Hijaab Mar-18

محبت گزیدہ

قرۃ العین سکندر

’’اے دلہن‘ مہمان خانہ تو جاکر جھانک آنا تھا‘ نجانے کیا درگت بنا ڈالی ہوگی‘ اس ظفری کے بچے کے تو ان گنت دوست ہیں‘ اللہ کی پناہ کچھ تو شکلاً اٹھائی گیرے دکھائی دیتے ہیں‘ آج ایک تو کل دوسرا‘ بھانت بھانت کی شکلوں والے انوکھے نمونے۔‘‘ دادی جان کا کام ہی یہی تھا‘ ایک کونے میں تخت پوش پر بیٹھی ہوئی گھر بھر کے کاموں پر ان کی عمیق نگاہ ہوا کرتی تھی۔ کون آرہا ہے کون جارہا ہے؟ پل پل کی خبر رکھنا گویا ان کی اولین ذمہ داری تھی۔ جیسے بہرکیف پورا کرنا ان کا شعار ٹھہرا تھا۔
’’جی اماں‘ صاف ستھرا نکھرا ہوا کمرہ ہے۔ آپ کیونکر فکرمند ہورہی ہیں۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے قدرے تعجب سے پوچھا۔
’’اے لو‘ بھول گئی ناں‘ بتایا بھی تھا کہ اس یکم کو بچہ گھر آئے گا اور پھر اس کا داخلہ ادھر ہی تو ہوا ہے‘ ہوسٹلوں (ہاسٹلوں) کے دھکے کھاتا پھرے کہاں کا انصاف ہے؟‘‘ دادی جان کی بات میں وزن تھا یا نہیں مگر ان کی بات کے اختتام پر سلمیٰ بیگم کو ضرور محسوس ہوا کہ کندھوں پر مزید ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔
’’ارے میری پیاری دادو۔‘‘ تبھی بھاگتی دوڑتی منچلی سی زویا نے دادی جان کو بازوں میں کس کر چوم ڈالا۔ دادی جان جو اپنی ہی سوچ میں گم تھیں اس افتاد ناگہانی پر کسی طور پر بھی ذہنی طور پر تیار نہ تھیں۔ جب ذرا حواس بحال ہوئے تو انہوں نے زویا کو مضبوطی سے تھام کر زور سے دو دھموکے اس کی کمر پر جڑ دیئے تھے۔ اور وہ ’’اوئی ماں‘‘ کرکے رہ گئی۔
’’کم بخت نگوڑی دماغ ہلا ڈالا میرا… انجر پنجر ہل کر رہے گے۔‘‘ دادی نے بے حد ناگواری سے ایک نگاہ نروٹھے پن سے دیکھتی زویا پر ڈالی۔
’’یہ اچھا انصاف ہے دادی‘ میں تو آپ پر اپنی محبت نچھاور کرتی پھروں اور آپ جواباً مجھے اس زور کی مار ماریں کہ دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے‘ کوئی یہاں گرا کوئی وہاں۔‘‘ زویا نے خفگی بھرے انداز میں افسردگی کی انتہا‘ چہرے پر طاری کرتے ہوئے باقاعدہ اداکاری کرتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو لمحہ بھر کے لیے دادی کے ساتھ ساتھ سلمیٰ بیگم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
’’اس چونچلے سے بہتر ہے جاکر کبھی کچن میں چولھا چوکی بھی کرلیا کر‘ سارا دن پڑی اینڈتی رہتی ہے‘ ارے کچھ سبق اپنی بہن سے ہی سیکھ لے۔‘‘ دادی جان نے اسے بری طرح سے لتاڑا مگر وہ زویا ہی کیا جو کسی طرح کے فرمودات کے زیر اثر آجائے۔
’’اللہ دادی اب یہ میری طرف سے تسلی رکھیں میں ہرگز بھی امور خانہ داری میں طاق نہیں ہوسکتی… نہ ہی میں اتنی سگھڑ ہوں کہ ہڑبونگ مچائے آناً فاناً سارے کام نبٹا کر یہ جا وہ جا۔‘‘ زویا کی بات پر دادی نے ایک ناگوار سی نظر اس پر ڈالی۔
’’اے دلہن سن رہی ہو اپنی بیٹی کی اعلیٰ سوچ و خیالات۔‘‘ دادی جان کی بات پر سلمیٰ بیگم حسب عادت دھیمے سے مسکرائیں۔ شادی کے پچیس سال بعد بھی وہ ابھی تک دلہن ہی کہلائی جاتی تھیں۔ اب ان کو بھی اس لفظ کے سننے کی راسخ عادت ہوچکی تھی۔ تبھی کچن سے پسینے سے شرابور زیبا نکلی۔
’’امی کوئی اور کام تو نہیں ہے ناں‘ میں نے کچن کے سارے کام نبٹالیے ہیں۔ آٹا گوندھ دیا‘ قیمہ مٹر تیار ہے‘ پلائو دم پر ہے‘ کباب ابا کے آتے ہی میں تل دوں گی اور چپاتی بھی ابا گرم ہی پسند کرتے ہیں۔‘‘ زیبا نے تفصیل سے بتایا تو دادی جان کے چہرے پر محبت کے تاثرات نمودار ہوئے۔
’’ماشاء اللہ جیتی رہ میری بچی‘ اللہ تیرے نصیب بلند کرے‘ آمین۔‘‘ دادی کی بات پر زیبا جو دوسری ہی سوچ میں غلطاں و بیچاں تھی‘ جھینپ سی گئی۔ ایک مدھر سی شرمگیں مسکان نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔ پھر زیبا نے نظر بچا کر زویا کو آنکھ کا اشارہ کیا۔ زیبا کا اشارہ صرف زویا ہی سمجھی تھی تبھی تیر کی طرح سیدھا کچن کا رخ کیا۔ جہاں ایک جانب ٹرے میں سینڈوچ اور ساتھ میں گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا مگ رکھا تھا۔
زیبا ہر طرح کے کام کاج میں طاق تھی۔ اس لیے کباب کا آمیزہ تیار کرتے ساتھ ہی اس نے اپنی لاڈلی چھوٹی بہن کے لیے کباب تل کر ایک سینڈوچ تیارکرکے ساتھ چائے بھی تیار کردی تھی‘ وہ جانتی تھی کہ آج زویا گھر پر ہے‘ تو اس کا مطلب ہے کہ اب تک اسے بھوک نے ستا ڈالا ہوگا۔ پھر جب زویا نے کچن میں باقاعدہ جھانک کر بھوک بھوک کا نعرہ بلند کیا تو اس نے اشارے سے اسے فی الوقت باہر جانے کا اشارہ کردیا تھا۔ کیونکہ وہ اس وقت بری طرح سے مصروف تھی اور زیبا اسے کھانا فوراً نہیں دے سکتی تھی کیونکہ دادی کا بنایا گیا اصول تھا کہ سب اہل خانہ اکٹھے ہی کھانا تناول کرتے تھے۔ دوپہر کا وقت ہو یا شام کی چائے اور پھر رات کا کھانا سب اہل خانہ ایک جگہ اکٹھے بیٹھ کر ہی تناول کیا کرتے تھے۔ اگر وہ کالج سے لیٹ ہوجاتی تھی تو اس کے لیے اتنی گنجائش ضرور رکھی گئی تھی کہ وہ بعد میں آکر کھا لیتی‘ مگر چونکہ آج تو اس نے چھٹی کی تھی اس لیے اب کسی قسم کی رعایت کی امید نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ کچن میں ہی اس نے سینڈوچ صفاچٹ کرکے چائے بھی پی لی تھی۔ مگر مجال ہے جو ان جھوٹے برتنوں کو دھونے کا گھڑی بھر کو ہی خیال دل میں آیا ہو۔ برتن وہیں رکھتی وہ آرام سے باہر نکل گئی۔
{…()…}
بلال احمد امپورٹ ایکسپورٹ کی فرم بلال برادرز کے نام سے خوب زورو شور سے چلا رہے تھے۔ زندگی کی گاڑی خوب روانی سے چل رہی تھی‘ بلال اور طلال دونوں بھائی تھے۔ بلال احمد کے بچے ظفری اور زیبا تھے‘ جبکہ طلال احمد کے بچے زویا اور عمر تھے۔ بلال اور سلمیٰ کی شادی کو پچیس برس گزر چکے تھے اور بے حد آسودہ وخوش حال زندگی بسر کررہے تھے۔ اسی طرح طلال اور سارہ تھے۔ سارہ کو گھر گرہستی سے ذرا بھی لگائو نہ تھا اور اسی روش کو پروان چڑھا کر زویا پلی بڑھی تھی۔ زویا اور زیبا کہیں سے بھی کزن نہیں بلکہ‘ یک جان دو قالب لگا کرتی تھیں۔ زیبا رشتے کے اعتبار سے بھی چونکہ بڑی تھی اس لیے وہ ہر معاملے میں زویا کا خیال رکھتی تھی‘ ایثارو قربانی زیبا نے اپنی ماں سے وراثت میں پائی تھی‘ انہی خوبیوں کا مرقعہ تھی وہ‘ بلال احمد کو زیبا کو دیکھ کر جتنی تقویت ملا کرتی تھی ظفری کو دیکھ کر اس قدر حواس باختہ اور فکرمندی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ظفری لاابالی واقع ہوا تھا اور کسی بھی قسم کی گھریلو ذمہ داریاں اٹھانے سے انکاری تھا۔ جبکہ عمر تو ابھی تھا ہی چھوٹا اور گھر بھر کا لاڈلا بھی‘ ابھی زیر تعلیم تھا مگر عمر کا تعلیمی ریکارڈ بے مثال تھا اور مستقبل بھی سنہرا دکھائی دیتا تھا‘ ظفری کی نت نئی دوستیاں اور پھر ان پر لٹایا جانے والا پیسہ جو دادی جان کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ دادی جان (ندرت بیگم) بقول ’’جو حق حلال کی کمائی پائی پائی جوڑ کر خون پسینہ بہا کر کمائی گئی ہو اسے سینت سینت کر رکھا جاتا ہے‘ نہ کہ یوں دونوں ہاتھوں سے ہر اٹھائی گیرے اور نام نہاد دوستی کے نام لیوائوں پر نچھاور کردیا جائے۔‘‘
سلمیٰ بیگم جہاں محبت کے معاملے میں سخت گیری سے زیبا کے لیے ایک مثبت انداز میں تربیت کرنے والی اچھی ماں ثابت ہوئیں‘ وہیں ظفری کے لیے ا ن کی مامتا میں بے جا لاڈ پیار آگیا اور اس لاڈ پیار نے ظفری کو ضدی‘ خود سر اور گھمنڈی بنا ڈالا تھا۔ ہر بات پر ضد اور اسے منوانے کی جلدی اسے بعد میں سب کی نظروں میں ارزاں کردیتی تھی۔ ظفری اور زویا کی آپس میں آئے دن کی چپقلش جاری وساری رہا کرتی تھی کیونکہ زویا کو ظفری جیسی ہی ضدی طبیعت ودیعت ہوئی تھی۔ انا میں اگر ظفری کا کوئی ثانی نہ تھا تو پھر زویا بھی کسی سے ہرگز پیچھے نہ تھی۔ ان سارے معاملات پر صرف ندرت بیگم ہی کڑھتی رہتی تھیں جبکہ سارہ اور سلمیٰ تو بالکل یکسر لاتعلق مطمئن سی گھومتی پھرتیں روز مرہ کی ذمہ داریاں دیکھتی رہتی تھیں۔ سارہ اور سلمیٰ کے درمیان بھی بہت فاصلے تھے۔ سلمیٰ تو گھر گرہستی کے کاموں میں طاق تھی اور پھر زیبا بھی ماں کا پرتو تھی۔ اس لیے ندرت بیگم نے جو دنوں کے حساب سے ذمہ داریاں بانٹ دی تھیں‘ وہ باآسانی ماں اور بیٹی مل کر نبھالیتی تھیں مگر جب سارہ کے کرنے کے دن آتے تو سارہ کا موڈ ایک دم ہی خراب ہونے لگتا‘ چیخ وپکار‘ جھگڑا اور اینڈ پر ایک جز وقتی ملازمہ محض سارہ کی مدد کے لیے رکھ لی گئی تھی۔ کیونکہ زویا تو کسی کام کو ہاتھ لگانے والی ہرگز بھی نہ تھی‘ سارہ پر دوسرے کسی فرد کے اضافی کاموں کا ہرگز بوجھ نہ تھا‘ صرف کھانا پکانا ہی ایک عذاب ٹھہرا تھا باقی دنوں میں بھی سلمیٰ بیگم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ہرگز نہ بیٹھتی تھیں بلکہ کپڑے دھونا‘ انیکسی کی صفائی ستھرائی کروانا‘ ملازمہ جو سارہ نے ہی رکھوائی تھی اس کے سر پر کھڑے ہوکر سارے کام کروانا کیونکہ سارہ صاحبہ سے منہ اندھیرے اٹھنا محال تھا‘ جبکہ ندرت بیگم کی لغت میں وہ منہ اندھیرا تو ہرگز نہ ہوا کرتا تھا بلکہ دن چڑھے تک سونا سارہ کی فطرت کا خاصہ بن چکا تھا۔
{…()…}
’’اماں یہ کیا بات ہوئی کیا یہاں کم کالج یونیورسٹیاں ہیں جو وہاں دوسرے شہر اسے بھیج رہی ہیں۔ مجھ سے تو مشورہ کرنا درکنار بتانا تک مناسب نہیں سمجھا آپ نے۔‘‘ یہ ذکیہ تھی جو ایک گلی چھوڑ کر ہی اپنے گھر میں بظاہر قیام پذیر تھی مگر میکے کے پل پل کی خبر رکھنا اس کے لیے جیسے لازم وملزوم تھا۔ ذکیہ نے ازخود اپنے آپ پر یہ لاگو کرلیا تھا کہ وہ یہاں کے تمام حالات سے نہ صرف آگاہی رکھے گی بلکہ اس طرح کے تمام معاملات میں مداخلت کو اپنا بنیادی حق بھی تصور کرے گی‘ اب ذکیہ کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ ریحان کراچی جارہا ہے اس کا موڈ نہ صرف خراب ہوگیا بلکہ وہ مسلسل ماں کے سامنے زبان درازی میں مصروف عمل تھی اور فائزہ بیگم بالکل چپ چاپ سن رہی تھیں‘ سچ تو یہ تھا کہ یہ فائزہ ہی تھی جس نے بہت کہا تھا۔
’’ذکیہ کے ابا ذکیہ کو اتنا سر مت چڑھائو بعد میں ایسا نہ ہو کہ پچھتانا پڑ جائے۔‘‘ اور عابد صاحب ہنس دیتے تھے۔
’’ارے کملی ہوئی ہے میری ذکیہ تو میری شان ہے‘ سیانی ہے ابھی سے کیسے ہر معاملے کو سمجھ جاتی ہے۔‘‘ عابد صاحب کا نظر انداز کرتے رہنا اب اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ بڑے ہوتے ہی ذکیہ سب کے سروں پر مسلط ہوگئی تھی‘ ابھی تک امبر شادی کے قابل ہوکر بھی گھر بیٹھی تھی اس کے بے شمار رشتے آتے تھے کیونکہ امبر بے حد خوش شکل اور پڑھی لکھی لڑکی تھی‘ مگر ہر آنے والے رشتے کی خبر ذکیہ کو ہوجایا کرتی تھی اس میں مین میخ نکال کر وہ امبر کے ہر رشتے کو مسترد کردیا کرتی اور عابد صاحب تو اس کی فہم وفراست کے پہلے ہی گرویدہ تھے اور اس طرح امبر شادی کے قابل ہوکر بھی ابھی تک بن بیاہی ماں کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی تھی۔ بڑی بہن کی محبت لٹاتی ادا پر چھوٹی بہن نثار ہوجایا کرتی تھی‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ بچپن سے ہی ماں کی نند سے طے کیا گیا رشتہ وہ اب ایک طوق بن چکا تھا۔ نند اور بھاوج کے رشتے کا توازن تو برقرار رہ گیا تھا مگر ذکیہ کو عثمان بالکل بھی پسند نہ آیا تھا‘ ذکیہ کو پکی رنگت‘ بوٹا قد کے عثمان میں کوئی چارم نظر نہ آتا تھا مگر یہاں اس کی ایک نہ چل سکی تھی کیونکہ یہ رشتہ تو عابد صاحب نے ہی طے کر رکھا تھا اور دردانہ ان کی بڑی بہن تھیں اور ان کے لیے بڑی بہن ماں کے درجے پر فائز تھیں یوں عثمان اور ذکیہ کی شادی ہوگئی تھی مگر ذکیہ نے اپنی ناخوشگوار ازدواجی زندگی کا بدلہ لینا شروع کردیا تھا‘ اب امبر کے لیے ہر دوسرے روز اتنے اچھے رشتے دیکھ کر وہ کلس جاتی تھی‘ اپنی ہی چھوٹی بہن کے لیے وہ حاسدانہ جذبات رکھتی تھی حسد ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو جلد ہی اندر ہی اندر صفا چٹ کرجاتی ہے‘ اس کی تمام خوبیاں اس ایک لعنت کی بدولت رسوائی میں بدل جاتی ہیں۔ حسد اگر صرف ذہنی جذبہ رہے تو بھی انسان کو اندر تک مضمحل اور ناکارہ بنا دیتا ہے اور اگر یہی حاسدانہ جذبہ انتقام بن جائے تو پھر اس کا شاخسانہ پورے کنبے کو اٹھانا پڑتا ہے اور اب ایسا بھی نہیں تھا کہ ریحان یہاں اس شہر کے کسی تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا تھا بلکہ اصل مسئلہ تو ذکیہ کا تھا‘ اس کی خواہشات کی تکمیل میں رخنہ انداز ہورہی تھی‘ ذکیہ آپا ہر کسی پر خود کو مسلط کردینے کی پختہ عادت لیے ہوئی تھی اب اس عادت سے اہل خانہ کو ہی بھرپائی کرنا تھی۔
