Hijaab Apr-18

آخری کنارہ

نورین مسکان

شام سرخ ساڑھی لپیٹے روئے زمین کواپنے پلو میں چھپانے کو بے تاب تھی۔ جس کی وجہ سے اندر کمرے میں ملگجا سا اندھیرا رفتہ رفتہ تاریکی میں بدلتا جارہاتھا۔ اندھیرا پھیلنے کے ساتھ اس کا دماغ روشن ہور ہا تھا۔یادوں کے کواڑ پچھتائوں کی سرد ہوا سے دھڑا دھڑ کھل گئے تھے اور زندگی کا ہر ایک لمحہ کسی فلم کے شوخ و چنچل سے کردار کی طرح اس کے دل کے نہاں خانوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔ جس سے دل میں سوائے پرانے زخموں پر جمے کھرنڈ کھرچنے کے اور کچھ حاصل نہ ہوتا۔ یہ کھرنڈ تو مسلسل دو تین سالوں سے اترتے چلے آرہے تھے اور ان کے بہائو کی اس شوریدہ سری سے وہ زخم ناسور بن کر بہنے لگے۔
ہر یاد پر اور ہر پچھتاوے پر درد کی ٹیسیں دل کی دنیا کو تہہ و بالا کر دیتیں۔ اس کے دل میں ایک ہوک اٹھی اور آہ نے چند سیکنڈ سانس لے کر دم توڑ دیا۔ وہ اب ان سب چیزوں کا عادی ہوچکا تھا۔ تمام غلطیوں کا معترف تھا لیکن اس کے پاس ازالہ کرنے کا وقت تھا اور نہ ہی کوئی طریقہ۔ تبھی تو وہ معذوری کی حالت میں چھت پر لگے پنکھے کے تینوں پروں کو تکتے دن کے تینوں پہر گزار دیتا اور شام تک وہ اسی شغل میں مگن رہتاتھا۔ شام کو مغرب کی جانب لان میں کھلتی کھڑکی پر نگاہیں جما دیتا جس کے اس پار شفق کی لالی دن کے اجالے سے منہ بسورتی ہوئی افق کے پار کالے اندھیرے کی چادر کا حجاب اوڑھ لیتی اور رات کے نمودار ہوتے ہی اس کی آہیں بڑھ جاتیں‘ دل پر بوجھ بڑھ جاتا۔ کبھی کبھی تو اسے لگتا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے تب وہ گریبان کے بٹن کھول کر گہری اور ٹھنڈی سانس لیتا مگر سکون کہیں بھی میسر نہ آتا۔
کبھی اسے رونے کی طلب ستاتی اور کبھی اس کا قہقہے لگانے کو دل چاہتا۔ لیکن سب سے کٹھن مرحلہ اس پر اس وقت آتا جب وہ اور اس کی ساتھی تنہائی ایک دوسرے سے تنگ آجاتے…انہیں ایک دوسرے سے غافل رہنا اچھا لگتا وہ خود سے باتیں کرنا چاہتا تھا اور نہ اسے کسی کی باتوں میں دلچسپی محسوس ہوتی۔ ایسے میں وہ ساری دنیا سے روٹھ جاتا۔
اس کی ہم جولی…اس کی سہیلی تنہائی بھی اس سے حد درجہ بدگمان سی ہوجاتی۔ جیسے وہ اپنا دکھ اس سے بانٹنے کے لیے اس پر اعتبار نہ کررہی ہو۔ ہم انسان کتنے عجیب ہوتے ہیں بھیڑ میں ہوں تو تنگ آکر تنہائی کی طرف بھاگتے ہیں اور تنہائی میں ہمیں کسی ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جسے اپنے سارے غم سونپ دینے کو دل کسی پنجرے میں قید پنچھی کی طرح پھڑپھڑانے لگتا ہے۔
اس نے ایک بار پھر ٹھنڈی آہ بھری اور ملگجے سے اندھیرے میں ہی کمرے میں طائرانہ نگاہ دوڑائی۔ ہر چیز اسے میسر تھی۔ ہر چیز سے اعلیٰ ذوق اور معیار بخوبی ظاہر ہو رہا تھا۔ اس کے اجلے لباس سے مہنگے کلیون کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ سب کچھ تھا…مگر… کوئی چیزتھی جو اس کے پاس نہیں تھی۔ ایسی کیا چیز تھی جس کے لیے وہ تڑپتا رہاتھا۔ شاید یہ تڑپ برسوں سے اس کے دل میں لاوا بن رہی تھی اور اب اچانک ہی وہ لاوا پھٹ پڑا۔
اس کے چہرے کا غرور خوب صورتی سب ختم ہوچکی تھی۔ لہجے کی حلاوت میں چڑچڑاہٹ اور بیگانگی آسمائی تھی۔تن پر جدید اور کلف زدہ کپڑوں کی جگہ اب سادہ لباس آگیا تھا اور سب سے زیادہ اس کے مضبوط ہاتھوں کی جگہ نازک اور جھریوں زدہ ہاتھ تھے جن میں ہمہ وقت کپکپی طاری رہتی تھی اور اب ان کپکپاتے لرزتے اور سسکتے ہاتھوں میں ایک عدد تسبیح کا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کے بیڈ کے بالکل سامنے جنوب کی جانب ایک بڑا سا گھڑیال تھا۔
