Hijaab Jan-18

میں تو مرکر بھی تمہیں چاہوں گا

نگہت غفار

’’ابو مجھے بائیک چاہیے۔‘‘ شہیم نے بستر جھاڑتے ہوئے محسن علی رضا کو دیکھے بنا‘ فرمائش کی۔
محسن علی رضا ایک ہاتھ میں دوا لیے اور دوسرے ہاتھ سے گلاس پکڑے بے حس اور کٹھور بیٹے کو بڑی حیرت اور بے یقینی سے دیکھ رہے تھے‘ ان کے چہرے پر ہی نہیں بلکہ سارے وجود پر بے بسی اور محرومی نظر آرہی تھی۔ انہوں نے ساری میڈیسن منہ میں رکھ کر پانی کا پورا گلاس پیا اور بولے۔
’’مجھے بہت حیرت ہوتی ہے تم پر شہیم‘ کہ تم میری اولاد ہو‘ میرے بیٹے‘ میں تو اپنے والدین کا نہایت ہی فرماں بردار اور خدمت گزار بیٹا تھا‘ اپنے باپ کی خدمت میں رات دن لگا رہتا تھا۔سارا سارا دن نوکری کے علاوہ صرف اور صرف والدین کی خدمت میری زندگی کا مقصد تھا۔ اچھا علاج‘ اچھی غذا… اچھا ماحول ان کے لیے مہیا کیا… اس پر بھی میری زندگی اس ویران راستے پر محو سفر ہے… تمہیں رتی برابر میرا خیال نہیں‘ میں مر رہا ہوں یا جی رہا ہوں؟ کب ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوتا ہوں‘ کب ڈسچارج؟ کب کون سی دوا لینی ہے اور اس کی قیمت کیا ہے؟ مجھے کون سی غذا چاہیے کون سی نہیں‘ مجھے کب آرام کی ضرورت ہے؟ کیا کبھی تم نے یہ سب سوچا؟ میری آمدنی کتنی ہے اخراجات کیا ہیں‘ یہ سب میں کیسے مینج کرتا ہوں‘ تمہاری فرمائشیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں کیا تمہارا اور میرا رشتہ یہی رہ گیا ہے کہ تم مانگتے رہو اور میں دیتا رہوں‘ مجھے سکون سے جینے دو‘ زندگی نے میرے ساتھ بڑے کھیل کھیلے… اب میں زندگی کی اس آنکھ مچولی سے تنگ آگیا ہوں‘ مجھے سکون چاہیے… شہیم سکون…‘‘ ان کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی۔ بے بسی‘ بے قراری اور دکھ ان کے چہرے پر سمٹ آئے… شہیم سب سن کر طنز سے مسکرایا۔
’’ابو جی… معاف کیجیے گا میں اب بھی یہی کہوں گا کہ آپ کی بربادی‘ بیماری اور بے سکونی کی ذمہ دار وہی عورت ہے… وہی ہے جس نے مجھے آپ سے نفرت کرنے پر مجبور کیا‘ وہی ہے جس نے باپ کو بیٹے سے دور‘ بہت دور کردیا… ہمارے درمیان فاصلے پیدا کرنے والی وہی عورت ہے… جس وقت ماما بیمار تھیں بہت بیمار‘ میں ننھا سا ان کے پہلو میں پڑا تھا‘ دو سال کا بچہ… کیا ہوتا ہے؟ یہ تو آپ کو معلوم ہے ناں… ماں باپ کی تمام تر توجہ اور پیار کا متلاشی… جب میری ماں نے مجھے روتا بلکتا چھوڑا تو… دنیا میں اب ایک آپ ہی تو تھے جو مجھے اپنی آغوش میں لیتے سینے سے لگاتے‘ میرے دکھ درد اور ضرورت کو سمجھتے‘ مجھے اپنے پاس رکھتے… ابو… خود سے قریب…‘‘ آگے وہ نہ بول سکا… وہ رکا تو محسن علی رضا نے بیٹے کو غور سے دیکھا۔
’’تمہیں یہ الٹی سیدھی پٹیاں کس نے پڑھائی‘ اچھی طرح جانتا ہوں مگر ان لوگوں نے یہ نہیں بتایا کہ میں اسی اپارٹمنٹ میں رہتا تھا‘ صبح گھر سے نکلتا رات گئے گھر میں داخل ہوتا۔ سارا دن کیا تم گھر میں اکیلے رہتے… یا میں نوکری چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس رکھتا…؟‘‘
’’بہرحال… اس وقت آپ کے حواسوں پر وہی تھی اور بس…‘‘
’’شہیم ہوش میں آئو‘ تمہاری زبان بہت زیادہ چلنے لگی ہے تم حد سے زیادہ گستاخ ہوگئے ہو‘ خبردار اگر اب تم نے اس عورت کے لیے ایک لفظ بھی منہ سے نکالا۔‘‘ انہوں نے کمبل ایک طرف پھینک کر بستر سے اترتے ہوئے کہا تو شہیم پھر بولا۔
’’لیکن آپ نے جو کچھ کمایا وہ اسی عورت پر خرچ کیا ناں؟‘‘ محسن علی رضا زور سے چیخے۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘ انہو ںنے ہاتھ اٹھایا ضرور تھا مگر پھر رک گئے تھے۔
’’اگر میں مارتا ہوں تو تم پھر یہ کہو گے کہ ابو نے زندگی میں پہلی بار اس عورت کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ سب جس طرح گھٹیا اور چھوٹی سوچ کے سبب یہ کہانیاں گھڑتے رہے ان کو بھی یہ خبر ہے کہ وہ انتہائی مخلص‘ ہمدرد‘ شریف عورت تھی ڈاکٹر تھی اور میری دوست بن گئی۔ میرے ہر آڑے وقت میں وہ کام آئی‘ تمہاری ماں کا علاج اس کے ہاسپٹل میں ہوا‘ اس عورت نے ایک پیسہ نہیں لیا‘ وہ کہتی کہ ایک اچھے دوست کا فائدہ کیا جو ایسے وقت دوست کے کام نہ آئے اور ہر بار وہ پیسے میں دوبارہ اپنے پاس رکھ لیتا۔ میں آرزوکے گھر جاتا ان کے شوہر سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ تمہارے ننھیال والے بے شک تمہاری پرورش کرتے رہے مگر ایک ایک پائی میں دیتا میں نے تمہارا سارا خرچہ ان لوگوں کو دیا میں بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوں میں نے آرزو کو دیا نہیں ہمیشہ لیا ہے… تم اپنے ذہن سے یہ ساری خرافات نکال دو… تم میرے ساتھ اجنبیوں کی طرح رہتے ہو‘ ایک گھر میں ایک چھت کے نیچے اور یہ بے رخی… میں تمہارا باپ ہوں‘ تم میرے باپ نہیں ہو… اتنے عرصے سے ایک جوان بیٹا‘ برسرروزگار ہے مگر مجال ہے جو کبھی باپ کے لیے کوئی فروٹ کوئی دوائی‘ کوئی گھر کا سامان لائے ہو‘ تم دل کھول کے مجھے اذیت دے رہے ہو‘ تمہیں چاہیے تھا کہ تم آرام کرواتے‘ میری سروس ختم کرواتے گھر پر مجھ پر توجہ دیتے… نہ کہ تم مجھے ہر روز ایک نئی اذیت کا شکار کرتے ہو… تمہیں کیا معلوم کہ محسن علی رضا کتنا مضبوط کردار اور بہادر اور حوصلے والا ہے کیسے زندگی کا مقابلہ کررہا ہے اب آخری عمر میں اس حالت میں بیٹا‘ باپ سے انتہائی تکلیف دہ اذیت ناک سوالات کرے گا‘ کردار پر شک کرے گا‘ توہین کرے گا‘ ماں جیسی ہستی کے لیے اپنے خیالات اپنے جذبات‘ اپنے الفاظ کا انتخاب اس عمدگی سے کرے گا یہ مجھے نہیں معلوم تھا لیکن ہاں تم… اس عورت کے پائوں پکڑ کر معافی مانگنا ورنہ‘ میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گا… یہ میری بات ہمیشہ یاد رکھنا… وہ بڑی عظیم ہے تم اس عورت کو نہیں جانتے تو یہ کہ تمہارے ننیھال والوں نے تمہیں بڑے غلط انداز میں گمراہ کیا ہے آئندہ خیال رکھنا۔‘‘
شہیم نے لائٹ آف کی اور اپنے بیڈ پر چلا آیا… مگر محسن علی رضا کو ماضی کے سفر پر بھیج دیا۔ دور بہت دور جب وہ اس دوست اور مخلص ہستی سے ملے اور چند ہی دنوں میں زندگی کتنی خوب صورت لگنے لگی تھی۔ جب یہ احساس کیسی طمانیت دیتا کہ کوئی تو ہے میرا دوست‘ رفیق‘ ہمدرد ہر طرح سے میرا خیال رکھنے والا‘ جان سے زیادہ عزیز روح سے زیادہ قیمتی… وہ دن بھی کتنے حسین تھے خوب صورت پل‘ دلفریب نظارے‘ برجستہ مکالمات کا تبادلہ‘ کتنی پاکیزہ معصوم سی نوک‘ جھونک‘ کھلا ذہن انمول مشورے‘ ہمدردیاں ایک دوسرے کا خیال رکھنا بغیر کسی لالچ اور غرض کے… صاف وشفاف لمحات۔
میں نے کئی بار نوٹ کیا کہ میں اور وہ ایک ہی وقت اپنی اپنی گاڑی میں علاقے کے مین گیٹ سے باہر نکلتے‘ اس نے کبھی میری طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا… مگر… میں جیسے اسی کے انتظار میں رہتا اور یوں کچھ وقت گزر گیا… نجانے اس خاتون میں ایسی کیا بات تھی‘ مقناطیسیت تھی کہ میں خودبخود اس طرف کھنچ رہا تھا یہ میری کمزوری تھی مجھے اگر کوئی اچھا لگتا تو میرا دل چاہتا میں اس سے باتیں کروں‘ کبھی حالات حاضرہ پر کبھی معاشرے اور کبھی اپنی نجی زندگی کے مسائل پر مجھے ابھی تک کوئی ایسا ساتھی نہیں ملا تھا‘ میرا کوئی ایسا دوست نہیں تھا اور مجھے ازل سے ایسے دوست کی تلاش تھی‘ اور میرا دل کہتا میں اس دوشیزہ سے بات کروں… ایک روز اتفاق یہ ہوا کہ میری بیوی بیمار ہوگئی اور میرے دل کی مراد پوری برآئی‘ میں شہر کے ایک بڑے ہاسپٹل میں ان سے ملا وہ وہاں ڈاکٹر تھیں‘ بہت مشہور بہت ماہر اور ساتھ میں نہایت ہی ہمدرد اور خدا ترس تب ہی ہر ایک کے لبوں پر اس مسیحا کا نام تھا میری بیوی کو گائنی پرابلم تھی اور وہ ڈاکٹر آرزو کی پیشنٹ تھی‘ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اللہ نے میری سن لی‘ کسی نہ کسی حوالے سے اب بات تو ہوگی ناں مل کر اندازہ لگایا کہ نہایت ہی نفیس اور عمدہ خاتون ہیں بہت ہی پُرخلوص اور ملنسار‘ ہمدرد اور محبت کرنے والی ہستی‘ شبانہ کو ایڈمٹ ہوئے پندرہ روز ہوگئے تھے ان دنوں میں میری آرزو سے اچھی دعا سلام ہوگئی تھی۔ شبانہ بھی آرزو کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتی تھی‘ شہیم میرا چھوٹا سا بچہ ہر وقت آرزو کے گھر میں رہتا تھا‘ اتنا چھوٹا ہونے کے باوجود وہ بھی ان لوگوں سے اتنا مانوس ہوگیا کہ زبردستی اپنے گھر آتا تھا اکثر بچوں کے ساتھ ان کے بستر میں سو جاتا تھا آرزو اور بچے سب ہی شہیم سے بہت پیار کرتے تھے۔
