Hijaab Mar-18

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
شاہ زر شمعون شنائیہ کو گرتے دیکھ کر فوراً اس کے پاس آجاتا ہے اور اسے اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے جس پر شنائیہ اس کی ہدایت کے مطابق گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے شنائیہ اپنے پیر میں تکلیف محسوس کرتے شاہ زرشعمون کو اسپتال چلنے کا کہتی اسے مزید غصہ دلا جاتی ہے شاہ زر شمعون اس پر احسان جتاتا اسے فرسٹ ایڈ باکس تھما دیتا ہے۔ منزہ کو یحییٰ کے بغیر بیٹیوں کی پرورش کرنا مشکل لگتا ہے وہ ماورا کے یونیورسٹی والے معاملے کو لے کر پریشان ہوگئی تھی تب ہی ماورا ان سے معافی مانگتی آئندہ محتاط رہنے کا کہتی ماں کومنا لیتی ہے۔ سمہان آفندی عیشال جہانگیر کو آدھی رات کے وقت کچن میں دیکھ کر چونک جاتا ہے۔ عیشال جہانگیر اپنے لیے کھانا پکا رہی ہوتی ہے تب سمہان آفندی اسے کافی تیار کرنے کا کہتا ہے عیشال جہانگیر اسے کافی بنا کر دیتی کچن سے نکل کر کمرے میں جا رہی ہوتی ہے تب اسے چوہدری حشمت روک کر اس کے حلیہ کے حوالے سے بات کرتے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں تب سمہان آفندی ہی اسے چوہدری حشمت کے عتاب سے بچاتا ہے۔ ایشان جاہ ریس جیتنے کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ ساحل سمندر پر آجاتا ہے سب دوست اسے سراہ رہے ہوتے ہیں ایسے میں خرم اپنی ہار کا بدلہ لینے کی غرض سے ایشان جاہ کو اپنی گاڑی سے ہٹ کرتا گاڑی بھگا لے جاتا ہے ایسے میں سہیل خرم کی گاڑی پہچان کر باقی دوستوں کو بتاتا انشراح حیران کردیتا ہے۔ چودھری جہانگیر اپنے زخمی بیٹے (ایشان) کو دیکھتا ہے اس کے دوستوں سے حادثے کے بارے میں تفتیش کرتا ہے اور خرم کا نام اور حلیہ جان کر وہ اپنے ما تحت سے اسے فورا اپنے سامنے لانے کا کہتا اسپتال سے چلا جاتا ہے۔ شنائیہ شاہ زر شمعون کے ساتھ گھر پہنچ جاتی ہے چودھری بخت خوش دلی سے شاہ زر شمعون کا استقبال کرتے باقی حویلی والوں کا احوال دریافت کرتے ہیں‘ شاہ زر شمعون انہیں سب کے بارے میں بتاتا چودھری جہانگیر کے حوالے سے بات کرتا ہے۔ ماورا یحییٰ اور انوشہ گھر کی اشیا خور و نوش لینے مارکیٹ آتی ہیں ایسے میں دونوں چودھری جہانگیر کو دیکھتے اپنے والد یحییٰ کاگمان کرتی ششدر رہ جاتی ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
{…(٭)…}
عیشال جہانگیر کمرے کے بیچوں بیچ مجرموں کی طرح کھڑی تھی‘ اس سے ذرا فاصلہ رکھ کر سمہان آفندی بھی مودب کھڑا تھا‘ لیکن چودھری حشمت کے کرسی کی طرف اشارہ کرنے پہ وہ ان کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔ دائیں طرف لائن سے لگی کرسیوں میں سب سے پہلے زمرد بیگم‘ فائزہ اور پھر فریال براجمان تھیں۔ زمرد بیگم کی تو بات ہی کیا… دونوں نے سلیقے سے دوپٹا سر پہ لے رکھا تھا‘ دونوں اطراف لائن سے لگی کرسیوں کے عین وسط میں چودھری حشمت اپنی مخصوص کرسی پر براجمان تھے۔ ان کی پگڑی آج سر کے بجائے میز پر رکھی ہوئی تھی‘ کمرے میں گمبھیر خاموشی طاری تھی‘ سمہان آفندی تو اس ’پیشی‘ کی وجوہات سے آشنا تھا مگر پھر بھی متفکر عیشال جہانگیر کو دیکھ رہا تھا‘ جو کالج یونیفارم میں بے حد معصوم لگ رہی تھی‘ تینوں خواتین متجسس‘ کچھ فکرمند سی بیٹھی ہوئی چودھری حشمت کے بولنے کی منتظر تھیں‘ عیشال جہانگیر کو مجرموں کی طرح کھڑا دیکھ کر انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ بات عیشال کے حوالے سے ہی ہے شاید… تب ہی تو اسے کٹہرے میں کھڑا رکھا ہے۔ کمرے میں موجود اشخاص جتنے سہمے ہوئے تھے‘ عیشال جہانگیر اس کے برعکس پُرسکون چہرہ لیے اپنے پیر کے انگوٹھے کو دیکھ رہی تھی۔
’’آپ سب کو یہاں اس لیے بلایا گیا ہے کہ آپ سب کو ایک بار پھر یہ باور کروایا جائے کہ حویلی میں رہنے والوں کے لیے کچھ اصول ہیں جن پہ چلنا اس حویلی کی عورتوں کے لیے لازم وملزوم ہے۔‘‘ چودھری حشمت نے بات شروع کی تو سب نے دم سادھ لیا۔ انہیں اس تمہید کی سمجھ نہیں آرہی تھی‘ کس نے گستاخی کی… کیا ہوا تھا؟ ان تینوں کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہے تھے‘ مگر وہ ایک دوسرے سے پوچھنے کی گستاخی نہیں کرسکتی تھیں‘ تب ہی چودھری حشمت کی طرف ہم تن گوش ہوئیں۔
’’ہونہہ… آگ لگے اس حویلی اور اس کے اصولوں کو۔‘‘ عیشال جہانگیر نے نفرت سے سر جھٹکا اور اس کی نفرت بھری سوچ کا عکس ایک لحظے کو اس کے حسین چہرے پر جھلملایا تو سمہان آفندی بے ساختہ پہلو بدل گیا کہ کہیں چودھری حشمت یہ رنگ دیکھ کر آپے سے باہر نہ ہوجائیں۔
’’حویلی کی دہلیز سے باہر نکلنے والے قدموں کی نگرانی ہماری ذمہ داری ہے لیکن حویلی کے اندر کی ذمہ داری ہم نے آپ تینوں معزز خواتین پہ چھوڑ رکھی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ آپ تینوں حویلی کی ہانڈی روٹی میں اس قدر الجھ گئی ہیں کہ اب یہ ذمہ داری بھی ہمیں اپنے سر لینے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔‘‘ چودھری حشمت کا سرد لہجہ ان تینوں کو کچھ بدحواس سا کر گیا‘ ان کی اٹھی تیز نظریں ان سب کو جزبز کر گئی تھیں۔
’’ٹانگیں درد کرنے لگی ہیں اور دا جان کی تمہید ہی ختم نہیں ہورہی جو کہنا‘ سننا ہے جلدی کہہ سن کر فارغ کریں۔‘‘ اس کے چہرے پہ بے زاری پھیل گئی تھی۔ سمہان آفندی لب بھینچے اس کے انداز اور تاثرات پہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔
فکرو تردد کی ایک بھی لکیر اس کے چہرے پہ ڈھونڈنے سے نہیں مل رہی تھی۔ جس کے لیے عدالت لگی تھی وہی لاپروا اور بے نیاز نظر آرہی تھی۔ جب کہ باقی سب متفکر چودھری حشمت کی گفتگو کا لب لباب جاننے کی لیے بے چین تھیں۔
’’ایسی کون سی کوتاہی ہوگئی ہم سے؟‘‘ زمرد بیگم نے دھیمی آواز میں دریافت کیا۔
’’صائقہ کے جانے کے بعد عیشال کی ذمہ داری ہم نے آپ تینوں کو سونپی تھی مگر ہمیں اچھی طرح احساس ہوگیا کہ آپ سب نے اپنے فرائض با احسن انجام نہیں دیے۔ عیشال کا جو رنگ‘ روپ ہمارے سامنے ہے اس پہ ہم یہ سب کہنے پہ مجبور ہیں۔‘‘ سب کی نظریں بے ساختہ عیشال جہانگیر پہ ٹھہر گئی تھیں۔ وہ سب بھی اس کی گستاخانہ حرکات سے واقف تھیں۔ اکثر ہی سب پیار ومحبت یا چودھری حشمت کے ڈراوے سے اسے باز رکھنے کی سعی کرتی تھیں مگر ان سب کی ذرا سی چوک پہ وہ پھر سے کچھ ایسا کر جاتی تھی کہ وہ سب سر پکڑ کر بیٹھ جاتیں۔ ان سب کی کوشش ہوتی تھی وہ خود ہی اسے سمجھالیں اور بات چودھری حشمت کے کانوں تک نا پہنچے لیکن جانے اب کے اس نے کیا کیا تھا کہ ان سے پہلے چودھری حشمت تک بات پہنچ گئی تھی اور انہوں نے یہ عدالت لگائی تھی۔
’’کھانے کی میز پہ غیر حاضر رہنا‘ حویلی میں مغربی لباس پہن کر گھومنا‘ کیا یہ سب آپ تینوں کی نظروں میں نہیں ہے؟ کب اور کہاں سے لیا گیا یہ لباس… شاپنگ پہ تو آپ سب ساتھ ہی جاتی ہیں… کیا آپ میں سے کسی کی نظر نہیں پڑی؟‘‘ چودھری حشمت غیض وغضب سے ان تینوں سے مخاطب تھے۔ جسے مجرم بنا کر بیچ میں کھڑا کر رکھا تھا‘ اس سے تو کچھ پوچھنا گوارا نہیں کررہے تھے۔ تینوں ہی پریشان نظر آنے لگیں۔
’’داجان… یہ ملبوسات میں نے اپنی دوست سے منگوائے تھے‘ اس کی امی کی بوتیک سے… اس کا علم تو دی جان یا تائی جان کو بھی نہیں۔‘‘ کافی دیر سے خاموش کھڑی عیشال جہانگیر نے لب کھولے تو چودھری حشمت اس کی آواز پہ یوں چونکے جیسے وہ اس کی موجودگی کو ہی فراموش کیے بیٹھے ہوں۔
’’آپ میری تربیت کے لیے ان سب کو قصور وار نا ٹھہرائیں بلاشک وشبہ ان سب نے میرے لیے اپنی مقدور بھر کوشش کی لیکن تربیت سے بھی بڑھ کر ایک چیز ہے جو لاکھ اچھی سیکھی ہوئی بات بھلا دیتا ہے اور وہ ہے خون… میری رگوں میں چودھری جہانگیر کا خون گردش کررہا ہے جو اپنی مرضی کرنے والے ہٹ دھرم انسان ہیں… کسی کی نہیں سنتے… مجھ سے بہتر تو آپ لوگ ان کی فطرت سے آشنا ہیں… اثر تو مجھ میں بھی آئے گا ان کا انہی کا خون جو ہوں۔ جو کچھ کہنا ہے‘ مجھے کہیں‘ میری وجہ سے دی جان‘ تائی‘ چاچی کو باتیں نا سنائیں۔‘‘ عیشال جہانگیر بے خوفی سے بولی… تینوں خواتین آنکھیں پھاڑے اس کی جی داری کو ’’ملاحظہ‘‘ فرما رہی تھیں۔
چودھری حشمت کی پیشانی شکن آلود ہوئی تھی غصے سے عیشال کی طرف دیکھا۔ سمہان آفندی نے مٹھی بھینچ لی تھی‘ اس کا دل چاہا کہ اٹھ کر اس کے کرارے ہاتھ لگائے۔ سمجھا کر لانے کے باوجود بھی وہ اپنی سقراطی‘ بقراطی ہانکنے سے باز نا آئی تھی۔
’’چودھری جہانگیر اس حویلی کا مرد اور ہمارا بیٹا ہے۔ اب کیا تم حویلی کے مردوں اور اپنے باپ سے مقابلہ بازی کروگی؟‘‘ چودھری حشمت کا غصہ دو چند ہونے لگا پہلے ہی انہیں اس کی زبان درازی پہ غصہ تھا۔
’’میں ان سے مقابلہ نہیں کرسکتی دا جان… کیونکہ مجھ میں ابھی احساس باقی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ طنزیہ ہوا۔
اس کی بے خوفی پہ تینوں خواتین جزبز ہوئیں۔ سمہان آفندی بائیں ہاتھ کی مٹھی کی اوک بنا کر بے ساختہ لبوں پہ رکھ گیا۔ وہ شروع سے ہی بنا سوچے سمجھے بولنے کی عادی رہی تھی لیکن وہ دیکھ رہا تھا رفتہ رفتہ اس کے لہجے کی کڑواہٹ بڑھتی جارہی تھی‘ وہ بڑی بے خوف نظر آنے لگی تھی۔
’’ہمیں تمہارے لہجے سے گستاخی اور بغاوت کی بو آرہی ہے عیشال…؟‘‘ چودھری حشمت اس کے انداز دیکھ کر حیران ہوئے‘ اس کا انداز انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہا تھا۔
’’بچی بن ماں‘ باپ کے پلی ہے‘ میں سمجھادوں گی اسے۔‘‘ زمرد بیگم کو عیشال سے خاص لگائو تھا‘ بھلے وہ عزیز بیٹے کی بیٹی تھی مگر اس کے حصے میں آئی محرومی پہ اکثر ہی اسے خاص رعایت مل جاتی تھی۔
’’ابھی جائو‘ کالج کو دیر ہورہی ہوگی… ہم کچھ سوچتے ہیں‘ تمہارے بارے میں۔‘‘ چودھری حشمت نے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ وہاں سے نکل آئی… باقی سب بھی اگلے حکم کا انتظار کرنے لگے کہ محفل برخاست ہوئی یا ابھی انہیں ایک بار پھر حویلی کے اصولوں پہ عمل پیرا ہونے کی نصیحت سننی ہے۔