عابد صاحب کا ذکیہ کو یوں سر پر بٹھا لینا اب پچھتاوا بن کر ان کی تمام زیست پر محیط ہورہا تھا کیونکہ اب ان کی اپنی بہن ہی اپنی بھتیجی کی اٹھتے بیٹھتے بھائی کے سامنے برائی کرتی تھی اور اکثر یہی شکایت سامنے آیا کرتی تھی کہ بھائی نے اولاد کی تربیت ٹھیک نہیں کی۔
{…()…}
ریحان نے اس وسیع العریض کشادہ گھر کے بلند وبالا منقش دروازے پر لگی اطلاعی گھنٹی بجائی۔ قدرے توقف سے دروازے پر ایک من چلی سی لڑکی ہنستی مسکراتی آن وارد ہوئی تھی۔
’’جی فرمائیے؟‘‘ اس لڑکی کی آمد سے وہ اچھا خاصا نروس ہوگیا تھا‘ کیونکہ وہ اس کے سراپے میں الجھی اس کا جائزہ لینے میں منہمک تھی۔ جیسے اپنی دانست میں ذہن پر زوردے رہی ہو اور نووارد کو پہچاننے کی سعی میں ہلکان ہورہی ہو۔ پھر ذہن پر زور دینے پر بھی اس کی یادداشت کے کسی کونے نے اس شخص کو اجنبیت سے اپنے پن تک کی منزل تک پہنچانے میں مدد نہ کی تھی۔ تبھی اس نے سوال داغا تھا۔
’’میں ریحان ہوں‘ مجھے عابد صاحب نے بھیجا ہے۔‘‘ سفری بیگ تھامے اس نے قدرے خشک لہجے میں جواب دیا۔ اسے اس لڑکی کی ٹوہ لیتی اندر تک احوال جاننے کی متمنی آنکھوں سے چڑ سی ہورہی تھی۔
’’اچھا جی بتاتی ہوں۔‘‘ وہ منہ بسور کر بولی۔
’’کون ہے زویا؟ دروازے پر ہی چپک کر رہ گئی ہو۔‘‘ دادی کی آواز پر اس نے ناگواری سے سر جھٹکا۔ ’’ریحان تو نہیں آگیا؟‘‘ عقب سے دادی کی گرج دار آواز خود ریحان کے کانوں میں بھی پڑی تھی۔
’’جی… جی وہی موصوف آئیے ہیں۔‘‘ زویا نے راستہ چھوڑا اور اب معمہ بھی حل ہوگیا تھا کہ کس کے لیے گھر بھر میں اتنی صفائیاں‘ تیاریاں ہورہی تھیں۔ گویا کوہ قاف کا شہزادہ تشریف لارہا ہو۔
اسی سوچ کے تحت اس نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد کسرتی بدن‘ وجیہہ چہرہ اور پُروقار سا انداز تھا۔ ذرا جو اس نے چھچھور پن ظاہر کیا ہو بے حد پُروجاہت شخصیت کا مالک تھا وہ ایک جانب ہٹ گئی راستہ دینے کی غرض سے اور وہ سر جھکائے سنجیدگی و متانت کے ساتھ آگے بڑھا۔ لمبی راہداری عبور کرکے سامنے ہی تخت پوش پر دادی جان کو محو استراحت پایا۔ اس نے ادب سے آگے جھک کر سلام کیا۔
’’اے بچہ آگیا… ماشاء اللہ کتنا سوہنا ہے‘ کیا قد کاٹھ نکالا ہے بچے نے۔‘‘ دادی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوئیں‘ جبکہ اس کی اتنی تعریف پر وہ سر جھکائے ہولے سے مسکرادی۔ کیونکہ زویا نے ریحان کے چہرے پر ہولے سے جھینپتی ہوئی مسکراہٹ دیکھ لی تھی۔ اسے تحیر سا ہوا تھا کہ ریحان اس فضا کا باسی ہوکر کس قدر شرمیلا واقع ہوا ہے‘ اور اپنی ذر اسی تعریف پر یوں مسکرایا تھا یعنی اسے سرے سے اپنے پندار حسن کا احساس ہی نہ ہو۔
’’اے کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو‘ جاکر بچے کو اس کا کمرہ دکھائو اور کھانے کا بندوبست کرو۔‘‘ دادی جان نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ منہ بسورتی ہوئی آگے بڑھ گئی‘ پھر دو قدم چل کر عقب میں ریحان کو ہنوز کھڑے دیکھا تو قدرے کرخت لہجے میں گویا ہوئی۔
’’چلیں اب۔‘‘ اس کا انداز خاصا سرد تھا‘ دادی جان جو چلم بھر رہی تھیں اس وقت اسے فقط خشمگیں نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئیں۔ فی الوقت مہمان کے سامنے کچھ کہنا قطعی مناسب نہ تھا وہ بھی تب جب ابھی وہ آیا ہی تھا بعد کے لیے زویا کی کلاس کا مصمم ارادہ کیے وہ کچھ اور سوچنے میں مصروف ہوگئی تھیں۔
زویا کے کہنے پر وہ زویا کے قدموں کی پیروی کرتے ہوئے اس کے پیچھے سنگ مرمر کی روش عبور کرتے ہوئے قطار در قطار کئی کمرے پھلانگ کر آگے ایک جانب مخصوص طرز پر بنے کشادہ سے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے ایک ناقدانہ نگاہ اطراف پر ڈالی‘ اسے یہ کمرہ بے حد پسند آیا تھا‘ اس نے دیکھا ایک کھڑکی عقبی لان کی جانب بھی کھلتی ہے‘ اس نے کھڑکی سے لان کا منظر دیکھا‘ جو دلکشی کے سبب اسے لمحہ بھر کے لیے مبہوت سا کر گیا‘ وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کو بغور ملاحظہ کررہی تھی‘ یوں بھی وہ نفسیات میں ہی تو ایم اے کررہی تھی اس کے چہرے کے تاثرات کو باآسانی پڑھ گئی تھی۔ کیونکہ رہی سہی کسر اس نے لمبی ٹھنڈی سانس کھینچ کر نکالی تھی۔
’’اب آپ یہاں کے مکین ہیں اور یہاں کے چند اصول ہیں‘ اصول نمبر ایک سب اہل خانہ مل کر ہی ناشتہ کرتے ہیں‘ دوپہر و رات کا کھانا بھی ایک ساتھ کھایا جاتا۔ اگرچہ آج تو آپ دیر سے آئے ہیں اس وقت تک تو سب اہل خانہ دوپہر کے کھانے سے فراغت پاچکے ہوتے ہیں‘ مگر اب ہم اتنے بھی کٹھور نہیں کہ مہمان کو بھوکا ہی مار دیں اس لیے آج تو یہ رعایت برتی جاسکتی ہے مگر آئندہ کے لیے آپ کو وقت مقررہ پر کھانے کے لیے آنا پڑے گا‘ دادی جان کہتی ہیں کہ یوں مل کر کھانے سے نہ صرف اہل خانہ کی آپس میں محبت بڑھتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہی اہل خانہ کے آپسی باہمی محبت اور سلوک سے برکت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ وہ لڑکی کتنا بولتی تھی‘ وہ اسے کوفت سے دیکھ کر رہ گیا‘ ایک کلستی ہوئی نگاہ اس نے لڑکی کی گز بھر لمبی زبان سے بیزار ہوکر ڈالی‘ وہ یقینا اب اپنے تاثرات فوراً ہی چھپا گیا تھا‘ جیسے ہی وہ پلٹی تبھی اس کی اندرونی کیفیت سے نابلد مسکرادی۔
’’سنا ہے لاہور والے خوب کھاتے ہیں‘ ویسے آپ کا ڈیل ڈول دیکھ کر مجھے بھی یقین کامل ہوگیا ہے کہ آپ تو لگتا ہے زندہ انسان ہی نگل جاتے ہوں گے۔‘‘ آخری جملہ ادا کرکے وہ خود ہی محظوظ ہوئی تبھی کھی کھی کرکے ہنسنے لگی۔ اب وہ اسے مہمان ہوکر کیا کہتا کہ اس کی جان خلاصی کردے اور اب وہ جاسکتی ہے‘ اسے اب اس لڑکی کا مزید یہاں ٹھہرنا سخت گراں گزر رہا تھا مگر اس لڑکی کی چلتی زبان سے تو وہ باقاعدہ خائف سا ہوگیا تھا۔
اس نے بس اسے جتانے والے انداز میں اپنا سفری بیگ پٹخ کر میز پر دھرا۔ وہ تلملا کر اسے دیکھ کر پائوں پٹختی باہر نکل گئی۔
’’ہونہہ‘ ایسے ہوتے ہیں مہمان‘ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔‘‘ وہ الٹے سیدھے محاورے ہانکتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر نکلی تھی‘ تو سامنے ہی زیبا سے اس کا سامنا ہوگیا۔
’’کیا بات ہی میری بٹو رانی کس بات پر اتنی خفا ہورہی ہے؟‘‘ زیبا نے اپنے شبنمی لہجے میں پوچھا تو وہ اسے آنے والے مہمان کی تفصیل سے آگاہ کرنے لگی‘ مگر زیبا اب اس کی کب سن رہی تھی اور سیدھا کچن کی جانب لپکی‘ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ زویا نے کہاں یہ خاطر مدارات کا فریضہ ادا کرنا تھا۔ اس نے ہی جلدی سے ٹرے میں کھانا رکھا اور قرینے سے دستر خوان ترتیب دے کر زویا کو تھمایا۔
’’تم اسے کھانا دے آئو اور تب تک میں چائے تیار کرلیتی ہوں‘ بے چارہ اتنی دور سے سفر کرکے آیا ہے اور تھکن سے چور ہوگا۔‘‘ زیبا نے احساس کے جذبے سے گندھے لہجے میں کہا تو زویا بھی لمحہ بھر کے لیے ٹھٹکی اور ایک والہانہ نگاہ زیبا پر ڈالی۔
’’کس قدر محبت بھرے دل کی مالک تھی یہ لڑکی کس قدر گداز تھا اس کا دل سب کے لیے۔‘‘ وہ واقعی اس کے متعلق سوچ کر لحظہ بھر کے لیے مسکرادی۔
اور پھر اس نے زیبا کے گال کو چوما‘ زیبا اس محبت بھرے حملے کے لیے ہرگز بھی تیار نہ تھی‘ تبھی بری طرح بوکھلا گئی۔
’’ارے پگلی یہ کیا کررہی ہو۔‘‘ وہ شرما سی گئی۔
’’ارے آپ تو بالکل اس اجنبی مسافر کی طرح شرما گئی جب دادی جان نے اس کی تعریف کی تو وہ جناب بھی اسی طرح شرمگیں مسکراہٹ لیے ہوئے تھے۔‘‘ وہ ہنس دی۔
{…()…}
پرندوں کا حسین جھنڈ سر شام اپنی تھکن اتارنے اپنے اپنے آشیانے میں مکین ہوگیا تھا۔ شام کے ملگجے سائے میں ظفری گھر لوٹا تھا۔ دادی جان نے چاہت سے اس کی بلائیں لیں‘ مگر ظفری کی تو ساری توجہ اس نووارد کی جانب مبذول تھی جو دادی کے ساتھ یوں سر جوڑے نجانے کن باتوں میں منہمک تھا‘ لگتا تھا جیسے برسوں سے یہیں رہتا رہا ہو۔ نجانے کیوں ظفری کی آنکھوں میں اس اجنبی ریحان کے لیے درشتی در آئی تھی ناپسندیدگی کی ایک واضح جھلک اس کی آنکھوں سے عیاں تھی۔
’’ایک تو یہ لڑکا نجانے کہاں گم رہتا ہے‘ اب تم کوئی چھوٹے بچے نہیں رہے ہو اپنے باپ کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹایا کرو۔‘‘ دادی جان ہنوز اپنی نصیحتوں کی پٹاری کھول چکی تھیں اور ظفری بھی اپنی دھن کا پکا تھا‘ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال رہا تھا۔
’’دادی جان میں بہت تھکان محسوس کررہا ہوں‘ کسی سے کہیں مجھے ایک کپ چائے دے دے پھر میں سب کے ساتھ ہی کھانا کھاؤ گا۔‘‘ ظفری نے بات ٹالنے کے لیے موضوع تبدیل کیا‘ اس لیے دادی بھی اسے خشمگیں نگاہوں سے گھور کر رہ گئی تھیں تبھی دادی جان نے سامنے سے آتی ہوئی زویا کو آواز دی۔
’’اے لڑکی بات سنو۔‘‘ دادی جان کی آواز پر ہی دبے قدموں وہاں سے کھسکنے والی زویا بری طرح سٹپٹا کر رہ گئی۔
اسے معلوم تھا کہ دادی جان کا بسیرا ایسی جگہ ہے جہاں سے خاموشی سے فرار ممکن ہی نہیں ہوا کرتا۔ گھر بھر میں کیا ہورہا ہے ان کو ساری خبر ہوا کرتی تھی اور ایسے میں اسے کیسے نہ دیکھ لیتیں۔
’’جی دادو کیا بات ہے؟‘‘ زویا کے چہرے پر رقم واضح بے زاری باآسانی پڑھی جاسکتی تھی۔
’’جائو ظفری کے لیے گرم چائے کا کپ لے آئو‘ صبح سے وہ زیبا کاموں میں لگی ہے تم بھی ذرا کچن میں جھانک لیا کرو۔‘‘ زویا نے بے فکری سے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔
’’اور کوئی حکم؟‘‘ انداز سراسر بے زار کن تھا۔
’’نہیں چائے لائو تو اس مہمان کے لیے بھی لیتی آنا۔ بڑی احسان مند ہوں گی۔‘‘ دادی نے بھی اسے طنزیہ انداز میں جواب دیا تو وہ الٹے قدموں کچن میں آگئی۔ زویا نے کچن میں جھانک کر دیکھا سامنے ہی زیبا بریانی کو دم لگا رہی تھی۔ تہہ در تہہ تیار کردہ بریانی کی مہک سے پورا گھر مہک رہا تھا۔ اشتہاء انگیز خوشبوں سے پورے گھر مہک رہا تھا‘ مشقت سے اٹا وجود لیے زیبا چہرے پر پھر بھی شبنمی مسکان سجائے ہوئے پلٹ کر زویا کو دیکھ رہی تھی۔ نجانے صبر کی مٹی سے گندھا اس کا وجود کس قدر اچھا تھا۔ زیبا میں متانت‘ ٹھہرائو تھا‘ جبکہ زویا میں چلبلاپن‘ بشاشت اور نقوش میں تیکھا پن تھا‘ ہر آن پھرکی کی طرح گھومتی رہتی تھی‘ فتنہ سماں تھی‘ بات کرنے کے فن سے واقف تھی‘ کب کہاں کس انداز میں کیسے بات کرنی ہے دوسرے مقابل کو کس طرح قائل کرنا ہے وہ اس فن سے بخوبی آگاہ تھی۔ جبکہ اس کے برعکس زیبا میں درگزر کا مادہ زیادہ تھا وہ صابر وشاکر تھی‘ ان تمام باتوں کے باوجود دونوں میں بے انتہا محبت تھی۔ مجال ہے جو کوئی فرد واحد ان دونوں میں کوئی رنجش یا کینہ دیکھ لے‘ دونوں میں محبت پنپتی تھی‘ اس محبت میں کوئی کھوٹ نہ تھا۔
