Hijaab Apr-18

شب آرزو تیری چاہ میں

نائلہ طارق

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
دراج زنائشہ کے سامان کے ساتھ اس میں موبائل بھی چھپا دیتی ہے اور یہ بات زنائشہ سے رابطہ ہونے پر اسے بتا بھی دیتی ہے ساتھ ہی اسے گھر سے بھاگنے کے مشورے بھی دیتی ہے۔ زنائشہ دراج سے بات کرنے کے بعد عرش سے اپنے سامان کے حوالے سے پوچھتی ہے تب عرش اسے سامان کے حوالے سے بتاتا اس کے بیگ میں سے ملنے والے موبائل کو ضبط کرنے کا بھی بتا دیتا ہے جس پر زنائشہ مزید عرش سے بد ظن ہوجاتی ہے۔
سحر شہرام سے دراج اور زرکاش کے حوالے سے بات کرتی ہے اسے ان دونوں کا تنہا فلیٹ پر رہنا کھٹکتا ہے جس پر شہرام اسے زرکاش اور دراج کی رشتے داری کا بتاتا مطمئن کرنے کی سعی کرتا ہے لیکن سحر شہرام سے زرکاش سے بات کرنے اور اسے سمجھانے کا کہتی ہے کہ وہ بغیر نکاح کے دراج کو فلیٹ پر لے کر نہیں آیا کرے۔
زنائشہ دراج کے بہکاوے میں آکر عرش کو زخمی کرتی گھر سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن گیٹ پر کرنٹ لگنے کے باعث بے ہوش ہو کر زمین پر گرجاتی ہے عرش اسے کمرے میں لیٹا دیتا ہے ہوش میں آتے ہی زنائشہ رونے لگ جاتی ہے وہ ہر صورت یہاں سے فرار چاہتی ہے تب عرش اسے ڈاکٹر کے آنے کی اطلاع دیتا ہے اسے مزید طیش دلا جاتا ہے جس پر زنائشہ اپنا چیک کرانے سے انکاری ہوجاتی ہے۔
دراج زرکاش سے الجھتی اپنا رابطہ زنائشہ سے ناہونے پر اسے قصور وار ٹھہراتی جاتی ہے ساتھ ہی عرش کو بھی دھوکے باز قرار دیتی زرکاش کو غصہ دلا جاتی ہے زرکاش اپنی بات کرنے کا کہتا غصہ کا اظہار کرتا ہے جس پر دراج اس سے شادی کے حوالے سے بات کرتی ہے زرکاش اپنے گھر والوںکا رویہ بتا کر خود مزید پریشان ہوجاتا ہے جس پر دراج اسے کورٹ میرج کا مشورہ دیتی حیران کرجاتی ہے۔
رجاب چاہ کر بھی اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کو نہیں بھول پا تی ہے اور اس بات کا انکشاف وہ زرق کے سامنے کرجاتی ہے کہ وہ اس شخص سے ہر صورت انتقام لے گی جس نے اسے اس حال میں پہنچایا تھا زرق تصدیق کے طور پر حاذق کا نام لیتا ہے اسے مزید اذیت میں مبتلا کرجاتا ہے رجاب حاذق کو معاف کرنے کا بتاتی اس شخص کی نشاندہی کرتی ہے جس نے رجاب کا چہرہ بگاڑا تھاہے وہ یہ بات راسب اور پولیس والوں سے بھی چھپا گئی تھیہے عرش کو اپنی ٹریننگ کے سلسلے میں جانا ہوتا ہے ایسے میں زنائشہ کو تنہا چھوڑنے پر اس کا دل آمدہ نہیں ہو تا تب وہ سحر پر بھروسہ کرنے کا سوچتا اسے تمام صورت حال بتانے کا خود سے ارادہ کرتا ہے۔
سحر کو عرش کی فکر لاحق ہوتی ہے وہ کافی دن سے گھر بھی نہیں آیا ہوتا ہے تب وہ اپنے بھائی امام سے عرش کے حوالے سے پوچھتی اسے گیراج جا کر معاملات پتا کرنے کا کہتی اسے بھی فکر میں ڈال دیتی ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
,… ٭…؛
ایک عام آئینہ انسان کو اس کاعکس‘اس کاچہرہ حقیقت سے کچھ زیادہ آگے بڑھ کر اچھااور خوب صورت دکھاسکتاہے‘ ضرورت یاخواہش کے تحت صبح‘ شام یہ آئینہ دیکھا جاتا ہے‘ مگر ایک آئینہ ایسابھی ہے جسے عام طور پر دیکھنے کی خواہش یا ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی یا پھر یہ کہنا چاہیے کہ اس آئینے کا سامنا ہی کوئی نہیں کرنا چاہتا… اور یہ وہ آئینہ ہے جو وقت دکھاتاہے‘ جوانسان کوکسی بھی رعایت کے بغیر اسے اس کا سچااور کھرا چہرہ دکھاتاہے‘وہ چہرہ بہت خوب صورت بھی ہوسکتا ہے اور بہت کریہہ بھی۔ یہ وہ چہرہ ہوتاہے جوانسان نے خود کمایا ہوتاہے‘ خود تراشا ہوتا ہے‘ وہ کیا کچھ بوتارہاہے اپنے لیے‘ دوسروں کے لیے سب کچھ وقت کاآئینہ دکھادیتاہے نہ صرف یہ‘ بلکہ یہ بھی کہ اب آگے اسے اپنے اعمال کے مطابق پھول چننے ہیں یا کانٹے …وقت کے آئینے میں اپنا آپ دیکھنا کبھی کبھی ناقابل قبول بھی ہوتا ہے مگر آئینہ تو دیکھنا ہی پڑتا ہے‘ زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں وقت یہ آئینہ خود ہی سامنے لے آتا ہے۔
جانے یہ کیسی اعصابی تھکن تھی جو صبح سے ہی طاری تھی‘ آفس میں جیسے تیسے وقت گزار کر وہ سیدھا جم چلاگیاتھا مگر وہاں بھی اس کادل نہ لگا‘ پہلے سوچا کہ گھرجانے کے بجائے سیدھا شوروم چلاجائے مگر اسے شہرام کی تاکید یاد تھی جو انہوں نے عرش کوبھی کردی تھی‘ آج ان کے دوست اپنی فیملی کے ساتھ گھر آنے والے تھے‘شہرام چاہتے تھے کہ ان دونوں کا تعارف بھی وہ اپنے دوست سے کروائیں یقینا یہ کوئی خاص دوست تھے‘ حکم عدولی کی گنجائش ہی نہیں تھی‘ وہ نہیں جانتا تھا کہ عرش کے لیے آنا ممکن نہیں تھا مگر اس کاموڈ بالکل نہیں تھا‘ وہ بس چینج کرکے شوروم چلا جاناچاہتاتھا‘ اسے لگا تھا کہ سرشام تو شہرام کے مہمانوں کی آمد نہیں ہوسکتی مگر اس کااندازہ غلط ثابت ہواتھا‘ غنیمت تھا کہ گیٹ کھلاہوا ملا‘ اندرداخل ہوتے ہی ڈرائنگ روم سے ابھرتی آوازوں اور لائونج میں حسن اور حسین کے ساتھ کھیلتی ان دونوں کی ہم عمر بچی کو دیکھ کراسے اطلاع مل گئی تھی کہ مہمان گھر میں موجود ہیں‘ خاموشی سے وہ اپنے کمرے میں چلاگیاتھا۔‘ وارڈروب کی طر ف جاتے ہوئے اس کی نظر ٹیرس کی طرف کھلتے دروازے کی سمت اٹھی تھی‘ ٹیرس کادروازہ مکمل کھولتا وہ باہر نکلاتھا‘ سامنے وہ جو بھی تھی‘ خوش رنگ لباس سے زیادہ اپنی خوش قامتی کے ساتھ ٹیرس کی بائونڈری گرل پربازو ٹکائے کھڑی شاید اس خوب صورت موسم اور ہلکی پھوار کو انجوائے کررہی تھی‘ دوسری نگاہ اس نے سامنے والے ٹیرس پرڈالی جہاں کرسی پربراجمان رجاء اپنے فون میں مصروف تھی مگر شقران کودیکھتے ہی اس نے اشارے سے اس اجنبی لڑکی کے بارے میں پوچھا تھا‘وہ کیا جواب دیتا سولاعلمی سے شانے اچکا کر واپس کمرے میں جانے کاارادہ کیا ہی تھا کہ تب ہی وہ لڑکی اپنے عقب میں کسی کی موجودگی کااحساس ہوتے ہی چونک کر پلٹی تھی‘ اس کے چہرے کودیکھتے ہوئے شقران کے قدم زمین نے جکڑ لیے تھے‘ وہ لڑکی اب مکمل طور پر متوجہ تھی شاید اس کی نظروں سے بھی شقران کا متغیر ہو اچہرہ چھپا نہیں رہ سکا تھا۔اپنے شانوں پر ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے وہ دو قدم پیچھے ہٹاتھااور پھر سرعت سے کمرے سے ہی نہیں گھر سے بھی نکلتا چلاگیاتھا۔ پہلی کال اس نے عرش کو کی تھی۔
’’میں تمہارے گھر پہنچ رہاہوں‘ تم جہاں کہیں بھی ہو فوراً وہاں پہنچو…‘‘
’’شقران؛ ہواکیاہے‘ تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ اس کے لرزتے لہجے نے عرش کوتشویش میں ڈالاتھا۔
’’مجھ سے ابھی کوئی سوال مت کرو‘ بتائو تم کہاں ہو؟‘‘شقران تقریباً چیخا تھا۔
’’ابھی بھائی کی کال آئی ہے‘ناراض ہو رہے تھے کہ نہ تم ان کے دوست سے ملنے پہنچے ہونہ میں‘ مجھے وہاں زیادہ وقت نہیں لگے گا‘ تم گیراج پہنچو میں واپسی میں تمہیں پک کرلوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں گیراج پہنچ رہاہوں۔‘‘ لائن ڈسکنیکٹ کرنے کے بعد اس نے ایک پل کے لیے کچھ سوچااور پھررجاء سے رابطہ کیاتھا۔
’’رجاء‘ تمہیں میرا ایک کام کرناہے‘ کوئی سوال مت کرنا پہلے یہ بتائو وہ لڑکی ابھی ٹیرس پر ہی موجود ہے ؟‘‘
’’ہاں‘ موجود ہے۔‘‘ حیران ہوتی وہ بولی تھی۔
’’تمہیں بہت احتیاط سے ابھی اس لڑکی کے چہرے کی کم از کم ایک کلیئر تصویر مجھے بھیجنی ہے۔‘‘
’’شقران! تم سنجیدہ ہو؟‘‘ وہ دنگ ہو کر پوچھ رہی تھی۔
’’رجاء‘ یہ بہت ضروری ہے‘ میں اس کی وجہ بھی تمہیں بتادوں گا مگر پلیز ابھی یہ کام فوری طور پر کردو۔‘‘
’’اچھاٹھیک ہے فون بند کرو‘ ایسا نہ ہو وہ ٹیرس سے چلی جائے۔‘‘ شقران کی سنجیدگی کومحسوس کرتی وہ بولی تھی۔
,… ٭…؛
اپارٹمنٹ تک وہ آنا نہیں چاہتی تھی‘ مگر زنائشہ کے بغیر ہاسٹل کے کمرے کی دیواریں اسے کاٹ کھانے کے لیے دوڑ رہی تھیں‘ تنہائی میں اس کی بیزاری اور بے چینی اور بڑھ رہی تھی‘ اسے اندازہ ہوگیاتھا کہ زنائشہ نے فرار کی کوشش ضرور کی ہوگی مگر کامیاب نہ ہوئی‘ فون پررابطہ بھی اب ناممکن لگ رہاتھا‘ اسے سمجھ نہیں آرہاتھا کہ اسے اب کیا کرنا چاہیے‘ زرکاش نے پہلی باراسے بری طرح مایوس کیاتھا‘ جس کی امید اسے نہیں تھی‘ وہ اب اس سے زنائشہ کے معاملے پر بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر ہاتھ پرہاتھ رکھے بھی نہیں بیٹھ سکتی تھی‘ وہ خودزنائشہ تک کس طرح پہنچ سکتی ہے یہ سوچنے کے لیے اسے اپارٹمنٹ آنا بہتر لگاتھا‘ زنائشہ کے ہاسٹل سے جانے کے بعد ویسے بھی ہاسٹل کے ماحول میں گھٹن محسوس ہوتی تھی‘ ایک ایک لمحہ وہاں وہ جبراً گزاررہی تھی‘ اپارٹمنٹ پہنچ کر بھی اس نے زرکاش کو اپنے وہاں موجود ہونے کی اطلاع نہیں دی تھی‘ بغیر کسی مداخلت کے اسے خاموشی سے بیٹھ کرزنائشہ تک جلد از جلد پہنچنے کاراستہ نکالناتھا‘ بہت سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیاتھا کہ کل صبح ہی وہ گیراج جائے گی اور جب تک عرش اسے زنائشہ سے ملوانے کے لیے راضی نہیں ہوگا وہ گیراج سے نکلے گی ہی نہیں‘ اس کے علاوہ کچھ اور وہ کربھی نہیں سکتی تھی‘ اس نے اب تک زنائشہ کی گمشدگی سے رائمہ کو بے خبر ہی رکھاتھا‘ شام ہو چکی تھی اوراب اسے جلد از جلد رائمہ کی طرف جاناتھا‘ سیڑھیاں اترتے ہوئے اس نے یونہی ریلنگ سے نیچے دیکھاتھا‘ کوئی بہت تیزی سے اسٹیپس طے کرتااوپر آرہاتھا‘ اس شخص کو دیکھتے ہوئے دراج کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں‘ سیڑھیوں پر سانس روکے کھڑی وہ اسے دیکھ رہی تھی جو کوریڈور میں آتابائیں جانب مڑگیاتھا‘ شاک سے نکلتی وہ احتیاطاً آدھاچہرہ چادر سے چھپائے تیزی سے بقیہ اسٹیپس اترتی وہیں رکی سامنے دیکھ رہی تھی‘ وہ شخص جس اپارٹمنٹ میں داخل ہو رہاتھا‘ دراج جانتی تھی کہ وہاں شہرام کی فیملی رہائش پذیر ہے مگر اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ عرش سے ان کاکیا تعلق ہے… سامنے والے اپارٹمنٹ کے بند دروازے کودیکھتے ہوئے اسے یکایک سمجھ آنے لگا تھا کہ زرکاش کیوں عرش کی طرف سے مطمئن ہے کیوں وہ اس معاملے کو بہت لائٹ لے رہاہے کیوں وہ چاہتاتھا کہ دراج‘ عرش سے نہ ملے‘ اسے یقین تھا کہ زرکاش پہلے سے عرش کوجانتا ہے یا کم از کم یہ ضرور جانتا ہے کہ وہ شہرام سے تعلق رکھتا ہے مگر اسے یہ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ زرکاش نے یہ سچ اس سے کیوں چھپایا…؟ اس وقت اس کافوکس صرف زنائشہ تھی‘ قدرت کی طرف سے راستہ اسے مل گیاتھا‘ اسے اب کل صبح کاانتظار کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی‘ جوکرناتھا آج ہی کرناتھا اور جلد از جلد کرناتھا مگر بہت عجلت میںمعاملہ بگڑ بھی سکتا تھا‘ شہرام کے گھر میں ابھی عرش موجود ہے جبکہ وہ عرش کی غیر موجودگی میں شہرام سے ملنا چاہتی تھی‘ تیز قدموں سے مین گیٹ کی سمت بڑھتے ہوئے اس نے اپنی رسٹ واچ میں وقت دیکھا‘ سات بج رہے تھے‘ اسے دو تین گھنٹے بعد یہاں واپس آنا بہتر لگا‘ اسے امید تھی کہ تب تک عرش جاچکاہوگا اور رائمہ کی طرف اس کا اپنا وقت بھی جلد گزر جائے گا۔
,… ٭…؛
بیڈ پرگھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے گہری سوچ کے درمیان ایک بار پھر اپنے فو ن کودیکھاتھا‘ اس نے کئی بارچاہا تھا کہ فون آن کرکے دراج سے بات کرے اوراسے بتادے کہ اب وہ اس گھر کوچھوڑکر کہیں نہیں جانا چاہتی‘ جس شخص کی وجہ سے چھے سال تک دن‘رات اس کا دل لہو‘لہو ہوتارہاہے‘ اس شخص سے فرار ہو کر‘ جان چھڑا کر وہ اب کہاں جاسکتی ہے…؟ حقیقت سے کوئی کب تک جان چھڑا سکتاہے…؟ فرار ہونااتنا آسان ہوتاتو سارے راستے تو ابھی بھی کھلے تھے اس کے لیے … مگر اس گھر سے‘ عرش سے دور بھاگ کر‘ اس سے ہرتعلق توڑ کر خود اسے کیا حاصل ہوسکے گا…؟ وہی زندگی جو پچھلے چھ سالوں سے گزارتی وہ ہلکان ہوچکی تھی‘ عرش آخر کب تک اسے راضی کرنے کی کوشش کرتا رہے گا…؟ کب تک اس کی ضد کے سامنے اپنی انا‘ اپنے وقار کو جھکاتا رہے گا؟ چھ سال ایک دوسرے سے جدا اور بے خبر جس کرب میں بھی گزرے مگر گزر گئے‘ زندہ وہ بھی ہے اور زندہ عرش بھی رہاہے‘ تو کیا اب اپنی مرضی سے الگ ہونے کے بعد کیا وہ جیناچھوڑ دے گا…؟ وہ کسی خوش فہمی میںمبتلا ہوئے بغیر حقیقت کی نظر سے حالات کی جانچ پڑتال کر رہی تھی‘ وہ جانتی تھی کہ وہ اگرپتھر بنی رہی تو ایک نہ ایک دن عرش تنگ آکر اسے اس کے حال پر چھوڑ دے گا‘ چند الفاظ کہہ کرسب کچھ ختم کردے گا‘ اس گھرکے دروازے اس پربند کردے گا اور پھر… اپنے دل اور اپنے گھر پر حکمرانی کرنے کے لیے کسی دوسری عورت کو زندگی میں لے آئے گا‘ اوروہ خود کہاں جائے گی…؟ اسی ہاسٹل کے ایک کمرے میں‘جہاں ہردن زندہ رہنے کی مشقت میں اور ہررات تکیے میں سسکیاں دباتے ہوئے گزرے گی‘ ایک بار پھروہ مشین بن کر رہ جائے گی‘ دراج کے پاس اس کی فکر کرنے والے محبت کرنے والے بہت سے رشتے تھے‘ سب سے بڑھ کر اس کی زندگی میں زرکاش تھاجو کسی بھی دن اسے ہمیشہ کے لیے ہاسٹل سے لے جائے گا‘ دراج اس کی طرح تنہا اور محروم نہیں تھی‘ دراج اور زرکاش اسے کب تک سہارا دے سکیں گے‘ وہ دونوں کبھی نہ کبھی تواپنی ایک نئی زندگی شروع کریں گے‘ اپنے درمیان وہ اسے کیونکر مسلط کریں گے‘ خود اس کی خودداری بھی یہ نہیں گوارا کرے گی لیکن تنہا زندگی کاسامنا ساری عمر کرنا آسان نہ تھا… آج اگر وہ اپنی پاکدامنی کے گھمنڈ میں عرش سے منہ پھیر کرچلی بھی جاتی ہے تو کون ایسا شخص ہوگا اس دنیا میں جو اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا‘ کوئی مرد اس جیسی تن تنہا لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہے گا جس کے آج اور کل کے بارے میں وہ شکوک وشبہات رکھتاہو… اور خود وہ بھی کسی پر بھروسہ کرنے کے قابل کہاں تھی… نہ خاندان‘ نہ کوئی خونی رشتہ‘نہ حسن ودولت کچھ بھی تو ا س کے پاس ایسا نہ تھا جس پہ وہ فخر کرسکتی… عرش کو اس سے لاکھ درجے بہتر اورخوب صورت عورت مل سکتی تھی‘ اس کے ساتھ اس گھر کی چھت کے نیچے وہ اب تک جتنا وقت بھی گزار چکی ہے اسے جانچنے کے بعد اسے احساس ہوگیاتھا کہ کوئی بھی اچھی عورت آنکھیں بند کرکے ساری زندگی کے لیے عرش پر اعتبار کرسکتی ہے مگر ایک عرش کے علاوہ کوئی اسے سرآنکھوں پر بٹھا کر نہیں رکھے گا… قدرت نے اسے یونہی نوازناتھا‘ زندگی اسے بہت کچھ واپس لوٹا رہی تھی اور اسے قبول کرنے سے انکار کرکے وہ خود پر ظلم نہیں کرسکتی تھی‘ سچ تو یہ تھا کہ وہ عرش کو دوبارہ کھونا نہیں چاہتی تھی‘ اس گھر سے دستبردارہونا نہیں چاہتی تھی‘ اس گھر میں گزرنے والا وقت گزری تمام صعوتوں پر غالب آگیاتھا‘ اسے یاد آگیا تھا کہ عرش سے اس کاکتنامضبوط اور مقدس تعلق ہے جس سے وہ اب نظر نہیں چراسکتی تھی… یہ سب وہ دراج کوفون پر نہیں سمجھا سکتی تھی‘ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ خود عرش کے ساتھ جاکر دراج کو یہاں لائے گی‘ اس گھر میں جو اس کااپناتھا‘ وہ بیڈ سے اترتی تیزی سے گلاس ونڈو تک آئی تھی‘ ذر اپردہ ہٹاکرباہر دیکھا عرش کے ساتھ گاڑی میں کوئی اور بھی موجود تھا‘ پر دہ چھوڑ کر وہ تیز قدموں سے باہر ہال کے گیٹ تک آئی تھی۔
,… ٭…؛
اسٹڈی روم میں اس وقت ماحول بہت گھمبیر تھا‘ شقران کا فون تھامے وہ بغوراس لڑکی کی تصویر دیکھ رہاتھا جسے شہرام کے تعارف کروانے کے دوران سرسری نظر سے دیکھاتھا‘شقران نے فون پر اسے معاملے کی نوعیت اور سنگینی سے آگاہ کیا ہوتا تو بھی وہ اس لڑکی کے سامنے بیٹھ کراس کے چہرے کے ساتھ پیش آئے حادثے کی تفصیلات نہیں پوچھ سکتاتھا مگر شقران جو کچھ کہہ رہاتھا اس پریقین کرنے کے لیے اس کا دل بھی نہیں مان رہاتھا۔
’’عرش! میری آنکھوں نے کوئی دھوکہ نہیں کھایا ہے‘ وہ وہی تھی‘ میرے سامنے مجسم حقیقت بنی موجود تھی‘ اورمیں…‘‘ لرزتے لہجے میں شقران بات مکمل نہیں کرسکاتھا‘ اس کارنگ ابھی تک خوف سے زرد تھا ا‘ اس کی کیفیت کوعرش بخوبی سمجھ سکتاتھا۔
’’میں اسے دیکھ رہاتھا‘ اسے پہچان رہاتھا‘ اسے پہچاننے میں غلطی کم از کم میں نہیں کرسکتا…‘‘
’’شقران! تمہار ایہ کہنا اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر غلطی کی گنجائش ہوبھی تو سکتی ہے‘ اتنے عرصے بعد آج اچانک وہ تمہارے سامنے… تمہارے ہی گھر میں… یہ کوئی مشا اور تمہارے وہم کامعاملہ بھی توہوسکتا ہے۔‘‘
’’یہ مشابہت آج سے پہلے مجھے کسی چہرے میں کیوں نظر نہ آئی ؟ یہ وہم ہے تو اس میں آج ہی میںکیوں مبتلا ہوا؟‘‘
’’یہ میرا وہم نہیں ہے عرش… وہ حقیقت بن کر میری آنکھوں کے سامنے تھی‘ اس کاچہرہ اس حقیقت کا ثبوت ہے‘ جوچہرہ مجھے راتوں میں نیند سے بیدار کردیتا ہے‘ اسے پہچاننے میں غلطی میں کرہی نہیں سکتا۔‘‘ شقران اپنے لفظوں پر زور دیتا بولاتھا۔
’’جب بھائی میر اتعارف اپنے دوست راسب سے کروارہے تھے تو سب کے درمیان وہ بھی موجود تھی نارمل دکھائی دے رہی تھی‘ جوکچھ تم بتارہے ہو اس حساب سے مجھے اس کے رویے یاتاثرات سے کوئی غیر معمولی چیز محسوس نہیں ہوئی تھی… وہ بھائی کے دوست کی بہن ہے‘ بھابی نے اسے رجاب کہہ کر مخاطب کیاتھا۔‘‘عرش اسے تفصیل بتارہاتھا۔
’’تمہیں کیالگتا ہے‘ کیااس نے بھی تمہیںپہچان لیا ہوگا؟‘‘
’’اسے پہچاننے کے بعد میں چند منٹ بھی اس کاسامنا کرنے کے قابل نہیںرہاتھا‘ میں نہیں جانتا کہ اس نے مجھے پہچانایانہیں‘ یہ تو آنے والا وقت بتائے گامگر اس کی آنکھوں میں جو چہرہ مجھے دکھائی دیا وہ میرا ہی تھا‘ میں بس اتنا جانتاہوں۔‘‘ شقران کے لہجے اور چہرے کے تاثرات میںشدید اضطراب تھا۔’’میں نے کئی بار اس کے سامنے آجانے کی دعا کی تھی‘انجانے خوف اوراپنے انجام سے باخبر ہونے کے باوجود میری نظروں نے ہر دن اس کے چہرے کو تلاش کیا تھا… آ ج ایک طویل عرصے بعد اس کاچہرہ دیکھتے ہوئے مجھے پھر اپنا وجود زمین میں دھنسا محسوس ہو رہاہے… میں نے کتنا بھیانک اور ناقابل تلافی نقصان کرڈالاہے‘ اس کا شدت سے احساس مجھے آج اس کاچہرہ دیکھنے کے بعد ہواہے‘ تم بھی تو دیکھ رہے ہو‘ تم بھی مجھ سے نفرت کرو‘ بہتر ہوگا کہ اپنے ہاتھوں سے مجھے منوں مٹی تلے دبادو…‘‘ اس کی سرخ آنکھوں اور چہرے پر پھیلی اذیت نے عرش کو دھچکا پہنچایا تھا‘ وہ اس کا بہترین دوست تھا غم گسار تھا‘ ہمیشہ وہ دونوں ایک دوسرے کو جذباتی سہار ادیتے رہے تھے‘ ایک دوسرے کی ہمت وحوصلہ بڑھاتے رہے تھے۔
’’شقران! خود کومضبوط رکھو اگر اس نے تمہیں نہیںپہچانا تو بھی تمہیں خود اپنی پہچان کروانی ہے‘ قدرت نے تمہیں یہ موقع دیاہے‘ پچھتاوئوں سے نکلنے کا‘ تلافی کرنے کا… اب تک تمہاری نظریں اسے ڈھونڈتی رہی ہیں‘ تمہاری دعائیں قبول ہوئی ہیں تو اب حوصلہ بھی رکھو‘ بس یہ یاد رکھو وہ معاف کرے یا سزاسنائے‘ اس کا سامنا تمہیں کرناہے اور صرف تم کیوں ؟میں تمہارے ساتھ ہوں‘ تم تنہا بالکل نہیں ہو‘ جو بھی حالات سامنے آئیں گے ہم مل کر اس کاسامنا کریں گے۔‘‘ عرش نے اسے تسلی دینے کی بھرپور کوشش کی تھی‘ جوسرہاتھوں میں تھامے بیٹھاتھا۔
,… ٭…؛
