Hijaab May-18

چاند کو ہمراہ کریں

ام ایمان قاضی

گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز جیسے جیسے قریب آرہی تھی ویسے ویسے ان دونوں کے ہنسنے کی آوازیں اس کی سماعتوں کو بے چین کرنے لگیں۔
’’کاش میں کچھ دیر قبل یہاں سے چلا گیا ہوتا۔‘‘ پہلی سوچ نے بے ساختہ شعور کے دروازوں پر دستک دی۔ وہ دونوں بے حد قریب آچکے تھے۔ ذورین نے سر کچھ اور جھکایا۔
’’سکندر… تمہیں نہیں لگتا کہ اس بار یہ ٹاپ کرنے والا ہے۔‘‘ وہ منت مراد علی شاہ تھی۔
’’ہاں بھئی… میں نے تو ابھی سے انتظامات کرنے شروع کردیئے ہیں۔ آخر کو میڈیا والے آئیں گے۔ جناب کے انٹرویو کے لیے۔‘‘ سکندر کا لہجہ از حد تحقیر اور استہزائیہ لیے ہوئے تھا۔ ذورین کے اندر اشتعال کی شدید لہر انگڑائی لے کر بیدار ہوئی۔
’’اللہ فرماتا ہے کہ جب تمہارے اوپر کوئی ظلم ہو تو میرے انتقام پر راضی ہوجائو کیونکہ میرا انتقام تیرے انتقام سے بہتر ہوگا۔‘‘ اپنی ماں کی بات یاد آتے ہی اس نے خود کو بے حد پُرسکون محسوس کیا۔
’’اے ذورین… اٹھ کے ادھر آ یہ میرے جوتے مٹی سے اٹ گئے ہیں صاف کر ذرا‘ کتابیں ہاتھ میں لے کر تو اپنی اوقات بھول بیٹھا ہے۔ یاد رکھا کر اپنی حیثیت‘ وہ بھی دن میں کئی بار مجھے یاد کروانی پڑتی ہے۔ تو‘ تو حویلی میں رہ کر خود کو ہمارے برابر ہی جاننے لگ جاتا ہے یہ تو اچھی بات نہیں ہے ناں… تیرے باپ نے بھی ایسا ہی کیا تھا انجام یاد ہے ناں اس کا۔‘‘ سکندر شاہ یقینا اسے اشتعال دلانا چاہ رہا تھا‘ مگر ذورین نے بھی خود سے عہد کیا تھا اور اپنی ماں سے کہ حویلی والوں کی فضول باتوں اور طعنوں تشنوں میں پڑ کر وہ اپنی ماں کے خواب چکنا چور نہیں ہونے دے گا۔
’’دنیا والوں کی باتیں سن کر تھک کر مت بیٹھ جائو بلکہ ان باتوں کا ایک پل بنا کر اس پر سے گزر کر منزل کو پالو۔‘‘ ایک اور سنہری بات نے اس کا دامن تھاما اور اسی کے سہارے وہ آرام سے چلتا ہوا آیا اور سکندر شاہ کے گندے جوتے اپنے رومال سے صاف کیے۔ ایسے ہر موقع پر وہ اپنے ارتکاز کا سرا باہر سے توڑ کر اپنے اندر کی طرف کرلیتا تھا۔ جہاں علم کا اجالا تھا‘ صبر کی روشنی تھی اور ماں کی دعائوں کا سہارا تھا۔ پہلے پہل اسے بہت اذیت ہوتی تھی۔ دل کرتا تھا سامنے والے کا منہ توڑ دے مگر پھر ماں نے ایک بار نہیں بار بار سمجھایا تھا کہ ’’نماز‘ صبر اور علم ان تین کنجیوں کا دامن تھام کے سب کچھ اس مالک کے حوالے کردو جو سب سے زیادہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔‘‘ وہ غصہ کرتا تھا لڑتا تھا ان سے کہ حویلی کے لوگ ایسے نہیں ہیں جو ان ہتھیاروں سے زیر ہوجائیں ان جیسے لوگوں سے اپنا حق چھین وصول کرنا پڑتا ہے۔
’’مگر میں حویلی والوں کی طرح نہ ظالم ہوں نہ مضبوط میرے پاس میرا واحد سہارا تم ہو ذورین اور ایک اللہ کا سہارا ہے جو مجھے مضبوطی اور استحکام بخشتا ہے۔ وہ ان کا بھی اللہ ہے جیسے میرا اور تمہارا۔ وہ ہماری بھی سنے گا۔ بس اس کے بہترین فیصلے کا انتظار کرو۔ وہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔ اس نے اس وقت بھی تمہیں بچالیا تھا جب ان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور ہاتھوں میں ہتھیار آتش اگلنے کو تیار تھے وہ میری دعائیں میری التجائیں یا ان کا رحم نہیں تھا۔ وہ میرے مالک کا مجھ پر کرم تھا۔ جس نے تمہیں مجھے بخش دیا تھا۔ اس پر یقین رکھو۔ مجھ ماں پر یقین ہے ناں تمہیں بچے۔ وہ تو ستر مائوں سے بھی بڑھ کر مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دن رات اس کے جوان گرم خون میں انتقام کی سلگتی آگ کو اپنے صبر سے ٹھنڈا کرتی تھیں۔ وہ دونوں اپنے الفاظ اور لہجے کی تمام تر نفرت اس پر انڈیل کر وہاں سے جاچکے تھے۔ ذورین نے اپنی کتابیں جھاڑ کر اٹھائیں اور وہاں سے اٹھ آیا کہ جانوروں کو چارہ پانی سے لے کر دودھ نکالنے کی تمام ذمہ داری عرصہ دراز سے اس کے سپرد تھی
ژ ژ ژ ژ
ارم سے خاقان شاہ کی شادی اس محبت کا نتیجہ تھی جو ان جیسے امیر زادے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے عموماً کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایسی تو نہ جانے کتنی ان کی زندگی میں آئیں اور چلی بھی گئیں تھیں کہ ان کو اپنے نفس کی تسکین چاہیے ہوتی تھی اور دوسرے فریقین کو دولت مگر ارم ان عورتوں میں سے ہرگز نہیں تھیں۔ اس کا تعلق کسی اچھی جگہ سے تو نہیں تھا مگر خون یقینا کسی شریف خاندان کا تھا۔ جو اس نے محبت اور دولت کی بجائے عزت کو ترجیح دی تھی۔ خاقان شاہ نے تھوڑے سے پس وپیش کے بعد ان کی نام نہاد ماں کو اس کی پوری قیمت ادا کی اور نکاح کرکے شہر میں ایک چھوٹا سا گھر لے دیا تھا مگر اس نکاح کے ساتھ اس کی کچھ شرائط بھی تھیں کیونکہ اس کے گائوں میں ایک خاندانی بیوی اور بچے موجود ہیں۔ اس لیے اسے شادی کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف ارم کی خواہش کا نتیجہ تھی تو یہ شادی تاعمر خفیہ ہی رہے گی۔ دوسرے ان کے خاندان میں کسی بھی غیر خاندان کی عورت سے نہ تو شادی کی جاتی ہے نہ ہی اولاد پیدا کی جاتی ہے۔ بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو اس بچے کو خاندان والے کبھی قبول ہی نہیں کرتے۔ ارم جو پہلے پہل صرف عزت کی خواہش مند تھی اور اس غلیظ ماحول سے نکلنا چاہتی تھی جہاں عزت زندگی گزارنے کی آخری ترجیحات میں بھی کہیں نہ تھی۔ خاقان شاہ کی ہر بات کو مان کر خوشی سے اپنی ایک نئی زندگی بسانے کو چلی آئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
’’شاباش میرے شیر… شاباش۔‘‘ ذورین نے اذلان کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔ فرط جذبات سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہی حالت خدیجہ کی تھی۔ وہ بار بار دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتی تھیں۔ اذلان نے میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ اعزازی نمبروں سے پاس کرلیا تھا۔
’’اماں کہیں ماموں یہ نہ کہیں کہ بس اب اتنی ہی تعلیم کافی ہے۔ گھر پر رہ کر بھائی کے ساتھ زمینوں کا کام سنبھالو۔ پانچ سال پہلے انہوں نے بھائی کے ساتھ بھی تو ایسا ہی کیا تھا۔ یہ لوگ کب کسی کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ سکتے ہیں۔ خصوصاً ہمیں کہ تعلیم ہمیں اتنا شعور نہ دے دے کہ اپنا حق مانگنے کھڑے ہوجائیں۔ نہیں جانتے کہ تعلیم نے زندگی اور حالات کو بدلنے کا ہنر ہمیں شعور میں آنے کے بعد دیا ہے۔ ان کے رویے اور سلوک نے تو ہمیں بہت پہلے ہر چیز سے آگاہی دے دی تھی۔‘‘ اذلان اپنی اتنی بڑی کامیابی پر بھی خوشی سے زیادہ خوف زدہ تھا۔ خدیجہ بیگم نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور ذورین کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں ماں بیٹا ہی تو عرصہ سے ایسے حالات میں ایک دوسرے کی ڈھال بنتے آرہے تھے۔
’’نہیں اذلان… ہر بار قربانی ہم نہیں دیں گے۔ ویسے بھی میں بڑا تھا تو ان کا پورا دھیان میری طرف تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ تمہاری مزید تعلیم کے سلسلے میں رکاوٹ بنیں گے اور اگر کہیں گے تب بھی ہر مسئلہ اور رکاوٹ جھیلنے کے لیے تمہارا بھائی ہے ناں‘ تم بس اب آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوجائو۔ تمہیں ڈاکٹر بنے دیکھنا میری اور اماں کی سب سے بڑی خواہش ہے۔‘‘ وہ اس کا کندھا تھپتھپاتا ہوا پورے جذب سے بولا۔
آج سے پانچ سال پہلے کا وہ وقت اس کے چہرے پر وہ تمام محرومیاں سمیٹ لایا تھا جب اسے بورڈ میں ایف ایس سی ٹاپ کرنے کے بعد ارباز شاہ نے بلا بھیجا تھا۔ سکندر شاہ کو ایف ایس سی کے بعد باہر بھجوانے والے وہ جاگیردار اس کی مزید تعلیم کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے اس کے ہاتھ سے قلم اور کتاب لے کر ہل اور رہٹ پکڑا دیا تھا کہ وہ مزاروں کی اولاد ہے۔ صدیوں سے مٹی جیسی اوقات رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی بھی مٹی کی طرح اور مٹی کو ہی سنوارنے میں خرچ ہونی چاہیے۔ ان کا بھلا قلم اور کتاب سے کیا تعلق۔ مزید یہ کہ اگر کتاب سے اتنی ہی محبت ہے تو وہ زمینوں کا تمام کام سنبھالنے کے ساتھ ساتھ منشی سے حساب کتاب بھی سیکھتا رہے تاکہ اس کی یہ خواہش بھی پوری ہوتی رہے‘ اور یہ تو ان لوگوں کا وطیرہ تھا کہ ان کی ہر کامیابی پر وہ ان کو ان کی اوقات یاد دلانا ضروری خیال کرتے تھے کہ وہ کون ہیں‘ کس کی اولاد ہیں… اور وہ مزارعے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں ان شاہوں کی خدمت کرتے ہوئے ہی مرنا چاہیے۔
ژ ژ ژ ژ
’’ادھر آئو منت… تمہارے بابا اور تایا نے تمہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم ایسے منہ اٹھا کر لور لور پھرتی رہو یاد رکھو کہ ہمارے ہاں کی لڑکیاں کبھی بغیر چادر کے باہر نہیں گئیں اور تم ایک دوپٹے میں گھوڑوں پر چڑھی پھرتی ہو۔ کتنی بار سمجھایا ہے کہ شکار‘ گھڑ سواری‘ نیزہ بازی سمیت اس قسم کے سارے شوق ہمارے ہاں ایک مرد کی شان اور حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں… مگر ایک لڑکی کا اس طرح کے کاموں میں حصہ لینا یہ عیب کی بات ہے۔ جب تک تم شہر میں رہیں تب تک ہم نے بھی کوئی روک ٹوک نہیں رکھی کہ چلو جیسا دیس ویسا بھیس‘ مگر یہاں تم جانتی ہو تمہارا اس طرح سکندر کے ساتھ ہر جگہ جانا کتنی باتوں اور افواہوں کو جنم دے سکتا ہے۔‘‘
’’سو واٹ اماں… مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں اور ویسے بھی کس کی جرأت ہے کہ منت مراد علی شاہ کے بارے میں کچھ کہہ سکے۔ بابا جان کو نہیں جانتے یا مجھے نہیں جانتے۔‘‘ وہ لانگ شوز چڑھاتی ہوئی مگن سی بولی۔ رابعہ بی بی طویل سانس لے کر رہ گئیں۔
’’پھر بھی منت کوئی بات نہ بھی کرے بچے… تم خود سوچو تمہاری ہونے والی ساس تمہاری تائی بھی ہیں اور خالہ بھی۔ وہ مجھ سے بڑھ کر تمہیں چاہتی ہیں مگر اپنی بہو کے لیے ہر عورت نے ایک خاکہ تراش رکھا ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ تمہاری اس روش سے ان کے دل میں کوئی ذرا سا بال بھی آئے۔‘‘
’’ارے اماں تائی کی تو مجھ میں جان ہے۔ وہ تو مینا کہتی ہیں مجھے اپنے گھر کی۔ ابھی بھی جب میں نے سکندر کے ساتھ شکار پر جانے کا بتایا تو انہوں نے مجھے گلے سے لگا کر میرا ہاتھ چوما اور باقاعدہ دعا دی ایک آپ ہیں جنہوں نے کبھی اکلوتی بیٹی کے لاڈ نہیں اٹھائے۔ بس ہر وقت کچھ نہ کچھ سمجھاتی ہی رہتی ہیں۔ مجھے تو تائی کی بجائے آپ اپنی ساس لگتی ہیں۔‘‘ پائوچ اٹھا کر اس میں سیل فون کی موجودگی چیک کرتی وہ بڑبڑاتی باہر نکل گئی۔
’’جھلی نہ ہو تو بھلا ایک ماں سے زیادہ کون اپنے بچوں کا سگا ہوسکتا ہے۔‘‘ نذیراں کو آواز دیتیں وہ باہر چلی گئیں۔
ژ ژ ژ ژ
ویسے اتنا ایٹی ٹیوڈ ہے کس بات کا تمہیں؟ ہاں ایک شکل ہی ذرا بہتر ہے۔ باقی نہ دولت‘ نہ بیک گرائونڈ‘ نہ تعلیم‘ نہ ہی خاندان۔‘‘ گھوڑے کے ارد گرد ٹہلتے ہوئے وہ دوسرے گھوڑے کی ناز برداری میں مصروف ذورین سے مخاطب تھی۔ جس کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ اسے اور سکندر کو آگ ہی لگا دیتا تھا۔ اگرچہ اس نے اپنے کام میں کبھی کوتاہی نہ کی تھی نہ کبھی کسی سے بدتمیزی سے پیش آتا تھا۔ ہاں غیر ضروری خوشامد اور چاپلوسی جو حویلی کے لوگ اپنے ارد گرد دیکھنے کے عادی تھے۔ اس سے اجتناب برتتا تھا۔ بڑوں سے لے کر حویلی کے چھوٹوں تک کے لیے اس کا ایک ہی انداز تھا۔ چپ چاپ حکم بجا لانا اور اگر سامنا ہوجاتا تو زبانی سلام کرکے وہاں سے ہٹ جاتا۔ اسے نہ تو باقی لوگوں کی طرح شاہوں کے آگے جھک جھک کر روزی روٹی کے لیے گڑگڑانا منظور تھا نہ ہی ان کی خوشنودی کے لیے ان کے سامنے سر جھکا کر ہاتھ باندھے کھڑے رہنا۔ کیونکہ ایک بات پر تو اس کا یقین پختہ تھا کہ درخت سے پتہ ٹوٹ کر نیچے گرنے سے لے کر انسان کی روزی‘ صحت اور زندگی ہر ایک کام کی ڈور اسی مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے۔ یہی بے نیازی سکندر شاہ کو بھڑکا دیتی وہ جان بوجھ کر اس سے بہت سے ایسے کام بھی لے جاتا تھا جو ذورین کی فطرت اور عزت نفس کے منافی ہوتے اورکچھ عرصہ سے منت مراد علی شاہ بھی اس کام میں سکندر شاہ کے پیش پیش تھی۔
