Hijaab Jan-18

میرے خواب زندہ ہیں

نادیہ فاطمہ رضوی

گزشتہ قسط کا خلاصہ
گڈو بیگم کی اچانک موت گھر والوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے ایسے میں مہرو کو سنبھالنا بے حد دشوار ہوجاتا ہے۔ لالہ رخ اسے گھر میں تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتی اور چند دن اس کے ساتھ گزار کر اسے اپنے ہمراہ لے آتی ہے۔ مہرو اپنی ماں کی جدائی کو بھول نہیں پاتی اور دنیا سے بے خبر ہوجاتی ہے۔ ماریہ کو ابرام کے کہنے پر کالج آنے کی اجازت مل جاتی ہے یہاں جیسکا اس کی کڑی نگرانی کرتی ہے دوسری طرف میک بھی اسے ہراساں کرنے پر آمادہ ہوتا ہے ایسے میں ماریہ خاموشی اختیار کرتی جیسکا کو زچ کردیتی ہے۔ حورین کے علاج کے لیے خاور حیات مشہور سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرتا ہے اور اس کے کہنے کے مطابق زیادہ وقت حورین کے ساتھ گزارتا ہے وہ اسے شہر سے باہر لے جانا چاہتا ہے لیکن حورین کو یہ زبردستی پسند نہیں آتی جب ہی باسل اور خاور حیات کو کڑے لہجے میں صاف انکار کردیتی ہے۔ ماریہ کی ملاقات ولیم سے ہوتی ہے تو جیسکا خصوصی طور پر اس کے تاثرات نوٹ کرتی ہے اسی وجہ سے ماریہ کو نہایت خوشگوار انداز میں ولیم سے بات کرنی پڑتی ہے لیکن ولیم کیتھرین سے جلد شادی کرنے کی بات کرتے ماریہ کو صاف انکار کردیتا ہے اور اس سے دوستی نہیں رکھنا چاہتا اس کی ناراضگی ماریہ کو پُرسکون کردیتی ہے۔ کامیش فراز کے نمبر پر رابطہ کرتے اسے حیرت سے دوچار کردیتا ہے فراز اس کی بے اعتباری کا ذکر اس کال کی وجہ دریافت کرتا ہے جس پر کامیش جلد تمام حقائق اس کے سامنے رکھنے کی بات کرتا ہے۔ سونیا ایبروڈ سے وطن واپسی پر ساحرہ کے لیے خصوصی تحائف لے کر آتی ہے وہ کامیش کی طرف بھی بڑھتی ہے اور تعلقات بحال کرنا چاہتی ہے مگر کامیش اسے کوئی موقع دینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ اسے فراز کی محبت یاد دلا کر شرمندہ کرنا چاہتا ہے لیکن سونیا بھی اپنے ارادے کو ناکام ہونے نہیں دینا چاہتی۔ مہرو اپنی پھوپی سے اپنی ذات کی شناخت حاصل کرنا چاہتی ہے‘ وہ عجیب خود اذیتی کا شکار عدم تحفظ محسوس کرتی ہے ایسے میں لالہ رخ اسے بہلانے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ کچھ بھی سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ داور اپنے آدمیوں کو مہرو کی تلاش میں لگا دیتا ہے اور کسی بھی قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا ہے یہ حالات مہرو کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیتے ہیں۔
اب آگے پڑھیے
ء…/…ء
ڈاکٹر اقبال محبوب حورین کو گھر آکر چیک کر گئے تھے‘ اس وقت وہ سکون آور انجکشن کے زیر اثر محو خواب تھی‘ جب کہ باسل اور خاور بے پناہ متفکرانہ انداز میں اس کے پاس بیٹھے نجانے کن سوچوں میں غرق تھا پھر کافی دیر بعد باسل ایک ہنکارا بھر کر بولا۔
’’ڈیڈ کیا آپ کو ڈاکٹر اقبال کی ٹریٹمنٹ پر بھروسہ ہے؟‘‘ باسل کے لہجے میں جھلکتا اضطراب و بے چینی خاور حیات کو بخوبی محسوس ہوگیا تھا اس نے ایک نگاہ پُرسکون انداز میں سوتی حورین پر ڈالی پھر دوسرے ہی پل ہاتھ کے اشارے سے باہر کی جانب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سیٹنگ روم میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے خاور حیات سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’بیٹا ڈاکٹر اقبال محبوب شہر کے بہت معروف سائیکائٹرسٹ ہیں انہوں نے بہت کری ٹیکل کیسز ہینڈل کیے ہیں مجھے ان پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘ چند ثانیے کے لیے باسل حیات کو دیکھ کر رہ گیا۔
’’مجھے مام کی بے حد فکر ہورہی ہے ڈیڈ… اس طرح سے ان کو ٹرائنکولائزر کے انجکشنز دینا بھی تو ٹھیک نہیں ہے آفٹر آل ان خواب آور ادویات کے سائیڈ ایفکیٹس کافی نقصان دہ ہوتے ہیں۔‘‘ وہ انتہائی اضطراربی انداز میں اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے بولا تو خاور حیات کچھ پل کے لیے کسی سوچ میں ڈوب گیا پھر کچھ دیر بعد گویا ہوا۔
’’میں تمہاری بات سے ایگری کرتا ہوں باسل مگر اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے حورین کو کچھ ٹائم کے لیے یہ میڈیسنز لازمی لینی پڑیں گی ان فیکٹ وہ کل یہ میڈیسنز کھانے پر راضی بھی نہیں تھی۔ میں تو اسے یہ کہہ کر دوا دیتا ہوں کہ تمہاری کمزوری کے سبب ڈاکٹر نے ملٹی وٹامنز تجویز کی ہیں اور یہ وہی میڈیسنز ہیں۔ حورین چونکہ اپنی بیماری کی بابت کچھ جانتی ہی نہیں تھی تو پہلی بار اس نے خاور سے بڑے اچنبھے سے استفسار کیا تھا کہ وہ آخر یہ ادویات اسے کیوں دے رہا ہے جس پر خاور نے یہ بہانہ بنایا تھا کہ محض طاقت کی دوائیں ہیں جس پر حورین کو مجبوراً یہ دوائیں لینا پڑی تھیں۔
ء…/…ء
’’آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس طرح کی گھٹیا بات کرنے کی‘ مسٹر احمر‘ اب آپ نے مجھے فون کرنے کی جرأت بھی کی ناں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے۔‘‘ زرمینہ غصے و اشتعال سے آگ بگولہ ہوکر احمر یزدانی کو کھری کھری سنا رہی تھی جب کہ سامنے بیٹھی الجھی سی زرتاشہ اسے پریشان نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
’’دیکھئے زرمینہ آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں میں آپ کو…؟‘‘
’’اسٹاپ اٹ… کسی لڑکی کو اس طرح فون کرکے ایسی باتیں کرنا کہاں کی شرافت ٹھہری۔‘‘ وہ اس کی بات درمیان میں ہی اچک کر سختی سے بولی۔
’’کسی کو پسند کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے زرمینہ… میں سچے دل سے آپ کو چاہتا ہوں اور اپنی چاہت کو ایک مقدس رشتے میں بدلنا چاہتا ہوں۔‘‘ احمر انتہائی ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا جب کہ دوسری جانب زرمینہ اس کی بات پر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ احمر کی اچانک کال نے اسے چند لمحوں کے لیے سوچ میں مبتلا کردیا تھا اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ احمر اس سے یوں ببانگ دہل اپنی چاہت کا اظہار کرے گا اس لمحے اسے احمر یزدانی پر بے پناہ طیش آرہا تھا۔
’’کہہ لیا جو آپ نے کہنا تھا یا اب بھی کچھ باقی ہے؟‘‘ وہ بے حد طنزیہ انداز میں بولی پھر دوسرے ہی لمحے بل کھا کر ہنوز لہجے میں گویا ہوئی۔
’’مسٹر احمر… آپ کے بارے میں میری رائے کبھی بھی اچھی نہیں تھی مگر آج جو آپ نے اپنی پست ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد تو میں آپ کی شکل دیکھنا تو درکنار آپ کا نام بھی سننا پسند نہیں کروں گی اور ہاں آئندہ مجھے فون کرنے کی کوشش کی تو میں آپ کی شکایت مہوش سے کردوں گی۔‘‘ وہ ابھی فون بند کرنے ہی والی تھی جب ہی احمر کی عاجزانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’میں پھر کہہ رہا ہوں زرمینہ… آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں‘ کسی کو پسند کرنا اور اس سے محبت کرنا کوئی جرم تو نہیں یا پھر اتنی گری ہوئی حرکت بھی نہیں ہے کہ جس پر آپ اتنا سخت ری ایکشن دے رہی ہیں۔ صرف اپنے دل کی خواہش آپ کے سامنے رکھی ہے اور میرے خیال میں یہ کوئی اتنی بڑی خطا نہیں۔‘‘
’’مسٹر احمر… آپ کی سوسائٹی اور آپ کی فیملی میں اس قسم کی باتیں عام ہوں گی اور ان بے ہودہ باتوں کو بھی بالکل معمولی اور چھوٹا سمجھا جاتا ہوگا مگر میں جس فیملی سے بی لونگ کرتی ہوں وہاں ایسی باتوں پر جانیں لے لی جاتی ہیں‘ نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں‘ خون ریزی ہوجاتی ہے مسٹر احمر۔‘‘ وہ آخر میں بے پناہ تلخی سے بولی تو احمر لمحہ بھر کے لیے چپ کا چپ رہ گیا جب ہی کچھ توقف کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی۔
’’ہماری سوسائٹی میں یہ سب جرم ہی سمجھا جاتا ہے‘ ایسا سنگین اور حیا سوز جرم جس کی معافی سات نسلیں گزر جانے کے باوجود بھی نہیں ملتی۔‘‘ اس پل وہ نجانے کن لمحوں کے زیر اثر بول رہی تھی زرتاشہ نے دیکھا کہ یہ سب کہتے ہوئے زرمینہ کے صبیح چہرے پر عجیب سی اذیت اور تکلیف کے اثرات رقم تھے جب کہ احمر بھی زرمینہ کے لفظوں کی گہرائی محسوس کرکے عجیب سی کیفیت سے دوچار ہوگیا تھا پھر یک دم وہ جیسے ماضی سے حال میں لوٹی اور ایک گہری سانس فضا کے سپرد کرتے ہوئے بولی۔
’’اگر آپ کے اندر تھوڑی سی بھی شرم و حیا باقی رہ گئی ہے تو آپ مجھے دوبارہ فون ہرگز نہیں کریں گے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کھٹاک سے فون بند کردیا جب کہ احمر زرمینہ کی آواز کی بازگشت میں گم صم رہ گیا۔
ء…/…ء
