Hijaab Mar-18

بھیکتا جنگل

عابدہ سبین

بارشوں کے موسم میں!
تم کو یاد کرنے کی
عادتیں پرانی ہیں
اب کی بار سوچا ہے
عادتیں بدل ڈالیں
پھرخیال آیا کہ…!
عادتیں بدلنے سے بارشیں نہیں رکتیں…!
آج صبح سے ہی موسم انتہائی خوش گوار اور خواب ناک تھا آسمان پر سیاہ بادلوں کا راج تھا‘ بے چارہ سورج جلوہ گر ہونے اور گرم شعاعوں کا قہر برسانے کی کئی بار کوشش کرچکا تھا مگر آج تو بادلوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور پورے جلال میں آکر گرجے جیسے سورج کو دھمکا رہے ہوں کہ ہمیں نہ للکارو‘ گرجنے کے ساتھ جب بادل برسے بھی تو گرمی سے بے تاب اور پیاسی دھرتی پرُسکون ہوگئی۔ درخت جھوم کر رقص کرنے لگے تو پتوں نے فضا میں گنگناہٹ سی پیدا کردی۔
تیز ہوائوں کے جھونکے درختوں کو چھو کر گزرتے تو درخت دیوانے ہوجاتے۔ دیوانی تو مانو بھی تھی اس موسم کی… حالانکہ اب مزاج میں وہ شوخی وہ بچپنا مفقود ہوچکا تھا مگر اس سہانے موسم سے جو جنون کی حد تک عشق تھا وہ کم نہ ہوسکا‘ اب پہروں برستی بارش میں وہ بھیگتی نہیں تھی مگر برآمدے میں کھڑے ہوکر ہاتھوں کو باہر پھیلا کر بارش کے قطرے ہتھیلیوں پر جمع کرنے کی سعی کرتی جو تیزی سے پھسل جاتے تھے‘ کئی حسین یادیں اس موسم سے جڑی تھیں جنہیں یاد کرکے نین ساون بن جاتے… آہ… وہ دن تو جیسے خواب ہوگئے تھے۔ جب زندگی خوب صورت ہوا کرتی تھی‘ بے فکری‘ لاپروا‘ موج مستی سے بھرپور کسی لاپروا شخص کی رکھائی پر کڑھنا‘ بہانے بہانے سے اسے جتانا‘ مگر اس پر اثر کم ہی ہوتا تھا‘ وہ ہمیشہ ہی انجان بنا رہا اس کی دیوانگی‘ اس کی چاہت سے۔
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
جب وہ یاد آتا‘ اس کی آنکھوں سے بن موسم کی برسات شروع ہوجاتی۔
’’مانو تیرا فون بج رہا ہے۔‘‘ بھابی کی تیز آواز نے اسے حال میں پٹخا‘ اس نے اپنے ہاتھ دیکھے جن پر اب بھی بارش کی بوندیں تیزی سے گرتی اور فوراً پھسل جاتیں جیسے مانو کی زندگی سے وہ تمام پل پھسل گئے تھے۔
’’آئی بھابی۔‘‘
’’ایسا ممکن ہے صہیب ضیاء کہ میری دیوانگی میری شدتیں تم سے مخفی رہی ہوں‘ تم جان کر انجان بنتے رہے ہو۔‘‘ اس نے یادوں کی گٹھڑی پھر سے باندھی تھی۔
’’مانو آبھی جائو۔‘‘
’’جی بھابی آئی۔‘‘ بھابی کے پھر سے بلانے پر اس نے اندر کی طرف قدم بڑھائے۔
{…٭…}
مناحل کوئی تیسری بار پکوڑوں سے بھری ٹرے لائی تھی مگر صحن میں یاجوج ماجوج کی فوج ایسے حملہ کرتی کہ لمحے بھر میں وہ خالی ہوجاتی۔
’’بس بہت ہوگئی اتنی گرمی میں کھڑے ہوکر گھنٹے بھر سے میں پکوڑے تل رہی ہوں اور تم لوگوں نے ذرا بھی احساس نہیں کیا‘ ایک بھی پکوڑا نصیب نہیں ہوا اب تک۔‘‘ وہ روہانسی ہوکر دھڑ سے بیٹھ گئی… پل میں سب کو بریک لگ گے کسی نے حقیقتاً سوچا ہی نہ تھا کہ وہ بے چاری سب کے لیے اکیلے گرمی میں لگی ہوئی ہے طلال نے ڈش سے آخری پکوڑا جو اٹھایا تھا مناحل کے چیخنے پر منہ میں نہ رکھ سکا وہ واپس رکھ دیا۔
’’ڈوب کر مر جائو اس پکوڑے کا میں کیا کروں گی۔‘‘ اس نے طلال کو لتاڑا۔
’’ابھی تم نے کہا کہ ایک بھی پکوڑا نصیب نہیں ہوا‘ تو اس لیے میں نے یہ رکھ دیا کہ…‘‘
’’یہ بھی کھا لو‘ ورنہ تمہارا یہ احسان میں عمر بھر نہیں چکا پائوں گی۔‘‘
’’اب تمہاری مرضی۔‘‘ طلال نے ذرا بھی دیر نہ لگائی اور فوراً پکوڑا اٹھا کر منہ میں رکھ لیا‘ سب کی ہنسی فطری تھی‘ مناحل رونے لگی۔
’’اف بھتیجی رحم کرو‘ صبح سے بادل جو شروع ہوئے تھے کہ اب ذرا تھمے ہیں اب تم اسٹارٹ لے رہی ہو۔ کم سن بچی ہو تم جو چند پکوڑوں کے لیے یہ رونا شروع کردیا۔‘‘ احمر خود تو پیٹ بھر کر کھا چکا تھا تو اسے بھی خیال نہ آیا الٹا اب اسے ہی ڈانٹنا شروع کردیا‘ مناہل کے آنسو ہی نہیں حلق بھی خشک ہوگیا‘ مگر دل تو دکھ رہا تھا ناں سب کی بے مروتی پر۔
’’خود بناتے ناں اتنے گرمی میں‘ پھر میں پوچھتی۔‘‘ احمر کو بلند آواز سے جواب دینا تو ناممکن تھا اس لیے زیرلب بڑبڑائی۔
’’باشعور اور پڑھی لکھی ہو‘ یہ بچپنا کب تک رہے گا تمہارا۔ اٹھو اب یہاں سے۔‘‘ وہ پھر سنجیدگی سے کہتا اٹھ کر اندر چلا گیا۔
کوئی اس کے دل کا درد سمجھ سکتا تھا جس نے موسم کے باعث صبح بھی بس تھوڑا سا سا ناشتہ کیا تھا اور دوپہر میں تو کچھ بھی نہ کھایا‘ بس بارش انجوائے کرتی رہی‘ یہ پکوڑوں والا آئیڈیا بھی اسی کا تھا اب اسے خاک بھی نہ ملی۔
’’ایم سوری مناہل… ہماری وجہ سے تمہیں بھیا کی بھی سخت سست سننی پڑیں‘ زیادتی تو ہماری ہے ناں۔‘‘ عاشی کو احمر کے جانے کے بعد اس سے ہمدردی ہوئی۔
’’ہاں اور اب عاشی تمہارے لیے پکوڑے اور ہم سب کے لیے چائے پکائے گی۔‘‘
’’چائے زینی پکائے گی۔‘‘ عاشی نے کہا تو ازل کی کام چور زینی بدک گئی۔
’’اتنی گرمی میں‘ کچن میں جانا۔‘‘
’’میں پچھلے دو گھنٹوں سے تم سب کے لیے گرمی میں ہی مر رہی تھی۔‘‘ مناہل نے اسے گھورا تو وہ بادل نخواستہ عاشی کے ساتھ جانے کو تیار ہوگئی۔
’’اور اللہ کے لیے زینی چینی اتنی بھی مہنگی نہیں ہوئی کہ تم صرف چھو کر جار واپس رکھ دو‘ اسے چائے میں ڈال بھی دینا۔‘‘ طلال کی زبان پر کھجلی ہوئی۔
’’اتنے نخرے کرنے ہیں تو خود پکالو۔‘‘ وہ پھر اینٹھ گئی عاشی اور مناہل نے طلال کو گھورا۔
’’یار بھتیجے تمہیں عزت راس نہیں آتی‘ مستقبل قریب کی ہونے والی نصف بہتر سے تم بدترین بے عزتی کراتے ہو وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر۔‘‘ صہیب نے بھی گھرکا تو طلال کو ہاتھ جوڑنے پڑے۔
’’اچھا جیسی پلادو گی پی لوں گا… زہر مار کرلوں گا مگر اللہ کے لیے اٹھ جائو ورنہ یہ جو چار نظریں مجھے گھور رہی ہیں میں شرم کا مارا ان میں ڈوب کر ہی نہ مر جائوں۔‘‘ زینی کو جب تک اس کی بکواس سمجھ آئی عاشی اور مناہل اس کی درگت بناچکی تھیں۔
{…٭…}
وہ تھکی ہاری ابھی آفس سے لوٹی تھی مگر لائونج میں اس کے بھتیجے آپس میں لڑنے میں مصروف تھے۔
’’میں نے ڈورے مون دیکھنا ہے… پھوپو پلیز آپ عفان بھیا سے کہیں ناں چینل چینج نہ کرے۔‘‘
’’پھوپو میں نے مووی دیکھنی ہے۔‘‘
’’عفان تم اتنے بڑے کب سے ہوگئے کہ مووی دیکھو۔‘‘
’’پھوپو کامیڈی مووی ہے‘ یہ دونوں سارا دن دیکھتے ہیں‘ مجھے تو بس یہی دو گھنٹے ملتے ہیں۔‘‘ آج کل بچوں کا اسٹڈی شیڈول اتنا ٹف تھا کہ حقیقتاً ٹائم نہیں ملتا تھا‘ مانو چپ ہوگئی عفان کو کچھ مزید کہتی تو وہ جھنجلا جاتا‘ اس نے ریان اور بیہ کو بیگ سے چاکلیٹ دے کے بہلایا۔
’’تم دونوں یہ کھائو میں فریش ہوکر آتی ہوں پھر کرکٹ کھیلیں گے۔‘‘ بیہ اور ریان خوش ہوگئے۔ وہ فریش ہوکر آئی تو بھابی کافی لے لائیں۔
’’تھک ہار کر آئی ہو اب ان کے ساتھ لگ جائوگی… ریسٹ کرلو۔‘‘
’’رات بھر ریسٹ ہی تو کرنا ہے بھابی کچھ دیر ان کے ساتھ کھیلوں گی تو خوش ہوجائیں گے۔‘‘
’’کب تک تم ہماری خوشیوں کے لیے اپنی ذات کے سکھ کو مٹائوگی۔ اپنے لیے بھی سوچو مانو‘ ہمارا اللہ وارث ہے۔‘‘
’’پلیز بھابی میری ذات آپ لوگوں سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں… بے شک اللہ ہی ہم سب کا وارث ہے مگر پلیز آئندہ یہ مت کہیے گا۔ میری خوشیاں میرے ان بھتیجے بھتیجی سے ہی ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں پلکیں تو بھابی کی بھی بھیگ گئی تھیں۔
’’مانو میں جانتی ہوں تمہارے دل میں کیا ہے مگر میرے اندر کی پشیمانی مجھے ڈستی ہے تمہارے بھیا کے بعد تم میری ذمہ داری ہو‘ میں ان کو کیا جواب دوں گی‘ پلیز تم کب تک یوں بے معنی امید کے سہارے بیٹھی رہوگی۔‘‘ بھابی نے اسے سمجھایا۔
’’بھابی مجھے کسی سے کوئی امید نہیں ہے بھیا کے بعد میری زندگی کا مقصد ہی بدل گیا ہے۔‘‘
’’طلعت بھابی آئیں تھیں آج‘ ان کی نند کا بڑا بیٹا ماشاء اللہ ایئر فورس میں ہے۔‘‘
’’پلیز بھابی کلوز دس ٹاپک‘ اول تو شادی کرنی ہی نہیں ہے اور دوسرا کسی فوجی بندے سے تو ہرگز بھی نہیں‘ کیا ملتا ہے‘ چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر بھیا بھی چلے گئے۔‘‘
’’وطن کے لیے جان دینا بھی بہت بڑا اعزاز ہے مانو… مجھے فخر ہے اپنے شوہر پر جو اس وطن کی خاطر شہید ہوئے۔‘‘ بھابی کی آنکھیں نم تھیں مگر چہرے پر فخریہ مسکان تھی۔
’’آپ بہت بہادر ہیں بھابی مگر میں اتنی ہمت نہیں رکھتی جس ملک کے لیے ہمارے جوان سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کررہے ہیں‘ اس ملک کی جڑیں تو اندر بیٹھے اپنے ہی لوگ کھوکھلی کررہے ہیں‘ جب اپنے ہی لوگ آستین کے سانپ بن کر بیٹھ جائیں تو پھر سرحد پر یہ سپاہی کیا کرلیں گے۔‘‘ اس کے اندر کڑواہٹ تھی۔
’’اچھا چھوڑو دفع کرو تم‘ میں طلعت بھابی کو منع کردوں گی۔‘‘ وہ سمجھ گئی تھیں کہ بھائی کے جانے کے بعد مانو بہت بدل گئی ہے‘ اس نے بچپن سے صرف بھیا اور بھابی دو ہی تو رشتے دیکھے تھے اور پھر بھیا بھی چلے گئے تو اسے حالات کی اس ستم ظریفی پر کتنے ہی گلے پیدا ہوگے تھے۔
{…٭…}
سنا ہے اس محبت میں بہت نقصان ہوتا ہے
مہکتا جھومتا جیون غموں کے نام ہوتا ہے
سنا ہے چین کھو کر وہ صبح سے شام روتا ہے
محبت جو بھی کرتا ہے بہت بدنام ہوتا ہے
سنا ہے اس محبت میں کہیں بھی دل نہیں لگتا
بنا اس کے نگاہوں میں کوئی موسم نہیں جچتا
خفا جس سے محبت ہو وہ جیون بھر نہیں ہنستا
بہت انمول ہے یہ دل اجڑ کر پھر نہیں بستا
سنا ہے اس محبت میں بہت نقصان ہوتا ہے
شام کے ملگجے اندھیرے پھیل رہے تھے اور غروب آفتاب کا یہ منظر وہ بڑے انہماک سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ ڈوبتے سورج پر الوداعی نگاہ ڈال کر اس نے گہری سانس خارج کی اور پھر کھڑکی کے پردے برابر کرتا پلٹ گیا۔ اسے آج اماں شدت سے یاد آرہی تھیں۔ اداسی حد سے سوا تھی‘ پرانی یادیں پھن پھیلائے جیسے اس کے چاروں طرف کھڑی تھیں۔ بڑے بھیا نے آج پھر اس کی شادی کا تذکرہ کیا تو اس کے دل میں کتنی یادیں تازہ ہوگئیں۔ اماں ہمہ وقت اس کے پیچھے پڑی رہتی تھیں کتنا ارمان تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے سر پر بھی سہرا دیکھ لیں‘ مگر وہ تو آمادہ ہی نہ ہوتا تھا‘ اس نے نہ کبھی زندگی کو سنجیدہ لیا اور نہ اماں کی خواہش کو‘ حتیٰ کہ وہ حسرت لیے منوں مٹی تلے سو گئیں۔
اماں کی یاد آئی اور چلبلی سی لڑکی جو بس ہر وقت ہنستی رہتی تھی جسے دنیا کا کوئی کام نہیں تھا سوائے صہیب کو تنگ کرنے کے‘ جب وہ تھی تو قدر نہ کی اور اب ہر لمحہ اس کی باتیں یاد آتی ہیں۔
’’چاچو…‘‘ حیدر کمر ے کے دروازے پر دستک دیتا اندر آیا تو صہیب نے چہرے کے تاثرات بدلے۔
’’یار ہم سب پھوپو کے گھر جانے کو تیار بیٹھے ہیں اور تم یہاں کمرے میں جانے کن یادوں میں الجھے ہو۔‘‘
’’اللہ میری بہن پر رحم فرمائے… کیوں بھئی۔‘‘ وہ حیدر کے ساتھ باہر آگیا۔
’’چلیں ناں چاچو… طلال کا بہت دل کررہا ہے پھوپو کی طرف جانے کا۔‘‘ عاشی نے دیدے گھمائے۔
’’ارے یار اکیلے طلال کے دل کے سکون کے لیے‘ تم لوگ زینی کو ہی یہیں فون کرکے بلا لو ناں میری بہن کا کباڑا ضرور کرنا ہے اس مہنگائی میں۔‘‘ اس نے دہائی دی تو مناہل بھی منہ بنانے لگی۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر تم ایک بار پھر سوچ لو بھتیجی… یو نو گھڑی نے پانچ بجائے چوہا گھر کو آئے‘ میرا مطلب احمر صاحب کسی بھی پل نازل ہونے والے ہیں۔‘‘
’’ڈونٹ وری میں نے اپنی مما سے اجازت لے لی ہے۔‘‘ مناہل کی لاپروائی عروج پر تھی سب کی حیرانی دیدنی تھی۔
’’او… رئیلی…‘‘
’’یس آف کورس۔‘‘ حالانکہ یہ بہادری بظاہر ہی تھی وگرنہ دل ہی دل میں دعا تھی کہ احمر ابھی نہ آئے۔
’’طلال یار آج کیا دن ہے؟‘‘ صہیب کو بے یقینی سے غش آنے لگے تو طلال سے تصدیق چاہی۔
’’بہت خوب صورت دن ہے یار چاچو‘ یو نو بیس برس قبل آج ہی کے دن دنیا میں ایک حسین پھول کھلا تھا…‘‘
’’اور اس پھول کا نام زینب امتیاز رکھا گیا تھا۔‘‘ حیدر نے طلال کا جملہ اچک کر مکمل کیا۔
’’او گاڈ آج میری بھانجی کی برتھ ڈے ہے‘ تھینک یو یار‘ طلال تم نے گھر پر ہی یاد دلا کر میری عزت بچالی… ورنہ آج میری خیر نہیں تھی۔‘‘ صہیب نے سر پیٹ لیا… جس طرح وہ اپنے بھتیجے بھتیجیوں کا چہیتا چاچو تھا اسی طرح بھانجے بھانجیوں کا بھی ہر دل عزیز ماموں تھا۔ اسے اب راستے سے زینی کے لیے گفٹ بھی لینا تھا۔
{…٭…}
’’مجھے اندازہ ہے صہیب کہ جس دن سے تمہارے بھیا نے شادی کا ذکر کیا ہے تم اپ سیٹ ہو‘ ایسا ہی ہے ناں۔‘‘ بڑی بھابی نے لاڈ سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا‘ انہوں نے صہیب کو بچوں کی طرح پالا تھا۔
’’بھابی پتہ نہیں کیوں شادی کا ذکر میرے دل کو بری طرح سے دکھی کردیتا ہے۔ مجھے اماں یاد آنے لگتی ہیں اور…‘‘
’’مانو بھی…‘‘ اس کے دل کی بات انہوں نے مکمل کی تو وہ نظریں چرا گیا۔
’’کچھ لوگوں کی قدر ان کے دور جانے کے بعد ہوتی ہے‘ تمہیں وہ اب یاد آتی ہے‘ جب وہ چلی گئی‘ جانے اب کہاں ہوگی‘ اس نے بھی پلٹ کر فون تک نہ کیا اور کرتی بھی کیوں… تم نے کون سا کوئی امید دی تھی اسے۔‘‘ وہ خاموشی سے بس بھابی کی باتیں سنتا رہا۔
جب بھابی اٹھ کر چلی گئیں تو اس نے آنکھیں موند لیں‘ یادوں کے کتنے منظر آج بھی آنکھوں میں قید تھے۔ آنکھیں بند کرتے ہی روشن ہوجاتے‘ صہیب نے یک دم آنکھیں وا کردیں۔
’’تم سچ ہی کہتی تھیں مانو… میں جان کر انجان بنتا رہا‘ حالانکہ گھر کے ایک ایک فرد کو پتہ تھا تمہارے احساسات کا مگر… بس میں ہی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔‘‘
اس کے دل سے ہوک اٹھی‘ اماں کو بھی کتنی چاہ تھی مانو کی‘ گھر کے ہر فرد کو وہ پسند تھی ماسوائے اس کے… حقیقت تو یہ تھی کہ بری وہ اسے بھی نہیں لگتی تھی‘ بس اسے ادراک نہ ہوسکا اور جب آگہی ملی تب وہ دور چلی گئی تھی۔
ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری
ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے
بڑی بھابی نے کتنی دیر بعد دروازہ ہلکا سا کھول کر جھانکا‘ وہ اب تک سوچوں میں غلطاں تھا‘ وہ دل مسوس کر اپنے کمرے میں آگئیں۔
میاں خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے‘ تھکن کے باوجود وہ لیٹی تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی… پلکیں ہلکی سی موندیں بھی تو صہیب کا چہرہ سامنے آگیا اور انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ صرف ان کا دعویٰ نہیں تھا کہ صہیب انہیں اپنے بچوں کی طرح پیارا تھا بلکہ حقیقتاً انہوں نے اپنے اس دیور کو بچوں کی طرح پالا تھا۔ نیند تو نہیں آئی تھی… ہاں پرانی یادیں ضرور ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں اولاد تو اللہ کی دین ہوتی ہے‘ جس پر وہ مہربان ہو اسے اولاد کی نعمت کسی بھی عمر میں نواز دیتا ہے… اماں (ان کی ساس) اور اباجی کی چار اولادیں تھیں تین بیٹے اور ایک بیٹی… انہوں نے اپنے بچوں کو بہت اچھی تربیت دی تھی۔ اماں ابا میں بہت پیار تھا‘ یہ سب جانتے تھے مگر لوگوں کی باتیں نرالی ہوتی ہیں‘ ان کے بچے ماشاء اللہ جوان تھے دو بیٹے برسر روزگار ہوگئے تھے‘ تیسرا بیٹا پڑھ رہا تھا… بیٹی بھی ماشاء اللہ تعلیم سے فراغت پاچکی تھی جب صہیب اس دنیا میں آیا‘ حالانکہ اماں بی خود بہت شرمندہ سی گھوما کرتی تھیں کہ بڑھاپے میں اللہ پاک نے اولاد دی مگر دنیا والوں کی زبانیں کیسے بند کردیتیں‘ زبانوں کے نشتر اور آنکھوں کے تیر اماں بی جیسے گھر میں مقید ہوگئیں‘ حالانکہ یہ تو رب کی مرضی تھی اس کا حکم تھا۔ ان کا کیا قصور مگر پھر بھی وہ چھپتی تھیں سب سے‘ جیسے کوئی جرم سرزد ہوگیا ہو‘ ابا جی نے بہتیرا سمجھایا مگر ان سے لوگوں کی نظریں برداشت نہ ہوتیں‘ بڑے دونوں بیٹوں کا بیاہ سر پر تھا‘ جب صہیب ایک سال کا بھی نہ تھا‘ چھوٹے بھائی کی ساری ذمہ داری نگہت (بہن) نے سنبھال لی تھی۔
اماں نے بیٹوں کی شادی دھوم دھام سے کی ساتھ ہی نگہت کو بھی بیاہ دیا۔ مگر اب انہیں یہ فکر لاحق تھی کہ صہیب کا کیا ہوگا۔ تابندہ بہو بن کر آئیں تو انہوں نے اگلے دن ہی لوگوں کی نظروں اور زبان سے ادا ہونے والے الفاظ سے اندازہ کرلیا کہ اماں بے چاری کیوں چھپتی ہیں… ساتھ بیاہ کر آنے والی دیورانی نے بھی انہی خیالات کا اظہار کردیا جو سب کے تھے۔
’’لو بھلا یہ عمر تھی بچے پیدا کرنے کی‘ اماں کو سوچنا چاہیے ناں بچے بڑے ہوجائیں تو ویسے ہی شرم آتی ہے۔‘‘
’’سعدیہ جو اللہ کی رضا‘ جو روح دنیا میں آنی ہے وہ آکر رہے گی‘ ہم اس کے کاموں میں مداخلت نہیں کرسکتے‘ اماں کا کیا قصور۔‘‘ دیورانی کو انہوں نے سمجھایا تو اثبات میں سر ہلا گئی اب جانے دل میں کیا ہو بہرحال دوبارہ اس نے کہا کچھ نہیں۔ تابندہ کے اپنے سسرالی ہی مذاق اڑاتے۔
’’رقیہ نے تو منہ دکھائی میں تمہیں یہ بچہ ہی دے دیا‘ پہلے ہی دن گود بھردی بہو کی۔‘‘ اماں بے چاری زمین میں گڑ جاتیں آنکھیں لبالب بھر جاتیں… تب وہی اماں کو سمجھاتی۔