عیشال کو کاریڈور میں ہی خبر مل گئی کہ ڈرائیور اس کا انتظار کرکے باقی سب کو کالج و یونیورسٹی کے لیے لے کر نکل گیا ہے اور اس کی چھٹی ہوگئی تھی۔ کالج یونیفارم کو اس نے بے زاری سے دیکھا اور چینج کرنے کے خیال سے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔ سمہان آفندی ابھی تک محفل کا حصہ بنا ہوا تھا جہاں تینوں خواتین کو ان کے فرائض ایک بار پھر یاد دلائے جارہے تھے۔ جبکہ سمہان آفندی کی سوئی چودھری حشمت کے جملے میں اٹک گئی تھی جو آخر میں انہوں نے عیشال جہانگیر کے لیے کہے تھے۔
’’ہم کچھ سوچتے ہیں تمہارے بارے میں۔‘‘
{…(٭)…}
وہ دونوں بے حد الجھ گئی تھیں۔ سارا راستہ دونوں آٹو میں اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھی ہوئی تھیں… جو کچھ آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا… ذہن وہ کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ گروسری رکشے میں رکھے وہ دونوں گھر کی طرف گامزن تھیں۔
’’السلام علیکم!‘‘ رکشہ رکنے کی آواز سن کر ان کے دستک دینے سے پہلے ہی منزہ نے دروازہ کھول دیا تھا۔ رکشے والے کو پیسے دے کر دونوں شاپر اٹھائے دہلیز سے اندر آرہی تھیں۔
’’والسلام! شکر ہے تم دونوں جلدی لوٹ آئیں۔ ورنہ دل ہولتا رہتا۔‘‘ منزہ نے کچھ شاپر دونوں کے ہاتھوں سے لے کر ان کا بوجھ کم کرتے بے ساختہ کہا۔
ماورا اپنے پیچھے دروازہ بند کرتی پلنگ تک آئی تب تک انوشا بھی شاپرز رکھ کر سستی سے پیر اوپر کرکے دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
’’کیا ہوا‘ تم دونوں بہت نڈھال لگ رہی ہو؟ تھک گئی ہو شاید‘ کہا بھی تھا قریبی جنرل اسٹور سے راشن لے لوں گی لیکن تم دونوں مانتی نہیں ہو۔‘‘ منزہ پانی کا گلاس اور جگ لے آئی تھیں‘ گلاس بھر کر انہوں نے ماورا کو تھمایا۔
’’اماں… بابا کی تصویر کہاں ہے؟‘‘ گلاس تھامتے ماورا نے بے ساختہ منزہ سے استفسار کیا۔
’’بابا کی تصویر…! کیوں کیا ہوا‘ خیریت؟‘‘ منزہ اس اچانک سوال پہ بری طرح چونکیں۔ منزہ نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
’’ایسا کیا ہوا ہے کہ تم لوگ آتے ہی بابا کی تصویر کے متعلق پوچھ رہی ہو؟‘‘ منزہ نے بول کر اپنی حیرت کو ان کی نظروں میں غیر اہم کرنا چاہا‘ ماورا نے ان کے ہاتھ سے جگ لے لیا اور وہ گلاس کو پانی سے بھرنے لگی۔
’’اماں… ہم سپر اسٹور میں بابا کے ہم شکل کو دیکھ کر حیران رہ گئے… اگر جو ہمیں خبر نہ ہوتی کہ وہ انتقال فرما چکے ہیں تو کچھ بعید نا تھا کہ ہم ان سے جاکر بات بھی کرلیتے… ایک لمحے کو انہیں چلتے پھرتے دیکھ کر ہم دونوں فراموش ہی کر گئے کہ ہمارے بابا اب اس دنیا میں نہیں ہیں… ہم یتیم ہیں‘ ماورا تو انہیں بابا تک کہہ کر پکار بیٹھی… مگر وہ کوئی اور تھے… مگر اتنی مماثلت… ہم دونوں متحیر رہ گئے۔‘‘ انوشا کا سکتہ ٹوٹا تو وہ تیزی سے اپنی حیرت بھری داستان سنا گئی… منزہ لڑکھڑا کر پلنگ پہ بیٹھ گئیں‘ ان کے چہرے پہ زردی پھیلنے لگی تھی۔
’’مردے کب زندہ ہوتے ہیں۔‘‘ وہ یاسیت سے بولیں۔
’’اسی بات کی تو ہمیں حیرانگی ہے… آپ دیکھتیں تو آپ بھی دنگ رہ جاتیں… اتنی مماثلت… اماں پلیز بابا کی تصویر دکھائیں۔‘‘ ماورا حیرت کا اظہار کرکے بچوں کی طرح ضد کرنے لگی۔ کتنی ہی بار دونوں نے ضد کی تھی کہ وہ تصویر فریم کروا کر دیوار پہ لگوالیں تاکہ باپ کا چہرہ ہر دم تو نگاہوں کے سامنے رہے… مگر منزہ کی دلیل کے آگے چپ کر جاتی تھیں کہ وہ گھر میں تصویریں لگانے کے حق میں نہیں تھیں اور ایک اکلوتی تصویر بھی جو خراب ہوجاتی تو دوسری وہ کہاں سے لاتیں۔ وہ دونوں بھی بڑی احتیاط سے اس تصویر کو کبھی کبھی دیکھتی تھیں کہ ایک آخری شبیہہ تھی ان کے بابا کی۔
’’دیکھ لینا… ایسی بھی کیا بے چینی… ہوجاتی ہے مماثلت اداکاروں‘ سیاست دانوں تک کے ڈبلیکیٹ موجود ہیں اس میں اتنی حیرانگی کیسی۔‘‘ منزہ نے بات کو نیا رخ دے کر ان کے ذہن سے اس خیال کو نکالنے کی سعی کی۔
’’ہاں‘ کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں۔ وہ چودھری جہانگیر تھے اور ہمارے بابا کا نام تو یحییٰ سرفراز ہے‘ لیکن اماں آپ ساتھ ہوتیں تو آپ بھی دنگ رہ جاتیں۔‘‘ انوشا بولی اور منزہ کا دل دھک سے رہ گیا تھا نام سن کر… ایک موہوم سی امید تھی کہ انہوں نے کسی اور کو دیکھا ہو مگر نام کے بعد شک کی گنجائش ہی باقی نا رہی… انہوں نے ساتھ نا چلنے پہ بے ساختہ شکر ادا کیا۔
’’تم لوگوں کو ایک اجنبی کا نام کیسے پتا چلا… تم دونوں نے ان سے بات چیت کی؟‘‘ منزہ نے دھیمی آواز میں استفسار کیا۔
’’قسم لے لیں اماں! ہم نے کوئی بات نہیں کی… ہمیں آپ کی ہدایات یاد ہے… وہ تو جب ماورا کے منہ سے بے اختیار بابا نکلا تو ساتھ کھڑی خاتون نے بتایا کہ یہ ایس ایس پی چودھری جہانگیر ہیں۔‘‘ انوشا نے جلدی سے پوزیشن کلیئر کی‘ مبادا یہ سمجھ کر انہوں نے کسی مرد سے بات کی ہے منزہ خفا نا ہوجائیں۔ انوشا کی صفائی پہ منزہ کو تھوڑی تسلی ہوئی۔
’’اماں… بابا کی موت حادثاتی ہوئی تھی‘ یہ کنفرم ہے ناں؟ کہیں ایسا تو نہیں وہ اس حادثے میں معجزانہ طور پر بچ گئے ہوں؟‘‘ ماورا پُرسوچ نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی‘ اس کا ذہن ایک الگ ٹریک پہ ہی چل رہا تھا۔
’’کیا بکواس ہے ماورا… اب کیا میں تمہارے باپ کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور قبر کی تختی کی تصویر لاکر دکھائوں تب تمہیں ماں کی بات کا اعتبار آئے گا کہ تم یتیم ہو؟‘‘ منزہ بھڑک اٹھیں… ماورا الجھی ہوئی تھی اسی وجہ سے یہ سوال ذہن کے ساتھ لبوں تک بھی آگیا تھا… سوال کرنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ زیادہ بول گئی ہے۔ انوشا کو بھی اس کے سوال کی تک سمجھ نہیں آئی تھی مگر منزہ کا بھڑکنا اسے بھی بے جا نہیں لگا۔
’’سوری اماں… میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہمارے بابا زندہ ہیں اور آپ نے ہم سے جھوٹ کہا‘ بس حیرت انگیز طور پر مماثلت دیکھ کر ذہن میں خیال آیا تو…‘‘ ماورا کو بھی اپنی حماقت کا اندازہ ہوگیا تھا‘ یقینا اس کی بات سے منزہ کو تکلیف پہنچی تھی… لیکن وہ بے خبر تھی کہ وہ انجانے میں وہ سب کہہ گئی تھی جس سے منزہ کا دل بے قابو ہونے لگا تھا۔
’’ختم کرو اب یہ تکرار جاکر فریش ہوجاؤ دونوں… میں چائے لاتی ہوں…‘‘ منزہ کچن کی طرف بڑھ گئیں۔ درحقیقت وہ تنہائی چاہ رہی تھیں۔
’’سوچ سمجھ کر تو بولا کرو… جاسوسی کہانیاں پڑھ کر تم خود کو زیرو زیرو سیون سمجھنے لگی ہو… شکر کرو اماں نے سستے میں جان چھوڑ دی۔ ورنہ ٹھیک ٹھاک کلاس لگ جانی تھی تمہاری۔‘‘ ماورا یحییٰ کو چپت لگاتے انوشا پلنگ سے اٹھنے کے لیے کھسکتے اسے احساس دلا گئی۔
’’ہاں واقعی‘ کہہ تو ٹھیک رہی ہو‘ جانے کیوں میرے منہ سے بلاارادہ نکل جاتا ہے الٹا سیدھا اور اماں ہر بار مجھ سے خفگی کا اظہار کرجاتی ہیں۔‘‘ ماورا نے منہ بسورتے جیسے خود پہ افسوس کیا۔
’’چلو خیر ہے‘ اب اتنی مماثلت دیکھ کر تو کوئی بھی دھوکا کھا سکتا ہے اور کسی کے بھی ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے‘ جو تمہارے ذہن میں آیا۔‘‘ انوشا دبی زبان میں بولی‘ ماورا نے پُرسوچ انداز میں سر ہلایا۔
’’انوشا… تمہارا نیٹ پیکج ہے؟‘‘ ماورا کے ذہن میں اچانک ایک خیال سرعت سے آیا۔
’’نہیں کیوں؟‘‘ انوشا کو بھی یہ مشرق سے اچانک مغرب تک جاتی گفتگو کی سمجھ نہیں آئی۔
’’وہ خاتون کہہ رہی تھیں چودھری جہانگیر ان کائونٹر اسپیشلسٹ کی پہچان رکھتے ہیں‘ کافی مشہور ہیں میں ان کے بارے میں جاننا چاہ رہی ہوں… کسی سے ان کے متعلق پوچھنے کی بجائے کیوں نا گوگل سے ان کے بارے میں پوچھیں‘ جب وہ اتنے مشہور ہیں تو گول سے تو ان کا کوئی نا کوئی سراغ مل ہی جائے گا۔‘‘ ماورا کے آئیڈے پہ ایک پل کو انوشا بھی عش عش کر اٹھی۔
’’ہاں وہ خاتون بھی بتارہی تھیں مشہور ہیں بہت… اکثر ٹی وی چینل پہ انٹرویو بھی دے چکے ہیں لیکن ہم لوگ نا سیاست سے دلچسپی رکھتے ہیں نا سیاسی ٹاک شوز اور نیوز چینل دیکھتے ہیں۔‘‘ انوشا نے بھی متفق ہوکر سر ہلایا۔
’’لیکن ان کو سرچ کرکے تم نے کرنا کیا ہے؟ اماں کو خبر ہوگئی کہ ہم اپنے بابا کے ہم شکل کے متعلق جاسوسی کررہے ہیں تو ہم دونوں کا سیکنڈ ہینڈ موبائل اٹھا کر چولہے پر رکھ دیں گی۔‘‘ انوشا نے پوچھنے کے ساتھ منزہ کا ردعمل بھی ماورا کے سامنے رکھا۔
’’افوہ… اماں کو بتائے گا کون… اور ہم کون سا کسی غلط نیت سے کسی مرد کو سرچ کریں گی… باپ کی عمر کے ہیں وہ ہمارے۔‘‘ ماورا نے انوشا کو تیکھی نظروں سے دیکھا۔
’’ابھی تو سیل فون کا اکائونٹ صفر ہے‘ کل اسکول سے واپسی میں بیلنس ڈلواتی آئوں گی تب نیٹ پیکج کرکے سرچ کرلینا… لیکن دیکھ کے بھئی… اماں سے جوتے پڑے تو تم اکیلی ہی کھانا۔‘‘
’’اوکے یاد سے کرواتی آنا۔‘‘ ماورا نے یہ ذمہ داری بھی اس کے سر ڈال دی… کیوں کہ وہ آج کل گھر پہ ہی ہوتی تھی۔ یہ خیال پہلے آجاتا تو وہ بیلنس ڈلواتی ہی گھر آتیں… وہ دونوں دبی زبان میں گفتگو کررہی تھیں کہ کچن میں موجود منزہ تک ان کی آواز نہ پہنچے۔ چولہے پہ چائے کا پانی رکھتے منزہ نے ماچس کی تلاش میں ہاتھ مارا۔
’’چودھری جہانگیر‘ تو تم میرے اتنے قریب ہو؟‘‘ تیلی رگڑنے سے شعلہ بلند ہوا… ان کی نظر رنگ بدلتی آگ پہ تھی۔
{…(٭)…}
شنائیہ ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں آگئی۔ بیڈ پہ گرتے ہی ساری رات کی اکڑی کمر نے بیڈ کی نرماہٹ کو محسوس کیا تو ایک سکون جسم میں سرایت کرنے لگا‘ ماہم اس کے پیچھے ہی آئی تھی‘ وہ سفر کی روداد اور اس کے پیر کے زخم کے متعلق پوچھنا چاہتی تھی جو سب کے سامنے تو اس نے سنسر کرکے سنا دیا تھا لیکن اب اپنا کارنامہ بڑھا چڑھا کر بیان کررہی تھی جس میں جھوٹ کی آمیزیش بھی شامل تھی۔
’’یہ کیا حماقت تھی شنائیہ… اس طرح جنگل بیابان میں سیلفی کے چکر میں کوئی پاگل ہوتا کیا؟ حال ہی میں اسی سیلفی کے چکر میں ایک لڑکا شیر کے پنجرے میں گر کر اس کا نوالہ بن چکا ہے… تم نئی نسل کے سر پہ سیلفی کا بھوت کچھ زیادہ ہی سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔‘‘ چودھری بخت نے ناشتے کی میز پہ ہی اس کی کلاس لی تھی۔ شاہ زرشمعون بھی نکھرا ستھرا چاک وچوبند محسوس ہورہا تھا۔ وہ منہ بسور کے رہ گئی تھی۔ شاہ زرشمعون نے اچٹتی نگاہ اس کے بسورتے چہرے پہ ڈالی اور اس کے سامنے ہوتی کلاس پہ شنائیہ مزید پشیمان ہوگئی۔
