Hijaab Apr-18

عادی

سدرہ فریال

انسان ساری زندگی کسی نہ کسی کا عادی رہتا ہے وہ ’’کسی نہ کسی‘‘ کوئی چیز بھی ہوسکتی ہے اورکوئی انسان بھی چونکہ میں بھی انسان ہوں اس لیے مجھ میں بھی تو انسانوں والی خصوصیات تھیں ناں۔ ٹھہریئے! پہلے میں اپنا تعارف تو کروالوں‘ میرا نام بخت نور ہے۔ اماں مجھے بخت یا کبھی کبھی پیار سے بختاں کہہ کر پکارتی ہیں حالانکہ میں نے بعد میں اماں سے بہت بار شکوہ کیا کہ میرے نام میں اگر نور ہی رکھنا تھا تو ذرا ماڈرن قسم کا نور رکھ لیتیں جیسے نور السحر‘ نور العین‘ ماہ نور یا پھر نور فاطمہ (یہ نام آج کل ذرا اِن ہیں) مگر اماں کو تو میرا نام جی جان سے پیارا ہے ان کے بقول اسی نام کی ہی وجہ سے میرا خوب بخت چڑھے گا (بھلے میری سہیلیاں مجھے بختی‘ بختو‘ یا بتّی کہتی رہیں)۔
میرے ابا گائوں کے رہنے والے تھے‘ شادی کے بعد کاروبار کی غرض سے اماں کو لے کر خوشاب چلے آئے۔ انہوں نے ایک شوروم میں ملازمت کرلی‘ میرے ابا بہت کم گو اور مزاجاً دھیمے تھے گو وہ ہم پر سختی نہ کرتے مگر ہم ان کے رعب میں رہتے تھے۔ میری پیدائش کے دو سال بعد اماں ابا کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہوئی اس کا نام ابا نے مریم نور رکھا جبکہ میرا نام اماں نے رکھا تھا۔ مریم کی پیدائش کے چار سال بعد دو جڑواں بیٹوں کی پیدائش ہوئی جن کا نام میری ساہیوال والی خالہ نے شایان اور کاشان رکھا۔ کاشان اور شایان میں اماں کی جان تھی جبکہ مریم ابا کی آنکھوں کا تارا تھی‘ ابا مجھ سے بھی پیار کرتے مگر نہ جانے کیوں میں ان کی خاموش طبیعت کی وجہ سے ان سے ڈرتی تھی حالانکہ انہوں نے کبھی ڈانٹا تک نہ تھا۔ میں فطری طور پر اپنی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی‘ اماں سے بھی اتنی زیادہ باتیں نہ کرتی البتہ مریم سے میری اچھی بنتی تھی۔
تو میں بات کررہی تھی عادی ہونے کی‘ میں زندگی میں پہلی بار پانچ سال کی عمر میں چکنی مٹی کی عادی ہوئی۔ جی ہاں اس کو کھانے کی‘ اس میں کھیلنے کی نہیں‘ ہمارے گھر میں لکڑیاں رکھنے کے لیے اور بکری باندھنے کے لیے ایک چھپر بنا ہوا تھا جب برسات آتی تو اس میں سے پانی ٹپکنے لگتا تھا چنانچہ اماں چکنی مٹی بھگو کر اس میں بھوسہ ملاتیں اور چھپر کی لپائی کردیتیں اور میں برسات کا انتظار کیا کرتی‘ مجھے چکنی مٹی کھا کھا کر اس کی کوالٹی کی پہچان ہوگئی تھی یعنی میں مٹی کو دیکھ کر اندازہ کرلیتی کہ اس میں ریت کی مقدار کتنی ہوگی۔ ریت کی مقدار جتنی بڑھتی جاتی‘ وہ مٹی کھانے کے معیار میں اتنی ہی گرتی جاتی۔ میں خالص چکنی مٹی (بغیر ریت کے) کا ٹکڑا منہ میں ڈالتی تو وہ یوں گھل جاتا جیسے ڈیری ملک منہ میں رکھتے ہی گھل جاتی ہے مگر اس مٹی کا ذائقہ چاکلیٹ سے زیادہ مزے دار ہوتا اور میرے لیے من و سلویٰ تھا۔
اماں بچی ہوئی چکنی مٹی لفافے میں بند کرکے اس چھپر میں پڑی ایک پرانی چارپائی کے نیچے رکھ دیتیں مگر یہ بات مجھے بہت بعدمیں پتا چلی بس پھر کیا تھا جاڑے میں بھی برسات‘ گرمیوں میں بھی برسات‘ غرض ہر موسم میرے لیے برسات ہوتا۔
پھر ایک افسردہ سا واقعہ ہوا میرے ابا نے اس چھپر کو توڑ کر اس کی جگہ ایک پکا کمرہ بنوالیا۔ میری ساری خوشیوں کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔میں چکنی مٹی کو یاد کرکے روتی‘ کئی دفعہ بہانے بہانے سے اماں کو چکنی مٹی کی یاد دلائی اور کہا کہ اماں اس پکے کمرے کی بھی لپائی کردے ناں‘ کہیں ٹپکنے نہ لگ جائے اور اماں میرے اس مفید مشورے پر مجھے چپت لگا کر مسکرادیتیں۔
’’پتر یہ کمرہ نہیں ٹپکے گا۔‘‘ اور میں اس کے ٹپکنے کی خواہش لیے دل مسوس کر رہ جاتی پھر آہستہ آہستہ مجھے چکنی مٹی بھول گئی۔
میرے یہ عادی ہونے والی عادت کا اختتام نہیں تھا اب میں اسکول جاتی تھی‘ ہمارے اسکول میں کچی اور پکی کے بچے تختی لکھا کرتے تھے جب میں نے تختی لکھنی شروع کی تو مجھے تختیوں والی مٹی پسند آگئی۔ میں روزانہ اپنے جیب خرچ سے تختیوں والی مٹی لیتی جو بمشکل دس فیصد میری تختی پر لگتی اور باقی نوے فیصد میرے پیٹ میں جاتی۔ دوسری جماعت میں آنے پر گوکہ تختی لکھنی چھوڑ دی مگر میں اب بھی جیب خرچ کے پیسوں سے مٹی خرید لیا کرتی۔ جب میں نے پانچویں جماعت پاس کی تو ابا نے جہاں میرا ہائی اسکول میں داخلہ کروایا‘ وہاں میرے اسکول کے علاوہ گھر سے نکلنے پر پابندی لگادی کیونکہ بقول ابا‘ اب میں بڑی ہوگئی تھی۔ میرے ارمانوں پر ایک دفعہ پھر اوس پڑگئی‘ اب میں تختیوںو الی مٹی خرید کر بھی نہیں کھاسکتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں تختیوں والی مٹی بھی بھول گئی۔
ایک دفعہ میں دودھ ابال رہی تھی اور خالی الذہنی کے عالم میں آگ کو تکے جارہی تھی۔ اسی غائب دماغی کے عالم میں میں نے چولہے کے باہر پڑے ٹھنڈے کوئلوں میں سے ایک کوئلہ اٹھایا اور دانتوں سے کترنا شروع کردیا۔ مجھے وہ کوئلہ کچھ ذائقہ دار سا محسوس ہوا چنانچہ میں نے اس ختم کرکے ایک اور چھوٹا سا کوئلہ اٹھایا اور اسے بھی کھایا ’’واہ‘‘ میرے دل سے نکلا۔ میں کوئلہ تو کھا ہی سکتی ہوں ناں‘ یہ تو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ میں اسی سرشاری کے عالم میں بیٹھی تھی کہ مجھے دودھ کے گرنے اور جلنے کی بو تک نہ آئی۔ وہ تو اچانک اماں کوسر پر دیکھ کر مجھے ہوش آیا۔ اماں نے فوراً دودھ چولہے سے اتارا اور دوسرے لمحے میرے منہ پر زوردار طمانچہ دے مارا۔
’’کوئلے کھاتی ہو‘ شرم نہیں آتی؟‘‘ میرا کالا منہ میرے کیے کا گواہ تھا۔ میں جھوٹ بھی نہیں بول سکتی تھی چنانچہ اماں کی زوردار ڈانٹ اور مار کے بعد میں نے کوئلے کھانے چھوڑ دیئے۔ جی ہاں صرف اماں کے سامنے اب میں باتھ روم میں چھپ کر کوئلے کھاتی اور پھر رگڑ رگڑ کر منہ دھوتی اور نہایت اعتماد کے ساتھ باہر نکلتی‘ اماں کو کبھی شک نہ ہوا۔
چکنی مٹی کی طرح مجھے کوئلے کی کوالٹی کا بھی اسے دیکھ کر ہی پتا چل جاتا۔ مجھے نرم کوئلہ اچھا لگتا تھا‘ جسے کھانے سے زیادہ شور نہ ہوتا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ کس لکڑی سے بننے والے کوئلے نرم ہوتے ہیں‘ ہاں شاید وہ سفیدے کی لکڑی تھی۔
مگر پھر ایک المیہ ہوا‘ ابا نے کافی مہینوں سے گیس لگوانے کے لیے درخواست دے رکھی تھی جب ہمارے محلے میں گیس لگنے لگی تو ہمیں بھی کنکشن مل گیا چنانچہ اب لکڑیاں جلانے والا سلسلہ ختم ہوگیا اب میں دن رات کوئلوں کو یاد کرتی۔
