Hijaab Mar-18

رخ سخن

سباس گل

اسامہ بن اعجاز
آج ہم آپ سب کو ایک ایسے نوجوان سے ملوا رہے ہیں جنہوں نے بہت کم عمری میں ناصرف آئی‘ٹی کی ڈگری حاصل کی بلکہ موبائل فونز کے لیے اردو‘ سندھی‘ پنجابی اور سرائیکی کی بورڈ بنا کر ایک بہترین کارنامہ سرانجام دیا‘یہ باصلاحیت نوجوان ایک پڑھی لکھی ادبی فیملی کے چشم و چراغ ہیں‘ جو اپنے ہم عمر ساتھیو کی مانند سوشل میڈیا کا بے جا اور فضول استعمال کرنا سخت ناپسند کرتے ہیں‘ انہوں نے ثابت کیا کہ موبائلز‘ کمپیوٹر‘ انٹر نیٹ ایک ترقی یافتہ ملک کے لیے بے انتہا ضروری ہیں‘ اس وقت ہمارے ملک کو ان جیسے نوجوانوں کی سخت ضرورت ہے‘ جو جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا صحیح اور بر وقت استعمال ہمارے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور یہ بھی کہ سوشل میڈیا قطعی طور پر آپ کے ایک اچھا انسان بننے کی راہ میں حائل نہیں‘ یہ نوجوان ماشاء اللہ سے بہت چھوٹی عمر سے ہی نماز‘ قرآن کا پابند رہا ہے اور انٹرنیٹ کا استعمال کبھی ان کے اسلامی طور اطوار میں رکاوٹ نہیں بنا‘تو آیئے ملتے ہیں ’’ اسامہ اعجاز‘‘ سے۔
٭آپ کا پورا نام کیا ہے‘ تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش؟‘‘
میراپورا نام ’’اسامہ بن اعجاز‘‘ ہے میں ۴ مئی ۱۹۹۶ میں کراچی میں پیداہوا‘ زندگی کا بیشتر حصہ کراچی میں ہی گزارہ ہے‘ البتہ سیرو تفریح یا کمپیٹیشنز کے لیے دوسرے شہروں میں بھی جانا آنا رہا ہے۔
٭آپ کی تعلیمی قابلیت؟
میں نے ابتدائی تعلیم ڈیفینس پبلک گرائمر اسکول سے حاصل کی‘ اس کے بعد میٹرک تک شیخ خلیفہ بن زید کالج میں زیرِ تعلیم رہا‘ انٹر ڈی۔جے سائنس کالج سے کیا اور ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کی‘ اور اب محمد علی جناح (ماجو ) یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہا ہوں۔
٭تعلیمی میدان میں آپ نے ماشاء اللہ بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ ہمارے قارئین کو تفصیل بتایئے گا؟
مجھے میری مما نے بہت کم عمری سے ہی مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا تھا چھ سال کی عمر میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی قاری صاحب سے اور قرأت وبردہ شریف میں سرٹیفیکیٹ حاصل کیا‘ کلاس ون میں زندگی کی پہلی تقریر کی جو میری مما نے لکھ کر دی تھی اس پر انعام حاصل کیا اور ساتھ ہی ایک نظم بھی سنائی تھی ’’میں ایک چھوٹا بچہ ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے‘‘ جس کی پریکٹس بھی مما نے ہی کروائی تھی اس پر بھی انعام حاصل کیا‘ اس کے بعد مما کی لگن اور میری محنت اور شوق کے ساتھ کامیابیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہو گیا جو اب تک جاری ہے‘ بہت سے سرٹیفیکیٹ‘ اسناد‘ میڈلز‘ ٹرافیز حاصل کی ہیں انگنت مقابلوں میں‘ جن میں تقاریر‘ ملی نغمے‘ نعت خوانی اور اسٹیج پلیز شامل ہیں‘ بہت چھوٹی عمر میں ہی مما نے کہانیاں لا کے دینا شروع کر دیں جن سے مطالعے کا شوق پیدا ہوا تو ’’ نونہال‘‘ کو مستقل اپنا ساتھی بنا لیا۔
