل درشہوار نے کچھ سوچا اور اٹھ کر ان کے قریب جا بیٹھی۔
’’ایک بات پوچھو بابا جانی؟‘‘
’’ہاں میرے بچے ضرور پوچھو۔‘‘
’’اگر آپ کو اتنا ہی شوق تھا کہ آپ کا بھی کوئی بچہ عالم دین ہوتا تو پھر کیوں آپ نے ایسا نہ کیا‘ اگر آپ ہمارے بچپن میں ہمیں بھئی ایسی راہ پر لگا دیتے تو میرا نہیں خیال کہ ہم کوئی مزاحمت کرسکتے تھے۔‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو بچہ لیکن میں نے ابھی ابھی یہ کہا تھا کہ اس سارے عمل میں میری کوتاہی شامل حال تھی کیونکہ مجھے طرح دار اور فیشن ایبل خواتین اچھی لگتی تھیں اور یہی وجہ تھی جو میں نے تمہاری ممی سے شادی کی یہ تو گزرتے وقت نے مجھے احساس دلایا کہ شاید کہیں مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے ورنہ میں چاہتا تو کم از کم اکلوتی بیٹی ہونے کے ناطے تمہیں ضرور ایک مکمل عالمہ بناتا مگر بہرحال جو میرے رب کو منظور۔‘‘ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے بات کرتے ہوئے بابا کی آواز میں ایک حسرت سی اتر آئی ہو‘ وہ حیرت سے اپنے باپ کے چہرے کی جانب تک رہی تھی جب اسے ملازمہ کی آواز نے چونکایا۔
’’چھوٹی بی بی آپ کو مالکن بلا رہی ہیں۔‘‘ کوئی جواب دیے بنا وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میں یہ نہیں کہتا کہ تم لوگوں میں کوئی کمی ہے ہر لحاظ سے تم تینوں میری قابل فخر اولاد ہو نیک اور ایمان دار‘ ہمیشہ میرے حکم کی پاسداری کرنے والی فرماں بردار اولاد بس ایک دل کی خواہش تھی جو میں نے تم سے شیئر کی‘ اس بات کو لے کر کچھ غلط مت سوچنا۔‘‘ درشہوار کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بابا نے ہر بات کی وضاحت کی انہیں لگا شاید زرین کی تعریفیں درشہوار کو بھی ناگوار محسوس ہوئی ہیں۔
’’اٹس اوکے بابا آپ فکر مت کریں مجھے آپ کی کوئی بات بری نہیں لگی۔‘‘ انہیں دلاسہ دیتی وہ باہر نکل گئی‘ لیکن آج کی گفتگو سے اسے کھل کر یہ اندازہ ہوگیا کہ اس کے والد زرین کو اس پر فوقیت کیوں دیتے ہیں؟ یقینا اس لیے کہ وہ اللہ کا کلام اپنے دل میں اتارنے کا اعزاز رکھتی تھی تو پھر ضرور وہ اللہ کی پسندیدہ بندی تھی جس نے اسے اس قابل سمجھا ورنہ عام شخص کی کیا مجال جو وہ اللہ کے کلام کو اتنی آسانی سے اپنے سینے میں اتار سکے‘ زرین خاص تھی یہ احساس دیگر تمام باتوں پر غالب آگیا اور اسے یک دم ہی زرین پر رشک آنے لگا یہی وجہ تھی جو اس نے پہلی بار زرین کو خود فون کیا کہ وہ درس قرآن کی کسی محفل میں جائے تو اسے بھی ساتھ لے جائے۔
٭…٭…٭
اور پھر سجاول کے حوالے سے اسے جو خدشہ تھا وہ پورا ہوگیا‘ اس کے منع کرنے کے باوجود انکل الٰہی نے بابا سے درشہوار کے رشتے کی بات کرلی اور یہ خبر جب اسے فون پر سجاول نے دی تو وہ حیران رہ گئی۔
’’میں نے کہا تھا نہ سجاول جب تک میں نہ کہوں کسی سے کوئی بات نہ کرنا۔‘‘
’’بابا جان نے اپنے طور پر بات کی تھی میں نے انہیں تمہارے متعلق کچھ نہ بتایا اور جانتی ہو تمہارے بابا نے کیا جواب دیا؟‘‘ سجاول کا لہجہ کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کررہا تھا۔
’’کیا جواب دیا بابا نے؟‘‘ وہ اپنے اندر کی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی۔
’’بڑا عجیب اور دقیانوسی سا جواب تھا ان کا بقول بابا جان کے کہ تمہاری فیملی میں غیر ذات اور برادری میں رشتہ نہیں کیا جاتا مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی درشہوار…‘‘ آخر میں سجاول کا لہجہ شکایتی ہوگیا۔
’’جب تم یہ سب کچھ جانتی تھیں تو پھر کیوں مجھے محبت کے اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں سے واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔‘‘
’’میں یہ بات نہیں جانتی تھی سجاول اور اگر جانتی بھی تو یقین جانو کہ محبت ایک ایسا بے اختیار جذبہ ہے جو ذات برادری سے بالا تر ہوتا ہے۔‘‘ اس کا لہجہ اس کے سچ کی گواہی دے رہا تھا۔
’’مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ انکل محض اتنی سی بات پر بابا کو انکار کرسکتے ہیں جبکہ میں سمجھتا رہا کہ وہ اپنی اور بابا کی دوستی کی خاطر کبھی بھی اس رشتے سے منع نہیں کریں گے۔‘‘
’’اللہ پر بھروسہ رکھو وہ ضرور بہتری کی کوئی راہ نکالے گا۔‘‘
اپنی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کی ادائیگی نے اسے خود بھی حیران کردیا اس کی گفتگو میں ایسا جملہ غالباً پہلی بار شامل ہوا تھا۔
’’میرا خیال ہے تم خود انکل سے بات کرو اور انہیں اپنے اور میرے متعلق سب کچھ سچ سچ بتادو ہوسکتا ہے تمہاری محبت انہیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کردے۔‘‘ سجاول کے نزدیک اس مسئلہ کا حل اس سے بہتر کوئی نہ تھا۔
’’میں کوشش کروں گی۔‘‘ سجاول کو دلاسہ دیتے وقت اسے خود بھی یقین نہ تھا کہ آیا وہ خود اپنے باپ کے سامنے جاکر کھڑی ہوسکتی ہے‘ محبت کے معاملے میں آج پہلی بار اسے اپنا آپ بہت کمزور لگا اسے اندازہ ہوا کہ محبت کرنا بڑے بہادر لوگوں کا کام ہے اس جیسے لوگ جو اپنوں کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوں انہیں ایسا قدم اٹھانا ہی نہیں چاہیے۔
٭…٭…٭
درشہوار نے ہوش سنبھالتے ہی بابا کو ہمیشہ نماز اور روزے کا پابند دیکھا البتہ اس کی ممی اس معاملے میں تھوڑا سست تھیں اور یہی سستی ان کی اولاد میں بھی در آئی‘ ممی کی طرح وہ تینوں بہن بھائی بھی نماز کو یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ وقت ہی نہیں ملا‘ ان تینوں کی طرح رشنا بھی اس معاملے میں اتنا ہی لاپروا تھی البتہ جب کبھی وہ کسی ایسی خاندانی تقریب میں شریک ہوتے جہاں تایا کی فیملی بھی ہوتی تو صرف ان کو دکھانے کے لیے رشنا اور درشہوار نماز پڑھ لیتیں کیونکہ جانتی تھیں کہ نہ پڑھنے کی صورت میں دونوں کو تائی امی اور تایا ابو سے سخت باتیں سننے کو ملتیں وہ دونوں اس معاملے میں کسی کا لحاظ نہ کرتے تھے اور آج اتنے سالوں میں پہلی بار درشہوار کو محسوس ہوا کہ نماز کے سلسلے میں ان کی یہ سختی بجا تھی‘ اسے حیرت اپنے بابا پر تھی جنہوں نے کبھی یہ نہ چاہا کہ وہ کچھ اور نہ سہی کم از کم گھر میں نماز کی پابندی پر تو سخت رویہ اختیار کرتے‘ درشہوار کی پھوپو لندن میں رہتی تھیں مگر اس کے باوجود ان کی دونوں بیٹیاں ایک اچھی مسلمان تھیں بے شک پھوپو روشنی اور ان کی بیٹیاں خوب ماڈرن تھیں مگر اس کے باوجود ان کے ہاں نماز‘ قرآن کا خاص اہتمام کیا جاتا پھر جانے ان کا ماحول سب سے الگ کیوں ہوگیا کہ اب چاہتے ہوئے بھی اس کے لیے باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھنا قدرے مشکل ثابت ہورہا تھا مگر پھر بھی وہ کوشش کرکے عصر اور مغرب کی نماز پڑھنا شروع ہوگئی تھی اور کبھی تو وہ بھی اکثر رہ جاتی جب وہ سو رہی ہوتی یا گھر سے باہر کہیں مصروف ہوتی آج اس کی یونیورسٹی کی چھٹی تھی جب اسے زرین کا فون آگیا۔
’’اگر تم کہیں مصروف نہیں تو گھر آجائو۔‘‘
’’کہیں جانا ہے؟‘‘
’’کہیں نہیں‘ آج ہمارے گھر پر ہی درس قرآن کی محفل ہے میں نے سوچا تمہیں بھی مدعو کرلوں لیکن اس سلسلے میں کوئی زبردستی نہیں ہے اگر تمہارا دل چاہے تو…‘‘
’’ٹھیک ہے میں آجائوں گی۔‘‘ کہنے کو تو اس نے کہہ دیا مگر جب شام میں تیار ہونے کے لیے الماری کھولی تو سمجھ میں ہی نہ آیا ایسا کون سا لباس پہنے جو اس محفل میں پہن کر جانے کے قابل ہو‘ اس کی ساری الماری جینز اور ٹی شرٹ سے بھری پڑی تھی‘ اکادکا اگر شلوار قمیص تھیں تو وہ بھی سلیولیس اور بنا دوپٹے کے‘ گھر میں اس کے علاوہ واحد رشنا تھی جس کے پاس شاید کوئی ایسی شلوار قمیص ہو جو آج اس کے کام آسکے یہی سوچ کر وہ رشنا کی جانب آگئی۔
’’خیریت ہے تمہیں شلوار قمیص کی کیا ضرورت پیش آگئی۔‘‘ ہینگر میں لگے اپنے سارے کپڑے اس کے سامنے ڈالتے ہوئے رشنا نے سوال کیا۔
’’میں تایا ابو کے گھر جارہی ہوں۔‘‘
’’خیریت…؟‘‘
’’جی… زرین نے بلایا ہے درس کی محفل ہے۔‘‘
’’درس کی محفل؟‘‘ درشہوار کے جواب سے رشنا کو یک دم جھٹکا سا لگا جبکہ وہ بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے اپنا مطلوبہ ڈریس ہاتھ میں لیے کمرے سے باہر نکل گئی اسے اس طرح جاتا دیکھ کر رشنا کو غم کی ایک کیفیت نے گھیرلیا اسے لگا شاید سجاول سے ہونے والی ممکنہ دوری کے احساس نے اس کے اعصاب پر برا اثر ڈالا ہے یہی سوچ کر وہ اس کے پیچھے ہی کمرے میں آگئی جہاں درشہوار سفید شلوار قمیص میں ملبوس ہمیشہ سے بہت مختلف لگ رہی تھی۔
