Hijaab Apr-18

جیسا میں نے دیکھا

رفاقت جاوید

وطن عزیز سے محبت
پروین نے امریکا سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تو پھر پی ایچ ڈی کی خواہش سر ابھارنے لگی اس کی بھاگ دوڑ اور شب و روز کی محنت کو محسوس کرتے ہوئے میں نے ایک دن اس سے فکر مندی سے پوچھا کہ پروین مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم امریکا کی ہو کر نہ رہ جائو کیونکہ تمہیں اس ملک کے اپنوں نے ہی جو دکھ و اذیت دی ہے یہاں رہتے ہوئے ان کی تپش تمہیں ہر وقت بے چین رکھتی ہے کیا تم ایسا کرنے کا فیصلہ کرچکی ہو کہ یہ میرا وہم ہی ہے یہ سن کر وہ ذرا سا مسکرائی اور موضوع کو اور سمت لے گئی اپنے اس پیارے ملک اور لوگوں سے مجھے کوئی گلہ نہیں اسی ملک نے مجھے بہت نوازا ہے اور لوگوں نے سراہا ہے قصور تو ہمارا اپنا ہے کہ ہم نے اپنا مسکن پانیوں پر بنا لیا ہے‘ ہمیں اپنے ملک کی قدر نہیں ہم اپنی آزادی میں بھی کھل کر سانس لینا بھول کر فقط اپنی جیبوں کو گرم کرنے پر تلے ہیں رف مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ نئی نسل کی تمام کریم تو باہر کے ملکوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے کیونکہ انہیں یہاں اپنا فیوچر تاریک نظر آتا ہے تو اس عمل کے بعد ہمارے ملک میں ترقی و تابناکی کیسے آسکتی ہے میں اس دھرتی کی پہچان ہوں اور یہ دھرتی میری اپنی ہے مرتے دم تک اس کی رہوں گی کبھی دھوکا نہیں دوں گی کبھی اس سے نا امید نہیں ہوں گی معاشرہ خواتین کی یکجہتی سے بدلا جاسکتا ہے جس کی ہم میں بہت کمی ہے میں نے اس کا جواب سن کر اثبات میں سر ہلایا اور سوچنے لگی کہ اگر ہر پاکستانی امیر سے غریب، چھوٹے سے بڑے تک ایسی مثبت سوچ رکھیں تو ہمارا ملک بد نامی و رسوائی اور شرمندگی کے بجائے دنیا کے ہر خطے میں اپنے نام اور شہرت کا نقارہ بجانے میں دیر نہیں لگائے گا اسے کیا علم تھا کہ اس کا اپنا رول پرائی دنیا کا باسی بن جائے گا اور عورتوں کی یکجہتی اس کا انوکھا خواب تھا اس کی تعبیر بھی نظر نہیں آرہی۔
ایک نظم حاضر خدمت ہے۔
چیلنج
حاکم شہر کے ہرکارے نے
آدھی رات کے سناٹے میں
میرے گھر کے دروازے پر
دستک دی ہے
اور فرمان سنایا ہے
آج کے بعد سے
ملک سے باہر جانے کے سب رستے خود پر بند سمجھنا
تم نے غلط نظمیں لکھی ہیں
اے ایس آئی سے کیا شکوہ
اس نے اپنا ذہن کرائے پر دے رکھا ہے
وہ کیا جانے
مٹی کی خوشبو کیا ہے
ارض وطن کے رخ سے بڑھ کر
آنکھوں کی راحت کیا ہے
حاکم وقت کی نظروں میں
میری وفاداری مشکوک ہی ٹھہری تو
مجھ کو کچھ پرواہ نہیں
جس مٹی نے مجھ کو جنم دیا ہے
میرے اندر شعر کے پھول کھلائے ہیں
وہ اس خوشبو سے واقف ہے
اس کو خبر ہے
فصل خزاں کو فصل خزاں کہنے کا مطلب
گلشن سے غداری نہیں ہے
اور اگر ایسا ٹھہرا تو
حاکم وقت کے ہرکارے
مجھ پر فرد جرم لگائیں
خاک وطن کو حکم بنائیں
(انکار)
مہان اور میزبان
