Hijaab Mar-18

میرے خواب زندہ ہیں

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
مہرو بٹو کی بات مان کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوجاتی ہے لیکن بٹو داور کی گولی کا نشانہ بن کر دنیا سے چلا جاتا ہے لالہ رخ وہاں پہنچتی ہے تو یہ منظر دیکھ کر شاکڈ رہ جاتی ہے جبکہ داور وہاں سے فرار ہوجاتا ہے ایسے میں وہ مہرو کے متعلق کچھ بھی نہیں جان پاتی لیکن پولیس کے افراد مہرینہ کی گمشدگی کے حوالے سے لالہ رخ سے حقیقت جاننا چاہتے ہیں جس پر وہ گھبرا جاتی ہے۔ ماریہ فراز کے ساتھ پاکستان آجاتی ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے فراز اپنے گھر پہنچ کر سب کو سرپرائز دینا چاہتا ہے مگر وہاں سونیا کو دیکھ کر شاکڈ رہ جاتا ہے دوسری طرف سونیا بھی اس کی اچانک آمد پر بوکھلا جاتی ہے اور اس پر الزامات عائد کرتی ہے فراز چپ چاپ وہاں سے لوٹ آتا ہے اور سمیر سے رابطہ کرتا ہے سمیر سے وہ اپنی شادی کی بات چھپا جاتا ہے۔ زرمینہ فراز کو لالہ رخ کی پریشانی کے متعلق آگاہ کرتی ہے اور یہ جان کر خوش بھی ہوتی ہے کہ وہ پاکستان آگیا ہے فراز یہ سب جان کر فوراً ہی مری پہنچ جاتا ہے اور لالہ رخ کی ہر ممکن مدد کرتا ہے لیکن فی الحال وہ مہرو کو ڈھونڈنے میں ناکام رہتے ہیں۔ باسل عنایہ سے منگنی کے لیے ہاں تو کردیتا ہے لیکن اس کا دل اس رشتے پر آمادہ نہیں ہوتا مگر حورین کی خوشی کی خاطر وہ اسے انکار نہیں کر پاتا۔ داور اپنے آدمیوں کو مہرو کی تلاش میں بھیجتا ہے اور ناکامی کا سن کر سخت طیش میں آجاتا ہے جیکولین اور ابرام ماریہ کی گمشدگی پر بے حد متفکر ہوتے ہیں ایسے میں جیسکا ابرام کو اپنے جال میں پھنسا کر حقیقت سے آگاہ ہونا چاہتی ہے لیکن ابرام اس کی اصل سچائی سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس سے کچھ بھی شیئر نہیں کر پاتا دوسری طرف اسے اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ ضرور ماریہ کی اس گمشدگی میں فراز کا ہاتھ ہے لیکن وہ خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے پال اور اس کے آدمی ماریہ کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پولیس کی تلاش جاری رہتی ہے جب ہی انہیں ایک لڑکی کی لاش ملتی ہے ایسے میں وہ لالہ رخ کو وہاں بلاتے ہیں تاکہ وہ شناخت کرسکے یہ مرحلہ لالہ رخ کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
…}ژ ٭ژ …{
لالہ رخ جیسے پل صراط سے گزر کر آئی تھی شاید اس کی زندگی میں اس سے زیادہ جان کنی کے لمحات کبھی نہیں آئے تھے انتہائی باہمت اور مضبوط اعصاب کی مالک ہونے کے باوجود اس پل وہ ہَوا کی زد میں آئے سوکھے پتوں کی مانند بری طرح لرز رہی تھی گھر میں داخل ہوتے ہی وہ وہیں دروازے کی اوٹ میں دو زانو بیٹھ کر بلک بلک کر رو دی جبکہ زرتاشہ اور امی فوراً ہی اس تک پہنچی تھیں اسی اثناء میں فراز شاہ بھی گھر میں داخل ہوچکا تھا لالہ رخ دوسرے ہی لمحے امی کے سینے سے لگ کر بے تحاشا روتے ہوئے بولی۔
’’امی… وہ… وہ ہماری مہرو نہیں تھی ہماری مہرو نہیں تھی وہ ایسا ہمارے ساتھ کبھی نہیں کرسکتی ہم سے خفا ہوکر وہ ہمیں اتنی بڑی سزا نہیں دے سکتی امی۔‘‘ فراز شاہ محض خاموشی سے ان سب کو دیکھ رہا تھا اس لمحے وہ خود کو بھی بہت ناتواں اور مضمحل محسوس کررہا تھا وہ دونوں پولیس کی جیپ میں ہی سرد خانے پہنچے تھے اور وہاں جاکر اس لڑکی کی لاش کی شناخت کی تھی صد شکر تھا کہ وہ مہرینہ نہیں تھی اسی کی ہم عمر اور قد و قامت کی کوئی بدنصیب لڑکی تھی جو نجانے کس حادثے کا شکار ہوکر موت کی وادی میں اتر گئی تھی واپسی میں پولیس کی جیپ نے ہی انہیں گھر چھوڑا تھا۔ سارا راستہ لالہ رخ بے آواز روتی رہی تھی جبکہ وہ اپنے شل ہوتے اعصاب کے ساتھ خالی الذہن لالہ رخ کو روتے ہوئے دیکھتا رہا تھا اپنے کسی پیارے کی جدائی کتنی جانگسل اور اذیت ناک ہوتی ہے یہ اسے آج پتا چلا تھا اور یہاں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ پیارا اس دنیا میں ہے بھی یا نہیں یہ سب سہنا اور برداشت کرنا پل پل مرنے کے مترادف تھا اور یہ گھرانہ آج کل اسی کیفیت سے گزر رہا تھا زرتاشہ اور امی لالہ رخ کو سہارا دے کر اندر چلی گئیں تو فراز بھی ایک تھکی سانس فضا کے سپرد کرکے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
…}ژ ٭ژ …{
ڈنر ٹیبل پر خاور حیات نے باسل کے سامنے سمیر شاہ کی تمام گفتگو گوش گزار کردی تھی جب سے سمیر شاہ نے اسے یہ سب بتایا تھا کہ وہ خود بھی ایک عجیب سی کیفیت میں گھر گیا تھا اسے سونیا پر بہت غصہ آرہا تھا اور ساتھ ساتھ ماضی کا ایک ناپسندیدہ منظر بھی اس کی نگاہوں میں گھوم گیا تھا جب وہ بھی سوئٹی جیسی بے حیا عورت کی سازش کا شکار ہوا تھا مگر فراز کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین تھا اسے تو اس کے اپنوں کی نگاہوں کے سامنے گرایا گیا تھا خود اس کی سگی ماں اور بھائی اس سے بدظن اور بدگمان ہوگئے تھے باسل چند ثانیے خاموش بیٹھا کچھ سوچتا رہا پھر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’مام ڈیڈ میں یہ بات پہلے سے جانتا ہوں۔‘‘ حورین اور خاور حیات نے اس لمحے بے پناہ چونک کر باسل کو دیکھا جو مزید کہہ رہا تھا۔
’’مجھے یہ بات بہت پہلے سے معلوم تھی ڈیڈ کہ…‘‘ وہ کچھ دیر کے لیے ٹھہرا پھر روانی سے بولتا چلا گیا۔
’’سونیا نے کامیش بھائی سے شادی محض فراز بھائی سے انتقام لینے کے لیے کی ہے کیونکہ فراز بھائی نے سونیا سے شادی کرنے سے صاف انکار کردیا تھا اور اس بات کو سونیا نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔‘‘ پھر اس نے کامیش اور سونیا کی شادی کی رات والا واقعہ ان کو سنا ڈالا تھا جب اتفاقاً اس ڈانسنگ ڈول پر ہاتھ لگنے سے سونیا کی ریکارڈنگ چل پڑی تھی۔
’’او میرے اللہ کیا سونیا اس حد تک جاسکتی ہے۔‘‘ حورین یہ سب سن کر تحیر کے عالم میں انتہائی افسوس بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’مام ایسی لڑکیاں ہر حد تک جاسکتی ہیں۔‘‘ اس پل باسل کے لہجے میں بے پناہ نفرت و بے زاری تھی۔
’’مگر باسل تم نے یہ سب باتیں سمیر کی فیملی کو کیوں نہیں بتائیں‘ تمہیں کامیش اور فراز کو اسی وقت سب کچھ بتا دینا چاہیے تھا۔‘‘ خاور حیات الجھے ہوئے لہجے میں بولا تو باسل ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا پھر دھیرے سے بولا۔
’’سچویشن بہت اکورڈ ہوگئی تھی ڈیڈ۔ شادی تو ہوچکی تھی مگر میں نے فراز بھائی کو تمام حقیقت بتانے کی کوشش کی پھر مناسب موقع نہ ملنے کی وجہ سے میرے ذہن سے بھی یہ بات نکل گئی اور جب میں نے انہیں یہ سب بتایا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔‘‘ حورین اور خاور بغور اس کی بات ستے رہے پھر تینوں کے درمیان گہری خاموشی چھا گئی بہت دیر اسی خاموشی کے نذر ہوگئے جب خاور حیات کی پُرسوچ آواز گونجی۔
’’باسل تم اب یہ بات ساحرہ بھابی اور کامیش کے سامنے دہرا کر فراز کی پوزیشن کلیئر کرو گے اوکے۔‘‘ خاور کے حکیمہ انداز پر باسل نے باپ کو ایک لمحے کے لیے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
…}ژ ٭ژ …{
جس دن زرمینہ نے فراز شاہ کو فون کرکے مہرو کی بابت بتایا تھا۔ اس کے اگلے ہی دن فراز اسلام آباد بائی ائیر پہنچ کر پھر ایک پرائیویٹ کار ہائر کرکے مری پہنچ گیا تھا مگر اس سے پہلے وہ ماریہ کو اپنے فلیٹ میں اس کی ضرورت کا تمام سامان مہیا کرکے گیا تھا آج فراز کو گئے ہوئے چار دن سے زائد ہوگئے تھے مگر اس نے ماریہ سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا تھا یہ چار راتیں ماریہ نے ایک عجیب سے خوف اور دہشت میں تنہا فلیٹ میں گزاری تھیں حالانکہ شہر کے پوش علاقے میں بنا یہ فلیٹ ہر لحاظ سے محفوظ تھا نیچے گاڈز بھی ہمہ وقت چوکس رہتے تھے اس کے علاوہ فلیٹ میں ہنگامی صورت حال کے لیے ایک بٹن بھی موجود تھا جسے دبانے سے سیکیورٹی اہلکار لمحہ بھر میں حاضر ہوجاتے تھے مگر ان سب کے باوجود ماریہ اندر سے سہمی ہوئی تھی شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ وہ جن سنگین حالات میں لندن سے فرار ہوکر فراز کے ہمراہ یہاں آئی تھی اس نے اسے ایسی کیفیت سے دوچار کردیا تھا وگرنہ وہ تو بہت بہادر اور باہمت تھی مگر یہاں آکر اس کی ہمت اور بہادری جیسے بھانپ بن کر اڑ گئی تھی اگر فراز نے اسے فون نہیں کیا تھا تو اسے بھی فراز کو کال کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی ماریہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی بہت دیر تک فراز کے متعلق سوچتی رہی لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تھی۔
…}ژ ٭ژ …{
جیسکا ایک بار پھر ابرام کے سامنے موجود تھی بلو جینز پر بلیک لیڈیز فینسی شرٹ میں مہارت سے اپنے چہرے پر میک اپ کیے وہ بہت فریش نظر آرہی تھی چھٹی ہونے کے باعث ابرام گھر پر ہی موجود تھا سو وہ بھی سیدھا اس کے اپارٹمنٹ میں چلی آئی‘ جیکولین غالباً اس وقت چرچ گئی ہوئی تھی تھوڑی دیر وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد ماریہ کے حوالے سے کہنے لگی۔