’’کیا بات ہے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟‘‘ زیبا بنا کہے اس کے دل کا احوال جان لیا کرتی تھی۔
’’وہاں وہ آپ کے برادرم محترم چائے کی طلب لیے بیٹھے ہیں ساتھ میں مفت خانہ یعنی وہ آپ سب کا نیا مہمان ریحان موصوف اسے بھی چائے چاہیے۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی‘ اس کے منہ کا قائمہ زاویہ بگڑا دیکھ کر زیبا ہنس دی۔
’’اچھا یہاں بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات بھی کرنی ہے‘ تب تک میں چائے تیار کرلیتی ہوں۔‘‘ وہ چائے کا پانی چولہے پر چڑھاتے ہوئے بولی تو زویا موڑھے پر بیٹھ گئی اور نظریں زیبا پر ہی گاڑ رکھی تھیں۔ جیسے ہمہ تن گوش ہو۔
’’فرمائیں بھی۔‘‘ وہ زیبا کی پراسرار خاموشی سے جیسے زچ ہوئی۔
’’شام کو پھوپو آرہی ہیں۔‘‘ زیبا کی بات پر زویا نے بے حد بگڑے تیور سے بہن کو دیکھا۔
’’تو میں کیا کروں… یہ کون سی نئی بات ہے‘ ہر ویک اینڈ پر تو وہ یہاں براجمان ہوتی ہیں۔‘‘ زویا نے ناگواری سے کہا۔
’’ساتھ میں کرن بھی آرہی ہے‘ تم پلیز ایسی کوئی بات مت کرنا جس سے پھوپو یا کرن کی دل آزاری ہو۔‘‘ زیبا نے ناصحانہ انداز اپنایا۔
’’ہونہہ کرن کی دل آزاری اسے اتنی سمجھ ہی کہاں ہے؟‘‘ وہ منہ بسور کر بولی۔
’’بری بات ہے زویا‘ اللہ کا خوف رکھو دل میں‘ نہ برا کہو اور نہ ہی برا سوچو۔‘‘ زیبا نے دکھ سے کہا۔
’’اب آپ بھی یہ نصیحت لے کر بیٹھ گئیں ہیں اس کرن کی زبان اتنی لمبی ہے اسے کوئی کیوں نہیں سمجھاتا۔‘‘ زویا نے منہ بسورا۔
’’وہ نفسیاتی دور میں ہے‘ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ سب جان بوجھ کر ایسی بات چہ معنی دارد۔‘‘ وہ تاسف زدہ لہجے میں بولی۔
’’ان سب کی ذمہ دار بھی پھوپو ہی ہیں اگر اس کی شادی بروقت کردی جاتی تو پھر یہ سب نہ ہوتا۔‘‘ وہ دوبدو بولی۔
’’تمہاری بات اپنی جگہ بالکل درست‘ ابھی بھی وقت ہرگز نہیں گزرا مگر…‘‘ اور اس مگر کی ہی تو ساری کہانی تھی۔
کرن کے چہرے پر بچپن میں چیچک نکل آنے سے داغ تھے‘ اس لیے وہ ایک نفسیاتی روگ اپنی جان کو لگا بیٹھی تھی۔ اب تنہائیاں اسے اچھی لگتی تھیں‘ رعنائیاں اب اس کے دم گھٹنے کا سبب بن جاتی تھیں۔ ہنستے‘ مسکراتے‘ مطمئن شاداب چہرے اس کے اندر کی نارسائی ناآسودگی کو بڑھا دیتے تھے‘ وہ کرب واذیت سے دوچار ہوجاتی تھی‘ ڈاکٹرز نے اس کی شادی کا مشورہ دیا تھا‘ مگر یکے بعد دیگرے آنے والے رشتوں نے ایک تسلسل سے کرن کو دیکھ کر انکار کیا تھا‘ وہ تو پھر غیر تھے اب تک خود سلمیٰ نے بھی ظفری کے حوالے سے کوئی مثبت رائے نہیں دی تھی۔ صاف ظاہر تھا وہ اپنے خوبرو وجیہہ بیٹے کے لیے کسی ہیرا صفت اور نہایت حسین لڑکی کی طلب گار تھیں‘ انہیں ظفری کے لیے کہاں اس واجبی سی شکل وصورت کی لڑکی کا ساتھ منظور ہوسکتا تھا‘ خود ظفری بھی تو زعم زدہ بت تراشے اپنی انا کو مسمار ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یوں بھی فی الوقت تو زیبا کا نمبر تھا‘ اس کے بعد ہی ظفری کی جانب توجہ مبذول کی جاسکتی تھی۔ کرن کی اس شکلی کمزوری سے قبل اس کا نفسیاتی مسئلہ زیادہ زور آور تھا‘ اس کا انداز اب تمام خاندان سے روکھا پھیکا ہوگیا تھا۔ اس کی بدولت پھوپو سارے خاندان سے جیسے کٹ سی گئی تھیں‘ مگر بھائیوں کی جدائی کب گوارا تھی‘ کچھ کرن کو اس کے کمرے اور تنہائی سے نکالنے کے حربے کے طور پر ہر ہفتہ اسے یہاں لے آتی تھیں‘ مگر یہاں بھی وہ کھنچی کھنچی رہتی تھی‘ اب جب زیبا نے اسے بتایا کہ وہ لوگ کل آرہے ہیں تو زویا کا منہ بن گیا تھا‘ مگر اس پر زیبا کی نصیحتوں کا پلندہ زیادہ موڈ خرابی کا سبب تھا۔ چائے تیار تھی ساتھ میں زیبا نے کباب بھی تل لیے تھے‘ جانتی تھی بھائی خالی چائے کبھی نہیں پیے گا۔
’’جائو ٹرے لے جائو۔‘‘ زیبا نے کہا تو وہ منہ بناتے وہاں سے ٹرے لیے باہر نکل آئی‘ اب کرن کی آمد کی سبب اس کا موڈ خراب ہوگیا تھا مگر دادی جان نے جب اسے اس انداز میں آتے دیکھا کہ منہ پر بارہ بج رہے تھے اور تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں‘ بنا پس منظر جانے مہمان کے سامنے اس کی عزت افزائی کرنا شروع کردی۔
’’اری کم بخت عقل نہیں تجھے کیسے منہ بنائے ٹرے لارہی ہے جیسے سوگ میں آئی ہو… ایک کام کہہ دو موت پڑجاتی ہے۔‘‘ دادی کی زبان کے جوہر سے سبھی واقف تھے اس لیے ظفری نے تو نوٹس بھی نہ لیا اور چائے کا کپ منہ سے لگایا اور کباب بھی فٹ سے منہ میں رکھ لیا۔
جبکہ ریحان متذبذب کیفیت سے دوچار شرمندہ سا سامنے کھڑی کینہ توز نظروں سے دیکھتی زویا کو دیکھ رہا تھا۔
’’ارے لیں ناں‘ کھائیں ناں۔‘‘ زویا کا انداز سراسر ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو ’’ٹھونسیں ناں‘‘ وہ بری طرح سے جھینپ گیا۔ تبھی عقب سے زیبا آئی۔
’’زویا تمہیں آنٹی بلا رہی ہیں۔‘‘ زویا اس کی اس آواز پر جیسے دادی جان کے عتاب سے جان چھڑانے پر اس کی نظروں ہی نظروں میں شکر گزار ہوئی تھی۔
ریحان نے کن انکھیوں سے دیکھا سرخ پھول دار سفید کرتے پر اس کا سرخ وسفید چہرہ کام کرنے کی وجہ سے تمازت سے روشن تھا‘ ہلکی سی تھکن بھی آنکھوں سے ہویدا تھی۔ نظروں کا لمحہ بھر کا تصادم ہوا تھا مگر جیسے ریحان کے دل میں اتھل پتھل سی ہوگئی تھی کچھ چہرے ہم پہلی مرتبہ دیکھتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے جیسے ان چہروں نے ہماری آنکھوں کی پیاس مٹادی ہو‘ تشنگی جاتی رہتی ہو‘ سیرابی در آئی ہو‘ انسان کسی ایک چہرے کو تمام چہروں میں فوقیت دیتا ہے‘ کیونکہ دلوں کے معاملات کچھ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں‘ ریحان کو وہ مدھر لہجے اور میٹھی مسکان والی زیبا بے حد بھاگئی تھی‘ نجانے کیوں وہ بار بار کن اکھیوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی حشر سامانیوں پر فریفتہ ہورہا تھا‘ وہ دل کے ایوان پر قابض ہوچکی تھی پھر وہ ایک لمحہ ہی تو تھا جس نے اس کے دل کی مسند پر حکمرانی کرلی تھی۔
’’دادو سارا کام کچن کا نبٹا لیا ہے‘ کوئی اور کام باقی ہے تو بتادیں۔‘‘ وہ ساری توجہ اس وقت دادی جان کی طرف مبذول کیے ہوئے جواب کی منتظر تھی۔
ریحان پہلی ہی نگاہ میں اس پر فریفتہ ہوگیا تھا‘ سرخ وسپید رنگت‘ تیکھے نین نقش‘ جاذب نظر لگ رہی تھی اور اس کی نگاہوں کا ارتکاز پاکر وہ بوکھلا رہی تھی۔ نظروں کا تصادم ہوا اور اس کی حیرت سے بھرپور نگاہیں اس سے جیسے استعجاب سے سوال کررہی ہوں۔ وہ اس کی نگاہوں سے پزل ہوگیا تھا۔
’’اچھا دادی میں جارہی ہوں ورنہ امی غصہ کریں گی‘ پھر بعد میں نہ کہیے گا کہ میں گستاخ بد زبان ہوں؟‘‘ زویا بلا تکان بولتی وہاں سے رفوچکر ہوگئی تھی۔
’’اللہ سمجھے اس لڑکی کو اور اس کی حرکتوں کو‘ جیسے پہلے تو یہ کوئی دودھ کی نہر نکال رہی تھی‘ مغز ماری کرتے دماغ ہی خراب کردیا۔‘‘ دادی کو اس کی اس جسارت پر غصہ آیااور اسے برا بھلا کہنے کا وقت شروع ہوگیا تھا‘ زیبا اب دادی کو بولتے دیکھ کر پریشان ہورہی تھی۔
’’آپ کیوں خفا ہورہی ہیں۔ جانتی تو ہیں وہ لاابالی ہے‘ وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی احساس ذمہ داری آجائے گا۔‘‘ اس نے دادی کو اپنی دانست میں تشفی دی تھی‘ اسے یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ دادی ایک اجنبی کے سامنے زویا کی برائی کریں‘ زویا جیسی بھی تھی اس قدر ڈانٹ اجنبی کے سامنے اور وہ بھی منہ سیئے بیٹھا تھا‘ ذرا نہ ہوا کہ زویا کی طرف داری کرلیتا۔
یہ خیال بھی زیبا کے دل میں وقتی طور پر ہی آیا تھا‘ پھر اس نے اس خیال کو فوراً جھٹک دیا۔ دادی کے سامنے کسی کو برا اور بھلا کہنا دونوں ہی مصیبت کا باعث بن سکتے تھے۔ اچانک دادی نے اسے دیکھا جو بے زار کن کیفیت سے دو چار تھی۔
’’ارے تم کیوں کھڑی ہو بچی تھک گئی ہوگی‘ صبح سے کاموں کا انبار جو تمہارے سر پر تھوپ ڈالا ہے۔ جائو باقی سب دیکھ لے گی سلمیٰ۔‘‘ دادی نے اسے وہاں سے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
پھر وہ دادی جان کے اطمینان بخش انداز پر واپسی کے لیے پلٹ گئی۔ اس کے جاتے ہی جیسے سارے گلشن میں رعنائی باقی نہ رہی تھی اور آرزوئوں نے جیسے ایک دم سے دم توڑ دیا تھا۔ سسکتی ہوئی آرزو اسے ابھی اپنے روبرو دیکھنے کی متمنی تھی مگر وہ جاچکی تھی۔ اس کے دل کے ایوان پر براجمان ہوکر نگاہوں سے اوجھل ہوچکی تھی۔
پھر اس نے بے دلی سے چائے کا سپ لیا‘ بامشکل چائے ختم کی‘ پھر رات کے کھانے تک کا دورانیہ بہت طویل معلوم ہونے لگا تھا۔ رات کے کھانے پر سبھی اہل خانہ شامل تھے۔ اس وقت وہ صاف ستھری و نکھری سی بیٹھی تھی‘ کھانا خادم نے ہی ٹیبل پر لگایا تھا اور وہ بالکل چپ چاپ تھی۔ وہ اسے دیکھ کر دل کے تاروں کو جیسے ازخود چھیڑ کر محظوظ ہورہا تھا۔ محبت کی میٹھی سی کسک دل میں الائو دے رہی تھی۔ یہ محبت بھی ناں کیسے ایک دم سے ہی دل میں اپنا ٹھکانہ بنالیتی ہے۔ مگر ایک عجیب سا احساس بھی اس کی ذات پر محیط تھا‘ وہ اسے یکسر نظر انداز کیے ہوئے تھی۔ اس کے احساسات سے قطعی طور پر نابلد تھی‘ جبکہ وہ اسے اپنی نارسائی گردان رہا تھا اور محبت اپنی اس نارسائی ناقدری پر اپنے بال بکھرائے ماتم کناں تھی۔ کتنی چاہت ہورہی تھی کہ وہ ایک بار اپنی پلکوں کی چلمن اٹھا کر نظر بھر کر اسے دیکھے‘ محض ایک بار اس کی نگاہوں میں محبت کے دیپ جلتے ہوئے دیکھے‘ پھر چاہے تو اگلے ہی لمحہ وہ اپنی پلکوں کی جھالر گرا دے‘ محبت نے کسی آکاس بیل کی مانند اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
’’کیابات ہے بیٹے تم کچھ کیوں نہیں کھا رہے؟‘‘ سلمیٰ بیگم نے اس کی توجہ کھانے کی جانب مبذول کروائی۔ تب ہی سب نے چونک کر اس کی جانب دیکھا جو واقعی خالی پلیٹ سامنے دھرے نجانے کن خیالات میں مستغرق تھا‘ سب کے یوں اچانک متوجہ ہونے پر وہ سٹپٹایا‘ خاص کر زیبا کی نگاہوں کا استعجاب کس قدر دلفریب تھا جیسے پوچھ رہی ہو ’’کیا ہوا؟‘‘
مگر یہ اس کا خام خیال ہی تھا کیونکہ دوسرے ہی پل وہ بریانی کی پلیٹ کی جانب اپنی توجہ مبذول کرچکی تھی۔ اس کی لانبی پلکیں جھکیں اور وہ اس کے حسن کی کاسنی شعاعوں کی لپیٹ میں خود کو بے جان محسوس کررہا تھا۔
’’اور بیٹا کسی قسم کی بھی کوئی پریشانی ہو تو بلاجھجک کہہ دینا‘ عابد میرا دیرینہ دوست ہے۔‘‘ بلال صاحب نے اسے مخاطب کیا تو وہ اثبات میں سر ہلا گیا تھا۔
’’ہاں خود کو ہرگز بھی زیر بار محسوس نہ کرنا‘ ایک وقت تھا جب عابد نے میرے کاروباری معاملات میں بے پناہ مدد کی تھی۔ میں اس کا دل سے ممنون ہوں‘ اور اب اللہ نے مجھے موقع دیا ہے کہ تمہارے توسط سے اس کا شکریہ ادا کردوں‘ وہ تو اتنا خود دار ہے کہ کبھی اس نے پلٹ کر میرا احسان مند ہونا بھی گوارا نہیں کیا۔‘‘ بلال صاحب مزید گویا ہوئے تو وہ مسکرادیا۔ اسے یہ ساری معلومات ہرگز بھی حاصل نہ تھیں ابا نے صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ اس کا اپنا ہی گھر ہوگا‘ اسے کسی قسم کا مسئلہ نہ ہوگا اور واقعی یہاں اسے گھر جیسا سکون اور ماحول ملا تھا‘ اور اس نے اگلے دن سے یونیورسٹی جوائن کرلی تھی‘ اس کا نصب العین اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ محض اپنے باپ کے دم پہ زندگی کے باقی کے دن گزار دے‘ وہ خود کو منوانا چاہتا تھا‘ اس نے اس لیے محنت کرنے کی ٹھان لی تھی اور دل لگا کر پڑھ رہا تھا‘ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ گھر میں رہتا تو پھر اس کا یہ خواب تمام عمر تشنہ لب ہی رہتا‘ کیونکہ آپا ذکیہ کسی کو بھی اب اپنی من مانی کرتے نہ دیکھ سکتی تھیں‘ اپنے تشنہ خوابوں کا بدلہ وہ اپنے ہی اہل خانہ سے لے رہی تھی۔ اپنی ناآسودگی کا بدلہ وہ یوں لے رہی تھی کہ اہل خانہ کا ہی جینا دوبھر کر رکھا تھا‘ اب وہ مطمئن تھا کہ زندگی کے اس نئے آغاز کی شروعات سے وہ خوش تھا۔