اکثر میری ملاقات اسد صاحب سے ان کے گھر پر ہی ہوتی‘ ہم رات دیر تک ایک دوسرے کو ماضی کی باتیں سناتے اسی عرصہ میں شبانہ کی ڈیتھ ہوگئی اور میں ٹوٹ کر بکھر گیا‘ مجھے اسد اور آرزو نے سمیٹا‘ زندگی کی طرف لائے‘ جینے کا حوصلہ دیا‘ بالکل اپنوں کی طرح‘ میں ان لوگوں کی محبتوں‘ عنایتوں اور احسانات کا مقروض ہوتا چلا گیا۔ صحت بگڑنے لگی تو ملازمت پر پابندی برقرار نہیں رہی‘ اکثر مکان کا کرایہ شہیم کی دیگر ضروریات کو وہی لوگ پورا کرتے۔ میں نے بھی خود کو سنبھالا شہیم نانی کے پاس رہنے لگا‘ میں اپنے پاس کیسے رکھتا صبح سے رات تک میں اسے ٹائم نہیں دے سکتا تھا میں مجبور تھا۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا‘ ماشاء اللہ شہیم بڑا ہوگیا۔
ان ہی دنوں میں اسد کا انتقال ہوگیا… تب… آرزو بالکل ہی ٹوٹ گئی‘ تب میں انہیں فون پر ڈھیروں تسلیاں دیتا جینے کا سبق دیتا حالات سے لڑنے کے گر بتاتا‘ اسد کی زندگی میں ہی آرزو نے مجھے اپنے ماضی سے آگاہ کردیا تھا اور میں نے بھی اپنے ماضی کی کتاب ورق ورق ان کو پڑھا دی تھی… ہم دونوں کو ایک دوسرے سے بہت انسیت ہوگئی تھی ہم ایسے مخلص اور ہمدرد دوست بن گئے کہ دونوں کو لگا کہ شاید ہمیں ایک دوسرے ہی کی تلاش تھی ایک ہمدرد سچے دوست کی جو ایک دوسرے کے ہم راز ہوں لمحہ لمحہ قدم بہ قدم ایک دوسرے کے حالات سے غافل نہ ہوں۔
Y…m…Y
’’آرزو… یار تم ایک بار میری بات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور تو کرو تم کو میری بات سمجھ میں آجائے گی۔‘‘ وہ آرزو کو قائل کررہے تھے۔
’’محسن آپ ذرا سوچیں تو… اب ہماری عمریں… یہ بچے یہ دنیا والے کیا کہیں گے؟‘‘
’’ڈیئر… تم بھی کیسی احمقانہ بات کررہی ہو‘ ہمیں دنیا کو بتانا ضروری ہے کہ ہم یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ میرے بیٹے کو ماں اور تمہارے بچوں کو باپ مل جائے گا‘ یہ کوئی شرعی اور قانونی اعتبار سے غلط کام نہیں‘ اچھا چلو پریشان نہ ہو‘ اب میں چلتا ہوں آرام سے سوچ کر مجھے جواب دینا۔‘‘
دو تین روز یونہی بے آواز سے گزر گئے‘ آرزو کے قریب رکھے سیل فون پر وابریشن ہوئی‘ انہوں نے چیک کیا محسن کا میسج تھا‘ خیر خیریت کے بعد وہی سوال تھا۔
’’جان عزیز کیا سوچا آپ نے؟‘‘ آرزو بولی۔
’’جناب ابھی تو اللہ سے رازو نیاز میں مصروف ہوں ابھی سکون سے ہمیں اپنے اللہ جی سے باتیں کرنے دیں…‘‘ وہ ہنسی۔
’’چلیں جی جیسے آپ کا حکم‘ شب بخیر۔‘‘ محسن نے بھی ہنستے ہوئے سلسلہ منقطع کردیا۔
’’پاگل ودیوانے ہیں‘ اچانک بس اصرار کرتے پھر کچھ دنوں کے لیے خاموش ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ دوبارہ نماز میں مصروف ہوگئی۔
Y…m…Y
آج ہاسپٹل میں سارا دن مصروف گزرا ابھی آرزو اپنے روم میں کرسی پر نیم دراز بیٹھی ہی تھی کہ مخصوص خوشبو نے انہیں آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔
’السلام علیکم!‘‘ بھاری آواز پر انہوں نے دروازے کی طرف دیکھا‘ محسن مسکراتے ہوئے داخل ہورہے تھے۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ آرزو نے بھی خوشدلی سے جواب دیا۔ ’’بڑے دنوں بعد آئے آپ‘ کیا مصروفیت رہی؟‘‘ انہوں نے پیر سمیٹتے ہوئے کہا تو محسن مسکرائے۔
’’ارے جناب‘ ہماری کیا مصروفیات ہوگی سوائے آپ کو سوچنے کے…!‘‘ آرزو ہنس پڑی۔
’’جناب محسن علی رضا صاحب اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا… اور ایک بات کہوں؟‘‘ انہوں نے محسن کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی… جی ضرور بھلا آپ کو ہم سے اجازت لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟‘‘ وہ مسکرائے۔
’’آپ نے جوانی میں کیا کیا ہوگا؟ اب اس عمر میں اتنی شوخی…‘‘ وہ مسکرا رہی تھیں۔
’’ارے یار تمہیں کیا معلوم اگر سچ کہوں تو میں انٹر کا اسٹوڈنٹ تھا سر نے ساری کلاس کے اسٹوڈنٹ کی طرف غو رسے دیکھا پھر بولے‘ گلاب کے پھول پر نوٹ لکھیں اور اپنی طرف سے ایک دو اشعار بھی… اردو کا پریڈ تھا ہم نے قلم اٹھایا اور چند ہی لمحوں میں سر کے کمنٹس سن رہے تھے… محسن کلاس کا ہونہار اور قابل شاگرد ہے اس کی شخصیت پر یہ اشعار اور یہ خوب صورت مہکتے جملے… واہ… جیسی شخضیت ویسی سوچ بڑی ہی خوب صورت رومانٹک سوچ ہے اس لڑکے کی۔‘‘ وہ مسکرائے۔ ’’اجی آپ کو کیا پتہ اس وقت ہم کیسے تھے؟‘‘ محسن نے مسکرا کر کالر کھڑے کیے اور آرزو نے ہنستے ہوئے اس بات کی تائید کی۔
’’ہاں جی ہم آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہیں‘ آپ کی شخصیت اب بھی اٹریکٹ کرتی ہے۔‘‘ محسن ہنسے۔
’’اس دور میں ہر لڑکی مجھ میں دلچسپی رکھتی تھی ارے یار حد تو جب ہوئی کہ ایک لڑکی تو گھر تک آگئی اور اباجی کو بتادیا کہ محسن سے بہت پیار کرتی ہوں… اس کے بغیر نہیں رہ سکتی… وہ تو میری کیا کسی لڑکی کی طرف دیکھتا تک نہیں حالانکہ اس کی پرسنالٹی ایسی ہے کہ تقریباً آدھے سے زیادہ کالج کی لڑکیاں اس سے متاثر ہیں… اور اباجی نے اس کو اس طرح روتا بلکتا دیکھا تو وعدہ کرلیا کہ ٹھیک ہے میں اس سے بات کروں گا تم اپنے والدین کو میرے پاس لائو…‘‘ اتنا کہہ کر محسن چپ ہوگئے اور داد طلب نظروں سے آرزو کو دیکھا… ’’اب آپ کا کیا خیال ہے بیگم صاحبہ؟‘‘
’’اچھا جلدی بتائیے پھر کیا ہوا؟‘‘ آرزو کی بے چینی دیکھ کر وہ ہنس پڑے۔
’’پھر کیا ہونا تھا شادی ہوگئی۔ پھر تو تمہیں پتہ ہے کیسے بیوی مری‘ بچہ ننھیال میں رہا اور ہم‘ رہے بے بس‘ بے سہارا… زندگی کا صحیح مصرف نہ تلاش کرسکے کبھی خوش اور مطمئن زندگی گزاری نہ کبھی بہاروں نے دروازے پر دستک دی۔‘‘ آرزو رنجیدہ ہوگئیں تب ہی ڈاکٹر سعد کمرے میں داخل ہوئے۔
انہوں نے سلام کیا‘ محسن نے جواب دیا اور کرسی سے اٹھنے لگے۔
’’اچھا اب میں چلتا ہوں۔‘‘ انہوں نے آرزو کی طرف دیکھا۔
’’ارے بیٹھیں نا سر‘ آپ کدھر چلے۔‘‘ ڈاکٹر سعد کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولے۔
’’نہیں ڈاکٹر صاحب دیر ہوگئی مجھے آئے ہوئے۔‘‘ وہ چلے گئے‘ سعد نے آرزو کو مخاطب کیا۔
’’ڈاکٹر آرزو اس شخص کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے یار دیکھو کتنی اچھی پرسنالٹی ہے‘ گفتگو میں کمال حاصل ہے‘ مگر چہرہ اور وجود دونوں پر بے بسی بے قراری کی کیفیت ہے یوں لگتا ہے جیسے مدتوں سے سکون کا متلاشی ہے یہ شخص اسے اس کے مطلب کی زندگی نہیں ملی۔‘‘
Y…m…Y
آرزو نے گھر آکر پہلا کام یہ کیا کہ نماز اور تسبیحات سے فارغ ہوئیں پھر ٹیرس میں چلی آئیں نیچے ٹریفک کا بے ہنگم شور روشنیاں ہی روشنیاں نظر آرہی تھیں‘ آروز نے بہت کوشش کی خود کو روکنے کی‘ مگر بے ساختہ ان کی انگلیوں میں جنبش ہوئی اور پھر تھوڑی دیر بعد محسن کا فون آگیا‘ یہ محسن کی عادت تھی‘ وہ آرزو سے کہتے آپ کا جب دل کیا کریں مس کال دے دیا کریں… اور پھر محسن کی آواز آتی۔
’’السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السلام جی میں ٹھیک ہوں اچھی ہوں۔‘‘ آرزو کا جواب سن کر محسن مسکراتے۔
’’جی جناب آپ اچھی نہیں بہت اچھی ہیں۔ یہ آپ ہم سے پوچھیں۔‘‘ وہ شرارت سے بولے۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ آرزو نے سوال کیا۔
’’اجی ہونا کیا تھا نماز پڑھ کر رب سائیں کو اپنی بپتا سنا رہے تھے۔‘‘
’’میں نے بھی ابھی نماز پڑھ کر آپ کے حق میں بہت ساری دعائیں کیں۔‘‘ آرزو نے بتایا تو محسن ہنس پڑے۔
’’ارے آپ کی دعائیں ادھوری ہوتی ہیں دعائوں میں ہمیں مانگا کریں۔‘‘ ان کا شوخ لہجہ سنائی دیا۔
’’اچھا یہ بتائیں ہم آپ کو یاد بھی رہتے ہیں یا نہیں۔‘‘ انہوں نے سوال کیا تو آرزو نے جواب دیا۔
’’دیکھیے یاد اسے کرنا پڑتا ہے جس کو ہم نے کبھی بھلایا ہو…‘‘ وہ ہنسیں… ’’اور جو بھولتے ہی نہیں تو پھر یہ سوال‘ مناسب نہیں۔‘‘
’’بھئی ماشاء اللہ آپ بھی اب کافی سمجھدار ہورہی ہیں یہ سب ہماری صحبت کا اثر ہے۔‘‘ محسن کا شریر قہقہہ آرزو کے کانوں میں گونجنے لگا۔
’’سچ یار… کبھی کبھی میں سوچتا ہوں میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ آپ کیسے نوک جھونک شرارت سے مہکتے ڈائیلاگ برجستہ جواب دیتی ہیں‘ زندگی میں بڑی ہی مٹھاس گھولتے ہیں ایسی ہی باتیں میٹھی میٹھی تکرار ایک دوسرے کو لاجواب کردینا ہنسنا ہنسانا کتنا اچھا لگتا ہے‘ کبھی میں نے کوئی شعر سنا دیا اس کے جواب میں چٹ پٹا مزیدار شعر آپ نے سنا دیا کتنا اچھا لگتا ہے یہ سب‘ زندگی کتنی حسین لگتی ہے جب ایسا ماحول ہو‘ ایک طمانیت‘ ایک خوب صورت سا جذبہ نرم وملائم احساسات خوشی کے لمحات کہ جب کوئی کہتا ہے کہ میں آپ کے لیے پریشان ہوگئی تھی میں نے اللہ سے آپ کے لیے خوب دعا کی یہ سن کر دل چاہتا ہے کہ آنکھیں بند کرکے یہی سنتے رہو آپ کی صحت کی بقاء کی ترقی کی… اور جب تم یہ کہتی ہو‘ آج سردی بہت ہے آپ سوئٹر ضرور پہنیں مفلر ضرور لیں‘ آپ کو ٹھنڈ جلدی لگ جاتی ہے‘ ٹائم پر کھانا کھا کر ٹائم پر نماز پڑھ کر جلدی سوجائیں‘ صبح آفس بھی جانا ہے‘ ایسی باتیں سن کر مجھے بہت اچھا لگتا ہے یقین کرو دل بے حد خوش ہوتا ہے خود پر فخر ہونے لگتا ہے۔‘‘ آرزو نے لوہا گرم دیکھا تو بولیں۔