’’دیکھو دری تم بلاوجہ اس مسئلے کو لے کر پریشان نہ ہو۔‘‘
’’کس مسئلے کو؟‘‘ رشنا کی بات سن کر وہ قدرے حیرت سے بولی۔
’’وہی سجاول والا مسئلہ‘ دراصل انکل الٰہی نے تو بابا سے صرف اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ہم سے رشتہ داری کرنا چاہتے ہیں جس پر بابا نے بتایا کہ ہم غیر برادری میں رشتہ نہیں کرتے اور بس یہ کوئی باقاعدہ رشتہ نہیں ڈالا تم فکرمت کرو میں عباس سے کہوں گی وہ بابا کو بتائیں کہ تم سجاول کو پسند کرتی ہو اور ساتھ ہی سجاول سے کہو کہ وہ بھی یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائے۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھابی مگر فی الحال آپ عباس بھائی سے کوئی بات مت کریں۔‘‘ انہیں رسانیت سے جواب دے کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی اور پھر پندرہ منٹ بعد ہی جب وہ تایا ابو کے گھر پہنچی تو تقریباً سب ہی لوگ آچکے تھے باوجود کوشش کے اسے اپنا یہ لباس دوسروں کے معاملے میں کچھ غیر معیوب سا لگا سفید نیٹ کی قمیص کی آستینوں کے نیچے استر نہ تھا‘ درشہوار نے اپنا دوپٹہ اچھی طرح کھول کر لینے کی کوشش کی تو وہ بھی خاصا چھوٹا نکلا‘ وہ شرمندہ سی ہوگئی کیونکہ اسے وہاں ہر عورت لپٹی لپٹائی سی دکھائی دے رہی تھی زارا پر نظر پڑتے ہی ذہن میں یک دم اپنی بھابی رشنا کا سراپا لہرا گیا جو اس کے گھر سے نکلتے وقت چھوٹی سی ٹی شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس تھی جبکہ ان کے گھر میں کئی ملازم مرد موجود تھے۔ اپنے گھر کی خواتین کا موازنہ یہاں موجود عورتوں سے کرتے ہوئے وہ کچھ عجیب سی ہوگئی۔
’’ارے وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آجائو۔‘‘ زرین اسے اپنے ساتھ لیے اندر آگئی اسی پل اس کے موبائل پر مما کی کال آگئی جسے سنے بنا اس نے فون بند کرکے بیگ میں رکھ دیا جانتی تھی وہ رشنا بھابی سے اس کے درس میں جانے کا سن کر پریشان ہوگئی ہوں گی اور اس وقت وہ فی الحال ان کے کسی سوال کا جواب دینے کے موڈ میں نہ تھی ویسے بھی یہاں آتے ہوئے اس نے بابا کو بتادیا تھا کہ وہ تایا جی کے گھر جارہی ہے‘ اسی لیے وہ بے فکری سے زرین کے ساتھ بیٹھ گئی سامنے صوفے پر بیٹھی عالمہ قرآن شریف کھولے سورہ نساء کی کچھ آیات کی تفسیر بیان کررہی تھی جن کا تعلق عورتوں اور ان کے گھریلو معاملات سے تھا چونکہ آج وہ پہلی بار کسی ایسی محفل میں شریک ہوئی تھی اس لیے ان کی بیان کردہ باتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی جب اچانک ایک لڑکی کی طرف سے کوئی سوال کیا گیا‘ سوال کیا تھا یہ اس نے نہ سنا مگر اس کا جو جواب عالمہ کی جانب سے آیا اس نے درشہوار کو بیٹھے بیٹھے اپنی جگہ سن کردیا۔
’’دیکھو بیٹا یاد رکھو زندگی میں ہمیشہ ہمیں وہی ملتا ہے جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اس بہتری کا فیصلہ ہمارا رب کرتا ہے۔‘‘ عالمہ باجی نے سب پر ایک نظر ڈالتے ہوئے قدرے مسکرا کر کہا۔ ’’اور جو فیصلہ ہمارا رب کرتا ہے یقینا اس سے بہتر فیصلہ کوئی ہو نہیں سکتا‘ اسی لیے حدیث قدسی ہے
’اے ابن آدم! ایک تیری چاہت ہے اور اک میری چاہت ہے‘ ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔‘‘ یہاں تک پہنچ کر عالمہ باجی رک گئیں اور انہوں نے ایک بار پھر کمرے میں موجود تمام خواتین پر نظر ڈالی ان کی آواز کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی اتنی نرمی تھی کہ درشہوار بے خود انہیں دیکھے گئی وہ سننا چاہتی تھی کہ عالمہ باجی آگے کیا کہہ رہی ہیں اور جیسے ہی وہ ایک بار پھر سے گویا ہوئیں درشہوار کا سارا وجود کان بن گیا۔
’’اے ابن آدم! ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے… پر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے… پس اگر تو نے سپرد کردیا اپنے آپ کو… اس کے جو میری چاہت ہے… تو میں بخش دوں گا تجھے وہ جو تیری چاہت ہے۔ اگر تو نے روگردانی کی اس کی جو میری چاہت ہے تو میں تھکادوں گا تجھ کو اس میں جو تیری چاہت ہے پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔‘‘
الفاظ تھے یا جادو جنہوں نے دھیرے دھیرے درشہوار کے سارے وجود کو اپنی دسترس میں لے لیا‘ کیا وہ اس قابل تھی کہ اسے وہ ملتا جو اس کی چاہت تھا؟ نہیں اس نے تو اپنی زندگی میں کبھی وہ نہیں کیا جو اس کے رب کی چاہت تھی پھر اسے کیسے ملتا وہ سب جو اس کی چاہت تھا یقینا اپنی چاہت پانے کے لیے پہلے اپنے رب کی چاہت پانا ضروری تھا۔ اس سوچ کے ساتھ ہی اس کا سارا وجود لرز اٹھا۔
’’اور ویسے بھی بیٹا ہمارا مذہب ہمیں کسی نامحرم سے محبت کا درس نہیں دیتا محبت کے لیے محرم ہونا ضرور ی ہے۔‘‘
’’محرم‘ اور نامحرم‘‘ یہ دو الفاظ بھی اس نے اپنی زندگی میں آج پہلی بار سنے تھے ورنہ آج سے پہلے تو اس نے کبھی اس نقطہ پر سوچا ہی نہ تھا‘ سجاول ایک نامحرم تھا پھر وہ کیسے اس سے محبت کی دعوی دار تھی‘ کیا اس محبت کی اجازت اس کا رب دیتا تھا؟
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب خود اس کے پاس بھی نہ تھا‘ پھر نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کہ جو وہ قریب بیٹھی زرین کو مخاطب کر بیٹھی۔
’’ایک بات پوچھوں زرین؟‘‘
’’ہاں پوچھو۔‘‘
’’کیا تم فیصل کے ساتھ جڑنے والے اپنے اس رشتے سے مطمئن ہو‘ میرا مطلب یہ ہے کہ تم تو شاید پروفیسر امان اللہ کو پسند کرتی تھیں۔‘‘
’’ یرا خیال ہے درشہوار تم غلط سوچ رہی ہو۔‘‘ زرین ہلکا سا مسکرائی۔
’’میرے اور پروفیسر امان اللہ کے درمیان ایسا کچھ بھی نہ تھا جسے پسند کا نام دیا جائے میں نے تو شاید زندگی میں کبھی ان سے بات بھی نہ کی‘ یہ الزام مجھ پر اس لیے لگا کہ وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے اور بس ورنہ سچ تو یہ ہے کہ میں بہت پہلے سے ہی فیصل کو پسند کرتی تھی ہاں ہمارے درمیان کوئی ایسی محبت نہ تھی کوئی ایسا تعلق نہ تھا جو آج کل کے زمانے میں دیکھنے کو ملتا ہے بس ایک خاموش محبت تھی اور خاموش رابطہ تھا جو اب بالکل ختم ہوگیا جب مجھے یہ علم ہوا کہ فیصل کا رشتہ بچپن میں اس کے تایا کے گھر طے ہے۔‘‘ وہ دم سادھے زرین کی وہ باتیں سن رہی تھی جن کا علم اسے آج سے پہلے نہ ہوا تھا۔
’’ویسے بھی فیصل کی امی خاصی ماڈرن خاتون ہیں بالکل تمہاری ممی جیسی اور انہیں اس حوالے سے میں بالکل پسند نہ تھی تو ظاہر سی بات ہے قصہ ختم‘ ان کی پسند میں ڈھلنے کے لیے میں اپنی شخصیت کو مسخ نہ کرسکتی تھی اور نہ ہی محض ایک فیصل کی چاہت پانے کی خاطر مجھے اپنے رب کو ناراض کرنا تھا‘ اگر میرا یہ حلیہ انہیں ناپسند تھا تو پھر مجھے کوئی حق نہ تھا کہ میں فیصل کو پانے کے لیے کسی پاتال میں جاگرتی اسی لیے میں نے اپنے دل ودماغ سے اسے مکمل طور پر نکال دیا تھا۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے بولتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔
’’تو پھر یہ سب کیسے ہوا؟‘‘ درشہوار ابھی بھی حیران تھی۔
’’شاید میں نے خود کو اپنے رب کی چاہت کے سپرد کردیا تھا تو بدلے میں اس نے مجھے میری چاہت سے نواز دیا اور وہ سب ہوگیا جس کی مجھے امید بھی نہ تھی فیصل کی تایا زاد نے صرف اس لیے اسے انکار کردیا کہ اس نے دین کو اپناتے ہوئے نبی کریمﷺ کی سنت پوری کی اور ڈاڑھی رکھ لی اس کی یہ ڈاڑھی جہاں اس کا بچپن کا رشتہ ختم کرنے کا باعث بنی وہاں وہ اسے میرے قریب لے آئی جس کے لیے میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے‘ میں یہ نہیں کہوں گی کہ اس کی کزن بدنصیب تھی جس نے محض اپنی کم عقلی کے باعث فیصل جیسے ہیرے کو گنوا دیا بلکہ میں یہ کہوں گی کہ میں خوش نصیب ہوں جس کے مقدر میں فیصل لکھ دیا گیا۔‘‘ درشہوار نے محسوس کیا محض الفاظ کی تبدیلی نے جملے کی بدصورتی کو بالکل ختم کردیا اسے زرین کا اپنے لیے استعمال کردہ لفظ خوش نصیب بہت اچھا لگا۔