پروین ایسی مہمان تھی جو پھول سے بھی ہلکی تھی جسے اپنے میزبان سے کسی قسم کی توقع نہیں ہوتی تھی کہ اسے پروٹوکول دیا جائے ٹیبل پر پر تکلف کھانے سجائے جائیں اور اس کی مدح سرائی میں زمین و آسماں کے قلابے ملائے جائیں اس کی ایسی سوچ ہی نہیں تھی وہ ایک خوددار اور غیرت مند خاتون تھی وہ دوسروں سے خاطر مدارت کرانے میں سبکی محسوس کرتی تھی جہاں وہ تکلفات سے بھرپور، شوبازی اور پیسے کی نمائش میں ملوث میزبان کو دیکھتی تھی وہاں کی دعوت دوبارہ قبول نہ کرتی تھی۔
جن گھروں میں وہ بحیثیت اہل خانہ کے تصور کی جاتی تھی جہاں وہ دوسروں کے لیے زحمت نہیں بلکہ باعث رحمت سمجھی جاتی تھی جس گھر کے مکین اس کی قربت سے لطف اندوز ہوتے ہوں اور اپنے گھریلو شیڈول میں اس کی وجہ سے تبدیلی لانے کو اہم نہیں سمجھتے ہوں بلکہ اسے اپنے ساتھ ہی شامل کر کے اپنے گھر کا فرد تصور کرنے لگیں پروین آپا کے گھر کی مثال آپ کے سامنے ہے یہ انہی کی ہوجاتی تھی پروین کو دوسرے کے گھر کو اپنا بنانے کا سلیقہ اور طریقہ آتا تھا اور دوسروں کے ذہن پر چھا جاتی تھی اور دلوں میںاپنا گھروندا بنا لیتی تھی طنز و مزاح، شریر ہنسی اور چھیڑ چھاڑ کے باوجود اپنے وقار و عزت میں کمی نہ آنے دیتی تھی ان حدوں کو وہ بخوبی جانتی تھی دوسروں کی خلوت کا احترام کرتے ہوئے کبھی ان کی نجی زندگی میں داخل اندازی نہ کرتی میاں بیوی کے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنے اور کن سوئیوں سے پرہیز کرتی اور جب دیکھتی کہ دونوں کسی اہم مسئلے کو ڈسکس کر رہے ہیں تو وہاں سے ہٹ جاتی ہے۔
نیز اس وقت تک غائب رہتی جب تک دونوں اپنے مسائل سے باہر نہ نکل آئیں گھر میں رہتے ہوئے کبھی بھی کسی کی حرکات و سکنات اور انداز گفتگو کو تنقیدی اور منفی رنگ نہ دیتی تھی چاہے وہ کہیں پر غلط ہی کیوں نہ ہو، بہت صبر و تحمل سے کام لیتی کسی ملازم کو تحکمانہ انداز میں بات نہ کہتی تھی وہ ایسی خوب صورت شخصیت کی مالک تھی کہ گھر کے تمام ملازمین اس کے دل کی بات اور خواہش کو جان جایا کرتے تھے اور اس کے کہنے سے پہلے ہی آداب بجا لاتے تھے ہمارا پیار، توجہ اور ہمدردانہ رویہ اس کی اپنی خصلتوں کی وجہ سے نہ صرف برقرار تھا بلکہ روز بہ روز اس میں اضافہ ہی ہوا تھا یقین جانیے میں مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہی ہمارے خاندان میں بھی اسے بے پناہ عزت و تکریم حاصل تھی کیونکہ وہ گھر میں آنے والے ہر مہمان سے تپاک سے ملتی اور انہیں اپنا قیمتی وقت دیا کرتی تھی اس کی باتوں میں ایک تجربہ بولتا تھا اس کی آواز میں سچائی کا سحر پنہاں ہوتا تھا اسے دوسروں کو عزت دینا اور اپنی عزت کرانے کا ڈھنگ آتا تھا۔