’’بی بی… میں نے تو اپنے مالک کا ہمیشہ خود کو ایک انسان اور پھر ایک مسلمان بنانے پر شکر ادا کیا ہے۔ باقی یہ خاندان نسب اور ذات پات تو اس نے ہماری پہچان کا ذریعہ بنائی ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے اپنی ذات کا فخر اور دوسرے کی ذات کی کمتری کا ذریعہ بنالیا ہے وہ ان کا ظرف ہے۔ جہاں تک فخر کی بات ہے تو صرف اتنی بات مجھے پتہ ہے کہ تکبر صرف ایک ذات پر ہی ججتا ہے کہ یہ اس کی صفت ہے۔ ہم انسانوں کی کیا اوقات کہ ایسا کچھ کرسکیں۔‘‘
’’تم باتیں خوب بنالیتے ہو یہ بتائو بھائی کو ڈاکٹر بنا کر تم سمجھتے ہو ہمارے مقابل آکر کھڑے ہوجائوگے جب کہ جانتے بھی ہو ایسا قیامت تک ممکن نہیں۔‘‘ سکندر کا انتظار کرتے ہوئے جب بور ہوگئی تو تفریح کا ایک شاندار موقع اس اکڑے مزارعے کی صورت نظر آیا تھا۔ وہ کیوں ہاتھ سے جانے دیتی۔
’’نہیں بی بی… آپ کے مقابل آکرکیا کرنا ہے ہم نے لیکن زندگی کی خوشیاں‘ کامیابیاں اور ترجیحات جتنی آپ کے لیے ضروری ہیں ہمارے لیے بھی ویسے ہی ہیں۔ جو آپ کا اور میرا رب ہے وہ بھی ایک ہی ہے۔ اس کی طرف سے کسی بھی انسان پر کوئی قدغن نہیں ہے کہ وہ زندگی کی دوڑ میں یہ سوچ کر حصہ نہ لے کہ وہ غریب ہے یا وہ مزارعے کا بیٹا ہے۔‘‘
’’بات حق کی نہیں ہورہی ڈیئر بات ہورہی ہے اپنی اوقات سے بڑھ کر خواب دیکھنے کی۔ اس پر بہت لمبی بات ہوسکتی ہے مگر ابھی سکندر نے مجھے تمہارے ساتھ بات کرتے دیکھ لیا تو تمہارے ساتھ میری بھی خیر نہیں۔ اس لیے تمہارے یہ ویوز پھر کسی اور وقت سنوں گی۔‘‘ سکندر کو دور سے آتے دیکھ کر وہ ہاتھ ہلاتے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
ایسی کئی عورتیں شاہوں کی زندگی میں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ سے زندگی کو رنگین تو بنایا جاتا ہے گھر کی زینت نہیں بنایا جاتا۔ یہ تمہاری دی ہوئی جرأت ہے کہ وہ اس حویلی تک آن پہنچی ہے۔ ورنہ اس قسم کی کوئی عورت تو کیا مرد کی بھی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ شاہوں کی حویلی تو ایک طرف ان کے گائوں کی سرحد بھی عبور کرجاتے۔‘‘ وہ سلطان شاہ تھے۔ جو خاقان شاہ کے ساتھ ایک عورت اور بچی کو دیکھ کر چراغ پا ہوگئے تھے۔ ان کو اپنے بچوں کی تمام سرگرمیوں کی خبر ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ خاقان شاہ کی اس بیوی کی بھی خبر تھی مگر وہ سمجھتے تھے کہ کچھ دن کا شوق ہوگا ہمیشہ کی طرح۔ پھر وہ پچھلی عورتوں کی طرح اس کو بھی چھوڑ دیں گے۔ مگر وہ ان کی تمام روایات کو بھول کر اس عورت کو پہلو سے لگائے کھڑے تھے۔ جب کہ حویلی کی اصل اور خاندانی بہو ان کی بھیجتی تھی۔ جو دو بیٹوں کی ماں ہونے کا اعزاز بھی رکھتی تھی۔
’’اباجی… اس کا پیچھے سے تعلق جس بھی جگہ سے ہو۔ اب وہاں سے کوئی تعلق نہیں ہے نکاح کیا ہے میں نے اس سے اور اب تو یہ میری بچی کی ماں بھی ہے۔ اس حویلی نے تو کبھی روزی کی تلاش میں آنے والوں کو بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ یہ تو پھر آپ کی بہو ہے۔ مقام اور حیثیت بھلے نہ دیں عزت ہی دے دیں اور ہم شاہوں کا کب شیوہ ہے کہ سائل کو خالی ہاتھ لوٹائیں۔‘‘ ارم پر ایک نظر ڈال کر وہ باپ کے روبرو آن کھڑے ہوئے۔
’’او خاقان تجھے نہیں پتہ کہ اس حویلی میں تو ملازم بھی نسب دیکھ کر رکھے جاتے ہیں۔ تو نے ایک بغیر نام ونشان کی عورت کو اپنی بیوی بھی بنالیا اور بچی کی ماں بھی۔ شادی ہی کرنی تھی تو مجھے بتاتا۔ میں کسی اعلیٰ گھرانے کی عورت سے ایک چھوڑ دو نکاح کرا دیتا۔‘‘ وہ اب بھی غرورو تکبر کی اسی سیڑھی پر کھڑے تھے۔
’’ابا اب میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا کہ آپ نے باقی چیزوں کی طرح قول نبھانا بھی تو سکھایا ہے ناں مجھے۔ پھر جیسے بھی سہی اس بچی کی رگوں میں میرا خون ہے۔ کیسے دربدر رلنے کے لیے چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘
’’ہوں یہی ایک سنگین غلطی ہے تمہاری خاقان شاہ جو مجھے کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے روک رہی ہے۔ اس عورت کو سرونٹ کواٹر میں جگہ دے دو… مگر اسے سمجھا دینا کہ اپنی اوقات نہیں بھولے گی کیونکہ اس حویلی کی اصل بہو اور میرے وارثوں کی ماں میری بھتیجی ہے۔ اس لیے آئندہ مزید اولاد کا سوچنا بھی اس کے لیے بدترین نتائج لے کر آئے گا۔‘‘ ان کے رعونت بھرے حکم پر خاقان شاہ ایک طویل سانس لے کر رہ گئے کیونکہ مہینہ بھر سے وہ اپنے باپ کو اس بات کے لیے رام کررہے تھے کہ ارم کو بے شک ایک کوٹھری میں ہی سہی جگہ دے دیں۔ جس محلے میں انہوں نے اسے گھر لے کردیا تھا۔ وہاں کے لوگ اب ان کی آمد پر چہ مگوئیاں کرنے لگے تھے۔ پھر ارم جو پہلے پہل ان کی تمام شرائط پر راضی برضا تھی۔ ماں بننے کا خوب صورت احساس ملتے ہی ایک انوکھے احساس میں گھر گئی تھی۔ خاقان شاہ کی سخت تنبیہ کے باوجود اس نے اپنے امید سے ہونے کی خبر کو ان سے اس وقت تک چھپائے رکھا جب تک چھپا سکتی تھی اور جب ان پر ظاہر کیا تو پائوں میں پڑ کر اس جان کی زندگی بھی مانگ لی جو ابھی اس دنیا میں نہیں آئی تھی۔ پھر خاقان شاہ نے اپنا سارا رسوخ اور پیسہ استعمال کیا مگر کوئی ڈاکٹر اس حالت میں ایسا رسک لینے کو تیار نہ تھی۔ بچی کی پیدائش کے دو ماہ بعد تک انہوں نے وہاں قدم نہ دھرا تھا۔ مگر پھر جب آئے تو بچی کی شکل دیکھ کر ارم سے ناراضی تو برقرار رکھی نومولود پر شفقت پدری امڈنے سے دل کو نہ روک پائے۔ پھر ارم سے محبت ہی اتنی شدید تھی یا بچی کے باپ ہونے کا احساس اتنا قوی تھا کہ اپنے باپ دادا کے فرمودات کو بھلائے وہ سلطان شاہ کی عدالت میں اپنا مقدمہ لے کر حاضر ہوگئے تھے۔ پھر کون سی دلیل تھی جو انہوں نے باپ کو نہیں دی مگر وہ مصر تھے کہ اس عورت کو طلاق دے کر کچھ دے دلا کر فارغ کردیں۔ بیوی الگ روٹھ کر دونوں بیٹیوں کو لے کر میکے جا بیٹھی تھی۔ وہ بھی ضد پر اڑ گئے تھے اور کچھ دنوں بعد بیوی اور بچی کو ان کے سامنے لاکھڑا کیا تھا۔ پھر بیٹے سے محبت تھی یا شاہوں کی بچی دردر پر رلنے کا خوف تھا کہ وہ سرونٹ کوارٹر میں ہی سہی ان ماں بچی کو جگہ دینے پر راضی ہوگئے تھے۔ اس کے بعد اپنی بھیجتی کو بھی خود ہی منا کر لے آئے تھے کہ جس عورت کو اپنے پائوں کی خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتے اس کے حوالے سے وہ کیوں اپنی راجدھانی چھوڑ کر بیٹھی ہے۔ یہیں سے ارم کی ایک نئی اور کٹھن زندگی کا آغاز ہوا تھا۔
ژ ژ ژ ژ
’’جی ادا سائیں بلوایا آپ نے۔‘‘ مراد علی شاہ نے بڑے بھائی کے کمرے میں داخل ہوکر عرض کی۔
’’آئو… آئو مراد شاہ مانا کہ کتابوں کی دنیا کے باسی ہو مگر باہر بھی ایک دنیا تمہارے اردگرد بستی ہے۔ اس کی بھی کبھی کبھار خبر لے لیا کرو۔‘‘ انہوں نے اخبار رکھ کر میٹھا سا طنزکیا تو مراد علی شاہ مسکرا دیئے۔
’’آپ کو اللہ ہمارے سر پر تادیر سلامت رکھے ادا سائیں۔ آپ ہیں تو مجھے کیا ضرورت ہے کسی بھی جھمیلے میں پڑنے کی۔ پھر سب کچھ دیکھ تو لیتے ہیں آپ اور یقین مانیں تو مجھ میں یہ اہلیت ہے ہی نہیں اتنے بڑے گائوں کی سرداری سنبھالنا۔ سب کے دکھ سکھ مسائل دیکھنا اور حل کرنا۔ بس آپ کی ہی ہمت ہے اور اللہ آپ کو ہی یہ ہمت دیئے رکھے۔ مجھے میری کتابی دنیا میں ہی خوشی ملتی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن میں سب کی رائے کا شامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ سکندر سمجھ دار ہے مگر ہے تو ابھی بچہ۔ پہلے تو یہ بتائو کہ منت اور سکندر کی شادی کا کیا پروگرام ہے اور یہ جو خدیجہ کا لڑکا پرپرزے نکال رہا ہے تو پھر کاٹیں اس کے پر؟‘‘ وہ مونچھوں کو بل دیتے پوچھ رہے تھے۔ مراد علی شاہ نے ناسمجھی سے بڑے بھائی کو دیکھا۔
’’ادا آپ کے بچے ہیں دونوں۔ جیسے مناسب سمجھیں کریں۔ دونوں اپنی تعلیم سے بھی فارغ ہوچکے ہیں اور ذورین تو بہت موڈی بچہ ہے سب سنبھال تو لیا ہے اس نے پھر کیا ہوا۔ کوئی بات ہوئی ہے کیا؟‘‘ وہ مودبانہ انداز سے بولے۔
’’او نا نا اس کی بات نہیں کررہا میں۔ چھوٹے کی بات کررہا ہوں۔ ڈاکٹری کا امتحان پاس کرلیا ہے اس نے۔ کل کو ڈاکٹر بن جاتا ہے خدیجہ کا پتر تو کمی لوگوں کا تو پتہ ہے تمہیں کہ ذرا اختیار اور حیثیت بدلی نہیں کہ فوراً اوقات دکھانے پر آجاتے ہیں۔ آج یہ جائے گا شہر ڈاکٹر بننے کل کو اور لوگوں کو بھی شہہ ملے گی پھر تو سارے ہی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کیا خیال ہے اس کے بھی پر کتر کے کسی کام پر نہ لگا دیں۔‘‘ اس پل اتنی رعونت تھی ان کے چہرے پر اور لہجے میں کہ ایک پل کو مراد علی شاہ بھی دل میں استغفار پڑھ کر رہ گئے۔
’’میں آپ کے خیال سے متفق نہیں ہوں ادا… زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ اب لوگوں کے خیالات بھی بدلے ہیں۔ اب ہم ان کو اسی لاٹھی سے ہانکیں گے جس سے دس سال پہلے بھی ہانکتے رہے ہیں اور وہ اسی سمت دوڑے بھی چلے جائیں گے جو سمت ہماری دکھائی اور بتائی ہوئی ہے تو یہ یقینا ہماری بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ سختی بغاوت کو جنم دیتی ہے۔ یہ بات تو ہمارے خاندان سے بہتر کوئی اور جان ہی نہیں سکتا۔ اس میں قابلیت ہے تو جانے دیں اسے جو کرنا ہے کرے زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر بن کر ماں اور بھائی کو لے کر چلا جائے گا اور کیا کرے گا۔‘‘ وہ اپنے بھائی کے ذہن کو مدنظر رکھ کر بات کررہے تھے۔ جانتے تھے کہ ان کے وضع کردہ اصولوں اور انا سے جو بات ٹکراتی تھی اس سے وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ہاں سامنے والا ہاتھ جوڑ کر منت کرکے بات منوانے کی کوشش کرتا تو کبھی کبھار مان بھی جاتے تھے۔ اس لیے لہجے میں نرمی اور عاجزی لیے اذلان کے حق کے لیے بات کی تھی۔
’’مراد علی شاہ… تعلیم وصحت اور دوسری ضرورتیں ان کو ان کے گھر میں دے دیں گے تو ہماری چاکری کون کرے گا۔ کل کو یہ لڑکا یہاں اسپتال کھول کے بیٹھ گیا تو مت ماری جائے گی ہماری۔‘‘ وہ جو برسوں سے غریب عوام کو گائوں میں اسپتال اور تعلیم کی سہولت مہیا کرانے کا لارا دیتے آئے تھے ان کو یہ بات ہرگز پسند نہیں آئی تھی۔
’’ادا اسپتال ایسے ہی نہیں کھل جاتے۔ اس کے لیے کثیر سرمائے کے ساتھ ساتھ زمین اور دیگر لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر ابھی تو اس میں بہت ٹائم ہے۔ ڈاکٹر بننے کے لیے۔ آپ اسے جانے دیں اور یہ بتائیں کہ آپ نے بچوں کی شادی کے حوالے سے کیا سوچا ہے؟‘‘ مراد علی شاہ نے ان کا دھیان بٹایا اور اس میں خاطر خواہ کامیاب بھی ہوگئے کہ اب وہ پرانا مسئلہ بھولے ذوق وشوق سے شادی کی تاریخیں اور انتظامات کی تفصیل گنوا رہے تھے۔
ژ ژ ژ ژ
عورت اپنے مرد کی شراکت دار دوسری عورت کی جلن میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ اس کا ثبوت سلمیٰ بیگم نے عملی طور پر دے دیا تھا۔ اس نے ماں باپ کے گھر سے سسرال واپس آنے کی بہت کڑی اور بہت بڑی شرط رکھی تھی کہ آج اس عورت کی ایک بیٹی ہے تو اس کا خاوند اس سے تعلق نہیں توڑ رہا۔ الٹا اس کو حویلی میں اس کے مقابل لے آیا ہے تو کل کو وہ اور بچے خصوصاً بیٹے پیدا کرکے حویلی اور جائیداد کے وارثوں کے برابر لاکھڑا کرے گی تب وہ کیا کریں گے۔ وہ اسی صورت گھر واپس آئیں گی یا تو اس عورت کو طلاق دے کر گھر سے باہر کیا جائے۔ اب جب اسے حویلی میں جگہ دے ہی دی ہے تو کچھ ایسا کیا جائے کہ وہ مزید اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ارم جو اللہ کا شکر ادا کرتے نہ تھک رہی تھی کہ اس کی بیٹی اور اس کو سر چھپانے کے لیے شوہر کے گھر میں کوٹھڑی ہی سہی مل تو گئی ہے۔ باقی رہی حیثیت اور مقام تو وہ بھی کبھی نہ کبھی مل ہی جاتے۔ فی الوقت تو اس عزت کا حصول ہی غنیمت تھا جو اسے شہر کے اس محلے میں حاصل نہیں تھی جہاں خاقان علی شاہ اس سے چوری چھپے ملنے آتے اور اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ جاتے۔ سلمیٰ بیگم کی شرط سن کر دنگ رہ گئی تھی… مگر اس معاملے میں خاقان شاہ بھی اس کا ساتھ نہ دے پائے تھے۔ انہیں اپنا گھر‘ عزت اور بچی کے لیے باپ کی شفقت کے بدلے اپنی مامتا کو قربان کرنا پڑا تھا۔ اپنی دو قابل اعتبار ملازمائوں اور ایک ملازم کے ہمراہ سلمیٰ بیگم اس کا شہر جاکر آپریشن کرواکے آئی تھی۔ تب کہیں جاکر اس کو دوسری عورت کے اس خوف سے نجات ملی تھی جس نے کچھ عرصہ سے ان کے اعصاب کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ باقی رہی ارم تو ایک بے نام ونشان عورت ان کی ایک چٹکی کی مار تھی لیکن وہ اسے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی سے خاقان علی شاہ کی زندگی سے دور کرنا چاہتی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