’’اماں آپ کیوں محسوس کرتی ہیں یہ باتیں‘ اللہ معاف کرے‘ یہ لوگ تو یوں بکواس کرتے ہیں جیسے اولاد پیدا کرنا ہمارے اپنے بس کی ہے‘ اس کی رضا نہ ہو تو وہ اسی اولاد کو ترسا دیتا ہے‘ آپ بالکل بھی نہ سوچا کریں۔‘‘ اماں نے محبت پاش نظروں سے بڑی بہو کو دیکھا۔
’’جگ جگ جیو میری بچی۔‘‘
’’اور صہیب کی فکر بھی چھوڑ دیں‘ نگہت چلی گئی تو کیا ہوا میں ہوں ناں‘ یہ سمجھیں اب میرا بیٹا ہے۔‘‘ تابندہ نے جو کہا پھر قدم قدم پر ثابت بھی کیا‘ اللہ پاک نے ایک سال میں ہی اسے بھی بیٹا دیا جس کا نام اباجی نے احمر رکھا… احمر میں اور صہیب میں ڈیڑھ سال کا فرق تھا‘ سعدیہ کے ہاں بھی بیٹا ہوا جس کا نام حیدر رکھا گیا‘ تابندہ نے احمر کی پیدائش کے بعد بھی صہیب پر توجہ کم نہ ہونے دی تھی‘ احمر چھ ماہ کا تھا جب دیور کی شادی انہوں نے پوری ذمہ داری سے کی‘ اماں بہوئوں کو دیکھ کر جیتی تھیں‘ جنہوں نے ان کے گھر کو جنت بنا دیا تھا‘ خاص کر تابندہ نے تیسرے بیٹے کو بیاہنا ہی شاید اباجی کی خواہش تھی کہ دو ماہ بعد ہی وہ دنیا چھوڑ گئے۔ بس اس کے بعد اماں جیسے بالکل ہار گئیں… مگر بڑی بہو اور بیٹے کے حوصلے سے وہ دوبارہ جیسے جی اٹھی تھیں۔
وقت کی رفتار تو جیسے ہوا کی مانند تھی احمر کے بعد تابندہ کی گود میں طلال‘ ہادی اور دانیہ آگئے‘ سعدیہ کے ہاں حیدر کے بعد عاشی اور مناہل آئیں‘ تیسری بہو سدرہ کے ہاں بہرام‘ الوینہ اور سفیان تین بچے تھے‘ نگہت کو اللہ پاک نے دو بیٹے حمزہ اور بلال دیئے جبکہ چھوٹی بیٹی زینب (زینی) اور تمام خاندان تابندہ کی تعریف کرتے نہ تھکتا تھا جس نے دیور کو بالکل بچوں کی طرح پالا تھا‘ حیدر اور احمر تو اس سے ڈیڑھ سال ہی چھوٹے تھے جبکہ طلال‘ حمزہ‘ بہرام تین سال چھوٹے تھے‘ مگر وہ سب کا اچھا دوست تھا‘ اماں بی کو جو اس سے چڑ ہوگئی تھی‘ اب کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔
سارے بچے اکٹھے ہی کھیل کود کے بڑے ہوئے تھے‘ اسکول سے کالجز میں آگئے… صہیب کی طبیعت میں شوخی اور لاپروا تھی جبکہ احمر بہت سنجیدہ مزاج تھا‘ حیدر بھی بہت موج مستی سے زندگی گزارنے والا بندہ تھا۔ طلال کا مزاج بالکل صہیب پر گیا تھا۔ ان کے پڑوس میں برسوں سے کیپٹن کاشف کی فیملی رہائش پذیر تھی۔ بہت اچھا آنا جانا تھا‘ کاشف اور ماہ نور دو بہن بھائی تھے‘ ان کے والد شہید ہوگئے تھے۔ امی تو اب خاصی بیمار رہنے لگی تھیں‘ کاشف نے اپنے بابا کی خواہش پر آرمی جوائن کی تھی‘ چھوٹی بہن ماہ نور جسے سب پیار سے مانو کہتے تھے اس کی بہت لاڈلی تھی‘ اس کا سارا دن علی بھائی کے گھر اور ان کے بچوں کے ساتھ گزرتا‘ بچپن تک بات ٹھیک تھی مگر اب جبکہ وہ فسٹ ائر کی اسٹوڈنٹ تھی بڑی ہوگئی تھی تب بھی چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے وہ وہیں گزارتی‘ کاشف کی شادی دو سال قبل ہوئی تھی‘ شادی کے سال بعد امی بھی انہیں چھوڑ گئیں‘ خود وہ اکثر گھر سے دور ہوتا تھا‘ ایسے میں اسے سمیرا (بیوی) اور مانو کی بہت فکر رہتی تھی۔
’’کاشف ہم ہیں ناں تم قطعی ان کی فکر نہ کیا کرو… یہ دونوں بھی ہماری بچیوں کی طرح ہیں۔‘‘ علی بھائی اور تابندہ بھابی کی تسلیوں پر اسے بھروسہ تھا کیونکہ ہمیشہ ہی اچھے پڑوسی سے بڑھ کر ساتھ دیا تھا بالکل اپنوں کی طرح۔
صہیب مانو سے چار سال بڑا تھا مگر مانو کو تو سدا سے وہ اتنا اچھا لگتا کہ حد نہیں اسے صہیب کے ساتھ کھیلنا بہت پسند تھا حالانکہ وہ اکثر ہی اسے مار کر بھاگ جاتا‘ تب عاشی اور مناہل اسے چپ کراتیں مگر اگلے پانچ منٹ میں ہی وہ بھول جاتی اور پھر سے صہیب کے ساتھ کھیل رہی ہوتی تھی… وہ بچپن سے ہی پتنگیں اڑانے کا ہر درجہ شوقین تھا… سر شام ہی وہ چھت پر پہنچ جاتا بلکہ گرمیوں میں تو جب سب سو رہے ہوتے تھے وہ مانو کو بلا لاتا اور ڈور اس بے چاری کو پکڑا دیتا خود مزے سے پتنگ اڑاتا‘ وہ گرمی سے بے حال ہوجاتی مگر مجال ہے جو منع کرتی‘ اور اب بھی وہ اکثر اپنے کام مانو سے کراتا اور پھر بے نیاز بن جاتا حالانکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات ہر فرد کو پتہ چل گئی تھی کہ وہ صہیب کو کتنا چاہتی ہے… اماں کو صہیب کی پتنگ اڑانے اور کرکٹ کھیلنے والی عادتیں زہر لگا کرتی تھیں۔
’’جانے کس کم بخت نے ایجاد کی یہ موئی پتنگ میری اولاد تو نکمی کردی… جاڑا گرمی برسات کوئی موسم ہو یہ چھت پر ٹنگا بس دھاگے ہلاتا رہے گا۔‘‘ اماں کڑھتی‘ بڑبڑاتی رہتیں اور تابندہ سمجھاتی رہتی۔
’’بچہ ہے اماں… ذمہ داری پڑے گی تو سمجھ جائے گا۔‘‘
’’تابندہ ابھی بھی یہ بچہ ہے ہم نے علی کو اس عمر میں بیاہ دیا تھا‘ اگلے ماہ بائیس کا ہوجائے گا۔ آگ لگے‘ زمانے کو… میں تو کہتی ہوں بیاہ دو اسے بھی کسی کام دھندے لگے گا تو یہ ان دھاگوں میں الجھنا آپ ہی بھول جائے گا۔‘‘
’’اچھا اماں۔‘‘ وہ اماں سے بحث نہ کرتی تھیں‘ انہیں تو خود یہی تھا کہ صہیب کی نوکری لگے اور وہ کاشف اور سمیرا سے ماہ نور کو مانگ لیں‘ بچپن سے ان کے سامنے تھی دیکھی بھالی… بہت پیار ی بچی تھی۔
مگر اماں بھابی کی سوچوں اور پلاننگ سے بے نیاز وہ اپنی زندگی میں مست تھا‘ اسے مانو کی فضول باتوں سے الجھن ہوتی تھی۔ اس کی باتیں بھی تو ایسی ہی ہوتیں تھیں۔ اب بھلا بتائے کوئی موسلادھار بارش میں بھیگنا کوئی عقل مندی ہے اور محترمہ ماہ نور اشرف فرماتی تھیں۔
’’اف کتنا رومینٹک موسم ہے… چلو ناں صہیب بارش میں کرکٹ کھیلتے ہیں۔‘‘
’’لو بھلا بارش میں کرکٹ کھیل سکتے تو خوامخواہ امپائر میچ رکواتے۔‘‘
’’مجھے عشق ہے صہیب اس موسم سے۔‘‘
’’غضب خدا کا‘ آدھے گھنٹے کے عشق سے پھر ہفتہ بھر ناک سے جو جھڑی لگتی وہ کیا…؟ بکواس موسم سوں سوں کرتے پھرو… ٹشو کا پورا ڈبہ جیب میں بھرلو اور پھر ناک رگڑ رگڑ کر الگ زخمی سرخ ٹماٹر جیسی۔‘‘ وہ کتراتا تھا بارش میں بھیگنے سے۔
’’پتہ نہیں کیوں تم ایسے ہو… ذرا بھی رومانٹک نہیں ہو… چلو ناں پلیز آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔‘‘
’’ہائیں…‘‘ صہیب نے آنکھیں پھیلائیں دسمبر کے مڈ میں جب سردی عروج پر ہوتی تو اسے آئسکریم کی سوجھتی۔
’’تم پاگل ہو لڑکی… مجھے اتنی جلدی نہیں مرنا۔‘‘ اسے غش آنے لگتے۔
’’ارے یار کافی پلا دینا مگر بے چاری کو لے تو جائو۔‘‘ حیدر اور طلال اس کے پیچھے پڑ جاتے۔
’’معاف کرو مجھے‘ مجھے مرنے کا شوق نہیں چرایا‘ خود لے جائو۔‘‘
’’بصد شوق مگر کوئی ہمیں کہے بھی تو… ہم تو عمر بھر آئس کریم کھانے کو تیار ہوجائیں۔‘‘ طلال تو بچپن سے ہی ایکٹر تھا‘ غضب کی اداکاری کرتا۔
’’ہٹو پرے… مرو۔‘‘ مانو طلال کے دو تین لگا دیتی اور صہیب سے روٹھ کر چلی جاتی۔ مگر اگلے ہی دن پھر حاضر ہوتی۔ کیونکہ اسے پتہ تھا ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں اسے منانے والا کبھی نہ مناتا… اسے پروا کب تھی۔
’’ارے واہ… نیو ہیئر اسٹائل‘ غضب کی لگ رہی ہو۔‘‘ مناہل نے اسے دیکھتے ہی تعریف کی تھی۔
’’وائو یور آر لکنگ سو بیوٹی فل۔‘‘ طلال نے ہمیشہ کی طرح ہانکی‘ وہ تھی بھی پیاری گندم سی سنہری دمکتی رنگت‘ اور گہرے سنہری بال جچتے تھے اس پر اور آج ہی اس نے کٹنگ کرائی تھی یہ ہیئر اسٹائل اس پر بہت سوٹ کررہا تھا‘ سب نے ہی سراہا مگر جس کے لیے وہ آئی تھی اسے کاغذ کے اڑتے ٹکڑوں سے ہی شغف تھا بس وہ بری طرح کلس کر رہ گئی۔
’’کاش میں پتنگ ہوتی کم از کم توجہ تو دیتے تم۔‘‘ وہ منہ پھیلا کر کہتی‘ صہیب نے بس پل بھر کو دیدے گھما کر سنہری چہرے کو دیکھا۔
’’اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ وہ جانتی تھی یہ صرف ایویں ہی ہے‘ کڑھ کر دو تین دھموکے لگائے تو اس کی پتنگ کٹ گئی۔
’’یہ کیا کیا…؟‘‘ وہ بری طرح تپ جاتا۔
’’بہت اچھا ہوا۔‘‘ سیاہ کٹورے پانیوں سے لبالب بھر جاتے اور صہیب اسے گھور کر رہ جاتا۔
’’لو بھلا نقصان بھی میرا اور اب رونے خود لگ گئی۔‘‘
’’بہت برے ہو تم۔‘‘ وہ اپنی آنکھیں رگڑتی تو وہ بتیسی نکال دیتا۔
’’اطلاع کا شکریہ۔‘‘ وہ اس کے سنہری بالوں کو کھینچ کر فرار ہوجاتا‘ مانو چیختی رہ جاتی۔
پھر اس کی شوخیوں میں ٹھہرائو آگیا اس کی نوکری لگ گئی اس کی من پسند جاب وہ خوش تھا اور اس سے زیادہ خوش اماں اور بھابی۔
’’بہت بہت مبارک ہو صہیب احمد۔‘‘ شام میں اس نے خود کیک بنایا تھا اس کے لیے اور پہلی دفعہ صہیب نے بنا کسی چھیڑ چھاڑ کے خوش دلی سے کیک کھایا اور مانو کو شکریہ کہا۔ اماں کو تو بس اس کی شادی کی فکر دن رات ستانے لگی تھی۔
’’اماں میرا بڑا دل ہے اگر مانو ہمارے صہیب کی دلہن بنے۔‘‘
’’ہاں تو انکار کسے ہے۔‘‘ اماں کی تو باچھیں کھل گئیں۔
’’بس اماں پھر مانو کے ایگزام ہوجائیں اس بار کاشف سے اس کا ہاتھ مانگ لیتے ہیں۔‘‘ بڑوں کی باتوں سے انجان وہ سب صہیب سے ٹریٹ لینے کے چکر میں تھے۔
’’یار تمہاری تنخواہ پر پہلا حق ہمارا ہے۔‘‘ احمر اور حیدر نے حق جتایا۔
’’نہیں… چاچو کی پے پر پہلا حق تو صرف محترمہ ماہ نور اشرف کا ہوسکتا ہے۔‘‘ طلال اکثر ہی انہیں چھیڑتا رہتا تھا۔
’’تیری بکواس کبھی بند نہیں ہوسکتی۔‘‘ صہیب نے گھرکا۔
’’ارے اچھا چلو مانو سے پوچھ تو لو ناں کہ کیا کھانا چاہئے‘ یہ سچ ہے کہ تمہارے لیے سب سے زیادہ دعائیں اس نے کی ہوں گی۔‘‘ حیدر نے کہا۔
’’ہاں تو محترمہ ماہ نور اشرف کیا کھانا پسند فرمائیں گی آپ۔‘‘ ان سب کے کہنے پر صہیب نے باادب انداز میں سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکرادی۔
’’میرے لیے یہی بہت ہے کہ تم نے پوچھا… تمہاری مرضی جو تم خوشی سے کھلا دو گے ہم کھالیں گے۔‘‘
’’زہر کھلادوں۔‘‘ صہیب نے دیدے نکالے۔
’’بصد شوق اگر تم اپنے ہاتھ سے کھلائو تو۔‘‘ صہیب نے سر پیٹ لیا۔
’’تم نہیں سدھروگی۔‘‘
’’تم کبھی سمجھو گے نہیں صہیب احمد۔‘‘ دوبدو جواب دیا… وہ ان سب کو باہر لے گیا اور واپسی پر سب نے ارادتاً ان دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
’’تمہارے تو فائنل ایگزام ہیں ناں۔‘‘
’’ختم ہوگئے۔‘‘ مانو نے پُرشکوہ نگاہ سے اسے دیکھا۔
’’تمہیں واقعی میں بہت بری لگتی ہوں۔‘‘
’’اب میں نے کیا کہہ دیا۔‘‘
’’تمہیں میری قطعی پروا نہیں ہے صہیب…‘‘
’’تم ناسمجھ بچی ہو جو پرواہ کروں… تم خود اپنی پروا کرسکتی ہو۔‘‘
’’کیا واقعی تم اتنے انجان ہو۔‘‘ اس نے آس سے صہیب کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ قطعی انجان انداز مانو کے ارمانوں پر اوس ڈال گیا‘ اس دن کے بعد اس نے صہیب سے پوچھنا ہی چھوڑ دیا… ویسے بھی اب پہلے والی بات نہیں رہی تھی… وہ شام میں آتا تھا‘ پھر بس کچھ دیر ہی سب کے ساتھ بیٹھتا تھا اور باہر نکل جاتا۔
’’اب کی بار کاشف آئے گا تو ہم مانو کا ہاتھ مانگ لیں گے صہیب تمہیں اعتراض تو نہیں۔‘‘
’’بھابی…!‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’وہ کم عقل لڑکی ہے جذباتی سی آپ لوگ بھی اس کے ساتھ سیریس ہوگئے…‘‘
’’مطلب تمہیں مانو پسند نہیں…‘‘
’’بھابی میں نے کبھی اس طرح سوچا ہی نہیں۔‘‘ بھابی اس کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر چپ ہوگئیں۔
کاشف آیا تو پتہ چلا اس بار وہ فیملی کو ساتھ لے کر جارہا ہے‘ اماں تو بولائی پھرتیں کہ مانو کی بات کیسے کریں بھابی نے چپ سادھ لی کہ جب صہیب کی ہی مرضی نہیں ہے تو کیا فائدہ۔
’’ہم کل جارہے ہیں صہیب۔‘‘ وہ بہت اداس تھی اس امید پر آئی تھی کہ شاید کوئی جگنو مل جائے آس بھرا… صہیب نے موبائل سے لمحے بھر نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا… مگر آج وہ ہمیشہ کی طرح اگلے پل نگاہ موڑنہ سکا… اس کے چہرے پر اداسی کا ڈیرہ تھا… حسن ومایوسی کا امتزاج بلا کا تھا۔
’’بھیا کہتے ہیں ہم اب یہاں نہیں آئیں گے وہیں رہیں گے بھیا کا ٹرانسفر ہوگیا ہے مستقل۔‘‘
’’اچھا ہے انہیں اکیلے رہنا پڑتا تھا۔‘‘ مانو نے اس کے جواب پر کتنی دیر تک اس کا چہرہ دیکھا تھا۔
’’ہم نے بچپن ساتھ گزارا ہے‘ تمہیں ذرا بھی دکھ نہیں ہے صہیب میرے جانے کا۔ شاید میں ہی احمق ہوں جو ہمیشہ تم سے امیدیں باندھ لیتی ہوں‘ وگرنہ تم نے تو کبھی مجھے اچھا سمجھا ہی نہیں ناں۔‘‘ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ ’’میں غلط تھی… میری دیوانگی غلط تھی صہیب… پتہ نہیں تم واقعی انجان ہو یا بنتے ہو… مگر اچھا ہی ہے میں کم از کم آج سے خوش فہمیوں میں سفر نہیں کروں گی۔‘‘ وہ روتے ہوئے چلی گئی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اگلے دن وہ آئی نہیں اور وہ اس کا انتظار کرتا رہ گیا تھا۔
{…٭…}
پرانی یادوں میں الجھتے جانے کب اسے نیند آئی تھی مگر جب فجر کی پہلی اذان ہوئی تو وہ پھر اٹھ گئی‘ صہیب بھی وضو کرکے شاید نماز کے لیے جارہا تھا… اماں بی کتنا کڑھتی تھیں ہمہ وقت انہیں صہیب کی لاپروائی کھلتی تھی مگر مجال ہے جو اس کے کان پر جوں بھی رینگی ہو… اور اب جب وہ دیکھنے کو رہی ہی نہ تھیں تب صہیب احمد ان کی پسند کے خاکے میں ڈھل گیا تھا۔
نماز روزے کی پیچھے کتنا بولتی تھیں وہ مگر انہیں تو صہیب کی طرف سے کبھی سکھ جیسے ملا ہی نہیں اور اب صہیب کو یہی بات بے کل رکھتی تھی اماں اس سے ناراض ہی چلی گئیں۔ نماز کے بعد وہ اکثر واؔک کے لیے نکل جاتا تھا اور احمر اور صہیب پھر اکٹھے ہی گھر آتے ناشتہ کرتے تیار ہوکر آفس نکل جاتے مگر آج چونکہ سنڈے تھا احمر کا جلد اٹھنا ممکن نہ تھا سو وہ اکیلا جب واک کرکے واپس آیا تب بھی گھر میں ہو کا عالم تھا‘ ساری مخلوق سنڈے منا رہی تھی‘ کتنے عرصے بعد آج اس کا دل چھت پر جانے کو چاہا تھا وگرنہ اماں کے بعد اس نے اوپر جانا ہی ترک کردیا تھا۔
خوب صورت اور حسین سویرا تھا‘ آسمان پر ہلکی ہلکی سرخی غمازی کررہی تھی کہ آفتاب کی آمد ہے اور میٹھی میٹھی سی مہک اور ہلکی ہلکی ہوا بہت بھلی معلوم ہورہی تھی‘ وہ چاروں طرف دیکھنے لگا کبھی یہ چھت ان کی آوازوں سے گونجا کرتی تھی۔
’’خوب صورت پل کتنے مختصر ہوتے ہیں‘ ایسے گزر جاتے ہیں جیسے ہوا کے جھونکے تیزی سے انسان کو چھو کر آگے گزر جاتے ہیں‘ بس فضا میں اپنی مہک چھوڑ جاتے ہیں اس کی زندگی کے وہ پل بھی اپنی مہک اتنی گہرائی سے چھوڑ گئے تھے کہ من بستی میں نقش ہی ہوگئے۔‘‘ مانو سے جڑی ہر بات اسے آج چھت پر آکر کتنی شدت سے یاد آئی تھی‘ اس کا لہراتا آنچل‘ چہرے کو چھوتی آوارہ بالوں کی لٹیں اور ہنسی کی جھنکار‘ جسے کبھی وہ کھی کھی‘ کہہ کر سخت چڑتا تھا۔
’’کچھ لوگ پھولوں کی مانند ہوتے ہیں ناں صہیب‘ جو خود دور بھی چلے جائیں مگر اپنی خوشبو کا حصار ہمارے چاروں طرف چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘ احمر کی آواز پر وہ بری طرح چونکا۔
’’تم اٹھ گئے۔‘‘ پھیکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں کا خاصہ ہی بن گئی تھی۔
’’مانو یاد آتی ہے ناں صہیب…‘‘ وہ اسے چاچو نہیں کہتا تھا ساتھ کھیلے تھے نام لیتا تھا شروع سے۔
’’پتہ نہیں۔‘‘ وہ پھر رخ موڑ کر کاشف بھائی کی چھت کو خالی نگاہوں سے تکنے لگا۔
’’کم از کم خود سے سچ بولنا سیکھ لے یار… گھر کا ہر فرد جانتا ہے تم کیسے بے کل گھومتے ہو… مگر یہ تو طے ہے ناں اپنا یہ نقصان تم نے خود کیا ہے‘ مما نے تو تم سے پوچھا تھا‘ کیونکہ اماں اور مما کی خواہش تھی کہ مانو تمہاری دلہن بنے۔‘‘ وہ لب بھینچے احمر کی باتیں سن رہا تھا۔
’’ضروری نہیں ہے صہیب محبت مہندی کے رنگ کی طرح تیزی سے نمایاں ہوجائے… محبت کے رنگ دھیمے دھیمے اپنا اثر چھوڑتے ہیں مگر وہ رنگ پھر ان مٹ ہوتا ہے‘ کبھی پھیکا نہیں پڑتا‘ تمہیں ادراک دیر سے ہوا مگر تمہارے اندر محبت کا رنگ اپنا اثر چھوڑ گیا تھا گہرا ہونے سے پہلے مانو ہار مان کر چلی گئی۔‘‘
’’اب ان تمام باتوں کا کیا مطلب؟ بے معنی ہیں یہ سچائیاں بھی۔‘‘ آخر کار وہ اقرار کر گیا۔
’’بے معنی نہیں ہیں صہیب محبت وہ جذبہ ہے کہ انسان سچے دل سے اپنے خالق سے کرکے اسے پالیتا ہے‘ تم کیسے ہار مان کر بیٹھ سکتے ہو۔‘‘ انتہائی سنجیدہ اور روڈ رہنے والے احمر کی باتیں اسے تحیر میں مبتلا کر گئیں… ہار تو وہ بھی نہیں مان رہا تھا‘ وہ اپنی تمام تر دعائوں میں اسے یاد رکھتا تھا اور اسے یقین کامل تھا کہ وہ ایک دن اسے تلاش کرلے گا‘ سو اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی یادیں کوزے میں بند کیں اور لمحہ بھر میں اس حصار سے باہر آگیا۔
’’امیزنگ یار… تم جیسے پریکٹیکل بندے کے منہ سے صبح سویرے محبت پر لیکچر وہ بھی بنا ناشتے کے‘ ہضم نہیں ہورہا۔ بائی دی وے میں مان لوں کہ مناہل صرف بھابی کی خواہش نہیں ہے۔‘‘ صہیب نے شرارت سے آنکھ مارتے ہوئے کہا‘ احمر زیرلب مسکرادیا۔
’’جس طرح عورت کی خاموشی میں اقرار چھپا ہوتا ہے تو مرد کی مسکراہٹ میں سچ اور اقرار پوشیدہ ہوتا ہے بھانجے۔ مگر ایک بات بتائو‘ اگر وہ واقعی یہ سچ ہے تو تم ہر وقت میری بھتیجی کو ہٹلر کی طرح ڈرا دھمکا کر کیوں رکھتے ہو۔‘‘