’’سوری پپا… لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ میں جس راستے سے آرہی ہوں وہاں میرے ساتھ یہ حادثہ بھی ہوجائے گا مجھے تو لگا تھا پاکستان میں ہوں ایسے مناظر نہیں دیکھ سکتی لیکن جن راستوں سے ہوکر آئی ہوں‘ وہ افریقہ کے جنگلات سے کم نہیں لگے۔‘‘ ایکسیکوز کرتے ہوئے بھی وہ درپردہ شاہ زرشمعون پہ چوٹ کر گئی کہ وہی اسے ان راستوں سے لایا تھا‘ وہ بھی اس کی چوٹ کو اچھی طرح سمجھ گیا تھا۔ تب ہی ایک غصلی نظر اس پر ڈال کر رہ گیا۔ چودھری بخت اور دیا کا احساس نا ہوتا تو وہ اس کے چودہ طبق نا سہی سات آٹھ تو ضرور ہی روشن کردیتا۔
اب بھی وہ کمرے میں آکر تفصیلی احوال سنا رہی تھی اور ماہم کا ہنستے ہنستے برا حال تھا۔
’’خوف ناک تو نا کہیں آپی… اتنے تو ہینڈسم ہیں ویرے… سچی میں جب اپنی دوستوں کو ویرے شاہ اور ویرے سمہان کی تصاویر دکھاتی ہوں تو سب آہیں بھرتی ہیں… نمبر مانگتی ہیں کہ ہماری سیٹنگ کرا دو…‘‘ ماہم نے اختلاف کرتے ہوئے ’’حالات‘‘ سے آگاہ کیا۔
’’او بھئی نا کرو‘ اس ہلاکو کی تصویریں کسی کو سینڈ… پتا چل گیا تو طبل جنگ بجادے گا… سمہان کی تو پھر بھی خیر ہے۔‘‘ شنائیہ نے جیسے وارننگ دی۔
’’توبہ ہے آپی‘ آپ تو بری طرح دشمن ہوگئی ہیں ویرے شاہ کی۔‘‘ ماہم اس کے دلچسپ انداز پہ ہنس دی۔
’’دشمن… جانی دشمن کہو… اس کی تو یہی آرزو تھی کہ میرا خون بہا کر میری لاش یہاں ڈلیور کرے۔ وہ تو میں ڈھیٹ ثابت ہوئی جو تمہارے سامنے زندہ بیٹھی سفر کی آپ بیتی سنا رہی ہوں… ورنہ اس سڑیل کے پلان کے مطابق تو تم ’ایک تھی شنائیہ آپی‘ کہنے پہ مجبور ہوجاتیں۔‘‘ اس کے ناک چڑھا کر بولنے پہ ماہم ’’توبہ توبہ‘‘ کرتی ہنس رہی تھی۔
’’میری تو نسلوں کی توبہ جو میں کبھی اس سڑیل‘ بے مروت‘ بے رحم انسان کے ساتھ سفر کروں… اللہ نے زندگی دی ہے مجھے… میں تو صدقہ نکالوں گی اپنا…‘‘ وہ نازک مزاج حسینہ اپنے زندہ لوٹ آنے پہ شکر ادا کررہی تھی۔
’’تو کس نے کہا تھا‘ حویلی میں شور مچا کر شاہ کو تکلیف دینے کو… میں نے کہہ بھی دیا تھا کہ ہم لینے آئیں گے مگر تم میں صبر وبرداشت کا مادہ سرے سے ہے ہی نہیں۔‘‘ اسی گھڑی دیا بھی کمرے میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے اس کی لن ترانیاں سن لی تھیں تب ہی اسے سرزنش کرنا نہ بھولیں۔
’’مما جانی آپ کو مس کررہی تھی۔‘‘ شنائیہ منہ بسورتی ہوئی بولی۔ دیا فرسٹ ایڈ باکس بھی ساتھ لیتی آئی تھیں۔
’’کل کو سسرال بھی جانا ہے… وہاں بھی مس کرو تو ایسے ہی شور شرابہ کرکے ملنے چلی آنا۔‘‘ مسکراتی نظر اپنی پری چہرہ بیٹی پہ ڈال کر فرسٹ ایڈ باکس بیڈ پہ رکھ کر انہوں نے شنائیہ کو پیر آگے بڑھانے کا اشارہ کیا… ناشتے کے بعد ان کا تسلی سے زخم دیکھنے کا ارادہ تھا‘ تب ہی وہ آگئی تھیں۔ سسرال کے ذکر پہ وہ ناک چڑھا کر رہ گئی۔
’’شکر ہے کوئی تشویش کی بات نہیں۔‘‘ اس کی بینڈیج کھول کر دیا نے ایڑی کا بغور معائنہ کرکے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا۔ شنائیہ لمبی سانس لے کر رہ گئی۔
’’ماہم میں جب تک بینڈیج کررہی ہوں تم شیف کو لنچ پہ اہتمام کے لیے ڈشز بتادو۔ ابھی تو شاہ آرام کرنے گیا ہے‘ ہوسکتا ہے تھوڑی دیر میں وہ جہانگیر بھائی کی طرف جائے پتا نہیں لنچ وہاں کرے گا یا یہاں… بہرحال اہتمام تو کروانا ہے۔‘‘ ماہم کو ہدایات کرتیں دیا جیسے خود کلامی کررہی تھیں۔
’’ایک شخص کے لیے آپ اتنی کانشس کیوں ہورہی ہیں مما جانی… اگر موصوف نے چچا جہانگیر کی طرف لنچ کیا تو سارا اہتمام بے کار جائے گا۔ بہتر ہے آپ ان صاحب سے پوچھ لیں کہ وہ لنچ کرنا کہاں پسند فرمائیں گے۔‘‘ شنائیہ چودھری نے حد ادب ملحوظ رکھتے شاہ زرشمعون کے لیے تکریم کے القاب استعمال کیے اگر جو دیا اس کے منہ سے سڑیل‘ ہلاکو جیسے القاب سن لیتیں تو اس کے ٹھیک ٹھاک لتے لیتیں۔ اسے اس کی آئو بھگت کبھی بھی اچھی نہیں لگی تھی۔ اب بھی منہ بنا کر کہہ گئی اور وہ کتنا فضول کہہ گئی تھی‘ یہ دیا کی گھوری نے جتا دیا تھا۔
’’اتنی بڑی ہوگئی ہو… مگر تم میں عقل نامی چیز نام کو نہیں‘ ہم تو اجنبی مہمانوں کے لیے بھی اہتمام کرتے ہیں۔ شاہ تو پھر اپنا بچہ ہے۔ حویلی سے جڑا ہر شخص ہمارے لیے اہم ہے‘ یہ بات پلو سے باندھ لو سب کی عزت واحترام تم پہ فرض ہے پھر کبھی اتنی سطحی بات کرکے میری پرورش کو شرمندہ مت کرنا…‘‘ دیا برا مان کر دو ٹوک لہجے میں وارننگ دے گئیں۔
’’مما ٹھیک کہہ رہی ہیں… ہم جب کبھی حویلی جاتے ہیں بھلے جتنے دن رکیں… دی جان‘ تائی‘ چاچی‘ داجان سب ہر روز ناشتے‘ کھانے پہ اتنا اہتمام کرواتے ہیں کہ کیا ہی سالوں بعد آئے دل عزیز مہمان کی خاطر مدارت ہوتی ہو۔‘‘ ماہم بھی ہمنوا ہوئی۔
دل سے معترف تو شنائیہ بھی تھی کہ چند دن اکیلی رہی تھی مگر ہر وقت ہی کچھ نا کچھ اس کے لیے پکوا کر اسے چکھانے کا کہہ کر ٹھیک ٹھاک کھلایا جاتا تھا اور وہ دہائی دیتی رہ جاتی تھی۔
’’سوری مما جانی…‘‘ وہ اتنی تنگ دل نہیں تھی بس شاہ زرشمعون کی ناز برداری دیکھ کر زبان بے ساختہ پھسل گئی تھی۔
’’میں ہاسپٹل جارہی ہوں… ایک سے دو گھنٹے لگیں گے۔ تمہارے پاپا گھر پہ ہوں گے… شاہ اٹھ جائے تو اسے اسنیکس وغیرہ دے دینا‘ چائے کے ساتھ… تب تک میں بھی آجائوں گی… لنچ ساتھ کریں گے‘ خیال رکھنا تم دونوں… یہ نہ ہو وہ جو بمشکل رکا ہے‘ اسے کچھ گراں گزرے۔‘‘ دیا مرہم پٹی سے فارغ ہوکر ہدایت دیتی اپنا فرسٹ ایڈ باکس اٹھا کر جانے لگیں۔
’’میں تو اب سوئوں گی… ساری رات اونگھتی رہی ہوں‘ سکڑ سمٹ کر سیٹ پہ ٹانگیں بھی جڑ سی گئی ہیں۔‘‘ پیر سیدھے کرتے شنائیہ چودھری نے ماہم کو اپنا پلان بتایا۔
’’اور مما نے جو ہدایت کی ہے؟‘‘ ماہم کو خبر تھی وہ گھر کے کاموں میں کبھی دلچسپی نہیں لیتی‘ مگر اب پوچھنا لازم تھا۔
’’یار‘ وہ سڑیل مشین ہے‘ ساری رات جو بندہ دو مگ کافی پہ اپنے شہر سے یہاں تک آیا ہے… اسے شاہی دستر خوان سے کیا مطلب ہوگا… تم بھی آرام کرو‘ وہ حضرت پانی‘ کافی پہ چلنے والوں میں سے ہیں۔‘‘ شنائیہ نے لاپروائی سے کہا دیا کے نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتی وہ ماہم کو بھی آرام کا کہہ گئی تھی۔
’’آپ سو جائیں‘ میں دیکھ لوں گی سب کام‘ اٹھیں گے تو۔‘‘ ماہم نے اسے تسلی دی کہ وہ آرام سے بے فکر ہوجائے اور وہ اس کی بات سننے سے پہلے ہی غافل ہوگئی تھی۔
{…(٭)…}
چودھری حشمت کے کمرے میں لگی عدالت کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جارہا تھا۔ انہوں نے سختی سے جتا دیا تھا کہ وہ نئی نسل کی کسی بھی غلطی کو نہیں بخشیں گے… وہ سب اپنے اصولوں کو ذرا سخت کرلیں… عیشال جہانگیر کے بعد فائزہ اور فریال کو اس عدالت سے رہائی ملی تھی۔ وہاں سے نکلنے کے بعد فریال سیدھی عیشال جہانگیر کے پاس آئیں کہ وہ تمام مغربی لباس کو ضائع کردے یا انہیں دے دے تاکہ وہ خود انہیں چودھری حشمت کی ہدایت پہ آگ لگادیں۔
عیشال جہانگیر کو سن کر غصہ تو بہت آیا‘ فریال بھی سمجھتی تھیں کہ اگر آگ لگانے والی بات پہ عمل کیا گیا تو وقتی طور پر تو شاید عیشال جہانگیر چپ کرکے کپڑے دے دے لیکن یہ آگ لگی تو عیشال جہانگیر کی فطرت میں مزید بغاوت جنم لے گی۔ تب ہی فائزہ سے صلاح مشورہ کرکے انہوں نے محبت سے اسے تنبیہہ کی۔ انہیں خبر تھی جو ان بچوں سے زور زبردستی کرنا حویلی کا شیوہ ہے لیکن یہ ہی چیز بغاوت کو جنم دیتی ہے۔ اپنوں کو دشمن بناتی ہے‘ تب ہی وہ عیشال جہانگیر سے پیار سے مخاطب تھیں۔ انہوں نے چودھری حشمت کا پیغام بھی سنادیا تھا‘ کپڑوں کو آگ لگانے سے متعلق انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ کپڑے اب استعمال نا ہوں یا انہیں دے دے تاکہ وہ اپنے پاس رکھ لیں لیکن عیشال نے یقین دلایا تھا کہ اب وہ اس لباس میں کسی کو نظر نہیں آئے گی۔ فریال اسے محبت سے پچکارتی چلی گئیں۔ اس نے بھی سر جھٹکا تھا۔ کرنے کو تو وہ اب بھی اپنی سی کرنے کا اعلان کردیتی لیکن اس کی وجہ سے جس طرح تینوں کو بھی کٹہیرے میں لایا گیا تھا یہ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ اپنی ذات سے ان لوگوں کو باتیں نہیں سنوانا چاہتی تھی۔
سمہان آفندی کو فصل کی کٹائی کے لیے نکلنا تھا‘ چودھری حشمت نے اسے بھی جانے کی اجازت دے دی تھی۔ کمرے میں اب صرف زمرد بیگم باقی رہ گئی تھیں۔ جنہیں چودھری حشمت نے ضروری بات کا کہہ کر روک رکھا تھا۔ سمہان آفندی جانتا تھا‘ بات یقینا عیشال جہانگیر کے متعلق ہی ہونی تھی تب ہی وہ چاہتا تھا سن کر اٹھے لیکن چودھری حشمت کے حکم پہ وہ ان کے کمرے سے نکل تو آیا تھا‘ لیکن اس کا دماغ ابھی بھی اس بند کمرے کے پیچھے ہی رہ گیا تھا۔ جو بات ہونی تھی وہ جلد یا بدیر سامنے تو آہی جاتی‘ فکر کرنے سے وقت کون سا جلدی کٹ جاتا۔ سر جھٹک کر وہ کھیتوں کے لیے نکلنے والا تھا تب ہی عیشال جہانگیر بے فکر سی آتی نظر آئی… سمہان آفندی اسے آتا دیکھ کر رک گیا۔
’’مل گیا سکون؟ تمہارے بھوسا بھرے دماغ میں میری بات نہیں سماتی؟ جب کہا تھا کہ داجان کے سامنے کچھ نا کہنا‘ معافی مانگ لینا‘ اس کے باوجود…‘‘ عیشال جہانگیر جو اسے ان دیکھا کرکے آگے بڑھنے لگی تھی اس کا گریز دیکھ کر سمہان آفندی دو قدم آگے بڑھ کر اس کے راستے میں آکھڑا ہوا… اس کے تیور اور غصے کا عیشال جہانگیر پہ چنداں اثر ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔
’’کون سا گناہ عظیم سرزد ہوگیا مجھ سے‘ جو میں معافیاں مانگتی پھروں اس حویلی کے مکینوں سے…؟ گناہ تو حویلی والوں سے ہوگیا ہے‘ جو مجھے میری ماں کے ساتھ ہی دفن نہیں کیا انہوں نے‘ جب میری ماں چین سے نہیں جی سکی تو میں کہاں چین سے جیوں گی؟‘‘ وہ حد درجہ استہزائیہ انداز میں اس سے گویا ہوئی۔
’’یعنی تم یہ ساری حرکتیں جان بوجھ کر ہم سب کو پریشان کرنے کے لیے کرتی ہو؟‘‘ سمہان آفندی آج اس راز سے پردہ اٹھا دینا ہی چاہتا تھا۔