’’جانتی ہو کل تک مجھ پر باتیں کرنے والی ثریا آنٹی کا اپنا بیٹا آج ایک مکمل مسلمان بن چکا ہے اس کا ظاہر وباطن دنوں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں سرشار ہوچکے ہیں یقینا ایک شخص کی محبت نے مجھے اپنے دین سے نہیں بھٹکایا کیونکہ میرے لیے کسی بھی دنیاوی محبت سے زیادہ میرے اللہ کی محبت اہم تھی اور آج اللہ کی محبت نے میری خالی جھولی مرادوں سے بھردی بے شک میرا رب ہمارے حق میں بہتر فیصلے کرتا ہے اور اس کا یہ ایک بہتر فیصلہ تھا جس کی بنیاد پر ذات کو سامنے رکھتے ہوئے پروفیسر امان اللہ کو ٹھکرا دیا گیا اگر اس وقت ذات برادری کو اہمیت نہ دی جاتی تو سوچو ذرا میں آج فیصل کو کیسے حاصل کرتی؟ اس کے لیے میں اپنے پروردگار کا جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے جس نے اپنی حکمت سے مجھے میری محبت سے نواز دیا۔‘‘ درشہوار نے دیکھا شکر گزاری اس کی رگ رگ سے جھلک رہی تھی۔ اس کا رواں رواں اللہ کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا جس کا احساس کسی بھی باشعور شخص کو زرین کا چہرہ دیکھ کر بخوبی ہوسکتا تھا‘ اس کی اس کیفیت نے درشہوار کے وجود میں جھرجھری سی بھردی اور وہ ایک دم ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بیٹھ جائو دری کہاں جارہی ہو۔‘‘ زرین نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر روکا اور وہ بنا مزاحمت کسی روبوٹ کی مانند دوبارہ وہیں بیٹھ گئی کچھ دیر بعد عالمہ باجی نے دعا میں ایسا انداز اپنایا تھا کہ بے اختیار ہی اس کا دل بھر آیا اور وہ رو پڑی آج زندگی میں پہلی بار اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی ساری زندگی عمل سے خالی ہے اس کے پاس کوئی ایسا عمل نہ تھا جس کو سامنے رکھ کر وہ اپنے رب سے کچھ مانگ سکتی وہ تہی دست تھی بالکل خالی ہاتھ جس میں دنیا تو بھری تھی مگر دین کا کہیں دور تک نام ونشان نہ تھا یقینا اسے بھی وہ کرنا چاہیے تھا جس میں اس کا رب راضی ہوتا اور پھر لازمی وہ اس کا مقدر بن جاتا جو وہ چاہتی تھی تو پھر ضروری ٹھہرا کہ خود کو اپنے رب کی رضا میں ڈھال دے اس احساس کے پیدا ہوتے ہی وہ اندر تک پُرسکون ہوگئی اور اسی پل اس نے ایک ایسا اہم فیصلہ کیا جو شاید وہ ساری زندگی کبھی نہ کرپاتی سچ ہے کبھی کبھی ادراک کا ایک پل ہماری ساری حیات کو بدل دیتا ہے اور وہ ہوجاتا ہے جو ساری زندگی کی عبادت بھی نہیں کرسکتی اور ایسا ہی کچھ درشہوار کے ساتھ بھی ہوچکا تھا جس کا باطن بالکل تبدیل ہوگیا تھا۔
٭…٭…٭
’’میں سردار بھائی کو اتنا دقیانوسی نہ سمجھتی تھی۔‘‘ ممی نے اپنے ناخن فائل کرتے ہوئے سجاول کو تکا جو ان کے منہ سے نکلنے والے اس اچانک جملے کو سن کر کچھ حیران سا ہوا تھا۔
’’حیران مت ہو۔‘‘ وہ ماں تھیں غالباً اسی لیے سجاول کے چہرے پر پھیلے تاثرات دیکھ کر اس کے دل کی بات سمجھ گئیں۔
’’میں نے کئی بار تمہاری آنکھوں میں درشہوار کی محبت کے جگنو چمکتے دیکھیں ہیں اور جان گئی تھی کہ تم دونوں کے درمیان کچھ چل رہا ہے اسی لیے تمہارے بابا سے کہا کہ وہ سردار صاحب سے بات کرلیں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ وہ اب سمجھا کہ بابا نے درشہوار کے والد سے بات کیوں کی تھی۔
’’لیکن معاف کرنا بیٹا مجھے اندازہ نہ تھا کہ وہ صرف ذات برادری کو فوقیت دیتے ہوئے اپنی بیٹی کا دل اس طرح توڑ دیں گے۔‘‘
’’اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے ممی دراصل انکل وہ سب نہیں جانتے جو آپ جانتی ہیں۔‘‘ اس نے جلدی سے اپنی ماں کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے کہا۔
’’انکل نہ سہی آنٹی تو جانتی ہوں گی آخر بیٹی کی ماں ہے کیسے نہیں جانتی کہ بیٹی کے دلی جذبات کیا ہیں؟ اور اگر نہیں جانتی تو پھر نہایت ہی بے خبر ماں ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ وہ بھی کچھ نہیں جانتیں کیونکہ اس معاملے میں درشہوار شروع سے ہی خاصی محتاط رہی ہے۔‘‘
’’میں نہیں مانتی۔‘‘ ممی نے نفی میں اپنی گردن ہلائی۔ ’’آخر تم بچپن سے ان کے گھر آجارہے ہو پھر بھلا انہیں کیوں نہیں علم کہ اندرون خانہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے بلاوجہ کی ڈرامے بازی۔‘‘ سجاول نے چونک کر اپنی ماں کے چہرے کی جانب دیکھا جہاں پھیلی واضح ناگواری اس بات کا ثبوت تھی کہ انہیں انکل کی جانب سے کیا جانے والا انکار سخت ناگوار گزرا ہے۔
’’پلیز ممی آپ غلط سوچ رہی ہیں اور ویسے بھی انکل اور بابا کے درمیان اس حوالے سے جو بھی گفتگو ہوئی وہ مردانہ میں ہوئی جس کا علم گھر کے اندر اس وقت ہوا جب انکل نے غیر ذات کا ایشو بابا تک پہنچایا تھا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فی الحال وہ اپنی بیٹی کی دلی حالت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے انہوں نے بظاہر ایک سرسری سی گفتگو کا جواب بھی سرسری انداز میں دے دیا بات ختم‘ ہم کون سا باقاعدہ رشتہ لے کر گئے تھے جو انکار کی صورت میں آپ اتنا غصہ کررہی ہیں پلیز آپ ریلیکس ہوجائیں میں نے دری سے کہہ دیا ہے وہ اپنے بابا سے خود بات کرکے انہیں سب کچھ بتادے گی اور میرا خیال ہے کہ اس کے بعد انکل کو کوئی اعتراض نہ ہوگا اور پھر آپ بابا کے ساتھ ان کے گھر جاکر رشتہ طے کردیجیے گا۔‘‘
’’میرا نہیں خیال کہ وہ مانیں گے پھر بھی تم اگر چاہو تو ایک کوشش کرکے دیکھ سکتے ہو ورنہ میرا خیال ہے کہ اس لڑکی کو اپنے دل ودماغ سے نکال کر آس پاس نظر ڈالو دنیا حسین لڑکیوں سے بھری پڑی ہے بلاوجہ اپنا ٹائم ضائع مت کرو۔‘‘
’’محبت میں ٹائم ضائع نہیں ہوتا ممی اور نہ ہی محبت ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا کرتی ہے۔‘‘
’’دیکھو بیٹا ہر کہانی کا کوئی نہ کوئی انجام ضرور ہوتا ہے‘ اس لیے بہتر ہوگا کہ جلد از جلد اپنی محبت کو بھی کسی انجام تک پہنچا دو ورنہ میں نے تمہارے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے اس سے ملو اور اپنا فیصلہ دو۔‘‘ سجاول چونک گیا اسے اب سمجھ آیا کہ ممی کی اس ساری گفتگو کا مقصد کیا تھا۔
’’اب یہ مت کہنا کہ تم درشہوار کے علاوہ کسی سے شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ حقیقی زندگی اور فلموں میں بڑا فرق ہوتا ہے یہاں حقائق کو سامنے رکھ کر جینا پڑتا ہے‘ خوابوں میں محبوب کے ساتھ زندگی بسر نہیں ہوتی ویسے بھی فائقہ کا تعلق ایک ایلیٹ کلاس گھرانے سے ہے اس کے والد سنیٹر رہ چکے ہیں اور آج کل ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ اعلیٰ بھی ہیں اور ایسے رشتے سے تمہارے والد کو بہت فائدہ ہوگا لہٰذا اگر محبت نہ ملے تو پھر اپنے اور اپنی فیملی کے فائدے کا سوچو زندگی گزارنی ہے تو پھر من پسند ساتھی نہ سہی فائدہ مند ساتھی چن لو۔‘‘
ممی خالص کاروباری انداز میں اسے سمجھاتے ہوئے بھول گئی تھیں کہ محبت کوئی کاروبار نہیں اور نہ ہی فائدہ مند ساتھی‘ من پسند کو بھلانے میں کارآمد ہوسکتا ہے‘ کیونکہ فی الحال اس کے دل میں جو جگہ درشہوار کی تھی وہ کوئی اور نہ لے سکتا تھا مگر یہ بات اس لمحہ ممی کو سمجھانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا اسی لیے وہ خاموشی سے ان کی ساری باتیں سنتا گیا۔
٭…٭…٭
وہ صبح سے کچھ بے چین تھی‘ رات تایا جی کے گھر سے واپس آکر اس نے عشاء کی نماز پڑھی تو ایسا لگا جیسے اس کی نماز میں خشوع وخضوع نہیں جو کسی مسلمان کی نماز میں ہونا چاہیے نماز پڑھتے وقت اس کا دل کسی بھی جذبے سے قطعی عاری تھا اور اسی خیال نے اسے بے چینی عطا کردی تھی وہ چاہتی تھی کہ نماز کو صرف فرض سمجھ کر ادا نہ کرے بلکہ نماز میں اللہ کی محبت کا تصور اس کے دل کو گداز کردے ایسی نماز جو اللہ کے نزدیک اسے پسندیدہ بندی بنادے وہ اپنے رب کی عبادت دل وجان سے کرنا چاہتی تھی اس کی محبت میں ڈوب جانا چاہتی تھی جو شاید اتنی آسانی سے ممکن نہ تھا۔ وہ اس کی راہ میں فنا ہونا چاہتی تھی سارا دن اسی سوچ کو اپنے دل ودماغ میں بسائے وہ رات بابا کے گھر آتے ہی ان کے پاس جاپہنچی آج شاید اس کی زندگی کا یہ پہلا دن تھا جب اس نے صبح سے اپنا فون بند کر رکھا تھا اسے پورے چوبیس گھنٹے ہوگئے تھے سجاول سے بات کیے ہوئے مگر اب اس کے دل میں سجاول سے زیادہ اپنے رب کی ناراضگی کا احساس اجاگر ہوچکا تھا اور اس احساس نے باقی سارے احساسات کو ختم کردیا تھا‘ رب کی ناراضگی سجاول کی ناراضگی پر غالب آچکی تھی اور سجاول سے بات کرنے کا خیال تک اس کے دل سے نکل چکا تھا۔ وہ اس وقت جب بابا کے پاس اسٹڈی روم میں پہنچی تو سردار صاحب اسے دیکھتے مسکرا کر بولے۔
’’ارے آئو میرا بچہ میں ابھی تمہیں ہی یاد کررہا تھا۔‘‘
’’کیوں بابا خیریت؟‘‘ آہستہ سے کہتی وہ ان کے قریب جابیٹھی۔