ہال سے کمرے اور کمرے سے ہال کے چکر لگاتی وہ عرش کاہی انتظار کرہی تھی‘ جانے وہ کیا کچھ بتانا چاہتاتھا‘ یقینااہم باتیں ہوں گی جووہ آکر کرنے والا ہے…اسی بارے میں سوچتے ہوئے طرح طرح کے وسوسے دل و دماغ میں سراٹھاتے اسے بے چینی میں مبتلا کررہے تھے‘ اس بے چینی سے نجات اور دھیان ہٹانے کے لیے اسٹڈی کی طرف بڑھی تھی‘ مگر پھر یونہی درمیان میں رکتی ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئی‘ ایک ایک کرکے اس نے تمام لائٹیس آن کردی تھیں‘ سینٹرل ٹیبل کے پاس رکتے اس کی نظریں مغربی دیوار پر سجی تصویر پرٹھہر گئی تھی جس میں عرش نے اپنے بازو پر لپٹے گہری نیند سوئے نوزائیدہ بچے کو سینے سے لگا رکھاتھا‘ ایک چھوٹا سا نوعمر بچہ عرش کے گھٹنے پر چہرہ ٹکائے بیٹھا تھا جبکہ اس کے ہی جیسا ایک اور بچہ عرش کی پشت پر اس کی گردن میں بازو حمائل کیے موجود تھا‘ نوزائیدہ بچے کے علاوہ ان سب کے مسکراتے چہروں پرشوخی اور شرارت چمک رہی تھی۔ ان سب میں سے کسی ایک کے چہرے سے بھی نظر ہٹانا مشکل تھا‘ فوٹو گرافر کی مہارت نے اس تصویر کو خوب صورت پوسٹر میں بدل دیاتھا‘ سناٹے میں گھری وہ اس تصویر کے مزید قریب گئی‘ جانے کتنی دیر تک اس کی آنکھیں ان بچوں کے خدوخال کو جانچتی رہی تھیں۔
عرش واپس گھر آیا تو زنائشہ کو گلاس ونڈو کے پاس کھڑا دیکھ کر حیران ہوا یقینااس کی آمد سے انجان بھی نہیں تھی۔
’’زنائشہ …‘‘
’’مجھے اس وقت نہ کوئی بات کرنی ہے نہ سنی ہے۔‘‘ رخ پھیرے لرزتے لہجے میں بولتی وہ اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی مگر عرش اپنی جگہ رک نہیں سکاتھا۔
’’تمہیں کیا ہوا ہے مجھے بتائو؟‘‘
’’میں کو ئی بات نہیں کرنا چاہتی‘ تم باہر جائو۔‘‘
’’تم کہوگی تو میں ساری رات گیٹ پر گزار دوں گا مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے‘اچانک کیاہواہے تمہیں؟‘‘ شدید پریشان ہو کر وہ بولتااس لمحے خاموش ہواجب زنائشہ نے اس کی جانب رخ کیاتھا۔
’’میں جانتی ہوں تم مجھ سے کیا بات کرنے والے ہو۔‘‘
’’تم کیا جانتی ہو؟ میں یہ جانناچاہتاہوں۔‘‘دنگ نظروں سے اس کی سرخ سوجی آنکھوں اور ستے چہرے کو دیکھتا وہ بولاتھا۔
’’یہی کہ کوئی تو وجوہات ہوں گی جن کے تحت تم شادی کرچکے ہو اور تمہارے بچے بھی ہیں پھر بھی اس گھر کو میرے حوالے کرکے تم نے کتنابڑا احسان کیا ہے مجھ پر…‘‘
’’تم کس شادی اور کن بچوں کی بات کررہی ہو؟‘‘ ہک دک نظروں سے عرش اسے دیکھ رہاتھا‘ جو اس کے سامنے سے ہٹتی بیڈ کے کنارے جابیٹھی تھی۔
’’تمہاری شادی اور تمہارے بچوں کی بات کررہی ہوں۔ وہی تینوں بچے جو تمہارے ساتھ اس تصویر میں ہیں۔‘‘ سرجھکائے وہ گھٹی آواز میں بولی تھی جبکہ عرش گہری سانس بھرتااس کی طرف بڑھاتھا۔
’’میں اس بارے میںکوئی بات نہیں کرناچاہتی۔‘‘ اپنے سامنے کارپٹ پر گھٹنوں ے بل بیٹھتے عرش سے نظریں چرائے وہ بمشکل ضبط کرتی بولی تھی۔
’’مجھے اس بارے میں تم سے کوئی بات کرنی بھی نہیں جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے … ڈرائنگ روم میں موجود تصویر کے بارے میں خود کڑی سے کڑی ملاکرپریشان ہونے سے بہتر تھا کہ تم دوٹوک سوال پہلے مجھ سے کرلیتیں… پتہ نہیں میںکبھی یہ اندازہ لگاسکوں گا بھی یانہیں کہ تمہاری نظر میں‘ میں کس حد تک بے اعتبار انسان ہوں۔‘‘عرش کے تاسف زدہ لہجے پر وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہوئی تھی۔
’’تمہاری نظر میں‘میں جیسابھی ہوں لیکن یہ یاد رکھنا کہ میں زندگی میں ایک بارمحبت اورایک ہی بار شادی پر ایمان رکھنے والا انسان ہوں… اور یہ دونوں کام اپنے طور پر میں کرچکاہوں۔‘‘
’’تو… تم نے کوئی دوسری شادی نہیں کی ؟‘‘ وہ پھنسی پھنسی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
’’ابھی بھی اس سوال کی ضرورت ہے ؟‘‘ جواباًسوال کرتا وہ خشمناک نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو اس کی بات سے قدرے مطمئن ہوئی تھی۔
’’تصویر میں بچے نظر آگئے‘ تین دن سے ایک مجذوب بندہ تمہارے قدموں میں بیٹھا ہے وہ نظر نہیں آیاتمہیں۔‘‘اس کے خشمگین لہجے پرزنائشہ اسے دیکھ کررہ گئی تھی۔
’’مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میری آنکھیں پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی ہیں یا پہلے سے بہتر… تم مجھے پہلے سے کئی گنا زیادہ حسین نظر آتی ہو۔‘‘ اس کی گہری نظروں پرنگاہ چراتی زنائشہ کارنگ بدلاتھا۔
’’تم شاید یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ ا س بندے کی آنکھیں ضرور خراب ہوچکی ہیں۔‘‘
دلچسپی سے اس کے سرخ چہرے کودیکھتاوہ مزید بولاتھا۔ ’’اس وقت میرے دل کی ترجمانی میرجی بہت پہلے خوب کرگئے۔
؎یاقوت کوئی ان کوکہے ہے کوئی گل برگ
ٹک ہونٹ ہلا توبھی کہ اک بات ٹھہرجائے
اس کی گہری مسکراتی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے زنائشہ نے بری طرح جھینپ کراپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پررکھ دیاتھا بے ساختہ مسکراتے ہوئے عرش نے اس کاہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹا کرگرفت میں ہی رکھاتھا‘ نظریں اس کے ہاتھ میں چمکتی انگوٹھی پر ٹھہر گئی تھیں‘ تب ہی ہارن کی تیز آواز عرش کو بری طرح چونکاگئی تھی‘ حیرت سے زنائشہ نے اس کے بدلتے تاثرات دیکھے جبکہ عرش تیزی سے ونڈو کی طرف گیاتھا‘ ہارن کی آوازپھرگونجی تھی‘ گیٹ پرگاڑی کی ہیڈ لائٹس دیکھتے ہوئے اس نے وقت ضائع کیے بغیر امام کو کال کی تھی۔
’’کیابتایاہے تم نے بھائی کو؟ ایسا کیادیکھا یہاں تم نے کہ بھائی گھر پہنچ گئے ہیں۔‘‘ بری طرح مشتعل ہو کر وہ دھاڑاتھا۔
’’عرش! میں اپنے گھر پر اپنے پیر کی تکلیف میں کراہ رہا ہوں‘ اس سے پہلے میںنے کون سی تمہاری خبریں ادھرادھرکی ہیں جو تم مجھ پر شک کررہے ہو…؟‘‘ امام الٹا اس پرناراض ہواتھا۔
’’ تمہیں بعد میں دیکھتاہوں۔‘‘ لائن ڈسکنیکٹ کرتا وہ حیران پریشان کھڑی زنائشہ کی طرف آیا تھا۔
’’میں گیٹ کھولنے جارہاہوں‘ مگر تم کمرے سے باہر مت نکلنا…‘‘ عجلت میں ہدایت دیتا وہ جاتے ہوئے رکاتھا۔
’’اور جو بھی صورتحال ہوگھبرانابالکل نہیں۔‘‘ تاکید کرتا وہ تیزی سے کمرے کی لائٹس آف کرتاباہر نکل گیاتھا‘ باہر ہارن کی آواز مسلسل بلند ہو رہی تھی‘ تاریکی میں ساکت کھڑی زنائشہ کادل انجانے خوف اور خدشات سے ڈوبتاجارہاتھا۔
,… ٭…؛
ڈور بیل کی گونج کے ساتھ گیٹ بھی مسلسل دھڑ دھڑایا جارہاتھا‘ اپنے اعصاب کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتاوہ گیٹ تک پہنچاتھا‘ پہلا چہرہ جو نظر آیا وہ اسے ششدرکرگیاتھا‘ زہریلی مسکراہٹ لبوں پر سجائے دراج سامنے تھی۔
’’کیوں… گنگ ہوگئی زبان؟ یہاں تم سے بھی بڑے بڑے عیار پڑے ہیں‘ہٹو سامنے سے۔‘‘ کاٹ دار لہجے میں غراتی وہ راستہ بناتی اندر داخل ہوئی تھی جبکہ اس کے پیچھے آتے شہرام کی آنکھوں سے ٹپکتے جلال نے عرش کو دم بخود کردیاتھا۔
’’عرش! اگر اس لڑکی کے الزامات درست ثابت ہوئے تویہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کامقام ہوگا۔‘‘ سحر سخت غصیلے لہجے میں بول کر تیز قدموں سے شہرام کے پیچھے اندر ائیں تھیں۔
’’زنائشہ…‘زناشہ کہاں ہو تم؟‘‘ دراج کی تیز بلند آواز کمرے کی تاریکی میں ساکت کھڑی زنائشہ کی سماعتوں سے ٹکراتی سب کچھ بھلا دینے کے لیے کافی تھی۔ بے اختیار تیر کی طرح بھاگتی وہ کمرے سے نکلی تھی‘ سامنے کھڑی دراج کو دیکھتی وہ ایک پل کو بے یقین رہی مگر اگلے ہی پل وہ اس سے لپٹتی اپنے آنسوئوں پر قابو نہیں رکھ سکی تھی۔
’’تم ٹھیک تو ہو‘ میں نے دیر تو نہیں کی؟ مجھے معاف کردو‘ یہ سب تمہیں میری وجہ سے برداشت کرنا پڑاہے۔‘‘ دراج رندھے لہجے میں بول رہی تھی جواباً زنائشہ بس اس کے کاندھے پر سررکھے سسک رہی تھی۔ شعلہ بار نظروں سے شہرام اب اسے دیکھ رہے تھے جونگاہ ملانے کے قابل نہ تھا۔
’’ذرا سی شرم‘ ذرا سی حیا بھی باقی رہی تھی تمہارے اندر میری آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے…؟ میری پشت پر میرے بھروسے کاخون کرتے ہوئے …؟‘‘ شہرام کی آواز پر عرش لمحے کو چونکا تھا جبکہ زنائشہ رونابھول کر دہل اٹھی تھی‘ اسے سمجھ نہیں آیاتھا کہ یہ مشتعل ہوتا شخص کون ہے جس کے سامنے عرش کے لیے نگاہ اٹھانامشکل ہو رہاہے۔
’’بھائی! میں جانتاہوں کہ میری وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے لیکن آپ پہلے میری بات سن لیں پھر…‘‘
’’مجھے اب اور کچھ نہیں سننا یہ سننے کے بعد کہ تم نے ایک لڑکی کواغواء کیا ہے‘ زبردستی اسے قید کرکے رکھاہے‘ تین دن سے تمہاری مجرمانہ کارروائیاں میری ناک کے نیچے جاری ہیں او رمیرے فرشتوں تک کوخبر نہ ہوئی۔‘‘ شہرام کے اشتعال نے اسے بات مکمل کرنے کابھی موقع نہیں دیاتھا۔
’’آپ کومجھ پر اعتبار نہیں ہے ؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں ایسا کرسکتا ہوں؟‘‘ دنگ نظروں سے عرش نے ان کے غصے میں تمتمائے چہرے کو دیکھاتھا۔
’’شہرام بھائی! اگر اس میں ذرا بھی شرم وحیا باقی ہوتی تو زنائشہ کی یہاں موجودگی اوررنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود یہ آپ سے سوال‘ جواب نہ کررہاہوتا‘شرمسار ہوتا۔‘‘ دراج درمیان میں بول اٹھی تھی۔
’’تم اپنی بکواس بند کرو۔‘‘ عرش بھڑک کراس پرغرایاتھا۔
’’بکواس نہیں کررہی تمہارے کرتوتوں کی قصیدہ خوانی کررہی ہوں اور کرتی رہوں گی۔‘‘ دراج بھی چپ نہ رہی تھی۔’’زنائشہ! دھوکہ دہی اس شخص کی سرشت ہے‘ اس نے تمہیں توکیا اپنے بھائی کوبھی نہیں بخشا‘ میں اگران کے پاس جاکر حقیقت سے آگاہ نہ کرتی تو یہ بے خبر رہتے کہ یہ شخص کیا گل کھلاچکاہے مگر یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے اسے اس کے گھروالوں کے سامنے بے نقاب کیااور پہنچ گئی تمہیں اس کی قید سے نجات دلانے۔‘‘ دراج بلند آواز میں بول رہی تھی جبکہ زنائشہ کے لیے دشوار تھا اس تمام صورتحال کوسمجھنا۔