{…()…}
’’اری میری چندا کیسی ہے؟‘‘ دادی کرن کو اپنے پاس بٹھائے اس کی بلائیں لے رہی تھیں‘ کرن خاموش سی بیٹھی تھی‘ مگر وہاں موجود سب کے چہرے کے اتار چڑھائو اور سرگرمیاں ملاحظہ کررہی تھی۔
’’اور کیا کرتی رہتی ہو سارا دن؟‘‘ کیا نانی کی ذرا بھر بھی یاد نہیں آتی‘ اب آئی ہو تو کچھ دن یہیں رہ جائو۔‘‘ دادی جان نے ہمیشہ کی طرح اس سے لگاوٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ادھر ہی قیام کے لیے اصرار کیا اور وہ آج بھی حسب معمول خاموش تھی۔
’’بس اماں اس نے تو قسم کھا رکھی ہے سارا دن کمرے میں پڑی رہتی ہے‘ نہ کسی سے ملنا نہ جلنا۔‘‘ پھوپو دوبارہ شروع ہوچکی تھیں‘ اب زویا کا وہاں بیٹھنا محال تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ہزار مرتبہ کی ساری تکرار دوبارہ کی جائے گی۔
’’ہاں بچی کملا کر رہ گئی ہے‘ اے زویا اپنے نئے بوتیک سے لائے کپڑے تو دکھا بہن کو اپنے کمرے میں لے جا۔‘‘ دادی نجانے کیوں اسے وہاں سے رفو چکر کرنے کے چکر میں تھیں۔
’’آئو۔‘‘ وہ بے زاری سے کرن سے مخاطب ہوئی‘ جس دن سے کرن نے کسی ذہنی دبائو کے زیر اثر زیبا کو دھکادے کر زخمی کیا تھا اس دن سے اس کے دل میں کرن کے لیے نامعلوم کیوں اتنی نفرت اور بیزاری در آئی تھی‘ حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اس طرح کے نفسیاتی دورے میں اس کا عمل دخل کم ہوتا ہے اور سارا قصور تو اس کے اس چہرے کے زخموں کا تھا جو اب اس کے روح کا ناسور بن گئے تھے۔ یہ زخم اب اس کی روح کو بھی زخمی کر گئے تھے۔ کرن خاموشی سے اس کے ساتھ کمرے میں آگئی۔
’’کیا پیوگی جوس لائوں یا چائے؟‘‘ نجانے کرن کو خاموش دیکھ کر آج اسے اچھنبا سا ہورہا تھا‘ وہ کم ہی خاموش ہوا کرتی تھی۔
’’وہ اجنبی کون ہے؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’کون اجنبی؟‘‘ وہ حیرت سے بولی۔
’’وہی جو لائونج میں بیٹھا ٹاک شو دیکھ رہا تھا۔‘‘ کرن نے دو ٹوک انداز میں پوچھا تو اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑائے تھے۔
’’اوہ… وہ… ہاں وہ تو مہمان ہے‘ چند ماہ یہاں رہے گا۔‘‘ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا‘ اسے عجیب لگا تھا کہ کرن کسی اجنبی میں اس قدر دلچسپی کیوں لے رہی ہے؟
’’ہونہہ… ٹھیک ہے کیا کرنے آیا ہے یہاں؟‘‘ اس نے مزید استفسار کیاؒ۔
’’اپنی تعلیم مکمل کرنے آیا ہے۔‘‘ وہ اب واقعی اس کے سوالات سے اکتا گئی تھی۔
لمحہ بھر کے لیے دل میں آیا پوچھے کہ تم کیوں اتنے سوالات کررہی ہو مگر پھر اس کی عادت اور اس کا مسئلہ سمجھ کر چپ ہوگئی۔ پھر اس نے اسے ایک ایک کرکے ساری الماری گھنگال کر دکھائی۔ اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے ایک بھی شے چھپانے کی سعی کی تو اس کی شکایت دادی کے سامنے پہنچ جائے گی۔
’’مجھے یہ فیروزی کام والا سوٹ دے دو۔‘‘ اس نے بلا کسی تردد کے کہا‘ وہ حیران رہ گئی‘ اپنی جگہ جزبز بھی ہوئی تھی‘ یہ سوٹ وہ بطور خاص اپنے لیے لائی تھی‘ اس کا ارادہ اپنے کالج کے الوداعی فنکشن میں پہننے کا تھا۔ ابھی وہ سوچ میں گم تھی‘ دوسری طرف کرن نے اس کی خاموشی کو نجانے کیا سمجھا کہ اٹھ کر اس سوٹ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’میں ابھی شاور لے کر آتی ہوں۔‘‘ کرن کا انداز دو ٹوک تھا اس لیے اسے کرن کی آمد گراں گزرتی تھی‘ وہ بظاہر نفسیاتی مریضہ بنے ہر کسی کو دکھ دے کر سکون محسوس کرتی تھی‘ جانے انجانے میں اپنے بدصورت چہرے کا بدلہ سب سے لے کر دل کو عجب تقویت پہنچاتی تھی‘ وہ ہونٹ بھینچے اسے واش روم میں سوٹ لیے جاتا دیکھتی رہی تھی۔
{…()…}
’’کیا بات ہے اماں آج تو گھر بڑا سجا سنورا لگ رہا ہے؟‘‘ جیسے ہی ذکیہ نے گھر کے آنگن میں قدم رکھا اسے گھر میں واضح تبدیلی محسوس ہوئی۔ کیاریوں میں نئے پودے لگے تھے۔ ڈرائنگ روم میں نئے پردے اور گھر کی سجاوٹ پھولوں سے کی گئی تھی اور اسے یہ سب دیکھ کر اچھنبا ہوا تھا۔ اس کے سوال اور اس کی آمد پر اماں بری طرح بوکھلا گئی تھیں اور ہڑبڑا کر اپنے مجازی خدا کو دیکھ رہی تھیں اور پلٹ کر کچن کی طرف بھی۔ فائزہ بیگم کے چہرے کے تاثرات سے جیسے وہ سارا معاملہ اور بات کی تہہ تک منٹوں میں پہنچ چکی تھی۔
’’کیا امبر کے رشتے کے لیے کوئی آرہا ہے؟‘‘ اس نے اندازاً کہا تھا اور جس طرح سے فائزہ بیگم کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ اس کا اندازے سے لگایا گیا تکا بالکل ٹھیک نشانے پر لگا ہے۔
’’ہاں عابد صاحب کے دور کے رشتہ دار ہیں۔‘‘ وہ بات سنبھال گئیں۔
’’تو یہ مجھ سے چھپانے کی کیا ضرورت تھی‘ مجھے تو بلایا ہی نہیں نہ بتایا۔‘‘ وہ منہ بسور کر بولی۔ اب فائزہ بیگم اسے کیا بتاتی کہ اس سے ہی تو چھپانا ضروری ہوگیا تھا‘ اس کا امبر کے ہر رشتہ میں کوئی نہ کوئی مین میخ نکال دینا اب امبر کے لیے مشکل کا باعث بن رہا تھا‘ اب عابد اور فائزہ بیگم نے طے کرلیا تھا کہ اب کی بار جو بھی رشتہ آئے گا اس میں ذکیہ کو ہرگز ملوث نہیں کیا جائے گا‘ نہ ہی اسے مدعو کیا جائے گا‘ اس لیے اپنے تئیں تو وہ بالکل خاموشی سے اس معاملے کوحل کررہی تھیں مگر برا ہو کہ ذکیہ بنا اطلاع کے ازخود آگئی اور اس وقت ٹوہ لینے کے انداز میں اطراف کا جائزہ لینے میں منہمک تھی۔ تبھی کچن سے کسی کام کے حوالے سے کوئی بات پوچھنے امبر آئی اور صحن میں ہی ایستادہ ذکیہ آپا کو دیکھ کر بری طرح بوکھلا کر رہ گئی تھی۔ امبر کا سجا سنورا روپ اس وقت جیسے ذکیہ کے دل پر قیامت ڈھا گیا تھا‘ امبر خوش شکل تو تھی ہی اس وقت سج سنور کر اور بھی خوب صورت لگ رہی تھی اور شاید ہی کسی آنکھ کو وہ ناپسندیدہ لگتی‘ ذکیہ تو اس کا اس روپ میں سجا سراپا دیکھ کر اپنی جگہ کڑھ کر رہ گئی تھی۔ پھر جب دروازے پر دستک ہوئی تو یقینا یہ ان خصوصی مہمانوں کی آمد کی دستک تھی۔ دو خواتین تھیں‘ ایک معمر جو لڑکے کی والدہ جبکہ دوسری نو عمر لڑکی تھی‘ فائزہ بیگم سلام دعا کے بعد انہیں ڈرائنگ روم میں لے آئی تھیں۔
وہ چاہ کر بھی ذکیہ سے یہ نہ کہہ پائی تھیں کہ اس دفعہ اپنی زبان پر قفل لگالے جانتی تھیں کہ بیٹی بپھر جائے گی‘ ان کی اس بات پر وہ واویلا مچائے گی کہ اللہ کی پناہ‘ شاید جو رشتہ استوار ہونے کی رتی بھر بھی امید ہے وہ بھی جاتی رہے گی‘ امبر کی تمام حسیات چوکس ہوگئی تھیں‘ اس کا سارا دھیان ڈرائنگ روم سے آتی آوازوں پر مرکوز تھا۔
’’ماشاء اللہ کافی باذوق ہیں آپ؟‘‘ معمر خاتون نے اطراف کا طائرانہ نگاہوں سے جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’جی بس یہ سب تو میری امبر کے شُوق ہیں‘ نت نئی کارگزاریاں کبھی بچے ہوئے کپڑوں سے ایسی آرائشی اشیاء تیار کرتی ہے دل خوش ہوجاتا ہے‘ حالانکہ اللہ رب العزت کا دیا سب کچھ ہے مگر میری بچی بہت سلیقہ شعور ہے اور اتنی باادب ہے کہ بس… ‘‘ فائزہ بیگم امبر کی تعریفوں میں رطب اللسان تھیں جو کسی حد تک درست بھی تھیں۔ کیونکہ امبر واقعی بے حد شائستہ مزاج کی مالکہ تھی۔ ڈرائنگ روم واقعی بے حد خوب صورتی سے سجایا گیا تھا پھر ان خاتون نے امبر کو دیکھنے کی فرمائش کی‘ تب فائزہ بیگم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بالکل چپ بیٹھی ذکیہ سے اشارہ کیا کہ جاکر بہن کو لے آئے۔
ذکیہ مارے باندھے بے زاری و اکتاہٹ سے اٹھ کر گئی اور واپسی پر اس کے ہمراہ امبر تھی جو اس وقت بے حد قرینے سے ٹرالی دھکیلتی ہوئی آرہی تھی۔ ٹرالی چائے کے ہمراہ لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔ کریم رول‘ چکن ویجی ٹیبل رول‘ ایگ رول‘ چاکلیٹ کیک‘ پیٹیز اور انواع اقسام کے بسکٹ سب ہی سلیقے سے رکھے تھے۔ خاتون گہری محویت سے امبر کا جائزہ لے رہی تھیں۔ چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی‘ انہیں امبر بے حد پسند آئی تھی‘ ستائشی نگاہوں میں واضح پسندیدگی امڈ آئی تھی۔
’’ماشاء اللہ ادھر آکر بیٹھو۔‘‘ خاتون نے امبر کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس ہی بٹھا لیا تھا۔ پھر اس سے سوالات کرنے لگی تھیں۔ کتنی تعلیم ہے‘ کیا پسند ہے وغیرہ۔ اچانک کمرے میں ان کے خاموش ہوتے ہی دبیز خاموشی چھاگئی تھی‘ معمر خاتون نے اپنی بیٹی سے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا اور اس نے بھی اثبات میں اپنا عندیہ دے ڈالا‘ وہ بھی امبر سے مرعوب ہوگئی تھی۔ تبھی اس گمبھیر خاموشی کو ذکیہ کی کرخت آواز نے چیر ڈالا۔
’’اور آنٹی آپ کے برخوردار کیا کرتے ہیں؟ امی نے مجھے بتایا نہیں ورنہ ہم پہلے آکر آپ کا گھر بار دیکھ لیتے‘ پھر اس بات کو آگے بڑھایا جاتا۔‘‘ ذکیہ کا انداز بے حد عجیب تھا‘ اس سے بھی عجیب اس کی نگاہوں کا رنگ تھا‘ جس میں اہانت کا احساس نمایاں تھا‘ لمحہ بھر کے لیے ان معمر خاتون کی نگاہوں میں تعجب در آیا۔
’’ارے مسز عابد آپ نے اپنی بیٹی کو بتایا نہیں کہ آپ ہمارے اظہر کو نہ صرف دیکھ آئی ہیں بلکہ آپ نے پسند بھی کرلیا ہے۔‘‘ ان خاتون کی بات پر ذکیہ کا چہرہ ایک دم جیسے تاریک ہوا تھا۔ موڈ بھی بے حد خراب ہوگیا تھا۔ اس کا مقصد ان خواتین کو بے عزت کرنا تھا‘ مگر اس وقت وہ خود ہی بے عزتی کی انتہائوں پر تھی اور بری طرح موڈ خراب ہوچکا تھا۔ تبھی کسی قسم کا لحاظ رکھے بنا بولی۔
’’اصل میں میں اس گھر کی بڑی بیٹی ہوں مگر مجھ سے ہی معاملات کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے کہیں میں کوئی اچھی نصیحت نہ کردوں‘ تف ہے ایسے نام کے رشتوں پر‘ میں اب ایک منٹ اور یہاں ضائع نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ وہ مروت بالائے طاق رکھتے نیا ڈرامہ رچاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر دروازے تک اس کی زبان یونہی نان اسٹاپ چلتی رہی تھی۔ فائزہ بیگم شرمندہ ہوتی ان خاتون سے نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی تھیں۔
وہ خاتون بھی ہونق چہرہ لیے کبھی فائزہ بیگم اور کبھی سر جھکائے ندامت سے بیٹھی امبر کو دیکھ رہی تھیں‘ ابھی کچھ دیر پہلے والا تاثر زائل ہوگیا تھا‘ وہ تصورات کہ وہ لوگ کس قدر سلیقہ شعار اور خوش گفتار ہیں‘ ایک ذکیہ کی بدزبانی و بدکلامی کی سبب اس پول کی قلعی کھل گئی تھی اور اس وقت فائزہ بیگم کے پاس اس ساری صورت حال کا کوئی جواب نہ تھا تبھی وہ خاتون ازخود رسانیت سے بولیں۔
’’بہن میرا خیال ہے ابھی ہمیں چلنا چاہیے پھر کسی وقت حاضر ہوں گے۔‘‘ وہ خاتون اٹھ کھڑی ہوئیں تو جیسے فائزہ بیگم گہرے ٹرانس سے باہر آئیں۔
’’ارے ایسے کیسے ابھی تو چائے تک نہیں پی آپ نے‘ بہن میں آپ کے سامنے بے حد شرمندہ ہوں‘ اس بیٹی کی وجہ سے میں نے اسے ساتھ نہیں لیا تھا‘ جب آپ نے انوائیٹ کیا تو میرے خاوند کا اور میرا مشورہ یہی تھا کہ جو بیاہی بیٹی ہے اب فقط اپنا گھربار دیکھے‘ یہاں کے معاملات کی دیکھ ریکھ کے لیے میں ابھی زندہ ہوں‘ اس لیے میں اپنی بیٹی کے مستقبل کا فیصلہ بھی احسن طریقے سے کرسکتی ہوں‘ کچھ میری بیٹی کی زبان کی کڑواہٹ کی وجہ سے میں اسے ساتھ نہیں لائی تھی۔ مگر یقین مانیں امبر ایسی نہیں ہے۔‘‘ فائزہ بیگم صفائیاں دے رہی تھیں اپنی دانست میں معاملہ رفع دفع کررہی تھیں مگر ان خاتون کے چہرے پر بکھری استہزائیہ مسکراہٹ ان کے دل کے آر پار ہورہی تھی۔
{…()…}
’’اماں یہ لڑکا کون ہے؟ یوں دو دو جوان بچیاں گھر میں موجود ہیں اور آپ نے ایک نامحرم کو گھر میں گھسا رکھا ہے یہ کہاں کی دانش مندی ہے۔ مجھے تو اب معلوم ہوا اور میں تو بے حد فکرمند ہوں اس معاملے میں کہ اب نجانے کیا ہوگا؟‘‘ آنسہ پھوپو کا خدشات لیے تشویش کا اظہار کرتا انداز دادی کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