ابرام آج آفس سے جلد ہی فارغ ہوگیا تھا اس کا دوست روجر کافی دنوں سے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دے رہا تھا۔ اسی لیے آج وہ آفس سے روجر کے گھر آگیا‘ روجر اسے دیکھ کر کافی خوش ہوا‘ کافی کے دوران وہ دونوں بڑے خوش گوار انداز میں باتیں کررہے تھے۔ جب ہی کال بیل کی آواز پر روجر اٹھ کر اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے چلا گیا۔ چند لمحوں بعد وہ مسکراتا ہوا واپس آیا تو اس کے ہمراہ جیسکا بھی تھی‘ جیسکا روجر کی بھی اچھی دوست تھی اور وہی روجر کو اصرار کررہی تھی کہ وہ ابرام کو اپنے گھر بلائے اور اسے اس کے لیے کنوینس کرے جونہی آج ابرام اس کے گھر آیا روجر نے ایک ٹیکسٹ جیسکا کو کردیا اور نتیجتاً جیسکا اس وقت ابرام کے سامنے موجود تھی جب کہ ابرام اس پل جیسکا کو دیکھ کر خائف سا ہوا تھا۔ جیسکا نے اس کے متعلق جو کہا تھا جو چاہا تھا وہ ان سب کے لیے تو اسے معاف کرسکتا تھا مگر جو کچھ وہ ماریہ کے خلاف کررہی تھی وہ ابرام کے لیے انتہائی ناقابل قبول اور ناقابل معافی تھا جب جب جیسکا اپنائیت و محبت کا نقاب چڑھا کر اس کے سامنے آتی تھی ابرام کا دل چاہتا کہ وہ اس کا گلا ہی دبا ڈالے اس وقت بھی اس نے بڑی مشکلوں سے خود پر قابو پایا ہوا تھا۔
سردی کی شدت میں اضافے کی بدولت وہ اس پل بلیک اوور کوٹ پہنے اپنے فریش چہرے سمیت اس کے سامنے تھی روجر قصداً دونوں کو تنہائی فراہم کرکے وہاں سے چلا گیا تھا جب ہی جیسکا اس کے مقابل بیٹھتے ہوئے سہولت سے بولی۔
’’ابرام میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں اپنے عمل پر معافی مانگنا چاہتی ہوں مگر تم تو مجھے کوئی موقع ہی نہیں دینا چاہ رہے آخر کتنے ہی فون کالز میں نے تمہیں کیے تم سے ملنے تمہارے آفس بھی آئی مگر تم تو جیسے مجھے کوئی رعایت ہی نہیں دینا چاہ رہے کیوں ابرام… کیوں؟ میں نے ایسا کیا کیا ہے جو تمہارا رویہ اس قدر سخت ہوگیا ہے‘ پلیز ابرام مجھے کچھ بتائو تو سہی میں تمہاری ہر شکایت دور کردوں گی۔‘‘ آخری جملہ ادا کرتے ہوئے وہ اپنی نشست سے اٹھ کر اس کے قدموں کے پاس آکر بیٹھ گئی‘ کوئی اور وقت ہوتا تو ابرام جیسکا کی اس قدر ندامت اور شکستگی کو دیکھ کر پگھل جاتا اسے معاف کردیتا مگر حقیقت جان ہی چکا تھا۔ ابرام نے گہری سانس بھرے مخصوص انداز میں اسے دیکھتے ہوئے گمبھیر لہجے میں بولا۔
’’مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے جیسکا اور جو تم نے مجھ سے کہا تھا اس کے لیے میں تمہیں معاف بھی کرچکا ہوں مگر…‘‘ وہ قدرے توقف کے لیے رکا جیسکا بڑی بے چینی سے اسے دیکھ رہی تھی جو اس لمحے نجانے کیا کچھ سوچ رہا تھا۔
’’مگر کیا ابرام؟ بتائو میں سن رہی ہوں۔‘‘ وہ بے قراری سے گویا ہوئی تو ابرام نے رخ موڑکر سنجیدگی سے اسے دیکھا پھر تیزی سے بولا۔
’’مگر اب تم سے دوستی کرنا ناممکن ہے جیسکا۔‘‘ جیسکا نے چند ثانیے اسے دیکھا پھر بڑی سختی سے اپنے لبوں کو بھینچا اور تیزی سے روجر کی اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی۔
ء…/…ء
پورے ملک میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا وادی میں بھی سردی اور خنکی اپنے جوبن پر تھی انتہائی سرد ہوائوں اور وقفے سے ہوتی برف باری نے وادی کے لوگوں کی سرگرمیوں کو کافی سرد کردیا تھا البتہ سیاحوں کی آمد گاہے بگاہے جاری تھی بٹو کو داور حبیب نے اپنے ڈیرے پر آج طلب کیا تھا وہ اندر ہی اندر بری طرح سہما اس پل داور حبیب کے سامنے کھڑا تھا۔
’’اور بھئی بٹو… کیسا ہے تُو؟‘‘ داور اپنی شکاری بندوق کا معائنہ کرتے ہوئے بولا تو بٹو نے قدرے چونک کر اسے دیکھا پھر جلدی سے بولا۔
’’مم… میں تو بالکل ٹھیک ہوں صاحب‘ مجھے بھلا کیا ہونا ہے۔‘‘ داور حبیب نے بڑی گہری نگاہوں سے بٹو کو دیکھا پھر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’چل یہ تو اچھی بات ہے‘ اچھا بتا تیری باجی مہرو کیسی ہے؟ وہ تو ٹھیک ہے ناں رشیدا بتارہا تھا کہ بے چاری کی اماں فوت ہوگئی ہے کہیں نظر بھی نہیں آرہی وہ آج کل۔‘‘ بٹو کو اس لمحے اپنا خون جسم میں منجمد ہوتا محسوس ہوا سردی کی شدت سے نہیں بلکہ داور حبیب کی باتوں کی اور لہجے کی سختی سے۔
’’ہا… ہاں وہ… وہ چھوٹے صاحب جی وہ ان کی اماں فوت ہوگئی ہیں۔‘‘ بٹو عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوگیا۔ وہ داور حبیب کو مہرو کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتانا چاہتا تھا مگر اس عفریت سے اپنی جان چھڑانا بھی اس کے بس میں نہیں تھا وہ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق داور کے سوالوں کے جواب دینے پر مجبور تھا۔
’’اچھا یہ بتا کہ تیری باجی مہرو کہاں چھپ کر بیٹھ گئی ہے پہلے تو وہ وادی میں اِدھر اُدھر گھومتی نظر آتی تھی۔‘‘ داور کا جملہ سن کر بٹو کے جسم میں جیسے چیونٹیاں رینگنے لگیں۔
’’کن سوچوں میں گم ہوگیا تو بٹو۔‘‘ بٹو کو گم صم کھڑا دیکھ کر داور چڑ کر بولا تو بٹو ہڑبڑا کر چونکا پھر بڑی دقتوں سے خود کو سنبھال کر بولا۔
’’وہ… باجی تو آج کل گھر سے زیادہ نہیں نکلتی۔‘‘ داور نے بٹو کو اس لمحے بڑے غور سے دیکھا پھر رعب دار لہجے میں بولا۔
’’اچھا چل ٹھیک ہے تُو ایسا کر ڈیرے کی صفائی کر پھر بعد میں آکر مجھ سے مل۔‘‘ جواباً بٹو اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا جبکہ اپنی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے داور کسی گہری سوچ میں مستغرق ہوگیا۔
ء…/…ء
’’تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے ابرام سونپ دو گے وہ مجھے مل جائے گا اب بتائو میک تم اپنا وعدہ کب پورا کرو گے۔‘‘
’’تم اپنے حواسوں میں تو ہو جیسکا… ابرام کی چاہت میں تم تو پاگل ہوئے جارہی ہو‘ وہ وعدہ صرف اسی صورت میں پورا ہونا تھا جب تم ماریہ کے خلاف کوئی ثبوت لے کر آتیں جو تم نہیں لاسکیں۔ جیسکا تم اپنے کام میں ناکام ٹھہری پھر کس بناء پر مجھ سے یہ سوال کررہی ہو۔‘‘ جیسکا کی بات پر میک کو بری طرح غصہ آگیا تھا وہ اسے کھری کھری سناتے ہوئے بولا تو جیسکا چند ثانیے کے لیے بالکل چپ سی رہ گئی پھر قدرے توقف کے بعد تھکے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’میرے خیال میں تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو میک آئی ایم سوری میں کچھ جذباتی ہوگئی تھی‘ دراصل ابرام کے بار بار ٹھکرانے پر میں اپنے آپ پر کنٹرول چھوڑ بیٹھی تھی۔‘‘ جواباً میک نے ایک ہنکارا بھرا‘ وہ اس وقت میک سے فون پر بات کررہی تھی۔
’’میک شاید تم نے صحیح کہا تھا ماریہ میری سوچ سے زیادہ چالاک اور ہوشیار ہے وہ اب بھی اسی مذہب کو فالو کررہی ہے اس نے بڑی چالاکی سے سرپال کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ وہ اس راستے کو چھوڑ چکی ہے۔‘‘ جیسکا کسی سوچ کے زیر اثر بولی تو میک نے بناء حیران ہوئے اس کی تمام بات سنی اسے پہلے ہی یقین تھا کہ ماریہ نے مذہب اسلام اب تک ترک نہیں کیا ہے مگر وہ مجبوراً سرپال کے سامنے خاموش ہوگیا تھا جب ہی جیسکا کی آواز دوبارہ اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’میک میں دیکھ رہی ہوں کہ ماریہ اب پہلے والی ماریہ بالکل بھی نہیں رہی ہے۔ پڑھائی میں اس کا انٹرسٹ بالکل ختم ہوگیا ہے‘ تمام لیکچرز وہ انتہائی غائب دماغی سے سنتی ہے اور تو اور وہ اکثر اوقات کسی گہری سوچ میں گم ہوجاتی ہے۔‘‘ جیسکا انتہائی ذہین و چالاک لڑکی تھی وہ پچھلے کچھ دنوں سے ماریہ ایڈم کو بخوبی نوٹ کررہی تھی اور جوں جوں وہ اس کا باریکی سے جائزہ لے رہی تھی اس پر یہ بات منکشف ہورہی تھی کہ ماریہ اچھی خاصی ڈسٹرب تھی۔
’’ٹھیک ہے جیسکا تم ماریہ پر نگاہ رکھو مجھے یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی کلو تمہارے ہاتھ ضرور لگے گا۔‘‘ میک گمبھیر لہجے میں بولا تو جیسکا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’اوکے میک۔‘‘ پھر دوسرے ہی پل اس نے لائن ڈس کنکٹ کردی۔
ء…/…ء
خاور حیات کی آفس میں آج ضروری میٹنگ تھی جس کی وجہ سے وہ آج گھر وقت پر جانے سے قاصر تھا اس نے حورین کو فون کرکے اپنے لیٹ آنے کی بابت بتادیا تھا مگر عین ٹائم پر ایمرجنسی کے سبب میٹنگ کینسل کرنا پڑی تھی۔ میٹنگ کینسل ہوتے ہی خاور حیات نے گھر کی راہ لی‘ وہ گھر آیا تو حورین کو ندارد پاکر وہ کافی حیرت زدہ ہوا۔
’’یہ اس وقت حورین کہاں چلی گئی…؟‘‘ خاور خود سے سوال کرتے ہوئے بولا پھر گھر میں موجود ملازمین سے استفسار کیا تو سب ہی نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’میڈم تو ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلی ہیں۔‘‘ جب اسے معلوم ہوا کہ وہ خود ہی گاڑی لے کر نکلی ہے تو وہ اور زیادہ الجھ گیا وہ بہت کم ہی خود ڈرائیو کرتی تھی۔
’’اوہ یہ حورین کہاں چلی گئی؟ مجھے بناء کچھ بتائے۔‘‘ ملازمین کو وہاں سے روانہ کرکے وہ خود سے بولا پھر اس نے باسل کو فون کرکے تمام سچوئشن اسے بتائی تو وہ بھی پریشان ہوگیا جو مزید کہہ رہا تھا۔