’’ادھر آ ذرا تجھے نہیں پتہ کہ ہمارے ہاں رواج نہیں ہے لڑکیوں کے اسکول جانے کا۔ تیری ماں نے نہیں بتایا تجھے۔ اسے صرف ادائیں دکھا کر مردوں کو رجھانا آتا ہے۔ ابھی سے تجھے قابو نہ کیا تو‘ تو نے بھی یہی لچھن دکھانے ہیں آگے جاکر۔‘‘ ننھی خدیجہ کے گلے سے انہوں نے اس بے دردی سے بیگ کھینچا کہ وہ لڑکھڑا کر نیچے گری تھی۔ کچن میں کام کرتی ارم نے دور سے وہ منظر دیکھا تو بھاگی چلی آئی۔ نیچے پڑی ہوئی خدیجہ کو اٹھا کر کھڑا کیا۔ ماں کو سامنے پاکر پہلے وہ سہمی پھر اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شرع کردیا۔ سلمیٰ بیگم اب اس کو صلواتیں سناتے ہوئے دھمکی دے رہی تھی کہ اب آئندہ اسے اسکول جاتے دیکھا تو ہاتھ پائوں توڑ کر رکھ دیں گی۔ صرف یہی نہیں انہوں نے اس کا زمین پر پڑا ہوا بستہ اٹھا کر تھوڑی دور جلتے تندور میں جلا کر ارم کو فاتحانہ نظروں سے دیکھا تھا۔ جو اب بچی کو پچکارتی لے جارہی تھی۔ اب وہ ملازم کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔
ژ ژ ژ ژ
منت کو شہر کسی سہیلی کی برتھ ڈے پر جانا تھا۔ ڈرائیور ارباز شاہ کو لے کر دوسرے گائوں گیا تھا۔ سکندر بھی شہر کسی کام سے نکلا تھا۔ وہ اپنی فریاد لے کر باپ کے پاس آئی۔
’’ٹھیک ہے بچے آپ ایسا کرو ذورین ہی بچتا ہے فی الحال جس کے ساتھ میں آپ کو بھیج سکتا ہوں کیونکہ سکندر ہے نہیں یہاں اور اتنی لمبی ڈرائیو کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔‘‘ بہت سوچنے کے بعد انہوں نے کتاب بند کرکے ٹیبل پر رکھی اور سامنے منہ بنا کر کھڑی لاڈلی بیٹی کو دیکھا۔
’’ایک تو یہ بندہ مجھے زہر لگتا ہے۔ آپ کو پتہ نہیں کون سی بات اس کی پسند ہے تایا جی اس کو صحیح کس کے رکھتے ہیں۔ پتہ بھی ہے اس نے مجھ سے کہا کہ جس طرح آپ کا حق ہے تعلیم حاصل کرنے پر۔ اسی طرح مجھ پر بھی کوئی پابندی اس منہ زور سیلاب کو نہیں روک سکتی جو علم کے حصول کے لیے بند توڑنے کو میرے اندر سے ابلنے کو تیار ہے۔ آپ کے سکندر صاحب نے جو ڈگری لاکھوں خرچ کرنے کے بعد ملک کے ایک بہترین ادارے سے لی ہے میں وہی ڈگری اس زمین کی آبیاری کرتے ہوئے لے کر دکھائوں گا۔ حالانکہ تایا جی نے اس کو سختی سے منع کیا ہے ایسی کسی بھی ایکٹویٹی سے مجھے تو کل ہی بینا ملازمہ کی بیٹی نے بتایا کہ ذورین صاحب نے انگریزی میں سولہ جماعتیں پاس کرلی ہیں۔ دیکھیں ذرا اس کی جرأت۔ آجائیں ذرا تایا جی بتاتی ہوں اس کے کارنامے۔‘‘ تلملا کر وہ بولی تو مراد علی شاہ نے خوشگوار حیرت سے عینک اتار کر میز پر رکھی۔
’’آپ کا غصہ میری سمجھ سے باہر ہے منت… افسوس کہ مراد علی شاہ کی بیٹی ہوکر آپ کی سوچ ایک روایتی جاگیردارنی والی کیوں ہے۔ سورج دیکھا ہے ناں اس کی روشنی تمام مخلوقات کے لیے ہے۔ بارش برستی ہے تو یہ نہیں دیکھتی کہ نیچے سیراب ہونے والوں میں پھول ہے یا کانٹا۔ انسان ہے یا حیوان۔ جب کائنات کا خالق نعمتیں تقسیم کرتے وقت صرف اپنی رحمت دیکھ رہا ہے تو ہم حقیر سی مخلوق کی کیا مجال کسی انسان کے لیے بنیادی ضرورت کے دروازے بند کرسکیں۔ اس بچے پر تو فخر کرنے کو دل کرتا ہے جس نے اپنی لگن کو تڑپ کو کام اور بے تحاشا مصروفیت میں ختم نہیں ہونے دیا۔ اس چیز نے الٹا اس میں علم کے حصول کی مہمیز کو شدید کردیا۔ مجھے تو یہ جان کر دلی خوشی ہورہی ہے اور میں چاہتا ہوں آپ بھی اپنی سوچ بدلو بیٹے… آپ دولت مند ہیں۔ حسب نسب والے ہیں تو دنیا کی ہر نعمت پر آپ کا حق ہے اور دوسرا غریب ہے تو وہ کسی بھی نعمت یا ضرورت کے بارے میں سوچے بھی نہ۔ یہ تو انصاف نہ ہوا ناں۔ باقی باتیں پھر کبھی ہوں گی آپ جاکر تیار ہوجائیں میں ذورین کو کہتا ہوں گاڑی تیار کرے۔‘‘ نرمی سے کہہ کر انہوں نے منت کو کہا اور ٹیبل پر سے اپنا موبائل اٹھا کر اس کا نمبر ملا کر اسے اپنے پاس آنے کو کہا لمحوں میں ہی وہ ان کے سامنے تھا۔
’’آپ نے بلایا چھوٹے شاہ صاحب؟‘‘ مودب سا وہ سامنے کھڑا تھا۔
’’ہاں آجائو ذورین ایک مہربانی کرو یار۔ منت کو شہر جانا ہے کسی دوست کے گھر۔ آپ نے وہیں رہنا ہے اور رات گہری ہونے سے پہلے پہلے اسے واپس لے کر آنا ہے۔ وہ اس معاملے میں لاپروا ہے دوستوں میں بھول جائے گی۔ آپ نے خود ہی واپسی کا تقاضا کرنا ہے پتہ ہے ناں ادا ارباز کو گھر کی عورت کا زیادہ دیر باہر رہنا پسند نہیں۔‘‘
’’جی چھوٹے شاہ صاحب جو حکم آپ کا۔ فکر نہ کریں۔‘‘ حویلی میں ایک واحد فرد تھے جن کی وہ دل سے عزت کرتا تھا کہ دوسرے بندے کو عزت دے کر اپنی عزت کروانے کا فن بخوبی جانتے تھے۔ جس سے حویلی کے دوسرے لوگ بے بہرہ تھے۔
’’اور یار… اتنی بڑی کامیابی حاصل کی آپ نے بتایا بھی نہیں۔ بہت اچھا لگا مجھے آپ کی کامیابی کی بابت جان کر۔‘‘ ان کی بات سن کر اس نے نظریں اٹھا کر حیرت سے ان کو دیکھا۔
’’تمہیں تو پتہ ہے ناں ذورین میاں… میں علم اور کتاب دوست بندہ ہوں تو ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہوں۔ یہ ایک کتاب تحفہ کے طور پر رکھو اور یہ بتائو کہ چھوٹے میاں سیٹ تو ہوگئے ناں کالج میں کوئی مسئلہ ہو تو بتانا۔‘‘ انہوں نے کتابوں کے ریک کے پاس جاکر ایک کتاب اٹھائی اور اس کی جانب بڑھاتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’فرط جذبات سے وہ کچھ بول بھی نہ پایا تھا۔ اتنی عزت اور محبت ان ماں بیٹوں کے نصیب میں کب آئی تھی بھلا وہ بھی حویلی کے کسی فرد کی طرف سے۔ مراد علی شاہ نے زندگی کا بیشتر حصہ تعلیم کے سلسلے میں ملک سے باہر گزارا تھا پھر جاب کی وجہ سے شہر میں رہے تھے۔ اب سال بھر ہی ہوا تھا ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو گائوں میں شفٹ ہوئے سو دونوں کا ہی ایک دوسرے سے رابطہ بہت کم ہوا تھا۔ ذورین تو ان سے متاثر تھا ہی۔ اب گرویدہ بھی ہو چلا تھا۔ جب کہ مراد علی شاہ کے لیے کسی بھی موجودہ دور کے نوجوان کی ایسی زندگی خاصی متاثر کرنے والی تھی۔ جس کے پاس آگے بڑھنے کے لیے صرف ماں کی دعا تھی اور بے حد کٹھن زندگی مگر اس میں بھی وہ اپنے بھائی کے لیے ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما تھا۔ وہ اب عاجزی سے ان کو بتا رہا تھا کہ اذلان بالکل ٹھیک ہے اور شہر میں سیٹ ہے۔ اسے کسی قسم کی کوئی مالی معاونت نہیں بلکہ دعائیں چاہیں۔
’’وہ تو تمہارے ساتھ ہیں ہی برخودار اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے مقاصد میں کامیاب کرے اور ہزاروں خوشیاں دکھائے۔ اب جلدی سے گاڑی نکالو۔ ورنہ وہ میڈم غصے میں تو ایسی بلی بن جاتی ہے جس کے غصے سے میں خود بھی ڈرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے خوش گوار لہجے میں کہا تو ایک بھولی بسری مسکراہٹ ذورین کے لبوں پر بھی لمحہ بھر کو جھلک دکھلا کر غائب ہوگئی اور وہ واپس مڑ گیا۔
ژ ژ ژ ژ
’’میرو لوگ اتنے سنگدل و ظالم کیسے ہوسکتے ہیں۔ میں تو ایک پرندے کو بھی زخمی دیکھ لوں تو راتوں کی نیند اور دن کا چین اس وقت تک واپس نہیں آتا جب تک اسے دوبارہ سے آزاد فضائوں میں چہچہاتا ہوا اڑتا نہ دیکھ لوں اور یہاں ہر روز احساسات کی تذلیل تو ہوتی ہی ہے۔ جسمانی سزا کے بغیر بھی کوئی دن تمام نہیں ہوتا۔‘‘ دور فضائوں میں غیر مرئی نقطے کو تکتی وہ اداسی سے بولی۔ اس کے لہجے کی زردی سرسوں کی لہلہاتی فصل کو اور پیلا کر گئی تھی۔
’’کس کو مارا پھر اماں کو یا تجھے۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے میرو… مقصد تو اذیت دینا ہی ہے ناں مجھے اور اماں کو۔ کبھی میں نشانہ بن جاتی ہوں تو کبھی وہ‘ مگر میرا دل کرتا ہے اس ظالم عورت کے ہاتھ توڑ دوں جب جب وہ میری ماں کو مارتی ہے اسے شاید میری آنکھوں میں چھپی بغاوت نظر آتی ہے تب ہی اماں کو زیادہ تکلیف دیتی ہے تاکہ مجھے تکلیف ہو۔ کیا عزت پانے کی خواہش اتنی بڑی تھی کہ اس کی سزا وہ عورت آج تک بھگت رہی ہے۔ کیا ہماری چیونٹی جتنی بھی حیثیت نہیں کہ جس کو پائوں تلے روندنے سے پہلے انسان بھی ایک لمحہ سوچتا ہے یا ہمیں انسان سمجھتے ہی نہیں یہ لوگ۔‘‘
’’پتہ ہے تمہیں خدیجہ کہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون کتنا قیمتی ہے؟‘‘ میرو نے جھک کر اس کا چہرہ دیکھا۔ دو آنسو ٹوٹ کر خدیجہ کے ہاتھوں کی پشت پر آن گرے۔
’’جس انسان میں جس قدر احساس ہے دوسرے کا وہ اس قدر قیمتی ہے۔ میں تجھے کتابیں لاکر دیتا ہوں ناں ان سے دوستی کرلے ان سے اپنا دکھ بانٹا کر‘ یقین کرو اللہ سب دیکھ رہا ہے بس ان کو ڈھیل دے رہا ہے وہ اپنی فرعونیت میں اسے تمہاری کمزوری جان کر تمہیں دبا رہے ہیں۔ نماز اور صبر سے مدد کی امید رکھو۔ جہاں اندھیری رات ہے۔ وہاں روشن صبح بھی تو ہے ناں۔ بس تھوڑے دن اور انتظار کرو جسے ہی مجھے شہر میں کوئی کام ملتا ہے میں تجھے یہاں سے لے جائوں گا۔ اماں کو بھی اپنے ساتھ رکھیں گے۔‘‘ اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میرو نے اسے بہلا لیا تھا ان خوابوں کی تعبیر سے جو کئی برس سے وہ دونوں اکٹھے دیکھتے چلے آرہے تھے۔ منشی کا بیٹا میرو اس وقت سے اس کا دوست تھا جب سلمیٰ بیگم نے اس کا بستہ جلا ڈالا تھا۔ چوتھی جماعت ادھوری رہ جانے کا غم ادھورا رہ جاتا جب وہ اس کے کواٹر میں چلی جاتی پھر اس کا بستہ لے کر حسرت بھری نظروں سے ان الفاظ پر نظریں وارتی جن کا ہاتھ تھام کر وہ روشنیوں کے دیس جانا چاہتی تھی مگر اس سے کتابیں چھین کر اندھیرے میں لاکھڑا کیا گیا تھا۔ کتابوں سے دوستی اسے میرو کے قریب لے آئی تھی۔ جو سفر میرو کے بستے سے شروع ہوا تھا۔ اس کے راستے میں کئی پڑائو آئے تھے جب وہ کرائے پر کہانیاں لے کر آتا اسے ضرور پڑھاتا۔ ردی میں ملنے والے اخبار جو پکوڑے رکھنے کے لیے استعمال ہوتے۔ ان کو پڑھ کر خدیجہ کی پیاس اور بڑھتی۔ پھر وہ جب جب شہر جاتا اس کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پرانے رسائل میگزین اور کتابیں لانے لگا۔ جن کو وہ دوپٹے میں چھپا کر اپنے کچے آنگن میں لے آتی اور لالٹین کی روشنی میں پڑھتی۔ سلمیٰ بیگم کے ساتھ اب اسے ادا ارباز سے بڑا خوف آتا جس نے باپ کی وفات کے بعد گائوں کی باگ ڈور تو سنبھالی ہی تھی ان پر بھی زندگی کا دائرہ حیات مزید تنگ کردیا تھا۔ پہلی بار اس نے جب اسے ادا کہا تو ایک تھپڑ اس کے گال کو سرخ کر گیا تھا۔
’’خبردار جو آئندہ مجھے ادا کہا تم میرے باپ کی ماضی میں کی گئی ایک غلطی کے سوا ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ میں اگر تم ماں بیٹی کو اس گھر سے دھکے مار کر نہیں نکال رہا تو اس کے لیے میرے باپ کو دعا دو جس کو مرتے وقت بھی تمہارا غم ستا رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تم اپنے آپ کو ہمارے برابر سمجھو یا اس خاندان کا حصہ سمجھو۔ جیسے باقی ملازم پکارتے ہیں ویسے ہی تم پکاروگی مجھے اور تمہاری ماں بھی بڑے شاہ صاحب۔‘‘ رعونت سے بھرے لہجے نے ایک لمحے میں اس حقیقت سے روشناس کرادیا تھا جسے وہ پہلے نہیں جانتی تھی۔ سرخ گال پر ہاتھ رکھے وہ اپنے کچے مکان کی طرف بھاگ آئی تھی۔ ہر بار مار کھانے پر وہ میرو کی طرف لپکتی تھی یا میلے کپڑے میں باندھ کر رکھی گئی ان کتابوں کی طرف جن میں لکھے الفاظ اور باتیں وقتی طور پر ہی سہی اس کے زخموں پر مرہم رکھ دیتی تھیں کیونکہ ماں تو حویلی کے کاموں میں اتنی مصروف ہوتی کہ اس کے پاس خدیجہ کے لیے وقت ہی نہیں بچتا تھا۔ اس کا بخار اور کھانسی زور پکڑ گئی تھی مگر کسی کے پاس اس کے لیے فرصت یا روپیہ نہیں تھا کہ شہر نہ سہی گائوں کے ڈسپنسر سے وقتی طور پر دواہی لے آئے۔ یہاں بھی میرو ہی کام آیا تھا۔ خدیجہ کے ذکر کرنے پر ڈسپنسر سے وقتی دوائیاں تو لے آیا تھا مگر تاکید کی تھی کہ جو علامات بیماری کی اس نے ڈسپنسر کو بتائی تھیں ان کو سن کر اس نے دوائی تو دے دی تھی ساتھ ہی کہا تھا کہ شہر جاکر تفصیلی چیک اپ کروائیں اور کچھ ٹیسٹ بھی۔ اوڑھنی میں دوائیں چھپا کر لے جاتی خدیجہ تلخی سے مسکرادی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
’’اندر آجائوں چھوٹے شاہ صاحب۔‘‘ اس کی مدھم آواز سن کر مراد علی شاہ سیدھے ہو بیٹھے۔
’’آئو آئو خدیجہ… اس میں بھلا اجازت لینے والی کون سی بات ہے؟‘‘ وہ مسکرا کر سیدھے ہو بیٹھے۔ خدیجہ نے چائے لاکر ان کے سامنے دھری۔
’’بیٹھو خدیجہ… اور سنائو کیا حال ہیں‘ کیسی ہو؟ ذورین سے تو ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اذلان کیسا ہے؟‘‘ چائے کا کپ اٹھا کر انہوں نے گھونٹ بھرا۔ خدیجہ ان کے سامنے قالین پر بیٹھ گئیں۔