جس نے رات کے دس بجنے کا عندیہ دیا اور اس کی ساری حسیں بیدار ہوگئیں۔ سارے غم سارے دکھ اور سارے پچھتائوں کے راز کھل گئے تھے۔ اس نے ایک بار پھر گھڑیال کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے تسبیح چھوٹ گئی کیونکہ اس کو سارے راز مل چکے تھے۔ اور اب وہ نیم مردہ سا تہی دست تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
محمد سعید نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں آنکھ کھولی اور ایف اے کے بعد اپنے باپ کا کاروبار سنبھال لیا کیونکہ اس کے باپ پر فالج کا شدید اٹیک ہوا تھا۔محمد سعید نے اس بزنس کو بڑھانے کے لیے اپناآپ قربان کر دیا۔ وہ ساری دنیا و مافیہا سے بے خبر اس کاروبار کو بام عروج تک پہنچانے کی دھن میں ایسا مگن ہوا کہ یہ بھی نا جان سکا کہ کب اس کی اماں نے اس کا رشتہ دیکھ کر اس کے سرپر سہرا سجانے کی تیاریاں بھی کرلیں۔
کہتے ہیں جنون خطرناک ہوتا ہے کسی بھی چیز کا کیوں نہ ہو اور اس وقت اسے بڑا آدمی بننے کا جنون تھا۔وہ ہر چیز میں پیسہ دیکھ رہا تھا۔ اسے گاڑی بنگلہ اور زندگی کی ہر سہولت حاصل کرنے کا جنون تھا۔ وہ اپنی ماں کو اپنے مستقبل میں اپنے بیوی بچوں کو دنیا کی ہر چیز دینا چاہتا تھا اور اسی جنون میں اس نے اپنا آپ تیاگ ڈالا تھا۔
اس کی شادی ایک سیدھی سادی لڑکی نگینہ سے ہوگئی۔ لیکن اس کی مصروفیات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پھر ابا کے بعد اس کی ماں بھی دار فانی سے کوچ کر گئیں اور دو تین سال بعد محمد سعید ڈیفنس میں بنگلہ خریدنے کے قابل ہوگیا۔
خدا نے اسے ایک نعمت اورپھر رحمت سے نوازا۔ تو اس کی زندگی کی تمام خوشیاں پوری ہوگئیں لیکن وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اداس نظر آتا اسے خود میں کوئی کمی سی محسوس ہوتی۔ گاڑی‘ بنگلہ بیوی اور اولاد پر پیسہ پانی کی طرح بہا کر بھی تشنگی سی رہتی تھی۔جیسے وہ کسی صحرا میں سفر کررہاہو۔ کتنی ہی بار وہ اپنے دل کی پکار سن چکا تھا۔ اسے ایسے لگتا جیسے وہ کوئی جرم کررہاہو۔ جیسے خود کے ساتھ کوئی زیادتی‘ کوئی ظلم مگر کیا۔ یہی تو اس کو پتہ نہ چل سکا تھا۔
یہ خیال چند لمحوں کے لیے آتا پھر‘ ہنگامے پارٹیز اور اپنوں کی محفلوں میں کاروباری جھنجھٹ میں پھر سے دفن ہوجاتا اور فراغت میں ایک بارپھر کسی آوارہ پتنگے کی طرح اس کے دل کے گرد چکر کاٹنے لگتا۔ ایک ان جانی سی پریشانی اس پر قابض ہوجاتی اور وہ بے بسی سے کسی قیدی کی طرح ہاتھ پائوں مارتا رہ جاتا۔
یہ بے بسی اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے ہمیشہ کے لیے معذور ہوگیا۔ تب تو تنہائی کے پہر میں وہ انجانا دکھ کچوکے لگاتا رہتا اور اب وہ اس درد کا عادی ہونے کے ساتھ ساتھ اس درد سے نڈھال بھی ہونے لگا تھا مگر اب گھڑیال کی ٹن ٹن نے ساری حسیں بیدار کردیں کہ وہ وقت گنوا چکاہے۔ وقت اس کے ہاتھوں سے پھسل چکا تھا۔ اب تو اس کے بچے کھچے ٹکڑے رہ گئے تھے جواب زندگی کی کٹتی ڈور سے ایک ایک کرکے ہوا میں تحلیل ہوتے جارہے تھے۔
