Hijaab Mar-18

بیٹا

زارا رضوان

جیسے جیسے سورج غروب ہورہا تھا‘ پرندے اپنے گھونسلوں کر طرف لوٹ رہے تھے اور اب رات کا اندھیرا دن کے اجالے پر حاوی ہورہا تھا‘ اس کے ساتھ ہی مونٹی کا دل بھی ڈوب رہا تھا۔ آخر وہ ایک جوان بیٹی کا باپ جو تھا۔ کبھی ٹیرس پر کبھی لان میں اندر باہر کے وہ بیسیوں چکر لگا چکا تھا مگر رزی ابھی تک نہ آئی تھی۔ بار بار موبائل کے بٹن پش کرتا اور جھنجھلا کر واپس جیب میں رکھ لیتا اور پھر تسبیح کے دانے تیزی سے گردش میں آجاتے۔ جیسے ہی گھڑیال نے سات بجائے مونٹی نے جھٹ فون نکالا اور رزی کا نمبر ڈائل کرنے ہی لگا تھا کہ اسی اثناء میں انیس سالہ لڑکی لہراتی ہوئی آئی اور مونٹی کو ہائے کہتے کمرے کی جانب بڑھ گئی‘ مونٹی فون جیب میں رکھ کر بے بسی سے بند دروازے کو گھورنے لگا۔
/…ء…/
نام تو اس کا مونس عبدالرحمن تھا جو پڑھائی کی غرض سے کینیڈا آیا تھا۔ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اس کے والد عبدالرحمن کا اپنا شو روم تھا۔ کسی چیز کی کمی نہ تھی جو مانگتا فوراً سے بیشتر مہیا ہوجاتی۔ یہاں تک کہ ایف اے پارٹ ون کے بعد اس نے باہر پڑھائی مکمل کرنے کا کہا تو بہت اعتراضات کے بعد مونس کے وعدوں اور یقین دہانیوں پر اجازت دے دی گئی یہاں کی آب و ہوا اور ماحول اس پر اثر انداز نہ ہوسکا۔ دوست یوں بھی اس نے کم بنائے تھے جس میں زیادہ تر مسلمان تھے جبکہ ایک لڑکا ہندو کرشنا شامل تھا۔ وہ بھی اپنے اخلاق کی وجہ سے ان کے گروپ میں شامل ہوا تھا جو صرف پڑھائی کے لیے شامل ہوتا جبکہ دیگر ایکٹیوٹیز یا پارٹیز کو مونس بہت آرام سے منع کردیتا۔
مونس کو آئے ابھی چھ ماہ ہوئے تھے۔ کرسمس منانے کے لیے کلاس میں باتیں ہوتیں تو کچھ مسلمان بھی جوش و خروش سے ان کے ساتھ شامل ہوگئے مگر مونس اور باسل جس کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے تھا‘ کنی کترا گئے۔ پچیس دسمبر کو انہیں بھی کرسمس پارٹی میں انوائٹ کیا گیا باسل نے آنے سے صاف منع کردیا کہ وہ یہ چھٹیاں گھر والوں کے ساتھ پاکستان میں گزارے کا سوچ رہا تھا‘ چونکہ مونس کا ابھی پہلا سمسٹر تھا اس لیے اس کو چھٹیاں ملنا اور پاکستان آنا ممکن نہ تھا مگر اس نے بھی پارٹی میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔
’’یار اگر آجائو تو کوئی حرج نہیں یوں بھی یونیورسٹی سے چھٹی ہے تو اکیلے کیا کرو گے۔‘‘ کرشنا نے کہا تو مونس نے کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
/…ء…/
پارٹی میں آیا تو یہاں عجیب سا سماں تھا وہ خود کو وہاں مس فٹ محسوس کررہا تھا اس لیے خاموشی سے سوفٹ ڈرنک کا ایک گلاس لے کر کونے میں جاکر بیٹھا‘ ابھی اسے تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک مدھم اور سریلی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیا۔
مونس اس آواز کے سحر میں کھو گیا‘ اچانک اس کے دل میں اس ساحرہ کو دیکھنے کی خواہش ہوئی تو گلاس ایک سائیڈ پر رکھ کر آواز کے تعاقب میں چل دیا جہاں گہما گہمی پہلے سے زیادہ عروج پر تھی۔ سب نشے میں چُور ہوش و حواس کی دنیا سے بے خبر تھے‘ کوئی ہوش میں نہ تھا‘ مونس سب کو دھکیلتا اس آواز کی طرف بڑھا‘ اس کی آواز میں پہلے سے زیادہ چاشنی پہلے سے زیادہ سرور تھا یا شاید مونس کو ہی محسوس ہورہا تھا۔ اس نے دیکھا وہ بیس اکیس سال کی خوب صورت دوشیزہ تھی۔ ستواں ناک‘ تیکھے نین نقش اور سب سے بڑھ کر اس کے گنگناتے ہونٹ اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کررہے تھے۔ اسے لگا جیسے کوئی اپسرا اس کے سامنے ہو۔ ایسا نہیں تھا کہ اس نے بھی کوئی خوب صورت لڑکی نہیں دیکھی تھی‘ کینیڈا میں حسن بکھرا پڑا تھا مگر اس ساحرہ میں ایک الگ بات تھی جو مونس کو بار بار اپنی طرف متوجہ کررہی تھی وہ تھی اس کی آواز۔