’’سن لیا تم نے… اس سے کہیں زیادہ ذلت سمیٹتا ہوامیں یہاں تک پہنچاہوں صرف تمہاری وجہ سے۔ تم نے مجھے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔‘‘ دراج کی وجہ سے شہرام کااشتعال مزید بڑھاتھا۔
’’دراج! یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟‘‘ زنائشہ نے دراج کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے پوچھا۔
’’سب سمجھ آجائے گا۔ تم بس چلو میرے ساتھ یہاں سے۔‘‘
’’یہ کہیں نہیں جائے گی تمہارے ساتھ۔‘‘ عرش نے خونخوار نظروں سے دراج کو دیکھا تھا۔
’’میں لے کرجائوں گا اسے یہاں سے‘ مجھے روکوگے تم روک سکتے ہو مجھے تم؟‘‘ شہرام شدید طیش میں عرش سے پوچھ رہے تھے جبکہ ساکت کھڑی سحر فوراً حرکت میں آتیں زنائشہ کی طرف بڑھی تھیں۔
’’زنائشہ! تم ہمارے ساتھ چلو۔‘‘
’’نہیں۔‘‘زنائشہ کرنٹ کھا کر ان سے دورہوئی تھی۔’’میں آپ کو نہیں جانتی‘ میں یہاں سے کہیں نہیں جائوں گی۔‘‘
’’زنائشہ! تمہیں اب گھبرانے یاڈرنے کی ضرورت نہیں‘ تمہیں یہاں سے جانے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
دراج کے تسلی دینے والے انداز پر زنائشہ نے زرد پڑتے چہرے کے ساتھ ایک نگاہ عرش کودیکھاتھا‘ جو بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اگلے ہی پل وہ پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے کی طرف گئی تھی۔
’’شہرام بھائی‘ دیکھ لیا آپ نے اپنے بھائی کی سفاکی‘ کس طرح سے اس نے ایک معصوم لڑکی کو ڈرا دھمکا کررکھاہوا ہے‘ بے چاری اس کی دہشت سے زرد پڑگئی ہے۔‘‘دراج شدید غصے میں شہرام سے مخاطب ہوئی تھی۔
’’تمہیں اس معاملے میں کچھ بولنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’عرش! تمیز سے بات کرو‘ یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا۔‘‘ سحر غصے میں عرش پر برسی تھیں۔
’’اب بھی اسے تمیز وتہذیب یاد دلانے کی کسر باقی رہتی ہے؟ ساری اخلاقیات تو یہ ہمارے منہ پر مار چکاہے اور کتنے ثبوت چاہئیں تمہیں۔‘‘ شہرام الٹا سحر پربرسے تھے۔ ’’اسے کمرے سے باہر لے کرآئو‘ میں اب مزید یہاں رک کر اپنا منہ کالا نہیں کروانا چاہتا…‘‘
’’بھائی! میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے آخر آپ میری بات تو سنیں۔‘‘ عرش کے لیے مزید ضبط کرنامشکل ہواتھا۔
’’اس سے زیادہ اور غلط کام کیا کروگے تم جو یہاں میں دیکھ چکاہوں۔‘‘ شہرام قدرے بلند آواز میں بولے تھے۔
’’میں زنائشہ کو لے کر آتی ہوں۔‘‘ دراج بول کردو قدم ہی کمرے کی سمت بڑھی تھی کہ عرش جارحانہ تیوروں کے ساتھ اس کے راستے میں آیاتھا۔
’’تم کس حق سے میرے بیڈروم میں قدم رکھوگی… اپنی حد میں رہو۔
’’عرش اس سے پہلے کے شہرام غصے میں بے قابو ہوجائیں‘ چپ چاپ جاکر زنائشہ کو لے آئو۔‘‘ سحر کے دھیمی آواز میں گھرکنے پر وہ خون آشام نظروں سے دراج کو دیکھتا کمرے کی سمت بڑھ گیاتھا۔
اپنے عقب میں دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے لائٹس آن کی تھیں‘مگر زنائشہ کہیں دکھائی نہیں دی‘ اس کی متلاشی نگاہیں وارڈ روب تک جاکر وہیں ٹھہر گئی تھیں‘ ایک پل کو عرش کا دل چاہا تھا کہ کمرے کواندر سے لاک کرلے چاہے باہر کوئی قیامت ہی کیوں نہ آجائے‘ یاپھر کچھ ایسا ہوجائے کہ وہ اس کمرے سے زنائشہ کو ساتھ لے کر کہیں غائب ہوجائے مگر یہ دونوں ہی کام ناممکنات میں سے تھے۔
’’میں یہاں سے نہیں نکلوں گی‘ وہ کون لوگ ہیں میں جاننا بھی نہیں چاہتی‘ ان سب کوباہر نکالو اس گھر سے۔‘‘ وہ بہتے آنسوئوں کے درمیان بولی تھی۔
’’تم باہر آئو…‘‘
’’میں نہیں آئوں گی باہر‘ میں کسی کے ساتھ کہیں نہیں جائوں گی‘ تم باہر جائو۔‘‘عرش کاہاتھ جھٹکتی وہ وحشت سے بولی تھی۔
’’تم نے کہاتھا یہ میرا گھر ہے‘ یہاں وہی ہوگا جو میں چاہوں گی‘ میں اس گھر سے باہر قدم بھی نہیں رکھنا چاہتی۔‘‘مزاحمت کرتی وہ پھر چیخی تھی۔
’’زنائشہ! کچھ دیر کی بات ہے‘ یہ گھرتمہارا ہی ہے‘ اس گھر سے کوئی تمہیں الگ نہیں کررہا…‘‘
’’میں یقین نہیں کرنے والی‘ چھ سال تک ہمیں ایک دوسرے کے مرنے‘ جینے کی خبر تک نہ تھی‘ جب یہ ہوسکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘اس کے لرزتے لہجے پر عرش چند لمحوں تک اس کے وحشت زدہ تاثرات دیکھتا کچھ بول نہیں سکاتھا۔
’’زنائشہ! کم از کم تم تو اس مشکل وقت میں میری بات کوسننے اور سمجھنے کی کوشش کرو‘ چھ سال بعد اگر میں تمہارے سامنے زندہ سلامت موجود ہوں تو صرف اس شخص کی وجہ سے جسے باہر تم نے مجھ پر چیختے دیکھا ہے‘ ان تین دنوں میں اگر مجھے موقع ملتا تو میں سب سے پہلے تمہیں بھائی کے بارے میں بتاتا‘ تمہاری تلاش میں دن رات ایک کرنے میں وہ بھی میرے ساتھ رہے ہیں کیونکہ وہ مجھے اپنی اولاد کی طرح چاہتے ہیں‘ مجھے اذیت میں نہیں دیکھ سکتے تھے ‘ میں اس دن کے انتظار میں تھاجب تم دوبارہ مجھ پر اعتبار کرکے مجھ سے راضی ہوجاتیں اور پھر میں تمہیں اپنے ان چند عزیز اور مقدس رشتوں کی اپنی زندگی میں موجودگی کے بارے میں بتا کر تمہیں حیران کردیتامگر… اس سے پہلے ہی سارا معاملہ بگڑ گیاہے‘ صرف تمہاری اس دوست کی وجہ سے … جانے میرے بارے میں کیا کچھ غلط اس نے بھائی سے کہا ہے کہ وہ میری ایک بات تک سننے کے لیے تیار نہیں… اور پھر اچانک تمہیں یہاں دیکھ کر وہ جانے کون‘ کون سی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں… تمہاری دوست نے بہت اچھی طرح مجھے سب کی نظروں میں گرا دیاہے زنائشہ ! اب تم ہی میری مدد کرکے میری بات مان کرمجھے بھائی کی نظر میں معتبر کرسکتی ہو۔‘‘ اس کاہاتھ تھامے وہ التجائی نظروں سے اسے دیکھ رہاتھا۔
’’جس طرح تمہیں راضی کرنا میرے لیے زندگی اور موت کاسوال بناہواتھا‘ بالکل اسی طرح بھائی کامجھ سے راضی رہنا بھی میرے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے‘ وہ میرے محسن ہیں‘ ان کے بہت احسانات ہیں مجھ پر‘ میں تمہیں ان کے بارے میں جب سب کچھ بتائوں گا تو تم بھی قائل ہوجائوگی‘ بس اس وقت میری بات مان کر ان کے ساتھ چلی جائو‘ میں بھی تمہارے ساتھ ہوں‘ اب تم ہی مجھے مزید شرمساری سے بچاسکتی ہو ورنہ تمہاری دوست نے تو مجھے بھائی اور بھابی سے نظر ملانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا ہے۔‘‘عرش بمشکل بات مکمل کرسکاتھا کہ زنائشہ کے آنسو اور چہرے پر پھیلا خوف دل کومٹھی میں جکڑ رہے تھے۔
’’ان سے کہو جو بات کرنی ہے یہیں کرلیں‘ میں دراج کوبھی سمجھادوں گی…‘‘ زنائشہ نے ایک آخری کوشش کی تھی۔
’’دراج کی وجہ سے ہی تووہ تمہیں یہاں سے لے جانا چاہتے ہیں‘ وہ اس وقت بہت غصے میں ہیں‘ میں ان کے گھر جاکرہی اب کوئی بات کرسکتاہوں۔ تم بھی میری طرح خاموشی سے ان کی بات مان لوگی تو میرے لیے کچھ آسانی ہوجائے گی… تمہیں واپس میرے ساتھ گھر ہی آنا ہے۔‘‘ عرش کے کہنے پر وہ بس دھندلائی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی‘ اسے واقعی سمجھ نہیں آرہاتھا کہ اسے عرش کی بات ماننی چاہیے بھی یانہیں‘ عجیب وسوسوں میں گھری وہ عرش کے ساتھ باہر نکل آئی تھی۔
’’پریشان مت ہو زنائشہ! جو غلطی ہے‘ میری ہے‘ تم سے کسی کو شکایت نہیں‘ بھائی بھابی بہت اچھے ہیں‘ تمہارے مل جانے پر سب سے زیادہ وہی خوش ہونے والے ہیں‘ میں بھی چاہتاہوں کہ تم گھرجاکر سب سے ملو‘ تصویر میں جن بچوں کوتم نے دیکھا ہے وہ بھائی کے ہی ہیں‘ میں یہی بتانے جارہاتھا اس وقت تمہیں مگر…‘‘ خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا تھاجو اپنے آنسو خشک کرتی دروازے کی سمت بڑھ گئی تھی۔ باہر منتظر کھڑی دراج نے اسے دیکھتے ہی اس کاہاتھ پکڑاتھا اور اپنے ساتھ لے کر ہال سے نکلتی چلی گئی تھی‘ ان دونوں کے باہر جاتے ہی سحر نے پلٹ کر عرش کودیکھاتھا۔
’’آپ لوگ میری کوئی بھی بات سنے بغیر کیسے کسی کے لگائے گئے الزامات کوسچ مان سکتے ہیں؟‘‘ شہرام پہلے ہی باہر جاچکے تھے سو وہ اب کھل کر احتجاج کرسکتاتھا۔
’’اس لڑکی کے الزامات پر سرجھکانے کے لیے کیا یہ کافی نہیں کہ زنائشہ حقیقتاً تمہارے اس گھر میں موجود ہے؟تمہیں کم از کم مجھے تو بتانا چاہیے تھا‘ کیوں اس طرح چھپا کررکھاتم نے زنائشہ کو؟ حالانکہ یہ موقع تو بہت خوشی کاہونا چاہیے تھا مگر تم نے اسے کچھ کا کچھ بناڈلا ہے‘ شہرا م یونہی ہتھے سے نہیں اکھڑے ہیں‘ زنائشہ کی دوست نے جانے کون‘ کون سے الزام لگائے ہیں‘ کیا کچھ نہیں کہا ہے تمہارے خلاف… یہ توہم جانتے ہیں کہ یہاں پہنچنے تک ہم کس طرح اس کے ہاتھوں بے عزت ہوتے رہے ہیں‘ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ شہرام اتنے ضبط کامظاہرہ بھی کس طرح کررہے ہیں‘ اس لڑکی کے الزامات بہت حد تک سچ ثابت ہوچکے ہیں‘ اب تم گھر پہنچو اور اس معاملے کو سنبھالو‘ مجھے تم نے اعتماد میں لیاہی نہیں تھا سومیں تمہاری کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں۔‘‘ آخری جملے عجلت میں بولتیں سحر تیز قدموں سے وہاں سے گئی تھیں۔ اس سارے معاملے کو بگاڑنے کی ذمہ دار دراج تھی‘ زرکاش کو کال کرتے ہوئے وہ سخت اشتعال میں تھا۔
{…٭…}
ہراساں بیٹھی وہ اس بحث کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی جودراج‘ سحر اور شہرام کے درمیان چھڑی تھی۔