’’اوپر بیٹھیے خدیجہ… آپ کو بہن نہ سمجھوں تب بھی عورت کا بہت مقام ہے میرے دل میں۔ میں اپنے سامنے ہاتھ جوڑے اور زمین پر بیٹھے ملازم بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ کا تعلق تو پھر بھی حویلی سے ہی ہے۔ یہ حویلی اور اس کے مکین مانیں یا نہ مانیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔‘‘ اسے سامنے قالین پر بیٹھتا دیکھ کر وہ بے حد سنجیدہ ہوئے۔
’’آپ کا ظرف ہے چھوٹے شاہ صاحب جو آپ ایسا سمجھتے ہیں۔ اللہ آپ کو صحت و تندرستی کے ساتھ ہزاروں خوشیاں دیکھنی نصیب کرے۔ لیکن میں اپنی اوقات جانتی ہوں۔ پھر جس زمین کو ابدی ٹھکانا بنانا ہے اس سے قبل از وقت کیسی دشمنی۔ ہم تو عادی ہیں ایسے ہی بیٹھنے کے۔ وہ میں بہت دنوں سے یہ پیسے لے کر آرہی ہوں کہ آپ سے ملنے کی سبیل بنے تو واپس کردوں۔‘‘ خدیجہ نے دوپٹے میں سے وہی لفافہ نکال کر سامنے ٹیبل پر رکھ دیا جو انہوں نے ساتھ آٹھ دن قبل بھجوایا تھا۔ مراد علی شاہ نے تحیر سے ان کی سمت دیکھا۔
اﷲ ستر مائوں جتنا پیار کرنے والا اس نے زمین پر آپ کو ہماری مدد کا وسیلہ بنائے رکھا۔ ورنہ آپ بھی تو اسی خاندان کا حصہ تھے۔ ویسا ہی رویہ اپنا سکتے تھے جیسا اور لوگوں نے اپنایا تھا لیکن احسان مند لوگ اپنے محسنوں کو مشکل میں نہیں ڈالا کرتے۔ میرے بچوں نے اس منزل کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیا ہے جس منزل کے خواب ان کے باپ اور میں نے مل کر دیکھے تھے۔ اذلان کا داخلہ اس کے امتیازی نمبروں کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب تو وظیفہ بھی ملنے لگا ہے اسے۔ پہلے اس رقم کو رکھ لینا میری مجبوری تھی۔ اب نہیں رہی۔ میں نہیں چاہتی اس کے حصول سے میرے بچوں کی خود داری پر چوٹ پڑے اور آپ بھی مشکل کا شکار ہوں۔ بڑے شاہ صاحب کو پتہ چلا تو میرے ساتھ ساتھ آپ بھی مشکل میں پڑ جائیں گے۔ مجھ غریب کے پاس آپ کا احسان چکانے کے لیے دعائوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘‘ بہت ضبط کے ساتھ وہ نظریں جھکائے بول رہی تھی۔
’’بخدا چپ کر جائیں خدیجہ…‘‘ تاسف سے گھرے لہجے میں انہوں نے ہاتھ اٹھا کر انہیں منع کیا۔
’’یقین کرو تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا اور اب تک ہوتا آیا ہے اس پر میں اللہ سے اور خود سے بہت شرمندہ ہوں۔ لیکن اگر میں اس وقت یہاں ہوتا تو شاید اسے اس بے دردی سے نہ مرنے دیتا۔‘‘ وہ اذیت سے دائیں بائیں سر ہلا رہے تھے۔ خدیجہ نے سر کو مزید جھکالیا کہ پرانے زخموں کے ٹانکے ادھڑنے لگے تھے۔
’’حسب نسب اور اعلیٰ خاندان کا جو بت ہماری نسلوں نے بنا رکھا ہے اس کی بلندی آسمان کو چھونے لگی ہے اور سختی نے چٹانوں کو بھی مات کردیا ہے جس کو چاہ کر اب نہ ہم ہاتھ لگا سکتے ہیں نہ توڑ سکتے ہیں۔ ادا اس حقیقت کو اس بت کے زعم میں نہیں مانتے مگر تم سے ہمارا خون کا رشتہ ہے اس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ ایسے ہی اس جائیداد میں جیسے ہم حصہ دار ہیں ویسے ہی تم بھی ہو۔ مجھے آج تک یہ پتہ ہی نہیں چل سکا کہ میں ان جان لیوا روایتوں سے محبت کرتا ہوں یا بھائی کے وضع کردہ اصولوں سے خوف زدہ ہوں کہ آج تک تمہارے حق میں صرف بولا ہی ہوں۔ کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے گریز کیا کہ یہ نہ ہو میری ہمدردی کی سزا بھی تمہارے اور تمہارے بچوں کے کھاتے میں درج کردی جائے۔ یہ رقم جو میں تمہیں بھیجتا ہوں تم اس سے کہیں زیادہ کی حق دار ہو۔ اسے میری طرف سے اس کفارے کی ایک ادنیٰ کوشش سمجھ کے رکھ لیا کرو جو تمہارے اوپر ہونے والے ظلم کو دیکھ کر بھی چشم پوشی کی ہے یا یہ سمجھ کر قبول کرلیا کرو کہ ہوسکتا ہے اس سے تمہارے اس بدنصیب بھائی کے ضمیر پر پڑا وہ بوجھ ہلکا ہوجائے جس کے وزن سے دن بدن میری روح دبتی چلی جارہی ہے۔‘‘ وہ کھڑکی میں کھڑے اس کی جانب پشت کرکے کھڑے خود کلامی کے سے انداز میں بول رہے تھے۔ خدیجہ حیرت سے سن رہی تھیں۔ ان کے دل میں مراد علی شاہ کی قدر کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
ارد گردکے راستے پر دور تک سرسوں اسے ایسے ہی دنیا و مافیہا سے بے خبر کردیا کرتی تھی۔ چودھری کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اسے یہ خوف ہرگز نہیں ہوتا تھا کہ یہ طویل راستہ وہ اکیلے طے کررہی ہے تو اس کو کسی قسم کا کوئی ڈر یا خوف ہوگا۔ وہ اپنی خالہ کے گھر سے واپس آرہی تھی۔ انہوں نے تو کہا تھا کہ وہ اسے گاڑی پر بھجواتی ہیں مگر اس نے کہا کہ ایسے موسم میں اسے پیدل چلنا بے حد پسند ہے‘ جب فروری کی نرم گرم دھوپ میں وہ تاحدنگاہ پھیلی سرسوں کو دیکھتی کبھی کبھار پیلے پھولوں کو توڑ کر چھوٹا سا گلدستہ بناتی ایسے ہی دو ڈھائی کلومیٹر کا فیصلہ طے ہوجاتا۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا تاہم خالہ نے ملازمہ کی گیارہ بارہ سالہ بیٹی کو ساتھ ہمراہ کردیا تھا کہ اکیلی نہ جائے۔
’’میرا بس چلے ناں نوری… تو اس منظر اور موسم کو قید کرکے رکھ لوں۔ پھر جب جب دل کرے اسے آزاد کرکے دوبارہ سے اپنی زندگی کا حصہ بنالوں۔‘‘ آہستہ چلتے ہوئے اس نے کہا تو نوری نے عجیب سی نظر سے اپنی مالکن کی جھلی سی بھانجی کو دیکھا جو کہیں سے بھی چوہدرائن نہیں لگ رہی تھی۔ نہ ان کے جیسے انداز نہ باتیں اور نہ بنائو سنگھار۔ایسے میں دھول اڑاتی جیپ نے آکر اس کا راستہ روکا تھا۔اسلحہ بردار گارد کے ہمراہ وہ سکندر شاہ تھا۔ دوسرے گائوں کے سرداروں کا اکلوتا اور بگڑا ہوا چشم وچراغ۔
’’چودھری کامران کی بہن ہے ناں تو۔ بچپن میں تو بڑی عجیب سی ہوتی تھی۔ کالی لمبی تار جیسی۔ اب تو عجب ہی روپ نکالا ہے تو نے۔‘‘ کالی چادر کو وہ ماتھے سے مزید نیچے کھینچ لائی اور سائیڈ سے گزرنے لگی تھی جب وہ گاڑی سے نکل کر تیزی سے اس کے سامنے آیا تھا۔ وہ ایک پل کو ٹھٹھکی پھر آگے جانے لگی کہ ایک تو اس کی شہرت ایسی تھی کہ لڑکیاں بالیاں اس کا ذکر سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتی تھیں دوسرا پنجاب کے اس دور افتادہ گائوں میں لڑکے اور لڑکی کا ساتھ کھڑے ہونا بھی کئی افواہوں کو جنم تو دیتا ہی تھا بعض دفعہ اس معمولی بات کی بہت سنگین سزا فریقین کو بھگتنی پڑتی تھی۔ اب تو کچھ عرصہ سے یہاں یہ رواج چل نکلا تھا کہ دشمنی کی آگ میں جلتے یہ کسی سازشی کے ذہن کا کارنامہ تھا کہ کسی طرح کچھ ذمہ دار افراد کے سامنے سازشوں کا کھیل رچا کر لڑکا لڑکی کا ساتھ کھڑے ہونا یا باتیں کرنا دکھا دیا جاتا مگر اس چنگاری کی آگ خاندانوں کو بھسم کردینے والی ہوتی تھی۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں ہوا تھا کہ لڑکا اور لڑکی کی ایک دو بار راہ چلتے بات چیت تو نجانے کس وجہ سے ہوئی تھی مگر غیرت کے نام پر لڑکی کو مار دیا گیا تھا لڑکے کو گائوں بدر کردیا گیا۔ یہ واقعہ یاد آتے ہی وہ جھرجھری لے کر آگے بڑھنے لگی تھی جب اس کا بازو اس مرد کی گرفت میں آیا تھا۔
’’میرا راستہ چھوڑو شاہ… ورنہ میرا بھائی تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔‘‘ اس نے بے خوفی سے اپنا بازو چھڑایا۔ منہ پھاڑ کے وہ ہنستا چلا گیا۔
’’ہاہاہا تمہارا بھائی… کوئی بھی خوب صورت لڑکی اس کی نظر سے بچ نہیں سکتی۔ کبھی یہ تو بتایا ہی نہیں کہ اپنے گھر میں بھی ایک ہیرا چھپا رکھا ہے۔‘‘معنی خیزی سے اس کی ناک کے چمکتے لونگ کو دیکھ کر وہ بولا۔
’’تم جیسا برا تو پھر بھی نہیں ہے شاہ… دشمنی کو صرف مردوں تک نبھاہتا ہے۔ تم نے تو عورت جیسی کمزور مخلوق کو بھی اس دشمنی میں گھسیٹ ڈالا۔ اب اپنے برے انجام کے لیے تیار رہنا۔ جانتے ہی ہوگے کہ چودھری دوستوں کا دوست ہے تو دشمنی کو بھی آخری حد تک جاکر نبھاتا ہے۔‘‘ تنفر سے کہتے وہ نوری کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ جو بھی تھا چودھری کی بہن کی جی داری سکندر شاہ کو بڑی پسند آئی تھی۔ کل ہی تو اس کا شکار چودھری نے ہتھیایا تھا۔ آج اسے اس بے عزتی کا بدلہ لینے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ تو ابا کی ہدایات کا خیال آگیا تھا کہ چودھریوں کے ساتھ کھلم کھلا دشمنی نہ کرنا۔ عورت کے سلسلے میں تو کبھی بھی نہیں۔ ہاں جو بھی وار کرو چھپ کر کرو اور پیچھے کوئی نشان نہ چھوڑو۔ سو اس ہرنی سی آنکھوں والی کو نجانے کس دل سے اس نے جانے دیا تھا ورنہ سکندر شاہ ہاتھ آیا شکار کبھی گنوانا پسند نہیں کرتا تھا۔ سیٹی بجاتے وہ واپس جیپ میں آبیٹھا۔
ژ ژ ژ ژ
’’پتہ ہے اماں میرو کہتا ہے بس مشکل دن اب ٹلنے کو ہیں۔ تھوڑا سا انتظار اور پھر وہ بڑے شاہ سے میرا ہاتھ مانگ لے گا۔ اور آپ کو بھی ہم ساتھ رکھیں گے۔ بہت برداشت کرلیا ظالم لوگوں کا ظلم ہم نے۔ خوشیوں پر ہمارا بھی تو حق ہے ناں۔‘‘ ہر بات ماں کو بتانے والی خدیجہ اب ماں سے لپٹی خوابوں کی اس راہ گزر پر اس کو اپنے ہمراہ کرنا چاہ رہی تھی جس پر عرصہ سے وہ اور میرو اکٹھے چل رہے تھے۔
’’تیرے حق میں تو اب دعائیں ہی ہیں خدیجہ… اللہ کرے ایسا ہی ہو جیسا تو نے اور میرو نے سوچا ہے ورنہ یہ شاہ لوگ اپنی ملکیت میں آئی ہر چیز کو بگاڑ کر توڑ کر پھینک دیتے ہیں کسی کو دینا گوارا نہیں کرتے۔‘‘ ان کا لہجہ کھویا ہوا سا تھا۔ انجانے خدشات سے لرزتا ہوا۔ وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔
’’مگر اماں… ہم چیز نہیں ہیں انسان ہیں۔ اللہ نے ہمیں آزاد پیدا کیا ہے۔ یہ کیوں عمر بھر غلامی کی زنجیر میں باندھ کر رکھنا چاہتے ہیں؟‘‘ کتابوں نے اسے تعلیم نہیں دی تھی مگر علم کا شعور بخشا تھا۔ ابھی ارم اس کی بات کا جواب بھی نہ دے پائی تھی کہ دروازہ دھاڑ سے کھول کر سلمیٰ بیگم کی ملازمہ خاص اندر داخل ہوئی۔ چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ لیے اس کے ہاتھ میں کچھ لوازمات تھے جو اس نے بستر پر رکھ دیئے تھے۔
’’بڑی بی بی کہہ رہی ہیں کل جمعہ کے بعد اس کا نکاح ہے۔ بی بی کے بھائی کے ساتھ اور یہ کپڑے اور زیور ہیں۔‘‘
’’بی بی کا بھائی…!‘‘ وہ مخبوط الحواس شخص نشے نے جس کی زندگی اور حالت برباد کرکے رکھ دی تھی۔ دو بیوں کو بھگتانے کے بعد وہ خبیث بوڑھا ہمہ وقت نشے میں چور رہنے کے باوجود بھی عورت کو دیکھ کر اس کے حواس خوب کام کرنے لگتے تھے۔
’’اماں…‘‘ ملازمہ کے جانے کے بعد خدیجہ کے منہ سے سرسراتا ہوا فقط ایک لفظ ہی نکل سکا۔ باقی تمام الفاظ اس کا کتابوں اور اخباروں سے ادھار لیا گیا علم سب منہ چھپا کر کہیں دور جاکھڑے ہوئے تھے۔
’’مجھے کسی طریقے سے میرو سے ملنا ہے خدیجہ… اگر وہ اپنے قول کا پکا ہے تو سمجھو وعدہ نبھاہنے کا وقت آچکا۔ اس حویلی کے ظالم لوگوں کی بھینٹ کے لیے ایک ارم ہی کافی ہے۔ اس کی بیٹی اس خواہش کا تاوان ہرگز نہیں بھرے گی جو فقط ایک عزت کی بقا کے لیے تھی۔‘‘ بہت سوچ سمجھ کر وہ بول رہی تھیں۔ خدیجہ نے خالی نظروں سے ماں کو دیکھا۔
ژ ژ ژ ژ
گھر میں شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ دونوں ہی اپنے گھر کے اکلوتے تھے تو جوش وخروش دیدنی تھا۔ ڈھولک رکھی جاچکی تھی۔ سرشام ہی گائوں والے حویلی آجاتے۔ لڑکیاں بالیاں رات گئے تک رونق لگائے رکھتیں۔ خدیجہ تو بس حویلی کی ہی ہوکر رہ گئی تھی۔ رات گئے جاکر کہیں سونے کا موقع ملتا۔ عمر بھر اعلیٰ نسب کا ڈھول گلے میں لٹکائے پھرنے والے مکین آج اس کمی کمین کے بغیر اندھے تھے۔ بری میں بننے والی رضائیاں کہاں ہیں‘ تو زیور کس الماری میں رکھا ہے‘ جہیز کے کتنے کپڑے ٹانک لیے گئے‘ کتنے رہتے ہیں؟ سب اسی کو پتہ تھا۔ جس عورت کو آج تک اس کا جائزہ مقام اور حق آج تک دینا تو ایک طرف تسلیم بھی صرف اس لیے نہ کیا گیا تھا کہ وہ غیر خاندان کی ایک عام سی عورت تھی۔ اس عورت کے ہاتھ کی ایک ڈش تو ضرور کھانے میں ہونا ضروری ہوتی اور اس دن تو خصوصاً جب گھر کے مرد گھر پر کھانا کھاتے۔ ہاں ایک مہربانی حویلی والوں نے کی تھی کہ ذورین اور اذلان کو اجازت تھی کہ وہ حویلی کے اندر آجاسکتے تھے۔ اگرچہ ان کا آنا جانا بھی حویلی والوں کے کسی کام کے سبب ہوتا تھا۔ باقی کسی غیر کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ مرد ملازمین باہر تک مخصوص تھے۔ اب بھی کسی کام کے لیے حویلی آئے تھکے ہارے سے ذورین کو دیکھ کر خدیجہ بازو سے پکڑ کر کچن میں لے آئی تھیں اور چھوٹی ٹیبل کے گرد بیٹھا کر اس کے لیے کھانا رکھ دیا تھا۔
’’رہنے دیتیں اماں… بی بی کو پارلر لے کر جانا ہے اور باہر گاڑی بالکل تیار ہے۔ تھوڑی سی دیر ہوگئی تو جانتی ہیں ناں بی بی کتنی نازک مزاج ہیں۔ مزاج بگڑ گیا ان کا تو بڑے شاہ صاحب سے ڈانٹ یقینی ہے۔‘‘