ہمارا گھر محض دو کمروں پر مشتمل تھا‘ جو اب ہمارے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ چھوٹا لگنے لگا تھا چنانچہ جب میں نے ساتویں اورمریم نے پانچویں جماعت پاس کی تو ہم سرگودھا والے گھر میںشفٹ ہوگئے۔یہ گھر ابا نے پچھلے کچھ سالوں میں پیسہ بچا کر خریدا تھا۔یہاں ابا نے ہمارا داخلہ انگلش میڈیم اسکول میں کروایا اور اس اسکول میں آکر مجھے چاک کھانے کی لت پڑی۔ میں اسکول سے چاک چوری کرکے گھر لاتی اماں سے چھپا کر کھایا کرتی۔ میں اسکول میں اس قدر صفائی سے چوری کرتی کہ کسی کو معمولی سا شک بھی نہ ہوپاتا۔ اسکول کے مین گیٹ کے اندرونی طرف ایک میز رکھی تھی جس پر اساتذہ کے حاضری کے رجسٹر اور چاک کے ڈبے وغیرہ پڑے ہوتے۔ جس کلاس کو ضرورت ہوتی اس کلاس کی مانیٹر یا پھر کوئی اور لڑکی چاک لے لیتی۔ میں بے حد اعتماد کے ساتھ کلاس کے لیے چاک اٹھاتی آرام سے لاکر اپنے بیگ میں رکھ لیتی۔ اس مقصد کے لیے میں اپنا جیومیٹری بکس استعمال کرتی تھی یعنی چاک اٹھا کر کلاس میں پہنچنے سے پہلے پہلے ان کو جیومیٹری میں منتقل کرتی اور جیومیٹری بیگ میںر کھ لیتی جبکہ میرے پین اور مارکر بیگ کے باہر والے خانے میں پائے جاتے اگر اتفاق سے کبھی چاک نہ مل پاتا تو بلیک بورڈ پر کچھ لکھواتی ٹیچر کے ہاتھ میں پکڑے چاک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی رہتی۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں جیومیٹری بکس گھر بھول آئی تھی مگر چاک چرانے تو ضروری تھے چنانچہ جب میں چاک بیگ میں رکھ رہی تھی تو کلاس کی مانیٹر روبہ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس نے مجھے کچھ نہ کہا‘ بس کلاس انچارج میم معصومہ کو بتادیا۔ اگلے دن پہلے پیریڈ میں میم معصومہ (جو ہمیں کیمسٹری پڑھاتی تھیں) نے ساری کلاس کے سامنے مجھ سے چاک کی چوری کا قصہ پوچھا۔ ایک لمحہ کو تو میں گڑبڑاہی گئی مگر شاباش میری عقل کو‘ میں نے حاضر جوابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لہجے میں جہان بھرکی معصومیت سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’میم آپ نے جو کل کیلشیم کاربونیٹ کے ریکشنز کروائے تھے جن کی مثال آپ نے چاک بتائی تھی۔ میں وہی ریکشنز گھر جاکر عملی طور پر کرنا چاہتی تھی۔‘‘ میم میری اس بات سے بہت خوش ہوئیں‘ پہلے تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ چاک میں صرف CaCo نہیں ہوتابلکہ دیگر مرکبات بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے آپ ریکشنز گھر میں ٹھیک سے نہ کرپاتیں اور اس کے بعد کلاس کے سامنے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔
’’ایسے ہی طالب علم بڑے ہوکر سائنسدان بنتے ہیں۔‘‘ ان کی اس بات سے ساری لڑکیاں مجھے رشک و حسد سے دیکھنے لگیں اور میں ایک شان بے نیازی کے ساتھ اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
چاک کھاتے ہوئے مجھے چاک کی کوالٹی کی بھی پہچان ہوگئی تھی کچھ سخت اور بے ذائقہ چاک ہوتے جو مجھے بہت مزے دار لگتے کیونکہ جو نرم چاک ہوتے ان کا ذائقہ تو اچھا ہوتا تھا مگر شاید ان میں چونے کی مقدار زیادہ تھی کیونکہ وہ چاک کھانے کے بعد مجھے موشن لگ جاتے تھے اس لیے میں صرف سخت چاک کھاتی۔
جب میں دسویں جماعت میں پہنچی تو ساری کلاسز میں وائٹ بورڈ لگ گئے۔ بلیک بورڈ کو ایکٹیویٹی کارنر بنادیا گیا جہاں طلباء اپنی ڈرائنگز اور اسکچز وغیرہ بناکر لگاتے اس بار عادی شدہ چیز کے چھن جانے پر میں مایوس نہ تھی۔ مجھے یقین تھا کہ چاک کے متبادل کے طور پر قدرت مجھے کچھ نہ کچھ ضرور فراہم کرے گی اور وہی ہوا۔
میں نے کالج کی کینٹین سے چھالیہ لے کر کھانی شروع کی اور ایسی شروع کی کہ پھر میں حسب عادت اس کی عادی ہوگئی۔ چھالیہ کی مقدار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی‘ حتیٰ کہ میں ایک ہفتے میں چھالیہ کا ایک ڈبہ کھا لیتی تھی۔ سارا دن کالج میں میرے منہ میں چھالیہ رہتی اور میں ’’چھالیہ والی لڑکی‘‘ کے نام سے جانی جانے لگی البتہ گھر میں ذرا احتیاط کرتی۔
اب میں اسی کالج سے ایف اے کررہی تھی۔ایک دن ٹیچر نے سبق پڑھاتے ہوئے مجھ سے کوئی سوال پوچھا گو مجھے جواب آتا تھا مگر منہ میں چھالیہ ہونے کی وجہ سے میں بولنے سے قاصر تھی چنانچہ میں خاموشی سے کھڑی ہوگئی۔ ٹیچر کو بھولپن سے دیکھا اور یہ ظاہر کیا کہ مجھے جواب نہیں معلوم۔ ظاہر ہے منہ کھولنے پر تو چھالیہ گر جاتی ناں مگر کلاس فیلو کو اصل کہانی معلوم تھی‘ وہ ساری کھی کھی کرکے ہنستے لگیں جب ٹیچر نے ساری لڑکیوں کو ہنستے دیکھا وہ سمجھیں کہ شاید میرے جواب نہ دینے پر ہنس رہی ہیں چنانچہ وہ جو مجھ غصہ کرنے ہی لگی تھیں‘ یکدم ساری کلاس کو کھڑا کردیا اور مجھے بٹھادیا۔ اگلا سارا پیریڈ میں مزے سے بیٹھ کر چھالیہ کھاتی رہی اور ساری لڑکیاں مجھے کھاجانے والی نظروں سے گھورتی رہیں ۔
لیکن قسمت کو میرا مزے لینا منظور نہیں تھا۔ ایف اے کے امتحانات کے بعد میں کالج سے فارغ ہوکر گھر بیٹھ گئی بظاہر تو چھالیہ کا سلسلہ ختم ہوجانا چاہیے تھا مگر میں نے نا امید ہونا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔ اب کچھ پیسوں کی لالچ دے کر بھائی سے میں چھالیہ منگوالیاکرتی۔ کچھ ہفتے تو یہ سلسلہ چلا پھر اس کے بعد اماں کو خبر ہوگئی‘ میری خوب شامت آئی۔ اماں نے کاشی اور شانی پر جوتے برساتے سختی سے چھالیہ لانے سے منع کیا اورمجھے چھالیہ کے نقصانات پر ایک اچھا خاصا لیکچر سنا ڈالا اور ان میں سرفہرست منہ کا کینسرتھا‘ اب اماں بے چاری کو کیا پتا کہ میں کیا کیا کھاتی رہی ہوں خیر میں چھالیہ نہ ملنے پر بالکل نہ گھبرائی متبادل کے لیے کوئی اور چیز سوچنے لگی۔
انہی دنوں کا شی اور شانی نے ایک درجن رنگ برنگے چوزے خریدے‘ پہلے دن ہی ایک چوزے کو چیل لے گئی۔ دوسرے دن ایک چوزہ گرمی کی شدت سے جاں بحق ہوگیا۔ باقی چوزوں کی زندگی بھی بہت غیر یقینی ہوگئی تھی خیر مجھے تو چوزوں سے کیا دلچسپی ہونی تھی‘ مجھے تو ان کے لیے لائے جانے والے باجرے سے دلچسپی تھی۔ جی ہاں! اب کی بار میں نے اپنے آپ کو باجرے کا عادی بنایا مگر یہ مدت بہت کم نکلی‘ ایک ڈیڑھ ماہ میں ہی جو پانچ چوزے بچ گئے تھے وہ اب اتنے بڑے ہوچکے تھے کہ گندم کے دانے اور چائے کی استعمال شدہ پتی کھاسکیں چنانچہ باجرہ آنا بند ہوگیا گو میں نے کاشی اور شانی کو خوب سمجھانے کی کوشش کی کہ اس عمر میں چوزوں کے لیے باجرہ کتنا ضروری ہے اور وہ میری باتوں میں آ بھی گئے مگر اماں نے صاف منع کردیا۔ قسمت نے ایک بار پھر مجھے خلائوں میں معلق کردیا تھا لیکن میں نے بھی کہاں گھبرانا سیکھا تھا‘ اس بار میں نے خوب سوچ سمجھ کر باجرے کا متبادل کچے چاولوں کو بنایا۔کچے چاول مجھے بچپن سے ہی پسند تھے مگر میں ان کی عادی کبھی نہیں ہوئی تھی اب تو گھر میں بھی چاول بہت تھے چنانچہ میں نے ایک کلو چاول فی ہفتہ کے حساب سے کھانے شروع کردیئے۔ ظاہر ہے اماں سے چھپا کر‘ اب باتھ روم میں چھپ کر چاول کھانا اچھا تو نہیں لگتا نا اس لیے میں اماں کے سو جانے کا انتظار کرتی پھر کچن میں جاکر چاول بھگوتی پھر چائے بناکر پیتی تب تک چاول کچھ نرم پڑچکے ہوتے وہ میں مزے سے کھاتی۔
اگر انسان استعمال کرنے پر آجائے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہوجائے وہ تو پھرچاول تھے جو ہفتے میں ویسے بھی ایک دو بار اماں پکاتی تھیں چنانچہ میں پھر ایک بار منجھدار میں پھنس چکی تھی۔
ایف اے کا رزلٹ آچکا تھا‘ میں بمشکل پاس ہوپائی تھی۔ پڑھائی کو تو کبھی میں نے اپنی عادت بنایا ہی نہیں تھا۔ رزلٹ کے بعد ابا نے اسی کالج میں میرا بی اے میں ایڈمیشن کروادیا۔ میں آگے پڑھنا تو نہ چاہتی تھی مگر نہ پڑھنے کا مطلب تھا شادی کرنا‘ جس کا فی الحال میرا کوئی ارادہ نہ تھا چنانچہ میں نے ایک بار پھر کالج جانا شروع کیا۔ انہی دنوں شہباز شریف کی مرہونِ منت جن طلباء کو انٹر لیول میں فرسٹ ڈویژن پرلیپ ٹاپ دیئے گئے ان میں میرا نام بھی شامل تھا۔ لیپ ٹاپ ہاتھ آیا تو پڑھائی کا بہانہ کرکے انٹرنیٹ بھی لگوالیا۔بس نیٹ لگوانے کی دیر تھی کہ خود کو کسی سے پیچھے نہ سمجھتے ہوئے میں نے بھی فیس بک پر اکائونٹ بناڈالا اور پھر میں فیس بک کی عادی ہوتی چلی گئی۔