’’ہیلو مسٹر مونی… کہاں گم ہو‘ وہ ملکہ تو کب کی جاچکی۔‘‘ کرشنا نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے کہا تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھا اور اپنے رویے پر نادم ہوا۔
’’نن… نہیں‘ بس یوں ہی میں تو اسٹیج کی سجاوٹ دیکھ رہا تھا۔‘‘ اس نے بات بنائی مگر اس کا لہجہ چغلی کھارہا تھا۔
’’میں ابھی آیا۔‘‘ کرشنا نے کہا اور تقریباً بھاگتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ مونس ابھی تک اس کی آواز اپنے اردگرد محسوس کررہا تھا۔
’’ان سے ملو یہ ہیں مسٹر مونس۔‘‘ مونس کو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا جب اس نے ساحرہ کو اپنے پاس پایا جس کا ہاتھ مونس کی جانب مصافحہ کرنے کے لیے بڑھا ہوا تھا۔ اسے لگا شاید اس کا وہم ہو۔
’’مونس یہ ہیں ایریکا۔‘‘ ناسمجھی اور خواب کی کیفیت میں اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
اس طرح مونس اور ایریکا کی دوستی کا آغاز ہوا۔ ایریکا کے والدین میں علیحدگی ہوچکی تھی‘ دونوں اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ کچھ عرصے تک اس کا باپ اس کو خرچہ بھیجتا رہا مگر پھر آہستہ آہستہ چھوڑ دیا جس کا ایریکا کو قطعاً افسوس نہ تھا کیونکہ یہ سب وہاں عام تھا۔ ایریکا مختلف فنکشن میں گاتی اور اپنا خرچہ پورا کرتی تھی۔ اس کے لیے کوئی بھی چیز معیوب نہ تھی‘ لڑکوں سے ملنا‘ ڈرنک کرنا کیونکہ اس سوسائٹی میں یہ سب عام تھا۔ مونس سب جانتے ہوئے بھی اس کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا‘ دن میں دو بار ملنا اس کا معمول بن گیا جس میں کمی بیشی اس کو گوارا نہ تھی دوسری طرف ایریکا بھی مونس کو پسند کرنے لگی تھی۔ آہستہ آہستہ ایریکا کا شادی کرنے کا اصرار بڑھتا جارہا تھا مگر وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے پر بھی رضا مند نہ تھی۔ وہ خود پریشان تھا کہ اس کے ماں باپ ایک عیسائی لڑکی کو کیسے اپنائیں گے؟ کیا وہ مستقل اپنے بیٹے کو باہر رہنے دیں گے‘ نہیں تو کیا ایریکا اس کے ساتھ اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان جائے گی؟ ایسے ہزاروں سوال اس کے سامنے کھڑے تھے جس کا جواب اسے منفی نظر آتا تھا۔
’’میں اپنا مذہب کیسے چھوڑ سکتی ہوں مونی‘ فرض کرو اگر میں اپنا مذہب نہیں چھوڑوں تو کیا تمہارے والدین مجھے بہو تسلیم کرلیں گے؟ آپ یہاں رہ کر بہت کچھ کماسکتے ہیں‘ پاکستان میں تو کمانے کے لیے مواقع ہی نہیں۔‘‘ پیار تو ایریکا بھی مونس سے کرتی تھی پھر قربانیاں صرف اس کے حصے میں کیوں آئے؟ مونس یہ سوچ کر پریشان تھا۔
’’محبت بدلے میں محبت مانگتی ہے‘ صلہ مانگتی ہے لیکن جب محبت مجبوری بن جائے تو اس سے کنارہ کرلینا بہتر ہے کیونکہ تھوڑی دیر کے آنسو ساری زندگی بہانے سے بہتر ہیں۔‘‘