’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے میں صرف اس کی بے تکی اور ناسمجھ باتوں پر ڈانٹتا ہوں کیونکہ میں اسے پرفیکٹ دیکھنا چاہتا ہوں‘ تبھی اس کی خامیاں اس کی غلطیاں سدھارنے کے لیے اسے ٹوکتا ہوں۔‘‘
’’اتنی سمجھدار ہے وہ… گھر کی تمام لڑکیوں سے زیادہ‘ ہر کام میں پرفیکٹ ہے اتنی سوفٹ نیچر ہے… پیارا سا دل ہے۔‘‘
’’مجھے اس کی تمام خوبیوں کا علم ہے تم میری نالج میں اضافہ نہ کرو… میں جیسا ہوں ویسا رہنے دو… ضروری نہیں محبت کا ٹھیکہ تم نے اور طلال نے ہی اٹھا رکھا ہے۔‘‘ وہ سیڑھیاں اترتا… اسے جتانا نہ بھولا تھا۔
{…٭…}
’’مناہل پلیز مجھے آملیٹ بنادو مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ طلال اس کے سر پر کھڑا تھا۔
’’اوکے پانچ منٹ ویٹ کرلو…‘‘ مناہل احمر کے لیے پراٹھا بیل رہی تھی… طلال لیٹ ہورہا تھا۔
’’ہونے والے مجازی خدا کی اتنی فکر ہے‘ دیور کا احساس نہیں ہے تمہیں۔ یار وہ تو لیٹ جاتا ہے پلیز پہلے میرے لیے پکا دو۔‘‘
’’خود پکالو۔‘‘ ٹکا سا جواب ملا تو منہ بنا کر جانے لگا… احمر ابھی آیا تھا مگر طلال کی بات سن لی تھی اس نے۔
’’مناہل تم اسے پہلے آملیٹ فرائی کردو‘ بھوکا جارہا ہے۔‘‘
’’ہوں… اب اوپر سے آڈر ہوا ہے ناں اب دیکھو کیسے ہاتھ چلے۔‘‘ احمر کی بات پر مناہل نے اثبات میں سر ہلایا اور طلال کے لیے آملیٹ فرائی کرنے لگی‘ تبھی بڑی مما بھی آگئیں‘ ان کے پیچھے ہی حیدر تھا۔
’’مناہل میری چائے۔‘‘ وہ اکیلی تھی دو ہاتھ مگر صبح صبح کی افتاد اسے زچ کردیتی تھی۔ مجال ہے جو عاشی یا دانیہ ذرا بھی ہاتھ ہلاتی ہوں‘ ابھی الوینہ اور سفیان نازل ہوجائیں گے انہیں یونیورسٹی جانا ہوتا تھا‘ سفیان نے اسکول جانا ہوتا۔
’’آپی میرے لیے جوس بنادیں ناں۔‘‘
’’فریج میں رکھا ہے پی لو۔‘‘ برداشت کی آخری حد تھی اس کا چہرہ صاف غمازی کررہا تھا طلال کے سامنے اس نے آملیٹ کی پلیٹ جس طرح رکھی تھی احمر بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپا پایا‘ کبھی کبھی وہ اس کے ساتھ واقعی زیادتی کردیتا تھا‘ ناشتے کی یہ سخت ڈیوٹی بھی اس نے لگائی تھی اس کی کہ بڑی مما اور چھوٹی مما کو صبح میں کتنی پریڈ کرنی پڑتی ہے‘ تم ان کے ساتھ ہیلپ کروگی‘ مما کی طبیعت کل سے خراب تھی۔ چاچی کو کئی دن سے الرجی تھی سو بڑی مما کے ساتھ وہ اکیلی خوار ہورہی تھی۔ صبح میں ہر کسی کو صرف اپنی پڑی ہوتی ہے۔ ایسی بھگڈر مچتی ہے کہ اللہ معافی۔ ابھی تو آدھی عوام اپنی تیاری میں لگی ہوئی تھی ورنہ اب تک ٹیبل بجنا شروع ہوجاتا۔ طلال اور الوینہ کو ناشتہ دے کر اس نے سفیان اور حیدر کی فرمائشی لسٹ پوری کی تھی۔ تب تک بہرام اور ہادی بھی آموجود ہوئے۔
’’آج میری میٹنگ ہے یار مناہل ذرا جلدی کردو۔‘‘ بہرام نے آتے ہی جلدی مچائی وہ کلس کر رہ گئی اگر یہاں احمر نہ ہوتا تو وہ سب کی طبیعت صاف کردیتی جان بوجھ کر فائدے اٹھاتے ہیں سارے کہ اس کے سامنے وہ بول نہیں سکتی تھی۔
’’میں کیا کروں‘ دس منٹ لگ جائیں گے۔‘‘ اس نے توے سے پراٹھا اتار کر احمر کے آگے رکھا‘ مگر بہرام نے فوراً اپنی طرف کھسکالیا۔
’’یہ کیا جہالت ہے۔ میں لارہی ہوں ناں۔‘‘
’’یار تم تو لیٹ جاتے ہو پلیز۔‘‘ بہرام نے التجا کی احمر نے مان لی‘ ہادی ازل کا بے صبرا تھا وہ بہرام کے ساتھ ہی لگ گیا۔ مناہل کو جلدی جلدی ہاتھ چلانے پڑے۔
’’چائے میں شوگر کم ہے یار۔‘‘ حیدر نے صدا لگائی۔
’’وہی تو میں زہر مار کررہا ہوں‘ اب کیا کریں ہونے والی بھابی ہے۔‘‘ طلال کو موقع درکا تھا اور یہیں تک مناہل کی برداشت کی حد تھی اس نے چمٹا دور پھینکا اور طلال کے سر پر پہنچ گئے۔
’’میں کب سے پاگلوں کی طرح تم سب بدتمیزوں کی لسٹ پوری کررہی ہوں اور تم…‘‘ بڑی مما جانتی تھیں کہ ارادتاً اسے تنگ کیا جارہا ہے تبھی وہ مناہل کی فیور میں تھیں۔
’’مرو سب‘ بھاڑ میں جائو اب کسی کو کچھ نہیں ملنے والا۔‘‘ اس نے دھپ کرکے کرسی سنبھالی تو سب کو فکر لاحق ہوئی‘ اگر واقعی وہ ضد پر آگئی تو سب لیٹ ہوجائیں گے۔
’’ارے یار لعنت بھیجو ان پر‘ ہمیں کیوں سزا دے رہی ہو… پلیز پیاری بہنا۔‘‘ ہادی نے مکھن لگایا مگر اثر ندارد تھا۔ مما ہی نے سب کو ناشتہ دیا۔
’’قریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل میں نے تم سے پراٹھے کا کہا تھا شاید۔‘‘ حالانکہ احمر کو اس سے ہمدردی تھی مگر اس نے قطعاً لہجے سے ظاہر نہیں کی‘ وہ آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی اٹھی۔ تبھی بڑے پاپا آگئے۔
’’مناہل بچے میرا ناشتہ کمرے میں لے آئو۔‘‘
’’جی بابا۔‘‘ اس نے سر ہلایا مگر ڈر یہ تھا کہ احمر نہ شروع ہوجائے کہ واقعی وہ سب سے پہلے آیا تھا‘ مگر اس نے جب احمر کی طرف دیکھا تو وہ سہولت سے بولا۔
’’پہلے بابا کو ناشتہ دے آئو۔‘‘ بابا تو بس سلائس لیتے تھے اور دودھ اس نے ان کے لیے ٹرے میں ناشتہ رکھا تو عاشی آگئی۔
’’عاشی تم نے ٹائم دیکھا ہے… کم از کم صبح میں جلدی اٹھ کر مما اورمناہل کے ساتھ ہیلپ کرادیا کرو‘ حد کردیتی ہو‘ اب یہ ناشتہ بابا کو د ے آئو۔‘‘ احمر نے آتے ہی اس کی کلاس لی۔ مناہل نے جلدی سے اس کا ناشتہ بنا کر سامنے رکھا۔
’’تم نے ناشتہ نہیں کرنا۔‘‘
’’ہائیں۔‘‘ اس کے تو دیدے ہی پھیل گئے‘ احمر علی کو اس کی فکر…؟؟
’’مزاج سخت ضرور ہے محترمہ مگر دل کا برا نہیں ہوں اندازہ ہے مجھے کہ تمہیں صبح میں کتنا خوار ہونا پڑتا ہے۔‘‘
’’شکر ہے اللہ کا۔‘‘ اس نے دل میں سوچا‘ کیونکہ اس کے سامنے جواب دینے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔
’’میں بڑی مما کے ساتھ کرلوں گی‘ مجھے مما کے لیے دلیہ پکانا ہے ابھی۔‘‘ چائے کا مگ اس کے سامنے رکھ کر وہ تیزی سے مڑی۔
’’مما جب تک بابا نہیں جائیں گے اب نہیں آئیں گی چھوٹی مما ابھی سو رہی ہیں‘ عاشی اور دانیہ اپنے لیے خود سب کرسکتی ہیں‘ سو تم شرافت سے بیٹھ کر ناشتہ کرلو۔‘‘ لاچار چیئر گھسیٹ کر بیٹھنا پڑا… احمر نے اس کے جھکے ہوئے سر پر نگاہ ڈالی اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا۔
’’ارے یار… ٹھہرو میں ذرا دیکھ لوں کہ آج سورج مشرق سے نکلا ہے یا مغرب سے۔‘‘ صہیب کچن میں داخل ہوا تو ان دونوں کو دیکھ کر بنا بولے نہیں رہ سکا۔
’’اسے نکلے بہت دیر ہوگئی ہے‘ تم اندازہ نہیں کرسکو گے۔ بہتر ہے ٹک کر بیٹھ جائو اور ہمیں دیکھ کر جلنے کے بجائے ناشتہ کرو۔‘‘ احمر سے ایسے جواب کی توقع باآسانی کی جاسکتی تھی۔
’’چاچو میں آپ کے لیے کافی لاتی ہوں۔‘‘ وہ ناشتہ کے نام پر فقط کافی لیتا تھا۔
’’مسٹر صہیب احمد… زندگی کو کافی کی تلخی سے ختم کرنے سے بہتر ہے اس میں مٹھاس گھولو… اور…‘‘
’’بس کردے میرے باپ صبح صبح تقریر…‘‘ جواباً صہیب نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تو وہ مزے سے اسے چڑاتا چائے پینے لگا۔
{…٭…}
آج کاشف بھیا کی دوسری برسی تھی۔ دو سال بیت گئے تھے انہیں جدا ہوئے مگر مانو کی نگاہوں میں ابھی بھی وہ منظر تازہ تھا جب اس کے شہید بھائی کی باڈی آئی تھی اور کیسے اس نے بھابی اور بچوں کو سنبھالا تھا۔ اس دن مانو نے بھیا کی باڈی کے سامنے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی بھابی اور بچوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ قرآن خوانی کے بعد جب تمام مہمان رخصت ہوگئے تو وہ بھابی کے پاس آئی‘ بھابی نے اس کی نم آنکھیں دیکھ لیں تھیں تبھی خود سے لگالیا۔
’’دو سال گزر گئے بھابی‘ ہمیں لگتا تھا ہم ایک پل بھی بھیا کے بنا نہیں جی پائیں گے مگر کتنی بے وفا ہے ناں یہ دنیا… یہ ناتے‘ ہم ان تمام لوگوں کے بنا جی لیتے ہیں جن کو دیکھے بنا ہمیں پل بھر بھی سکون نہیں آتا تھا۔‘‘
’’یہی نظام کائنات ہے مانو۔‘‘ بھابی نے اس کی آنکھیں صاف کیں پھر کافی دیر اسے سمجھاتی رہیں۔
’’عباس صاحب کیا کہہ رہے تھے بھابی؟‘‘ جب کچھ سنبھلی تو اس نے پوچھا… بھابی نے گہری سانس خارج کی۔
’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ اسے لگا بھابی جھوٹ بول رہی ہیں‘ عباس صاحب نے ضرور کوئی بات کی ہے بھابی کے چہرے سے پریشانی نمایاں ہورہی تھی۔
’’چھپا رہی ہیں ناں…؟‘‘ اس نے بھابی کا چہرہ دیکھا۔
’’بتا کر بھی کیا فائدہ۔‘‘
’’پلیز بتائیں ناں کرایہ بڑھانے کا کہہ رہے ہوں گے۔‘‘
’’نہیں… انہوں نے گھر سیل کرنا ہے کہہ رہے تھے اپنا بندوبست کرلیں دو ماہ دیئے ہیں۔‘‘
’’دو ماہ‘ بھابی دو ماہ میں گھر کہاں ملے گا‘ اتنی مشکل سے تو یہ ملا تھا‘ کم از کم چار پانچ ماہ دینے چاہیں انہیں۔‘‘ اسے فکر لاحق ہوئی بھیا کے بعد قریباً چھ ماہ تو وہ گورنمنٹ کی طرف سے ملے گھر میں رہے تھے پھر رینٹ پر گھر لے لیا اور اب؟
’’کاش میرے پاس اتنے پیسے ہوتے تو ہم ہی خرید لیتے یہ گھر… اپنا گھر تو ہوتا۔‘‘
’’اپنا گھر تو ہے مانو… وہ گھر جو تمہارے امی ابو کی نشانی ہے تمہارے بھیا کو کتنی محبت تھی اس گھر سے… وہ ویران پڑا ہے چار سال سے۔‘‘ بھابی نے ایک بار کوشش کی تھی کہ شاید اب مانو مان جائے وہاں واپس لوٹنے کو لیکن وہ اب بھی چپ تھی۔
’’میں دیکھتی ہوں کسی پراپرٹی ڈیلر سے کہتی ہوں‘ ان شاء اللہ ہمیں جلد مل جائے گا گھر۔‘‘ اس کے جواب نے واضح کردیا تھا کہ وہ وہاں جانے کو اب بھی راضی نہیں۔
’’جب تم کہتی ہو کہ تمہیں اس سے کوئی امید نہیں تم نے سب کچھ بھلا دیا ہے پھر کیوں جانا نہیں چاہتیں وہاں؟‘‘
’’چار سال لگے بھابی خود کو سمجھانے میں‘ کیونکہ وہ شخص میرے سامنے نہیں تھا… مگر میں جانتی ہوں اگر وہ میرے سامنے آگیا تو میں پھر سے… پلیز بھابی… مجھ میں شاید ہمت نہیں رہی میں نہیں فیس کرپائوں گی اگر وہ کسی اور کا ہوگیا تو…‘‘ وہ جانتیں تھیں اس کی دیوانگی… صہیب احمد کی محبت آج بھی اس کے رگ وپے میں تھی مگر وہ کمزور نہ پڑجائے اس لیے جانا نہیں چاہتی تھی۔
’’اپنا گھر ہوتے ہوئے بھی ہم کرائے کے مکان کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔‘‘
’’ہم وہ گھر سیل کرکے یہیں اپنا گھر لے لیتے ہیں۔‘‘ مانو کی بات پر ان کے دل کو کچھ ہوا۔
’’نہیں مانو میں وہ گھر کبھی نہیں بیچ سکتی… میری تو ہر یاد اس گھر سے جڑی ہے میرے شوہر کو اپنے گھر سے محبت تھی‘ میں ان کی محبت ان کی نشانی کسی صورت نہیں بیچ سکتی۔‘‘ وہ دونوں ہی اپنے موقف پر اڑی ہوئی تھیں۔
{…٭…}
’’اگلے اتوار کو احمر اور مناہل کی شادی طے کرنی ہے۔‘‘
’’مما سب کچھ تو طے ہے اب کیا کرنا ہے۔‘‘ طلال نے بیچ میں بولا۔
’’تیری زبان میں لازماً کھجلی ہوتی ہے۔ پہلے ان کی سن تو لیا کرو۔‘‘ صہیب نے لتاڑا۔
’’بڑی بھابی صرف احمر کی‘ حیدر کی نہیں؟‘‘
’’نہیں حیدر نے سی ایس ایس مکمل کرنا ہے۔‘‘
’’احمر… کاش مجھے آفر ملتی۔‘‘ طلال پھر بڑبڑایا۔
’’کیا بکواس کررہے ہو۔‘‘ چھوٹی مما نے شاید سن لیا تھا۔
’’نتھنگ مما… میں چاچو کے لیے اداس ہوں۔‘‘
’’مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ صہیب نے آنکھیں پھیلائیں۔
’’یار صہیب تجھے اندازہ نہیں ہوا‘ لوگ اپنے دل کے درد کو زبان دے رہے ہیں نام تمہارا لگا رہے ہیں۔‘‘ حیدر نے لمحے بھر میں عزت افزائی کردی۔
’’ارے ہاں یار چاچو سے یاد آیا… کل میں نے کاشف بھائی کا گیٹ کھلا ہوا دیکھا تھا۔‘‘ ہادی نے کل صبح کا منظر یاد کرتے ہوئے کہا۔
’’میرا اس سے کیا تعلق؟‘‘
’’تعلق تو بہت گہرا تھا سجن
تم نے ہی نہ نبھایا سجن
بے تکی شاعری میں کمال حاصل تھا طلال علی کو تبھی تو حوصلہ افزائی کے طور پر زور کا جھانپٹر کان کے نیچے لگایا تھا۔
’’ہر وقت بے تکی ہانکتا رہتا ہے… یار کبھی تو سنجیدہ ہوجایا کر۔‘‘ صہیب نے سنجیدگی سے کہا‘ طلال کی بکواس تبھی پیشانی پر سلوٹیں نمایاں ہوگئیں۔
’’ایم سوری یار چاچو آپ کو برا لگا؟‘‘ جواباً صہیب نے کچھ نہ کہا‘ حیدر جانتا تھا کہ وہ پہلے ہی کافی اپ سیٹ ہے ذہنی طور پر… کیونکہ رات ہی تو بڑے بابا نے اس کی اچھی خاصی انسلٹ کردی تھی‘ وہ چاہتے تھے احمر کے ساتھ ہی صہیب کا فرض بھی ادا ہوجائے‘ مگر وہ مسلسل انکاری تھا… احمر اور حیدر کو بہت محسوس ہوا تھا جب بابا نے صہیب کو ڈانٹا تھا‘ ظاہر ہے وہ تقریباً ہم عمر تھے پھر ان میں اچھی دوستی تھی‘ یہ سچ تھا کہ صہیب نے نادانی کی تھی۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ نافرمان تھا۔
’’چل صہیب باہر چلتے ہیں؟‘‘
’’نہیں میں آپی کی طرف جارہا ہوں… مے بی رات کو نہ آئوں۔‘‘ اس کی بات پر ہال روم میں موجود ہر فرد نے حیران ہوکر دیکھا… اول تو وہ بہت کم نگہت کی طرف جاتا تھا‘ رات کو رکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا… تابندہ نے دکھ سے اس کا اترا چہرہ دیکھا پھر حیدر کو کیونکہ انہیں امید تھی حیدر اور احمر ہی اسے سمجھا سکتے تھے۔
’’ہاں تو میں بھی چلتا ہوں ناں کافی دن سے پھوپو سے ملا بھی نہیں۔‘‘ وہ بھی صہیب کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ صہیب نے باہر آکر گاڑی نکالی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ صہیب نے گاڑی ایک قریبی پارک میں روکی تھی۔
’’پھوپو کی طرف نہیں جانا؟‘‘
’’نہیں…‘‘ گاڑی لاک کرکے وہ چلا تو حیدر نے بھی قدم بڑھادیے۔
’’اپ سیٹ ہے ناں۔‘‘
’’یار میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میں بھیا اور بھابی کی ہر بات مانوں اور میں نے مانی بھی ہے جیسے بھیا کہتے ہیں میں کرتا ہوں‘ صرف میری ایک یہ خواہش جسے انہوں نے میری ضد کہا ہے مجھے اعتراف ہے حیدر کہ میں نے اپنی غلطی کے باعث کھویا ہے اسے۔ کم از کم مجھے کچھ وقت تو دیں اگر وہ میرا نصیب ہے تو میں اسے ڈھونڈ لوں گا‘ وگرنہ خود آکر کہہ دوں گا کہ اب بھیا جہاں چاہیں میری شادی کردیں بٹ… کچھ وقت تو دیں ناں مجھے۔‘‘ حیدر کو جو اندازہ تھا صد فی صد درست تھا‘ صہیب کی بھڑاس نکلی تھی۔
’’میری غیر ذمہ داری اور لاپروائی کہہ لو یا کم عمری… اماں کی آخری خواہش پوری نہ ہوسکی‘ مگر حیدر بخدا میں نے کبھی ارادتاً اماں کی نافرمانی نہیں کی… شاید انہیں مجھ سے بہت ساری امیدیں تھیں اور میری بدنصیبی کہ میں ان کی امیدوں پر پورا نہ اترسکا۔ اب کیا مجھے قدم قدم پر یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ میری ماں میرے باعث اس دنیا سے گئی۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے یار… اماں بی چاہتی تھیں تمہاری خوشیاں دیکھیں… مگر یہ تو اللہ رب العزت کی رضا تھی‘ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں… تم کیوں اس طرح سوچ رہے ہو۔‘‘ حیدر نے اس کے کندھے پر مضبوطی سے ہاتھ رکھتے ہوئے سمجھایا۔
’’میں ایسا کچھ نہیں سوچ رہا حیدر… رات تمہارے سامنے بھیا نے یہ الفاظ کہے ہیں‘ حیدر یار اب مجھ سے روز روز یہ بحث برداشت نہیں ہوتی میں مزید یہاں رہا تو شاید بھیا سے بدتمیزی کر بیٹھوں اور ایسا میں نہیں چاہتا‘ وہ میرے محسن ہیں‘ میرے لیے ابو کی جگہ پر ہیں۔‘‘ صہیب نے رات کی باتوں کو ضرورت سے زیادہ دل پر لیا تھا۔
’’مجھے کم از کم تم سے یہ امید نہیں تھی صہیب تمہیں پتہ ہے بڑے بابا نے ہائپر ہونا ہوتا ہے محض دس منٹ بعد وہ اپنی کہی ہر بات بھول جاتے ہیں۔‘‘
’’ہاں مگر ضروری نہیں کہ ان کی کہی باتیں دوسرے بھی بھول جائیں‘ ٹین ایج میں ہر انسان غلطیاں کرتا ہے میں نے بھی کیں اور ایسا میں نے کیا ہی کیا ہے؟ صرف یہی کہ بڑی بھابی کے لاڈ پیار نے مجھے ضرورت سے زیادہ لاپروا بنادیا تھا‘ میرے اندر کا بچپنا دیر سے گیا‘ میں احمر کی طرح سنجیدہ مزاج نہیں تمہاری طرح ذمے دار نہیں‘ ہر انسان کا مزاج اس کی نیچر مختلف ہوتی ہے حیدر… اور اب میں نے کتنی کوشش تو کی ہے خود کو بدلنے کی۔‘‘
’’اوکے پلیز کول ڈائون…‘‘ حیدر نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ ’’صہیب تم یہ کیوں سوچتے ہو کہ تم احمر یا میری طرح نہیں ہو تم جیسے بھی ہو ناں بہت اچھے ہو تمہاری اپنی شخصیت ہے… اپنا مزاج ہے‘ فار گاڈ سیک بابا کی باتوں کو ذہن پر اتنا سوار مت کیا کرو حالانکہ تمہیں علم ہے کہ جب انہیں مجھ پر یا احمر‘ طلال‘ ہادی کسی پر بھی غصہ آتا ہے وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرتے ہیں۔‘‘
’’آئی نو کہ وہ سب پر ہائپر ہوتے ہیں‘ مجھے ان کے ڈانٹنے کا برا نہیں لگتا حیدر… مگر وہ ہر بار مجھے یہ باور کراتے ہیں کہ اماں میری عادتوں کی وجہ سے بیمار تھیں اور میری نافرمانی کی وجہ سے اس دنیا سے گئیں… وہ کون سی اولاد ہوگی جو یہ چاہے گی کہ اس کے سر پر ماں کا سایہ نہ رہے… بدنصیبی ہے میری کہ میں نے ان کی خواہش ان کی زندگی میں پوری نہ کی… مگر میرا وعدہ ہے اماں سے میں اب ماہ نور کو ڈھونڈوں گا۔‘‘ وہ جیسے ضد پر اڑ گیا۔
’’اوکے فائن‘ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن پلیز اب غصہ تھوک دو‘ گھر چلتے ہیں۔ تمہیں پتہ ہے ناں صہیب بڑی مما کی کیا حالت ہوگی… رات سے اگر تمہیں سکون نہیں ہے تو وہ بھی بے کل ہیں۔ تمہاری ذرا سی تکلیف پر وہ کتنا پریشان ہوجاتی ہیں اور تم جانتے ہو کہ اب وہ شوگر کی پیشنٹ ہیں ذرا سی دیر میں ان کی طبیعت بگڑ جاتی ہے۔ چلو ناں گھر چلتے ہیں۔‘‘