’’بالکل خیریت ہے یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لے کر آیا ہوں‘‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے قریب رکھی چابی اس کی جانب بڑھادی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ وہ دیکھ چکی تھی کہ بابا کے ہاتھ میں تھمی چابی یقینا کسی گاڑی کی ہے۔
’’بچہ اس دن تم شکایت کررہی تھیں کہ حاشر تمہیں اپنی گاڑی استعمال کرنے کے لیے نہیں دیتا تو میں نے سوچا کیوں نہ اپنی بیٹی کے لیے بھی ایک گاڑی لے لی جائے تمہیں پہلے اس لیے نہ بتایا کہ تمہاری ممی کا ارادہ تمہیں سرپرائز دینے کا تھا۔‘‘
’’تھینک یو بابا۔‘‘ درشہوار نے بے دلی سے چابی ان کے ہاتھ سے تھام کر شکریہ ادا کیا جسے فوراً ہی سردار صاحب نے محسوس کرلیا اور اب جب غور کیا تو انہیں درشہوار کچھ پریشان اور الجھی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’کیا بات ہے دری سب ٹھیک تو ہے ناں۔‘‘ درشہوار کا ہاتھ تھام کر انہوں نے نہایت فکرمندی سے پوچھا۔
’’آپ سے ایک بات کرنی تھی بابا لیکن پہلے وعدہ کریں میں جو کہوں اس پر آپ نے انکار نہیں کرنا۔‘‘
’’ایسی کیا بات ہوگئی جب کہ تم اچھی طرح جانتی ہو میں نے آج تک تمہاری کسی جائز بات کو نہیں ٹھکرایا پھر اتنی بے یقینی کی وجہ؟‘‘ انہیں خدشہ لاحق ہوا درشہوار شاید کچھ ایسا کہنے والی ہے جوان کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔
’’مجھے نہیں علم بابا میں جو کہنے والی ہوں وہ آپ کے نزدیک درست ہے یا غلط لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ یہ میری زندگی کا ایک بہت ہی درست فیصلہ ہے جو میں نے بالغ ہونے کی حیثیت سے کیا اور اب ایک باپ ہونے کے ناطے آپ کا فرض ہے کہ مجھے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی اجازت دیں۔‘‘ وہ آج بڑی مشکل زبان بول رہی تھی سردار صاحب نے دیکھا اس کا سر دوپٹہ سے ڈھکا ہوا تھا۔ انہیں شدید ترین حیرت ہوئی کہ اپنی بیٹی میں رونما ہونے والی اس نئی تبدیلی کا انہیں اتنی دیر سے احساس کیوں ہوا۔
’’تم بولو میں سن رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے دیکھا درشہوار کے ہونٹ لرز رہے تھے شاید وہ اندرہی اندر رو رہی تھی۔
’’کیا ہم صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ ہمارے آبائو اجداد مسلمان تھے‘ کیا اسلام صرف نسل درنسل منتقل ہونے کا نام ہے‘ کیا ہمارے اعمال زیرو اور نام مسلمان ہماری بخشش کروا سکے گا؟‘‘ وہ شاکڈ ہوگئے وہ تو کبھی سوچ ہی نہ سکتے تھے کہ درشہوار اس طرح کی گفتگو بھی کرسکتی ہے ایسے سوال پوچھ سکتی ہے جس کا جواب دیتے ہوئے انہیں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’’جواب دیں بابا… بحیثیت مسلمان ہمارا پہلا فرض کیا ہے؟ کیا ایک مسلمان کے لیے اپنے رب کو راضی رکھنا ضروری نہیں؟ پھر کیوں بابا ہم سب کو راضی کرتے ہوئے اپنے رب کو بھول جاتے ہیں۔‘‘ انہیں حیرت ہوئی درشہوار زارو قطار رو رہی تھی جب اسی پل فرحین اندر داخل ہوئی اور بیٹی کو اس طرح روتا دیکھ کر ہکابکا رہ گئی۔
’’کیا ہوا اسے؟‘‘ وہ تیزی سے درشہوار کی جانب بڑھیں۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ سردار صاحب نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
’’تم مجھ سے کیا چاہتی ہو بچہ مجھے بتائو میں اس سلسلے میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں۔‘‘کمرے میں فرحین کی موجودگی کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے وہ درشہوار سے مخاطب ہوئے۔
’’میں جاننا چاہتی ہوں ہمارا مذہب کیا ہے؟ اس کے کیا تقاضے ہیں‘ میں ان پر پورا اترنا چاہتی ہوں‘ میں دین اسلام کی سچی پیروکار بننا چاہتی ہوں ایسی پیروکار جو اپنے رب سے قریب ہو تاکہ کل مرنے کے بعد داغ دار دامن لے کر اپنے رب کے حضور حاضر نہ ہوں‘ مجھے ایمان سے خالی نماز ادا نہیں کرنی‘ میں وہ عبادت کرنا چاہتی ہوں جو مجھے میرے رب سے ہم کلام کردے۔‘‘ اس کی باتیں فرحین کے دماغ کو سلگا گئیں وہ ایک پل میں ہی سمجھ گئیں کہ درشہوار کے دماغ میں بھرے اس فتور کے پیچھے یقینا زرین کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ کل وہاں کسی تقریب میں گئی تھی مگر اس وقت وہ خاموشی سے سننا چاہتی تھیں کہ درشہوار کیا کہنا چاہ رہی ہے یہی وجہ تھی کہ وہ چپ چاپ اپنی جگہ کھڑی رہیں۔
’’بابا میں دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں جس کے لیے میری خواہش ہے کہ آپ مجھے اس مدرسہ میں داخل کروا دیں جہاں زرین پڑھتی تھی۔‘‘
’’واٹ…! تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے جو منہ میں آیا بکے چلی جارہی ہو۔‘‘ غصہ میں آگے بڑھ کر مما نے زور سے اس کا بازو کھینچا مگر تکلیف یا غصہ کا کوئی بھی تاثر درشہوار کے چہرے پر نہ ابھرا وہ خاموشی سے سر جھکائے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
’’جانتی ہو اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے تمہیں ہاسٹل میں رہنا پڑے گا۔‘‘ مما پر توجہ دیے بنا بابا نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بتایا۔
’’ہاں میں جانتی ہوں کہ وہاں پڑھنے کے لیے رہائش بھی وہیں اختیار کرنا ہوگی سب کچھ دیکھ کر اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر ہی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘‘
’’تو پھر کوئی ایسا دینی ادارہ دیکھ لو جہاں تم صبح جائو اور رات میں گھر واپس آجائو۔‘‘ جانے کیوں سردار صاحب کا دل اسے کہیں اس طرح چھوڑنے پر آمادہ نہ ہورہا تھا۔
’’میں نماز فجر سے لے کر عشاء تک دین کی مکمل آگہی چاہتی ہوں‘ جس کے لیے مجھے مدرسہ میں رہائش اختیار کرنا ضروری ہے‘ ویسے بھی وہ مدرسہ ہمارے گھر سے دو گھنٹہ کے فاصلے پر ہے جہاں روز آنے اور جانے سے نہ صرف میرا ٹائم ضائع ہوگا بلکہ تھکن کے باعث شاید میں کچھ سمجھ بھی نہ پائوں‘ اسی لیے بہتر ہوگا کہ میں وہاں رہ کر تسلی اور سکون سے دینی علم حاصل کرسکوں‘ وہ علم جس کا حکم ہمیں ہمارے رب اور ہمارے پیارے رسولﷺ نے دیا ہے۔‘‘ سردار صاحب نے دیکھا اپنی بات مکمل کرکے وہ پُرسکون سی ہوگئی تھی شاید اس کے اندر کا اضطراب ختم ہوگیا تھا۔
’’ٹھیک ہے تم تیاری شروع کرو میں اس سلسلے میں عبداللہ اور زرین سے بات کرتا ہوں۔‘‘
’’یہ تو بچی ہے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے پر آپ تو کچھ عقل کریں اس زمانے میں بھلا کون اپنی جوان بچیوں کو مدرسے میں چھوڑتا ہے۔‘‘ ممی نے تیزی سے آگے بڑھ کر بابا کو سمجھانا چاہا۔
’’درشہوار تمہاری نہیں میری بھی بیٹی ہے اور میں وہی کروں گا جو وہ کہے گی‘ جو مجھے اس کے حق میں بہتر نظر آئے گا۔‘‘
’’مگر سردار صاحب…‘‘
’’پلیز فرحین ابھی آپ یہاں سے جائیں مجھے فیصلہ کرنے دیں کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ ممی سمجھ گئیں کہ بابا ان سے مزید بات نہیں کرنا چاہتے‘ انہوں نے ایک نظر سر جھکائے بیٹھی درشہوار پر ڈالی‘ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے درشہوار کسی بری نظر کی زد میں آگئی ہے مگر اس وقت ان کی یہ بات کوئی سننے اور سمجھنے کو تیار نہ تھا‘ لہٰذا مزید کچھ کہنا انہیں بے کار لگا جب ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔
٭…٭…٭
درشہوار کا داخلہ دارالعلوم اسلامیہ میں ہوگیا یہ ایک ایسی خبر تھی جس نے سنا اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں‘ اس نے اپنے فون سے سم نکال دی تھی مگر پھر بھی جانے سے پہلے وہ ایک بار سجاول سے ملنا چاہتی تھی اس سے بات کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ کئی بار رشنا کے ذریعے اسے پیغام بھیج چکا تھا وہ اسے ملنے کے لیے بے تاب تھا جانے کیوں ممی کی طرح اسے بھی یہ یقین تھا کہ درشہوار پر کسی نے کچھ کردیا ہے‘ سجاول سے ملنے کا سوچ کر آج جب وہ اپنی آخری شاپنگ کرنے مال آئی تو رشنا نے وہاں سجاول کو بھی بلوالیا تھا‘ جس کے ساتھ وہ دونوں ایک کیفے میں آگئیں۔ سجاول تو درشہوار کو دیکھ کر ہکابکا رہ گیا اسے یہ یقین کرنے میں ہی کتنا ٹائم لگ گیا کہ سامنے بیٹھی ڈھکی چھپی لڑکی اس کی اپنی درشہوار ہے وہ درشہوار جس کی ڈریسنگ کا وہ دیوانہ تھا جو جدید لباس میں ایسی قیامت لگتی کہ ایک دفعہ دیکھنے کے بعد سجاول کا دل چاہتا کہ دوبارہ جاکر اس سے ملے مگر آج یہ کیا؟ اس کے سامنے بیٹھی لڑکی اتنی تبدیل ہوگئی تھی کہ وہ مارے حیرت کے کئی لمحے بول ہی نہ پایا کالی چادر میں سر سے پائوں تک خود کو چھپائے میک اپ سے قطعی عاری چہرہ جو بالکل سفید تھا‘ کاجل سے محروم آنکھیں عجیب ویران سی دیکھ رہی تھیں رشنا ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر باہر نکل گئی جب اس نے درشہوار کو مخاطب کیا۔