مونس نے گھر بات کی تو سب نے اس کو لعنت ملامت کی اور تنگ آکر شرط رکھ دی کہ وہ باہر رہے نوکری کرے وہ خوش رہیں مگر کسی غیر مسلم سے شادی نہ کرے۔ بات اتنی بڑھی کہ مونس نے سب سے بغاوت کرکے ایریکا سے شادی کرلی اور ایک جگہ سیلز مین کی جاب تلاش کرلی مگر وہ اسٹور ایریکا کے چچا زاد بھائی کا تھا اور سب سے ایریکا نے جھوٹ کہا کہ مونس نے عیسائیت اختیار کرلی ہے اور اس کا نام مونٹی ہے۔ مونس نے پہلے پہل تو بہت مخالفت کی لیکن پھر خاموش ہوگیا کہ جب تک وہ پڑھائی مکمل کرکے مناسب جاب حاصل نہ کرلے‘ اس جھوٹ کو بنائے رکھے۔ مونس نے گھر فون کیا تو مسز عبدالرحمن ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر بات کرنے لگی مگر جب اس نے شادی کا بتایا تو انہیں لگا کسی نے ان کو آسمان سے فرش پر لاپٹخا ہو۔ کتنے مان سے اپنے بیٹے کو بھیجا تھا پڑھنے مگر وہ کس منہ سے یہ سب کو بتائیں کہ ان کے بیٹے نے ایک ایسی لڑکی سے شادی کرلی جو مسلمان نہیں۔ انہیں لگا سب رشتے دار ان کی تربیت اور پرورش پر انگلیاں اٹھائیں گے۔ ان باتوں کی ٹیشن کے سبب مسز عبدالرحمن کو ہارٹ اٹیک ہوا‘ بیٹیاں آتیں ماں باپ کا حال پوچھتیں اور چلی جاتیں‘ ہمیشہ تو وہ وہاں رہ نہیں سکتی تھیں۔
/…ء…/
مونس نے بیٹی کی تصویریں ماں باپ کو بھیجیں مگر ان کے دل میں کوئی نرمی پیدا نا ہوسکی بلکہ ان کے درد میں مزید اضافہ ہوگیا کہ آخر ان کا خون کس مذہب پر چلے گا۔ عیسائیت پر یا اسلام پر یا پھر دونوں میں سے کسی پر نہیں؟ اسی دوران مسز عبدالرحمن کو دوسرا ہارٹ ہوا تو عبدالرحمن صاحب بالکل ٹوٹ گئے اور اپنی شریک حیات کی خوشی کی خاطر بیٹے کو کہا کہ اگر وہ پاکستان آجائے تو وہ نہ صرف اس کو بلکہ اس کی فیملی کو بھی اپنالیں گے۔
’’پاپا جیسے ہی میری پڑھائی مکمل ہوگی میں پاکستان آجائوں گا سب کو لے کر بس تین سمسٹر رہ گئے ہیں۔‘‘ ماں بیٹے کے آنے کی آس پر جی رہی تھی تو عبدالرحمن صاحب اپنی بیوی کو دیکھ کر زندہ تھے۔
بیٹیاں اپنے گھر میں خوش تھیں‘ دونوں میاں بیوی دن گنتے رہتے کہ کب اس کی پڑھائی مکمل ہو کب وہ آئے۔ چار سال گزر گئے اب مونس نے جاب کا کہنا شروع کردیا۔
’’مما آپ ہی پاپا کو سمجھائیں اتنی مشکل سے اتنی پُرکشش اور اچھی جاب ملی ہے جہاں آپ نے اتنا انتظار کیا ہے وہاں تھوڑا اور صحیح۔‘‘ انہوں نے اب بیٹے کے آنے کی آس بھی چھوڑ دی تھی۔
مسز عبدالرحمن علیل رہنے لگیں اور ان کو فالج ہوگیا تو عبدالرحمن صاحب نے اپنا شوروم کرائے پر دے دیا اور خود بیوی کی تیمار داری میں لگ گئے‘ بیٹیاں آتیں دو چار دن رہتیں اور پھر چلی جاتیں وہ اور کر بھی کیا سکتی تھیں۔ عبدالرحمن نے اپنی نمازیں طویل کرلیں روزانہ مسز عبدالرحمن کے سرہانے قرآن پاک کی تلاوت کرتے جو خود سے کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھیں۔ دعائیں پڑھ کر دم کرتے اور اپنی شریک حیات کی سلامتی کی دعا کرتے کہ ان کا واحد سہارا اور دکھ سکھ کا ساتھی وہی تھیں۔ وہ اپنے شوہر کی حالت دیکھ کر رو پڑتی مگر وہ ان کو تسلی دیتے۔ کیا نہیں تھا ان کے پاس اولاد نرینہ تھی بھی مگر پھر بھی وہ دونوں تشنہ تھے۔
’’صاب اگر اولاد ایسی ہوتی ہے تو اس رب نے اچھا کیا کہ مجھے بے اولاد ہی رکھا۔‘‘ اکثر نوری ان کے حالات پر افسوس کرتی تو ان کے دل میں اک ٹھیس اٹھتی۔ اب تو انہوں نے مونس کے فون ریسیو کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔
ان کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا‘ گھر اور باہر کے سارے کام نوری پر ڈال دیئے تھے‘ اسے جو مناسب لگتا وہ کرتی اور ایک ایک چیز کا حساب ان کو بغیر کہے دیتی۔
’’نوری ہمیں تم پر بھروسہ ہے مت دیا کرو حساب۔‘‘
’’نہ صاب جی یہ تو میرا فرض ہے۔‘‘ عبدالرحمن صاحب کئی مہینوں سے سر میں درد محسوس کررہے تھے مگر اس کو معمولی سمجھتے اور گولی کھا کر لیٹ جاتے مگر جب ڈاکٹر کے کہنے پر ٹیسٹ کروایا تو ان کو پتا چلا کہ انہیں برین ٹیومر ہے۔
