Hijaab Mar-18

محبت ذات

مریم مرتضٰی

’’ساحر بیٹا۔‘‘ ذکیہ بیگم نے لان سے آواز دی۔
’’ کتنی بار کہا ہے ماں جب کہیں جارہا ہوں تو آواز نہ دیا کریں۔‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح چڑتے ہوئے کہا۔
’’کہاں جارہے ہو بیٹا؟‘‘ ذکیہ بیگم نے قریب آکر محبت سے پوچھا۔
’’کیوں… آپ نے بھی چلنا ہے کیا؟‘‘ وہ اب کے جھنجھلا ہی گیا۔
’’ماں ہوں تمہاری پوچھ تو سکتی ہوں ناں۔‘‘ ذکیہ بیگم بولیں۔
’’آپ سے کتنی بار میں اور ابا دونوں کہہ چکے ہیں کہ مرد کے کاموں میں عورت کا کوئی کام نہیں مگر آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔‘‘ ساحر نے غصے سے چلا کر کہا۔
’’باپ کی زبان اب بیٹا بھی بولنے لگا ہے۔‘‘ ماں نے لمبا سانس لے کر کہا۔
’’ظاہر سی بات ہے میں خون ہوں ان کا ان ہی کی عادات آئیے گی مجھ میں۔‘‘ ساحر نے جتلایا۔
’’میرا کوئی رشتہ ہی نہیں شاید۔‘‘ وہ افسوس سے بولیں۔
’’اپنا مقام سمجھیں‘ آپ عورت ہیں، عورت مرد کے قدموں کی خاک ہوتی ہے۔‘‘ ساحر نے پیر زمین پر مار کر حقارت سے کہا۔
’’بھائی… بھائی۔‘‘ علینہ بھاگتی ہوئی پاس آئی۔
’’آواز آہستہ‘ تجھے کتنی بار سمجھایا ہے۔‘‘ شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ساحر نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
’’سوری بھائی‘ آپ اندر موبائل چھوڑ آئے تھے اور کسی کی کال آرہی تھی۔‘‘ اس نے قدرے آہستگی سے کہا۔
’’تم نے استعمال تو نہیں کیا کہیں‘ اگر موبائل کو ہاتھ لگایا تو تمہارے ہاتھ کاٹ کے رکھ دوں گا۔‘‘ اس نے کہا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
’’ماں… ہمارے گھر سے شک کب ختم ہوگا؟‘‘ بیٹی نے نم آنکھوں کے ساتھ ماں سے سوال کیا۔
’’ہمارے گھر میں شک ہی نہیں بلکہ بہت سی بیماریاں اور بھی ہیں جو ہمارے مردوں کے ذہنوں میں پل رہی ہیں۔ اللہ ہی انہیں ہدایت دے ورنہ ہم تو عورت ذات ٹھہری۔‘‘ ذکیہ بیگم نے علینہ کو سینے سے لگالیا۔ ذکیہ بیگم کمرے میں بیڈ پر بیٹھی کپڑے تہہ کررہی تھی تو مظہر صاحب پاس آبیٹھے۔
’’تم سے کہا تھا کہ ساحر کے لیے کوئی لڑکی دیکھو‘ کہیں دیکھی؟‘‘ مظہر صاحب نے تکیے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
’’ابھی نہیں دیکھی وقت نہیں ملا۔‘‘ انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’وقت نہیں ملا‘ وقت نہیں ملا۔ اس کے علاوہ تمہاری زبان پر کچھ اور نہیں ہوتا۔ جیسے سارا دن تم ہل چلاتی ہو حالانکہ سارا دن مفت کی روٹیاں توڑنے کے علاوہ تمہارا کوئی کام نہیں۔‘‘ مظہر نے غصے سے کہا۔
’’سارا گھر کا کام…‘‘ ذکیہ بیگم کے منہ میں ہی بات رہ گئی۔
’’بس زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں اگر ایک لفظ بھی اور منہ سے نکلا تو پھر تم جانتی ہو مجھے‘ عمر گزر گئی تمہاری یہ بک بک سنتے سنتے کام کام کام کرتی ہو تو مجھ پر احسان کرتی ہو‘ عورت ہو کام نہیں کرو گی گھر کے تو کیا تمہیں تخت پر بٹھا کر رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’اچھا معاف کردیجیے ۔‘‘