’’بی بی شریفاں کے ساتھ جارہی ہیں شہر ڈرائیور جارہا ہے ان کو لے کر تمہیں بڑے شاہ صاحب نے ڈیرے پر بلایا ہے۔ دوسری گاڑی لے کر آنے کو کہا ہے۔ قریبی گائوں میں کوئی قتل ہوگیا ہے تو اسی سلسلے میں جانا ہے۔‘‘ ملازمہ جیسے ہی پیغام لے کر آئی وہ کھڑا ہوگیا۔ گہری سانس لیتا دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ پاس کھڑی ماں کو بھی ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھالیا۔
’’ایک شرط پر کھائوں گا میں کھانا جب آپ بھی شروع سے آخر تک میرا ساتھ دیں گی۔‘‘
’’تم کھالو بیٹا… مجھے بہت کام ہیں۔‘‘ وہ بہت عجلت میں بولیں۔
’’نہیں آپ نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا ہوگا مجھے پتہ ہے۔ بیٹھیں یہ کام تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔‘‘ اس نے ایک نوالہ بنا کر ماں کے منہ میں رکھ دیا۔
ژ ژ ژ ژ
’’اب کیا ہوگا میرو؟ وہ بہت ظالم لوگ ہیں۔ اماں کو نقصان ہی نہ پہنچا ڈالیں۔‘‘ من پسند ساتھ مل جانے کی خوشی پر اس وقت وہ خدشات حاوی تھے جو اس کے دل کو ہولائے دے رہے تھے۔ اس روز ارم چھپ کر خدیجہ کے ساتھ میرو کے کواٹر کی طرف گئی تھیں اس کا باپ زمینوں پر تھا مگر اپنا سامان بیگ میں ڈالتا میروان دونوں کو اس وقت دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ اسے علی الصبح شہر کے لیے نکلنا تھا۔ ارم نے ہی اسے ساری صورت حال بتا کر پوچھا تھا کہ اب وہ کیا چاہتا ہے؟ میرو تو اس اچانک صورت حال پر پریشان ہی ہوگیا۔ تاہم بھاگ کر اپنے باپ کو کھیتوں سے بلا لایا تھا جس کی پانی کی باری پر ڈیوٹی تھی مگر بیٹے کی پکار پر افتاں وخیزاں بھاگا آیا تھا۔ گائوں میں نکاح پڑھانا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ میرو کے باپ نے ان دونوں کو کئی کلو میٹر دوسرے گائوں اپنی بہن کے پاس بھیجا تاکہ بات جلدی مالکوں تک نہ پہنچے۔ خدیجہ ارم کے بغیر جانے کو تیار نہ تھی مگر ارم جس نے ہر قسم کے حالات حویلی میں گزار کر ایک عمر تمام کی تھی اب حویلی سے باہر قدم نکال کر عمر بھر کی ریاضت پر پانی نہیں پھیرنا چاہتی تھی۔ بیٹی کو بھی اس قدم کے لیے قطعاً مجبور نہ کرتی اگر جو حویلی والے اسے زندہ ایک برزخ میں ڈالنے کا پروگرام نہ بنائے بیٹھے ہوتے۔ میرو کی پھوپو اور پھوپا نے اپنے گھر پر ان کے نکاح کا بندوبست کیا تھا پھر اسی رات صبح ہونے سے پہلے ہی ان دونوں نے وہ گائوں چھوڑ دیا تھا۔ شہر میں میرو چند لڑکوں کے ساتھ رہتا تھا۔ انہی کی مدد سے وہ کرائے پر ایک کمرے کا چھوٹا مکان لے سکا اور اس مسلسل بھاگ دوڑ کے بعد جب وہ کچھ سوچنے کے قابل ہوئے تو خدیجہ کو پہلا خیال اپنی ماں کا آیا تھا۔ وہ اس کے لیے بہت پریشان تھی۔ تاہم میرو کی تسلی سے ذرا بہل گئی تھی۔ مگر تیسرے ہی دن میرو کی قسمت اچھی تھی یا زندگی ابھی باقی تھی کہ وہ کالج سے ذرا جلدی نکل آیا تھا کیونکہ خدیجہ صبح سے ہی ارم کو یاد کرکے رو رہی تھی۔ وہ تو بعد میں اس کے کسی دوست نے خبر دی تھی کہ کچھ بندے اسے ڈھونڈتے ہوئے کالج آئے تھے۔ میرو نے فوراً ہی وہ گھر اور شہر چھوڑ کر دوسرے شہر کا رخ کیا تھا اور وہاں اگرچہ مشکلات اور کٹھنائیاں تو تھیں ہی مگر اس کا تکنیکی کام کا ڈپلومہ آخر کار کام آیا تھا اور ایک ورکشاپ میں کام سکھانے کے لیے رکھ لیا گیا تھا۔ اگر چہ ابھی وہ اپنا امتحان نہیں دے سکا تھا کیونکہ زندگی جیسا بڑا اور اہم امتحان اسے درپیش تھا روز گار اور گھر کی فکر حل ہوتے ہی اسے اپنے باپ کی اور خدیجہ کی ماں کی فکر لاحق تھی کہ اگر ان کو یہ پتہ چل چکا تھا کہ کہ خدیجہ اس کے ساتھ گئی تھی تو ان کے ماں باپ یقینا سخت مشکل میں تھے۔
ژ ژ ژ ژ
’’یقین کریں بڑی بیگم… مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ وہ نظریں جھکائے سلمیٰ بیگم کے کٹہرے میں کھڑی تھیں۔
’’نہ بھئی پتہ ہوتا تب بھی اولاد تو ماں پر ہی پڑتی ہے ناں اس نے بھی تمہارے نقش قدم پر چلنا تھا۔ مگر یہ اس لڑکی کی بھول ہے کہ اس کے گناہ کو معاف کیا جائے گا۔ کہاں تک اور کب تک چھپیں گے وہ۔ ایک دن تو بل میں سے نکلیں گے ناں۔‘‘ وہ تنفر سے بولیں۔
’’معاف کردیں بڑی بیگم… نادان ہے وہ غلطی ہوگئی اس سے۔ جو بھی سزا ہے وہ میں بھگتنے کو تیار ہوں۔ آپ اس کی تلاش چھوڑ کر دفع کریں اسے۔‘‘ ان کے ارادے سن کر وہ گرگڑا کر رو پڑیں۔
’’نہیں ارم بی بی… آج اس کو چھوڑ دیا تو کل تم اور تمہاری اولاد جیسے کمی اور منہ زوری کو آئیں گے۔ ان کا تو بڑے شاہ صاحب وہ حشر کریں گے کہ رہتی دنیا تک لوگ عبرت پکڑیں گے۔‘‘ سلمیٰ بیگم کے سر پر انتقام کا بھوت سوار تھا کہ ان کے نشئی بھائی کے ہاتھ سے شکار کوئی اور لے بھاگا تھا۔ وہ کیسے جانے دیتیں۔ ارم کو اب بس اللہ کا آسرا تھا۔ سو اس نے اسی سے مدد لینے کی ٹھانی تھی۔ اسے اور میرو کے باپ کو جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا مگر دونوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تھوڑی سی تفتیش سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ وہ میرو کے ہمراہ گئی تھی۔ تین چار دن بعد ان دونوں کا شہر سے بھی سراغ ملا تھا مگر اس کے بعد وہ دونوں اچانک غائب ہوگئے تھے۔
ژ ژ ژ ژ
’’کیا بک رہے ہو وسایا خان…‘‘ وہ اس اچانک خبر پر مارے طیش کے دھاڑے۔ گھر میں شادی کی رونقیں عروج پر تھیں۔ ارباز شاہ ابھی کچھ دیر قبل ہی دوسرے گائوں سے واپس آئے تھے۔ اپنے کمرے میں ابھی آرام سے بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ دوسری طرف سے جو خبر انہیں سنائی گئی تھی۔ وہ انہیں حواس باختہ کر گئی تھی۔
’’تو یہ خبر سنانے سے پہلے کیوں نہ گیا وسایا… خیر تجھے تو میں دیکھ لوں گا۔ پہلے مجھے تفصیل بتا کر کہاں پر یہ واقعہ ہوا… اورکتنے لوگ تھے… کہاں سے آئے اور کس طرف گئے ہیں؟‘‘ کمرے میں داخل ہوتی ان کی بیگم ان کا غضب ناک انداز دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کر رہ گئیں۔
’’کیا ہوا شاہ صاحب…! خیریت تو ہے ناں؟‘‘
’’منت کو کسی نے شہر جاتے ہوئے اغوا کرلیا ہے۔ شریفاں اور وسایا زخمی ہیں۔ ابھی یہ خبر پھیلنے نہ پائے جلدی سے سکندر کو بلوائو اور پتہ کرائو مراد شہر گیا تھا۔ واپس آگیا؟‘‘ وہ پیشانی پر ہزاروں سلوٹیں لیے زخمی شیر کی طرح ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ وہ ہائے میرے اللہ کہہ کر رہ گئیں۔
’’جو کہا ہے وہ کرو اور ابھی بھنک نہ پڑے کسی کو۔‘‘ وہ دھاڑ کر بولے تو وہ تیزی سے باہر نکل گئیں۔
ژ ژ ژ ژ
مگر اس کو ڈھونڈنے کی ساری کوششیں بے اثر ٹھہریں۔ ان لوگوں نے کوئی بھی نشان نہ چھوڑا تھا اور اب اس بات کو دو دن ہونے کو آئے تھے۔ آنے والا ہر نیا دن حویلی کے مکینوں کو ہولا رہا تھا کہ شاہوں کے خاندان کی پہلی شادی تھی۔ دور دور سے مہمان آچکے تھے۔ خبر دور تک تو نہیں لیکن قریبی ملازمین تک بھی پہنچ ہی چکی تھی۔ خدیجہ نے دکھے دل سے ذورین کو بتایا تھا۔
’’دنیا مکافات عمل ہے اماں… والدین کے گناہوں کا بھگتان اولاد کو بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ اس میں کیا عجب بات ہے۔ ساری زندگی لوگوں کو اپنی مرضی کی بساط پر چلانے والوں کو بھی قدرت کی بساط پر چلنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ عجیب سی یاسیت سے بولا۔ اگرچہ دل اس مغرور اور نخریلی لڑکی کے ساتھ ہونے والے حادثے پر عجیب سی اداسی محسوس کرنے لگا تھا۔
’’نہ بچے… اللہ اولاد کا دکھ اور آزمائش دشمن کو بھی نہ دکھائے اور مراد علی شاہ نے تو کبھی کسی چڑیا کو بھی نقصان نہیں پہنچایا۔ بس دعا کرو ان کی یہ آزمائش ختم ہو جائے۔‘‘ وہ ہاتھ ملتے ہوئے ان کا دکھ دل پر محسوس کررہی تھیں۔
’’مجھے بھی آپ کی طرح دکھ ہورہا ہے اماں… مگر انسان اپنے بڑے بول کی پکڑ میں تو آتا ہی ہے ناں مراد علی شاہ نہ سہی ان کی صاحب زادی تو لوگوں کے دلوں کو توڑنے میں مہارت رکھتی تھیں خیر سے‘ بہت زعم تھا ان کو اپنی اونچی حیثیت اور اعلیٰ نسبی کا‘ گائوں کے دوسرے لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر روندتی پھرتی تھیں محترمہ اپنے منگیتر کے ساتھ مل کر اور اللہ کی مخلوق کو حقیر سمجھ کر پائوں تلے روندنے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ مسلے جانے پر تو چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے۔ ہر کوئی ارم بی بی خدیجہ یا ذورین نہیں ہوتا جو اللہ پر انتقام چھوڑ کر بیٹھا رہے۔ کچھ بے صبرے لوگ انتقام کو قرض سمجھ کر جلدی اتار دیتے ہیں۔ مجھے تو یہ ایسا ہی کوئی سلسلہ لگ رہا ہے ورنہ شاہوں سے ٹکر کوئی ایسے نہیں لے سکتا۔‘‘ اس کا تجربہ بالکل درست تھا۔ اس لیے خدیجہ خاموش رہیں تاہم وضو کرکے نماز حاجت کے لیے ضرور جائے نماز پر جاکھڑی ہوئیں۔
ژ ژ ژ ژ
جب خدیجہ کی ماں سے ملنے کی تڑپ شدید ہوئی تب میرو نے بہت سوچ سمجھ کر اسے شہر چھوڑا اور رات کے وقت اپنی پھوپو کے گائوں گیا تھا۔ اس نے دو موبائل بمع سم اپنی پھوپو کے حوالے کرکے اپنے باپ تک اور ارم تک راز داری سے پہنچانے کی درخواست کی تھی اور ان دونوں سے ملاقات ایک مزار پر جو کہ اگلے گائوں کی حد میں تھا میں طے کرکے لوٹ آیا تھا۔ پھر پھوپو نے واقعی ان کا کام دو دن میں کر دکھایا تھا۔ ماں باپ سے بات کرکے دونوں ہی بہت افسردہ ہوئے۔ میرو تو فوراً ہی گائوں جانے پر تیار ہوگیا تھا مگر اس کے ابا نے سختی سے منع کیا تھا کہ وہ گائوں مت آئے اس کی اور خدیجہ کی جان کو سخت خطرہ ہے۔ پھر ان سب نے مزار پر ملنے کا پروگرام بنایا تھا جو ان کے گائوں سے تین چار کلو میٹر دور تھا۔ وہ دونوں ہی ماں باپ کو اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھے مگر دونوں نے انہیں یہی سمجھایا تھا کہ یہاں رہنے سے دشمنوں کی توجہ یہیں مرکوز رہے گی ورنہ وہ ان کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ یوں وہ پہلی ملاقات ان سب کی اگلی ملاقاتوں کا پیش خیمہ بنی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
باوجود کوشش کے بھی منت کا کوئی سراغ نہ مل سکا تھا۔ گھر کے تینوں مرد بے حد پریشانی کی حالت میں ڈیرے پر موجود تھے۔ ارباز شاہ نے علاقے کے ایس ایچ او کو بلوانے کا سوچا‘ انہیں لگتا تھا کہ پانی سر سے گزر چکا اور اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا جب ہی سکندر شاہ کے نمبر پر چودھری کامران کی کال آئی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے کال ریسیو کی۔
’’چودھری کی عزت کو سر راہ روکنا اور تنگ کرنا آسان بات نہیں چوڑیاں چودھریوں نے بھی نہیں پہنی ہوئیں۔‘‘
’’تم…!‘‘ اس کے منہ سے ایک گالی نکلی مگر دوسری جانب سے سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔ اس نے مختصر سی صورت حال باپ اور چچا کو بتائی اور تیزی سے باہر کی طرف لپکا۔ ارباز شاہ کے چہرے کے نقوش تن گئے تھے جب کہ مراد علی شاہ ڈھیلے ہوکر صوفے پر گرے اور سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’کیوں پریشان ہوتا ہے مرادے۔ چودھریوں کو تو ہم دیکھ لیں گے۔ اللہ کا شکر ادا کر بچی بخیریت ہے اور کچھ دیر بعد ہمارے پاس ہوگی۔ کل شادی کا دن ہے۔ تم پریشان تھے ناں کہ کیا ہوگا اب فکر مت کرو سب کچھ اپنے وقت پر ہوگا۔‘‘ ارباز شاہ نے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’مگر چودھری کامران نے ایسا کیوں کہا… جہاں تک میں جانتا ہوں وہ کھلنڈرا اور لاپروا نوجوان ہے مگر جو ذلیل حرکت اس نے کی وہ کیا سوچ کر کی ہے؟‘‘
’’او تو کیوں فکر کرتا ہے مراد شاہ… ان چودھریوں کا تو میں وہ عبرت ناک حشر کروں گا کہ ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ ایک بار یہ شادی ہوجائے پھر ان کے گھر کی ساری عورتیں…‘‘
’’بس ادا اس سے اگے ایک لفظ نہیں۔ میری بیٹی مل گئی ہے۔ یہی بڑی بات ہے میرے لیے۔ عورت کسی بھی طبقے یا گھر کی ہو میرے لیے قابل احترام ہے۔ گھر کی عزت ہے‘ عورت ہر روپ میں چاہے ماں ہو‘ بیوی یا بیٹی‘ دشمنی میں عورت کو درمیان میں لے آنے والے کو میں مرد ہی نہیں سمجھتا۔‘‘ وہ جذباتی ہوکر بولے۔
ژ ژ ژ ژ