’’حورین فون بھی گھر پر چھوڑ گئی ہے‘ اب میں اس سے کیسے رابطہ کروں باسل جب کہ ایسی حالت میں اسے اکیلے خود سے تنہا ڈرائیور کرکے ہرگز بھی نہیں جانا چاہیے تھا۔‘‘
’’ڈیڈ آپ پلیز پریشان مت ہوں‘ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی قریبی شاپ میں کچھ لینے کے لیے چلی گئی ہوں۔ اچھا میں تھوڑی دیر میں گھر پہنچتا ہوں‘ اوکے آپ پریشان مت ہوں۔‘‘ باسل اس وقت احمر کے گھر پر کمبائن اسٹڈی کررہا تھا خاور کو بے حد پریشان اور حورین کو گھر سے غائب پاکر وہ بھی اچھا خاصا متفکر ہوگیا تھا تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ گھر پر تھا اس پل خاور حیات انتہائی بے قراری سے حورین کا منتظر تھا جب کہ باسل صوفے پر بیٹھا باپ کی کیفیت ملاحظہ کررہا تھا۔
’’ڈیڈ آپ پلیز ریلیکس ہوجائیں‘ مام ان شاء اللہ خیریت و عافیت سے گھر آجائیں گی۔‘‘
’’اگر اسے کہیں جانا تھا تو وہ خود کیوں گاڑی لے کر نکل گئی باسل‘ تم تو اس کی بیماری کے بارے میں جانتے ہو ناں‘ وہ ڈرائیور کے ساتھ بھی تو جاسکتی تھی ناں۔‘‘ خاور حیات باسل نے خاموشی اختیار کرلی۔
ء…/…ء
سونیا کل خود ہی بناء کسی کے کہے اپنا سامان لے کر واپس سمیر ہائوس آگئی تھی حسب توقع ساحرہ نے اس کا بڑے پُرتپاک انداز میں استقبال کیا جب کہ سمیر شاہ محض اسے خاموشی سے دیکھ کر رہ گئے تھے۔ وہ کرتے بھی تو کیا کرتے‘ انہوں نے کامیش شاہ سے کہا تو تھا کہ وہ جلد سے جلد سونیا کو طلاق دے کر اسے اپنی زندگی سے بے دخل کردے مگر سونیا تو جیسے جونک کی طرح اس گھر سے چپک گئی تھی‘ نجانے اب کون سے منفی ارادے اور عزائم لے کر وہ اس گھر میں دوبارہ داخل ہوئی تھی وہ خود ہی جاکر گیسٹ روم میں براجمان ہوگئی تھی۔
کامیش چونکہ کل صبح ہی کسی اہم مشن کے سلسلے میں اسلام آباد چلا گیا تھا لہٰذا اسے سونیا کے گھر آنے کی بابت معلوم نہیں تھا جب کہ سمیر شاہ نے بھی کامیش کو ڈسٹرب نہ کرنے کی غرض سے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔
’’سونیا مائی ڈارلنگ‘ یقین جانو مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تمہارے واپس آجانے سے میرے گھر کی ساری خوشیاں بھی واپس لوٹ آئی ہیں‘ آئی ایم سو ہیپی۔‘‘ سارہ بہت خوش اور ایکسائٹڈ تھی سونیا نے مسکرا کر انہیں دیکھا پھر تھوڑا سنجیدگی سے بولی۔
’’وہ تو سب ٹھیک ہے آنٹی مگر کامیش… کیا وہ مجھے معاف کرکے دوبارہ اپنی زندگی میں مجھے شامل کرے گا؟‘‘ کامیش کا سرد اور اجنبی رویہ سونیا کو تھوڑا پریشان سا کررہا تھا کہیں دل کے کسی کونے میں اسے یہ خدشہ لاحق تھا کہ کامیش اسے اپنی زندگی سے بے دخل نہ کردے۔ ساحرہ نے تھوڑا چونک کر اسے دیکھا پھر بڑے وثوق سے بولی۔
’’ہاں کیوں نہیں سونیا… آخر تمہارے اندر کس چیز کی کمی ہے کامیش تو بہت لکی ہے کہ اسے تمہاری جیسی خوب صورت ذہین اور ایجوکیڈ لائف پارٹنر ملی ہے جو اس سے محبت بھی کرتی ہے۔‘‘ ساحرہ کی بات پر اس لمحے سونیا کی گردن مارے تفاخر کے خودبخود تن گئی تھی۔
ء…/…ء
زرمینہ اس دن احمر سے بات کرنے کے بعد سے کافی خاموش سی ہوگئی تھی وہ جو بات بات پر کھلکھلاتی تھی اب تو جیسے اس کے لب مسکرانا ہی بھول گئے تھے۔ زرتاشہ زرمینہ سے پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھی مگر زرمینہ تو کچھ بھی بتا کے نہیں دے رہی تھی۔ جامعہ میں دو دن بعد سے موسم سرما کی تعطیلات شروع ہونے والی تھیں دو دن بعد ہی وہ دونوں اپنے اپنے گھروں کا رخ کرنے والی تھیں۔ زرتاشہ چاہ رہی تھی کہ گھر جانے سے پہلے زرمینہ اپنے دل کی وہ بات اس سے شیئر کرلے جس کی وجہ سے وہ اتنی خاموش اور گم صم ہوگئی تھی۔
’’افوہ زری اب پلیز مجھے بتا بھی دو کہ آخر کس بات نے تمہیں اتنا ڈپریس کردیا ہے مجھے تو کچھ بتائو کیا میں تمہاری دوست نہیں ہوں۔ کیا میں نے اپنے دکھ درد تمہارے ساتھ نہیں بانٹے کیا؟‘‘ اس پل وہ دونوں ہاسٹل کے خوب صورت سے لان میں بیٹھی دھوپ سینک رہی تھیں‘ زرمینہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر بجھے بجھے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’کیا بتائوں میں تمہیں تاشو میرے پاس بتانے کو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ زرتاشہ نے سنجیدگی سے زرمینہ کو دیکھا جو ڈراک برائون لینن کے شلوار سوٹ میں بادامی رنگ کی شال اوڑھے بہت مضمحل سی لگ رہی تھی۔ زرتاشہ کے ذہن میں اس لمحے عجیب و غریب سی سوچ در آئی تو وہ بے ساختہ پریشان سی ہوکر زرمینہ کو بغور دیکھنے لگی پھر جھجکتے ہوئے بولی۔
’’زری… تم احمر سے محبت تو نہیں کرنے لگیں؟‘‘ زرتاشہ کی بات پر زرمینہ اپنی جگہ سے یوں اچھلی جیسے اسے کرنٹ لگا ہوا پھر زرتاشہ کو دیکھ کر بڑی ناگواری سے بولی۔
’’تاشو ابھی میرا دماغ اتنا بھی خراب نہیں ہوا کہ میں اس ایڈیٹ احمر یزدانی سے محبت کرنے لگوں۔‘‘ پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’اور ویسے بھی تاشو یہ محبت وحبت سب فضولیات ہیں اور میں اس وجود سے ہی انکاری ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب زری… میں نے تو ناولوں اور افسانوں میں ہیرو اور ہیروئن کی محبت بھری کہانیاں اچھی خاصی پڑھی ہیں۔‘‘ زرتاشہ خاصی متعجب ہوکر بولی تو زرمینہ کا خوب صورت چہرہ یک دم سرخ سا ہوگیا۔
’’وہ جھو ٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘ سمجھیں ان سب کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اوکے۔‘‘ زرمینہ نجانے کیوں اس بات پر اتنی مشتعل ہوگئی تھی انتہائی غصے میں بول کر وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور ہاسٹل کی عمارت کے اندر چلی گئی جب کہ زرتاشہ ناسمجھی والے انداز میں ششدر سی بیٹھی رہ گئی۔
ء…/…ء
حورین اپنی سوچوں میں گم سیٹنگ روم میں داخل ہوئی تو باسل کے ساتھ ساتھ خاور حیات کو دیکھ کر اس کے قدم بے ساختہ ٹھٹک کر رکے‘ خاور اسے وہاں آتا دیکھ کر بڑی بے قراری سے اس کی جانب بڑھا۔
’’او گاڈ حورین تم کسی کو بناء کچھ بھی بتائے کہاں چلی گئی تھیں‘ تمہیں پتا ہے ہم دونوں یہاں کتنا پریشان ہورہے تھے اور تو اور تم اپنا سیل فون بھی گھر پر چھوڑ کر گئی تھیں۔‘‘ خاور ایک ہی سانس میں بولے گیا جب کہ حورین کا چہرہ پل بھر کے لیے متغیر ہوا مگر دوسرے ہی لمحے وہ خود کو سنبھال کر فقط اتنا ہی بولی۔
’’آئی ایم رئیلی ویری سوری وہ دراصل میں ایسے ہی باہر چلی گئی تھی۔‘‘ حورین کی اس پل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خاور حیات کو کیسے مطمئن کرے جب ہی باسل بھی اس کے قریب آکر شکوہ کناں لہجے میں گویا ہوا۔
’’مام اٹس ناٹ فیئر‘ آپ کو اندازہ ہے کہ ہم لوگ کتنا ٹینس ہورہے تھے آپ کو کہیں جانا تھا تو مجھے بتا دیتیں۔‘‘ حورین نے لحظہ بھر باسل کو دیکھا پھر خوامخواہ میں ہنستے ہوئے کہنے لگی۔
’’مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آپ دونوں میرے اس طرح باہر جانے پر اتنا پریشان ہوجائیں گے وگرنہ میں کبھی بغیر بتائے نہ جاتی میں تو قریبی مارکیٹ تک گئی تھی۔ ایسے ہی دل گھبرا رہا تھا تو سوچا باہر کا چکر ہی لگالوں۔‘‘ آف وائٹ اور کاہی گرین کنٹراسٹ کے ویلوٹ کے سوٹ میں حورین کچھ تھکی تھکی سی دکھائی دی۔ خاور نے چند ثانیے اسے دیکھا پھر سہولت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بٹھاتے ہوئے بولا۔
’’اچھا تم یہاں آرام سے بیٹھو تھک گئی ہوں گی ناں۔‘‘ پھر خاور نے ملازم کو آواز دے کر کافی کا آرڈر دیا تو حورین نے مسکرا کر خاور کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’آپ تو آج لیٹ آنے والے تھے ناں اور باسل آپ… آپ بھی کمبائن اسٹڈی کرنے احمر کے گھر گئے تھے۔‘‘ باسل اسی اثناء میں حورین کے پہلو میں آکر بیٹھ چکا تھا۔
’’احمر کو کوئی ضروری کام یاد آگیا تھا تو میں گھر ہی چلا آیا۔‘‘ باسل نے اصل بات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا تو حورین خوش دلی سے اسے دیکھے گئی۔
’’اور میڈم ہمارے گھر آنے کی وجہ میٹنگ کینسل ہونا ٹھہری۔‘‘ خاور بڑی خوش گواری سے بولا جس پر وہ تینوں ادھر اُدھر کی باتوں میں محو ہوگئے۔
ء…/…ء
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پر میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
مہرو نجانے کن خیالوں میں گم مضمحل سی بیٹھی تھی جب ہی لالہ رخ خاموشی سے اس کے قریب آکر براجمان ہوئی تو اس نے قدرے چونک کر سامنے بیٹھی لالہ رخ کو دیکھا پھر دوبارہ اپنے خیالوں میں کھو گئی۔ لالہ رخ چند ثانیے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی پھر ایک گہری سانس بھر کر بولی۔