’’سو باتوں کی ایک بات‘ زنائشہ کو میں کسی صورت یہاں چھوڑ کر نہیں جاسکتی‘ جب یہ آپ کے بھائی سے اپنے کسی تعلق کو قبول نہیں کرتی تو آپ کیسے‘ کس حق سے اس پراپنا فیصلہ تھوپ سکتے ہیں…؟ تین دن تک یہ کس اذیت میں رہی ہے آپ لوگ اس کااندازہ بھی نہیں لگا سکتے‘ آپ زنائشہ کی فکر چھوڑیں اور اپنے شتر بے مہار بھائی کو لگامیں ڈالیں۔‘‘ دراج کے تندو تیز لب ولہجے پر شہرام خون کے گھونٹ پی رہے تھے مگر سحر مزید تحمل کامظاہرہ نہیں کرسکی تھیں۔
’’دراج! ہم مانتے ہیں کہ عرش نے غلط کیا ہے‘ زبردستی اسے زنائشہ کو گھر نہیں لے جانا چاہیے تھا مگرہم بھی کہاں اس کی طرف داری کررہے ہیں‘ تم نے جو کچھ بتایا اس کے بعد ہم نے لمحہ نہیں لگایا عرش تک پہنچ کر باز پرس کرنے میں‘ نہ ہی اس کی غلطی پر پردہ ڈالنے کی اب کوئی کوشش کررہے ہیں‘ لہٰذا تم بار بارعرش کی غلطی کومہرہ بنا کر ہماری نیت اور شرافت پر انگلی مت اٹھائو… زنائشہ قبول کرے یانہ کرے مگر عرش سے اس کا تعلق ایک حقیقت ہے‘ زنائشہ اب ہمارے گھر کی عزت ہے‘ یہ گھر عرش کاہے تو اس کابھی ہے‘ اس کایہاں رہنا ناجائز نہیں‘ جب گھرموجود ہے‘ہم موجود ہیں توہم کیوں زنائشہ کو تمہارے ساتھ ہاسٹل بھیج دیں…‘‘
’’مجھے اب اندازہ ہو رہا ہے کہ زنائشہ کو اپنے ساتھ یہاں لاکر میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘‘دراج نے سحر کی بات کاٹی تھی۔’’آپ لوگ زبردستی زنائشہ پر اپناحکم مسلط نہیں کرسکتے کیونکہ یہ آپ کے درمیان رکنا ہی نہیں چاہتی‘ جب اسے عرش سے اپنا تعلق ہی قبول نہیں تو پھر اس کے رشتے داروں سے اس کا کیا لینا دینا‘ جب وہ اسے دھوکہ دے کر فرار ہواتھا تب تو کسی کو توفیق نہ ہوئی تھی کہ پلٹ کراس بے چاری کی خبر لی جائے۔ اب سب کو اپنے حق بھی یاد آگئے اور تعلق بھی۔‘‘ دراج بگڑے تیوروں کے ساتھ بولی تھی۔
’تم سے مزید کوئی بحث کرنا بیکار ہے‘ جس معاملے کے سر پیر سے ہی تم ناواقف ہو اس پربات کرنے سے بہتر ہے کہ تم معاملات سے پہلے پوری طرح آگاہی حاصل کرلو… غلطی عرش نے کی ہے‘ اسی لیے میں بہت ضبط کے ساتھ تمہاری وہ باتیں بھی برداشت کررہاہوں جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘بہتر یہی ہے کہ عرش کے آنے تک خاموش رہا جائے‘ ویسے بھی اب یہ ہمارے گھر کامعاملہ ہے‘ زنائشہ اب ہماری ذمہ داری ہے‘ میں اس گھر کاسربراہ ہوں اور میں جانتاہوں کہ مجھے آگے کیاکرنا ہے۔‘‘ شہرام کے برہم لہجے پر وہ ناگواری سے کچھ کہتے کہتے رک کر زنائشہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی‘ اس کاچہرہ سفید پڑچکاتھا‘ اپنی کلائی پر اس کے ٹھنڈے برف ہاتھ کی گرفت سے ہی دراج کواس کی پریشانی اور گھبراہٹ کااندازہ ہو رہاتھا‘ ایک بار پھر دراج نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی تھی‘ تب ہی شقران ڈرائنگ روم میں داخل ہواتھا۔
عرش اپنے ساتھ زرکاش کو بھی ساتھ لایا تھاناکہ وہ تمام معاملات کو سنبھالتے دراج کو بھی سمجھا سکیں تاکہ وہ آئندہ ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرے۔
شہرام کے بھڑکنی پر شقران الٹے قدموں واپس نکل گیاتھا‘ چند لمحوں بعد عرش کے پیچھے ہی اندر آتے زرکاش کو دیکھتے ہوئے دراج سلگ کر صوفے سے اٹھی رتھی۔
’’اچھا… تواپنا سپورٹر تم ساتھ لے کرآئے ہو۔‘‘ کاٹ دار نظروں سے عرش کودیکھنے کے بعد وہ زرکاش کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’زرکاش! آپ پہلے ہی اس معاملے سے خود کو الگ کرچکے ہیں‘ لہٰذا آ پ درمیان میں نہ ہی آئیں تو اچھا ہے‘ یہ آپ بھی سن لیں‘ زنائشہ میرے ساتھ جانا چاہتی ہے اور میں اسے ساتھ لے کرجائوں گی…‘‘
’’زنائشہ کیاچاہتی ہے یہ میں زیادہ بہتر جانتاہوں مگر تم ایک بات سن لو کہ میں اب تمہارا کوئی بے ہودہ الزام برداشت نہیں کروں گا‘ تمہیں کوئی حق نہیں یہاں سب کو بے عزت کرنے کا۔‘‘ عرش سرخ چہرے کے ساتھ اس کی بات کاٹ کربولاتھا۔
’’میں نے تمہارے گھر والوں کے سامنے صرف سچ پرمبنی تمہارے شرمناک کارنامے بیان کیے ہیں‘ کیایہ سچ نہیں کہ تم زنائشہ کو بے ہوشی کی حالت میں لے کرفرار ہوئے تھے؟ کیایہ سچ نہیں کہ تم نے اسے زبردستی اپنے گھر میں قید رکھا‘ اس پر تشدد کیا‘ اس سے اپنے نام نہاد تعلق کاناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی…؟ نفس پرست‘دھوکے باز انسان…‘‘
’’دراج! ہوش و حواس میں رہ کربات کرو۔‘‘ زرکاش کی آواز پر وہ عرش کو گھور کر رہ گئی تھی۔
’’زرکاش! بات اگراس حد تک میرے یامیرے کسی بھائی کے کردار تک آئے گی تو بہت کچھ میں بھی کہہ سکتاہوں۔‘‘ شہرام ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔
’’کیامطلب ہے آپ کا؟‘ کہنا کیا چاہتے ہیں آپ…؟‘‘دراج نے تیز نگاہوں سے شہرام کے بپھرے چہرے کو دیکھاتھا۔
’’دراج! خاموش رہو تم… حد سے آگے مت بڑھو‘ تمہیں جوکرنا تھا تم کرچکی ہو‘ زنائشہ کے لیے مجھے عرش پر بھی بھروسہ ہے اور شہرام پر بھی… زنائشہ کیاچاہتی ہے وہ خود بتا سکتی ہے‘ تم اپنی زبان سے یہاں کسی کی دل آزاری نہیں کروگی۔‘‘ زرکاش کے سخت برہم لہجے پردراج نے زہرخند نظروں سے عرش کودیکھاتھا۔
’’ٹھیک ہے‘ میں تمہارے سارے الزامات قبول کرلوں گااگر زنائشہ ان سب کی تصدیق کردیتی ہے۔‘‘بھنچے لہجے میں عرش نے دراج سے کہاتھا او رپھر سن بیٹھی زنائشہ کی طرف متوجہ ہواتھا جو سراٹھا کر کسی جانب دیکھنے کے قابل نہ تھی۔
’’بتائو سب کو زنائشہ! میں کس حد تک گھٹیااور بدکردار ہوں؟ بتائو کہ میرے کون کون سے عتاب سے بچا کر تمہاری دوست تمہیں یہاں تک لائی ہے ؟‘‘ عرش کو اس وقت آریاپار ہونے کے لیے زنائشہ کی لب کشائی کی ضرورت تھی مگر وہ سب کی نظریں خود پر محسوس کرتی سرجھکائے بالکل جامد وساکت تھی۔
’’زنائشہ! اس طرح خاموش رہ کر تم اپنی دوست کا جھوٹا بھرم قائم رکھنے کی کوشش مت کرو… تمہیں بتانا ہوگا کہ تمہار ی یہ دوست کس حد تک مبالغہ آرائی کرکے مجھے مجرم ثابت کرنا چاہتی ہے۔‘‘ زنائشہ کی خاموشی اس وقت عرش کے لیے سخت تکلیف کاباعث بن رہی تھی۔
’’تم اسے مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ تمہاری پارسائی کی گواہیاں دیتی پھرے‘ اس کی خاموشی سب کوبتاچکی ہے کہ تم کل بھی اس کے مجرم تھے اور آج بھی ہو۔‘‘ دراج تلخ اور طنزیہ لہجے میں بولی تھی۔
’’زرکاش! یہ اب میرے گھر کامعاملہ ہے جس میں‘میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ شہرام کے سخت سپاٹ لہجے نے زرکاش کو بہت کچھ سمجھادیاتھا۔
’’شہرام! میں شرمندہ ہوں کہ آپ سب کوبہت ذہنی اذیت کاسامنا کرناپڑاہے‘ میں آپ سے معذرت کرتاہوں‘ مجھے یا کسی اور کوواقعی آپ کے گھر کے معاملات میں دخل دینے کاحق نہیں‘ عرش اور زنائشہ کے لیے آپ زیادہ بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔‘‘
’’زرکاش! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں‘ یہاں کسی کو یہ حق بھی نہیں کہ زنائشہ کے لیے فیصلے کرے۔‘‘ دراج نے بھڑک کر کہاتھا۔
’’ایک لفظ بھی اور مت کہنا‘ چلو فوراً یہاں سے۔‘‘ زرکاش کے لہجے میں سخت تنبیہہ تھی۔
’’مگر زنائشہ میرے ساتھ جانا چاہتی ہے‘ میں اسے ساتھ لیے بغیر نہیں جائوں گی۔‘‘ دراج کااحتجاج سنے بغیر زرکاش نے اس کاہاتھ پکڑا اور رکے بغیر وہاں سے نکلتاچلاگیا‘ ڈوبتے دل کے ساتھ بیٹھی زنائشہ کی نگاہ بس ایک پل کوعرش سے ملی تھی‘ ایک پل میں ہی جانے کتنا تاسف اور شکوے زنائشہ کو اس کی آنکھوں میں نظر آئے تھے۔
’’اب تم کس کی گواہی سننے کے لیے یہاں رکے ہو…؟ تمہاری وجہ سے آج اس بدزبان لڑکی کے ہاتھوںمیری عزت کاجنازہ نکلا ہے‘ صرف تمہاری وجہ سے میں سرجھکائے رکھنے پرمجبو ررہاہوں‘ ورنہ کیا مجال تھی کہ یہ لڑکی میرے ہی گھر میں آکر مجھے بے عزت کرتی‘ ہم سب کی شرافت پر کیچڑ اچھالتی…‘‘ شہرام کے مشتعل لہجے میں کہے گئے جملے زنائشہ کو مزید شرمندہ کر گئے تھے۔
’’مجھے معاف کردیں‘ میں آپ سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہتاتھا۔‘‘
’’ اس وقت تو تمہیں صر ف اپنا منہ چھپانا چاہیے‘ چلے جائو میری نظروں کے سامنے سے تم…‘‘ عرش کا ندامت سے لبریز لہجہ شرام کو پھر ہتھے سے اکھاڑ گیاتھا۔ جبکہ زنائشہ لرز کراپنی جگہ سے اٹھتی تیر کی طرح عرش کے قریب جاپہنچی تھی‘ اس کافق چہرہ رو دینے والا ہو رہاتھا۔
’’چلو یہاں سے…‘‘ کانپتی آواز میں وہ بمشکل بولی تھی۔
’’تم یہاں سے کہیں نہیں جائوگی۔‘‘ شہرام کی سخت بلند آواز پر وہ رکی سانس کے ساتھ بس عرش کے چہرے کو تک رہی تھی جبکہ عرش ششدر نظروں سے شہرام کو دیکھ رہاتھا۔
’’عرش! مجھے لے چلو یہاں سے۔‘‘ کانپتے ہاتھوں کی گرفت اس کے بازو کے گرد بڑھاتی وہ زیر لب بولی تھی۔ اس کے چہرے پر پھیلے کرب اور آنکھوں سے برستے سیال سے عرش بمشکل نگاہ ہٹاتا دوبارہ شہرام کی طرف متوجہ ہواتھا۔
’’یہ ابھی میرے ساتھ جائے گی۔‘‘ ہمت مجتمع کرتاوہ کہہ گیاتھا۔
’’کس منہ سے تم اسے اپنے ساتھ لے جائو گے …؟ یہ اپنی دوست کے ہر الزام کی تصدیق کرچکی ہے‘ اس بدزبان لڑکی کو تم پر فوقیت دے کر اب کس منہ سے تمہارے ساتھ جانا چاہتی ہے۔‘‘ شہرام کے طیش بھرے لہجے پر حواس باختہ ہوتے عرش نے اسے دیکھاتھا جو ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھتی نفی میں سرہلارہی تھی۔
’’بھائی! ابھی اسے میرے ساتھ جانے دیں‘ میں اسے واپس یہاں لے آئوں گا…‘‘ صورت حال کچھ ایسی تھی کہ عرش کا سارااعتماد ڈانواں ڈول ہوچکاتھا‘ اسے بالکل سمجھ نہیں آرہاتھا کہ شہرام کو کس طرح کنوینس کرے جبکہ اس وقت یقینا وہ اس کاچہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہ رہے تھے۔