’’بالکل سچ کہہ رہے ہیں اس اطمینان سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے بس آپ اس پر اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کا ہمدرد‘ آپ کو دعائوں میں یاد رکھنے والا آپ کا کوئی دوست ہے دنیا میں۔‘‘ آرزو کی بات سن کر محسن کا مخصوص قہقہہ سنائی دیا۔
’’یار… تم… تو بہت چالاک ہوگئی ہو کیسے موقع سے جواب دیتی ہو…‘‘ آرزو بھی ہنس پڑیں قبل اس کے کہ محسن کچھ کہتے انہوں نے اجازت چاہی‘ ایک لمبی سانس فضاء میں خارج کی کہ محسن ان کا اشارہ سمجھ تو گئے ہوں گے… جب ہی ہنس پڑے تھے۔
الوینہ جب سے کالج سے آئی تھی بہت پریشان تھی ویسے اس کا جہیز تقریباً تیار تھا آرزو بے حد سلیقہ شعار تھیں انہوں نے بیٹی کے لیے سب کچھ جوڑ لیا تھا دو بیٹے اور ایک بیٹی مختصر فیملی تھی اسد مزاج کے بہت تیز اور خشک اور کھردری سی شخصیت کے تھے۔ آرزو نے زندگی کا لمبا سفر اس ہمسفر کے ساتھ گزارا جو ہر بات کو منفی انداز میں لیتے اپنی ہر بات کو سچ کہتے اپنے سرد رویے سے مد مقابل کو نظر انداز کرتے پیسے کو قریبی رشتوں پر فوقیت دیتے‘ کھڑے کھڑے مقابل کو بے عزت کردیتے آرزو نے ان کا ہر وار سہا… ان کی ماں اور بہن کی بھی ہر بات کو آرزو نے مانا ان کی اپنی کوئی مرضی اور رائے نہیں ہوتی تھی‘ شوہر‘ ساس اور نند نے جو کہا پتھر کی لکیر سمجھنا ان کا فرض تھا۔ بچے بھی اجنبیوں کی طرح گھر میں رہتے۔ الوینہ سب سے چھوٹی تھی شاہ زیب‘ جہانزیب ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی پوسٹ پر تھے‘ اسد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا تھا بہن میرڈ تھی۔ آرزو کے سسرال والوں نے اسد کے انتقال کے بعد آرزو سے مکمل طور پر ناطہ توڑ لیا تھا۔
الوینہ کی ٹینشن یہ تھی کہ عظمان نے خبر ہی ایسی سنا دی تھی کہ امی پنڈی جارہی ہیں ماموں کی بیٹی کو عظمان کے لیے مانگنے… اب وہ اس مسئلہ کو کیسے حل کرنا ہے سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی ادھر عظمان کی اماں کا ہولڈ تھا گھر‘ شوہر اور بچوں پر ادھر شاہ زیب اور جہانزیب دونوں ہی سخت مزاج تھے‘ اسے ایک ترکیب سوچھی کیوں نا محسن انکل سے ہیلپ لی جائے مجھے بالکل بیٹیوں کی طرح پیار کرتے ہیں کتنے شفیق اور کتنے نرم مزاج کے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ ہی وہ خاصی حد تک مطمئن ہوگئی تھی۔
Y…m…Y
ریسٹورنٹ میں جیسے ہی دونوں داخل ہوئے سامنے ہی محسن بیٹھے تھے دونوں نے سلام کیا محسن نے الوینہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں۔ عظمان نے مصافحہ کیا جس پر محسن نے مسکرا کر دونوں کا خیر مقدم کیا۔
’’اچھا تو صاحب زادے عظمان آپ ہماری بیٹی کو پسند کرتے ہیں…‘‘ انہوں نے حسب عادت سوال کیا تو عظمان نے بھی مسکراتے ہوئے گردن ہلائی۔
’’بھئی بہت خوب ہمیں رومان اور رومانوی ماحول‘ رومانوی مکالمات بہت پسند ہیں‘ آپ سمجھ لیں کہ ہم رومان پرست ہیں‘ نہایت ہی پاکیزہ اور سچی محبت ہونی چاہیے۔‘‘ پھر عظمان نے اپنی پڑھائی سروس اور خاندانی پس منظر کے بارے میں تفصیلاً بتایا۔
’’امی تو جلد جانے والی تھیں مگر شاید الوینہ کی دعائوں نے اثر دکھایا فی الحال ان کا ارادہ ملتوی ہوگیا ہے پھر کبھی بھی اچانک کہیں سے بھی حملہ ہوسکتا ہے۔‘‘ اس نے شرارت سے الوینہ کی طرف دیکھا… الوینہ نے غصے سے آنکھیں دکھائیں۔
’’عظمان بیٹا آپ یوں کریں اپنے گھر والوں سے بات کرکے آرزو کے پاس بھیجیں باقی ان کو تیار کرنا میرا کام ہے۔‘‘
’’انکل امی میری شادی اسی سال کرنا چاہتی ہیں۔ اگر آرزو آنٹی یا دونوں بھائی اس بات کو نہیں مانے تو مسئلہ ہوجائے گا۔‘‘ عظمان نے خیال ظاہر کیا۔
’’اللہ مالک ہے جہاں تک تمہاری آنٹی کا سوال ہے وہ تو مان جائیں گی‘ بھائیوں کو منانا بھی مشکل نہیں ہے اگر سچا پیار‘ لگن ہو نیت پاک ہو اور دعائیں ساتھ ہوں تو رب بھی اپنی رضامندی دے دیتا ہے۔ اس ذات یکتا پر مکمل بھروسہ رکھو‘ جذبے بے لوث بے غرض ہوں تو رب کائنات کبھی مایوس یا ناکام نہیں کرتا شرط یہ ہے کہ سب کچھ اسی پالن ہار پر چھوڑ دینا چاہیے۔ کامیابی یقینی ہوتی ہے‘ مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
Y…m…Y
ان دنوں دو ڈاکٹرز چھٹیوں پر گئی ہوئی تھیں‘ آرزو پر بہت زیادہ کام کا بوجھ تھا۔ وہ اکثر دیر سے آرہی تھیں‘ چند دنوں بعد انہیں کچھ فرصت ملی تھی انہوں نے آج چھٹی کی تھی۔ دیر سے جاگیں‘ ناشتے کی میز پر بیٹھی تھیں کہ محسن کا فون آگیا کہ میں ہاسپٹل آرہا ہوں‘ آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ آرزو ڈر گئیں پھر نکاح پر زور دیں گے مگر جواب تو دینا تھا‘ اتنی دیر میں محسن نے تین چار بار ہیلو‘ ہیلو کی رٹ لگائی…
’’میں ہاسپٹل نہیں گئی۔‘‘ آرزو نے بتایا۔
’’ارے کیوں خیر تو ہے طبیعت کیسی ہے؟‘‘ محسن کے لہجے کی بے چینی اور پریشانی کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’ارے بابا یونہی… کیا کبھی ہمارا موڈ نہیں ہوتا کہ چھٹی کریں… آرام کریں۔‘‘ آرزو کے لہجے اور موڈ سے محسن خاصے مطمئن ہوگئے۔
’’اچھا میں گھر آرہا ہوں… اوکے آجائوں…‘‘ انہوں نے ہمیشہ کی طرح اجازت مانگی۔
’’جی آجائیں۔‘‘ آرزو نے اپنا حلیہ درست کیا۔
’’الوینہ نے مجھے قابل اعتبار اور ہمدرد سمجھا‘ تم سے کہتے وہ جھجک رہی تھی‘ اور مجھ سے اپنا مسئلہ ڈسکس کیا عظمان بہت اچھا لڑکا ہے میں اس سے مل چکا ہوں۔‘‘
’’آپ… مگر آپ اس سے ایک بار ہی تو ملے ہیں‘ پہلی ہی ملاقات میں کسی کے لیے آپ رائے قائم نہیں کرسکتے شاہ زیب نے اپنے دوست کے لیے مجھ سے بات کی تھی ناں آپ کو یاد ہے۔‘‘ آرزو نے محسن کو یاد دلایا۔ محسن کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
’’ہاں مگر آپ نے جواب تو نہیں دیا ناں…‘‘
’’محسن میں نے جواب تو نہیں دیا مگر شاہ زیب کو تو آپ جانتے ہیں وہ ایک دم ناراض ہوجاتا ہے۔ اسے راضی کرنا بڑا مشکل ہے۔‘‘ آرزو نے خیال ظاہر کیا۔
’’آرزو بیگم آپ یہ سب کچھ اس خادم خاکسار کے لیے چھوڑ دیں‘ یہ اپنا شعبہ ہے۔‘‘ محسن کے لہجے میں اعتماد اور یقین تھا۔
’’ٹھیک ہے میں رات کو شاہ زیب سے بات کروں گی۔‘‘
’’جیتی رہو… دیکھو مجھے سرخرو کرنا بچوں کے سامنے ورنہ ان لوگوں کے دل ٹوٹ جائیں گے‘ پیار کرنے والے سچے اور پرخلوص بے غرض لوگوں کو اگنور کرنے سے‘ زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے جو بات‘ جو کام‘ ہم کرسکتے ہیں اس سے انکار نامناسب عمل ہے لوگوں کو خوشیاں بانٹو اس سے اللہ تمہارے نصیب کی خوشیاں دگنی کردیتا ہے‘ دل توڑنا‘ محبت ٹھکرانا‘ خلوص کو نہ پہچاننا زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے۔‘‘ محسن نے ایک لمبی سانس لی اور آرزو کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگے۔ آرزو بے ساختہ ہنس پڑی۔
’’یار تم ہنستی ہو ناں تو لگتا ہے کائنات میں قوس وقزح کے سارے رنگ نکھر آئے۔‘‘ ان کی آواز میں خوشی اور سچے جذبوں کی جھنکار تھی۔
’’مسٹر شاعر صاحب آپ غزلیں لکھیں‘ سچ میں دنیا میں آپ جیسے جتنے بھی لوگ ہیں رات دن آپ سے رابطہ رکھیں گے آپ کی شاگردی قبول کریں گے۔‘‘ وہ ہنس پڑیں۔ ’’آپ بھی موقع سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں ان ڈائریکٹ بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔‘‘
’’آداب عرض ہے‘ آداب عرض ہے۔‘‘ محسن نے آداب بجا لاتے ہوئے کہا۔ ’’بس ہمیں آپ جیسی انمول قیمتی اور باذوق ہستی کی تلاش تھی پوری تو ہوگئی مگر حاصل کرنے میں بڑا لمبا صبر آزما کھٹن سفر جاری ہے۔‘‘ محسن کی آنکھوں میں اب بھی نوجوانوں کی طرح اپنائیت اور پیار بھرا تاثر ہوتا آرزو مسکرانے لگی۔
’’آپ بھی ہم سے بہت پیار کرتی ہیں لیکن مجھ سے تھوڑا کم کرتی ہیں آپ کے آگے مجبوریاں ہی مجبوریاں ہیں جو آپ کی شدت کو کم کردیتے ہیں مگر ہم آپ کو ایک بڑی اہم بات بتانا چاہتے ہیں کہ ’’میں تو مرکر بھی میری جاں تجھے چاہوں گا۔‘‘
Y…m…Y
’’مما عظمان کی امی اور بھابی سنڈے کو آرہے ہیں۔‘‘
’’اچھا… آنے دو۔‘‘ آرزو نے تسبیح کو چوم کر تکیے کے پاس رکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’اچھا ہے مرد حضرات بھی ایک دوسرے سے مل لیں گے۔‘‘
’’آپ نے بڑے بھیا سے بات کی ایسا نہ ہو کہ بعد میں وہ کوئی مسئلہ کھڑا کردیں۔‘‘ الوینہ کی آواز میں پریشانی نمایاں تھی۔
’’ارے تم اس کی فکر نہ کرو حسن انکل نے اس سے بات کرلی‘ خاصی حد تک اسے مطمئن بھی کردیا شاہ زیب سمجھ رہے ہیں کہ محسن شاید پہلے سے عظمان کو جانتے ہیں‘ انہوں نے اس سے بات ہی کچھ اس انداز میں کی۔‘‘
’’اللہ کتنے پیارے ہیں انکل… اللہ تعالیٰ ان کے مصائب اور مسائل جلد حل کردے مجھے تو بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔‘‘ وہ بے حد خوش اور مطمئن تھی۔