ماں کی وفات کے بعد وہ بہت گم صم سی ہوکر رہ گئی تھی۔ یہ قلق ہی جینے نہ دیتا تھا کہ اسے مری ماں کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوسکا تھا۔ وہ تو ان کے مرنے کی خبر ملتے ہی جانے کو تیار ہوگئی تھی مگر میرو بڑی مشکل سے اسے روک پایا تھا اپنے دو معصوم بچوں کا واسطہ دے کر کہ دشمن کتے کی طرح ان کی بو سونگھتا پھر رہا ہے۔ اسے دیکھتے ہی حویلی والے مار ڈالیں گے تو ان دو معصوم جانوں کا کیا ہوگا۔ بلک بلک کر روتی وہ ماں کو یاد کرتی رہی تھی۔ اگلی بار اپنے ابا سے ملنے جب میرو جارہا تھا تو اس نے ضد کی تھی کہ اسے اپنی ماں کی قبر پر جانا ہے۔ میرو اس امر کے لیے متذبذب تھا کیونکہ گائوں کا قبرستان حویلی کے پاس ہی تھا اور وہ بہت آمدورفت والا راستہ تھا۔ نہیں جانتی تھی کہ اس کی یہ ضد اسے بہت مہنگی پڑنے والی ہے ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتی۔ اگرچہ وہ دونوں بچوں کے ہمراہ رات گہری ہونے کے بعد گائوں کی حدود میں داخل ہوئے تھے اور ابھی اسے ماں کی قبر پر کھل کر رونے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ ارباز شاہ کے بندوں نے آن لیا تھا۔ میرو کو تو انہوں نے شاہ صاحب کے حکم کے مطابق وہیں گولی مار دی تھی اور اس کو بچوں سمیت ارباز شاہ کے سامنے لاپھینکا تھا۔ جس پل اس ظالم شخص نے ننھے فرشتوں کی طرف بندوق تانی تھی میرو کی اندوہناک موت کو بھول کر وہ اس فرعون کے پیروں میں گر گئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
’’میں یہ شادی نہیں کرسکتا۔‘‘ یہ اعلان نہیں تھا ایک قیامت تھی جو اس نے مراد علی شاہ کے خاندان پر توڑی تھی۔
’’مجھے یقین ہے کہ وہ ویسی ہی ہے جیسے شادی سے پہلے تھی لیکن میں نے اگر اب منت سے شادی کی تو چودھری کامران کے سامنے سینہ چوڑا کرکے کبھی نہیں جاسکوں گا۔ میں نے اس بازار کی عورت پر دوسری نظر کبھی نہیں ڈالی جس پر پہلی نظر چودھری ڈال چکا ہو۔ یہاں وہ دو راتیں اس کے پاس گزار کے آئی ہے۔ میری انا گوارا ہی نہیں کرتی اس عورت کو زندگی میں لانے کی جو اس کی تحویل میں رہ چکی ہو۔‘‘ اس نے دو ٹوک اپنے باپ کو کہا اور خود موبائل بند کرکے اپنی جیپ نکال کر شہر کی طرف نکل گیا تھا۔ فی الوقت وہ نہ تو چاچا مراد علی شاہ کا سامنا کرنا چاہتا تھا نہ منت کے سوالوں کا کیونکہ ایک بات تو طے تھی کہ وہ منت مراد علی شاہ سے محبت کرتا تھا اور باہر چاہے جتنی بھی رنگینیاں کرلیتا اپنی زندگی میں لانے کے لیے اس نے صرف ایک اسی کے بارے میں سوچا تھا۔
ژ ژ ژ ژ
حویلی میں اب گزرنے والی زندگی پچھلی زندگی سے بھی بدتر تھی۔ درمیان کا دو سال کا وہ عرصہ کسی خواب کی مانند تھا جو میرو کی ہمراہی میں گزرا تھا۔ ایسی اذیت ناک زندگی سے بہتر تھا کہ ارباز شاہ میرو کے ساتھ ان سب کو مار ڈالتا۔ سلمیٰ بیگم اپنی راجدھانی میں اب اپنی بہن کو بھی مراد علی شاہ کی دلہن بنا کر لے آئی تھی۔ زندگی میں اگر اس کی تھوڑی بہت دلچسپی تھی تو میرو کی وہ ننھی نشانیاں جو اسے زندہ رہنے پر مجبور کرتی تھیں۔ مراد علی شاہ نے البتہ گھر والوں سے چھپ کر ہی سہی میرو کی المناک موت پر اس سے افسوس بھی کیا تھا اور مالی امداد کا بیڑہ بھی اٹھالیا تھا۔
ژ ژ ژ ژ
نکاح ہونے تک وہ بمشکل ہال میں رکی تھی۔ جیسے ہی بابا جان گواہان اور مولوی کے ہمراہ باہر گئے وہ مہمانوں اور دیگر لوگوں کی پروا کیے بغیر بھاگ کر اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ وہ لباس جس کو اس نے سکندر شاہ کے ساتھ بڑے چائو سے خریدا تھا جسم پر بوجھ کی طرح معلوم ہورہا تھا۔ جو زیور پہنایا گیا تھا اسے نوچ نوچ کر پھینک دیا اس نے۔ اسی دوران ایک جھمکا اس طرح سے پائوں میں چبھا تھا کہ وہ پائوں پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی تھی۔ پے در پے کچھ اس قسم کے حالات پیش آئے تھے کہ دماغ اس بات کو بمشکل قبول کررہا تھا کہ دوسرا انہونا واقعہ دماغ کی چولیں ہلا ڈالتا۔ پہلے اچانک اغوا ہونا‘ دو روز تک وہ اتنا روئی تھی کہ آنکھوں کے آنسو بھی ختم ہوگئے تھے۔ ابھی وہ ٹھیک طرح سے شکر بھی ادا نہ کر پائی تھی کہ اس کی عزت اور زندگی دونوں بچ گئی تھیں کہ سکندر شادی سے انکار کرکے نہ جانے کہاں جاکر چھپ گیا تھا اور ابھی وہ اس پریشانی سے نکلنے بھی نہ پائی تھی کہ اس کے بابا نے اپنے باپ ہونے کا خراج اس صورت میں مانگا کہ وہ کچھ لمحے قبل وہ ایک ایسے شخص کا نصیب بنا دی گئی تھی۔ جس کے بارے میں اس نے اپنی آخری سوچ بھی کبھی نہیں رکھی تھی کہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہوگا۔ ذورین امیر جس کی آنکھیں ہمیشہ اس کے سامنے جھکی رہی تھیں اور جب اٹھی تھیں تو ان میں اسے ایک عجیب سا احساس نظر آیا تھا وہ شاید یہی تھا کہ وہ حویلی سے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اپنا حق ضرور وصول کرے گا اور بالآخر اس نے یہ حق سود سمیت وصول کرلیا تھا۔
’’میری عزت کی لاج رکھ لو منت… سات گائوں سے مہمان اس شادی میں شرکت کے لیے جمع ہیں۔ کیا کہوں ان سے کہ دلہا یہ کہہ کر اس شادی سے انکار کرچکا ہے کہ وہ ایک اغوأ ہوئی لڑکی کو اپنا شریک حیات نہیں بنا سکتا۔ اس سے رابطے کی ساری صورتیں بیکار گئی ہیں۔ ڈھونڈا اسے جاتا ہے جو گم ہوجائے۔ جو چھپ جائے اس کے پیچھے جانا بے وقوفی ہوتی ہے۔ ذورین بھی ہمارا خون ہے۔ شریف پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا بچہ ہے۔ اس وقت برادری میں نگاہ دوڑائوں تو کوئی مجھے تمہارے معیار کا نظر نہیں آتا بچے… ایک دو ہیں اوباش بگڑے ہوئے رئیس زادے جن کے ساتھ رخصت کرنے کے بجائے میں اس بدنامی کو مول لینا زیادہ پسند کروں گا جو ہمارے گھر کی دہلیز پھلانگنے کو بے تاب کھڑی ہے۔ میرے بندھے ہاتھوں کی لاج رکھ لو بچے۔‘‘ وہ رو پڑے تھے تو منت بھی ان کے ہاتھ تھام کر بلک بلک کر رو دی تھی۔ پھر اپنے باپ کے ہاتھ کو چومتے ہوئے اس نے کہا تھا۔
’’میں آپ کا سر کبھی نیچا نہیں ہونے دوں گی بابا… آپ کی جو مرضی آپ کریں مگر میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘ اس کے جواب نے جیسے منوں بوجھ مراد علی شاہ کے سر سے اتار دیا تھا۔ وہ نم آنکھوں سے اس کی پیشانی چوم کر باہر نکل گئے تھے۔
ژ ژ ژ ژ
’’ابھی اسے تھوڑا وقت دو بیٹا… یہ بہت کڑا وقت ہے اس کے لیے اور تمہارے لیے بھی۔ تم ایک مرد ہو ماشاء اللہ اور ایک مرد ہر قسم کے حالات میں اپنے اعصاب پر قابو پالیتا ہے مگر عورت بہت کمزور ہوتی ہے۔ وہ برداشت نہیں کرسکتی۔ یقینا یہ وقت بہت مشکل ہے۔ اسے سوچنے سمجھنے اور خود کو حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا وقت دو‘ مگر مطمئن رہو کہ اس نے ہاں کی ہے تو ہی ادا مراد نے اسے تمہاری ہمراہی میں دیا ہے۔‘‘ خدیجہ اسے سمجھا رہی تھیں کہ تھا تو وہ بھی مرد ہی یہ نہ ہو منت کے نکاح کے بعد فوراً اٹھ کر اپنے کمرے میں جاکر کمرہ بند کرکے رکھنے کو اپنی توہین سمجھے۔
’’میں سمجھتا ہوں اماں‘ آپ بے فکر رہیں۔ ویسے اس سے پہلے آپ کو میری فکر ہوتی تھی ہمیشہ۔ آج اپنی بہو کی فکر ہورہی ہے۔‘‘ اس نے دانستہ ماں کو اداسی سے نکالنا چاہا اور اس میں خاطر خواہ کامیاب بھی رہا تھا۔ وہ اس کی بات سن کر ہنس دیں۔
’’ہاں تو کیوں نہ ہوگی مجھے اس کی فکر۔ میرے بھائی کی بیٹی ہے لاڈوں پلی۔ اس کی آنکھ میں آنسو بھی آئے یہ برداشت نہیں ہوتا مجھ سے‘ وہ تو تتلی کی طرح اڑتی اور چڑیا کی طرح چہچہاتی ہی اچھی لگتی ہے۔‘‘ خدیجہ اب منت مراد علی شاہ کی تعریفوں میں رطب اللسان تھیں جس نے انہیں کبھی درخود اعتنانہ جانا تھا۔
ژ ژ ژ ژ
سکندر شاہ لوٹ آیا تھا۔ یہ خبر جیسے ہی منت تک پہنچی تھی‘ مردہ تن میں جان پڑ گئی تھی۔ تین دن سے ایک ہی لباس میں ملبوس اس نے صرف دو وقت کا کھانا زہر مار کیا تھا باقی تمام وقت کمرہ تاریک کرکے اس کا رونے میں گزرا تھا۔ بجلی کی تیزی سے اس نے کپڑے تبدیل کرکے میک اپ کیا بال کھلے چھوڑے ہلکا پھلکا زیور پہنا اور خوشبو میں بسی باہر آگئی تھی۔
’’ماں صدقے کتنی پیاری لگ رہی ہے میری شہزادی… ناشتا لگوائوں؟‘‘ اس کی ماں اس کو دیکھ کر لپک کر اس کے پاس آئیں۔ منت کو ملازمہ نے بتایا تھا کہ سکندر سائیں رات گھر آگئے تھے اور اب گھر کے مردوں کے باہر جانے کے بعد ناشتا کررہے ہیں۔ کچھ سوچ کر ہی اس نے ایک پروگرام ترتیب دیا تھا۔
’’ہاں اماں ناشتا لگوائیں تم جاکر ذورین کو بلا کر لاؤ۔ کہو جلدی آئیں ابھی۔‘‘ ماں کو جواب دے کر اس نے پاس سے گزرتی ملازمہ کو آواز دے کر کہا۔ وہ سر ہلاتی چلی گئی۔ منت ڈائننگ روم سے گزر کر باہر چلی آئی۔ ہال میں نظر ڈال کر اس نے اطمینان کرلیا تھا کہ وہ ناشتا کرنے میں مصروف تھا۔ بے چینی سے وہ باہر ہی ٹہلنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں اس نے ملازمہ کے ہمراہ اسے آتے دیکھا۔ وہ اپنے مخصوص حلیے اور انداز میں تھا گویا اس شادی نے اس پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔ ہمیشہ والی بے نیازی محسوس کرکے وہ سلگ سی گئی مگر چہرے پر مسکراہٹ سجالی تھی۔ ذورین نے بھی حیرت سے اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھا۔ ایک خوش گوار سی حیرت کا احساس ہوا… مگر فوراً ہی اس نے اپنی نظریں جھکا کر اس کے بالکل سامنے آکر مودبانہ انداز میں جی بی بی جی کہا تھا۔ جواب میں اس کا جو انداز تھا وہ ذورین کو حیرت زدہ کر گیا تھا۔ کھلکھلاتے ہوئے اس نے اس کا بازو پکڑا اور تیزی سے اسے گھسیٹ کر لے جانے لگی۔ انداز اور لہجہ ایسا تھا جیسے بہت خوش گوار تعلقات ہوں ان کے بیچ۔ ڈائننگ روم میں داخل ہوتے ہی ذورین ساری کہانی سمجھ گیا تھا۔ ایک طویل سانس بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلی تھی۔
’’آئو ناں ذورین… میں کتنی دیر سے تمہارا انتظار کررہی تھی۔ پتہ بھی ہے کہ تمہارے بغیر اب مجھے اکیلے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔‘‘ بازو سے تھامے وہ اسے لیے ٹیبل تک آئی اور پھر اس کے لیے کرسی کھینچ کر بیٹھنے کو کہا اور جاکر بالکل اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ جب کہ مرکزی کرسی پر بیٹھے سکندر شاہ کے ماتھے کے بل صاف گنے جاسکتے تھے۔ ملازمہ اب ناشتہ لگا رہی تھی۔ منت نے لوازمات اٹھا اٹھا کر ذورین کی آگے رکھنا شروع کیے۔ ذورین صورت حال سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے استعمال کررہی ہے۔ سو کندھے اچکا کر ناشتا شروع کردیا۔ تاہم لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ نے ضرور قبضہ جما رکھا تھا۔
’’سنو… تم نے ہنی مون پلان کیا کہ کہاں پر چلیں؟ مجھے تو ہنزہ کے برف پوش پہاڑ دیکھنے ہیں تمہارے ہمراہ۔ پورا ملک تو میں گھوم چکی ہوں۔ تمہارے ساتھ اپنی پسندیدہ جگہوں کو دیکھنے کا الگ ہی لطف ہوگا۔‘‘ کن اکھیوں سے سکندر شاہ کے سرخ پڑتے چہرے اور بھینچے لبوں کو دیکھ کر اس نے ایک نئی بات شروع کی۔ اس بے شرمی پر ذورین نے پہلی نظر منت پر ڈالی پھر دوسری سکندر شاہ پر۔ جس نے نیپکن اتار کر ٹیبل پر پھینکا پھر کرسی گھسیٹ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلاگیا تھا۔ ساتھ ہی ان دونوں پر قہر بھری نظر ڈالنا نہ بھولا تھا۔
’’اور تم… کسی بھی خوش فہمی میں مت رہنا سکندر شاہ سے میری جنگ میں ایک مہرہ ہو صرف تم‘ یہ جنگ جیتنے کے بعد میں تمہارے بارے میں فیصلہ کروں گی کہ کیا کرنا ہے مجھے کیونکہ رشتہ بدلنے سے تمہاری حیثیت میرے نزدیک نہیں بدلی۔ ویسی کی ویسی ہے۔‘‘ سکندر شاہ کے جانے کی دیر تھی کہ اس کا لہجہ بھی بدل گیا تھا۔ ابھی وہ سکندر شاہ کے جانے پر غور ہی کررہا تھا کہ باقاعدہ اسے متوجہ کرکے اس نے تحقیر آمیز انداز میں کہا۔ ایک اطمینان بھری سانس لیتے ہوئے ذورین نے رومال سے اپنا منہ صاف کیا اور کھڑا ہوگیا۔
’’احمقوں کی دنیا میں رہتی ہیں آپ ورنہ ہرگز یہ نہ بھولتیں کہ رشتہ بدلنے سے حیثیت تو خودبخود ہی بدل گئی ہے میری۔ اب فیصلے کی ڈور آپ کے ہاتھ سے نکل کر میرے اختیار میں ہے۔ میرے اور آپ کے درمیان رشتہ قائم رہنا یا نہ رہنا میری صوابدید پر ہے اور ہم لوگ جس رشتے کو ایک بار بنا لیں مرتے دم تک نبھاتے ہیں۔ اس رشتے کا ٹوٹنا اب ایک ہی صورت ممکن ہے…‘‘ وہ کہتے ہوئے رکا اور میز پر دونوں ہاتھ جماکر اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔ منت مراد علی شاہ بل کھا کر رہ گئی تھی۔
’’اور وہ ہے میری موت… جیتے جی تو اب آپ کو میری زوجیت سے کوئی مائی کا لعل نہیں نکال سکتا۔ بہتر ہوگا اس حقیقت کو تسلیم کرکے ان بے وقوفانہ خیالوں سے باہر آئیں‘ ورنہ مجھے ہی اس رشتے کو ثابت کرنا پڑے گا۔ حویلی کے اسی کونے میں آپ کا ایک گھر ہے جہاں آپ کا شوہر اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ رہتا ہے۔ جلد ہی وہاں قدم رنجہ فرمالیں نہیں تو میں آپ کو لے گیا تو پھر شکایت مت کیجئے گا۔‘‘ بے حد اعتماد سے اس نے کہا اور پُروقار طریقے سے چلتا ہوا باہر نکل گیا۔