’’مہرو میری بہن آخر تم اس طرح کب تک سب سے الگ تھلگ اداس بیٹھی رہوگی‘ جب ابا ہمیں چھوڑ کر گئے تھے تو وہ تم ہی تھی ناں جو ہمیں سمجھاتی تھیں کہ موت برحق ہے جو انسان دنیا میں آتا ہے تو اسے ایک نہ ایک دن یہاں سے جانا ہی ہوتا ہے۔ پھوپو کا وقت تمام ہوچکا تھا مہرو لہٰذا وہ قضائے اجل کو لبیک کہہ کر یہاں سے چلی گئیں۔‘‘ اس پل لالہ رخ کے لہجے میں بھی گہرا دکھ اور افسوس جھلک رہا تھا مگر جواباً مہرو ہنوز خاموش رہی۔
سردی کی بے پناہ شدت کی وجہ سے کمرہ ہیٹر سے گرم ہورہا تھا چونکہ زرتاشہ کی یونیورسٹی میں چھٹیاں ہوگئی تھیں لہٰذا وہ بھی کل یہاں پہنچ گئی تھی‘ لالہ رخ کی زبانی یہ انکشاف سن کر مہرو پھوپو کی حقیقی بیٹی نہیں تھی چند ثانیے کے لیے وہ بھی بالکل ساکت رہ گئی تھی پھر بڑی دقتوں کے بعد ہکلا کر بولی تھی۔
’’یہ… یہ تم کیا کہہ رہی ہو لالہ…! بھلا ایسے کیسے ہوسکتا ہے… نہیں لالہ شاید مہرو کسی غلط فہمی کا شکار ہورہی ہے۔‘‘ زرتاشہ نے اس حقیقت کو پوری شد و مد سے جھٹلایا تھا۔
’’نہیں تاشو یہ بات بالکل سچ ہے مہرو واقعی پھوپو کی بیٹی نہیں ہے۔‘‘ لالہ رخ ایک اذیت کے عالم میں بولی تھی جب ہی زرتاشہ نے انتہائی تحیر کے عالم میں اسے دیکھا تھا پھر بے ساختہ اپنا چکراتا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر بولی تھی۔
’’لالہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ… کہ مہرو پھوپو کی سگی بیٹی تھی ہی نہیں اور پھوپو نے اتنا بڑا راز اتنی سنگین حقیقت ہم سب سے یہاں تک کہ مہرو سے بھی چھپا کر رکھی۔‘‘ زرتاشہ کسی طور اس شاکڈ سے باہر ہی نکل رہی تھی پھر یک دم ایک خیال ذہن میں آیا تو بے ساختہ استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’لالہ امی نے کچھ بتایا کہ مہرو آخر کس کی بیٹی ہے‘ کون ہے اس کے اصل ماں باپ۔‘‘
’’امی فی الحال تو خاموش ہیں مجھے لگتا ہے کہ وہ کسی فیصلے پر پہنچنا چاہ رہی ہیں اسی لیے میں نے دوبارہ ان سے اس بابت کچھ نہیں پوچھا جبکہ مہرو بھی بالکل خاموش ہے۔‘‘ لالہ رخ کی بات سن کر زرتاشہ کسی سوچ میں پڑگئی پھر قدرے توقف کے بعد بولی۔
’’لالہ مہرو ایسی تو نہیں تھی یوں اس طرح حالات کے آگے ہتھیار ڈال کر چپ چاپ ہوجانے والی مجھے تو مہرو کی خاموشی سے ڈر لگ رہا ہے لالہ…‘‘ لالہ رخ نے اس لمحے اسے بے پناہ چونک کر دیکھا‘ زرتاشہ کی بات سو فیصد درست تھی جو مزید کہہ رہی تھی۔
’’ہمیں اس کے دل کا حال جاننا ہوگا لالہ‘ یہ بہت ضروری ہے مہروکی چپ بے معنی ہرگز نہیں ہے اس خاموشی کے پیچھے یقینا کوئی طوفان پوشیدہ ہے‘ لالہ مہرو آخر ایسا کیوں کررہی ہے اسے تو امی سے لڑ جھگڑ کر حقیقت معلوم کرنی چاہیے تھی ناکہ اس طرح مہر بہ لب ہوکر کونے میں بیٹھ جانا۔‘‘ زرتاشہ جیسے جیسے بول رہی تھی ویسے ویسے لالہ رخ کے اندر اضطراب و تفکرات کی لہریں امڈ رہی تھیں وہ بے حد ہراساں ہوگئی۔
’’تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو تاشو میں نے تو اس بات پر غور ہی نہیں کیا۔‘‘ اب وہ اتنی دیر سے مہرو کو بولنے پر اکسا رہی تھی مگر بڑی مشکلوں سے اس کے منہ سے صرف ’’ہوں‘‘ ہاں کے لفظ ہی برآمد ہوئے تھے جب ہی وہ جھنجھلا کر بولی۔
’’افوہ مہرو… مجھے تو لگ رہا ہے کہ میں کسی انسان سے نہیں بلکہ دیوار سے باتیں کررہی ہوں۔ اچھا تم اپنے اس مونچھوں والے ہیرو کے بارے میں ہی کچھ کہہ دو ویسے وہ میگزین ہے کہاں میں بھی تو دوبارہ دیکھوں موصوف کو۔‘‘ آخر میں وہ اپنے لہجے میں شرارت کے رنگ بھرتے ہوئے بولی مگر اس بار بھی لالہ رخ کو ناکامی کا منہ دیکھا پڑا مہرو ہنوز پوزیشن میں بیٹھی رہی جب ہی زرتاشہ چھوٹی سی ٹرے میں چائے کے تین کپ لے کر داخل ہوئی اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ استفسار کیا جواباً لالہ رخ نے مایوسی سے سر نفی میں ہلایا تو زرتاشہ بھی پریشان سی ہوگئی پھر کافی دیر دونوں بہنیں مہرو کو بہلانے کی کوشش کرتی رہیں مگر مہرو تو جیسے پتھر کی مورت بن گئی تھی۔
ء…/…ء
جیسکا ہکابکا سی بیٹھی انتہائی بے یقینی کے عالم میں سامنے کھلی کتاب کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ بہت دیر تک یک ٹک دیکھنے کے بعد آہستہ آہستہ اس کے وجود پر چھایا سکتہ ٹوٹنے لگا یک لخت بے پایاں مسرت و جوش کا احساس اس کے رگ و پے میں تیزی سے سرائیت کرتا چلا گیا۔
’’او مائی گاڈ…!‘‘ وہ بے تحاشا خوش ہوکر بڑبڑائی پھر اس چھوٹے سے کارڈ کو اٹھا کر اس نے بڑے خوش ہوکر الٹ پلٹ کرکے دیکھا اس چھوٹے سے اسٹیکر نما کارڈ نے اسے ایک ہی پل میں جیسے کامیاب سا کردیا تھا وہ جو اتنے دنوں سے کسی کلو یا ثبوت کی تلاش میں تھی وہ اس لمحے اس کے ہاتھ میں تھا جو ماریہ کی کتاب سے نکلا تھا۔ ماریہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنی کتابیں سمیٹ کر لائبریری روم سے باہر چلی گئی تھی۔
آج وہ جیسکا کو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ اور چپ دکھائی دے رہی تھی‘ جیسکا نے بھی اس سے کچھ بھی پوچھنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ خود بھی ابرام کے رویوں اور باتوں کو لے کر کافی ڈپریس تھی۔ ماریہ جیسکا کے آنے سے پہلے ہی لائبریری میں براجمان تھی‘ جیسکا جب وہاں داخل ہوئی تو ماریہ کو اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھے دیکھ کر اس کا دل کبیدہ سا ہوا‘ ابرام کی وجہ سے وہ اس وقت ماریہ سے کافی خار محسوس کررہی تھی مگر مجبوراً وہ اس کے ساتھ جاکر بیٹھ گئی تھی تھوڑی ہی دیر پہلے ماریہ گھر جانے کی غرض سے وہاں سے چلی گئی تھی اور شومئی قسمت وہ ایک کتاب وہیں پر بھول گئی تھی۔
جیسکا کی نظر جب غیر ارادی طور پر اس کتاب کی جانب اٹھی تو اس نے یونہی کتاب کھول کر الٹ پلٹ کر اسے دیکھا اور پھر وہ چیز اس کے سامنے آج آہی گئی جس کو حاصل کرنے کے لیے میک اور وہ سر توڑ کوشش کررہے تھے وہ کسی خاص زبان میں لکھی ایسی عبادت تھی جو کارڈ کے چاروں کونوں میں بڑے خوب صورت سے انداز میں لکھی ہوئی تھی جیسکا جو کافی شارپ مائنڈڈ تھی وہ فوراً سے پیشتر سمجھ گئی کہ یہ ضرور مسلمانوں کی کوئی بہت ہی خاص عبادت ہے‘ وہ اپنا سامان سمیٹ کر تیزی سے وہاں سے اٹھی اور اگلے دس منٹ میں وہ میک کے سامنے تھی وہ کارڈ دیکھ کر میک کی بھی آنکھوں میں عجیب سی چمک در آئی تھی پھر جیسکا کو دیکھ کر بولا جو فاتحانہ انداز میں اسی کو دیکھ رہی تھی۔
’’ویل ڈن جیسکا گڈ جاب تم نے اپنا ٹاسک آخرکار کامیابی سے پورا کر ہی لیا‘ شاباش مائی ڈئیر۔‘‘ وہ شستہ انگریزی میں بولا جب کہ جیسکا نے بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
ء…/…ء
آج اتوار ہونے کی بدولت باسل اور خاور دونوں ہی لنچ کی ٹیبل پر موجود تھے اور حسب معمول حورین نے اچھا خاصا اہتمام کیا ہوا تھا جب ہی باتوں باتوں میں حورین نے باسل کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا۔
’’تو بیٹا جی آپ ایک دفعہ پھر ہمیں بتادیجیے کہ آپ کی کوئی پسند تو نہیں ہے پھر بعد میں ہمیں قصور وار مت ٹھہرایئے گا۔‘‘ خاور حیات شرارت آمیز لہجے میں بولا تو باسل حیات اپنی جگہ پر پہلو بدل کر رہ گیا پھر جزبز ہوتے ہوئے بولا۔
’’او ڈیڈ میں نے آپ دونوں کو پہلے بھی بتایا ہے کہ میری کوئی پسند نہیں۔‘‘ یہ بولتے ہوئے نجانے کیوں اس پل باسل کے دل کی دھڑکنیں مدھم سی ہوئیں‘ اندر کہیں دور دور تک سناٹا پھیلتا چلا گیا جب کہ خاور حیات بول رہا تھا۔
’’اوکے مائی سن تو میں نے اور تمہاری مام نے ایک لڑکی پسند کرلی ہے بلکہ پہلی چوائس تمہاری مام کی تھی انہوں نے مجھے بتایا تو میں بھی ایگری ہوگیا۔‘‘
’’کیا…!‘‘ باسل بے ساختہ چونک کر کافی حیرت سے بولا وہ تو سمجھ رہا تھا کہ مام کو لڑکی سرچ کرنے میں کم سے کم ایک سال تو لگے گا مگر یہاں تو وہ ہتھیلی پر سرسوں جمائے بیٹھی تھیں اس نے بے حد الجھ کر حورین کو دیکھا جو بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے اسی کی جانب متوجہ تھی۔
’’مام آپ… آپ نے کیا واقعی لڑکی…! کوئی لڑکی تلاش کرلی ہے۔‘‘ وہ حیرت بھرے انداز میں بولا تو حورین اور خاور حیات دونوں بے اختیار زور سے ہنس دیئے پھر خاور بڑے مزے سے بولا۔
’’کیوں بیٹا جی آپ کو یقین نہیں آرہا کیا آپ کی مام جس کام کو کرنے کی ٹھان لیتی ہیں ناں وہ کرکے رہتی ہیں۔‘‘
’’مگر اتنی جلدی…!‘‘ وہ اتنا ہی بول کر بات قصداً ادھوری چھوڑ گیا۔
’’جی جناب کوئیک اینڈ فاسٹ۔‘‘ حورین بھی بے حد خوش گواری سے بولی تو وہ محض خاموشی سے اپنی ماں کو دیکھتا رہ گیا۔
’’پوچھو گے نہیں وہ کون لڑکی ہے جو تمہاری مام کے دل کو بھائی ہے۔‘‘ اس لمحے باسل عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا انتہائی بجھے دل سے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’کون ہے وہ لڑکی؟‘‘
’’عنایہ… عنایہ دانش۔‘‘ حورین خوش ہوکر بولی تو باسل چپ کا چپ بیٹھا رہ گیا۔
ء…/…ء