’’دیکھو دری کسی بھی مسئلے کا یہ حل نہیں ہے کہ ہم دنیا چھوڑ دیں‘ دنیا سے منہ چھپا کر جینا زندگی نہیں ہے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سیکھو یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دو کہ تم مجھے حاصل نہیں کرسکتیں یقین کرو میں پوری کوشش کررہا ہوں اس سلسلے میں میری عباس سے بھی بات ہوئی ہے مجھے امید ہے کہ وہ بھی میری مدد کرے گا‘ بس تم اپنی یہ فضول سی ضد چھوڑ دو وہی درشہوار بن جائو پہلے والی جس سے میں محبت کرتا تھا‘ ہنس مکھ‘ دل کو چھولینے والی درشہوار۔‘‘ جملہ مکمل کرکے وہ کہنیوں کے بل ٹیبل پر آگے کی جانب جھکا اس نے دیکھا درشہوار نے اپنے دونوں ہاتھ چادر میں چھپا رکھے تھے‘ بے اختیار سجاول کا جی چاہا وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام لے ویسے بھی عام طور پر وہ جب بھی درشہوار سے بات کرتا تھا ہمیشہ اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں رکھتا تھا مگر آج تو درشہوار بالکل اجنبی بنی ایسے بیٹھی تھی کہ چاہتے ہوئے بھی سجاول اسے نہ چھوسکا۔
’’تم غلط سمجھ رہے ہو سجاول میرے اس فیصلے کا تعلق تم سے نہیں ہے۔‘‘ اپنی نظریں جھکائے وہ آہستہ سے بولی۔
’’یہ تو میرے رب کی طرف سے عطا کردہ ایک ہدایت ہے جو مجھے زرین کے طفیل ملی اور اب میں اسے کھونا نہیں چاہتی ہاں البتہ یہ ضرور چاہوں گی کہ تم میرا انتظار کرنا‘ اب میں پورے چار سال بعد تم سے ملوں گی یہاں اسی کیفے میں اور ان شاء اللہ اگر تم میرے نصیب میں ہوئے تو میرا تم سے تعلق نامحرم سے محرم میں تبدیل ہوجائے گا‘ مجھے یقین ہے جب میں اپنے رب کی رضا میں ڈھل جائوں گی تو وہ مجھے میری چاہت سے ضرور نوازے گا کیونکہ یہ میرے اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔‘‘
’’دیکھو درشہوار چار سال بہت ہوتے ہیں یہاں تو ایک پل کا پتہ نہیں‘ زندگی تو ایک لمحہ میں بدل جاتی ہے اور پھر سوچو ذرا میں کس طرح تمہارے بن یہ چار سال گزاروں گا‘ میرا تو تمہیں دیکھے بنا ایک دن نہیں گزرتا میرے ساتھ ایسا مت کرو میں نہیں رہ پائوں گا تمہارے بنا۔‘‘ وہ اسے سمجھاتے ہوئے ملتجی لہجے میں بولا۔
’’میں نے اپنا فون بندکردیا ہے کیونکہ مدرسے میں فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں اس لیے ان چار سالوں میں‘ میرا تم سے کوئی رابطہ نہ ہوسکے گا‘ ویسے بھی میں نے اپنی زندگی کے بیس سال دنیا کو سمجھنے میں گزار دیئے اب یہ چار سال دین کو سمجھنا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کی محبت اپنے دل سے نکال دی جائے۔‘‘
’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم دنیا کی محبت کے ساتھ ساتھ میری محبت بھی اپنے دل سے نکال رہی ہو۔‘‘ وہ شکوہ کناں ہوا۔
’’دلوں میں چھپی محبت ہو یا نفرت آسانی سے نہیں نکلتی‘ ہوسکے تو میرا انتظار کرلینا ورنہ میں آج تمہیں اپنی طرف سے آزاد کرکے جارہی ہوں‘ جو نصیب میں ہوئے تو واپس آکر خود تمہیں پالوں گی‘ ورنہ سمجھوں گی تم میرا مقدر ہی نہ تھے اور جو چیز مقدر میں نہ ہو اس کا شکوہ کرنا بے کار ہے۔‘‘ جملہ مکمل کرتے ہی وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔ ’’اللہ حافظ سجاول فی امان اللہ۔‘‘
سجاول اپنی جگہ ساکت بیٹھارہ گیا اور وہ باہر نکل گئی سجاول کو ایسا محسوس ہوا جیسے آج وہ آخری بار درشہوار کو دیکھ رہا ہو۔ شاید اس کے بعد وہ دوبارہ اسے نہ دیکھ پائے گا‘ اس احساس کے ساتھ ہی اس کا دل بھر آیا اور آنکھیں نم ہوگئیں۔
٭…٭…٭
’’تمہیں پتہ ہے درشہوار نے برقعہ اوڑھ لیا ہے؟‘‘ یہ واحد جملہ تھا جو درشہوار کے جانے کے چھ ماہ بعد اس نے ممی سے سنا تھا۔
’’آپ کو کس نے بتایا؟‘‘
’’بتانا کس نے ہے میں نے خود دیکھا‘ جمعہ والے دن میں سردار بھائی کی جانب تھی جب وہ آئی‘ مجھے تو حیرت ہے کیسے کوئی خود کو اتنا تبدیل کرسکتا ہے وہ تو ایک نئی درشہوار تھی بالکل بدلی ہوئی۔‘‘
’’جی…‘‘ اس سے زیادہ وہ کچھ کہنے کے قابل نہ تھا۔
’’اور ہاں یاد آیا آج تم کہیں مصروف تو نہیں ہو‘ رات فائقہ کی فیملی ڈنر پر آرہی ہے۔‘‘ اسے یاد کرنے میں کچھ وقت لگا اور پھر ایک ہی پل میں یاد بھی آگیا۔
’’پلیز ممی آپ بابا کو منع کردیں مجھے فی الحال شادی نہیں کرنی۔‘‘
’’میں تو منع نہیں کرسکتی تم میں اگر ہمت ہے تو منع کردو۔‘‘ جانتی تھیں کہ وہ اپنے بابا سے بات کرتے ہوئے آج بھی اتنا ہی ڈرتا ہے جتنا بچپن میں ڈرتا تھا۔
’’پلیز ممی…!‘‘ اس نے ایک بار پھر التجا کی۔
’’دیکھو سجاول تم اچھی طرح جانتے ہو ہم آزاد خیال لوگ ہیں‘ ہماری پارٹی اور دعوتوں میں ہر طرح کے لوگ آتے ہیں ایسے میں اب درشہوار ہمارے گھر کے ماحول میں ایڈجسٹ نہیں ہوسکتی اس کے علاوہ تمہاری کوئی اور پسند ہو تو بتادو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘ ممی نے حتمی انداز میں اپنا فیصلہ سنایا‘ ویسے بھی وہ ایک بار جو فیصلہ کرلیتیں اس میں دوبارہ ترمیم کرنا ناممکن ہوتا۔
’’اس بات کی آپ ٹینشن مت لیں وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے اور شادی کے بعد جیسے میں چاہوں گا ویسی ہی زندگی وہ گزارے گی۔‘‘
’’غلط سوچ ہے تمہاری اب وہ جس ماحول کو اپنا چکی ہے اسے اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گی اس لیے بہتر ہوگا کہ تم اس کا خیال ہی چھوڑ دو اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔‘‘ اپنا دو ٹوک فیصلہ سناتے ہوئے ممی وہاں سے چلی گئیں جبکہ سجاول کرسی سے ٹیک لگائے جانے کن سوچوں میں گم ہوگیا تھا۔
٭…٭…٭
مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ کی زندگی باہر کی دنیا سے بالکل مختلف تھی‘ باہر والے اضطراب اور ہلچل سے عاری ایک سادہ اور پُرسکون سی زندگی جہاں کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہ تھا‘ جہاں ہر بندہ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہوئے جی رہا تھا‘ اپنی دنیا اور اپنی ہی آخرت‘ دوسروں کی زندگی میں کسی کا کوئی عمل دخل نہ تھا‘ یہاں کے ماحول نے درشہوار کی شخصیت پر بھی بہت اثر کیا اس کے لہجے کی تیزی‘ نرمی میں تبدیل ہوگئی‘ اب وہ صرف اپنی نہ کہتی تھی بلکہ دوسروں کی بھی سنتی تھی‘ یہاں تک کہ چھٹیوں میں جب وہ گھر جاتی اس کا یہ بدلائو بھابی اور ممی دونوں کو پریشان کردیتا۔
’’جانے میری بچی کو کس کی نظر لگ گئی ہے ہنستی کھیلتی درشہوار تو ستر سالہ بڑھیا لگنے لگی ہے۔‘‘ ہر بار اسے اپنی ماں کا یہ تبصرہ سننے کو ملتا اور وہ مسکرا دیتی کیونکہ اب بحث مباحثہ کرنے کی اس کی عادت بھی ختم ہوگئی تھی۔ اس کی زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا‘ ایک ایسا ٹھہرائو جس نے اسے پُرسکون کردیا تھا قرآن کی تعلیم حاصل کرنے میں وہ مزہ اور سکون تھا جو دنیاوی علوم میں نہ تھا اور اسی سکون کے ساتھ اس کی زندگی کے مزید دو سال آگے بڑھ گئے‘ اس دوران زرین کی شادی ہوگئی جس میں وہ چاکر بھی شریک نہ ہوسکی کیونکہ ان دنوں اس کے امتحانات ہورہے تھے‘ ذارا ایک خوب صورت بیٹے کی ماں بن گئی جبکہ رشنا کی گود ابھی تک خالی تھی بقول اس کے فی الحال وہ اولاد کے جھمیلے میں نہ پڑنا چاہتی تھی اور اب جب جب وہ زارا اور رشنا کا موازنہ کرتی ہمیشہ زارا کا پلڑہ ہی بھاری دکھائی دیتا اور اسے حیرت ہوتی رشنا کتنی بے خبری کی زندگی جی رہی ہے‘ یہی وجہ تھی جو وہ ہر پل رشنا اور ممی کے لیے ہدایت کی دعا کرتی اب رہ سجاول تو یہ وہ یاد تھی جس سے باوجود کوشش کے وہ دست بردار نہ ہوسکی‘ تنہائی کا جب بھی کوئی لمحہ اسے میسر آتا‘ وہ سجاول کو ضرور یاد کرتی اس دعا کے ساتھ کہ اللہ اس کے دل کو بھی اپنی جانب مائل کردے‘ اس بار وہ کافی عرصہ بعد اپنے گھر آئی تو اسے رشنا کچھ بجھی بجھی سی لگی‘ ایسے جیسے اس سے کچھ چھپا رہی ہو‘ مگر چونکہ اب درشہوار کی جستجو کی عادت قدرے کم ہوگئی تھی اس لیے اس نے کریدنا مناسب نہ سمجھا مگر رات تک اسے خود ہی معلوم ہوگیا کہ رشنا کی پریشانی کی وجہ کیا ہے؟ اس وقت جب وہ رات کسی کتاب کی تلاش میں بابا کی اسٹڈی میں آئی تو ٹیبل پر موجود ایک نہایت نفیس اور قیمتی کارڈ نے بے اختیار اس کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ کارڈ ہاتھ میں لے کر اسے کھولتے ہی سامنے جگمگانے والے نام نے جیسے درشہوار کے حواس سلب کرلیے وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ سجاول کی یاد‘ اس کا پیار بھلا دینا ایک آسان ترین کام ہے‘ آج اسے پتہ چلا کہ کچھ یادیں اتنی آسانی سے نہیں بھلائی جاسکتیں‘ کارڈ پر جگمگاتے سجاول الٰہی کے نام کے ساتھ لکھے فائقہ حیات کے نام نے اس کے جسم سے جان ہی کھینچ لی اور وہ خود کو سنبھالتی بمشکل وہیں زمین پر بیٹھ گئی تو سجاول کا کہنا سچ ہوا کہ چار سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے‘ یہاں تو اس نے دو سال انتظار نہ کیا تو چار سال کیا کرتا؟ اس کا دل چاہا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر روئے جب یک دم جانے کیسے اس کے ذہن میں آنے والے اس جملے نے ایک ہی پل میں اسے مضبوطی عطا کردی تھی۔