’’اگر آپ آپریشن کروالیتے ہیں تو آنکھوں کی بینائی جانے کا خدشہ ہے دوسری صورت میں آپ کی زندگی بھی بہت مختصر ہے جو ڈاکٹر نے بتایا وہ اتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنا یہ سوچنا کہ ان کے بعد ان کی وائف کا کیا ہوگا۔ نوری خود ایک عورت تھی جو ملازمہ ہونے کے باوجود بہت ساتھ دے رہی تھی۔ بیٹیاں اپنے گھر کی تھیں تب انہوں نے آخری فیصلہ کیا اور نوری کو اعتماد میں لیا۔ مونس کو خط لکھا کہ اگر وہ دو ماہ کے اندر اندر آجاتا تو ٹھیک ورنہ اس کو عاق کردیا جائے گا۔
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا وہ خود کو موت کے قریب محسوس کررہے تھے۔ نوری اپنے مالک کی حالت دیکھ کر روتی اور اللہ سے دعا کرتی کہ انہیں کچھ نہ ہو ورنہ اس کی مالکن اکیلی رہ جائیں گی۔ ساڑھے تین ماہ گزر گئے مگر مونس تو کیا اس کی کوئی خبر تک نہ آئی۔ آخرکار چوتھے ماہ وکیل کو بلوا کر تمام جائیداد بیٹیوں میں تقسیم کی اور ایک تہائی بیوی کے نام اور شوروم بھی بیوی کے نام کردیا اور بینک میں جتنی رقم تھی وہ بھی اور دس ہزار نوری کو نقد دیے۔
/…ء…/
زینب اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی مگر نہ وہ عیسائیوں میں شمار ہوتی تھی نہ مسلمانوں میں۔ کئی بار اس کے مذہب کو لے کر ایریکا مونس میں بحث ہوچکی تھی مگر وہ صرف دلائل دے سکتا تھا فورس نہیں کیونکہ انیس سال میں اس کی پہچان مونٹی بن چکی تھی اور سب کو پتا تھا اب وہ عیسائی ہے‘ وہ خود کو مجبور محسوس کرتا اور کبھی اکیلے میں اپنی بیٹی کو اپنے دین کے بارے میں بتاتا تو وہ ناگواری سے اٹھ جاتی۔
’’بس کریں پاپا… پلیز مجھے بور مت کریں‘ یہ ٹاپک ختم کریں۔‘‘ سولہ سال میں وہ نماز اور روزے سے غافل ہوچکا تھا‘ مونٹی نام کا اثر تھا یا کمیونٹی والوں کا خوف (جو ایریکا نے اس کے دل میں ڈالا تھا) وہ نماز ادا کرتے ڈرتا تھا کہیں کوئی اس کو دیکھ نہ لے۔ وہ کمیونٹی کے لوگوں سے ڈر کر زندگی بسر کررہا تھا اگر اس کے دل میں اللہ کا ذرا بھی خیال یا ڈر ہوتا تو سولہ برس کی نمازیں قضا نہ کرتا۔
ایریکا کا زیادہ وقت شوز کرنے میں گزر جاتا جس کی وجہ سے وہ زینب کو وقت نہ دے پاتی جبکہ مونس حتی الامکان کوشش کرتا کہ اس کی تربیت میں کمی نہ ہو مگر وہ شاید بھول رہا تھا۔ مغرب میں رونقیں و روشنیاں ہی اٹریکٹ کرتی ہیں اور ایسا ہی زینب کے ساتھ ہوا۔ وہ باپ کی باتوں کو دقیانوسی کہہ کر چلی جاتی۔ زینب کی سترہویں سالگرہ میں ایریکا تو صبح اس کو وش کرکے چلتی بنی۔
’’ڈیڈ مجھے گھر آنے میں دیر ہوجائے گی‘ آج میرے فرینڈز کو میں نے پارٹی دی ہے آپ میرا انتظار مت کرنا۔‘‘ بیگ میں چیزیں رکھتے ہوئے شستہ لہجے میں انگریزی بولتے ہی باہر چلی گئی اور مونس اس کو دیکھتا رہ گیا۔ آج پہلی بار اس کو اس کے ماں باپ کی کہی بات یاد آئی جب وہ یہاں آرہا تھا۔
’’مونس… ہم تمہیں تمہاری خواہش پر بھیج تو رہے ہیں مگر ہماری تربیت و پرورش اور تمہاری ذات (بحیثیت مسلمان) پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ اپنے عزت و کردار کے محافظ تم خود ہو‘ ہم بس تمہارے لیے دعا کریں گے‘ فی امان اللہ۔‘‘ ایک آنسو مونس کی آنکھ سے ٹپکا اور وہ فون کی جانب بڑھا شاید اب کی بار اس کے گھر والے اس کا فون اٹھا کر بات کرلیں۔