’’مما… جب وہ لوگ آئیں تو انکل کو بھی بلوالجیے گا۔‘‘ اس نے مشورہ دیا آرزو نے اسے کوئی جواب نہیں دیا لیکن انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بچے کچھ مائنڈ نہ کرلیں۔
لیکن جب وہ لوگ آئے تو عظمان کے والد نے انکل کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے شاہ زیب کو مخاطب کیا۔
’’بیٹا آپ کے انکل نہیں ہیں بھئی ان کی کمی محسوس ہو رہی ہے‘ عظمان نے بڑی تعریف کی ہے ان کی۔‘‘ شاہ زیب نے محسن کو فون کیا اور تھوڑی ہی دیر میں بہت ہی پُرسکون اور دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوتی رہی۔ نیم رضامندی دونوں طرف سے تھی‘ فائنل نہیں ہوا تھا‘ ان لوگوں کا یہی خیال تھا کچھ عرصہ ایک دوسرے کے بارے میں معلومات کریں گے لیکن یہ بات طے تھی کہ جمال احمد اور ان کی بیوی اس سال حج پر جانے سے پہلے یہ فرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔
’’دیکھیے انکل میرا خیال ہے کہ یہ تو بہت جلدی ہوجائے گا‘ ہمیں کچھ وقت چاہیے۔‘‘ انہوں نے آرزو کی طرف دیکھا۔ ’’کیوں مما آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ انہوں نے ماں کی مرضی معلوم کی۔
’’جی بھائی صاحب شاہ زیب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’اچھا ہم بھی گھر جاکر مشورہ کرتے ہیں۔‘‘ عالیہ بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
’’بیٹا آپ بھی تو کچھ بولیں ناں…‘‘ محسن نے مزنہ سے کہا تو وہ بولی۔
’’انکل اب آپ بزرگوں کے درمیان میں کیا بولوں۔‘‘ وہ الوینہ کی طرف دیکھ کر بولی۔
’’اگر آپ لوگ اجازت دیں تو میں ان سے اندر جاکر مل لوں…‘‘ اس نے الوینہ کی طرف اشارہ کیا۔
’’ارے کیوں نہیں بھئی… اب ان شاء اللہ یہ آپ ہی کی ہونے والی ہیں بالکل آپ اندر جاکر خوب گپ شب کریں۔‘‘ محسن نے شفقت سے کہا ان کا تعارف یہ کہہ کر کروایا گیا تھا کہ یہ اسد کے کزن ہیں۔
اور پھر جلد ہی الوینہ مسز عظمان بن کر گھر سے رخصت ہوئی اور نبیہا مسز شاہ زیب بن کر آرزو کے گھر آگئی۔ چپکے سے کچھ دن زندگی میں سے گھٹ گئے لمحہ لمحہ ہم موت کے قریب اور زندگی سے دور ہورہے تھے۔ کچھ دنوں سے آرزو بے حد ڈسٹرب تھی وہ جیسے جیسے دینی کتابوں کا مطالعہ کرتیں ویسے ویسے ان کے خیالات میں ان کی سوچوں میں سرد جنگ ہونے لگتی‘ انہیں لگتا کہ وہ محسن سے ملتی ہیں‘ دکھ سکھ شیئر کرتی ہیں۔ بالکل پاکیزہ اور اچھے خیالات ایک دوسرے کے بارے میں رکھتے ہیں ایک دوسرے کی تکلیف اور مسائل شیئر کرتے ہیں… یہ سب ٹھیک نہیں ہے‘ ایک روز محسن آئے اور پھر انہوں نے حسب معمول وہی سوال دہرایا۔
’’آرزو اب تو صرف ایک ہی بیٹا شادی کے لیے رہ گیا‘ بیٹی بھی رخصت ہوگئی‘ بہو بھی بیٹے کو لے کر الگ ہوگئی‘ خدانخواستہ کل کو اگر جہاں زیب کی بیوی بھی بڑی کی طرح نکلی تو… تم تنہا رہ جائوگی‘ کیا تم زندگی گزار سکوگی تنہائی کے دن وراتیں وہ وحشتیں اور لمحات… تم بہت زیادہ سوچ رہی ہو‘ لوگ کیا کہیں گے؟ دنیا کیا کہے گی’ بچے کیا کہیں گے؟ ارے بھئی ہم بالکل خاموشی سے شرعی طور پر نکاح کرکے میاں بیوی بن جائیں گے‘ میری صحت اپنی صحت دیکھو… ہمیں اس وقت ایک دوسرے کی ضرورت ہے… ہمارا تعلق روحانی ہوگا… اس وقت تم اور میں زندگی کے اس اسٹیج پر ہیں جہاں مرد‘ عورت‘ دونوں کو ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے‘ پہلے بیٹیاں پرائی ہوتی تھیں مگر اب… بہوئیں بھی صرف پرائی نہیں ہوتی وہ تو بیٹوں کو بھی لے کر اپنی الگ دنیا بسالیتی ہیں۔ کچھ بولو یار… کچھ تو بولو… کم آن یار جو تمہارے دل میں ہے بولو اور ایک فیصلہ کردو…‘‘
’’محسن آپ مائنڈ تو نہیں کریں گے…؟‘‘ آرزو کا لہجہ دھیما اور دکھی تھا۔
’’نہیں بھئی تم کچھ بولو تو میں تمہاری باتوں کو کیوں مائنڈ کروں گا۔‘‘ محسن بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے بولے۔ ان کی چھٹی حس بہت تیز تھی اور بالآخر آرزو نے کہہ دیا۔
’’ہم دونوں کا یہ رابطہ‘ یہ نوک جھونک‘ شرارتی مکالمات کا تبادلہ مناسب نہیں ہے‘ ہم زمانے والوں کی زبانوں کو نہیں روک سکتے‘ آپ اطمینان سے ٹھنڈے دل سے غور تو کریں…‘‘ آرزو نے بات مکمل کرکے سر جھکالیا۔ چند لمحے بے آواز گزر گئے۔ نہایت ہی دھیمے لہجے میں محسن نے کہا۔
’’اوکے آپ کا مطلب ہے کہ میں آپ سے نہ ملا کروں‘ ٹھیک دراصل مجھے یہ یقین کامل تھا کہ آپ سنجیدگی سے میرے پرپوزل پر غور کریں گی‘ چلیں‘ جیسے آپ خوش رہیں میں تو آپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں‘ آپ کی ساری پریشانیاں‘ سارے مسائل‘ سارے دکھ میں لے لوں اور آپ کو بالکل ریلکس کردوں‘ اچھا اب میں چلتا ہوں۔‘‘ تھکے تھکے قدموں سے وہ بیرونی گیٹ کی طرف بڑھ گئے۔
محسن کو گئے کافی دیر ہوگئی تھی مگر آرزو اسی جگہ بیٹھی تھیں انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کی زندگی میں کچھ باقی نہ رہا…
’’میں نے محسن کے ساتھ یہ اچھا نہیں کیا‘ وہ بے حد جذباتی ہیں کہیں کوئی غلط قدم نہ اٹھالیں… مگر… میں نے بھی… کچھ سوچ کر یہ فیصلہ کیا۔‘‘ وہ دیر تک بہت ڈسٹرب رہیں پھر واش بیسن کی طرف بڑھ گئیں‘ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے آنکھوں اور چہرے پر مارے جلتی آنکھوں اور سلگتے جذبوں میں کچھ کمی محسوس ہوئی‘ پھر انہوں نے اپنے مالک حقیقی کے حضور سربسجود ہوکر خوب گڑگڑا کر رو رو کر تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگی‘ اپنے لیے محسن کے لیے بہت دیر تک ہاتھوں کے کٹوروں میں ندامت کے آنسو گراتی رہیں مگر کب تک جب تک سانس کی ڈوری روح سے جڑی ہے تب تک‘ گھر گرہستی کھانا پینا‘ سونا‘ جاگنا قدرت اور فطرت کے اصولوں کو نبھانا ہے‘ آج چار دن ہوگئے تھے دونوں میں سے نہ فون کیا نہ میسج… آرزو بہت ڈسٹرب تھی بار بار آنکھوں کے کنارے بھیگ رہے تھے فضا‘ دھندلا سی گئی تھی ہر چیز سے اداسی جھلک رہی تھی۔ آرزو نہ چاہتے ہوئے بھی منتظر تھیں کہ شاید اب محسن کا میسج آیا ہوگا کہ شاید اب آیا ہوگا‘ مگر ہر بار ناکامی ہورہی تھی۔
سونے سے قبل ایک بار پھر موبائل چیک کررہی ہیں کہ شاید گڈ نائٹ کا میسج کیا ہو؟ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ان کا گڈ مارننگ چیک کرتیں عجیب احمقانہ سوچ تھی مگر یہ کیا چوتھے ہی روز لمبا چوڑا میسج آیا کہ ملوں گا نہیں‘ مگر پلیز صرف میسج پر رابطہ رکھو‘ کال بھی نہیں کروں گا‘ مگر پلیز اس سلسلے کو منقطع نہ کرو… اور آرزو آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرائی چلو… کچھ دن یہ بھی برداشت کرلیتے ہیں‘ جب خود کے ذہن میں کوئی بات آئے گی تو خود ہی مناسب سمجھ کر فیصلہ کرلیں گے… سچ پوچھو تو… میری حالت بھی ان سے مختلف نہ تھی‘ مگر کچھ روز اور گزر جاتے تو شاید اس کیفیت میں کمی آجاتی۔
Y…m…Y
آج کل الوینہ میکے آئی ہوئی تھی ڈلیوری کے سلسلے میں‘ آرزو یوں کچھ دنوں کے لیے مصروف ہوگئیں‘ الوینہ نے آرزو سے محسن کے بارے میں معلوم کیا۔
’’مما انکل کیسے ہیں‘ کتنے دنوں سے نہیں آئے خیر تو ہے؟‘‘
’’ہاں ٹھیک ہیں۔‘‘ مختصر سا جواب دے کر وہ کمرے سے نکل گئیں۔ دو تین دن اور گزر گئے۔
’’مما آپ نے انکل کو بتایا نہیں کہ میں یہاں آئی ہوئی ہوں؟‘‘
’’نہیں… بس کام میں بھول گئی۔‘‘ انہوں نے بیٹی کا اشتیاق دیکھ کر اسے مطمئن کرنا چاہا‘ دوسرے روز الوینہ نے محسن کو فون کیا اور گلہ کیا کہ آپ اتنے دنوں سے کیوں نہیں آئے؟ محسن نے شفیق لہجے میں اسے اپنی مصروفیت اور صحت کے بارے میں تفصیل بتائی جسے سن کر الوینہ ڈسٹرپ ہوگئی۔
’’مما… آپ نے مجھے بتایا تک نہیں کہ انکل اتنے بیمار ہیں ان کو ہارٹ پرابلم ہے ڈاکٹر آپریشن کا مشورہ دے رہے ہیں اور وہ صرف اس لیے نہیں کروا رہے کہ ان کی دیکھ بھال کون کرے گا‘ کچھ دنوں کے لیے منیر بابا کو ان کے ہاں بھیج دیجیے ناں… ایسے میں ہم کام نہیں آئیں گے تو کون آئے گا؟ مما انہوں نے ہر قدم پر ہماری مدد کی‘ میری شادی میں ان ہی کا ہاتھ تھا جو عظمان سے ہوئی ورنہ بڑے بھیا آپ کو اور مجھے کچھ بولنے ہی نہیں دیتے اور مجھے عظمان کبھی نہیں ملتے۔ مما ان کے بڑے احسانات ہیں ہم پر۔ کیا آپ نے انہیں گھر آنے سے منع کیا ہے؟‘‘ الوینہ بچی تو تھی نہیں کہ کچھ نہ سمجھتی‘ آرزو نے کوئی صفائی پیش نہیں کی… الوینہ بھی میاں کے آنے پر چپ ہوگئی۔ اب آرزو کیا صفائی پیش کرتیں یہی کہ وہ تمہارے انکل جنون کی حد تک تمہاری مما کو پسند کرتے ہیں‘ وہ نکاح کرنا چاہتے ہیں‘ میں کہیں ڈگمگا نہ جائوں کہیں جذبات میں آکر فیصلہ ان کے حق میں نہ دے دوں‘ اور پھر سب سے بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ دنیا والوں سے لمبی زبان والوں سے غلط سوچنے والوں سے ڈرتی تھیں‘ اس وجہ سے میں نے بھی بڑی مشکل سے دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ مناسب سمجھا۔