’’پر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔‘‘
تو طے یہ ہوا کہ سجاول اس کے رب کی چاہت نہ تھی اس کا مقدر نہ تھا ورنہ نصیب میں لکھا ہوتا تو اسے ضرور مل جاتا‘ اور جو چیز نصیب میں نہ ہو اس پر وہی روتے ہیں جو اپنے رب پر یقین نہیں رکھتے ورنہ تو یہ طے ہے کہ جب وہ کسی سے کچھ چھینتا ہے تو اس کا نعم البدل ضرور عطا کرتا ہے‘ جو لی جانے والی شے سے کہیں اعلیٰ ہوتا ہے اس خیال کے ساتھ ہی اس نے اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کھڑی ہوئی جب اسی پل دروازہ کھول کر رشنا اندر داخل ہوئی۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ کہتے ہوئے وہ رک گئی کیونکہ اسے وہ شادی کارڈ نظر آگیا تھا جو ابھی بھی درشہوار کے ہاتھ میں تھا۔
’’اوہ… تو تمہیں پتہ چل ہی گیا۔‘‘ بات کرتے ہوئے رشنا نے مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگئی۔
’’ظاہر ہے یہ کوئی ایسی خبر نہ تھی جسے آپ مجھ سے چھپانے کی کوشش میں کامیاب ہوجاتیں۔‘‘ ہاتھ میں پکڑا کارڈ سامنے موجود ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ بالکل عام سے انداز میں بولی‘ کچھ دیر قبل دل میں پیدا ہونے والے جذبات واحساسات بالکل ختم ہوچکے تھے۔
’’آپ لوگ شادی میں گئے تھے؟‘‘
’’ہاں بظاہر تو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے سجاول اس شادی پر خوش نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل وہ مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے تمہاری یاد میں رو بھی رہا تھا مگر پھر…‘‘ اتنا کہہ کر رشنا خاموش ہوگئی۔
’’پھر کیا…؟‘‘ درشہوار ساری بات جلد از جلد سننا چاہتی تھی۔
’’پھر یہ کہ آج کل وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون کے لیے بنکاک گیا ہوا ہے۔‘‘ درشہوار نے محسوس کیا کہ رشنا کے لہجے میں ہلکا سا غصہ آگیا جس کا سبب یقینا درشہوار کی ذات تھی لیکن وہ دھیرے سے مسکرادی۔
’’یہ تو اچھی بات ہے کیونکہ اس سارے قصے میں اس انجان لڑکی کا کوئی قصور نہیں جو مسز سجاول بن کر ان کے گھر آئی ہے اور مجھے خوشی ہوئی یہ سن کر کہ وہ ایک اچھے مسلمان مرد کی طرح اپنی بیوی کے حقوق پورے کررہا ہے ورنہ جو میری آڑ میں وہ اس کی حق تلفی کرتا تو شاید اس گناہ پر میں خود کو ساری زندگی معاف نہ کرسکتی۔‘‘
’’کیا ہوگیا ہے تمہیں درشہوار… کیوں ہر دم اتنا ایب نارمل ری ایکٹ کرنے لگی ہو۔‘‘ رشنا کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا‘ وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کہ سجاول کی بے وفائی درشہوار کو توڑ کر رکھ دے گی‘ اسے اس طرح مطمئن دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے بولی۔
’’یہ ایب نارمل رویہ نہیں ہے بھابی ایک سیدھی اور اصول کی بات ہے جو سجاول کا مقدر تھا وہ اسے مل گیا اگر وہ میرا ہوتا تو کسی فائقہ کا نصیب نہ بنتا کیونکہ کوئی کسی کا نصیب نہیں چھین سکتا اور ایک بات بتائوں آپ کو۔‘‘ وہ ایک پل سانس لینے کو رکی۔
’’اگر ہم انسان یہ چھوٹی سی بات سمجھ جائیں ناں تو زندگی قدرے آسان ہوجائے اور یہ چھینا جھپٹی ختم ہوجائے۔‘‘ اپنی بات مکمل کرکے وہ اسٹڈی سے باہر نکل گئی جبکہ اپنی جگہ کھڑی رشنا نے اسے جاتا دیکھا اور خود بھی اس کے پیچھے ہی باہر نکل آئی جو بھی تھا اسے خوشی ہوئی کہ سجاول کے اس رویہ نے درشہوار کو زندگی سے مایوس نہیں کیا تھا۔
٭…٭…٭
تمام تر کوشش کے باوجود سجاول اپنے دل ودماغ سے درشہوار کی یاد کو نکالنے میں ناکام رہا تھا‘ عجیب بات تو یہ تھی کہ وہ جب تک فائقہ کے ساتھ ہوتا درشہوار کو بھول جاتا مگر جیسے ہی تنہائی میسر آتی فائقہ کہیں دور جاکھڑی ہوتی اور اس کی جگہ درشہوار لے لیتی۔ اس کا دل چاہتا وہ درشہوار سے بات کرے وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا‘ سننا چاہتا تھا مگر کیسے؟ اس نے تو اپنی طرف آنے والا ہر راستہ بند کردیا تھا اور یہی بند راستے اسے اپنی منزل سے دور لے گئے تھے‘ اس کی منزل تو سجاول تھا‘ جو کسی اور مسافر کا حق ٹھہرا تھا اور وہ خود شاید ابھی تک کہیں راہوں میں بھٹک رہی تھی اور یہی سوچ سجاول کو اکثر بے چین کردیتی اور جب وہ بے چین ہوتا تو رشنا کو فون کرکے درخواست کرتا کہ اس بار جب درشہوار گھر آئے تو صرف ایک بار اس سے بات کرے‘ مگر ہر بار وعدہ کے باوجود رشنا کبھی بھی اس کی دری سے بات نہ کروا پاتی۔
کیونکہ وہ خود بھی جان چکی تھی کہ اب درشہوار نے شاید سجاول سے کبھی بات نہیں کرنی اسی بنا پر وہ اسے سجاول کا کوئی پیغام نہ دیتی تھی جبکہ دوسری جانب سجاول ہر دم اس کی طرف سے آنے والے کسی پیغام کا منتظر رہتا‘ وہ سجاول جسے فائقہ کی صورت میں اپنی منزل مل گئی تھی آج بھی بے چین تھا اور وہ درشہوار جو سجاول کو کھوچکی تھی اس کے باوجود مطمئن تھی تو یقینا دونوں میں یہ واضح فرق یقین اور بھروسہ کا تھا وہ بھروسہ جو دری کو اپنے رب پر تھا‘ وہ بھروسہ شاید سجاول کو آج تک حاصل نہ ہوا جس کے سبب بے چینی اس کا مقدر ٹھہری اور وہ سب کچھ حاصل کرکے بھی مایوس تھا۔
٭…٭…٭
درشہوار واپس آگئی ایک بالکل بدلی ہوئی زندگی کے ساتھ‘ اسے اپنے بابا کی آنکھوں میں دکھائی دینے والے فخر اور خوشی نے سرخرو کردیا تھا جبکہ ممی کا رویہ ابھی تک اس کے ساتھ ویسا ہی تھا جیسا اس فیصلہ کے بعد ہوا تھا‘ تایا جی اور تائی ماں کے ساتھ عبداللہ‘ زارا اور زرین سب بہت خوش تھے کہ اس نے اپنی آخرت سنوار لی تھی۔ سب کے لیے یہ خوشی کی بات تھی۔
گھر آتے ہی بہت ساری خبریں بھی اس کی منتظر تھیں‘ زرین ایک بیٹی کی ماں بن گئی تھی جبکہ زارا کچھ دنوں سے دل کے عارضہ میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ پریگنیٹ بھی تھی‘ اس کی یہ کیفیت خطرے کا سبب تھی کہ اس کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہورہا تھا اور اسی سبب عبداللہ بہت پریشان تھا‘ اپنی بیوی کے لیے‘ عبداللہ کی یہ پریشانی درشہوار کو بہت اچھی لگی ان دو خبروں کے ساتھ ایک تیسری بڑی خبر بھی اس کی منتظر تھی حاشر اپنی کلاس فیلو زرغونہ کو پسند کرنے لگا تھا‘ جس کا تعلق غیر ذات وبرداری سے تھا اور اسی بات کو لے کر بابا سخت ناراض تھے جبکہ ان کی ناراضگی کے باوجود حاشر اپنی پسند سے دست بردار ہونے پر قطعی آمادہ نہ تھا۔
’’اگر بابا نہ مانے تو میں گھر چھوڑ دوں گا۔‘‘ اس کے الفاظ درشہوار کو حیران کر گئے تھے۔
’’ایک لڑکی کی خاطر تم اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ جاؤ گے؟ یہ کیسی محبت ہے حاشر جو تمہیں بغاوت پر اکسا رہی ہے؟‘‘
’’یہ بغاوت محبت کی خاطر نہیں ہے شہوار یہ بغاوت ان نظریات کے خلاف ہے جنہیں بنیاد بنا کر ہمیں ہماری خوشیوں سے محروم کیا جارہا ہی‘ سوچو ذرا اس ترقی یافتہ دور میں ہم آج بھی چودہ سو سال پیچھے ہیں‘ جہاں انسانیت پر ذات برادری کو ترجیح دی جاتی تھی‘ کیا فائدہ ہمارے مسلمان ہونے کا جب ہمیں دین ہی کی سوجھ بوجھ نہ ہو۔‘‘ اس کے الفاظ شہوار کو آئینہ دکھا گئے۔
’’تم انتظار کرو میں بابا سے بات کرتی ہوں‘ اللہ ضرور بہتری کی سبیل نکالے گا۔‘‘
’’کوئی فائدہ نہیں میں انہیں ہر طرح سمجھا کر تھک گیا ہوں مگر ان کی سمجھ میں میری کوئی بات نہیں آرہی۔‘‘