جانے کتنے سال بیت گئے مگر مونس کی دو ماہ کی مدت ختم نہ ہوئی تھی اور اس بار بھی فون مسلسل بجتا رہا مگر کسی نے اٹھانا گوارا نہ کیا۔ فون سائیڈ پر رکھ کر چپ چاپ آفس جانے کی تیاری کرنے لگا۔ جانتا تھا ماں باپ نے اس کو معاف کرکے بہت مواقع دیئے مگر وہ ہمیشہ گنواتا ہی آیا ہے۔ وقت نے تو گزرنا ہی ہے اور گزرتا رہا اور ٹھیک ایک سال بعد زینب نے جو انکشاف کیا مونس کے ضمیر کو جگانے کے لیے کافی تھا۔
’’ڈیڈ مجھے پریشان کرنے کی کوشش نہ کریں‘ میں اس سے پیار کرتی ہوں۔ مما بھی اسے پسند کرتی ہیں تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟‘‘ زینب نے گستاخانہ لہجے میں کہا تو مونس کو اپنا آپ دھواں ہوتا محسوس ہوا۔
’’بیٹا جو چاہو کرو مگر جب تمہاری اولاد ہوگی اور وہ دو کشتیوں میں بٹے گی تو تمہیں پتا چلے گا تم نے ایک غیر مذہب کی لڑکی سے شادی کرکے کتنی بڑی غلطی کی ہے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔‘‘ اس کے کانوں میں بڑی بہن کے الفاظ گونج رہے تھے۔
’’میرا پرابلم یہ ہے بیٹا کہ وہ…‘‘ مونس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے مگر آج اس کو سب کہنا تھا۔
’’کہ وہ غیر مسلم ہے اور تم ایک مسلمان باپ کی بیٹی ہو۔‘‘
’’اوہ آپ نے اگر اسلام قبول کرلیا ہے تو اپنے تک یا اپنے خدا تک رکھیں مجھے بیچ میں مت لائیں۔ وہ جو بھی ہے مجھے اس سے شادی کرنی ہے۔‘‘ مونس نے زور کا طمانچہ زینب کو رسید کیا اور دوبارہ مارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ایریکا نے اسے روک لیا۔
’’وہ کوئی لاوارث نہیں جو تم اس پر ہاتھ اٹھائو اگر تم مجھ سے شادی کرسکتے ہو تو یہ کیوں نہیں کرسکتی اور آئندہ میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت کی تو پولیس کو بلا لوں گی اور بالغ اولاد پر ہاتھ اٹھانے کی سزا تم جانتے ہی ہو۔‘‘
’’زینب تم ایسا کرکے گناہ کررہی ہو۔‘‘
’’اگر وہ گناہ کررہی ہے تو جو تم نے کیا وہ کیا تھا؟ اور ثواب اور گناہ کا اتنا خیال تھا تو مجھ سے شادی نہیں کرنی تھی اور زینب کوئی بچی نہیں وہ عیسائیت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تو تمہارے مذہب کے بارے میں بھی اس کو کچھ معلوم نہیں… لہٰذا وہ جو کررہی ہے کرنے دو‘ جس مذہب پر چل رہی ہے چلنے دو سمجھے‘ اگر زیادہ پریشرائز کیا تو ہماری کمیونٹی وہ حال کرے گی کہ یاد رکھو گے۔‘‘
’’ایری تم جانتی ہو کہ میں نے صرف تمہارے کہنے پر یہاں قدم جمانے کے لیے نام تبدیل کیا اپنا مذہب نہیں۔‘‘
’’اوہ سویٹ ہارٹ یہاں ہزاروں مسلمان نوکری کررہے ہیں اور اچھے عہدوں پر فائز ہیں‘ کسی نے بھی نام یا مذہب چھپا کر وہ پُرکشش نوکری حاصل نہیں کی۔ تم نے جو کیا تمہارا اپنا مفاد تھا میں نے کہا تھا مگر تم کوئی بچے تو تھے نہیں جو میری بات مان گئے‘ نام نہاد مسلمان اونہہ…‘‘ ایریکا نے کہہ کر نخوت سے سر جھٹکا‘ اس کی ایک ایک بات سچ تھی۔ اس کی برانچ میں اس سے سینئر مصطفی کمال جو اس سے دو گنا زیادہ اچھی سیلری لے رہا تھا‘ اس کی کمپنی میں کُل نو لوگ مسلمان تھے جن میں سے تین تو اچھی پوسٹ پر تھے مگر باقی بے شک جتنا کما رہے تھے مگر ان کی پہچان سب کے سامنے تھی۔ مونس کو اپنا آپ کیچڑ میں تر نظر آرہا تھا‘ اسے لگا آج مکافات عمل کا دن ہے کئی سال پہلے جو اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ کیا آج اس کی اولاد اس کے ساتھ کررہی تھی۔
فرق اتنا تھا مونس نے تمیز کے دائرے میں اپنا مدعا بیان کیا تھا اور یہاں سب کچھ بھلا کر فیصلہ سنا دیا گیا تھا‘ زینب اور ایریکا کب کی جاچکی تھی۔ وہ سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھ گیا اور گزرے دنوں کا حساب کتاب کرنے لگا۔