’’معافی ہر بات پر مانگ لو گی تو میں معاف کردوں گا تم نے تو مذاق سمجھ رکھا ہے ناں‘ ایک بات کان میں ڈال لو ذکیہ لڑکی ایسی ڈھونڈو جو ہمارے مطابق چل سکے، یہ سمجھ سکے کہ عورت ہے وہ اور مرد کے پائوں کی زینت بھی۔‘‘ مظہر صاحب نے غصے سے کہا اور کمرے سے باہر چلے گئے۔
’’اے میرے اللہ… میں کیسے کسی معصوم کو اس عذاب میں جھوکوں۔ اللہ پاک ان مردوں کو ہدایت عطا کر۔‘‘
٭٭…٭٭٭…٭٭
علیزے چھت پر کھڑی چاند دیکھ رہی تھی۔
’’کیا ہوا علیزے؟‘‘ رضیہ دودھ کا گلاس لے کر اس کے پاس آئیں۔
’’کچھ نہیں امی بس ایسے ہی موسم اچھا تھا تو اوپر آگئی۔‘‘ اس نے ماں کے ہاتھ سے گلاس لے لیا۔
’’ہاں موسم تو واقعی اچھا ہے اور اسی اچھے موسم میں تم سے ایک بات کرنا چاہ رہی تھی۔‘‘ انہوں نے موسم کے ساتھ بیٹی کے مزاج کا انداز کیا گو کہ وہ کوئی بدتمیز یا بگڑی ہوئی لڑکی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ اس سے محتاط ہوکر بات کرتی تھیں کہ کہیں کوئی بات اس کی دل آزاری نہ کر دے۔
’’جی امی بولیں کیا بات ہے؟‘‘ اس نے دودھ کا گھونٹ لینے کے بعد کہا۔
’’بیٹا تم اب بڑی ہوگئی ہو تو میں اب تمہاری شادی کردینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’امی شادی کیا ضروری ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’ہاں بیٹی… بیٹیوں کو ایک دن جانا ہی ہوتا ہے۔‘‘ امی نے ذرا مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا‘ انہیں اپنی تربیت پر مان تھا اور یہ یقین بھی تھا کہ جس گھر میں ان کی بیٹی بیاہ کر جائے گی‘ اجالا بن کر اس گھر کو روشن کردے گی۔
’’کیوں امی؟ مجھے آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا بس۔‘‘ وہ بولی۔
’’بیٹیوں کو ایک دن جانا ہی ہوتا ہے بچے‘ یہ دستور ہے بیٹی پیغمبر کی ہو یا کسی ولی بزرگ کی ایک نہ ایک دن اسے ماں باپ کے آنگن کو چھوڑنا ہی ہوتا ہے۔‘‘ رضیہ نے بیٹی کو گلے لگایا۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
’’علینہ کو اچھی طرح سمجھا دو کہ شادی میں مجھے اس کا ہنسنا اور کوئی فیشن کرنا بھی نظر نہ آئے۔‘‘ مظہر نے ذکیہ بیگم کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔
’’اس کے بھائی کی شادی ہے کچھ تو گنجائش رکھیے۔‘‘ ذکیہ بیگم نے کہا۔
’’ذکیہ… جی چاہتا ہے تمہارا منہ توڑ دوں‘ میں نے تمہیں مشورے دینے کو نہیں کہا بلکہ علینہ کو سمجھانے کے لیے کہا ہے۔‘‘ انہوں نے غصے سے کہا۔ انہیں شادی بیاہ کی تقریب میں لڑکیوں کا ہسننا بولنا ہمیشہ سے ہی ناپسند تھا جب کہ اب تو ان باتوں کو کوئی اہمیت بھی نہیں دیتا تھا لیکن وہ شروع سے ہی اپنے مزاج کے خلاف نہیں گئے تھے اس لیے گھر کے ماحول کو اپنے طور پر چلاتے تھے۔
’’جی اچھا… سمجھا دوں گی۔‘‘ ذکیہ بیگم نے قدرے آہستگی سے نگاہیں جھکا کر کہا۔
’’اچھی طرح سمجھا دینا، مجھے کہیں بھی کچھ نظر آیا جو مجھے ناپسند ہوا تو پہلے تمہاری چمڑی ادھیڑوں گا پھر اس کی۔‘‘ مظہر نے کہا اور باہر چلے گئے۔ ذکیہ بیگم تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