’’کہہ سکتے ہو۔‘‘ وہ کمال لاپروائی سے بولی۔ کالج یونیفارم تبدیل کرکے اس نے آرام دہ شلوار سوٹ پہن لیا تھا… نارنجی رنگ اس کے شعلہ جوالہ چہرے سے مسابقت رکھ رہا تھا۔ سمہان آفندی نے لب بھینچ لیے۔ وہ سنجیدگی سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ کم عمر ہونے کے ساتھ وہ اسے بے حد جذباتی اور کسی قدر بے و قوف بھی لگ رہی تھی۔
’’صائقہ تائی کے ساتھ جتنی زیادتی ہوئی اسے ہم سب دل سے مانتے ہیں لیکن کسی کو سزا‘ جزا دینا ہمارا کام نہیں…‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح سمجھانا چاہا۔
’’جو کچھ میری ماں کے ساتھ ہوا اگر یہ سب فریال چاچی کے ساتھ ہوتا تب میں دیکھتی تم کیسے مجھے سزا اور جزا کی کہانی سناتے۔‘‘ وہ درشتی سے اس کی بات کاٹ کر جتا گئی۔ سمہان آفندی کے لب ایک ثانیے کو بھینچ گئے۔
’’تم سے بحث کرنے کا ٹائم نہیں ہے میرے پاس‘ میں بس یہ چاہتا ہوں تم اپنے لیے مشکلات کھڑی مت کرو۔‘‘ اسے سمجھ نہیں آتی تھی وہ اسے کیسے سمجھائے ساری دنیا پہ اس کی علمیت وذہانت کی دھاک جمی ہوئی تھی‘ ایک وہی اس کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتی تھی۔
’’پہلے کون سی آسانیاں ہیں میرے لیے حویلی میں؟‘‘ اس نے نخوت سے سر جھٹکا۔
’’خیر میں کچن کی طرف جارہی ہوں‘ مجھے بھوک محسوس ہورہی ہے‘ ٹینشن تھی جانے داجان کیا کہیں‘ اس چکر میں ٹھیک سے ناشتا بھی نہیں کیا… اب جب کہ فیصلہ محفوظ ہے اور آنے میں چند دن لگیں گے تو تب تک کیوں نا میں کھاتی پیتی رہوں۔ تم بھی اپنا ٹائم ضائع نہ کرو… جس بحث کا کوئی حاصل وصول نہیں اس کا ذکر کرکے کیا فائدہ… جائو کھیتوں میں جاکے اپنا کام کرو… تمہیں میرے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ اپنی بات کہتے آگے بڑھ گئی۔ سمہان آفندی کئی ثانیے لب بھینچے کھڑا رہا‘ اسے اندازہ نہیں تھا کہ فائدہ تو درکنار وہ اس انداز کے باعث مزید کتنا نقصان اٹھا سکتی ہے۔
چودھری حشمت کا لہجہ اسے آج بہت عجیب محسوس ہوا تھا جیسے وہ کوئی فیصلہ کرچکے تھے… وہ ان کے قریب رہتا تھا ان کے تمام انداز اسے ازبر تھے۔ کچھ معاملے کو بھانپ لینے کی اس کی حس بھی خاصی تیز تھی تب ہی وہ متفکر تھا اور جس کا مسئلہ تھا وہ بھوک مٹانے کچن کو چل دی تھی۔ وہ بھی سر جھٹک کر حویلی کے خارجی راستے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
{…(٭)…}
انہوں نے جس اہم بندے کو دن دہاڑے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اریسٹ کیا تھا اس نے تھوڑی سی مرمت کے بعد ہی منہ کھول کر بندے کا نام اور ٹھکانا بتادیا تھا۔ چودھری جہانگیر کو چند گھنٹے لگے تھے اس اہم سیاسی رکن کو اریسٹ کرنے کا آرڈر لینے میں… ان کا کیس اس قدر مضبوط تھا کہ اریسٹ وارنٹ کے لیے انہیں تگ ودو نہیں کرنی پڑی۔ اہم سیاسی رکن کے اریسٹ ہونے پہ راتوں رات کھلبلی مچ گئی تھی۔ فون کی گھنٹیاں جو بجنا شروع ہوئیں تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں… لیکن سب کو خبر تھی‘ کیس کس کے ہاتھ میں تھا… مخالف پارٹی چودھری جہانگیر کی مدح سرائی میں لگی ہوئی تھی‘ تو متاثرہ پارٹی ان کے خلاف بیان بازی کررہی تھی… ان کو معطل کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی۔ وہ آرام دہ انداز میں کرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بے فکری سے سگریٹ کے کش پہ کش لگا رہے تھے۔ اسی لمحے اس کے نمبر پہ شاہ زرشمعون کی کال آئی۔
’’کیسے ہو برخوردار؟‘‘ انہوں نے کال ریسیو کرکے حال پوچھا۔
’’السلام علیکم! الحمدللہ آپ کی دعا ہے چچا جان۔‘‘ وہ آرام کرکے اٹھ چکا تھا۔ یوں بھی اجنبی ماحول میں اسے نیند نہیں آتی تھی اور خصوصاً دن میں تو بالکل نہیں‘ گو کہ کمرے میں پردے برابر کرنے کے بعد رات کا گماں ہورہا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی آنکھ نہیں لگی تھی‘ ایک لمحے کے لیے بھی۔ چودھری بخت کے اصرار پہ وہ رک تو گیا تھا مگر وقت گزر نہیں رہا تھا۔
’’بخت بھائی کا فون آیا تھا بتارہے تھے تم آئے ہوئے ہو‘ میں بھی گھر جارہا ہوں‘ آجائو ساتھ لنچ کرتے ہیں۔‘‘ چودھری جہانگیر جیسے اکھڑ‘ سرد مزاج جب اپنوں سے بات کرتے تھے تو ان کی ٹون ہی الگ ہوتی تھی۔ ان اپنوں میں بھی چند ایک کو ہی وہ قابل اعتنا گردانتے تھے‘ ورنہ اکثریت کو ان کی سرد مہری اور لاتعلقی کا رونا تھا۔
’’چچی جان نے یہاں لنچ پہ خاصا اہتمام کروالیا ہے‘ اس لیے شام کی چائے آپ کی طرف پیوئوں گا‘ آپ کے ساتھ… آپ کے پاس وقت تو ہے ناں؟ کیونکہ ابھی نیوز چینل اور سوشل میڈیا پہ بس آپ کے ہی چرچے ہورہے ہیں۔ پرائوڈ آف یو چچا جان‘ آپ جس طرح نڈر ہوکر کام کرتے ہیں مجھے بہت اٹریکٹ کرتا ہے آپ کا یہ روپ۔‘‘ شاہ زرشمعون دل سے سراہ رہا تھا‘ کچھ باتوں سے اختلاف کے باوجود سچ تھا کہ تمام لوگ چودھری جہانگیر کے مداح تھے۔
’’نڈر تو تم بھی بہت ہو۔‘‘ چودھری جہانگیر مسکراتے ہوئے گویا ہوئے۔ شاہ زرشمعون بھی ہنس دیا۔
’’جن کے بڑے آپ جیسے نڈر لوگ ہوں ان چھوٹوں کو تو عادتاً تقلید کرنا ہوتی ہے۔‘‘ وہ درپردہ ان کی بڑائی جتا گیا تو وہ اس کے انداز پہ مسکرا دیے۔
’’شام کو ملتے ہیں پھر ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔‘‘ چودھری جہانگیر نے کہا تو شاہ زرشمعون نے بھی الوداعی کلمات کہہ کر کال بند کردی۔
کانسٹیبل ٹفن کا ڈبا لیے منتظر کھڑا تھا کہ کب چودھری جہانگیر فری ہوں اور وہ مدعا بیان کرے۔
’’سر یہ قدیر رانا کے لیے ان کے گھر سے کھانا آیا ہے۔‘‘
’’واپس کردو۔‘‘ ان کی فری ہوتے ہی کانسٹیبل نے ٹفن کی طرف اشارہ کرکے بتایا تھا۔ انہوں نے چھوٹتے ہی دو ٹوک انداز میں جو کہا اسے سن کر کانسٹیبل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’سر…‘‘ وہ منمنایا۔ اتنی اہم شخصیت کے لیے آیا کھانا واپس کرنا اس کے لیے اچھنبے کی بات تھی۔
’’وہ سرکاری مہمان ہے اور اسے سرکاری کھانا ہی ملے گا اس کے لیے کوئی شاہی دستر خوان نہیں سجے گا۔‘‘ چودھری جہانگیر نے جتاتے ہوئے کہا تو کانسٹیبل مستعد ہوگیا۔
’’جی سر۔‘‘
’’میں نکل رہا ہوں‘ کوئی بھی بات ہو تو مجھے اطلاع دے دینا۔‘‘ وہ اپنے ماتحت کو پیغام دیتے باہر نکل گئے۔ ان کے نکلتے ہی سب نے سکون کی سانس لی۔
{…(٭)…}
’’ہم عیشال کے رنگ ڈھنگ سے پریشان ہوگئے ہیں زمرد بیگم‘ ہمیں اس کے انداز میں بغاوت کی بو آرہی ہے۔ ہر وہ کام کرنے لگی ہے جس کی حویلی میں اجازت نہیں۔‘‘ چودھری حشمت دونوں ہاتھ پیچھے کمر پہ باندھے ٹہل رہے تھے۔ زمرد بیگم کافی دیر سے ان کے اس انداز کو دیکھ رہی تھیں۔
برسوں کا ساتھ تھا‘ وہ انہیں بہت اچھی طرح جانتی تھیں‘ وہ جب کبھی کسی پریشانی کا شکار ہوتے تو اسی طرح گھنٹوں کمرے میں ٹہلتے اور جب کسی نتیجے پہ پہنچ جاتے تو ٹہلنا بند کردیتے تھے‘ چہرے پہ سنجیدگی کی لکیریں اس بات کی غمازی تھیں کہ وہ کسی گہری اور فیصلہ کن سوچ میں غرق ہیں۔ زمرد بیگم نے پریشانی کے متعلق استفسار کیا اور وہ بے ساختہ بول اٹھیں۔
’’بچے جب محرومیوں کی کوکھ میں پلتے ہیں تو ان کی شخصیت کا شیرازہ اسی طرح بکھرا ہوا ہوتا ہے‘ چودہری جی عیشال چھوٹی عمر سے ہی سب دیکھتی آئی ہے ہم سب نے بھی تو اسے کوئی کہانی نہیں سنائی‘ اس نے جتنا تلخ ماحول دیکھا وہی تلخی اس کے اندر رچ بس گئی ہے۔ دیکھا جائے تو اس کے مزاج میں ضد اور بچپنا بھرا ہے‘ بس جذباتی اور غصیلی ہے‘ میں سمجھائوں گی اسے‘ آپ فکر نا کریں۔‘‘ زمرد بیگم نے عیشال کو گودوں میں کھلایا تھا‘ وہ اس کے مزاج سے واقف تھیں۔ عیشال جہانگیر کی مشکل بتاکر انہیں یقین بھی دلایا کہ وہ اس کی سرکشی کو سنبھال لیں گی۔
’’ضد اور من مانی وہ پہلے بھی کرتی رہی ہے زمرد بیگم اور ہم بھی نرمی برتتے رہے کہ بچی ہے لیکن آج وہ جس سرکشی سے جہانگیر اور اس کا خون ہونے کا باور کروا رہی تھی‘ وہ فراموش نہیں کرسکتے ہم… اس کے اندر کوئی لاوا پک رہا ہے‘ بہتر تو یہ ہی ہے کہ یہ لاوا تیار نہ ہونے دیا جائے۔‘‘ چودھری حشمت کی عمیق نظریں بڑی باریکی سے ایک ایک رموز کا جائزہ لے رہی تھیں۔ وہ زیرک نگاہ رکھتے تھے۔ یہ تو جیتی جاگتی گستاخ عیشال جہانگیر کا معاملہ تھا جو انہیں جتا گئی تھی کہ اس کی رگوں میں کس کا خون ہے… وہ چین سے بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی۔
’’عیشال کا مزاج بدلنے کے لیے پھر کیا حل ہے آپ کے پاس؟‘‘ زمرد بیگم نے جاننا چاہا۔
’’جتنا ہم اسے جانتے ہیں‘ وہ باتوں سے تو کبھی نہیں مانے گی اور جس دن اس کی بغاوت اور سرکشی بڑھی اس دن حویلی کی بنیادیں ہل جائیں گی اور اس بار ہم ایسا کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے… اس سے پہلے کہ حویلی کی بنیاد ایک بار پھر ہلے ہم جلد از جلد عیشال کی شادی کردیں گے۔‘‘ چودھری حشمت آنے والے دنوں کو سوچ کر متفکر ہوئے تو انہوں نے فوراً حل پیش کردیا۔
’’عیشال کی شادی…! ابھی تو بی اے میں داخلہ لیا ہے اس نے… اور ہے بھی بہت چھوٹی۔‘‘ زمرد بیگم ان کا فیصلہ سن کر بے ساختہ بول اٹھیں۔ یہ اجازت بھی انہیں تنہائی میں حاصل تھی ورنہ سب کے سامنے انہیں بھی چودھری حشمت کے ہر فیصلے پہ سر جھکانے کی روز اول سے عادت تھی‘ جب کہ تنہائی میں وہ حویلی کے سرپرست سے زیادہ شوہر بن کر زمرد بیگم سے صلاح ومشورہ کرتے تھے۔
’’انیس سال کی ہوگئی ہے عیشال اور آپ اسے پھر بھی چھوٹی عمر کہہ رہی ہیں… ذرا اپنا وقت بھی یاد کریں‘ گیار سال کی عمر میں آپ ہمارے نکاح میں آگئی تھیں اور تیرہ سال کی عمر میں فیروز آپ کی گود میں کھیل رہا تھا۔‘‘ چودھری حشمت ٹہلنا ترک کرکے زمرد بیگم کو ان کا وقت یاد دلا رہے تھے۔ زمرد بیگم شرما سی گئیں۔
’’وہ زمانہ اور تھا تب تو صرف شادی اور ہانڈی روٹی کی فکر ستاتی تھی جبکہ اب بچے اور بچیاں کریئر بنانا چاہتے ہیں۔ پڑھ لکھ کر ڈگری حاصل کرکے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ زمرد بیگم نے دونوں ادوار کا موازنہ پیش کیا تھا۔
’’حویلی کی عورتوں کے لیے زمانہ ایک جیسا ہی ہے زمرد بیگم‘ ہاں آج اتنا فرق ہے کہ ہم نے بچیوں کی شادی جلدی نہیں کی‘ لیکن اب اس کا بھی آغاز ہوا جاتا ہے۔ سب سے پہلے عیشال کی شادی کرنے کا سوچا ہے ہم نے۔‘‘ چودھری حشمت اپنے فیصلے پہ مہر ثبت کرچکے تھے۔