’’اب تک میں ہی قربانیاں دیتا آیا ہوں پہلے ایریکا کی محبت میں ماں باپ کو چھوڑا پھر اپنے رب کو‘ ہاں چھوڑ تو دیا تھا‘ جب ہی اب تک صرف اڑتیس نمازیں ادا کیں‘ وہ بھی عیدین کی روزہ تو شاید ہی ایک آدھ چھٹی والے دن رکھ لیا ہو جبکہ میرے مسلمان کولیگ کیسے فخر سے بتاتے تھے آج وہ روزہ سے ہیں۔ مسلمان کے خون سے پیدا ہوئی اولاد آج کہہ رہی ہے میرا اور اس کا رب کون ہے پھر؟‘‘ مونس نے غور سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو بالکل خالی تھے اور اس نے اپنی قسمت کا انتخاب خود کیا تھا ماں باپ کو ناراض کرکے ان کو دکھ پہنچاکر۔
/…ء…/
آج صبح سے ہی وہ رزی عرف زینب کا انتظار کررہا تھا جو آئی اور فوراً دروازہ بند کرکے چلی گئی۔ مونس نے جی کڑا کرتے دروازے پر دستک دی‘ آج وہ آخری بار زینب سے بات کرنے آیا تھا۔
’’کم اِن۔‘‘ مونس کو دیکھ کر رزی نے فون رکھ دیا۔
’’زینب مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’اگر آپ میری اور آرتھر کی شادی کو لے کر بات کرنا چاہتے ہیں تو میں نے اور مما نے اپنا فیصلہ آپ کو سنادیا ہے۔‘‘
’’ہاں مجھے اس شادی پر اعتراض ہے کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہے جبکہ تم رزی مونٹی نہیں زینب مونس ہو اور میں مسلمان۔‘‘
’’ڈیڈ پلیز اب بند بھی کریں‘ میں مسلمان ہوں یا نہیں اگر آپ مسلمان تھے تو آپ نے مما سے شادی کیوں کی؟ انہوں نے مجھے سب بتادیا ہے لیکن آج تک آپ نے اپنے مذہب کا مجھے کبھی نہیں بتایا‘ سب کے لیے میں رزی مونٹی تھی اور رہوں گی کیونکہ یہی میری شناخت ہے۔ میں جو بھی ہوں بہت خوش ہوں۔‘‘ رزی موبائل کے بٹن پش کرنے لگی‘ مونس خالی ہاتھ گیا تھا خالی ہاتھ لوٹ آیا۔
/…ء…/
’’کون ہے۔‘‘ بیل کی آواز سن کر نوری نے جھاڑو رکھی اور دروازہ کھولتے ہوئے گویا ہوئی۔ سامنے موجود شخص کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔
’’مونس صاب…!‘‘ ایک دم پورا دروازہ کھول کر سائیڈ میں ہوگئی۔
’’میں اکیلا ہوں۔‘‘ مونس نے مڑ کر نوری کو بتایا۔ ’’خالی ہاتھ گیا تھا خالی ہاتھ لوٹا ہوں۔‘‘
’’تو صاب آج تمہارے دو ماہ پورے ہو ہی گئے۔‘‘ نوری چلتے ہوئے گویا ہوئی‘ مونس طنز میں چھپے نشتر محسوس کرسکتا تھا اگر وہ غلطی کا مرتکب نہ ہوتا تو ایک نوکرانی ایسی بات کرنے کی ہمت کبھی نہ کرتی۔ وہ جیسے ہی راہداری پار کرکے اندر بڑھے خالی گھر سائیں سائیں کررہا تھا۔
’’کون ہے نوری؟‘‘ اندر سے آواز آئی تو مونس تقریباً بھاگتا ہوا آواز کی پیروی میں گیا۔
’’مما…!‘‘ جیسے ہی اندر قدم رکھا بے اختیار اپنی ماں کی جانب بڑھا‘ مسز عبدالرحمن اس کو دیکھ کر حیران رہ گئیں اور پھر سب یاد آنے پر غصے سے منہ پھیرلیا۔
’’مما‘ پاپا مجھے معاف کردیں۔‘‘ مونس ہاتھ جوڑ کر گھٹنے کے بل بیٹھ گیا اور گڑگڑاتے انداز میں گویا ہوا۔
مسز عبدالرحمن کچھ نہیں بولیں‘ وہ دوسری طرف منہ کیے خاموشی سے آنسو بہار رہیں تھیں۔
’’بڑی امی… امی دیکھیں آج میں ایک خوش خبری لایا ہوں۔‘‘ ایک سولہ سالہ دبلا پتلا لڑکا مٹھائی کا ڈبہ اٹھائے اندر آیا تو سب نے مونس کو نظر انداز کردیا۔ جبکہ مونس چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
’’ماں صدقے کیا خوش خبری ہے۔‘‘ نوری نے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر پوچھا۔
’’نہیں پہلے بڑی امی کا منہ میٹھا کروائوں گا۔‘‘ نوری نے مصنوعی غصے سے منہ پھیرلیا تو لڑکے نے اس کے گرد بازو حمائل کرلیے اور مسز عبدالرحمن کی طرف دیکھ کر خوش ہوکر بولا۔