’’گو ٹو ہیل ذورین امیر… تمہاری یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔‘‘ اپنے پیچھے اس نے چیخنے کی آواز سنی تھی۔ مسکراتا ہوا وہ آگے بڑھتا چلا گیا۔
’’میرے اللہ کو پتا نہیں میری کون سی نیکی پسند آگئی تھی یا میری ماں کی میرے حق میں دعائیں تھیں جو آپ کو بن مانگے مجھے عطا کر دیا اور اللہ کی اس نعمت کو میں ضائع کیسے کرسکتا ہوں؟‘‘ اس نے سوچا اور پھر اپنے مخصوص کاموں کی جانب چل دیا جو اس کے ذمہ تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ زبردستی کے ہی سہی اس نکاح کے بعد اس کے اندر باہر کی دنیا بدل گئی تھی۔ ساری منفی سوچیں اور خیالات دھواں بن کر اڑ گئے تھے۔ دوسری طرف وہ اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ جب کمرے کا دروازہ کھول کر وہ داخل ہوا تھا۔
’’یہ تھی تمہاری محبت… یہ تھے تمہارے وعدے… دو دن بھی صبر نہیں ہوسکا تم سے اور شادی رچالی وہ بھی کس سے‘ جس کو میں نوکر بھی بنانا پسند نہ کروں اور تم نے اس کو سر کا تاج بنالیا۔ ذرا تو انتظار کیا ہوتا کہ کوئی راستہ ہی نکل آتا۔‘‘ بازو سے جھنجھوڑ کر وہ کہہ رہا تھا۔ منت نے غصے سے اپنا بازو چھڑایا اور دور جاکھڑی ہوئی۔
’’واہ یہ اچھا طریقہ ہے اپنا گلٹ چھپانے کا… اپنی غلطی دوسروں کے سر تھوپ کر خود دور کھڑے ہوکر تماشا دیکھنا تو شروع سے تمہاری عادت تھی سکندر شاہ… مگر افسوس کہ میرے ساتھ تم نے پہلی اور آخری بار اس طرح کیا تو اب اچھی طرح اندازہ ہوا تمہاری فطرت کا۔‘‘ وہ تنفر سے بولی۔
’’بہرحال اب وہ میرے سر کا سائیں ہے اور نوکر کو کیسے مالک بنانا ہے یہ میں جانتی ہوں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… آئندہ میرے خاوند کو نوکر کہنے کی جرأت مت کرنا سکندر شاہ۔‘‘ مزید اس نے کہا اور رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی کہ آنسو آنکھوں سے باہر نکلنے کو بے تاب نظر آرہے تھے۔
’’میں بہت پریشان تھا منت… اس خبیث کی باتوں نے اور فون کالز نے مجھے انگاروں پر لاکھڑا کیا تھا‘ اس وقت مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کیا کررہا ہوں۔ یقین کرو تم پر مجھے آج بھی اتنا ہی یقین ہے جتنا کل تھا اور جس گھٹیا انسان کے طعنوں سے ڈر کر میں نے شادی سے انکار کیا تھا وہ بزدل ملک چھوڑ کر بھاگ چکا ہے۔ میں تمہیں ایسے کسی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ میں تمہیں اپنے سوا کسی کا ہوتے دیکھنا تو دور تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے معاف کردو منت… میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘ جیسے جیسے وہ گڑگڑا رہا تھا ویسے ویسے منت مراد علی شاہ کے اندر لگی آگ پر پھوار پڑ رہی تھی۔ اس کی ذات کا غرور لوٹ رہا تھا۔ دنیا میں کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو منت مراد علی شاہ کو ٹھکرا سکے اور غلطی سے ایسا کر بھی لے تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر پچھتانے پر مجبور نہ ہوتا۔ وہ اب بھی ویسے ہی رخ موڑے کھڑی تھی مگر اب گردن فخر سے تنی ہوئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
وہ منشی سے زمین کے حوالے سے کوئی بات کررہا تھا کہ سامنے نظر آنے والے ایک منظر نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ اپنی مخصوص جگہ پر وہ دونوں ہی تھے بالکل سامنے نظر جمائے کھڑی منت اور لجاجت سے کچھ کہتا سکندر شاہ۔ اب پرانی بات نہیں تھی کہ وہ خاموش کھڑا رہتا۔ منشی کو رخصت کرکے سیدھا اسی طرف چلا آیا۔
’’گھر چلیں… مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ سکندر شاہ کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے منت سے کہا تو سکندر شاہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
’’تمہاری جرأت کیسے ہوئی ہمیں ڈسٹرب کرنے کی‘ جس نام نہاد رشتے کے بل پر اکڑ رہے ہو وہ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا یا ہمارے بڑوں کی جلد بازی مگر تمہیں ہرگز بھی یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ تم اس کو ایسے مخاطب کرو۔ عنقریب تم سے یہ وقتی اعزاز بھی واپس لیا جانے والا ہے۔ اس لیے اپنی اوقات مت بھولو اور جاکر کام کرو اپنا۔‘‘
’’میں اس وقت اپنی بیوی سے بات کررہا ہوں شاہ صاحب… اور ڈسٹرب میں نہیں آپ کررہے ہیں ہم دونوں کو بھی اور ہمارے رشتے کو بھی۔ ویسے بھی جو رشتے اللہ کی رضا سے طے کیے جائیں ان پر دنیا کی کوئی طاقت میلی آنکھ نہیں ڈال سکتی۔ اس لیے آپ اس وقت اپنی اوقات یاد کریں کہ میں منت کا شوہر ہوں اور آپ نام نہاد کزن جس کا کوئی شرعی رشتہ نہیں… مرد اور عورت کے درمیان۔‘‘ اس کو ٹھنڈے لہجے میں جواب دے کر وہ منت کی طرف مڑا۔
’’آپ گھر چل رہی ہیں یا مجھے زبردستی کرنی پڑے گی۔‘‘ اس کی بات پر منت نے تیکھے چتون سے اسے گھورا مگر کچھ کہنے سے پہلے ہی اس نے دور سے مراد علی شاہ کو آتے دیکھا‘ اس لیے بغیر کسی بحث کے اس کے آگے چل دی تھی۔ سکندر شاہ کو تلملاتا چھوڑ کر ذورین نے ایک جتائی ہوئی نظر سکندر شاہ پر ڈالی تھی۔
’’میری چپ کو میری ہار مت سمجھنا ذورین… میں اگر اس وقت تمہارے ساتھ آگئی ہوں تو کسی خوش فہمی کو دل میں جگہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے بابا جان سے میں بہت محبت کرتی ہوں اور ان کے سامنے میں کوئی تماشا نہیں چاہتی‘ مائنڈاٹ کہ ابھی میرا تمہارے ساتھ اس رشتے کو قائم رکھنے یا نہ رکھنے کا حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس لیے زیادہ اُورایکٹنگ کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ چڑ کر بولی‘ مگر ذورین نہ جانے کیوں غصہ ہونے کی بجائے مسکرا دیا۔ پھر جیسے ہی وہ حویلی کا مین گیٹ عبور کرکے مرکزی رہائش گاہ کی طرف بڑھنے لگی۔ ذورین نے اس کا بازو تھاما اور کونے میں بنی اپنی رہائش گاہ کی طرف لے آیا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے جنگلی انسان… چھوڑو میرا بازو۔‘‘ اس نے اپنا بازو اس کی سخت گرفت سے چھڑاتے ہوئے چیخ کر کہا۔
’’آپ کا تو اپنے سسرال اپنے گھر آنے کا ارادہ نہیں… مجھے ہی اس نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ویسے بھی مراد علی شاہ ہمارے پیچھے ہی ہیں اور آج صبح ہی مجھے بلا کر اپنی لاڈلی بیٹی کے متعلق بہت سی ہدایات دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ اپنے گھر میں خوش تو ہے ناں‘ تنگ تو نہیں کرتی مجھے یا امی کو۔ معصوم سے مراد علی شاہ کو اتنا بھی نہیں پتا تھا کہ لاڈلی بیٹی نے رخصت ہوکر آنا تو ایک طرف ایک نظر بھی اپنے گھر اور دلہا پر ڈالنا گوارا نہیں کیا۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ جو رک گئی تھی۔ ڈھیلے قدموں سے اس کے ساتھ خدیجہ کے گھر کا بیرونی دروازہ پار کر آئی۔ ابھی کل ہی تو اس نے سکندر شاہ کو معاف کرکے اس کے ساتھ اگلی زندگی کے کئی پروگرام بنائے تھے۔ جب شام میں مراد علی شاہ نے اسے بلوا بھیجا تھا۔ بہت پیار اور مان سے انہوں نے کہا تھا کہ ذورین بہت اچھا لڑکا ہے۔ وہ اس کے ساتھ خوش رہے گی۔ اسے جلد ہی اس رشتے کو قبول کرلینا چاہیے۔ اسی میں اس کی اور اس خاندان کی بہتری ہے۔
’’دیکھو بیٹا… زندگی گزارنے کے لیے انسان مرد ہو یا عورت اس کی پہلی ترجیح عزت اور احساس ہونا چاہیے۔ میں سکندر شاہ کے لیے آپ کے احساسات سے واقف ہوں‘ مگر جو شخص زندگی کے اہم اور مشکل موڑ پر آپ کو بے یارو مددگار چھوڑ سکتا ہے‘ اپنے رشتے کی اہمیت وقت کی نزاکت اور سب سے بڑھ کر خاندان کی اور لڑکی کی عزت کا خیال کیے بغیر… اس سے دوبارہ کسی بھی معاملے میں امید لگانا سراسر بے وقوفی ہے اور تم نے وہ قول تو سنا ہی ہوگا کہ ’مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا‘ سکندر شاہ اب جو بھی توجیہہ دے‘ جو بھی بہانا بنائے یہ تو طے ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنی خواہشات کو ہر چیز پر فوقیت دینے والا شخص ہے۔ خدیجہ کی بہت عزت کرنا بچے‘ وہ حالات کی ستائی ہوئی عورت ہے۔ جسے زندگی کی تلخیوں اور اپنوں کے ظلم نے بہت خالص کردیا ہے۔ کندن کی طرح اس نے اپنی ساری خصوصیات اپنی اولاد میں منتقل کردی ہیں۔ ذورین بھی اپنے ماں باپ جیسا ہے۔ عزت پر جان قربان کرنے والا اس کی قدر کرنا بیٹے۔‘‘ وہ سکندر شاہ کی واپسی اور اس کا منت سے معافی تلافی کا سلسلہ جان گئے تھے شاید اس لیے ان باتوں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سمجھایا تھا۔ جسے سن کر منت بوجھل دل کے ساتھ اٹھ آئی تھی۔ اس نے جو رات فیصلہ کیا تھا کہ وہ جلد ہی ذورین کو مجبور کردے گی کہ وہ اسے طلاق دے ورنہ وہ عدالت سے خلع لے لے گی۔ اس فیصلے میں ان ساری باتوں کے بعد دراڑ پڑتی محسوس ہو رہی تھی اور اب جب صبح سکندر شاہ کے بلانے پر وہ اپنی مخصوص جگہ پر آئی تھی دل و دماغ کشمکش کا شکار تھے اس لیے سکندر شاہ کی باتوں پر توجہ مرکوز رکھنے میں ناکام ہورہی تھی۔ جو اسے ذورین سے فوری طلاق لینے کے مطالبے کے لیے مجبور کرتے ہوئے اپنی محبت کی قسمیں دے رہا تھا کہ ذورین کی نظر پڑ گئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
خدیجہ تو اسے دیکھ کر نہال ہوگئی تھیں۔ ان کا اس قدر التفات دیکھ کر منت کو بے رخی برتنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ اسے ذورین کے کمرے میں لے آئیں۔ کشادہ کمرہ صرف ایک ڈبل بیڈ اور کتابوں کے ریک کے علاوہ صرف ایک کرسی اور میز پر مشتمل تھا۔
’’شادی اتنی جلدی میں ہوئی کہ میں اپنے گھر اور اس کمرے کو تمہارے شایان شان بنا سکی نہ سجا سکی مگر فکر مت کرو مجھے پتا ہے کہ میری بیٹی کتنی لاڈلی اور نازوں پلی ہے۔ تمہیں تو میں نے بستر سے پائوں بھی نیچے نہیں اتارنے دینا اور آہستہ آہستہ میرا بچہ ان تمام سہولیات کو پورا کردے گا جن کی تم عادی ہو۔ بہت صبر اور شکر والا ہے میرا ذورین‘ ہر کسی کا درد دل میں رکھنے والا‘ پتہ نہیں اللہ کو اس کی کون سی نیکی پسند آئی کہ تمہیں اس کا ہم سفر بنایا۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے مگر ماں ہوں ناں اولاد کی آنکھیں پڑھ کر ہی اس کے دل کی خواہش جان لی تھی۔ اللہ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی اس خواہش کو اپنی دعائوں کا حصہ نہیں بنایا تھا کیونکہ ہم حقیقت پسند لوگ ہیں مگر میرا اللہ بہت مہربان ہے۔ ہماری سوچوں کی حد سے بھی بڑھ کر کرم کرنے والا۔‘‘ ابھی ان کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ لوازمات سے بھری ٹرے کے ہمراہ وہ اندر آیا اور ان دونوں کے بیچ ٹرے رکھ دی۔
’’کام پر چلتا ہوں اماں… اب آپ جانیں اور آپ کی بہو۔‘‘ مسکراتے ہوئے کہا… خدیجہ نے اثبات میں سر ہلایا اور منت کے لیے چائے نکالنے لگیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی منت نے بہت سا وقت خدیجہ کے ساتھ گزارا تھا۔ وہ کبھی روتے کبھی ہنستے اس کے سامنے اپنی زیست کے اوراق کھول رہی تھیں۔ اس نے یہ قصے بہت بار سن رکھے تھے مگر پہلی بار اس عورت کے بلند حوصلے اور ہمت نے اس کو حیران اور متاثر کیا تھا کہ کتنا ظلم ہوا تھا اس کے ساتھ پھر بھی صبر اور شکر کے ستونوں پر اپنا گھر تعمیر کیے بیٹھی تھی۔
’’آپ کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تھی اور اس ظلم کے خلاف بھی جو آپ پر اس خاندان نے کیا۔‘‘ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔ خدیجہ مسکرائیں۔
’’میرے لیے میری کل متاع میرے بچے ہیں‘ یہ جب میرے آس پاس آکر کھڑے ہوتے ہیں میرا سائبان وہیں بن جاتا ہے۔ مجھے اور کسی دنیاوی دولت سے کوئی غرض نہیں۔ باقی میں نے اپنا ہر معاملہ اپنے اس مالک کے سپرد کردیا۔ دیکھ لو اس نے مجھے کسی بھی منزل پر تنہا نہیں رہنے دیا۔‘‘ اولاد کی محبت ان کے چہرے پر روشنی بن کر چمک رہی تھی۔
کچھ وقت وہاں گزار کر وہ ان کو یہ کہہ کر آئی تھی کہ وہ ایک دو دن میں اپنا کچھ ضروری سامان اور ذاتی اشیاء لے کر اپنے گھر آجائے گی۔ خدیجہ اسی میں نہال ہوگئی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