ماریہ کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی کی کتنی بڑی غلَطی کر آئی تھی‘ کالج سے آنے کے بعد وہ حسب معمول کچھ دیر کے لیے سوگئی تھی جیسکا اور میک وہ کارڈ لے کر سر پال کے پاس پہنچ گئے تھے وہ کارڈ ہاتھ میں لے کر سر پال بڑی تلخی سے مسکرائے تھے پھر کسی گہری سوچ میں غلطاں ہوگئے جب کہ جیسکا اور میک ان کے بولنے کے منتظر تھے کافی دیر بعد وہ ہنکارا بھر کر بولے۔
’’ماریہ مائی چائلڈ یہ تم نے بہت غلط کیا‘ تمہارا یہ گناہ ناقابل معافی ہے۔‘‘ اس لمحے ان کے لب و لہجے میں دکھ و افسوس صاف صاف جھلک رہا تھا۔ جسیکا اور میک بخوبی محسوس کر گئے تھے ماریہ ان کے سامنے پلی بڑھی تھی وہ ان کی سب سے اچھی دوست کی بیٹی تھی انہیں بھی ماریہ سے خصوصی لگائو تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ماریہ کو خصوصی رعایت دیتے چلے آرہے تھے جو ان کی طبیعت کا خاصہ بالکل نہیں تھا مگر یہ سب دیکھ کر انہیں دلی رنج ہوا تھا کافی دیر وہ خاموش بیٹھے رہے پھر اپنے مخصوص کھردرے انداز میں بولے۔
’’مجھے ابھی اور اسی وقت جیکولین سے بات کرنی ہے ایسا کرو تم دونوں بھی میرے ساتھ چلو۔‘‘ وہ اپنے جذبات پر قابو پاچکے تھے اور اس پل اپنے اصل سفاکانہ روپ میں واپس آچکے تھے۔
ء…/…ء
’’آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس طرح کی گھٹیا باتیں کرنے کی۔‘‘ احمر کے کانوں میں اب تک زرمینہ کے جملوں کی بازگشت گونج رہی تھی‘ زرمینہ نے اسے بری طرح مایوس کیا تھا وہ جس انداز و لب و لہجے میں بات کررہی تھی اس سے احمر بخوبی یہ بات جان چکا تھا کہ زرمینہ کے دل کے کسی بھی کونے میں اس کے لیے کوئی بھی خاص جذبہ نہیں تھا بلکہ وہ تو اسے سخت ناپسند کرتی تھی۔ وہ کیمپس آیا تو بے حد سنجیدہ اور خاموش سا تھا جب کہ باسل بھی آج کچھ الجھا الجھا سا تھا۔ کل دوپہر مام سے ہونے والی گفتگو بار بار اسے الجھا آرہی تھی۔
’’مگر مام عنایہ…!‘‘
’’کیوں باسل بیٹا… آپ کو عنایہ پسند نہیں ہے کیا؟‘‘ اس لمحے حورین کے لہجے میں پریشانی و تفکر کے رنگ جھلکے تھے باسل فوراً بولا۔
’’نہ… نہیں مام ایسی تو کوئی بات نہیں ہے مگر یہ سب جلدی نہیں ہے کیا؟‘‘
’’بیٹا جی ایک اچھا سا فنکشن ارینج کرکے آپ کے نام کی انگوٹھی عنایہ کو پہنادیں گے۔‘‘ خاور کی بات پر وہ چپ ہوگیا پھر ذہن میں ایک خیال آیا تو وہ تیزی سے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’مام کیا عنایہ راضی ہے اس رشتہ پر۔‘‘
’’میں نے سوچا پہلے آپ سے پوچھ لوں مگر مجھے معلوم ہے عنایہ کبھی انکار نہیں کرے گی۔‘‘ حورین یقین بھرے لہجے میں بولی۔
ء…/…ء
رات کے پچھلے پہر لالہ رخ انتہائی گہری نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی اس لمحے شدید سردی ہونے کے باوجود اس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی تھی کچھ دیر پہلے اس نے بہت عجیب سا خواب دیکھا تھا‘ اپنے حواسوں میں آتے ہی اس نے تیزی سے گردن موڑ کر مہرو کی جانب دیکھا جو لحاف کے اندر دبکی ہوئی تھی‘ مہرو کا وجود سامنے دیکھ کر اس کی دل کی رفتار اور سانسیں نارمل ہوئی تھیں۔ لالہ رخ نے مہرو کے حوالے سے بہت برا خواب دیکھا تھا‘ اس نے دیکھا کہ وہ دونوں کسی باغ میں چہل قدمی میں مصروف ہیں۔ جب ایک بے حد کریہہ صورت کا جانور وہاں آدھمکا ہے۔ لالہ رخ اس عجیب و غریب اور خوف ناک سے جانور کو دیکھ کر بری طرح ڈر گئی جب کہ مہرو بڑے اطمینان اور سکون سے اپنی جگہ پر کھڑی اسے دیکھتی رہی۔
’’مہرو اللہ کے واسطے پیچھے ہٹ جائو وگرنہ یہ جانور تم کو کھا جائے گا۔‘‘ لالہ رخ اسے ہنوز اپنی جگہ کھڑا دیکھ کر چلا کر بولی مگر مہرو کی کیفیت میں ذرا بھی فرق نہیں آیا وہ بڑے سکون سے کھڑی رہی پھر اس جانور کو مخاطب کرکے بولی۔
’’کیا تم مجھے کھانے آئے ہو؟‘‘ جواباً اس جانور نے سر اثبات میں ہلایا اور پھر آہستہ آہستہ مہرو کی جانب بڑھنے لگا وہ بری طرح چلا چلا کر مہرو کو پیچھے ہٹ جانے کا کہتی رہی مگر مہرو جیسے اس کی آواز سن ہی نہیں رہی تھی جب وہ جانور اس کو نگلنے ہی لگا تھا ایسے میں لالہ رخ بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی پھر مہرو کی طرف سے اطمینان کرکے وہ دوبارہ لیٹ گئی کافی دیر وہ اسی خواب کے زیر اثر رہی پھر نجانے کب اس کو دوبارہ نیند نے آن لیا۔
ء…/…ء
سرپال کو اس وقت اپنے آفس میں دیکھ کر جیکولین کچھ حیران سی ہوگئی تھی‘ وہ تھوڑی دیر میں آفس سے نکلنے ہی والی تھی جب کہ پال کے ہمراہ جیسکا اور میک کی موجودگی بھی اسے الجھا گئی تھی۔
’’سب ٹھیک تو ہے نا پال تم اس طرح اچانک مجھ سے ملنے آگئے۔‘‘ جیکولین استفسار کرتے ہوئے بولی پھر جیسکا کو مخاطب کرکے گویا ہوئی۔
’’جیسکا تم پال کے ساتھ کیا کررہی ہو اور میک تم…؟‘‘ اس نے قصداً اپنا جملہ ادھورا چھوڑا جب ہی جیسکا ایک گہرا سانس لے کر بولی۔
’’آنٹی یہ تو آپ کو سر پال بتائیں گے۔‘‘ جیکولین نے استفہامیہ نگاہوں سے سرپال کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’پال پلیز مجھے بتائو آخر کیا بات ہے؟ یقینا کوئی سنگین مسئلہ ہے ورنہ تم اس طرح کبھی یہاں نہیں آتے۔‘‘
’’ایک بات بتائو جیکولین جب تم ہماری تنظیم کا حصہ بنی تھیں تو تم نے ایک حلف لیا تھا‘ کیا تمہیں وہ حلف یاد ہے۔‘‘ سرپال اپنے مخصوص انداز میں استفسار کرتے ہوئے بولے تو جیکولین نے متعجبانہ نگاہوں سے دیکھا پھر تیزی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’آف کورس پال بالکل یاد ہے مجھے اپنا کہا ہوا ایک ایک لفظ یاد ہے۔‘‘ جیسکا اور میک اس لمحے بغور جیکولین کو دیکھ رہے تھے جب ہی سر پال دوبارہ گویا ہوئے۔
’’تو پھر تمہیں یہ بھی یاد ہوگا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی شر انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لیے تم تنظیم کا پورا پورا ساتھ دو گی۔‘‘
’’مجھے سب یاد ہے پال… میں آج بھی اس وعدے پر پابند ہوں مگر پلیز مجھے کھل کر بتائو کہ آخر بات کیا ہے؟‘‘ جیکولین اضطراری انداز میں بولی تو سر پال نے چند ثانیے اسے دیکھا پھر تیزی سے بولے۔
’’ماریہ نے اسلام قبول کرلیا ہے۔‘‘
’’کیا…!‘‘ اس پل جیکولین کو لگا جیسے کمرے کی چھت اس کے سر پر آگری ہو اس نے تنہائی غیر یقین نگاہوں سے سر پال کو دیکھا۔
ء…/…ء
باسل اور احمر کے درمیان اس لمحے خاموشی ہاتھ باندھے کھڑی تھی دونوں اپنی اپنی جگہ نجانے کن سوچوں میں محو تھے۔ احمر نے زرمینہ سے ہونے والی تمام گفتگو باسل کے گوش گزار کردی تھی وہ عجیب سے اضطراب میں مبتلا تھا بہت دیر بعد احمر قدرے بے چینی سے بولا۔
’’باسل یار کچھ تو بولو میرا دل بہت عجیب سا ہورہا ہے‘ زرمینہ کے صاف انکار نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے یار…‘‘ باسل نے نگاہ اٹھا کر احمر کو دیکھا پھر ایک ہنکارہ بھرتے ہوئے بولا۔
’’میں نے تمہیں پہلے ہی سمجھایا تھا احمر کہ زرمینہ کا خیال اپنے دل و دماغ سے نکال دو۔ وہ جس علاقے اور فیملی سے تعلق رکھتی ہے وہ ہم لوگوں سے بالکل میچ نہیں کرتا‘ زرمینہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی ان کے خاندان میں مرد اور عورت کی پسند اور چاہت کو کھلی بے شرمی تصور کیا جاتا ہے۔ میرا تو تمہارے لیے مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ تم سب کچھ بھول کر آگے بڑھو ان فیکٹ تمہارے لیے لڑکیوں کی کوئی کمی تو نہیں ہے ناں تمہیں زرمینہ سے بھی زیادہ اچھی لڑکی مل جائے گی۔‘‘ باسل کی بات پر احمر نے اسے بے بس نگاہوں سے دیکھا پھر بجھے لہجے میں گویا ہوا۔
’’اچھی لڑکی مل تو جائے گی باسل مگر وہ زرمینہ تو نہیں ہوگی ناں۔‘‘
’’احمر تم کیوں آگ سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہو اور اس بے چاری لڑکی کے لیے پرابلمز کری ایٹ کررہے ہو تم تو پھر بھی لڑکے ہو بچ نکلو گے مگر کہیں ایسا نہ ہو تمہارے چکر میں وہ معصوم لڑکی فضول میں ماری جائے۔‘‘ باسل کی بات پر احمر کی روح بے اختیار کانپ اٹھی اس نے ہراساں ہوکر اسے دیکھا۔
’’نہیں باسل… زرمینہ پر ذرا بھی آنچ آئے یہ مجھ سے قطعاً برداشت نہیں ہوگا آخر میں اس سے سچی محبت کرتا ہوں۔‘‘ احمر نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا۔
’’اسی لیے میرے بھائی میں تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ زرمینہ کا خیال نکال دو۔‘‘ جواباً احمر خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔
ء…/…ء
داور نے اپنے آدمی نا محسوس انداز میں وادی میں پھیلا رکھے تھے وہ جب سے یہاں آیا تھا اسے مہرو ایک بار بھی دکھائی نہیں دی تھی۔ وہ مہرو کو دیکھنے کے لیے جیسے پاگل ہوئے جارہا تھا اور جلد سے جلد اسے حاصل کرنا چاہتا تھا جب کہ مہرو نجانے کسی کونے میں چھپ کر بیٹھ گئی تھی وہ نشے میں مدہوش اس وقت بھی مہرو کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اس کا خاص ملازم ریاض اس کی ذاتی بیٹھک میں اجازت لے کر اندر آیا۔