’’قسم سے حیدر کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے‘ میں گھر کیا یہ شہر ہی چھوڑ دوں۔ بھیا کی باتیں سن کر… مگر ہر بار بڑی بھابی کی محبت میرے ارادے بدل دیتی ہے۔‘‘ اس کا غصہ یک دم ہی بھابی کے نام پر سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ حیدر نے اس کا پھولا ہوا منہ دیکھا پھر شرارت سوجھی۔
’’ایسے بھتیجے تمہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والے۔‘‘
’’اور ایسا چچا بھی نایاب ہے دنیا میں… یاد رکھنا۔‘‘ حیدر کو توقع کے مطابق جواب ملا تھا‘ وہ واپسی کے لیے مڑے ہی تھے کہ احمر کا فون آگیا۔
’’لو ایک اور نایاب بھتیجا تمہارا‘ یقینا مما نے اسے بتا دیا ہوگا اور اب وہ جلے پیر کی بلی بنا ہوا ہوگا۔‘‘
’’بننے دے… ہم ڈنر کرکے پھر جائیں گے بس۔‘‘
’’یعنی ثابت کرنا بھی ضروری تھا کہ وہ خفا ہے…‘‘ حیدر نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلادیا۔
{…٭…}
’’مانو میں نے تمہیں منع کیا تھا ناں کہ ہم نے گھر سیل نہیں کرنا… اور تو نے پھر بھی وہاں اکرام بھائی کو فون کردیا۔‘‘ وہ ابھی آفس سے آکر ہی بیٹھی تھی کہ بھابی نے غصے سے پوچھا۔
’’کس نے کہا آپ سے کہ میں گھر سیل کررہی ہوں وہ بھی بنا آپ سے پوچھے۔ بھابی میرے لیے اب سب کچھ آپ ہیں میرے والدین‘ بھائی ہر رشتہ آپ پر ہی ختم ہوتا ہے‘ میں بنا آپ کی مرضی کے اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتی ہوں؟‘‘
’’اکرام بھائی کو فو ن کرنے کا مقصد؟‘‘
’’آپ خود ہی تو کہہ رہی تھیں کہ گھر ویران پڑا ہے‘ اکرام بھائی سے کہا تھا کہ صفائی وغیرہ کرا دیں اور پھر رینٹ کے لیے دے دیں… چلیں کچھ ان کم پلس ہی ہوجائے گی۔‘‘
’’تم بھی ناں مانو بس دو اور دو چار کرنے میں لگ گئی ہو۔‘‘
’’صرف میں کیا بھابی ہماری ساری قوم اسی کام پر لگی ہوئی ہے۔‘‘ اس نے مذاقاً کہا۔ ’’اچھا کھانے میں کیا پکایا ہے‘ سچ اتنی بھوک لگی ہے آج لنچ کا بھی ٹائم نہیں ملا۔‘‘ اس نے پائوں اوپر کیے اور صوفے پر ہی دراز ہوگئی۔
’’لنچ کیوں نہیں کیا؟‘‘
’’کام جلد ختم کرکے گھر کے لیے پراپرٹی ڈیلر سے ملنا تھا۔ دو تین گھر دیکھ کر آئی ہوں‘ جو پسند آتا ہے وہ اپنی رینج میں نہیں اور جو رینج میں ہے وہ اچھا نہیں لگا۔‘‘
’’ہم نے کون سا عمر بھر رہنا ہے میں نے اپنے شہر کے لیے ٹرانسفر کی درخواست دے دی ہے ان شاء اللہ جلد ہی امید ہے ایکسیپٹ ہوجائے گی۔‘‘ مانو بھابی کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
’’اور میری جاب؟‘‘
’’تمہاری کون سی گورنمنٹ جاب ہے اور میں نے کون سا تم سے عمر بھر جاب کرانی ہے۔ جیسے ہی کوئی اچھا رشتہ ملتا ہے فرض ادا کردوں گی۔‘‘
’’تنگ جو آگئی ہیں ناں مجھ سے… بری لگنے لگی ہوں آپ کو۔‘‘ وہ دھپ دھپ کرتی اٹھ کر کمرے میں چلی گئی‘ سمیرا کافی دیر منتظر رہیں کہ وہ باہر آئے گی مگر وہ نہیں نکلی‘ تب انہیں کھانا ٹرے میں رکھ کر کمرے میں لانا پڑا جہاں محترمہ رونے کا شغل فرما رہی تھیں۔
’’مانو اٹھو کھانا کھالو۔‘‘
’’نہیں کھانا مجھے کچھ بھی۔‘‘
’’ارے کھانے سے کیا ناراضگی… مجھ سے خفا ہو ناں… رزق سے نہیں خفا ہوتے۔‘‘
’’میں کیوں خفا ہوں کسی سے… مجھے تو خود پر اور اپنی قسمت پر غصہ ہے بس۔‘‘
’’احمق ہو تم مانو۔‘‘ انہوں نے کھانے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر دھری اور اسے پیار سے اٹھایا۔
’’تمام عمر ایسے نہیں گزرتی مانو… اور لڑکیوں کے رشتے بھی ایک عمر تک ہی آتے ہیں‘ میں کس بنیاد پر ہر رشتے سے منکر ہوتی رہوں‘ مانو تم میری ذمہ داری ہو‘ یہ سب جانتے ہیں‘ تم کیا چاہتی ہو خاندان کے لوگ‘ رشتہ دار‘ تمہاری بھابی پر باتیں بنائیں کہ نند کی کمائی کی خاطر اس کی شادی نہیں کرتی‘ میرے لیے تم عفان اور ریان کی طرح ہو… مگر میں دنیا سے بھی ڈرتی ہوں اور آخرت کی اس پکڑ سے بھی… جب مجھے جواب دہ ہونا ہوگا کہ میں نے اپنے فرض میں کوتاہی کی… تم سمجھدار ہو مانو… باشعور ہو‘ میری مجبوری کا ہر پہلو سمجھ سکتی ہو اور پھر فرض کرو کہ میں تمہاری بات مان بھی لوں مگر کس امید پر… تمہیں یقین ہے کہ صہیب تمہارا منتظر ہوگا… جس شخص کو سامنے ہوتے ہوئے کبھی تمہاری ذات‘ تمہاری چاہت کا احساس نہ ہوا‘ اب چار سالوں میں وہ تمہارا نام بھی بھول بیٹھا ہوگا۔‘‘ اس نے تڑپ کر بھابی کو دیکھا‘ خوش فہمیاں جیسے یک دم تلخ حقیقت بن کر سامنے آگئیں۔ سچ ہی تو کہہ رہی تھیں بھابی جس نے آتے وقت امید کی کوئی کرن اس کے ہاتھ نہ تھمائی تھی‘ یہ تک نہ کہا تھا کہ یاد آئوگی‘ وہ کیسے اس شخص سے کسی خوش فہمی کسی خوش گمانی کی آس رکھ سکتی تھی۔
’’میں کیا کروں بھابی‘ شاید مجھے خود پر ذرا بھی اختیار نہیں‘ وہ شخص میرے دل سے نہیں نکلتا۔‘‘
’’وہ انسان ہے کوئی خیال نہیں جو دل سے نکل جائے‘ اور انسان بھی وہ کہ جسے تم نے تمام تر دیوانگی سے چاہا ہو مانو… آئی نو تم اسے بھول نہیں سکتیں اور جس طرح تم زندگی گزار رہی ہو ایسے تو تم اسے بھلا بھی نہیں سکتیں۔ ہوسکتا ہے زندگی میں کسی اور کو شامل کرنے سے تم اسے بھلانے میں کامیاب ہوجائو‘ نکلو مانو ان یادوں سے آزاد کرلو خود کو… کب تک خار بھری ان راہوں پر تنہا سفر کروگی… ہم سفر ساتھ ہو تو کانٹوں بھرے رستے بھی آسانی سے طے ہوجاتے ہیں‘ زیست کے… مگر تنہا انسان تو پھولوں کی پگڈنڈی بھی نہیں پار کرسکتا۔‘‘ بھابی تادیر اسے سمجھاتی رہیں۔
’’ہزار رستہ بدل دیکھ لیا ہے مگر مجھے تو ہر موڑ پر صہیب احمد ہی کا چہرہ نظر آتا ہے… وہ پل‘ وہ یادیں جو میں نے اس گھر میں گزاریں‘ اتنی محبتیں میرے اطراف تھیں مگر میری طلب صرف ایک نگاہ اس بے مروت شخص کی‘ جو کبھی نہ ملی۔ نہیں بھول پاتی میں وہ ماہ وسال بھابی‘ جہاں میرا بچپن گزرا‘ میرے حسین لمحات زندگی کے گزرے‘ مجھے تو وہ تمام لوگ ہی بہت یاد آتے ہیں‘ بڑی بھابی کی چاہت‘ اماں کا التفات‘ وہ سارے دوست۔‘‘ وہ پھر سے سسک اٹھی‘ بھابی نے اسے خود میں سمولیا۔ واقعی بھولنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ وہ خود بھی تو اسی تکلیف دہ عمل سے روز گزرتی اور پھر ہار جاتی تھیں۔
{…٭…}
’’میں تسلیم کرتا ہوں مما کہ وہ صہیب کی محبت میں ہی کہہ رہے ہوں گے مگر ان کے سخت الفاظ تو میرے دل پر نقش ہوگئے تھے‘ صہیب کا ڈس ہارٹ ہونا تو فطری عمل ہے اور کم از کم آپ تو انہیں سمجھا سکتی ہیں‘ وہ اماں کے بعد ہر بات کو بہت شدت سے محسوس کرتا ہے‘ بہت حساس ہوگیا ہے‘ بابا‘ بارہا اسے ان غلطیوں کی نشان دہی کرکے اسے احساس جرم میں مبتلا کررہے ہیں… وہ اماں کی نیچرل موت کا ذمہ دار بھی خود کو سمجھنے لگا ہے۔‘‘ بظاہر صہیب کا موڈ ٹھیک ہوگیا تھا مگر اب وہ پہلے سے زیادہ سب سے دور رہنے لگا تھا اور احمر نے یہ بات شدت سے نوٹس کی تھی‘ تب ہی آج وہ مما سے بات کرنے آیا تھا… جنہیں خود صہیب کا انداز اندر ہی اندر کاٹ کھا رہا تھا۔
’’میں کوشش کروں گی ان سے بات کرنے کی۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولیں۔
’’مما… پھوپو آئی ہیں۔‘‘ دانیہ نے دروازے سے جھانک کر اطلاع دی احمر کو بات سمیٹنی پڑی‘ وہ بھی مما کے ساتھ ہی باہر آگیا‘ پھوپو اپنی فیملی سمیت آئی تھیں اور ظاہر ہے بچے یہ دیکھ کر ہی خوش ہوگئے تھے۔
’’السلام علیکم پھوپو…‘‘ احمر نے انہیں سلام کیا پھوپو نے اسے خود سے لگالیا پیشانی چومی۔
’’وعلیکم السلام… جیتا رہے میرا بچہ۔‘‘ جس طرح ان سب کو اکلوتی پھوپو سے پیار تھا… پھوپو بھی ان پر جان دیتی تھیں‘ حمزہ اور بلال سے گلے مل کر اس نے زینی کا سر تھپکا۔
’’بڑے دن بعد شکل دکھائی چڑیل نے۔‘‘
’’آپ کون سا پوچھنے آگئے‘ پندرہ دن ٹائیفائیڈ میں پڑی رہی ہوں مجال ہے جو کسی نے خبر بھی لی ہو۔‘‘
’’امپاسبل… خبر تو کسی نے دن رات لی ہوگی زینی اب تم جھوٹ بول رہی ہو۔‘‘ احمر کے کچھ کہنے سے قبل ہی حیدر بول پڑا۔ وہ بے چاری جھینپ گئی۔
’’میں آپ سب کی بات کررہی ہوں… آپ لوگوں کی بھی کچھ لگتی ہوں میں۔‘‘
’’ہمیں اطلاع نہیں ملی جنابہ کہ آپ بیمار تھیں۔ انہوں نے نہیں بتایا۔‘‘
’اب یہ تو فرض بنتا تھا ناں کسی کا کہ ہمیں مطلع کردیتا ہم بھی عیادت کر آتے خود تو موصوف دن رات قدموں میں بیٹھے رہے ہوں گے۔‘‘ حیدر بھی کبھی کبھی حد کردیتا تھا۔
’’تمہیں میرا بھائی ایسا لگتا ہے۔‘‘ احمر نے گھرکا۔
’’بہت بڑی فلم ہے تمہارا بھائی۔‘‘ حیدر نے فٹ سے کہا۔
’’تم حیدر بھائی کی باتیں رہنے دو‘ میرے ساتھ آئو کچن میں۔‘‘ مناہل جانتی تھی کہ بے چاری زینی بری طرح زچ ہورہی تھی۔ طلال زینی کو چاہتا تھا یہ بات تمام نئی نسل کو پتہ تھی بلکہ… کچھ بارسوخ سورسز نے یہ بات آگے بھی پہنچادی تھی… اور مما کا پکا ارادہ تھا کہ احمر کی شادی کے بعد طلال کے لیے پھوپو سے بات کریں گی۔
’’بہت ویک ہوگئی ہو زینی… قسم سے ہمیں واقعی تمہاری طبیعت کا نہیں پتہ تھا۔‘‘ دانیہ اور عاشی بھی ان کے ساتھ ہی اٹھ آئی تھیں۔
’’حالانکہ طلال کے علاوہ چھوٹے ماموں کو بھی پتہ تھا۔‘‘ زینی نے بتایا۔
’’صہیب چاچو آج کل کسی سے بات نہیں کرتے زیادہ‘ بہت چپ چپ رہنے لگے ہیں۔‘‘
’’ہاں ماموں گھر آئے تھے ناں تب ماما کے پاس ہی بیٹھے تھے پتہ نہیں کیوں وہ روہانسے ہورہے تھے۔‘‘
’’بس یونہی رہتے ہیں‘ مما کہہ رہی تھیں کہ انہیں اماں یاد آرہی ہیں مگر میں نے احمر بھیا کی باتیں سنی تھیں وہ حیدر بھیا کو بتارہے تھے کہ بابا نے بہت ڈانٹا تھا چاچو کو۔‘‘
’’بڑے ماموں کو غصہ بھی تو بہت آتا ہے۔‘‘
’’ہاں اور صہیب چاچو بہت حساس ہوگئے ہیں۔‘‘
’’مانو کے بعد کتنا بدل گئے ہیں ناں ماموں‘ حالانکہ جب وہ تھی تو ماموں ہر وقت اسے برا بھلا کہتے تھے۔‘‘
’’کون سی خفیہ میٹنگ ہورہی ہے؟‘‘ اپنے پیچھے صہیب کی آواز پر انہیں چپ لگ گئی۔
’’السلام علیکم ماموں۔‘‘ وہ حسب عادت فوراً ہی صہیب کی طرف آئی… صہیب نے بھی اسے بانہوں میں سمولیا۔ زینی اس کی لاڈلی بھانجی تھی بلکہ اکلوتی بھانجی تھی تب ہی بہت پیاری تھی اسے۔
’’بخار اترا۔‘‘ اس نے زینی کی کلائی اور پیشانی چیک کی۔
’’میں اب بالکل ٹھیک ہوں‘ آپ نے بھی پھر فون تک نہیں کیا۔‘‘
’’ایم سوری بچے یاد نہیں رہا۔‘‘
’’چلیں معاف کیا۔‘‘
’’مناہل بچے اسٹرونگ سی…‘‘
’’کافی ضرور مل جائے گی ابھی بناتی ہوں۔‘‘ اسے پتہ تھا کہ چاچو کو کافی کی طلب ہی کچن میں لائی ہوگی۔ وہ مسکراتا ہوا ہال روم میں آگیا جہاں سب باتوں میں بزی تھے۔
احمر جتنا سخت مزاج تھا اتنا ہی ضدی بھی اور یہ بات اس کے بچپن سے سب کو پتہ تھی‘ اس نے اگر ایک بات کہہ دی تو پھر کچھ بھی ہوجائے وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتا تھا‘ سب کہتے تھے کہ اس کی یہ عادت دادا پر گئی ہے‘ صہیب اکثر اس کی ضد دیکھ کر بھابی سے پوچھتا تھا۔
’’بڑی بھابی کیا واقعی ابا جی ضدی تھے؟‘‘
’’میرے آنے سے قبل ہوتے ہوںگے بچے‘ مگر میں نے تو ان کی نیچر کو بہت سوفٹ پایا‘ اللہ جانے احمر کا مزاج کس پر گیا ہے۔‘‘
انہیں خود احمر کی ضد سے سخت چڑ تھی… مگر احمر نے کبھی بھی اپنی اس عادت کو بدلنے کی سعی نہیں کی تھی… مناہل سے نکاح بھی اس کی ضد تھی حالانکہ اس کے مزاج کی سختی کو مدنظر رکھتے ہوئے خود مما بھی یہی چاہتی تھیں کہ مناہل جیسی نرم اور نازک مزاج بچی کا بناہ کیسے ہوگا مگر وہ جب اڑا تو انہیں ماننا ہی پڑی حالانکہ یہ بات صرف مما اور بابا کو پتہ تھی کہ مناہل اس کی زندگی میں صرف اس کی مرضی سے شامل ہوئی وگرنہ اس نے اپنے رویے کے کسی پہلو سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ مناہل اس کی پسند ہے۔ اب جبکہ گھر کے بڑے اس کی رخصتی کے لیے مکمل راضی تھے تب پھر وہ اڑ گیا تھا۔
’’میری شادی تب ہوگی جب صہیب اور حیدر کی ہوگی۔‘‘
’’لو بھلا کیا ضد ہوئی… دو لڑکیاں اتنی ایمرجنسی میں کہاں سے ملیں گی۔‘‘
’’مجھے جلدی ہے بھی نہیں جب مل جائیں گی… کرلیں گے… مگر ماما پلیز بابا سے کہیں صہیب کو پریشرائز نہ کریں۔‘‘ عجیب منطق تھی لڑکے کی‘ ایک طرف ضد کہ شادی اکھٹی کرنی ہے دوسری طرف صہیب پر دبائو بھی نہ ڈالیں… مما نے تو اس کی بات سن لی تھی‘ مگر بابا کو علم ہوا تو ان کا تو فشار خون کا دبائو بڑھ گیا۔
’’تابندہ بیگم گھر میں ہماری کوئی حیثیت رہ گئی ہے یا نہیں‘ اب بچے ہمیں فیصلے سنائیں گے اور ہم مانیں گے۔‘‘ وہ کیا کہتیں… احمر تو شروع سے ہی ایسا تھا۔
’’مجھے بتائو میں منیب اور عاقب سے کیسے بات کروں؟‘‘
’’میں کیا کہوں آپ جانتے تو ہیں احمر…‘‘
’’احمر… احمر… بڑی اولاد ہے تو بزرگ نہیں بن گیا ہمارا… پہلے ضد تھی کہ منگنی نہیں نکاح کریں تم جانتی ہو ناں منیب کو اعتراض تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا ابھی صرف بات طے کردیں مگر تمہارے صاحب زادے نے اڑی لگالی اور اب جبکہ ہم رخصتی کا فرض بھی ادا کرنا چاہتے ہیں تو صاحب زادے نے نئی ضد لگالی… صہیب کم تھا میرے بی پی کو ہائی کرنے کے لیے…‘‘
’’صہیب نے کبھی آپ کی بات نہیں ٹالی… وہ ضدی نہیں ہے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح وہ صہیب کے معاملے میں چپ نہ رہ سکیں۔
’’تابندہ تمہاری یہی فیور صہیب کو… خیر ابھی یہ چھوڑو تم اپنے سپوت کو بلائو۔‘‘
’’دیکھیں جی آپ پہلے غصہ کنٹرول کرلیں… طبیعت خراب ہوجائے گی آپ کی۔‘‘
’’بیگم صاحبہ آپ کو میری طبیعت کی فکر ہے‘ میری زبان کی نہیں۔‘‘ بھائی چھوٹے تھے‘ ان کی ہر بات مان لیتے تھے مگر وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے وہ یہ سوچیں کہ بڑا بھائی ان سے ناجائز بات منواتا ہے۔ لیکن اب اس مسئلے کا حل تو نکالنا تھا ناں‘ انہوں نے منیب اور سعدیہ کو بلایا تھا… جھجکتے ہوئے بات کی تھی۔
’’مجھے علم ہے بھائی صاحب‘ دراصل ہم خود یہی چاہ رہے تھے کہ پہلے حیدر کی بات کہیں طے ہوجائے… مگر ہم آپ کو منع نہیں کرسکے… اور اب جبکہ احمر نے خود ہی یہ بات کردی ہے تو مجھے لگتا ہے مناسب یہی ہے کہ ہم ابھی رک جائیں۔‘‘
’’اچھا بھی نہیں لگے گا کہ چچا ابھی غیر شادی شدہ ہو اور ہم اپنے بچوں کی شادیاں کردیں۔‘‘
’’اب وہ خود نہیں مانتا تو ہم کیا کریں منیب‘ ہم تو چاہتے ہیں کہ پہلے اس کا فرض ادا ہو۔‘‘
’’بھابی ہی صہیب کو سمجھا سکتی ہیں باقی کسی سے وہ اتنا اٹیچ ہے نہیں۔‘‘ سعدیہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
’’ہاں اور حیدر کے لیے جب ہم لڑکی تلاش کریں گے تو صہیب کے لیے بھی دیکھ لیں گے‘ ہم عمر تو ہیں دونوں اور ماشاء اللہ ہمارا صہیب لاکھوں میں ایک ہے۔ اچھی جاب ہے اور کیا چاہیے۔‘‘
’’سعدیہ کمی کوئی نہیں ہے مگر موصوف حامی تو بھریں… ہم تو ہزار بار کوشش کرچکے ہیں۔‘‘ بڑے بھیا اس سے واقعی بہت نالاں تھے۔ تابندہ ان کا رویہ دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھتی تھیں۔
’’بھائی صاحب ٹینشن نہ لیں کوئی حل نکالتے ہیں اس کا بھی۔‘‘ منیب نے بھائی کو مطمئن کیا۔
{…٭…}
شام میںکبھی کبھار جب وہ سب اکٹھے ہوتے تو بیڈ مینٹن کھیل لیتے تھے اکثر ہی ایسے آئیڈیاز مناہل دیتی تھی… آج بھی وہ سب اکھٹے تھے‘ بلال اور زینی بھی آئے ہوئے تھے تو ان سب نے کھیلنے کا پروگرام بنالیا تھا۔
’’جوجیتے گا اسے کیا ملے گا؟‘‘ طلال نے پہلے ہی طے کرنا چاہا۔
’’جو ہارے گا وہ سب کو آئس کریم کھلائے گا۔‘‘
’’یار چاچو یہ مہنگا سودا ہے‘ یو نو مناہل کتنا اچھا کھیلتی ہے۔‘‘ طلال کو فکر ہوئی۔
’’تم کھیلنے سے پہلے ہی ہار مان لو۔‘‘ صہیب نے اسے گھورتے ہوئے کہا تو وہ چپ ہوگیا‘ کھیل شروع ہوا اور توقع کے عین مطابق مناہل بہت اچھا کھیل رہی تھی۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اس نے میچ جیت لیا تھا مگر اس کی ساری خوشی کافور ہوگئی جب عین ٹائم پر احمر آگیا۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ آج کل اس موڈ آف ہی رہتا تھا‘ مناہل نے جلدی سے سب چھوڑ کر دوپٹہ ٹھیک کیا۔
’’ہائے احمر بھیا‘ آپ بھی ہمارے ساتھ کھیلیں ناں۔‘‘ زینی نے اسے بھی آفر کی جسے اس نے سہولت سے منع کردیا۔
’’تم کب تک یہ بچوں والی حرکتیں کروگی مناہل؟‘‘ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ اسے اس بات پر بھی اعتراض ہوسکتا ہے۔
’’کیا ہوگیا یار‘ بچے ہیں اکھٹے ہوئے تو انجوائے کرلیا اس میں کیا برائی ہے؟‘‘ صہیب نے فوراً ہی سائیڈ لی تو احمر نے سخت نگاہ مناہل پر ڈالی۔
’’مگر مجھے یہ پسند نہیں ہے‘ بچپن تک یہ سب ٹھیک تھا لیکن اب… نہیں۔‘‘
’’پسند تو میں بھی نہیں ہوں آپ کو۔‘‘ پتہ نہیں کیسے اس کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوئے تھے‘ اسے خود بھی پتہ نہ چلا تھا مگر جب احمر کی پتھروں جیسی آواز سماعت سے ٹکرائی تو اندازہ ہوا۔