’’تم یہ چاہتے ہو کہ میں اسے تمہارے ساتھ جانے دوں اور کل زرکاش بھی کسی نئے الزام کے ساتھ میرے سامنے آکر کھڑا ہوجائے… تم یہ چاہتے ہو کہ کل تمہاری طرح شقران بھی اپنی من مانی کرکے کسی بھی راہ چلتی عورت کو لاکر میرے سامنے کھڑا کردے اور مجھے پھر وہی ذلت اٹھانی پڑے جوآج اٹھائی ہے۔‘‘ شہرام کے غصیلے لہجے میں کہے جملے کسی برچھی کی طرح عرش کے سینے پر لگے تھے‘ اپنے بازو پر زنائشہ کی کمزور پڑتی گرفت پر وہ اس کی جانب دیکھ بھی نہیں سکاتھا۔
’’آپ شاید غصے میں یہ بھول رہے ہیں کہ آپ کے سامنے کوئی راہ چلتی عورت نہیں‘ زنائشہ ہے‘ جومیرے نکاح میں ہے یہ‘ میری عزت اور میری غیرت ہے۔‘‘ غم وغصے کوضبط کرتا وہ اپنی آواز پر قابو نہیں رکھ سکاتھا۔
’’مجھے یہ تفصیل مت بتائو‘ کھیل‘ تماشہ بنارکھا ہے نکاح جیسے مقدس رشتے کو۔‘‘ شہرام بھڑک اٹھے تھے۔
’’شہرام! وہ کہہ رہا ہے کہ زنائشہ کو واپس لے آئے گا‘ ابھی توان دونوں کو جانے دیں‘ بیوی ہے اس کی‘ ایسے کیسے کوئی منہ اٹھاکرالزام لگانے آجائے گا۔‘‘ خاموش کھڑی سحر مزید چپ نہیں رہ سکی تھیں۔
’’تم خاموش رہو‘ میں جانتا ہوں میں کیا کررہاہوں‘ یونہی زندگی نہیں گزاری ہے میں نے۔‘‘ سحر پر بری طرح وہ برس پڑے تھے۔
’’تم کیوں رکے ہو‘ جائو اب یہاں سے۔‘‘ شہرام نے دوبارہ عرش کو قہر آلود نظروں سے دیکھاتھا‘ عرش لب بھینچے وہ جارحانہ قدموں کے ساتھ ڈرائنگ روم سے نکلتاچلاگیاتھا‘ زنائشہ ساکت کھڑی اسے دیکھتی رہ گئی تھی‘ تب ہی سحر اس کی ڈھارس بندھانے تیزی سے اس کے قریب چلی آئی تھیں۔
’’پریشان مت ہوزنائشہ… عرش آجائے گا ابھی‘ میں اسے بلالوں گی۔‘‘ اس کے برف جیسے سرد ہاتھوں کوتھام کرسحر نے نرم لہجے میں کہاتھا۔
’’عرش یہاں نہیں آئے گا تو کہاں جائے گا یہ گھر ہے اس کا لیکن اسے سمجھادو کہ عرش کے ساتھ یہ کہیں نہیں جائے گی‘ میں نہیں چاہتا کہ وہ گستاخ لڑکی جسے نہ اپنے کردار کی پرواہ ہے نہ زرکاش کے کردار کی‘ میرے خاندان کی شرافت پر انگلی اٹھائے یامیرے گھر کے کسی فرد پرالزام لگائے‘ عرش پر کیچڑ اچھالنے سے پٖہلے اسے یہ پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح اپنا اور زرکاش کا رشتہ مشکوک بنا رہی ہے۔‘‘ شہرام کے ہنوز بھڑکتے برہم لہجے پر اس بار زنائشہ نے ان کی جانب دیکھاتھا۔
’’کیاکہا آپ نے دراج کے بارے میں…؟‘‘ زنائشہ کی تیز آواز پر خاموش کھڑے شقران نے بھی بری طرح چونک کر اسے دیکھاتھا۔’’دراج اور زرکاش کے خلاف میں آپ کاایک لفظ بھی اور برداشت نہیں کروں گی‘ نہ اس نے کوئی غلط کام کیا ہے اور نہ ہی میں کوئی راہ چلتی عورت ہوں جسے مال غنیمت سمجھ کر آپ قابض ہوسکتے ہیں۔‘‘ اس کے بھڑکتے بلند لہجے پر حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی تھیں۔
’’بہت خوب… تمہارے حلق سے یہ آواز اس وقت کیوں نہ نکلی جب وہ بد لحاظ لڑکی میرے بھائی پر کیچڑ اچھال رہی تھی؟‘‘ بغور اس کے تیور دیکھتے شہرام تلخ لہجے میں پوچھ رہے تھے۔
’’عرش جوہے سب کے سامنے ہے‘ اس کے کردار کومیری کسی گواہی کی ضرورت ہے نہ ہی کسی تصدیق کی‘ دراج کوحقیقت کااندازہ نہیں اس نے وہی کہا جو اسے نظر آرہاہے‘ اور یہ کیا آپ نے بھائی‘ بھائی کی رٹ لگارکھی ہے‘ میں عرش کے ما ں باپ کے علاوہ اس سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کونہ جانتی ہوں نہ مانتی ہوں‘ جب مجھے آپ سب سے کوئی سروکار ہی نہیں تو آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ مجھ پر اپنا فیصلہ تھوپ کر اس گھر میں روکیں…‘‘
’’زنائشہ! تم اپنی جگہ درست ہو‘ مگر آہستہ آہستہ تم جان جائوگی کہ عرش کاہم سے کیا تعلق ہے‘ یہ گھر بھی عرش کا ہی ہے اس نسبت سے یہ گھر بھی تمہارا ہے اور ہم سب بھی تمہارے اپنے ہیں۔‘‘زنائشہ کے تیور اورشہرام کے بگڑتے تاثرات پر گھبرا کر درمیان میں بولتیں سحر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
’’ یہ عرش کاگھر ہوسکتا ہے نہ میرا‘ آپ عرش کوبلائیں‘ مجھے اس کے ساتھ اپنے گھر جانا ہے۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں بولی تھی۔
’’عرش میری اجازت کے بغیر تمہیں یہاں سے نہیں لے جائے گا‘ یہ ذہن نشین کرلو۔‘‘
’’میں اس کی محتاج نہیں خود بھی جاسکتی ہوں‘ یہ آپ ذہن نشین کریں۔‘‘ وہ سلگ کر بولی تھی۔
’’کہاں جائوگی؟ میری اجازت کے بغیر عرش کے گھر کے دروازے بھی تمہارے لیے نہیں کھلیں گے‘ تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ جو کہا جارہاہے اس پرعمل کرو۔‘‘ شہرام کے کرخت لہجے پر دنگ ہوتی زنائشہ نے سحر کو دیکھاتھا۔
’’کون ہے یہ شخص؟ ان کادماغ خراب ہے یا پھر ذہنی مریض ہیں یہ؟‘‘ حیرت وغصے میں وہ سحر سے سوال کررہی تھی۔
’’تمہارے لیے اتناکافی ہے کہ عرش میر ابھائی ہے اور میرا فرمانبردارہے۔‘‘ شہرام اپنے لفظوں پر زور دیتے باور کروارہے تھے۔’’سحر! تم اسے اچھی طرح سمجھادو کہ اب اسے یہیں رہنا ہے‘ تمہاری ذمہ داری ہے اب یہ‘ اسے یہ بھی سمجھا دینا کہ آئندہ میں اپنے سامنے اس کی اونچی آواز ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ سخت برہمی سے انہوں نے سحر کوتاکید کی تھی۔
’’زنائشہ! تم میرے ساتھ آئو۔‘‘ سحر نے اس کاہاتھ پکڑ کرساتھ لے جانا چاہاتھا‘ غم اورغصے کی شدت سے نڈھال ہوتی زنائشہ اس قابل بھی نہ تھی کہ ان کاہاتھ جھٹک دیتی‘ شہرام اس حد تک اس پر حاوی ہوچکے تھے کہ اس کادماغ مائوف ہو گیا۔
’’بھائی! عرش کو کچھ کہنے کاایک موقع تو دے سکتے ہیں آپ‘ زنائشہ کو آپ سے یاسب سے چھپا کررکھنے کی اسے ضرورت ہی کیا ہے‘ زنائشہ ہم سب سے ناواقف ہے‘ اتنے طویل عرصے کی گمشدگی کے بعد اچانک اس کے لیے عرش کو ہی قبول کرنا مشکل تھا اور اب اس طرح جبراً اسے یہاں روکنا… اسے ہم سب سے مانوس ہونے کے لیے وقت چاہیے‘عرش زیادہ بہتر انداز میں ہم سب کی اہمیت اور منصب سے اسے آگاہ کرسکتا ہے ورنہ اس طرح توزنائشہ سے پہلے عرش ہی ہم سب سے متنفر ہوجائے گا۔‘‘ شقران نے دھیمے لہجے میں انہیں معاملے کی نزاکت سے آگاہ کرناچاہاتھا۔
’’جس قدر تم اس کاساتھ دے چکے ہو‘ مجھے اندھیرے میں رکھنے کے لیے‘ وہی کافی ہے‘اب مزید اس کی غلطی پر پردے ڈالنے کی کوشش مت کرو‘ پہلی بار ایسی ذلت اور شرمندگی کاسامناکرنا پڑاہے مجھے‘ دو‘ تین دن میں برسوں کے بھروسے کی دھجیاں اڑ گئیں صرف ایک لڑکی کی وجہ سے … اب ان دونوں کووہی کرنا ہوگا جو میں چاہوں گا‘ یہ عرش کوبھی اپنی زبان میں سمجھادینا… ورنہ جس کے لیے اس نے میری آنکھوں میں دھول جھونکی ہے اسی کے لیے ہم سب پر فاتحہ پڑھ کر ہمیشہ کے لیے ہماری زندگی سے چلاجائے۔‘‘ اپنی بات کہتے وہ تیز قدموں سے ڈرائنگ روم سے نکل گئے تھے۔
{…٭…}
بازو سینے پر باندھے دیوار سے پشت لگائے کھڑی وہ تنے ہوئے تاثرات کے ساتھ ایک کڑی نگاہ زرکاش پر ڈالتی منہ پھیر گئی تھی۔
’’تمہاری وجہ سے پہلے ہی عرش کے سامنے میری زبان خراب ہوچکی ہے‘ میری ہزاروں تاکید کے باوجود تم نے وہی کیا جن سے اجتناب کرنا چاہیے تھا‘ مجھ سے وعدہ خلافی کرکے تم نے نہ صرف زنائشہ کوبھڑکایا بلکہ اسے غلط مشورے دیئے‘ عرش کے خلاف فضول گوئی بھی کی‘ عرش نے کال ریکارڈ کی تھی‘ سب سن چکاہوں میں‘ اب تومیں اس سے نظر بھی نہیں ملاسکتا‘ مزید کسر تم نے آج پوری کر دی ہے‘ میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ تمہاری وجہ سے شہرام کے سامنے مجھے اس حد تک شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔‘‘
’’میں بھی یہ نہیں سوچ سکتی تھی کہ آپ اتنی بڑی حقیقت مجھ سے چھپائیں گے‘ میری پریشانی سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود آپ نے عرش کے بارے میں سب چھپایا‘ مجھ سے غلط بیانی کرکے اس کاساتھ دیتے رہے‘ مجھ سے زیادہ اہمیت رکھتا تھاوہ آپ کے لیے۔‘‘ وہ سخت تاسف سے بولی تھی۔
’’میں صرف کسی مصلحت کے تحت خاموش تھا‘ ورنہ مجھے سچ چھپانے کی کیا ضرورت تھی… شہرام تک پہنچنے سے پہلے تم نے مجھ سے اجازت لینا تو دور کی بات‘ اطلاع تک دینا گوارا نہ کیا‘ اب سکون سے ہو تم شہرام کے گھر میں سب کے سامنے اپنااور میرا امیج خراب کرکے… دراج! و ہ سب شریف خاندانی لوگ ہیں‘ سوچے سمجھے بغیر تم کیسے کسی پر الزامات کی بوچھاڑ کرسکتی ہو… تمہیں تو وہاں زنائشہ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہاتھا مگر مجھے سب کے تاثرات نظر آرہے تھے‘ میں اگر زبردستی تمہیں وہاں سے نہ لاتا تو کچھ بعید نہ تھا کہ شہرام خود تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اپنے گھر سے باہر نکال دیتے۔‘‘ زرکاش کے شدید ناگوار لہجے پر وہ پیشانی پر بل ڈالے سلگتی نگاہ اس پرڈال کر رہ گئی تھی۔
‘’اب کچھ نہیں کہوگی تم… تمہاری ساری باتیں‘ ہنسنا رونا‘ اب سب زنائشہ کے لیے ہے‘ میرے لیے کچھ نہیں۔
’’کچھ کہوں تو مسئلہ‘ نہ کہو ںتو بھی مسئلہ‘ ابھی وہاں سب کی اتنی باتیں برداشت کرکے آئی ہوں‘ اب یہاں آپ مجھ پر برسے جارہے ہیں۔‘‘ احتجاجاً غصے میں بولتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
’’میں برس نہیں رہا‘ صرف سمجھارہاہوں جسے تم سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘ زرکاش زچ ہواتھا۔