’’بول ریاضے کیا خبر لے کر آیا جل پری نظر آئی تجھے یا آج بھی مایوس لوٹا ہے۔‘‘ داور بہکے بہکے لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے بولا تو ریاض کچھ پل کے لیے کھسیانا سا ہوا پھر اپنی بات میں وزن ڈالتے ہوئے بولا۔
’’مالک آج میں تمام وقت اس چھوکری کے گھر کے قریب چھپ کر بیٹھا رہا۔‘‘
’’تو پھر وہ گھر سے نکلی؟‘‘ داور نے بڑی بے تابی سے استفسار کیا تو ریاض تھوڑا مایوسی سے بولا۔
’’نہیں صاحب وہ لڑکی تو باہر نہیں آئی۔‘‘
’’تو پھر تُو یہاں کیوں اپنی منحوس شکل دکھانے کو آگیا‘ مر جا کہیں جاکر۔‘‘ داور سخت بے مزہ ہوکر بولا تو ریاض گھگھیا کر کہنے لگا۔
’’صاحب وہ چھوکری شاید بیمار ہے آج صبح جب اس کی بہن گھر سے کام پر نکلی تو اپنی ماں سے یہ کہہ رہی تھی کہ وہ مہرو کے لیے آج حکیم جی سے دوا لے کر آئے گی۔‘‘ ریاض کی بات پر داور ’’ہوں‘‘ کہہ کر کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر قدرے توقف کے بعد بے زاری سے بولا۔
’’ایک تو میں اس سالے بٹو سے بھی زیادہ پوچھ گچھ نہیں کرسکتا کہیں وہ ابا جان کو جاکر کچھ نہ بتادے ورنہ میں اس سے تو ایک منٹ میں سب کچھ اگلوا لیتا۔‘‘ داور اس پل اندر ہی اندر پیچ وتاب کھا رہا تھا۔
ء…/…ء
’’ک… کیا یہ تم کیا کہہ رہے ہو پال…! تم اپنے حواسوں میں تو ہو؟ یہ کس طرح کی باتیں کررہے ہو تم۔‘‘ جیکولین پہلے تو ساکت سی بیٹھی پال کو دیکھتی رہی پھر ذہن جب کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو اشتعال کے ساتھ ساتھ بے یقینی کی لہریں اندر سے امڈی تھیں۔ جیسکا اور میک دونوں اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئے۔
’’یہ بالکل سچ ہے جیکولین بلکہ یہ سلسلہ تو کافی عرصے سے چل رہا ہے وہ تو صرف میں ہی تھا جو صرف تمہاری خاطر میں اسے چانس دے رہا تھا۔‘‘ جیکولین منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی پھر بڑی دقتوں کے بعد بولی۔
’’پال یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے‘ ماریہ بھلا ایسے کیسے کرسکتی ہے اور اگر بقول تمہارے یہ سلسلہ کافی ٹائم سے چل رہا ہے تو تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘
’’میں ماریہ سے صرف اس لیے نرمی برت رہا تھا کیوں کہ میں خود بھی اسے اپنی بیٹی کی طرح سمجھتا تھا مگر اس نے میرے پیار اور نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے‘ میں نے اسے کئی بار کڑی وارننگ دی مگر وہ ہر بار ہمیں یہ یقین دلاتی رہی کہ وہ اپنے مذہب پر واپس آچکی ہے مگر جب ہمارے منع کرنے کے باوجود وہ مسلسل من مانی کرتی رہی تب ہم نے اس کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے لیے ہمیں کسی پروف کی ضرورت تھی اور وہ پروف ہمیں آج مل گیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے پال نے وہ کارڈ جیکولین کی طرف بڑھایا تو اس نے انتہائی ششدر ہوکر کپکپاتی انگلیوں سے اس کارڈ کو تھاما پھر بے اختیار اپنا سر پکڑ کر رہ گئی۔
’’او گاڈ ماریہ… یہ تم نے کیا کیا‘ تمہاری اتنی جرأت کیسے ہوگئی۔‘‘ وہ خود سے بولتی اپنی کرسی پر ڈھے سی گئی۔
ء…/…ء
باسل گھر میں داخل ہوا تو حورین کے ساتھ ساتھ عنایہ نے بھی اس کا بھرپور استقبال کیا وہ دونوں اس پل لائونج میں بیٹھیں خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ باسل صاف محسوس کررہا تھا کہ عنایہ اسے بے حد شرارتی اور شوخ نگاہوں سے دیکھ رہی ہے اس کا مطلب تھا کہ حورین نے عنایہ سے باسل کے متعلق بات کرلی تھی اور حورین کے یقین کے مطابق اس نے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا تھا۔
’’آپ کو پتا ہے باسل عنایہ کو بھی کوکنگ کرنے کا بہت شوق ہے اب یہ مجھ سے سیکھنے آیا کرے گی۔‘‘ حورین بڑے پُرجوش لہجے میں بولی تو باسل محض مسکرا کر رہ گیا جب ہی حورین دوبارہ گویا ہوئی۔
’’اچھا آپ لوگ بیٹھ کر باتیں کیجیے میں ذرا کچن دیکھ کر آتی ہوں۔‘‘ حورین کے وہاں سے جانے کے بعد باسل وہیں کائوچ پر بیٹھ گیا جب ہی عنایہ ہنوز نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’واٹس اپ باسل میں تو تمہاری کال کا ویٹ کررہی تھی مگر تم نے تو مجھے ایک بار بھی فون نہیں کیا پھر میں نے بھی ڈی سائیڈ کرلیا کہ اب میں خود سے تمہیں فون نہیں کروں گی‘ وہ تو آج آنٹی نے مجھے کال کرکے گھر بلایا تو مجھے آنا پڑا۔‘‘ ڈارک میرون اور آف وائٹ کنٹراسٹ کھدر کے گرم سوٹ میں بلیک اسٹائلش سا سوئٹرز پہنے بالوں کی حسب معمول اونچی سی پونی ٹیبل بنائے میک اپ سے مبرا چہرہ وہ بہت سادہ اور کیوٹ سی لگی اس لمحے باسل نے اسے بغور دیکھا پھر دل ہی دل میں خود سے بولا۔
’’عنایہ میں بھلا کس چیز کی کمی ہے‘ خوب صورت اور طرح دار ہے اور سب سے بڑی بات میری مام کی پسند ہے پھر مجھے کس بات پر جھجک ہے۔‘‘ وہ اپنا محاسبہ کررہا تھا‘ عنایہ واقعی زندگی سے بھرپور لڑکی تھی بھلا اس کے اندر کس بات کی کمی تھی جس کی بناء پر وہ انکار کرتا‘ باسل نے یہ سب سوچتے ہوئے جونہی خوش گواری سے عنایہ کی جانب دیکھا اسی پل چھم سے کوئی مانوس چہرہ عنایہ کے چہرے میں آکر ڈھل گیا‘ باسل یک دم شاکڈ سا بیٹھا رہ گیا۔ عنایہ اپنی جون میں باسل سے نجانے کیا کچھ کہے جارہی تھی مگر وہ تو جیسے کہیں اور ہی گم ہوگیا تھا۔
ء…/…ء
زرتاشہ کھانا لے کر امی کے پاس آئی تو انہیں بہت مضمحل انداز میں اپنے بستر پر بیٹھے پایا‘ زرتاشتہ کو دیکھتے ہی انہوں نے پوچھا۔
’’تاشو بیٹا… مہرو اب کیسی ہے اگر وہ جاگ رہی ہے تو اسے بھی یہیں لے آئو۔‘‘ اس لمحے ان کے لہجے میں بے پناہ تفکر و پریشانی کے رنگ جھلک رہے تھے۔
’’امی مہرو کا بخار تو شکر ہے اتر گیا ہے مگر اس وقت وہ گہری نیند سو رہی ہے‘ آپ پلیز پریشان مت ہوں وہ ان شاء اللہ جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘ وہ تسلی آمیز لہجے میں بولی تو امی ایک گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔ زرتاشہ نے انہیں بغور دیکھا وہ چاہتے ہوئے بھی ابھی تک امی سے اس حقیقت کے بارے میں پوچھ نہیں سکی تھی جو مہرو کی زندگی میں طوفان لے آیا تھا کیوں کہ لالہ رخ نے اسے سختی سے منع کیا تھا۔
’’پتا نہیں کیوں میرا دل صبح سے بیٹھا جارہا ہے‘ کسی بھی کام میں بالکل دل نہیں لگ رہا۔ طبیعت میں کچھ گھبراہٹ سی ہے۔‘‘ امی اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوئے بولیں تو زرتاشہ پریشان ہوگئی پھر ان کے قریب بیٹھتے ہوئے سہولت سے بولی۔
’’امی آپ بلاوجہ اتنا فکر مند ہورہی ہیں مہرو اللہ کا شکر ہے اب ٹھیک ہے ان شاء اللہ سوکر اٹھے گی تو بالکل بھلی چنگی ہوگی‘ اچھا آپ کھانا تو کھائیں۔‘‘
’’نہیں تاشو… مہرو بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے میں اس کی اندرونی کیفیت بہت اچھی طرح سمجھ رہی ہوں وہ آج کل اپنی زندگی کے بہت کٹھن اور تکلیف دہ دور سے گزر رہی ہے۔‘‘ پھر وہ تاشو کو دیکھ کر اضطراری انداز میں مزید بولیں۔
’’مہرو کی اندرونی کیفیت صحیح نہیں ہے تاشو مجھے نجانے کیوں بہت خوف آرہا ہے‘ دل سہما جارہا ہے میرا جیسے… جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔‘‘ امی کی باتیں سن کر زرتاشہ بھی اندر ہی اندر خوف زدہ ہوگئی تھی مگر اس لمحے اس نے خود کو امی کے سامنے بالکل نارمل رکھا۔
’’افوہ امی… آپ خوامخواہ میں وہم کا شکار ہورہی ہیں‘ کچھ نہیں ہوگا یہ سب بے بنیاد خدشات ہیں جو آپ کو پریشان کررہے ہیں۔‘‘ زرتاشہ انہیں نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر اس پل انہوں نے زرتاشہ کی بات جیسے سنی ہی نہیں وہ اضطرابی انداز میں بستر سے اٹھتے ہوئے بولیں۔
’’میں کھانا بعد میں کھالوں گی پہلے میں نماز حاجت پڑھ لوں تاکہ میرے دل کو کچھ قرار آجائے۔‘‘ زرتاشہ خاموشی سے انہیں جاتا دیکھتی رہی پھر دل ہی دل میں اپنے رب سے دعا گو ہوگئی۔
ء…/…ء
حورین نے باسل حیات کی رضا مندی جان کر عنایہ کے والد سے بات کی تھی‘ انہوں نے اس پرپوزل کو بخوشی قبول کرلیا تھا۔ عنایہ کی والدہ حیات نہیں تھی دانش ابراہیم نے ہی عنایہ کو ماں باپ دونوں کا پیار دیا تھا انہیں بھی باسل بہت پسند تھا سو اس رشتے سے سب ہی خوش دکھائی دے رہے تھے اگلے ماہ کی سولہ تاریخ کو ان دونوں کی انگیج منٹ رکھی تھی‘ باسل نے فی الحال اپنی بات طے ہوجانے کی خبر احمر اور عدیل کو نہیں دی تھی اس وقت وہ شہر کے ایک معروف ریسٹورنٹ میں بیٹھا عنایہ کا منتظر تھا۔ عنایہ نے بصد اصرار اسے یہاں بلایا تھا مگر ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے وہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی وہ مسلسل باسل سے رابطے میں رہ کر معذرت کررہی تھی۔