’’شٹ اپ یہ بکواس میرے سامنے کرنے کی قطعی ضرورت نہیں… آئندہ ذرا زبان کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ورنہ…‘‘ مناہل کے تو جیسے قدموں تلے سے زمین ہی نکل گئی تھی۔ اس نے جان بوجھ کر نہیں کہا تھا بس سوچوں کو زبان مل گئی تھی اور اس کی بڑبڑاہٹ بلند ہوگئی… چاچو اسے اندر تو لے گئے تھے مگر مناہل کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے‘ سب لوگ جتنا خوش تھے اب اتنے ہی سوگوار اور مناہل کو چپ کرانے کی تگ ودو میں لگے ہوئے تھے۔
’’آئی ڈونٹ نو کہ وہ آخر چاہتا کیا ہے‘ روز نیا آڈر… اتنا تو مجھے مما بابا نے کبھی نہیں ڈانٹا… اور میں ہر کام تو کردیتی ہوں‘ جیسا کہتا ہے مان لیتی ہوں‘ جانے اور کیا کروں؟ اپنا مزاج‘ اپنا شوق سب کچھ قربان کردیا مگر میں بھی تو انسان ہوں یار‘ میرا بھی دل کرتا ہے اپنی مرضی سے جینے کو… اس ایک سال میں میری زندگی کی اپنی خواہشیں تو جیسے مر ہی گئیں۔‘‘ آج مناہل کے ضبط کی بھی انتہا ہوگئی تھی۔ اس کے نکاح کو سال ہوگیا تھا اور اس ایک سال میں اس نے احمر کے لیے خود کو کتنا بدل لیا تھا‘ لیکن وہ پھر بھی۔
’’میں نہیں ڈھل سکتی ان کی پسند میں‘ انہیں چاہیے تھا اپنی پسند کی لڑکی ڈھونڈ لیتے۔‘‘
’’پاگل ہوگئی ہو‘ اگر احمر بھائی کو تم پسند نہ ہوتیں تو وہ کبھی نکاح کے لیے راضی نہ ہوتے۔‘‘
’’مجھے پتہ ہے یہ بڑے بابا کی خواہش تھی ورنہ انہیں مجھ میں سارے جہاں کی خامیاں ہی نظر آتی ہیں۔‘‘
’’ابھی بھی وقت ہے میں مما سے کہہ دوں گی کہ موصوف کو کہہ دیں پھر سوچ لیں۔‘‘
’’مناہل تم پاگل تو نہیں ہوگئیں‘ کیا بکواس کررہی ہو… اندازہ ہے تمہیں‘ ٹھیک ہے احمر غصے کا تیز ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو۔‘‘
’’تمہارا بھائی جو ہے اس کی سائیڈ تو لو گے تم۔‘‘ اس نے طلال کو گھورا۔
’’تم بھی پہلے میری بہن ہی ہو‘ بھابی بعد میں ہو‘ تمہارا اور احمر کا نکاح ہوچکا ہے‘ غالباً تم یہ بات بھول رہی ہو۔‘‘
’’طلال جس طرح وہ میری انسلٹ کرتا ہے ناں اگر تمہیں سہنی پڑے ناں تو تم بھی یہی کہو گے‘ اگر اتنی نفرت تھی مجھ سے تو تب ہی منع کردیتے جب بڑوں نے یہ رشتہ طے کیا تھا‘ مجھ پر کیوں غصہ نکالتے ہیں۔‘‘ آج وہ بری طرح ہرٹ ہوئی تھی‘ اسے کتنا فخر تھا کہ خاندان کا سب سے ڈیشنگ بندہ اس کا ہزبینڈ ہے‘ مگر خود پر اتنا غرور بھی اچھا نہیں ہوتا جتنا احمر کو تھا… اس کی بھی عزت نفس تھی مگر وہ کب خیال کرتا تھا اس کا۔
{…٭…}
حیدر کو شہر سے باہر جانا تھا مما نے رات ہی مناہل سے کہہ دیا تھا کہ صبح جلدی اٹھ جائے‘ وہ احمر کے رویے کی وجہ سے رات بھر سو بھی نہیں پائی تھی اور فجر کی نماز کے بعد کچن میں تھی‘ حیدر بھی نماز کے بعد سیدھا کچن میں ہی آیا تھا۔
’’تھینک یو سو مچ میری پیاری بہن تم اٹھ گئیں۔ میں بس ابھی تیار ہوکر آتا ہوں۔‘‘ مناہل نے کوئی جواب نہیں دیا جاگنے اور مسلسل رونے سے اب اس کے سر میں شدید درد تھا مگر بھائی کی وجہ سے وہ اٹھ گئی تھی۔
’’یار احمر تم پلیز مجھے ذرا سا اسٹاپ تک چھوڑ آؤ گے۔‘‘ احمر اور صہیب فجر کے بعد واک کے لیے جاتے تھے ابھی لوٹے تھے۔
’’چھوڑ دووں گا‘ نو پرابلم۔‘‘
’’میں بس ناشتہ کرلوں۔‘‘
’’اوکے…‘‘ وہ بھی حیدر کے ساتھ کچن میں آیا تھا… رات کا غصہ اب مکمل طور پر ختم ہوچکا تھا‘ مناہل نے حیدر کو ناشتہ دیا۔
’’مجھے چائے دے دو۔‘‘
’’جی…‘‘ کہہ کر وہ مڑی مگر احمر نے اس کی سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھ لی تھیں‘ پتہ نہیں اسے غصہ کیوں آیا تھا… بس اب افسوس ہورہا تھا۔ مناہل نے اسے اور حیدر کو چائے دی اور چاچو کے لیے کافی بنا کر لے گئی۔
’’چاچو آپ کی کافی۔‘‘
’’تھینکس بھتیجی‘ مگر آج تم جلدی اٹھ گئیں۔‘‘
’’حیدر نے شہر سے باہر جانا ہے ناں اس کے لیے ناشتہ بنانا تھا۔‘‘ صہیب نے اس کا اترا چہرہ تو رات ہی دیکھ لیا تھا مگر اب تو اس کی آنکھیں رونے کی گواہی دے رہی تھیں۔
’’بیٹھو مناہل۔‘‘ چاچو کے کہنے پر وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔ ’’تمہیں احمر کی باتیں بری لگیں۔‘‘
’’مجھے تو اس کی صرف باتیں بری لگتی ہیں‘ اسے تو میں ہی بری لگتی ہوں۔ پتہ نہیں چاچو ماما بابا نے کیوں یہ رشتہ کیا… مجھے زبردستی کسی پر مسلط نہیں ہونا‘ جب اسے میری شکل اتنی بری لگتی ہے تو کیسے زندگی بھر برداشت کرے گا۔‘‘
’’احمق ہو تم… تمہیں کس نے کہا کہ تمہیں زبردستی مسلط کیا ہے ہم نے اس پر…‘‘
’’کہنے کی کیا ضرورت ہے‘ مجھے نظر آتا ہے چاچو۔‘‘ وہ پھر سے رونے لگی۔
’’مناہل بچے ایسا کچھ نہیں ہے‘ ہوسکتا ہے وہ تمہیں اتنا چاہتا ہو کہ تمہیں پرفیکٹ دیکھنا اس کی خواہش ہو۔‘‘
’’اتنی پاگل نہیں ہوں کہ آپ کی اس بات پر یقین کرلوں‘ مجھے اب پکا یقین ہوگیا ہے کہ صرف بڑے بابا اور ماما نے اسے زبردستی منایا ہوگا… لیکن اس میں میرا قصور نہیں تھا‘ مجھ پر کس بات کا غصہ نکالتا ہے وہ۔‘‘
’’تم سے بڑا ہے ناں… اور پھر تمہارا جو رشتہ ہے اس سے… اس کے بعد تم پر اس کا احترام لازم ہے ناں… دوبارہ تم احمر کے لیے ایسے لہجے اور تخاطب کو استعمال نہیں کروگی۔‘‘
’’ہر چیز صرف عورت پر لازم ہے‘ عورت پر فرض ہے… اور وہ جیسے چاہیں جب چاہیں میری انسلٹ کردیں‘ کتنے لوگوں کے درمیان‘ کل صرف تھپڑ مارنے کی کسر ہی رہ گئی تھی چاچو‘ ورنہ تو‘ کیا سوچتے ہوں گے سب میرے بارے میں۔‘‘ اس نے آنسو دوپٹے کے پلو سے رگڑے۔
صہیب مانتا تھا کہ زیادتی احمر کی ہے ورنہ مناہل نے ہمیشہ ہی بہت اچھے سے اس رشتے کو قبول کیا تھا۔
’’میں اسے سمجھائوں گا اوکے۔‘‘
’’اور میں جانتی ہوں کہ انہیں سمجھانا قطعاً بے سود ہوگا۔‘‘ وہ احمر سے بدگمان تھی‘ تب ہی تلخ ہورہی تھی چاچو کے پاس سے اٹھ کر وہ اپنے کمرے میں جارہی تھی جب احمر نے اس کی کلائی پکڑ کر روکا اور اپنے سامنے کیا‘ لمحہ بھر کو وہ چکرائی تھی۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘ وہ شاید اپنی عادت سے مجبور تھا‘ ابھی بھی وہ لہجہ نرم نہ کرسکا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ مناہل نے رخ دوسری طرف کرلیا تھا۔
’’تمہارا چہرہ تو کچھ اور بیان کررہا ہے۔‘‘
’’میرے سر میں درد ہے۔‘‘ پیچھے وہ چاہے جتنا مرضی بول لیتی تھی مگر اس کے سامنے مناہل کی زبان کو تالے پڑ جاتے تھے۔
’’آئی ایم سوری… میں نے کل بہت زیادتی کی۔‘‘ احمر نے بہت نرم لہجے میں کہا… مگر کوئی اس پل مناہل منیب احمد کی کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا‘ سماعتوں پر یقین تو تھا ہی نہیں… مگر اسے لگا وہ ابھی بے ہوش ہوکر گر جائے گی‘ وہ ہونقوں کی طرح بے یقینی سے احمر کو دیکھ رہی تھی۔ جس نے نرمی سے اس کا بازو چھوڑا اور اس کی حیرت بے یقینی کو دور کیے بنا چلا گیا تھا۔
’’اللہ میاں جی یہ کتنا عجیب وغریب انسان دے دیا آپ نے مجھے‘ میری تو ساری زندگی اس کے مزاج کے موسموں کو سمجھتے ہی گزرجائے گی۔‘‘
{…٭…}
مانو کو یقین تھا آج اسے کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا اور وہ اپنی مرضی سے سوکر اٹھے گی مگر جب صبح صبح ہی کھٹ پٹ شروع ہوئی تو اسے اٹھنا پڑا‘ کمرے سے باہر آکر دیکھا بھابی نے ہفتہ صفائی پروگرام شروع کر رکھا تھا۔
’’بھابی آج سنڈے ہے۔‘‘
’’پتہ ہے مجھے۔‘‘
’’پھر بھی صبح ہی صبح آپ شروع ہوگئیں‘ ریسٹ کریں دن بھر گھر پر ہی تو ہونا ہے آج۔‘‘
’’پتا ہے مگر آج کچھ گیسٹ آرہے ہیں لنچ پر اس لیے‘ مجھے صفائی بھی جلدی کرنی ہے اور پھر لنچ بھی اسپیشل بنانا ہے۔‘‘
’’اوگاڈ… کوئی خاص ہیں کیا؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ انہوں نے مصروف انداز میں جواب دیا‘ مانو نے دوبارہ لیٹنے کا ارادہ ملتوی کیا اور بھابی کو صفائی میں مصروف دیکھ کر خود منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ بنانے لگی… عام دنوں میں بچوں کو زبردستی اٹھانا پڑتا تھا مگر سنڈے کو وہ صبح صبح خود جاگ جاتے خوب اودھم مچاتے‘ تینوں صحن میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔
مانو نے ناشتہ تیار کرکے انہیں بلایا بھابی بھی تمام کام سمیٹ کر آگئیں سب نے اکٹھے ناشتہ کیا‘ بھابی لنچ کے لیے لسٹ بنانے لگیں جبکہ وہ کچن کو صاف کرکے برتن وغیرہ دھو کر بچوں کے ساتھ کارٹون دیکھنے بیٹھ گئی تھی۔
’’اللہ جانے ایسے کون سے خاص مہمان ہیں کہ بھابی اتنی بزی ہیں۔‘‘ اس نے ایک نظر بھابی پر ڈالی… جو لسٹ بنا کر شاید مارکیٹ جانے کی تیاری کررہی تھیں۔
’’عفان چلو بیٹا میرے ساتھ کچھ سامان لانا ہے۔‘‘
’’اوکے ماما۔‘‘
’’میں بھی چلوں بھابی۔‘‘
’’نہیں… تم پلیز جب تک میں آئوں شامی کباب کے لیے مصالحہ تیار کردو۔‘‘
’’ماما کیا کیا پکائیں گی آج۔‘‘ سنڈے کو بھابی ہر بار ہی بچوں کے لیے اسپیشل لنچ تیار کرتی تھیں اور آج تو مہمان بھی تھے۔
’’آکر بتاتی ہوں۔‘‘ انہوں نے ریان کو پیار سے کہا اور چادر لیتی عفان کے ساتھ باہر نکل گئیں۔ مانو نے گھڑی پر نگاہ ڈالی‘ ساڑھے دس بج چکے تھے‘ وہ بھابی کے کہنے کے مطابق کچن میں آئی اور جب تک بھابی آئیں اس نے سب کچھ ریڈی کردیا تھا۔
’’تم ذرا اپنا حلیہ ہی درست کرلو… کتنا رف ہورہا ہے۔ یہ سب میں کرلوں گی۔‘‘
’’آج بھی بندہ اپنی مرضی سے جی نہیں سکتا۔‘‘ اس نے منہ بنایا اور کمرے میں آگئی چینج کرنے کا قطعی موڈ نہ تھا بیڈ پر لیٹی تو سستی سے پھر سوگئی ایک بجے بھابی نے ہی آکر اٹھایا۔
’’مانو حد ہوگئی میں نے تمہیں حلیہ درست کرنے کا کہا تھا تم خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہو… فٹافٹ فریش ہوکر باہر آئو۔‘‘ وہ سختی سے تاکید کرتیں باہر چلی گئیں مانو کو ناچار اٹھ کر ان کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی‘ باہر آئی تو شاید گیسٹ آچکے تھے اس نے مودب انداز میں سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ بہت پُرجوش انداز میں اس کے سلام کا جواب دیا گیا‘ یہ تو فرحت آپی تھیں‘ بھابی کی کولیگ‘ انہوں نے محبت سے مانو کو ساتھ لگایا‘ لیکن آج وہ اکیلی نہیں تھیں ان کے ساتھ ان کی سسٹر اور برادر بھی تھے۔ بھابی نے سب کا تعارف کرایا۔
’’بیٹھو ماہ نور‘ کیسی ہو تم؟‘‘ وہ فرحت آپی کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی اور ان کے سوالوں کے جواب دینے لگی۔
’’یہ میری چھوٹی سسٹر ہیں مدحت‘ ابھی حال ہی میں ایم ایس سی کیا ہے اس نے اور یہ میرا پیارا بھائی سمیر احمد… انجینئر ہے۔‘‘ اس نے لب پھیلا کر انہیں ہائے کہا… آپی کی بہن نے تو سوالات کی جیسے بوچھاڑ شروع کردی تھی۔ اس کا پورا بائیوڈیٹا ہی لے لیا۔ فرحت آپی اور بھابی اپنی باتوں میں مصروف ہوگئیں۔
’’شام میں کیا کرتی ہو جاب سے آکر۔‘‘
’’کچھ ٹائم بچوں کے ساتھ گزارتی ہوں اور پھر بس ریسٹ۔‘‘
’’کوئی مصروفیت نہیں ہے… دوستوں کے ساتھ چیٹنگ‘ فیس بک وغیرہ۔‘‘
’’ان فیکٹ میری کوئی دوست ہی نہیں ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ ان دونوں بہن بھائی کو جھٹکا لگا تھا۔
’’امپاسبل یار‘ آج کل لڑکیاں سینکڑوں فرینڈز بنالیتی ہیں اور تم کہہ رہی ہو کہ تمہاری کوئی دوست ہی نہیں۔‘‘
’’میرے خیال سے انسان خود اپنا بہترین دوست ہے‘ میری فیملی ہی میرے لیے سب کچھ ہے‘ مجھے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔‘‘
’فائن… مگر بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو انسان فیملی ممبرز کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتا… اپنے دوستوں سے کہہ سکتا ہے۔‘‘
’’میرے لیے میری بھابی ہی سب سے اچھی دوست ہیں… اول تو میری لائف میں ایسا کچھ ہے نہیں کہ جو فیملی سے شیئر نہ ہو… دوسرا مجھے ہر قدم پر جب بھی مشکل آئی میری بھابی ہی میرے لیے اچھی دوست ثابت ہوئیں اور الحمدللہ میں بہت مطمئن ہوں اپنی اس لائف سے۔‘‘ اس نے سمیر کی بات کا جواب بہت مطمئن انداز میں دیا تھا۔ وہ چپ سادھ گیا۔
’’آجائو بچو لنچ کرلو۔‘‘ بھابی نے آواز لگائی تو مانو انہیں ساتھ لیے ڈائننگ ٹیبل پر آگئی مگر اس کے چہرے کے تاثرات مبہم تھے۔
{…٭…}
وہ اور احمر چھت پر بیٹھے شام کے حسین مناظر انجوائے کررہے تھے‘ آج احمر کا موڈ بہت اچھا تھا۔
’’حیدر کل تک واپس آجائے گا۔‘‘ وہ صہیب کو انفارم کررہا تھا۔
’’سنا ہے چھوٹی مما نے اس کے لیے کوئی لڑکی پسند کی ہے۔‘‘
’’تمہیں کیا لگتا ہے احمر… وہ بھابی کی پسند کی لڑکی کو اوکے کردے گا؟‘‘ صہیب نے آسمان پر اڑتے کبوتروں کے جھنڈ پر نظر جماتے ہوئے پوچھا۔
’’مے بی… اگر وہ فیس بک والی لڑکی کا بھوت اس کے سر سے اتر گیا ہو تو…‘‘ احمر نے مسکرا کر اسے دیکھا صہیب بھی ہنس دیا۔
’’مجھے تو لگتا ہی نہیں کہ وہ لڑکی ہوگی بھی آج کل کتنی فیک آئی ڈیز بنا کر لڑکے ایسے ہی دوسروں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔‘‘
’’اور حیدر جیسے احمق بن بھی رہے ہیں۔‘‘ احمر نے تاسف سے سر ہلایا۔
حیدر کو دو ماہ پہلے ایک لڑکی کی فرینڈ ریکوسٹ آئی تھی‘ جو اس نے ایکسپٹ بھی کی تھی اور چند ہی دنوں میں اس لڑکی سے بہت اچھی دوستی بھی ہوگئی تھی‘ دن رات کی چیٹنگ اور اب تو فون پر بھی رابطہ تھا‘ اس لڑکی کا تعلق کراچی سے تھا۔
’’صہیب…‘‘ جانے احمر کے ذہن میں کیا کلک ہوا کہ وہ بری طرح چونکا۔
’’حیدر کراچی گیا ہے ناں۔‘‘
’’ہاں مگر…‘‘ یک دم صہیب کو بھی سمجھ آگئی۔
’’او گاڈ مطلب کہ…‘‘ ان دونوں نے سر تھام لیا۔
’’حیدر اتنا پاگل ہے۔‘‘
’’چاچو آپ کی کافی۔‘‘ عاشی نے کہا تو دونوں ہی چپ ہوگئے۔
’’بھیا آپ کے لیے جوس…‘‘ احمر کو جوس کا گلاس تھما کر وہ نیچے چلی گئی مگر جانے احمر کو کیوں محسوس ہوا وہ یک دم چپ سا ہوگیا… اور شاید صہیب اس کی سوچ کو پا گیا تھا۔
’’احمر… مناہل کے دل میں بہت سی بدگمانیاں تمہارے رویے کو لے کر ہیں‘ تمہیں اتنی چپ اختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کی غلط فہمیوں کو ختم کرنا چاہیے وہ بہت حساس لڑکی ہے… اس دن سے بہت ڈسٹرب ہے۔‘‘
’’وقت آنے پر کردوں گا اس کی غلط فہمیاں اور بدگمانیاں دور۔‘‘ اس نے جوس کا سپ لے کر سنجیدگی سے کہا۔
’’جس وقت کے تم منتظر ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تب تک تمہارے اور مناہل کے بیچ کے فاصلے طویل ہوجائیں‘ کچھ باتوں کو طول نہیں دینا چاہیے‘ احمر انہیں اسی وقت پر طے کرلینا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ صہیب کے لہجے میں خدشات تھے۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے یار… وہ احمق ہے بس۔‘‘
’’اگر تم اسے یہ یقین دلاؤ گے کہ یہ رشتہ صرف بڑوں کی مرضی سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی پسند سے طے ہوا ہے تو کیا قیامت آجائے گی۔ اس کے دل کے وسوسے نکل جائیں گے‘ تمہارا تعلق مزید مضبوط ہی ہوگا۔‘‘
’’یار صہیب ہر جذبہ اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے‘ تمہیں پتہ ہے مجھے یہ سب پسند نہیں… ڈونٹ وری میں سب ٹھیک کرلوں گا۔‘‘ وہ کہاں اپنی بات سے ایک انچ بھی ہٹنے والا تھا۔
’’تمام تر حالات تمہارے سامنے ہیں‘ اس دن بھی میں نے اور طلال نے اسے سمجھایا ورنہ وہ بضد تھی کہ ماما اور بابا سے بات کرنی ہے… تمہارے رویے کی سختی کو لے کر پہلے ہی سب گھر والے خدشات کا شکار تھے کہ مناہل اور تیرے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اب اگر مناہل نے کوئی بات کی تو…‘‘
’’مجھے ہر بات کا اندازہ تھا ڈیئر صہیب احمد تبھی میں نے ضد کرکے نکاح کے لیے کہا تھا… تاکہ یہ تعلق مضبوط ہوجائے۔‘‘
’’اور تم اپنی من مانی کرسکو… یار وہ میری بھتیجی ہے مجھے دکھ ہوتا ہے اس کا اتراچہرہ دیکھ کر۔‘‘
’’مت بھولو… میرا بھی وہی رشتہ ہے تم سے… صرف وہی تمہاری بھتیجی نہیں ہے۔‘‘
’’پھر کم از کم خود کو تھوڑا بہت چینج تو کرو… صرف مناہل کا ہی فرض نہیں ہے کہ وہ خود کو بدلے‘ ایک سال میں کتنا بدل لیا ہے اس نے… ماما بابا نے اتنی سختیاں پابندیاں نہیں لگائیں جتنی تم نے اس معصوم پر لگادی ہیں۔ بے چاری ہنسنا تک بھول گئی تمہارے ڈر سے‘ یہ کیسی محبت ہے جو خوف بن کر اس کے دل میں پختہ ہوتی جارہی ہے۔‘‘ صہیب نے بھڑاس نکالی۔
’’ٹینشن مت لو یار… تم دونوں کی تمام غلط فہمیاں گلے شکوے دور کردوں گا‘ جسٹ ویٹ۔‘‘
’’پتہ نہیں کس پر چلے گئے ہو تم ہمارے گھر میں تو کوئی بھی ایسا نہیں‘ اتنا پتھر دل۔‘‘
’’اتنا برا نہیں ہوں جتنا تم سمجھ رہے ہو‘ معذرت کرلی تھی میں نے تمہاری لاڈلی سے۔‘‘
’’دیکھا تھا میں نے کیسے لٹھ مار انداز میں تم نے معذرت کی تھی۔‘‘
’’ہم تو ایسے ہی ہیں بھیا۔‘‘ اس نے شرارت سے مسکرا کر کہا۔
’’اچھے خاصے برے ہو تم۔‘‘
’’نوازش ہے جناب… اور کچھ۔‘‘
’’احمر تم میری بات کو قطعی سنجیدہ نہیں لے رہے یار… تمہیں واقعی ایک بار مناہل سے بات کرنی چاہیے۔‘‘
’’اب کیا کروں قدموں میں سر رکھ کر معافی مانگوں محترمہ سے… بس مجھے نہیں پسند ہے لڑکیوں کا یہ بچپنا‘ اس کی ان میچورٹی مجھے غصہ دلا دیتی ہے۔ میں جتنا اسے ذمہ دار اور سنجیدہ دیکھنا چاہتا ہوں وہ اتنی ہی الٹی حرکتیں کرتی ہے۔‘‘