رات دیر تک فیس بک پر بیٹھی رہتی اس دوران اگر اماں کی آنکھ کھل جاتی اور وہ اس وقت تک جاگنے کا سبب پوچھتیں تو میں اسائنمنٹ بنانے کا بہانہ کرکے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتی اور وہ دن رات میرے ٹاپ کرنے کی دعائیں کرتی رہتیں۔
ایک دن مجھے ارمغان کی فرینڈ شپ ریکوئسٹ آئی‘ میں نے حسب معمول اجنبی ریکوئسٹ کو کینسل کردیا پھر اس کا ٹیکسٹ آیا ’’ایڈ می‘‘ میں نے جواب بھیجا۔
’’کیوں؟‘‘
’’کیوں کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں۔‘‘ یہ جواب پڑھ کر ایک لمحہ کو تو میں کانپ ہی گئی‘ میں نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ میسج کیا۔
’’کیا آپ کی منگنی ہوچکی ہے؟‘‘
میں نے تپ کر لکھا ’’نہیں میری تو شادی بھی ہوچکی ہے یہ جو میری پروفائل پر آپ کو بچہ نظر آرہا ہے یہ میرا چھوٹا بیٹا ہی تو ہے۔‘‘
’’واہ‘ یہ خوب ہے ویسے چار سال پہلے یہی تصویر میں نے بھی اپنی پروفائل پر لگائی تھی۔‘‘ میں اس کے جواب پر جل کر رہ گئی اور لاگ آئوٹ کردیا۔ اگلے دن پھر اس کا میسج آیا۔
’’میں آپ کے ساتھ فلرٹ نہیں کررہا۔ سیدھے لفظوں میں آپ کو پرپوز کررہا ہوں اور آپ کے گھر کا پتا جاننا چاہتا ہوں تاکہ اپنی والدہ کو بھیج سکوں۔‘‘ میں اس میسج سے خوب محظوظ ہوئی۔
’’کسی لڑکی کو پھنسانے اور اس کا پتا جاننے کا یہ بھی اچھا مگر پرانا طریقہ ہے‘ ویسے کتنی لڑکیوں کو یہ کہہ چکے ہیں۔‘‘
’’پہلی بار توآپ کو کہا‘ آگے کے بارے میں معلوم نہیں۔‘‘ (آگے ایک اسمائل تھی) مجھے تپ چڑھی۔
’’ویل مسٹر مجھ سے شادی کا فیصلہ آپ نے کس بناء پر کیا؟‘‘
’’آپ کی بڑی بڑی کالی آنکھیں دیکھ کر۔‘‘ میں شاکڈ رہ گئی۔
میری آنکھیں بڑی بڑی اور سیاہ تھیں‘ میری آنکھوں کی خوب صورتی مجھے باقی سب سے ممتاز کرتی لیکن یہ اس لڑکے کو کیسے معلوم ہوا کیا اس نے مجھے دیکھا ہے؟ پر کہاں… چھوڑو نور! یونہی اندھیرے میں تیر چلا یا ہوگا۔ میں نے جیسے خود کو تسلی دی‘ اس کا ایک اور میسج آیا۔
’’اور آپ کا ٹھوڑی کا تل اور لمبی کالی اور گھنی بالوں کی چوٹی کو دیکھ کر۔‘‘ یعنی اس نے مجھے واقعی دیکھ رکھا ہے؟ ارے نہیں یہ میری کوئی سہیلی ہوگی میرا ذہن فوراً اریبہ‘ عروہ اور ربیعہ کی طرف گیا پھر آج کل تو فیک آئی ڈی اتنی عام ہیں‘ مجھے پہلے کیوں نہیں خیال آیا‘ میں نے اس کو لکھا۔
’’مجھے معلوم ہے تم اریبہ‘ عروہ یا پھر ربیعہ ہو۔‘‘
’’اریبہ ‘ عروہ کا تو نہیں پتا مگر ربیعہ کو میں جانتا ہوں ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ میں اریبہ‘ ربیعہ‘ عروہ نہیں بلکہ ارمغان ہوں۔‘‘
’’میں نہیں جانتی کسی ارمغان مجاز یا اسرار خودی کو۔‘‘
’’ہاہاہا۔‘‘ اور میں نے اس پر تین حرف بھیج کر لیپ ٹاپ بند کردیا۔ اگلے دن میں ان تینوں کے سر پر کھڑی تھی۔ ساری بات جان کر ان تینوں کا مشترکہ قہقہہ بلند ہوا۔
’’مجھے سچ سچ بتائو تم تینوں میں سے کون ہے؟‘‘
’’میں تو نہیں ہوں۔‘‘ ربیعہ بولی۔
’’اور میں بھی نہیں‘ تمہارے سر کی قسم۔‘‘ اریبہ کے کہنے پر میں نے اسے گھور کر دیکھا۔ ’’یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کلاس کی کوئی اور لڑکی ہو۔‘‘ ربیعہ نے اپنی رائے دی۔
’’ویسے سچ مچ کوئی لڑکا بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ عروہ نے ایک آنکھ دبا کر کہا اور ان تینوں کا ایک قہقہہ مشترکہ پھر بلند ہوا گو میرے دل میں دو چار لڈو تو پھوٹے مگر بظاہر میں ان پر غصہ کرنے لگی۔ بہرحال مجھے اتنا یقین ضرور ہوگیا کہ ان تینوں میں سے وہ کوئی نہیں ۔ جب میں رات کو آن لائن ہوئی تو اس کے کچھ اور میسجز آئے ہوئے تھے مگر میں ان سے کوئی نتیجہ اخذ نہ کرسکی۔ میں نے لکھا۔
’’مسٹر ارمغان! اب اپنی حقیقت بتا ہی دو تو اچھا ہے۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ فوراً جواب آیا اور اس کے بعد ایک تصویر بھیجی گئی وہ ہمارے کالج کے پرائز ڈسٹربیوشن سیرمنی کے دن کی تصویر تھی جس میں وہ گیٹس آف آنرز کے ساتھ اگلے صوفے پر براجمان تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی پہچان گئی۔ مجھے یاد آیا کہ چند دن پہلے کالج میں ہونے والے پرائز ڈسٹربیوشن سیرمنی میں میں نے اور اریبہ نے کمپیئرنگ کی تھی اور ظاہر ہے سب سے پہلے تو ہم نے اپنا تعارف کروایا تھا۔ کمپیئرنگ کے لیے نام لکھواتے ہوئے مجھے معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد سے جن مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے ان میں مرد (یا اتنے نوجوان اور ہینڈسم مرد)بھی شامل ہوں گے۔ لہٰذا میں نے یونیفارم والا دوپٹہ شانوں پر لیا تھا اور سر پر ایک معمولی سا اسٹولر تھا جس سے نکلتی ہوئی میری لمبی چٹیا صاف نظر آرہی تھی۔ اب مجھے ساری کہانی سمجھ میں آئی تاہم یقین دہانی کے لیے میں نے لیپ ٹاپ میں موجود سیرمنی کی تصاویر کھولیں اور ان کو غور سے دیکھا۔ پہلے اگر اپنی اور دوستوں کی تصویروں کو غور سے دیکھنے سے فرصت ملتی تو اس ارمغان کی پروفائل پکچر دیکھتے ہی میں اسے پہچان جاتی۔
ارمغان نے ایک اور میسج بھیجا تھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ سیرمنی کے لیے مدعو تو اس کے ایک چچا کو کیا گیا تھا مگر وہ علالت کی وجہ سے خود نہ آپائے اور اپنی جگہ اسے بھیج دیا اور بقول اس کے اسے میں پسند آگئی۔و اپس جاکر اس نے فیس بک پر مجھے ڈھونڈا میرا نام قدرے مختلف ہونے کی وجہ سے اسے ڈھونڈنے میں مشکل پیش نہ آئی۔ وہ اسلام آباد میں رہتا تھا اور ایم فل کا اسٹوڈنٹ تھا اور پارٹ ٹائم جاب بھی کرتا تھا۔
ان تمام تفصیلات کا میں نے کوئی جواب نہ دیا اور لاگ آئوٹ کردیا۔اس کے بعد میں کافی دیر تک سوچتی رہی۔ وہ ایک دراز قد اور ہینڈسم لڑکا تھا۔ مسکراتے ہوئے اس کے گال پر گہرا ڈمپل پڑتا تھا‘ وہی مسکراتی ہوئی تصویر اس نے اپنی پروفائل پر لگائی ہوئی تھی لیکن میں بھی کوئی عام لڑکی نہیں ہوں میں نے نہایت پر اعتماد انداز میں سوچا‘ ویسے بھی میرا اس کو لفٹ کروانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا میں صرف اتنا جاننا چاہتی تھی کہ وہ ہے کون؟ اب یہ جان لینے کے بعد اس سے کوئی بات نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اگلے دن اس نے پھر میسجز کیے تھے‘ میں نے اسے دو ٹوک انداز میں دوستی سے انکار کردیا اور کہا کہ آج کے بعد مجھے کوئی میسج نہ کرے۔
’’ٹھیک ہے مگر آج کے دن تو کرسکتا ہوں؟‘‘ مجھے اس کی ڈھٹائی پر ہنسی آئی ۔ اس نے ایک انگریزی قول بھیج رکھا تھا جو میرے سر سے گزر گیا مگر میں نے یہ سوچ کر کہ وہ مجھے نالائق نہ سمجھے لائک کا نشان بھیج دیا۔
’’کیسی ہو؟‘‘ اس کا فوری میسج آیا۔
’’میں نے میسج کرنے سے منع کیا تھا۔‘‘ لکھنے پر اس نے جواب دیا۔
’’اصل میں‘ میں اتنا بھلکڑ ہوں کہ ایسی باتیں اکثر بھول جاتا ہوں۔‘‘ مجھے ہنسی آئی مگر میں نے جواب نہ دیا ایسے ہی سر پر چڑھ رہا ہے‘ اس کے بعد تو ارمغان کی جیسے عادی سی بن گئی۔
وہ روز مجھے کوئی نہ کوئی ایکویشن بھیج دیتا۔ میں پڑھتی مگر جواب نہ دیتی وہ انگلش لٹریچر کا اسٹوڈنٹ تھا‘ کہاں وہ موٹے موٹے انگریزی کے ناولوں کی موٹی باتیں کہاں میں بی اے کی انگریزی میں ہمیشہ سے کمزور طالبہ۔ اس کی باتوں کی بھلے مجھے سمجھ نہ آتی مگر میں پڑھتی ضرور تھی کیونکہ اب میں ان کی عادی ہوگئی تھی۔
مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ میں پروموٹ ہوکر فورتھ ائر میں آگئی پھر اچانک اس کے میسجز آنا بند ہوگئے۔ دن گزرتے گئے اور میں بے حد پریشان رہتی‘ دن میں کئی بار اس کی ٹائم لائن کھول کر دیکھتی۔ اس کی آخری پوسٹ اسی دن کی تھی جب اس نے آخری میسج کیا تھا۔