’’لو بھلا مانس بچہ ہے‘ اپنے کام سے کام رکھتا ہے‘ صبح جو جاتا ہے تو شام سے ذرا پہلے واپسی ہوتی ہے‘ سیدھا اپنے کمرے میں جاکر بند ہوجاتا ہے‘ رات کے کھانے پر ہی ملاقات ہوتی ہے اور سچ پوچھو تو ایسا نیک بچہ میں نے نہیں دیکھا۔ اس لڑکے کے جو گن ہیں وہ نہ تو اپنے ظفری میں ہیں نہ ہی عمر میں اور پھر میرے سامنے بچیاں رہتی ہیں اور میں زمانہ شناس ہوں‘ جانتی ہوں کہ کون کیسا‘ کتنے پانی میں ہے۔‘‘ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا تو فی الوقت ماں کے سامنے وہ چپ ہوگئی مگر چہرے پر بکھری واضح ناپسندیدگی صاف ظاہر ہورہی تھی۔
’’دیکھ لیں کل کلاں کو کوئی مسئلہ نہ ہوجائے۔‘‘ آنسہ بضد ہوئیں۔
’’تم ان سب فکروں میں نہ پڑو‘ یہ سب معاملات میں دیکھ لوں گی‘ پہلے کیا کرن کے لیے کم فکر مندی ہو اور شہیر کیسا ہے؟ اسے بھی کہتی ساتھ آجاتا۔‘‘ دادی کی بات پر مامتا کا رنگ آنسہ کے چہرے پر بکھر گیا۔
’’شہیر تو اپنے باوا کے ساتھ بزنس کے جھمیلے میں الجھا رہتا ہے اور میں نے تو کہا تھا‘ کہنے لگا بعد میں آجائوں گا‘ ابھی بہت مصروفیت ہے‘ کسی نئے پروجیکٹ پر کام کررہا ہے۔ بہت مصروف ہے‘ اور پھر اس نے ہی تو اپنے بابا کے ساتھ مل کر سارا کام دیکھنا ہے۔‘‘ آنسہ نے ہنس کر اپنی ماں کو شہیر کے حوالے سے جواب دیا‘ آنسہ کے دو بچے تھے‘ شہیر اور کرن‘ شہیر میں تو ان کی جان تھی۔ شہیر بہت نخریلا تھا‘ کم گو بھی اور اس کا اس طرف بہت کم آناہوتا تھا۔
’’تم اب کرن کے لیے سوچو‘ کوئی رشتہ دیکھو‘ یوں کب تک کرن کو بٹھائے رکھوگی‘ آگے وہ نہیں پڑھ رہی اور پھر اس کے ساتھ جو ذہنی مسئلہ در پیش ہے اس کے لیے ڈاکٹرز نے یہی تجویز کیا تھا کہ اس کی شادی کردی جائے۔‘‘ دادی جان گویا ہوئیں تو ایک پھیکی سی مسکراہٹ نے آنسہ کے لبوں کو چھوا۔
’’اماں ظفری کے لیے بات کریں ناں آپ بھابی سے۔‘‘ آنسہ کے دل کی بات ان کے لبوں سے پھسلی تھی۔ دادی نے خشمگیں نگاہوں سے بیٹی کو دیکھا‘ جس میں بعد ازاں تاسف بھی شامل ہوگیا تھا۔
’’یہ بھی خوب رہی تم نے کہا اور بہو میری بات مان گئی۔ ایسا تو نہیں ہوتا ناں‘ خیر میں بات کروں گی بلال سے۔‘‘ دادی کی بات پر آنسہ نے سر جھکا لیا تھا ان کا ارادہ بھی ماں سے یوں کہنے کا نہیں تھا‘ مگر کیا کرتیں کہ وہ ماں سے ہر غم و خوشی بلا کسی ردوکد کے کہہ دینے کی عادی تھیں۔ ماں بھی ان کے غم وخوشی کو سمجھ جاتی تھیں‘ اب جبکہ وہ بھی ماں تھیں اور اپنی بیٹی کے سنہرے مستقبل کے حوالے سے چند خواب دیکھ رہی تھیں‘ اب تو یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ کرن کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی بہت ہی قریبی رشتہ کی ضرورت ہے‘ کوئی غیر ہرگز بھی ان کے زخموں پر ٹھنڈے پھاہے رکھنے نہیں آئے گا‘ کوئی اجنبی ان کی بیٹی کو اپنا نام و محبت دے کر ان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھے گا‘ یہ زخم تو اب ناسور بنتا جارہا تھا‘ کرن نے یہاں آکر جس طرح سے زویا کے کپڑوں پر قبضہ جمایا تھا اس سے آنسہ بیگم اپنی جگہ جزبز ہوکر رہ گئی تھیں۔ شرمندہ تھیں‘ انہوں نے تنہائی میں زویا سے معذرت بھی کی تھی مگر دل میں گہرا ملال بھی تو تھا‘ یہ سب مقدروں کے کھیل تھے۔
{…()…}
ریحان تھکا ہارا لوٹا تو سیدھا کمرے کا رخ کیا۔ تب اس کی نگاہ زیبا پر پڑی‘ جو اس کی آمد سے یکسر انجان اور اس کی الماری میں نجانے کیا تلاش کررہی تھی۔ وہ دروازے پر ہی ایستادہ ہوکر اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کا سوچ رہا تھا‘ جب اندر سے ایک اور آواز پر بری طرح سے چونکا۔
’’اب بس بھی کردو ناں‘ کتنا پھوہڑ بندہ ہے‘ سب الابلا الماری میں بند کر رکھا ہے‘ کپڑے یوں تتربتر اور کتابیں کس طرح ترتیب سے رکھی ہیں۔ اللہ کی شان ہے اور کیوں اس اجنبی کے لیے ہم خود کو تھکائیں‘ اسے تو یوں بھی عادت ہوگی اس طرح برے حالوں میں رہنے کی۔‘‘ زویا کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رک گئے تھے‘ زویا بیڈ پر نیم دراز تھی اور اس کا رخ بھی زیبا کی طرف تھا جبکہ زیبا بھی الماری میں سر دیے اس کے کپڑے ترتیب سے تہہ کرکے رکھ رہی تھی۔
’’بری بات ہے زویا‘ وہ ہمارا مہمان ہے پھر وہ اچھا انسان لگتا ہے دادی جان بھی ہر وقت اس کی تعریفیں کرتی رہتی ہیں‘ اور سچ کہوں تو کسی کے کام آکر میرے دل کو بہت خوشی ہوتی ہے بے چارہ اپنی ماں‘ اپنی بہنوں اور گھر سے دور ہے۔ نجانے کتنا اداس ہوتا ہوگا کتنا مس کرتا ہوگا۔‘‘ وہ جیسے اس اجنبی کی فکر میں گھل ہی گئی تھی۔ اب زیبا کیا کرتی کہ اس کا دل ہی محبت سے لبریز تھا۔ اپنے پرایوں کی محبت‘ اپنائیت‘ فکرمندی اور احساس سے لبریز دل۔
’’ایک تو میں آپ کی اس لونگ کیرنگ نیچر سے عاجز آگئی ہوں‘ اسے بھی اب سر پر بٹھا لیں۔ سب کی تو عادتیں خراب کردی ہیں اب اس موصوف کی عادتیں خراب کرنا باقی ہیں چلو بھئی اب بس کرو۔‘‘ زویا نے ناگواری سے کہا۔
’’ارے بس یہ آخری شرٹ تہہ لگا کر رکھ دوں پھر چلتی ہوں۔ ویسے بہت اچھا انسان ہے‘ کبھی بھی اس نے کوئی معیوب حرکت نہیں کی۔‘‘ زیبا نے سلجھے ہوئے انداز میں ریحان کی تعریف کی۔ ریحان کے دل میں امید کے شگوفے کھل اٹھے تھے۔ موڈ ایک دم ہی خوشگوار ہوگیا تھا۔ ساری کلفت‘ ساری تھکان اڑن چھو ہوگئی تھی‘ پژمردگی خوشی میں ڈھل گئی تھی‘ وہ اتنے دنوں سے اداس اور ملول تھا گھر سے واقعی اب اسے دوری کا احساس ستا رہا تھا۔ وہ جب واپس لوٹتا تو کمرے میں مقید ہوجاتا تھا‘ اپنے گھر کی یاد اب اس کے قلب وجان میں بسیرا کرنے لگی تھی اور یہ اچھی لڑکی کس طرح بنا کہے اس کے دل کی ساری بات من وعن جان گئی تھی۔ اس کی محبت بھی کاش جان پاتی‘ اس کی خلوتوں کو منور کرنے والا چہرہ آج اس کے کمرے میں بھی روشنی کی جلترنگ بکھیرنے چلا آیا تھا۔
’’آہم آہم… کیا آپ کو اس پردیسی سے محبت وحبت تو نہیں ہوگئی؟‘‘ زویا نے شرارت بھرے انداز میں کہا‘ آج پہلی مرتبہ ریحان کو زویا کے بلا تکان بولنے کے فوائد وثمرات کا اندازہ ہوا تھا۔ اس نے آج اس کے دل کی بات براہ راست زیبا سے پوچھ لی تھی۔
’’پاگل تو نہیں ہوگئی ہو تم؟‘‘ زیبا خفگی بھرے انداز میں پلٹی اور دروازے میں ریحان کو کھڑا دیکھ کر وہ بری طرح بوکھلا گئی تھی‘ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر زویا بھی پلٹی اور پھر دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں واپسی کا اشارہ کیا۔
’’ہم آپ کے کمرے کی صفائی کرنے آئے تھے۔ کس قدر گندا کمرہ رکھتے ہیں آپ‘ ارے دادی جان کو علم ہوا ناں تو آپ کی اچھی خاصی کلاس لے لیں گی۔‘‘ زویا نے جلدی سے بات بنائی‘ کیونکہ اسے زیبا کا نروس ہونا اور ریحان کا دلچسپی سے دونوں کو دیکھنا گراں گزرا تھا اور اسے ریحان کی پراسرار مسکراہٹ سے بھی الجھن ہورہی تھی۔ کس طرح ٹکر ٹکر وہ زیبا کو تک رہا تھا مگر اسے کیوں یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا‘ اس کا معمہ حل ہونا باقی تھا۔
’’چلیں اب آپی۔‘‘ اس نے زیبا کا باقاعدہ بازو تھام کر اسے ٹہوکا دیا۔ زیبا بھی جو ریحان کی نگاہوں کی تپش سے گھبرا کر پگھلی جارہی تھی‘ سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔
’’ہاں چلو۔‘‘ وہ جیسے گہری نیند سے بیدار ہوئی تھی۔ جاتے ہوئے بھی زیبا کو اپنی پشت پر دو ارتکاز لیے گہری نگاہوں کی چبھن محسوس ہورہی تھی۔ اور اسے ان نگاہوں سے کوفت نہیں صرف الجھن اور اسرار محسوس ہورہا تھا۔
نجانے کیوں زیبا کے جاتے ہی وہ کیوں ایک دم خود کو ادھورا سا محسوس کرنے لگا تھا۔ بے دلی سے اس نے اپنا بیگ اور کتابیں سائیڈ ٹیبل پر دھریں اور خود بستر پر ڈھے گیا۔ بار بار نظروں کے سامنے زیبا کا دلکش مسکراتا چہرہ لہرا رہا تھا‘ بازگشت میں اس کا مترنم لہجہ سما رہا تھا اور دل تھا کہ اس کی حسین موہنی صورت کے نقب زنی لگانے پر بھی اس کا اسیر محبت ہورہا تھا‘ وہ جاچکی تھی مگر اس کی خوشبو چہار سو پھیلی ہوئی تھی۔
{…()…}
سبک روی سے چلتی ٹھنڈی ہوائیں ماحول کو بے حد خوشگوار بنا رہی تھیں‘ ہلکا نیلا آسمان سیاہ گھنگھور بادلوں کی لپیٹ میں گھرا آنکھوں کو خیرہ کررہا تھا‘ لان میں پھول معطر ہوائوں سے لہرا کر جیسے مدھر سا گیت بکھیر رہے تھے۔ ان کی خوشنمائی دل میں بسیرا کررہی تھی۔ چڑیاں چہچاہٹ لیے موسم کا لطف لے رہی تھیں۔ فضا میں عجب نغمگی پھیلی تھی‘ وہ سب لان میں کین کی کرسیوں پر براجمان اس موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ آج پہلی مرتبہ یہاں آکر کرن بوریت کا شکار نہیں ہورہی تھی۔ اسے نجانے کیوں ریحان کو دیکھ کر دل میں تقویت کا احساس جاگزیں ہوتا تھا‘ وہ لفظ محبت سے نابلد تھی مگر جب بھی ریحان اس کے سامنے آتا وہ سب بھلا کر اسے ٹکر ٹکر دیکھنے لگتی تھی۔ یہ جانے بنا کہ اس میں اور ریحان میں زمین آسمان کا فرق حائل ہے۔ ریحان بے حد خوب صورت وجیہہ اور خوبرو لڑکا تھا‘ نہ صرف شکل وصورت میں بلکہ عادات واطوار میں بھی مثالی تھا۔ یہی اس کی خوبیاں تھیں کہ دادی جان نے اس کے یہاں رہنے کو کھلے دل سے قبول کیا تھا اور ہر لحظہ اس کی خبر گیری اور دلجوئی میں جتی رہتی تھیں۔ دادی کو ریحان کو دیکھ کر کہیں یہ آرزو جاگ جاتی تھی کہ وہ ان کی پوتی زیبا کو پسند کرلے‘ وہ اس حقیقت سے قطعی طور پر بے خبر تھیں کہ ریحان تو پہلی نظر میں ہی زیبا پر فریفتہ اور اس کی زلف کا اسیر ہوچکا تھا‘ چند ماہ بعد اس کا تعلیمی سلسلہ بھی مکمل ہونے والا تھا‘ پھر اس کا یہاں قیام کا کوئی جواز باقی نہ رہتا‘ کبھی کبھار یہی سوچ ریحان کو پریشان اور بے تاب کردیا کرتی تھی۔ کرن کن اکھیوں سے گہری سوچ میں گم ریحان کو دیکھ کر نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ کرن نے کئی بار محسوس کیا تھا کہ ریحان زیبا میں گہری دلچسپی لیتا ہے اور خود زیبا ریحان کی نگاہوں کی تپش سے جیسے گھبرا سی جاتی ہے۔ یہ محض محبت کا شاخسانہ تھا۔ وہ جو دل کے نہاں خانوں میں ریحان کو چاہنے لگی تھی اب اسے کسی طور بھی کسی دوسرے شخص سے ریحان کی شراکت داری منظور نہ تھی‘ گھر والے کرن کی اس نئی عادت سے حیران تھے کہ وہ جو کبھی ادھر کا رخ بھی نہ کرتی تھی‘ کتنے ماہ سے ادھر ہی ٹک گئی تھی‘ بقول کرن۔
’’مجھے یہاں کی فضا راس آگئی ہے۔‘‘ جبکہ اصل معمہ تو کچھ اور ہی تھا‘ کرن کو اپنی بدصورتی کا مکمل طور پر احساس تھا‘ اس بدصورتی کا بدلہ وہ دوسرے لوگوں کو زچ کرکے لیتی تھی۔ اس کا نفیساتی دبائو جب حد سے سوا ہوجاتا تو وہ دوسروں کی خوشیوں کو چھین کر مسرت حاصل کرتی تھی‘ جس دن کرن آئی اس نے ریحان کو بار بار زیبا کی جانب کن اکھیوں سے تکتے ہوئے پایا تھا۔ کرن کو پہلے پہل تو یہ اپنا وہم لگا مگر پھر رفتہ رفتہ وہ اس حقیقت کا ادراک ہوجانے پر دل میں ہی سازشی منصوبہ تشکیل دیا۔ ریحان کا ہر وقت زیبا کے سامنے آتے ہی اس کے چہرے پر نگاہیں مرکوز کرنا‘ زیبا کا بھی غیر محسوس طریقے سے ریحان کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا‘ اس کے کمرے کی صفائی سے لے کر اس کے تمام کپڑوں کو استری کرکے قرینے سے طے لگا کر رکھنا‘ ریحان کے من پسند پکوان پکانا‘ ریحان کو گاہے بگاہے بنا کہے چائے پہنچانا اور سب سے بڑھ کر ریحان کی آمد کے اوقات میں زیبا کا ایک بے چین روح بن کر بھٹکنا‘ سب کچھ کرن پر آشکار ہوچکا تھا‘ اگرچہ وہ یہ بخوبی جانتی تھی کہ زیبا پر کسی بھی اہل خانہ کو ذرا سا بھی شک نہیں تھا کہ وہ ریحان کی محبت میں مبتلا ہوسکتی ہے‘ کیونکہ ریحان کے سامنے وہ نظر اٹھا کر بھی اس کو دیکھنے سے کتراتی تھی۔ نجانے کیوں جس کے خیالات کے تانے بانے وہ دن رات اب بننے لگی تھی اس کے سامنے وہ انجان بن جانے کی اتنی بہترین اداکاری کیونکر کرلیتی تھی‘ وہ ریحان کی نگاہوں میں جھانکنے سے کتراتی تھی‘ اسے خوف حائل تھا کہ اگر اس نے ایک بار بھی ریحان کی گہری محبت لٹاتی نگاہوں میں جھانکا تو وہ پتھر کی ہوجائے گی‘ اسی خوف میں وہ ریحان کو نظر انداز کر جاتی تھی مگر ریحان کو چپکے چپکے سے کسی اوٹ سے دیکھتی رہتی اور دل میں نرم کومل جذبے پروان چڑھتے رہتے تھے۔ ایسے ہی کسی وقت کرن نے زیبا کو کچن کی سے کھڑکی سے باہر لائونج میں ریحان کو تکتے ہوئے دیکھ لیا تھا‘ اگرچہ کرن سے نگاہ ملتے ہی زیبا نے اپنا رخ تبدیل کرلیا تھا مگر کرن نے اس کے چہرے پر بکھرے محبت کے الوہی جذبے و رنگ دیکھ لیے تھے‘ جو محض محبت کا ہی اعجاز ہوا کرتے ہیں۔ آج بھی دادی جان نے اس حسین موسم میں زیبا کو کہا۔