علینہ کچن میں برتن دھو رہی تھی ساحر نے دروازے پر ہاتھ مارا تو اس نے مڑ کر دیکھا۔
’’ابو کا حکم تو تمہیں مل ہی گیا ہو گا؟‘‘ ساحر نے پوچھا۔
’’ہمیں تو ہر ہر سانس نیا حکم ملتا ہے آپ کس حکم کی بات کررہے ہیں؟‘‘ اس نے برتنوں کو دھوتے ہوئے پوچھا۔
’’شادی میں تم نے سادگی سے رہنا ہے کوئی فیشن نہ ہو اور نہ ہی دوستوں کے ساتھ فضول ہنسنا۔‘‘ ساحر نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی امی نے ان کے احکام کی لسٹ میرے سامنے رکھ دی تھی۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کس لہجے میں بات کررہی ہو تم؟‘‘ ساحر غصے سے اس کے پاس آیا۔
’’کیا کہا ہے میں نے آپ کو؟‘‘
’’سر پر سوار ہونے کی ضرورت نہیں جتنا کہا جائے اتنا کرلینا‘ ورنہ تم تو جانتی ہو…‘‘ ساحر نے غصے سے بولتے ہوئے کہا۔
ساحر بھی مظہر کی طرح عورت ذات کو حقیر اور پاؤں کی دھول کے برابر سمجھتا تھا اس لیے انہیں کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ علینہ کو باپ کے ساتھ بھائی کی سوچ پر بھی افسوس ہوتا لیکن ذکیہ بیگم کی ہدایت اور مظلومیت اسے بغاوت کرنے سے روک دیتی تھی۔ اس وقت بھی وہ آنکھوں میں آنسو لیے بھائی کو کچن سے جاتا دیکھ رہی تھی۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
وہ بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی تھی، کمرے کا دروازہ کھلا اور ساحر اندر داخل ہوا۔
’’ہونہوں… گھونگٹ خود پیچھے کرلو ہمارے ہاں عورتوں کے گھونگٹ نہیں اٹھائے جاتے کیونکہ اس سے عورت سر پر چڑھ جاتی ہے۔‘‘ اس نے قریب آکر قدرے سخت لہجے میں کہا۔ دلہن علیزے نے قدرے حیرانگی سے گھونگٹ پیچھے کیا اور ساحر نے اسے بغور دیکھا۔
’’کچھ اصول ہیں ہماری عورتوں کے جنہیں تم آج ہی سے ذہن میں بیٹھا لو‘ یہاں عورت اپنی اوقات میں رہتی ہے لہٰذا تمہیں بھی اپنی اوقات میں رہنا ہوگا‘ ہماری عورتیں مردوں کو سر پر بٹھا کر رکھتی ہیں اور خود پائوں کی جوتی بن کر رہتی ہیں۔‘‘
’’جی…؟‘‘ چونک کر علیزے نے ساحر کو دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ ہو۔
’’ہمارے ہاں عورت سوال بھی نہیں کرسکتی۔‘‘ اس نے اسے بتایا۔
’’یہ تو ظلم ہے۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’اپنی اوقات کو ظلم کا نام دے کر اگر یہاں کوئی گستاخی کرو گی تو پھر سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔‘‘ ساحر نے مزید کہا۔
’’عورت کا اسلام میں تو یہ مقام نہیں۔‘‘ علیزے نے کہا۔
’’یہاں تقریر نہیں کرنی مجھے کوئی اسلام نہیں سیکھنا تم سے چونکہ تمہارا پہلا دن ہے اس لیے تمہیں طریقے سے سمجھا دیا اس کے بعد زبان کھولو گی تو زبان کاٹ دی جائے گی۔‘‘ اس نے اسے غصے سے دیکھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’ٹسوے بہانے بند کرو۔‘‘ اس نے کہا۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