اس کی زندگی کے قیمتی ماہ وسال قیمتی متاع جو لٹ چکے تھے۔ انسان سمجھتا ہے ساری زندگی میں چند سجدے کرکے گویا حق ادا کر دیا۔ دنیاوی گورکھ دھندوں سے فرصت ملتی ہے تو تھکن آگھیرتی ہے۔ تھکن اترتی ہے تو بھوک ستانے لگتی ہے۔ بھوک مٹ جائے تو اگلے وقت کی روٹی کی فکر ستانے آجاتی ہے۔ لیکن اپنی اصل چیز نماز خدا کی یاد کو بھلا دیتا ہے۔ دل اﷲکا گھرہے اور جس دل میں اﷲکی یاد نہ ہو وہ دل مردہ ہوجاتا ہے۔ اس کے دل پرسکون چین اطمینان حرام ہوجاتا ہے۔ جس رزق پر اﷲکا شکر ادا نہ کیاجائے اس میں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ اﷲ بڑا غیور ہے۔ وہ کبھی طعنے نہیں دیتا۔نہ ہی رزق چھینتا ہے۔ ہاں وہ برکت نہیں دیتا‘ ذائقہ اٹھالیتا ہے۔ دلوں کی دنیا میں غم کے زلزلے برباد کردیتا ہے اور یہی اس کا حق ہے کیونکہ ’’ اﷲ ہر شے پر قادر ہے‘‘ انسان کو یہ سب یاد تو آجاتا ہے اپنی ساری غلطیاں سمجھ میں آجاتی ہیں لیکن زندگی کے آخری کنارے پر پہنچ کر جب ہر شخص ہاتھ ملتا ہے سب کووقت کی قدر ہوجاتی ہے۔ سب کو سجدوں سے پیار ہوجاتا ہے۔ ہر کوئی خدا سے عشق کرنے لگتا ہے۔ہر شخص کو دنیاوی زندگی مقام فنا نظر آتی ہے۔ اس وقت تو ہر کوئی موت کے اٹل فیصلے پر سر جھکالیتا ہے۔ لیکن اس وقت بہت دیر ہوجاتی ہے زندگی بوڑھی ہوجاتی ہے اور اس کے جھری زدہ ہاتھوں سے موت کا قوی ہیکل دیو انسان کو جھپٹنے لگتا ہے اور زنجیریں جکڑ دی جاتی ہیں۔
پھر یہ ہر انسان کا مقدر کہ اسے کلمہ بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔ آخر وقت میں زندگی کے لمحوں میں سے زہے نصیب کہ کوئی لمحہ اچھائی کا مل جائے تو…وہ اندھیرے میں روشنی کا کام دیتا ہے۔ ورنہ ہماری غفلت ہمارا غرور ہوس اور اکڑ کے طنطنے ہمیں لے ڈوبتے ہیں۔
وہ بھی اس وقت زندگی کے آخری کنارے پر تھا اور اسے دنیا سے محبت کا جرم یاد آگیا تھا۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ دنیافریب ہے۔ ایک سراب جس کے پیچھے وہ اندھا دھند بھاگتا آیا مگر وہ ہاتھ نہ آسکی۔ بلکہ بنا محسوس ہوئے ہاتھوں سے تیزی سے پھسلتی رہی کسی ریشم کے خوشنما دھاگے کی طرح۔ کسی صحرا میں موجود اس پیاسے کی طرح جس کے ہاتھ میں پانی کے چند قطرے ہوتے ہیں اور جنہیں نوش کرنے کی حرست ہی رہ جاتی ہے بند مٹھی میں دب ریت کی طرح ہوتے ہیں جو پھسلتی جاتی ہے۔ اس کے سینے کا مسلسل درد اب اور بھی بڑھ گیا تھا۔ اسے لگا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہو‘ سانس اکھڑ رہی ہو۔ سینے پر پچھتائوں کا بوجھ تھا اپنی زندگی کے چالیس سال اس نے دھن دولت کی ہوس‘ جھوٹی انا اور عزت کے پیچھے بھاگ بھاگ کر نیلام کردیئے تھے اور پھر وقت نے اسے بستر سے لگا دیا۔ اس کے دل کو درد کے طوفانوں سے بھردیا۔ دیوانگی کے بعد فرزانگی دے دی۔ حواس واپس کردیئے اور اب وقت اسے زندگی کی سرحد سے اس پار دھکیل کر آگے بڑھنا چاہتا تھااس کے دامن میں اچھائیاں تھیں مگر شاید نیکیاں نہیں تھیں۔ فرض کے قرض تھے مگر شکر بھی موجود تھا۔ چند فرائض کی ادائیگی تھی لیکن عبادت نہیں تھی۔ المختصر توشہ آخرت میں خلا نہیں تھا تو لبالب بھرا کاسہ بھی نہیں تھا۔ یا شاید اس کی نظروں سے پوشیدہ بہت سی نیکیاں تھیں۔
اب اس کی قسمت کہ اسے کلمہ بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ سوچ کر وہ وہ درد سے تڑپنے لگا۔
’’ میرے اللہ مجھے معاف کردے‘‘ اس کے دل سے ایک ہوک اٹھی اور بے شک بنا سجدوں کو ادا کیے زندگی گزارنے والے کے اندر بسے مسلمان انسان نے توبہ کرلی تھی اور اس شخص کی زبان کے آخری الفاظ کل کائنات سے بھی زیادہ بھاری اور بڑے تھے اور یہ ہی اﷲ کو پسند آگئے تھے۔ وہ آنکھیں موندے آخری کنارے سے آخری قدم بھی اٹھا گیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close