’’تمہیں کوئی بات ایک ہی بار میں سمجھ نہیں آتی‘ مجھ پربھروسہ کیا صرف باتوں کی حد تک ہے…؟ دنیا دیکھی ہے میں نے‘تم سے زیادہ تجربہ ہے میرا… عرش ویسا بالکل نہیں ہے جیسا امیج تم نے اپنے ذہن میں بنا کرمہر لگا دی ہے‘ جس شخص کو تم جانتی تک نہیں اس کے بارے میں اتنے وثوق سے بیان کیسے دے سکتی ہو…؟ تم اسے صر ف اتناہی جانتی ہو جتنا کہ زنائشہ نے تمہیں بتایا‘ وہ بھی اس دور میں جب وہ عرش کی طر ف سے دلبرداشتہ تھی‘اس کی طرف سے مایوس اور بدظن ہوچکی تھی۔ ایسے میں عرش کے لیے وہ کچھ اچھا کہنے کے قابل ہی نہیں تھی‘ جس انسان سے دل بدظن ہو‘ چوٹ کھایاہوا ہو‘ اس کے لیے زبان سے اچھی بات کیسے نکل سکتی ہے‘ اس میں تو وہ برائیاں بھی نظر آنے لگتی ہیں جو اس انسان میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں‘ عرش کو بھی اس بات کااندازہ تھا اسی لیے وہ کسی کی بھی مداخلت کے بغیر اپنے اور زنائشہ کے درمیان پھیلے فاصلوں کوختم کرنا چاہ رہاتھا‘ اسے خود سے راضی کرکے اپنے گھر والوں تک لے جانا چاہتاتھا‘ مگرتم نے درمیان میں آکر سارا معاملہ بگاڑ دیا‘ ا ب جانے اسے شہرام کے کن سوالوں کاسامنا کرناپڑرہاہوگا۔‘‘
’’مجھے زنائشہ کے لیے جو بہتر لگا میں نے کیا آپ نے بھی تو ہاتھ جھاڑ دیئے تھے اور کیا کرتی۔‘‘ وہ خفت سے اتناہی بولی تھی۔
’’یہی تو مسئلہ ہے‘ بس زنائشہ کو سامنے رکھ کر باقی ہر طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں تم نے… اگر مجھے ذر ابھی شبہ ہوتا کہ زنائشہ کے لیے عرش خطرناک ثابت ہوسکتا ہے‘ یازنائشہ اس کے ساتھ محفوظ نہیں تو میرے لیے مشکل نہیں تھااسے عرش کے گھر سے نکال لانا مگر جس حد تک میں عرش اور اس کے گھروالوں کو جان پایاہوں اس کے بعد مجھے عرش کے ساتھ زنائشہ کا مستقل بہت روشن اور کامیاب نظر آرہاہے‘ زنائشہ درست جگہ پہنچ چکی ہے‘ وہ اب تمہاری ذمہ داری نہیں ہے‘ اس کواپنی نئی زندگی کے آغاز میں جو دشواریاں درپیش ہیں‘ ان سے اسے خود نمٹنے دو‘ تمہاری ذمہ داری صر ف یہ ہے کہ اس کااعتماد بحال کرو‘ اسے ڈھارس دو‘ مثبت مشورے دو‘ عرش سے اور حالات سے فرار ہونے کے راستے مت دکھائو‘ عرش کے گھر والوں کے درمیان ایڈجسٹ ہونے کے لیے اسے یقینا تمہارے اچھے مشوروں اور مدد کی ضرورت ہے لیکن فی الوقت بگڑتی صورتحال کاتقاضایہ ہے کہ تم ابھی اس سے بالکل الگ رہو‘ اس سے کوئی رابطہ نہ کرو‘ معاملات کو بہتر کرنے کے لیے اس وقت اسے عرش کی مدددرکار ہے کیونکہ یہ ان دونوں کابہت ہی ذاتی قسم کا معاملہ ہے ورنہ خدانخواستہ تمہاری طرح جذبات کی رو میں بہہ کر زنائشہ نے کوئی انتہائی قدم اٹھالیاتواس کے لیے صرف ایک ہاسٹل ہی رہ جاتا ہے اور ساری زندگی اسے میرے اور اپنے درمیان برداشت کرنے کاعہد تم بھی نہیں کرسکتی ہو‘ اس دن کی نوبت مت آنے دو‘جب زنائشہ خود اپنی بربادی کا ذمہ دار تمہیں ٹھہرائے‘ اٹھاسکوگی اپنی عزیز ترین دوست کی بربادی کا بوجھ … ؟‘‘ وہ اب حقیقت سے آگاہ کرتا اس پہلو کا منفی رخ بھی دکھا رہا تھا لیکن وہ سمجھنا ہی کب چاہتی تھی۔ وہ خود غرض لڑکی تھی‘ جس کے لیے صرف اپنا آپ اہم تھا۔
’’کیوں ڈرا رہے ہیں مجھے… آپ نے تو اس کے نام نہاد شوہر کی جگہ لاکر مجھے کھڑا کردیاہے دار پر۔‘‘ وہ دنگ ہو کربول اٹھی تھی۔
’’دوراندیشی سے کام لے کر خبردار کر رہاہوں تمہیں‘ دوسری بات یہ کہ جس جگہ تم عرش کو دیکھ رہی ہو‘ وہ وہاں ہے ہی نہیں۔‘‘
’’مجھے اس کا کیا کرنا‘ میری طرف سے وہ…‘‘ یکدم زبان دانتوں تلے دبا کراس نے زرکاش کی خشمناک آنکھوں میں دیکھاتھا۔ ’’میرامطلب ہے کہ مجھے صرف زنائشہ کی خوشی عزیز ہے۔‘‘
’’میری بات سنو‘ یہ جو تم ابھی عرش کے سامنے اتنی باتیں بنا کرآئی ہو‘ مجھے بتائو ذرا کہ زنائشہ نے تمہاری کسی ایک بات کی بھی تصدیق کی…؟ تمہارے عرش کے خلاف کسی بیان پر وہ تمہارے ساتھ کھڑی ہوئی ؟بقول تمہارے وہ وہاں رکنابھی نہیں چاہتی تھی مگر اس نے ایک بار بھی تمہیں میرے ساتھ جاتے دیکھ کر تمہیں روکنے کی یاتمہارے ساتھ جانے کی خواہش ظاہرکی؟ایک بار بھی پکارا تمہیں…؟‘‘ زرکاش کے سوالوں پر الجھتی وہ فوری طور پر کچھ بول نہیں سکی تھی۔
’’مگر… اس نے تردید بھی تو نہیں کی اگر تصدیق نہیں کی تو اور وہ کیا کہتی وہ تو پہلے ہی بتاچکی تھی کہ …‘‘
’’پہلے کی بات مت کرو‘ ابھی کی کرو۔‘‘ زرکاش درمیان میں بولاتھا۔
’’عقل کو زنگ لگ جائے گا‘ کبھی کبھی اسے استعمال کرلیاکرو‘ تین دن ایک چھت تلے عرش کے ساتھ گزار کر وہ ابھی منظر عام پرآئی ہے‘ وہ تین دن ہی بھاری ہیں اس تمام عرصے پر جو زنائشہ نے تمہارے ساتھ گزاراہے لہٰذا پہلے کی بات بھول جائو کیونکہ زنائشہ بھی اب وہ نہیں رہی ہے جو پہلے تھی‘ زیادہ نہیں بس کچھ دن اور صبر کرلو پھر اپنی تسلی کے لیے عرش کے خلاف اس کے سامنے بات کرکے دیکھ لینا۔فرق نظر آجائے گا تمہیں پہلے اور اب میں۔‘‘ زرکاش کے خشمگیں لہجے اور ذومعنی جملے سنتی وہ بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔
’’میرے لیے یہ ناقابل برداشت ہے کہ کوئی تم پر چیخے‘ تمہیں غصے یانفرت سے دیکھے‘ لوگ ہمارے عمل کو دیکھتے ہیں پہلے… نیت تک پہنچنا بعد کی بات ہوتی ہے۔ شہرام اور عرش کو تمہاری نیک نیتی میںطشتری میں سجا کر نہیں دکھاسکتاتھا‘ تمہاری عزت وتوقیر میں کمی آئے یہ بھی مجھے گوارا نہیں‘ تم بھی کسی کے گھر کے معاملے میں دخل دے کر اسے مجبور نہ کرو کہ وہ ساری مروت بالائے طاق رکھ دے‘ شہرام عزت کرنے والے انسان ہیں‘ میں ان سے اس چپقلش کی خاطر اپنے تعلقات ختم نہیں کرسکتا‘ جبکہ اب زنائشہ بھی ان کے گھر میں موجود ہے‘ میں نے زنائشہ کے معاملے سے ہاتھ اٹھالینے جیسی بات ضرور کی تھی مگر میں کیسے اس انسان کی پرواہ کرنا چھوڑ سکتاہوں جوتمہیں عزیز تر ہو۔‘‘
بات مکمل کرکے وہ خاموش ہوگیاتھا۔
’’پھر… اب میں کیا کروں؟‘‘ وہ غائب دماغی سے پوچھ رہی تھی۔
’’عرش اور زنائشہ کی طرف سے مطمئن رہو اوریہ معاملہ میرے حوالے کرو میں شہرام سے بھی رابطے میں رہوں گا‘ تمہیں باخبر بھی کرتارہوں گا‘ تم ساری خود ساختہ پریشانیاں دماغ سے نکال کر رائمہ کی طرف جاؤکچھ دن وہاں گزارو۔ سب کے درمیان مصروف رہوگی خوش رہوگی تو طبیعت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘ زرکاش کے مشورے نے ایک پل کو اسے حیران ضرور کیاتھا ورنہ زرکاش کو تو اس کاایک دن بھی رائمہ کے گھر رکنا ناگوار گزرتاتھا‘ بہرحال اسے زرکاش کامشورہ ٹھیک لگاتھا۔
{…٭…}
پچھلے صحن میں پھیلی تاریکی میں ہوا کے تیز جھونکوں سے خزاں کے پتوں کامدھم شور بہت پراسرار تھا‘ہوا کے جھونکے بھی اس کی پلکوں میں کوئی جنبش پیدا نہیں کرسکے تھے‘ شاید اس کی تمام حسیات اس وقت اس کے وجود سے الگ ہوچکی تھیں‘ دماغ کی اسکرین پر بس ایک چہرہ باربار نمودار ہورہاتھا‘ وہی چہرہ جو ایک ناقابل فراموش بھیانک رات کی پراسراری میں اس کی آنکھوں میں قید اور دماغ پر نقش ہوچکاتھا‘ روح پر لگے ایک‘ایک زخم پر اس چہرے کی گہری چھاپ تھی‘ شدید نفرت کے باوجود اس نے کبھی اس چہرے کو اپنی یادداشت سے کھرچنے کی کوشش نہیں کی تھی‘ بس ایک اسی دن کے انتظار میں‘ جس قدر یقین اسے ایک دن قیامت کے برپاہونے پر اور موت کاایک وقت مقرر ہونے پر تھااسی قدر اسے یہ یقین رہاتھا کہ وقت کا پہیہ چکر کاٹتاایک دن پھراس چہرے کو اس کے سامنے لے آئے گا‘ اسے یقین تھا کہ قدرت نے اس کے لیے سارے حساب‘ کتاب اس شخص سے برابر کرنے کے آغاز کادن ضرور مقرر کیا ہوگا… اور آج وہی دن تھا جس کااسے انتظار تھا‘ اب تک گھونٹ‘ گھونٹ جوزہر وہ پیتی رہی تھی‘ وہ زہر کسی کے وجود میں اتاردینے کا وقت آپہنچاتھا… وقت ہمیشہ کسی ایک کاہو کرنہیں رہتا‘ گزرے کل میں وقت اس کانہیں تھامگر اب اس کی باری تھی‘ اب وقت اس کاہونے جارہاتھا اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ‘ آج وہ بے بس نہیں تھی‘ اس کے ہاتھ میں وقت کاہتھیار بھی آچکاتھا اور طاقت بھی … اپنے مجرم کو مکافاتِ عمل سے دوچار کرنے کے لیے بس اس کاایک اشارہ ہی کافی ہونے والا تھا۔ ماضی میں ایک سانپ نے بے خبری میں اسے ڈس کر اپنے عتاب کا نشانہ بنایا تھا‘ آج اس سانپ کے عنقریب کچلے جانے کااعلان وقت نے خود کردیاتھا… بے خبری میں نہیں‘ مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سب کچھ سود سمیت واپس لینے کااختیار قدرت اسے دینے والی تھی‘ جواس سے چھینا گیاتھا… کمرے کی تیز لائٹس میں ڈریسنگ کے آئینے میں اس کاعکس ٹھہرگیاتھا‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ کتنے عرصے بعد وہ بغور آج اپنے چہرے کو دیکھ رہی ہے… اپنے ایک‘ایک نقش کاموازنہ اپنے گم گشتہ بھولے بسرے چہرے سے کرتے ہوئے اس کے اندر دور تک سناٹا پھیلاہواتھا‘ وہ پیشانی جوچاند کی بکھری چاندنی کی طرح منور اور اجلی ہوا کرتی تھی اب اس پر اسٹیچز کے واضح نشان داغوں کی صورت نمایاں تھے‘ گل رنگ جیسا نکھرا چہرہ اپنی تمام رعنائی کھو کر داغدار ہوچکاتھا‘ جبڑے سے رخسار کی ہڈے تک جاتے اسٹیچز آب وتاب کوماند کرچکے تھے‘ ستواں ناک کی ہیئت تراشے ہوئے سنگ مرمر جیسی نہ رہی تھی‘ دھیرے سے اس نے اپنے داہنے کان کوچھواتھا‘ کان کی بگڑی ہیئت سے یوں لگ رہاتھاجیسے بالائی حصے کو کسی نے اکھاڑ کر بہت عجلت میں واپس جوڑنے کی کوشش کی ہو‘ جو چہرہ آئینہ اسے دکھارہاتھا‘ وہ جانتی تھی کہ یہ وہ چہرہ نہیں جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آئی تھی۔ اس چیز کااسے کوئی صدمہ نہیں رہاتھا‘ آئینے میں نظر آتے چہرے سے اسے کوئی لگائو بھی نہ تھا‘ نہ اسے دیکھتے رہنے کی کوئی چاہ تھی‘ اس کی آنکھیں جس ایک چہرے کی متلاشی تھیں بالآخر وہ اس کے سامنے آچکاتھا‘ اور وہ بہت جلد دوبارہ اس چہرے کو دیکھنے والی تھی‘ اس کی جڑوں میں اس کی زندگی میں زہر انڈیلنے کا کوئی موقع وہ اب گنوانا نہیں سکتی تھی۔