’’ہوسکتا ہے میرے سمجھانے سے سمجھ جائیں‘ تم مجھے ایک موقع تو دو۔‘‘ حاشر کو یقین دہانی کروا کے وہ بابا کی جانب آگئی‘ وہ درشہوار جو اپنی محبت کے معاملے میں کمزور پڑ گئی تھی بھائی کی محبت نے اسے مضبوط کردیا یا شاید حاشر کے الفاظ نے اسے اپنے باپ کے سامنے لاکھڑا کیا۔
’’ذات برادری کے علاوہ اس لڑکی کا گھرانہ ہمارے معیار کا نہیں۔‘‘ بابا کے نزدیک شادی کی ایک دوسری وجہ آج اسے پتہ چلی کہ رشتہ جوڑنے کے لیے ذات برادری کے علاوہ معیار بھی دیکھا جاتا ہے۔
’’اگر آپ کے نزدیک اہمیت صرف معیار کی ہے تو ایک بات پوچھوں بابا؟‘‘ کئی سالوں سے دل میں دبا ایک شکوہ اس کے لَبوں کو چھونے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
’’ضرور پوچھو…‘‘
’’سجاول تو ہمارے معیار کا تھا پھر آپ نے ذات برادری کو بنیاد بنا کر انکل الٰہی کو انکار کیوں کیا؟‘‘
’’سجاول…‘‘ بابا ایک دم چونکے۔
’’تو کیا اس رشتے میں تمہاری منشاء شامل تھی؟‘‘ جواب سے پہلے انہوں نے اپنا سوال کردیا۔
’’اگر ایسا تھا تو تمہیں یہ بات مجھے پہلے بتانا چاہیے تھی۔‘‘ وہ ایک دم پریشان ہوگئے۔
’’پھر کیا ہوتا کیا آپ ذات والی شرط ختم کردیتے؟‘‘
’’شاید ہاں۔‘‘ درشہوار نے چونک کر اپنے باپ کے تھکے ہوئے چہرے پر ایک نظر ڈالی جہاں پچھتاوے کی گہری لہر تھی۔
’’میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں میری بچی‘ میں تمہیں کبھی تہی دست نہیں دیکھ سکتا‘ اب یہ احساس مجھے مار ڈالے گا کہ میں نے اپنی بیٹی سے وہ چھین لیا جسے وہ اپنانا چاہتی تھی۔‘‘
’’آپ اس بات کو لے کر پریشان مت ہوں بابا سجاول اگر میرا نصیب ہوتا تو مجھے ضرور ملتا وہ فائقہ کا مقدر تھا اسی کو مبارک ہو‘ مجھے کسی سے کوئی گلہ یا شکوہ نہیں۔‘‘ اس نے سردار صاحب کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے انہیں یقین دلایا۔
’’جو گزر چکا ہے اس کا ذکر بے کار ہے‘ بات اس کی کریں جو ابھی موجود ہے حاشر‘ زرغونہ سے بے حد محبت کرتا ہے اسے اس کی محبت سے دور مت کریں۔‘‘
’’لیکن زرغونہ کا باپ ایک کریانہ کی دکان چلاتا ہے لوگ کیا کہیں گے کہ سردار عبدالرب کا سمدھی ایک دکان دار ہے ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ انہوں نے اپنی گردن انکار میں ہلائی۔
’’ذات پات‘ برادری‘ خاندان‘ معیار یہ سب غیر مسلموں کے ہتھیار ہیں ایک مسلمان رشتہ کرتے وقت صرف تقویٰ اور دین داری دیکھتا ہے وہ آپ دیکھیں اور اگر آپ کو ایسا لگے کہ زرغونہ کا گھرانہ دین سے دور ہے تو پھر بے شک انکار کردیں‘ مگر ان بلاوجہ کی باتوں کو لے کر اپنے بچے کی خوشیاں خراب مت کریں۔‘‘
اور پھر اس کی باتوں میں جانے ایسا کیا سحر تھا کہ سردار صاحب جیسا سخت مزاج بندہ مان گیا اور حاشر کا زرغونہ سے نکاح طے کردیا گیا‘ اس خاندان میں اتنے سالوں بعد رونما ہونے والی یہ پہلی تبدیلی تھی جس نے سب کو حیران کردیا یہ شاید حاشر کی نیک نیتی کا صلہ تھا جو اسے زرغونہ کی شکل میں مل گیا تھا۔
٭…٭…٭
’’آپ اسے منع کردیں بھابی میں اس سے نہیں مل سکتی کیونکہ اس طرح میں غیر ارادی طور پر فائقہ کی حق تلفی کا سبب بن جائوں گی اور ویسے بھی ہمارے دین میں غیر مرد سے ملنے کی اجازت نہیں۔‘‘ رشنا کی بات سن کر وہ صاف انکار کرتے ہوئے بولی۔
’’صر ف ایک بار مل لو شہوار وہ بہت پریشان ہے‘ وہ تمہارے لیے اپنے دل میں شرمندگی محسوس کررہا ہے‘ وہ سمجھ رہا ہے کہ تمہارا دل دکھانے کے باعث آج تک اللہ نے اسے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا ہے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ اب ساری بات درشہوار کی سمجھ میں آئی۔
’’آپ اس سے کہہ دیں کہ میں نے معاف کردیا اب اپنے حق میں وہ اللہ سے معافی طلب کرے کیونکہ وہی ہے جو اسے اولاد جیسی نعمت سے نواز سکتا ہے۔‘‘
’’پھر بھی اگر ہوسکے تو ایک بار اس سے مل لو شاید اس طرح اسے سکون قلب مل جائے۔‘‘
’’لیکن وہ تو اپنی بیوی کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار رہا ہے تو پھر بے سکونی کس بات کی؟‘‘
’’پتہ نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اکثر اوقات ہر طرح کے سکھ کے باوجود کہیں نہ کہیں کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو بے سکونی کی پھانس بن کر ہمارے دلوں میں ترازو ہوجاتا ہے۔‘‘
’’میں اتنا فلسفہ نہیں جانتی بھابی پھر بھی آپ اگر کہتی ہیں تو میں ایک بار سجاول سے ملنے کے لیے تیار ہوں مگر صرف آخری بار اس کے بعد وہ مجھے کوئی پیغام نہ بھیجے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ رشنا کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ سجاول سے ملنے کے لیے تیار ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
’’زارا مر گئی۔‘‘ یہ ایک ایسی خبر تھی جس نے ہر اس شخص کو غم سے نڈھال کردیا جو اس سے وابستہ تھا‘ زارا کی جوان موت نے سب کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا‘ سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ اس کی موت ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دینے کے بعد واقع ہوئی‘ ایک ایسی بچی جس نے آنکھ کھولتے ہی دنیا بنا ماں کے دیکھی‘ زارا کے دکھ میں اس کی بیٹی کسی کو بھی یاد نہ تھی جسے درشہوار نے آگے بڑھ کر سنبھالا اور تین دن بنا جتائے اس کی بچی کی ذمہ داری اس طرح اٹھائی کہ شاید اسے احساس بھی نہ ہوا کہ ماں کی گود میں نہیں ہے لیکن تین دن بعد جب وہ گھر واپس آئی تو عبداللہ کے لیے اکیلے بچی سنبھالنا مشکل ہوگیا جبکہ زرین بھی واپس جاچکی تھی اور رہ گئیں تائی ماں تو وہ پہلے ہی جوڑوں کے درد میں مبتلا ہونے کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر تھیں تو بھلا بچی کیسے سنبھالتیں۔
’’اس سے تو اچھا تھا بچی بھی ماں کے ساتھ ہی مر جاتی‘ اب اس بیچاری کو کون سنبھالے گا عبداللہ کے لیے تو پہلے ہی بیٹا سنبھالنا قدرے مشکل ہورہا ہے حالانکہ وہ تو ماشاء اللہ چار سال کا ہونے والا ہے۔‘‘ رشنا کے اظہار افسوس کرنے کا اپنا ہی طریقہ تھا جو درشہوار کو ذرا اچھا نہ لگا۔
’’توبہ کریں بھابی ہم کون ہوتے ہیں پیدا ہوئی بچی کی موت کی دعا کرنے والے‘ جس نے دی ہے وہ ہی اس کی پرورش بھی کرے گا۔‘‘
’’پرورش کرنے کے لیے زمین پر کسی کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی رشنا کا انداز طنزیہ ہوگیا جسے محسوس کرکے درشہوار خاموش ہوگئی کیونکہ وہ اس سلسلے میں مزید بحث کرکے بات کو طول نہیں دینا چاہتی تھی۔
٭…٭…٭
سجاول کو یقین ہی نہ آیا کہ اس کے سامنے موجود ہستی درشہوار ہے‘ کالے برقعے میں اس طرح لپٹی کہ صرف آنکھیں ہی دکھائی دے رہی تھیں‘ وہ جو الفاظ کا ذخیرہ جمع کرکے آیا تھا اس کے سامنے بیٹھتے ہی جیسے سب بھول گیا‘ ذہن بالکل خالی ہوگیا بولا تو صرف یہ۔
’’میں تم سے بہت شرمندہ ہوں شہوار تمہارا انتظار نہ کرسکا‘ تم تو جانتی ہو بابا جان ایک سیاسی آدمی ہیں اور اپنی سیاست چمکانے کے لیے انہیں فائقہ کے والد کی خدمات درکار تھیں جس کے لیے مجھے استعمال کیا گیا اور میں چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کرسکا‘ وجہ تم تھیں کیونکہ تم میری دسترس سے دور جاچکی تھیں اگر تم یہاں ہوتیں تو میں شاید کچھ کوشش کرتا مگر…‘‘
’’کوئی بات نہیں سجاول مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں‘ یہ سب کچھ اسی طرح ہونا تھا لہٰذا ہوگیا اب اپنے دماغ کو فضول باتوں میں مت الجھائو اللہ کی رضا میں راضی ہوجائو‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ نہایت اطمینان سے بولی اور سجاول جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی جدائی نے درشہوار کو توڑ کر رکھ دیا ہوگا اسے اس طرح مطمئن اور آسودہ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ تو یہاں درشہوار کے آنسو پونچھنے آیا تھا مگر صورت حال اس کے تصور سے بالکل مختلف نکلی وہ تو اسے پہلے سے بھی مضبوط دکھائی دی۔
’’تم سے ایک درخواست کرنی تھی شہوار اگر قبول کرسکو تو…‘‘ کچھ نہیں بولی خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔
’’مجھے اپنا فون نمبر دے دو یقین جانو تنگ نہیں کروں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں بے چارگی سی در آئی۔ ’’بس اتنی اجازت دے دو جب کبھی ڈپریشن میں تمہاری یاد ستائے تو تمہیں ایک میسج یا فون کرلوں۔‘‘ درشہوار اس کی بات سن کر ذرا سا مسکرادی۔