’’اٹس اوکے عنایہ میں یہاں بالکل کمفرٹیبل ہوں تم آرام سے پہنچو‘ اوکے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا فون بند کیا اور وقت گزاری کے لیے ہال کے اطراف میں یونہی نگاہیں دوڑانے لگا‘ یہاں کچھ کپلز کے علاوہ فیملیز بھی تھیں جب کہ بیشتر لڑکے ٹولیوں کی صورت میں یہاں موجود ڈنر انجوائے کررہے تھے۔
’’ابے یار اب تُو مجھے بور مت کر ویسے بھی آج کل میرا دماغ بہت گھوما ہوا ہے میں نے تجھے کتنی مرتبہ بتایا ہے کہ اس انجلا سے اب میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ باسل نے قدرے ریلیکس انداز میں اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تو عقب سے ایک لڑکے کی جھنجھلائی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اس پل یک دم اسے اپنا ماضی یاد آگیا وہ بھی تو پہلے ایسے ہی باتیں کرتا تھا پھر اچانک اسے نیلم زمان کا خیال آیا تو ایک عجیب سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر در آئی پھر وہ دل ہی دل میں نیلم سے مخاطب ہوکر بولا۔
’’میں تمہارا شکر گزار ہوں نیلم تمہاری بدولت آج میں سیدھے راستے پر چل پڑا ہوں۔‘‘ پھر اپنے اسمارٹ فون کو آن کرکے ٹائم پاس کرنے کی غرض سے اس نے گیلری کھولی ہی تھی کہ اسی لڑکے کی آواز دوبارہ اس کے کانوں میں پڑی۔
’’سچ پوچھو تو میں بھی اس لڑکی کا دیوانہ ہوگیا ہوں‘ ہائے اس حسینہ کا نام بھی کتنا قاتل ہے زرتاشہ…‘‘ باسل جو بڑے ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھا تھا ایک دم چونک اٹھا پھر زیرلب بڑبڑا کر رہ گیا۔
’’زرتاشہ…!‘‘ گو کہ ریسٹورنٹ میں ہلکی آواز میں میوزک بھی آن تھا مگر میز قریب ہونے کی بدولت باسل کے کانوں میں ان لڑکوں کی آوازیں واضح آرہی تھیں۔
’’اوہ تو یہ بات ہے مگر جمی یار وہ لڑکی تو تیرے کزن کا شکار ہے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ تُو اس کے شکار پر ہاتھ صاف کرنے کی سوچ رہا ہے۔‘‘ ایک لڑکا آخر میں بڑی خباثت سے ہنستے ہوئے بولا تو باسل کا اس لمحے دل چاہا کہ وہ ابھی اور اسی وقت اٹھ کر اس گھٹیا انسان کا منہ توڑ دے جو زرتاشہ کا نام اتنی بے حیائی سے لے رہا تھا وہ ایسا کر بھی چکتا جب ہی ایک خیال اس کے ذہن میں در آیا۔
’’زرتاشہ… ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی دوسری لڑکی ہو‘ اُف میں بھی کتنا احمق ہوں‘ کیا دنیا میں صرف زرتاشہ نام کی وہی لڑکی ہوگی جسے میں جانتا ہوں۔‘‘ پھر وہ خود پر ہنس دیا۔
’’اوہ گاڈ میں بھی سچ میں اسٹوپڈ ہوں۔‘‘ وہ خود سے بولا جب ہی یہ جملہ اس کے کان میں پڑا۔
’’ابھی تو یونیورسٹی بند ہوگئی ہے مگر گائز آئی سوئیر میں اسے بہت جلد حاصل کرلوں گا۔‘‘ باسل ایک بار پھر بری طرح چونکا اس لمحے وہ بے تحاشا الجھن کا شکار ہوگیا اس نے رخ موڑ کر پیچھے دیکھا تو اس لڑکے کی پشت اسے دکھائی دی جس کے لمبے بال اس کی گردن پر پڑے ہوئے تھے وہ ابھی مزید کسی نتیجے پر پہنچتا کہ اسی دم عنایہ وہاں نان اسٹاپ بولتی ہوئی تیزی سے چلی آئی۔
’’آئی ایم ریلی سوری باسل… آئی ایم ٹو لیٹ۔‘‘ باسل جو ان لڑکوں کی مزید بات سننے کا متمنی تھا عنایہ کی آمد نے اسے ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا وہ جو بولنا شروع ہوتی تھی تو پھر اسے چپ کرانا بے حد مشکل ہوتا تھا باسل بے بسی سے محض اسے دیکھے گیا جب ہی تقریباً دس منٹ بعد ان لڑکوں کا گروپ وہاں سے فارغ ہوکر باسل کے قریب سے گزرا تو باسل نے بغور لمبے بالوں والے لڑکے کو دیکھا جو شکل سے ہی بگڑا رئیس زادہ معلوم ہورہا تھا۔
ء…/…ء
ماریہ اس وقت فراز شاہ کے سامنے بیٹھی تھی جب کہ فراز نجانے کیا کچھ سوچ رہا تھا کچھ دیر تو ماریہ نے اس کے بولنے کا انتظار کیا پھر خود ہی اس خاموشی کے پردے کو چاک کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔
’’میں جانتی ہوں فراز‘ آپ برو کی وجہ سے گلٹی فیل کررہے ہیں وہ آپ پر بھروسہ کرتے ہیں‘ آپ کو اپنا سچا دوست سمجھتے ہیں اور آپ یہ سب کچھ کررہے ہیں‘ یہی بات ہے ناں۔‘‘ وہ اس لمحے اپنی بات کی تصدیق فراز سے کرنا چاہ رہی تھی جب ہی فراز نے ایک گہرا سانس بھر کر اپنے سامنے بیٹھی ماریہ ایڈم کو دیکھا پھر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’یہ سب کرنا میرے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا ماریہ تمہارے ایمان کو بچانے کی غرض سے میں اس میدان میں کودا ہوں میں یہ سب شروع کرنے سے پہلے خود کو اچھی طرح تیار کرچکا تھا مگر… ابرام کو اس طرح دھوکہ دے کر تمہیں یہاں سے لے جانا مجھے بہت اکورڈ لگ رہا ہے ابرام بہت نائس اور مخلص بندہ ہے مجھے اس کے بارے میں سوچ کر بے پناہ شرمندگی اور ندامت ہورہی ہے۔‘‘ فراز ابھی مزید کچھ بولتا کہ اسی دم ماریہ کے سیل فون کی بپ بج اٹھی‘ جیکولین نے جب سے اسے کالج جانے کی اجازت دی تھی۔ ابرام کے کہنے پر اس کا موبائل فون بھی اس کے حوالے کردیا تھا ماریہ نے سرعت سے موبائل اسکرین کی جانب دیکھا تو برو کالنگ بلنک ہوتا دیکھ کر وہ جلدی سے فون پک کرکے کان سے لگا کر بولی۔
’’جی برو بولیں۔‘‘
’’ماریہ تم اس وقت کہاں ہو؟‘‘ ابرام کی بے حد ہراساں آواز ماریہ کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ بھی پریشان سی ہوگئی۔
’’خیریت ہے ابرام برو آپ اتنا گھبرائے ہوئے کیوں ہیں‘ سب ٹھیک تو ہیں ناں۔‘‘ اس کا دل انجانے خدشوں سے بری طرح لرز اٹھا۔
’’ماریہ مام کو سب کچھ پتا چل گیا ہے ان فیکٹ سر پال نے ہی انہیں تمام حقیقت بتا کر کوئی پروف بھی دے دیا ہے۔‘‘
’’کیا…!‘‘ ماریہ بے اختیار کرسی سے کھڑی ہوگئی‘ فراز بھی اس کی متغیر کیفیت دیکھ کر پریشان سا ہوکر خود بھی کھڑا ہوگیا۔
’’او ڈیمڈ‘ تم اس وقت ہو کہاں‘ سر پال کے لوگ تمہیں تلاش کررہے ہیں۔ تم ابھی اور اسی وقت اپنا سیل فون آف کردو وہ تمہاری لوکیشن ٹریس کرلیں گے۔‘‘ ماریہ نے دوسرے ہی لمحے فون کان سے ہٹا کر اپنا سیل فون آف کیا اور انتہائی بدحواسی سے بولی۔
’’سرپال کو میرے خلاف ثبوت مل گئے ہیں‘ وہ لوگ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ فوراً نکلو یہاں سے۔‘‘ فراز شاہ نے عجلت میں کہا اور پھر دوسرے ہی پل وہ دونوں تیزی سے باہر نکل گئے۔
ء…/…ء
لالہ رخ انتہائی منتشر ذہن کے ساتھ آفس کے معاملات نمٹاتی رہی‘ مری میں ہونے والی برف باری کو دیکھنے سیاح مختلف شہروں سے آرہے تھے لہٰذا لالہ رخ پر کام کا دبائو بھی زیادہ ہی بڑھ گیا تھا مگر اس کا تو سارا دھیان آج کل مہرو کی جانب تھا جس کی خطرناک خاموشی نے ان سب کو ہولا رکھا تھا وہ جلدی جلدی کام سمیٹ کر گیسٹ ہائوس سے باہر نکلی تو سرد ہوا کے ایک تیز جھونکے نے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑا دی۔
’’او میرے اللہ آج تو بہت زیادہ سردی ہے۔‘‘ وہ کپکپا کر خود سے بولی پچھلے دنوں مسلسل ہونے والی برف باری کے بعد آج سے ہوائوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا جب کہ صبح سے موسم بھی ابر آلود تھا کسی بھی وقت بارش ہوجانے کی پیش گوئی تھی لالہ رخ خود کو اونی شال میں اچھی طرح لپیٹ کر اپنے گھر کی جانب روانہ ہوچکی تھی وہ اپنی جون میں چلی جارہی تھی۔ جب ہی سامنے سے اسے بٹو آتا دکھائی دیا قریب آنے پر بٹو نے اسے سلام کیا تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔
’’ارے بٹو… تم اس وقت کدھر نکل آئے کیا سودا وغیرہ لینے جارہے ہو؟‘‘ بٹو لالہ رخ کو دیکھ کر تھوڑا مسکرا کر گویا ہوا۔
’’نہیں باجی… بازار تو نہیں جارہا… دراصل وہ میں آپ سے ہی ملنے آرہا تھا آپ سے ایک بات کرنی تھی۔‘‘ لالہ رخ نے دیکھا کہ بٹو اس وقت کافی ڈسٹرب نظر آرہا تھا۔
’’تو بٹو تم گھر پر ہی آجاتے ناں باہر اتنی سردی ہے اچھا چلو میرے ساتھ گھر ہی چلو وہاں بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں اور تاشو کے ہاتھ کی چائے بھی پیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں باجی میں گھر نہیں جائوں گا بس آپ یہیں میری بات سن لیں۔‘‘ بٹو بولا تو لالہ رخ ٹھٹک سی گئی۔
’’بٹو تم مجھے کافی پریشان لگ رہے ہو‘ بولو کیا بات ہے میں سن رہی ہوں۔‘‘ بٹو نے ایک نگاہ لالہ رخ کے چہرے کو دیکھا پھر قدرے ہچکچاتے ہوئے گویا ہوا۔
’’باجی مجھے دراصل باجی مہرو کے بارے میں کچھ بات کرنی تھی۔‘‘
’’مہرو کے بارے میں؟‘‘ وہ کافی متعجب سی ہوئی پھر دوسرے ہی پل جلدی سے بولی۔ ’’بتائو کیا بات ہے۔‘‘ لالہ رخ کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
’’باجی وہ بات یہ ہے کہ…‘‘ وہ ابھی فقط اتنا ہی بولا تھا کہ نجانے کہاں سے داور کا ملازم رشید نمودار ہوگیا۔
اسے دیکھ کر بٹو کا چہرہ یک دم پیلا پڑگیا اس لمحے اس کے چہرے پر آئے گھبراہٹ اور خوف کے رنگوں کو لالہ رخ نے بخوبی دیکھا تھا۔