’’زیبا جا بچی ذرا اس ریحان کو بھی بلا لا‘ سب اہل خانہ یہاں چائے کی چسکیاں لے رہے ہیں‘ وہاں بچہ بچارا اکیلا کمرے میں پڑا ہے۔‘‘ وہ دادی کی بات پر گھبرا سی گئی تھی۔ یوں تن تنہا ریحان کا سامنا کرنے سے اس کی جان ہی تو جیسے چلی گئی تھی۔ زویا نے بھی صاف انکار کردیا تھا۔
’’چوبیسوں گھنٹے میں اس موصوف کی خدمت گزاری کے لیے وقف ہوکر رہ گئی ہو‘ عجیب اکھڑ مزاج بندہ ہے‘ مجال ہے جو کبھی لفظ شکریہ ہی کہہ دے۔‘‘ وہ پکوڑوں سے انصاف کرتی صاف مکر گئی تھی کہ وہ ریحان کو بلا کر نہیں لائے گی۔ چارو ناچار خود زیبا کو ہی ہمت مجتمع کرکے ریحان کے کمرے کی طرف جانا پڑا تھا‘ ریحان بیڈ پر نیم دراز کسی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف تھا۔ اس کی آہٹ پر بری طرح چونکا۔ پھر زیبا پر نگاہ پڑتے ہی ریحان ایک دم سے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ کتاب سائیڈ پر رکھ دی‘ زیبا پر نگاہ پڑتے ہی اس کے اندر محبت کے نرم گرم جذبے پروان چڑھنے لگے تھے۔ زیبا نے اس کی نگاہوں میں جھانکا‘ جہاں اپنا عکس اس قدر واضح تھا کہ وہ گھبرا سی گئی تھی۔ پلکوں کی چلمن جھکا گئی تھی۔ گال محبت کی تمازت سے سرخ ہوگئے تھے۔ ریحان کی نگاہوں میں محبت کے دیپ جل اٹھے تھے۔ وارفتگی ہی وارفتگی تھی۔ اس کا دل اتھل پتھل ہونے لگا۔ اسے بھول ہی گیا کہ وہ یہاں کیا کہنے آئی تھی۔ ریحان کی نگاہوں نے جیسے اس کے پائوں میں زنجیر ڈال دی تھی‘ اس سے ہلنا بھی محال ہونے لگا تھا۔
’’آئیں بیٹھیں۔‘‘ ریحان کی آواز شدت جذبات سے مغلوب ہوکر بھاری ہورہی تھی۔
’’میں کتنے دنوں سے خود بھی آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ مگر اس لیے خاموش تھا کہ ایک تو میں آپ لوگوں کا احسان مند ہوں کہ آپ نے مجھے یہاں رہائش کی اجازت دی‘ میرا کوئی بھی اٹھایا ہوا قدم کسی کی دل شکنی کا سبب نہ بن جائے آپ میرا جس قدر خیال رکھتی ہیں اس کے لیے دل آپ کے لیے بے حد شکر گزار رہتا ہے‘ شاید احساس کے جذبے سے گندھے ہوئے رشتے کسی لفظ کے محتاج نہیں ہوتے مگر بسا اوقات یہ لفظ ہی ہوتے ہیں جو ہمارے احساسات و جذبات کو من وعن دوسرے کے دل میں تحلیل کردیتے ہیں‘ میں آپ کے خلوص کا قدردان ہوں۔‘‘ زیبا اس کی اتنی لمبی چوڑی گفتگو سے گھبرا کر اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخانے لگی۔
’’دادی باہر آپ کو بلا رہی ہیں لان میں‘ آئیں چائے پی لیں۔‘‘ وہ بمشکل جملہ ادا کرکے مڑنے کا ارادہ رکھتی تھی جب ریحان کے الفاظ اس کے قدموں کی زنجیر بن گئے۔
’’کیا صرف دادی جان ہی مجھے یاد کررہی تھیں‘ آپ نے بھی کہہ دیا ہوتا کہ میری یاد ستا رہی ہے۔‘‘ ریحان کے الفاظ پر ایک مدھر شرمگیں مسکان لیے وہ تیزی سے باہر بھاگ گئی۔ دل اتھل پتھل ہورہا تھا۔ جذبات سنبھالنے کے لیے وہ ایک جانب راہداری میں کھڑی دل کی دھڑکنوں کو سنبھالنے میں محو ہوگئی تھی۔ محبت کے جذبے کس قدر خوب صورت ہوتے ہیں اور اگر یہ محبت دو طرفہ ہو تو زندگی اور بھی حسین ہو جاتی ہے‘ پھر اس خوب صورت شام میں نگاہوں ہی نگاہوں میں ریحان اور زیبا نے ایک دوسرے سے تا عمر ساتھ نبھانے کا عہد کرلیا تھا اور کرن یہ سب دیکھ کر بری طرح تلملا رہی تھی۔ اسے ریحان اچھا لگا تھا مگر اب کسی اور کی محبت بن کر وہ اس کی ضد بن گیا تھا۔ غصے اشتعال کی تیز لہر دباتی وہ وہیں بیٹھی منصوبے بناتی رہی تھی۔
{…()…}
ڈور بیل کی آواز پر وہ بے زاری اور کسل مندی سے دروازے پر آئی۔
’’کیا بات ہے گھر کے سب مکین کیا گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہے ہیں؟ کب سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔‘‘ وہ زویا کا اترا ہوا چہر دیکھ کر بولا۔
شہیر صاحب کی جب بھی آمد ہوا کرتی تھی ان کی تیوریاں چڑھی ہی رہتی تھیں‘ اب تو وہ ان کے اس انداز کی عادی ہوچکی تھی۔ پھوپو کا لحاظ مروت نہ ہوتا تو وہ بے بھائو کی سناتی کہ کیا یاد کرتے موصوف۔
’’ابھی ابھی میں خود کالج سے تھکی ہاری لوٹی ہوں اور باقی سب واقعی سو رہے ہیں۔ ذرا وقت دیکھیں اپنی آمد کا… اب اس وقت کھانے کے بعد آپ کو معلوم ہی ہے کہ دادی جان قیلولہ فرماتی ہیں اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کی آمد ہونے والی ہے‘ ورنہ ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لے کر قطار میں کھڑے ہوتے۔‘‘ وہ بجائے اس کی اس طنزیہ گفتگو پر غصہ ہونے کے نجانے کیوں مسکرا اٹھا۔
اتنے دنوں بعد وہ دکھائی دی تھی اور آج بھی اس کا انداز وہی تھا جولانی پُر شعلہ بیانی عروج پر تھی۔ شہیر کو شروع سے ہی دبو قسم کی لڑکی پسند نہ تھی… وہ چاہتا تھا کہ اس کی شریک سفر بھی ایسی ہی ہو جو زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جی سکے اور اس کے دوبدو قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔ دل کے کسی کونے میں اس کی انتخاب نظر اسی پر جا ٹھہری تھی‘ مگر کم بخت دل تھا کہ اسے دیکھ کر لگامیں چھوڑ کر سر پٹ دوڑنے لگتا تھا۔ وہ شوخ نگاہوں سے اس کا الجھا ہوا انداز اور بکھرا ہوا حلیہ اور کچی نیند سے جاگنے سے آنکھوں میں بسے سرخ ڈورے دیکھ رہا تھا۔ جو سیدھا دل میں اترتی اس کے دل کے تار چھیڑے بالکل بے فکر تھی۔
’’اب آہی گیاہوں تو یار اچھی سی اپنے ہاتھوں کی چائے تو پلادو سیدھا آفس سے ادھر ہی آرہا ہوں اور ہاں امی کہاں ہیں نہ کرن دکھائی دے رہی ہے‘ بلاوے پر بلاوے تو خوب آرہے تھے میرے لیے۔‘‘ شہیر نے ماں اور بہن کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں۔
’’آج سب کا شاپنگ کا پروگرام بن گیا تھا‘ آپی اور کرن سب مل کر پھوپو کے ساتھ گئے ہیں ظفری بھی ساتھ ہے۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا اور سیدھا کچن کا رخ کیا‘ اس وقت تو اس کی مدد کے لیے زیبا بھی نہ تھی اور اب وہ اتنی بے مروت بھی نہ تھی کہ ایک کپ چائے کا بھی پیش نہ کرتی… اور پھر اس کے لیے وہ امی یا آنٹی کو بھی ڈسٹرب نہیں کرسکتی تھی۔
وہ کیتلی میں چائے تیار کررہی تھی‘ وہ بھی کچن میں اس کے پاس بیٹھا ہوا اس کے کاموں کا جائزہ لے رہا تھا۔
’’کھانا کھائیں گے کیا؟‘‘ اس نے مروتاً پوچھا یا شاید اسے پھوپو کی آمد کے بعد تابڑ توڑ سوالات کا اندیشہ لاحق تھا۔
’’ہونہہ‘ نہیں کھانا نہیں کوئی ہلکی پھلکی شے ہو تو دے دو۔‘‘ وہ اچانک اس کے سراپے میں الجھا ہوا سیدھا ہوا۔
’’میں ردیکھتی ہوں۔‘‘ کباب تل کر اس نے سینڈوچ بنایا اور ساتھ میں گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا کپ بھی اس کے عین سامنے رکھا‘ وہ مسکرادیا۔
’’ویسے اچھی لگتی ہو کام کرتی‘ ہر وقت نکموں کی طرح بس کھانے پر ہی توجہ دیتی ہو‘ آج پوری امور خانہ لگ رہی ہو۔‘‘ وہ شہیر سے اس انداز اس بات کی ہرگز توقع نہیں کررہی تھی‘ شہیر کا انداز عموماً اس کے ساتھ محتاط ہوا کرتا تھا یا شاید اس وقت وہ تنہائی کے سبب اس سے کھل کر محو گفتگو تھا۔ کیونکہ پھوپو جان کو اپنے اس اکلوتے سپوت پر گہری نگاہ رکھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کی نگاہوں کے پیچھے بھی وہ چوکسی سے پہرہ دیا کرتی تھیں۔
’’کیا کرتی رہتی ہو سارا دن؟‘‘ وہ شاید اکیلے بیٹھنا پسند نہ کرتا‘ اس لیے وہ بھی پاس موڑھا رکھ کر بیٹھ گئی۔
’’آخری سمسٹر ہے‘ اس کے بعد فارغ۔‘‘ اس نے مختصراً بات کہہ کر جیسے اپنے ہاتھ جھاڑے۔
’’ہونہہ‘ کچھ سوچا ہے جیون ساتھی‘ شادی کے بارے میں‘ آئی مین اس کے بعد تو تم لڑکیاں شادی کو ہی ترجیح دیتی ہو‘ مزید تعلیم تو حاصل نہیں کروگی ناں اور پھر ایک دن انجام تو شادی ہوا کرتا ہے۔‘‘ وہ نجانے کیا پوچھنا چاہ رہا تھا‘ اس کی بات کا مقصد صرف وہی جانتا تھا‘ اس کا دل کرتا تھا کہ وہ کھل کر اظہار کردے‘ مگر پھر اسے حوصلہ ہی نہ ہوتا تھا‘ وہ بھی تو خونخوار کٹ کھنی بلی کی طرح ہر وقت پنجے مارنے کو بے قرار رہتی تھی۔
’’شادی کا میرا فی الحال کوئی ارادہ نہیں‘ مزید تعلیم حاصل کروں گی اور شادی تو میں من پسند کروں گی۔‘‘ وہ اپنی ہی رو میں بولتی رہی اور وہ اس کی اس گل فشانی کو خاصی دلچسپی سے سن رہا تھا‘ سینڈوچ کھا کر وہ اب چائے کے سپ لے رہا تھا اور نظریں اس کے پُرشباب حسن پر آویزاں تھیں‘ کتنی دلکش لگ رہی تھی اس ملگجے سے حلیے میں بھی… کسی اپسرا کی مانند تبھی آہٹ پر وہ دونوں چونکے۔
’’لگتا ہے سب آگئے ہیں؟‘‘ وہ پُرجوش سی اٹھی اور اس کے عقب میں کپ رکھتے وہ بھی باہر نکل آیا۔
سامنے ہی پھوپو اور کرن کے ہمراہ زیبا شاپرز کا انبار لیے کھڑی تھی۔ پھوپو نے تیز نگاہوں سے شہیر اور اسے ایک ساتھ کچن سے باہر نکلتے دیکھا تو پُرسوچ نگاہوں میں ٹوہ لی۔
’’آگئے تم؟‘‘ پھوپو نے پوچھا تو شہیر سے تھا مگر نجانے ان کی نگاہیں زویا کے چہرے پر کیا تلاش کررہی تھیں۔
’’جی اور آپ کیا شاپنگ کرتی رہی ہیں۔ لگتا ہے سارا بازار ہی خرید لائی ہیں۔‘‘ شہیر نے ہنس کر کہا تو کرن پُرجوش سی بھائی سے لپٹتی ہوئی اسے اپنی خریدی ہوئی شاپنگ دکھانا شروع کردی اور وہ پھوپو کی تیز نگاہوں سے چھپنے کے لیے سیدھا کمرے میں آگئی۔
نجانے کچھ نگاہیں کیسی ہوتی ہیں لگتا ہے جسم کے آر پار اتر رہی ہوں‘ چبھتی ہوئی نگاہیں۔
{…()…}
کیمپس میں وہ مخصوص نشست پر بیٹھی ہوئی اپنی عزیز ترین دوست ارم کا انتظار کررہی تھی‘ جو لائبریری سے بکس ایشو کروانے گئی تھی۔ عموماً وہ بھی اس کے ساتھ ہی جاتی تھی مگر آج اسے نوٹس بنانے تھے اس لیے وہ سر حماد کے تیار کردہ نوٹس کو سیٹ کرنے میں منہمک تھی‘ جب مردانہ گمبھیر آواز پر وہ چونکی۔
’’کیا بات ہے… مے آئی ہیلپ یو؟‘‘ آواز سن کر وہ بری طرح چونکی۔
وہ یونین لیڈر تھا اور نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں اس کا شاندار ریکارڈ تھا۔ زریاب کی دوستانہ مسکراہٹ کے جواب میں وہ بالکل خاموش سی ہوگئی تھی۔ اسے حیرت ہوئی کافی دنوں سے وہ نوٹ تو کررہی تھی کہ زریاب اس میں دلچسپی لے رہا ہے مگر وہ اسے اپنی خام خیالی سمجھ کر اسے مسلسل نظر انداز کررہی تھی مگر آج اسے زریاب کی اس ہمت پر خاصی حیرت ہوئی۔ شاید ارم کا ساتھ نہ پاکر اسے شہہ مل گئی تھی وہ ایک سلجھا ہوا انسان تھا‘ صرف زویا کو اس کے انداز پسند نہ تھے‘ جو بالخصوص اسی کے لیے تھے۔ ورنہ وہ ایک سنجیدہ مزاج بندہ تھا‘ پر کوئی اس کی تعریف میں رطب اللسان رہا کرتا تھا۔ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور شریف سا لڑکا جانا پہچانا جاتا تھا مگر اسے اب زریاب سے شکایت سی ہونے لگی تھی… اس کے رستے میں ہر وقت نظریں بچھائے رہتا اور جیسے ہی وہ نظر آتی اور نظروں کا تصادم ہوتا تو ایک مسکراہٹ ضرور اس کی جانب اچھال دیا کرتا تھا‘ وہ اس کی اس مسکراہٹ کے جواب میں جتنی سنجیدگی صورت پر طاری کرسکتی تھی کرلیا کرتی تھی‘ اس وقت بھی اس کی اس فراخدلانہ آفر کے جواب میں اس نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر بے زاری سے بولی۔