’’یااللہ! اسے کیا ہوگیا۔‘‘ اسی پریشانی میں میرا پڑھائی سے دھیان بھی ہٹ گیا پھر پورے دو ہفتوں بعد اس کا میسج آیا۔
’’کیا تم نے مجھے مس کیا؟‘‘ اُف اسے کیسے پتا چلا۔
’’خوش فہمی ہے تمہاری۔‘‘ میں نے جواباً لکھا اس نے ایک قہقہہ لگانے کے بعد پوچھا۔
’’اچھا پوچھو گی نہیں کہ میں کہاں تھا۔‘‘ اور میرے جواب دینے سے پہلے خود ہی بتادیا ’’میرے امتحان ہورہے تھے۔‘‘
’’اور فیس بک کا استعمال بند کرکے توجیسے ٹاپ کرلیا ہوگا۔‘‘ میں نے طنزاً لکھا‘ اس نے جواب دیا۔
’’ہاں ان شاء اللہ میں ہی ٹاپ کروں گا اس بار بھی۔ ویسے ایک لڑکی رضا کے بھی میرے برابر ہی نمبر ہیں تقریباً تمام مضامین میں مگر ایک آخری پیپر کل ملے گا اس سے حتمی فیصلہ ہوگا‘ تم دعا کرنا۔‘‘ یہ اس کا چوتھا اور آخری سمسٹر تھا‘ میں نے جواب دیا۔
’’سوری! میں اجنبیوں کے لیے دعا نہیں کرتی۔‘‘ اس نے کوئی جواب نہ دیا شاید اسے دکھ ہوا ہو۔ مجھے ذرا سی بے چینی ہوئی‘ رات کو نماز کے بعد دعا مانگتے ہوئے مجھے وہ یاد آیا دل میں ذرا پچھتاوا ہوا اور پھر اس کے لیے دعا مانگی۔
اگلے دن فیس بک کھولی تو اس کاکوئی میسج نہ تھا‘ میں نے فوراً ارمغان کی ٹائم لائن چیک کی جہاں اس کے تمام دوستوں نے اس کو سمسٹر میں ٹاپ کرنے پر مبارک باد دے رکھی تھی۔ نجانے کیوں مگر مجھے بہت خوشی ہوئی میں نے اس کو ’’مبارک ہو‘‘ لکھ کر بھیجا اس نے جواب دیا۔
’’شکریہ نور۔‘‘اس دن مجھے اپنا نام بھی بہت اچھا لگا نجانے کیوں۔
’’دعا کرنے کے لیے شکریہ۔‘‘ اس نے اگلا میسج کیا اور میں نے اسے ’’مسٹر خوش فہم‘‘ لکھ بھیجا اور لیپ ٹاپ بند کردیا۔ میرے دل میں ایک اطمینان اور سکون سا تھا جیسا کسی اپنے کی کامیابی پر ہوتا ہے۔ اسی سر شاری میں اگلے دن خوامخواہ ربیعہ ‘ اریبہ اور عروہ کو سموسے کھلادیئے ان کو میں نے ارمغان سے بات کرنے کے بارے میں کچھ نہ بتایا تھا۔ وہ مسلسل کریدتی رہیں اور شک کی نظر سے دیکھتی رہیں مگر میں بھی بے پروا بنی رہی۔
بریک کے بعد ہمیں انگلش کی ٹیچر نے پچھلے ٹیسٹ واپس کیے‘ میں نے حسب معمول سب سے کم مارکس لیے تھے۔ میرا موڈ بُری طرح خراب ہوا۔
’’آخر سینٹیاگو نے مارلن (مچھلی) کو مارکر ہم پر احسان تھوڑی نہ کیا تھا اور یہ ہیمنگوے ہنہہ… یہ تو کاش پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔ کارنامے کرکے خود مرکھپ گئے‘ پر آنے والی نسلوں کو عذاب میں ڈال گئے اور ایک وہ ارمغان ہے جو ان فرنگیوں کے مضمون میں پڑھائی کرکے ٹاپ بھی کرگیا۔‘‘پھر میری سوچ وہیں رک گئی۔
’’ارمغان… انگلش وائو۔‘‘ جہاں مجھے پہلے نگریزی میں اپنی سپلی صاف نظر آرہی تھی اب ذرا امید بندھی‘ میں نے گھر جاکر اس کو میسج کیا۔
’’کیا تم مجھے انگلش سمجھادو گے؟‘‘ ابھی وہ شاید آن لائن نہیں تھا کچھ دیر بعداس نے جواب دیا۔
’’یہ کوئی ریاضی یا کیمسٹری نہیں جسے سمجھایا جائے‘ اسے تو بس محسوس کیا جاتا ہے۔‘‘
’’میں سیریس ہوں۔‘‘
’’اور میں ارمغان ہوں۔‘‘ آگے دانت نکالتی ہوئی اسمائل تھی‘ تھوڑی دیر تنگ کرنے کے بعد اس نے مجھے پڑھانے کی حامی بھرلی۔ اب روزانہ وہ مجھے The Old Man & the Sea کے اہم پیرا گرافس تفصیل سے سمجھادیتا۔ اس کا سمجھانے کا انداز نہایت عمدہ اور متاثر کن تھا۔ مجھے سمجھ آجاتی‘ میں اچھے بچوں کی طرح اس سے بے حد سوالات پوچھتی اور وہ نہایت صبر سے ہر ایک سوال کا تفصیلی جواب دیتا۔
’’Defeated اور Destroyed میں کیا فرق ہے؟‘‘ میں نے حسب عادت سوال پوچھا‘ ارمغان اب ناول کے تھیمز کروارہا تھا جس میں سے ایک یہ تھا۔
A Man Can be destroyed but can’t be defeated
’’Defeated کہتے ہیں ہارے ہوئے انسان کو جبکہ Destroyed شخص کو بظاہر تو تباہ کردیا جاتا ہے لیکن درحقیقت اس کی مہارت‘ اس کی ہمت اور جیت کا جذبہ زندہ ہوتا ہے۔ وہ جیت حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیتا ہے۔ اس دوران بھلے وہ تباہ و برباد ہوجائے مگر وہ کوشش کرنا کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہار نہیں مانتا اور جب تک انسان خود ہار نہ مان لے‘ اسے ہم ہارا ہوا نہیں کہہ سکتے۔ کامیابی ایسے ہی انسان کا مقدر ہوتی ہے‘ بالکل اس بوڑھے آدمی سینٹیا گو کی طرح جو کئی ٹن وزنی مچھلی کو مار کر آخر کار اس کا ڈھانچہ ساحل تک لے ہی آتا ہے۔ اس کو ہم Destroyed تو کہہ سکتے ہیں مگر Defeated ہر گز نہیں۔‘‘ ہمیشہ کی طرح تفصیلی جواب دے کر اس نے پوچھا ’’سمجھ آئی‘‘ اور میں نے کہا۔
’’یس ‘ گوٹ اٹ۔‘‘
’’انگلش موویز دیکھا کرو‘ ان میں تمہیں Destroyed اور Defeted کا فرق اچھی طرح سمجھ آئے گا جیسے Evil Dead اور…‘‘
’’انگلش موویز میں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔‘‘ میں نے اس کی بات کاٹ کر جتلاتے ہوئے کہا۔
’’ہوتا ہے‘ میں انکار نہیں کرتا مگر نور ایک بات یاد رکھنا کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک مثبت اور دوسرا منفی‘ جس انسان کا جیسا ذہن ہوتا ہے وہ اسی پہلو کو دیکھتا ہے جبکہ دوسرے پہلو کو نظر انداز کردیتا ہے۔ جس طرح ہر انسان میں کچھ اچھائیاں ہوتی ہیں اور کچھ برائیاں۔ کیا تم نے کبھی سوچا کہ ہمیں دوستوں کی صرف اچھائیاں اور دشمنوں کی صرف برائیاں ہی کیوں نظر آتی ہیں ‘ اگر دوستوں کی برائیاں اور دشمنوں کی اچھائیاں نظر بھی آجائیں تو ہم ان کو نظر انداز کردیتے ہیں جیسے انہیں سوچنا ہی نہ چاہتے ہوں بس سوچ بلند ہونی چاہیے پھر محض مثبت پہلو نظر آتا ہے۔‘‘ اور میں قائل ہوجاتی۔
میرے امتحانات کی ڈیٹ شیٹ آچکی تھی اور میں پڑھائی میں زور و شور سے مصروف تھی۔ فیس بک کا استعمال اب بہت کم کردیا تھا‘ بس رات کو کچھ دیر ارمغان سے کچھ نہ کچھ سمجھ لیتی۔ اس نے تفصیلی نوٹس مجھے میل کردیئے تھے ان سے مدد لیتی۔ ارمغان کی باتوں سے بہت حوصلہ ملتا تھا‘ میں جو ہمیشہ سے ایک درمیانے درجے کی طالبہ رہی تھی اب پڑھائی میں دلچسپی لینے لگی تھی۔ ارمغان سے میں فرسٹ ڈویژن لینے کا وعدہ کرچکی تھی‘ مشکل تھا مگر ناممکن نہیں جب دلچسپی پڑھائی میں بھی ہو اور پڑھانے والے میں بھی…
امتحانات شروع ہوچکے تھے اور میں دن رات پڑھائی میں مگن البتہ فیس بک استعمال کرنا میں نے نہیں چھوڑا تھا۔ محض چند لمحوں کے لیے ارمغان کی بھیجی کوئی کوئٹ پڑھنے کے لیے میں فیس بک ضرور چیک کرتی۔ میرے امتحانات کے دنوں میں وہ مجھے حوصلہ افزا اور ہمت بندھانے والی اقوال بھیجتا۔ نجانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر اور مجھ میں ایک نئی طاقت بھرجاتی۔
ہر پیپر دینے کے بعد میں اس کو خوشی خوشی پیپر کے بارے میں بتاتی اور اس کی تعریفیں میرا حوصلہ مزید بڑھاتیں۔ آخری پیپر دے کر میں گھر لوٹی تو بے حد خوش تھی‘ اس روز میں نے ارمغان سے جی بھر کے باتیں کی اتنی کہ مریم نے بے زار ہوکر میرا لیپ ٹاپ چھین کر بند کردیا۔
’’پہلے محترمہ امتحانات میں مصروف تھیں اور اب ان محترم کے ساتھ یعنی کہ میں تو تمہاری کچھ لگتی ہی نہیں۔‘‘ مریم لاڈ بھری ناراضگی کے ساتھ میرے کندھے سے سر ٹکا کر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
مریم ارمغان کے بارے میں سب جانتی تھی اس کے اور میرے درمیان کوئی راز نہ تھا۔ دو سال کا فرق کچھ زیادہ تو نہ تھا‘ اس کی اور میری بہت اچھی دوستی تھی۔ مریم کو تو ان تمام چیزوں کا بھی علم تھا جن کی میں عادی تھی‘ وہ امی سے چھپا کر میرا ’’نشہ پورا کرنے‘‘ میں میرا پور پورا ساتھ دیا کرتی۔