’’کوئی بھی مرد چاہے وہ کتنا ہی شریف کیوں نہ ہو یہ برداشت نہیں کرتا کہ جو عورت اس کی زوجیت میں ہو‘ کسی دوسرے مرد کو چاہتی ہو اور اسی کا دم بھرتی ہو۔ تم اس سے صاف صاف کہو کہ تمہیں طلاق دے کیونکہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور شادی کرنا چاہتی ہو۔ دیکھنا وہ تمہیں پہلی فرصت میں ہی چھوڑ دے گا۔ نہیں تو تمہیں میرے ساتھ عدالت چلنا ہوگا۔ پہلا وار سہہ بھی گیا تو ہمارے یہاں عدالت کے معاملات کو بہت غلط تصور کیا جاتا ہے۔ وہ بھی اس وقت جب معاملہ عورت کا ہو تو۔ ہم یہاں نہیں رہیں گے۔ میں تمہیں شہر لے جائوں گا ان سارے جھمیلوں سے دور۔ جہاں صرف تم اور میں ہوں گے۔‘‘ سکندر شاہ کی ان باتوں سے منت کی سوئی محبت انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تھی۔ اس بار ان کا رابطہ موبائل پر ہوا تھا اور سکندر شاہ نے سمجھایا تھا کہ زندگی اس کی ہے تو فیصلہ بھی اسی کو کرنا چاہیے۔ جتنا وقت گزرے گا وہ الجھتی جائے گی اور صحیح فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
فیصلہ کرکے وہ اٹھی اور چادر اٹھا کر اس طرف چلی آئی جہاں اس وقت ذورین کے ہونے کے امکان ہوسکتے تھے۔ اس کی توقع کے مطابق وہ وہاں اکیلا تھا۔ دو ملازم مویشیوں کا دودھ نکال رہے تھے جب کہ وہ ان سے تھوڑی دور چارپائی پر بیٹھا کسی سوچ میں گم تھا۔ منت نے موقع غنیمت جان کر اس کی طرف دیکھے بغیر بولنا شروع کیا اور بچپن سے لے کر اپنی اور سکندر شاہ کی محبت کے قصے بیان کرنے کے ساتھ فوری طلاق کا مطالبہ بھی کردیا۔ ساتھ ہی عدالت میں جانے کی دھمکی دے کر جس طرح آئی تھی اسی تیزی سے اٹھ کر وہاں سے چل دی تھی۔ اس کے سرخ پڑتے چہرے اور ماتھے پر موجود لاتعداد تیوریوں پر نظر ڈالے بغیر۔
’’یہ ٹھیک نہیں ہے منت… تمہارے بابا کو پتہ چلا تو وہ بہت غصہ ہوں گے۔ ان کو میں نے اطمینان دلایا ہے کہ تم اپنے گھر ذورین کے ساتھ خوش ہو۔ تمہارے بابا چھوٹی حویلی میں انتظامات کرا رہے ہیں۔ خدیجہ کے سارے خاندان کو وہاں شفٹ کرنے کے لیے اور تم ہو کہ کسی اور سمت چل پڑی ہو۔ یاد رکھو کہ شریف بہو‘ بیٹیوں کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا۔ پہلے کی بات اور تھی۔ اب مجھے سکندر کے ساتھ تمہارا یہ میل جول ہرگز پسند نہیں۔ بھول گئی ہو کہ اس نے ہم سب کے ساتھ اور خصوصاً تمہارے ساتھ کیا کیا تھا۔‘‘ اسے باہر سے آتا دیکھ کر اس کی ماں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ سکندر سے ملنے گئی تھی۔ ویسے بھی ان کو اب اس طرح منت کا سکندر سے ملنا جلنا بالکل پسند نہیں تھا۔
’’بابا کو منع کردیں کسی بھی قسم کے انتظامات سے کیونکہ میں نے آپ کی عزت کے لیے جو قربانی دینی تھی دے چکی۔ اب میں باقی کی زندگی ایک ناپسندیدہ شخص کے ساتھ ہرگز نہیں گزار سکتی۔ میں اس سے طلاق لے کر سکندر سے شادی کروں گی۔‘‘ ماں کے سر پر دھماکہ کرکے وہ ان کو صدمے کی کیفیت میں چھوڑ کر وہاں سے جاچکی تھی۔
ژ ژ ژ ژ
’’اوئے عقل کر سکندرے… کیوں ہم بھائیوں میں پھوٹ پڑوانے پر تلا ہے۔ غلطی تیری ہی تھی۔ وہ تو تیرا چاچا بھلا مانس بندہ ہے ورنہ ایسی باتوں پر تو قتل ہوجاتے ہیں۔ اب بجائے اپنی غلطی پر شرمندہ ہونے کے تو کیوں اس بچی کے پیچھے پڑا ہے۔ گھر بسنے دے اس کا… سن گن ملی ہے مجھے کہ تو اس کو طلاق کے لیے مجبور کررہا ہے‘ اوئے جہاں تک میں تجھے جانتا ہوں تو نے تو کبھی ٹوٹا ہوا کھلونا اپنے پاس کبھی نہیں رکھا ایسے میں منت سے شادی کرلے گا تو؟‘‘ ارباز شاہ نے سامنے کھڑے بیٹے کو آڑے ہاتھوں لیا۔
’’چاہتا تو میں بھی یہی ہوں کہ مرادے کی جائیداد ان کمی کمینوں کی اولاد کے پاس نہ جائے۔ تیرا ارادہ پکا ہے تو مجھے بتا میں بندہ ہی پھڑکا دیتا ہوں کسی حادثے میں۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے کی بانسری‘ کڑی بھی گھر میں رہے گی اور دولت بھی۔‘‘
’’نہ بابا جان نہ سکندر شاہ کو دولت کی کمی نہیں… اسے صرف چاچا مراد سے اور منت بی بی سے اس بے عزتی کا بدلہ لینا ہے۔ جو انہوں نے ایک مزارعے کے بیٹے کو سکندر شاہ پر فوقیت دے کر کی… ورنہ منت سے میری دلچسپی اسی دن سے ختم ہوگئی تھی۔ جس دن سے اس کی واپسی چودھری کے ہاں سے ہوئی تھی‘ ایک تیر سے شکار کرے گا سکندر شاہ اور تین لوگ اس کی زد میں آئیں گے اکڑتا ہے ناں ذورین امیر کہ اس نے شاہوں کی بیٹی کو اپنا بنالیا تو اس کی یہ اکڑ تو ختم کرنی ہے ناں‘ باقی سکندر شاہ نے اپنے لیے کڑی بھی پسند کرلی ہے جو منت سے زیادہ خوب صورت بھی ہے اور دولت مند بھی۔ بس ذرا یہ معاملہ مکادوں تو بتاتا ہوں آپ کو۔‘‘
’’واہ میرا شیر ثابت کردیا تو نے کہ تو ارباز شاہ کا پتر ہے۔‘‘ منت کو پتا بھی نہیں چلا تھا کہ کب اس کا چہرہ آنسوئوں سے تر ہوگیا تھا۔ وہ تو سکندر شاہ کو ڈھونڈتے اس کے کمرے کی طرف آئی تھی کہ اسے بتا سکے کہ اس نے ذورین کی غیرت کو للکارتے ہوئے اسے اپنی اور سکندر شاہ کی محبت کے وہ جھوٹے سچے قصے سنائے تھے کہ ہوہی نہیں سکتا کہ کوئی مرد ایسی باتیں برداشت کر جائے۔ یقینا وہ جلد ہی اسے طلاق دینے والا تھا… مگر دروازہ کھولتے ہی اسے اپنا نام سنائی دیا‘ کسی لٹے ہوئے جواری کی مانند وہ سیدھی مراد علی شاہ کے پاس آئی۔ جو اس کی ایسی دگرگوں حالت دیکھ کر بے حد پریشان ہوگئے تھے پھر ان کے استفسار پر وہ یہ سب جان کر پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں سب کچھ بتاتی گئی۔ مراد علی شاہ ڈھے گئے تھے۔
’’میں تمہیں اتنا بے وقوف نہیں سمجھتا تھا منت… پتہ نہیں یہ میری دعائیں تھیں‘ ذورین کی اچھی نیت تھی یا خدیجہ کا صبر کہ اس مالک نے تمہاری وقت پر آنکھیں کھول دیں ورنہ تم تو پھر سے اس سلگتی آگ کو اپنے دامن میں بھرنے چلی تھیں جو عمر بھر تمہیں ذلت اور اذیت کی بھٹی میں جھلسانے والی تھی۔‘‘ وہ رنجیدہ ہوکر بولے۔
’’ابھی جائو اور میں خود تمہیں تمہارے گھر چھوڑ کے آتا ہوں ایک دو دن میں تم لوگ اپنے نئے گھر شفٹ ہوجائوگے۔ بہت دکھ دیکھ لیے خدیجہ نے اس کے حق کے لیے اب اس کا بھائی آواز اٹھائے گا۔‘‘ وہ ایک عزم سے بولے۔
ژ ژ ژ ژ
’’میں نے صرف اپنے بابا جان کے جذباتی دبائو میں آکر ہاں کی تھی ورنہ میرے دل میں کل بھی سکندر شاہ تھا اور آج بھی وہی ہے۔ ویسے بھی ایک غیرت مند مرد کب برداشت کرتا ہے کہ اس کی بیوی کسی اور کو سوچے کسی اور کو چاہے۔ طلاق دے دو گے تو ہم سب کے حق میں اچھا ہوگا۔ ورنہ شادی تو میری سکندر شاہ سے ہی ہوگی۔ تم اس نام نہاد رشتے کو نہیں چھوڑو گے تو عدالت تو ہے ناں۔‘‘ اس کی باتیں کسی ہتھوڑے کی مانند دل و دماغ پر لگ رہی تھیں۔ ہر ایک جملے کی ضرب پہلے سے شدید تھی۔ پہلو بدل بدل کر وہ تھک چکا تھا۔
’’تو نے اسے میرا مقدر بنانا ہی تھا تو اس کا دل بھی پھیر دیتا مالک تیرے خزانوں میں تو کوئی کمی نہیں‘ یا ایک بار پھر آزمائش کے لیے تو نے ہمیں منتخب کیا ہے اے رحمن ورحیم… اس بار یہ آزمائش بہت کڑی ہے۔ اسے مختصر کردے۔ میں نے تو ابھی اس کو پانے کی خوشی کو بھی محسوس نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی تیری رضا میں راضی ہوں اے خالق کائنات بس تو راضی ہوجا تو راضی ہوجا۔‘‘ وہ عصر کے بعد سے کمرے میں بند تھا اور خدیجہ سے طبیعت خرابی کا بہانا کیا تھا‘ اب رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ وہ ایک دفعہ پھر اسے دیکھ کر جاچکی تھیں اور سوتا دیکھ کر شاید مطمئن ہوگئی تھیں اس پر برپا ہوئی قیامت سے بے خبر۔ زندگی کے ہر کٹھن مرحلے کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے والے ذورین کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہے تھے۔ باہر ایک غیر مانوس سے شور کی آواز پر اس نے اپنی آنکھیں رگڑ ڈالیں۔ مراد علی شاہ کی آواز پر وہ حیرت زدہ ہو کر اٹھ بیٹھا۔ ایک دم لائٹ آن ہونے پر اس کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ دروازے کے بیچ وبیچ ہی بنی سنوری وہ کھڑی تھی۔ وہی دشمن جاں جس نے اسے مارنے کا تہہ کر رکھا تھا۔
’’پھر کوئی نیا زخم…‘‘ اس نے تلخی سے سوچا۔ منت اب باہر آواز دے کر کسی کو بلا رہی تھی۔ ملازمائوں نے دو سوٹ کیس اٹھا رکھے تھے۔ جو انہوں نے مالکن کے اشارے پر کمرے کے بیچ وبیچ رکھ دیئے پھر اس کی آنکھ کے اشارے سے باہرنکل گئی تھیں۔ کمرے کا جائزہ لیتی ہوئی وہ بالکل اس کے سامنے آن رکی۔
’’انسان کو شریف ہونا چاہیے مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ مذاق اور حقیقت میں تمیز ہی نہ کرسکے۔‘‘ تیکھے چتون سے کہے گئے جملے نے ذورین کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو اسے گھورتے وہ دھپ سے اس کے پاس آکر بیٹھی۔
’’پھوپو نے جب مجھ سے کہا کہ ان کا بیٹا مجھ سے محبت کرتا ہے تو زبردستی کے رشتے کا ایک بوجھ میں نے سر سے ہٹتا محسوس کیا مگر ایک الجھن بھی تھی کہ پھوپو کا بیٹا یہ سب خود کیوں نہیں کہہ رہا۔ اب تو اس کا مجھ پر شرعی حق بھی ہے۔ تمہاری چپ اور مسلسل چپ نے مجھے غصہ دلایا اور میں نے جان بوجھ کر تمہارے سامنے سکندر شاہ کے ساتھ آنا جانا اور باتیں شروع کردیں۔ سکندر شاہ کے ہاتھ سے میرا ہاتھ چھڑا کر تم نے میرا دل تو خوش کر ہی دیا مگر یہ تو ایک روایتی شوہر کا انداز تھا۔ اس میں محبت کہاں تھی۔‘‘ اس نے منہ پھلایا۔
’’میں نے شروع سے اپنے گرد اتنی محبت اور لاڈ دیکھا ہے کہ تمہارا یہ روکھا پھیکا اور لیے دیئے والا انداز مجھے آگ لگا رہا تھا۔ اسی چپ کو توڑنے کے لیے میں نے وہ تمام فضول باتیں کیں اور چند لمحے ایک شدید ردعمل کی منتظر رہی کہ ابھی تم مجھے ایک تھپڑ لگا کر چپ کرائو گے اور اپنی محبت کا یقین دلائو گے مگر تمہارے اس ٹھس انداز نے مجھے بتادیا کہ پھوپو نے شاید میرا دل رکھا تھا۔‘‘ اس کی آواز بھرائی۔
’’اب آج ڈھیٹ بن کر میں خود آگئی ہوں کہ میرے مجازی خدا کو تو ہوش نہیں ہے کہ مجھے رخصت بھی کرانا ہے۔ مگر ہماری اس انا میں سکندر شاہ خوامخواہ خوش ہورہا ہے۔‘‘ اس کا منہ کڑوا ہوا۔ مگر اس پل ذورین کا ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے ہوش ٹھکانے لگا گیا۔ اس کا منہ کھل گیا آنکھیں پھٹ گئیں۔
’’وہ تم نے ایک بار گلہ کیاں ناں کہ تھپڑ نہیں لگایا تو اب لگا دیا تو ایسی شکل کیوں بنا لی…‘‘ اس کے آنسو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا۔ منت نے تین چار مکے اس کے کندھے پر رسید کیے۔ اگلے پل ہی وہ اس کے محبت بھرے حصار میں تھی۔
’’بہت ہوگئی یہ لڑائی بس… اب صرف محبت ہوگی۔‘‘ اس کی سرگوشی پر وہ اس کی پناہوں میں چھپ گئی۔ دو آنسو پچھلی محبت کی ناقدری پر تھے۔ اس شخص نے اس کی عزت کا مان رکھا تھا محبت کا کیا تھا وہ بھی ہوہی جانی تھی۔ ذرا سی لفظوں میں تبدیلی کرکے اس نے اپنا گھر بچالیا تھا کیونکہ مراد علی شاہ نے کہا تھا وہ اسے اس کے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔ ذورین کو اسے خود منانا ہوگا۔ معافی بھی خود ہی مانگنی ہوگی کیونکہ زیادتی اسی نے کی تھی۔
’’تم نے مجھے معاف کردیا ناں؟‘‘ سر اٹھا کر اس نے سادہ دل انسان سے پوچھا جس نے حرف بہ حرف اس کی بات کا یقین کرتے ہوئے اسے اپنی پناہوں میں لے لیا تھا اور اس محبت کے قصے سنانے میں مگن تھا جو نجانے کب سے اس کی رگوں میں دوڑ رہے تھے۔
’’میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوسکتا منت… اسے میری محبت سمجھو‘ مجبوری یا کچھ بھی مگر آئندہ ایسا کچھ بھی مذاق میں بھی سننا پسند نہیں کروں گا۔‘‘ اس نے کہا تو منت نے بھیگتی آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا کہ اس کی محبت کے آگے وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہی تھی۔
’’کھڑکی سے اس چاند کو دیکھ کر میں تم سے باتیں کیا کرتا آئو آج حقیقت میں اس کو ہمراہ کریں اور بتائیں کہ ہم ساتھ ساتھ ہیں۔‘‘ اس کا ہاتھ پکڑے وہ کھڑکی کے پاس آیا اور دونوں پٹ کھول کر پورے چاند کو دیکھا۔ اسے لگا وہ بھی اس کی خوشی پر مسکرارہا تھا جبھی تو اتنا روشن اتنا خوب صورت تھا۔ منت نے آسودگی سے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا۔ زندگی کی حقیقت کو سمجھتے وہ بہت حد تک رشتوں کی اہمیت کے ساتھ ان کے خلوص کو بھی سمجھ گئی تھی مشکل سے ہی سہی اگر خدیجہ کو اس کی دولت مل سکتی تھی تو اسے بھی ذورین سے محبت ہو ہی جانی تھی اپنی عزت تو اس نے بنا ہی لی تھی۔
سکندر اور اس کے باپ کو انہوں نے حالات کے سپرد کردیا تھا کہ وقت خود بہت بڑا استاد ہے اور شاید انہیں ٹھوکر لگنے اور چوٹ کھانے کے بعد ہی اپنی غلطیوں کا احساس ہونا تھا۔ مراد علی شاہ اپنی بیٹی کی خوشیوں میں خوش اور مطمئن تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close