اور تقاریر کا شوق نونہال اسمبلی تک لے گیا جس میں حکیم محمد سعید کی صاحبزادی محترمہ سعدیہ راشد کی سرپرستی میں‘ میں تین سال تک قائدِ ایوان کی سیٹ پر براجمان رہا اور بے شمار پرائز کا حقدار بنا کامیابیاں سمیٹتا رہا‘ پھر تعلیمی مصروفیات بڑھ گئیں تو نونہال اسمبلی کو خیر باد کہتے ہوئے یونیورسٹی میں مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں میں نے تیس سے زائد مقابلوں میں حصہ لیا جن میں کمپیوٹر پروگرامنگ‘ موبائل ڈویلپمنٹ‘ گرافکس ڈیزائننگ‘ شامل ہیں‘ الحمدللہ پڑھائی کا ریکارڈ بھی ہمیشہ اچھا رہا پوزیشن ہولڈر رہا ہوں ہمیشہ۔
٭کیا آپ موجوہ تعیمی نظام و نصاب سے متفق ہیں؟
میں خود محمد علی جناح یونیورسٹی میں جونئیر لیکچرار ہوں (ساتھ میں وہیں سے ماسٹرز بھی کر رہا ہوں ) چونکہ میرا اپنا تعلق تعلیمی شعبے سے ہے تو اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ نصابِ تعلیم تو کافی حد تک اپ ٹو ڈیٹ ہے لیکن نظامِ تعلیم ہمارے یہاں نہ صرف کچھ حد تک بگڑ چکا ہے بلکہ مختلف طبقات میں بٹ بھی چکا ہے‘ عام طور پر ہمارے نظامِ تعلیم میں بچوں کو ’’نمبرز‘ق لانے پر زور دیا جاتا ہے‘ رٹہ سسٹم ہی مقبولِ عام ہے جبکہ سمجھنے اور سمجھانے کی نوبت کم ہی آتی ہے‘ تعلیم کا مطلب صرف رٹہ لگانا نہیں ہے‘ چیزوں کو سمجھنا‘ پرکھنا‘ اچھے سے ذہن نشیں کرنا ہوتا ہے‘ دوسرے نمبر پر یہ کہ غریب اور امیرکا فرق رکھ کر ہمارے ملک میں نظامِ تعلیم پروان چڑھ رہا ہے جو ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘ یکساں نظامِ تعلیم کی سخت ضرورت ہے۔
٭کمپیوٹر سے کھیلنے اور کی بورڈ بنانے کا خیال کیسے آیا؟
جب بچپن میں کمپیوٹر دیکھا تھا تو یہی خیال تھا کہ یہ صرف کھیلنے کی چیز ہے۔
پھر رفتہ رفتہ سمجھ آتی گئی کہ اس میں گیمز کھیلنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جس کو جاننے کی جستجو بڑھتی گئی۔ گیمز‘ میوزک‘ موویز ڈرائنگ سے بڑھتے بڑھتے گرافکس کا رخ کیا‘ جوں جوں لگاؤ بڑھتا گیا کچھ کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور اس خواہش کو مہمیز کیا میرے یونیورسٹی کے قابل ٹیچرزمیں سے سر تفسیر نے‘ جنہوں نے دراصل کمپیوٹرز کو پاکستانی زبانیں سکھانے کا ایک طرح سے ذمہ لیا ہوا ہے‘ جس شعبے میں سر تفسیر کام کرتے ہیں اس کو ( نیچرل لینگویج پراسیسنگ ) کہا جاتا ہے‘ میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ سر تفسیر کے ساتھ اس کام میں بھی لگا رہا اور پھر کی بورڈ بنانے کا خیال آیا تو سر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اللہ کے فضل و کرم سے میں یہ کام کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
٭ماشاء اللہ‘ آپ نے اتنی کم عمری میں اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی ہے تو آپ اس کامیابی کا کریڈٹ کسے دیں گے اور فیملی کی طرف سے کتنی سپورٹ ملی؟