’’آئو میرے شہزادے۔‘‘ ساحر کو قریب آتا دیکھ کر مظہر صاحب نے اخبار بند کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا کررہے ہیں ابو۔‘‘ ساحر نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’اخبار کا مطالعہ اور ساتھ حسبِ معمول چائے کی پیالی۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’امی نظر نہیں آرہی کہاں ہیں؟‘‘ ساحر نے پوچھا۔
’’ارے کمرے میں ہوگی کہیں کونے میں بیٹھی نحوست پھیلا رہی ہوگی۔‘‘ مظہر صاحب کو غصہ آگیا۔
’’کیوں؟ انہوں نے آپ کو کچھ کہا۔‘‘ اس نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
’’ارے خوامخواہ اپنی بہو کی تعریفیں کررہی تھی اور تمہیں برا بھلا کہہ رہی تھی تو مجھے غصہ آگیا ۔ تم سچ کہتے ہو لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ یہ عورتیں ہوتی ہی لاتوں کے لیے ہیں۔‘‘ مظہر کی باتیں ساحر غور سے سن رہا تھا۔
’’تم بھی اچھی طرح سمجھ لو، عورت کو اپنا آپ دکھانا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے اشارہ کیا کہ اب تمہارے ہاتھ میں بھی عورت ہے۔
’’میں سمجھتا ہوں ابو‘ آخر آپ کا خون ہوں۔‘‘ اس نے بھی بھرپور انداز میںکہا۔
’’شاباش بیٹا… مجھے تم سے یہی امید تھی اور اپنی ماں کو بھی بتا دینا کہ علیزے صرف اور صرف تمہاری ملکیت ہے۔‘‘ انہوں نے اکڑتے ہوئے کہا۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
آئینے کے سامنے کھڑی علیزے لپ اسٹک ہونٹوں پر لگا رہی تھی، ساحر کمرے میں داخل ہوا تو اس کی نظر سامنے تیار ہوتی بیوی پر پڑی، وہ غصے سے اس کی جانب بڑھا۔
’’بے شرم عورت۔‘‘ اس نے اسے بازو سے پکڑے اپنی طرف کیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ وہ سہم سی گئی۔
’’اب تم میرے ساتھ اتنا سج دھج کر جائو گی؟ تمہیں کچھ شرم حیا ہے بھی یا نہیں۔‘‘
’’اپنی گاڑی ہی تو ہے کون سا بسوں میں دھکے کھانے ہیں۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔
’’زبان چلاتی ہے، مجھے بتائے گی کہ کیا ٹھیک ہے کیا غلط۔‘‘ اس نے علیزے کو تھپڑ دے مارا وہ زمین پر گر گئی اور آہیں بھرنے لگی۔
’’بتایا تھا ناں کہ یہاں سوال جواب نہیں چلے گا۔‘‘ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’مجھے معاف کردیں آئندہ خیال رکھوں گی۔‘‘ ساس کی باتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ کہہ گئی اور پھر ماں کی تربیت کا اثر تھا جو خاموش رہی۔ ساحر غصہ سے اسے ٹھوکر مارتے وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ گھٹنوں میں سر دیے رو دی۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
کمرے میں بیٹھی علیزے سوچ رہی تھی کہ زندگی میں جلدی اور اتنی بڑی تبدیلی آگئی تھی ایک وہ وقت تھا جب وہ فیس بک پر دوستوں سے باتیں کیا کرتی تھی اور وہ تمام کام سے فارغ ہونے کے بعد دوستوں سے بات کرنے کو ترستی تھی شوہر اس قدر شکی مزاج تھا کہ گھر کی خواتین سے بھی بات کرنے کی اجازت نہیں تھی یہاں تک کہ وہ بلا ضرورت کمرے سے بھی نہیں نکل سکتی تھی‘ گو کہ علیزے پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور جہاں بیاہ کر آئی تھی یہاں بھی سب پڑھے لکھے ہی تھے مگر وہ بات بھی غالباً انہی جیسے لوگوں کے لیے کہی گئی تھی کہ تعلیم کبھی کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑتی سو یہاں کا یہ حال تھا اگر وہ چاہتی تو بہت کچھ کرسکتی تھی لیکن وہ خاموش تھی۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