’’حویلی میں عیشال سے بڑے بچے بھی ہیں… لڑکیوں میں ندا سب سے بڑی ہے… سب سے پہلے اس کی ہونی چاہیے۔‘‘ زمرد بیگم نے چودھری فیروز اور فائزہ کی بیٹی ندا کا نام لیا… جو حویلی کی لڑکیوں میں سب سے بڑی تھی‘ جب کہ لڑکوں میں شاہ زرشمعون کا نمبر سرفہرست تھا۔ ندا‘ شاہ زرشمعون سے تین سال چھوٹی تھی‘ بنیادی طور پر لڑکے اور لڑکیوں میں بڑے بچے چودھری فیروز اور فائزہ کے ہی تھے۔ شاہ زرشمعون کو نئی نسل میں پہلوٹی کی اولاد کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔
’’آپ کیا سوچ رہی ہیں اس بات کا ہمیں احساس ہے… ہم جلد ہی شہر جائیں گے… بچوں کے رشتے کے لیے ہم نے کچھ لوگوں سے ذکر کر رکھا ہے… انہوں نے بلاوا بھیجا ہے‘ لیکن ہم پہلے عیشال کی شادی کریں گے۔‘‘ زمرد بیگم کو ایک نظر دیکھتے چودھری حشمت نے انہیں اپنے لائحہ عمل سے آگاہ کیا اور زمرد بیگم انہیں حیرت سے دیکھتی رہیں۔
’’عیشال کے لیے کوئی لڑکا ہے آپ کی نظر میں؟‘‘ زمرد بیگم نے انہیں اتنا مطمئن دیکھا تو سوال کیا۔
’’ہاں… نظر میں کیا ہے‘ سمجھو بات طے کر رکھی ہے ہم نے۔‘‘ چودھری حشمت نے جیسے بم پھوڑا۔
’’ہم پہلے جہانگیر سے بات کرلیں پھر آپ سب کے سامنے ایک ساتھ اعلان کریں گے…‘‘ چودھری حشمت مطمئن تھے۔ زمرد بیگم نے لمبی سانس خارج کی‘ انہیں اندازہ تھا اب یہ پنڈورا باکس اسی وقت کھلے گا جب چودھری حشمت چاہیں گے۔ کسی بھی قسم کا اصرار بے سود ہوتا‘ وہ ایک بار فیصلہ کرتے تھے۔
’’لیکن یہ بات ابھی اپنے تک ہی رکھیے گا‘ کسی سے ذکر نا کیجیے گا… یہ ہماری آپس کی بات ہے۔‘‘
’’برسوں بیت گئے ہیں آپ کی ہم سفری میں چودھری جی… آپ کو آج بھی مجھے ایک ایک بات کی یاددہانی کروانے کی ضرورت ہے۔‘‘ زمرد بیگم ان کی تنبیہہ پہ جتا گئیں تو چودھری حشمت شریک سفر کے گلہ کرنے پہ ذرا سا مسکرائے۔
{…(٭)…}
ماورا سے کل تک کا انتظار نہیں ہورہا تھا‘ تب ہی ٹیوشن پڑھنے کے لیے آئے بچے کو سو کا نوٹ پکڑا کر اس نے موبائل کارڈ منگوانے بھیج دیا تھا۔ ماورا نے انوشا سے سیل فون لے کر جلدی سے ریچارج کرکے سستا سا نیٹ پیکج کیا۔ انوشا بچوں سے فری ہوکر ماورا یحییٰ کے پاس چلی آئی۔
’’زیرو زیرو سیون‘ کوئی کامیابی ملی؟‘‘ انوشا نے دبی زبان میں چھیڑا۔ منزہ اپنے کمرے میںآرام کررہی تھیں اور وہ دونوں آرام سے اپنا کام کررہی تھیں۔
’’امیزنگ یار… کیا بندہ ہے‘ یہ چودھری جہانگیر نام ڈالنے کی دیر تھی گوگل پہ… جانے کتنے کارنامے سامنے آگئے ان کے۔‘‘ ماورا کی آواز میں حیرانی کے ساتھ جوش کا رنگ بھی نمایاں نظر آرہا تھا۔
’’یہاں تو ہر طرف محترم کا طوطی بول رہا ہے‘ جانے ہم کیوں اب تک ان سے انجان تھے… ملک اور شہر میں کئی کارنامے انجام دیے ہیں محترم نے اور اب بھی قدیر رانا کو اریسٹ کرکے کسٹڈی میں رکھا ہوا ہے۔‘‘ ماورا یحییٰ کی نظریں اسکرین پہ تھیں اور وہ انوشا کو تفصیلات بتارہی تھی۔ انوشا بھی مارے اشتیاق کے قریب کھسک آئی اور اب دونوں چھوٹی سی اسکرین پہ جھکی ہوئی تھیں۔
’’اف… اس تصویر میں دیکھو… پورے بابا لگ رہے ہیں۔‘‘ ماورا یحییٰ نے سامنے نظر آتی ایک تصویر اسے دکھائی۔
’’ہاں‘ واقعی لیکن ہمارے بابا تو گارمنٹ فیکٹری میں سپروائزر تھے اور یہ ٹھہرے گورنمنٹ کے بندے۔‘‘ انوشا نے افسوس کا اظہار کیا‘ ماورا کا انگوٹھا اسکرین کو آگے پیچھے کرتے ایک لحظے کو ٹھٹکا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ انوشا کو اس کے غور سے تصویر دیکھنے پہ حیرانی ہوئی۔
’’میں نے اس بندے کو کہیں دیکھا ہے‘ لیکن یاد نہیں آرہا‘ کہاں؟‘‘ ماورا یحییٰ کی پُرسوچ آواز ابھری۔
چودھری جہانگیر کی مختلف جگہوں کی تصاویر موجود تھیں کسی سیمینار کی‘ سیکوریٹی انتظامات کی‘ کسی تقریب کی‘ تصاویر میں مختلف لوگ تھے لیکن ایک تصویر میں کسی نے چودھری جہانگیر کو گلے لگا رکھا تھا۔ اس شخص کا سائیڈ پوز دیکھ کر ماورا یحییٰ ٹھٹکی تھی۔ دونوں جس محبت سے ایک دوسرے کو گلے لگائے کھڑے تھے وہ پروفیشنل نہیں پرسنل ریلیشن ظاہر کررہا تھا‘ ایسے میں اس شخص کو دیکھ کر ماورا کو اپنا چونکنا بھی بے جا نہیں لگا۔
’’پہلے ہم بابا کے ہم شکل کو ڈھونڈ رہے تھے اب تم ایک اور کہانی لے آئو۔‘‘ انوشا جیسے جھلائی۔
’’نہیں یار مجھے پکا یقین ہے میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔‘‘ ماورا یحییٰ بضد ہوئی۔
’’دیکھا ہوگا… آجائے گا یاد بھی۔‘‘ انوشا نے جیسے تسلی دی۔
’’محترم چودھری صاحب پنجاب سے ہیں لیکن عرصہ دراز سے کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی کا ذکر کررہے ہیں۔‘‘ سرچ کرتے ہوئے چودھری جہانگیر کے انٹرویو کا لنک بھی سامنے آگیا تھا‘ جس کے اہم پوائنٹس ماورا یحییٰ انوشا کو سنا رہی تھی۔
’’مٹی ڈالو اس بندے پہ… ہماری بلا سے تیر مارتا پھرے۔‘‘ انوشا بے زار ہوئی جس دیس نہیں جانا اس کے کوس کیا گننا کے مترادف جب وہ ان کا کچھ لگتا ہی نہیں تھا تو اس کے بارے میں سرچ کرکے کیا فائدہ ہوتا‘ تب ہی وہ بے زاری کا اظہار کر گئی… لیکن ماورا یحییٰ دلچسپی سے لگی ہوئی تھی۔
’’ارے… تمہارا تو انٹری ٹیسٹ کا رزلٹ بھی آنے والا تھا… سرچ کرکے دیکھو… کیا معلوم اپ لوڈ ہوچکا ہو رزلٹ۔‘‘ انوشا کو بے ساختہ یاد آیا تو وہ پُرجوش ہوئی۔
’’ارے ہاں۔‘‘ ماورا کو بھی جیسے یاد آگیا… وہ چودھری جہانگیر اور ان کے کارناموں کو ایک لمحے کے لیے بھول بھال کر رزلٹ سرچ کرنے لگی… یوں تو اس کا جاکر دیکھنے کا موڈ تھا دیکھے تو ٹاپ آف دا لسٹ کون تھا لیکن جب آن لائن کی سہولت تھی تو جانے کی کیا ضرورت۔
’’پچانوے فیصد او وائو…!‘‘ مارکس دیکھ کر اسے خود یقین نہیں آرہا تھا‘ انوشا ایک بار پھر قریب کھسک آئی‘ جو بیزاری سے دور چلی گئی تھی۔
’’لو جی‘ میرا خیال ہے تمہاری ٹاپ آف دی لسٹ والی دعا پوری ہوگئی۔‘‘ انوشا نے سنتے ہوئے کہا۔
’’شش… امی نے سن لیا تو…؟ میں تو اب بھول بھی گئی… چھوڑو۔‘‘ ماورا نے سر جھٹکا۔
’’کچھ بھی کہو… لیکن میرا نہیں خیال کہ اس سے زیادہ ہائی مارکس کسی نے لیے ہوں گے۔‘‘ انوشا پُرامید تھی۔
ماورا یحییٰ کے دل کو بھی یہ بے چینی لگ گئی تھی کہ ٹاپ پہ کون ہے‘ لیکن وہ اس خیال کو خود پہ حاوی نہیں ہونے دے رہی تھی۔ یہ تو یونیورسٹی جاکر ہی خبر ہوتی کہ کون فرسٹ تھا اور کون سیکنڈ۔
{…(٭)…}
ایشان جاہ کے محل نما بنگلے میں انشراح اور باقی کے تینوں دوست بھی براجمان تھے۔ وہ سب بھی انٹری ٹیسٹ کا رزلٹ چیک کررہے تھے۔ سب کے اچھے نمبر آئے تھے مگر ایشان جاہ کا منہ لٹک گیا تھا۔
’’ارے کیا ہوا‘ کیوں اتنا فضول سا منہ بنا رکھا ہے۔ نوے فیصد مارکس لیے ہیں تو نے‘ عیش کر۔‘‘ سعید نے اس کے کندھے پہ ہاتھ مارا… وہ سب بے تکلفی سے ایشان جاہ کے روم میں براجمان تھے۔ سہیل ریوالنگ چیئر پہ بیٹھا جھول رہا تھا۔ سعید اور ایشان جاہ بیڈ پہ بے تکلفی سے براجمان تھے تو انشراح ذرا نزاکت سے ٹکی ہوئی تھی۔
’’نوے فیصد کیوں‘ سو فیصد کیوں نہیں۔‘‘ ایشان جاہ نے ضدی لہجے میں کہا۔
’’ٹیسٹ چیک کرنے والے تیرے‘ میرے ابا ہوتے تو ممکن تھا۔‘‘ سہیل نے چڑایا۔
’’بس کرو ایشان… ٹاپ آف دی لسٹ تم ہی ہوگے‘ ہم سب کو ہی دیکھ لو پچاس فیصد سے ساٹھ فیصد پہ آئے۔ نوے فیصد تو پھر بھی بہت زیادہ ہے… ڈونٹ وری کوئی اتنا جینئس نہیں ہوگا بیس ہزار اسٹوڈنٹس میں۔‘‘ انشراح نے اس کا غم غلط کرنا چاہا۔
’’اور جو کوئی ہوا تو؟‘‘ ایشان جاہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’لڑکا ہو تو جان سے مار دینا… اور لڑکی ہوئی تو آنکھ۔‘‘ سعید ہنسا۔ باقی سب نے بھی قہقہہ لگایا۔
’’شٹ اپ… جب تک لسٹ نہیں دیکھ لوں‘ چین نہیں آئے گا۔‘‘ ایشان جاہ نے انہیں ڈپٹ کر جیسے خود کلامی کی۔
’’افسردہ ہونے کی بجائے خوشی منائو کہ ہم سب ساتھ ہیں اگر جو کوئی ایک بھی لسٹ سے آئوٹ ہوتا تو افسوس ہوتا۔‘‘ عزیز نے اہم نکتے کی طرف دھیان دلایا۔
’’ہاں واقعی اگر میں رہ جاتی تو اکیلی کیا کرتی اگر ٹیسٹ کلیئر نا ہوتا۔‘‘ انشراح کو بھی جیسے ممکنہ صدمہ نا ملنے کی خوشی ہوئی‘ جس پہ وہ خوش تھی کہ ایک بار پھر وہ سب ساتھ ہوں گے۔
’’اوکے گائز… بریکنگ نیوز سن لو… جس منگنی کے لیے میں نے تم سب کو انوائٹ کیا تھا وہ کینسل ہوگئی ہے… اگلی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی تم سب کو مدعو کرلوں گا۔‘‘ سعید نے ہاتھ اٹھا کر ایک سانس میں کہا۔ سب اس کے شستہ لہجے پہ ہائے وائے کرتے منگنی کینسل ہونے کی وجہ ہی فراموش کر بیٹھے۔ دیر تک ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے۔
سب اپنے اپنے گھر جانے کے لیے اٹھے تو ایشان جاہ انہیں چھوڑنے پورچ تک آیا۔ انشراح ابھی رکنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ وہ ایشان کے ساتھ کھڑی ان تینوں کو الودع کررہی تھی‘ ایشان جاہ پہلے ہی ملازم کو کمرے کی صفائی کا کہتا ہوا آیا تھا۔ ان سب کی گاڑیاں نکلی ہی تھیں اور ابھی چوکیدار گیٹ بند کرنے کی سوچ ہی رہا تھا جب تیز ہارن کے ساتھ شاہ زرشمعون کی لینڈ کروزر اندر داخل ہوئی۔
ایشان جاہ جو اندر پلٹنے لگا تھا تیز ہارن پہ اس کی نظریں بے ساختہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے شاہ زرشمعون پہ پڑی‘ انشراح بھی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ شاہ زرشمعون گاڑی پارک کرکے سیدھا ایشان جاہ کی طرف آیا جو اندر داخل ہوتے وہ بھی اسے دیکھ چکا تھا۔
’’ہیلو برادر‘ سرپرائز دیا آپ نے تو…؟‘‘ ایشان جاہ خوش دلی سے دو قدم آگے بڑھا۔ شاہ زرشمعون کو اچانک دیکھ کر اسے حیرانی ہورہی تھی۔
نئی نسل خصوصاً ان لڑکوں کی آپس میں بڑی اچھی بنتی تھی‘ سب ہی اپنی اپنی جگہ سوا سیر تھے‘ مگر جب بھی ایک دوسرے سے ملتے تھے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے بڑا ہی تسلیم کرتے تھے۔
’’اچھا نہیں لگا سرپرائز؟‘‘ شاہ زرشمعون دل فریبی سے مسکراتے ایشان جاہ کے گلے لگ گیا۔
’’بہت اچھا لگا… اتنے دنوں بعد مل رہے ہیں ہم۔‘‘ اس نے گرم جوشی سے بھینچ لیا۔
’’میں تو پھر بھی آگیا تمہارے شہر‘ تم بھی گائوں آجایا کرو میری محبت میں۔‘‘ الگ ہوتے شاہ زرشمعون نے خوش دلی سے کہا تو وہ مسکرادیا۔