شام سے الوینہ کی طبیعت خراب ہورہی تھی۔ انہوں نے ساری تیاری مکمل کرلی تھی کہ رات کے کسی پہر بھی الوینہ کو ہاسپٹلائز کرنا پڑے گا۔ دوسرے روز الوینہ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا سب سے پاکیزہ شفیق اور عظیم رشتہ عطا کیا‘ اب وہ بھی صاحب اولاد ہوگئی تھی سب کی خوشی کی انتہا نہیں تھی آروز نے مٹھائی منگوائی‘ ہاسپٹل میں تقسیم کی… رات گئے تک عزیز رشتہ دار آتے رہے جو کسی مجبوری میں نہ آسکے ان کی کالز آتی رہیں‘ اس طرح دو تین دن گزر گئے۔ شاہ زیب گھر سے کیا الگ ہوئے اس گھر سے لاتعلق سے ہوگئے‘ مدتوں میں ایک آدھ بار اکیلے ملنے آجاتے تین بچے تھے مگر دادی‘ پھوپی اور چچا ان سے بہت دور تھے۔
الوینہ نے محسن انکل کو فون کیا‘ انہوں نے فوراً رسپانس دیا‘ ان کے لہجے سے بلا کی شفقت اور خوشی محسوس کرکے الوینہ نے انہیں گھر آنے کی دعوت بھی دی۔ الوینہ کی چھٹی ہوئی وہ گھر پہنچی تو گھر پر آنے والوں میں سب سے پہلے محسن آئے‘ بڑی دیر تک الوینہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر دعائیں دیتے رہے‘ بچے کو گود میں لے کر پیار کیا‘ دعائیں پڑھ کر دم کیں آرزو ایک بار کمرے میں آکر ملیں پھر کچن میں چلی گئیں‘ کچھ دیر بیٹھ کر محسن جانے لگے تو آرزو نے کھانے پر روک لیا۔ کھانے سے فارغ ہوکر آرزو نے کافی پیش کی۔
آرزو اور محسن کافی پی رہے تھے ایک دو بار دونوں کی نظریں ملیں دونوں کے لب خاموش تھے مگر آنکھوں کی داستان دونوں سنا رہے تھے اور سمجھ بھی رہے تھے۔ آخر خاموشی ایک بار پھر محسن ہی نے توڑی۔
’’آرزو کیسی ہو‘ کمزور لگ رہی ہو‘ کیا طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟‘‘
’’جی میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’اچھا تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں…‘‘ چند لمحے خاموشی کی نذر ہوگئے۔ ’’میں آج تم سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں… شاید آخری بار۔‘‘ ان کے لہجے کا شکستہ رنگ صاف نمایاں تھا۔ ’’تمہیں شاید کیا بلکہ یقینا اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ میں تم کو تقریباً پندرہ سال سے پسند کرتا ہوں‘ اتنا زیادہ اتنی شدت سے کہ تم اسے میرا جنون کہہ سکتی ہو مگر نکاح کا ارادہ چند سال پہلے تمہارے سامنے رکھا‘ اب بتائو اب تو ماشاء اللہ الوینہ بھی ماں بن گئی ہے‘ تمہارا ایک عذر تو ختم ہوا… بیٹے بھی اپنی زندگی میں مگن ہیں۔‘‘ ان کی اس بات پر آرزو نے بے چینی سے پہلو بدلہ اور بولی۔
’’محسن پلیز ایسا تو نہ سوچیں‘ میرے لیے۔‘‘ ان کے لہجے میں گلہ تھا۔
’’بس اتنا کہہ دو… ہاں یا نا بس…‘‘ وہ غور سے آرزو کو دیکھ رہے تھے آرزو نے نفی میں گردن ہلائی۔
’’تو پھر سنیے آپ کے اس جواب کے بعد مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔‘‘
’’جی کہیے…‘‘ آرزو سمجھیں کہ وہ بہت ناراض ہوں گے مگر انہوں نے نہایت ہی آہستگی سے کہا۔
’’جب آپ نے مجھے منع کیا تھا تو میں نے یہ سمجھا تھا کہ شاید میں جی نہ پائوں گا‘ مگر دیکھو آپ کے سامنے موجود ہوں‘ کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا… میں سمجھا تھا کہ آپ کو ایک روز ضرور قائل کرلوں گا مگر یہ میری بھول تھی۔ میں ایک پاکیزہ روحانی رشتہ قائم کرنا چاہ رہا تھا بے لوث‘ بے غرض‘ بغیر کسی لالچ کے صرف زندگی کے آخری لمحات میں آپ کا ساتھ چاہتا تھا ایک طویل بڑا ہی کٹھن راستہ طے کیا… یہ میری بدنصیبی سمجھیں میں اتنے طویل انتظار کے بعد ہار ہوں… اب آپ کو میری بھی ایک شرط ماننی ہوگی کہ اب‘ نہ کوئی میسج… نہ بالمشافہ ملاقات ہوگی… آپ نے سچ کہا تھا جس دن سے آپ نے مجھے رابطہ توڑنے کے لیے کہا تھا میں نے اس روز سے دینی کتابوں کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا شروع کردیا تھا میں نے بہت سارا مواد جمع کیا… آپ کی بات بالکل صحیح تھی میرا اور آپ کا کیا رشتہ ہے؟ کس لیے ہم ملتے ہیں باتیں کرتے ہیں؟ ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہیں؟ ایک دوسرے کا خیال رکھتے فکر کرتے ہیں؟ یہ بالکل بھی مناسب نہیں ہے؟ اسی کو میں مناسب کرنا چاہتا تھا؟ شرعی قانونی میاں بیوی بن جاتے تو… مگر… آپ نے جو مناسب سمجھا وہی فیصلہ کیا لہٰذا…‘‘ وہ تیزی سے اٹھے اور کمرے سے نکل گئے۔
’’آرزو تم آخری بار مجھے اللہ حافظ نہ کہہ سکیں مجھے پتہ ہے تم رو رہی تھیں‘ آنکھیں نیچے اور چہرہ جھکا ہوا تھا‘ تم نادم تھیں‘ بے بس تھیں‘ کیونکہ تمہیں اپنی نہیں زمانے کی فکر تھی‘ لوگوں کا ڈر تھا‘ معاشرے کی اٹھتی انگلیوں کا خیال تھا‘ میرا اور اپنا خیال نہ تھا‘ میری اور اپنی فکر نہیں تھی میرے اور اپنے جذبات کا احساس نہیں تھا‘ آج تم اتنی شدت سے یاد آرہی ہو۔‘‘ رات گزرتی جارہی تھی محسن کروٹیں بدل رہے تھے‘ بہت بے چین ہورہے تھے۔ آرزو کو جو کہنا تھا کہہ دیا اسے بالکل بھی خبر نہ ہوئی کہ اس نے اپنے لفظوں کے تیروں سے باپ کا سینہ چھلنی کردیا‘ دل ٹکڑے ٹکڑے کردیا‘ دبی ہوئی محبت کی راکھ میں جو چنگاریاں دبی تھیں پھر سے بھڑک اٹھیں اب تو بلندی تک جلتا ہوا الائو بھڑک اٹھا‘ ان کے دل میں ہلکا سا درد اٹھا صبح تک ان کی طبیعت بہت بگڑ گئی‘ شہیم آفس جاچکا تھا‘ گھر میں رکھی میڈیسن استعمال کی ان کو پتہ تھا کب کیا کھانا ہے‘ طبیعت زیادہ بگڑے تو زبان کے نیچے ٹیبلٹ رکھ لیتے‘ خود ہی اپنا علاج کرلیتے‘ کیا کرتے اکیلے تھے سوائے اللہ کے ان کا اپنا کوئی نہ تھا۔ بہت حد تک انہوں نے خود پر قابو پالیا تھا‘ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ اب آرزو کہاں ہے‘ نہ وہ کبھی ہاسپٹل گئے نہ گھر‘ پھر رابطہ ختم کیے ایک لمبا وقت گزر گیا تھا مگر آج… آج شہیم نے محسن علی رضا کو ماضی میں پھینک دیا تھا‘ ان کے وجود پر ہی نہیں بلکہ دل ودماغ… احساسات وجذبات امیدوں کو جگا دیا تھا۔
Y…m…Y
شہیم نے آج اس طرح آرزو کے لیے نفرت کا اظہار کیا جس پر محسن کو شدید اذیت اور ذہنی ٹینشن ہوئی تھی بڑی مشکلوں سے اللہ سے تڑپ تڑپ کر یہ دعائیں مانگی تھیں کہ وہ انہیں صبر اور برداشت دے حوصلہ دے‘ کہ وہ آرزو کو بھولنے کی کوشش میں کامیاب ہوجائیں بہت ہی مشکل سے خود کو نارمل کیا تھا۔ آرزو کو بھولے تو نہیں تھے لیکن کسی حد تک اپنے ذہن اور دل کو سمجھا لیا تھا‘ مگر… مگر آج… شہیم نے پھر انہیں بے چین کردیا… ماضی کا ہر لمحہ ان کے ذہن کی اسکرین پر ایک فلم کی طرح چل رہا تھا… آرزو نے میری پیشکش کیوں قبول نہیں کی؟ کیوں اتنا عرصہ مجھے آس اور امید میں رکھا؟ مگر نہیں ایک بار آرزو نے وعدہ بھی کیا تھا دبے لفظوں میں کھل کر نہ کہہ سکی تھی۔ پگلی… بزدل… اب تو باآسانی ہاں کرسکتی ہے ہم چھپ کر نکاح کرسکتے ہیں ضروری تو نہیں کہ ہم ساری دنیا کے سامنے باقاعدہ اعلان کریں۔
’’آرزو تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا… مجھے یقین ہے کہ تم بھی ریلکس نہیں ہوگی‘ میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں‘ ایک روز تم بھی میری طرح ٹوٹ کر بکھروگی تم نے خود پر جھوٹا خول چڑھا رکھا ہے تم دوسروں کو نہیں خود کو دھوکہ دے رہی ہو فریب دے رہی ہو… نکل آئو اپنے بناوٹی خول سے زندگی کو کٹھن نہیں سہل بنائو۔ میں اب مزید اور ٹینشن اور دکھ نہیں سہہ سکتا… بڑی محنت‘ جدوجہد اور تگ ودو کی ہے زندگی کے اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا اور آج… ایسے مقام پر کھڑا ہوں جہاں چہار سو میرے لیے مشکلیں اور مخالفتیں ہیں‘ میرا اپنا کوئی بھی نہیں ہے‘ آرزو میں نے تمہیں دیکھا‘ پرکھا‘ جانا اور اپنی امیدوں اور سوچوں سے بڑھ کر پایا تب… میں نے خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھا مگر یہ خوشی تو اتنے مختصر عرصے کے لیے میری سہیلی بنی تھی‘ میری زندگی کے دیے کو توانائی ملی تھی‘ میری روح کی سرشاری بہت قلیل عرصے کے لیے تھی‘ جیون کی اس شب تاریک کو ختم کردو… میری تمنا‘ میری آرزو… میری خواہش میری امید کو پورا کردو… آرزو میں زندگی کے اس ادھورے پن کو ختم کرنا چاہتا ہوں تم… اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئو… مجھے سمیٹ لو… آرزو… میں بکھر گیا ہوں…‘‘ سوچتے سوچتے محسن کی حالت بگڑ گئی‘ شہیم تو جاچکا تھا بیرونی گیٹ کھلا تھا۔
محسن کے دفتر کے دوست پرویز کسی کام سے ادھر آئے تو انہوں نے سوچا کہ چلتے چلتے محسن سے ملتا جاؤں گھر پر ہوں گے تو ساتھ اکھٹے ہی دفتر چلے جائیں گے‘ جیسے ہی انہوں نے بیل بجائی‘ محسن ہوش میں آئے‘ بڑی مشکل سے انہوں نے کہا کہ جو بھی ہے اندر آجائو… اور تھوڑی ہی دیرمیں پرویز پڑوس کے لڑکے کی مدد سے محسن کو ہاسپٹل لے کر پہنچے۔ چند گھنٹوں میں محسن کے دل کی بغاوت پر ڈاکٹرز نے قابو پالیا تھا۔ شہیم شام کو گھر آیا تو پڑوس کی آنٹی نے ساری تفصیل سنائی۔