’’پھر اپنے جیسی ہی لڑکی کا انتخاب کرنا تھا‘ اس معصوم کی شخصیت کو کیوں مسمار کررہے ہو۔‘‘ صہیب تپ گیا۔
’’یار تم بھی…‘‘ احمر نے صدمے سے اسے دیکھا۔
’’میں ہی غلط تھا جو یہ سمجھتا رہا کہ کم از کم تمہیں مجھ پر بھروسہ ہوگا… کیونکہ ماما بابا کے بعد تم واحد شخص ہو جو یہ جانتا ہے کہ مناہل خالصتاً میری مرضی اور پسند سے میری زندگی میں داخل ہوئی ہے‘ میرے مزاج کا تمہیں پتہ ہے‘ میں اس پر پابندیاں لگانے کی خواہش نہیں رکھتا‘ بس میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ میری ہے… اور… مجھے اچھا نہیں لگتا جب وہ کوئی ایسا کام کرے جو مجھے ناپسند ہو۔‘‘
’’یہی بات تم اسے پیار سے بھی سمجھا سکتے ہو۔‘‘
’’میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا… جذبات واحساسات کو اگر شرعی حیثیت اور وقت پر اجاگر کیا جائے تب ہی وہ کامیاب ہوتے ہیں‘ اس سے پہلے میں نہ اس کی کوئی غلط فہمی دور کروں گا نہ بدگمانی‘ جو سوچتی ہے سوچتی رہے۔‘‘ عجیب منطق تھی اس کی… منکوحہ تھی اس کی کوئی غیر نہیں تھی دو میٹھے بول بولنے میں کیا حرج تھا… کم از کم دوسرے کے دل پر ضرب تو نہیں لگتی۔
{…٭…}
سمیرا نے جب اسے فرحت کے آنے کا ریزن بتایا تو اس کا ری ایکشن توقع کے عین مطابق تھا۔
’’مطلب میں واقعی بوجھ بن گئی ہوں آپ پر۔ آپ کو دنیا کی فکر ہے ان کی باتوں کا ڈر ہے مگر میرے احساسات کا خیال نہیں… اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں صرف صہیب احمد کے باعث شادی نہیں کرنا چاہتی تو ایسا بالکل بھی نہیں… جب تک بھیا زندہ تھے میرے لیے شاید یہ وجہ اہم تھی… مگر اب نہیں اب مجھے صرف آپ کی اور بچوں کی فکر ہے اور میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والی۔‘‘
’’تمہیں پتہ ہے سمیر وقار کا مستقبل کتنا شاندار ہے۔‘‘ بھابی نے بولنا چاہا۔
’’تو بھابی‘ میں اپنے مستقبل کے لیے اتنی خود غرض ہوجائوں کہ اپنے بھیا کے بچوں کو تنہا چھوڑ دوں… مجھے عفان کے مستقبل کی زیادہ فکر ہے اپنے مستقبل سے زیادہ… آپ کو پتہ ہے بھابی وہ بڑا ہورہا ہے… ہر بات کو کتنی شدت سے محسوس کرتا ہے‘ میں نے انہیں اچھا فیوچر دینا ہے بس چاہے مجھے اپنے فیوچر کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔‘‘ بھابی کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’اللہ کے لیے مانو کیوں میرے دل کا بوجھ بڑھا رہی ہو‘ مجھے ڈر لگتا ہے اگر روز قیامت تمہارے بھیا نے مجھ سے سوال کیا کہ میں نے اپنی بہن کی ذمہ داری تمہیں سونپی تھی اور تم نے اپنے فائدے کے لیے میری بہن کو استعمال کیا‘ مجھے اپنے شہید شوہر کی نگاہوں میں سرخرو ہونا ہے مانو اللہ کے لیے یہ ضد چھوڑ دو۔‘‘ انہیں روتا دیکھ کر وہ ان سے پہلے رونے لگی۔
’’کیا ہو جاتا اگر بھیا اتنی جلدی نہ جاتے۔‘‘
’’ایسے مت کہا کرو بچے‘ ہم اس رب کی رضا میں راضی ہیں… جو ہمیں ستر مائوں سے بڑھ کر چاہتا ہے۔‘‘ انہوں نے مانو کو خود سے لگالیا۔
’’مدحت کا فون آیا تھا تمہارے لیے۔‘‘ کتنی دیر بعد جب وہ بولنے کے قابل ہوئی تو بھابی نے بتایا۔
’’بھابی مجھے اس سے دوستی نہیں کرنی۔‘‘
’’کیوں اچھی لڑکی تو ہے۔‘‘
’’ہوں… مگر میں اتنی سوشل نہیں بن سکتی‘ اس کا سارا دن سوشل نیٹ ورک پر گزرتا ہے ہزاروں لوگوں سے فرینڈ شپ ہے… اور آپ کو علم ہے کہ مجھے یہ سب پسند نہیں۔‘‘
’’مگر تم ہیلو ہائے تو رکھ سکتی ہو اس سے۔‘‘
’’اس کی باتیں میرے دماغ کی چولیں ہلا دیتی ہیں‘ کل اس نے مجھے آفس سے پک کیا اور اپنے ساتھ کیفے لے گئی‘ بلیو می بھابی اتنا بولتی ہے کہ بس… محترمہ مجھے اپنے افیئرز کے قصے سنا رہی تھیں۔‘‘
’’کیا…! ایسی لڑکی ہے وہ؟‘‘
’’جی… موصوفہ کا آج کل کسی لڑکے کے ساتھ افیئر ہے اور بے چارہ اس کی باتوں کے جال میں پھنس گیا اور سنجیدہ ہوگیا‘ کل اسے ملنے آیا ہوا تھا اور آپ کو پتہ ہے وہ اس شہر سے بھی نہیں ہے۔‘‘
’’تم بس سلام دعا ہی رکھو۔‘‘ وہ تو بری طرح ہراساں ہوگئیں‘ فرحت ان کی کولیگ تھی اچھی فیملی سے تھی مگر شاید انٹرنیٹ کی لت نے تو تمام بچوں کو ہی بگاڑ دیا تھا۔
’’جی بھابی۔‘‘
’’تمہیں تو نہیں ملوایا اس لڑکے سے؟‘‘
’’کہہ رہی تھی مگر میں بہانہ کرکے نکل آئی تھی۔‘‘
’’اچھا کیا۔‘‘ بھابی نے اس کے چہرے کو پیار سے چھوا۔
{…٭…}
وہ تو لڑکی فائنل کرکے بیٹھی تھیں صد شکر کہ انہوں نے بات پکی نہیں کی تھی‘ حیدر نے بنا لڑکی کو دیکھے ہی صاف منع کردیا تھا۔ سعدیہ تو چکرا کر رہ گئیں مگر بڑی اولاد تھی زور زبردستی بھی نہیں کرسکتی تھیں… تابندہ بھابی سے بات کی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حیدر سے پوچھ لو شاید اس کی کوئی پسند ہو۔
’’مگر بھابی ہم بنا دیکھے بنا جانے اس کی پسند کی لڑکی تو نہیں اپنا سکتے۔‘‘
’’ارے تم پوچھو تو… دیکھو سعدیہ زندگی بچوں نے گزارنی ہے‘ اگر واقعی حیدر کی کوئی پسند ہے تو وہ یقینا اسے جانتا بھی ہوگا اچھے سے‘ خاندان کیسا ہے‘ رہن سہن ہم دیکھ لیں گے‘ بات اتنی سی ہے سعدیہ‘ یہ زمانہ بہت خراب چل رہا ہے‘ آج کل اولاد کی نہ مانیں تو وہ کل کو ہمارے منہ پر آکے زبان چلائیں گے‘ نافرمانی کریں گے‘ پھر یہ تو شریعت میں ہے کہ بچوں کی مرضی اور پسند کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔‘‘ بڑی بھابی کی بات سے وہ متفق تو تھی مگر ڈر یہ تھا کہ اگر حیدر نے واقعی کوئی لڑکی پسند کر رکھی ہو تو جانے وہ کیسی ہو؟
ادھر احمر اور صہیب اس کم عقل انسان کو سمجھانے کی تگ ودو میں تھے۔
’’اللہ کی قسم مجھے ذرا بھی شبہ ہوجاتا ناں کہ تم کیوں کراچی جارہے ہو تو میں کبھی تمہیں جانے نہ دیتا۔‘‘
’’مجھے اس سے ملنا تھا اور آئی ایم سو ہیپی وہ توقع سے زیادہ اچھی ہے… اچھی فیملی سے ہے۔‘‘
’’اس کے اچھے ہونے کا اندازہ تو ہم لگا سکتے ہیں اچھی لڑکیاں وہ بھی اچھے گھرانے کی یوں فون پر لڑکوں سے دوستیاں نہیں کرتیں۔‘‘ احمر کو تو ایسی لڑکیاں زہر لگتی تھیں۔
’’احمر تمہاری سوچ بابا آدم کے زمانے کی ہے اب زمانہ بدل گیا ہے‘ ضروری نہیں ہے کہ اگر کوئی لڑکی آپ کو فون یا نیٹ پر ملی ہو وہ کریکٹر کی اچھی نہیں ہوگی‘ کتنے لوگوں کی شادیاں صرف ایف بی پر دوستی سے ہوئیں‘ نیا زمانہ ہے یار‘ دنیا ترقی کر گئی اور ہم اب تک لوگوں کے کردار کو ناپنے کے پیمانے پر ہی اٹکے ہوئے ہیں۔ میرا بھی یہی فیصلہ ہے کہ میں نے شادی کرنی ہے تو صرف مدحت سے۔‘‘ احمر نے مایوسی سے صہیب کو دیکھا‘ جو احمر سے سو فیصد متفق تھا مگر اب مزید بول کر بھتیجے کے سامنے لفظ بے مول کرنا نہیں چاہتا تھا۔
’’اوکے فائن تو کرو فون اپنی شہزادی کو اور اسے کہو کہ تم اپنے پیرنٹس کو بھیج رہے ہو رشتے کے لیے۔‘‘
’’تمہارے کہنے سے کیا ہوگا بابا اور ماما…‘‘
’’تم ٹینشن نہ لو یہ ہمارا ہیڈک ہے تم صرف اسے انفارم کرو صرف ماما بابا ہی نہیں ہم دونوں بھی جائیں گے‘ آئی پرامس۔‘‘
’’دیکھ لو یار صہیب…‘‘
’’بلیو می میں خود بھیا بھابی کو منائوں گا۔‘‘ حیدر کی خوشی سے بھانچھیں کھل گئیں۔
’’زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے مگر انسانی تہذیب‘ رسم ورواج‘ شرم وحیا‘ ہمارے اقدار کسی دور میں نہیں بدل سکتے‘ ہماری تنزلی کی سب سے بڑی وجہ ہماری اندھی تقلید ہے جو ہم مغربی معاشرے کی کررہے ہیں‘ ایسے ہی ہماری نئی نسل برباد نہیں ہورہی ہے صہیب‘ یہ سازش ہے‘ یہ سوشل نیٹ ورکس اور ان کا غلط استعمال‘ سائنس کی ترقی انسان کی آسانی اور بھلائی کے لیے ہے مگر آج کا انسان ان سہولیات کا غلط استعمال کرکے صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسل کے لیے بھی پریشانیاں پیدا کررہا ہے… اور مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ حیدر منیب جیسا باشعور انسان کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔‘‘
’’آجائے گی تم فکرنہ کرو۔‘‘ صہیب نے اسے تسلی دی۔
{…٭…}
پورے گھر میں یہ خبر پھیل گئی تھی کہ حیدر منیب احمد جس لڑکی کو پسند کرتا ہے وہ کراچی میں رہتی ہے۔ گھر کے تین بڑے بچے اور تینوں نے ہی بزرگوں کو مایوس کیا‘ پہلے صہیب‘ پھر احمر اور اب حیدر… منیب احمد اور احمر علی اگر اڑنا چاہتے تو بچوں کی امائیں روتی بسورتی منتیں کرنے لگتیں کہ جوان بچے ہیں کہیں غصے اور ضد میں آکر غلط قدم نہ اٹھالیں۔
’’مطلب یہ تو سیدھی سی بلیک میلنگ ہوئی ناں۔‘‘
’’پھر کیا کریں آخر؟‘‘
’’میں تو صہیب کو ہی برا کہتا رہا یہاں ہماری اپنی اولاد ہمیں شرمندہ کرنے پر کمربستہ ہے۔ اللہ جانے کون ہے‘ خاندان کیسا ہے‘ بس برخوردار کو پسند ہے تو منہ اٹھا کر کراچی نکل جائو۔‘‘
’’ارے اس ناہنجار کو تو کوئی سمجھائو۔‘‘ ہمیشہ کی طرح احمر علی نے بی پی ہائی کرلیا۔
’’صہیب اور احمر نے بہت سمجھایا ہے۔‘‘
’’خاک سمجھایا ہوگا‘ اس چغد کو… وہ تو خود پہلے سے سب جانتے ہوں گے‘ ارے ہمیں احمق بنارہے ہیں مل کر… جانے کیا وبا پھیلی ہے یہ زمانے میں ایف بی اور انٹرنیٹ کی‘ اب شادیاں بھی نیٹ پر ہوں گی کیا؟‘‘
’’ہمارے زمانے میں گھر بار دیکھا جاتا تھا‘ خاندان اور پس منظر کی بنیاد پر رشتے طے ہوتے تھے یہاں ہماری اولاد نیٹ پر تصویر دیکھی چند باتیں کیں اور فیصلہ کرلیا کہ شادی کرنی ہے۔‘‘
’’منیب احمد تم سوچ لو بھائی مگر فیصلہ اٹل ہے میں قطعی اس طرح کے رشتوں کے حق میں نہیں ہوں اور نہ اجازت دوں گا‘ لیکن تم چاہو تو اپنے بیٹے کے لیے…‘‘
’’ہم آپ سے الگ نہیں ہیں بھائی صاحب‘ جو بھی فیصلہ ہوگا سب کی مرضی اور خوشی سے ہوگا اور حیدر کو ماننا پڑے گا۔‘‘ منیب احمد کبھی بڑے بھائی سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔
سو طے پایا کہ ابھی صرف خاموشی اختیار کی جائے مگر حیدر مدحت کو مستقل شادی کے لیے منا رہا تھا‘ جو ابھی شادی کے حق میں نہیں تھی۔
’’میں کون سا آج ہی نکاح کرنے کا کہہ رہا ہوں۔‘‘ وہ بضد ہوا۔
’’لسن حیدر… ہم اچھے دوست ہیں مجھے تم سے پیار ہے مگر ضروری تو نہیں کہ ہم اچھے میاں بیوی بھی ثابت ہوں… میں نے تو ابھی شادی کو اپنے فیوچر کے گولز میں شامل ہی نہیں کیا… میں تم سے شادی کیسے کرلوں…؟‘‘
’’اگر یہ مذاق ہے تو بہت بھونڈا ہے مدحت۔‘‘
’’یہ حقیقت ہے مسٹر حیدر وی آر جسٹ اے فرینڈز… اس سے زیادہ کوئی ریلیشن نہیں ہوسکتا ہمارا۔‘‘
’’واٹ…! مدحت آر یو میڈ… تمہیں ہوا کیا ہے آج؟‘‘
’’یو آر میڈ مسٹر حیدر… تم نے میری فرینڈ شپ کو غلط معنی دیے‘ میری تو تم جیسے کتنے لڑکوں سے دوستی ہے‘ تو کیا میں ہر کسی کا پرپوزل ایکسیپٹ کرلوں۔‘‘ مدحت کا چہرہ کھل کر سامنے آنے لگا مگر وہ بے یقین تھا۔
’’مدحت ہم صرف دوست نہیں ہیں اور یہ بات تم جانتی ہو۔‘‘
’’اوکے فائن… آج کے بعد ہم دوست بھی نہیں ہیں۔‘‘ یہ آخری بات تھی جو اس نے کی اور پھر کال کاٹ دی۔
حیدر منیب بے یقینی کی اتھاہ گہرائی میں ڈوب رہا تھا‘ ایسے کیسے ہوسکتا ہے جس لڑکی نے زندگی بھر ساتھ رہنے کا وعدہ کیا ہو‘ محبت کے سفر میں قدم بہ قدم چلی ہو وہ کیسے انکاری ہوسکتی تھی؟ اس نے مدحت سے دوبارہ کانٹیکٹ کرنے کی سعی کی تو اس نے نمبر سوئچ آف کردیا‘ ایف بی… پر اسے بلاک کردیا۔ حیدر کی حالت ان دنوں پاگلوں کی سی تھی… اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ مدحت نے اس کے ساتھ فریب کیا ہے۔
’’یار تم کوئی ٹین ایج ناسمجھ بچے ہو جو یوں ری ایکٹ کررہے ہو… دفعہ کرو بھول جائو۔‘‘
’’بھولنا اتنا آسان عمل نہیں ہے احمر… یہ درد‘ یہ تکلیف میرے لیے سہنا کٹھن ہے کہ میں اسے پہچاننے میں اتنی بڑی غلطی کر گیا‘ ایک بالشت بھر کی لڑکی مجھے کیسے احمق بنا گئی۔‘‘
’’جسٹ ریلیکس… تم یہ سوچنا ہی چھوڑ دو‘ برا خواب سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’اس نے مجھے دھوکہ دیا ہے احمر اسے بھولنا قطعی کٹھن نہیں ہے مگر میں نے محبت کی تھی اس سے‘ اپنے تمام تر احساسات اور جذبات پوری سچائی کے ساتھ اسے سونپے تھے‘ میرے لیے یہ سب فراموش کرنا آسان نہیں… میرے درد کا اندازہ نہیں لگا سکتے تم… کبھی نہیں۔‘‘ حیدر اس وقت حقیقتاً بہت بکھرا ہوا تھا‘ احمر نے اسے اپنے سامنے کیا اس کا چہرہ ضبط کا گواہ تھا سرخی مائل آنکھوں میں شکست شدت سے نظر آرہی تھی۔ احمر نے کندھوں سے تھام کر اسے گلے سے لگایا۔
’’ایسا نہیں ہے حیدر مجھے تمہاری تکلیف کا احساس نہ ہو… مگر میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس کی وجہ سے خود کو یہ اذیت نہ دو… وہ اس قابل نہیں تھی کہ اسے حیدر منیب احمد جیسا اعلیٰ انسان نصیب ہوتا۔ غلطی تمہاری نہیں ہے بدنصیبی تو اس کی ہے ناں جو تمہاری محبت کو نہ سمجھ سکی… یقینا وقت ایسے لوگوں کو بڑی ٹھوکر لگاتا ہے۔‘‘ اسے گلے لگائے احمر اسے کافی دیر سمجھاتا رہا تھا۔
مگر اس کا درد کم نہ ہوسکا‘ وقت کا مرہم زخم دھیرے دھیرے بھرے گا تو بھرے گا ابھی تو حیدر منیب احمد کے تن کی چبھن اتنی تھی کہ اسے خود اپنی سانسیں اٹکتی محسوس ہوتی تھیں۔
{…٭…}
’’دو ماہ مکمل ہوچکے ہیں بھابی جی‘ مجھے پندرہ تاریخ کو گھر خالی چاہیے‘ میں بیانہ لے چکا ہوں گھر کا‘ ان سے وعدہ ہے کہ پندرہ کو انہیں گھر کی چابی دے دوں گا۔‘‘
’’ایسے کیسے عباس بھائی آپ ہمیں نکال دیں گے‘ ہمیں گھر ملے گا تو ہم خالی کریں گے ناں۔‘‘ وہ آج گھر پر ہی تھی بھابی سے پہلے خود ہی شروع ہوگئی۔
’’یہ میرا درد سر نہیں۔‘‘ وہ بنا بحث کیے اپنا فیصلہ سنا کر چلتے بنے۔
بھلا اتنا آسان تھا اتنے بڑے شہر میں کرائے کے لیے گھر ڈھونڈنا‘ وہ بھی ان تن تنہا عورتوں کے لیے‘ محلہ‘ لوگ ہر چیز ہی مدنظر رکھنی پڑتی تھی۔ بھابی تو اس خواری سے اچھا خاصا تنگ آگئی تھیں۔
’’میں نے طے کرلیا ہے مانو میں واپس ملتان جارہی ہوں۔‘‘ آج عباس نے بھی جب فیصلہ صادر کردیا تو وہ بہت مایوس ہوگئی تھیں۔
’’گورنمنٹ جاب ہے آپ کی‘ ایسے کیسے چھوڑ سکتی ہیں آپ؟‘‘
’’پھر بچوں کی اسکولنگ میری جاب… مت بھولیے بھابی ہم دونوں مل کر ہی گھر چلا رہے ہیں وہاں جاکر صرف گھر اپنا ہوگا‘ مگر جاب لیس ہوجائیں گے۔‘‘
’’دو تین ماہ ہی مشکل سے گزریں گے ناں… اللہ مالک ہے مشکل کے بعد آسانی بھی عطا کرے گا‘ عفان کے ایٹھ کلاس کے ایگزام ہوچکے ہیں‘ سرٹیفیکیٹ مل جائے گا ریان اور بیہ کے لیے اتنا زیادہ پرابلم نہیں ہوگی ہمیں… اپنا شہر ہے ہم نے زندگی کا بڑا حصہ وہاں گزارا ہے‘ ان شاء اللہ سب سیٹل ہوجائے گا۔‘‘ بھابی پُرامید تھیں مگر مانو اپ سیٹ‘ اچھی خاصی سیٹ زندگی تھی پھر سے اسٹارٹ لینا پڑے گا۔
’’اچھا ہتھیلی پر سرسوں تو نہ جمائیں ان پندرہ دن میں جانا مشکل ہے‘ فی الوقت تو کوئی حل نکالیں پھر دیکھیں گے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح وہ ٹال مٹول کرنے لگی مگر اس بار سمیرا کا فیصلہ اٹل تھا۔ اب وہ اپنے آبائی گھر جانا چاہتی تھیں‘ مگر خواہش تھی کہ جاب بھی نہ جائے ایسے میں انہیں مانو کی بات غنیمت لگی تھی… انہوں نے اپنی کولیگ فرحت سے بات کی۔
’’لو اتنی سی بات‘ میری امی کے اوپر والے پورشن میں شفٹ ہوجائو‘ انہیں بھی اچھے پڑوسی مل جائیں گے‘ تمہیں جب کوئی بہتر گھر مل جائے گا تم لوگ پھر چھوڑ دینا۔‘‘
’’مگر انہیں مشکل تو نہ ہوگی۔‘‘
’’نہیں امی‘ مدحت اور سمیر تین تو افراد ہیں ان کے لیے نیچے والا پورشن کافی ہے عرصے سے اوپر والا حصہ خالی ہے‘ جب سے بڑے بھائی لندن گئے ہیں۔‘‘
’’تم ان سے بات کرلینا‘ میں بھی مانو سے پوچھ لوں گی۔‘‘ سمیرا کا اپنا ذہن ماننے کو تیار نہ تھا‘ مگر مجبوری تھی‘ مانو نے تو کوئی اعتراض نہ کیا۔ فرحت نے اگلے دن ہی اسے فون کردیا۔
’’امی تو خوش ہیں کہ ان کے آس پاس رونق لگ جائے گی تم لوگ سنڈے کو شفٹ کرلو تمہاری اور مانو دونوں کی چھٹی ہوگی۔‘‘ سمیرا نے فون بند کرکے مانو کو دیکھا۔
’’میرا دل مطمئن نہیں ہے مانو مگر مجبوری ہے صرف آٹھ دن باقی ہیں‘ فرحت کہہ رہی تھی کہ سنڈے کو شفٹ کرلو۔‘‘
’’جیسے آپ کی مرضی‘ پلیز ٹینشن نہ لیں۔‘‘
’’مجھے مدحت کی ہابیز قطعی پسند نہیں ہیں۔‘‘
’’ڈونٹ وری میں اتنا شعور رکھتی ہوں کہ اچھا برا سمجھ سکوں۔‘‘ اسے پتہ تھا بھابی کو اس کی فکر ہے۔
’’تم پہ بھروسہ ہے مجھے۔‘‘ اس کی طرف سے وہ مکمل طور پر مطمئن تھیں۔
’’اوکے پھر پیکنگ شروع کردیں سنڈے کو شفٹ کرلیں گے۔‘‘
’’بھابی ایک بار دیکھ تو آئیں۔‘‘ سمیرا نے سر تھاما‘ واقعی اس نے تو یہ سوچا ہی نہ تھا۔
’’کل جائوں گی فرحت کے ساتھ۔‘‘ انہوں نے اسے تسلی دی۔
{…٭…}
نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے
یوں ہی راستے میں جدا ہوئے
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا
جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ اداس دھوپ سمیٹ کر
کہیں وادیوں میں اتر گیا
اسے اب نہ دے میرے دل صدا
جو گزر گیا سو گزر گیا
یہ سفر بھی کتنا طویل ہے
یہاں وقت کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا
جو گزر گیا سو گزر گیا…!!