’’ان شاء اللہ جلدی چکر لگائوں گا اور آپ کے ساتھ رائیڈنگ بھی کروں گا۔ مجھے آپ کے سلطان کی نسل کے گھوڑے بہت پسند ہیں سمہان کیسا ہے؟ اسے بھی ساتھ لے آتے۔‘‘ ایشان جاہ اور سمہان آفندی تقریباً ہم عمر ہی تھے اور ایشان جاہ اور شاہ زرشمعون کی عمر میں بھی اتنا ہی فرق تھا جتنا سمہان آفندی اور شمعون میں… تینوں جب کبھی اکھٹے ہوتے تھے تو خوب رنگ جمتا تھا۔ حویلی سے دور اکثر ان کی محفل ڈیرے پہ ہی جمتی تھی۔
’’بس اچانک آنا ہوا چچا بخت کی طرف… اس لیے سمہان کو کھیتوں پہ لگا کر آیا ہوں۔‘‘ شاہ زرشمعون‘ سمعہان آفندی کو ساتھ نا لانے کی وجہ گوش گزار کر گیا۔
’’کب تک ہیں کراچی میں؟ مہمان نوازی کا موقع دیں۔‘‘ ایشان جاہ واقف تھا‘ وہ کم ہی کراچی کا رخ کرتا تھا۔
’’صبح ہی نکل جائوں گا‘ اسی لیے تو چچا جان اور تم سب سے ملنے چلا آیا۔‘‘ بات کرتے ہوئے شاہ زرشمعون کی نظریں چند قدم پیچھے کھڑی انشراح پہ پڑی اور منہ پھیرنے کے ساتھ ہی اس نے تھوڑا سا رخ بھی پھیر لیا تھا۔ وجہ اس کا پہناوا تھا۔ اس وقت وہ ٹائٹ ٹی شرٹ جینز میں دوپٹے سے بے نیاز بال بکھرائے کھڑی تھی۔
بحیثیت ایشان جاہ کی خالہ زاد‘ وہ انشراح سے اچھی طرح واقف تھا‘ مگر اس وقت اسے دیکھ کر اس کے ماتھے پہ بل پڑگئے تھے۔ ایشان جاہ تو اس ماحول اور مغربی طرز کے پہناوے کا عادی تھا لیکن اسے حویلی کے لوگوں کے بارے میں بھی خبر تھی تب ہی اس نے شاہ زرشمعون کی نظریں اور ماتھے کے بل دونوں کا سراغ جلدی لگا لیا تھا۔
’’انشراح جاکر مام سے کہو شاہ آئے ہیں۔‘‘ ایشان جاہ نے بہانے سے انشراح کو ہٹایا تو وہ چلی گئی۔
شاہ زرشمعون کو کوفت ہوئی‘ یہ چودھری جہانگیر کا گھر تھا‘ وہ کن لوگوں سے ملتے جلتے ہیں‘ ان کے گھر کن لوگوں کا آنا جانا ہے‘ یہ اس کے علم میں نہیں تھا‘ نا وہ چھوٹا ہونے کے ناتے ان سے کوئی سوال کرکے ان پہ پابندی عائد کرسکتا تھا۔ چودھری جہانگیر کا ہمیشہ سے الگ مزاج رہا تھا‘ وہ اپنے انداز سے زندگی گزارنے کے عادی تھے لیکن اگر ابھی اس کی بجائے چودھری حشمت نے انشراح کو یوں اس حلیے میں جوان پوتے کے ساتھ دیکھا ہوتا تو چودھری جہانگیر لاکھ عزیز ہونے کے باوجود کٹھہرے میں ضرور جاکھڑے ہوتے… وہ سر جھٹک کے رہ گیا۔
’’آئیں اندر چلتے ہیں… ڈیڈ کو خبر ہے آپ آرہے ہیں؟‘‘
’’ہاں‘ میں نے چچا جان کو اطلاع دی تھی۔‘‘ وہ لائونج میں براجمان ہوا تو صہبا بھی چلی آئیں اور ان کے پیچھے آتی انشراح کو دیکھ کر اسے خود پہ ضبط کرنے میں مشکل ہونے لگی۔
صہبا چالیس سے لگ بھگ ایک فیشن ایبل خاتون تھیں‘ اس وقت بھی ریڈ اور اورنج کلر کا جوڑا پہنے نک سک سے سرخی پائوڈر لگائے بالوں کو آئرن کرکے اسٹریٹ کیے اس سے بظاہر لگاوٹ جتا رہی تھیں۔ حویلی کے ایک ایک بندے کے متعلق پوچھ رہی تھیں… مگر ان کے انداز میں مصنوعی پن اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ آج تک کوئی ان سے مکس اپ نہیں ہوسکا تھا۔ چودھری بخت کی بیوی دیا بھی سالوں سے کراچی میں مقیم تھیں‘ پیشے سے ڈاکٹر تھیں مگر ان کا پہننا اوڑھنا‘ رکھ رکھائو دیکھ کر یہی گماں ہوتا تھا کہ وہ حویلی کی چار دیواری میں ہی جی رہی ہیں‘ دونوں بیٹیوں شنائیہ اور ماہم کو بھی انہوں نے حویلی کے اصولوں پہ ہی پابند کر رکھا تھا‘ مگر مزاج کی نزاکت دور کرنے میں وہ ناکام رہی تھیں۔ خصوصاً شنائیہ کے حوالے سے… ماہم پھر بھی ہر ماحول میں ایڈجسٹ ہوجاتی تھی‘ مگر شنائیہ تو اڑیل گھوڑے کی طرح رسی تڑا لیتی تھی۔ وہ دونوں گھرانوں کا نا چاہتے ہوئے بھی موازنہ کر گیا تھا۔
’’آگئے برخوردار…‘‘ اسی گھڑی چودھری جہانگیر لائونج میں داخل ہوئے تھے۔ حسب عادت‘ انہوں نے وہائٹ شلوار سوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔ چہرے پہ نیند کا خمار واضح تھا۔
’السلام علیکم! آپ سے ملے بغیر کیسے جاسکتا تھا۔‘‘ شاہ زرشمعون احتراماً کھڑا ہوا تھا چودھری جہانگیر نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا۔ ساتھ ہی پہلو میں بیٹھ گئے۔ ایشان جاہ نے اٹھ کر انہیں جگہ دی تھی‘ وہ سامنے والے صوفے پہ منتقل ہوگیا تھا۔
’’میں لنچ کے بعد سوگیا تھا تمہاری چچی جان سے کہہ دیا تھا کہ شاہ آئے تو اٹھا دینا۔‘‘ چودھری جہانگیر اپنائیت سے گویا ہوئے۔
’’ناحق میری وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوئی۔‘‘ وہ معذرت خواہانہ لہجے میں گویا ہوا۔ انشراح‘ صہبا کے ساتھ لگ کر صوفے کے ہتھے پہ بے تکلفی سے براجمان تھی۔ وہ بڑی گہری نظروں سے شاہ زرشمعون کو جانچ رہی تھی۔ مل تو پہلے بھی کئی بار چکی تھی مگر آج تک ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
’’ارے نہیں… یوں بھی ڈیوٹی پہ واپس جانا ہے کال بھی بس آنے ہی والی ہوگی… تم سنائو‘ حویلی میں سب کیسے ہیں؟‘‘ انہوں نے استفسار کیا۔
’’جی سب ٹھیک ہیں‘ داجان آپ کو بہت یاد کررہے تھے۔ انہوں نے خصوصاً آپ کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ حویلی کا چکر لگالیں۔‘‘ شاہ زرشمعون نے چودھری حشمت کا پیغام پہنچایا۔ حویلی کے ذکر پہ چودھری جہانگیر کے چہرے پہ ایک ثانیے کو سناٹا چھا گیا تھا‘ مگر اگلے ہی لمحے انہوں نے خود کو کمپوز کرلیا۔
’’ان شاء اللہ جلد چکر لگائوں گا‘ صہبا‘ نرمین کہاں ہے اور جلدی چائے کا انتظام کرو‘ پتا بھی ہے شاہ ہوا کے گھوڑوں پہ سوار آتا ہے۔ زیادہ دیر رکے گا نہیں۔‘‘ چودھری جہانگیر بیٹی کے متعلق محبت سے پوچھتے صہبا کو ہدایت کرنے لگے۔
’’نرمین کوچنگ سینٹر گئی ہے واپسی میں ٹائم ہے ابھی‘ ایشان لے آئے گا یا ڈرائیور کو پک کرنے بھیجوں گی۔‘‘ انہوں نے لاپروائی سے کہا۔
’’ایشان تو کلب جائے گا‘ میں خود پک کرلوں گا اپنی بیٹی کو۔‘‘ چودھری جہانگیر محبت سے بولے تو شاہ زرشمعون سختی سے لب دانتوں تلے دبا گیا۔ اس کے تصور میں عیشال جہانگیر چلی آئی جو حویلی میں بولائی بولائی خود سے لڑتی بھڑتی پھرتی تھی۔ چودھری جہانگیر تو جیسے بھولے بیٹھے تھے کہ ایک بیٹی ان کی حویلی میں بھی ہے جس کے لیے ان کے اس عالیشان بنگلے میں جگہ تھی نا ان کے دل میں اس کے لیے ذرا سی بھی گنجائش۔
شاہ زرشمعون‘ چودھری حشمت کے حکم پہ یہاں آتو گیا تھا مگر جانے کیوں وہ یہاں سے اٹھنے کے بہانے سوچنے لگا۔ صبح سے چودھری بخت کے گھر قیام تھا‘ اتنی الجھن تو اسے وہاں بھی نہیں ہوئی تھی‘ اپنی برداشت کو آزماتے اس کے بے ریا اور کھرے مزاج پہ یہ چائے اسے بڑی بھاری پڑنے والی تھی۔
{…(٭)…}
ایک تھکا دینے والا دن کھیت میں گزار کر آیا تو حویلی میں داخل ہوتے اس نے اپنی تمام حسوں کو ایکٹو کرلیا‘ وہ جاننا چاہتا تھا آیا چودھری حشمت کیا فیصلہ سنایا؟ اتنا تو اسے فصلوں کی کٹائی نے نہیں تھکایا تھا چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ہوکر کام کرواتے تھکن نہیں ہوئی تھی‘ جتنا یہ سوال تھکا گیا تھا‘ بات اس کی ذات کے متعلق ہوتی تو وہ ایک لحظے کے لیے بھی نہیں سوچتا… لیکن ذات عیشال جہانگیر کی ملوث تھی جس کے متعلق خود کو سوچنے سے وہ روک نہیں پاتا تھا۔
’’آگیا پتر۔‘‘ سب سے پہلے زمرد بیگم نے اسے دیکھا۔ وہ سلام کرکے ان کے ساتھ چوکی پہ بیٹھ گیا۔
’’ماں صدقے‘ تھک گیا ہے میرا بچہ۔‘‘ زمرد بیگم نے اپنے دوپٹے کے آنچل سے اس کے چہرے پہ پسینے کی بوندوں کو سمیٹا۔ وہ ان کی محبت پہ مسکرادیا۔
’’نہیں دی جان… آپ کو تو پتا ہے میں تھکتا نہیں۔‘‘ اس نے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’ہاں پتا ہے‘ رب سوہنے نے میرے پتروں کو بڑی طاقت دی ہے۔‘‘ زمرد بیگم واری صدقے ہونے لگیں۔
’’حویلی میں تو سب خیریت ہے ناں دی جان؟‘‘ جب زمرد بیگم کے انداز سے بھی اسے کچھ نا ملا تو اس نے گھما پھرا کے پوچھ ہی لیا۔
’’ہاں پتر‘ الحمدللہ تو ہاتھ منہ دھولے میں چائے کے ساتھ تیرے لیے کچھ منگواتی ہوں۔‘‘ زمرد بیگم نے ملازمہ کی تلاش میں نظر دوڑائی۔
’’صبح میرے جانے کے بعد داجان نے زیادہ غصہ تو نہیں کیا؟‘‘ اس نے کریدا۔
’’نہیں ٹھنڈے ہوگئے تھے۔‘‘ زمرد بیگم نے اطمینان دلایا۔
’’کہہ رہے تھے کوئی فیصلہ کریں گے اس بارے میں کچھ کہا انہوں نے؟‘‘
’’ہاں فیصلہ تو کرلیا ہے انہوں نے‘ پر کہہ رہے تھے سب کے سامنے خود ہی سنائیں گے۔‘‘ زمرد بیگم کہہ رہی تھیں اور سمہان آفندی کے حواس جاگ اٹھے۔
’’آپ کو بھی نہیں بتایا‘ کیا فیصلہ ہے؟‘‘ وہ سب جان لینا چاہتا تھا۔
’’نہیں پتر‘ تجھے تو ان کے مزاج کا پتا ہے جب مرضی ہوگی تو خود ہی بتادیں گے۔‘‘ زمرد بیگم کے جواب نے اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا‘ مگر اسے اعصاب کو قابو میں رکھنا آتا تھا۔
’’سمہان صاحب… چودھری صاحب کا حکم ہے‘ آپ تیاری کرلیں… وہ تھوڑی دیر میں شہر کے لیے آپ کے ساتھ نکلیں گے۔‘‘ اسی ثانیے نذیراں چودھری حشمت کا پیغام لے کر آگئی تھی۔ سمہان آفندی ایک لمحے کو چونکا۔
یہ اچانک شہر جانے کا پلان کیوں؟ کیا فیصلے میں شہر جانے کا بھی کوئی عمل دخل تھا؟ اس کا ذہن تیزی سے کڑیاں جوڑ رہا تھا۔ نذیراں پیغام دے کر جاچکی تھی۔
’’جا پتر جاکر نہا دھو کر کچھ کھالے‘ دوپہر کا کھانا بھجوادیا تھا کھیت پہ‘ تو نے کھایا تھا ناں؟‘‘ زمرد بیگم کو فکر لگ گئی۔
’’جی جی دی جان۔‘‘ وہ سعادت مندی سے گویا ہوا۔
’’سارا دن کا تھکا ہارا آیا ہے بچہ اور پھر شہر کے لیے لمبا سفر کرنا ہے۔ چودھری جی بھی ناں‘ جو ٹھان لیں وہ کرکے ہی رہتے ہیں۔‘‘ زمرد بیگم بڑبڑائیں‘ سمہان آفندی کے کان کھڑے ہوگئے تو گویا اس کا شک درست نکلا تھا۔ کسی نا کسی حد تک زمرد بیگم بھی فیصلے سے آگاہ تھیں لیکن اسے خبر تھی وہ کبھی چودھری حشمت کے خلاف جاکر کام نہیں کرتیں سو ان سے کچھ معلوم نہیں ہوسکتا تھا۔
’’جا تو نہا لے‘ میں کھانے کا کہتی ہوں‘ راستے کے لیے بھی کچھ تیار کروا دوں گی۔‘‘ زمرد بیگم اس سے پہلے اٹھ گئی تھیں۔ اس نے لمبی سانس لی۔
{…(٭)…}
ہاتھ کی لکیروں کو
پڑھنے والا بولا تھا
عمر تیری لمبی ہے
سوچ کے دل یہ کانپا تھا
سوچ سوچ ہانپا تھا
زندگی کو جینے کی
خواہشیں نہیں باقی
اس کے بعد زیست میں
راحتیں نہیں باقی
اس کے بن گزرتی ہے جو
کس قدر بے رنگی ہے
اور سوچو تو ذرا
عمر میری لمبی ہے!