پروین اپنی پسند کے کھانے کا اظہار کر کے خاتون خانہ کو تکلیف نہ دینے سے بہت گھبراتی تھی اس سے جب بھی وہ پوچھا کرتی تھی کہ آج آپ کا اپنی پسند کا کھانا بتائیں ہم بھی وہی کھایں گے تو مجھے ایک ہی فقرے سے مطمئن کرنے میں کامیاب ہوجایا کرتی تھی کہ رف مجھے ہر طرح کا کھانا پسند ہے میں نے وقت گزرنے کے ساتھ اس کی پسند کو پالیا تھا اسے ہر طرح کا سوپ،پلائو اور چائینز کھانے بہت پسند تھے دیسی مرغن کھانوں سے رغبت نہیں تھی چائے اور کافی بھی بہت پسند تھی جبکہ پان سے شدید نفرت تھی پنجابی اپنے دیسی مشروب کو ہمیشہ سے اولیت دیتا آیا ہے گرمیوں کی دوپہر میں اسے نوش کیے بغیر وقت گزارنا بہت مشکل لگتا ہے پروین پہلے تو مروتاً ہمارا ساتھ دیتی رہی بعد میں لسی اس کا پسندیدہ مشروب ثابت ہوئی ایک دن پروین آپا کے گھر میں اس نے لسی پینے کی خواہش کی تو ان کے شوہر آغا صاحب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر پنجابی میں کہا ’’آخر پنجابی دوستوں نے لسی پینا سکھا ہی دیا‘‘ یہ بات آغا صاحب نے ہمیں نہایت خوش دلی سے بتائی تھی۔
پروین ہمیشہ کھانا وقت پر تناول فرماتی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کھانے کو فقط سونگھ لیا کرتی تھی ہمیشہ پہلے روٹی کھاتی اور پھر چاول کھایا کرتی تھی وہ بھی کانٹے اور چمچ کے بجائے اپنے ہاتھ سے کھانا پسند کرتی تھی ساتھ ہنس کر کہتی میں سنت کا احترام کر رہی ہوں لیکن بعد میں چمچ سے کھانے لگی تھی میں نے حیرت سے پوچھا تو کہنے لگی رف ہاتھ دھونے کے باوجود ہاتھوں سے کھانے کی مہک نہیں جاتی دل خراب ہونے لگتا ہے جب پیٹ خالی ہو تو وہی کھانے کی خوشبو بھوک چمکا دیتی ہے بات تو سچ تھی۔
جب وہ ہم سب کے ساتھ لائونج میں موجود ہوتی تھی تو کبھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نہیں بیٹھتی تھی ہمیشہ پائوں صوفے پر رکھ کر نہایت اپنائیت سے بیٹھا کرتی تھی وہ ایسی با رونق شخصیت تھی کہ خاموشی میں بھی گھر کی گہما گہمی کا احساس ہوتا تھا اور اس کی مخصوص خوشبو گھر بھر میں اس کے ہونے کا خوش کن احساس دلاتی رہتی تھی۔
جب وہ میزبان بنتی تو ہر ایک کی پسند کا خیال رکھتی کہ سب کو سبکی محسوس ہونے لگتی تھی میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہ میرے لیے گاجر کا حلوہ تیار کرالیا کرتی تھی اور میرے پہنچتے ہی کچن کی طرف چل پڑتی مجھے وہ اس روپ میں قطعا اچھی نہیں لگتی تھی میں فوراً اسے پکڑ کر باہر لے آیا کرتی تھی اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ میرے لیے کیا کردے اس کی میزبانی صرف مجھ تک ہی محدود نہیں تھی اس کے گھر میں آنے والا مہمان اس کے لیے خاص الخاص ہوتا تھا اور وہ اپنی خوشی کا اظہار کیے بنا نہیں رہتی تھی وہ مہمان کی صورت میں بے مثال اور میزبان کی روپ میں بھی لاجواب تھی قدرت کی یہ حسین تخلیق دیکھ کر سبحان اللہ کہنے کو دل چاہنے لگتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان گنت خوبیوں سے نوازا تھا اس لیے تو وہ دنیا والوں کی نظروں میں آگئی تھی جو شخصیت دنیا والوں کی نظروں کا محور بن جائے اسے انہی کی نظریں کھا جاتی ہیں پروین کو پیار و عقیدت اور حسد و عناد کی نظروں نے بھری جوانی میںہی ہڑپ کرلیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close