’’ابرام ماریہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کم از کم تمہیں تو کچھ بتاکر جاتی۔ مجھے ماریہ سے اس قدر بے حسی کی امید نہیں تھی۔‘‘ اس لمحے جیسکا کے لب و لہجے سے بناوٹی دکھ تاسف کے رنگ بخوبی جھلک رہے تھے جس پر ابرام کی طبیعت اچھی خاصی مکدر ہوگئی تھی جب ہی وہ بے پناہ بے زار کن لہجے میں بولا۔
’’جیسکا ہم ماریہ کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرسکتے مجھے ماریہ کے موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی اب وہ ہماری زندگی سے ہمیشہ کے لیے جاچکی ہے بہتر یہی ہے کہ اب ہمارے درمیان ماریہ کا تذکرہ نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔‘‘
’’مگر ابرام وہ تمہاری بہن…‘‘
’’میں نے کہا ناں جیسکا مجھے ماریہ کے متعلق کوئی بات نہیں کرنی نہ ہی سنی ہے۔‘‘ ابرام کی بات پر جیسکا نے کچھ کہنا چاہا مگر ابرام اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی درمیان میں کاٹ کر غصے سے بولا تو جیسکا محض اسے دیکھ کر رہ گئی۔
…}ژ ٭ژ …{
’’سر اس لڑکی کو ابھی تک ہوش نہیں آیا ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ دماغ پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ کومے میں بھی جاسکتی ہے۔‘‘ اس کے ما تحت نے آکر اطلاع دی تو کامیش ایک ہنکارہ بھر کر رہ گیا قدرے توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’انسپکٹر راحت میرا یہاں کا کام مکمل ہوگیا ہے اب مجھے واپس جاکر تمام تفصیلی رپورٹ آئی جی صاحب کو دینی ہے۔ میں مزید اس لڑکی کی خاطر تاخیر نہیں کرسکتا۔‘‘ کامیش جب اسلام آباد آیا تھا تو اسے معلوم ہوا کہ منسٹر صاحب کسی ارجنٹ میٹنگ کی وجہ سے اچانک مری چلے گئے ہیں کامیش کا منسٹر صاحب سے ملنا بہت ضروری تھا لہٰذا ان کے کہنے پر وہ اپنی سرکاری گاڑی میں مری آگیا تھا ساتھ میں اس کا اسسٹنٹ راحت بھی موجود تھا منسٹر صاحب سے ضروری بریفنگ لے کر وہ دونوں واپس اسلام آباد آرہے تھے کہ مری کی حدود سے کچھ دور انہیں ایک طرف کچی سڑک پر ایک لڑکی اپنے ہوش و حواس سے بے خبر پڑی دکھائی دی اس لمحے بارش بھی زور و شور سے ہورہی تھی دونوں ایک بھی لمحہ ضائع کیے بنا اپنی گاڑی سے اتر کر اس لڑکی کی جانب بڑھے تھے۔
’’سر یہ لڑکی زندہ ہے مگر اس کی نبض بہت آہستہ چل رہی ہے ہمیں فوراً اسے اسپتال لے جانا ہوگا ورنہ یہ مر بھی سکتی ہے۔‘‘
’’اوکے ہری اپ۔‘‘ کامیش نے انسپکٹر راحت کی بات سن کر فوراً کہا تھا اور پھر دونوں اسے فی الفور اسپتال لے آئے تھے مگر ابھی تک اسے ہوش نہیں آیا تھا وہ شاید کسی اونچائی سے گری تھی کامیش کی تو یہی کوشش تھی کہ وہ لڑکی اس کے سامنے ہوش میں آجائے تاکہ وہ خود اس سے حادثے کی بابت معلوم کرسکے مگر مجبوراً اس نے اسلام آباد پولیس کو اس کیس کی جانچ پڑتال کی ہدایت دے کر واپس کراچی جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
…}ژ ٭ژ …{
جیکولین چرچ سے واپس گھر آئی تو ابرام کو کافی نڈھال اور مضمحل سی لگی وہ خاموشی سے لائونج کے کائوچ پر ڈھے سی گئی ابرام نے جیکولین کو چند ثانیے کے لیے دیکھا پھر استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’آر یو او کے مام۔‘‘ وہ بخوبی دیکھ رہا تھا کہ جب سے ماریہ گھر سے گئی تھی جیکولین اندر ہی اندر بے حد ٹوٹ سی گئی تھی آج سے پہلے اس نے جیکولین کو اتنا بکھرا ہوا نہیں دیکھا تھا جیکولین کی زندگی کبھی پُرسکون اور سہل نہیں گزری تھی اس نے بہت سے مد و جزر کا مقابلہ بڑی ہمت و حوصلے سے کیا تھا مگر اس بار نجانے کیوں وہ اس محاذ کے آگے کمزور سی پڑ گئی تھی ابرام جیکولین کے قریب آیا اور اس کے پاس دوزانو بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’مام آپ پلیز اسٹریس مت لیجیے خدا نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ جواباً جیکولین نے ابرام کو بڑی عجیب سی نگاہوں سے دیکھا پھر ایک تلخ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’نہیں ابرام اب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا سب کچھ ختم ہوچکا ہے ماریہ میرا اعتماد‘ مان اور غرور سب مٹی میں ملا کر چلی گئی‘ میں نے تو کبھی خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں سوچی تھی کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے پال کے آدمی اسے بھوکے کتوں کی طرح ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘ اچانک بولتے ہوئے جیکولین نے اس کا بازو تھام لیا۔
’’اگر ماریہ ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی تو… تو وہ اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے اسے مار دیں گے ابرام۔‘‘ جیکولین اس لمحے پوری طرح جیسے اپنے ہوش و حواس کھو رہی تھی ابرام بے تحاشا پریشان ہوگیا۔
’’مام پلیز خود کو سنبھالے ماریہ کو کچھ نہیں ہوگا اور مام…‘‘ باقی کے الفاظ ابرام کے منہ میں ہی رہ گئے تھے جیکولین کو آنکھیں بند کرکے ایک جانب گرتا دیکھ کر وہ جیسے ساکت سا ہوگیا تھا۔
…}ژ ٭ژ …{
سردیاں اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اب رخصت ہورہی تھیں جبکہ بہار کی آمد نے فضا میں خوش گوار ماحول اور خوب صورت رنگوں کی رعنائیوں نے چہار سو اپنا حسن بکھیر دیا تھا لان میں لگے انواع اقسام کے رنگ برنگے پھول جیسے مسکرا رہے تھے، سبک رو ہوا اس لمحے بے حد بھلی لگ رہی تھی۔ سونیا ساحرہ کے ہمراہ لان میں بچھی کرسیوں پر بیٹھی شام کی چائے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ جب ہی وہاں کامیش نے قدم رنجہ فریاما پہلی نگاہ سونیا کی اس پر پڑی تھی جو داخلی دروازہ کھول کر اندر آرہا تھا سونیا کی دل کی دھڑکن ایک پل اسے دیکھ کر منتشر ہوئی تھی وہ اندر ہی اندر اس بات کو لے کر خاصی پریشان تھی کہ اسے یہاں موجود پاکر کامیش کا کیا رد عمل ہوگا اب جب اسے دیکھا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی گھبرا گئی تھی کامیش اسے دیکھ کر قدرے چونکا پھر سر جھٹک کر ساحرہ کے پاس چلا آیا جو اسے دیکھ کر خوش گوار حیرت کا اظہار کررہی تھی وہ وہاں صرف چند لمحوں کے لیے رکا پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اس نے غلطی سے بھی سونیا کو مخاطب نہیں کیا تھا۔ ساحرہ نے بھی اس بات کو شدت سے محسوس کیا تھا وہ کچھ دیر کسی سوچ میں ڈوبی رہی پھر سنجیدگی سے بولی۔
’’مجھے لگتا ہے کہ کامیش شاید تم سے ابھی بھی خفا ہے ورنہ وہ اتنا بداخلاق تو کبھی نہیں رہا۔‘‘
’’ہوسکتا ہے فراز نے میرے خلاف کامیش کے کان بھردیے ہوں۔‘‘ سونیا عجیب سے لہجے میں بولی جبکہ ساحرہ نے بے حد چونک کر اسے دیکھا۔
’’فراز نے… آئی ڈونٹ تھنک سو۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کامیش کا تو فراز سے کوئی کانٹیکٹ نہیں ہے اور پھر اتنا سب کچھ ہونے کے بعد کامیش کیوں فراز سے بات کرے گا۔‘‘
’’فراز بہت چالاک ہے آنٹی وہ پاکستان آچکا ہے یقینا فراز نے ہی کامیش کو مجھ سے ایک بار پھر بدظن کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ نجانے سونیا کے اندر فراز کے لیے بدلے اور انتقام کی کیسی آگ بھڑک رہی تھی جو کسی صورت ٹھنڈی ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ابھی بھی اس نے فراز کو ہی تختہ دار پر چڑھانے کی کوشش کی تھی نفرت و اشتعال کی بھٹی میں سلگتی سونیا فراز کو پوری طرح سے تباہ و برباد کردینا چاہتی تھی۔ ساحرہ نے چند ثانیے کچھ سوچا پھر غصے میں بپھر کر بولی۔
’’میں کبھی بھی فراز کو اس کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی اگر وہ اپنے خونی رشتوں کا تقدس ان کا احترام اپنے دل سے نکال چکا ہے تو ہم بھی یہ بھول جائیں گے فراز کبھی اس گھر کا بیٹا یا فرد تھا۔‘‘ اور یہی سب تو سونیا خان چاہتی تھی ساحرہ کے پتھریلے الفاظ سونیا کو پھولوں کی طرح لگے تھے اس نے انتہائی طمانیت آمیز سانس بھری تھی۔
…}ژ ٭ژ …{
’’ہیلو فراز بیٹا آپ کہاں ہیں میں نے کل بھی آپ کو کال کی تھی مگر آپ نے ریسیو نہیں کی اور پھر آپ آفس بھی نہیں آرہے کیا تھکن ابھی تک نہیں اتری۔‘‘ سمیر شاہ کی تشویش بھری آواز فراز کے کانوں سے ٹکرائی تو فراز کچھ لمحے کے لیے خاموش سا رہا پھر ایک گہری سانس بھرتے ہوئے بولا۔
’’ایم سوری ڈیڈ کل شاید میں سو گیا تھا اس لیے آپ کا فون پک نہیں کرسکا دراصل میں اس وقت مری میں ہوں۔‘‘ فراز کی سمیر سے دو دن پہلے بھی بات ہوئی تھی مگر اس نے فی الحال کچھ نہیں بتایا تھا۔
’’مری میں… مگر کیوں فراز؟ اس طرح اچانک آپ مری کیوں چلے گئے۔‘‘ سمیر شاہ نے قدرے اچنبھے سے دریافت کیا تو فراز کچھ ثانیے کے لیے گڑبڑا سا گیا۔
’’وہ ایکچولی ڈیڈ…‘‘ اتنا کہہ کر وہ رکا پھر اس نے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کرکے کہا۔
’’ڈیڈ میں اس وقت مری میں اپنی فرینڈ لالہ رخ کے گھر پر ہوں لالہ رخ میری بہت اچھی دوست ہے ڈیڈ۔‘‘
’’لالہ رخ۔‘‘ سمیر شاہ اس نام پر بے ساختہ چونک اٹھے پھر یک دم فراز سے استفسار کرتے ہوئے بولے۔
’’سمیر تمہاری فرینڈ لالہ رخ کا پورا نام کیا ہے۔‘‘ اچانک عجیب سی بے چینی و اضطراب سمیر شاہ کے اندر کروٹ لینے لگی اس کے نام پر ان کے ذہن میں کوئی یاد کا دریچہ وا ہوا تھا۔
’’پورا نام…‘‘ فراز تھوڑا پُرسوچ انداز میں بولا پھر ذہن پر زور ڈالتے کچھ دیر بعد گویا ہوا۔