’’بڑی امی میں نے پورے لاہور بورڈ میں پہلی پوزیشن لی ہے۔‘‘ مسز عبدالرحمن نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ لڑکا فوراً ان کے گلے لگ گیا۔ مونس کو اپنا آپ بہت حقیر محسوس ہوا تھا۔
’’اور بڑی امی آپ کو معلوم ہے مجھے پارٹ ٹائم جاب بھی مل گئی ہے۔‘‘ جب ہی اس کی نظر خاموش و غمگین مونس پر پڑی۔
’’یہ…‘‘
’’بیٹا مہمان ہے ابھی چلا جائے گا۔‘‘ مسز عبدالرحمن نے کہا تو مونس آنسو ضبط کرتے ایک بار پھر بولنے کی کوشش کرنے لگا۔
’’میرے چاند تم چلو میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘ نوری نے اپنے بیٹے کامران کو وہاں سے اٹھانا چاہا اور خود بھی اس کے ساتھ منظر سے غائب ہوگئی۔ کمرے میں دو نفوس موجود تھے مگر گہری خاموشی تھی۔ مسز عبدالرحمن اب پہلے سے کافی بہتر تھیں‘ اب ان کی زبان کی لکنت بھی کافی ختم ہوگئی تھی۔
’’مما خدارا مجھے دیکھیں مجھے لعنت ملامت کریں مگر اس طرح نہ کریں‘ مجھے سزا مل چکی ہے۔‘‘
’’تمہیں معاف کرکے ہی واپس آنے کو کہا تھا اور دو ماہ سے انیس سال بیت گئے اور آج ہم سے معافی کے طلب گار ہو۔ یہ بھی نہ سوچا ہم کیا کریں گے تمہارے بغیر‘ جب ہمیں تمہاری ضرورت تھی تب تم نہیں آئے اب جب اللہ نے ہمیں ایک خیال کرنے والا‘ ہماری دیکھ بھال کرنے والا بیٹا عطا کردیا ہے تو اب ہمیں تمہاری ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔‘‘
’’مما پلیز مجھے معاف کردیں‘ بابا کو بلائیں وہ مجھے ضرور معاف کریں گے۔‘‘
’’مرنے والے لوٹ کر آتے ورنہ وہ میرے پکارنے پر ضرور آجاتے۔‘‘ مسز عبدالرحمن کی آنکھیں نم ہوگئیں جبکہ مونس دکھ سے دیکھتا رہ گیا۔
’’کیا پاپا اب نہیں رہے… اور کسی نے بتانا بھی گوارا نہیں کیا۔‘‘
’’ارے صاب بس کرو‘ اللہ کے لیے بس کرو… پوچھو اپنی بیوی سے اس کو بتایا تھا سب کچھ۔‘‘ نوری اس کی بات سنتی کمرے میں داخل ہوئی۔
’’کب وہ… وہ گئے۔ کک… کتنا سال۔‘‘ مونس سے لفظ مکمل نہ ہوپا رہے تھے‘ ابھی تک اس کو اپنے مضبوط باپ کی موت کا یقین نہ آرہا تھا۔
’’سات سال ہوگئے صاب… سات سال۔‘‘
’’نوری مونس کو اس کی امانت دے دو۔‘‘ نوری الماری سے ایک لفافہ لے آئی اور اسے تھما دیا۔
’’تمہارا جائیداد کا حصہ جو ہماری بیگم صاب نے تمہارے نام کردیا تھا ورنہ باپ نے تم کو کچھ نہیں دینا تھا نہ دیا‘ یہ گھر بیگم صاب کا ہے اور شوروم اب تمہارے نام ہے۔‘‘
’’مم… مجھے کچھ نہیں چاہیے مما… مجھے اپنے پاس رہنے دیں پلیز مما پلیز۔‘‘ مونس کی التجائوں کا اس پر قطعاً اثر نہ ہوا۔
’’بیگم صاب… چلو میں تم کو دوا دے دوں۔‘‘ نوری مونس کو نظر انداز کرکے مسز عبدالرحمن سے گویا ہوئی۔ بیٹے کا آخری دیدار کرکے ان کی روح پرواز کرچکی تھی مگر نگاہیں بدستور مونس پر تھیں۔ کیا نہیں تھا ان آنکھوں میں انتظار‘ دکھ‘ تکلیف اور شکایت۔
’’بیگم صاب دوا لے لو۔‘‘ نوری کے ہلانے سے ایک دم ان کا سر ڈھلک گیا اور نوری کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
مونس کو نہ باپ کا دیدار نصیب ہوا اور نہ والدین میں سے کسی نے معاف کیا اب پچھتاوا ساری زندگی بچھو کی طرح ڈنک مارتا رہے گا اور اللہ کی رضا سے بھی محروم رہے گا۔ بہنیں آئیں اور چلی گئیں مگر کسی نے بھی بھائی کو ملنے اور تسلی دینے کی ضرورت نہ سمجھی۔ آج بھی وہ ماں باپ کی قبر کے پاس سر جھکائے بیٹھا تھا جب کامران آیا۔