مریم میری بہت ہی پیاری بہن‘ ان دنوں وہ سیکنڈ ائر کے امتحانات سے فارغ ہوکر زور و شور سے ایم کیٹ کی تیاری میں مصروف تھی۔ ڈاکٹر بننا اس کی سب سے بڑی خواہش تھی میرے برخلاف وہ شروع سے ہی بہت لائق فائق تھی۔ میٹرک میں بورڈ میں دوسری پوزیشن لی تھی جبکہ فرسٹ ائر میں بھی وہ اپنی کلاس میں اول آئی تھی اور سیکنڈ ائر کے رزلٹ کے لیے نہایت پُرامید تھی۔
کاشی اور شانی کو ڈانٹنا اور پھر ان کے فرمائشی کھانے پکانا‘ اماں کی گھر کے کاموں میں مدد کرنا اور ابا سے جی بھر کے لا ڈ اٹھوانا‘ گھر بھر کی مینا تھی وہ۔ پھر رات دیر تک ہم نے ڈھیر ساری باتیں کی‘ اگلے دن ارمغان سے بات ہورہی تھی‘ وہ ایک دم سے سنجیدہ ہوگیا۔
’’نور! میں نے امی سے تمہاری بات کی ہے‘ وہ تمہارے گھر آنا چاہتی ہیں۔‘‘ اُف اتنا ڈائریکٹ انداز‘ میں کانپ سی گئی۔
’’اصل میں پہلے میں نے تمہارے امتحانات کی وجہ سے یہ بات نہیں چھیڑی کہ کہیں تم پریشان نہ ہوجائو۔‘‘ میں ابھی کوئی جواب نہ دے پائی تھی شاید جواب دینے کی حالت میں نہیں تھی مگر اسے معلوم تھا کہ میں یہ سب پڑھ رہی ہوں۔ کافی دیر گزر گئی میں نے جواب دیئے بنا لاگ آئوٹ کردیا۔
’’ارمغان نے مجھے پرپوز کیا ہے‘ وہ اپنی والدہ کو بھیجنا چاہتا ہے۔‘‘ رات کو دیر تک پڑھنے کے بعد مریم جو ابھی ابھی سونے کے لیے لیٹی تھی میری بات سن کر اچھل کر اٹھ بیٹھی اور میرے بیڈ پر آبیٹھی۔ یہ ہم دونوں کا کمرہ مشترکہ تھا۔
’’واقعی…‘‘ وہ بے حد پرجوش تھی‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’کیا مجھے خوش ہونا چاہیے؟‘‘
’’خوش نہیں بہت زیادہ خوش‘ اگر ایسا ہوجائے تو اوہ مائی گاڈ۔‘‘ مریم نے اپنے دونوں ہاتھ گالوں پر رکھے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا شاید وہ تصور ہی میں … اُف پتا نہیں کیا سوچ رہی تھی۔
’’مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘ میں ابھی تک فیصلہ نہ کرپائی تھی۔
’’فوراً اس کو ہاں کہہ دو۔‘‘
’’مریم! مگر اماں ابا…‘‘
’’اُف او‘ چھوڑو انہیں میں آرام سے منالوں گی۔ تمہیں میری صلاحیتوں پر یقین ہونا چاہیے۔‘‘ اس نے اٹھلا کر کہا اور پھر گھنٹہ بھر وہ پتا نہیں کیا کیا کہتی رہی ‘ میں کچھ نہ سمجھ سکی میں تو جیسے صدمہ سے نکل ہی نہ پارہی تھی۔ پھر وہ سوگئی اور میں… میں ساری رات جاگتے ہوئے ہی خواب دیکھتی رہی۔
میں نے ارمغان کو جواب دے دیا چند لمحے تو اس کی طرف سے کوئی میسج نہیں آیا۔
’’ میں بہت خوش ہوں نور!‘‘ بہت ہی دیر بعد جواب آیا۔
اگلے دن مریم کا رزلٹ تھا‘ دو بجے فیڈرل بورڈ نے رزلٹ کا اعلان کرنا تھا۔ مریم کافی بے چین تھی‘ صبح سے ادھر اُدھر گھوم رہی تھی۔
’’اُف او بیٹھ بھی جائو مریم! اتنے اچھے تمہارے پارٹ ون کے نمبر ہیں‘ اب تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’یہی تو پریشانی ہے ناں‘ پہلے پارٹ ون میں فرسٹ پوزیشن لی تھی اب اگر فرسٹ نا آسکی تو؟ اور پھر میڈیکل…‘‘
’’اتنے اچھے نمبر ہیں تمہارے اور میڈیکل میں تو اپنا نام پکا سمجھو۔‘‘ انہی باتوں میں دو بج گئے‘ میری گود میں لیپ ٹاپ رکھا تھا‘ رول نمبر لکھا۔ مریم کمرے سے نکل گئی اور رزلٹ آگیا اور میری بہن اپنے کالج میں پہلے نمبر پر آئی تھی۔ کاشان اور شایان نے شور مچایا۔ میں نے کمرے سے باہر نکل کرنم آنکھوں سے اسے گلے لگالیا۔
’’پگلی! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مریم نور اپنے کالج میں فرسٹ آنے کا ریکارڈ توڑ دے۔‘‘ مریم نے چیخ ماری اور مجھے بھینچ لیا۔ اماں خوشی سے سجدے میں گرگئیں‘ ابا فوراً مٹھائی لے آئے اور یوں تھوڑی ہی دیر میں گھر بھر میں خوشیاں پھیل گئیں۔ رات کو فیس بک آن کی تو ارمغان آن لائن تھا‘ اس کو مریم کے رزلٹ کا بتایا تووہ بے حد خوش ہوا‘ مبارک باد دی‘ ٹریٹ مانگی۔ مریم میرے ساتھ بیٹھی تھی ‘ اس نے خود ارمغان سے بات کی اور مبارک باد وصول کی پھر اماں نے کسی کام سے بلایا تو اٹھ کر چلی گئی۔
’’نور! امی تم سے بات کرنا چاہتی ہیں‘ کیا تم اپنا سیل نمبر دے سکتی ہو۔‘‘ ہم دونوں نے کبھی فون پر بات نہیں کی تھی‘ ہمیشہ فیس بک پر ہی چیٹ کرتے تھے۔
’’ٹھیک ہے مگر میں صرف آنٹی سے بات کروں گی۔‘‘ میں نے شرارت سے کہا۔
’’مجھے بھی تمہاری آواز سن کر خواب میں ڈرنا نہیں ہے۔‘‘ اس نے بھی میرے انداز میں جواب دیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے مصنوعی غصہ دکھایا۔
’’میرا مطلب ہے تمہاری آواز سن کر مجھے خوشی سے نیند ہی نہیں آئے گی‘ سوئوں گا نہیں تو خواب بھی نہیں آئے گا اور جب خواب نہیں آئے گا تو ڈروں گا کیسے۔‘‘ اُف اس کی وضاحتیں مجھے ہنسی آئی‘ بہرحال میں نے نمبر دے دیا۔
اگلے دن ایک اجنبی نمبر سے کال آئی‘ مجھے تھوڑا بہت اندازہ تھا اس لیے فون اٹھالیا‘ کوئی خاتون تھیں۔ اپنا تعارف ارمغان کی والدہ کی حیثیت سے کروایا‘ میں نے ان سے تھوڑی سی بات کی‘ زیادہ تر وہ خود ہی بولیں۔اپنے بارے میں سب بتایا‘ بچوں کے بارے میں اور کچھ اپنے مشاغل بتائے۔ میں ’’ہوں‘ ہاں‘‘ کرتی سنتی رہی‘ ان کو شاید ارمغان میرے بارے میں سب بتاچکا تھا اس لیے مجھ سے انہوں نے کچھ نہ پوچھا۔ کچھ معمول کی باتوں کے بعد فون رکھ دیا‘ مریم نے مجھے خوب ڈانٹا۔
’’اتنا اچھا موقع تھا‘ اچھا امپریشن بنانے کا‘ گپ شپ لگانی تھی۔ جب وہ اپنے بچوں کی عادتیں‘ مشاغل بتارہی تھیں تو تم اپنے اور اپنے بہن بھائیوں کے معتلق بات کرتیں۔‘‘
’’اُف میں پہلی بار بات کرتے ہوئے کیسے اتنا زیادہ بولتی‘ تم بات کرنا اگلی بار اور خوب گپ شپ لگانا۔‘‘ میں نے اسے ٹالا۔ دراصل میرا ذہن آنٹی کی باتوں میں الجھا ہوا تھا‘ وہ بتارہی تھیں کہ دو چار دنوں میں ارمغان کا کوئی بزنس ٹور ہے‘ ایک مہینے کے لیے اسے روس جانا ہے اس کی واپسی کے بعد وہ باقاعدہ رشتہ لے کر ہمارے گھر آئیں گی۔ اس دوران مجھے یا مریم کو کسی بھی طرح سے یہ بات اماں اور خصوصاً ابا سے کرنی تھی‘ روانگی سے قبل ارمغان نے بتایا کہ کاروبار کی مصروفیت اور کچھ مسائل کی وجہ سے وہ ٹور کے دوران رابطہ نہ کرسکے گا۔ اس لیے اب ہماری بات ایک مہینہ بعد ہونی تھی یعنی کہ ایک مہینہ میں اس کی باتوں کی اس قدر عادی ہوچکی تھی کہ مجھے ان کے بغیر مہینہ گزارنے کا خیال ہی پریشان کررہا تھا مگر ایک مہینے کے بعد کا خیال تسلی بخش تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
اتوار کا دن تھا میرا موڈ روزانہ سے کچھ زیادہ اچھا تھا‘ سو جوش میں آکر سارے گھر کی صفائی کر ڈالی۔ اماں حیران تھیں جبکہ مریم آتے جاتے کوئی نہ کوئی فقرہ شرارت سے کس دیتی۔ میں زیر لب مسکراتی کام میں مصروف رہی‘ کاشان کل سے مریم کو چائنیز پکانے کاکہہ رہا تھا۔ مریم اپنی کتابیں سمیٹ کر کچن میں آئی تھی۔ میں نے اس کو واپس پڑھنے کے لیے بھیجا اور خود چاول نکالنے لگی‘ کچھ ہی تو دن رہ گئے تھے اس کے میڈیکل کے ٹیسٹ میں…
چائنیز پلائو تیار تھا‘ اسے دم پر رکھ کے نہانے چلی گئی‘ جب واپس آئی تو لائونج سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں‘ مریم سے پوچھا۔
’’پتا نہیں‘ دوپینڈو ٹائپ خواتین ہیں‘ مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے بس جیسے ہی یہ جائیں فوراً کھانا لگادینا۔‘‘ اماں نے مجھے آواز دی۔