’’ڈیڈ مجھے تو اس کا پورا نام معلوم نہیں ہے بس لالہ رخ ہی جانتا ہوں میں۔‘‘ سمیر جو اس لمحے اچانک تصور میں در آئے ماضی کے زندہ چلتے پھرتے اوراق کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا یک دم ٹھنڈا سا پڑ گیا۔
’’لالہ رخ تو تین سال کی عمر میں ہی…‘‘ وہ دل ہی دل میں فقط اتنا بولا پھر دوسرے ہی لمحے خود سے بولا۔
’’بھلا وہ لالہ رخ کیسے ہوسکتی ہے کیا دنیا میں صرف ایک ہی لڑکی کا نام لالہ رخ ہوگا۔‘‘ پھر سمیر فوراً سے پیشتر بولے۔
’’اچھا خیر چھوڑو‘ ہاں تو تم کیا بتا رہے تھے۔‘‘ فراز نے تمام واقعات و حالات سمیرشاہ کے گوش گزار کردیے لالہ رخ سے اپنی دستی سے لے کر مہرو کی گمشدگی اور بٹو کی ناگہانی موت تک سب کچھ کہہ ڈالا۔
’’اوہ ویری سیڈ فراز یہ تو بہت دکھ اور پریشانی کی بات ہے تم نے بہت اچھا کیا جو اس کڑے وقت میں اپنی فرینڈ کا ساتھ دینے اس کے پاس چلے گئے۔‘‘ سمیر شاہ یہ سب جاننے کے بعد اپنے بیٹے کے طرز عمل پر بہت خوش ہوئے جو ایک درد مند دل رکھنے کے ساتھ ساتھ اور نامساعد حالات میں دوسروں کی مدد کے لیے ان کے ہمراہ کھڑا ہوجاتا تھا پھر اچانک انہیں کچھ یاد آیا تو وہ جلدی سے بولے۔
’’فراز بیٹا تم اس حوالے سے کامیش سے بات کیوں نہیں کرتے کل رات میری فون پر اس سے بات ہوئی تھی۔ وہ اسلام آباد میں ہی تھا آج سہہ پہر کی فلائٹ سے کراچی آنے والا ہے۔‘‘ پھر بے ساختہ سامنے دیوار پر لگی وال کلاک کی جانب دیکھتے ہوئے بولے۔
’’میرے خیال میں وہ اب تک گھر پہنچ بھی چکا ہوگا۔‘‘ سمیر شاہ کی بات پر فراز تھوڑا ہچکچا سا گیا۔
’’کامیش سے مگر ڈیڈ آپ تو جانتے ہیں ناں کہ میرے اور کامیش کے درمیان…‘‘ اتنا کہہ کر اس نے جملہ خود ہی ادھورا چھوڑ دیا تو سمیر شاہ فوراً بولے۔
’’او کم آن فراز آئی نو کامیش اپنے پرسنل میٹرز اپنے پروفیشن سے الگ رکھتا ہے اور ایک پولیس آفیسر ہونے کے ناطے اس کی یہ ذمہ داری ہے بیٹا کہ وہ تم لوگوں کی مدد کرے تم ابھی اور اسی وقت کامیش کو فون کرکے ساری صورت حال بتائو اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس سلسلے میں تم لوگوں کی ضرور مدد کرے گا۔‘‘
’’اگر ایسا ہے ڈیڈ تو ٹھیک ہے میں کامیش کو تمام سچویشن بتاتا ہوں بس آپ دعا کریں کہ ہمیں مہرو صحیح سلامت جلد سے جلد مل جائے۔‘‘ سمیر شاہ کی بات پر فراز کچھ پُرجوش لہجے میں بولا تو سمیر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’ڈونٹ وری فراز اللہ نے چاہا تو وہ بچی جلد ہی مل جائے گی۔‘‘
سمیر سے بات کرکے فراز کو تھوڑا اطمینان حاصل ہوا تھا جب ہی اس نے کامیش کو فون ملایا مگر بیل جاتی رہی کامیش نے کال پک نہیں کی وہ اس پل اپنا فون سائلنٹ پر کرکے گہری نیند سو رہا تھا مایوس ہوکر فراز نے فون بند کردیا۔
…}ژ ٭ژ …{
جیکولین کا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر گیا تھا ابرام اسے ایمرجنسی میں اسپتال لے آیا اس وقت جیکولین کی حالت بہتر تھی وہ ٹرینکو لائزر کے زیر اثر گہری نیند سو رہی تھی تب ہی ابرام اسپتال کے کاریڈور میں چلا آیا وہ جیکولین کو لے کر اس وقت بہت اپ سیٹ نظر آرہا تھا اب اسے ماریہ پر اچھا خاصا غصہ آرہا تھا جو اپنی ماں کی پروا کیے بغیر یوں اچانک روپوش ہوگئی تھی۔ وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھا کہ جیسکا کو خاموشی سے آکر اپنے پہلو میں کھڑا دیکھ کر وہ بے اختیار چونکا پھر رخ موڑ کر بولا۔
’’تم… تمہیں کیسے معلوم جیسکا کہ میں یہاں ہوں؟‘‘ ابرام کی اس لمحے حیرت فطری تھی وہ تو کسی کو بھی نہیں بتا کر آیا تھا جب ہی جیسکا سہولت سے بولی۔
’’تمہارے اپارٹمنٹ کے دروازے پر اس اسپتال کے دو بندے اسٹریچر پر آنٹی کو لینے آئے تھے تو…‘‘
’’مطلب۔‘‘ وہ بری طرح الجھا پھر یک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔
’’اوہ تو اس کا مطلب ہے کہ تم لوگوں نے ہمارے دروازے کے باہر کیمرے لگا رکھے ہیں تاکہ ہماری ایک ایک حرکت پر نظر رکھ سکو۔‘‘ اس لمحے ابرام کے لہجے میں بے پناہ تلخی اور ناگواری تھی جیسکا نے اسے بغور دیکھا پھر سنجیدگی سے بولی۔
’’میں نے نہیں سرپال کی ہدایت پر لگائے گئے ہیں مجھے تو میک نے فون کرکے بتایا کہ جیکولین آنٹی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور تم انہیں اسپتال لے گئے ہو۔ اچھا چھوڑو اس بات کو یہ بتائو آنٹی اب کیسی ہیں؟‘‘ جیسکا کے استفسار پر ابرام نے اسے کچھ دیر دیکھا پھر انتہائی روڈ انداز میں بولا۔
’’اب بہتر ہیں تمہارا خیال کرنے کا شکریہ۔‘‘ ابرام کاریڈور کی بالکنی سے اسے نظر انداز کرتے باہر دیکھنے لگا تھا جب ہی جیسکا دھیرے سے بولی۔
’’مجھ سے ناراض ہو ابرام‘ یقین جانو ڈئیر میرا مقصد کبھی بھی تم لوگوں کے خلاف نہیں جانا تھا۔ ماریہ میری بیسٹ فرینڈ ہے اور آنٹی بھی مجھے اپنے دل سے عزیز ہیں میں تم لوگوں کی پریشانی میں خوش نہیں ہوں بلکہ دکھی ہوں ابرام۔‘‘ جیسکا بڑی جذباتی ہوکر اپنے مخلص ہونے کا یقین دلا رہی تھی ابرام نے ایک سرد نگاہ اس پر ڈالی پھر رخ موڑ کر پوری طرح اس کی جانب گھوم کر اپنے دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے بولا۔
’’آج تمہیں اپنے خیر خواہ ہونے کا یقین کیوں دلانا پڑ گیا جیسکا اگر تم سچ میں ماریہ کی خیر خواہ ہو ہمارے لیے فکر مند ہو تو تمہیں ان لفظوں کی کیوں ضرورت پڑ گئی۔‘‘ ابرام کی بات کا جیسکا کے پاس فی الفور کوئی جواب نہیں تھا وہ کنفیوژ سی کھڑی بس اسے دیکھے گئی جو مزید کہہ رہا تھا۔
’’تم جانتی ہو ناں جیسکا‘ ماریہ اگر ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی تو وہ اسے مارنے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کریں گے کیا تم اپنی بیسٹ فرینڈ کی موت دیکھنے کو تیار ہو جیسکا آخر اتنا سفاک اور بے حس دل تم نے اپنا کیسے کرلیا وہ کون سی لالچ کون سا چارم تھا جیسکا جس کے عوض تم نے ماریہ کی موت کا سودا کرلیا؟‘‘
’’ابرام…‘‘ اس لمحے جیسکا کو لگا جیسے ابرام نے اسپتال کے اس آٹھویں فلور سے اسے دھکا دے دیا ہو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’یہ… یہ تم کیا بول رہے ہو ابرام میں ایسے کیسا…!‘‘ جیسکا کا ذہن ماؤف ہورہا تھا زبان اکڑ سی گئی تھی۔
’’کیوں جیسکا تم نے ماریہ کے مسلم ہونے کا پروف سرپال اور میک کو کیوں دیا تھا؟‘‘ سائیں سائیں کانوں کے ساتھ جیسکا فقط اسے دیکھ رہی تھی۔
’’تم تو یہ حقیقت بہت پہلے سے جانتی تھیں ناں پھر اتنے عرصے بعد اچانک کیوں میک کے ساتھ مل گئیں؟‘‘
’’ابرام یہ… یہ جھوٹ ہے۔‘‘ اس نے اسے جھٹلانا چاہا مگر سچائی پورے اعتماد کے ساتھ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔
’’میں کوئی بچہ نہیں ہوں جیسکا جو اب تک کچھ نہ سمجھ سکوں تمہاری حقیقت اگر ماریہ مجھے پہلے نہ بھی بتاتی تو میک اور سرپال کے ساتھ اس طرح ماریہ کے معاملے میں تمہیں اتنا ایکٹو ہوتا دیکھ کر بھی میں سب سمجھ جاتا۔‘‘ وہ استہزائیہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا پھر خود سے گویا ہوا۔
’’نجانے کیوں خود کو انتہائی ذہین اور چالاک سمجھنے والا اتنی بے وقوفانہ حرکت کیسے کر جاتا ہے۔‘‘ پھر سر جھٹک کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔
’’تم یہ کیسے بھول گئیں کہ یہ سب کرتے ہوئے ہم تمہاری حقیقت اور دھوکہ بازی کو کبھی جان ہی نہیں سکیں گے؟‘‘
’’ابرام میں نے بتایا ناں تمہیں انہوں نے مجھے ٹریپ کر کے…‘‘
’’اوہ… فائن اگر ایسا تھا بھی تو تم مجھ سے سب کچھ شیئر کرتی تھیں ناں پھر اتنی بڑی بات تم نے مجھ سے کیوں چھپائی جیسکا تم نے یہ سب اس لیے چھپایا تاکہ تم ہمارے پیٹھ پر چھرا گھونپ سکو۔‘‘ اس لمحے ابرام کے لہجے میں اتنی نفرت اور اہانت تھی کہ جیسکا بری طرح بلبلا گئی۔
’’ہاں کیا میں نے سب کچھ‘ دیا میں نے میک اور سرپال کا ساتھ مگر ابرام یہ سب کرنے پر تم نے مجبور کیا تمہاری بے رخی نے مجھے ایسا کرنے پر اکسایا اور میں صرف تمہیں پانے کی خاطر اپنی بہن جیسی دوست کی زندگی کا سودا کر بیٹھی۔‘‘ ابرام لب وا کیے انتہائی تخیر کے عالم میں اچنبھے سے کھڑا اسے دیکھتا رہا جو مزید کہہ رہی تھی۔ ’’میں تم سے محبت کرتی تھی ابرام تمہیں حاصل کرنا چاہتی تھی تمہارے پیار کو پانا چاہتی تھی۔ کیا تھا جو تم مجھے اپنی تھوڑی سی محبت دان کردیتے میرا دل تمہاری چاہت سے کسی طور دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھا ابرام پھر بتائو میں کیا کرتی خود کو ختم کرلیتی۔‘‘ آخر میں وہ اس کے دونوں بازو جھنجوڑ کر بولی پھر انتہائی بے دردی سے اپنے گالوں پر بہتے آنسوئوں کو اپنی ہتھیلی سے رگڑتے ہوئے کہنے لگی۔
’’ہاں ابرام میں نے دھوکا دیا ہے ماریہ کو اس سے چیٹنگ کی ہے مگر اس سب کے ذمہ دار تم ہو صرف تم سمجھے۔‘‘ دوسرے ہی پل وہ رخ پھیر کر زار و قطار روتے ہوئے وہاں سے بھاگی تھی جب کہ ابرام گم صم سا کھڑا رہ گیا تھا۔
…}ژ ٭ژ …{
کامیش باتھ لینے کے بعد اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب ہی ہلکا سا ناک کرکے سونیا اندر چلی آئی کامیش نے آئینے کی سطح پر اپنے عقب میں ابھرتے سونیا کے عکس کو دیکھا جو اس لمحے مشرقی اقدار کا پیکر بنی اس کے سامنے کھڑی تھی بال سنوار کر وہ اس کی جانب مڑا تو سونیا بڑی پیاری سی مسکراہٹ لیے دلکشی سے گویا ہوئی۔