’’اچھا باجی میں چلتا ہوں بے بے نے بازار بھیجا تھا سودا سلف لانے کے لیے‘ رب راکھا۔‘‘ اس وقت بٹو کی آنکھوں میں ناقابل فہم تاثرات تھے اس نے انتہائی الجھ کر اسے دیکھا پھر گم صم سے انداز میں آگے چل پڑی۔
ء…/…ء
’’میں ماریہ کو زندہ نہیں چھوڑوں گی‘ اس کی اتنی مجال کیسے ہوگئی کہ اپنے مذہب سے بغاوت کرکے اس نے اسلام قبول کرلیا۔ میں خود اس کو الیکٹرک چیئر پر بٹھائوں گی۔‘‘ جیکولین آپے سے باہر ہوگئی تھی‘ غصے اور اشتعال سے اس کا برا حال تھا وہ جب سے گھر آئی تھی زخمی سانپ کی مانند بل کھا رہی تھی۔ اس نے جب ابرام کو ماریہ کے بارے میں بتایا تو ابرام نے جیکولین کے سامنے بے پناہ حیرت و استعجاب کے ساتھ ساتھ انتہائی اشتعال کا مظاہرہ بھی کیا تھا تاکہ جیکولین کو اس پر شک نہ ہو کہ وہ یہ بات پہلے سے جانتا تھا۔
’’او گاڈ مام ماریہ ایسا کیسے کرسکتی ہے…! آپ کو یہ سب کیسے معلوم ہوا؟‘‘ اس نے انجان بننے کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے استفسار کیا۔
’’پال آیا تھا میرے آفس میں اور اس نے مجھے پروف بھی دیا ہے کہ ماریہ نجانے کتنے عرصے سے مذہب اسلام کی پیروکار ہے وہ بدذات نجانے کہاں منہ چھپا کر بیٹھ گئی ہے۔ خیر پال اور اس کے آدمی اسے ڈھونڈ رہے ہیں جلد ہی برآمد کرلیں گے۔‘‘ جیکولین کے منہ سے یہ سب سن کر ابرام نے جھرجھری لی جو مزید کہہ رہی تھی۔
’’پال کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ گھر سے بھاگ گئی ہوگی جب ہی راستے میں میں نے فون کرکے تم سے پوچھا تھا کہ ماریہ گھر پر ہے یا نہیں۔‘‘ تقریباً آدھے گھنٹے پہلے جیکولین کی کال آئی تھی اس نے بڑے نارمل انداز میں ابرام سے ماریہ کی بابت پوچھا تھا ابرام اس پل ماریہ کے لیے بے تحاشا پریشان ہوگیا جو مزید کہہ رہی تھی۔
’’ہم نے اس کے سیل پر فون نہیں کیا کہیں اسے ہم پر شک نہ ہوجائے اور وہ فون ہی نہ آف کردے وہ لوگ جلد اس کی لوکیشن ٹریس کرکے اسے پکڑلیں گے۔‘‘ پھر ابرام نے کچھ ہی لمحوں بعد ماریہ کو فون کرکے اسے سیل آف کرنے کو کہا تھا۔
ء…/…ء
اتوار ہونے کی وجہ سے لالہ رخ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ لحاف میں دبک گئی تھی مہرو بھی گہری نیند سو رہی تھی وہ اس کی جانب سے اطمینان کرکے سوگئی تھی تقریباً صبح آٹھ بجے اس کی آنکھ بادلوں کی گڑگڑاہٹ سے کھلی تھی۔ اسے ہمیشہ ایسے موسم سے بہت خوف آتا تھا‘ ابھی بھی وہ ان آوازوں سے ڈر کر اٹھی تھی شاید بہت زور و شور سے بارش ہونے والی تھی وہ چند ثانیے یونہی بستر پر بیٹھی رہی پھر معاً مہرو کا خیال آیا تو بے اختیار اس نے برابر میں مہرو کے لحاف کو اٹھایا مہرو بستر پر نہیں تھی وہ سمجھی کہ شاید مہرو جاگ گئی ہے وہ کسلمندی سے بستر سے اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد منہ ہاتھ دھوکر وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تو امی اور زرتاشہ کو گیس ہیٹر کے سامنے محو گفتگو پایا۔
’’ارے تم اٹھ گئیں چلو میں تمہارے لیے آج اپنے ہاتھوں سے ناشتا بناتی ہوں۔‘‘ زرتاشہ اسے دیکھ کر محبت سے بولی تو لالہ رخ نرمی سے مسکرادی جب کہ امی اپنے قریب اس کے لیے جگہ بناتے ہوئے بولیں۔
’’آئو لالہ تم یہاں بیٹھ جائو۔‘‘ لالہ رخ نے وہاں بیٹھتے ہوئے ادھر اُدھر نگاہیں گھما کر سہولت سے استفسار کیا۔
’’یہ مہرو نظر نہیں آرہی ہے آپ کے کمرے میں ہے کیا؟‘‘ لالہ رخ کی بات پر امی نے اسے انتہائی بھونچکا ہوکر دیکھا پھر بے تحاشا ہراساں ہوکر بولیں۔
’’کیا بول رہی ہو لالہ…! کیا مہرو تمہارے کمرے میں نہیں ہے وہ تو ابھی تک سوکر بھی نہیں اٹھی۔‘‘ اور اسی پل زور سے بجلی کڑکنے کی آواز آئی تھی۔ لالہ رخ تیزی سے اٹھی اور کچھ ہی دیر میں پورا گھر چھان مارا مہرو کہیں بھی نہیں تھی شاید وہ طوفان جس کی آہٹیں ان سب کو پہلے سے سنائی دے رہی تھیں وہ آج ان کی زندگیوں میں آگیا تھا۔ لالہ رخ بدحواس سی ہوکر گھر سے بھاگی تھی مہرو جس کی آنکھ بادلوں کے شور سے اچانک کھلی تھی وہ چند ثانیے ساکت و جامد سی یونہی بستر پر پڑی رہی تھی پھر اچانک اسے اماں کی آواز سنائی دی تھی۔
’’مہرو تو صرف میری بیٹی ہے جب تک میں زندہ ہوں کوئی تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘ پھر یک دم اماں کے وجود کی مہک اسے چہار سو آنے لگی تو وہ بڑی بے قراری سے اٹھ بیٹھی پھر تڑپ کر بولی۔
’’اماں تم کہاں ہو میں تمہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی ہوں میرے پاس واپس آجائو اماں…‘‘ مہرو نے باقاعدہ اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا لیا تھا پھر وہ خود فراموشی کی کیفیت میں گھر سے باہر نکل آئی تھی باہر کے شدید موسم سے بے خبر وہ چلے جارہی تھی۔ اس کے قدم اس پل وادی کی سب سے اونچی چوٹی کی جانب بڑھ رہے تھے‘ آج بٹو بھی بڑی بے قراری محسوس کرکے باہر نکلا تھا اس نے مہرو کو وادی کی سب سے ویران اور پُر خطر سڑک کی جانب جاتے دیکھا تو اس کے دماغ میں کسی خطرے کا الارم بج اٹھا۔
’’یہ مہرو باجی اس وقت اس چوٹی کی طرف کیوں جارہی ہیں۔‘‘ وہ خود سے بولا پھر جلدی سے وہ خود بھی اس جانب لپکا ساتھ ساتھ وہ اسے بڑی بے تابی سے آوازیں بھی لگاتا رہا مگر مہرو تو جیسے بہری ہوگئی تھی جب اچانک ہی داور حبیب مہرو کے بالکل سامنے آن رکا۔ مہرو نے بروقت اپنے قدموں کو بریک لگایا وگرنہ وہ اس سے ٹکرا جاتی داور اس لمحے اسے انتہائی غلیظ اور حریصانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ مہرو جونہی گھر سے باہر نکلی تھی داور کے آدمیوں نے اسے اطلاع کردی تھی جو مہرو کی جاسوسی پر معمور تھے‘ مہرو نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا جب ہی وہ عامیانہ انداز میں بولا۔
’’کیا اس چوٹی سے کودنے جارہی ہو جان من… ارے میری جان اتنے قاتل حسن اور جوانی کو کیوں مٹی میں ملانا چاہتی ہو۔ میرے پاس آجائو میں تمہیں اپنی شہزادی بناکر رکھوں گا۔‘‘ مہرو نے انتہائی ششدر ہوکر داور کو دیکھا‘ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ داور سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس کا منہ توڑ کر رکھ دیتی مگر اس پل وہ اس سے بے پناہ سہم گئی۔
’’ارے میری جان مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں میں تو تمہیں…‘‘
’’چھوٹے صاحب خبردار جو باجی کو تم نے ہاتھ بھی لگایا۔‘‘ عقب سے یک دم بٹو کی آواز سنائی دی جو اس لمحے غصے سے تھرتھر کانپ رہا تھا‘ مہرو نے بے اختیار پلٹ کر بٹو کو دیکھا اور اسی پل بادل زور و شور سے برس پڑے۔
’’تو بٹو تُو مجھے روکے گا۔‘‘ انتہائی استہزائیہ انداز میں کہہ کر داور نے مہرو کو اپنی جانب کھینچا تو مہرو کی شال اس کے ہاتھوں میں آگئی اور دوسرے ہی لمحے اس نے بڑی بے دردی سے مہرو کی کلائی پکڑلی۔
’’بڑا تڑپایا ہے تُو نے مجھے۔‘‘ داور مہرو کے چہرے کے بے حد قریب ہوکر بولا تو مہرو نے اپنی پوری طاقت لگا کر داور کو دھکا دینے کی کوشش کی مگر اپنی اس کوشش میں ناکام ٹھہری۔ داور نے اس کی دونوں کلائیوں کو تھام رکھا تھا اور پھر اسی لمحے بٹو اپنی پوری طاقت سے داور پر حملہ آور ہوگیا‘ اس نے داور کو پوری طرح دبوچ لیا تھا اور زور زور سے چلا کر کہہ رہا تھا۔
’’باجی اللہ کے واسطے تم یہاں سے بھاگ جائو فوراً نکل جائو یہاں سے۔‘‘
’’مگر بٹو…‘‘ وہ ہکلائی۔
’’تمہیں رب سوہنے کی قسم چلی جائو یہاں سے۔‘‘ مہرو نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر سرعت سے وہاں سے بھاگ نکلی‘ داور اسے وہاں سے جاتا دیکھ کر غصے سے جھنجھنا اٹھا اس نے بڑی دقتوں سے اپنی جیکٹ سے پستول نکال کر یکے بعد دیگرے چار گولیاں بٹو کے جسم میں داغ دیں۔ لالہ رخ جو بڑی بے قراری سے نیچے وادی میں مہرو کو تلاش کررہی تھی یک دم فضا میں گونجتی گولیوں کی آواز سے وہ ساکت سی ہوگئی پھر تیزی سے اس نے سر اٹھا کر اس چوٹی کی جانب دیکھا اسی لمحے اس کی چھٹی حس نے وہاں جانے کا اشارہ کیا تو اس کے قدموں میں یک دم بجلی سی بھرگئی وہ بھاگتے ہوئے اوپر کی جانب جانے والی سڑک کی طرف دوڑی اس لمحے اس کا دل زخمی پرندے کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا وہ تیزی سے اس جانب سردی اور بارش کی پروا کیے بغیر بس بھاگتی جارہی تھی پھر یک دم اس کے قدموں کو کسی نے بری طرح جکڑلیا بالکل سامنے بٹو کی بے حس و حرکت لاش پڑی تھی جس کا خون پانی میں بہہ کر اپنی شناخت کھو رہا تھا جب کہ بٹو کی کھلی آنکھیں عجیب سی بے بسی و لاچاری کا اظہار کررہی تھیں۔ لالہ رخ سکتے کی حالت میں یک ٹک اس کے زندگی سے بے جان وجود کو دیکھتی رہی پھر معاً اس کی نگاہ بٹو کی لاش سے قدرے فاصلے پر پڑی مہرو کی شال اور اس کے جوتوں پر گئی تو دوسرے ہی لمحے وہ لہرا کر زمین پر گر پڑی۔
باقی آئندہ ماہ ان شاء اللہ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close