لائونج میں اماں کے ساتھ ایک اماں کی عمر کے برابر کی خاتون اور اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو ان کی بیٹی تھی۔ اس کی گود میں دو سال کا بچہ بھی تھا۔ مریم نے ٹھیک کہا تھا‘ وہ گائوں سے آئی تھیں۔ اس خاتون نے مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر فوراً گلے لگایا (اف یہاں سے واپس جاکر مجھے فوراً منہ دھونا تھا)وہ دونوں ماں بیٹی اماں سے یوں گھلی ملی بیٹھی تھیں جیسے ان کی قریبی رشتہ دار ہوں۔ میں معذرت کرکے اٹھ گئی‘ ابھی دروازے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ میرے کانوں نے سنا۔
’’راحیل (ابا) گھر آجائے تو پھر تاریخ پکی کرلیتے ہیں بس رحیمہ اب مجھ سے مزید انتظار نہیں ہوتا۔‘‘
اس جملے نے میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجادیں‘ تھکی تھکی سے اپنے کمرے میں پہنچی۔ سامنے مریم کتابوں میں سر دیئے بیٹھی تھی‘ میں اپنے بستر پر چادفر اوڑھ کر لیٹ گئی۔ مریم نے تھکا ہوا جان کر کوئی سوال نہ کیا‘ میں اس وقت اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی بس ایک امید تھی کہ ابا گائوں کے رشتے کے لیے نہیں مانیں گے شاید وہ خواتین چلی گئی تھیں۔
اماں نے کھانا کھانے کے لیے بلا تھا۔ مریم نے مجھے اٹھایا تو میں نے طبیعت خرابی کاکہہ کر اسے ٹالا۔
’’ایک دن کام کرلیا تو یہ حالت ہے اور میں اور اماں جو روز سارے کام کرتے ہیں وہ…‘‘ وہ ناراضگی سے بڑبڑاتی چلی گئی۔ میں لیٹی رہی‘ نجانے کس وقت آنکھ لگ گئی رات کے وقت جاگی تو کمرے میں اندھیرا تھا۔ لاٹ جلائی‘ گیارہ بج رہے تھے‘ مریم نے یقینا میرے آرام کی خاطر کمرے کی بتی بجھا رکھی تھی۔ پتا نہیں خود کہاں تھی میں باہر نکلی تو وہ سامنے لائونج میں بیٹھی پڑھ رہی تھیں۔ کتابوں کے ساتھ ہی رکھے چائے کے کپ سے گھونٹ گھونٹ چائے بھی پی رہی تھی۔ مجھے شرمندگی ہوئی‘ میں ہی رات دیر تک اس کے ساتھ جاگنے کے علاوہ اسے چائے بھی بناکر دیتی تھی۔ اس نے جیسے ہی مجھے دیکھا‘ کتابیں رکھ کر فوراً میری طرف آئی۔
’’نور تمہیں پتا ہے‘ آج جو عورتیں ہمارے گھر آئی تھیں۔‘‘ پھر وہ بولتی گئی اور میں سنتی گئی اور مجھے اب سننا ہی تھا اور سہنا ہی تھا۔
وہ عورتیں واقعی میرے رشتے کے لیے آئی تھیں‘ نہیں بلکہ تاریخ لینے‘ رشتہ تو بہت پہلے ہوچکا تھا۔
میرے بچپن میں ہی جس سے ابا اور اماں کے علاوہ سب لاعلم تھے۔ ابا نے مجھے اس لیے لاعلم رکھا تھا تاکہ بے کار کی سوچیں میری پڑھائی نہ خراب کردیںاب جبکہ میرا بی اے مکمل تھا تو ابا کی آمادگی پر ہی وہ خواتین شادی‘ نکاح کی تاریخ لینے اور دیگر معاملات نپٹانے آئی تھیں۔ ابا نے ان کو نکاح کے لیے دو ماہ بعد کی تاریخ دے دی تھی‘ نکاح سے اگلے دن رخصتی ۔
رشتہ طے کرنے والی بات کی بھی لمبی کہانی تھی‘ میرے دادا ابو کی کوئی لمبی چوڑی جائیداد تھی۔ اس جائیداد پر دادا کے بڑے بھائی کا ناجائز قبضہ تھا گو وہ قانونی مدد لے کر اپنی جائیداد واپس لے سکتے تھے مگر شاید خاندانی ناچاقی کو منظر عام پر نہیں لانا چاہتے تھے۔ دادا اور خاندان کے کچھ اور معزز لوگوں کے آرام سے سمجھانے پر دادا کے بھائی پر کوئی اثر نہ پڑا تھا البتہ وہ یہ جانتے تھے کہ دادا یعنی ان کے چھوٹے بھائی قانون کی مدد لے کر جائیداد واپس لے سکتے ہیں۔ جب میری پیدائش ہوئی تب ان کو ایک خیال آیا انہوں نے دادا کے آگے یہ آفرز رکھی کہ ان کی پوتی (میرا) رشتہ ان کے پوتے سے طے کرنے پر وہ ان کے ساری جائیداد اس کو واپس کردیں گے۔ دادا کو ان کا پورا منصوبہ معلوم نہ تھا‘ خاندان میں رشتہ کرنا ویسے بھی بہت عام سی بات تھی اس لیے دادا ابو خود بھی مان گئے اور ابا کو بھی منا ہی لیا۔
شرط کے مطابق جائیداد کے کاغذات دادا کو ہمارے نکاح کے بعد ہی مل سکتے تھے۔ اس لیے ان کی خواہش تھی کہ میرا نکاح گائوں کے رواج کے مطابق پانچویں یا آٹھویں کے پاس کرنے کے بعد رشید سے کردیا جاتا۔ نجانے ابا نے کس طرح ان کو روکا میرا بی اے مکمل کروایا تھا۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے والدین ہمارے لیے کیا کیا کررہے ہیں‘ ہمیں بس وہ معلوم ہوتا ہے جو وہ ہمارے لیے نہیں کرپاتے۔
گو ابا اب بھی چاہتے تھے کہ میری شادی ایم اے کرنے کے بعد ہو مگر اب کی با ردادا ابو ان کو منانے میں کامیاب ہوچکے تھے ویسے بھی میری تعلیم گائوں کی باقی لڑکیوں سے بہت زیادہ تھی۔ وہ رشید بھی محض آٹھویںپاس تھا اور بقول مریم اس کی ماں ایسے فخر سے یہ بات بتارہی تھیں جیسے اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہو‘ وہ اپنے باپ اور چچا کے ساتھ زمینوں کا کام سنبھالتا تھا۔
مریم کی چائے ٹھنڈی ہوچکی تھی‘ وہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی شاید میری اور اپنی چائے لانے‘ میں گہرے صدمے کی حالت میں تھی۔ کچھ ہی دیر میں مریم چائے لے آئی۔
’’یعنی دادا اور ابا مل کر مجھے بیچنا چاہتے ہیں۔‘‘ احساس سے خالی لہجے میں میرے منہ سے نکلا۔
’’ایسا ہر گز نہیں ہے نور! ہاں دادا ایسا ضرور چاہتے ہیں مگر ابا نے ان کو صاف کہہ دیا ہے کہ اگر نور نہیں مانی تووہ کبھی اس کا نکاح رشید سے نہیں کریں گے‘ بھاڑ میں جائے جائیداد!‘‘ میرے دل میں ایک سکون کی لہر اٹھی۔
’’لیکن اگر دادا نے ابا پر دباؤ ڈالا‘ ایموشنلی بلیک میل کیا تو پھر۔‘‘
’’یہ ان کے اپنے مسئلے ہیں لیکن اتنا یاد رکھنا نور! ابا ساری زندگی اپنی ترجیحات میں اپنی اولاد کو کبھی بھی دوسرے نمبر پر لے کر نہیں آئے‘ چائے پیو اب۔‘‘ مریم کی باتوں نے میری پریشانی کافی حد تک کم کردی تھی۔ میں نے قدرے سکون سے چائے پی‘ مریم پھر سے پڑھائی میں مشغول ہوچکی تھی۔ کل اس کا میڈیکل کا ٹیسٹ تھا‘ جس کے لیے اس نے دن رات ایک کرکے تیاری کی تھی۔ میں نے دونوں خالی کپ ٹرے میں رکھے اور کچن میں لے آئی‘ سامنے شیلف پر پھلوں اور مٹھائیوں کے ڈھیر رکھے تھے‘ میں بے حد کوفت زدہ انداز میں باہر نکل آئی۔
’’مریم اب تھوڑی دیر آرام کرلو‘ تھکے ہوئے ذہن کے ساتھ کل کیا لکھ پائو گی؟‘‘ میں نے زبردستی اس کی کتابیں بند کیں اور اسے کمرے میں لے جاکر سلادیا جبکہ میری اپنی رات اندیشوں میں گزر گئی۔
ابا ابھی شام کے وقت دو دن کے لیے کام کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر گئے تھے۔ اتنے سال کی انتھک محنت کے بعد وہ ایک اپنا شوروم بنانے میں کامیاب ہوچکے تھے‘ سو یہ دو دن ابھی میں نے بے چینی میں گزارنے تھے۔
٭٭٭…٭٭٭
صبح میں نے مریم کو جلد اٹھادیا‘ آٹھ بجے اس کا ٹیسٹ تھا۔ وہ کچھ نروس سی تھی‘ تیار ہوکر سب کی دعائیں لے کر وہ ٹیسٹ کے لیے روانہ ہوئی۔ مجھے اس پر یقین تھا اس کے میٹرک اور انٹر میں اتنے شاندار نمبر تھے کہ میڈیکل اس کا صاف نظرآتا تھا۔ وہ خوشی خوشی گھر لوٹی بقول اس کے ٹیسٹ بہت اچھا ہوا تھا‘ رزلٹ تو شاید ایک ہفتے بعد آنا تھا مگر شام کے وقت درست جوابات یو ایچ ایس کی ویب سائٹ پر آجاتے تھے۔ میں مطمئن تھی ہمیں دنیا سیدھی سادی سی لگتی ہے حالانکہ یہ گول ہوتی ہے‘ جانے کب کہاں اور کیسے مڑ جائے‘ کچھ پتا نہیں چلتا۔
مریم بہت گہرے شاک میں تھی‘ اس نے ٹیسٹ میں جتنے نمبر لیے تھے‘ ان کے ساتھ اس کی پرسنٹیج صرف اکاسی فیصد بنتی تھی جو کسی بھی سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے بہت کم تھا۔وہ میرٹ میں نہیں آسکی تھی‘ اس کے خواب‘ اس کا جنون‘ سب ختم ہوگیا تھا۔ ’’مجھے نہیں معلوم نور! میرا ٹیسٹ بہت اچھا ہوا تھا آخر میرے اتنے کم نمبر کیوں آئے۔‘‘ وہ بری طرح روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ میرے دل کو کچھ ہوا‘ اسے تکلیف میں دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہورہی تھی اس کی آنکھوں سے صرف آنسو نہیں نکل رہے تھے اس کے خواب بھی بہہ رہے تھے۔میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کو تسلی دینی چاہیے‘ اس کا ہاتھ بے حد گرم تھا‘ اس کو بہت تیز بخار تھا۔