’’آئی ہوپ کہ اس بار مشن کامیاب رہا ہوگا۔‘‘ کامیش نے محض ایک نگاہ اسے دیکھا مگر اس بار بھی کچھ بولنے سے گریز کیا سونیا تھوڑی پزل سی ہوئی پھر خود کو سنبھالتے ہوئے ہنوز لہجے میں بولی۔
’’وہ ڈنر ریڈی ہے سب آپ کا ویٹ کررہے ہیں ویسے آج کل میں بھی کوکنگ سیکھ رہی ہوں آپ کو باہر کے کھانے پسند نہیں ہیں ناں اور کک کا بھی بھروسہ نہیں ہوتا اچانک چھٹی کرلیتے ہیں تو مشکل ہوجاتی ہے تو ایسے میں گھر کی عورت کو کھانا پکانا تو آنا چاہیے میں نے آج آپ کے لیے چکن کڑھائی پکائی ہے آپ ٹیسٹ کرکے بتائیے گا کہ کیسی ہے؟‘‘ سونیا خود ہی بولے جارہی تھی جبکہ کامیش اس کی کسی بھی بات کا جواب دیے بنا اپنا سیل فون اٹھا کر دیکھنے لگا تھا فراز کی مسڈ کال دیکھ کر وہ کچھ چونکا پھر بے اختیار دل ہی دل میں بولا۔
’’فراز نے مجھے کال کی تھی۔‘‘ پھر سونیا کو وہاں سے ٹالنے کی غرض سے جلدی سے گویا ہوا۔
’’تم چلو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔‘‘ سونیا اس کا جواب سن کر اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی۔ کامیش نے اسی لمحے فراز کو کال بیک کی دوسری ہی بیل پر فراز نے فون اٹھا لیا۔
’’او تھینک گاڈ کامیش تم نے مجھے فون کرلیا ورنہ تو مجھے لگا کہ تم مجھ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ آخر میں اس کا لہجہ تھوڑا شکوہ کناں ہوا تو کامیش بے ساختہ مسکرا دیا پھر سہولت سے بولا۔
’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے برو ڈیڈ نے مجھے بتایا تھا کہ تم پاکستان آگئے ہو۔‘‘
’’پاکستان تو میں آگیا ہوں کامیش مگر اس وقت میں مری میں ہوں دراصل برادر مجھے اس وقت تمہاری مدد کی ضرورت ہے وہ کیا ہے کہ میری ایک فرینڈ ہے لالہ رخ جس کے گھر میں آج کل… ہوں۔‘‘ وہ بولتے ہوئے یک دم ٹھہرا تو کامیش جلدی سے بولا۔
’’تم بولتے رہو فراز میں سن رہا ہوں۔‘‘ پھر فراز اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا آخر میں فراز تھکے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’مہرینہ کا ابھی تک کچھ بھی پتا نہیں چل سکا ہے یار اور یہاں اس کے گھر والوں کا حال بہت برا ہے تم پلیز کچھ کرسکتے ہو؟‘‘
’’ہوں اس لڑکی کا حلیہ مجھے بتاسکتے ہو فراز؟‘‘ سب کچھ سننے کے بعد کامیش پُرسوچ لہجے میں بولا تو فراز گہرا سانس لے کر اس کو مہرو کا حلیہ بتانے لگا اور اسی پل کامیش کے ذہن کی اسکرین پر اسی لڑکی کا چہرہ گھوم گیا جو اسے مری روڈ کی کچی سڑک پر بے ہوش پڑی ملی تھی اور جو ابھی تک اسپتال میں تھی۔
’’یوں سمجھو فراز تمہارا کام ہوگیا ہے وہ لڑکی مل گئی ہے۔‘‘ کامیش کی بات پر فراز بے یقین ہی رہا۔
’’وہاٹ…! یہ تم کیا کہہ رہے ہو کامیش کیا واقعی مہرو تمہیں مل گئی ہے وہ کہاں ہے کیسی ہے یار وہ ٹھیک تو ہے ناں۔‘‘ فراز بے صبرا ہوکر ان گنت سوال کر گیا تھا۔
’’ریلیکس فراز وہ لڑکی زندہ تو ہے مگر سر پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے فی الحال وہ بے ہوش ہے شاید کافی اونچائی سے گری تھی۔‘‘
’’کامیش پلیز مجھے پوری بات بتائو میں بہت پریشان ہورہا ہوں۔‘‘ فراز انتہائی متفکرانہ انداز میں بولا تو کامیش نے ساری بات اس کے گوش گزار کردی۔
’’ٹھیک ہے کامیش میں ابھی اس وقت لالہ رخ کو لے کر اسلام آباد کے لیے نکلتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دوسرے ہی لمحے فون بند کردیا تو سیل فون ہاتھ میں لیے کامیش کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
…}ژ ٭ژ …{
ابرام کے دماغ میں اس لمحے آندھیاں سی چل رہی تھیں اسے اپنے سامنے موجود کائنات ہلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وہ بے ساختہ پاس رکھی چیئر پر گر سا گیا ورنہ یقینا زمین بوس ہوجاتا ابھی دو گھنٹے پہلے ہی تو جیسکا یہاں سے بے تحاشا روتی ہوئی نکلی تھی اور اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی تھی کچھ ہی دیر پہلے میک کی کال اس کے سیل فون پر آئی تھی جس نے اسے یہ روح فرساں خبر سنائی تھی کہ جیسکا کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی ہے۔
’’اوہ جیسکا یہ کیا کیا تم نے… اچھا نہیں کیا ڈیئر۔‘‘ بے ساختہ ابرام کی آنکھوں میں آنسو در آئے جیسکا نے خود اپنی جان لے تھی یا پھر واقعی وہ کسی حادثے کا شکار ہوئی تھی ابرام کا ذہن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا اس لمحے اس کے ذہن کی اسکرین پر وہ تمام لمحات فلم کی مانند چلنے لگے جس میں وہ ماریہ اور جیسکا تھے جیسکا کے ساتھ گزارے بے فکری اور خوشی سے بھرپور پل اسے بے اختیار یاد آتے چلے گئے۔
’’ابرام تمہیں مجھ سے اچھا دوست تو مل ہی نہیں سکتا۔‘‘ زندگی سے بھرپور جیسکا کی شوخ سی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
’’میں جب بھی تمہارے ساتھ ہوتی ہوں ناں مجھے زندگی اور بھی زیادہ خوب صورت لگنے لگتی ہے۔‘‘ ایک دوسری آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
’’ابرام پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘ اس لمحے کرب اور اذیت کی لہریں اس کے اندر موجزن ہوگئیں اس نے بڑی بے دردی سے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے کچلا تھا۔
’’ابرام آئی لو یو مجھے تمہاری قربت چاہیے تمہاری چاہت چاہیے پلیز تم مجھے مایوس مت کرو۔‘‘ اس وقت چہار سو ابرام کو جیسکا کی آوازیں اپنے قریب محسوس ہورہی تھیں۔
…}ژ ٭ژ …{
فراز نے لالہرخ کو مختصراً مہرو کے بارے میں بتایا تو وہ فوراً ہی فراز کے ہمراہ اسلام آباد جانے کو تیار ہوگئی وادی میں آدھی رات کا سماں تھا مگر مہرو کے بارے میں جان کر فراز اور لالہ رخ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جلد از جلد اسلام آباد پہنچ جائیں زرتاشہ اور امی بھی ان لوگوں کے ساتھ جانا چاہتی تھیں مگر فراز نے فی الحال انہیں روک دیا تھا۔
’’مگر فراز بیٹا میں جب تک ایک نگاہ اپنی بچی کو دیکھ نہیں لوں گی مجھے چین نہیں آئے گا۔‘‘ وہ لجاجت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’امی ابھی ہمیں جانے دیجیے اس وقت ویسے بھی بہت رات ہوگئی ہے میں آپ دونوں کو کل دن میں بلوائوں گی۔‘‘ پھر فراز اور لالہ رخ گیسٹ ہائوس کے مالک کی مہربانی سے جس نے ایک گاڑی ان لوگوں کو ارینج کردی تھی اس کے ذریعے اسلام آباد اسپتال پہنچے تھے مگر لالہ رخ جو تمام راستے یہی سوچتی آئی تھی کہ مہرو اسے صحیح حالت میں ملے گی لیکن یہاں اسے آئی سی یو میں ساکت و جامد مشینوں میں جکڑا دیکھ کر زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتی چلی گئی۔ کامیش نے فراز کو مہرو کی تمام کنڈیشن فون پر ہی بتا دی تھی مگر فراز نے قصدا لالہ رخ کو کچھ نہیں بتایا تھا اس نے فقط اتنا بتایا تھا کہ مہرو کو کچھ معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور فی الحال اسے ذہنی سکون پہنچانے کے لیے ٹرینکو لائزر دی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ پوری طرح سے ہوش میں نہیں آرہی کیونکہ فراز کے بتانے پر لالہ رخ نے انتہائی بے قراری سے اس سے سوال کیا تھا۔
’’اگر مہرو بالکل ٹھیک ہے فراز تو اس نے ہم سب سے رابطہ کیوں نہیں کیا ہم یہاں اس کے لیے اس قدر پریشان ہیں اور وہ وہاں اکیلی کیسے پڑی ہے۔‘‘ جب ہی اس نے یہ بہانہ کیا تھا کہ وہ دوائوں کے زیر اثر مسلسل غنودگی میں ہے مگر یہاں اسے اس قدر دگرگوں حالت میں دیکھ کر لالہ رخ کو اپنے جسم سے روح نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی فراز نے اسے سہارا دے کر دوبارہ کھڑا کیا۔
’’فراز یہ… یہ مہرو ہے۔‘‘ لالہ رخ ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنی شہادت کی انگلی مہرو کی جانب اٹھاتے ہوئے دل چیر دینے والے لہجے میں بولی تو آنکھوں میں نمی لیے فراز اثبات میں سر ہلا کر دھیمی آواز میں گویا ہوا۔
’’دعا کرو لالہ ہماری مہرو کو دعائوں کی اشد ضرورت ہے دعائوں میں بہت طاقت ہوتی ہے لالہ یہ سب کچھ اپنے رب سے منوا لیتی ہیں ہمارا اللہ ہمیں یقینا مایوس نہیں کرے گا۔ آئو لالہ ہم اپنی مہرو کی زندگی کے لیے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ فراز سسکتی ہوئی لالہ رخ کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر آئی سی یو باہر نکل آیا جہاں فجر کی اذانوں کی آوازیں بلند ہونے لگی تھیں۔
…}ژ ٭ژ …{
وہ اس وقت گہری نیند میں اچانک ہڑبڑا کر بیدار ہوئی تھی چند ثانیے کے لیے اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے پھر کمرے میں اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں تو بے ساختہ ایک گہری سانس لے کر رہ گئی وہ رات کو کمرے کی لائٹ جلا کر سوتی تھی اس وقت بلب بھی روشن تھا اس نے بے ساختہ دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیوں کی جانب دیکھا جو پانچ بجے کا اعلان کررہی تھیں ماریہ نے اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا تنہائی اور خوف کا احساس اس لمحے عود کر آیا تھوڑی دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے موبائل فون کو دیکھا کوئی کال یا میسج اسکرین پر موجود نہیں تھا بے ساختہ ماریہ کو فراز شاہ کی بے اعتنائی پر رونا سا آگیا۔