وہ کئی دنوں بعد میکے آئی تھی امی سے مل کر دل کا بوجھ کچھ حد تک کم ہوا تھا اس کا ارادہ شام تک رکنے کا تھا لیکن ساحر نے اجازت نہیں دی اور اپنے ساتھ ہی واپسی لے آیا لیکن گھر سے نکلتے ہوئے اس کا سامنا کچھ دیر کے لیے خالد اور فرقان سے ہوگیا تھا۔
’’تم تو بہت بدل گئی ہو علیزے۔‘‘ فرقان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ وہ ساحر کی موجودگی اور اس کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھ کر گڑبڑا گئی تھی۔
’’ویسی ہی ہوں۔‘‘
’’اچھا، لگتا تو نہیں۔‘‘ وہ شرارتاً بولا جبکہ وہ الوداعی کلمات کہہ کر ساحر کے ساتھ گاڑی میں آبیٹھی۔
’’ساحر گاڑی آہستہ چلائیں پلیز۔‘‘ اس کی تیز ڈرائیونگ دیکھتے علیزے نے کانپتے ہوئے کہا۔
’’تو میں تمہاری سن لوں گا کیا؟‘‘ اس نے اسپیڈ اور تیز کی۔
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ وہ بولی۔
’’مجھے پروا نہیں۔‘‘ اس نے بے نیازی سے کہا۔
’’میری نہ سہی اپنی ہی کرلیجیے۔‘‘ علیزے نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’کتنے عاشق تھے تمہارے شادی سے پہلے۔‘‘ اس نے اس کے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ چونکی۔
’’معصوم نہ بنو۔‘‘ ساحر نے گاڑی کو اچانک بریک لگائے۔
’’آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ایک تو ٹھہرا تمہارا وہ کزن عاشق اس کے علاوہ کتنے اور ہیں۔‘‘ ساحر نے علیزے کی جانب غصہ سے دیکھا۔
’’عاشق… کیسی باتیں کررہے ہیں ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے صفائی دینی چاہی۔
’’یہ معصومیت کسی اور کو دکھانا مجھے نہیں‘ تمہیں اس بات کا جواب دینا ہی ہوگا ورنہ میں تمہاری ہڈیوں کا سرمہ بنا دوں گا۔‘‘ اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھائی۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
علیزے کی چیخوں کی آواز سنتے ہوئے ذکیہ کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں کھڑی تھیں اور مظہر صاحب کو جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا ایسے سکون سے لیٹے تھے جیسے کچھ سنائی نہ دیا ہو۔
’’میں نے کہا مجھے جانے دیں آپ مجھ پر احسان کریں‘ میں اسے چھڑوائوں گی وہ مر جائے گی۔‘‘ ذکیہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
’’اگر ایک قدم بھی باہر نکالا تو اگلے لمحے تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو اس وقت وہاں اس کا ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’کیوں لے رہے ہیں کسی معصوم کی بدعائیں؟‘‘ وہ رو دیں۔
’’عورت کا مردوں کے ہاتھوں پسنا ازل سے لکھ دیا گیا ہے ہمیں نہیں لگتی تمہاری بدعائیں۔‘‘ مظہر صاحب نے اکڑتے ہوئے کہا۔