شہیم نے فوراً ہاسپٹل جانا مناسب نہیں سمجھا‘ رات دیر سے وہ باپ کی عیادت کی غرض سے ہاسپٹل پہنچا… محسن کی طبیعت کافی حد تک بہتر ہوچکی تھی‘ وجہ تھی آرزو وہ شام کو بڑی شدت سے یاد کررہے تھے‘ کاش آرزو میری زندگی میں ہوتی تو میں اس وقت تنہا نہیں ہوتا وہ حسرت سے آنے والے لوگوں کو دیکھ رہے تھے کیسے مائیں بیویاں سب آرہی ہیں اور… میں…
آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
آجا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
ابھی قطعہ ختم ہی ہوا تھا محسن کی نظریں وارڈ کے دروازے پر لگی ہوئی تھیں۔ وہ دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے واہ مولا تیرا کرم ہے ان کے چہرے پر تازگی سی آگئی وہ آنکھوں میں ڈھیر سارا پیار لیے آرزو پر فدا ہورہے تھے آرزو ہمیشہ کی طرح لاکھ برداشت کے باوجود خود پر قابو نہ پاسکی دو موٹے موٹے آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔
’’پگلی… کیا ہوا بھئی‘ بالکل ٹھیک ہوں‘ تمہارا محسن اتنا کمزور اور بزدل نہیں ہے کٹھن سے کٹھن حالات کا مقابلہ ڈٹ کر کرتا ہے… ارے کیا تم اکیلی آئی ہو؟‘‘ جیسے انہیں اچانک یاد آیا۔
’’نہیں جہاں زیب کے ساتھ بائیک پر آئی ہوں۔‘‘
’’اچھا تو پھر ہمارا بیٹا کہاں ہے؟‘‘
’’وہ آپ کے لیے فروٹ لے رہا تھا‘ میں تیزی سے…‘‘ وہ کہتے کہتے رکیں۔
’’کیوں بھئی تیزی سے کیوں آرہی تھیں‘ آپ آہستہ آہستہ بھی آسکتی تھیں۔‘‘ ان کے شریر لہجے اور انداز پر وہ بے ساختہ ہنس دیں۔
’’جیو ہزاروں برس میں تمہیں ہمیشہ ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتا ہوں اسی طرح ہنستی رہا کرو بہت اچھی لگتی ہو۔‘‘
’’اچھا یہ بتائیں اب آپ کس رشتے سے اس قسم کی باتیں کررہے ہیں… کیا رشتہ ہے آپ کا اور میرا؟‘‘ محسن حسب عادت قہقہہ مار کر بولے۔
’’بہت ہی عقل مند ہو گئی ہو ہماری ہی بات ہم پر دے ماری‘ سچی ایک بات بتائو تمہیں میں نے کہنے کو تو کہہ دیا مگر میں بھی زیادہ عرصے تک خود پر قابو نہیں رکھ سکا… اور مجھے پورا پورا یقین ہے یہ عرصہ تم نے بھی بہت اذیت میں گزارا ہوگا۔‘‘
’’جہاں زیب آگئے بیٹا‘ کیسے ہیں آپ۔‘‘ محسن نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
’’انکل جی‘ بالکل فرسٹ کلاس۔‘‘ جہاں زیب فروٹ ٹرالی پر رکھ کر محسن کے سامنے بینچ پر بیٹھتے ہوئے بولے۔
’’ارے بھئی اب آپ ہمارے بیٹے کی دلہنیا لے آئیں۔‘‘ انہوں نے آرزو سے کہا تو جہانزیب ہنس پڑے۔
’’نہیں انکل میں ایسے ہی ٹھیک ہوں‘ آنے والی اگر بھابی کی طرح ہوئی تو میری مما بالکل اکیلی ہوجائیں گی اور میں مما کو کبھی اکیلا نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ اس نے آرزو کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ان کے گال سے اپنا گال ملا لیا تو محسن نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دے ڈالیں۔
اچھا ہوا کہ ادھر آرزو اور جہانزیب ہاسپٹل سے باہر نکلے ادھر شہیم وہاں پہنچا اگر وہ آرزو کو بیٹھا دیکھتا تو آپے سے باہر ہوجاتا بہت ممکن ہے کہ ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا… محسن نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکرادا کیا۔
Y…m…Y
آج ایک مدت بعد وہ اپنی میز پر بیٹھی تھیں دسمبر کی آخری تاریخیں تھیں‘ ہوا میں خنکی بہت تھی اپنے گرد اچھی طرح سے شال لپیٹے وہ نجانے کیا کچھ صفحہ قرطاس پر بکھیر رہی تھیں۔
دسمبر کے مہینے میں
اترتی شام سے پہلے
میری یخ بستہ آنکھوں میں
خموشی رقص کرتی ہے
توتیری یاد کی پائیل
یوں میرے کان میں آکر
مسلسل چہچہاتی ہے
توپھریکدم خموشی کا
تسلسل ٹوٹ جاتا ہے
تو ایسے میں کوئی کوئل
بڑے ہی کرب سے کوکے
تویوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے بے سبب کوئی
کسی کو یاد کرتا ہے !
تھوڑی دیر کے لیے آرزو نے آنکھیں موند کر کرسی کی پشت پر سر ٹکایا۔ دل ودماغ میں عجیب قسم کی جنگ چل رہی تھی خود ہی سوال کرتی خود ہی جواب دیتیں‘ کبھی دل بغاوت پر اتر آتا تو دماغ الجھ پڑتا‘ سوچوں کے اس تار عنکبوت میں وہ بے بس مکڑی کی طرح بھٹک رہی تھیں۔
ان دنوں الوینہ کچھ دنوں کے لیے آئی ہوئی تھی‘ اس نے غور کیا کہ مما کچھ زیادہ ڈسٹرب ہیں جب سے انکل ہاسپٹلائز ہوئے ہیں مما ہر وقت کچھ سوچتی نظر آتی ہیں۔
Y…m…Y
آرزو ہاسپٹل میں بھی بہت ڈسٹرب تھیں‘ فارغ وقت میں انہوں نے سعد سے محسن کا کیس ڈسکس کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ انہیں ابھی کچھ دن ہاسپٹلائز رہنا چاہیے‘ مناسب دیکھ بھال اور مکمل آرام تو ملے گا… کافی دیر تک اسی موضوع پر باتیں کرتے رہے۔ گفتگو ختم ہوئی تو سعد نے آرزو کو مخاطب کیا۔
’’ڈاکٹر آرزو… میں جس دن سے یہاں آیا ہوں اسٹاف میں سب سے اچھی آپ لگتی ہیں‘ دراصل میری آپا بھی ڈاکٹر ہیں اور آج کل لندن میں ہوتی ہیں‘ آپ کی اور ان کی شخصیت میں بہت مشابہت ہے اور جب بھی میں آپ سے ملتا ہوں بات کرتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ اپنی آپا سے بات کررہا ہوں…‘‘ آرزو نے مسکرا کر سر ہلایا۔
’’تو تم مجھے آپا ہی سمجھو جب بھی کوئی مسئلہ ہو کوئی ضرورت ہو بلاجھجک مجھ سے ڈسکس کرسکتے ہو۔‘‘ مسکراتی ہوئی آرزو نے شفقت سے سعد کا کندھا تھپتھپایا۔
’’موسٹ ویلکم آپا۔‘‘ سعد نے ان کے آگے خم ہوتے ہوئے کہا تو اس کی شرارت پر آرزو ہنس پڑیں۔
سعد کے دل ودماغ میں عجیب سی جنگ ہورہی تھی اور آنکھوں میں آرزو کا افسردہ پریشان پریشان سا وجود… اب اتنا چھوٹا اور ناسمجھ تو تھا نہیں کہ محسن اور آرزو میں پاکیزہ سے رابطہ کو نہ سمجھتا… دونوں ایک دوسرے کو لائیک کرتے ہیں‘ جوان اور بوڑھی محبتوں میں فرق تو ضرور ہوتا ہے شوخ‘ شریر وچنچل لاابالی حرکتیں جوان کرتے ہیں نادانیاں کرتے ہیں‘ حالات اور مسائل کے سامنے پریشان ہوجاتے ہیں‘ جلدی ہارنے لگتے ہیں اپنی انتہا کو پہنچی سرشاری کو ناکام ہوتا دیکھ کر بزرگوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں‘ اپنی منوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں‘ واویلا کرتے ہیں‘ شور مچاتے ہیں‘ مگر… اس کے برعکس پاکیزہ پُرخلوص خاموش محبت کرنے والے اس ایج کے پریمی‘ کتنے مجبور و بے بس ہوتے ہیں وہ بزرگوں کے آگے اپنی محبت کا اظہار تک نہیں کرتے تو اصرار یا ضد کیا کریں گے انہیں تو چھوٹوں سے زیادہ ڈر لگتا ہے کہ وہ… اپنے چھوٹوں کے سامنے… ایسی کوئی بات بھی کریں گے تو ان کی عزت گر جائے گی۔
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عمر‘ رنگ‘ نسل‘ اونچ نیچ‘ امیرغریب نہیں دیکھتی‘ بس ہوجاتی ہے فرق تو صرف یہ ہے کہ ایک میچور‘ ہے دوسری نہیں ہے جوانی کی محبت میں جلد بازی ہوتی ہے وہ لمحوں میں فیصلہ چاہتی ہے‘ جھٹ پٹ کی قائل ہے جلد ہی ناامید بھی ہوجاتی ہے‘ یہی جذبے انہیں اکثر ناکام بنادیتے ہیں۔ میں کل آپا سے تفصیلی بات کروں گا‘ آپا سے کروں یا محسن صاحب سے… وہ سوچتے رہ گئے۔
حسن اتفاق دیکھیں کہ اگلے روز سعد کی شاپنگ سینٹر میں محسن سے ملاقات ہوگئی‘ انہوں نے موقع غنیمت جانا دعا سلام کے بعد انہوں نے چائے کی آفر کی اور دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھ گئے تھے۔ سعد ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اصل موضوع کی طرف آئے۔
’’ویسے محسن صاحب مجھے یہ حق تو نہیں ہے کہ میں آپ سے پرسنل سوالات کروں‘ لیکن نجانے کیوں آپ کی شخصیت مجھے بہت اچھی لگتی ہے اور خاص طور پر آپ کا بیٹا کہنا‘ آپ مجھے ڈاکٹر صاحب نہیں کہتے مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔‘‘ سعد کے چہرے سے بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ واقعی بہت خوش تھے۔‘‘
’’جیتے رہو ایک سگا بیٹا ہے اس نے کبھی ایسا کوئی اظہار نہیں کیا کہ اسے بھی میرا ایسا کہنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ انہوں نے کچھ اس طرح سے ٹھنڈی سانس لے کر کہا کہ سعد تڑپ اٹھے۔
’’محسن صاحب آپ دکھی نہ ہوں ہوسکتا ہے کہ وہ جس گیدرنگ میں رہتا ہو وہ اس قسم کے ہوں… ورنہ آپ کا بیٹا کبھی ایسا نہیں ہوسکتا ان شاء اللہ ایک روز وہ بھی آپ کی محبت اور پیار کا قائل ہوجائے گا۔‘‘ سعد رکے تو محسن نے کہا۔
’’ماشاء اللہ آپ بہت سمجھدار اور اچھے انسان ہیں اور ہاں بھئی مجھے انکل کہا کرو تم مجھ سے چھوٹے ہو۔‘‘ محسن نے مسکرا کر کہا تو سعد نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
’’تھینک یو انکل۔‘‘
’’ ویلکم ینگ مین…‘‘ دونوں مسکرا رہے تھے تب ہی سعد نے موقع جان کر محسن کو مخاطب کیا۔