’’مجھے نہیں معلوم تھا فراز کہ آپ مجھے یہاں چھوڑ کر مجھ سے اس قدر لاپروا اور بے نیاز ہوجائیں گے مجھے اس طرح تنہا کردیں گے۔‘‘ پھر نجانے کتنی ہی دیر وہ بے آواز آنسو بہاتی رہی ابرام اور جیکولین کی یاد نے بھی اسے خاصا مضطرب کردیا تھا بہت سارا رونے کے بعد وہ خود ہی خاموش ہوگئی پھر دل ہی دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوکر کہنے لگی۔
’’یااللہ جو کانٹوں بھرا راستہ میں نے چنا ہے اسے میرے لیے ہموار کردے‘ میرے قدموں کو مضبوط اور دل کو توانا کردے‘ ایمان کا جو نور تو نے میرے اندر روشن کیا ہے اس کے ذریعے میری زندگی کے اندھیروں کو دور کر دے‘ میرے اللہ مجھے تھام لے‘ مجھے سنبھال لے۔‘‘ پھر وہ فجر کی نماز پڑھنے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھ گئی تاکہ وضو کرسکے۔
…}ژ ٭ژ …{
باسل گھر میں داخل ہوکر جونہی سیٹنگ روم کی جانب آیا خاور حیات کو انتہائی پریشانی کے عالم میں اپنی دونوں کہنیوں کو گھٹنے سے ٹکا کر ہاتھوں کو آپس میں پھنسا کر اس پر اپنی ٹھوڑی ٹکائے بیٹھا پایا۔
’’ڈیڈ سب ٹھیک تو ہے ناں آپ اتنے ٹینس کیوں ہیں مام تو ٹھیک ہیں ناں پلیز ٹیل می ڈیڈ۔‘‘ باسل نے گھبرائے ہوئے انداز میں دریافت کیا۔ خاور حیات نے نگاہ اٹھا کر باسل کو دیکھا پھر قدرے ترش لہجے میں بولا۔
’’تمہاری مام آج پھر گھر سے غائب ہے۔‘‘ خاور حیات کی بات باسل کی سمجھ میں نہیں آئی اس نے الجھ کر باپ کو دیکھتے استفسار کیا۔
’’کیا مطلب ڈیڈ مام پھر غائب ہیں؟‘‘ جب ہی خاور اپنی جگہ سے انتہائی غصے سے اٹھا اور غصیلے لہجے میں بولا۔ ’’حورین آج دوپہر سے پھر غائب ہے باسل اور آج بھی اس نے کسی کو بھی کچھ نہیں بتایا کہ وہ کہاں گئی ہے ابھی لاسٹ ویک بھی وہ یوں بنا کسی کو بتائے گھر سے اکیلے نکل گئی تھی۔‘‘ خاور حیات کو غصے میں دیکھ کر باسل بھی اندر ہی اندر خائف سا ہوگیا۔
’’مام مارکیٹ چلی گئی ہوں گی ڈیڈ یا پھر…‘‘
’’یا پھر کیا باسل؟‘‘ خاور نے باسل کی بات درمیان میں ہی قطع کرکے انتہائی چٹخ کر کہا۔
’’جب پچھلی بار میں نے اس سے یوں گھر سے غائب ہوجانے کی وجہ معلوم کی تھی تو وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکی تھی نجانے باسل یہ حورین کیوں کررہی ہے ایسا؟‘‘ خاور حیات کے لہجے میں جھلکتی بدگمانی کے رنگوں کو محسوس کرکے باسل پریشان ہو اٹھا۔
’’ڈیڈ مام نے آپ کو بتایا تو تھا کہ وہ اپنی کسی فرینڈ کے گھر چلی گئی تھیں۔‘‘
’’اوہ کم آن باسل میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ حورین کی کوئی بھی فرینڈ نہیں ہے اور میرے پوچھنے پر وہ اپنی دوست کا نام بھی مجھے نہیں بتاسکی تھی۔‘‘ باسل نے چند ثانیے خاور حیات کو دیکھا پھر افسردگی سے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’ڈیڈ آپ مام سے بدگمان ہورہے ہیں؟‘‘ باسل کی بات پر خاور چونک کر اسے دیکھنے لگا تھوڑی دیر دونوں کے درمیان گہری خاموشی چھائی رہی دونوں اپنی اپنی جگہ نجانے کن سوچوں میں مستغرق تھے پھر اس خاموشی کو خاور کی آواز نے ہی توڑا۔
’’میں بدگمان نہیں ہورہا باسل مگر حورین کا اس طرح یوں ہمیں بتائے بغیر گھر سے گھنٹوں کے لیے غائب ہوجانا پریشان کن بات تو ہے ناں۔‘‘ باسل نے خاور کا بازو تھاما پھر سہولت سے صوفے پر بٹھاتے ہوئے خود بھی اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے رسانیت سے گویا ہوا۔
’’آپ کی بات بالکل درست ہے ڈیڈ مام کا یہ ایٹی ٹیوڈ میرے لیے بھی کافی فکر انگیز ہے مگر اس طرح مام سے بدگمان ہونا ٹھیک نہیں۔‘‘
’’میں بدگمان نہیں ہونا چاہتا بیٹا… مگر حورین مجھے ایسا موقع کیوں دے رہی ہے؟‘‘ خاور کا آخری جملہ بے بسی و لاچاری سے بھرپور تھا وہ حورین سے ٹوٹ کر محبت کرتا تھا‘ حورین اس کی زندگی کی سب سے قیمتی اور انمول متاع تھی‘ وہ اسے کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا مگر کچھ عرصے سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ خاور کے لیے ناقابل فہم اور کافی حد تک ناقابل برداشت بھی تھا۔
’’اچھا ڈیڈ آپ ایسا کریں یہ معاملہ مجھے ہینڈل کرنے دیجیے آپ مام سے کچھ نہیں پوچھیے گا بلکہ یہ شو کیجیے گا کہ ان کی غیر موجودگی کا آپ نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا میں خود مام سے اپنے طریقے سے جاننے کی کوشش کروں گا کہ وہ اس طرح کسی کو بغیر بتائے کہاں جاتی ہیں، اوکے۔‘‘ وہ بردباری سے بولا تو خاور نے چند ثانیے کے لیے کچھ سوچا پھر اثبات میں سر ہلا کہنے لگا۔
’’اوکے، باسل مگر پلیز یہ معاملہ جلدی حل کرلینا میں اب ایری ٹیٹ ہونے لگا ہوں۔‘‘ جواباً باسل نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا۔
…}ژ ٭ژ …{
جیکولین کا بی پی اب کافی حد تک کنٹرول میں آگیا تھا ابرام اسے اسپتال سے ڈسچارج کرا کر گھر لے آیا تھا آج صبح جیسکا کی آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں ابرام وہاں سے شرکت کرکے سیدھا گھر آگیا تھا اس نے فی الحال جیکولین کی کنڈیشن کے زیر اثر جیسکا کی ڈیتھ کی بابت کچھ نہیں بتایا تھا وہ اس وقت اپنے ہاتھوں سے اسے سوپ پلاتے ہوئے اِدھر اُدھر کی باتوں سے اس کا دل بہلانے کی کوشش کررہا تھا مگر جیکولین چپ چاپ اور گم صم سی تھی جب ہی ابرام کی بات کاٹ کر وہ بڑے عجیب سے لہجے میں بولی۔
’’جانتے ہو ابرام کبھی کبھار ہماری زندگیوں میں کچھ ایسے کمزور لمحے آجاتے ہیں جن کے زیر اثر ہم اپنی زندگی میں کبھی ناختم ہونے والا عذاب اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں کمزور لمحوں کی گرفت میں آکر ہمارا کیا گیا فیصلہ اور عمل ہمارا پیچھا قبر تک کرتا ہے ابرام۔‘‘ جیکولین اس لمحے بے حد شکستہ حال لگ رہی تھی ابرام نے پریشان کن نگاہوں سے اسے دیکھا پھر محبت بھرے لہجے میں بولا۔
’’مام پلیز آپ اس وقت ایسی باتیں مت سوچیے یہ آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں۔‘‘
’’مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں بیٹا بہت خاص اور اہم باتیں۔‘‘ وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تو ابرام اس کی بیک پر کشن رکھتے ہوئے بولا۔
’’ہم باتیں بعد میں بھی کرلیں گے مام مگر پہلے آپ تھوڑا ریسٹ…‘‘ جب ہی جیکولین نے بے حد تڑپ کر اس کا بازو پکڑ کر اس کے جملے کو مکمل ہونے سے پہلے ہی کہا۔
’’نہیں ابرام مجھے ابھی اور اسی وقت تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں۔‘‘ پھر وہ اپنے بیڈ پر ہی اس کے لیے جگہ بناتے ہوئے اسے اپنے قریب بٹھاتے ہوئے پیار سے بولی۔
’’جانتے ہو ابرام جس دن میں نے تمہیں پہلی مرتبہ اپنی آغوش میں لیا تھا وہ دن میری زندگی کا سب سے خوب صورت دن تھا میں بے پناہ خوش تھی خوشی سے میرا دل جھوم رہا تھا۔‘‘ وہ بڑی محبت سے ابرام کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے سنوار رہی تھی جبکہ ابرام دل ہی دل میں جیکولین کے اس قدر شفقت آمیز روپ کو دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ مسرور بھی ہورہا تھا۔
’’تمہارے وجود نے جیسے مجھے مکمل کردیا تھا اب مجھے زندگی سے کچھ اور چاہیے بھی نہیں تھا مگر تمہارا باپ نجانے اسے کیوں تمہارا آنا پسند نہیں آیا تھا۔‘‘ ابرام نے آج تک جیکولین کے منہ سے اپنے باپ کے بارے میں کچھ نہیں سنا تھا جب اس نے ہوش سنبھالا تھا تو جیکولین نے انتہائی سپاٹ لہجے میں اس کو بتایا تھا کہ اس کا باپ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں مر چکا ہے اس کے بعد کئی بار ابرام نے اپنے باپ کے متعلق استفسار کرنا چاہا مگر جیکولین نے ہر بار سختی سے فقط اتنا ہی کہا۔
’’میں نے تم کو بتایا ناں کہ تمہارے ڈیڈ کی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں موت ہوگئی تھی جب تم چھ ماہ کے تھے اس سے زیادہ اور کیا بتائوں میں تمہیں اور اب تم مجھ سے یہ سوال دوبارہ مت پوچھنا اوکے۔‘‘ ابرام کو وہ تنبیہ آج بھی یاد تھی اس نے اس دن کے بعد سے پھر کبھی جیکولین سے اپنے باپ کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔
’’تمہارا باپ میرا پہلا پیار تھا اور شاید آخری بھی مگر وہ اتنی جلدی بدل جائے گا یہ تو میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔‘‘ جیکولین کے جملوں پر وہ بے ساختہ چونکا جو اب مزید کہہ رہی تھی اور اس پل وہ جیسے اسی وقت اور دور میں چلی گئی تھی۔
’’میں اپنے کالج کے ٹرپ کے ساتھ مختلف ممالک کی سیاحت کے لیے گئی تھی اس وقت میری عمر صرف اٹھارہ برس تھی میری فرینڈز مجھے اکثر ٹوکتی تھیں کہ لینا تم اتنا مت ہنسا کرو ورنہ بعد میں تمہیں رونا بھی پڑے گا میں ہمیشہ ان کی بات ہنس کر اڑا دیتی تھی مجھے کیا پتا تھا وہ سب سچ کہتی تھیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے جیکولین کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے ابرام تو جیسے تڑپ کر رہ گیا۔
’’مام پلیز خود کو سنبھالیے۔‘‘ مگر جیکولین نے جیسے ابرام کی بات کو سنا ہی نہیں تھا۔
’’ایک بالکل اجنبی ملک میں میری ملاقات تمہارے باپ سے ہوئی وہ شخص جو نہ میرے ملک کا تھا نہ میرے کلچر کا اور نہ میرے مذہب کا وہ شخص مجھے ہر رشتے سے پیارا ہوگیا میں اس کی خاطر سب کچھ چھوڑنے کو تیار ہوگئی مگر میں اپنا مذہب ترک کرنے کو آمادہ نہیں تھی اور اس نے مجھے ایسا کرنے پر فورس بھی نہیں کیا۔‘‘ ابرام بے حد حیرت زدہ سا انکشافات کی زد میں بیٹھا جیکولین کو دیکھتا رہا۔