’’تیری عمر بڑی لمبی ہے دو سو سال جیے گی۔‘‘ اس کی انگلیاں تھام کر وہ بغور اس کی لکیروں کو پڑھ رہا تھا۔
’’ہاں‘ ساری دنیا چلی جائے گی‘ اور میں اکیلی گھومتی رہوں گی‘ ہے ناں۔‘‘ آنکھیں دکھا کر اس نے اپنی انگلیاں چھڑائیں۔
’’اچھا ہے ناں… ہم تم ہوں گے‘ بادل ہوگا… رقص میں سارا جنگل ہوگا۔‘‘ وہ گنگنانے لگا وہ گھور کر رہ گئی۔
’’اتنے اونچے خواب نا دیکھو…‘‘ اس نے جتایا۔
’’وہ خواب ہی کیا‘ جس کی تعبیر تم نہیں۔‘‘ جواب سرعت سے دے کر وہ لاجواب کر گیا تھا۔
ان کی آنکھیں ایک ہی مرکز پہ جمی ہوئی تھیں‘ کانوں میں بس جملوں کی گونج تھی۔
’’محبت کے پنچھی کو کبھی قید نا کرو‘ اسے آزاد چھوڑ دو‘ اگر اسے محبت ہوگی تو اونچی سے اونچی اڑان کے بعد بھی وہ لوٹ آئے گا۔‘‘ کتنے یقین بھرے لفاظ تھے‘ اور کسے خبر تھی جب پنچھی لوٹے گا تو گھونسلہ ہی طوفان کی نذر ہوکر اپنا وجود کھو چکا ہوگا۔
کبھی کبھی ہم سب کچھ ہار جاتے ہیں کبھی خود سے‘ کبھی قسمت سے اور کچھ کھونے کا ملال تا عمر دل سے چپکا رہتا ہے‘ آنسو بہت تیزی سے منزہ کی آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہورہے تھے۔
{…(٭)…}
’’ارے آپ‘ اتنی جلدی آگئے؟‘‘ وہ دن چڑھے تک سوتی رہی تھی۔ لنچ کے لیے اٹھانے پہ بھی نہیں اٹھی تھی۔ سب نے اس کے بنا لنچ کیا تھا۔ وہ شاہ زرشمعون سے شرمندہ تھی۔ اس کی غیر موجودگی پر جانے وہ کیا سوچ رہا ہو‘ اس کی بھی ساری رات جاگتے ڈرائیو میں گزری تھی‘ لیکن چودھری بخت کے اصرار کے باوجود کمرے میں لیٹا رہا تھا‘ نیند نہیں آئی تھی اسے۔ شنائیہ سوکر اٹھی تو خبر ہوئی شاہ زرشمعون‘ چودھری جہانگیر کی طرف گیا ہوا ہے۔
’’چلا گیا ہٹلر؟‘‘ اور وہ جو ماہم سے مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی اس کا جواب سن کر منہ بسور گئی۔
شاور لے کر وہ فریش سی لان کی چیئر پہ آکر بیٹھ گئی تھی سورج غروب ہورہا تھا‘ ایسے میں جب شاہ زر شمعون کی لینڈ کروز پورچ میں آکر رکی اور وہ بلیک شلوار سوٹ میں برآمد ہوا تو شنائیہ چودھری ایک دم سے سر پیٹ کے رہ گئی۔ اس نے ایک نظر خود پہ ڈالی شاور لے کر اس نے بلیک شیفون کا سوٹ پہن رکھا تھا گیلے بال شولڈر اور پشت پہ بکھرے ہوئے تھے‘ ایسے میں جب شاہ زرشمعون اس کے پاس سے گزرنے لگا تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔ اس کے جلدی لوٹ آنے پہ… وہ تو سوچ رہی تھی ڈنر کرکے ہی لوٹے گا‘ مگر وہ تو جلدی لوٹ آیا تھا۔
شاہ زرشمعون کے قدم بے ساختہ ٹھٹکے تھے‘ کالے لباس میں اس کا گلابی چہرہ گواہی دے رہا تھا کہ محترمہ نیند پوری کرچکی ہیں… صبح کے ناشتے کے بعد وہ اب ایک دوسرے کے روبرو تھے۔
’’جی اگر آپ کو برا لگ رہا ہے‘ میرا آنا تو واپس چلا جاتا ہوں۔‘‘ وہ پہلے ہی خاصا برہم تھا‘ شنائیہ چودھری کے استفسار نے اسے مزید کھولا دیا۔
’’ایسا کیا کہہ دیا میں نے…؟ اور کائنڈلی آپ کسی اور کا غصہ مجھ پہ مت نکالیں۔‘‘ وہ اس کا موڈ بھانپ گئی تھی کہ وہ برہم ہے جس پہ اسے حیرت بھی ہوئی تھی کہ جانے ایسا کیا ہوا تھا چودھری جہانگیر کے ہاں جو وہ اتنی جلدی لوٹ آیا تھا۔
’’میں کسی کا غصہ کسی دوسرے پہ نہیں نکالتا‘ آپ کو کس نے کہا تھا سفر کی روداد پورے سیاق وسباق سے حویلی والوں کو سنا دیں۔ مما فکر مند ہورہی ہیں‘ میرے لیے۔ ان کے کئی فون آچکے میرے پاس… داجان تک بات گئی تو میں آپ کا کارنامہ پوری سچائی سے انہیں گوش گزار کردوں گا۔‘‘ اس نے واضح لفظوں میں ایک طرح سے دھمکی دی۔
’’پلیز داجان کو کچھ نا بتائیے گا‘ انہوں نے کچھ ایسا ویسا فیصلہ سنادیا میرے خلاف تو میں تو ماری جائوں گی ناں۔‘‘ شنائیہ چودھری جو بہت لاپروا نظر آرہی تھی اس کی دھمکی پہ ایک دم سے پریشان ہوگئی۔
’’پلیز شاہ‘ داجان سے کچھ نا کہیے گا۔ میں نے تو صرف شازمہ کو بتایا تھا‘ مجھے کیا خبر تھی وہ پوری حویلی میں بات پھیلادے گی… آپ نے بھی تو سمہان کو بتایا تھا۔‘‘ وہ ملتجی ہوتے ہوئے صفائی دے رہی تھی۔ صفائی دیتے ہوئے وہ ایک دم سے اسے بھی قصور وار ٹھہرا گئی‘ شاہ زرشمعون جو اس کے ملتجی لہجے پہ متحیر تھا کہ وہ اور التجائیہ لہجہ وانداز… دو الگ چیز تھی… اور اگلے ہی پل اسے بھی قصور وار ٹھہرا کر اس نے اس کی سوچ کی تائید کردی کہ وہ بے کار میں حیران ہوا‘ بھلے چند سیکنڈز کے لیے ہی سہی۔
شاہ زرشمعون نے اب کے اسے ذرا دھیان سے دیکھا… بلیک شیفون کے سوٹ میں کسی بھی قسم کے میک اپ سے چہرہ عاری تھا۔ اس کے سامنے شنائیہ چودھری اب معصوم لگ رہی تھی۔ وہ اسٹائلش کپڑے ضرور پہنتی تھی لیکن اس میں عریانیت نہیں ہوتی تھی۔ دوپٹا بھلے کندھے پہ جھول رہا تھا‘ جیسے ابھی بھی پڑا ہوا تھا مگر وہ اسے دوپٹے کے بغیر کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ جس میں بہت حد تک چودھری بخت اور دیا کی تربیت کا بھی ہاتھ تھا۔
’’مجھے خبر ہے کہ کس سے کیا بات کرنی ہے اور کون کس مزاج کا ہے‘ آپ کی طرح بریکنگ نیوز بیچ چوراہے پہ نہیں دیتا۔‘‘ قصوروار ٹھہرائے جانے پہ وہ بھنا گیا تھا۔
’’آپ داجان سے کچھ نہیں کہیں گے ناں؟‘‘ اس کے انداز پہ وہ معصوم بن کر پوچھ رہی تھی۔ پتا تھا گیند اس کی کورٹ میں ہے ذرا اس نے تیور دکھائے تو گلے پڑجائے گا۔
’’سوچتا ہوں۔‘‘ وہ اس پہ ایک سنجیدہ نظر ڈال کر آگے بڑھ گیا۔
’’ہونہہ… آنکھیں ہیں یا غوری میزائل۔‘‘ وہ سر جھٹک کر دونوں ہاتھوں سے بالوں کو اٹھا کر دو تین بل دے کر شانے پہ دھر گئی۔ سوچ تو یہی تھی جیسے یہ بل خود کے بالوں کو نہیں اس کلف لگے انسان کو دے رہی ہو لیکن آہ کچھ زیادہ ہی زور سے بل پڑ گئے تھے۔
’’کم بخت گولہ باری نا کرے‘ سڑیل منہ نا کھولے تو رج کے ہینڈسم ہے۔‘‘ شنائیہ چودھری کی نظریں اس کی بلیک قمیص والی پشت پہ جمی تھیں۔
’’ہونہہ…‘‘ اس نے بے ساختہ سر جھٹک کر اندر کی راہ لی۔ ایک بار پھر اپنے کمرے میں آرام کرنے کا ارادہ تھا تب ہی رخ اپنے کمرے کی طرف کیا۔
وہ جانے کتنی ہی دیر آرام کرتی رہتی‘ فرینڈز سے گروپ چیٹ کرتی رہتی‘ ملازمہ رات کے کھانے کے لیے بلانے آئی تو اسے وقت گزرنے کا احساس ہوا۔ وہ پہنچی تو سب کھانے کی میز پہ موجود تھے‘ وہ بھی خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی‘ اپنی پلیٹ میں چاول نکال کر کھانے لگی تو دیا نے تنبیہی نظرں سے دیکھتے دوپٹے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے اشارہ کرنے پہ وہ شانوں پہ پڑا دوپٹا بے ساختہ اٹھا کر سر پر رکھ گئی تھی کہ دیا کو ننگے سر کھانا کھانا ناخود پسند تھا نا وہ بیٹیوں کے اس عمل کو پسند کرتی تھیں۔ بظاہر اس نے غیر محسوس طریقے سے اس عمل کو کیا تھا مگر شاہ زرشمعون کی نظریں بھلے اپنی پلیٹ پہ مرکوز تھیں وہ چودھری بخت کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا مگر وہ لاپروا کبھی نہیں رہتا تھا‘ اردگرد سے۔
’’ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود اکثر ملنا نہیں ہوپاتا ہمارا‘ بس فون پہ ہی رابطہ رہتا ہے‘ آج بھی سوچا تھا تمہارے ساتھ جہانگیر کی طرف چلوں گا تو ایمرجنسی کال آگئی‘ اس لیے ہاسپٹل جانا پڑا‘ لیکن تمہاری خاطر جلدی لوٹ آیا کہ تمہارے لیے چھٹی کی تھی… جہانگیر کے گھر تو سب ٹھیک ہے شاہ۔‘‘ چودھری بخت استفسار کررہے تھے‘ ان کا خیال تھا شاہ کو تین چار گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے جہانگیر کی طرف لیکن وہ جب اپنے تئیں ہاسپٹل سے لوٹ کر آئے تو خبر ہوئی وہ تو ایک گھنٹے میں ہی لوٹ آیا تھا۔
’’جی چچا جان سب خیریت تھی‘ بس قدیر رانا کے کیس کی وجہ سے کال آگئی تھی انہیں۔‘‘
’’ہاں آج کل تو اسی کے چرچے ہیں ہر طرف۔‘‘ چودھری بخت کا لہجہ فخریہ ہوا بھائی کے لیے۔
’’اب کے آپ کی بات ہو جہانگیر بھائی سے تو کہہ دیجیے گا صہبا اور نرمین کو تو بھیج دیا کریں ایشان کے ساتھ… اتنے قریب رہ کر بھی نہیں ملتے… حویلی والے تو ویسے ہی دور ہیں۔‘‘ دیا نے افسردگی سے کہا تو چودھری بخت سر ہلانے لگے… دیا کو رشتوں کے درمیان رہنا ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا مگر شروع سے ہی بخت اور پھر ان کا ایسا سیٹ اپ بن گیا کہ وہ دونوں پھر شہر کے ہوکر رہ گئے… پھر بچیوں کی تعلیم بھی آڑے آجاتی تھی‘ اپنوں کی شکل میں ایک چودھری جہانگیر کی فیملی ہی قریب تھی جن سے ملنے کی دیا کوشش کرتی تھیں تاکہ اپنے پن کا احساس قائم رہے گو کہ صہبا کا انداز انہیں بھی بہت بناوٹی اور مصنوعی لگتا تھا۔ نرمین اور ایشان جاہ قدرے بہتر تھے۔
شاہ زرشمعون کو ایک سے ڈیڑھ گھنٹا گزارنا وہاں کسی عذاب سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ جب کہ یہاں نک چڑھی شنائیہ چودھری تھی‘ لیکن ان سب کے باوجود اسے یہاں اتنی بے زاری محسوس نہیں ہورہی تھی جتنی وہاں تھی۔ ایک پل کو تو اسے لگا کہ اسے یہاں سے جلدی نکل جانا چاہیے‘ کہیں ایسانا ہو کہ اس کا ضبط جواب دے جائے اور اس سے کوئی گستاخی ہوجائے… چودھری جہانگیر کے روکنے کے باوجود وہ جلدی اٹھ آیا تھا۔ کھانے کے بعد جب تک کافی آئی‘ چودھری بخت تب تک حسب وعدہ شطرنج کی بساط بجھا چکے تھے۔
{…(٭)…}
’’اماں کو اٹھائو تو‘ کھانا نہیں کھائیں گی؟‘‘ انوشا کو فکر ہونے لگی۔ رات ہوگئی تھی لیکن منزہ ابھی تک کمرے سے نہیں نکلی تھیں۔ ان کی بے آرامی محسوس کرکے دونوں نے انہیں تنگ نہیں کیا تھا لیکن اب کافی دیر ہوچکی تھی۔
’’میں دستر خوان لگاتی ہوں‘ تم انہیں اٹھائو۔‘‘ انوشا نے اسے ذمہ داری سونپ کر کچن کی راہ لی۔ ماورا یحییٰ سر ہلا کر منزہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
منزہ دروازے کی طرف پیٹھ کیے لیٹی ہوئی تھیں۔ ماورا یحییٰ کمرے میں داخل ہوکر ان کے پلنگ تک آئی تھی۔ ان کے سامنے بیٹھ کر وہ نرمی سے ان کے بازو پہ ہاتھ رکھ گئی تھی۔
’’کیا ہوا ہے اماں‘ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ ماورا ان کی غائب دماغی اور خالی خالی نظروں سے گھبرا سی گئی۔
صبح تک تو وہ ٹھیک تھیں‘ لیکن اب چند گھنٹوں میں جیسے بجھ سی گئی تھیں۔ جانے بیٹھے بٹھائے انہیں کیا ہوجاتا تھا۔ وہ آرام کا کہہ کر کمرے میں لیٹتی تھیں اور اٹھتے وقت پہلے سے کہیں زیادہ نڈھال ہوتی تھیں۔ ماورا یحییٰ پوچھنے کے ساتھ ان کی پیشانی پہ ہاتھ لگا کر حرارت محسوس کرنے کی سعی کررہی تھی۔
’’جسم گرم ہورہا ہے آپ کا… بخار محسوس ہورہا ہے کیا؟‘‘ وہ فکرمند سی ہوئی۔