سب سے پہلے میں اللہ کا شکر گزار ہوں‘ اس کے بعد سارا کریڈٹ میں اپنی فیملی اپنے والدین کو دینا چاہو ں گا جنہوں نے کبھی مجھ پر دباو نہیں ڈالا کہ یہ کرو وہ نہ کرو‘ ہر کام کرتے ہوئے مجھے اپنے والدین کا بھرپوراعتماد اور مکمل سپورٹ حاصل رہی‘ اس کے بعد الحمدللہ مجھے ہمیشہ اچھے اساتذہ کی سرپرستی بھی حاصل رہی۔
٭آپ کا زیادہ انٹرسٹ کمپیوٹر میں ہے تو مستقبل میں آپ کیا کرنا چاہتے ہیں‘کیا بننا چاہتے ہیں؟
میں کمپیوٹرز میں پی۔ایچ۔ڈی کرنا چاہتا ہوں اور کمپیوٹرسائنس کا ایک بڑا ریسرچر بننا چاہتا ہوں۔
٭آج کل سوشل میڈیا کا وائرس ایک وباء کی طرح پھیل چْکا ہے‘آپ کی نظر میں کیا یہ ٹھیک ہے؟
سوشل میڈیا کا وائرس کوئی خاص وائرس نہیں ہے‘ ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی وائرس موجود رہا ہے جیسا کہ ریڈیو کو لے لیں جب یہ نیا نیا آیا تھا تو لوگ اس کے لیے کریزی تھے‘ کسی کے پاس ریڈیو کا ہونا اتنا ہی اہم گردانا جاتا تھا جتنا کہ اج کل سوشل میڈیا کا‘ پھر ٹی‘ وی کے وائرس نے اپنا سحر طاری کیا اور تو اور پہلے اخبار بھی ایک وائرس ہی کی طرح ہوتا تھا‘ پھر وی‘سی‘آر نے اپنے جلوے دکھائے تو لوگ دیوانے ہو گئے‘ پھر وی‘سی‘ڈی ڈی‘وی‘ڈی پلئیر اور اس کے بعد اب کمپیوٹر‘ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ہو وہ بذاتِ خود بری نہیں ہوتی اس کا استعمال اس کو اچھا یا برا بناتا ہے‘ یہ میری مما کا کہنا ہے اور بالکل صحیح کہتی ہیں مما کیونکہ ہم تینوں بہن بھائی بھی اس سوشل میڈیا کا باقاعدہ حصہ رہے ہیں لیکن کبھی بھی حد سے تجاوز نہیں کیا کہ کسی کو شکایت کا موقع ملتا‘ تفریح اپنی جگہ لیکن ہم نے اس سے اپنی پڑھائی میں بہت مدد لی ہے‘ دنیا بھر کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں‘ بلاشْبہ آج کل پڑھائی میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے لیکن افسوس ان نوجوانوں پر ہے جو اس کا بے جا اور فضول استعمال کر کے خود کو بھی ضائع کر رہے ہیں اور وقت کو بھی۔
٭آپ فیس بک کو کتنا ٹائم دیتے ہیں ؟
فیس بک بہت کم استعمال کرتا ہوں وہ بھی صرف دوستوں سے کنیکٹ رہنے کے لیے یا اپنی یونیورسٹی کی اپ ٹو ڈیٹ نیوز کے لیے‘ورنہ بہت بورنگ چیز ہے خاص طور پر پڑھنے والے بچوں کے لیے کسی طور صحیح نہیں محض وقت کا زیاں ہے۔
٭کچھ اپنے بارے میں بتایئے کتنے بہن بھائی ہیں‘ کھانے میں کیا پسند ہے‘موسم رنگ‘ لباس‘میوزک‘ فلم‘ ڈرامہ‘ کھیل؟
ہم تین بہن بھائی ہیں میں سب سے بڑا ہوں‘ مجھ سے چھوٹی بہن علینہ اعجاز ہے اس سے چھوٹا بھائی ہے علی بن اعجاز جو ڈی‘جے سائنس کالج میں سیکنڈائیر کا طالبعلم ہے۔ بہن اقراء یونیورسٹی سے بی۔بی۔اے کر رہی ہے۔ مجھے مما کے ہاتھ کے پکے تمام کھانے بہت پسند ہیں خاص طور پر بریانی‘ اسپیگھٹی اور کھیر‘ اس کے علاوہ فاسٹ فوڈ بہت پسند ہیں‘ موسم بہار کا اچھا لگتا ہے جب نہ زیادہ سردی ہو اور نہ زیادہ گرمی‘ رنگ سب ہی پسند ہیں‘ میوزک کا بے انتہا شوق ہے اتنا کہ جتنا مرضی تھک جاؤں لیکن گٹار بجاتا ہوں اور شوقیہ سنگنگ بھی کرتا ہوں آن لائن اکثر‘اسی طرح فلم اورڈرامہ پسند ہیں لیکن میں انڈین موویز یا پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھتا انگلش فکشن اور سیزن بہت پسند ہیں باقاعدگی سے دیکھتا ہوں‘ یوں کہہ لیں کہ میوزک‘ فلم ڈرامہ میری کمزوری ہیں‘ شدید تھکان اور مصروفیت میں بھی ان کے لیے ٹائم نکال ہی لیتا ہوں‘کھیلوں میں مجھے صرف ’’باسکٹ بال‘‘ پسند ہے کھیلی بھی بہت ہے‘ اس کے بعد کرکٹ اور سوئمنگ میری ہابیز ہیں‘ لباس صرف پینٹ شرٹ یا تھری پیس پسند ہے۔