’’اسلام نے ایسا کچھ نہیں کہا پھر آپ نے کون سے دین کے تحت عورت کو جانور بنا لیا ہے۔‘‘ وہ چلا اٹھیں۔
’’منہ بند کرو۔ بہت سن لی بک بک تمہاری۔ اگر ایک لفظ بھی اور منہ سے نکالا تو پھر کیا ہوگا یہ تم اچھے سے جانتی ہو۔‘‘ انہوں نے غصے سے بیٹھتے ہوئے کہا۔ وہ تلملا کر رہ گئیں۔
ساحر کے کمرے سے نکلتے ہی ذکیہ بیگم کمرے میں آئی تھیں اور علیزے کو بے ہوش دیکھ کر انہوں نے فوراً اسے ہوش میں لانے کی ترکیب کی‘ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ساحر باپ کی طرح عورت ذات کی عزت ہی نہیں کرے گا اور انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی حرکتیں کرے گا جو اس وقت دکھ سے دوچار تھیں لیکن اب انہوں نے ہی کچھ کرنا تھا۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
’’میں نے پوچھا تم دروازے پر کیوں کھڑی تھی؟‘‘ ساحر نے دروازے پر کھڑی علینہ سے پوچھا‘ وہ اس وقت کسی کام سے گھر آیا تھا۔
’’وہ… دوست کو چھوڑنے دروازے تک گئی تھی۔‘‘ اس نے بتایا۔ ساحر کی آواز سے ذکیہ بیگم بھاگی بھاگی آئیں اور علیزے بھی کمرے سے باہر نکلی آئی۔
’’میرے منع کرنے کے باوجود تم دروازے پر کھڑی رہی۔‘‘ ساحر نے علینہ کو تھپڑ رسید کیا، اگلا مارنے لگا تو ماں نے ہاتھ پکڑ لیا۔
’’شرم نہیں آتی جوان بہن پر ہاتھ اٹھاتے۔‘‘ ذکیہ نے اسے تھپڑ مارا، اس نے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے قدرے حیرانی سے ماں کو دیکھا۔
’’آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔ آپ اسے سمجھانے کے بجائے مجھ پر ہاتھ اٹھائیں گی۔‘‘ اس نے غصے سے کہا۔
’’ہاں… اٹھائوں گی ہاتھ اور کاش پہلے اٹھ جاتا یہ ہاتھ تو تم اپنے باپ دادا پر نہ جاتے۔‘‘ ذکیہ نے چلاتے ہوئے کہا۔
’’عورت ہوکر مرد پر ہاتھ اٹھایا آپ نے۔‘‘ وہ دانت پیس رہا تھا۔
’’عورت بعد میں ہوں پہلے تمہاری ماں ہوں۔‘‘ وہ اسی کے انداز میں بولیں۔
’’ہیں تو عورت ہی ناں۔‘‘ وہ بولا۔
’’اچھا بس کردیں‘ لڑائی کو مزید نہ بڑھائیں، علینہ دوبارہ نہیں جائے گی۔‘‘ علیزے نے محتاط انداز میں کہا۔
’’تم مجھے بتائو گی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔‘‘ وہ علیزے سے مخاطب ہوا۔
’’ہاں یہی تمہیں بتائے گی۔‘‘
’’زبان تو کھول کے دکھائے پھر دیکھیں اس کے ساتھ میں کیا کرتا ہوں۔‘‘ اس نے پائوں زمین پر مارتے ہوئے کہا۔
’’وہ زبان بھی کھولے گی اور تم…‘‘ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتیں آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور سر اس بری طرح چکرایا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکیں اور دوسرے ہی لمحے زمین پر گر گئی تھیں، ساحر ماں کو زمین پر گرتے دیکھ کر ایک دم سب بھول کر ان کی طرف بڑھا اور اس کے ساتھ علیزے اور علینہ بھی ذکیہ بیگم پر جھک کر انہیں ہوش میں لانے کی ترکیب کرنے لگی، انہیں ہوش میں نہ آتا دیکھ کر ساحر فوراً انہیں اسپتال لے گیا جہاں ٹیسٹ وغیرہ کے بعد جو بیماری سامنے آئی اس پر حیران ہوتا وہ اب اپنے پیچھے تمام رویہ پر پچھتا رہا تھا ذکیہ بیگم کو کینسر تھا اتنا وقت جو وہ سب برداشت کرتی آرہی تھیں اس کا یہ نتیجہ نکلا تھا ساحر آبدیدہ ہونے کے ساتھ فون پر مظہر صاحب کو بھی ساری بات بتا رہا تھا۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