’’ڈپریشن آج کے دور کے ہر ایسے انسان کا مسئلہ ہے جو اپنے رب سے دور ہے مجھے میسج یا فون کرنے سے زیادہ اچھا نہ ہوگا کہ تم نماز پڑھو اور اللہ کی عبادت میں دل لگائو یقین جانو تمہارے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے اور ادھوری زندگی مت جیو میرا خیال اپنے دماغ سے نکال کر صرف فائقہ کے ہوجائو۔‘‘
’’یہ سب تمہارے لیے بہت آسان ہوگا میرے لیے نہیں۔‘‘
’’اگر میرے لیے آسان ہوتا تو میں بھی تمہاری طرح شادی کرکے خوشحال زندگی گزار رہی ہوتی۔‘‘ آہستہ سے کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی مگر اس کی بات نے سجاول کو لاجواب کردیا۔
’’کیا ایسا ممکن نہیں کہ میں تم سے دوبارہ کبھی رابطہ کرسکوں۔‘‘
’’نہیں کیونکہ میں دو کشتیوں میں سوار زندگی نہیں گزار سکتی‘ میرا عقیدہ ہے جو نہیں ملا وہ نصیب نہ تھا اور جو نصیب میں ہے وہ ضرور ملے گا‘ اس لیے اللہ نے ہمیں صبر اور شکر کا حکم دیا ہے کیونکہ دنیا میں سب کچھ ہماری مرضی سے نہیں ہوتا۔‘‘ دھیمے سے جواب دیتی وہ باہر نکل گئی‘ جاتے وقت کوئی سلام نہ دعا یہاں تک کہ اللہ حافظ بھی نہ کہا‘ چار سال قبل اس کیفے میں بیٹھے سجاول کو جو یہ احساس ہوا تھا کہ اس نے درشہوار کو کھودیا آج اس کا یہ احساس یقین میں بدل گیا واقعی اس نے درشہوار کو کھودیا تھا۔
٭…٭…٭
عبداللہ اپنی بیٹی مریم کو لے کر بہت پریشان تھا‘ کبھی وہ بچی زرین لے جاتی اور کبھی وہ اسے درشہوار کے پاس چھوڑ جاتا مگر یہ مستقل حل نہ تھا اس لیے تایا جی چاہتے تھے کہ وہ عقد کرلے جس کے لیے فی الحال عبداللہ تیار نہ تھا کیونکہ وہ اتنی جلدی زارا کی یاد کو خود سے جدا نہ کرسکتا تھا اور دوسری جانب وہ اپنے بچے کسی سوتیلی ماں کے حوالے کرنے کے حق میں بھی نہ تھا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا یہ سب کب تک چلے گا؟‘‘ صبح سے آئی مریم کے رونے دھونے نے ممی کو بھی پریشان کردیا تھا۔
’’آج اس کی طبیعت خراب ہے ممی اس لیے رو رہی ہے ورنہ عام طور پر تو یہ بڑی صابر بچی ہے۔‘‘ درشہوار نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’میں آج کی بات نہیں کررہی ہمیشہ کے لیے بات کررہی ہوں‘ آخر یہ سب ایسے کب تک چلے گا‘ تین ماہ ہوگئے زارا کو… عبداللہ کو چاہیے اب دوسری شادی کرلے اپنا نہ سہی اپنے بچوں کا ہی کچھ احساس کرنا چاہیے اسے۔‘‘
’’آپ صحیح کہہ رہی ہیں مگر یہ سب ان کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔‘‘ شہوار نے آہستہ سے جواب دے کر مریم کو گود میں اٹھا لیا‘ جو اس کی گود میں آتے ہی بالکل خاموش ہوگئی تھی۔
’’آپ نے دیکھا ممی میری گود میں آتے ہی یہ کس طرح خاموش ہوجاتی ہے۔‘‘ پیار سے مریم کی کمر سہلاتے ہوئے آہستہ سے بولی۔
’’ظاہر ہے بچوں کے نزدیک تو ماں وہی ہوتی ہے جس کی گود کی گرمائش اسے پیار کا احساس دلائے اور اس غریب نے تو آنکھ کھولتے ہی تمہیں دیکھا اور تمہارے لمس کو محسوس کیا۔‘‘
’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مجھے اپنی ماں سمجھ رہی ہے۔‘‘ درشہوار نے حیرت سے انہیں تکتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہاں۔‘‘ جواب دے کر ممی باہر نکل گئی مگر درشہوار کے لیے سوچ کا ایک نیا در کھول گئیں یہ احساس کہ مریم اسے اپنی ماں سمجھ رہی ہے اسے بہت عجیب ضرور لگا مگر برا نہیں۔
٭…٭…٭
درشہوار کی زندگی شاید ایسی تبدیلیوں کا نام تھی جو دوسروں کو چونکانے کے لیے ہوتی ہیں مدرسہ اور عالمہ کے بعد ایک اور نئی تبدیلی اس وقت آئی جب اس نے زرین سے عبداللہ کے رشتہ کے لیے ہاں کی‘ یہ ایک شام کی بات تھی جب زرین اس سے ملنے آئی تھی وہ جب سے آئی تھی عبداللہ کی زندگی میں آنے والی مشکلات کا ہی ذکر کررہی تھی جب وہ اچانک بولی۔
’’میری بڑی خواہش تھی شہوار کے تمہیں اپنی بھابی بناتی مگر پہلے یہ اس لیے ممکن نہ تھا کہ تم عبداللہ کی شرعی خواہش پر پوری نہ اترتی تھیں۔‘‘ صاف گوئی سے کہتی وہ اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
’’اور اب جب یہ ممکن ہوا تو عبداللہ دو بچوں کا باپ بن گیا اور اب چاہتے ہوئے بھی میں اپنی اس خواہش کا اظہار تم سے نہیں کرسکتی۔‘‘
’’کیوں کیا عبداللہ بھائی دوسری شادی پر راضی ہوگئے ہیں؟‘‘ زرین کی بات نظر انداز کرتے ہوئے اس نے سوال کیا۔
’’ہاں اور ظاہر ہے وہ اس طرح زندگی کب تک گزار سکیں گے‘ دوسری شادی تو کرنی ہی ہے اور اس کی اجازت تو ہمارے مذہب نے بھی دی ہے۔‘‘
’’تو پھر تم تایا جی سے بات کرلو میں عبداللہ سے شادی کرنے کو تیار ہوں اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی کہ میں دو ایسے بچوں کو سہارا دوں جو بچپن میں ہی اپنی ماں کی شفقت سے محروم ہوگئے۔‘‘
’’سوچ لو درشہوار یہ بہت مشکل عمل ہے۔‘‘
’’اللہ کا ساتھ ہو تو ہر مشکل کام آسان ہوجاتا ہے۔‘‘ کہنے کو تو اس نے کہہ دیا مگر یہ سب اتنا آسان نہ تھا جتنا اس نے سمجھ لیا تھا‘ اس کا فیصلہ سنتے ہی گھر کا ہر فرد اس کی مخالفت کے لیے آن کھڑا ہوا تھا۔
’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے جانتی ہو عبداللہ تم سے پانچ سال بڑا‘ ایک شادی شدہ مرد اور دو بچوں کا باپ بھی۔‘‘
’’میں یہ سب جانتی ہوں جو آپ مجھے بتارہی ہیں۔‘‘ اس نے ممی کی جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’جو بھی ہے میں تمہیں کبھی بھی عبداللہ سے شادی کی اجازت نہ دوں گی۔‘‘ ممی نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا اور وہ خاموش ہوگئی لیکن اسی شام رشنا نے اس سے ایک ایسی بات کی جسے سن کر وہ بالکل شاکڈ رہ گئی۔
’’سجاول کا فون آیا تھا… وہ تم سے دوسری شادی کرنے کا خواہش مند ہے‘ اس سلسلے میں اس نے اپنی ممی سے بات بھی کی ہے جبکہ فائقہ کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ شادی کے تین سال بعد ہی وہ اولاد نہ ہونے سے اس قدر مایوس ہوگیا کہ بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی پر تیار ہے؟ سجاول کی جانب سے ملنے والے پیغام نے اسے حیران کردیا تھا۔
’’تم اچھی طرح جانتی ہو اس کی وجہ اولاد نہیں بلکہ تمہاری محبت ہے جو وہ بھلا نہیں پارہا۔‘‘
’’آپ اسے منع کردیں کیونکہ میں عبداللہ سے شادی کرنا چاہتی ہوں جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مجھے مریم سے محبت ہوگئی ہے‘ بالکل ویسی محبت جو ایک ماں کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے اور اب میں اس بچی کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘
’’بیوقوفی مت کرو درشہوار‘ تم جوان اور خوب صورت ہو تمہارے لیے رشتوں کی کمی نہیں بلاوجہ ایسے مرد سے شادی مت کرو جو پہلے ہی دو حصوں میں بٹا ہو‘ ایک طرف زارا کی محبت اور دوسری طرف اس کے بچے۔‘‘
’’جو محبت میرے نصیب میں ہوگی وہ مجھے ضرور ملے گی اور زارا کی موت کے بعد بھی اگر عبداللہ اس سے محبت کرتا ہے تو یقینا وہ خوش قسمت لڑکی تھی جسے شوہر کا اتنا پیار نصیب ہوا۔‘‘
’’تمہاری تو ہر بات ہی نرالی ہے جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘ غصہ سے جواب دے کر رشنا باہر نکل گئی مگر چند ہی ماہ بعد عبداللہ اور درشہوار کا رشتہ اس طرح طے ہوا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ممی کو ہاں کرنا پڑی کیونکہ مریم‘ درشہوار کی جدائی میں اتنی بیمار ہوئی کہ بمشکل اسے بچایا جاسکا‘ ان حالات کو دیکھتے ہوئے بہتر سمجھا گیا کہ عبداللہ اور درشہوار کی شادی کردی جائے اور اس طرح وہ مسز عبداللہ بن کر اس شخص کے آنگن میں آگئی جس سے اسے کبھی محبت نہ ہوئی تھی سوائے اس کے کہ وہ اس کی خوب صورتی سے متاثر تھی مگر یہ نہ سوچا تھا کہ یہ شخص اس کی زندگی کا مالک ومختار بنادیا جائے گا‘ تو سچ یہ ہوا کہ اللہ ہمارے لیے ہمیشہ وہی فیصلہ کرتا ہے جو ہمارے حق میں بہترین ثابت ہو‘ جس کا احساس مریم کے ساتھ ساتھ عبداللہ اور شہروز کی محبت نے اسے دلایا اتنی محبت اور خوشیاں اس کا مقدر بنیں کہ وہ سب کچھ بھول گئی‘ اسے یاد رہا تو صرف یہ کہ وہ مریم اور شہروز کی ماں ہے اور شاید اسے اللہ نے بہت پہلے اس لیے چن لیا تھا۔
اس کے مقدر میں تو عبداللہ جیسا نیک شخص لکھا تھا پھر بھلا کیسے وہ سجاول کی ہوتی‘ بے شک میرے رب کے فیصلے بہترین ہوتے ہیں جو ہم نہیں جان پاتے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close