اچانک ہوتی دستک پر وہ اپنے عکس سے نگاہ ہٹاتی دروازے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’آپو! چاچو آگئے‘ آپ کوپوچھ رہے ہیں‘ آجائیں۔‘‘ رومیل دروازے سے اطلاع دے کر چلاگیاتھا۔ لائونج میں رومیل کے ساتھ موجود زرق پردور سے ہی نگاہ ڈالتی وہ سیدھی کچن میں چلی آئی تھی۔
’’میں کھانا نہیں کھائوں گا۔‘‘ ٹیبل پر پلیٹیں رکھتی رجاب سے مخاطب ہوتاوہ چیئر کھینچ کر بیٹھاتھا جبکہ رجاب اس کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات پرچونک گئی تھی۔
’’زرق ! کیابات ہے؟ سب خیریت تو ہے؟‘‘ بغور اسے دیکھتی وہ ٹیبل کے دوسری جانب بیٹھ گئی تھی۔
’’تمہیں اب ہاسٹل جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ کچھ دیر بعد سپاٹ لہجے میں بولتا وہ اسے دنگ کرگیاتھا۔
’’لیکن میں تو کل صبح ہی ہاسٹل جانے کاارادہ کرچکی ہوں‘ تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟‘‘
’’کیونکہ ہاسٹل جانے کااب کوئی فائدہ نہیں‘ زنائشہ ہاسٹل میں نہیں ہے۔‘‘
’’ہاسٹل میں نہیں ہے تو کہاں ہے وہ؟‘‘ رجاء ہک دک رہ گئی تھی۔
’’وہ لے گیاہے اسے‘ اپنے ساتھ‘ اپنے گھر…‘‘
’’وہ مطلب …؟‘‘ رجاب نے بے یقینی سے اسے دیکھاتھا۔ ’زرق یہ تم کیا کہہ رہے ہو‘ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تمہیں کیسے معلوم ہوا اور کس نے خبر دی؟‘‘
’’وہ خود آیاتھا مجھ تک یہ اطلاع دینے۔‘‘
ٹیبل کی سطح پرنگاہ جمائے وہ بتارہاتھا۔
’’وہ اتنی دیدہ دلیری کامظاہرہ کرگیا‘ تم نے اس کوپولیس کے حوالے کرنے سے پہلے اس کاحشر نشر کیایانہیں؟‘‘ رجاب یکدم غصے میں مبتلا ہوئی تھی۔
’’کیاہوجاتایہ سب کرنے سے‘ سچ بدل تو نہیں سکتا… زنائشہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ اس کے گھر میں ہے‘ وہ دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرنے کا حق رکھتا ہے کیونکہ وہ بہت پہلے ہی زنائشہ سے نکاح کرچکاہے‘ میری حیثیت ہمیشہ کی طرح اب بھی ایک تماشائی کی سی ہے۔‘‘ سرخ چہرے کے ساتھ وہ دھیمے مگربھڑکتے لہجے میں کہہ رہا تھا۔’’وہ ٹھیک کہتا ہے‘ مجھے کوئی حق نہیں اس کے اور زنائشہ کے تعلق کو غلط قرار دینے کا‘ میں ہی قصور وار ہوں‘ میں ہی اگر ٹھیک ہوتا تو زنائشہ کو کبھی اپنے لیے یہ انتہائی قدم نہ اٹھاناپڑتا‘ وہ چاہتا ہے کہ میں زنائشہ سے اس کے تعلق کو قبول کروں‘ اپنے بدنما اعمال کی سزا اپنی بہن کوکاٹتے دیکھوں…‘‘ سناٹے میں گھری رجاب بس اسے دیکھ رہی تھی جو شدید غم وغصے کے درمیان اب خود کوملامت کررہاتھا۔
{…٭…}
’’اگرمجھے پتہ ہوتا کہ وہ لڑکی شہرام بھائی کے کلوز فرینڈ کی بہن ہے تو کبھی تمہاری بات نہ مانتی… آخر تم مجھے بتاتے کیوں نہیں کہ اس لڑکی کی تصویر کاتمہیں کرناکیاہے‘ وعدہ خلافی مت کرو اب‘ تم نے مجھ سے وعدہ کیاتھا کہ مجھے وجہ بتادوگے۔‘‘ اپنے ٹیرس پر موجود رجاء سخت تشویش میں گھری شقران سے مخاطب تھی جو مسلسل عرش کو کال کرتا کسی اور طرف متوجہ ہونا نہیں چاہتاتھا جبکہ عرش نے شاید کال ریسیو نہ کرنے کی قسم اٹھارکھی تھی اور رجاء نے خاموش نہ ہونے کی۔
’’ایک تو مجھ یہ سمجھ نہیں آرہا کہ آج تمہارے گھر میں یہ نئے نئے چہرے کیوں نظر آرہے ہیں‘ وہ لڑکی کون ہے جو اس وقت بھی تمہارے گھر میں ہے ؟‘‘
’’تمہیں تاک جھانک کے سوا اور کوئی کام نہیں؟‘‘شقران نے بیزاری سے اسے دیکھاتھا۔ ’’تم بس وہی کام کرو جس کے لیے دنیا میں آئی ہو‘ کتاب میں منہ چھپا کربیٹھ جائو چپ چاپ۔‘‘
’’میں چپ نہیں بیٹھ سکتی‘ مجھے بھروسہ نہیں رہاتم پر‘ ایک لڑکی کی تصویر میری وجہ سے ادھر ادھر ہوگئی ہے‘ کس منہ سے سامنا کروں گی شہرام بھائی کا…‘‘
’’تمہیں صبر نہیں ہے تو جوچاہے کرو ابھی تو میری جان چھوڑ۔‘‘ شقران نے جھڑکاتھا۔
’’ٹھیک ہے اب تو میں ساری بات امام کو بتائوں گی‘ کل کلاں میں بھی تمہاری وجہ سے پھنس گئی تو کم از کم امام تو ہوگا مجھے سپورٹ کرنے کے لیے چاہے اس کے لیے مجھے وہ تمام قرض معاف کرناپڑے جو میرا امام پر ہے۔‘‘
’’صحیح جارہی ہو بالکل۔‘‘ خشمگین نظروں سے رجاء کودیکھتا وہ کمرے کی سمت بڑھ گیاتھا۔
’’بات ہوئی عرش سے؟‘‘ سحر نے کمرے میں آتے ہی پوچھا۔
’’ریسیو ہی نہیں کررہا کال‘ مجھے خود اس کے پاس جاناپڑے گا۔‘‘ شقران جواباً بولاتھا۔
’’ہرگز نہیں‘ پہلے ہی میں تنہا اسے سمجھاتے سمجھاتے ہلکان ہوچکی ہوں‘ وہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ عرش کوبلائو‘ غصے میں بھری بیٹھی ہے‘ بچے اس کے ڈر کی وجہ سے کمرے میں نہیں جارہے‘ شہرام الگ آگ بگولہ ہوئے بیٹھے ہیں‘ ان کوپتہ چلا کہ تم اس وقت عرش کے پاس گئے ہوتو مزید میری جان عذاب میں آجائے گی‘ عرش فون پر ہی زنائشہ سے بات کرلیتا تو اسے کچھ تسلی ہوجاتی…‘‘ سحر کی بات ادھوری رہ گئی تھی‘ شقران کے فون پر کال آرہی تھی۔
’’عرش میں کب سے تمہیں کال کررہاہوں‘ میری نہیں تو بھابی کی کال تو ریسیو کرسکتے تھے؟‘‘
’’اب کون سے مذاکرات کرنے ہیں جو کال کررہے ہو مجھے… اس وقت تو چپ چاپ تماشا دیکھ رہے تھے جب بھائی نے میری ایک بات بھی نہیں سنی‘ زنائشہ کو روک کرمجھے چلے جانے کاحکم صادر کیا‘ تب زبان بند رہی تمہاری۔‘‘ عرش شدید غصے میں اس پربرساتھا۔
’’عرش! تمہیں اندازہ ہے کہ اس وقت میں یابھابی مداخلت کرتے تو بھائی کا غصہ حد سے تجاوز کرجاتا‘ بات اور بگڑ جاتی…‘‘ شقران کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ سحر نے فون اس سے لے لیاتھا۔
’’عرش! تم کم از کم میری کال تو ریسیو کرتے‘ شہرام غصے میں ہیں مگر تم تو ہوش سے کام لو‘ مجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ میں کس کس کوسنبھالوں۔‘‘ سحر غصے میں بولی تھیں۔
’’اور کیا‘ کیا سننے کے لیے کال ریسیو کرتا‘ آپ کے شوہر سے جو کچھ سن چکاہوں وہ کافی نہیں جو اب آپ کی بھی بے لاگ سنوں۔‘‘ ضبط کے باوجود وہ بگڑے لہجے میں بولاتھا۔
’’اس سب کے ذمہ دار بھی تم ہی ہو‘ زنائشہ کی دوست سو فیصد نہ سہی مگر پچاس فیصد ضرور درست ہے‘ اب یہ مت کہنا کہ میرااندازہ غلط ہے۔‘‘
’’بھابی! میں صرف زنائشہ کی مرضی کے بغیر اسے گھر لے جانے کاقصور وار ہوں‘ اگر یہ بھی نہ کرتا تو کیسے اسے حقیقت سے آگاہ کرتا؟ کیسے وہ جان پاتی کہ میں جان بوجھ کر اتنے عرصے تک اس سے غافل نہیں تھا‘ وہ میری بات کو سمجھ رہی تھی‘ سب کچھ ٹھیک ہونے جارہاتھا‘ آپ سب کے بارے میں بھی میں زنائشہ کو بتانے والا تھا‘ اسے اپنے ساتھ لے کر میں آپ کے پاس ہی آتا لیکن اس کی دوست نے پھر سب کچھ بگاڑ دیا‘ اس حد تک کہ اس کی وجہ سے بھائی نے مجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کاایک موقع تک نہیں دیا‘ زنائشہ کے سامنے مجھے گھر سے جانے کا حکم سنادیا‘ کیا سوچ رہی ہوگی وہ کہ یہ عزت ہے اس گھر میں میری‘ وہ آپ سب سے واقف نہیں تھی پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی اور تو اور بھائی نے اسے زبردستی گھرپرروک لیاجبکہ میں نے اسے آپ کے ساتھ جانے پرراضی کرنے کے لیے اسے یقین دلایا تھا کہ میںاسے اپنے ساتھ واپس لے آئوں گا۔ بھائی کو کم از کم زنائشہ کی وجہ سے توکچھ نرمی کامظاہرہ کرنا چاہیے تھا‘ اب میں کس منہ سے اس کے سامنے جائوں گا۔‘‘
’’تم جانتے ہو کہ شہرام جوفیصلہ کرلیتے ہیں تو پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے‘ کتناہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑ جائے‘ لہٰذا ان پر تاسف کرنا ہی بے کار ہے‘ میرا تو دماغ مائوف ہو رہاہے‘ زنائشہ تمہارے لیے بضد ہے‘ تم کم از کم فون پر ہی اسے سمجھانے کی کوشش کرلو۔‘‘
’’کیاسمجھائوں گا اسے‘ پہلے ہی اس کی نظروں میں بھروسے کے لائق نہیں رہا ہوں‘ میں ابھی گھر آئوں یا زنائشہ سے فون پر بات کروں‘ دونوں ہی صورتوں میں وہ بگڑے گی‘ کسی طور وہاں رکنے پر تیار نہ ہوگی‘ میں اسے وہاں چھوڑ کر نہیں آیا ہوں‘ بھائی نے اسے روکاہے‘ اب وہ ان کی اور آپ کی ذمہ داری ہے‘ بھائی خود مجھے بلائیں گے تو ہی آئوں گاورنہ نہیں۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں بولاتھا۔
’’یہ کوئی وقت ہے‘ انا کے جھنڈے بلند کرنے کا؟‘‘سحر کھاجانے والے لہجے میں بولی تھیں۔
’’یہ بات آپ اپنے شوہر کو نہیں سمجھا سکتیں؟‘‘
’’اس وقت ان کوچھیڑ کر کھری کھری سنوں یاتمہاری چہیتی کو سنبھالوں؟ تمہاری ایک غلطی کی وجہ سے اس بے چاری کے آنے کی خوشی بھی غارت ہوچکی ہے۔‘‘ سحر بگڑی تھیں۔
’’بھابی! اپنے شوہر کو بھی ایک طرف ہٹائیں‘ بس میرے آنے تک اس کا خیال رکھیں‘ اسے رونے مت دیجیے گا ہرگز۔‘‘
’’شاباش ہے تم پر… تم لوگوں کے چکروں میں میری رات کالی ہوگئی ہے اور تمہیں اپنی چہیتی کی فکر کھائے جارہی ہے۔‘‘ ناگواری سے بول کر سحر نے فون شقران کے ہاتھ میں پٹخاتھا۔
’’کیاہوا بھابی؟‘‘ شقران نے حیرت سے ان کے تیور دیکھے تھے۔
’’کیاہوناہے‘ ناکردہ گناہوں کی سزا کے طور پر بھگت رہی ہوں تم سب بھائیوں کو۔‘‘ سحر غصے میں بڑبڑاتیں کمرے سے نکل گئی تھیں۔
’’کیا کہہ دیاتم نے وہ تو مجھے بھی غصے میں گھورتی گئی ہیں۔‘‘
’’میری وجہ سے بہت پریشانی کا سامنا کرناپڑ رہاہے ان کو‘ میں جانتاہوں زنائشہ کوسمجھاناان کے لیے مشکل ہو رہاہوگا۔‘‘ عرش نے کہاتھا۔
’’یہ اندازہ تو مجھے بھی ہوگیاہے‘ یہ محترمہ صرف بھابی کے لیے نہیں‘ بھائی کے لیے بھی مشکل ثابت ہونے والی ہیں‘ میرا خیال ہے اب تم غیر معینہ مدت تک کے لیے چین اور سکون کوبھول جائو‘ تمہارے جانے کے بعد ٹھیک ٹھاک قسم کی تکرار ہوئی ہے بھائی اور زنائشہ کے درمیان…‘‘ شقران کی اطلاع نے عرش کودنگ کیاتھا۔
ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close