’’ایک بار پھر میں یہی کہوں گا کہ مجھے شاید آپ سے ایسی باتیں نہیں کرنا چاہیے‘ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے شفقت سے کہا۔
’’ہاں بولو۔‘‘
’’انکل آپ کسی اچھی سی خاتون سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘ وہ ہنس پڑے بڑی ہی درد ناک ہنسی تھی۔
’’بیٹا جی اس عمر میں کون شادی کرے گا مجھ سے۔‘‘
’’ارے واہ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ… دو تین کیس ایسے میں نے دیکھے ہیں۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ محسن نے اچھا کو طول دے کر کہا۔
’’ارے بھئی میں آپ کو ان لوگوں سے ملوائوں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں یقین تھا۔ ’’آپ کی نظروں میں ایسی کوئی اچھی سی خاتون نہیں ہیں آپ جاب بھی کرتے ہیں ماشاء اللہ ابھی بھی اسمارٹ اور گریس فل ہیں کوئی گریس فل خاتون ڈھونڈوں آپ کے لیے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے محسن کی طرف دیکھنے لگے۔
’’ارے جان عزیز آپ ڈھونڈیں گے ایک ہی تو تھی ہمارا انتخاب ہم نے پسند کرلی تھی اور پسند کیے ہوئے طویل عرصہ گزر گیا جب موقع دیکھ کر اظہار کیا تو اب خاتون کا نیگٹو جواب جذبات کو کچل گیا ہم اس کے بغیر کسی اور کو اپنانے کا ارادہ تو دور سوچنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے… بیٹا جی آپ کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ سعد کو خاموش بیٹھا دیکھ کر محسن نے قہقہہ لگا کر اسے چونکایا۔ سعد نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ محسن نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکتے ہوئے کہا۔
’’میں بتائوں تم کیا سوچ رہے ہو؟ یہی نا کہ یار انکل کو دیکھو اس عمر میں عشق کرنے چلے‘ وہ شیریں فرہاد‘ لیلیٰ مجنوں جیسے یادگار پریمی گزرے ہیں ان پر بھی بازی لے گئے… یہی ناں۔‘‘ اور پھر محسن نے اپنی زندگی کی داستان سعد کو سنا ڈالی اب تو سعد نے مکمل فیصلہ کرلیا کہ انہیں کچھ بھی کرنا پڑے وہ کریں گے۔ انہوں نے کھڑے ہوتے ہوئے سعد کا بازو تھپتھپایا…
’’اب میں چلتا ہوں۔‘‘
’’جی انکل‘ میں بھی گھر جارہا ہوں۔‘‘ دونوں ریسٹورنٹ سے باہر نکلے اور اپنی اپنی سمت چل پڑے۔
سعد سارا راستہ آرزو اور محسن کے بارے میں سوچتے رہے۔ ایسا میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔ یہ شدت‘ چاہت‘ یہ والہانہ پن اور یہ بے بسی اور ناامیدی مجھے سب کچھ بہت اچھا لگا لیکن انکل کی بے بسی پر بہت پیار آیا ایسی میچور محبتیں بھی کامیاب ہونی چاہئے‘ انکل اور آپا کی اس محبت میں کوئی غرض کوئی لالچ نہیں ہے ہاں وجہ ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ دونوں نے ایک نامکمل اور ادھوری لائف گزاری ایک دوسرے کے ساتھ رہے تو مگر ایک ادھورے پن کے ساتھ بے شک سمجھوتا تو کرلیا تھا مگر روح کی تشنگی برقرار رہی مجھے آپا کی زندگی اور ماضی کے بارے میں تھوڑا بہت علم تو ہوگیا ہے‘ وہ بھی وقت اور حالات کو فیس کرنے کا ہنر رکھتی ہیں اور انکل نے بھی بہت کچھ سہہ کر ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر… مگر اب تو بہت ہی کمزور اور بے بس نظر آرہے ہیں‘ اس کے برعکس آپا اپنی چھوٹی سی فیملی میں کس حد تک مصروف تو ہوتی ہیں‘ انکل کے پاس تو جاب کے بعد وہی ماضی‘ وہی حال وہی مستقبل کا خیال… وہی سوچیں‘ زندگی کے نشیب وفراز عبور کرتے کرتے تھک گئے۔ ایک ایک کرکے اپنے ساتھ چھوڑتے رہے‘ تنہا کرتے رہے ایک اپنا سگا بیٹا جسے باپ کا سہارابننا چاہیے تھا۔ ان کا اکیلاپن‘ ان کی تنہائی کو محسوس کرنا تھا مگر وہ تو باپ سے ایسا بدظن ہوا کہ انہیں ہرٹ کرتا اور اگر مخاطب کرتا تو کوئی فرمائش یا پھر آرزو کی توہین… کتنا بدنصیب تھا جو باپ کو دکھی کرتا باپ کی بددعا لیتاہی… اللہ اسے نیک ہدایت دے۔
’’آپا اس ٹوٹے‘ بکھرے‘ بدنصیب انسان کو اپنالیں‘ اس شخص کو سمیٹ لیں اس کو مزید ٹوٹنے سے روک لیں… یہ نامکمل ہے۔ نجانے کیسے یہ جی رہا ہے صبح سے رات تک مصروف رہتا ہے‘ اپنے اور بیٹے کے اخراجات پورے کرتا ہے اور جب اس معاشی بھاگ دوڑ سے بہت زیادہ تھک جاتا ہے مزید ہمت اور طاقت ساتھ نہیں دیتی تو پھر چند دنوں کے لیے ہاسپٹلائز ہوجاتا ہے‘ ڈاکٹرز دل کے آپریشن کا مشورہ دیتے ہیں تو وہ نہیں کرواتے کیونکہ دیکھ بھال اور تیمارداری کرنے والا کوئی نہیں ہے یہ بہت بڑی نیکی ہوگی‘ بہت ثواب ملے گا آپا آپ کو… اس وقت انکل کا ہاتھ تھام لیں… آپا… آپ کی اس مسلسل خاموشی کا میں کیا مطلب اخذ کروں…‘‘ سعد اتنی دیر سے خاموش بیٹھی آرزو سے پوچھ رہا تھا۔
’’سعد میرے پیارے بھائی تم نادان ہو تم نہیں سمجھ رہے ہو کہ اس معاشرے میں عورت کا کیا مقام ہے اگر میں یہ کام کرتی ہوں تو کتنی انگلیاں اور آوازیں میرا تعاقب کریں گی‘ چاروں طرف سے ہنسی کی آوازیں اور قہقہے گونجیں گے‘ پگلے ایک عمر میں یہ چیزیں اچھی لگتی ہیں اس عمر میں نہیں…‘‘ آرزو نے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔ سعد نے کہا۔
’’کیا یہ ضروری ہے کہ باقاعدہ اعلان کرکے یہ کام کریں گی؟‘‘
’’مگر بھائی… کب تک کبھی تو یہ بھید کھلے گا… سیل فون پر کال آتے دیکھ کر انہوں نے علجت میں کہا۔
’’آپا میں پھر آپ سے بات کروں گا۔‘‘ اور کمرے سے نکل گئے۔
Y…m…Y
’’مما میں نے آپ سے ذکر کیا تھا ناں…‘‘ جہاں زیب پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے بولے۔
’’ہوں…‘‘ آرزو نے انہیں دیکھے بغیر کہا۔ ’’کس بات کا؟‘‘ چند لمحوں بعد آرزو نے پوچھا۔
’’وہی زرلشف کا…‘‘
’’ہاں یاد آیا…‘‘ آرزو بیٹے کی طرف دیکھ کر مسکرائیں۔
’’جی مما دراصل اس نے کہا ہے کہ اس کے ایک دو پرپوزل آئے ہیں کہیں کوئی مسئلہ نہ ہوجائے… میں اسے ایک بار آپ سے ملانا چاہتا ہوں اگر آپ کہیں تو آج ہاسپٹل لے آئوں؟‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ وہ مسکرائیں۔
’’جئیں میری مما ہزاروں سال…‘‘ انہوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر ان کا ماتھا چوم لیا۔
’’بس زیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مما مگر میری مما کی خوشامد کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ تو بغیر خوشامد کے ہی ہاں کردیں گی کیونکہ وہ ہے ہی ایسی…‘‘ وہ ہنسے۔
Y…m…Y
تجھے دیکھوں تو جی اٹھتا ہوں
تجھے چھولوں تو مہک اٹھتاہوں
تجھ سے بولوں تو چہک اٹھتاہوں
تیرادیدار ہے زندگی میری
تیری یادیں ہیں عبادت میری
میرے خیالوں کوبخشی ہے تونے ضیاء
میرے ارادوں کی طاقت ہے تو
میری تمنا میری محبت ہے تو
میں ہوں دل تیرا‘ تو دھڑکن میری
میں ہوں خواب تیرا تو تعبیر میری
(تخلیق… مسز نگہت غفار)
آج صبح سے محسن بار بار غزل گنگنا رہے تھے۔ وہ جب بہت زیادہ اداس اور غمگین ہوتے تو پرانی غزلیات اور المیہ شاعری میں کھو جاتے‘ کبھی اشعار کبھی قطعہ کبھی کوئی غزل گنگناتے آواز بہت اچھی تھی کالج کے زمانے میں‘ اکثر اول انعام حاصل کرتے تھے۔ دوستوں میں بیٹھتے تو فرمائشی پروگرام ہوتے‘ ہر ایک کی فرمائش پوری کرتے تھے ایک دو دفعہ آرزو کو بھی اپنی پسندیدہ غزل سنائی۔
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
آج آرزو نے یہ غزل سنی تو شدت سے محسن یاد آگئے۔
میں جب اس شخص کی التجا کو قبول نہیں کررہی تو پھر ان کی یاد کیوں آتی ہے؟ کیوں میں ان سے منسلک ایک ایک بات کو یاد کرتی ہوں‘ جب دونوں نے ایک دوسرے سے لاتعلق رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر یہ دیوانگی‘ یہ پاگل پن‘ یہ بیقراری یہ یادیں‘ یہ باتیں کیوں تنگ کرتی ہیں‘ کیوں نہیں بھولتے ہم دونوں ایک دوسرے کو وہ بڑی بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھیں۔
Y…m…Y
’’مما آج محسن انکل ملے تھے میں نے ساری تقریبات کی دعوت دے دی انہیں۔‘‘ الوینہ نے پنکی کی نیپکن چینج کرتے ہوئے کہا تو آرزو نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’کہاں ملے تھے تمہیں؟‘‘
’’ہاسپٹل میں جب میں پنکی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھی۔‘‘ الوینہ نے تفصیل بتائی۔
جہاں زیب کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں الوینہ ایک ماہ پہلے ہی میکے آگئی تھی سب کی مصروفیت بڑھ گئی تھیں کچھ ذمہ داریاں سعد نے بھی اپنے ذمے لے لی تھیں یوں وہ بھی آزادانہ گھر آرہے تھے‘ بالکل ماموں کی طرح الوینہ اور جہانزیب سے پیار کرتے آرزو کو بڑی بہن کا رتبہ دے رہے تھے۔ ان کاخیال تھا کہ وہ آرزو کو ایک نہ ایک روز قائل کرہی لیں گے کہ وہ انکل کو سمیٹ لیں۔ مگر… ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں گے۔ ایک روز آرزو نے ایک ایسا انکشاف کیا کہ سعد بے بسی سے بے اختیار رو پڑے۔