’’پھر وہ اپنا ملک چھوڑ کر لندن میرے پیچھے چلا آیا اور پھر ہم نے شادی کرلی۔‘‘
’’وہ کس ملک سے آیا تھا مام۔‘‘ ابرام نے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا تو جیکولین ایک ہنکارہ بھر کر بولی۔
’’مصر سے… وہ مصر کا رہنے والا تھا۔‘‘
’’واٹ…؟‘‘ ابرام نے اہرام مصر کے حوالے سے مصر کے بارے میں کافی کچھ پڑھا تھا۔
’’اور… اور ان کا مذہب کیا تھا؟‘‘ وہ اٹک اٹک کر بولا اس لمحے اسے لگا جیسے ایک بہت بڑے انکشاف کا پہاڑ اس کے سر پر ٹوٹنے والا ہے۔
’’وہ مسلمان تھا۔‘‘ ابرام نے منہ کھولے بے حد ششدر ہوکر جیکولین کو دیکھا۔
…}ژ ٭ژ …{
لالہ رخ نے زرتاشہ اور امی کو وہی کچھ بتا کر کچھ مطمئن کردیا تھا جو فراز نے اسے بتایا تھا کہ وہ سکون آور دوائوں کے زیر اثر غنودگی میں ہے اور فی الحال اسے آرام کی ضرورت ہے مگر مہرو کی کنڈیشن کو دیکھ کر وہ خود حواس باختہ تھی جبکہ فراز اسے مسلسل تسلیاں دے کر اس کی ہمت اور حوصلہ بڑھا رہا تھا۔
’’فراز مہرو ٹھیک تو ہوجائے گی ناں اسے آخر ہوش کیوں نہیں آرہا فراز ڈاکٹرز تو کہہ رہے ہیں کہ اگر اسے ہوش نہیں آیا تو وہ…‘‘ اتنا کہہ کر وہ خود ہی خاموش ہوگئی اور بے آواز رونے لگی۔
’’اوہ… لالہ رخ تم اللہ کی ذات سے کیوں مایوس ہونے لگتی ہو، مایوسی کفر ہے لالہ مجھے اللہ کی ذات پر پورا بھروسا ہے وہ یقینا مہرو کو بالکل ٹھیک کردے گا۔‘‘ فراز رسانیت سے اسے سمجھاتے ہوئے بولا تو لالہ رخ اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں بولی۔
’’اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ پھر معاً اسے کچھ یاد آیا تو وہ فراز کو دیکھ کر استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’آپ کو کیسے پتا چلا کہ مہرو یہاں اسلام آباد کے اسپتال میں ہے کیا انسپکٹر صاحب نے اطلاع دی تھی۔‘‘ اس وقت تو وہ یہ سب کچھ پوچھ نہیں سکی تھی مگر جیسے ہی دماغ نے تھوڑا کام کرنا شروع کیا یہ خیال فوراً سے پیشتر اس کے ذہن میں در آیا تھا۔
’’نہیں انسپکٹر صاحب سے معلوم نہیں ہوا تھا ان فیکٹ لالہ میں نے تمہیں بتایا نہیں تھا کہ میرا بھائی بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہے کامیش شاہ۔‘‘ اس وقت فراز کے ہمراہ اسپتال کے وزیٹنگ روم میں بیٹھی تھی یہ سب سن کر اسے حیرت سی ہوئی۔
’’اچھا آپ کا بھائی پولیس میں ہے چلو اللہ کا بہت شکر ہوا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں وہ ہمارے کام آگئے۔‘‘ لالہ رخ اپنی حیرت پر قابو پاکر خوش گوار انداز میں بولی پھر کچھ سوچ کر مزید گویا ہوئی۔
’’فراز کیا آپ کے بھائی اس سلسلے میں ہماری کچھ مدد کرسکتے ہیں میرا مطلب ہے مہرو اور بٹو کے ساتھ جو یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا ہے وہ بٹو کے قاتل اور مہرو کو اس حالت تک پہنچانے کے ذمہ داروں کو پکڑ سکتے ہیں۔‘‘ فراز نے ایک نگاہ اس پر ڈالی‘ مسلسل رتجگوں اور پریشانیوں کی بدولت اس کا چہرہ اس پل بالکل زرد پڑ گیا تھا جبکہ آنکھوں کے گرد گہرے حلقے بھی بے حد واضح تھے۔
’’آف کورس لالہ کامیش ضرو ہماری مدد کرے گا بلکہ ان شاء اللہ جب مہرو ہوش میں آئے گی تو وہ مجرموں کی نشاندہی ہی بھی کردے گی اس طرح کام اور آسان ہوجائے گا۔‘‘
’’اللہ کرے ایسا ہی ہو بس مہرو کو جلد سے جلد ہوش آجائے۔‘‘ فراز کی بات پر لالہ رخ دل کی گہرائیوں سے بولی تھی۔
…}ژ ٭ژ …{
حورین شام کو کچن میں موجود رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی جب ہی وہاں باسل آن پہنچا لائٹ پرپل اور آف وائٹ امتزاج کے سادے سے کاٹن کے سوٹ میں سبزیاں کاٹنے میں مگن حورین نے جونہی باسل کو وہاں آتا دیکھا تو خوش گواری سے مسکرا دی باسل نے بھی جواباً دھیمی سی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا اور پھر اچک کر کچن کائونٹر پر بیٹھتے ہوئے استفہامیہ لہجے میں بولا۔
’’مام آج کیا پکایا جارہا ہے۔‘‘ کل حورین کے گھر سے غائب ہونے کی بات کو لے کر خاور حیات اندر ہی اندر بہت اپ سیٹ تھا اور کافی برہم بھی‘ باسل یہ سب محسوس کرکے اس پراسراریت کو جلد سے جلد ختم کردینا چاہتا تھا مگر خاور کے مطابق حورین بہت ہی بچکانہ سے جواز بتاتی ہے جب اس سے یوں اچانک گھر میں ندارد پاکر پوچھا جاتا ہے اور وہ بھی یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ مام کی کوئی فرینڈ اول تو ہے ہی نہیں اور اگر کوئی ہوگی بھی تو یقینا ڈیڈ اور وہ خود اسے ضرور جانتے ہوں گے حورین نے تو خاور اور باسل کی ذات سے ہٹ کر اپنی دنیا کبھی بنانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔
’’سنگاپورین رائس اور پاسیٹا پکانے کی تیاری ہے بیٹا آپ بتائو اگر کچھ اور کھانے کا موڈ ہے تو وہ بھی پکا دوں۔‘‘ حورین ہنوز خوش گواری سے بولی تو باسکٹ سے گاجر کا پیس لے کر اسے کترتے ہوئے باسل نفی میں سر ہلا کر گویا ہوا۔
’’نو مام یہ دونوں تو میری فیورٹ ڈشنز ہیں مگر آپ کیوں اتنی محنت کررہی ہیں خانساماں پکا لیتا ناں ڈنر۔‘‘
’’اچھا آپ ان باتوں کو چھوڑو مجھے آپ کو یہ بتانا ہے کہ دن میں میری عنایہ سے بات ہوئی تھی کل آپ ہمارے ساتھ انگیج منٹ کا ڈریس لینے مارکیٹ چل رہے ہیں اوکے۔‘‘ حورین نے اسے پژمردہ سنایا تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا جب ہی وہ اچانک بولا۔
’’مام کل دن میں آپ کہاں گئی تھیں؟‘‘ باسل نے واضح طور پر اس لمحے محسوس کیا تھا کہ حورین کے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھ یک دم رک گئے تھے جبکہ چہرہ کا رنگ بھی پل بھر کے لیے بدلا تھا وہ چند ثانیے خاموش رہی پھر اپنے لہجے کو سرسری بنا کر فریج کی جانب پلٹتے ہوئے بولی۔
’’کل کس وقت میں تو سارا دن گھر پر ہی تھی۔‘‘ حورین کے منہ سے یہ جملہ سن کر باسل کو شاک لگا آخر کیوں اس کی ماں اس وقت اس سے جھوٹ بول رہی تھی جس نے آج تک کبھی غلط بیانی نہیں کی تھی باسل نے حورین کو الجھ کر دیکھا جو فریج سے جوس کا ڈبہ نکال کر اب اس کی جانب ہی آرہی تھی باسل نے چند ثانیے کچھ سوچا پھر ٹھوس لہجے میں گویا ہوا۔
’’مام میں کل تین بجے کی بات کررہا ہوں میں اکیڈمی سے جلدی آگیا تھا آپ کو گھر میں ڈھونڈا مگر آپ مجھے نہیں ملیں پھر ملازم نے بتایا کہ آپ غالبا ڈھائی بجے گھر سے نکلی تھیں۔‘‘ باسل نے کل خاور کو سمجھا بجھا کر کافی شاپ لے آیا تھا تاکہ حورین کو لگے کہ اس کے گھر میں نہ ہونے کی خبر خاور اور باسل کو نہیں ہوئی۔
’’تم کل گھر پر تھے مگر تمہاری گاڑی تو باہر نہیں تھی۔‘‘ حورین الجھ کر بولی تو باسل نارمل لہجے میں گویا ہوا۔
’’میں دوبارہ کسی کام سے باہر چلا گیا تھا مام۔‘‘
’’اوہ اچھا۔‘‘ وہ تھوڑا گڑبڑا کر بولی پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئی۔
’’وہ میں قریبی مال چلی گئی تھی بس ایسے ہی اکیلے میں دل گھبرا رہا تھا تو سوچا باہر کا ایک چکر ہی لگا آئوں۔‘‘ حورین سے جب بھی اس کے گھر سے غائب ہوجانے کی بابت پوچھا جاتا وہ اکثر ایسے ہی جواب دیتی تھی جبکہ کہ خاور حیات اور باسل یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ اسے شاپنگ مالز میں یونہی وقت گزاری کے لیے گھومنا پھرنا بالکل پسند نہیں بلکہ کچھ خریدنے کے لیے بھی وہ طوعاً و کرہاً ہی جاتی تھی اور اکیلے یوں جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کل پانچویں مرتبہ ایسا ہوا تھا جب وہ یوں گھر سے ندارد پائی گئی تھی۔
’’باسل کیا خیال ہے رات کے ڈنر میں عنایہ کو بھی نہ بلا لیں۔‘‘ حورین نارمل انداز میں بولی مگر باسل اس پل عجیب و غریب کیفیت میں گھرا حورین کی باتوں سے بے پناہ ڈسٹرب ہوگیا تھا۔
…}ژ ٭ژ …{
اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا وہ جتنا اس بارے میں سوچ رہا تھا اسے اپنے دماغ کی رگیں خطرناک حد تک کھینچتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں وہ ہرگز سوچنا نہیں چاہتا تھا مگر ایسا اس کے اختیار میں بھلا کہاں تھا تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز اور نوکیلی سوچیں اس کے دل و دماغ کو شل کیے دے رہی تھیں۔
’’ابرام مجھے ایک سچائی تمہیں اور بھی بتانی ہے۔‘‘ جیکولین کی نحیف سی آواز دوبارہ اس پل اس کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ بے ساختہ اپنے بیڈ سے اٹھ بیٹھا اور اپنے پھوڑے کی مانند دکھتے سر کو دونوں ہاتھوں میں لے کر منہ ہی منہ میں بڑبرایا۔
’’بس مام اب مجھ میں مزید کچھ اور سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘‘ جیکولین کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بازگشت اسے کسی بھی پل چین نہیں لینے دے رہی تھی۔
’’اب کوئی مزید انکشاف بھی باقی ہے مام۔‘‘ وہ جیکولین سے انتہائی گم صم لہجے میں مخاطب ہوا‘ جب ہی اس کے چہرے پر ایک تلخ سی مسکراہٹ در آئی تھی۔
’’ہاں ابرام مگر تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا۔‘‘ جیکولین کی بات پر وہ ناسمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا پھر جیکولین سے وعدہ کرکے وہ یہ حقیقت بھی چپ چاپ بیٹھا سنتا رہا جیکولین جب تھک کر خاموش ہوگئی تو وہ تلخی سے بولا۔