’’آپ میرے لیے زحمت نہ کریں‘ مجھے کوئی مسئلہ درپیش ہوا بھی تو میں اپنے معاملات خود ہی حل کرنے کی عادی ہوں۔ آپ اپنی یہ جانفشانی والی عادت دوسری لڑکیوں کے لیے بچا کر رکھیں۔ انہیں اس طرح کی دلجوئی‘ دلنوازی کی خاصی ضرورت رہتی ہے۔‘‘ وہ نجانے کیوں اتنی تلخ ہورہی تھی‘ اسے خود بھی اندازہ نہ تھا‘ شاید اتنے عرصے سے وہ زریاب کے انداز واطوار سے بری طرح زچ ہوچکی تھی۔ لمحہ بھر کے لیے زریاب کا چہرہ تاریک ہوا‘ مرجھائے ہوئے انداز میں وہ واپس پلٹا مگر ارم نے آتے ہوئے زریاب کو اس سے بات کرتے اور جاتے دیکھ لیا تھا۔ تبھی ارم پاس آکر اس کے کان میں بولی۔
’’کیا اظہار محبت کررہا تھا بیچارہ؟‘‘ ارم نے حظ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’اس نے میرے ہاتھوں سے مرنا تھا کیا‘ جو اظہار محبت کرنے کی جرأت کرتا۔‘‘ وہ بے دلی سے بولی۔
زویا گھر بھر کی لاڈلی چہیتی اور سر چڑھی تھی‘ اسے کسی کی بھی ہمدردی محبت‘ دلنوازی و دلبری کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ وہ ناسمجھ بھی نہ تھی‘ گھر میں شہیر اور یہاں زریاب… وہ اب اس طرح کی نظروں کو پرکھنے اور سمجھنے لگی تھی… شعور کی منزل پر قدم رکھتے ہی ازخود ساری سمجھ آجایا کرتی ہے۔ مگر اس کا مقصد تو اعلیٰ تعلیم کا حصول تھا‘ وہ ابھی شادی بیاہ کے جھنجٹ میں پڑنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
کچھ دنوں تک وہ زریاب کے ساتھ ہونے والی تلخ وترش گفتگو کو سرے سے بھلا چکی تھی‘ وہ خالی پیریڈ میں ارم کے ساتھ کینٹین میں آئی۔ یہاں کی کینٹین کی بریانی بے حد رغبت سے وہ کھایا کرتی تھی‘ نو عمر ملازم لڑکا اسے دیکھ کر مسکرایا۔
’’باجی بریانی لائوں؟‘‘ وہ اس کے آرڈر دینے سے پہلے ہی جھٹ بولا۔ اب تو اس کی بریانی کی لت کی خبر اس لڑکے کو بھی ہوگئی تھی وہ ہنس دی‘ پھر کچھ توقف کے بعد وہ بریانی پلیٹ میں لے آیا‘ وہ اور ارم کھانے کی طرف متوجہ ہوگئیں تھیں۔
’’دیکھو تو لگتا ہے کوئی جھگڑا ہورہا ہے۔‘‘ وہ ارم کی بات پر چونکی‘ سامنے ہی زریاب کچھ لڑکوں کے ٹولے کو بری طرح سے مار رہا تھا۔ ساتھ میں مار کھا بھی رہا تھا… مگر ہمت برقرار تھی۔ شاید اس گروپ کے کسی لڑکے نے کسی لڑکی کو چھیڑتے زبان درازی کی تھی۔
زریاب کی اس عادت کی تو وہ بھی دل سے معترف تھی کہ وہ لڑکیوں کی عزت کرتا تھا اور کروانا بھی جانتا تھا۔ تمام کالج میں اس کا یہی انداز تھا‘ وہ اس طرح کی پہچان لے کر یہاں زیر تعلیم تھا‘ اس وقت زریاب کے دوست شاید بروقت موقع پر موجود نہ تھے‘ تبھی زریاب ان چاروں لڑکوں سے اکیلا ہی لڑ رہا تھا۔ زریاب کا ہونٹ پھٹ گیا اور اب اس سے خون رسنے لگا تھا‘ وہ نجانے کیوں زریاب کو اس طرح مار کھاتے دیکھ کر بری طرح پریشان ہورہی تھی بس وہ ایک لمحہ ہی ادراک کا تھا جب اس نے یہ جانا کہ وہ بھی زریاب کے لیے اپنے دل کے کسی حصے میں نرم گوشہ ضرور رکھتی ہے مگر وہ ان احساسات کو کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی۔ تبھی کسی طرح اس کے دوستوں کو دوسرے لڑکوں نے اطلاع دے دی تھی اور یوں ان کے آتے ہی معاملات سلجھ گئے تھے‘ اب ان چاروں لڑکوں کی پیریڈ کلاس آفس میں ہوئی تھی‘ اور وہ چاروں سر جھکائے زریاب کے پیچھے چل رہے تھے۔
محبتوں کا انبار ہے
پھر بھی دل اداس کاسا
احساس ہے
ہر آن ہر آہٹ…!
بے کل کیے رکھتا ہے
کسی ایک کی چاہت کا
تمنائی رہتا ہے…!
وہ جو دل کے بہت خاص ہے
یا دل کا امین ہے
یا کوئی بے نام سا رشتہ ہے
پر پھر بھی اپنے مرنے کا شدت سے
احساس دلاتا ہے
ساون کی بھیگی رت میں
مون سون بارشوں میں
وہ خاص میں ہر وقت
اپنے پاس محسوس کرتی ہوں
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے
یا کہیں پرعشق کا پھندا ہے…!!
وہ واقعی عشق کے گورکھ دھندے میں قدم رکھ چکی تھی۔ تبھی تو اب اسے زریاب کے لیے فکر مندی بھی ہورہی تھی کہ نجانے اسے چوٹیں نہ آئی ہوں‘ اس کا تفکر زدہ چہرہ ارم نے بے ساختہ گہری نگاہ سے دیکھا۔ اس کا اب بریانی کھانے کا مزید کوئی ارادہ نہ تھا تبھی بے دلی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ارم اس کی کیفیت کا کچھ کچھ اندازہ لگا چکی تھی مگر اس وقت اس نے خاموشی ہی بہتر جانی اور اس کے ہمراہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ یوں بھی نئی کلاس کا وقت بھی ہوچکا تھا‘ زویا خالی الذہنی کی کیفیت سے دوچار کلاسز لیتی رہی اور ذہن زریاب میں ہی اٹکا رہا تھا۔
{…()…}
امبر کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا اور اب اس کے علاوہ دوسرا اہم مسئلہ تھا ذکیہ آپی کی ناراضگی کا۔ اس نے ایک طرح سے اپنی خفگی کا اظہار بھی کیا اور کچھ اس انداز میں کہ امبر کا رشتہ استوار ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گیا تھا۔ امبر کی نگاہوں میں سجنے والے خواب دم توڑ گئے تھے۔ وہ اب بہت مایوس رہنے لگی تھی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد گھر میں رہنا ہی اب اس کا مقدر تھا۔ شادی کا خانہ شاید اس کے مقدر میں رقم نہ تھا‘ کیونکہ اب وہ اس لفظ سے چڑنے لگی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اب پھر کسی نئے آنے والے رشتے میں پھر کوئی نیا سلسلہ کوئی نیا مسئلہ نکل آئے گا۔ اس میں مزید شو پیس بننے کا حوصلہ نہ رہا تھا۔ عجیب سی بات تھی ان تمام آنے والے رشتوں میں جو ایک تواتر سے آئے تھے کسی بھی رشتے میں اس پر عیب زنی نہ کی جاسکتی تھی‘ اور کسی بھی رشتے کے رد ہونے میں اس کا قطعاً کوئی قصور نہ تھا۔ پھر بھی اب وہ اپنے اپ کو اپنے والدین کے لیے بوجھ تصور کرنے لگی تھی۔ اسے اپنی ماں اپنے باپ کی نگاہوں میں جھلکتی فکرمندی دیکھ کر سخت اذیت ہوا کرتی تھی۔ ان کی نگاہوں سے ہویدا ہوتی فکر میں درد و اذیت تھی‘ مگر ذکیہ آپا ان تمام رشتوں کو دکھ دے کر نجانے کون سی روحانی مسرت حاصل کیا کرتی تھی‘ اس نے تو جیسے قسم کھالی تھی گھر کے مکینوں کو رسوائی اور دکھ کی اتھاہ میں دھکیلنے کی‘ امبر نے بھی خود کو اپنے کمرے تک قید کرلیا تھا‘ گھر گرہستی کے کاموں سے فارغ ہوتے ہی کمرے میں گھس جاتی لگتا تھا جیسے وہ اپنے والدین کی نگاہوں سے ہراساں ہو۔ کچھ دن بعد ذکیہ آپا نے اس کی مسلسل چپ کی وجہ سے اسے گھیر لیا۔
’’پگلی تو کیا سمجھتی ہے کہ میں تیری دشمن ہوں‘ تیرا برا چاہتی ہوں‘ میں نے جو دکھ جھیلا ہے‘ وہ تجھے کیا معلوم ایک ناپسندیدہ انسان کے ساتھ جینے اور زندگی گزارنے کے لیے دل گردہ کی ضرورت ہوتی ہے‘ کسی نہ چاہنے والے انسان کے ساتھ زندگی کا لمحہ لمحہ جاں گسل ہوا کرتا ہے‘ اپنا من مار کر اپنا آپ اندر دفنا کر زندگی جینی پڑتی ہے‘ تو نے ابھی زندگی کے نشیب وفراز دیکھے نہیں ہیں اگر میں کسی بھی رشتے کے لیے چھان بین کے لیے اصرار کرتی ہوں تو وہ میری چاہت ہے‘ بے لوث محبت ہے تمہارے لیے۔‘‘ نجانے ذکیہ کی بات میں کتنی صداقت تھی مگر اب امبر اتنی گستاخ اور بدتمز بھی نہ تھی کہ منہ بھر کر جواب دیتی‘ یا اس کے سامنے زبان درازی کرتی‘ سو بالکل خاموشی سے بہن کی نصیحتوں کو سنتی اور اثبات میں سر ہلاتی رہی‘ ورنہ دل تو یہ بھی چاہ رہا تھا کہ پوچھے ’’آپا یہ کون سی محبت ہے جو اس کی خوشیوں کی راہ میں حائل ہے؟ یہ کیسی بے لوث چاہت ہے جو اپنے ہی والدین کی آنکھوں میں امڈتی تفکر کی لکیریں نہیں دیکھ پارہی ہے‘ مگر وہ لبوں پر قفل لگائے ذکیہ آپا کی نصیحت پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔
’’تم نے بتایا نہیں کہ ریحان کیسا ہے‘ تمہیں تو معلوم ہی ہوگا میں کہے دیتی ہوں کہ جوان اکلوتے لڑکے کو اس قدر ڈھیل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی کل کلاں وہاں کسی سے محبت کی پینگیں بڑھالیں اور من پسند لڑکی لے آیا تو پھر کیا ہوگا؟ یہاں تو کوئی میری سنتا ہی نہیں‘ نہ ہی میری باتوں پر کان دھرتا ہے‘ کل کلاں ایسا ہوا تو رونے تو میرے کندھے پر آجائیں گے سب۔‘‘ ذکیہ آپا بات تو امبر سے کررہی تھی مگر سنا سامنے تخت پر بیٹھی ماں کو رہی تھی جو اس وقت سبزی کاٹ رہی تھیں۔ جانتی تھیں کہ بیٹی تو گھر سے منہ اندھیرے یہاں چلی آئی ہے سپیدہ سحر کے ہوتے ہی اسے یہاں آنے کی جلدی ہوتی ہے‘ وہ مارے باندھے اپنے میاں عثمان کی نوکری کے جانے تک ہی اپنے آپ پر بندھ باندھ کر رکھتی ہے‘ جونہی عثمان گھر سے نکلا نہیں کہ وہ بھی سیدھا ادھر کا رخ کرتی اور کسی دن عثمان گھر پر ہو تو وہ ادھر نہیں آیا کرتی تھی‘ کیونکہ عثمان اس معاملے میں سخت گیر انسان تھا اور وہ تو اسے سمجھایا کرتا تھا۔
’’اری نیک بخت تقدیر کا لکھا سمجھ کر اس ساتھ کو قبول کرلے‘ کیا کوئی شخص اپنی تقدیر سے بھی لڑسکتا ہے؟‘‘ وہ عثمان کی گہری سانولی رنگت‘ کم تعلیم یافتہ ہونے اور چھوٹا قد ہونے کو بے حد ناگواری سے دیکھا کرتی اور دل ہی دل میں کڑھا کرتی تھی۔
محبت کا پرندہ تو اپنے پر ہی نہ پھیلا سکا تھا‘ تقدیر کے چابک نے اس کے سارے روپہیلی کرنوں والے خوابوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں۔ اس نے عثمان کا ساتھ مجبوراً طوعاً و کرہاً قبول کیا تھا اور اس کی ماں کو اب برداشت کرنے کا حوصلہ اور سکت اس میں نہ تھی‘ نہ ہی وہ اتنی باظرف اور ملنسار تھی‘ دوسرا وہ اس معاملے میں دردانہ کو ہی قصور وار سمجھتی تھی اگر دردانہ اس رشتے کے لیے اس قدر اصرار نہ کرتی اور بھائی کو غیرت نہ دلاتی تو شاید آج وہ بھی اپنی بے پناہ حسن وخوب صورتی کے سبب کسی شہزادے کے ساتھ زندگی بسر کررہی ہوتی‘ آسودگی اس کا مقدر ٹھہرتی… نارسائی کے عذاب ناگ بن کر اسے نہ ڈستے… قلب وجان میں اداسی اپنی شدتوں کے ساتھ پنجے نہ گاڑتی… زندگی میں خوشیاں ہلکورے لینے لگتی‘ مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا تھا‘ اب اسے عثمان کے جاتے ہی وہ گھر مزید جہنم لگنے لگتا تھا۔
ایک لڑکی کسی بھی گھر کو اس لیے اپنا لیتی ہے اس کی ہر شے کو دل سے لگا لیتی ہے کیونکہ وہ اس گھر کے اصل مکین سے بیاہ کر منسوب ہوکر اس پرائے گھر میں بھی محبت کے انوکھے جذبے تلاش کرلیتی ہے‘ مگر کبھی اس کا دل کسی طور بھی اس رشتے کی قبولیت میں مانع ہو تو دل ہر شے کو اپنانے سے منع ہی کردیتا ہے‘ ہر رشتہ تو اس ایک رشتے سے منسلک ہوکر زندگی میں آتا ہے‘ اگر مجازی خدا کا رشتہ ہی دل کا رشتہ نہ بن سکے تو باقی ماندہ تمام جذبے تمام رشتے بھی محض کاغذ کا پھول ثابت ہوتے ہیں جن کی خوب صورتی بظاہر دل کو موہ لیتی ہے‘ دیکھنے والی ہر آنکھ اس کاغذی پھول سی دل اور آنکھیں خیرہ کرسکتی ہے مگر یہ کاغذی پھول بنا خوشبو اور چمک کے بالکل بے جان ردی کے ٹکڑے سے زائد اہمیت نہیں رکھا کرتا۔ اس کی ترجیحات میں عثمان اور اس کے اہل خانہ ہرگز شامل نہ تھے۔ اب اس کی ترجیحات اپنی ناآسودگیوں کا بدلہ لے کر اپنی نارسائی اور جگ ہنسائی کا حساب برابر کرنا تھا۔ جو اذیت اس کی آنکھوں میں ریت بن کر روز موجب تکلیف تھی۔