’’اس طرح آپ کو معافی نہیں ملے گی بھائی… بڑی امی اور بابا ہمیشہ آپ کو یاد کرتے تھے اور جب بابا فوت ہوئے تو ان کی آنکھیں دروازے پر تھیں کہ کب آپ آئیں گے لیکن…‘‘ اتنا کہہ کر اس نے سر جھٹک کر ہتھیلی سے آنسو پونچھے۔ مونس نے اس کے ساتھ قدم بڑھا دیئے۔
’’تم تو نوری کے بیٹے ہو تو میری امی کو بڑی امی اور بابا…‘‘ مونس ہچکچا گیا کہیں غلط لفظ ادا نہ ہوجائیں۔
’’آپ یہ سب امی سے معلوم کرلینا۔‘‘ مونس کو ایک دم جھٹکا لگا۔ مونس نے جاتے ہی نوری سے وہی سوال کیا۔
’’میں بیوہ تھی میں نے بیگم صاب کی بہت خدمت کی ایک دن صاب نے مجھے اپنی بیماری کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ وہ زیادہ دن نہیں جی پائیں گے۔‘‘
’’کون سی بیماری؟‘‘ مونس نے حیرانی سے پوچھا کیونکہ اس کے والد تو صحت مند تھے۔
’’صاب کو ذہنی دباؤ کے سبب برین ٹیومر ہوگیا تھا ایسے میں صاب کی خواہش تھی کاش ان کا ایک اور بیٹا ہوتا تاکہ ان کا سہارا بنتا تب بیگم صاب نے ان سے کہا مجھ سے نکاح کرلیں میں چونکہ بیوہ تھی اور کوئی گھر بھی نہ تھا اور انہیں بڑھاپے کا سہارا چاہیے تھا‘ یوں اﷲ نے نیتوں اور دعاؤں صلے میں مجھے بیٹے سے نواز دیا۔‘‘ نوری اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی اور دوپٹے کے پلّو سے آنسو پونچھنے لگی۔
’’صاب نے آپ کو فون کیا لیکن دو ماہ بعد بھی آپ نہیں آئے تو صاب جی نے ساری جائیداد بیٹیوں میں اور بیگم صاب کے نام کردی پر اللہ کو ان کی زندگی مطلوب تھی۔ اس لیے اتنے سال جئے ورنہ ڈاکٹروں نے تو چار پانچ ماہ کا کہہ دیا تھا۔‘‘
’’صاب جی نے آخری دم تک تم کو یاد کیا پر منہ سے کچھ نہ بولے اور وہ آپ کو دیکھنے کی آس میں ہی…‘‘ نوری کے آنسوئوں میں شدت آگئی تھی۔ مونس کا دل کیا وہ خود کو لعنت ملامت کرے کس طرح ماں باپ نے مرتے دم تک اس کا انتظار کیا اور وہ بے خبر رہا۔ آنسو مونس کے گالوں کو بھگوتے رہے‘ آنسو کو پونچھتے وہ وہاں سے اٹھ گیا تھا۔
/…ء…/
’’یہ کیا ہیں صاب؟‘‘
’’جائیداد کے کاغذات جو اَب کامران کے نام ہیں‘ پاپا ہی نہیں رہے اور نہ میں بیٹا ہونے کا حق ادا کر پایا تو اس زمین کے ٹکڑے کا کیا کروں گا اور اس پر مجھ سے زیادہ کامران کا حق ہے منع مت کرو رکھ لو۔‘‘ اس نے ایک آخری نظر گھر پر ڈالی۔
’’صاب کہیں جارہے ہو؟‘‘
’’ہاں… مجھے واپس جانا ہے والدین کا حق تو ادا نہیں کر پایا‘ کم از کم باپ ہونے کا فرض تو ادا کروں۔ کہیں ایک اور مونس کسی سر زمین پر پچھتانے کے لیے نہ رہ جائے‘ مجھے میری بیٹی کو رزی سے زینب بنانا ہے۔‘‘ مونس کی بڑبڑاہٹ پر نوری نہ سمجھی سے سر جھٹک گئی۔
’’جائو صاب… مگر اس گھر کے دروازے ہمیشہ کھلیں رہیں گے۔‘‘ مونس کامران کے سر پر ہاتھ پھیر کر آنسوؤں کو ضبط کرتا وہاں سے چلا گیا مگر کامران کے الفاظ تیر بن کر اس کا سینہ چھلنی کررہے تھے۔
’’امی میں مونس بھائی جیسا ہرگز نہیں بنوں گا‘ میں آپ کا تابعدار بیٹا رہوں گا۔ ہمیشہ آپ کے پاس رہوں گا‘ آپ کی خدمت کروں گا جیسے بڑی امی اور بابا کی خدمت کی‘ انہیں مجھ سے تو کوئی شکایت نہیں ہے ناں۔‘‘ کامران نے کہا اور روتے ہوئے نوری کے گلے لگ گیا۔
’’صاب اور بیگم صاب تم سے بہت خوش ہوں گے میرے لعل… تم نے ان کا تابعدار بیٹا ہونے کا حق ادا کردیا۔‘‘
’’والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو‘ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو‘ نہ انہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان سے احترام سے بات کرو۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close