کتنے دن کے بعد آج بھی دل نے یادوں کی گٹھڑی کھولی تھی کتنی یادیں سنہرے پل ہزاروں باتیں اس کے کمرے میں جیسے چار سو بکھر گئے تھے۔
’’ماہ نور اشرف مانا کہ میں خطا کار ہوں… مجھے محبت کا ادراک دیر سے ہوا مگر مجھے اتنی طویل سزا مت دو… چار سال سے زیادہ گزر گئے۔ یہ عرصہ کم تو نہیں ہے… پلیز لوٹ آئو۔‘‘
’’اب تم میری قدر نہیں کرتے ناں… اگر چلی گئی ناں پھر یاد کرتے رہنا میں نے بھی لوٹ کر نہیں آنا۔‘‘ اس کی بے توجہی پر وہ اکثر کلس کر کہتی تھی لیکن یہ خبر نہ تھی کہ وہ حقیقتاً ایسا کر جائے گی‘ کاشف بھائی نے بھی مڑ کر خبر نہ لی۔
’’اور اگر وہ کسی اور کی ہوگئی ہو تو…‘‘ کبھی کبھی یہ خدشہ اس کی روح لرزا دیتا تھا۔ ’’میری خطائوں کی اتنی بڑی سزا نہ دینا میرے رب… اسے میرا کردے… میرا نصیب کردے۔‘‘ ونڈو سے ڈُوبتے آفتاب پر نگاہ جمائے وہ دل ہی دل میں خالق کائنات سے مخاطب تھا۔
’’سو رہے ہو…‘‘ حیدر کی آواز نے چونکایا… حیدر آج کل صرف اس سے اور احمر سے بات کرتا تھا‘ ابھی بھی کچھ وقت وہ صہیب کے ساتھ گزارنے آیا تھا۔
’’نہیں…‘‘
’’باہر چلتے ہیں کہیں۔‘‘ حیدرنے بے چینی سے کہا صہیب نے تیکھی نگاہ اس پر ڈالی۔
’’تمہیں اسموکنگ کرنی ہوگی۔ میں تمہیں بہت بہادر سمجھتا تھا حیدر… مگر تم نے خود کو سمیٹنے کے لیے اس چیز کا سہارا لے کر خود کو کمزور ثابت کردیا۔‘‘
’’تقریر مت کرو یار… چلو۔‘‘ اس نے زبردستی صہیب کا بازو پکڑ کر اٹھایا۔
’’میں آج احمر کو بتادوں گا۔‘‘
’’مطلب میں تم پر بھی اعتبار نہ کروں؟‘‘ دروازے سے باہر نکلتے ہوئے پُرشکوہ نظروں سے اس نے صہیب کو دیکھا‘ وہ سر جھٹک گیا‘ حیدر نے بائیک نکالی وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا… حیدر نے اپنی پسندیدہ جگہ پر بائیک روکی تھی۔
’’میرا دل کڑھتا ہے تمہیں یہ زہر پیتا دیکھ کر… اللہ کے لیے حیدر کسی غیر کی خاطر تم اتنے سارے رشتوں کو سزا دے رہے ہو۔ پلیز چھوڑ دو یہ۔‘‘
’’چھوڑ دوں گا جب میرے دل کے زخم بھر جائیں گے۔‘‘
’’جنہیں روز کریدا جائے وہ زخم کبھی نہیں بھرتے حیدر… تم خود ہی تو اسے بھولنا نہیں چاہتے۔‘‘
’’مانو کو بھول پائے ہو تم۔‘‘ اس نے صہیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’مانو کو تو اس لڑکی سے قطعی کمپئر نہیں کرو اوکے۔‘‘ وہ سخت لہجے میں بولا۔
’’تمہیں سمجھایا تھا ہم نے… مگر تمہیں ہم دشمن لگا کرتے تھے۔‘‘ حیدر نے سرجھٹکتے ہوئے سگریٹ کا دھواں خارج کیا تو صہیب کو رخ موڑنا پڑا۔
’’تمہیں پتہ ہے صہیب میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’تمہیں علم تو ہے ناں گھر میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟‘‘ حیدر نے صہیب کا چہرہ دیکھ کر سوال کیا۔
’’کیا؟‘‘ وہ انجان بنا۔
’’یہ ڈرامے مت کرو… صہیب ابھی میں قطعی اس فیصلے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں اور تمہیں پتہ ہے ناں کہ کزن میرج کے میں خلاف ہوں‘ اگر میری زندگی میں مدحت نہ آئی ہوتی تب بھی میں قطعی اس فیصلے کو نہ مانتا اور اب تو بالکل بھی نہیں‘ تم جانتے ہو میں احمر کے سامنے یہ بات نہیں کرسکتا… صہیب پلیز ماما‘ بابا کو سمجھاؤ ناں کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی اور دانیہ سے تو ہرگز بھی نہیں… ابھی تک میرے دل ودماغ سے مدحت کی باتیں اس کی بے وفائی ہی نہیں گئی… فی الوقت میری زندگی میں کسی بھی لڑکی کی گنجائش نہیں‘ میں نہیں چاہتا کہ میری زندگی میں آکر کوئی لڑکی اپنی قسمت کو کوسے۔‘‘
’’میں اس معاملے میں تمہاری کوئی ہیلپ نہیں کرسکتا‘ پہلے ہی بھیا نے ہمیں اتنا ڈانٹا تھا حالانکہ ہم نے تمہیں کتنا سمجھایا تھا کہ اس لڑکی کی باتوں میں نہ آؤ۔‘‘ صہیب نے ہاتھ کھڑے کردیے۔
’’پھر میری ذمہ داری نہیں ہوگی‘ کل کو مجھے کوئی بلیم نہیں کرے گا میرا رویہ ٹھیک نہیں ہے‘ میں کسی بھی صورت دانیہ کو قبول نہیں کرپائوں گا‘ اور اس زبردستی کے رشتے کے ذمہ دار تم سب ہوگے۔‘‘ صہیب نے کان نہیں دھرے اس کے نزدیک یہ خوامخواہ کی دھمکیاں تھیں۔
’’ایک بار تو اس نے غلط فیصلہ کیا تھا مگر اب دوسرے غلط فیصلے میں وہ ہرگز اس کا ساتھ نہیں دے گا۔‘‘
سعدیہ بھابی نے اپنی خوشی سے دانیہ کو مانگا تھا‘ بڑے بھیا سے اور بھیا تو ہمیشہ ہی اپنے خاندان کو ایک دیکھ کر خوش تھے ان کے لیے اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ ان کی بیٹی ہمیشہ ان کی نگاہوں کے سامنے رہے۔ لیکن حیدر کی منطق علیحدہ تھی وہ شروع سے کزن میرج کے خلاف تھا‘ احمر اور مناہل کی بار بھی وہ بولا تھا مگر ماما نے ایسی سنائی تھیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا تھا۔ مگر اپنی باری میں وہ بولنے کا حق رکھتا تھا… یہ اور بات تھی کہ مدحت کی وجہ سے اس نے یہ حق کھو دیا تھا اب تو گھر والے اس کی ایک بھی سننے کو تیار نہ تھے‘ صہیب کی صورت میں جو امید کی آخری کرن تھی وہ بھی بجھ گئی تھی۔
’’دیکھو حیدر تم اپنے ماں باپ کی بڑی اولاد ہو اور اکلوتے لڑکے ہو… ان کی امیدیں تم سے وابستہ ہیں‘ پلیز اس عمر میں انہیں مزید کسی دکھ سے دو چار مت کرنا… منیب بھائی بھی ہارٹ پیشنٹ ہیں تمہیں پتہ ہے اور تمہاری ماما بھی بیمار رہتی ہیں… دونوں بہنوں کی ہزاروں امیدیں تمہاری ذات سے منسوب ہیں‘ حیدر اللہ کے لیے ہوش کے ناخن لو اور یہ خرافات چھوڑ دو‘ ماں باپ اولاد کے دشمن نہیں ہوتے انہوں نے یقینا تیری بہتری سوچی ہے جو ابھی تمہیں سمجھ نہیں آرہی۔‘‘
’’میرے دل میں کسی لڑکی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اگر تم چاہتے ہو ماما بابا کی خواہش کے لیے میں مان جائوں تو ٹھیک ہے… مگر پلیز مجھ سے بہت سی توقعات نہ رکھنا۔‘‘ وہ احمر کی طرح ضدی نہیں تھا۔
مگر یہ بھی سچ تھا مدحت نے اس کے دل پر ضرب لگائی تھی اس کے بعد اس کے دل میں لڑکیوں کے لیے نفرت پیدا ہوگئی تھی۔ ابھی تو وہ خود کو ہی سمیٹنے میں مصروف تھا کہ گھر کے بڑوں نے نی افیصلہ لے لیا۔
’’تم سب کچھ اس کی ذات پر چھوڑ دو جو بگڑی کو سنوارنے والا ہے‘ مجھے یقین ہے وہ کبھی بھی انسان کو تنہا نہیں چھوڑتا‘ وہ خود تمہارے لیے راہ بنادے گا… تم قدم تو بڑھاؤ۔‘‘ صہیب نے اسے بہت اچھے سے سمجھایا تھا‘ نجانے وہ سمجھ پایا تھا کہ نہیں۔ بہرحال وہ چپ چاپ اس کے ساتھ گھر آگیا تھا۔
{…٭…}
گھر میں آج خوب رونق لگی ہوئی تھی عاقب چاچو کے چھوٹے بیٹے سفیان کی سالگرہ تھی‘ کافی دنوں کے بعد تمام لوگ اچھے موڈ میں نظر آرہے تھے… سدرہ چاچی نے بہت اچھا انتظام کیا تھا۔ گھر میں کوئی تقریب ہو اور ان کی اکلوتی پھوپو انوائیٹڈ نہ ہوں ایسا کیسے ممکن تھا‘ تبھی تو طلال کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں۔
’’پھوپو آپ کو پتہ ہے میری برتھ ڈے کے لیے کیک مناہل آپی نے خود بنایا ہے اور عاشی آپی نے بریانی پکائی ہے۔‘‘ وہ لاڈلا تھا مناہل اور عاشی کا۔
’’مطلب کہ آج ہمیں بھوکا ہی گھر جانا پڑے گا۔‘‘ بلال کی شرارت کی رگ پھڑکی۔
’’ڈونٹ وری بلال بھائی ایسا کچھ نہیں ہونے والا‘ دراصل آپ کو ماہین کے ہاتھ کے کھانوں کی عادت ہوگئی ہے تبھی آپ کو ہر جگہ وہی ٹیسٹ محسوس ہوتا ہے۔‘‘ عاشی نے میٹھے انداز میں اس کی اچھی بے عزتی کردی تھی کہ بلال بے چارہ منہ بنا کر رہ گیا۔
’’بھئی کیک کب کٹے گا؟‘‘
’’چاچو اور احمر بھیا کے آنے پر۔‘‘ دانیہ نے جواب دیا۔
’’تابندہ بھابی قسم سے دل کرتا ہے آپ کے ہاتھ چوم لوں‘ آپ نے میری اماں کے گھر کو جیسے سنبھالا پھر تمام بچوں خاص کر بچیوں کی تربیت اتنی اعلیٰ کی کہ دل خوش ہوجاتا ہے۔‘‘ گھر میں چار لڑکیاں تھیں الونیہ‘ ابھی چھوٹی تھی مگر باقی تینوں نے ناصرف یہ کہ اچھی تعلیم حاصل کی بلکہ گھر کے ہرکام میں بھی ماہر تھیں۔ تابندہ مسکرادیں۔
’’نگہت میں نے جو کچھ اماں بی سے سیکھا آگے وہی پھیلایا‘ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے‘ انہوں نے بھی کبھی میرے ساتھ بہوئوں والا سلوک نہیں کیا ہمیشہ بیٹیوں کی طرح برتائو کیا۔‘‘
’’آپ نے بھی تو اس گھر کو جوڑ کر رکھا ہے ہمیشہ۔‘‘
’’اللہ پاک ہمارے گھرانے کو یوں ہی رکھے۔‘‘ انہوں نے دل سے دعا کی۔
تقریباً آٹھ بجے جب سب اکھٹے ہوئے تب سفیان نے کیک کاٹا۔ بہت اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا اور اسپیشل عاقب چاچو کی فرمائش پر سب کے لیے کافی بن رہی تھی۔
’’دراصل سفیان کی سالگرہ تو بہانہ ہے مل بیٹھنے کا‘ ہم نے سب کے سامنے بہت اہم بات کرنی ہے۔‘‘ بڑے بابا نے گفتگو کاآغاز کیا‘ حیدر پہلو بدلنے لگا۔
’’منیب احمد بتائو بھئی سب کو۔‘‘ حالانکہ گھر کے ہر فرد کو علم تھا مگر بس باقاعدہ اعلان کرنا تھا حیدر کی بے چینی حد سے سوا تھی۔ جب سکون نہ آیا تو وہ اٹھا اور سیدھا کچن میں آگیا۔
’’تم میری بات سنو ابھی…‘‘ جانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کہ اس نے سختی سے دانیہ کا بازو پکڑا۔
’’مناہل تم سنبھال لینا ذرا۔‘‘ بہن کو حکم دیتا وہ دانیہ کو چھت پر لے آیا‘ وہ ہراساں سی اس کے ساتھ تھی‘ حیدر نے چھت پر پہنچ کر اس کی کلائی اپنی سخت گرفت سے آزاد کی۔
’’یہ کیا بچپنا ہے حیدر اور تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘
’’ڈونٹ وری کھائوں گا نہیں تمہیں… صرف بات کرنی ہے۔‘‘ ملگجے اندھیرے میں بھی حیدر کی پیشانی کے بل نمایاں تھے۔
’’آئی نو… تمہاری تربیت بہت اچھے ہاتھوں میں ہوئی ہے۔‘‘ دانیہ کے جواب نے جیسے اس کے غصے کو مزید بھڑکا دیا تھا۔
’’مطلب؟ میں خود ناقابل اعتبار ہوں۔‘‘
’’میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا تم خوامخواہ بات کو بڑھا رہے ہو… یہ بتائو مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘
’’مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ فیصلہ اب تمہارے ہاتھ میں ہوگا… یو نو ویری ویل کہ میری لائف میں مدحت کے بعد کسی بھی لڑکی کی گنجائش نہیں۔‘‘
’’آئی نو۔‘‘ اس کے دھواں دھار عشق اور پھر ناکامی سے تو گھر کا بچہ بچہ واقف تھا۔ دانیہ نے بہت مضبوط لہجے میں کہہ تو دیا تھا وگرنہ یہ حقیقت تھی کہ اس کے دل میں بہت کچھ تھا۔
’’پھر بھی تمہیں اس رشتے پر اعتراض نہیں ہے یہ جانتے ہوئے بھی گھر والے جس کے ساتھ تمہارا مستقبل جوڑ رہے ہیں وہ تمہارا کبھی نہیں ہوسکتا… وہ کبھی تمہیں کوئی خوشی نہیں دے سکتا… دیکھو دانیہ ہم کزنز ہیں‘ مگر جو رشتہ گھر والے ہمارا جوڑ رہے ہیں میں دل ودماغ دونوں سے اسے قبول نہیں کرتا… مگر میں انکار بھی نہیں کرسکتا… لیکن تم تو منع کرسکتی ہو… سب کچھ جاننے کے بعد اپنی زندگی مت خراب کرو۔‘‘
’’تم مرد ہوکر منع نہیں کرسکتے تو میں لڑکی ہوکر کیسے انکار کردوں‘ میرے کندھے پر رکھ کر بندوق مت چلائو… اعتراض تمہیں ہے تو سب کے سامنے منع بھی خود کرو… میرے سامنے میرے بابا کی عزت ان کا مان ہی سب کچھ ہے جو میں کسی صورت نہیں توڑ وں گی۔‘‘ عجیب مخلوق بنائی ہے اللہ پاک نے یہ عورت بھی‘ ریزہ ریزہ ہوکر لہجہ چٹان جیسا تھا۔ حالانکہ کس لڑکی کی خواہش ہوگی کہ اس کی زندگی میں جو مرد آئے وہ پہلے ہی اپنے تمام تر جذبات واحساسات اپنے التفات اپنی محبت کی شدتیں کسی اور پر نچھاور کرچکا ہو‘ جو دم ہی کسی اور کا بھرتا ہو مگر ہائے رے مجبوری…! مجبوری صرف یہ نہیں تھی کہ اس کے ماما بابا نے یہ رشتہ طے کیا تھا… بعض دفعہ دل کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں‘ ہمیں کوئی شخص اپنی تمام تر بے رخی کج ادائی کے ساتھ بھی عزیز تر ہوتا ہے۔ اس شخص کو تو صدا اس نے دعائوں میں مانگا تھا۔ شاید اس کی دعائوں کا ہی تو ثمر تھا کہ جب وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں اترنے لگی تو دعائیں مستجاب ہوگئیں… اسے وہ شخص رب کی رضا سے مل رہا تھا ہاں لیکن ادھورا… کسی اور کی محبت میں چور‘ کسی کی بے وفائی کا داغ دل پر لیے لیکن دانیہ کو ہر حال میں قبول تھا۔
’’پھر یاد رکھنا دانیہ احمر علی‘ مجھ سے کوئی توقعات وابستہ نہ کرنا‘ میری ذات سے سوائے مایوسی اور درد کے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے کہو تو لکھ کر دے دوں۔‘‘ پینٹ کی پاکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگاتے ہوئے اس نے سلگتے لفظوں سے معصوم دانیہ کے تمام جذبات کو دھواں دھواں کر ڈالا تھا‘ سفاکی کی انتہا تھی۔ اس نے بے بسی سے اس شخص کاتنا ہوا چہرہ دیکھا… وہ چہرہ جو اسے تمام جہان میں محبوب تھا… بہت سا سیال مادہ پلکوں کی باڑھ توڑ کر بہنے کو تیار تھا‘ مگر نہیں… کم از کم آج نہیں‘ اگر آج ہی اس شخص کے سامنے کمزور پڑگئی تو ساری عمر کیسے گزار پائوں گی… اتنا تو یقین وہ بخش چکا تھا اسے کہ آنے والی زندگی میں ہزاروں صبر کے امتحانات تھے جو دانیہ نے پاس کرنے تھے۔
’’توقعات اگر انسانوں سے وابستہ کرلی جائیں تو حیدر منیب صرف دکھ ہی مل سکتے ہیں جو تم اپنی جھولی میں بھرچکے ہو‘ میری توقعات کا محور وہ ذات باری تعالیٰ ہے جو کسی کو مایوس نہیں کرتا… مجھے نہیں پتہ میرے نصیب میں کیا ہے مگر وہ جانتا ہے اور میں اس کی رضا میں راضی ہوں۔‘‘ کتنا پُراطمینان لہجہ تھا‘ کتنا مکمل جواب تھا… حیدر اندر تک سلگ گیا۔
’’ہزاروں برائیاں مجھ میں ہیں دانیہ احمد‘ کیسے برداشت کروگی۔‘‘
’’برائیاں ہر انسان میں ہیں‘ بے عیب صرف اللہ کی ذات ہے۔‘‘
’’بہت پچھتائوگی دانیہ تم… ابھی بھی وقت ہے۔‘‘ وہ غرایا… مگر دانیہ نے خود کو مضبوطی سے کمپوز کرلیا تھا… تبھی اس کی بات پر صرف مسکرائی۔
’’مجھے نہیں پتہ تھا اس قدر بے وقوف لڑکی ہو‘ تمام حقیقت جان کر بھی مطمئن ہو۔‘‘ حیدر کو اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی۔ وہ پیٹھ موڑے سگریٹ کا زہر اندر اتار رہا تھا۔ دانیہ نے گہری سانس خارج کی اس کی پیٹھ پر نگاہ ڈالی اور سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھا دیے۔
’’دانیہ اپنی زندگی برباد مت کرو… ابھی بھی سوچ لو۔‘‘ اپنے پیچھے حیدر کا آخری جملہ اسے سنائی دیا مگر وہ اسی طرح سیڑھیاں اترتی رہی نیچے مٹھائی تقسیم ہورہی تھی ہر فرد کتنا خوش تھا اور جن کی خوشی تھی ان کے دل ماتم کدہ بنے ہوئے تھے… وہ بے جان قدموں سے کچن تک آئی تھی۔
’’کہاں رہ گئی تھیں… سب پوچھ رہے تھے تمہارا… اور حیدر کہاں ہے؟‘‘ مناہل شاید اس کی ہی منتظر تھی۔
’’چھت پر۔‘‘ اس نے مناہل کو جواب دیا مگر جانے کیوں اس کے حلق میں آنسوئوں کا گولہ سا ٹک گیا تھا۔
’’تم ٹھیک ہو دانیہ… کیا کہہ رہا تھا حیدر۔‘‘ بس یہ صبر کی انتہا تھی انسان سب کے سامنے کتنا بھی مضبوط بن جائے مگر اپنے دوستوں کے سامنے بکھر جاتا ہے‘ مناہل حیدر کی بہن تھی مگر وہ اس کی بہت اچھی دوست بھی تھی تبھی تو وہ مناہل سے لپٹ کر بری طرح رو دی تھی۔
’’ہوا کیا ہے؟‘‘ اسے اندازہ تھا کیونکہ حیدر کی ذہنی حالت بہت ابتر تھی ان دنوں… جب سے وہ منحوس لڑکی اس کی زندگی میں آئی تھی… لیکن آخر اس نے ایسا کیا کہا تھا دانیہ کو کہ وہ یوں بکھر رہی تھی۔
’’دانیہ بتائو تو سہی‘ کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے دانیہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھا‘ دانیہ کے دل کا بوجھ آنسوئوں میں کسی حد تک بہہ چکا تھا‘ سو اس نے خود کو سنبھالا۔
’’بس یار… مجھے لگا میں ماما بابا سے آج دور ہوگئی ہوں۔‘‘
’’اف توبہ… میری جان نکال دی۔‘‘ مناہل نے گھورا تو وہ مسکرادی۔
٭٭٭…٭٭٭
مانو پر تو انہیں اعتماد تھا پھر وہ عمر کے اس حصے سے نکل چکی تھی جس میں انسان دوسروں کے ماحول کو ایڈوپٹ کرتا ہے مگر اس گھر میں محض ایک ہفتے کے بعد انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے غلطی کردی… کیونکہ وہ بھول گئی تھیں کہ ان کا اپنا بیٹا عمر کے جس حصے میں تھا وہ ایسی چیزیں بہت جلدی پک کرتے ہیں… عفان میں دنوں میں آنے والی تبدیلی نے انہیں بہت ہراساں کر ڈالا تھا جب دس دن گزرنے کے بعد ہی عفان نے ان سے فرمائش کی۔
’’مجھے لیپ ٹاپ لینا ہے۔‘‘ تو وہ اور مانو تو کئی لمحے صدمے سے بول ہی نہ پائے۔
’’کیا کرنا ہے تمہیں لیپ ٹاپ کا؟‘‘
’’پھوپو… مدحت آپی نے مجھے کہا ہے کہ تم اپنا ایف بی اکائونٹ بنائو‘ ہم چیٹنگ کیا کریں گے‘ ہائے پھوپو ان کے اتنے سارے دوست ہیں صرف پاکستان سے نہیں کوئی چائنا سے ہے تو کوئی لندن اور امریکہ جانے کہاں کہاں سے۔‘‘
’’عفان تم ابھی چھوٹے ہو بچے۔‘‘
’’چودہ سال کا ہوجائوں گا میں نیکسٹ منتھ اور آپ کو پتہ ہے مدحت آپی کی بھتیجی صرف بارہ سال کی ہے اور وہ امریکہ سے دن رات ان سے چیٹنگ کرتی ہے…‘‘ وہ بحث کررہا تھا… مانو کو مدحت پر بہت غصہ آیا جس نے بچے کے ذہن کو خراب کردیا تھا۔
’’اوکے میں تمہیں لے دوں گی مگر کچھ عرصہ بعد‘ تم اتنے سمجھدار تو ہو ناں عفان کہ گھر کے تمام حالات سمجھ سکو۔‘‘ وہ چاہتی تو اگلے ماہ کا وعدہ کرلیتی مگر نہیں اس نے عفان کو ٹالا تھا… اور وہ سمجھ بھی گیا تھا… مگر بھابی رات میں اس کے پاس آئیں تو رو پڑیں۔
’’جانے کیوں مانو میرا دل بہت ڈر گیا ہے‘ کل کو اگر عفان نے موبائل کی فرمائش کی تو… ہم اسے ٹال بھی نہیں سکیں گے۔‘‘
’’ڈونٹ وری بھابی… میں مدحت سے بات کروں گی۔‘‘ اس نے انہیں تسلی دی‘ اگلے دن ہی وہ مدحت کے پاس موجود تھی جو ہمیشہ کی طرح لیپ ٹاپ آن کیے بیٹھی تھی۔
’’یو نو مانو دو تین ماہ پہلے جس لڑکے کو میں تم سے ملوانے کا کہہ رہی تھی ناں اف قسم سے وہ تو سیریس ہوگیا تھا‘ گلے کی ہڈی بن گیا تھا بڑی مشکل سے پیچھا چھڑایا۔‘‘ لڑکوں کا سنا تھا اب تک کہ وہ لڑکیوں کو دھوکہ دیتے فلرٹ کرتے ہیں مگر وہ تو شاید بہت پرانے زمانے میں جی رہی تھی‘ نئے زمانے میں تو لڑکیاں خود لڑکوں کو دھوکہ دے رہی ہیں‘ اس نے سر جھٹکا وہ یہاں یہ بات کرنے نہیں آئی تھی۔
’’مدحت میں تم سے یہ کہنے آئی تھی کہ عفان ابھی کم عمر اور ناسمجھ ہے اس کے سامنے یہ اپنے فرینڈز وغیرہ چیٹنگ کی باتیں مت کیا کرو۔‘‘
’’ارے مانو… اب تو دس دس سال کے بچوں کے پاس کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپ ہیں اور وہ نیٹ یوز کرتے ہیں۔ عفان تو ماشاء اللہ چودہ سال کا ہوگیا ہے‘ اسے تم لوگ ایسے کیوں ٹریٹ کرتے ہو۔ وقت بدل گیا ہے اب ہم بچوں کو یوں باندھ کر نہیں بٹھا سکتے… اسے لوگوں کو فیس کرنا آنا چاہیے چیٹنگ فرینڈ شپ سے اس کا کانفیڈنس لیول امپرو ہوگا۔‘‘
’’مدحت ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں ہے پلیز تم اسے اچھے سے گائیڈ کردو کہ ابھی اس کی عمر نہیں ہے میں نے بہت مشکل سے اسے سمجھایا ہے۔‘‘ مدحت کا منہ تو بنا مگر پروا کسے تھی‘ ہاں یہ ضرور تھا کہ اب وہ عفان کو نیچے کم ہی جانے دیتی تھیں۔
’’پھوپو میری برتھ ڈے پر مجھے کیا گفٹ دیں گی آپ؟‘‘ عفان نے سوال کیا۔
’’کیا لوگے تم؟‘‘
’’اچھا سا سیل فون۔‘‘
’’کیا… تمہاری عمر ہے فون یوز کرنے کی؟‘‘ بھابی بری طرح چونکیں‘ نہایت غصے سے بولیں۔
’’آپ لوگوں کو ہر چیز میں بس میری ایج کو ایشو بنانا ہوتا ہے‘ مدحت آپی کہتی ہیں تمہاری ایج کے لڑکے ہر کام کرتے ہیں اور تم قیدیوں کی طرح گھر میں پڑے رہتے ہو۔‘‘
’’بکنے دو مدحت کو… اور خبردار جو تم آئندہ اس لڑکی کے پاس مجھے کھڑے ہوئے بھی مل گئے تو ہڈیاں توڑ دوں گی تمہاری۔‘‘ بھابی بری طرح ہائپر ہوگئیں مانو نے انہیں سنبھالا جبکہ عفان روتا بسورتا کمرے میں چلا گیا۔
’’کول ڈائون بھابی… کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ مدحت اس کے کچے ذہن کو بگاڑ رہی ہے اوپر سے اگر ہم اس طرح ری ایکٹ کریں گے اسے ڈانٹیں گے تو وہ ہماری طرف سے بدظن ہوجائے گا… اس وقت ہمیں غصے سے نہیں بلکہ پیار سے اسے گائیڈ کرنا ہوگا۔‘‘
’’مجھ میں اتنی برداشت نہیں ہے مانو‘ اگر یہ صورت حال رہی تو میرا تود ماغ پھٹ جائے گا… میرے سر پر تو شوہر کا سایہ بھی نہیں ہے خدانخواستہ عفان بگڑ گیا تو کیا بنے گا میرا۔‘‘
’’اللہ توبہ بھابی آپ بھی ناں… بھروسہ نہیں ہے اپنی تربیت پر آپ کو۔‘‘