باپ بیٹا کچن میں فرش پر بیٹھے تھے۔
’’ہم اسی قابل ہیں۔‘‘ مظہر صاحب ندامت بھرے لہجے میں بولے آج ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’ابو آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ ساحر بے یقین ہوا۔
’’وہی جو سچ ہے۔ میری ماں بھی اسی ظلم کی چکی میں پستی رہی اور مجھے کوئی پروا نہ ہوئی تھی۔ کیا میں بخشا جائوں گا کیا جب اللہ ان دنوں کا حساب لے گا تو کیا مجھے بخش دے گا جب میری ماں میری جانب درخواست بھری نظر سے دیکھتی تھی اور میں منہ پھیر لیتا تھا، میں کیسے بخشا جائوں گا، میرے باپ کو بھی ترس نہیں آیا کیوں کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی سب کرتے دیکھا اور نہ جانے کب سے یہ ظلم چلا آرہا ہے۔ آج تم بھی اسی کا شکار ہو۔ مانگ لو معافی اپنی ماں سے، بیوی اور بہن سے تمہارا ابھی کچھ نہیں بگڑا۔‘‘ مظہر صاحب پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
’’مجھے معاف کر دو۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’مجھ سے معافی نہ مانگیں میں کون ہوتی ہوں معاف کرنے والی‘ معاف کرنے والا تو اللہ ہے بس اتنا بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے ساری عمر آپ کی محبت، آپ کے خلوص کا انتظار کیا‘ مجھ سے ایسے خفا رہنا اب تو چھوڑ دیں جانے کتنی سانسیں باقی ہیں۔‘‘ ذکیہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’ہاں میں تمہیں سارے حقوق دوں گا جو مجھ پر فرض ہیں۔‘‘ انہوں نے ذکیہ بیگم کے آنسو صاف کیے۔
٭٭…٭٭٭…٭٭
’’تو تم نے مجھے معاف کردیا ۔‘‘ ساحر نے بیڈ پر بیٹھی علیزے سے پوچھا۔
’’میرے دل میں کوئی میل نہیں جو معاف کروں لیکن شک نہ کیجیے گا بڑی اذیت ہوتی ہے۔‘‘ علیزے نے کہا۔
’’میں نے تمہارے ساتھ…‘‘
’’بس بھول جائیے۔‘‘ علیزے نے اسے ٹوکا۔
’’کیسے بھول جائوں۔ مجھے خود سے نفرت ہونے لگی ہے۔‘‘
’’ایسی باتیں کرنا چھوڑیں۔ سو جائیں بہت رات ہوگئی ہے۔‘‘ علیزے نے کہا۔
’’بتائو بھی معاف کردو گی ناں؟‘‘ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر محبت سے پوچھا۔
’’میں نے کہا ناں میرے دل میں کچھ نہیں۔‘‘ وہ قدرے حیرت سے اس کے انداز کو دیکھ رہی تھی۔
’’مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائو گی ناں؟‘‘
’’بھلا سانسیں چھوڑ کر بھی جیا جا سکتا ہے۔‘‘ علیزے مسکرائی۔
’’شکریہ علیزے۔‘‘ ساحر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
اسے حقیقتاً اندازہ ہوگیا تھا کہ عورت کا وجود محبت سے عبارت ہے‘ محبت کی مٹی سے گندھ کر عورت ذات بنی ہے اس لیے اگر اسے محبت سے رکھا جائے تو مرد کی عزت بھی اور شان بھی بن جاتی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close