٭سیاحت کا شوق ہے ؟
سیاحت کا بے انتہا شوق ہے‘ جس کے لیے میں سال میں دو بار لازمی وقت نکالتا ہوں‘ الحمدللہ کہ اپنے پیرنٹس کی اجازت سے میں متعدد بارملکی سیاحت کے لیے جا چکا ہوں اور پاکستان تقریباً پورا دیکھ چکا ہوں‘ آنے ولے سالوں میں بیرونِ ملک سیاحت کا پلان ہے۔
٭آپ کے کام کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ آپ وقت سے پہلے ہی بڑے ہو گئے‘اتنا سنجیدہ کام ہے آپ کا تو بتایئے بچپن کیسا گزرا‘شرارتی تھے یا سنجیدہ مزاج ؟
ہاہاہاہا کام کے معاملے میں سنجیدہ ہوں لیکن شرارتی تو شروع سے ہی ہوں‘ اتنا کہ مہینے میں دو بار اسکول سے کمپلین آنا تو ضروری تھا‘ ہاں بچوں کے ساتھ اب بھی بچہ بننا بہت اچھا لگتا ہے‘ بہت مستی کرتا ہوں لیکن خاندان بھر میں ایک اچھا‘ شریف اور سوبر بچہ ہونے کے ناطے سب کا پسندیدہ ہوں۔
٭ملکی سیاست‘ ملکی حالات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اگر ایک دن کی حکومت ملے توپہلاکام کیا کرنا پسند کریں گے؟
معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ملکی حالات سے دلچسپی ضرور ہے لیکن سوائے کڑھنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا کیوں کہ سیاست سے خاص طور پر پاکستانی سیاست سے بالکل بھی لگاؤ نہیں تو حکومت میں آکر کچھ بھی کرنے کے بارے میں کبھی سوچا نہیں۔
٭آپ کے خیال میں موبائل ضرورت ہے یا مصیبت ؟
آج کل تو موبائل ایک اشد ضرورت ہے جس کے بنا بہت سے کاموں میں تعطل آسکتا ہے‘ہاں لیکن کبھی کبھی یہ ضرورت ایک مصیبت بھی بن جاتی ہے۔
٭دولت‘ شہرت‘ عزت‘ محبت میں سے بالترتیب آپ کا انتخاب؟
عزت‘ محبت‘ دولت‘ شْہرت۔
٭آپ اپنے ہم عمر ساتھیوں کو اِس ملک کے نوجوانوں کو کوئی دوستانہ پیغام دینا چاہیں گے ؟
اپنے ہم عمر ساتھیوں سے بس یہ ہی کہنا چاہوں گا کہ دل لگا کر علم حاصل کرو‘ وقت ایک قیمتی دولت ہے اس کی قدر کرو‘ وقت کا صحیح استعمال آپ کو بہت کچھ دے سکتا ہے‘ جس فیلڈ کو بھی اپنے لیے چْنو پوری دیانتداری سے اس میں محنت کرو‘ ماں باپ کا ادب و احترام کرو اللہ کے بنائے سیدھے اور سچے راستے پر چلو‘اگر آپ سچائی اور نیک نیتی سے کسی بھی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو یقیناً کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
اسامہ اعجاز ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے نیک مقاصد میں کامیاب کرے اور ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے‘ آمین۔
حجاب ڈائجسٹ کے لیے انٹرویو دینے اور اپنے عمدہ خیالات کے اظہار پر بے حد مشکور ہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close