’’ اماں‘‘ میں بھاگی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’ذہنی دھچکا لگا ہے جو ظاہر ہے بہت گہرا ہے۔ اس کو آرام کی سخت ضرورت ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا‘ کاشان نے فوراً کال کرکے ڈاکٹر کو بلوالیا تھا۔ ڈاکٹر چلا گیا‘ اماں مریم کے لیے سوپ بنانے کچن میں چلی گئیں‘ کاشی اور شانی کو میں نے مریم کے آرام کی خاطر کمرے سے نکال دیا اس کا چہرہ بے حد کمزور اور زرد لگ رہا تھا۔ ایک ہی دن میں بلکہ کچھ ہی گھنٹوں میں وہ بے حد کمزور ہوگئی تھی۔
’’میڈیکل… میں مرجائوں گی‘ نور میرا میڈیکل میں داخلہ نہ ہوا تو میں… تو مرجائوں گی میں…‘‘ وہ بڑبڑاتی رہی یہاں تک کہ دوائیوں کے زیر اثر وہ نیند میں چلی گئی۔
اس کی حالت میرے لیے بے حد پریشانی کا باعث تھی‘ آخر قسمت ہمیں اس سراب کے پیچھے بھاگنے کے لیے کیوں منتخب کرلیتی ہے جب وہ ہمارے مقدر میںنہیں ہوتا۔ نہیں‘ مریم کا ایڈمیشن ضرور ہوگا‘ یہ میڈیسن ضرور پڑھے گی۔ سرکاری میڈیکل کالجز میں نہیں تو نہ سہی‘ پرائیوٹ کالجز والے تو آرام سے ایڈمیشن دے دیں گے‘ اتنا اچھا تعلیمی ریکارڈ۔
مگر پیسہ… وہ کہاں سے آئے گا‘ ابا کے پاس تو جائیداد نام کی کوئی چیز نہیں تھی جو دادا سے وراثت میں ملنی تھی وہ ابھی تنازعے میں تھی ایک ذاتی شو روم اور بس وراثت‘ جائیداد‘ میرے ذہن میں ایک خیال کوندے کی طرح لپکا۔ جائیداد ابا کو دادا سے تبھی مل سکتی ہے جب داداکو ان کے بھائی سے ملتی اور وہ تبھی ہوگا جب…
یہ میں کس دوراہے پر آن کھڑی ہوئی ہوں‘ یااللہ میری مدد فرما۔ کچھ تھا جیسے حد سے بڑھی بے چینی اور حد سے بڑھے سکون کی ملی جلی کیفیت ہوتی ہے۔ میں سونا سکی مگر میںصبح سے پہلے ایک فیصلہ کرچکی تھی۔
دو دن بعد ابا گھر واپس آچکے تھے‘ مریم اب رو دھوکر چپ ہوگئی تھی۔ بالکل چپ‘ کسی سے کوئی بات نہ کرتی‘ سارا دن چپ چاپ اپنے بستر پر پڑی رہتی اور میں اسے دیکھ کر کڑھتی رہتی۔
شام کے وقت ابا نے مجھے بلوالیا‘میں ان کے کمرے میں گئی تو وہ میرا انتظار کررہے تھے‘ انہوں نے ساری تفصیل کو مختصراً بتایا اور پھر میرا فیصلہ پوچھا۔
’’اگر آپ کو یہی مناسب لگتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘میرا لہجہ بے حس تھا‘ ابا لہجے پر غور کیے بغیر جواب سن کر پرسکون ہوگئے۔
’’مگر میری ایک خواہش ہے ابا۔‘‘
’’بولو بیٹا۔‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ آپ زمین کاکوئی حصہ بیچ کر مریم کا میڈیکل میں ایڈمیشن کروادیں۔‘‘
’’میں خود بھی یہی چاہتا ہوں لیکن تم…‘‘ میں نے بات کاٹی۔
’’اور آپ مریم کو نہیں بتائیں گے کہ میں نے آپ سے اس کے ایڈمیشن کی بات کی۔‘‘ میں بات ختم کرکے کمرے سے نکل آئی۔ اپنے کمرے میں آکر چادر لپیٹ کر سوگئی‘ گھٹن اس قدر تھی کہ سانس بند ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ دل مارنا اتنا آسان نہیں ہوتا‘ روح تار تار ہوجاتی ہے کچھ دکھائی نہیں دیتا‘ سجھائی نہیں دیتا۔
میں اس وقت بے حد سکون اور حد سے بڑھی بے چینی کی ملی جلی کیفیت میں تھی۔ دل کٹ رہا تھا مگر روح پرسکون تھی یا شاید روح بے چین اور دل پرسکون۔
’’یہ تم نے کیا کیا نور!‘‘ مریم کمرے میں آئی اور آتے ہی جیسے پھٹ پڑی۔
’’جو مجھے مناسب لگا۔‘‘
’’اور میڈم بخت نور کو یہ کیسے مناسب لگا؟‘‘ اس کے لہجے میں طنز تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مجھے مریم کو مطمئن کرنا تھا‘ میں اٹھ بیٹھی۔
’’میری بات غور سے سنو مریم! دادا ابو اور ابا کو جائیداد واپس مل جائے گی پہلی بات اور دوسری اگر میں وہاں شادی نہ کروں تو ابا اور داداکے درمیان اختلافات پیدا ہوجائیں گے اور میں نہیں چاہتی کہ دادا کو اس عمر میں اپنے اکلوتے بیٹے کی طرف سے غم ملیں اور نہ ہی میں یہ چاہتی ہوں کہ ابا اپنے باپ کو ناراض کرکے اللہ کی ناراضگی مول …‘‘
’’خدا کے واسطے نور! سب کی پروا ہے اور اپنی… کیسے رہو گی اس دیہاتی کے ساتھ ساری عمر؟‘‘
’’رہ لوں گی گڑیا! زندگی کا کیا ہے بس گزر ہی جائے گی۔‘‘
’’میں تمہیں ایسا ہر گز نہیں کرنے دوں گی‘ میں ابھی جاکر ابا کو ارمغان کے بارے میں سب بتادوں گی۔‘‘
’’اگر تم نے ایسا کیا تو میں تم سے ہمیشہ کے لیے تعلق توڑ لوں گی مگر شادی پھر بھی رشید سے کروں گی اور یہی میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘ میں نے بے حسی کی چادر میں خود کو مکمل طور پر چھپالیا۔
’’اپنا نہیں تو اس انسان کا ہی سوچو جو تمہارے ساتھ کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے۔‘‘ مریم کے لہجے میں درد تھا۔
’’مجھے کسی کی پروا نہیں۔‘‘ میں دوبارہ چادر اوڑھ کر سوتی بن گئی‘ مریم خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔
٭٭٭…٭٭٭
دن گزرنے لگے اماں نے میری شادی کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ مریم ہر معاملے میں لاتعلقی دکھارہی تھی‘ اماں ہر روز مجھے شاپنگ کے لیے لے جاتیں اور میں کسی روبوٹ کی طرح ان کے ساتھ بس چلتی رہتی۔ انکار کرکے میں انہیں دکھ نہیں دینا چاہتی تھی‘ وہ مجھ سے میری پسند پوچھتیں تو میں چپ چاپ کسی بھی ایک چیز پر ہاتھ رکھ لیتی۔
دن یونہی گزرتے گئے اس دوران میں نے ایک اور کام یہ کیا کہ فیس بک کھول کر ارمغان کو ایک آخری میسج بھیجا۔
’’ابا نے میرا رشتہ طے کردیا ہے بلکہ بچپن سے طے تھا‘ مجھے اب علم ہوا۔ دو محبتوں میں سے اگرکسی ایک کو چننا پڑے تو ایک مشرقی لڑکی ہمیشہ خونی رشتے کو فوقیت دیتی ہے۔ معافی نہیں مانگوں گی اور تم مجھے معاف کرنا بھی مت‘ البتہ اگر ہوسکے تو بھلا دینا یہ ہم دونوں کے لیے بہتر ہوگا۔‘‘
اس کے بعد اپنی آئی ڈی ڈیلیٹ کردی (کاش کچھ یادیں بھی ڈیلیٹ ہوسکتیں) لیپ ٹاپ کو الماری کے نچلے خانے میں رکھ دیا‘ موبائل بھی مستقل بند کر رکھا تھا۔ سب رابطے توڑ دیئے‘ کاش دلوں کے رابطے بھی اتنی آسانی سے ٹوٹ سکتے۔
مریم نے مجھ سے بات چیت کرنا بند کردی تھی وہ گھر کے کام کرتی رہتی یا پھر کاشان اور شایان کو زبردستی بٹھا کر پڑھاتی رہتی۔وہ دونوں نویں کلاس میں تھے اور مریم نے زبردستی ان دونوں کو سائنس رکھوائی تھی‘ ان دونوں کا ذہن کھیل کود کی طرف زیادہ لگتا اس لیے پڑھائی کے وقت ان کے چہروں پر جہاں بھر کی بے زاریت ہوتی۔
اس دن دوپہر کے وقت بھی وہ انہیں زبردستی پڑھارہی تھی‘ اماں میرے کپڑے لے کر درزن کے گھر گئی ہوئی تھیں‘ میں ابھی کمرے سے نکلی تھی۔
’’مریم آپی اس پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘‘ شایان نے بے زاری سے کہا‘ مریم نے اسے غصے سے گھورا۔
’’سبق پر دھیان دو۔‘‘
’’سچ آپی‘ کیا فائدہ اتنی پڑھائی کا‘ آپ نے بھی تو اتنی محنت کی پھر بھی میڈیکل میں ایڈمیشن نہیں ملا۔‘‘ کاشان تو روانی میں کہہ گیا مگر مریم کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے تھے میں بغور اسے دیکھ رہی تھی۔
’’تم دونوں یہ ٹاپک مکمل کرو‘ میں ابھی آتی ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر کمرے میں چلی گئی‘ اس کی آنکھوں میں نمی اور چال میں بے حد تھکن تھی‘ میں اس کے پیچھے پیچھے آئی۔