’’مانو بی بی… آج کل اچھی سی اچھی تربیت پر پانی پھرتا نظر آتا ہے اس کم بخت انٹرنیٹ نے بچے وقت سے پہلے بڑے کردیے ہیں… اچھے برے چھوٹے بڑے کی تمیز ختم کردی ہے… آج کل کے بچے تربیت سے زیادہ ماحول کا اثر قبول کرتے ہیں۔‘‘
’’پھر ٹینشن کیسی‘ ہم نے کون سا عمر بھر یہاں رہنا ہے… اللہ خیر کرے… جلد ہی کسی گھر کا بندوبست ہوجائے گا۔‘‘
’’پتہ نہیں گھر کا بندوبست ہوگا یا میرے دنیا سے جانے کا یہ لڑکی تو میری اولاد کو برباد کرکے رکھ دے گی… مجھے دیر سویر ہوجاتی ہے آنے میں‘ تم بھی چھ بجے سے پہلے نہیں آتی… اب بچے گھر میں اکیلے ہوتے ہیں‘ اللہ جانے وہ کیا کیا بچوں کو الٹا سیدھا سکھادے… نہیں مانو میں اپنے بچوں کو ایک دن بھی مزید اس گھر میں تنہا نہیں چھوڑ سکتی بس۔‘‘ بھابی بہت زیادہ ڈس ہارٹ ہوگئی تھیں۔
’’اوکے… میں کچھ کرتی ہوں۔‘‘ اس نے انہیں حوصلہ دیا… مگر سچ یہ تھا وہ خود بھی خاصی پریشان ہوگئی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
وہ صبح آفس کے لیے تیار ہوکر آئی تو بھابی کو تیار نہ پاکر اچھنبے سے دیکھا۔
’’میں نے ایک ہفتے کی چھٹی لے لی ہے… بس ہمارے پاس یہ سات دن ہیں… ان میں ہی ہم نے کچھ کرنا ہے۔‘‘ اس نے بھابی کو کوئی جواب نہ دیا بس سر ہلاتی باہر نکل گئی اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ بھابی کے ذہن میں کیا چل رہا ہے… کوششیں تو وہ کئی ماہ سے کررہی تھیں ٹرانسفر کی مگر شاید ٹھیک وقت پر ان کی کوشش رنگ لائی تھی… انہیں ملتان میں ایسی خاتون مل گئی تھیں جو کہ اپنا ٹرانسفر کراچی میں کرانا چاہتی تھیں… وہ اکرام بھائی کی مشکور تھیں جنہوں نے ان کی ہیلپ کی تھی۔
لیو تو ایک بہانہ تھا کیونکہ اگر مانو کو سچ بتاتیں تو وہ ہتھے سے اکھڑ جاتی کبھی واپس جانے پر نہ مانتی… دراصل وہ آج کل انہی کاموں میں مصروف تھیں۔ پھر جب انہیں لیٹر ملا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔
’’میں صبح سے پیکنگ شروع کررہی ہوں بس۔‘‘ مانو نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’گھر مل گیا…؟‘‘
’’ہمیں ضرورت نہیں ہے ہم اب اپنے گھر جائیں گے بہت گزار لی یہ بنجاروں والی زندگی‘ جب اللہ کا دیا ہمارا اپنا گھر ہے تو کیوں یہ خواری کاٹیں۔‘‘
’’جذباتی ہوکر مت سوچیں۔‘‘
’’یہ جذباتی فیصلہ نہیں ہے مانو… مجھے میرے بچوں کا مستقبل بہت عزیز ہے اور میں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ غلط ماحول کا شکار ہو۔‘‘
’’وہ لڑکا ہے بھابی… ہم اسے گھر میں قید نہیں کرسکتے… وہ باہر جائے گا تبھی اعتماد پیدا ہوگا اس میں… لوگوں کو فیس کرپائے گا اور ضروری ہے کہ وہاں اب تک ویسا ہی ماحول ہو… پانچ سال میں بہت کچھ بدل گیا ہے بھابی۔‘‘
’’مجھے پتہ ہے مگر اتنا اطمینان تو ہوگا ناں کہ وہاں مدحت جیسی کوئی لڑکی نہیں ہوگی۔‘‘
’’اچھے برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں… اگر وہاں بھی کوئی مدحت مل گئی پھر کیا کریں گے… اور پھر آپ اس کا بورڈ کا سال ہے۔‘‘
’’وہ سب میں طے کرچکی ہوں اکرام بھائی سے بات بھی ہوگئی ہے عفان کو وہاں اچھے اسکول میں ایڈمیشن مل جائے گا ریان اور بیہ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘
’’اور آپ کی جاب۔‘‘ اس نے آخری پتا پھینکا مگر یہاں بھی ہار گئی بھابی نے لیٹر اس کے سامنے رکھ دیا۔
’’مگر میری جاب۔‘‘ وہ مچلی اس کے پاس کوئی راہ فرار باقی نہ رہی تھی۔
’’تمہاری کمپنی کی برانچیز تو ہر شہر میں ہیں۔ تم ان سے بات کرلو اگر ممکن ہو تو… ورنہ اللہ مالک ہے… وہیں جاب دیکھ لینا۔‘‘
’’ناشکرے بندے یوں لگی لگائی روزی پر ٹھوکر مارتے ہیں… اتنی اچھی جاب ہے پے ہے۔‘‘
’’ہمارے نصیب میں جتنا ہوگا وہی ملے گا… امید اچھی رکھنی چاہیے‘ اب تم خود کو ذہنی طور پر تیار کرلو… اور پیکنگ شروع کرادو میرے ساتھ۔‘‘ بھابی کے چہرے پر اس نے عرصہ بعد یہ سکون دیکھا تھا۔
اپنا گھر اپنا ہوتا ہے‘ بھیا کے بعد وہ یہاں کبھی بھی مطمئن نہ رہیں وہ اپنا شہر تھا اور پھر تمام رشتہ دار وہاں تھے اور یہاں وہ تنہا تھیں تنہا دو عورتیں۔ اس کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔
’’محبتوں میں آزمائش آتی ہے مانو… امید تو اچھی باندھنی چاہیے ناں… اگر وہ تمہارا نصیب ہے تو کوئی اسے تم سے نہیں چھین سکتا… اور اگر وہ تمہارے مقدر میں نہیں ہوگا تو تم کچھ بھی کرلو… تم اسے نہیں پاسکتیں۔‘‘ اس نے ٹھنڈی آہ بھری… نصیبوں کے لکھے تو وہ رب واحد ہی جانتاہے‘ انسان بھلا کیا جان پائے گا۔
اور کیا فرق پڑتا ہے… کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے جب زندگی کا مقصد ہی بدل گیا ہو… اس نے کبھی صہیب احمد کے سنگ جینے کے خواب دیکھے تھے مگر اب اس کا مرکز ومحور صرف بھابی اور بچے تھے۔
٭٭٭…٭٭٭
پھوپو نے حمزہ اور بلال دونوں کی شادی فکس کردی تھی اور ان کے یہاں تیاریاں زوروں پر تھیں اور وہ آج مناہل اور دانیہ دونوں کو لینے آئی تھیں۔
’’بھیا بیس بائیس دن باقی ہیں اور کام کے انبار ہیں‘ بچیاں میرے ساتھ کام سمیٹ دیں گی پلیز منع مت کیجیے گا۔‘‘ پھوپو کا بھی جوائنٹ فیملی سٹم تھا ان کے دو دیور اور جیٹھ سب ایک ہی گھر میں رہتے تھے ان کے پورشن علیحدہ ضرور تھے مگر گھر میں دیواریں نہیں تھیں‘ محبتیں بھی ماشاء اللہ مثالی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کے بھیا بچیوں کو بہت کم ہی ان کے ہاں رکنے دیتے ہیں مگر چونکہ شادی کا موقع تھا سو وہ مان گئے‘ بہن کے گھر پہلی خوشی جو تھی۔
’’جیسے تمہاری خوشی۔‘‘ مگر تابندہ آخر کو بول پڑیں۔
’’نگہت مناہل کے بنا تو ہمارا گھر بھی نہیں چلتا… تم عاشی اور دانیہ کو لے جائو۔‘‘ حالانکہ سچ یہ تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ احمر کو پتہ چلے گا تو خوامخواہ ہی وہ بھڑک جائے گا… مناہل کے ارمانوں پر اوس پڑگئی… اسے کیا زندگی اپنی مرضی سے جینے کا ذرا بھی حق نہیں تھا وہ جانتی تھی کہ بڑی ماما نے صرف اپنے بیٹے کی وجہ سے یہ کہا ہے اور اسے تو جانے کیوں ضد سی ہوگئی تھی اب کہ وہ سب کرے گی جس سے احمر چڑتا ہے۔
’’ماما پلیز مجھے بھی جانا ہے‘ ہمارے خاندان کی پہلی خوشی ہے۔‘‘ وہ سب کے سامنے ہی بول پڑی۔
’’تم سنڈے کو چلی جانا میں خود تمہیں لے کر جائوں گی۔‘‘ انہوں نے کہا تو مناہل چپ کر گئی۔
شام کو وہ اپنی ماما کی گود میں سر رکھے رو رہی تھی۔
’’آپ لوگوں نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے… صرف ایک شخص کی وجہ سے میں کچھ بھی نہیں کرسکتی… اور ابھی تو آپ لوگ اپنی مرضی کرسکتے ہیں پلیز مما مجھے بھی جانا ہے۔‘‘ یہی تو دن ہوتے ہیں جو بچیاں اپنی مرضی سے جی لیتیں ہیں شادی کے بعد تو ہزاروں ذمہ داریاں سینکڑوں پابندیاں اور اگر شوہر احمر جیسا ہو تو پھر تو عورت قید ہی ہوجائے۔ ان کی بیٹی کیسے ہر چیز میں دل مسوس کر رہ جاتی تھی‘ ابھی تو رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ تب بھی وہ صرف احمر کے حکم کی تعمیل میں اپنی ہر خوشی کو قربان کردیتی تھی۔
’’میں تمہارے بابا سے بات کرتی ہوں۔‘‘ انہوں نے بیٹی کے آنسو پونچھے‘ اتوار والے دن بابا نے ناشتے کے بعد سب کی موجودگی میں حیدر کو حکم دیا تھا۔
’’مناہل کو اپنی پھوپو کی طرف چھوڑ آئو… شادی کے دن ہیں ہزاروں کام ہوتے ہیں بچیاں مل کر کرلیں گی‘ نگہت کو بھی سہارا مل جائے گا۔‘‘
’’جی بابا۔‘‘ بابا اور چھوٹے بابا کے جاتے ہی احمر بولا۔
’’دانیہ اور عاشی گئی ہوئی ہیں… مناہل کا جانا ضروری تو نہیں۔‘‘
’’عاشی کو کہاں ابھی اتنا سلیقہ ہے… مناہل اور دانیہ سمجھ دار ہیں… نگہت کو سکھ تو ملے گا کچھ۔‘‘ سعدیہ نے سلیقے سے بات سنبھالی۔
’’گھر کا کیا ہوگا… آپ کچن کا کام نہیں کرسکتیں… ماما کا شوگر بیٹھے بٹھائے ہائی ہوجاتا ہے سدرہ چاچی پر پورا گھر تو نہیں چھوڑ سکتے… وہ اکیلے کیسے سب کریں گی الونیہ ابھی چھوٹی ہے۔‘‘ وہ بہانے تراش رہا تھا… مناہل تیار ہوکر آگئی۔
’’چلو حیدر بھیا۔‘‘ احمر سلگ کر رہ گیا۔
’’پندرہ دن باقی ہیں ابھی… تم اتنے دن پہلے جاکر کیا کروگی وہاں۔‘‘ وہ اب ڈائریکٹ اس سے مخاطب ہوا۔
’’یار احمر… پھوپو کے گھر پہلی خوشی ہے اگر ہم ہی نہیں جائیں گے تو وہ کیا سوچیں گی‘ انہیں ہم ایک فون بھی کردیں تو وہ فوراً آجاتی ہیں۔ میں تو کہتا ہوں تم بھی چلو سنڈے تو ہے… پھوپو خوش ہوجائیں گی۔‘‘
’’گڈ آئیڈیا۔‘‘ صہیب کو بھی پسند آیا‘ وہ جانا نہیں چاہتا تھا مگر مناہل کی وجہ سے اسے ماننا پڑا۔
’’میں مناہل کو لے کر آتا ہوں۔‘‘ اس نے حیدر سے بائیک کی چابی لی… حیدر اور صہیب دوسری بائیک پر چلے گئے تھے‘ مناہل کو لاچار اس کے ساتھ جانا پڑا۔
’’شام میں تم ہمارے ساتھ واپس آجائوگی۔‘‘
’’میں نے بابا سے پرمیشن لے لی ہے۔‘‘ لہجے میں بغاوت نہیں تھی مگر پہلے سا خوف بھی نہیں تھا… احمر نے اسے گھورا۔
’’مگر میں تمہیں منع کررہا ہوں۔‘‘ مناہل نے کوئی جواب نہیں دیا مگر فیصلہ اٹل تھا کہ اب اس نے احمر علی کی کوئی بات نہیں ماننی… بہت سی بدگمانیاں اس کے دل کے دریچوں میں آن ٹھہریں تھیں جنہیں احمر کا رویہ بڑھاوا دے رہا تھا۔
پھوپو واقعی انہیں دیکھ کر خوش ہوگئی تھیں‘ ان کے گھر میں شادی کا ماحول تھا‘ چونکہ بلال کی شادی تایا زاد ماہین سے تھی تو پورا گھر ہی جیسے روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ سارا دن بہت اچھا گزرا۔ دوپہر میں تابندہ اور سعدیہ بھی آگئی تھیں۔ نگہت کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا… مناہل اور دانیہ دونوں ہی سلائی میں ایکسپرٹ تھیں سو پھوپو نے انہیں اسی کام پر لگا دیا تھا… عاشی زینی کے ساتھ کچن میں ہیلپ کررہی تھی… نگہت نے سب کو رات کے کھانے پر روک لیا تھا۔ کھانے کے بعد جب سب گھر کے لیے اٹھنے لگے تو احمر اس کے پاس آیا۔
’’چلو سب تیار کھڑے ہیں۔‘‘
’’احمر بھیا… پلیز ہم نے مناہل کو نہیں بھیجنا… میں نے ماموں سے پرمیشن لے لی ہے۔‘‘ زینی نے کہا۔
احمر نے مناحل کا چہرہ دیکھا… جہاں انکار اسے واضح دکھائی دے رہا تھا وہ جبڑے بھینچتا تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔
’’تمہارے تھوبڑے کو کیا ہوا؟‘‘ واپسی پر صہیب نے پہلا سوال کیا اور وہ فوراً پھٹ پڑا۔
’’تم کہتے ہو میں خوامخواہ اسے ڈانٹتا ہوں‘ میں نے صبح ہی اسے کہہ دیا تھا کہ اس نے وہاں نہیں رکنا اور…‘‘
’’اپنی بات منوانے کا اور سمجھانے کا طریقہ ہوتا ہے جس سے تم نابلد ہو‘ میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم نے اپنے رویے سے مناہل کے دل میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کردی ہیں‘ انہیں دور کرنا‘ آپس میں اعتماد قائم رکھنا تمہارا فرض تھا… مگر تمہیں لگتا ہے یہ قبل از وقت ہے تو پھر اب چپ کرکے صحیح وقت کا انتظار کرو۔‘‘
’’عورتوں کی طرح طعنے دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’احمر محبت میں غلط فہمیاں جنم لے لیں تو فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں… ہماری زبان کے دو میٹھے بول بہت سی تلخیوں کو ختم کرسکتے ہیں… تم صرف اسے اتنا تو بتاسکتے ہو ناں کہ وہ تم پر زبردستی مسلط نہیں کی گئی‘ تمہاری مرضی سے شامل ہوئی ہے تمہاری زندگی میں۔‘‘ احمر نے اسے گھورا۔
’’محترمہ کا مزاج دیکھا ہے تم نے… کہتی ہے میں نے بابا سے پرمیشن لے لی ہے۔ مطلب میری بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے… ٹھیک ہے پھر دیکھتے ہیں کب تک بابا کی لاڈلی… بابا کی مرضی سے جئے گی۔ ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔‘‘
’’تم غلط کررہے ہو احمر… ایسے بات بڑھے گی‘ تم پیار سے سمجھائو گے تو وہ اب بھی مان جائے گی۔‘‘
’’اور وہ میں کروں گا نہیں۔‘‘ اٹل لہجے میں کہہ کر اس نے بائیک اسٹارٹ کی۔
٭٭٭…٭٭٭
محبت پھر محبت ہے کبھی دل سے نہیں جاتی
ہزاروں رنگ ہیں اس کے
عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
کبھی صحرا‘ کبھی دریا
کبھی جگنو کبھی آنسو
ہزاروں روپ رکھتی ہے
بدن جھلسا کر جو رکھ دے
کبھی وہ دھوپ دکھتی ہے
کبھی بن کر یہ اک جگنو
شب غم کے اندھیروں میں دلوں کو آس دیتی ہے
کبھی منزل کنارے پر پیاسا مار دیتی ہے
اذیت ہی اذیت ہے…
مگر یہ بھی حقیقت ہے…
محبت پھر محبت ہے…!!
اور یہ محبت دل سے گئی کب تھی ہزاوں پہر بٹھا کر جی کر دیکھ لیا تھا… مگر آج بھی اس کا ذکر دھڑکنیں بے ترتیب کردیتا تھا… وہ کہتی تھی کہ اس نے اب زندگی کا مقصد بدل دیا‘ مگر پھر یہ کیا تھا؟ وہ بکنگ کروانے گئی اور سیٹ کنفرم ہوئی تو جانے کیوں اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ جب اس سے تعلق ہی نہیں رکھنا تھا پھر یہ کیا تھا…؟ اس کی چپ اتنی جامد تھی کہ سمیرا کا دل ہولنے لگا۔
’’مانو تو مجھ سے ناراض تو نہیں‘ میرے فیصلے پر… میں خود غرض ہوگئی تھی اپنے بچوں کی خاطر تیری خوشی‘ تیرا سکون نہ دیکھا میں نے۔‘‘ انہیں لگا مانو کی چپ کے پیچھے ضرور یہ دکھ ہے… اس نے صہیب احمد کو واقعی شدتوں سے چاہا تھا‘ اس کے دل کا ڈر اگر واقعی سچ ہوگیا… مانو پھر سے ٹوٹ جائے گی… بے شک اسے کوئی امید کوئی آس نہیں ملی تھی مگر اس کے احساسات تو خالص تھے۔
’’ایسا نہیں بھابی… بس دل عجیب سا ہورہا ہے… کل پھر ہم وہیں جارہے ہیں جہاں سے جب چلی تھی ہاتھ خالی تھے‘ کسی کی چاہت کی کوئی امید نہ تھی میرے دامن میں… مگر بھابی مجھے امید اپنے رب سے تھی… جو آج بھی قائم ہے… بس انسان ہوں ناں… دل ڈول رہا ہے کہ اگر امیدیں ٹوٹ گئیں تو…؟‘‘ وہ اپنا سامان بیگ میں رکھتے ہوئے بہت کھوئے ہوئے لہجے میں بول رہی تھی۔ بھابی کے پاس اسے تسلی دینے کو الفاظ نہ تھے۔
‘’‘’پھر کیا کہا تمہارے باس نے…؟‘‘
’’ہوسکتا ہے ممکن ہوجائے… مگر وہ خود بھی زیادہ پُریقین نہیں ہیں۔ چلیں رب کی رضا۔‘‘ اس نے بیگ کی زچ بند کی۔
’’پھوپو کتنا مزا آئے گا ٹرین کا اتنا لمبا سفر ہوگا… بس آپ نے ڈھیر سارے شامی کباب بنانے ہیں۔‘‘
’’ضرور بنادوں گی۔‘‘ عفان ایکسائیٹڈ تھا ٹرین کے سفر کو لے کر۔
’’ہم اپنے گھر جائیں گے… مما اب ہم وہیں رہیں گے ناں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’وائو… ہمارا گھر بہت بڑا ہے ریان… تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا ناں مگر مجھے اچھے سے یاد ہے۔‘‘ اب وہ چھوٹے بھائی سے مخاطب تھا… شکر تھا کہ عفان نے پوزیٹو ری ایکٹ کیا تھا… ورنہ وہ دونوں پریشان تھیں جانے عفان مزید ان سے بدظن نہ ہوجائے… مدحت نے اس کے معصوم ذہن کو بری طرح سے متاصر کیا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
حیدر اور صہیب روز شام میں نگہت کی طرف آجاتے تھے اور تمام بچے مل کر خوب ہلہ گلہ کرتے… حسب معمول وہ آج بھی بائیک لے کر باہر نکلے تو انہوں نے کاشف بھائی کے گھر کو ان لاک دیکھا حتیٰ کہ لائٹس بھی آن تھیں۔
’’حیدر‘ کہیں میری دعائیں قبول تو نہیں ہوگئیں۔‘‘ اس کے دل میں کتنے ہی دیپ جلے تھے… مگر تبھی انہوں نے اکرام بھائی کو باہر آتے دیکھا تھا (اکرام بھائی سمیرا بھابی کے فرسٹ کزن تھے) انہوں نے گیٹ کو تالا لگایا حیدر اور صہیب کھڑے رہے پھر دونوں نے ان سے سلام دعا کی۔
’’ہم سمجھے کہ شاید کاشف بھائی فیملی کو لے کر واپس آگئے۔‘‘ حیدر کی بات پر اکرام کے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ آئی تھی۔
’’کاشف بھائی کی فیملی کو تو ان کے بنا رہنے کی عادت پڑچکی ہے… ان کی شہادت کو تو تقریباً تین سال ہونے والے ہیں۔‘‘
’’کیا…!‘‘ یقینا یہ خبر دونوں کے لیے شاکنگ تھی۔
’’میں نے سمیرا کے کہنے پر وائٹ واش کردیا تھا گھر کو… پھر صفائی وغیرہ مکمل کرائی تھی بس وہی دیکھنے آیا تھا۔‘‘ وہ شاید بہت زیادہ جلدی میں تھے اپنی بات ختم کرکے رکے ہی نہیں تھے‘ صہیب اور حیدر اب تک صدمے میں تھے۔
’’کاشف بھائی کے بعد بھابی بچے… اور مانو…‘‘
’’کیسے رہ پاتے ہوں گے‘ پہلے یہ امید تو ہوتی تھی کہ چند ماہ بعد وہ چھٹی پر آئیں گے مگر اب…؟ ان پر اتنا بڑا دکھ کا پہاڑ گر گیا اور ہم انجان رہے۔‘‘ وہ جانے کے بجائے واپس اندر آگئے۔
’’کیا ہوا گئے نہیں…؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ صہیب خاموشی سے صوفے پر گر سا گیا جبکہ حیدر باہر سے ہی چھت پر چلا گیا تھا۔
’’کیا ہوا…؟ تمہاری شکل پر بارہ کیوں بج رہے ہیں‘ ابھی تو اچھے خاصے گئے تھے۔‘‘ احمر نے ٹی وی ریموٹ سے آف کیا اور مکمل اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’ہوا تو کچھ بھی نہیں یار۔‘‘ اس نے سرد آہ بھری کتنا فریش تھا جب وہ باہر نکلا تھا اور اب یک دم مرجھا سا گیا تھا۔
’’مما… آپ پوچھیں اس سے۔‘‘ اس نے کچن سے آتی ماما کو مخاطب کیا‘ تابندہ نے صہیب کے چہرے پر چھائی پرمژدگی دیکھی لمحہ بھر کو وہ پریشان سی ہوئیں… تب اس نے انہیں اکرام بھائی سے ہوئی بات بتادی۔ کتنے منٹ لائونج میں سکوت چھایا رہا۔
’’سمیرا اور مانو نے جانے کیسے یہ صدمہ برداشت کیا ہوگا… چھوٹے چھوٹے بچوں کا ساتھ اس معاشرے میں تنہا عورت کا زندگی گزارنا بھی کٹھن ہے… سمیرا تن تنہا ہی گھر کوسنبھال رہی ہوں گی۔‘‘ سب کو یہ دکھ بھری بات پتہ چلی تو اگلی صبح تک گھر میں اداسی اور سوگواریت رہی جیسے آج ہی کاشف بھائی دنیا سے گئے ہوں۔
٭٭٭…٭٭٭
اکرام بھائی اسٹیشن سے انہیں اپنے گھر لے آئے تھے تاکہ وہ ریسٹ کرلیں اور پھر اپنے گھر جائیں… تقریباً بارہ بجے تو وہ پہنچے تھے۔ کھانا کھا کر ذرا دیر کو تھکن اتارنے کے لیے لیٹے تھے مگر پھر شام میں ہی آنکھ کھلی تھی۔
’’سمیرا صبح چلے جانا… رات کو یہیں ہمارے پاس رک جائو۔‘‘ بھابی نے اصرار کیا۔
’’ہاں اور صبح ہم دونوں تمہارے ساتھ جائیں گے… گھر تو صاف ستھرا ہوگیا تھا مگر کچھ سامان وغیرہ لانا ہوا تو دیکھ لیں گے۔‘‘ اکرام بھائی نے بھی کہا‘ سمیرا نے مانو کو دیکھا تو اس نے کندھے اچکادیئے گویا جو کرنا ہے کریں… سمیرا کا بس چلتا تو ابھی اپنے گھر چل پڑتیں مگر بھائی بھابی کے اصرار پر وہ صبح تک رک گئیں۔
’’کل مجھے حیدر اور صہیب ملے تھے… کاشف بھائی کا پوچھ رہے تھے میں نے انہیں بتایا تو وہ شاکڈ رہ گئے… انہیں کاشف بھائی کی شہادت کا علم نہیں تھا۔‘‘
’’اکرام بھائی ہم نے کسی سے رابطہ رکھا ہی نہیں تھا سوائے آپ کے۔‘‘ سمیرا نے اداسی سے کہا۔
’’لیکن سمیرا ان لوگوں نے تو پڑوسی سے بڑھ کر سگے رشتوں کی طرح تمہارا ساتھ نبھایا تھا… مجھے تو بہت دکھ ہوا ان دونوں کے چہرے دیکھ کر‘ میں اتنا پشیمان سا ہوا کہ فوراً آگیا… کیا سوچتے ہوں گے کہ میں نے بھی انہیں خبر نہ دی۔‘‘ سمیرا اور مانو سر جھکا گئیں۔
صبح ناشتے کے بعد اکرام بھائی انہیں لے کر گھر آئے تھے… کتنے پل تو وہ بیرونی گیٹ کو ہی دیکھتے رہے… باہر سے گھر کے درو دیوار جیسے انہیں ویلکم کہہ رہے تھے‘ سمیرا کی آنکھیں نم ہوگئیں… گیٹ کھول کر جب اندر آئے یوں لگا درمیان میں پانچ سال جیسے آئے ہی نہ ہوں… سب کچھ تو ویسا ہی تھا… ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی جیسے وہ چھوڑ کر گئیں تھیں… گراسی صحن میں گھاس اب تک ہری بھری بوگن ویلیا کی بیل پر پھول اسی طرح بہار دکھا رہے تھے… صحن کے بیچوں بیچ کھڑا امردو کا درخت جیسے انہیں دیکھ کر کھل اٹھا تھا… راہداری کی سرخ اینٹوں پر ذرا بھی دھول نہ جمی تھی‘ برآمدے میں کرسیوں کی ترتیب تک ویسی تھی۔
’’تھینک یو سو مچ اکرام بھائی آپ نے ہمارے گھر کا اتنا اچھا خیال رکھا‘ مجھے ذرا بھی یہ احساس نہیں ہورہا کہ ہم اتنے عرصے بعد آئے ہیں۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اکرام بھائی نے سر تھپک کر تسلی دی۔
وہ اندر آئیں تو اندر کی بھی وہی سچویشن تھی‘ لائونج اب تک ویسا ہی تھا‘ کیپٹن کاشف احمد کی دیوار گیر تصویر اب بھی وہیں موجود تھی ان کا مسکراتا چہرہ زندگی سے بھرپور آنکھیں انہیں رلاگئیں۔
’’سب کچھ وہی ہے مانو… ویسا ہی جیسا ہم چھوڑ گئے تھے‘ یہاں کے تو درو دیوار تک نہیں بدلے۔‘‘
’’مگر اس گھر کے مکینو ں پر جو قیامت گزری ہے اس نے مکینوں کو تو سر تا پیر بدل دیا ہے ناں۔‘‘ پھیکی تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close