’’مام اگر آپ کے علاوہ مجھے کوئی یہ ساری باتیں حلف اٹھا کر بھی بتاتا ناں تو میں پھر بھی ان پر یقین نہیں کرتا۔‘‘ جیکولین بھی عجیب سے انداز میں مسکرائی تھی ابرام وہ تمام باتیں ایک بار پھر سوچ کر بے حد غمگین لہجے میں بولا۔
’’مام یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا ہم سب بکھر گئے مام یہ سب اچھا نہیں ہوا۔‘‘ ابرام کی آنکھوں میں اس لمحے بے ساختہ نمی در آئی اور دوسرے ہی لمحے وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھٹ کر رونے لگا۔
…}ژ ٭ژ …{
فراز نے کامیش کو تمام سچویشن بتا کر اسے اس کیس میں مدد کرنے کی درخواست کی‘ جب ہی کامش نے کہا۔
’’فراز ویسے تو یہ کیس مری تھانے کی حدود میں آتا ہے مگر میں خود اس کیس کو پوری باریک بینی سے دیکھوں گا البتہ اس لڑکی کی گواہی بہت اہمیت رکھتی ہے کیا ہوا اسے ہوش آیا؟‘‘ کامیش اپنی تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ فراز سے سیل فون پر بات بھی کررہا تھا۔
’’نہیں یار ابھی تک اسے ہوش نہیں آیا اس کی بہن بہت پریشان ہے۔‘‘ اس لمحے فراز کے لہجے سے بھی پریشانی واضح تھی کامیش ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا پھر تسلی آمیز لہجے میں بولا۔
’’تم پریشان مت ہو فراز‘ اﷲ نے چاہا تو اس لڑکی کو ہوش آجائے گا اوکے اپنا خیال رکھنا۔‘‘ پھر سلسلہ منقطع کرتے باہر جانے کی غرض سے اپنے کمرے سے نکل کر سیٹنگ روم میں آیا تو سونیا خان اس کے سامنے آگئی۔
’’آپ غالباً کہیں باہر جارہے ہیں۔‘‘ پہناوے اور نشست و برخاست کے انداز کے ساتھ ساتھ اس کا لب و لہجہ بھی بہت بدل گیا تھا اب وہ بڑی نرمی اور شائستگی سے کامیش سے مخاطب ہوتی تھی کامیش نے لحظہ بھر کو اسے دیکھا موسم کی مناسبت سے اس نے پیلے اور میرون کنٹراسٹ کا اسٹائلش سوٹ زیب تن کر رکھا تھا جبکہ دوپٹا بھی بڑے سلیقے سے دائیں کندھے پر لیا ہوا تھا۔
’’ہوں، ایک ضروری کام سے باہر جارہا ہوں۔‘‘ کامیش اس لمحے بلیک جینز کے ساتھ آف وائٹ ٹی شرٹ میں اپنے دراز قد سمیت بے حد ڈیشنگ لگ رہا تھا سونیا نے اسے ایک پل کے لیے دیکھا پھر نگاہیں جھکا کر وہ ہنوز لہجے میں بولی۔
’’وہ ایکچوئیلی کامیش میں آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہ رہی تھی۔‘‘ کامیش اور سونیا کے درمیان فاصلہ اس لمحے کافی کم تھا سونیا اس کی قربت سے مسرور سی ہورہی تھی مگر کامیش کا انداز بالکل نارمل تھا۔
’’جلدی بولو سونیا مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ کامیش ہمیشہ کی طرح اسی ٹون میں بولا تو سونیا نے موقع غنیمت جانا لہٰذا فوراً کہنے لگی۔
’’کامیش میں… میں واپس اپنے گھر آگئی ہوں آپ کی زندگی میں دوبارہ آگئی ہوں‘ بس مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آپ نے مجھے قبول کرلیا ہے ناں میں کب تک گیسٹ روم میں رہوں گی اگر آپ کہیں تو میں اپنے کمرے میں…‘‘
’’سونیا آئی تھنک ہمارے درمیان کافی کچھ ہوگیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ اب ہم دوبارہ ایک نئے سرے سے زندگی شروع کرسکتے ہیں۔‘‘ کامیش سونیا کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی درمیان میں اسے قطع کرتے ہوئے بولا تو سونیا ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو مزید کہہ رہا تھا۔
’’ہمارے ریلیشن شپ میں اب اس بات کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی کہ ہم ایک ساتھ چل سکیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہمیں اپنے راستے جلد الگ کرلینے چاہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ہوا کے جھونکے کی مانند تیزی سے وہاں سے نکل گیا جبکہ سونیا وہیں ہکابکا سی کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔
…}ژ ٭ژ …{
داور حبیب کے آدمیوں نے اس تک یہ اطلاع پہنچا دی تھی کہ مہرو پولیس کے ہتھے چڑھ گئی ہے مگر فی الحال ابھی بے ہوش ہے اس کی زندگی کے بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا مگر یہ یقین تھا کہ اگر ہوش میں آنے کے بعد مہرو نے اپنا منہ کھولا تو پولیس داور کو ایک لمحہ میں اریسٹ کرلے گی۔
’’وہ سالی ابھی تک زندہ ہے میری جان سولی پر لٹکا دی ہے۔‘‘ داور انتہائی طیش کے عالم میں اِدھر سے اُدھر چکر لگاتے ہوئے بے پناہ غصے سے بولا تو جہانگیر نے اسے خائف نگاہوں سے دیکھا۔
’’تو فوراً اس ملک سے بھاگنے کی تیاری کر اگر اس لڑکی نے ہوش میں آتے ہی تیرا نام لے لیا ناں تو جان لے کہ پھر تو لمبا جیل میں گیا۔‘‘ جہانگیر کی بات پر وہ پل بھر اپنی جگہ پر ٹھہرا پھر ہنوز لہجے میں گویا ہوا۔
’’کیا میں ساری زندگی ایسے ہی بھاگتا رہوں گا وہ سالی اونچائی سے گر کر بھی بچ کیسے گئی اگر میرے ہاتھ آجاتی تو وہیں گلا گھونٹ کر اسے مار دیتا۔‘‘ داور تو یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا تھا کہ مہرو اب تک کہیں مر کھپ گئی ہوگی پولیس کو وہ اگر ملی بھی تو لاش کی صورت میں ملے گی مگر مہرو کے زندہ ہونے کی خبر نے اسے بے پناہ پریشان کردیا تھا وہ بہت سی پلاننگ کیے بیٹھا تھا اس وقت وہ یوں بھاگ کر ملک نہیں چھوڑنا چاہتا تھا مگر اب حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہوگئے تھے وہ کچھ سوچ کر بے حد سفاکی سے بولا۔
’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اسپتال کے کسی بندے کو بھیج کر اس چھوکری کی ٹوٹی پھوٹی سانسیں ہی بند کردیں۔‘‘ جہانگیر اس بات پر گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’یار ایسی حماقت نہ کرنا وہاں پولیس کے دو سپاہی ہر وقت پہرہ دے رہے ہیں۔‘‘ داور یہ سن کر انتہائی بدمزہ ہوکر ایک بار پھر اپنے آدمیوں کو گالیاں دینے لگا جو مہرو کو ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہرے تھے۔
…}ژ ٭ژ …{
مہرو کی کنڈیشن میں معمولی سی بہتری آئی تھی مگر فی الحال اسے ہوش نہیں آیا تھا، لالہ رخ دیکھ رہی تھی کہ فراز رات دن کا فرق بھلائے ہمہ وقت اس کے ہمراہ تھا اسے بار بار ماریہ کا بھی خیال آرہا تھا جو اب اس کی ذمہ داری تھی لندن سے آنے کے بعد وہ تو فوراً ہی یہاں آگیا تھا اسپتال کے احاطے میں بنی کینٹین میں چائے پیتے ہوئے لالہ رخ سہولت سے گویا ہوئی۔
’’فراز میرا خیال ہے کہ آپ کو اب کراچی جانا چاہیے آپ کے کام کا بھی حرج ہوگا اور پھر وہاں ماریہ بھی تو بالکل اکیلی ہے یہ شہر یہ دیس اس کے لیے تو بالکل انجان ہے نجانے وہ وہاں کیسے تنہا رہ رہی ہوگی۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر فراز کے تصور میں بے ساختہ ماریہ ایڈم در آئی لندن سے یہاں آتے ہوئے وہ کتنی شکستہ اور مضمحل تھی لالہ رخ صحیح کہہ رہی تھی واقعی ماریہ تو یہاں کسی کو بھی نہیں جانتی تھی تنہا اپارٹمنٹ میں وہ کہیں گھبرا نہ رہی ہو یہ خیال ذہن میں در آتے ہی اس نے فوراً اس کا نمبر ملایا۔ آتے وقت وہ ایک فون سیٹ معہ سم اسے دے آیا تھا اور اس میں اپنا نمبر بھی سیو کردیا تھا مگر ماریہ نے ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں کیا تھا بیل جارہی تھی مگر وہ اٹھا نہیں رہی تھی شاید باتھ روم میں ہو۔ فراز نے از خود ہی اندازہ لگایا پھر سیل ٹیبل پر رکھ کر گویا ہوا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو، لالہ رخ ماریہ صرف میرے بھروسے پر اپنے گھر اور ملک کو چھوڑ کر آئی ہے اور میرا حال بھی دیکھو مجھے اسے فون کرنے کا خیال بھی نہیں آیا۔‘‘ وہ اپنی غلطی تسلیم کررہا تھا ماریہ نے ابھی نیت باندھی ہی تھی کہ اس کا سیل فون بجنے لگا تھا اس نے نماز پڑھتے ہی جلدی سے لپک کر اپنا سیل فون دیکھا تو فراز کی مسڈ کال دیکھ کر وہ ٹھندی سی پڑ گئی۔
’’اوہ تو آپ کو میرا خیال آہی گیا۔‘‘ ابھی وہ مزید کچھ اور سوچتی کہ اسی دم اس کا فون ایک بار پھر بج اٹھا ماریہ نے دھڑکتے دل سے کال پک کی۔
’’ہیلو ماریہ میں فراز بول رہا ہوں۔‘‘ وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا تو ماریہ خاموش سی رہ گئی نجانے اس لمحے کیوں دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا تھا فراز کی آواز سن کر اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے فراز کی آواز کو وہ کئی دنوں سے بہت شدت کے ساتھ مس کررہی ہو۔
’’ہیلو ماریہ آر یو دیئر؟‘‘ ایک بار پھر فراز کی آواز کانوں سے ٹکرائی تو ماریہ جلدی سے بولی۔
’’جی فراز میں سن رہی ہوں… کیسے ہیں آپ؟‘‘ ماریہ نے بالکل رسمی سا انداز اپنایا‘ جب ہی فراز ندامت بھرے لہجے میں گویا ہوا۔
’’ماریہ آئی ایم سو سوری میں کچھ مصروفیت میں گھر کر تمہیں کال نہیں کرسکا تم بتائو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے تم ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں اور چیزیں تو آپ ساری دے کر گئے تھے کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑی۔‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے بولی مگر نجانے کیوں فراز کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا جب ہی وہ کچھ دیر بعد گویا ہوا۔
’’تم اپنے گھر والوں کو مس کررہی ہوگی ناں؟‘‘ گھر والوں کے نام پر ماریہ کی آنکھیں بے ساختہ بھر آئیں اس نے بمشکل خود کو رونے سے باز رکھا۔ یہ سچ تھا کہ ابرام اور جیکولین اسے بے تحاشا یاد آرہے تھے اس کا دل چاہا کہ وہ اڑ کر ان دونوں کے پاس پہنچ جائے مگر اب ایسا ممکن نہیں تھا وہ گلوگیر لہجے میں بولی۔