’’وہ بچہ ہے مریم! پلیز اس کی باتوں کو دل پر مت لو۔‘‘
’’وہ بچہ ہے مگر تم تو میچور ہو مگر تم نے ثابت کیا کہ تعلیم واقعی انسان پرکوئی اثر نہیں ڈالتی۔‘‘ وہ غصے سے کہتی ہوئی چلی گئی۔
’’کاش تم سمجھ سکو مریم کہ میری اس قربانی کی وجہ تم ہو مگر نہیں‘ یہ جان کر تمہیں غم ہوگا۔ تم ایسا کبھی بھی نہیں چاہو گی‘ خدا کرے تمہیں کبھی یہ معلوم نہ ہو۔‘‘ میں نے سوچا۔
آج یا کل ارمغان وہ میسج پڑھ لے گا۔ اسے لگے گا کہ میں نے مذاق کیا ہے‘ کاش یہ واقعی ایک مذاق ہوتا۔
٭٭٭…٭٭٭
مہینہ… سوا مہینہ… ڈیڑھ مہینہ اور پھر دومہینے بھی گزر گئے‘ کل یعنی بروز جمعہ میرا نکاح ہونا تھا اور پھر پرسوں رخصتی‘ مہندی کی تقریب کل نکاح کے بعد ہی تھی۔ گھڑیاں گزارنی مشکل تھیں اور پھر ایک ہی راز داں تھی اور اس کا رویہ‘ وہ آج کل میرا سامنا کرنے سے بھی گریز کررہی تھی۔وہ سوتی بھی لائونج میں تھی‘ مجھے اس کے رویے سے دکھ پہنچ رہا تھا۔ کم از کم اسے تو میرا ساتھ دینا چاہیے تھا۔
رات ہوگئی‘ اداس چاند اور غمزدہ تاروں نے رات بھر میرے دکھ میں آنسو بہائے۔ رات کی سیاہی مانند پڑتے ہی وہ چند دوست بھی رخصت ہوگئے۔
صبح ہوتے ہی‘ مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی‘ کچھ دور دراز کے رشتہ دار پہلے ہی آچکے تھے‘ گیارہ بجے نکاح کی تقریب تھی‘ پارلر والی مجھے تیار کرگئی تھی۔ میرے ہاتھ‘ کان اورکلائیاں گیندے کے زرد رنگ سے بھری ہوئی تھیں‘ ایسا ہی زرد رنگ میرے چہرے پر تھا جسے میک اپ کے دوران چھپانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی۔
اچانک شور بلند ہوا‘ ڈھولک کی آوازیں آنا شروع ہوئیں‘ میری کزنز بھاگتی ہوئی کمرے میں آئیں۔
’’وہ لوگ آگئے‘ تیار ہوجائو نکاح کے لیے آرہے ہیں۔‘‘ وہ مسکراتی‘ کھلکھلاتی اطلاع دے کر بھاگ گئیں۔
چند لمحوں بعد نکاح کے لیے چار‘ پانچ مرد کمرے میں آئے‘ سب سے آگے ابا تھے۔ ان کو میں چال سے پہچان گئی ورنہ گھونگھٹ کی وجہ سے کسی کو نہ دیکھ پائی تھی‘ نکاح شروع ہوا۔
’’کیا آپ کو ارمغان شاہ ولد عبد الحق شاہ…‘‘ میرا ذہن مائوف ہوگیا‘ شاید میری قوت سماعت خراب ہوگئی تھی اور… مجھے وہ سنوا رہی تھی جو میں سننا چاہتی تھی۔ میں عجیب سی کشمکش تھی کہ اچانک میرے سر پر کسی نے ہاتھ رکھا‘ میں نے گھونگھٹ میں سے ذرا سا چہرہ نکال کر دیکھا‘ ابا نے مجھے دیکھ کر ہولے سے سر ہلایا‘ ان کے چہرے پر سکون تھا۔
’’قبول ہے… قبول ہے… قبول ہے‘‘
نکاح ہوگیا‘ سب لوگ کمرے سے چلے گئے‘ سب سے آخر میں ابا تھے‘ میں نے آواز دی وہ رک کر پیچھے مڑے۔
’’ابا یہ سب… یہ کیسے…‘‘ میری آواز لڑکھڑا گئی۔
’’ایک بیٹی کو اپنے باپ پر اتنا تو اعتماد اور مان ہونا چاہیے کہ اپنی پسند ناپسند بتاسکے۔‘‘
’’ابا…‘‘
’’رہے مسائل‘ ساری زندگی مسئلے سلجھانے میں ہی گزری ہے وہ الجھتے اور سلجھتے ہی رہتے ہیں۔‘‘
’’میں آپ کو غم نہیں دینا چاہتی تھی۔‘‘
’’مجھے تب غم ہوتا جب مریم وقت پر آگاہ نہ کرتی اور تمہارا نکاح رشید کے ساتھ ہوجاتا۔‘‘ باہر سے کسی نے ابا کو آواز دی‘ وہ مجھے دعا دے کر چلے گئے۔میں ابھی تک شاک میں تھی‘ تھوڑی دیر بعد کاشان نے مجھے ایک چٹھی لاکر پکڑائی اور جلدی میں باہر چلا گیا۔
’’مجھ سے بھلے عمر بھر کے لیے تعلق توڑ دو مگر اس انسان سے کبھی تعلق ختم مت کرنا جس سے تمہارا روح کا رشتہ ہے۔
مریم!‘‘
’’لیکن تمہارا میڈیکل…؟‘‘ مجھے ایک اور فکر نے آن گھیرا‘ باہر خوب گہما گہمی تھی شاید کھانا چل رہا تھا۔ کھانے کے بعد مہندی کی رسم ہونی تھی‘ مجھے آرام کرنے کے لیے کمرے میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ میں نے میں نے دروازے کی اوٹ سے سامنے سے آتی ایک کزن کو مریم کو بلانے کو کہا۔ تھوڑی دیر میں وہ میرے سامنے تھی‘ گولڈ رنگ کے لمبے پائوں تک آتے فراک اور پاجامہ میں ملبوس میری گڑیا پریوں جیسی لگ رہی تھی‘ اس نے بالوں پر کلپ لگا کر ان کو پیچھے سے کھلا چھوڑ رکھا تھا۔
’’بولو۔‘‘
’’تم بے مروت ہو مریم!‘‘
’’تم سے زیادہ نہیں۔‘‘
’’لیکن پھر بھی اچھی ہو۔‘‘
’’تم سے زیادہ نہیں۔‘‘ وہ مسکرائی‘ میری آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا۔
’’او ہیلو! پارلر والی نے اچھی خاصی رقم لی ہے‘ مہندی کا فنکشن گزر جائے تو پھر جتنا مرضی چاہے رو لینا۔‘‘میں ہنس پڑی۔
’’کیوں کیا یہ سب؟‘‘
’’یہ پوچھو کیسے کیا‘ ویل مجھ سے تمہاری شادی سے انکار والی وجہ ہضم نہیں ہوئی تھی سو میں نے کافی سوچ بچار کے بعد ابا کو ساری بات بتادی۔ پہلے ڈانٹ پڑی کہ اتنی دیر سے کیوں بتایا پھر ہم دونوں نے بلکہ پانچوں نے مل کر ایک پلان بنایا‘ تمہیں سرپرائز دینے کا‘ میں نے تمہارے فون سے ارمغان بھائی کا نمبر لیا‘ ابا نے رابطہ کیا سارے معاملات طے پائے اور یوں…‘‘
’’لیکن تمہارا میڈیکل؟‘‘ میں نے اس کی بات کاٹی۔
’’وہ یہاں کہاں آگیا اور ہاں مجھے ابا نے تمہاری شرط بتادی تھی اور مجھے پتا چل گیا کہ تم نے انکار میرے لیے کیا تھا۔‘‘
’’ہاں وہ وجہ بھی تھی مگر باقی سب وجوہات بھی غلط نہیں تھیں‘ اب دادا ابو اور ابا ناراض…‘‘
’’بالکل نہیں ہیں‘ ابا نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ لوگ خاندان کے تمام بڑے لوگوں کی موجودگی میں آخری بار دادا کے بھائی اور ان کے بیٹوں سے بات کریں گے اگر وہ نہ مانے تو ابا قانون کی مدد لیں گے۔ ان کو یقین ہے کہ عدالتی کارروائی سے وہ آسانی سے کیس جیت جائیں گے اور خدانخواستہ وہاں سے مسئلہ حل نہ ہوا تو ابا نے وعدہ کیا ہے کہ خواہ انہیں بینک سے لون لینا پڑے یا شوروم بیچنا پڑے‘ وہ مجھے ہر حال میں میڈیکل کی تعلیم دلوائیں گے۔‘‘ مریم کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اسے خوش اور مطمئن دیکھ کر میری روح سرشار ہوگئی۔
’’سیلفی پلیز۔‘‘ مریم نے اپنا فون سامنے کیا اور پھر دو مسکراتے چہروں کو وقت نے ایک لمحے میں محفوظ کیا۔
’’اور یہ سینڈ ہوگئی تصویر واٹس اپ پر۔‘‘ اس نے فون میرے سامنے کیا۔
’’کیا…‘‘ میں چلائی۔ مردوں کا انتظام ساتھ والے گھر میں کیا گیا تھا‘ ارمغان بھی وہیں تھا۔
’’اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اب میں صرف تمہاری نہیں بلکہ ارمغان بھائی کی بھی بہن ہوں اور پھر بھائی ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے تو بہنوں کی ہی مدد لیتے ہیں ناں۔‘‘
’’تم… چھوڑو گی نہیں میںتمہیں۔‘‘
’’ایک منٹ مان بھائی کا مسیج…‘‘ اس نے پڑھا۔
’’کیا خیال ہے رخصتی آج ہی نہ ہوجائے۔‘‘ آگے ڈھیر سارے دل بنے ہوئے تھے۔
’’اُف…‘‘ میں نے شرم سے اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپایا اور مریم نے ان لمحوں کو کیمرے میں قید کرنا شروع کیا‘ میں اس کو روکنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگی وہ اپنا بچائو کرنے کے ساتھ ساتھ ’’بھاگتی دلہن‘‘ کی تصویریں اتارتی گئی جنہیں اس نے اچھی خاصی رشوت لے کر ارمغان کو نہ دکھانے کا وعدہ کیا۔
مہندی کا فنکسن بس شروع ہونے ہی والا ہے‘ اس لیے مریم کو مدد کے لیے بلایا گیا۔ ابھی کچھ ہی دیر میں مجھے سب لڑکیاں فنکشن کے لیے باہر لے جائیں گی سو اب مجھے ماضی سے نکلنا ہے‘ حال کو دیکھنا ہے اور مستقبل کو خوش آمدید کہنا ہے کیونکہ خوشیاں میرے دروازے کے باہر کھڑی دستک دے رہی ہیں۔ اور میں ان کی خوشیوں کی تو عادی ہوں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close