اب وہی درد واذیت وہ اس کے کرنے والے افراد کو ودیعت کرنا چاہتی تھی۔ جب وہ روز دردانہ کو اس بڑھاپے میں گھر کی جھاڑو دیتے تنہا چھوڑ آتی تھی اور کبھی اس نے مڑ کر دیکھا تو دردانہ کی نگاہوں کی پنپتی ہوئی حسرت اس کے دل پر نرم پاہے رکھتی تھی‘ ان آنکھوں کی محرومی جو ایک اچھی بہو کو ترس رہی تھیں‘ اس کے اندر سلگتے ہوئے جوالا مکھی کو ٹھنڈا کردیتی تھیں۔ عثمان کا موڈ بھی خراب ہوتا اور پھر اس سے کئی دن تک کلام بھی نہ کرتا تھا مگر اس سے ذکیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا‘ جس کی قرب سے اس کا دم گھٹنے لگتا تھا اس کی خفگی اس کے لیے سکون کا باعث بننے لگتی تھی‘ وہ تو دل سے دعا کرتی تھی کہ عثمان اس رنجش کو برقرار رکھے اور وہ اس طرح اس سے خفا رہے تاکہ وہ اس وبال جان رشتے کی ڈور میں بندھی اس کے ناگوار قرب کی ذہنی اذیت سے بچ سکے‘ مگر عثمان بھی نہ جانے کس مٹی سے بنا تھا‘ اس سے زیادہ دن تک ناراض رہ ہی نہ سکتا تھا‘ بالآخر روٹھتا بھی وہی تھا اور مناتا بھی وہی تھا اور جب عثمان سیدھا ہوجاتا تو وہ ٹیڑھی ہوجاتی تھی‘ مگر عثمان واقعی اس کے رعب حسن میں تھا‘ گوڈے گوڈے محبت میں ڈوبا ہوا اور دردانہ کے دکھ کو چاہ کر بھی عثمان دور نہ کر پاتا تھا‘ اس کی بوڑھی ماں اکیلے گھر کے سارے کام کرتی تھی اور ایسے میں شرم سے چور بھاوج (ذکیہ کی ماں) بطور معذرت سالن پکا کر ذکیہ کے ہمراہ ہی بھیجا کرتی تھی‘ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دردانہ اس بڑھاپے میں یہ سب کام نہیں کرسکتی‘ کپڑے دھونا‘ گھر کی صفائی ستھرائی‘ کچن کے بکھیڑے‘ وہ تو کھانا بھی خود ہی پکانا چاہتی تھی مگر یہاں سے فون کرکے وہ منع کردیتی تھی‘ سو دردانہ کو اتنا سا ہی آرام ملا کرتا تھا۔ مگر یہ اس مسئلے کا حل تو ہرگز نہیں تھا روز روز کے جھگڑے ناراضگیاں اور اس کے بعد دلوں میں پڑنے والی دراڑ سے گھر کی فضا میں عجیب سا بوجھل پن آگیا تھا۔ گھر کی فضا میں ایک ٹھہرائو تھا‘ جس میں ہر رشتہ ایک دوسرے سے اکھڑا ہوا لگتا تھا اور اس سب کی اصل ذمہ دار ذکیہ تھی‘ مگر وہ ذمہ دار ہوکر بھی خود کو مورد الزام ہرگز نہ ٹھہراتی تھی‘ اس کے خیال میں اس کے ذمہ دار اصل میں تو اس گھر کے بڑے تھے جنہوں نے اپنے رشتے کو مضبوط گانٹھ میں باندھنے کے لیے بچوں کی زندگی کی خوشیاں دائو پر لگادی تھیں‘ مگر اب وہ اپنی حرکتوں سے اس رشتے کی اصل خوب صورتی کو بھی دائو پر لگا گئی تھی۔ دردانہ اور عابد میں اب فاصلے پیدا ہوگئے تھے۔ ایک تو دردانہ نے عابد اور فائزہ کی تربیت پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ وہ لوگ ایک بیٹی کی اچھی اور صحیح سمت میں تربیت نہ کرسکے تھے۔
فائزہ تو یہ سنتے ہی رونے لگی تھیں‘ جبکہ عابد کا سر شرم سے جھک گیا تھا‘ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب بھی تو نہ تھا‘ عابد صاحب درحقیقت کسی نہ کسی کے سامنے جھکنے والے بندے تھے‘ جو جس راہ چلاتا چل پڑتے تھے‘ بہن کا حکم کیسے ٹالتے جبکہ گھر میں تو انہوں نے ذکیہ کو سر چڑھا رکھا تھا‘ ساری عمر ذکیہ کا ہر ارمان بلا جھجک پورے کرنے والے عابد اس مرتبہ ذکیہ کی ضد اور اس کے انکار کو اہمیت نہ دے سکے تھے۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنی بڑی بہن کا حکم مانا تھا اور وہی ایک لمحہ وفا تھا جو ان کے لیے مصیبت بن گیا تھا۔ ان کے گھر کا سارا سکون درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا۔ کوئی ذکیہ سے کیا کہتا وہ تو پہلے ہی غموں کا اشتہار بنی پھرتی تھی‘ اس پر اس کی اپنی حقیقتوں کا آشکار کرنا مزید وبال جان بن سکتا تھا۔
ذکیہ ماں کو دیکھ کر دھیما سا مسکرائی‘ ماں کی فکر مندی اور امبر کا مایوس انداز اس کے اندر خوشیوں کے ہلکورے لینے لگا تھا وہ مطمئن سی بھنڈی گوشت کے پکنے کا انتظار کرتی رہی‘ ساس کے لیے بھی تو لے کر جانا تھا۔ جو منتظر نگاہوں سے بیٹھی ہوگی۔ اچانک دردانہ کا خیال آتے ہی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے میٹھے بادام کھاتے ہوئے ایک دم سے منہ میں کڑوا بادام آگیا ہو۔ اس نے اپنا دھیان بٹانے کے لیے ٹی وی کی آواز بڑھائی اور سامنے صوفے پر نیم دراز ہوکر مگن سی ٹی وی دیکھنے لگی۔ کچن سے ماں نے اس منظر کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا۔
{…()…}
زریاب کافی دنوں بعد یونیورسٹی آیا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر نجانے کیوں کھل سی گئی اور نہ چاہتے ہوئے بھی محبت نے اسے کشاں کشاں زریاب کے سامنے کھڑا کردیا تھا۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘ فکرمندی سے زریاب سے سوال کیا۔ تفکرزدہ چہرہ اس کی محبت کا ہی مظہر تھا وہ اس وقت اپنی کنول آنکھوں میں گہری تشویش لیے اس کا بازو پٹی میں لپٹا ہوا دیکھ رہی تھی۔ لمحہ بھر کے لیے تو زریاب کو اپنی خوش بختی پر یقین بھی نہیں آیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ محبت ایک سراب ہوتی ہے اگر یک طرفہ ہو تو انسان اس میں خوار ہوجاتا ہے اور اگر یہی محبت دو طرفہ ہو تو دو دلوں میں محبت کے پھول کھلا کر ایک نئی داستان رقم ہوا کرتی ہے‘ اگرچہ محبت کے الوہی جذبے کسی بھی کاوش کے مرہون منت ہرگز نہیں ہوا کرتے اس میں بے لوث‘ بے غرض جذبے ہوتے ہیں‘ محبت کا بیج دل کی زمین میں نمو پاکر دل میں ہی کھلتا ہوا گلاب کھلا دیتا ہے‘ انسان خود نمائی کے خول سے نکل کر خود ستائشی سے مبرا محبوب کی ستائش وخوبیوں میں کھو جاتا ہے‘ اس وقت اپنے محبوب کو درد کی وسعتوں میں گھرا دیکھ کر وہ بے حد فکرمندی لیے کھڑی دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ مبہم سا مسکرادیا۔
’’میں اب قدرے بہتر ہوں میں گائوں چلا گیا تھا‘ میں نے کبھی آپ کو بتایا نہیں میں یہاں ہاسٹل میں رہتا ہوں اور اصل آبائی گھر تو میرا گائوں میں ہے۔ وہیں تھا اماں کے پاس اپنی رانو کے پاس۔‘‘ وہ خوش گفتاری سے گویا ہوا۔
’’یہ رانو کون ہوگی؟‘‘ وہ دل ہی دل میں کلس کر رہ گئی۔ وہ بنا کوئی بات پوچھے اس سے توقعات کا بندھن باندھ بیٹھی تھی‘ ایک امیدوں کا دھاگہ اس سے بندھ گیا تھا۔ اس نے تو دل کے تار اس سے جوڑ لیے تھے یہ بھی نہ سوچا کہیں وہ پہلے سے کسی سے منسوب نہ ہو مگر اس محبت کا ہی تو سارا کیا دھرا تھا جو انسان کو گھیر کر کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ اس کے چہرے کے پھیکے سے رنگ دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا پھر کچھ سمجھ کر بے ساختہ ہنس دیا۔
’’رانو میری چھوٹی بہن ہے جا کا نام رانیہ ہیں‘ میں اسے پیار سے رانو کہتا ہوں۔‘‘ زریاب کا لہجہ کتنا تفاخر لیے ہوئے تھا۔ جو محبتوں کی معراج تھا۔
ان دونوں کا رشتہ وہی تھا‘ جو پھول کا خوشبو سے‘ بادل کا بارش سے‘ سُر کا تال سے‘ چاند کا رات سے‘ سوچ کا سماں سے اور دل کا دھڑکن سے ہوا کرتا ہے۔ محبت میں بنا پنکھ کے ہی محو پرواز ہوکر انسان دور تلک خوابوں کے جزیرے کا سفر طے کرتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس میں کسی کھاد یا پانی سے پروان چڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ محض توجہ‘ محبت‘ اپنائیت سے یہ رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پھلنے پھولنے لگتا ہے۔
زویا نازک اندام‘ خوش گفتار‘ بے حد دلکش سراپے کے ساتھ سرخ سفید چہرے پر تیکھے نین نقش سیدھا دل میں جاں گزیں ہوتے تھے‘ وہ اپنی قسمت پہ نازاں تھا کہ محبت پر لبیک کہہ کر زویا نے اس کے جذبوں کو دوام بخش دیا تھا۔ زویا کے سرخ گال مانند گلاب‘ مشام جاں کو معطر کرتے تھے۔ دو بڑی غزالی آنکھیں اس کا اپنا ہی عکس اسے دکھلا کر اس کے چمن دل میں پھول کھلا رہی تھیں۔ پھر ان میں کوئی جھجک مانع نہ رہی‘ ہر فنکشن میں ہر جگہ یونیورسٹی میں وہ ساتھ ساتھ دکھائی دینے لگے تھے۔ زریاب کی متلاشی نگاہیں زویا کو دیکھتی تو دل بھی سیراب ہوجاتا تھا‘ محبت کے انوکھے اڑن کھٹولے میں وہ دونوں محو پرواز تھے اور محبت کے دھنگ رنگ زویا کے چہرے پر ثبت ہوکر رہ گئے تھے۔ محبت کی معراج تھی کہ وہ ہر طلوع ہونے والے دن میں پہلے سے زیادہ حسین ہونے لگی تھی‘ بات بے بات کھلتے لب اس کی محبت کا معراج تھے۔
{…()…}
’’ارے یہ فرنی کس کے لیے پکائی ہے تم نے؟‘‘ سلمیٰ بیگم نے متعجب ہوکر زیبا سے پوچھا تو وہ لمحہ بھر کے لیے تو سٹپٹا کر رہ گئی کہ کیا جواب دے پھر جھٹ بولی۔
’’میں نے زویا کے لیے پکائی ہے وہ فرمائش کررہی تھی۔‘‘ جلدی جلدی میں کوئی اور جواز نہ مل پایا تھا‘ کیسے کہہ دیتی کہ اسے جب سے معلوم ہوا ہے کہ ریحان کو فرنی بے حد پسند ہے تب سے وہ یہ پکانے لگی ہے پھر فرنی پر ہی کیا منحصر وہ تو اب ریحان کی ہر پسند ناپسند کا خاص خیال رکھنے لگی تھی۔ یہ بھی محبت کا غماز تھا کہ وہ بنا کہے ہی اس کی ساری فرمائشوں کو پل بھر میں جاننے لگی تھی۔ ریحان واپس لوٹتا تو کمرہ نکھرا ہوا ملتا۔ اس کی تمام کتب قرینے سے میز پر سجی ہوتی تھیں۔ کسی کے لمس کی خوشبو اس کے قلب وجاں کو معطر کر جاتی تھی‘ اس کے کپڑے الماری میں صاف ستھرے دھلے ہوتے تھے‘ میلے کپڑے نجانے کون لے جاتا تھا‘ وہ دیکھتا تھا کہ اس کی فرمائش کے کھانے پکنے لگے تھے اور میٹھے میں ضرور اس کی من پسند کوئی ڈش ہوا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ زویا پوچھ کر گئی تھی کہ آپ کیا کچھ شوق سے کھاتے ہیں اور اب اس کی ہر پسند کھانے کی میز پر موجود ہوا کرتی تھی۔
زیباکے خدوخال‘ رنگ وروپ‘ نشیب وفراز‘ لب ورخسار‘ قدو قامت سب اس کے دل میں مقید ہوکر راتوں کو منور کرنے لگے تھے۔ اسے بند آنکھوں سے اس کی مدھر شرمیلی سی مسکان خوشی سے دوچار کر جایا کرتی تھی۔ محبت کے اپنے طلسماتی رنگ ہوا کرتے ہیں‘ جو انسان کو خرد کی دنیا سے بے گانہ کردیتے ہیں۔ وہ بھی ان رنگوں کے جال میں مقید ہوکر رہ گیا تھا۔ ایک دن اس کی طبیعت ناساز تھی‘ وہ کالج نہ جاسکا تھا‘ خرابی طبیعت کے باعث ناشتے کے لیے بھی حاضر نہ ہوسکا۔ گھنٹہ بھر بعد سرخ انگارہ آنکھیں لیے‘ متوحش چہرہ لیے زیبا دروازے میں ایستادہ تھی‘ گھبرائی ہوئی ہراساں سی‘ اس کے پاس آتے ہوئے جھجک بھی مانع تھی‘ مگر اس کی تشویش بھی دل کو بے چین کررہی تھی۔ وہ اس کے پاس دبے قدموں آئی‘ اس کے جلتے ہوئے ماتھے پر اس نے اپنے شبنمی لمس کا مرہم رکھا‘ اس کے ہاتھوں کی نرماہٹ سے ریحان نے اپنی آنکھیں وا کی تھیں۔ لمحہ بھر کے لیے امید کے جگنو‘ محبت کے بے شمار دیپ اس کی نگاہوں میں جگمگا سے گئے تھے۔ وہ اسے دیکھ کر جوش سے اٹھنے کی کوشش میں کراہ کر رہ گیا تھا۔ اس کی طبیعت واقعی بے حد ناساز تھی۔ جلتی سرخ انگارہ آنکھیں زیبا پر مرکوز تھیں۔
’’آپ نے بتایا کیوں نہیں‘ اس قدر تیز بخار ہے‘ میں ابھی ڈاکٹر صاحب کو بلواتی ہوں۔‘‘ وہ آنکھوں میں نمی لیے بس رو دینے کو بے قرار تھی‘ وہ اس کے سرہانے بیٹھی اور وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کی اس کمرے میں آمد پر یقین کرنا چاہ رہا تھا۔ وہ کب آتی تھی‘ اس کے خیالات ہی اس کے دل وذہن میں یلغار کیے رکھتے تھے۔
’’آپ کیوں تکلیف اٹھاتی ہیں ناحق میں خود ہی ٹھیک ہوجائوں گا۔‘‘ وہ بولا۔
’’محبت میں مروت کہاں ہوتی ہے‘ صرف حق بتایا جاتا ہے۔‘‘ نجانے کیسے اس کے لبوں سے پھسلا تھا پھر اپنے ہی کہے سے گھبرا کر باہر کی جانب لپکی‘ قدرے توقف سے ڈاکٹر صاحب آئے تھے۔ ساتھ سلمیٰ بیگم کے عقب میں وہ بھی تھی۔ سلمیٰ بیگم بھی اس کی ایسی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی تھیں۔
’’جائو زیبا سوپ لے آؤ اور ابھی فوری طور پر دوا کھلانے سے پہلے دودھ لادو۔‘‘ سلمیٰ بیگم نے کہا تو وہ حرکت میں آئی۔
اس کی یہ فکرمندی اسے کیف وانبساط سے دوچار کررہی تھی۔ اس حالت میں بھی محبت کی کونپل اس کے دل میں سر اٹھا رہی تھی۔ دل کے دریچے سے باد محبت کی گھٹائیں محو پرواز تھیں۔ ڈاکٹر نے مکمل معائنے کے بعد تشخیص کی تھی کہ وہ کسی گہری پریشانی سے دوچار ہے اس انکشاف کے بعد تو سلمیٰ بیگم ہک دک اس کا چہرہ دیکھنے لگی تھیں۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close