’’ہوں بہت یاد آرہے ہیں۔‘‘ فراز دور ہوکر بھی اس کے جذبات اور احساسات کو محسوس کرسکتا تھا۔ جب ہی اپنے لہجے کو ہلکا پھلکا بنا کر بولا۔
’’اچھا چھوڑو یہ بتائو کیسا لگا تمہیں پاکستان؟‘‘
’’اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے تو اچھا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ وہ بے ساختہ بولی تو فراز ایک دم ہنس دیا پھر خوش گوار لہجے میں بولا۔
’’ڈونٹ وری میں ان شاء اللہ جلد ہی کراچی آئوں گا تو تمہیں اپنے شہر کی سیر کرائوں گا اوکے۔‘‘ پھر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے کال بند کی اور لالہ رخ کی جانب بڑھ گیا جو اسپتال کے استقبالیہ پر اسی کی منتظر تھی۔
…}ژ ٭ژ …{
خاور نے ساحرہ کے سامنے بات کرنے سے پہلے سمیر شاہ کو اکیلے میں سونیا کی حقیقت بتانے کا فیصلہ کیا سو وہ باسل کو سمیر کے آفس لے آیا تھا سمیر کو یوں اچانک باسل اور خاور حیات کو اپنے آفس میں دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی تھی۔
’’ارے واہ بھئی آج تو بڑے خاص لوگ ہمارے آفس کو رونق بخشنے چلے آئے ہیں بیٹھو۔‘‘ سمیر انہیں صوفوں کی جانب لے آیا پھر کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد خاور سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’سمیر دراصل ہم یہاں تمہیں ایک بہت ضروری بات بتانے کے لیے آئے ہیں۔‘‘ خاور کی بات پر سمیر شاہ نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہاں بولو خاور میں سن رہا ہوں۔‘‘ خاور نے اس لمحے خاموش بیٹھے باسل کی جانب دیکھا تو باسل ایک گہری سانس لے کر نرمی سے بولا۔
’’انکل ایکچوئیلی میں آپ لوگوں کو کچھ بتانا چاہتا ہوں ایم سوری شاید مجھے یہ بات آپ لوگوں کو پہلے بتا دینی چاہیے تھی مگر…‘‘ بات ادھوری چھوڑ کر سمیر اور خاور کے تاثرات دیکھے‘ جب کہ سمیر اس کی بات و انداز پر کھٹکا جب ہی فوراً بولا۔
’’بیٹا مجھے پلیز کھل کر بتائو کہ آخر بات کیا ہے۔‘‘ سونیا کا ذکر کرتے ہوئے باسل تھوڑا ہچکچا رہا تھا کچھ بھی تھا وہ ان کی بیٹے کی بیوی تھی اور جو باتیں سونیا نے کامیش اور فراز کے متعلق کی تھیں انہیں سمیر انکل کے سامنے دہراتے ہوئے وہ جھجک محسوس کررہا تھا۔
’’بات دراصل یہ ہے کہ جس دن کامیش بھائی کی شادی تھی اس رات…‘‘ ساری بات انتہائی سنجیدگی سے سمیر شاہ کے آگے بیان کرکے باسل حیات خاموش ہوگیا‘ کمرے میں اس پل گہری خاموشی چھا گئی جب ہی تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تو سمیر شاہ اپنے دھیان سے چونکے پھر ’’یس‘‘ کی آواز پر پیون چائے کے ساتھ دیگر لوازمات کی ٹرے اندر لے آیا اور میز پر رکھ کر خاموشی سے واپس چلا گیا اس کے کمرے سے باہر جانے کے بعد سمیر شاہ تھکے تھکے لہجے میں گویا ہوئے۔
’’خاور مجھے اور فراز کو یہی خدشات تھے ہم سونیا کی ضدی فطرت کو بخوبی جانتے تھے فراز کا شادی سے انکار سننے کے بعد اچانک کامیش سے شادی کے لیے رضا مند ہوجانا یہ سب بہت تعجب آمیز تھا۔‘‘
’’انکل میں کامیش بھائی کو بھی یہ تمام بات بتائوں گا تاکہ وہ فراز بھائی کی بے گناہی پر یقین کرلیں اور انہیں معاف کردیں۔‘‘ باسل سہولت سے بولا تو سمیر کچھ سوچتے ہوئے ہنکارہ بھر کر گویا ہوئے۔
’’مجھے اس بات کا تو یقین ہے کہ کامیش یہ تمام سچائی جان کر فراز کی جانب سے اپنا دل صاف کرلے گا مگر ساحرہ…‘‘ ساحرہ کا نام زبان سے ادا کرتے ہی ان کے لہجے میں بے پناہ تلخی اور کڑواہٹ در آئی تھی۔
’’نجانے وہ کیسی ماں ہے جو تمہاری بات سننے کے باوجود بھی سونیا کو ہی بے قصور اور معصوم ٹھہرائے گی اسے لگے گا جیسے فراز نے تمہیں ایسا کرنے کا کہا ہے تاکہ وہ اپنی پوزیشن کلیئر کرسکے۔‘‘ سمیر کی بات پر باسل اور خاور نے حیران کن نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’مگر کیوں سمیر…؟ ساحرہ بھابی تو فراز کی ماں ہیں انہیں فراز پر یقین کرنا چاہیے اور وہ بھلا باسل سے کیوں جھوٹ بلوائے گا انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے۔‘‘ خاور حیات یہ بات تو سمیر کی شادی کے اولین دنوں سے جانتا تھا کہ ساحرہ سمیر کے لیے ایک اچھی بیوی ثابت نہیں ہوئی مگر وہ اپنی اولاد کے لیے ایسی سخت دل ماں بھی ہوسکتی ہے یہ اندازہ اسے آج ہوا تھا۔
’’اسے اس پوری دنیا میں صرف اپنی بھتیجی ہی معصوم اور بے گناہ دکھائی دیتی ہے۔‘‘
’’مگر انکل یہ تو فراز بھائی کے ساتھ بہت زیادتی ہے کچھ بھی ہو ساحرہ آنٹی میری بات پر یقین کریں یا نہ کریں مگر میں یہ حقیقت کامیش بھائی اور آنٹی کے سامنے ضرور بیان کروں گا۔‘‘ باسل سمیر کی بات پر انتہائی خود اعتماد لہجے اور فیصلہ کن انداز میں بولا تو خاور نے بھی اس کی تائید کی۔
’’باسل بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے سمیر کچھ بھی ہو مگر یہ سچائی تو ضرور ساحرہ بھابی کے سامنے آنی چاہیے۔‘‘
’’ٹھیک ہے خاور۔‘‘ پھر اپنے سیل فون سے وہ کامیش کو کال ملانے لگے۔
…}ژ ٭ژ …{
حورین اپنے آپ کو سنبھالنے کی بہت کوشش کررہی تھی مگر بے چینی و اضطرابی کی امڈتی لہریں رفتہ رفتہ زور پکڑتی جارہی تھیں اس نے اپنا دل بہلانے کے لیے ٹی وی آن کیا مگر دس منٹ بعد ہی چینل سرچنگ کرتے ہوئے وہ بے پناہ اکتا گئی اس نے بڑی بے زاری سے ٹی وی آف کیا اور پھر وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی بستر کی چادر کو اس نے خوامخواہ ہی ٹھیک کرنا شروع کردیا جو پہلے سے ہی ٹھیک تھی پھر وہاں سے ہٹ کر وہ یونہی کمرے میں اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگی وہ اس لمحے ہر ممکن طور پر اپنی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی مگر ہر کوشش جیسے ناکام ہوتی جارہی تھی اسے اس اضطراب و بے قراری کے سمندر میں ڈوبنے کا خدشہ ہوا تو وہ تیزی سے روم ریفریجریٹر کی طرف آئی اور اس کا دروازہ کھول کر پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگا کر غٹاغٹ پینے لگی چار پانچ گھونٹ ہی پی کر اس نے انتہائی جنونی انداز میں بوتل پوری طاقت سے سامنے دیوار پر دے ماری پھر دوسرے ہی پل وہ وحشت کے عالم میں اپنی دلکش سی ڈریسنگ ٹیبل کی جانب آئی جو قیمتی امپورٹیڈ پرفیومز‘ کاسمیٹکس اور نجانے کن کن چیزوں سے بھری ہوئی تھی اس نے انتہائی نفرت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھا اور پھر ایک ایک چیز اس کی وحشت کی نذر ہوتی چلی گئی کمرے سے آتی توڑ پھوڑ کی آوازوں پر ملازمہ رخسانہ بھاگ کر وہاں پہنچی تو حورین کی کیفیت دیکھ کر وہ سہم کر الٹے قدموں واپس پلٹی اور جلدی سے خاور حیات کو فون ملا کر گھر آنے کی تاکید کی حورین کی طبیعت کی بابت جان کر خاور ہَوا کی تیزی سے گھر پہنچا تھا۔ رخسانہ انہیں دیکھتے ہی بے حد بدحواس ہوکر بولی۔
’’صاحب میڈم کو نجانے کیا ہوگیا ہے کہیں وہ خود کو کوئی نقصان…‘‘ مگر خاور اور باسل نے رخسانہ کی بات سنی ہی نہیں باسل بھاگتے ہوئے کمرے تک پہنچا اور خاور ملازمین کو اپنا کام کرنے کی ہدایت دیتا اوپر آیا جونہی دروازہ کھولا سامنے کا منظر اس کے پیروں تلے زمین کھسکا گیا حورین بکھرے بال لیے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی جب کہ کمرے کی تمام چیزیں تہس نہس ہوچکی تھیں دوسرے ہی لمحے خاور بے پناہ بے قرار سا ہوکر آگے بڑھا۔
’’حورین…‘‘ ساتھ ہی باسل بھی تھا جب ہی حورین کی طیش میں بھری آواز کمرے میں گونجی۔
’’خبردار… خبردار جو تم دونوں میں سے کوئی بھی میرے پاس آیا ورنہ میں سب کو آگ لگا دوں گی۔‘‘ خاور اور باسل نے انتہائی تحیر کے عالم میں حورین کو دیکھا جو اس وقت بالکل اجنبی لگ رہی تھی۔
’’چلے جائو یہاں سے کیوں میرا تماشا دیکھنے چلے آتے ہو میں کوئی کٹھ پتلی ہوں یا چابی کی گڑیا جس نے چاہا چابی بھر کر نچایا۔ نہیں ہوں میں کوئی تماشہ سمجھے میں حورین ہوں حکیم صاحب کی بیٹی ابھی ابا کو بلوا کر تم لوگوں کی شکایت کرتی ہوں کہ تم لوگ مجھے بہت ستاتے ہو بہت رلاتے ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جبکہ خاور حیات ایک شاکڈ کے عالم میں کھڑا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔
’’مام… یہ… یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘ باسل روہانسا ہوکر بولا حورین کی یہ حالت اب اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھی وہ تھوڑا آگے بڑھا ہی تھا کہ حورین تیزی سے بل کھا کر چلائی۔
’’سنا نہیں تم لوگوں نے میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا۔‘‘ باسل سہم کر وہیں کا وہیں کھڑا رہ گیا حورین ایک بار پھر بے تکان بولنے لگی۔
’’اب مجھے کوئی نہیں بچا سکتا میرا تماشا نہیں لگا سکتا ہاں اب کوئی میرا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔‘‘ پھر وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی باسل گنگ سا حورین کو دیکھ رہا تھا جبکہ آنکھوں سے بے دریغ آنسو نکل پڑے تھے یہی حالت خاور کی تھی وہ بت بنا یک ٹک حورین کو دیکھ رہا تھا جو اب خود سے بولتے ہوئے زمین پر بیٹھتی جارہی تھی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close