’’آپا… آپا آپ نے آخر مجھے غیر ہی سمجھانا… آپ نے کم از کم مجھے تو بتایا ہوتا… آپ نے خود پر اتنے دنوں سے یہ اتنا بڑ ابوجھ اٹھایا بہت ہمت کی آپا… آپ نے یہ سب محسن انکل کو بتادیا ہوتا۔‘‘ سعد نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ آرزو کے دونوں ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لیے۔ ’’میری آپا آپ کو کچھ نہیں ہوگا‘ اﷲ کرم کرے گا‘ اپنا معجزہ دکھائے گا اور… اور مستقبل میں آپ اور انکل ایک بہت ہی خوب صورت زندگی گزار رہے ہوں گے… آپ روئیں ناں… جہاں اتنا عرصہ آپ نے تنہا اتنا بڑا بوجھ اور اتنی بڑی بیماری سہی ہے اب ہم سب کی دعائیں بھی آپ کے لیے ہوں گی‘ تو رب کریم بڑا رحیم ہے وہ ستر مائوں کی ممتا رکھتا ہے ہمارے لیے‘ وہ ہماری دعائیں اور بے بسی پر ضرور مہربان ہوگا…‘‘ سعد کے سمجھانے پر آرزو نے بھی خود کو نارمل کرلیا کیونکہ الوینہ اور جہانزیب شاپنگ سے آنے والے تھے۔
Y…m…Y
سعد نے دیکھا آرزو کی ساری میڈیسن ہارٹ پیشنٹ والی ہیں‘ ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق اب آنے والا اٹیک آرزو کے لیے جان لیوا ہوسکتا ہے ادھر انکل کی بھی طبیعت ان سے زیادہ خراب تھی آرزو آپا تو بلا ناغہ ساری دوائیں استعمال کرتی ہیں‘ مکمل پرہیز کرتی ہیں‘ ہر آسائش میسر ہے اور اس کے برعکس انکل کو زندگی گزارنے کے لیے کتنی جدوجہد کرتی پڑتی ہے اس حالت میں وقت پر پابندی سے میڈیسن نہیں لے سکتے‘ آرام نہیں کرسکتے‘ مسائل بڑے بڑے اور وسائل محدود‘ رات کو تھکے ماندے گھر پہنچتے تو مسکرا کر خیرمقدم کرنے والا کوئی نہیں بستر پر جانے سے پہلے سارے انتظامات خود ہی کرنا پڑتے ہیں پھر بیٹے کی ایسی سوچ‘ باپ کو ہرٹ کرنا ان کے عیب گنوانا‘ ان کی کوتاہیوں پر طنز کرنا… یہ ذہنی تھکن جسمانی تھکن سے زیادہ تکلیف دہ اذیت برداشت کرنا… کس قدر باہمت اور باحوصلہ ہیں (میں ان کوسلام کرتا ہوں) اس کے باوجود وہ جب ملتے ہیں۔ شریر لہجہ اپناتے ہیں مسکراتے ہیں اور مدمقابل کو بھی مسکرانے پر مجبور کردیتے ہیں… لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ بندہ اندر سے اتنا دکھی‘ مظلوم اور ادھورا ہے۔‘‘ سوچتے سوچتے سعد کا دماغ مائوف ہونے لگا۔
صبح دیر سے آنکھ کھلنے پر سعد نے آرزو کو فون کیا کہ وہ تھوڑا لیٹ آئیں گے جب انہیں پتہ چلا کہ رات اچانک آرزو کی طبیعت بگڑ گئی تھی قریبی ہاسپٹل لے کر گئے تو ڈاکٹر نے کیس لینے سے انکار کردیا اور مشورہ دیا کہ فوری طور پر کاڈیو لے جائیں۔
سعد بہت پریشان ہوئے ابھی تو جہاں زیب کی شادی کی دعوتیں چل رہی تھیں اسی الجھن میں‘ وہ تھوڑی ہی دیر میں کاڈیو میں تھے وہ بے حد اداس اور پریشان تھے جہانزیب نے بتایا ڈاکٹرز نے ابھی کچھ نہیں بتایا مما اندر ہیں سعد انتظار گاہ میں بیٹھے تھے آرزو کی وہ باتیں جو انہوں نے ابھی چند روز پہلے بتائی تھیں وہ بار بار سعد کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
’’سعد بھائی میں محسن کو پسند کرتی ہوں‘ ان کے لیے بے حد مخلص اور خیرخواہ ہوں میں کئی سالوں سے ان کو اپنی دعائوں میں یاد رکھتی ہوں‘ مگر میں اپنی ذات سے ان کو مزید دکھی نہیں کرسکتی‘ میرے پیارے بھائی مجھے وہ شخص بہت عزیز ہے‘ مگر میں مجبور ہوں‘ مجھے ڈاکٹرز نے یہی کہا ہے کہ اب کی بار دل بگڑے گا تو… جان لے کر چھوڑے گا۔‘‘
آپریشن تھیٹر سے نرس تیزی سے نکلی اور جہانزیب کے ہاتھوں میں لمبی چوڑی لسٹ تھمادی‘ سعد اور جہانزیب نے آرزو کے بارے میں سوال کیا تو بولی۔ ’’دعا کریں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘ زرلشت زاروقطار رو رہی تھی۔ یسیٰن شریف ہاتھ میں تھی لیے وہ پڑھ رہی تھی… سعد نے جہانزیب کے ہاتھ سے لسٹ لی اور اسے وہیں رکنے کے لیے کہا کہ وہ زرلشت کو حوصلہ دے اسے اکیلا نہ چھوڑے؟ جہاں زیب زرلشت کے قریب بیٹھ گئے اور سعد میڈیسن لینے میڈیکل اسٹور کی طرف تیزی سے بڑھ گئے۔ وہ جیسے ہی اسٹور پر پہنچے شہیم اسٹور کی سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ اسے وہاں دیکھ کر انہیں انکل کا خیال آیا جب ہی ان کی خیرت دریافت کی تو وہ بولا۔
’’ابو ایڈمٹ ہیں رات ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔‘‘
’’اللہ خیر کرے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔‘‘ سعد نے پھر پوچھا۔
’’آپریشن تھیٹر میں ہیں ابھی کچھ نہیںکہا… آپ… آپ کیسے یہاں؟‘‘ شہیم نے پوچھا تو سعد نے بتایا۔
’’آپا‘ ایڈمٹ ہیں۔‘‘
’’آپ کی بہن…؟‘‘ شہیم نے پوچھا تو سعد نے بتایا آرزو آپا کی حالت رات بگڑ گئی تھی انہیں بھی آپریشن تھیٹر لے گئے ہیں۔‘‘ شہیم کو جیسے زبردست شاک لگا… وہ بہت ڈسٹرب ہوگیا… بہت سارا نمکین پانی بے حد شرمندگی اور دکھ کے سبب آنکھوں میں جمع ہوگیا تھا وہ روک نہ سکا پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلا۔ سعد میڈیسن لینے میں مصروف تھے اور شہیم باپ سے زیادہ آرزو کے لیے اداس اور ڈسٹرب ہوگیا تھا۔ نجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس حالت کا ذمہ دار وہ ہے… ابو اور آرزو… دونوں کی حالت کا وہی ذمہ دار ہے صرف اسی کی وجہ سے ان دونوں کی یہ حالت ہوئی ہے میں نے دونوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا… مجھے لوگوں نے بھڑکایا میرے ذہن میں منفی اور غلط باتیں ڈالیں مجھے بھیکایا اور میں نے آنکھیں بند کرکے یقین کرلیا… تھوڑی دیر میں اس نے ایک بہت بڑا فیصلہ کرلیا اسے آرزو کی وہ باتیں یاد آنے لگی تھیں جب وہ شہیم سے بہت پیار کرتی تھیں اس کی ہر چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھتی اپنے بچوں کی طرح اسے پیار کرتیں وہ اکثر سارا سارا دن ان کے گھر گزارتا راتوں کو آرزو کے ساتھ ان کے تکیے پر سو جاتا تب نہ انکل نہ ہی کوئی بچہ مجھ سے نفرت کرتے نہ چڑتے تھے سب ہی اس سے پیار کرتے تھے مگر جب لوگوں نے اس کے ذہن میں ایک بات بٹھادی کہ تم جب اس عمر میں تھے جب والدین کی سخت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تب تمہارے ابو نے تمہیں اگنور کیا اس عورت پر اپنی محبت اور کمائی لٹادی اور تم باپ کی شفقت اور تربیت اور توجہ سے محروم رہے اور یہ شخص عیش کرتا رہا اور اب بھی کرتا ہے۔
چند لمحے بعد آپریشن تھیٹر سے ڈاکٹرز باہر نکلے‘ جہاں زیب‘ زرلشت‘ سعد تینوں کی نظریں ڈاکٹرز پر پڑی‘ ایک ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر جہانزیب کے سر پر ہاتھ رکھا‘ نگاہیں نیچے اور زبان خاموش تھی۔ زرلشت بلک بلک کر رونے لگی سعد پاگلوں کی طرح تھیٹر کی طرف بڑھے۔
’’بیٹا ہم نے بہت کوشش کی مگر اللہ کی مرضی اور حکم کے آگے کسی کی نہیں چلتی‘ صبر کریں… شاباش ہمت سے کام لو بیٹی۔‘‘ انہوں نے پلٹ کر زرلشت کے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے بڑھ گئے۔
Y…m…Y
ادھر شہیم کی بے چینی بے قراری بتارہی تھی کہ وہ بہت ڈسٹرب ہے‘ تھوڑی ہی دیر بعد… تھیٹر کا دروازہ کھلا اور شہیم لپک کر ڈاکٹر کے قریب پہنچا تو ڈاکٹر سیف جو شہیم کو جانتے تھے انہوں نے شہیم کو گلے سے لگالیا۔
’’بیٹا… صبر کرو… اب تمہیں تنگ کرنے والا کوئی نہیں بچا… ایک دلیر اور باہمت باپ اب تم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔‘‘ تب… تب شہیم… بہت رویا… بہت پچھتایا… دیواروں سے سر ٹکرایا۔ اس کے پاس کوئی اور حل تھا ہی نہیں کہ شرمندگی کو ختم کرتا اپنے شک کی آگ میں کیسا جل گیا کہ اب کچھ بھی باقی نہ بچا۔
وہ ایمبولینس کے لیے نیچے اتر رہا تھا کہ پیچھے سعد بھی آتے دکھائی دیے۔
’’کیا ہوا انکل…؟‘‘ اس نے تڑپ کر پوچھا۔
’’بیٹا… آپا ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ شہیم زور سے چیخا۔
’’تم بتائو محسن انکل کا۔‘‘ وہ بے ساختہ سعد سے لپٹ گیا۔
’’انکل میرے ابو… اب… اس دنیا میں نہیں رہے‘ مجھے بے سہارا اور یتیم کردیا ابو نے… انکل اب میں یتیم ہوگیا‘ میں مجرم ہوں‘ میں بہت برا ہوں‘ آپ مجھے ماریں‘ انکل جان سے ختم کردیں‘ اس دنیا میں مجھے جینے کا کوئی حق نہیں ہے‘ میں قاتل ہوں‘ گناہ گار ہوں میں نے بہت برا کیا‘ مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ اس کی چیخیں اس کی بیقراری اس کی دیوانگی بہت سارے لوگ اس کے اردگرد جمع ہوگئے ہر کوئی سعد سے اس کے بارے میں سوال کررہا تھا اور تفصیل جان کر افسوس کرتا آگے بڑھ رہا تھا مگر کب تک دونوں ایمبولینس لے آئے اور ایک ہی ہاسپٹل سے ایک ہی وقت میں محسن اور آرزو‘ آگے پیچھے آخری آرام گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے یہاں ایک نہیں ہوئے‘ شاید وہاں ایک ہوجائیں‘ کتنی سچی‘ پاکیزہ معتبر چاہتیں تھی‘ کیسی اپنائیت تھی‘ کتنا اٹوٹ رشتہ تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close