’’ارے نہیں‘ چادر اوڑھ کر لیٹی رہی ہوں اس لیے جسم گرم لگ رہا ہے۔‘‘ منزہ حواس میں لوٹ آئی تھیں‘ وہ اس کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں کہ وہ روتی رہی ہیں لیکن سوجی آنکھیں سب ظاہر کر گئی تھیں۔
’’اماں… آپ روتی رہی ہیں لیکن کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’میں کب روئی۔‘‘ انہوں نے جھٹلانا چاہا لیکن آواز میں بدلائو نے انہیں بھی احساس دلا دیا کہ بہتے آنسوئوں نے ہر مقام پہ اپنا نشان چھوڑا ہے۔
’’شاید بابا اور ان کی تصویر کا ذکر چھیڑ کر ہم نے آپ کو دکھی کردیا۔‘‘ ماورا یحییٰ کو جیسے سراغ مل گیا تھا۔ وہ خوش تھیں لیکن ان دونوں نے جب سے سپر اسٹور میں ملنے والے شخص کے متعلق ذکر کرکے یحییٰ فراز کی تصویر دکھانے کا تقاضا کیا تھا تب سے منزہ بجھی بجھی نظر آنے لگی تھیں۔ اکثر ہی کسی نا کسی ذکر پہ وہ کھو جاتی یا دکھی ہوکر کمرا نشین ہوجاتی تھیں۔
’’اماں‘ آپ بابا سے بہت محبت کرتی تھیں؟‘‘ ماورا یحییٰ کو جیسے جاننے میں دلچسپی ہوئی۔ منزہ جس طرح ان کے ذکر پر ٹوٹ جاتی تھیں‘ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ان کے عشق میں گرفتار تھیں اور ان کی دوری کا احساس انہیں توڑ پھوڑ دیتا تھا۔
’’بتائیں ناں اماں‘ آپ بابا سے بہت محبت کرتی تھیں؟‘‘ ماورا یحییٰ نے ایک بار پھر سوال دہرایا۔
’’کیوں نہیں کرتی ہوں گی‘ اتنے تو ہینڈسم ہیں ہمارے بابا۔‘‘ انوشا بھی چلی آئی تھی۔ وہ دستر خوان لگا چکی تھی اور اب ان دونوں کو بلانے کی غرض سے آئی تھی۔ ماورا یحییٰ کا سوال سن کر اس نے بے ساختہ جواب دیا تھا۔ منزہ کی نظروں میں تصویر لہرا گئی تھی۔
’’وجاہت وشجاعت کا نمونہ… مرنے مارنے کو تو وہ ہرگھڑی تیار رہتا تھا۔‘‘
’’بتائیں ناں اماں آپ بہت محبت کرتی تھیں ناں بابا سے۔‘‘ ماورا یحییٰ مصر ہوئی۔
’’شرم کرو لڑکی‘ ماں سے کیسے سوال کررہی ہو۔‘‘ منزہ نے مسکرا کر ذرا رعب سے کہا تو ان کی مسکراہٹ سے دونوں نے ہاں ہی اخذ کیا۔
’’چلو دستر خوان پہ بیٹھو‘ رزق کو انتظار نہیں کرواتے۔‘‘ منزہ اٹھ کر بیٹھ گئیں‘ ماورا اور انوشا ان کی تقلید میں دستر خوان تک آگئی تھیں۔
’’میں نے محبت ہی تو نہیں کی تم سے۔‘‘ ماورا کے سوال کا جواب ایک ہچکی کی صورت دل میں کھپ گیا تھا۔
{…(٭)…}
تھوڑی دیر کا کہا گیا انتظار جب گھنٹوں کا سفر کرنے لگا تو گھڑی کی سوئیوں کی طرح اس کے غصے کا گراف بھی بڑھنے لگا۔ سیل فون چارج پہ لگا کر وہ کمرے سے نکلی‘ ارادہ سمہان آفندی کی خیریت مطلوب کرنے کا تھا۔ شومئی قسمت کہ وہ اسے اسی طرف آتا دکھائی دیا۔ عیشال جہانگیر کے دونوں ہاتھ لڑاکا عورتوں کی طرح دائیں بائیں کمر پر ٹک گئے تھے۔ اسے راستے میں کمر پہ ہاتھ دھرے دیکھ کر سمہان آفندی قریب آکر رکا تھا۔
’’سچ بتائو کہاں جارہے ہو…؟‘‘ پائوچ سے نظر ہٹا کر وہ اس کی تیاری پہ بغور کمنٹ کررہی تھی۔ دلفریب خوشبوئوں میں بسا وہ اس کی مشکوک نظروں کی زد میں تھا۔
’’ایمان داری سے کہوں تو مجھے بھی اس سفر کا علم نہیں کہ داجان کس نیت سے اچانک یہ پلان بنا گئے اور کہاں جارہے ہیں۔‘‘ اس نے پوری سچائی سے بتایا۔
’’ہوں…‘‘ تو وہ پُرسوچ انداز میں لبوں کو دائرے میں گردش دینے لگی۔
’’ہوسکتا ہے سزا کے طور پر تمہارے لیے داجان لڑکا دیکھنے جارہے ہوں شہر تاکہ تمہیں حویلی بدر کیا جاسکے۔‘‘ اس نے شرارتاً کہا تو ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر کیے بغیر عیشال جہانگیر کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا تھا۔
’’اور تم ساتھ میں اس لڑکے کا انٹرویو لینے جارہے ہو‘ میٹرک کس دن میں کیا‘ کوئی نشہ تو نہیں کرتے‘ ہے ناں؟‘‘ چلبلا کر اس نے پوچھا۔ تیکھے چتونوں سے اسے گھور رہی تھی… سارا دن کے اعصاب شکن سوچوں کے بعد سمہان آفندی اس سفر پہ اندر ہی اندر بے حد الجھا ہوا تھا۔ ابھی بھی اس کی تفتیش پہ یہ جملہ اس کے منہ سے بلاارادہ نکل گیا تھا۔ صرف اسے ستانے کے لیے لیکن اس کے ری ایکشن نے اسے قہقہہ لگانے پہ مجبور کردیا تھا۔
’’کوئی مضائقہ بھی نہیں اس میں… آخر کو لڑکی والوں کی طرف سے کسی ناں کسی کو تو یہ سوال کرنا ہی ہے ناں… میں سہی… اور تمہیں تو خبر ہے میرا انتخاب تو ہمیشہ سے اعلیٰ ہی ہوتا ہے۔‘‘ سمہان آفندی نے جیسے اس کی جان جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
’’اگر تم نے بھولے سے بھی ایسا کچھ کیا تو میں اس حویلی کو آگ لگانے میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کروں گی۔‘‘ وہ ایک دم سے شعلہ جوالا بن گئی۔ وارننگ دیتے ازحد سنجیدہ تھی۔ سمہان آفندی نے بے حد دلچسپی سے اس کی دھمکی کو سنا‘ اس کے انداز کو ملاحظہ کیا تھا۔ حد سے زیادہ جذباتیت بھی پاگل پن ہوتا ہے اور وہ پاگل ہی تھی اسے بہت اچھی طرح اندازہ تھا۔
’’چلو یہ بھی ان گناہ گار آنکھوں کو دکھا دیں گے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بائیں سائیڈ مڑ کر زینے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ وہ کوئی سخت سی بات کرنے لگی تھی مگر وہ سفر کو نکل رہا تھا تب ہی اس کی زبان پکار بیٹھی۔
’’سمہان…‘‘
’’جی حکم…‘‘ وہ نیچے جاتی سیڑھیوں کے دوسرے اسٹیپ پہ تھا‘ جب ایک ثانیے کو رک کر گردن دائیں طرف گھما کر اسے دیکھنے لگا۔ سرعت سے شانے پہ پڑا دوپٹا سر پہ لیتی وہ جلدی جلدی زیرلب کچھ پڑھتی تیزی سے گرل تک آئی اور اس پر پھونک مارنے کے لیے گرل پہ قدرے جھکی۔
’’تم خود بھی دعائیں پڑھ کر حصار کرلینا‘ اب جائو‘ داجان انتظار کررہے ہوں گے۔ اللہ کی امان میں۔‘‘ وہ جس معصومیت سے چند سیکنڈ میں یہ سارا عمل کر گئی تھی سمہان آفندی نظر اٹھا کر اسے بس دیکھتا رہ گیا تھا۔
{…(٭)…}
وہ پورچ تک آیا تو چودھری حشمت اسے وہیں ٹہلتے ہوئے مل گئے۔
’’ماشاء اللہ… بڑا وجیہہ لگ رہا ہے ہمارا پوتا۔‘‘ چودھری حشمت نے بھی سراہا تو وہ بے ساختہ جھینپ گیا۔
’’بھئی سچی بات ہے اللہ نے ہمیں بیٹے وجیہہ دیے تو اصل سے سود تو لاجواب ہوگا ہی… ایک شاہ ہے اور ایک تم… ہماری تو نظریں ہی تم دونوں پہ زیادہ نہیں ٹکتیں کہ کہیں ہماری ہی نظر نا لگ جائے۔‘‘
’’داجان… جب آپ آج تک اتنی سحر انگیز پرسنالٹی رکھتے ہیں‘ ماشاء اللہ اتنے ایکٹو ہیں تو ہم پہ تو آپ کے خون کا ہی اثر ہونا ہے ناں۔‘‘ سمہان آفندی احتراماً ان کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ وا کر گیا تھا۔
چودھری حشمت کو دونوں پوتوں کی سعادت مندی اور احترام دینے کا انداز مزید ان کی کمزوری بنا گیا تھا۔ ایک پوتا ان کے حکم پہ کراچی کے سفر پہ تھا تو دوسرا سارے دن کی تھکن کے باوجود‘ ماتھے پہ شکن لائے بنا خوش دلی سے سفر کو تیار تھا۔ جب کہ کھیتوں کے لیے وہ چودھری فیروز کو مقرر کرکے جارہے تھے۔
’’شاہ سے کوئی بات ہوئی تمہاری؟‘‘ چودھری حشمت فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئے تو دروازہ بند کرتے سمہان آفندی گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پہ آکر براجمان ہوگیا۔
’’جی ہوئی تھی… شاہ تو شنائیہ جی کو چھوڑتے ہی واپسی کے لیے نکل رہا تھا‘ وہ تو چچا بخت نے اصرار کرکے روک لیا‘ شاہ کہہ رہا تھا صبح ہی نکل جائے گا۔‘‘ سمہان آفندی اگنیشن میں چابی لگاتے شاہ زرشمعون سے ہوئی گفتگو گوش گزار کررہا تھا۔ شاہ زرشمعون نے اسے کال کرکے اطلاع دی تھی جب وہ کھیتوں میں تھا۔
’’ہاں‘ اچھا کیا بخت نے‘ شاہ کو کب اپنی پروا ہوتی ہے… وہ شام تک لوٹ آئے گا تو ہم بھی تب تک لوٹ ہی آئیں گے۔‘‘ چودھری حشمت اندازہ لگاتے ہوئے بولے۔ سمہان آفندی پوچھنا تو چاہتا تھا وہ کہاں اور کیوں جارہے ہیں لیکن چپ رہا۔
رات گہری ہونے لگی‘ ہر سو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ چاند کی ابتدائی تاریخ تھی… ابھی وہ حویلی کے حدود میں ہی تھے جب سمہان آفندی کے نمبر پہ شاہ زرشمعون کی کال آنے لگی۔
’’شاہ کی کال آرہی ہے‘ ماشاء اللہ کتنی لمبی عمر ہے۔‘‘ سمہان آفندی نے خوشگواری سے کہا۔
’’ماشاء اللہ! دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ چودھری حشمت نے کہا اور سمہان آفندی نے کال پک کرلی۔
’’کتنی لمبی عمر ہے شاہ‘ ابھی میں اور داجان تمہارا ہی ذکر کررہے تھے۔‘‘ سمہان آفندی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بہت اچھا جناب! محبت ہے آپ کی… تم نے دل سے یاد کیا اور شاہ آگیا… اس وقت داجان کے پاس کیا کررہے ہو؟‘‘ شاہ زرشمعون نے محبت سے کہتے ہوئے استفسار کیا۔
’’داجان کو لے کر شہر جارہا ہوں۔‘‘ اس نے پروگرام سے آگاہ کیا۔
شاہ زرشمعون شطرنج کی بازی جیتنے کے بعد اپنے کمرے میں آرام کرنے آیا تھا۔ اسے حویلی کی فکر لگی رہتی تھی‘ تب ہی اس نے سمہان آفندی کو کال کی کہ ایک وہی تھا جسے وقت بے وقت کال کرسکتا تھا۔
’’خیریت یوں اچانک شہر…؟‘‘ شاہ زرشمعون متفکر ہوا۔
’’میں لاعلم ہوں۔‘‘ اس نے اپنی پوزیشن بتائی۔ ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے سمہان آفندی متوازن اسپیڈ سے گاڑی چلاتے دوسرے ہاتھ سے سیل فون کان سے لگائے بات کررہا تھا۔ یوں بھی چودھری حشمت کی موجودگی میں وہ تیز رفتاری سے ڈرائیو نہیں کرسکتا تھا۔ اس کی نظریں اردگرد کا جائزہ بھی لے رہی تھیں۔
اچانک برق رفتاری سے دو جیپ دائیں اور بائیں سے نمودار ہوئی تھیں۔ جیپ کے نمودار ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی تھی۔ ایک سیکنڈ کے بھی ہزارویں حصے میں سمہان آفندی نے فون والا ہاتھ کان سے ہٹا کر چودھری حشمت کی گردن کے گرد کرکے انہیں جھکایا تھا۔ ساتھ ہی دائیں ہاتھ سے اسٹیئرنگ چھوڑ کر اس نے گاڑی کے خانوں سے اپنے دونوں پسٹل نکال لیے تھے۔ دونوں جیپ اب ان کی گاڑی کی سیدھ میں قریب آرہی تھی۔ سمہان آفندی کے ہاتھ سے سیل فون گر کر چودھری حشمت کی گود میں آگرا تھا۔ گولیوں کے شور سے علاقہ گونج اٹھا تھا۔ کال پہ موجود شاہ زرشمعون گولیوں کی آواز سن کر بے ساختہ چیخنے لگا تھا۔
’’داجان… سمہان…!‘‘ لیکن اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ اب کے فائر کی آواز بے حد قریب سے آئی تھی۔ سیل فون پہ اس کی گرفت سخت ہوئی تھی۔ اعصاب بری طرح کشیدہ ہوگئے تھے۔ صرف گولیوں کی گھن گرج تھی… داجان اور سمہان آفندی کی کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔
’’سمہان…!‘‘ شاہ زرشمعون پوری قوت سے چلایا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close